مضامین کی فہرست


جون ۲۰۲۲

نصابی کتابوں سے ’مغل اور مسلم تاریخ کا صفایا‘ کردیاگیا!

مودی اور بی جے پی کی حکومت کے اس عمل کو محض’ تاریخ کا بھگوا کرن‘ کہنا درست نہیں ہے اور نہ اسے ’تعلیمی پروپیگنڈا‘ کہنا، مکمل سچ ہے ۔ یہ عمل ’ صفائی‘ (cleansing) کا عمل ہے ، ’تطہیر‘ کا عمل ہے۔ اسے ایک مذہب اور ایک فرقے کی ’ نسل کشی ‘ بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس کی تاریخ کا صفایا کردیا جائے گا ، اس کی نسل کہاں باقی رہ سکے گی؟

ابھی یہ خبر آئی ہے کہ بھارت کے’سینٹرل بورڈآف سیکنڈری ایجوکیشن‘ (CBSE) نے نصاب کی کتابوں سے افریقی، ایشیائی خطوں میں اسلامی مملکتوں کے پھلنے پھولنے اور قیام سے متعلق ابواب ہٹادیئے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ بھارت میں مغل حکومت کے ابواب بھی نکال دیئے ہیں۔ مزید جو ابواب ہٹائے گئے ہیں ، وہ ’ناوابستہ تحریک‘ ’ سرد جنگ‘ اور ’ صنعتی انقلاب‘ سے متعلق ہیں۔  ایک حصہ مذہب ، فرقہ پرستی، سیاست اور سیکولر ریاست کا تھا ، اس حصے سے اردو کے مشہور شاعر فیض احمد فیض [م:۲۰نومبر ۱۹۸۴ء]کی نظموں تک کو ہٹادیاگیا ہے ۔

یہ ابواب ’تاریخ‘ اور ’ سیاست‘ کی نصابی کتابوں میں شامل تھے ۔ یہ تبدیلیاں مبینہ طور پر ’نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ‘ (NCERT) کی تجاویز پر کی گئی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف سی بی ایس ای کی نصابی کتابوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ، صوبائی تعلیمی بورڈوں نے بھی نصابی کتابوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔ ’مہاراشٹر اسٹیٹ ایجوکیشن بورڈ‘ نے ساتویں اور نویں جماعتوں کی ’تاریخ‘ کی نصابی کتابوں سے مغل دور کو حذف کیا اور درسی کتابوں میں ’ مراٹھا دور، بالخصوص شیواجی کے دور‘ کو مکمل طور پرشامل کیا ہے۔ مہاراشٹر کی تاریخ کی درسی کتابوں سے تاج محل ، قطب مینار اور لال قلعے کا تذکرہ مکمل طور پر غائب ہے ۔

 سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں کس لیے ہیں ؟

 اس سوال کا جواب مودی کی مرکزی اور بی جے پی کی صوبائی حکومتوں کے ’ اعمال ناموں‘ پر ایک نظر ڈال کر بخوبی ہوجاتا ہے ۔ اترپردیش کی مثال لے لیں ، وہاں جب سے یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلیٰ بنے ہیں، انھوں نے اُن تمام شہروں کے ناموں کو ، جو مسلم شناخت کو ظاہر کرتے تھے ، تبدیل کرنا ، یا حرفِ غلط کی طرح مٹانا شروع کردیا ہے ۔

اس ضمن میں مثال کے طور پر دیکھیے: ’فیض آباد‘ ضلع کا نام ’ایودھیا‘ کردیا گیا ہے ، ’الٰہ آباد‘ کا نام ’پریاگ راج‘ رکھ دیا گیا ہے ، ’مغل سرائے‘ ریلوے اسٹیشن کو ’دین دیال اپادھیائے‘ جنکشن کردیاگیا ہے ۔ ’علی گڑھ‘ کا نام ’ہری گڑھ‘ کرنے کی تیاری ہے، تاکہ اس طرح ’اکبرالٰہ آبادی‘ کو ’اکبر پریاگ راجی‘ پڑھا جائے، یا اسی طرح ’علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی‘ کو ’ہری گڑھ مسلم یونی ورسٹی‘ کردیا جائے گا۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ دہلی کے اطراف کے ۴۰دیہات کے نام تبدیل کردیئے جائیں۔ حال ہی میں جنوبی دہلی کے ’محمدپور‘نام کے ایک گاؤں کا نام تبدیل کرکے ’مادھو پورم‘ رکھا گیا ہے۔ اس کو بی جے پی اور سنگھی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ مزید ۴۰ گاؤں کے نام تبدیل کردیے جائیں۔ فہرست تیار کرلی گئی ہے اور جلد ہی ناموں کی تبدیلی کی تجویز، دہلی حکومت کو بھیج دی جائے گی ۔

دہلی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا کا کہنا ہے کہ ’’یہ نام ’غلامی کی علامت ہیں‘ اور یہ کہ ’لوگ خود ان ناموں کی تبدیلی کے خواہاں ہیں‘‘ ۔ حالانکہ دہلی کی کیجری وال حکومت نے بی جے پی پر یہ کہہ کر تنقید کی ہے کہ ’’جب بی جے پی کارپوریشن پر خود حکومت کررہی تھی، تو اس وقت یہ نام کیوں تبدیل نہیں کیے گئے؟‘‘ لیکن اندازہ یہی ہے کہ ناموں کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ ناموں کی تبدیلی کا یہ عمل ہراس ریاست میں ہورہا ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ مہاراشٹر میں اگرچہ بی جے پی کی حکومت نہیں ہے،مگر شیوسینا ، جس کے سربراہ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے ہیں ،عرصۂ دراز سے ’اورنگ آباد‘ کا نام ’سمبھاجی نگر‘ کرنے کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مطالبہ پھر شدت اختیار کرے ، اور اس بار اسے مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے اور بی جے پی کے لیڈران اٹھائیں ۔

 مسلم ناموں کی تبدیلی کے اس عمل کا مقصد کیا ہے ؟

ا س سوال کا جواب بہت ہی آسان ہے۔ اس سچ کو کہ اس ملک پر مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال حکومت کی اور مغلوں کی حکومت تین سوسال رہی، لوگوں کے حافظے سے نکال دیا جائے۔  لوگوں کے ذہنوں سے یہ بات کھرچ کر پھینک دی جائے کہ مسلم حکمرانوں نے:

  • اس ملک کو  سونے کی چڑیا بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا
  • یہاں تعمیرات کے فن کو عروج پر پہنچایا تھا lملک کو لال قلعہ وتاج محل جیسی عالی شان عمارتیں دی تھیں 
  • ادب وثقافت کو مالا مال کیا تھا 
  • اور ان کے دورِحکومت میں مذہبی جبر کے واقعات شاذونادر ہی ہوتے تھے۔ مغل تاریخ مٹانے کا مقصد اس بات پر زور دینا بھی ہے کہ ’اس ملک کی ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ہے‘ ۔ اور یہ بھی بتانا ہے کہ ’ملک کی آزادی میں نہ ان بادشاہوں کا کوئی حصہ ہے اور نہ مسلمانوں کا ‘۔

خیر ، مسلم مجاہدین آزادی کے ناموں کا ، درسی ونصابی کتابوں سے ، نکالے جانے کا عمل تو بہت پہلے شروع ہوگیا تھا، اتنا پہلے کہ آج مسلمانوں کی جو نئی نسل ہے، اسے بھی یہ پتہ نہیں ہے کہ اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی قربانیاں کیا ہیں! انھیں یہ نہیں پتہ کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر [م: ۷نومبر ۱۸۶۲ء]کو اس لیے رنگون میں قید کیا گیا تھا کہ وہ مجاہد آزادی تھے اور صرف قیدہی نہیں کیاگیا تھا ان کے دوبیٹوں کے سروں کو کاٹ کر طشت میں سجاکر ان کے سامنے پیش کیاگیا تھا۔ سچ یہی ہے کہ ہندستان کی آزادی کی کہانی اور تاریخ مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔

دہلی کے ’انڈیا گیٹ‘ پر ۹۵ہزار ۳۰۰  آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے حُریت پسندوں کے نام تحریر ہیں، جن میں سے۹۴ہزار ۵سو ۶۲ نام مسلم مجاہدین آزادی کے ہیں ۔ آزادی کی جدوجہد تو ۱۷۸۰ء میں ہی شروع ہوگئی تھی جب عظیم مجاہد آزادی ٹیپوسلطان [شہادت: ۴مئی ۱۷۹۹ء]نے انگریزوں سے ٹکر لی تھی۔ اب تو درسی اور نصابی کتابوں سے ٹیپو سلطان کا نام ہٹانے کی بھی تجویز آگئی ہے ، بلکہ کرناٹک میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ، اس پر عمل شروع ہوچکا ہے ۔ہماری آج کی نسل نہ تو اشفاق اللہ [شہادت:۱۹دسمبر ۱۹۲۷ء]کو جانتی ہے ، نہ امیر حمزہ ، مولانا محمود حسن [م:۳۰نومبر ۱۹۲۰ء]، مولانا برکت اللہ بھوپالی [م: ۲۰ستمبر ۱۹۲۷ء]، مولانا کفایت اللہ [م:۳۱دسمبر ۱۹۵۲ء]کو ۔ حد تو یہ ہے کہ مولانا محمد علی جوہر [م:۴جنوری ۱۹۳۱ء]،مولانا حسرت موہانی [م:۱۳مئی ۱۹۵۱ء] اور مولانا ابوالکلام آزاد [م:۲۲فروری ۱۹۵۸ء]تک کو بھلا دیاگیا ہے۔ آنے والے دنوں میں تو یہ نام لوگوں کو قطعی یاد نہیں رہیں گے۔گویا جن کی ایک روشن تاریخ ہے، انھیں تاریخ سے حذف کیا جارہا ہے ، اور جن کی کوئی تاریخ نہیں ہے ، جیسے کہ ’سنگھ پریوار‘ ، جو نہ آزادی کی لڑائی میں شامل تھا اور نہ آزادی کی تحریک میں ، انھیں تاریخ میں شامل کیا جا رہاہے۔

 ظاہر ہے کہ جس قوم کی تاریخ مٹادی جائے گی وہ قوم ازخود مٹ جائے گی ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کی مرکزی وصوبائی حکومتوں کے توسط سے یہی کوشش ہے کہ اس ملک کی مسلم تاریخ کو مٹادیا جائے ، تاکہ اس ملک کے مسلمان بغیر کسی تاریخ کے رہ جائیں ۔ یہ بھی ’ نسل کشی‘ (genocide) کا ہی ایک طریقہ ہے ۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے گذشتہ ۹ برسوں سے تیز تر کوششیں جاری ہیں، اور آیندہ دو برسوں میں اس پر مکمل طور پر عمل درآمد کا منصوبہ ہے ۔ دوسال بعد ۲۷ستمبر ۲۰۲۵ء کو آر ایس ایس کے قیام کو پورے سوسال مکمل ہوجائیں گے۔ اس کے لیڈروں نے آزاد ، جمہوری، سیکولر بھارت کو ’ ہندوراشٹر‘ میں تبدیل کرنے کے لیے سوسال کی مدت طے کی تھی، لہٰذا سوسال ہوتے ہی اُن کے نزدیک یہ ملک مکمل’ ہندوراشٹر‘ میں تبدیل ہوجائے گا ۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہوسکے، لیکن ان کی پوری کوشش یہی ہے۔

۲۰۱۹ء میں ایک کتاب آئی تھی: The RSS Roadmaps for The 21st Century (اکیسویں صدی کے لیے آر ایس ایس کا منصوبہ) جسے روپا پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ یہ کتاب سنیل امبیکر نے لکھی ہے ، جو سنگھ کے مرکزی ’ پرچارک‘ اور ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘(ABVP) ، بی جے پی کی طلبہ تنظیم کے آرگنائزنگ سکریٹری ہیں۔ اس کتاب میں ایک باب ’ بھارت کی تاریخ‘ کے عنوان سے ہے ۔ جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’’یہ جو تاریخ آج پڑھائی جاتی ہے، اس میں نہ ’سوتنترا‘ ( آزادی) ہے اور نہ ’سوادھرما‘ ( اپنا خود کا دھرم)۔ یہ تاریخ ’بھارتیتا‘ کے خلاف اور مسخ شدہ ہے ، لہٰذا اسے درست کرناہے۔اور’سنگھ پریوار‘ تاریخ کو ’ درست‘ کرنے کا مشن لے کر آگے بڑھ رہا ہے ‘‘۔ مزید یہ کہ : ’’ہندستانی تاریخ کو تحریر کرنے کا منصوبہ بڑا اہم ہے ، اور اس سوال پر غور ضروری ہے کہ ہماری اقدار کیا تھیں ؟‘‘ وہ سوشل ہسٹری‘ یعنی ’ سماجی تاریخ‘ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ آر ایس ایس ’اکھل بھارتیہ اتہاس سنکلن یوجنا‘ کے تحت ، من پسند تاریخ کے سوال بنانے اور جواب دینے کے لیے مخصوص تاریخی منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

یہ کام کیا ہے ؟’’مسخ شدہ بھارتی تاریخ کو درست کرنا‘‘ ہی ہے۔ اسے اگر میں ’’مسخ شدہ تاریخ کو مزید مسخ کرنا‘‘ کہوں تو شاید زیادہ درست ہوگا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’تعلیم کا بھارتیہ کرن کیا جائے گا‘ ‘۔ اس میں ’’پرواسی بیانیہ کی شمولیت ہوگی‘‘ اور ’’متعصبانہ تعبیرات کو حذف کردیا جائے گا‘‘۔ وہ رام مندر کی بھی بات کرتے ہیں اور نئے عجائب گھروں کی بھی، تاکہ ’’گم شدہ تاریخ کی بازیافت کی جاسکے ‘‘ ۔ تو یہ ہے منصوبہ ، اور سال۲۳-۲۰۲۲ء سے اس منصوبے پر عمل شروع ہورہا ہے ۔ ابھی تو درسی کتابوں سے مسلم اور مغل نام ہٹاکر فرقہ پرستی اور فرقہ وارانہ خلیج کو مزید وسیع کرنے کا خطرناک کھیل شروع ہوا ہے ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

 

برادرم اسماعیل الفاروقی نے کینیڈا اور امریکا میں قیام کے دوران بحیثیت مسلمان اپنی ہستی پر غور کرنے اور اپنی اصل شناخت کو دریافت کرنے پر پوری توجہ دی۔ ان کو صہیونی غاصبوں کے ہاتھوں اپنے گھربار اور مادرِوطن کو چھوڑنا پڑا تھا۔ انھوں نے جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیل اور مغربی طاقتوں کی یلغار کے دوران اُردن، شام اور مصر کی شکست، بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے اور عرب قومیت کے شرمناک زوال کا مشاہدہ کیا تھا۔

غریب الوطنی کے اس زمانے میں الفاروقی نے آزادی کے ان مواقع کی قدر کی، جن سے وہ مغرب کی علمی دُنیا سے استفادہ کررہے تھے۔ پھر فکری، ثقافتی، سیاسی اور سامراجی جبر کی ناقابلِ قیاس گرفت اور اُمت مسلمہ اور دوسری متاثرہ اقوام پر کثیرجہتی غلامی کے تباہ کن اثرات کا بھی قریب سے مشاہدہ کیا۔ وہ سامراجی طاقتوں کے دُہرے معیارات کو پردۂ سیمیں کے پیچھے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ پھر انھوں نے امریکا میں تعلیم کی غرض سے آنے والے نوجوان مسلمانوں [مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن-  MSA : ۱۹۶۲ء] کے انقلابی تصورات سے حرارت لی۔ اس طرح مسلمانوں اور انسانیت کے نئے مستقبل کی تعمیر کی منظم کوششوں کے حلقۂ اُلفت سے وہ وابستہ ہوئے۔

اسماعیل الفاروقی نے نوجوانوں کی اس روح پرور دنیا [MSA]میں، خود کو بڑا بے تکلف اور بہت آسودہ خاطر محسوس کیا۔ وہ ان میں سے ایک ہوگئے اور ان نوجوانوں نے بھی جذبۂ سپاس سے انھیں ایک شفیق معلّم اور دُور اندیش قائد کی حیثیت سے دیکھا۔ میں یہ لکھ کر کوئی انکشاف نہیں کروں گا، اگر اپنے دو عزیز ترین بھائیوں ڈاکٹر احمد توتونجی [پ: ۱۹۴۱ءعراق] اور ڈاکٹر عبدالحمید ابوسلیمان [م:۱۸؍اگست ۲۰۲۱ء] کے کردار کو ضبط تحریر میں لائوں۔ ان دو قیمتی ساتھیوں کی دل سوزی نے اس عمل کو باثمر بنایا۔ الفاروقی کے لیے فی الواقع یہ رفاقت بڑی رحمت و برکت کا ذریعہ بنی۔ وہ اب اس دنیا میں مضبوط قدموں سے واپس آگئے تھے کہ جس دنیا سے ان کا ازلی تعلق تھا۔ زندگی کے آخری دو عشروں کے دوران انھوں نے ایک پختہ کار اسلامی اسکالر، اسلامی تعلیمات کے ایک محترم استاد، ایک منفرد داعی اور اسلام کے ایک سچے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انھوں نے شعوری اور روحانی تبدیلی کے اس سفر کو ان خوب صورت الفاظ میں بیان کیا ہے:

میری زندگی میں ایک وقت تھا… جب مجھے فکری سطح پر یہ ثابت کرنا تھا کہ میں اپنی جسمانی اور شعوری بقا، مغرب سے جیت سکتا ہوں۔ لیکن جب اس مقصد میں قدرے کامیابی حاصل کرلی، تو پھر یہ ہدف بھی میرے لیے بے معنی ہوکر رہ گیا۔

میں نے خود سے سوال کیا:

’میں کون ہوں؟ ایک فلسطینی، ایک فلسفی یا ایک آزاد خیال انسانیت کا حامل؟ ‘

میرے داخلی وجود نے جواب دیا:

’مَیں مسلمان ہوں‘۔

 برادرم الفاروقی اس داخلی تبدیلی کو، دوسرے انداز میں اپنے دوست کے نام ایک خط میں، جو انھوں نے اپنی شہادت سے صرف ۲۶دن قبل یکم مئی ۱۹۸۶ء کو لکھا، یوں بیان کرتے ہیں:

بیروت کی امریکی یونی ورسٹی سے گریجویشن کے بعد میں نے فلسطین میں ’عرب کوآپریٹو سوسائٹیز‘ میں رجسٹرار، اور پھر گلیلی کے صوبے میں انتظامی افسر کی حیثیت سے کام کیا۔ جب جیش الانقلابی قائم کی گئی، تب میں شمالی خطے میں انتظامی گورنر کی حیثیت سے کام کررہا تھا، جو اس وقت تک دشمنوں کے ہاتھوں سے محفوظ تھے۔

اسی دوران مزید پڑھائی کے لیے امریکا چلا گیا۔ مغربی فلسفے میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد میں اسلامی علوم کے ورثے سے دُوری اور اپنی جاہلیت کی کیفیت سے آگاہ ہوا۔ چنانچہ واپسی پر الازہر یونی ورسٹی میں نئے سرے سے سیکھنے کے لیے داخلہ لیا۔ لیکن  یہ بہت ہی خصوصی تیز تر پروگرام تھے، گویا کہ ان تین برسوں پر پھیلا وقت، جو الازہر کے کیمپس میں گزار رہا تھا، اس میں ایک مزید ڈاکٹریٹ کر رہا تھا۔ اس کے بعد مختلف یونی ورسٹیوں میں مطالعہ اسلامی میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمت کی۔ اسی دوران امریکا میں طلبہ کی اسلامی تحریک  [یعنی MSA]سے وابستگی نے مجھے وہ سوچ عطا کی، جس کا مقصد امریکا میں مسلمان نوجوانوں کے اخلاق و کردار کی تربیت اور ان کے اسلامی تصورات کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ اسلامی فکر کی ترویج اور اس کا فروغ تھا۔ یہی ہے وہ سرگرمی ،جس میں، الحمدللہ آج تک مصروفِ عمل ہوں۔

اطالوی نژاد امریکی پروفیسر ڈاکٹر جان ایل ایسپوزیٹو [پ:۱۹۴۰ء] جو اسماعیل راجی الفاروقی کے براہِ راست شاگرد بھی رہے، وہ الفاروقی کی زندگی کے اس پہلو کو یوں بیان کرتے ہیں:

وہ ایک مرکز کے گرد متحرک، تخلیقی مفکر، مقابلہ کرنے والے دل آویز فرد اور میدانِ کار میں لگن سے کام کرنے والے انسان تھے۔ اسلام اور اسلام کی تعلیمات کا جوہر ان کے عقیدے، پیشے اور صلاحیت میں رَچ بس گیا تھا۔ ان کی زندگی کو اختصار سے بیان کرنا اور اس کا تجزیہ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ محتاط لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق مطلوب مسلمان وہ ہے، جو سرتسلیم خم کرکے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے زندگی بھر جدوجہد کرے۔ اسماعیل الفاروقی واقعی ایک مجاہد تھے۔

پروفیسر اسپوزیٹو کے گراں قدر الفاظ میں صرف یہ اضافہ کروں گا:

اسماعیل راجی الفاروقی نے اپنی علمی زندگی کا آغاز ایک مسلمان عرب قوم پرست کی حیثیت سے کیا، الحمدللہ، آخرکار وہ ایک اسلامی داعی کی حیثیت میں دُنیا سے رخصت ہوئے۔وہ ایک ثابت قدم مجاہد کے طور پر زندہ رہے اور اسی مشن سے وابستگی کی وجہ سے شہادت پائی۔

تریپولی میں ملاقات کے بعد ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ سرگرم رابطہ ۲۷مئی ۱۹۸۶ء کی اس رات تک رہا کہ جب وہ اور ان کی اہلیہ امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہروینکوٹ میں ایک قاتل کی خنجرزنی کے زخموں کی تاب نہ لاکر ربّ کے حضور پیش ہو گئے۔

میں دی اسلامک فائونڈیشن، لیسٹر اور ’اسلامک کونسل آف یورپ‘ میں سرگرم تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کی اساس اور حرکیات پر کانفرنسوں اور سیمی ناروں کے ایک سلسلے کی نہ صرف کامیاب منصوبہ بندی کی، بلکہ اس کی تنظیم میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے کے توسیعی منصوبۂ عمل کے تحت: اسلام میں بنیادی حقوق کے اعلامیے کی تیاری، ایک مثالی اسلامی دستور کے بنیادی خدوخال اور اسلام اور مسئلۂ فلسطین کی وضاحت کے باب میں گراں قدر حصہ ڈالا۔

عیسائی مسلم مکالمے کے لیے کوششیں

جون ۱۹۷۶ء سے عیسائی مشن کی تنظیمChambesy Dialogue Consultation  اور اسلامی دعوۃ کے موضوع پر ہم نے ایک ساتھ کام کیا۔’ورلڈ کانگریس آف چرچز‘ (WCC) جنیوا ،  دی اسلامک فائونڈیشن لسٹر(برطانیہ) اور ’مطالعہ برائے اسلام اور عیسائی مسلم تعلقات‘ سیلیوک کالج برمنگھم (برطانیہ) نے اس منصوبے پر مشترکہ کاوش کی تھی۔ اس مشاورت کا مَیں شریک چیئرمین تھا۔ اسماعیل الفاروقی اس تاریخی مشاورت میں ایک محور کی حیثیت رکھتے تھے۔ عیسائی اخلاقیات پر اسماعیل الفاروقی  کی کتابChristian Ethics کو عیسائی اسکالروں نے ’’ایک متاثر کن شاہکار قرار دیا‘‘۔

اس مشاورت کا حتمی اعلامیہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ اعلامیہ ایک صاحب ِ فکروعمل مسلمان کی سوچ کا مظہر تھا، جسے زیادہ تر الفاروقی ہی نے لکھا تھا اور جس کو حتمی اعلامیے کی بنیاد کے طور پر دونوں مذاہب کے علما نے قبول کیا تھا۔ ’مسلم ،عیسائی مکالمے‘ کی عالمی تحریک میں یہ پہلا ٹھوس قدم تھا کہ جس میں مسلمانوں کا نقطۂ نظر اتنے مؤثر طریقے سے اور کسی عصبیت کے بغیر اور حقیقت پسندانہ انداز میں اتنے بڑے فورم پر پیش کیا گیا تھا۔ اس دستاویز کو دی اسلامک فائونڈیشن لسٹر نے ۱۹۸۲ء میں شائع بھی کیا تھا۔

افسوس کہ اس تاریخی دستاویز کو مستقبل کے ’مسلم، عیسائی مکالمات‘ کی بنیاد نہیں بنایا جاسکا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دونوں مذاہب کی برادریوں کی توجہ اصل مسائل اور تشویش کے اُمور سے ہٹ گئی، اور پوری قوت محض بے جان مذہبی لفاظی، بے معنی تواضع اور نمائشی خوش خلقی کی طرف مڑگئی۔ الفاروقی بھائی نے بڑی جرأت سے مشاورت میں اپنا نقطۂ نظر ان الفاظ میں بیان کیا تھا:

یہ درست ہے کہ نوآبادیاتی نظام اور توسیع پسندانہ ذہنیت ایک منفی قوت ہے۔ اس مشاورت میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی طاقت کے دائروں کے اندر بات کرنے کے وہ طریقے اور ذرائع دریافت کریں، اور یہ دیکھیں کہ ہم کیا حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں؟ میں ذاتی طور پر اس شخص کے ساتھ بحث کرنے کو تیار نہیں ہوں، جو یہ دلیل دیتا ہے کہ ’آج کل انڈونیشیا میں کوئی نوآبادتی جبر نہیں ہے‘۔ میں یہاں پر اپنی اس تشویش کا برملا اظہار کرتا ہوں کہ انڈونیشیا میں عیسائی مشنری تحریک اور نوآبادتی جبر کے درمیان گہرے رابطے موجود ہیں۔ اگر آپ کو یہ منظر دکھائی نہیں دیتا کہ تنزانیا اور انڈونیشیا میں سامراجی طاقتیں عیسائیوں کو کس انداز سے استعمال کر رہی ہیں تو پھر ہمیں مکالمہ جاری رکھنے کی کوئی ٹھوس بنیاد اور ضرورت دکھائی نہیں دیتی ہے۔

ڈاکٹر اسماعیل الفاروقی نے مزید کہا:

عیسائی مبلغین کے طرزِعمل کا ضابطہ تیار کرنا پہلی چیز نہیں ہے کہ جس پر ہمیں تشویش ہو، یہ دوسرے مرحلے کا تقاضا ہے۔ پہلا مرحلہ لازمی طور پر باہمی اعتماد کا فہم ہے۔ یہ بات عیسائی مبلغین سے، جو مسلمانوں کے مقابلے میں تبلیغی سرگرمیوں میں بہت آگے رہے ہیں اور جن کی مشنری سرگرمیوں کی تاریخ گذشتہ کئی عشروں کے دوران ایسے واقعات و حادثات سے بھری پڑی ہے، کہ وہ مسلمانوں کی نظروں میں شکوک پیدا کرتی ہیں۔ اس تاریخ کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ پھر اس عزم کا بھی اظہار کریں کہ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے آیندہ مثبت قدم اُٹھایا جائے گا۔ یہ کام مسلمانوں کے ساتھ تعاون کے اصول و ضوابط مرتب کرنے اور طریق کار کی تیاری کے لیے مل بیٹھنے سے قبل ہونا چاہیے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ بین المذاہب کانفرنسوں کے اس حتمی بیان میں مسلمانوں کی تشویش کو واضح الفاظ میں یوں منظور کیا گیا تھا:

  • کانفرنس، عیسائیوں اور مسلمانوں کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کے نظام کو اپنے مذہبی اصولوں اور قوانین کے مطابق تشکیل دیں، اور تمام ضروری اداروں کو مذہبی اصولوں اور قوانین کے مطابق برابر کے شہریوں کی حیثیت سے قائم اور برقرار رکھیں۔
  • عیسائی شرکا اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ان اخلاقی غلطیوں کے حوالے سے پوری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، جن کی وجہ سے نوآبادیاتی طاقتوں اور ان کے ہمراہیوں کے ہاتھوں [مسلم آبادیوں کو] مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کانفرنس پر یہ حقیقت واضح ہے کہ بداعتمادی اور خوف کی وجہ سے ’مسلم عیسائی تعلقات‘ متاثر ہوئے ہیں۔ مشترکہ اچھائی کے لیے باہمی تعاون کرنے کے بجائے مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا اور ایک دوسرے سے بیگانہ ہی رہے ہیں۔
  • نوآبادیاتی نظام کے ایک صدی سے زیادہ عرصے کے بعد بھی متعدد عیسائی مشنری، نوآبادیاتی طاقتوں کے مفادات کے لیے جان بوجھ کر یا غیرشعوری طور پر کام کرتے رہے ہیں، اور مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنے میں بے دلی محسوس کرتے رہے ہیں، اور انھیں ظالموں کا ایجنٹ تصور کرتے ہوئے ان سے لڑتے رہے ہیں۔ اگرچہ اب اس تعلق میں یقینی طور پرکچھ تبدیلی کا آغاز ہوا ہے۔ تاہم، مسلمان اس کے باوجود کوئی بھی قدم اُٹھانے سے اس لیے گریزاں ہیں کہ عیسائیوں کی نیت پر ان کو شک ہے۔ اس کی وجہ یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج کے عیسائی مشنریوں کی متعدد سرگرمیاں مخصوص مفادات کے لیے عمل میں لائی جاتی ہیں۔
  • اس ضمن میں مسلمانوں کی بے خبری، مسلمانوں کی تعلیم، صحت، ثقافتی اور معاشرتی خدمات، مسلمانوں کی سیاسی پریشانیوں اور بحرانوں، ان کے معاشی انحصار، سیاسی تقسیم اور عمومی ضعف کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے، ان [مسیحی]مبلغین نے مذہب کی تبدیلی میں وسعت لانے اور عیسائیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ دوسرے مقاصد کے لیے کام کیا۔ حال ہی میں بعض بڑی طاقتوں کے خفیہ اداروں سے ان کے خدمتی تعلق کے انکشاف نے ان خدشات کی تصدیق کرکے موجودہ خراب صورت حال کو مزید خراب کردیا ہے۔
  • کانفرنس کے مسیحی ارکان، عیسائیت کے نام پر ہر ایسی خدمت سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں، جس نے اللہ اور ہمسائے سے محبت کے سوا کوئی اور مقصد اختیار کرکے اس کے مقصد کی اہمیت کو کم کردیا۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ ایسی کوئی بھی خدمت جو کسی مذموم مقصد کے لیے کی جائے، وہ پراپیگنڈے کا ہتھیار ہے اور خدا اور ہمسائے سے محبت نہیں ہے۔ انھوں نے اتفاق کیا کہ وہ اپنی پوری طاقت اور ان کے اختیار میں جو بھی ذرائع ہوں گے، انھیں استعمال کرتے ہوئے عیسائی گرجاگھروں اور مذہبی تنظیموں کو اس صورت حال سے مناسب طور پر آگاہ کریں گے۔ کانفرنس بڑے دکھ کے ساتھ عیسائی مشن کے بارے میں مسلمانوں کے ان رویوں سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے، جو خدمت کے غلط استعمال سے متاثر ہوئے، عیسائی گرجاگھروں اور مذہبی تنظیموں پر زور دیتی ہے کہ وہ مسلم دُنیا میں ایسی مذموم خدمات کو معطل کردیں۔
  • یہ بنیادی اقدام مسلم عیسائی تعلقات کی فضا کو سازگار بنانے اور باہم تعاون کے فروغ میں اضافے کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا۔ کانفرنس واضح الفاظ میں زور دیتی ہے کہ گرجا گھروں اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے عطاکردہ امدادی مال و اسباب کو، ان ممالک کی مقامی آبادی کے لوگوں کے تعاون کے ذریعے تقسیم کیا جائے، کہ جہاں یہ امداد دینے کا ارادہ ہو اور اس طرح متعلقہ لوگوں کی عزت ، وقار اور تشخص کا احترام کیا جائے۔

علمی و فکری خدمات

اس مشاورت میں مسلمان مندوبین نے بڑی لگن کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا، لیکن جناب اسماعیل الفاروقی کی خدمات فیصلہ کن تھیں۔ الفاروقی نے ۲۵ کتابیں تصنیف کیں، اور ایک سو سے زیادہ تحقیقی مقالات لکھے۔ لیکن میری نظر میں ان کا ممتاز ترین اور ہمیشہ زندہ رہنے والا کارنامہ  ان کی تین کتب ہیں:

  • Tawhid: Its Implications for Thought and Life [توحید، نظریہ اور زندگی کے لیے اس کی دلالت ] (انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ ورجینیا، یوایس اے ۱۹۸۲ء/
  • The Cultural Atlas of Islam [اسلام کا ثقافتی نقشۂ جہان]، لویس لمیاء الفاروقی کے ساتھ (میک ملن، نیویارک ۱۹۸۶ء)/
  • Islam and The Problem of Israel [اسلام اور اسرائیل کا مسئلہ] (اسلامک کونسل آف یورپ، لندن، ۱۹۸۰ء) ۔

برادرم الفاروقی شہید، اسلامی روح کا لب ِ لباب چند الفاظ میں اس طرح بیان کرتے ہیں: ’’اس میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا کہ اسلامی تہذیب کا جوہر اسلام ہے، اور اسلام کی روح التوحید ہے۔ یہ التوحید ہی ہے جو اسلامی تہذیب کو اس کی ثقافت دیتی ہے‘‘۔ (التوحید،ص ۱۷)

اسماعیل الفاروقی کے ہاں اسلام کا تصور، ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر ہی ہے، جو آئینے کی طرح صاف دکھائی دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اسلام، دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ اسلام کا اس کے سوا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے کہ زندگی اللہ کی مرضی کے تحت، اپنے اور معاشرے کے ساتھ احساسِ ذمہ داری کے ساتھ گزاری جائے‘‘۔

اسلامی تاریخ اور اسلامی قانون کے کردار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسماعیل الفاروقی لکھتے ہیں: ’’انھوں نے مسلم دنیا کو ادارے، اخلاق، طرزِزندگی اور کلچر دیا۔ انھوں نے تمام نسلوں اور ثقافتوں کے مسلمانوں کو ایک ہی نظریے کے تحت تعلیم دی اور ایک ہی نصب العین کے تحت ایک برتر قوت میں باہم جوڑ دیا۔ اسلامی قوانین کی بنیادی قوت نے کامیابی کے ساتھ اتحاد کو فروغ دیا اور تفریق کے ان تمام خطرات کو روک دیا، جن میں مسلم تاریخ کی چودھویں صدی میں غیرملکی طاقتوں کی فتوحات بھی شامل ہیں۔ یہ بجا ہے کہ شریعت یا اسلامی قانون دونوں ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کے اتحاد میں ہراول دستے اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی ہے وہ حقیقت، جو اُمت مسلمہ کو عالم گیر اخوت بنادیتی ہے‘‘۔

برادرم الفاروقی کے ہاں اُمت کا نصب العین بڑا واضح ہے: ’’ظاہری طور پر اُمت کی نشوونما کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ اس کا وجود اللہ تعالیٰ کی مرضی کے اظہار کا ذریعہ ہے، جس کا مقصد  اس اُمت کے ذریعے زمان و مکان کی حقیقت کی تلاش ہے اور دُنیا کے سامنے اس حقیقت کا اظہار ہے، جو اللہ تعالیٰ کی حتمی وحی کی بنیاد، اس کی مرضی کے ذریعے اس نکتے کی تشکیل کرتی ہے، اور جہاں خدائی کائنات رضائے الٰہی کے اظہار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ جیساکہ قرآن میں اُمت مسلمہ کے وجود کا مقصد بیان کیا گیا ہے: ’’تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو‘‘۔

برادرم الفاروقی، اسلام کے اداراتی کردار اور اسلام کے مستقبل کی وضاحت کرتے ہیں:

اسلام وہ واحد مذہب ہے ، جس نے زیادہ تر مذاہب کا مقابلہ انھی کے مضبوط مراکز اور ماحول میں کیا، خواہ یہ مقابلہ افکار و خیالات کے میدان میں تھا یا تاریخ کے میدانِ جنگ میں۔ اسی طرح اسلام ان تمام معرکوں میں شریک رہا، خواہ وہ روحانی تھے یا سیاسی۔ یوں اسلام نے اپنے نظام کو مکمل کیا ، اور یہ آج بھی تمام محاذوں پر بڑی مضبوطی کے ساتھ معرکہ آرا ہے۔ مزیدبرآں اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے یہودیت، عیسائیت، ہندومت اور بدھ مت کے ساتھ بین المذہبی اور بین الاقوامی آویزش کے تمام معرکوں میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی، جو ان مذاہب کے ساتھ برپا ہوئے۔

یہ واحد مذہب ہے، جس نے دنیابھر میں مغربی نوآبادیاتی نظام اور سامراجیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تمام کوششوں کو جھونک دیا، جس کے نتیجے میں یہ نوآبادیاتی نظام ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔اسلام آج بھی فکری سطح پر ترقی کر رہا ہے اور دعوت وتبلیغ کے ذریعے سے پھیل رہا ہے، اور کسی بھی دوسرے مذہب کے مقابلے میں اس میں شامل ہونے والوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ یہی وہ مذہب ہے، جس کے دشمنوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح یہی وہ مذہب ہے جس کو سب سے زیادہ غلط سمجھا گیا ہے۔

اسماعیل الفاروقی نے دسمبر ۱۹۸۱ء میں کوالالمپور میں منعقدہ ۱۵ویں صدی ہجری کانفرنس میں اپنے مقالے Dawah in the West: Promise and Trial میں یہ پُرجوش اپیل کی:

آج ہجری صدی کو منانے کا مقصد، درحقیقت انسانیت کو اس تہذیب کی طرف متوجہ کرنا ہے، جو فطرت سے بغاوت کے نتیجے میں خوار و زبوں ہے۔ چودہ سوسال قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور ایک صحت بخش  عالمی نظام (World Order) عطا کیا۔ آج تڑپتی انسانیت کو اس الٰہی نظامِ جہاں سے زیادہ کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے....  مسلمان بھائی پہلے اس کو قائم کریں اور اس کے بعد انسانیت سے اپیل کریں کہ وہ ان کی صفوں میں شامل ہوجائیں، تاکہ امن اور انصاف، تقویٰ اور نیکی کے نئے عالمی نظام کے لیے جدوجہد ثمربار ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ، دلیل اور مثال کے ساتھ عمل کا حکم دیتا ہے۔ ہم سب اس ربِ ذوالجلال کی وحی کے قابل خود کو ثابت کیوں نہیں کرسکتے؟

برادرم اسماعیل الفاروقی مستقبل بین اور مستقبل ساز سوچ کے مالک تھے۔ وہ کسی پُرسکون لائبریری کے اسکالر نہیں تھے۔ اپنی زندگی کے آخری دو عشروں میں وہ جس تبدیلی کے خواہش مند تھے، اس کا انھیں پورا شعور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم دُنیا کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے  متحرک رہے۔ اُمت کے پاس موجودہ تمام وسائل، خاص طور پر نوجوانوں کو بروئے کار لانے کے لیے اور اسلامی نظامِ جہاں کے قیام کے لیے وہ شب و روز اور مسلسل جدوجہد میں مصروف رہے۔  وہ مسلمانوں کی ان قومی، سیاسی قیادتوں کے بھی نقاد تھے، جنھوں نے اس کردار اور ذمہ داری کی ادائی سے مجرمانہ حد تک پہلوتہی برتی تھی، وہ بنیادی ذمہ داری کہ جو دین اور تاریخ نے ان پر ڈالی تھی۔ الفاروقی نے بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا:

عالم اسلام کی قومی حکومتوں نے (جو خواہ دستوری بادشاہتیں ہوں، جمہوری یا فوجی آمرانہ حکومتیں ہوں) جتنی بھی حالیہ زمانے میں اصلاحات کی ہیں، وہ زیادہ تر ریت پر تعمیر کی گئی ہیں۔ مسلم دُنیا میں ’جدیدیت‘ اس لیے ناکام ہوگئی کہ یہ مغرب زدہ تھی اور جو مسلمانوں کو ان کے ماضی سے الگ کررہی تھی، اور ہم وطن مسلمانوں کو مغربی انسان کی بگڑی ہوئی صورت (caricature) میں ڈھالنا چاہتی تھی۔

اُمت مسلمہ کی موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے ان کا نسخہ بڑا سادہ اور تیربہدف ہے۔ انھوں نے مکمل تبدیلی پر زور دیا، لیکن اس طریق کار کی کلید ان کے نزدیک دعوت، تعلیم اور اس میں بھی زیادہ اہم کام علم (knowledge)کو اسلامی رنگ میں رنگنا ہے:

اسلام کی عالمی اُمت اس قوت سے دوبارہ نہیں اُٹھ پائے گی، یا اُمت ِ وسط نہیں بنے گی جب تک وہ ا پنے مقصد ِ زندگی، اس کے کردار، اس کی تقدیر، یعنی اسلام پر عمل نہیں کرے گی۔ یہ اُمت صرف اللہ کا خلیفہ بن کر اور اسلام کے صحیح تصور کے ساتھ وابستگی ہی سے گردوپیش میں پھیلے ہوئے چیلنج کا جواب دے سکتی ہے۔

برادرم اسماعیل الفاروقی نے جس لائحہ عمل کی نشان دہی کی ہے، اس کے اہم اجزائے ترکیبی میں تعلیم کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا، کردار سازی کی طرف متوجہ ہونا، خاندان کی حفاظت کرنا، معیشت کی مضبوطی و خودانحصاری، معاشرے اور طرزِحکومت کے اداروں کی شریعت کے اصولوں اور تعلیمات کے مطابق اصلاح اور تعمیر کرنا شامل ہے۔ اسی طرح ہرسطح پر دعوتِ حق اس مشن کے لیے لازمی طاقت، روحانی زندگی کا حصول، اخلاقیات کی قوت، مادی وسائل کے تمام ذرائع کا استعمال اور ان کی نشوونما میں تیزی لانا شامل ہے۔

چونکہ اس تبدیلی کے لیے انھوں نے خود جدوجہد کی ہے، اسی لیے ان کا لائحہ عمل ہمہ پہلو ہے، جیساکہ انھوں نے توحید: نظریہ اور زندگی کے لیے اس کی دلالت  میں بیان کیا ہے۔   وہ اپنی زندگی کے آخری چند برسوں میں شعوری انقلاب کے لیے خاص طور پر یکسو اور وقف تھے۔ ایسا شعوری انقلاب جو مکمل تبدیلی کے لیے عمل کی قوت سے سرشاری عطا کرتا ہے۔ اس ضرورت کا احساس بیدار کرنے کے لیے انھوں نے مسلم دنیا کے تمام دانش وروں سے دل سوز اپیل کی تھی، جو ان کی شہادت کے بعد امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز (AJISS)میں شائع ہوئی:

ہمارے سامنے انتہائی اہم کام ایک ہے اور وہ یہ کہ ہم کب تک اپنے آپ کو روٹی کے  ان چند ٹکڑوں پر راضی اور مطمئن رکھیںگے، جو مغرب ہماری طرف پھینک رہا ہے۔  آج یہی وقت ہے کہ ہم اپنا اصل کردار سمجھیں اور اسے ادا کریں۔ صحت مند اور عادل معاشرے کی تشکیل کے ماہرین کی حیثیت سے ہمیں اپنی ترتیب اور تربیت کا جائزہ لینا اور اُسے قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ہمارے اجداد نے تاریخ، قانون اور ثقافت میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ مغرب نے اس ورثے کو ہم سے عاریتاً لیا اور اس کو سیکولر قالب میں ڈھال دیا۔ کیا اس کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت ہے کہ ہم آگے بڑھ کر اس کو حاصل کریں اور پھر اسی طرح اس کو اسلامی بنادیں؟

مختصر ترین الفاظ میں برادرم اسماعیل راجی الفاروقی کی یہی وصیت ہے۔ میں دعا اور اُمید کرتا ہوں کہ مسلم دانش ور، ان کی پیشہ ورانہ تنظیمیں اور عام طور پر اسلامی تحریکیں، وقت کی اس فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لازماً پہل کریں گی۔


(انگریزی سے ترجمہ: عارف الحق عارف / سلیم منصور خالد)

ساتویں صدی کی مدینہ اکنامکس، محمد منیراحمد۔ ناشر: ایوانِ علم و فن۔ ملنے کا پتا: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، لاہور۔ فون:۳۵۲۵۲۵۰۱-۰۴۲ صفحات: ۴۰۰،قیمت: ۸۰۰ روپے۔

انسانیت کے تین بڑے مسائل میں روحانیات، اخلاقیات اور معاشیات سرفہرست ہیں۔ یہ چیلنج ہزاروں برسوں سے انسان کے لیے بڑے نازک اور سلگتے سوال لے کر سامنے آتا ہے، جن کا جواب دینے کے لیے فلسفیوں، دانش مندوں اور ماہرین اجتماعیات نے سرتوڑ کوششیں کیں، مگر ناکام رہے۔ وہ ایک سوال کا جواب دینے کے قریب آئے تو دوسرا سوال پھن پھیلائے ڈسنے کو لپکا۔

یہ اسلام ہی ہے اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ رہنمائی کہ جنھوں نے بہ یک وقت روح، اخلاق اور معاش کو درپیش مسائل کا ایک چھت کے نیچے اس خوب صورت اور متوازن انداز سے حل فرمایا کہ معاشرہ خداترسی،سکون اور عدل اجتماعی کی تصویر بن گیا۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے سابق محقق اور ممتاز ماہر معاشیات محمد منیراحمد کی یہ کتاب درحقیقت اسی کارنامۂ نبویؐ کی تشریح پر مبنی تاریخی، علمی اور عملی دستاویز ہے، جو پندرہ ابواب پر مشتمل ہے۔

کتاب کا مطالعہ فرد کو گذشتہ ۱۵سو برسوں کے دوران انسان کی معاشی زبوں حالی اور مدنی ؐ   دست گیری سے متعارف کراتا ہے۔ ایسی خوب صورت علمی کتاب کا استقبال اہلِ علم پر واجب ہے۔ (س م خ)


امیرمینائی کی نعت، ایک مطالعاتی تناظر، مرتب: صبیح رحمانی، اکیڈمی بازیافت، کتاب مارکیٹ، آفس۱۷، سٹریٹ۳، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۳۲۷۵۱۴۲۸-۰۲۱۔ صفحات:۲۰۰۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

صبیح رحمانی نے زیرنظر کتاب میں معروف شاعر امیرمینائی کی نعتیہ شاعری پر مختلف اہلِ قلم اور نامور نقادوں کے مضامین جمع کیے ہیں۔ امیرمینائی نے محبت ِ رسولؐ کا اظہار طرح طرح سے کیا ہے۔ امیرمینائی کی نعت پر مضامین کے ساتھ، ان کے قصائد اور غزلوں میں نعتیہ رنگ اور ان کی نعتیہ تضمینات پر نقدوتبصرہ بھی شامل ہے۔ مرتب نے اپنے پیش لفظ میں امیرمینائی کی نعت پر اہم نکات پیش کیے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)

ہمارے دیہاتی علاقوں میں ہرجگہ مسیحی برادری کا پُشت پناہ ایک پادری موجود ہے، جو تھانے سے لے کر سکرٹریٹ تک ہردرجے اور مرتبے کے حکام سے مسیحیوں کے لیے بے جا رعایتیں تک حاصل کرلیتا ہے۔ مسلمانوں کے کسی عالم کو ان حاکموں کی بارگاہوں میں وہ رسائی حاصل نہیں ہے، جو عیسائی پادریوں کو حاصل ہے۔ [وہ] ان حکام کی نگاہوں میں ویسے ہی ذلیل و خوار ہیں، جیسے انگریز حاکموں کی نگاہ میں کبھی تھے۔ مگر مسیحی پادری ان کا بھی اسی طرح ’فادر‘ ہے، جس طرح انگریز حاکموں کا تھا۔ یہ ایک اور سبب ہے جس کی بناپر دیہات کے بے سہارا لوگ اپنے آپ کو پولیس اور زمین داروں اور بااثر غنڈوں کے ظلم سے بچانے کے لیے مسیحیت میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

رہے کھاتے پیتے طبقے، تو [وہ] اپنی اولاد کو اُردو زبان اور اپنی قومی تہذیب اور اپنےدین کی تعلیم و تربیت دینا لاحاصل سمجھتے ہیں اور ان کو ایسی تعلیم و تربیت دلوانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے وہ زبان اور اَطوار و عادات کے اعتبار سے پورے انگریز یا امریکی بن جائیں۔ اس غرض کے لیے وہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو مسیحی اداروں میں بھیجتے ہیں، جہاں کا پوراماحول ،ان کو اسلام اور اسلامی تہذیب سے بیگانہ اور اسلامی تعلیمات سے محض ناواقف ہی نہیں بلکہ منحرف اور باغی بنادیتا ہے۔ اس کے بعد اگر یہ نوجوان عیسائی نہ بھی بنیں تو بہرحال مسلمان تو نہیں رہتے،بلکہ مسلمانوں کی بہ نسبت عیسائیوں سے بہت قریب ہوجاتے ہیں۔ یہی لوگ تعلیم سےفارغ ہوکر ہمارے بڑے بڑے افسر بنتے ہیں اور اُونچے عہدے انھی کے لیے مخصوص ہوجاتے ہیں۔ ان سے کون یہ اُمید کرسکتا ہے کہ ان کی ہمدردیاں مسیحیت کے مقابلے میں کبھی اسلام کے ساتھ ہوں گی۔

اِن حالات میں محض مسیحی عقائد کی تردید میں مضامین لکھنے یا گائوں گائوں تبلیغ کے لیے دورے کرنے سے مسیحیت کے اس سیلاب کو کہاں تک روکا جاسکتا ہے؟(’رسائل و مسائل‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۸، عدد۳، جون ۱۹۶۲ء، ص ۵۶-۵۷)