پچھلے دنوں فیس بک پر عورتوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے خلاف ایک پوسٹ پر کچھ ایسا رد عمل دیکھنے میں آیا: ’’عورت کا دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ اگر وہ گھر سے نکلے گی تو اس کے ساتھ یہ تو ہوگا، کیوںکہ یہ مرد کی فطرت ہے‘‘۔ یعنی جنسی ہراسانی اور دوسرے مسائل کا حل یہ ہے کہ صنف نازک کو گھر تک محدود رکھا جائے ورنہ ان برائیوں کا سد ِباب نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی کہا گیا کہ: ’’ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ عورتیں نامناسب لباس میں نکلتی ہیں‘‘۔ پوسٹ پر بہت بڑی تعداد میں پردہ دار خواتین نے (جن کی پوری زندگی نقاب اور حجاب میں گزری، یہاں تک کہ جنھوں نے کینیڈا، امریکا ، برطانیہ میں رہ کر بھی نقاب اور حجاب کو نہیں چھوڑا) گواہی دی کہ انھوں نے پردے کے باوجود پاکستان کی سڑکوں پر جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے۔ بعض انصاف پسند مردوں نے بھی اس بات کی گواہی دی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جنسی ہراسانی کا موضوع عام طور سے نظر انداز رہتا ہے، اس وقت ہم بحث کا موضوع اس نکتے تک محدود رکھیں گے کہ ’’کیا واقعی اسلام، عورت کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے اسے محض گھر تک محدود کرنا چاہتا ہے؟‘‘
ہراسانی سے متعلق یہ دیکھتے ہیں کہ مغربی تعبیر کیا ہے: ’’جنسی ہراسانی، جنس کی بنیاد پر، کوئی بھی ایسا قولی یا جسمانی رویہ اختیار کرنا، جس سے دوسرے فرد کو اس کی مرضی کے خلاف کوئی ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچے‘‘۔ اسلام اس ضمن میں فرد کی مرضی کی نفی کرتا اور جائز حدود سے تجاوز کی ممانعت کرتا ہے۔ صرف قانون ہی کو حرکت میں نہیں لاتا بلکہ آخرت میں دردناک عذاب کی وعید بھی سناتا ہے۔ہراسانی میں سڑکوں پر یا اسکول کالج یونی ورسٹی یا گھروں میں دوسری صنف کو نامناسب طریقے سے گھورنا، فقرے کسنا، غلط طرزتخاطب استعمال کرنا، تعلقات میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنا، موقع ملنے پر چھونے کی کوشش کرنا، یا اس سے آگے بڑھ کر اور کوئی نا مناسب رویہ اختیار کرنا شامل ہو سکتا ہے، جس سے دوسرا فریق اذیت محسوس کرے۔ یاد رہے، ضروری نہیں کہ ایسا رویہ خواتین کے خلاف ہی اپنایا جاتا ہو۔ اس موضوع پر ہماری تحقیق کے دوران ایک نو عمر لڑکے نے بھی اپنی استاد کے ہاتھوں ہراسانی محسوس کرنے کی شکایت کی۔ تیسری صنف نے بھی اس حوالے سے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ایسے تلخ رویوں کی شکایات کی۔ افسوس کہ معاشرے میں اس حوالے سے تربیت یا اقدار کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
پاکستان میں مردوں کی عظیم اکثریت شریف النفس ہے۔ اس کے باوجود ہماری سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو اپنے گھر کے علاوہ باقی خواتین کی عزت کرنا نہیں جانتے۔ یہ مسئلہ اس وقت اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے، جب ایسا کرنے والے کو معاشرے یا خود متاثرین کی خاموشی کی وجہ سے رد عمل کا کوئی خوف باقی نہ رہے۔
یہ رویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے، لیکن اسے کوئی قابل ذکر مسئلہ شاید اس لیے نہیں سمجھا جاتا، کہ ان کا شکار عموماً خواتین ہوتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں شرم و حیا کے معیارات کچھ ایسے ہیں کہ ان میں اس مسئلے پر بات کرنا ممکن نہیں۔ چہ جائیکہ وہ اپنے اُوپر گزرنے والی واردات کی روداد کا کچھ ذکر بھی کر سکیں۔ تیسری صنف کے لوگ اس کے خلاف آواز اٹھانے کی مقدور بھر کوشش کرتے رہے ہیں اور بعض بیرونی این جی اوز ان کی مظلومیت کے بل پر اپنی روزی روٹی کا بندوبست کر رہی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ ان مظلوموں کو بھی مذاق سے زیادہ اہمیت دینے پر راضی نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بیرونی این جی اوز سے پہلے ہم خود اس کے خلاف ہراسانی پر آواز اٹھاتے، لیکن سنجیدہ حلقوں کی توجہ اس طرف نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر شریف خاندانوں کے مرد حضرات اپنی ہی ماؤں، بہنوں، اور بیٹیوں پر گزرنے والے ایسے واقعات سے مکمل طور پر بے خبر رہتے ہیں۔ خود خواتین کے لیے ان واقعات پر خاموشی کے علاوہ کسی اور رد عمل کی ہمت اور اختیار نہیں ہوتا۔
ہمارے معاشرے میں ان موضوعات پر بات کرنا اہم صرف اس وقت ہوتاہے جب ہم ’زینب قتل کیس‘ کی طرح کا کوئی سنسنی خیز دل دہلا دینے والا واقعہ سنتے ہیں۔ ایک عام لڑکی، سڑکوں اور پبلک مقامات پر کیسا محسوس کرتی ہے؟ اسے ہم عموماً ایک عام سا رویہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ خود خواتین نوجوانی کے دوران اس جبر کو معاشرے کا عمومی چلن سمجھ کر خاموش رہتی ہیں۔
ہمارے دیہی اور شہری علاقوں میں بیش تر خواتین ایسے تکلیف دہ تجربات سے گزرتی ہیں۔ پھر سڑکوں، گلیوں، پبلک مقامات پر خواتین کو ہراسانی سے بچانے کے لیے انھیں گھر بٹھا لینا ہی مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے، لیکن اس حقیقت کو بھلا دیا جاتا ہے کہ یہ عملاً ممکن نہیں اور نہ ہمارا دین ہمیں اس کا یہ حل بتاتا ہے۔
الحمدللہ ، ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بہت تحفظ دیا جاتا ہے۔ شہروں کا ماحول دیہی علاقوں سے مختلف ہے، لیکن کبھی اُن بچیوں کے چہروں پر حسرت دیکھیے جو صرف اس لیے اسکول یا دینی مدرسے نہیں جا سکتیں کہ گاؤں کی گلیوں میں ایسے نوجوان موجود ہیں، جن سے ان کی عزت محفوظ نہیں اور لڑکیوں کے گھر والے، محلے دار اور گاؤں والے بجاے اس مسئلے کو حل کرنے کے، بچیوں کو گھر بٹھا لیتے ہیں۔ ضلع صوابی کے ایک گاؤں میں قیام پذیر ایک خاتون نے بتایا: ’’ہمارے گاؤں میں لڑکیوں کا اسکول تو موجود ہے، لیکن گاؤں کی گلیوں میں نوجوانوں کی فقرے بازی کی وجہ سے لوگ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے کے بجاے گھر بٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں‘‘۔ چترال سے ایک نوجوان ٹیچر نے بتایا: ’’ویسے تو کوئی بچی ہراسانی کی شکایت کی ہمت نہیں کرتی، لیکن اگر کہیں ایسا ہوجائے تو باقی اساتذہ یہی کہتے ہیں کہ لڑکی کا کوئی قصور ہوگا، لڑکی ٹھیک ہو تو اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘۔ یہ اذیت ناک جملہ ہمارے ہاں ضرب المثل کی طرح بولا جاتا ہے۔
بڑے شہروں میں رہنے والی بچیوں کو مختلف صورتوں میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ معاشرتی برائی بچیوں کی پوری زندگی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے اور کرتی ہے۔ آبادی کا بہت بڑا حصہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں مقیم ہے۔بڑے شہروں میں رہنے والی خواتین، دیہی خواتین کے مسائل کو اپنے محدود تناظر میں دیکھنے کی عادی ہیں۔ شہر کی عورت، گاؤں کی عورت کے مقابلے میں زیادہ بااختیار نظر آتی ہے۔ اس کی آواز بھی توانا ہے، اس لیے اسے نسبتاً ایسے رویے کا کم ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک عمومی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ’’یہ ساری دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے‘‘۔ لیکن عمومی مشاہدے کے مطابق سعودی عرب، مصر، ترکی، مغربی یورپ، اور شمالی امریکا میں سڑکوں یا پبلک مقامات پر ایسی حرکتیں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں، جو ہمارے مسلم اور مشرقی معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
بلاشبہہ مغرب میں جنسی جرائم ہوتے ہیں اور بڑے ہولناک ہوتے ہیں، مگر وہ اکثر ریکارڈ پر آجاتے ہیں، اور پھر اُن کے قوانین کے مطابق وہاں اخلاقی جرائم کے اکثر متاثرین کو آسانی سے انصاف ملتا ہے۔ ’می ٹو موومنٹ‘ نے مغربی معاشرے کی بچی کھچی اخلاقیات کی ساری قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ترکی جیسے دیگر مسلم ممالک میں جنسی ہراسانی جیسی اخلاقی برائی سرے سے پائی ہی نہیں جاتی ہوگی، لیکن راقمہ نے محسوس کیا کہ معاشی اعتبار سے امیر دنیا میں اس مسئلے پر مکالمہ موجود ہے۔ اسے مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے اقدار کا ایک نظام بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور متاثرہ کو ترچھی نظر سے نہیں بلکہ ہمدردی سے دیکھا جاتا ہے۔ انفرادی جرائم ہوتے ہیں لیکن قانون اور معاشرہ بہ حیثیت مجموعی ان غلط رویوں کا دفاع نہیں کرتا۔ دیکھا جائے تو ہراسانی کے کلچرل دیوالیہ پن کی مناسبت سے ہمارا معاشرہ مغرب کے مقابلے میں بھارتی معاشرتی بدتہذیبی سے قریب تر ہے۔
ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات اور حیا کے فطری تقاضوں کی پاس داری کے لیے بچیوں کو چھوٹی عمر سے ہی دوپٹہ یا چادر لینے اور بغیر محرم گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا جاتا ہے، جو بہت ضروری اور بہت بنیادی اقدامات ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اہلِ خانہ یا محرم کے ساتھ نکلنے پر بھی اور پردے کی پابندی کے ساتھ نکلنے پر بھی، ہراسانی کا سامنا بہرحال ہوتا ہے۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ قابلِ ذکر مسئلہ زیربحث نہیں لایا جاتا، اس لیے اس کے خلاف کوئی عوامی رد عمل موجود نہیں۔
پھر معاشرے میں خواتین کے پردے کی کمی کو اس اخلاقی فتنے کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے، اور صنف نازک ہی کو مردوں کے اس غیر اخلاقی طرز عمل کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے۔ لڑکوں کے ایسے کسی طرزِعمل کے بارے یہ تک کہہ دیا جاتا ہے کہ ’’یہ مرد کی فطرت ہے اور خواتین کا دائرۂ کار ان کا گھر ہے۔ جب خواتین گھر سے نکلیں گی تو ان کے ساتھ یہ تو ہوگا‘‘۔
قرآن و سنت نے چودہ سو سال پہلے ان مسائل کو معاشرے کے اہم مسائل قرار دے کر حدود اور قیود واضح کر دی تھیں۔ ہم وہ امت ہیں، جنھیں چودہ سو سال پیش تر ان ا قدار کے لیے مرد و عورت کے اختلاط کے مقامات پر غضِ بصر اور پردے جیسی ہدایات فراہم کر دی گئی تھیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن، اختلاط سے متعلق برائیوں کے خاتمے کی ذمہ داری مرد اور عورت دونوں پر ڈالتا ہے، لیکن معاشرہ عام طور سے مرد کے اخلاقی انحطا ط کی سزا بھی عورت ہی کو دینا چاہتا ہے۔
سورۂ نور آیت۳۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے‘‘۔
اس سے اگلی آیت ۳۱ میں ارشاد فرمایا گیا:’’اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بناؤسنگھار نہ ظاہر کریں، مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہو، اس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔ اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے‘‘۔
یہ تو وہ احتیاطیں ہیں، جو مرد اور عورتوں دونوں کو گھر سے باہر نکلنے اور نا محرموں سے بات چیت اور معاملات کے حوالے سے بتا دی گئی ہیں۔ مرد کو نظر نیچی رکھنے، اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا،جب کہ عورت کو سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھنے کا بھی اور اپنی زینت چھپانے کا بھی۔ اور ان محرم رشتوں کی تفصیل بھی بتا دی گئی ہے، جن سے باہر ہر رشتے میں یہ احتیاط ملحوظ رکھنا ہے۔
سورۂ احزاب آیت ۳۲ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو‘‘۔
یہاں خواتین کو نا محرم مردوں سے بات کرتے ہوے اپنے لہجے کو راست، واضح اور سخت رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حدود میں رہ کر ضرورت کے مطابق بات چیت کی اجازت ہے۔ اسلام بات کرنے پر پابندی نہیں عائد کرتا، اس کی تہذیب سکھاتا ہے۔
اس سے اگلی آیت ۳۳ میں ارشاد ہے:’’اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیت ِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے‘‘۔
یہ دو آیتیں بظاہر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو مخاطب کرتی ہیں، لیکن ایک عام اصول کے تحت اس کا اطلاق تمام مسلمان عورتوں پر ہوتا ہے۔ کیوںکہ نبیؐ کی بیویاں ہمارے لیے مثال ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرے اور خصوصاً دینی طبقات وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ کا جو مطلب لیتے ہیں، کیا دورِ نبویؐ میں بھی اس کا مفہوم وہی تھا، یا اس معاملے میں آج کے مسلم معاشرے اور خصوصاً بر صغیر جنوب مشرقی ایشیا کی مسلم معاشرت افراط و تفریط کا شکار ہے؟
جہاں تک قرآن کے اس حکم کا تعلق ہے کہ’’اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ بیٹھو۔ دورِجاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو‘‘، تو دورِ رسولؐ کی مختلف مثالوں سے یہ بات واضح ہے کہ اس سے مقصد بناؤ سنگھار دکھانا اور بے پردہ نکلنے ہی کی ممانعت تھی ورنہ اسلامی تاریخ پر معمولی نظر رکھنے والا بھی اس امر سے واقف ہے کہ اس دور میں گھر سے باہر خواتین کے آنے جانے اور خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں حصہ لینا عام تھا، بلکہ جو حدود و قیود اسلا م عورت کے لیے متعین کرتا ہے، وہ خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کا باہر نکلنا مطلقاً منع نہیں۔ البتہ عورتوں کی تربیت کے ساتھ مردوں کی تربیت کا سامان بھی اسلام پیش کرتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں اور بہت سی بُرائیاں اور بداخلاقیاں ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھارہی ہیں، ان میں ایک بہت بڑی بیماری افواہیں پھیلانے کی ہے۔ شاید افواہیں پھیلانے والوں کو یہ اندازہ بھی نہ ہو کہ بسااوقات اس کے منفی اثرات معاشرے اور مملکت دونوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں، اور جس کے تباہ کن اثرات سے خود افواہ سازی کا کام کرنے والے بھی نہیں بچ سکتے۔
شرعی نقطۂ نظر سے افواہیں پھیلانا یا افواہوں کے ذریعے معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلانا ایک بدترین جرم ہے۔ اس لیے کہ افواہیں بغیر کسی بنیاد کے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان نہ صرف نفرت و حقارت پیدا کرتی ہیں، بلکہ بسااوقات بلاوجہ لڑائی جھگڑے کا سبب بھی ہوتی ہیں۔ افواہوں کے مہلک اور مضر اثرات کے پیش نظر اسلامی مملکت کے شہریوں پر یہ فریضہ شرعاً عائد ہوتا ہے کہ وہ خود کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں، بلکہ افواہیں پھیلانے والوں پر بھی کڑی نظر رکھیں اور انھیں بھی افواہیں نہ پھیلانے دیں۔ من گھڑت اور جھوٹی باتیں نہ صر ف دُنیوی اعتبار سے جرم ہیں،بلکہ آخرت میں بھی اس جرم کی پاداش میں سخت سزا بھگتنا پڑے گی۔
افواہیں خواہ حکومت کے خلاف ہوں یا کسی ادارے کے، جماعت مسلمین کے کسی فرد کے خلاف ہوں یا اُمت ِ مسلمہ کے کسی طبقے کے خلاف، ہرحالت میں قابلِ مذمت ہیں۔ تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ چندافراد کی پھیلائی ہوئی باتیں پوری قوم کے لیے شرمندگی اور پریشانی کا باعث بن گئیں، اور اس کے سنگین نتائج آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے۔
عہد ِ نبویؐ میں افواہیں پھیلانے کا کام منافقین کیا کرتے تھے۔منافقین نہ ملّت اسلامیہ کے خیرخواہ تھے اور نہ مملکت اسلامیہ کے۔ وہ ہرقت اس تاک میں رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے تو ملّت اسلامیہ پر بھرپور وار کریں۔ خصوصاً ان حالات میں جب مسلمانوں پر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہوتا تھا تو ان کی تخریبی سرگرمیاں مزید تیز تر ہوجاتی تھیں۔ منافقین کبھی خوف و ہراس پھیلانے کے لیے افواہیں پھیلایا کرتے تھے اور کبھی کسی واقعی خطرے کو چھپانے کے لیے غلط قسم کا اطمینان پیدا کرنے کے لیے بے بنیاد اور مبالغہ آمیز خبریں پھیلاتے تھے۔ قرآنِ حکیم نے اس کا سدّباب کرنے کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب اس قسم کی غیرمصدقہ خبر یا افواہ پہنچے تو اُسے ہرگز لوگوں میں نہ پھیلایاجائے، بلکہ اس قسم کی بے بنیاد خبروں اور افواہوں کے بارے میں ارباب حل و عقد کو آگاہ کرنا چاہیے، تاکہ وہ اس قسم کی افواہوں کا جائزہ لیں اور ٹھیک ٹھیک صورتِ حال سے ملّت کو آگاہ کریں۔ اگر کوئی بات صحیح ہے اور اُمت کو اس سے آگاہ کرنا ضروری ہے تو حکومت خود اس خبر کی اشاعت کرے گی، اور معاشرے میں محض بے چینی یا فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور افواہوں کے مضر اثرات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات اُٹھائے گی۔
قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:
وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ۰ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا۸۳(النساء ۴:۸۳) اور جب اُن کو کوئی بات امن یا خطرے کی پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولوالامر کے پاس پہنچا دیں تو وہ بات ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچ جائیں اور صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔
اس آیت میں افواہیں پھیلانے کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اور ذمہ دار شہریوں پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ کوئی افواہ سنیں تو اربابِ حل و عقد کو اِس سے آگاہ کریں، خود اس افواہ کو بیان کر کے نہ پھیلائیں۔ بلاوجہ سنی سنائی بات کو لوگوں میں بیان کر کے اس مقصد میں شریک نہ ہوں، جو کوئی بدکردار اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والا فرد افواہ پھیلا کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا سنہری اُصول بیان فرمایا ہے، جو ایک دستوری ہدایت بھی ہے:
کَفٰی بِالْمَرءِ اِثْمًا اَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ط (سنن ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی التشدید فی الکذب، حدیث:۴۳۶۱ ) گناہ کے لیے یہ بات کافی ہے کہ انسان ہرسنی سنائی بات بیان کرنے لگے۔
قرآنِ حکیم اصلاحِ معاشرہ کے لیے جہاں ضروری ہدایات دیتا ہے ، وہاں ایسی باتوں کا بھی قلع قمع کرتا ہے جو معاشرے کے پُرامن اور پُرسکون ماحول کو بگاڑنے کا سبب ہوں۔
سورئہ بنی اسرائیل کی اس آیت ِ مبارکہ کو غور سے پڑھیے ، جو نہ صرف یہ کہ بے بنیاد باتوں کے پیچھے نہ لگنے کا حکم دے رہی ہے،بلکہ ذمہ داری کا شعور بھی بیدار کر رہی ہے:
وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۰ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًا۳۶ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۶) جس چیز کا تمھیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ یقینا کان، آنکھ اور دل سب کی بازپُرس ہوگی۔
یعنی جس چیز کے بارے میں تمھیں کامل اطمینان اور پوری طرح علم نہ ہو تو محض اٹکل اور گمان کی بنا پر اس کے پیچھے نہ لگ جایا کرو۔ تہمتیں، بدگمانیاں اور افواہیں سب ایک ہی قبیل کی بُرائیاں ہیں۔ ایک اچھے اور مہذب معاشرے کو ان بُرائیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ اسلام جو معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے، اس کی بنیاد باہمی تعاون، اعتماد اور حُسنِ ظن پر ہوتی ہے۔لہٰذا، کسی معاملے میں کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جو محض افواہ پر مبنی ہو، اور بدگمانی کی وجہ سے کسی کے بارے میں کوئی غلط بات نہ کہی جائے جس کی وجہ سے کسی فرد، جماعت، ادارہ یا طبقے کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچتا ہو، یا کچھ لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہو۔
سورۃ الحجرات میں اُمت مسلمہ کی اجتماعی اور شہری زندگی کے لیے ایک جامع ضابطۂ اخلاق پیش کیا گیا ہے۔ اس سورہ میں ان تمام بُرائیوں سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فتنہ و فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے لوگوں کے باہمی تعلقات خراب ہوتے ہیں اور رنجشیں پیدا ہوتی ہیں، مثلاً ایک دوسرے کا مذاق اُڑانا، طعن و تشنیع کرنا، لوگوں پر پھبتیاں کسنا ، یا ان کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرنا، لوگوں کی غیبت کرنا، عیب جوئی کرنا وغیرہ۔ یہ سب وہ افعال ہیں جو صراحتاً گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑو فساد پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام بُرائیوں کو نام بنام ذکر کرکے انھیں حرام قرار دیا ہے۔
موضوع کی مناسبت سے یہاں سورئہ حجرات کی ایک آیت خاص طور پر قابلِ توجہ ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۶ (الحجرات ۴۹:۶) اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمھیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔
اِس آیت مبارکہ میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی خبر یا اطلاع ناقابلِ اعتماد ذرائع سے آئے تو بغیر تحقیق و تصدیق اسے من و عن نہیں ماننا چاہیے، بلکہ خوب اچھی طرح اس کی تحقیق کرلینی چاہیے کہ آیا واقعی اس خبر میں کوئی صداقت ہے؟ بغیر کسی تحقیق اور بغیر کامل اطمینان کے اگر کسی ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ سواے رُسوائی اور ذلّت کے کچھ نہیں ہوگا۔
مفسرین نے اس آیت کا جو پس منظر بیان کیا ہے وہ بھی اس مسئلے کی وضاحت کرتا ہے ۔ عہدنبویؐ میں بعض لوگوں نے قبیلہ بنی المصطلق کے بارے میں رسولِ کریمؐ اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو غلط اطلاع دی تھی کہ اس قبیلے نے مرکز کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ اور یہ کہ انھوں نے مرکز کو زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن مدینہ منورہ کی جانب سے کسی کارروائی سے قبل خود اس قبیلے کے سردار حارث بن ضرارؓ رسولِ کریمؐ کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے تمام حقیقت بیان کی اور بتایا کہ اس قبیلے کے کسی فرد نے بھی زکوٰۃ کی ادایگی سے انکار نہیں کیا، اور نہ مرکز کی جانب سے بھیجے گئے محصِّل کو کسی نے قتل کی دھمکی دی ہے۔ دراصل قبیلہ بنو المصطلق سے مخالفت رکھنے والے بعض افراد نے غلط اطلاعات پھیلا کر مرکز کو اس قبیلے کے خلاف کارروائی پر اُبھارنے کی کوشش کی تھی۔ اصل حقائق معلوم ہونے پر مرکز نے بنو المصطلق کے خلاف کارروائی کا ارادہ موقوف کر دیا۔ قرآنِ حکیم نے اس موقعے پر یہ حکم دیا کہ اس قسم کی جب کوئی خبر یا اطلاع ملے تو اربابِ حل و عقد کو چاہیے کہ اس کی خوب تحقیق کرلیا کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات سے مغلوب ہوکر یا جذبات میں آکر کسی بے گناہ طبقے کے خلاف اقدام کربیٹھیں جس پر بعد میں پچھتانا پڑے۔
عہد نبویؐ میں منافقین اور یہودی افواہیں پھیلانے اور اُمت مسلمہ کے مختلف طبقات کے درمیان منافرت پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اس کے لیے وہ ہرحربہ استعمال کرتے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے انصار و مہاجرین کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لیے علاقائی تعصب بھی اُبھارنے کی کوشش کی۔ انصار و مہاجرین کے درمیان خوش گوار تعلقات اور اسلامی اخوت و محبت نے مدینہ منورہ میں جو وحدت پیدا کر دی تھی اس میں عبداللہ بن ابی کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ وہ باہمی نفرت پیدا کر کے اپنی قیادت کو آگے بڑھانا چاہتا تھا ۔ غزوئہ بنو مصطلق سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے بارے میں عبداللہ بن ابی نے یہ دھمکی آمیز الفاظ کہے تھے:
لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَۃِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ ۰ۭ (المنافقون ۶۳:۸) اگر ہم مدینہ لوٹ جائیں تو وہاں سے عزت والے لوگ بے حیثیت لوگوں کو نکال باہر کریں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان منافقین کی حرکتوں پر کڑی نظر رکھتے تھے اور ان کی تمام تخریبی حرکات کو اپنی حکمت عملی اور بصیرت سے غیرمؤثر بناتے رہے۔ منافقین کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور سرگوشی کے انداز میں آپ سے باتیں کرتے۔ ان کی سرگوشیوں کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ عام لوگوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی اور قریبی تعلقات ہیں۔ یہ تاثر پیدا کرکے وہ جو بات رسولِ کریمؐ کی طرف منسوب کرکے پھیلائیں گے عام لوگ اسے مان لیں گے۔
اسی طرح عام جگہوں پر کھڑے ہوکر سرگوشی کے انداز میں گفتگو کرتے تھے، جس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ کوئی خاص بات ہے جس کا صرف ان لوگوں کو علم ہے، یا شاید کوئی راز کی بات ہے جو انھیں معلوم ہوئی ہے۔ اس طرح ذہنی اور نفسیاتی طور پر راہ ہموار کی جاتی تھی، تاکہ جب کوئی افواہ پھیلائی جائے تو لوگ اس پر یقین کرلیں۔ یہ لوگ خفیہ اجتماعات بھی کرتے تھے جس کا مقصد اپنی تخریبی پالیسیوں کا جائزہ لینا اور ان کو عملی شکل دینے کی تدابیر کرنا ہوتا تھا۔ قرآنِ حکیم نے منافقین کے خفیہ اجتماعات کے تین مقاصد کا ذکر کیا ہے۔ یہ لوگ گناہ کے کاموں، ظلم و زیادتی اور رسول کریمؐ کی نافرمانی کے لیے اس قسم کے اجلاس کرتے تھے۔ منافقین کے اس طرزِعمل کی وجہ سے قرآنِ حکیم نے سرگوشیاں کرنے اور رازداری کے انداز میں گفتگو کرنے پر پابندی لگا دی، تاکہ یہ لوگ عام لوگوں میں کوئی غلط تاثر پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
قرآن کریم نے فرعون کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ بہت غرور میں مبتلا تھا، اپنے اقتدار کی خاطر لوگوں میں نسلی امتیاز پیدا کرتا تھا، اور ان میں پھوٹ ڈال کر ان پر حکومت کرتا تھا:
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَاۗىِٕفَۃً مِّنْہُمْ يُذَبِّحُ اَبْنَاۗءَہُمْ وَيَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَہُمْ۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۴ (القصص ۲۸:۴) فرعون نے زمین میں سر اُٹھا رکھا تھا۔ اس نے وہاں کے باشندوں کو فرقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اُن میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا۔ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا اورلڑکیوں کو زندہ رکھتا، یقینا وہ فساد برپا کرنے والوں میں تھا۔
اس آیت مبارکہ میں فرعون کے بھیانک جرائم کو فساد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اُوپر ہم نے منافقین کی تخریبی حرکتوں کو بیان کیا ہے جن میں افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانا بھی شامل ہے۔ سورئہ بقرہ میں منافقین کی ان حرکتوں کو فساد سے تعبیر کیا گیا ہے:
وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۱۱ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ۱۲ (البقرہ۲:۱۱-۱۲) اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلائو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کررہے ہیں۔ خبردار! یہی لوگ فسادی ہیں ، مگر انھیں شعور نہیں۔
فساد اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں:
وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۲۰۵ (البقرہ ۲:۲۰۵) اور اللہ تعالیٰ فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔
اخلاقی نقطۂ نگاہ سے غور کریں تو بھی افواہیں پھیلانا بہت گھٹیا اور مذموم حرکت ہے۔ اس لیے کہ غیبت کرنا، تہمتیں لگانا، جھوٹ بولنا، لوگوں کی کردار کشی کرنا اور تحقیر و تذلیل نہ صرف گناہِ کبیرہ ہیں، بلکہ وہ بُرائیاں ہیں جنھیں تمام اخلاقی نظام غیراخلاقی حرکت تصور کر کے رد کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ افواہیں پھیلانے میں ان تمام بُرائیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسلام کا اخلاقی ضابطہ تو ایسے کردار کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے جس کی بنیاد صداقت، امانت و دیانت داری، باہمی اخلاص و محبت، اعتماد اور عدل و انصاف پر ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہرانسان فطرتاً اچھا ہے، بدگمانی گناہ ہے۔ حدیث نبویؐ میں ہے کہ اہلِ ایمان کے بارے میں اچھا گمان رکھو۔ بلاوجہ تجسّس اور عیب جوئی بھی جائز نہیں ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ قرآن و سنّت کی رُو سے افواہیں پھیلانا، بے بنیاد خبریں شائع کرنا قطعاً جائز نہیں۔ اس قسم کی حرکتوں میں جو لوگ ملوث ہوں گے وہ جرم میں ملوث تصور کیے جائیں گے۔ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں اس قسم کی مذموم حرکتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، وہاں مملکت کے عام اور ذمہ دار شہریوں پر بھی یہ فریضہ عائد کیاگیا ہے کہ وہ بھی افواہوں کی روک تھام اور ملک و ملّت کی سلامتی کے معاملات میں پورا پورا تعاون کریں۔
افواہوں کی روک تھام میں حکومت کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ خاص طور پر نشرواشاعت کے وہ ادارے جو حکومت کی زیرنگرانی کام کر رہے ہیں، مثلاً ریڈیو یا ٹیلی ویژن وغیرہ۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کام یہ کرناہوگا کہ یہ ادارے عوام میں اپنا اعتماد پیدا کریں تاکہ لوگ ان اداروں کی مہیا کردہ اطلاعات پر بھروساکرسکیں۔ یہ ادارے کردار سازی کا تو کام کریں، لیکن کردار کشی کے لیے استعمال نہ ہوں۔ ان اداروں پر اعتماد بحال ہونے سے افواہ سازوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ہماری ملکی اور ملّی صحافت پر بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہمارے بعض اخبارات کا طرزِعمل تو بہت ہی غیرمحتاط ہوتا ہے۔ وہ غیرمصدقہ اور بے بنیاد خبریں شائع کرکے معاشرے اور مملکت دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اخبارات کو چاہیے کہ وہ ایسی خبریں جن کا براہِ راست اثر ملک و ملّت پر پڑتا ہو، یا جن سے ہمارے ملّی ادارے متاثر ہوتے ہوں، یا افراد کے کردار پر ان کا اثر پڑتا ہو، بلاتحقیق شائع نہ کریں۔ صرف ان چیزوں کو شائع کرنا چاہیے، جن کی اشاعت واقعی ضروری ہو اور ان کی اشاعت سے منفی اثرات معاشرے میں نہ پیدا ہوتے ہوں۔
اگر ہمارے ذرائع ابلاغ اِن آیاتِ قرآنی اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں ایک ضابطۂ اخلاق طے کرلیں، تو یقینا مثبت اور صحت مند صحافت بھی افواہ سازی کے خلاف اپنا کردار ادا کرسکے گی۔
دَربرگِ لالہ وگُل، [کلامِ اقبال میں مطالعۂ نباتات]دوم، ڈاکٹر افضل رضوی۔ ناشر: بقائی یونی ورسٹی پریس، سپر ہائی وے، کراچی۔ فون:۳۴۴۱۰۲۹۳-۰۲۱۔ صفحات: ۳۴۹۔ قیمت (مجلد ): ۹۵۰ روپے ۔
اقبالیات کے ایک نادر موضوع پر زیرنظر کتاب کی پہلی جلد دسمبر ۲۰۱۶ء میں شائع ہوئی تھی، اور اب اس کی دوسری جلد سامنے آئی ہے۔ پہلی جلد میں ۱۸نباتات کا ذکر تھا اور دوسری جلد میں ۲۴نباتات کا تذکرہ ہے۔ مصنف تیسری جلد پر بھی کام کر رہے ہیں۔
جیساکہ ہم نے جلداوّل پر تبصرے (ترجمان: اگست ۲۰۱۷ء) میں بتایا تھا: ’’مصنف بنیادی طور پر نباتیاتی سائنس دان ہیں اور آج کل آسٹریلیا کے محکمۂ تعلیم میں خدمات انجام دے رہے ہیں‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے شاعری کو احیاے ملّت کے ابلاغ کا ذریعہ بنایا۔ قوم کو اُمیدوارتقا کا پیغام دیا اور جہد ِ مسلسل کی ترغیب دلائی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے عناصرِ فطرت اور برسرِزمین اور زیرِزمین جمادات کے ذکر سے بھی کام لیا۔
زیرنظر جلد کا آغاز ’پھول‘ سے ہوتا ہے اور پھر اسی تسلسل میں: تاک، جھاڑی، چوب، حنظل، حشیش، حنا، خیابان، ریاض، غنچہ، فصل، کلی، گلاب، گلستان،گلزار، مرغزار، نیستان اور نخل وغیرہ کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔افضل رضوی صاحب کا مطالعہ عمیق اور فکر راست ہے۔ ان کی یہ کتاب ایک اعتبار سے اقبال کے فارسی اور اُردو کلام کی نہایت عمدہ شرح بھی ہے۔ اس کتاب کے ایک تقریظ نگار ڈاکٹر عابد خورشید کی نظر میں: ’’یہ غیرمعمولی کارنامہ ہے، جسے افضل رضوی نے بخوبی انجام دیا ہے‘‘۔(رفیع الدین ہاشمی)
سفینۂ حجاج کے دو مسافر، میاں محمد اسلم۔ ناشر: جمال الدین سنز اینڈ کمپنی، ۴۴-عمرمارکیٹ، لنک ریلوے روڈ،لاہور۔ فون: ۳۷۶۵۷۲۵۲-۰۴۲۔ صفحات:۳۵۵ ۔ قیمت(مجلد): ۷۰۰ روپے
سفرِ حج بیت اللہ ، سفرِ شوق ہے اور سفرِسعادت بھی جس کے لیے ہزاروں برسوں سے پروانے لپک لپک کر خانہ کعبہ حاضری کے لیے رواں دواں رہتے ہیں۔
ماضی میں سب سے بڑا اور مشکل مرحلہ خود مکہ مکرمہ پہنچنا تھا اور اس مقصد کے لیے زائرین چھے چھے مہینے پیدل یا قدیمی روایتی سواریوں پر روانہ ہوتے، اور پھر اسی طرح واپس آتے تھے، یا پھر بحری جہازوں کے ذریعے سفر کرتے تھے۔آج حجاج ہوائی جہازوں میں اُڑان بھرتے اور چند گھنٹوں میں جدہ یا مدینہ منورہ پہنچتے اور سُرعت سے فریضۂ حج ادا کرکے دنوں میں واپس آجاتے ہیں۔
زیرنظر کتاب ۵۵برس پہلے، حج کے ایک سفر کی رُوداد ہے، جب حاجی بحری جہاز سے جدہ جایا کرتے تھے۔ میاں محمداسلم ایڈووکیٹ نے ۱۹۶۸ء میں حج کی سعادت حاصل کی۔ مصنف نے سفر کے دوران مختلف کیفیات اور دل چسپ معلومات کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ ۵۵برس پہلے حرمِ کعبہ کے نواح میں کس طرح کا ماحول تھا اور اُس مشکل دور میں حجاج کی مصروفیات و مشکلات کیا ہوتی تھیں۔ اس رُوداد میں ایمان کی حلاوت ہرصفحے پر ثبت نظر آتی ہے۔ یاد رہے فاضل مصنف اس سے پہلے طفیل قبیلہ لکھ چکے ہیں، جو جماعت اسلامی پاکستان کے دوسرے امیر [۱۹۷۲ء- ۱۹۸۷ء] محترم میاں طفیل محمدؒ کے بارے میں ہے۔ (س م خ)
اسلام کا خاندانی نظام، ایک تقابلی مطالعہ، زہرہ جبین۔ ناشر: مکان نمبر۴، گلی نمبر۹، بلال ٹائون، ایبٹ آباد۔ فون: ۰۹۵۳۸۸۹-۰۳۳۵۔ صفحات:۲۲۲۔ قیمت: درج نہیں۔
مصنفہ قانون کی استاد ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں عائلی نظام سے متعلقہ قوانین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ فقہ، قانون اور سماجیات کے مطالعے کی بنیاد پر رہنمائی دی ہے کہ اسلام کس طرح کا خانگی نظام قائم کرتا ہے؟ اس میں کن راہوں سے رخنہ اندازی پیدا ہوتی ہے؟ پھر ہمارا قانون کس انداز سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ درحقیقت خواتین کے لیے مددگار کتاب کا درجہ رکھتی ہے، جو یہ معلوم کرسکتی ہیں کہ دیگر تہذیبوں میں خواتین کس انداز سے زندگی گزار رہی ہیں اور ایک مسلمان خاتون کو زندگی کن راہوں پر چلتے ہوئے گزارنی چاہیے؟(س م خ)
مریم جمیلہ، نقاد تہذیب مغرب ، روبینہ مجید۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۴۷۶-۰۴۲۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت (مجلد): ۲۶۵ روپے۔
مریم جمیلہ (سابقہ مارگریٹ مارکوس: ۲۲ مئی ۱۹۳۴ء ، ریاست نیویارک۔ ۳۱/اکتوبر ۲۰۱۲ء، لاہور) ایک خوش نصیب روح تھیں، جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ یہودیت ترک کرکے ۲۴مئی ۱۹۶۱ء کو دائرۂ اسلام میں داخل ہوئیں۔ ۲۶برس کی عمر میں ۲۴جون ۱۹۶۲ء کو اپنا وطن امریکا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے پاکستان آگئیں۔ یہاں ۸؍اگست ۱۹۶۳ء کو مولانا مودودی کے رفیق محمدیوسف خان صاحب سے ان کی شادی ہوئی، جو پہلے سے شادی شدہ اور صاحب ِ اولاد تھے۔
محترمہ مریم جمیلہ کی نجی اور علمی زندگی، اسلام سے وابستگی اور اسلام کے لیے زندگی گزارنے کی اُمنگ وہ پہلو ہیں کہ انھیں جتنا جاننا، سمجھنا اور پڑھنا شروع کر یں، اسی قدر ان کی قدرومنزلت بڑھتی اور اپنے دائرۂ اثر میں لیتی جاتی ہے۔ انھوں نے مغرب میں پروان چڑھ کر مغربی تہذیب کی انسانیت کش بنیادوں اور مادی تہذیب کی سفاکیوں کو جس گہری نظر سے دیکھا اور پھر آزادانہ فیصلے سے اسے مسترد کیا، وہ سب ایک روحانی، تہذیبی اور علمی سفر کا دبستان ہے۔
مصنفہ نے بڑی خوبی سے محترمہ مریم جمیلہ کی زندگی کے ان پہلوئوں پر تحقیق اور تجزیات پر مبنی مقالات مرتب کیے ہیں۔ ان میں مرکزی مضامین ’اسلام اور مغربی تہذیب و تمدن‘ اور ’مریم جمیلہ بحیثیت نقاد تہذیب ِ مغرب‘ ہیں۔کتاب میں تقریباً تمام ضروری معلومات ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری اس شرمندگی اور کم مائیگی کے احساس کی گرفت محسوس کرتا ہے ع ’پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے‘ ۔ ہم نے مسلم گھرانوں میں پیدا ہوکر وہ کچھ نہ سیکھا اور وہ کچھ نہ کرسکے، جو ہزاروں کلومیٹر دُور سے ہجرت کر کے آنے والی قابلِ رشک خاتون نے کردکھایا۔ (س م خ)
اقبال کا ایوانِ دل، محمد الیاس کھوکھر۔ ناشر: نگارشات، ۲۴ مزنگ روڈ، لاہور۔ فون: ۹۴۱۴۴۴۲-۰۳۲۱۔ صفحات:۵۴۴۔ قیمت: ۱۰۰۰ روپے۔
اقبال سوتے ہوئوں کو جگانے اور عمل پر اُبھارنے والی شخصیت ہیں۔ انھوں نے اپنے پیغام کو قرآن، سیرتِ نبویؐ اور تاریخِ اسلام کے گہرے مطالعے کے علاوہ عصرِحاضر کے مشاہدے سے اخذ کیا اور بستی بستی اس کو پھیلایا۔ کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اس حیات بخش پیغام کو محض مغنیوں کی آوا ز سے سنا، چند نظموں اور کچھ اشعار کو زمانۂ طالب علمی میں درسی جبر کے ساتھ ہی پڑھا، مگر اس مطالعے اور سماعت نے ان کی زندگی اور زندگی کے چلن پر کچھ اثر نہ ڈالا۔
مصنف نے بجاطور پر کلامِ اقبال اور حیاتِ اقبال میں خاص کشش محسوس کی ہے۔ پھر اپنے دل پر گزرنے والی اس فکری اور روحانی واردات کو ۱۸ مضامین کی شکل میں مرتب کرکے، قوم کو متوجہ کیا ہے۔ یہ مضامین گہرے مطالعے، فہم اقبال کی وسعت، اور بے پایاں لگن کے مظہر ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ کتاب کسی محکمانہ ترقی کی ضرورت کے تحت نہیں لکھی گئی بلکہ تعلیم و تربیت کی غرض سے تحریر کی گئی ہے۔ زبان سادہ اور عام فہم ہے۔(س م خ)
خدمات علماءِ سندھ اور جمعیت العلما، مولانا محمد رمضان پھلپوٹو۔ ناشر: جمعیت علماءِ اسلام، کریم پاک ، راوی روڈ، لاہور۔ صفحات:۴۴۸۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔
علماے کرام نے دعوتِ دین کے چراغ روشن کرنے کے لیے، بے پناہ ایثار اور یکسوئی کے ساتھ پوری پوری زندگیاں اللہ کی راہ میں لگادی ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں، وہ عقائد کی دنیا ہو یا عمل کا میدان، افراط و تفریط کا مشاہدہ قدم قدم پر دکھائی دیتا ہے۔ کہیں عصبیت اور کہیں غلو۔ یہ کتاب ان دونوں پہلوئوں پر بحث کرتی ہے۔
زیرنظر کتاب میں فاضل مرتب نے خدماتِ علما کا ریکارڈ مرتب کیا ہے: خطۂ سندھ میں جمعیت علماے اسلام اور دارالعلوم دیوبند کی دینی، تعلیمی اور تربیتی روایت نے کون کون سے کارہاے نمایاں انجام دیے؟ ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’جمعیت علماے اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی یا مذہبی جماعت میں شامل ہونے کو مَیں سیاسی کفر سمجھتا ہوں،کیونکہ موجودہ دور میں جمعیت، قرآن و سنت میں بیان کردہ الجماعۃ کی مصداق ہے‘‘(ص ۲۴۹)۔ بڑے احترام سے عرض ہے کہ اس عقیدے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دینی تعلیم و تربیت کے لیے علماے کرام کی کاوشوں کو برگ و بار اور وسعت عطا فرمائے۔ مجموعی طور پر یہ کتاب معلومات افزا ہے۔ (س م خ)
ستمبر کے شمارے میں کشمیر پر برہمنی مظالم کی مناسبت سے بہت قیمتی تحریریں مطالعے کے لیے ملیں۔ سچی بات ہے کہ اس مرحلے پر سیّد علی گیلانی صاحب کی تحریر اور پکار کو ’اشارات‘ میں پیش کرکے، آپ نے کشمیری بھائیوں سے یک جہتی اور مسئلے کی مرکزیت کو نمایاں کرنے میں ایک شان دار مثال قائم کی ہے۔ مولانا مودودی مرحوم نے ’ جنگ ِ ستمبر‘ کے حوالے سے ۵۵برس پہلے جو باتیں کی تھیں، وہ آج حرف بہ حرف توجہ اور ترجیح کے لائق ہیں۔ افتخار گیلانی تو کشمیر کی جدوجہد پر انسائیکلوپیڈیا کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر شمارہ ان کے ذریعے ہمیں کشمیر اور بھارت لے جاتا ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی ایمان افروز تحریر اور پطرس بخاری مرحوم کے احساس ذمہ داری اور کشمیر سے وابستگی نے معلومات میں بے پناہ اضافہ کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر صفدر محمود صاحب، قومی پریس میں غالباً واحد دانش ور ہیں جو سیکولر لہر کا مدلل انداز سے مقابلہ کر رہے ہیں اور جواب دے رہے ہیں۔
تازہ شمارے میں ایچ عبدالرقیب صاحب نے زکوٰۃ کی عالمی سطح پر قدر و منزلت ، قبولیت اور معنویت کا نقشہ پیش فرمایا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر محمد واسع ظفر صاحب نے ایک دینی اور عملی مضمون کو مکمل کر کے کاروبار میں اسلام کی رہنمائی سے آگاہ کیا ہے۔ ڈاکٹر حسن مدنی صاحب نے دینی مدارس پر ریاستی شب خون مارنے کی حرکت کو بے نقاب کیا ہے اور مراد علوی صاحب نے تجدد پسند گروہ کو آئینہ دکھایا ہے۔ یہ سب تحریریں علم میں اضافے کا باعث ہیں۔
محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے مضمون: ’’کیا حفظ ِ قرآن ایک ’بدعت‘ ہے؟‘‘ (ستمبر۲۰۱۹ء) پڑھا۔ اسلام کے دورِ اوّل اور بہت بعد تک یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ کوئی بغیرسمجھے بھی قرآنِ مجیدکو پڑھے گا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ خود ہمارے یہاں عربی مدارس میں بھی طلبہ کی بڑی تعداد کو عربی نہیں پڑھائی جاتی۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ابتدائی جماعتوں میں عربی پڑھائی جاتی اور پھر حفظ ِ قرآن اور باقی علوم اسلامیہ کی تعلیم دی جاتی؟ تلاوتِ قرآن کا مطلب معانی سمجھے بغیر تلاوت کیسے ہوسکتا ہے؟ قرآن کے ابتدائی قاری تو وہ تھے، جنھیں عربی زبان آتی تھی۔ قرآن کا اصل مقصد اُس کے الفاظ کے معانی سمجھنا ہے۔ ہرمسلمان پر لازم ہے کہ وہ قرآن کا مفہوم (سیدھاسادہ مفہوم) سمجھے۔ [مفتی صاحب نے کہیں یہ نہیں کہا کہ قرآن فہمی کی ضرورت نہیں اور نہ ہم کہتے ہیں کہ محض تلاوت مقصود و مطلوب ہے۔ قرآن کریم کا یاد ہونا اور پھر ایک قدم آگے بڑھ کر اس کا فہم اور تفقہ فی الدین ہونا اور اس پر عمل کرنا ہی مطلوب ہے۔ مگر حفظ کو ’بدعت‘ قرار دینا نامناسب بیان ہے۔ ادارہ]
شمارہ اگست ۲۰۱۹ء میں مقالہ بعنوان ’تحفظ حقوق ماوراے صنف قانون‘ از محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب میں مفتی صاحب نے صنفی لحاظ سے متنوع اقسام کے بارے تحقیق کرکے پاکستان کی پارلیمان کے منظور کردہ قانون کا محاکمہ کیا ہے۔ ان کی دو باتوں سے کُلی اتفاق ہے: اوّل، یہ کہ منظور کردہ قانون میں ماوراے صنف افرادکے لیے سہولتوں، فوائد، استحقاق یا مواقع کے ضمن میں متضاد سہولتوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ایک جگہ ان کو ان کی متعین شدہ جنس کے مطابق سہولتوں کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ گویا نارمل افراد کی متعلقہ جنس کے مطابق یا مساوی۔ دوسری جگہ ان کے لیے الگ جیل خانے یا حفاظتی حراستی مراکز بنانے کو کہا گیا ہے۔ لہٰذا، اس تضاد کو دُور کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ وراثت کے معاملے میں منظورکردہ قانون میں ان افراد کے حصے کے لیے ۱۸سال سے پہلے اور ۱۸سال کی عمر کے بعد میں فرق رکھا گیا ہے، جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مفتی صاحب کی دلیل کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے (اگرچہ اس کا انھوں نے ذکر نہیں کیا ہے) کہ پارلیمان اس قانون میں ضروری ترمیمات کروا کر اسے اسلامی تعلیمات کی روح کے مطابق ڈھالے۔
مفتی صاحب نے مضمون میں جس ’فتوے‘ کو رد کیا ہے، میری راے میں یہ فتویٰ بنیادی طور پرشریعت کے تقاضوں کے خلاف نہیں ہے۔ البتہ، اس کی زبان و بیان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ دوم، نفسیاتی اصطلاح Gender Dysphoria کا ترجمہ ’صنفی احساسِ ملامت‘ کے بجاے ’صنفی احساسِ عدم اطمینان یا احساسِ ناگواری‘ زیادہ مناسب ہے۔
مفتی سیّد عدنان کاکاخیل صاحب نے اپنے قابلِ قدر مضمون: ’چائلڈ میرج بل، مسئلہ یا مغالطہ!‘ (جون ۲۰۱۹ء) میں بہت مفید باتیں بیان کی ہیں۔ البتہ، بعض پہلو توجہ طلب ہیں، مثلاً قرآنِ کریم میاں بیوی کے رشتے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے: رفاقت، مؤدت، رحمت اور سکینت وغیرہ ، جو کہ بالغ افراد ہی کے درمیان ممکن ہے، نابالغ کے درمیان نہیں۔اسی شمارے میں ڈاکٹر نازنین سعادت نے بصیرت افروز مضمون: ’شادی سے قبل رہنمائی اور مشاورت‘ میں لکھا ہے: ’’اسلام نے شادی میں لڑکے اور لڑکی کی راے کو بہت اہمیت دی ہے کہ ایجاب و قبول انھی میں ہوتا ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ ایجاب و قبول بالغ افراد کے درمیان ہی ممکن ہے۔ اس لیے نابالغ بچی کی شادی کے مسئلے اور پاکستان کے قوانین پر علمی بحث اور عملی تجاویز کو پیش کیا جانا چاہیے۔