مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۱۹

دین کے دفاع کے دعوے لے کر اُٹھنے والے بعض لوگوں نے دوسروں کی تردید اور اپنے حوالے سے دعوئوں کی وہ مثالیں پیش کی ہیں کہ پڑھ کر دل دُکھتا ہے۔ یہاں اسی طرح کی ایک مثال پیش خدمت ہے:
تعبیر کی غلطی کے مصنف مولانا وحید الدین خان نے دعویٰ فرمایا کہ: ’یہ کتاب لکھ کر میں نے اسلاف ِ امت کا دفاع کیا ہے‘۔ خان صاحب کے ہاں اس قسم کے دعوئوں پر مبنی واقعات بڑی تعداد میں ملتے ہیں، اور وہ اپنی اکثر کاوشوں کو بڑے دعوے اور یقین کے ساتھ الٰہی منصوبہ قرار دیتے ہیں۔۱  بعض اوقات ان کا یہی رویہ عجیب صورت اختیار کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے اپنے ادارے، سی پی ایس انٹرنیشنل (CPS: Centre for Peace and Spirituality International)کی ٹیم کے بارے میں ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اس کو ’اخوان رسول‘ قرار دیا ہے:
’’ماضی اور حال کے تمام قرائن تقریباً یقینی طور پر بتاتے ہیں کہ سی پی ایس کی ٹیم ہی وہ ٹیم ہے، جس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے پیغمبرؐ اسلام نے ان کو اخوان رسول کا لقب دیا تھا۔ اصحابِ رسولؓ کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ تھے بلکہ وہ عام انسانوں کی طرح انسان تھے۔ اسی طرح اخوان رسول بھی کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ ہوں گے، بلکہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح انسان ہوں گے۔ ان کی پہچان یہ نہ ہوگی کہ وہ انوکھے جسم والے ہوں گے یا یہ کہ وہ کرامتیں دکھائیں گے۔ ان کی پہچان صرف یہ ہوگی کہ وہ دعوتِ حق کے اس ربّانی مقصد کے لیے کھڑے ہوں گے، جس پر رسولؐ اور اصحابِ رسولؓ کھڑے تھے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ ’اخوانِ رسول‘ کا درجہ نہیں پاسکتیں۔ اس لیے کہ اخوانِ رسول کا درجہ صرف وہ لوگ پاسکتے ہیں، جو ما انا علیہ واصحابی کا مصداق ہوں۔ موجودہ زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکیں رد عمل کی تحریکیں تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی تحریک ایسی نہیں، جس کا یہ کیس ہو کہ اس کے رہنما نے ردّ عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوکر، قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا، اور پھر خالص مثبت بنیادوں پر اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ خصوصیت صرف ’سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک‘۲    میں پائی جاتی ہے۔ تاریخ میں اہلِ حق کے لیے جو بڑے بڑے امکانات رکھے گئے تھے، اب وہ سب امکانات ختم ہوچکے ہیں۔ پیغمبروں کا ساتھ دینا، مسیحؑ کا حواری بننا، پیغمبر آخر الزماںؐ کے اصحاب میں شامل ہونا۔ اب صرف ایک بڑا درجہ باقی رہ گیا ہے، یہ درجہ اخوانِ رسول کے گروپ کا حصہ بننا ہے۔ اس کے بعد جو چیز ہے، وہ تاریخ کا خاتمہ (end of history) ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تاریخ کا آخری مبارک موقع ہے۔ جس نے اس موقعے کو پالیا، اس نے سب کچھ پالیا اور جس نے اس موقعے کو کھودیا، اس نے سب کچھ کھودیا‘‘۔۳ 
خان صاحب کے ہاں ایسے واقعات کمی نہیں ہے، اور ایسےعرفانی دعوے آپ کی  تحریروں میں بکھرے پڑے ہیں۔ یہاں ہمارے پیشِ نظر ان کی کتاب تعبیر کی غلطی سے اسلافِ امت کا تعلق واضح کرنا ہے کہ خود موصوف، اسلافِ امت کے مقابل کہاں کھڑے ہیں؟ مذکورہ کتاب دراصل مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی(۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) پر تنقید کی غرض سے لکھی گئی ہے۔ اُوپر کی سطور میں ذکر ہوا کہ اس کتاب کو بھی انھوں نے ’الٰہی منصوبہ قرار دے کر اسلافِ امت پر احسان‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔خان صاحب کے مطابق مولانا مودودی کی سیاسی فکر اسلافِ امت سے انحراف اور ان کے تصورِ دین کے بارے میں بے اعتمادی کا اظہار ہے۔۴  تاہم، یہ رُوداد   دل چسپ ہے۔ وہ مذکورہ کتاب لکھنے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں:

’’میرے لیے یہ احساس ساری دنیا کی نعمتوں سے بڑھ کر لذیذ ہے کہ میری یہ کتاب اسلاف کے اوپر وارد ہونے والے اعتراض کی مدافعت ہے۔ میں اپنے عاجز اور ناتواں وجود کے ساتھ، ان کی طرف سے دفاع کرنے کے لیے اٹھا ہوں۔ یہاں مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے جو ۷مارچ ۱۹۶۳ء کو پیش آیا۔ ان دنوں میں [مولانا مودودی کی کتاب]  قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں کے استدلالات کی تحقیق کے سلسلے میں بے حد مشغول تھا۔ دارالمصنّفین اعظم گڑھ کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے، چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علمِ کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیوار سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہوچکے ہیں، اور تمام لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جاچکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے جس میں ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اس وقت میری کیفیت یہ ہوچکی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں، مگر اُٹھا تو کمزوری کی وجہ سے چکّر آگیا، اور سمت بھول گئی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں؟ کچھ دیر کے بعد ہوش میں آیا تو معلوم ہوا کہ متعلقہ الماری فلاں سمت میں ہے۔ اس واقعے کے کچھ دیر بعد جب میں نے اپنے ہواس [حواس]کو یک جا کیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا میں زیر بحث نظریے کے بارے میں اسلافِ امت سے تبادلۂ خیال کرنے کے لیےبہت دُور چلا گیا تھا اور چلتے چلتے تھک گیا۔ مگر اس کمزوری اور تکان کے باوجود مجھے یہ سوچ کر خوشی ہورہی تھی کہ مجھے ان کی راے معلوم ہوگئی ہے، اور اب میں اس پوزیشن میں ہوں کہ ان کی طرف سے پورے اعتماد کے ساتھ زیرِ بحث تصورکی تردید کر سکوں۔ مجھے ایسا نظر آیا گویا یہ تمام الماریاں اور ان میں بھری ہوئی کتابیں اسلاف کی روحیں ہیں، جو میرے پیچھے کھڑی ہیں اور اپنے کمزور ہاتھوں اور کانپتے ہوئے قدموں کے ساتھ ان کی طرف سے مدافعت کرنے کے لیے جارہاہوں۔ یہ سوچ کر اتنی خوشی ہوئی کہ تکان اور بھوک پیاس سب بھول گئی اور میں دوبارہ مغرب تک کے لیے اپنے مطالعے میں مشغول ہوگیا‘‘۔ ۵  

خان صاحب نے اسلافِ امت کے ساتھ محبت کا اظہار بہت عقیدت مندانہ اسلوب میں کیا ہے۔ کتاب کے مقدمے میں ایسا اظہارِ عقیدت دیکھ کر قاری کا متاثر ہونا لازمی امر ہے۔  مزید یہ کہ خان صاحب کے عقیدت مندوں سے جب بھی  تعبیر کی غلطی کے موضوع پر گفتگو ہوئی، انھوں نے سب سے پہلے اسی واقعے کا حوالہ دیا۔ لیکن وہ یہ بات نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں کہ خود خان صاحب کا اپنا پورا نتیجۂ فکر کہاں تک اسلاف امت سے موافق ہے؟ وہ مسائل جو مسلم روایت میں اساس کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے صدیوں پہلے لوگ اسلاف امت سے الگ ہوئے، خان صاحب نے انھی مسائل میں نہایت ناہموار بلکہ تکلیف دہ اسلوب میں اختلاف کیا ہے۔ جیسے موصوف کا تصورِ جہاد مکمل طور پر مسلم روایت سے ہٹا ہوا ہے۔ شتمِ رسول کے مسئلے پر آپ اسلافِ اُمت کے بالکل مقابلے پر کھڑے ہیں، اور اس کی بہت ساری مثالیں آپ کی تحریروں میں موجود ہیں۔ مزید برآں موافقت تو بعد کی بات ہے،     خان صاحب تو اسلافِ امت کے حوالے سے غیرتہذیب یافتہ اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ ۶ 
فقہ اور فقہاے کرام کے بارے میں لکھتے ہیں:’’حج کے مسائل جو قرآن و حدیث میں ہیں، وہ اتنے کم ہیں کہ چند صفحات میں لکھے جاسکتے ہیں، مگر فقہا نے دوسری عبادات کی طرح حج کے بے شمار مسائل وضع کر رکھے ہیں ۷    جن کا احاطہ عام آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ اس ’اضافہ‘ کے حق میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ ’حجاج کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے‘ مگر اس استدلال میں کوئی وزن نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہی مسائل پڑھ کر کوئی شخص نہ نماز پڑھ سکتا ہے، نہ حج کرسکتا ہے۔ یہ کام ایسا ہے جو دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے رسولؐ اللہ نے نماز کے مفصل احکام بتانے کے بجاے یہ فرمایا: صَلُّو کما رایتمونی اصلی۔ یہی اصل طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر صحابہؓ نے نماز پڑھی، صحابہؓ کو دیکھ کر تابعینؒ نے، تابعینؒ کو دیکھ کر تبع تابعینؒ نے۔ اس طرح یہ سلسلہ آج تک چلا جارہا ہے۔ اگر لوگوں کے پاس صرف فقہ کے نام نہاد تفصیلی مسائل ہوتے تو لوگ کبھی صحیح نماز نہ پڑھ سکتے۔ امام ابو حنیفہ اس فن کے سب سے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مگر [ان کے شاگرد] وکیع کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے ان سے کہا کہ میں نے مناسک کی ادایگی میں پانچ غلطیاں کیں۔ پھر ایک حجام نے مجھے بتایا۔۸
اوپر خان صاحب بیان کرچکے ہیں کہ: مولانا مودودی کی تعبیر، اسلاف کے تصورِ دین کے بارے میں بے اعتمادی کا اظہار ہے اور پھر اسلاف سے تبادلۂ خیال کرکے ان کی مدافعت کا دعویٰ بھی کرچکے۔ لیکن یہاں پر خود انھوں نے فقہا کی صدیوں کی محنت کو ’وضع مسائل‘ سے موسوم کیا ہے۔ جناب خان صاحب نے نماز کے مسئلے پر جو بحث کی ہے، اگرچہ اس وقت وہ ہمارا موضوع نہیں ہے، تاہم اس پر مختصراََ عرض ہے کہ آپ کا یہ فرمانا قانونی مسائل سے بے خبری کی بہت بڑی دلیل ہے۔ پھر خان صاحب نے ایک جگہ دین کی روایتی تعبیر و تشریح کو دین کے اُوپر’گرد و غبار‘ اور آمیزش  قرار دیا ہے۔ ۹البتہ ان کی کتابوں میں ’تجدید دین‘ اسلاف امت کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں انھوں نے مسلم روایت کو ہر پہلو سے رگیدا ہے۔ اسی سے چند اقتباسات پیشِ خدمت ہیں:
’’یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ اور تصوف اور علمِ کلام کی شکل میں جو اضافے اسلام میں ہوئے،  ان کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ قرآن کا سِرا امت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ان اضافوں نے دین کو ایک قسم کا فن بنا دیا۔ کتابِ الٰہی میں جو چیز سادہ اور فطری انداز میں بتائی گئی تھی، اس میں اپنی طرف سے موشگافیاں کرکے نئے نئے مسئلے پیدا کیے اور بطور خود بے شمار اصطلاحات وضع کیں تاکہ ان کو فنی انداز میں بیان کیا جاسکے‘‘۔ ۰

اس استدلال پر مزید لکھتے ہیں:’’ایک خالی الذہن شخص ہمارے اسلامی کتب خانے کو دیکھے تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک اختلاف کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ دین منزل اور دین مدون کا اختلاف ہے، جو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کے اندر پیدا ہوگیا ہے۔ خدا کا دین قرآن و حدیث میں ایک سادہ اور فطری چیز نظر آتا ہے۔ وہ دلوں کو گرماتا ہے اور عقل میں جِلا پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی الٰہی علوم جب انسانی کتابوں میں مدون ہوکر ہمارے سامنے آتے ہیں، تو اچانک وہ ایک ایسی شکل اختیار کرلیتے ہیں، جس میں خشک بحثوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں نہ دلوں کے لیے گرمی ہے اور نہ عقل کے لیے روشنی۔ قرآن میں بھی  فقہ ہے مگر وہ کنز الدقائق (ابوالبرکات نسفی) کی فقہ سے مختلف ہے‘‘۔؎  ۱۱
خان صاحب آگے چل کر فقہا کو یہودی فریسوں سے تشبیہ دیتے ہیں:’’ آج پیغمبر آخر الزماںؐ کی امت خود انھی ’اصر و اغلال‘ کے نیچے دب چکی ہے۔ ان کے فقہا اور مشائخ نے اسلام میں وہ سارے اضافے کر ڈالے ہیں، جو یہودی فقیہوں اور فریسوں نے شریعت موسوی میں کیے تھے۔ آج اسلام کی تجدید کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو ان تمام اضافوں سے پاک کردیا جائے۔ جب تک یہ کام نہ ہو، اسلام زندہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔؎۱۲
دراصل یہ متجددین کی وہ قطعیت بیانی ہے، جس سے ان کو فقہا کا فہمِ دین ’شریعت سازی‘ اور ’دین میں آمیزش‘ لگتی ہے ، اور اپنے موقف کو منزل من اللہ سمجھتے ہیں۔؎  ۱۳
خان صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فقہا، محدثین اور متکلمین کی کاوشیں بہ یک بینی و دوگوش رد کردی جائیں، جب کہ دوسری طرف موصوف نے مولانا مودودیؒ پر تنقید کرتے ہوئے انھی حضرات سے اپنا فکری رشتہ ظاہر کرکے خود کو اسلافِ امت کے وکیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ ؎  ۱۴   خان صاحب کی تحریروں میں امت کے بڑے ائمہ کے لیے عزت کے الفاظ نہیں ملتے۔ جہاں بھی فقہا اور محدثین کا ذکر کرتے ہیں، تو نہایت طنزیہ اسلوب اپناتے ہیں۔ اس مختصر تحریر میں صرف ان کی اس دلیل کا تعارف کرانا تھا کہ جس میں انھوں نے خود کو ’اسلاف کا ترجمان‘ ظاہر کیا ہے اور خود انھوں نے اسلاف کے بارے میں کیا لکھا ہے  ع
اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی
_______________
۱-       مثال کے طور پر وحید الدین خان اپنے مضمون: ’خواب پورا ہوگیا‘ میں لکھتے ہیں:’’ یہ کام عینِ خدا کے منصوبے کے تحت اپنی تکمیل کو پہنچا۔ آج جب میں نے تذکیر القرآن کو مکمل کیا تو میرے دل نے کہا: جو کام مجھے کرنا تھا وہ کام آج پورا ہوگیا۔ اب ان شاءاللہ خدا کے دین پر کوئی شخص پردہ نہ ڈال سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے‘‘۔ ( ماہنامہ الرسالہ  ، دہلی،اکتوبر۱۹۸۶ ء ، ص ۲۶) 
۲-    یہاں پر خان صاحب نے اپنی ٹیم کو ’تحریک‘ کا نام دیا ہے، حالاں کہ ان کو اس اصطلاح سے سخت چڑہے۔
۳-    سی پی ایس انٹرنیشنل، وحید الدین خان مشمولہ: ماہنامہ تذکیر، ستمبر۲۰۰۶ ء، ص۴۲ (یاد رہے تذکیر، دہلی سے شائع ہونے والے، وحید الدین صاحب کے ماہنامہ الرسالہ  کا پاکستانی ایڈیشن ہوا کرتا تھا۔)
۴-    اقامتِ دین کا قرآنی مستدل سورئہ شوریٰ ۴۲،آیت ۱۳ شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ…… ہے۔ اس پر مولانا نے بعض اعتراضات کیے ہیں۔ جس کے جواب میں ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے سلف کی آرا نقل کر کے یہ واضح کیا ہے کہ: سلف کے ہاں بھی اس آیت کی تفسیر مولانا مودودی سے مختلف نہیں ہے۔ دیکھیے: اقامتِ دین اور نفاذِ شریعتؒ (نئی دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشر، ۲۰۱۲ء)
۵-    وحید الدین خان، تعبیر کی غلطی، لاہور، دارالتذکیر، اگست ۱۹۶۲ء، ص ۱۴-۱۵
۶-    خان صاحب نے فقہا اور محدثین میں سب سے زیادہ بے زاری بلکہ نفرت کا اظہار امام ابن تیمیہؒ (م: ۷۲۸ھ) کے بارے میں کیا ہے۔ اپنی کتاب شتمِ رسول کا مسئلہ' میں امام ابن تیمیہ کے بارے میں سخت تکلیف دہ اسلوب اختیار کیا ہے (دیکھیے: شتمِ رسول کا مسئلہ، لاہور: دارالتذکیر ۱۹۹۷ء ، ص۱۰۴-۱۱۳)۔ اختلاف خان صاحب کا حق ہے، لیکن امام ابن تیمیہؒ جیسی جلیل القدر شخصیت، فقیہ اور محدث کے لیے، طفلانہ جملے لکھنا حددرجہ ناانصافی ہے۔ چند ماہ پیش تر بھی امام ابن تیمیہؒ کو اسی پیرایے میں مخاطب کیا تھا ۔ (دیکھیے: الرسالہ ،دہلی، اپریل ۲۰۱۸ء)
۷-    اصولِ فقہ سے ان متجدّدین کی بے خبری کی یہی سب سے بڑی دلیل ہے۔ 
۸-    الرسالہ ( جولائی ۱۹۸۴ء)، ص ۳۷۔ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں یہ قصہ، محض ایک افسانہ ہے ۔ دیکھیے: محمد انور شاہ ابن معظم شاہ کشمیری، العرف الشذی شرح سنن الترمذی (بیروت، داراحیاء التراث العربی)، ج ۲، ص ۲۷۰-۲۷۱
۹-    وحید الدین خان، تجدید دین ،لاہور، دارالتذکیر، ۲۰۰۳ء، ص ۱۷،۱۸
۱۰-    ایضاً، ص ۷۱        ۱۱-   ایضاً، ص ۷۳        ۱۲-   ایضاً، ص۷۵
۱۳-    اپنے فہم کو وحی و الہام سے کم حیثیت میں نہیں دیکھتے۔ بالکل اسی طرح خان صاحب بھی اپنے فہمِ دین کو واحدحق سمجھتے ہیں۔ جناب محمد عمار خان ناصر، موصوف صاحب کی اس قطعیت کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’مولانا [وحید الدین خان ] کے زاویۂ نگاہ سے اصولی طور پر اتفاق رکھنے والے اہل فکر کا ایک حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مخالف فکری زاویوں اور شخصیات پر تنقید کے لیے ان کا اختیار کردہ لب ولہجہ اور اسلوب ’رایی صواب یحتمل الخطا ورایھم  خطا یحتمل الصواب‘ کے ذہنی رویے کے بجاے حتمیت کی عکاسی کرتا ہے، اور وہ اپنے زاویۂ نگاہ کو ایک ’نقطۂ نظر‘ سمجھنے کے بجاے ’واحد درست طرزِ فکر‘ قرار دینے پر اصرار میں حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں… افسوس ہے کہ اس ذہنی رویے نے اب ایک ایسا رُخ اختیار کر لیا ہے، جس سے ہماری راے میں نہ صرف مولانا [وحیدالدین خان]کی پوری جدوجہد کی افادیت پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے ، بلکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ خود دین کے حوالے سے ایک بے حد خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے‘‘۔(مضمون:’سی پی ایس انٹرنیشنل کسی نئے فتنے کی تمہید‘ ، ماہ نامہ الشریعہ   ، گوجرنوالہ، اکتوبر۲۰۰۶ء، ص۲۵)
۱۴-       خان صاحب کی فکر ایک لحاظ سے مولانا مودودیؒ کی مخالفت سے وجود میں آئی ہے۔ جس کی وجہ سے انھوں نے دین میں اجتماعیت سے ہر سطح پر انکار کردیا۔ تعبیر کی غلطی کے اثر سے مولانا سیّدابوالحسن علی ندویؒ (۱۹۱۴ء-۱۹۹۹) اور مولانا محمد منظور نعمانی ؒ(۱۹۰۵ء- ۱۹۹۷ء) بھی محفوظ نہ رہے۔ تاہم، وہ اجتماعیت کے مقابلے میں انفرادیت پر جس شدت کے ساتھ زور دیتے ہیں بالکل اسی طرح روحانیت حاصل کرنے کے لیے پوری دینی روایت پر خطِ تنسیخ پھیر دیتے ہیں۔ اوپر ذکر ہوا ہے کہ خان صاحب کی کتاب تجدیدِ دین' دینی روایت کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ خان صاحب، جیّد فقہا کی کاوشوں کو دین پر اضافہ سمجھتے ہیں، دینی روایت سے بے زاری کی اس سے کیا بڑی بات ہوسکتی ہے۔ بہ تکرار عرض ہے کہ وحیدالدین صاحب نے مولانا مودودی پر تنقید کرتے ہوئے اپنے عمل کو ’اسلافِ امت‘ کا دفاع قرار دیا تھا۔ تاہم، ایک جگہ سلف کے فہم پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’حامل کتاب قوم میں یہ زوال اس وقت آتا ہے،جب کہ خدا کے دین کو ’فن‘ بنا دیا گیا ہو۔ فن نام ہے کسی حقیقت کو ناپ تول کی زبان میں متعین کرنے کا۔ اب چوں کہ اندرونی حقیقت ناپ تول کی گرفت میں نہیں آتی، وہ صرف بعض ظاہری پہلوؤں کو بیان کرسکتی ہے، اس لیے جب کسی قوم کے اندر ا س قسم کے فنون ترقی کرتے ہیں تو ظاہری بحثوں والے دین کے ماہرین تو ان کے یہاں خوب پیدا ہوتے ہیں، مگر ایسے لوگ ناپید ہوجاتے ہیں، جو کیفیت والے دین سے آشنا ہوں۔ عبادت جو دل کی گھلاوٹ کا نام ہے، فقہی ناپ تول کے ایک ظاہری عمل کا نام رہ جاتی ہے۔ روحانیت جو خدا اور آخرت کی سطح پر جینے کا نام ہے، اس کے مقامات عملیاتی ورزشوں سے طے ہونے لگتے ہیں۔ دعوتِ دین جو دراصل بندوں کے ساتھ خیرخواہی کا اظہار ہے، وہ تقریر اور تحریر، مناظرہ اور احتجاج، حتیٰ کہ ہڑبونگ اور توڑپھوڑ کی صورت اختیار کرلیتی ہے، وغیرہ‘‘۔ (تجدیدِ دین، ص۱۹-۲۰)

’انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین‘ (IMWU- امیو) دنیا کے ۷۰ممالک کے وفود کے سوڈان میں اجتماع میں ۱۹۹۶ء میں قائم ہوئی۔ تاسیسی اجلاس میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر کوثر فردوس اور سمیحہ راحیل قاضی نے شرکت کی تھی۔ یونین کا ہیڈ کوارٹر سوڈان میں ہے اور جنرل سیکرٹری کا تقرر سوڈان سے ہی ہوتا ہے۔ یونین کی شوریٰ، یعنی کونسل آف ٹرسٹیز کی تعداد ۳۲ہے۔ اس کا اجلاس ہر سال کسی نہ کسی ملک میں منعقد ہوتا ہے،جب کہ جنرل کانگریس کا انعقاد ہر تین سال بعد ہوتا ہے، جس میں چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز اور ریجن کے انچارجوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ پاکستان میں تین بار سالانہ کانفرنسیں (۲۰۰۳ء، ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۸ء) منعقد ہوئیں۔
۲۰۱۹ء کے لیے ملائیشیا کی ریاست کلنتان سے یونین کی رکن محترمہ ممتاز محمد نووی حسین نے کانفرنس کی میزبانی کی پیش کش کی۔ ۲۳ سے ۲۹ جون ۲۰۱۹ء کے دوران اس کانفرنس کا انعقاد نہایت حُسن و خوبی سے ہوا۔یاد رہے محترمہ ممتاز محمد نووی حسین ریاست کلنتان کی حکومت میں  ’اُمورِ خواتین، خاندان اور سماجی ترقی‘ کی وزیر ہیں۔ 
کانفرنس میں ۱۸ ممالک:سوڈان، پاکستان، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، عراق، ملاوی، نائیجیریا، صومالیہ، کیمرون، ٹوگو، آئیوری کوسٹ، یوگنڈا، عمان، ہانگ کانگ اور کوریا سے ۵۵نمایندگان شریک ہوئیں۔ تنظیم کے تمام مندوبین کو اپنے جملہ سفری وانتظامی اخراجات کا ذاتی طور پر انتظام کرنا ہوتا ہے۔ کانفرنس کا انعقاد کوٹابھارو (کلنتان، ملائیشیا) میں ہوا

پاکستانی وفد میں یونین کی چیئر پرسن ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، قیمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی، دردانہ صدیقی، انچارج شعبہ ویمن اینڈ فیملی، ڈاکٹررخسانہ جبین، انچارج ایشین ریجن ’امیو‘، شگفتہ عمر، یونین کی مجلس عالمات کی رکن ڈاکٹر زیتون بیگم اور پاکستان میں یونین یوتھ فورم کی انچارج    عائشہ عمرمرغوب شامل تھیں۔ پاکستانی وفد ۲۲ جون کی رات کوالالمپور پہنچا۔ رات کو ڈاکٹر ہاجرہ شکور صاحبہ نے میزبانی کی۔ اگلے روز ۲۳جون کو گیارہ بجے کوٹابھارو پہنچے۔
۲۴ جون ۲۰۱۹ء کو ’امیو‘ کی کونسل آف ٹرسٹیز کا اجلاس شروع ہوا۔ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عفاف احمد محمد احمد حسین نے ہیڈکوارٹر کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ پھر ایشین اور افریقین ریجنوں کی رپورٹیں پیش کی گئیں۔ ایشین ریجن کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے راقمہ نے پاکستان، کشمیر اور سری لنکا کی رپورٹ پیش کی۔افریقن ریجن کی رپورٹ ڈاکٹر اسماء جمیلہ نبلا مبا (یوگنڈا) نے پیش کی۔ پھر قدرے مستحکم کام والے ممالک ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکی، تھائی لینڈ، عراق، صومالیہ، نائیجیریا، اور یوگنڈا کی نمایندگان نے رپورٹیں پیش کیں۔ کیمرون، ٹوگو اور آئیوری کوسٹ میں کام ابتدائی مراحل میں ہے، وہاں کی صورتِ حال بھی سامنے آئی۔  شام، اُردن، فلسطین، لبنان، سری لنکا اور کشمیر میں تنظیم مستحکم ہے، مگر وہاں سے نمایندے شرکت نہ کرسکے۔ ڈاکٹر زیتون بیگم نے مجلس عالمات اور ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے اقوامِ متحدہ کے تحت خواتین کانفرنس میں شرکت (دیکھیے: عالمی ترجمان القرآن جولائی ۲۰۱۹ء)اور عائشہ مرغوب نے ’امیو‘ یوتھ فورم پاکستان کی رپورٹ پیش کی۔ محترمہ دردانہ صدیقی صاحبہ نے مستقبل کے لیے تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ دوسرے سیشن میں برانچوں کی مشکلات کے جائزے اور آیندہ کی منصوبہ بندی پر بات ہوئی۔ بعدازاں اس سلسلے کی دو مزید تفصیلی نشستیں ۲۶اور ۲۸جون کو بھی منعقد ہوئیں۔
۲۴جون ہی کو ایک ملحق ہال میں الیوم انٹرنیشنل ینگ مسلمۃ فورم ملائیشیا کے تحت طالبات کے لیے کانفرنس کا اہتمام تھا، جس کا عنوان:’سیّدنا خدیجۃ الکبریٰؓ بہ حیثیت نمونۂ عمل‘ تھا۔    کانفرنس میں ۵۰۰سے زائد طالبات شریک ہوئیں۔ملائشیا سے نوجوان مقررات کے ساتھ فلسطین اور ہانگ کانگ سے بھی نمایندگی ہوئی اور پاکستان کی نمایندگی عائشہ عمر مرغوب نے کی۔

اس روز ریاست کے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کی طرف سے سادگی اور وقار کی علامت عشائیے کا اہتمام تھا، جس میں مندوبین کے علاوہ شہر کے معززین بھی شامل تھے۔ عشائیے میں مقامی کلچرل شوز کا اہتمام بھی تھا۔
۲۵جون کو ’مسلم انٹرنیشنل سمٹ ، کلنتان‘ (MISK)کے تحت کانفرنس ہوئی جس کا موضوع ’تحقیق و تالیف کانفرنس‘ تھا۔ ایک ماہ قبل حاصل کردہ ۷۸تحقیقی مقالہ جات انگریزی، عربی اور ملے (مقامی) زبان میں تین کتب کی صورت میں شائع کیے گئے۔ یہ ایک قابل ستایش اور غیرمعمولی کام تھا۔ راقمہ نے ’ماوراے صنف افراد اور ہم جنسی رویے‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کا انعقاد تین متوازی سیشنوں میں ہوا۔
۲۵جون کی شام کلنتان ریاست کی اسمبلی کا دورہ تھا۔سپیکر کلنتان نے وفد کو خوش آمدید کہا۔محترمہ ممتازاحمد نے کلنتان کی اسلامی پالیسیاں بیان کیں، جن میں: ’سود‘ سے پاک معیشت، شراب پر پابندی، حجاب کا اہتمام، مردوں کی بحیثیت قوام تعلیم و تربیت کا انتظام، خواتین کی معاشی خودانحصاری کے مؤثر مراکز کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔ یاد رہے، نوجوان نسلوں کے لیے صحابہؓ اور صحابیاتؓ کو بطور ماڈل پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یہ تقریبات بھی اسی کا حصہ ہیں۔
حضرت خدیجہ ؓ کے حوالے سے منعقدہ ان تقریبات کا مرکزی پروگرام ۲۵ جون کے روز عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ریاست بھر سے اہلِ علم اور معززین شامل تھے۔ مہمان خصوصی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے اور دیگر اعلیٰ عہدے داران اور ان کی بیگمات بھی شریکِ کانفرنس تھے۔ یہ پروگرام  عمائدین، کارکنان اور رضاکاروں میں برابری اور یک جہتی کا مظہر تھا۔ ان تقریبات کو کامیاب بنانے میں تقریباً ۳۰۰؍ انتہائی مستعد، مہذب اور سہولت کار رضاکاروں کا بھی بڑا حصہ تھا، جو اپنے کاموں کو تقسیمِ کار کے ساتھ احسن انداز سے نبھا رہے تھے۔
تقریبات کی میزبان ممتاز احمد نووی نے افتتاحی کلمات کے ساتھ ریاست میں خواتین کے حوالے سے اعداد و شمار، دائرہ کار اور پیش نظر منصوبوں پر مفصل تقریر کی۔یہ تقریر ان کی قومی زبان میں تھی، البتہ غیرملکی وفود کے لیے ترجمے کی سہولت موجود تھی۔ اس تقریب میں مختلف میدانوں میں عمدہ کارکردگی پر خواتین کو ایوارڈز دیے گئے، جن میں ڈاکٹر سمیحہ راحیل بھی شامل تھیں ۔

اگلے روز دوسرا سیشن غیر ملکی وفود کی تقاریر اور سوالات و جوابات پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر نورافلاح موسیٰ کی میزبانی میں ملائشیا کی زیلا محمد یوسف، سوڈان سے ڈاکٹر عفاف احمد محمد احمد حسین، تھائی لینڈ سے ناتبا کونتھو تھونگ(خدیجۃ الکبریٰ)، ترکی سے ڈاکٹر رابعہ یلماز، عراق سے ڈاکٹر سحر مولود جابر، صومالیہ سے ڈاکٹر فاطمہ ابوبکر احمد، کیمرون سے ممبالہ انتا گانہ مابا حمادو، یوگنڈا سے ڈاکٹر حلیمہ وکابی اکبر، اور ڈاکٹر عصمت جمیلہ نبلامبا، ٹوگو سے ڈارو عالیہ، کلنتان سے یعقوب روحانی ابراہیم اور پاکستان سے ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے خطاب کیا۔
انتہائی مصروف دن کے بعد عشائیے کا اہتمام وزیر اعلیٰ کی رہایش گاہ پر تھا۔ہیڈ آف سٹیٹ کے گھر کھانے کا مینو اور سادگی بیان سے باہر تھا۔ ملائیشیا میں کھانا ٹھنڈا کھایا جاتا ہے، اس لیے پہلے سے ہی میز پر رکھ دیا گیا تھا۔
کوٹا بھارو، کلنتان میں ہمارا آخری دن شہر کی سیر کے لیے مخصوص تھا۔ہمارے ہوٹل کے ساتھ بہتا دریاے کلنتان اتنے دنوں سے خاموشی سے ہماری سرگرمیاں دیکھ رہا تھا۔ آج ہم اس دریا کے پار اُترے تو کنارے پر مختلف قصبوں کے کچھ کلچرل اور صنعتی مناظر سے مستفید ہوئے۔ وہاں ہم نے ناریل سے بننے والے بسکٹ کے کارخانے دیکھے۔ چھوٹے فریموں میں بوتیک پینٹنگ اور قدرتی مناظر کے نمونے خرید وفروخت کے لیے رکھے تھے۔ ریاست میں خواتین کے لیے قائم انڈسٹریل ہوم دیکھا، جہاں کی مصنوعات قابلِ قدر تھیں۔ ان کا مارکیٹنگ کا نظام بھی فعال تھا۔ اس طرح کے ڈیڑھ سو ادارے اس ایک ریاست کے اندر حکومتی سطح پر کام کر رہے ہیں۔
کوٹا بھارو میں آخری روز، رات گئے تک’امیو‘ کی تمام ذمہ داران کے اجلاس جاری رہے۔ اگلے سال کی میٹنگ تک طے کرنے والے تمام اہم اقدامات، ذیلی شاخوں کے لیے منصوبہ بندی، مسائل کے حل کی کوششیں اور ۲۰۲۰ء میں کونسل آف ٹرسٹیز میٹنگ کے انعقاد کے لیے تجاویز، زیرغور آئیں۔زبانی اور تحریری تفصیلی آرا پر طے ہوا کہ بعد میں آگاہ کردیا جائے گا۔ 
اگلے روز پتراجایا روانہ ہوئے اور پھر اس سے اگلے روز کوالالمپور ایئرپورٹ سے اسلام آباد پہنچے۔ان تقریبات میں طے شدہ امور، ان شاء اللہ امت مسلمہ کی خواتین کو اسلامی تعلیمات کے دائرہ کار میں اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔یوں مسلم خاندان ہرمعاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ دینے اور امن و استحکام قائم کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔

آسان بیان القرآن مع تفسیر عثمانی، مؤلفین: مولانا محمد حسن، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی [مرتبہ: عمرانور بدخشانی]۔جامعہ علومِ اسلامیہ، علامہ بنوری ٹائون، کراچی۔ فون: ۳۹۰۰۴۴۱-۰۳۳۳۔ جلداوّل، سورۃ الفاتحہ تا توبہ، صفحات:۱۱۲۸؛ جلد دوم، سورئہ یونس تا القصص، صفحات: ۹۸۰؛جلد سوم،سورۃ العنکبوت تا الناس، صفحات: ۱۰۶۴۔سائز مجلاتی۔ قیمت: درج نہیں۔


بیسویں صدی کے دوران قرآنی علوم میں ایک سے بڑھ کر ایک تفسیری خزانہ، اہلِ حق کے لیے معرضِ وجود میں آیا۔ اس ضمن میں اُردو کا دامن غالباً دوسری تمام زبانوں سے زیادہ مالا مال ہوا۔  ’’تفسیر بیان القرآن مولانااشرف علی تھانویؒ کی قرآنی فکر کا شاہ کار ہے، جو ۱۳۲۵ھ میں شائع ہوئی، جب کہ ۱۳۳۶ھ مولانا محمودحسنؒ نے موضح فرقان کے نام سے کام مکمل کیا، اور اس ضمن میں کام کی تکمیل مولانا شبیراحمد عثمانی ؒنے ۱۳۵۰ھ میں کی‘‘۔ (ص۵)


زیرنظر مجموعہ تفاسیر کی امتیازی خصوصیات یہ ہیں:’’lقرآنی آیات کا ترجمہ مولانا محمودحسنؒ کا ہے lترجمے کے بعد تفسیر مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ہے lتفسیری فوائد مولانا شبیراحمد عثمانی ؒکے تحریر کردہ ہیں‘‘۔ (ص۷، ۸)


استادِ گرامی عمر انور بدخشانی نے سالہا سال کی محنت سے مذکورہ بالا مستند تفسیری سرچشموں کو، نہایت سلیقے، حد درجہ خوب صورتی اور عالمانہ شان کے ساتھ مرتب کرکے، دین کی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے۔ امرواقعہ ہے کہ اساتذہ اور طلبہ، یہ خبر پانے کے بعد اس تفسیر سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ بیش قیمت کریم رنگ میں کاغذ اور دو رنگوں میں طباعت، فکر اور نظر کو سکون اور شوقِ مطالعہ کو فراوانی عطا کرتی ہیں۔ (س م خ)


بز مِ خردمنداں ، از محمد اسحاق بھٹی۔ ناشر : محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۔ ۲۰۵۱۳-جناح سٹریٹ، اسلامیہ کالونی ، ساندہ، لاہور۔ فون: ۴۷۶۸۹۱۸-۰۳۰۱۔ صفحات: ۳۱۲مجلد۔ قیمت: درج نہیں۔


اللہ تعالیٰ کا یہ نظام خاص ہے کہ اُس کی ذاتِ واحد کے علاوہ سب فانی ہے۔ انسان اس کائنات کی سب سے قیمتی مخلوق ہے۔پھر ان میں جنھوں نے تقویٰ کی زندگی گزاری یا انسانی خدمت اور علم و فضل کے باب میں اضافے کا ذریعہ بنے، ان کی اپنی ہی قدرومنزلت ہے۔


محمد اسحاق بھٹی ایک عالم اور محقق تھے، خوش گوار انسان اور خوش رنگ نثرنگار تھے۔ انھوں نے تحقیق و تالیف کی منزلیں سر کرنے کے علاوہ اپنی طویل زندگی بہت سے قیمتی لوگوں کے ساتھ گزاری۔ یہ کتاب ایسے ہی ممتاز لوگوں کے ساتھ اُن کے شخصی ربط اور یادوں پر مبنی مضامین پہ مشتمل ہے۔ علم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے جن متعدد رجالِ کار کے بارے میں لوگ جاننا چاہتے ہیں، ان میں سے چند خوش خصال نام اس کتاب میں شامل ہیں، جیسے: شیخ محمد اکرام، پروفیسرحمید احمد خان، پروفیسر محمد سعید شیخ، مولانا امتیاز علی عرشی، یوسف سلیم چشتی، سراج منیر، مولانا عبدالستار خان نیازی، عبدالجبار شاکر، علیم ناصری وغیرہ کے علاوہ پندرہ مزید حضراتِ گرامی بھی۔


بھٹی صاحب نے شخصی معلومات کے علاوہ ، دل چسپ واقعات اور گہرے مشاہدات کو ان یادداشتوں کا حصہ بنایا ہے، جن میں سبق بھی ہے اور جذبہ بھی۔(س م خ)

مشتاق حسن ،سری نگر

ترجمان کے شماروں (جولائی، اگست) میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کا مضمون: ’قرآن، سنت اور قربانی‘ اپنے دلائل، اسلوب اور توجہ دلانے کے حوالے سے نہایت قیمتی تحفہ ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اتنی قیمتی تحریریں عام لوگوں کی پہنچ میں کیوں نہیں آتیں،جو بہت بڑا ملّی نقصان ہے۔ 


 انیسہ احمد ، استنبول

اگست کے شمارے میں محترم میاں طفیل محمد صاحب اور جناب سیّد منور حسن کی مختصر تقریروں یا تحریروں میں مجھے جماعت اسلامی کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی جو سہولت اور مدد ملی، اس کے لیے ان بزرگواروں کے لیے دُعائوں کے ساتھ ترجمان کی شکرگزار ہوں۔


 پروفیسر محمد رؤف صابر ، گجرات

الحمدللہ، ترجمان القرآن اُمت مسلمہ کا ترجمان ہے اور اصلاحِ معاشرہ کا نقیب بھی۔ اگست کا شمارہ قیمتی تحریروں سے مزین ہے۔ ڈاکٹر انیس احمد نے اُمت کے مسائل اور حل کی طرف عمدگی سے توجہ دلائی ہے۔ یہ مضمون توجہ سے پڑھنا اور سمجھنا اور اجتماعات میں زیربحث لانا چاہیے اور عام لوگوں تک پہنچانا چاہیے، بالخصوص توحید باری تعالیٰ کا یہ جامع تصور عام کرنا، بہت بڑی نیکی اور اصل دعوت الی اللہ ہے۔ 


عفت نوید ، سکھر

سیّد علی گیلانی صاحب نے اپنے خط میں درحقیقت ہرمسلمان بچّے اور بچی کو مخاطب کیا ہے۔ کاش! کوئی صاحب ِ خیر اس خط کو دیدہ زیب طریقے سے چھاپ کر پاکستان کے لاکھوں طالب علموں میں پھیلائے۔


اکبر حسین ، سرگودھا

تازہ شمارے میں محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے تحقیقی مضمون نے احساس دلایا کہ آزاد خیال لوگ تو اپنے کام میں مگن ہیں، لیکن تعمیری قوتیں اپنے محاذ پر لاتعلقی اور بے عملی کی شکار ہیں۔


احمد نور ، سیالکوٹ

محترم ڈاکٹر ظفرالاسلام اصلاحی نے، قرآن میں ہرشخص کو اس کا تذکرہ پڑھاکر، قرآن سے ہمارے تعلق کو تازہ اور مضبوط کیا ہے۔ اتنا جامع مضمون ایک محقق ہی پیش کرسکتا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر محمدواسع ظفر نے تجارت میں اسلام کی رہنمائی پیش کر کے، ہر تاجر اور دکان دار کو اسلامی زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔


ڈاکٹر سیّد ظاہر شاہ ، پشاور

 محترم ظہور احمد نیازی نے ’پاکستان: ماضی اور حال___ ایک تاثر‘ میں قوم کی اخلاقی حالت پر  آنکھیں کھول دینے والے تلخ حقائق بیان کیے، اور بجا طور پر اس اخلاقی زوال کی ذمہ داری قوم پر ڈالی ہے۔ حلال رزق کمانے اور کھانے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس کی بڑی وجہ دین اور دنیا کی تقسیم ہے۔ لوگ نماز، روزہ، حج وغیرہ کی ادایگی کے بعد زندگی کے معاملات میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔ 


عامر حسن ، اسلام آباد

جناب ظہور نیازی (اگست ۲۰۱۹ء) بجا طور پر وطن کے حال پر دل گرفتہ ہیں، لیکن وہ اپنی نئی جاے سکونت، یعنی مغرب کی تحسین میں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مغربی اقوام صرف اپنے مفادات کی اسیر ہیں۔ یہ جب دوسری اقوام پر حکمران تھیں تو براہِ راست ظلم کرتی تھیں، اور اب بالواسطہ ظلم کرتی ہیں اور ظالم کا دست و بازو بھی ہیں۔ کشمیر و فلسطین کے مجرموں کو اپنے ہاں پناہ دینے سے متعلق ان کی پالیسیاں، فوجی حکومتوں کی حمایت، آمریت و کرپٹ سیاست دانوں کی سرپرستی اس کی واضح مثالیں ہیں۔


اخوندزادہ نصراللہ، موڑدہ ایون ،چترال

’تکفیر کے شرعی اصولوں پر نظر‘ از ڈاکٹر عصمت اللہ (ماہ جون و جولائی ۲۰۱۹ء )قرآن و سنت کے نصوص و دلائل پر مشتمل بڑی اہم تحریر ہے۔ کسی کے بارے میں لب کشائی سے قبل کاش! ان اصولوں پر کوئی  نظر رکھے۔حُب ِ رسولؐ و صحابہ کرامؓ کی آڑ میں بلاشرعی ضابطہ و تحقیق اپنی زبان قینچی کی طرح چلانے والے   کل بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟ زبان کی آفت تو تمام آفات سے بڑھ کرشدید ہے، جو لوگوں کے درمیان نفرتوں کو ہوا دیتی ہے اور معاشرے کے اندر بگاڑ و فساد کا سبب بنتی ہے۔