مضامین کی فہرست


فروری ۲۰۱۹

پاکستان کی ۷۰ سالہ تاریخ پہ نظر ڈالیں تو ترقی کی راہ میں جو رکاوٹیں نظر آتی ہیں، ان میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہمارے معاشرے کا افراط وتفریط کا شکار ہونابھی ہے۔ جب تک ہم ایک ذمہ دار قوم کی طرح بغیرکسی دباؤکے اپنی ضروریا ت اور حقیقی ترجیحات کے مطابق فیصلے اور طرزِعمل نہیں اختیار کریں گے، اس وقت تک ترقی کا سفر طے کرنا مشکل ہے۔ اس کی ایک مثال ہمارے معاشرے میں عورت(جو کسی بھی معاشرے کاکلیدی کردارہے)کے متعلق مختلف اور حددرجہ متحارب و متضاد تصورات ہیں۔ تاہم، گذشتہ دو عشروں سے اس رجحان میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اگرچہ دیہات میں اب تک صورتِ حال کافی گھمبیر ہے، لیکن شہروں میں تعلیم کے باعث اور کچھ گلوبل ایجنڈے پہ عمل درآمدکے دباؤ کی وجہ سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اب پہلے کی نسبت عورت کو نہ صرف جلدانصاف ملنے لگا ہے اور اس کے حقوق کا شعور بھی بیدار ہونے لگا ہے، نیز اس کے مسائل کو اہمیت ملنے لگی ہے، بلکہ وہاں تعلیم اور روزگار کے مواقع میں بھی کشادگی پید ا ہوئی ہے۔
 الحمدللہ، یہ سب کچھ بہت خوش آیند ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا معاشرہ عورت کو ایک استحصال سے نکال کر دوسرے استحصال کی طرف دھکیل دے۔مستقبل کے منظر نامے پر نظر ڈال کرسوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہم کیا کریں کہ عدم توازن کا شکار ہوئے بغیر توازن اور ترقی کا سفر بہ آسانی طے ہوسکے اور اس کے لیے ہم خودبھی بحیثیت فرد یا گروہ اپنافعال کرداراداکرسکیں۔ ریا ستی سطح پراب الحمد للہ، اعلیٰ تعلیم کے میدان میں طلبہ و طالبات کو یکسا ں موا قع حاصل ہیں۔ اس وقت ملک میں بشمو ل کشمیر اور گلگت اعلیٰ تعلیم کے لیے ۱۸۷ سرکاری اور غیرسرکاری یونی ورسٹیاں کا م کر رہی ہیں، جب کہ خوا تین کی ۱۰علیحدہ یو نی و ر سٹیوں کے با عث ان کو مزیدبھی موا قع حاصل ہیں۔
پاکستان میں عمومی سطح پر اب یہ تصور پرانی بات لگتا ہے کہ ’لڑکیو ں کو پڑھ لکھ کر کیا کرناہے؟‘ اب یہ سمجھا جاتا ہے: معاشرے کو اعلیٰ تعلیم یا فتہ خوا تین کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے، جتنی اعلیٰ تعلیم یافتہ مردوں کی۔ اعلیٰ تعلیم فرد کے علم و ہنر اور کا م کر نے کی استعداد میں اضا فہ کر تی ہے۔ خواتین خواہ وہ گھر کی ذمہ داریا ں سنبھا لیں،بچو ں کی نگہداشت کر یں، یا گھر سے باہر ملازمت وغیرہ، ہر جگہ تعلیم ان کو آگے بڑھاتی ہے۔ نہ صرف گھر یا تعلیم اور طب جیسے میدا نو ں میں خواتین کی ضرورت ہے بلکہ صحافت، قانون، نفسیا ت، حتیٰ کہ بعض صورتوں میں سکیورٹی، ریسرچ،سائنس، سوشل سا ئنس جیسے شعبو ں میں خوا تین کی مو جو د گی کی ضرورت ہے۔

مردوں اور عورتوں میں معاشی عدم توازن

چند لمحے کے لیے اسے ایک حو صلہ افز ا پہلو سمجھ بھی لیا جائے تو اس کے سا تھ ساتھ ایک گھمبیر مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے، جومستقبل کے منظرنامے کی خوف نا ک تصویر کشی کرتا ہے۔وہ یہ کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کا تنا سب عدم توا زن کا شکا ر ہے۔
ہما رے ہا ں لڑکیو ں میں محنت سے آگے بڑ ھنے کا جذبہ نسبتاً زیا دہ دکھائی دیتا ہے،جب کہ مردوں کے آگے بڑھنے کے راستے میں اگرچہ کو ئی طبعی رکا وٹ مو جو د نہیں ہے، مگر اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم میں ان کا گرا ف تیزی سے نیچے گررہا ہے۔ اس چیز کا اندا زہ امتحا نی نتا ئج اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دا خلو ں میں لڑکوں کے پیچھے رہ جانے سے ہو تا ہے ۔
اعلیٰ تعلیم میں مردوں اور عورتوں کا تناسب دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زیا دہ تر یو نی ورسٹیوں میں لڑکیو ں کی تعداد ۷۰فی صد سے زیادہ ہے اور میڈیکل یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں اس سے بھی زیادہ، جب کہ خوا تین یونی ورسٹیوں میں پڑ ھنے والی طالبا ت کی تعداد اس کے علا وہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں مردوں اور عورتوں کے تناسب کا اندا زہ درج ذیل شوا ہدسے بخو بی کیا جا سکتا ہے:
۲۰۱۳ء اور۲۰۱۴ء میں کرا چی یو نی ورسٹی میں لڑ کیو ں کی تعداد۷۳ فی صد، جب کہ  لڑکوں کاتناسب ۲۷ فی صد تھا۔ اسی طرح این ای ڈی انجینیرنگ یو نی ورسٹی میں ۵۰، ۵۰ فی صد کا تناسب تھا (یاد رہے ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کے عشروں میں یہاں پر طالبات کا تناسب ۴ اور ۸فی صد تھا)۔ پنجا ب یو نی ورسٹی کے زیا دہ تر شعبو ں میں نما یا ں طو ر پر طا لبا ت کی بر تری دو تہا ئی سے زیا دہ آرہی ہے۔  ۲۰۱۷ء کے اعداد و شمار کے مطابق قائداعظم یونی ورسٹی میں، ایم ایس سی کورسز میں طالبات کی تعداد  ۱۷۳۵ ، جب کہ طلبہ ۱۴۷۴ تھی۔ ایم فل میں بھی طالبات کی تعداد غیرمعمولی طور پر زیادہ رہی۔
پاکستان میڈیکل اینڈڈینٹل کونسل کے مطابق مجموعی طور پر میڈیکل کی تعلیم میں خواتین کا تناسب ۸۰فی صد، جب کہ مردوں کا ۲۰فی صد ہے۔دوسری جانب جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق میڈیکل کی تعلیم میں طالبات کا تناسب ۷۰فی صد ہے اور ہرسال طالبات کے تناسب میں اضافہ ہی ہورہاہے، کمی نہیں۔
مستقبل کا نقشہ کچھ یوں نظر آرہا ہے کہ اچھے اور ذمہ دار عہدوں پہ مردوں اور عورتوں کا تناسب عدم توازن کا شکار ہوگا۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہوگی، حتیٰ کہ مردوں کے علاج کے لیے بھی عمومی طور پہ زیادہ تر خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہی میسر ہوںگی۔ اور گھریلو نظام چلانے کے لیے بھی عورت کی معاشی استعدادمرد سے زیادہ ہوگی۔ 
 مندرجہ بالا صو رتِ حا ل سے مستقبل میں معا شرے کا نقشہ اور توازن اُلٹ پلٹ ہو تا  نظر آتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اعلیٰ تعلیم میں لڑکیو ں کی پیش رفت کو تشویش کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہرگزنہیں، اس کی حو صلہ افز ائی کے ساتھ ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑ کوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول اور پیشہ ورا نہ تر بیت کے موا قع میں اضا فہ کیا جا ئے۔ بصو رتِ دیگر تمام ملازمتوں پر بالخصوص اعلیٰ عہدو ں پر ملا زمت کے معیار کو زیا دہ تر خوا تین ہی پو ر ا کر یں گی۔ اس طرح معاشی ذمہ داریوں کا بو جھ مرد کے کا ندھو ں سے کم ہوکر عورت کے کا ندھو ں پر بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

مردوں کی معاشی ذمہ داری کا تقاضا

عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ ہما رے معاشرے میں لڑکیوں کو تو کسی حد تک یہ سکھایاجاتا ہے کہ ان کو دوسرے گھر جانا ہے، اس لیے دوسروں کواپنی زندگی میں جگہ دینے کی استعداد پیدا کرنی چاہیے، جب کہ لڑکوں کی تربیت اپنی عملی زندگی اور با لخصو ص خانگی زندگی کے بارے میں نہ ہو نے کے برابر ہوتی ہے۔ہماری معاشرتی اُٹھا ن اور مردوں کی بیرون خانہ مصروفیات کے باعث گھریلو ذمہ داریاں عموماً عورت ہی کے کا ندھو ں پرہوتی ہیں۔ پھر ،جب کہ صورت حال یہ ہو کہ لڑکے تعلیم اور ہنر کے میدان میں پیچھے ہونے کے باعث معاشی میدان میں بھی پیچھے رہ رہے ہوں، تو مستقبل میں عورت کے کاندھوں پر بچو ں کو پا لنے، ان کی تر بیت کر نے، گھر اورخاندان کے نظا م کو چلا نے اور شوہراور سسرال والوں کی خدمت وغیر ہ جیسے کام تو کہیں کم ہو تے نظر نہیں آرہے، کجاکہ معا ش کی ذمہ داریوں کا بو جھ بھی اس کے کا ندھو ں پر بڑھنا شروع ہو جا ئے۔ 
 بظاہر صنف نازک تر قی کر تی نظر آرہی ہے لیکن درحقیقت وہ چکّی کے دونو ں پاٹوں میں  پس رہی ہوگی۔ گویاکہ وہ ایسی موم بتی کی مانندہوگی، جو اپنے دونوں سروں سے جل رہی ہواور   اس طرح وہ ایک نئے اور کہیں زیادہ اذیت ناک استحصال کا شکار ہوجائے گی۔ اس کے برعکس  دینِ اسلام تو مرد کو ’قوّام‘ قرار دیتا ہے۔ یہ ’قوامیت‘ اس بنیاد پر ہے کہ وہ اپنے خاندان کا معاشی اور معاشرتی بوجھ اٹھانے کا ذمہ دار ٹھیرایا گیا ہے۔ لہٰذا، باوجود اس کے کہ عورت بھی اپنی بنیادی    ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ، اللہ کی بتائی گئی حدود میں رہ کر معاشی میدان میں کام کر سکتی ہے، باوجود اس کے کہ عورت کتنا بھی کماکر لارہی ہو، تب بھی مرد اپنی اس معاشی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔

پیشہ ورانہ رہنمائی کا فقدان

دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ نہ صرف تعلیم بلکہ اعلیٰ تعلیم تک کے لیے بھی کسی پیشہ ورانہ رہنمائی (کیرئیر گا ئیڈنس) کا انتظا م نہیں ہے، جس کے با عث بلاتخصیص مرداور خواتین اپنے دا ئرۂ کار کو مدّنظر رکھے بغیر اکثروبیش تر اندھا دھند صرف بھیڑ چا ل کا شکا ر ہو جاتے ہیں۔ اپنے میدان کا ر کے انتخا ب کے وقت دُور اندیشی سے نہ خود سو چتے ہیں اور نہ انھیں سمجھا یا جا تا ہے کہ کو ن سے میدا ن کا ا نتخا ب ان کی فطری اور لازمی ذمہ داریو ں(mandatory role) سے مناسبت رکھتا ہے اور کو ن سا نہیں؟ اکثر خوا تین اُن مضامین کو منتخب کر لیتی ہیں، جن کے اوقا ت کار ان کی فطری اور لازمی ذمے داری سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس طر ح وہ اپنی اس تعلیم کا استعما ل نہیں کرپاتیں اور اس پہ صرف کیا جانے والا وقت اور سرمایہ ضائع ہوتا ہے، یاپھر دوہری محنت کے باوجود دونوں جانب حق ادا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ اس دوہرے بوجھ سے یہ پڑھی لکھی خواتین نہ صرف طبعی اور نفسیاتی دبا ؤ کا شکا ر ہو تی ہیں، بلکہ ان کے بچے بھی مطلو بہ نگہدا شت سے محروم رہتے ہیں اور اس کے مظاہر جب ان بچوں کی جوانی اور ازاں بعد سامنے آتے ہیں تو درستی کا کوئی دروازہ کھلا نہیں ملتا۔

درپیش چیلنج اور تقاضے

اس صو رتِ حا ل میں سر کا ری اور نجی شعبوں میں حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کچھ فوری اور ہنگامی بنیادپراور کچھ دوررس نتائج کے حامل اقدامات کی ضرورت ہے :

  •  لڑکو ں کے لیے بھی متوازی اداروں کا قیام: اگرچہ یہ خوش آیندامر ہے کہ ہمارے ہا ں ’ویمن ڈیولپمنٹ‘ (عورتوں کی ترقی)کا شعو ر گذشتہ دو عشروں میں بہت قوت سے اُجاگر ہواہے، حتیٰ کہ ملک کی بڑی یونی ورسٹیوں میں ’ویمن ڈویلپمنٹ‘ کے باقاعدہ شعبے بھی کھلے ہیں، مگراس کے سا تھ ’مین ڈیو یلپمنٹ‘ (مردوں کی ترقی)کی بھی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مزید اضافہ ضروری ہے، تا کہ تمام اہل طلبہ وطالبا ت کے لیے داخلے ممکن ہوسکیں۔ خواتین یو نی ورسٹیوں کے متوازی طلبہ کے لیے بھی یونی ورسٹیاں قائم کرنا بہت ضروری ہیں، تا کہ مقابلتاً پیچھے رہ جانے کے باعث کوئی بھی طالب علم اعلیٰ تعلیم سے محرو م نہ رہے اورہر اہل طالب علم کے لیے اعلی تعلیم کا حصول ممکن ہوسکے اور معا شرے کی گاڑی کسی عدم توازن کا شکا ر ہوئے بغیر آگے بڑھتی رہے۔
  • لڑکوں کی تعلیم میں عدم دل چسپی کی وجوہ: ہمارے ہاں یہ عمومی شکایت پائی جارہی ہے کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے تعلیم اور لکھنے پڑھنے میں بہت کم دل چسپی لیتے ہیں اور اس لیے وہ نتائج میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو نظرانداز کرنے کے بجاے ہمارے شعبۂ تعلیم کے ذمہ داروں اور تعلیم سے متعلق تحقیقی اداروں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے، کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماراتعلیمی نظام لڑکوں کی مطلوبہ درجے میں توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرا  رہا؟ 
  • پیشہ ورانہ رہنمائی کی ضرورت: اسکو لوں سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سطح تک مردوں اور عو رتو ں کے دا ئرۂ کا ر، کا م کا بو جھ اٹھا نے کی فطری استعداد اور فطری صلاحیت و رجحان کو جاننا ازبس ضروری ہے۔ بحیثیت مرد یا عورت اپنے فطری کردار کے ادراک کے حوا لے سے کیرئیرگائیڈنس یا پیشہ ورانہ رہنمائی کا انتظام ہونا لا زمی ضرورت ہے، تا کہ بھیڑ چال اور اندھی تقلید کے بجاے، ہر فرد سوچ سمجھ کر اپنے عملی میدان کا انتخاب اورمستقبل کی منصو بہ بندی کرسکے۔ اصولاًتو  اس کیر ئیر گا ئیڈنس کو ہمارے نظام تعلیم میں ہی شامل ہونا چاہیے، مگر جب تک ایسا نہیں ہے، اس وقت تک تعلیمی،تربیتی اور تحقیقی کام کرنے والے افراد اور اداروں کو، رضاکارانہ طور پر مختصر دورانیے کے نصاب یا ریفریشر کورس تیار کرنے چاہییں۔ جن کے ذریعے طالب علموں کو نہ صرف ان کے رجحان اوراستعداد کے مطابق بلکہ ان کی سما جی ذمہ داریو ں کے متعلق بھی آگا ہی دی جا ئے۔ ان کو اپنے فرا ئض اور دوسروں کے حقوق بتا ئے جا ئیں، تا کہ خاندان اور معاشرے میں اپنے کر دار کا فہم ان کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے وقت اپنے مضامین کے انتخاب میں مدد د ے سکے۔
  • ترجیحات متعین کرنے کی ضرورت: شعبۂ تعلیم کے ’مراکز دانش‘ کی یہ   ذمہ داری ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے تمام شعبوں میں اور بالخصوص پیشہ ورانہ تعلیم میں، اپنی قومی ترجیحات کا جائزہ لیں اورقومی ضرورت کے مطابق نشستوں کا تعین کریں، نہ کہ جبری کوٹہ سسٹم رائج کرکے کسی ایک طبقے میں احساس محرومی اور ردعمل پیداہو۔
  • خواتین کے لیے لچک دار اوقاتِ کار کی ضرورت: ملا زمت پیشہ خوا تین کی سہولت اور تحفظ کے حوا لے سے جولچک دار قوا نین اور اوقات (Flexible working hours) مو جو د ہیں، ان پر عمل درآمد کو یقینی بنا یا جا ئے، تاکہ جو تعلیم یافتہ خوا تین معا شی عمل میں کردار ادا کررہی ہیں، وہ اپنے گھر اور بالخصوص بچو ں کی نگہداشت کے سا تھ اپنے کا م کو انجام دے سکیں۔
  • ’گھر سے کام‘ کی سہولت کی فراہمی:’گھر سے کام‘ (Work from home) کا تصور خصو صاً خوا تین کے لیے بہت پُرکشش ہے اور یہ بہت سے ممالک میں را ئج بھی ہے (اس سے مراد یہ ہے کہ بہت سے کام گھر پر ہی کرکے معاشی اور فنی عمل کا حصہ بناجائے)۔ ہمارے ہاں چند اداروں نے اس کو اپنایاہے، لیکن اگر دیگر ادارے بھی اس کو ممکن بنا ئیں، تو خاندان اور گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہونے سے بچ سکیں گے۔
  • نئی نسل کی تعلیم و تربیت کو ترجیح دینے کی ضرورت:ضرورت ہے کہ نئی نسل کی تعلیم وتربیت کو معاشرے کے ایک عظیم کام کے طور پہ منوایا جائے۔جو اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین چھوٹے بچوں کی پرورش اور نگہداشت اور گھریلوذمہ داریوں کی ادایگی میں مصروف ہیں، ان کے کام کو بھی معاشرے میں ایک لائق تحسین کام کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔ان کی فکری اور عملی مدد کرنے کو ترجیح دی جائے۔
  • حقیقی تصورِ تعلیم کو اُجاگر کرنے کی ضرورت: تعلیم کے اس تصور کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے کہ اعلی تعلیمی ڈگری کا استعمال صرف اچھی ملازمت،اعلیٰ عہدہ یاکوئی بھرپور کاروبار ہی میں ہو سکتا ہے۔اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کی معاشی ضروریات بغیر ملازمت کیے پوری ہورہی ہیں، توان کو اپنا وقت، تعلیم اور صلاحیت معاشرے کی تعمیر و ترقی اور بھلائی کے کاموں میں رضاکارانہ صرف کرنا چاہیے۔ ’تعلیم براے روزگار‘ کے تصور سے بالا ہوکرتعلیمی، دعوتی اور سماجی خدمت کے کاموں کا حصہ بننا چاہیے۔ اس حوالے سے ہمارا معاشرہ بہت پیاسا ہے۔ یہاں ایسے افراد کی بہت ضرورت ہے، جو کسی بھی ذاتی مفاداور معاشی فائدے سے بالاتررہ کر قوم کی بھلائی اور بہتری کے لیے کا م کریں۔
  • پس ماندگی دُور کرنے کی ضرورت: دیہات میں پس ماندگی دُورکرنے اور فروغِ تعلیم کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھانے اور منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

 اگر معاشرے کی اس بدلتی ڈگر اور عدم تناسب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم توازن کا ادرا ک نہ کیا گیا اور اس کے سد باب کی کوشش نہ کی گئی تونہ صرف مرد نقصان میں رہیں گے، بلکہ عورت ہی سب سے زیادہ استحصال کا شکارہوکر رہ جائےگی، اور چند ہی برسوں میں معاشرے میں ترجیحات کاتوازن بگڑ جائے گا۔ایسی صورت حال میں نہ صحت مند معاشرہ پیدا ہوگا اور نہ قوم ترقی کی منازل طے کرسکے گی۔
 اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کومتوازن اور صحت مند معاشرہ منتقل کرنا چاہتے ہیں، اور یقینا ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں، تو پھر ہم اپنی انفرادی حیثیت میں بھی اور اگر ہم کسی ادارے یا کسی گروہ کے ذمہ دار ہیں، تو اس حیثیت میں بھی، مستقبل کے درپیش چیلنجوں کا آج ہی سے ادراک کریں۔ اپنے معاشرے کی ترجیحات اور اقدارکو اُلٹ پلٹ ہونے سے بچانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ یہ دینی ذمہ داری بھی ہے اور قومی فرض بھی۔

کیا ہم اپنے معاشرے کو جانتے ہیں؟ اور کیا ہمارا معاشرہ ہمیں جانتا ہے؟
ان بنیادی سوالات کا جواب تب ہی مل سکتا ہے یا اسی وقت دیا جاسکتا ہے، جب یہ واضح ہو کہ ’جاننے‘ سے کیا مراد ہے؟ یہ عمل کیا ہے اور اس عمل کے تقاضے کیا ہیں؟
ہمارا فوری جواب یہی ہوگا کہ ’ہم معاشرے کو جانتے ہیں اور ہمارا معاشرہ ہمیں جانتا ہے‘۔ ممکن ہے کہ یہ جواب درست ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’جاننے‘ کے عمل سے ہم لاتعلق ہوں اور یوں دونوں سوالات تشنۂ جواب ہی ہوں۔ کسی فلاسفر نے کہا تھا کہ: ’میں یہ جانتا ہوں کہ میں کیا  نہیں جانتا‘۔ تاہم، عمومی چلن کے مطابق: جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ ’میں جانتا ہوں‘ اسی کو عالم سمجھا جاتا ہے۔
چند لمحوں کے لیے مان لیجیے کہ: ’’ہم اپنے معاشرے کو نہیں جانتے اور اسی طرح سے یہ معاشرہ بھی ہمیں نہیں جانتا‘‘۔ گذشتہ دو عشروں میں جوان ہونے والی نسل اگر ہمیں نہیں جانتی تو اس کی بنیادی وجہ یہ خوش فہمی ہے کہ ’ہم معاشرے کو جانتے ہیں‘۔ 

معاشرہ: چند غورطلب پہلو

آئیے چند پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ کسی معاشرے کو جاننے کے لیے کیا ضروری ہے:

  • پہلا مقدمہ یہ ہے کہ کیا معاشرے کا پورا منظر نامہ ہمارے سامنے موجود ہے یا چند پہلوئوں کو دیکھ کر ہم راے قائم کرلیتے ہیں؟ ایک داعی کے طور پر فرد سے کس طرح ملتے ہیں؟    کیا یہ جانتے ہیں کہ ہمارا مخاطب اور اس کی شخصیت کیسی ہے، اس کے مسائل کیا ہیں اور وہ کن امور پر بات کرنا چاہتا ہے؟ ہم اس کی بات سنتے ہیں یا اسے محض اپنی سناتے ہیں؟ 
  • ہمارے معاشرے کی کوئی مخصوص نفسیاتی پہچان ہے یا خود ہماری معاشرت بھی عمومی طور پر اسی رنگ میں رنگی ہے؟ ہم جذباتی کیفیات میں زیادہ وقت گزارتے ہیں یا رویوں پر ٹھیرائو غالب رہتا ہے؟ عملی کیفیات میں داعیانہ جذبہ کس حد تک غالب ہے کہ جو مخاطب کو متاثر کرتا ہے اور کس انداز سے متاثر کرتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی اپنے مخاطب کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کی کوشش کی، خواہ ادھورا ہی سہی یا پھر جو پیش نظر ہے، وہی پیش کردیتے ہیں؟
  • ہمارے معاشرے میں ترقی کی منازل طے کرنے والا ہم عصر کلچر کیا ہے؟ پہلے سے مروج روایات سے یہ کلچر کس حد تک ہم آہنگ ہے؟ معاشرتی سطح پر فرد اور گروہ کے روابط اور تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ کیا ہم ربط اور تعلق کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں یا ربط سے تعلق پیدا کرنے اور مستحکم کرنے کا کام لیتے ہیں؟
  •  مختلف گروہوں ، اداروں اور تنظیموں کا کردار ہمارے زیر مطالعہ رہتا ہے یا ہم ادھورے ابلاغی پروپیگنڈے سے متاثر رہتے ہیں؟ کیا ہم وسعت کو پسند کرتے ہیں یا ’جو ہے اور جہاں ہے‘ ہی کو کافی سمجھتے ہیں؟ اس فرق کو پہچانتے ہیں یا اپنی محدود معلومات کو کافی سمجھتے ہیں؟
  • پاکستان کے زندہ معاشرتی مسائل اور مقدمات کیا ہیں؟ ان امور میں سے کتنے اُمور واقعی مسائل بن چکے ہیں  اور کتنے مسائل، بڑے چیلنج بننے جارہے ہیں؟ ہم ان امور کو مسائل اور پھر چیلنج بننے سے کس حد تک روکنے میں کامیاب ہیں؟ اس کش مکش کو سمجھتے ہیں یا اس عمل سے الگ ہیں؟ ان سوالات کا جواب پانے کی کوشش کرتے ہیں یا امور اور مسائل کی جنگ میں خاموش اور غیر جانب دار ناظر ہیں؟
  • آج کے زندہ رجحانات کیا ہیں؟ ’زندہ‘ سے مراد صرف ’مثبت‘ نہیں ہے، اس سے مراد ’منفی‘ بھی ہے۔ ہر ایسا رجحان ’زندہ‘ ہے جو معاشرے میں رائج ہے یا رواج پانے کو بے تاب ہے، خواہ اس کے اثرات مثبت ہیں یا منفی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کسی بھی رجحان سے اس کی جملہ حرکیات، اسباب اور انجام سے آگاہ ہیں یا آگاہ ہونے کی کوشش میں ہیں؟
  • معاشرے میں رہنے سہنے اورملنے جلنے کے انداز اور معاملات میں تبدیلی آرہی ہے،   لباس تبدیل ہو رہے ہیں، خواہ یہ مردانہ ہوں یا زنانہ۔ رویے اور میل ملاپ میں تبدیلی آرہی ہے۔ ہم ان تبدیلیوں کو کس حد تک محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم ان میں روپذیر منفی رویوں پر کڑھتے رہتے ہیں؟ ہم عملی سطح پر حکمت آزماتے ہیں یا تنقید سے کام چلاتے ہیں؟ قطع تعلق کرتے ہیں یا حوصلہ بڑھاتے ہیں؟
  • دین اور مذہب کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سوچ کس طرح بدل رہی ہے؟ کیا ہم ہر نئی سوچ اور نئے عمل کو سیکولر اور لبرل کہہ کر تو فارغ نہیں ہوجاتے؟ کیا محض یہ سوچ لینا ہی مطلوب ہے؟ کیا یہ رویہ ایسی سوچ کا حصہ بن کر اپنا حصہ تو نہیں ڈالتا؟ یا اس سے جدا ہو کر اسے منافقت، گمراہی ، بے راہ روی وغیرہ قرار دینا ہی کافی ہے؟ اگر ایسا ہے بھی، تو کیا اسے درست کرنے کی حکمت بھی آزماتے ہیں؟
  • مجموعی طور پرلوگوں کا کردار وراثتی ہوتا ہے، جو نسل در نسل چلتا ہے۔ ہر کام کا ایک مخصوص پس منظر ہوتا ہے اور اکثر اسی پس منظر کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ کیا ہم اسی پس منظر کو جانتے ہیں؟ یا خود کو اس کی جگہ رکھ کر غور کرتے ہیں؟ کیا ہم لوگوں پر تنقید، پس منظر کو سمجھے بغیر تو نہیں کرتے؟ 
  • خانگی روایات، تعلیمی کیفیات، شخصی رجحانات، گروہی نظریات، فکری مطالبات بہ یک وقت سرگرمِ عمل ہوتے ہیں۔ معاشرے کی عمومی قوت، اقدار کے انداز، روایات کے اسلوب سمیت بے شمار جہتیں ہیں اور ہر جہت ایک قوت ہے۔ کیا ہم ان سب کو اپنے خلاف کرلیتے ہیں، یا انھیں فطری سطح پر اپنےخلاف پاتے ہیں؟ ان کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یا پھر یہ کہتے ہیں کہ وہ جانے اور اُس کا کام!
  • وقت بہت بڑا عامل، معالج اور استاد ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا آج کا نوجوان مولانا مودودیؒ کے نام اور کام سے واقف ہے؟ کیا آج کا معاشرہ جماعت اسلامی کو اس کی اصل پہچان کے حوالے سے جانتا ہے؟ کیا آج کا معاشرہ جماعت اسلامی کا تاثر قائم ہوتے دیکھ رہا ہے؟ کیا وہ اس کے تاثر کو آگے بڑھاتا ہے یا اس کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے؟ اسے آگے بڑھانا ہے تو حکمت عملی کیا ہے یا پھر کسی حکمت عملی کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟
  • معاشرے میں حقوق و فرائض کا کیا تصور کام کر رہا ہے؟ کیا یہ تصور دینِ اسلام میں حقوق و فرائض کے تابع ہے، یا پھر یہ جدیدیت کے تابع ہے؟ کیا ہر حق (Right) سیکولر ہوتا ہے، اور   کیا ہرفرض مذہبی ہوتا ہے، اور کیا معاشرے کو واضح سوچ دینے کی ضرورت ہے؟

یہاں داعیانہ پہلوئوں کی طرف کہیں کہیں اشارہ اس لیے کیا ہے، تاکہ ہم اپنے ’جاننے کے دعوے‘ کو جان سکیں۔ ہم میں سے ہرکارکن خود سے یہ سوال ضرور پوچھے: ¤ ان پہلوئوں کو پورا جانتا ہے یا نہیں جانتا ہے! ¤ ان پہلوئوں کو ادھورا جانتا ہے یا کچھ کو جانتا ہے! ¤ جس قدر جانتا ہے، اس کا استعمال کرتا ہے ہیں یا نہیں کرتا!
پہلی صورت کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ اگر ہم ان پہلوئوں کو نہیں جانتے، تو گویا اپنی دعوت کو بھی کماحقہ نہیں جانتے۔ اس کمی کو دُور کرنے کے لیے ہمیں داعی اور دعوت کے بارے میں بنیادی لٹریچر کا بھرپور مطالعہ کرنا چاہیے،اور یہ مطالعہ سمجھ کر ہی کرنا چاہیے، ورق گردانی نہیں!
یہاں ایک مثال پیش ہے۔ امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کی حراست کے دنوں میں ایک ورکشاپ میں ہمارے ناظمین نشرو اشاعت شریک تھے۔ جماعت اسلامی اس معاملے کو پوری قوت سے لے کر چل رہی تھی۔ راقم نے نشست میں سوالات پیش کیے: ¤ یہ قاتل کتنے دنوں سے اور کہاں قید ہے؟¤ اسے ریمانڈ کے لیے کب اور کہاں پیش کیا گیا؟¤ متاثرہ پاکستانی خاندانوں کا وکیل کون ہے؟¤ امریکی سفارت خانے کی گاڑی نے کس نوجوان کو کچل کر مار ڈالا؟
    اسی طرح کے دس بارہ سوالات اُٹھائے، مگر کسی کے پاس ان کا مکمل جواب نہیں تھا۔ تقریباً ۲۵فی صد نے تاریخ صحیح بتائی۔ کئی شرکا کو مقتول عباد الرحمٰن کے نام کا علم نہیں تھا۔ ۵۰فی صد کو علم نہیں تھا کہ وکیل کون ہے اور وکیل کا جماعت سے کیا تعلق ہے؟
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت کارکن زیادہ تر، موقف کی چند سطروں کی واقفیت تک محدود رہتے ہیں۔ جس دن اس کیفیت سے نکل کر معاشرے میں اُتریں گے اور جماعت اسلامی میں رہنے لگیں گے تو ہم معاشرے میں بھی رہنے لگیں گے۔ محض تصور میں رہ کر ہم یہ یقین کر لیتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی پالیسی اور پروگرام کے تحت کام کر رہے ہیں، جو درست مفروضہ نہیں ہے۔ جب کارکن پالیسی کو پوری طرح سمجھ نہ رہا ہو، تو وہ گہری لگن کے ساتھ کام بھی نہیں کرسکے گا۔   
مثال کے طور پر مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد ارکان سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ:

  • آپ نے نظم سے رابطہ کر کے دریافت کیا کہ موجودہ حالات میں جماعت کی پالیسی کیا ہے؟
  • جماعت اسلامی نے جن قراردادوں کی منظوری دی ہے، ان کے موضوعات کیا ہیں؟
  • کیا سیاسی صورت حال پر جماعت کی موجودہ اور سابقہ قرارداد کا فرق جانتے ہیں؟

اگر اپنا بے لاگ جائزہ لیں تو اپنے بارے میں درست فیصلہ کرنا کچھ مشکل محسوس نہیں ہوگا کہ کیفیت کیا ہے؟ اگر ہم کو سارے یا بیش تر امور کا علم ہے، نظم سے رابطہ کر کے فہم حاصل کیا ہے تو ہم جماعت میں رہتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم جماعت سے محض ثقافتی یا واجبی سا تعلق رکھتے ہیں، حقیقی تعلق نہیں رکھتے۔ یہ ایک خطرناک صورت ہے جس سے ہماری خاصی تعداد متاثر ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم کنارے پر چلنے کے بجاے جماعت اسلامی میں رہنا شروع کر دیں۔ حالات و واقعات پر گہری نگاہ رکھیں۔ پھر ہماری دعوت کو بھی معاشرے سے جدا اور تصوراتی نہیں ہونا چاہیے، کہ اس کے بغیر ہم دعوت نہیں پھیلا سکتے ۔
یقین مانیے، جماعت سے جدا رہنے کا مطلب، معاشرے سے جدا رہنا ہے۔ اسی لیے ہم کسی حلقے میں دس افراد ہیں تو دس سال بعد بھی غالباً دس یا گیارہ ہی ہیں، یعنی ’کوئی خود ہم سے    آن ملے، ہم کسی سے کیوں جاکر ملیں‘۔ جب کارکن اس عادت سے ہٹ کر کام کرتا ہے تو معاشرے کے قریب ہو جاتا ہے۔ 
ہم درس قرآن، ہلکا پھلکا اجتماعی مطالعہ یا دیگر پروگرام کرتے ہیں، لیکن اپنے اردگرد کے ماحول کو نظر انداز کرکے۔ یہ نہیں جانتے کہ اڑوس پڑوس میں کیا صورتِ حال ہے؟ ہمارے بارے یہ تاثر رہا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت ہے۔ ہمارے حلقے میں ایک رکن جماعت ہوا کرتے تھے، انھیں پورا محلہ نہیں بلکہ پورا علاقہ جانتا تھا کہ یہ رکن جماعت ہیں ۔ ہر موقعے پر موجود، ہر مسجد میں حاضر، ہر خوشی اور غمی میں لوگوں کے ساتھی تھے۔ وہ سرگرم رہے، کوشش کرتے کرتے ربّ کے حضور پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ والے اب بھی موجود ہیں، لیکن وہی چار، چھے اور کبھی دس۔ وجہ یہ ہے کہ عام آدمی سے رابطہ نہیں ہے۔ جماعت کا نام موجود ہے، مگر جماعت کا تصور موجود نہیں ہے اور کسی سےرابطے کی طلب اور پیاس بھی کم تر ہے۔ 

معاشرتی شناخت کے تقاضے

 دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا معاشرہ ہمیں جانتا ہے؟ یہاں چند سوالات غور طلب ہیں:

  • کیا معاشرہ یہ جانتا ہے کہ ہم دین و سیاست سے علیحدہ ہونا درست نہیں سمجھتے؟ جی نہیں، آج کا معاشرہ یہ بات نہیں جانتا۔ اب بات یہ ہوتی ہے کہ’ مذہبی جماعتیں باز کیوں نہیں آتیں، ان کو بڑی جماعتوں کا ووٹ بنک خراب کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے‘ وغیرہ۔
  • ہمارا معاشرہ ہماری دعوت کو نہیں جانتا تو اس کی ذمہ داری ہماری طرف سے پہچان نہ کرانے پر ہے۔ اسی میں پوشیدہ یہ پہلو بھی ہے کہ کیا آج کا نوجوان ہماری ہرسطح کی قیادت کو دعوت کے ماڈل کے طور پر جانتا ہے؟ 
  • مشاہدہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمارا کام مثبت سمت میں نہیں جارہا۔ ہم جواب آں غزل میں اُلجھ جاتے ہیں۔ لوگ ہمارے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں، لیکن ہم انھیں محض تنقید سمجھ کر مزید اُلجھ جاتے ہیں۔ داعی کو جواب دینا چاہیے ، مگر اکثر صورتوں میں جواب مسائل پیدا کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی اپنی حرکیات ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا کے ماہرین چُست جملے میں جواب دینے کو سوشل میڈیا کا درست استعمال سمجھ بیٹھے ہیں۔ چست جواب دینا کسی عام سیاسی گروہ کا معاملہ تو ہو سکتا ہے،جماعت اسلامی کا نہیں۔ جماعت اسلامی کو سوشل پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور صرف دعوت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ 
  • ایک اور پہلو نہایت اہم اور حسّاس ہے، وہ ہے عورت اور خاندان سے مخاطب ہونے کا معاملہ، مرد اور خاندان سے مخاطب ہونے کا معاملہ۔ جماعت کے حلقۂ خواتین کے وجود کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ خاندان اور اس سے متعلقہ امور پر صرف حلقۂ خواتین ہی مخاطب ہو اور جواب دے۔ بات وہی درست ہے کہ پوری جماعت کو ان امور پر مخاطب ہو کر معاشرے سے بات کرنی ہے۔ ہم نصف آبادی، یعنی مرد آبادی کو خانگی و معاشرتی حوالوں سے مخاطب نہیں کر رہے۔ یہ حلقہ خواتین کے کام میں مداخلت نہیں بلکہ گھر کے مرد سے مخاطبت کرنے کا معاملہ ہے۔ ہمارا معاشرہ ضرور جاننا چاہے گا کہ ہم گھر، خاندان،  مرد و عورت اور نوجوان نسل کے بارے میں کیا اور کس طرح کہنا چاہتے ہیں؟
  • مذکورہ نکتے کو تعلیم، روزگار، عملی زندگی کے مسائل کے حل پر بھی منطبق کیا جائے تو نظر آئے گا کہ معاشرہ ہم سے اور ہم معاشرے سے کتنے فاصلے پر ہیں۔

یہ محض چند مثالیں ہیں۔ یہ یقینی بات ہے کہ ہم ان مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر ہم اس دبائو میں زندہ ہیں کہ اب معاشرہ لٹریچر کا نہیں ہے، اور الیکٹرانک میڈیا کا دبائو ہے۔ ایسا نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اسے لٹریچر کی طرف لانا بھی ہماری اور معاشرے کی ضرورت ہے۔ 
ہم کھلے دل سے یہ تسلیم کرلیں کہ ہم اور معاشرہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنتے دکھائی دیتے ہیں، جو اس درجہ پہلے نہیں تھا۔ ایسا ماننا ہی ہم کو مسئلے کے حل کی جانب لے جائے گا (اس اجنبی پن کی وجوہ بہت سی ہیں، تاہم اس وقت وہ پہلو زیربحث نہیں)۔ زیربحث بات یہ ہے کہ ہم اس اجنبیت کی دیوار کو کس طرح توڑ سکتے ہیں؟ 

معاشرے میں نفوذ کی راہ 

اس دیوار کو گرانے کے لیے ہمیں پہلے مرحلے میں دیوار کے اس پار جانا ہوگا، جہاں معاشرہ بس رہا ہے۔ ہم اکیلے یہ دیوار نہیں گرا سکتے، اس کام کے لیے ہمیں معاشرے کا ساتھ درکار ہے۔ ہم اس دیوار کے اس پار کس طرح اور کیوں کر جاسکتے ہیں؟ یہ ایک چیلنج بھی ہے اور دعوت و تحریک کا تقاضا بھی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا وسائل ہیں، جن سے یہ سفر طے کیا جاسکتا ہے:

  • ہمارے مادی اور عددی وسائل بہت سے ہیں، مگر ان کا استعمال یک طرفہ، یکسانیت زدہ  اور معیارِ مطلوب سے کم تر ہے۔ مثال کے طور پر:
  • ہمارے پاس کارکن موجود ہیں، لٹریچر موجود ہے، انداز موجود ہے، صلاحیت اور طریقۂ استعمال موجودہے، لیکن ’داعی کارکن‘ موجود نہیں ہے۔
  • ہمارے پاس دعوت کے ذرائع متنوع اور روزافزوں ترقی پانے والے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ افراد تک پہنچنا سب سے بڑی نیکی ہے۔ ہم کم زور، کم وسائل اور کم حیثیت تحریک نہیں، مگر بن رہے ہیں۔ ہمیں اس نفسیاتی خول سے باہر نکل کر اپنے داعیانہ مقام، وسائل، حیثیت اور اثر پذیری سے معاشرے کو مخاطب کرنا ہے۔
  • جو چیز کم ہو رہی ہے، وہ ’اُمید‘ ہے اور جو بڑھ رہی ہے، وہ ’یاس‘ ہے۔ ہماری اُمید اقامتِ دین ہے اور ہماری یاس سیاسی ناکامی ہے، داعیانہ ناکامی نہیں۔ افسوس کہ ہم نے سیاسی ناکامی کو داعیانہ کمزوری سمجھ لیا ہے۔ ہمارا اپنا تاثر یہ ہے کہ: ’لوگ بات نہیں سن رہے‘۔ اصل بات یہ ہے کہ ’ہم بات سنا نہیں رہے‘۔ اور جو نہیں ہے، اس کے ہونے کے ہم سب منتظر ہیں، مگر جو موجود ہے، اسے جاننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
  • ہم کیا کریں؟ ہم اپنی پہچان کرائیں یا ہماری دعوت ہماری پہچان کرائے؟ ہمیں یہ دونوں کام کرنا ہوں گے۔ یہ دعوت کی ٹھوس ضرورت ہے۔ ہمیں اس کردار میں سامنے آنا چاہیے۔ ہم کس طرح اس کردار میں ڈھل سکتے ہیں؟ یہ بہت آسان ہے، مگر بہت نظر انداز پہلو ہے۔
  • یہ تاثر موجود ہے کہ ہم جملہ سرگرمیوں میں اپنا داعیانہ کردار محدود کر رہے ہیں یا پھر رفتہ رفتہ یہ کردار ختم ہورہا ہے۔ اس تاثر اور اسباب پر جماعت کے نظام میں مقامات کی سطح پر اور بالائی سطحوں پر بات ہونی چاہیے۔ ان تنظیمی اکائیوں میں بات تسلیم کرکے غوروفکر کرنا ہوگا کہ   عام آدمی کی نگاہ میں ہم داعی نہیں، بلکہ ایک سیاسی مذہبی جماعت بن کر رہ گئے ہیں۔ داعی کے طور پر کارکن کا کردار بڑھانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ہم اقامت دین کا کام کرنا چاہیں تو دعوتِ دین کے کام کو بہت زیادہ مستحکم اور متحرک کرنا ہوگا۔ اسے ہمہ گیر اور ہمہ جہت بنانا ہوگا۔
  • ماننا ہوگا کہ داعیانہ کردار کو ٹریڈ یونین کے سے انداز نے گہنا دیا ہے۔
  • سیاسی جماعتوں سے رابطوں کی عدم موجودگی نے مخاصمت کا تاثر گہرا کیا ہے۔ ان کے حوالے سے لوگ واضح اور ٹھوس موقف چاہتے ہیں۔

اجنبیت کی دیوار گرانے کے یہ چند پیمانے ہیں۔ ان کے بیان میں متبادل انداز بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں خیر خواہوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ نیکی اور خیر خواہی کے جذبے سے عوام سے ملنا ہوگا۔ جب یہ جذبہ عام آدمی کی ضرورت بنے گا، تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہماری بات سنی جا رہی ہے۔

اہل قرآن کے تاویلاتی افکار اور نماز پنجگانہ کا تحقیقی مطالعہ،ڈاکٹرظفر اقبال خان۔ ناشر:ادارہ اسلامیہ ،حویلی بہادر شاہ جھنگ۔فون: ۶۷۷۱۷۶۸-۰۳۳۲۔ صفحات:۵۳۶۔ قیمت:۷۰۰ روپے۔
انکارِ حدیث کے حاملین اپنے آپ کو ’اہلِ قرآن‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ ان کے عقائد وافکار کا مطالعہ ظفر اقبال خان کا خاص موضوع ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت کردہ معروف حدیث (بُنِيَ الْاِسْلاَمُ عَلٰى خَمْسٍ…)کے مطابق اسلام کی بنیاد جن پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے، ان میں سے نماز ایک اعتبار سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ نماز بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ چونکہ اُمت مسلمہ کی اکثریت نماز نہیں پڑھتی یا بے قاعدگی سے اور کبھی کبھار پڑھتی ہے، اس لیے اس کا مسلمان ہونا مشکوک ہے۔ اہلِ قرآن یا پرویزصاحب کے مقلدین نے اسلام کے اسی بنیادی رکن نماز پر تیشہ چلایا ہے۔ 
مصنف نے اس گروہ پر علمی گرفت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انکار نماز کا فتنہ کب اور کہاں سے شروع ہوا اور اس سلسلے میں کیا تاویلات کی گئیں؟ مصنف نے بڑی گہرائی سے موضوع کا تجزیہ کیا ہے۔ نہ صرف نماز کے مسئلے پر منکرین حدیث کے عقائد بلکہ بہ حیثیت مجموعی ان کی گمراہیوں کی نشان دہی کی ہے۔ دیباچہ نگار محمدیعقوب کے بقول ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس گروہ اور فکر کی تاویلاتِ رقیقہ وباطلہ کا رد معقولات ومنقولات کے ایسے مسکت دلائلِ قاطعہ سے کر کے اس ضلالت کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔
کتاب کی سطر سطر سے مصنف کی علمیت اور عربی ،انگریزی مآخذ اور قرآن وحدیث پر  ان کی دسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم، کتاب کا مجموعی اسلوب بہت پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ اسلوب مطالعہ کتاب کی راہ میں باربار حائل ہو جاتا ہے۔ پھر کچھ مسئلہ ترتیب وتدوین کا بھی ہے۔
یہ کتاب اپنے انداز سے عوام کے بجاے خواص اور علما کے لیے دکھائی دیتی ہے۔ اصطلاحات کی تشریح کے باوجود عام قاری کے لیے اسے سمجھنا قدرے مشکل ہے۔ البتہ کتاب کے آخری حصے میں قرآن وحدیث کے حوالے سے نماز کی اہمیت اور فرضیت کا بیان عام فہم اور آسان ہے اور عام قاری کے لیے اس کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی ) 
جیو ٹیکٹانکس ، پروفیسر رئوف نظامی ۔ناشر: اردو سائنس بورڈ، ۲۹۹ ۔ شاہراہ قائد اعظم ، لاہور۔ فون: ۹۹۲۰۵۹۶۹-۰۴۲۔ صفحات :۲۹۵۔ قیمت : ۵۳۰ روپے ۔
جیوٹیکٹانکس جیالوجی (علم ارضیات ) کا ایک ذیلی مگر اہم مضمون ہے۔ اس میں زمین کی ابتدا، ارتقا، اور اس کی بنت وبناوٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان تبدیلیوں کا انسانی زندگی اور ماحول کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ جیسے زلزلے انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 
سترہ ابواب پر مشتمل مباحث میں سے بعض تو خالصتاً ٹیکنیکی اور سائنسی ہیں، مگر یہ خشک موضوعات بھی معلومات افزا ہیں۔ بعد کے ابواب میں زلزلوں کے مختلف پہلوئوں ، (پیش گوئی ) سونامی ، پاکستان کو سونامی سے خطرہ، ۲۰۰۸ء کے زلزلے، جاپان کے سونامی زلزلے ، اور زلزلوں سے جوہری بجلی گھروں کو خطرے پر کلام کیا گیاہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ توانائی کے لیے جوہری بجلی گھر قائم کرنا خطرناک ہے۔ ا س میں نقصانات کا اندیشہ زیادہ ہے۔ اس کے بجاے پَن بجلی زیادہ سستی، محفوظ اور سود مند ہے۔ توانائی کے مسئلے کے حل کے لیے مصنف نے ایک اہم نکتے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں:’’دنیا کے چند لاکھ افراد کے خاص طرزِ زندگی پر ہی بہت سی توانائی صرف ہو جاتی ہے، اس طرح باقی اربوں انسان توانائی کے قحط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [اس لیے] عالمِ انسانیت کی فلاح وبقا کے [لیے ] سب سے پہلے پُر تعیش لائف سٹائل کو خیر باد کہنا ضروری ہے‘‘۔ (ص ۲۷۳) 
یہ کتاب سائنس کے طلبہ واساتذہ بلکہ عام قارئین کی معلومات اور ان کے شعور میں بھی اضافے کا باعث ہو گی ۔ (رفیع الدین ہاشمی ) 

بشیراحمد کانجو ،ڈھرکی، گھوٹکی
جنوری ۲۰۱۹ءکا شمارہ جامع اور ہرعنوان کے لحاظ سے قابلِ تحسین تھا۔ بیش تر مضامین پڑھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پروفیسر خورشیداحمد کے ’اشارات‘ ہمیشہ ہی قابلِ قدر ہوتے ہیں۔ ’اشارات‘ میں مولانا مودودیؒ کے یہ الفاظ: ’’میرے لیے یہ قرآن شاہِ کلید ہے۔ مسائل حیات کے جس قفل پر اُسے لگاتا ہوں وہ کھل جاتا ہے۔جس خدا نے یہ کتاب بخشی ہے اُس کا شکریہ ادا کرنے سے میری زبان عاجز ہے‘‘ کس قدر متاثرکُن ہیں۔ عارف الحق عارف کے مضمون: ’تقریب ِ ولیمہ‘ سے یہ سبق ملتا ہے کہ بامقصد لوگ اپنے سفروحضر کو کس خوبی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ تقریب ِ ولیمہ میں کی جانے والی تقریر ایمان افروز کاوش ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا مضمون ’شراب اور پاکستان کے منتخب نمایندے‘، ایک غیرمسلم بھائی کی حق گوئی کا ایک بیّن ثبوت ہے اور یہ الفاظ وجدآفریں ہیں کہ: ’’مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو حرام  قرار دینے کا اعلان فرمایا تو اس موقعے پر بعض لوگوں نے پوچھا کہ ہم غیرمسلموں کوبطور تحفہ کیوں نہ دے دیں مگر آپؐ نے تحفہ دینے سے بھی منع کر دیا۔ اور یوں شراب مدینہ کی گلیوں میں بہا دی گئی۔ ہم غیرمسلم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے نام پر شراب نوشی بند کی جائےلیکن مسلمان وزیر کہہ رہا ہے کہ ’’جس کو شراب پینی ہے وہ پیے‘‘۔شراب نوشی کو اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب سے نتھی کرنا توہینِ مذہب کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔ یہ الفاظ مسلمان وزراکے منہ پر طمانچے سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ ’محمد بن قاسم: غیرمسلم سندھی رعایا سے برتائو‘مضمون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کشمیر پر دو تحریریں: ’گفتگو دنیا سے‘، ’قرآن کریم اور روحانیت‘ نہایت اہم مضامین ہیں۔ 


پروفیسر ظفر حجازی ،لاہور

جنوری کا شمارہ اپنی علمی ثقاہت کے لحاظ سے لائقِ تحسین ہے۔’اشارات‘ میں بجاطور پر سیّد مودودی کی فکری اساس قرآنِ مجید بیان کی گئی ہے، جو قارئین کے لیے قابلِ توجہ بھی ہے اور عمل کے لیے ایک دعوت بھی۔ ’قرآن اور روحانیت‘ البتہ پھیکا اور اسلوبِ بیان میں ابہام لیے ہوئے ہے۔


غلام قادر پرہاڑ ، محمودکوٹ، مظفرگڑھ

تقریب ِ ولیمہ کا واقعہ نہایت قابلِ ستایش اور واقعی قابلِ عمل اور ہرمعاشرت میں قابلِ تقلید ہے۔ اور جناب شعیب لاری کا اندازِ دعوتِ دین بھی۔’سنکیانگ‘ پر مطالعہ کتاب دینا ایک دینی خدمت ہے۔


حمیداللہ  خٹک ، لاہور

جنوری ۲۰۱۹ء میں ’قرآن اور روحانیت ‘ اچھی تذکیر ہے۔ ’اخباراُمت‘ کے تحت تین میں سے دومضامین کشمیر اور ایک بھارت پر دے کر عدم توازن پیدا کیا گیا ہے۔ ’عالمی اُفق پر منڈلاتا معاشی بحران‘ مطالعہ کتاب کے ذیل میں ’سنکیانگ نامہ‘ فکرانگیز ، معلوماتی اور وقت کی ضرورت ہیں۔ ’قرآن، اقامت دین اور  مولانا مودودی‘ کے عنوان سے ’اشارات‘ میں سیکھنے کو بہت کچھ رہنمائی ہے۔ تاہم، ملکی اور بین الاقوامی صورتِ حال پر سیرحاصل تبصرے مفقود ہیں۔ ’گفتگو ، دنیا سے‘ میٹرک کی سطح کے طلبہ کے لیے مناسب تحریر ہے۔


راجا محمد عاصم ، موہری شریف، کھاریاں

ڈاکٹر جاسم محمد مطوع نے ’گفتگو، دنیا سے‘ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں انسان کا دنیا سے تعلق واضح کرکے آخرت کی تیاری کا راستہ دکھایا ہے۔نیز عارف الحق عارف نے ’ایک یادگار تقریب ِ ولیمہ‘میں اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کا بہترین طریقہ سمجھایا ہے۔


ڈاکٹر عبدالرزاق ، کالا گوجراں ،جہلم

نومبر ۲۰۱۸ء ،اشارات، ص ۷ کے الفاظ:’ ’لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے موضوع و مقصد کو عوام اورووٹروں کے لیے باعث ِ کشش نہیں بناسکے‘‘ہرکارکن اور ہرسطح کے لیڈر کے لیے قابلِ توجہ ہیں۔ ’۶۰سال پہلے‘ کے ایک صفحے سے ارکان جماعت کو رہنمائی ملتی ہے۔ تمام مضامین بہت اہم، ایمان افروز اوراُمت مسلمہ کے حالات سے باخبر رہنے کا ذریعہ ہیں۔ 

دراصل اسلام رسموں اور تہواروں کا مذہب ہے ہی نہیں۔ یہ تو ایک سیدھا اور معقول مذہب ہے، جو انسان کو رسموں کی جکڑبندیوں سے، کھیل تماشے کی بے فائدہ مشغولیتوں سے، اور فضول کاموں میں وقت، محنت اور دولت کی بربادیوں سے بچاکر، زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اُن کاموں میں آدمی کو مشغول کرنا چاہتا ہے جو دنیا اور آخرت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ ہوں۔
ایسے مذہب کی فطرت سے یہ بالکل بعید ہے کہ وہ سال میں ایک دن حلوے پکانے اور آتش بازیاں چھوڑنے کے لیے مخصوص کردے اور آدمی سے کہے کہ تو مستقل طور پر ہرسال اپنی زندگی کے چند قیمتی گھنٹے اور اپنی محنت سے کمائے ہوئے بہت سے روپے ضائع کرتا رہا کر۔ اور اس سے بھی زیادہ بعید یہ ہے کہ  وہ کسی ایسی رسم کا انسان کو پابند بنائے جو صرف وقت اور روپیہ ہی برباد نہیں کرتی بلکہ بعض اوقات جانوں کو بھی ضائع کرتی ہے اور گھر تک پھونک ڈالتی ہے۔
اس قسم کی فضولیات کا حکم دینا تو درکنار، اگر ایسی کوئی رسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہوتی تو یقینا اس کو حکماً روک دیا جاتا، اور جو ایسی رسمیں اس زمانے میں موجود تھیں اُن کو روکا ہی گیا۔
ابتدائی زمانے میں جو لوگ شریعت محمدی کی روح کو سمجھتے تھے انھوں نے نئی رسمیں ایجاد کرنے سے انتہائی پرہیز کیا، اور جو چیز لازمی رسم بنتی نظر آئی اس کی فوراً جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ انھیں معلوم تھا کہ ایک چیز جس کو نیکی اور ثواب کا کام سمجھ کر ابتدا میں بڑی نیک نیتی کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے، وہ رفتہ رفتہ کس طرح سنت، پھر واجب، پھر فرض، اور آخرکار فرضوں سے بھی زیادہ اہم بنتی چلی جاتی ہے اور جہالت کی بنا پر لوگ اس نیکی کے ساتھ کس طرح بہت سی بُرائیاں ملا جلا کر ایک قبیح رسم بنا ڈالتے ہیں۔ اس لیے ابتدائی دور کے علما اور امام اس بات کی سخت احتیاط ملحوظ رکھتے تھے کہ شریعت میں کسی نئی چیز کا اضافہ نہ ہونے پائے۔ ان کا یہ مستقل عقیدہ تھا کہ جو چیز شریعت میں نہیں ہے اسے شرعی حیثیت دینا، یا جس چیز کی شریعت میں جو حیثیت ہے اس سے زیادہ اہمیت اس کو دینا بدعت ہے، اور ہربدعت گمراہی ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ بعد کی صدیوں میں اس طرف سے انتہائی غفلت برتی گئی اور بتدریج مسلمان بھی اپنی خودساختہ رسموں کے جال میں اسی طرح پھنستے چلے گئے، جس طرح دنیا کی دوسری قومیں پھنسی ہوئی تھیں۔ (’شب ِ برات‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۵، فروری ۱۹۵۹ء، ص۱۷، ۲۰)