ہمارے ملک میں یہ احساس عام ہے کہ اسلام کے اصول و احکام پسندیدہ اور مستحسن تو ہیں مگر بحالاتِ موجودہ قابلِ عمل نہیں ہیں۔ عوام و خواص میں اسلام سے جذباتی وابستگی تو ضرور ہے لیکن اسلام کا صحیح فہم اور آمادگیِ عمل بہت کم ہے۔ اسلام جس ذہنی و عملی انضباط کا مطالبہ کرتا ہے اسے دیکھ کر یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلامی قوانین کو نافذ کردیا گیا تو کہیں اس کے خلاف شدید ردعمل نہ رُونما ہوجائے۔ سیاسی انقلاب سے پہلے سماجی انقلاب ضروری ہے اور اصلاح کاجذبہ اُوپر سے اور باہر سے پیدا کرنے کے بجاے اندر سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صورتِ حال پیدا ہونے سے پہلے کیا اسلامی ریاست کا مطالبہ قبل از وقت نہیں ہے؟
اس مسئلے کی اگر پوری وضاحت کی جائے تو اس کے لیے بڑے تفصیلی جواب کی ضرورت ہے۔ لیکن مختصر جواب یہ ہے کہ بلاشبہہ سیاسی انقلاب سے پہلے ایک تمدنی، اجتماعی اور اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی اسلامی انقلاب کا فطری طریقہ ہے۔ اور بلاشبہہ یہ بات بھی درست ہے کہ اسلام کے احکام و قوانین صرف اُوپر سے ہی مسلط نہیں کیے جاسکتے بلکہ اندر سے ان کے اتباع کا دلی جذبہ بھی پیدا کیا جاتا ہے لیکن اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ پاکستان کے قیام کی شکل میں سیاسی انقلاب رُونما ہوچکا ہے۔ اب یہ سوال چھیڑنا بالکل بے کار ہے کہ معاشرتی انقلاب پہلے برپا کرنا چاہیے اور سیاسی انقلاب بعد میں۔ اب تو سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ جب تک قوم میں مذہبی انقلاب واقع نہ ہو اس وقت تک آیا ہم سیاسی اختیارات کو کافرانہ اصولوں کے مطابق کام میں لائیں۔ سیاسی اقتدار کا کوئی نہ کوئی مصرف اور مقصد بہرحال ہمیں متعین کرنا پڑے گا۔ حکومت کی مشینری کو اخلاقی انقلاب رُونما ہونے تک معطل بہرحال نہیں کیا جاسکتا۔ ایک قوم جو خدا اور اس کے رسولؐ کی حاکمیت اور بالادستی پر ایمان رکھتی ہو،اجتماعی اور قومی زندگی کی باگیں اس کے اپنے ہاتھ میں ہوں، اپنا نظامِ حیات وہ خود تعمیر کرنے کے قابل ہو اور کوئی دوسری کافرانہ طاقت اس پر کوئی کافرانہ نظام مسلط کرنے والی نہ ہو، تو کیا اس قوم کے افراد کے لیے یہ جائز اور درست ہوسکتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اخلاقی وعظ و نصیحت تو کرتے رہیں گے مگر اپنی ہیئت ِ حاکمہ کو غیراسلامی اصولوں کے مطابق کام کرنے کے لیے چھوڑ دیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اس صورت ِ حال کو گوارا کرلیں، تو گو ہم انفرادی ارتداد کے مرتکب نہ ہوں، اجتماعی اور قومی حیثیت سے ہم ضرور ارتداد کے مرتکب ہوں گے۔
پھر اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ اجتماعی و اخلاقی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو آپ کو غور کرنا پڑے گا کہ اس انقلاب کے ذرائع و وسائل کیا کیا ہوسکتے ہیں۔ ظاہرہے کہ ان ذرائع میں تعلیم و تربیت، معاشرتی اصلاح، ذہنی اصلاح اور اسی قسم کی بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ انھی کے ساتھ ساتھ حکومت کے قانونی اور سیاسی ذرائع و وسائل بھی ہیں۔ حکومت کی طاقت نہ صرف بجاے خود ایک بڑا ذریعۂ اصلاح ہے بلکہ وہ ساری اصلاحی تدابیر کو زیادہ مؤثر، نتیجہ خیز اور ہمہ گیر بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔ اب آخر کیا وجہ ہے کہ اخلاقی انقلاب لانے کے لیے حکومت کے وسائل کو بھی استعمال نہ کیا جائے۔ہمارے ووٹوں اور ہمارے ادا کردہ ٹیکسوں اور مالیوں کے بل پر ہی تو حکومت کا سارا نظام چل رہا ہے۔ آخر اس حماقت اور جہالت کا ارتکاب ہم کیوں کریں کہ ایک طرف انفرادی حیثیت سے ہم اسلام کے سماجی انقلاب کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں اور دوسری طرف حکومت کے سارے ذرائع اخلاق کے بگاڑنے اور فسق و فجور پھیلانے میںلگے رہیں۔(سیّد مودودی، رسائل و مسائل، چہارم، ص ۱۷۹-۱۸۸)
جمہوریت کو آج کل ایک بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظامِ سیاست کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بہت بڑی حد تک جمہوری اصولوں پر مبنی ہے۔ مگر میری نگاہ میں جمہوریت کے بعض نقائص ایسے ہیں جن کے متعلق میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ اسلام انھیں کس طرح دُور کرسکتا ہے۔ وہ نقائص درج ذیل ہیں:
آپ رہنمائی فرمائیں کہ آپ کے خیال میں اسلام اپنے جمہوری ادارات میں ان خرابیوں کو راہ پانے سے کیسے روکے گا؟
آپ نے جمہوریت کے بارے میں جو تنقید کی ہے اس کے تمام نکات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اس مسئلے میں آخری راے قائم کرنے سے پہلے چند اور نکات کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔
اوّلین سوال یہ ہے کہ انسانی معاملات کو چلانے کے لیے اصولاً کون سا طریقہ صحیح ہے؟ آیا یہ کہ وہ معاملات جن لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں،ان کی مرضی سے سربراہِ کار مقرر کیے جائیں اور وہ ان کے مشورے اور رضامندی سے معاملات چلائیں اور جب تک ان کا اعتماد سربراہ کاروں کو حاصل رہے اسی وقت تک وہ سربراہِ کار رہیں؟یا یہ کہ کوئی شخص یا گروہ خود سربراہِ کار بن بیٹھے اور اپنی مرضی سے معاملات چلائے اور اس کے تقرر اور علیحدگی اور کارپردازی میں سے کسی چیز میں بھی ان لوگوں کی مرضی و راے کا کوئی دخل نہ ہو جن کے معاملات وہ چلا رہا ہو؟ اگر ان میں سے پہلی صورت ہی صحیح اور مبنی برانصاف ہے تو ہمارے لیے دوسری صورت کی طرف جانے کا راستہ پہلے ہی قدم پر بند ہوجانا چاہیے، اور ساری بحث اس پر ہونی چاہیے کہ پہلی صورت کو عمل میں لانے کا زیادہ سے زیادہ بہتر طریقہ کیا ہے۔
دوسری بات جو نگاہ میں رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ جمہوریت کے اصول کو عمل میں لانے کی جو بے شمارشکلیں مختلف زمانوں میں اختیار کی گئی ہیں یا تجویز کی گئی ہیں،ان کی تفصیلات سے قطع نظر کرکے انھیں صرف اس لحاظ سے جانچا اور پرکھا جائے کہ جمہوریت کے اصول اور مقصد کو پورا کرنے میں وہ کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں، تو کوتاہی کے بنیادی اسباب صرف تین ہی پائے جاتے ہیں۔
اگر مندرجہ بالا تینوں اسباب فراہم ہوجائیں تو جمہوریت پر عمل درآمد کی مشینری خواہ کسی طرح کی بنائی جائے، وہ کامیابی کے ساتھ چل سکتی ہے۔ اور اس مشینری میں کسی جگہ کوئی قباحت محسوس ہو تو اس کی اصلاح کرکے بہتر مشینری بھی بنائی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد اصلاح و ارتقا کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ جمہوریت کو تجربے کا موقع ملے۔ تجربات سے بتدریج ایک ناقص مشینری بہتر اور کامل تر بنتی چلی جائے گی۔ (ایضاً، ص ۲۷۹-۲۸۳)
سورئہ احزاب آیت نمبر۵ کے حوالے سے قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل سوالوں کے جواب مطلوب ہیں:
انسانوں میں اختلافِ فہم موجود ہے۔ صحابہ کرامؓ میں بھی تھا اور اس کا مظاہرہ متعدد مواقع پر ہوا۔ اختلافِ فہم ، لفظی یا معنوی لحاظ سے تفسیرقرآن میں بھی ہوا۔ متعدد انتظامی اُمور میں بھی اختلافِ فہم رُونما ہوا۔ مصنف کے خیال میں یہ اختلافاتِ صحابہؓ فکرِ انسانی کی آزادی کے حق کو تسلیم کر کے معاشرے میں بہتری کی صورت پیدا کرنے کے مترادف تھے۔ اس اختلاف کی اجازت فطرتِ الٰہی نے دی تھی۔ نیز اس کی سہولت خود حضور اکرمؐ نے بھی عطا کی تھی۔ (ص۶)
حضور اکرمؐ کی راے سے صحابہ کرامؓ کی مختلف راے متعدد مواقع پر رُونما ہوئی۔ غزوئہ بدر سے پہلے مکہ کے قریشی لشکر سے مقابلہ کرنے کے معاملے میں بعض صحابہؓ تذبذب میں تھے اور جنگ کے خلاف تھے۔ میدانِ بدر میں اسلامی لشکر کے پڑائو کے لیے جگہ کے انتخاب میں اختلاف فہم کی بناپر فنِ جنگ کے ماہر حباب بن منذر کی راے قبول کرلی گئی۔ غزوئہ اُحد میں دَرّے میں مقررکیے گئے تیرانداز دستے کے افراد میں اختلافِ فہم ہوا جس کے نتیجے میں ۱۰؍ تیرانداز دَرّے میں موجود رہے۔ باقی لوگ فتح حاصل ہوجانے کا گمان کرتے ہوئے مالِ غنیمت حاصل کرنے کی خاطر اپنی جگہ چھوڑ گئے۔ خالد بن ولید نے اسی دَرّے سے حملہ کر کے مسلمانوں کی فتح کو بُری طرح متاثر کیا۔(ص۱۷)
صحابہ کرامؓ کا آپس میں بھی اختلافِ فہم کا مظاہرہ ہوا۔حضرت خالدؓ بن ولید نے قبیلہ بنوجذیمہ کے بعض افراد کو قتل کردیا تھا ، ان میں مسلمان بھی تھے۔ مقتول مسلمانوں کے عزیزوں نے حضوراکرمؐ سے شکایت کی تو آپؐ نے بیت المال سے مقتولوں کی دیت ادا کی۔
حضور اکرمؐ کو اللہ تعالیٰ نے’شارع‘ کا درجہ عطا فرمایا ہے۔ آپؐ نے جن معاملات میں صحابہ کرامؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور دیگر افراد میں رفع اختلاف کے لحاظ سے جو راے دی، صحابہ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ نے اسے دل و جان سے قبول کرلیا۔ یہ لوگ اپنی راے سے دست بردار ہوگئے۔ یوں ہمیں اسوۂ نبویؐ سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے معاملات میں اختلافی صورت پیدا ہوجانے میں اسوئہ نبویؐ کو سامنے رکھتے ہوئے اختلاف ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کتاب کے مبحث اول میں رسولِ اکرم سے صحابہ کرامؓ کے اختلافات میں مالی اُمور، معاشرتی معاملات، انتظامی معاملات اور فقہی اختلافات کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ ازواجِ مطہرات کے حوالے سے رسول اکرمؐ سے ان سے اختلافِ فہم کی مثالیں دی ہیں اور باہمی اختلافات کے تذکرے میں صلح صفائی اور اختلاف رفع کرنے کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔مبحث دوم میں عہدنبویؐ میں صحابہ کے باہمی اختلافات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی، ازدواجی، معاشی، اقتصادی، سیاسی اور فوجی معاملات میں اختلافات کی تحقیق کی گئی ہے۔ ان تمام اختلافات میں حضوراکرمؐ ان کی اصلاح کرتے اور اختلافات کا ازالہ فرما دیتے تھے کہ اس کام کے لیے آپؐ مامور تھے(ص ۱۷۶)۔ غیرمنصوص معاملات میں اگر قطعی کوئی حکم جاری فرما دیتے تو صحابہ کرامؓ بلاچوں و چرا اس پر عمل کرلیتے تھے اور اگر نبیؐ کی طرف سے کوئی حکم قطعی نہ تھا تو اپنی راے و فکر اور آزادیِ خیال و عمل کو راہنما بناتے تھے (ص ۱۷۹)۔ حضور اکرمؐ کے عہد میں یہ اختلافات اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے تمام صحابہ کرامؓ بنیانِ مرصوص بن کر رہے۔ تحمل، بُردباری اور برداشت کا مادہ پختہ ہوا۔ یہی حضوراکرمؐ کے بہترین معاشرے کا طرئہ امتیاز ہے۔ اختلافات کی پیدایش اور ان کا ازالہ دوطرفہ حقوق کی پاس داری میں ممکن تھا۔
امید ہے اس کتاب کے مطالعے سے اختلاف راے کی صورت میں تحمل و برداشت کی صفات پیدا ہوں گی۔ (ظفرحجازی)
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیا و رُسل کو مبعوث کیا۔ ان میں سے بعض کے حالات وضاحت سے قرآن میں ذکر کیے گئے ہیں اور بعض کے حالات بہت مختصر ہیں۔ حضور اکرمؐ اللہ کے آخری نبیؐ ہیں اور آپؐ کی تعلیمات چوں کہ تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے قرآنِ مجید میں آپؐ کے متعلق تفصیلاً بتایا گیا ہے کہ آپؐ کی بعثت کی غایت کیا ہے۔ آپؐ کے مخالفین نے قبولِ حق سے کیوں انکار کیا اور کس کس طرح سے دعوتِ دین میں رکاوٹیں ڈالیں۔ آپؐ کی حیاتِ طیبہ کا گوشہ گوشہ آج بھی اسی طرح منور ہے جس طرح بعثت کے وقت روشن تھا۔ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں رسولِ اکرمؐ کے حالات و تعلیمات نہایت احتیاط سے جمع کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود غیرمسلم قوموں نے حضور اکرمؐ پر اعتراضات کیے اور آپؐ کی تعلیمات کوجھٹلایا۔ حضوراکرمؐ کے عہد میں کفار اور مشرکین نے بھی طرح طرح کے الزامات عائد کیے تھے اور مخالفت کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
زیرتبصرہ کتاب میں معاندین اسلام کی ریشہ دوانیوں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ۱۱؍ابواب میں مستشرقین کے مختلف اعتراضات کا متعدد عنوانات کے تحت جواب دیا گیاہے۔ پہلے باب میں حضور اکرمؐ پراعتراضات کا تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں وحی کی کیفیت نزول پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضور اکرمؐ کے زمانے میں ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ قرآنِ مجید حضور اکرمؐ کی اپنی تصنیف ہے، جب کہ دنیا بھر کے اہلِ علم کے لیے قرآنِ مجید کا یہ چیلنج آج بھی موجود ہے کہ تمھیں اگر قرآنِ مجید کے منزل من اللہ ہونے میں کچھ شک ہے تو تم بھی ایسی کوئی ایک ہی سورت بنالائو (البقرہ ۲:۲۳)۔ اپنے عجز کے باوجود یہ اعتراض آج بھی دہرایا جاتا ہے۔ اس اعتراض کا مدلل جواب دیا گیا ہے۔ معجزاتِ نبویؐ کا انکار آج کے دور کا بڑا فتنہ ہے۔ دین کو عقل پر پرکھنے کے مدعی ہر ایسی بات کا انکار کردیتے ہیں جو ان کی عقل میں نہ آئے یا حواسِ خمسہ سے معلوم نہ کی جاسکے۔ ان اعتراضات کا بھی شافی جواب دیا گیا ہے۔ معراجِ نبویؐ کی حقیقت، تعلیماتِ نبویؐ پر مسیحیت کے اثرات، غزواتِ نبویؐ کے محرکات، تعدد ازدواج اور نکاح زینبؓ پر اعتراضات کے بھی تحقیقی اور علمی جوابات دیے گئے ہیں۔ غرض اس کتاب میں سیرت النبیؐ پر ان تمام بڑے بڑے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جس نے آج کے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو دین کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کیا اور بعدازاں انکار و اعراض کی راہ پر ڈال دیا۔ مصنف نے علمی، تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر سے مدلّل جواب دیے ہیں جو یقینا اہلِ علم کو اپیل کریں گے۔ سیرت النبیؐ پر مستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں پر جو کتابیں تصنیف کی گئی ہیں،یہ کتاب ان میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔(ظفرحجازی)
سورۃ الفاتحہ کی متعدد تفاسیر لکھی گئی ہیں۔ ہر مفسر نے اپنے اپنے انداز میں قرآن کی غواصی کی ہے۔ مولانا فاروق احمد نے تحریکِ اسلامی کے کارکنان کو قرآن سے وابستہ کرنے کے لیے الفاتحہ کی عام فہم اور سادہ زبان میں تشریح کی ہے۔ اس مختصر سی کتاب میں سورۃ الفاتحہ کی تفسیر، معنی و مفہوم، الفاظ کی تشریح اور آمین کا مفہوم اور مسنون ہونا وضاحت سے پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں سورئہ فاتحہ کا منفرد انداز میں مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ سورئہ فاتحہ سات آیات پر مشتمل مکی سورت ہے جس کے کُل کلمات ۲۶ ہیں، جب کہ قرآن مجید کے کُل کلمات کی تعداد ۸۰ہزار ہے۔ قرآنِ مجید میں سورئہ فاتحہ میں آنے والے الفاظ کا بار بار اعادہ ہوتا ہے۔ سورئہ فاتحہ کے کلمات اور الفاظ کو ذہن نشین کرنے کے نتیجے میں تقریباً ۴۰ہزار الفاظِ قرآنی پر دسترس حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کی تفصیل کتاب میں دی گئی ہے۔ تھوڑی سی مشق سے قرآنِ حکیم کے معانی و مفہوم کو آسانی کے ساتھ جانا جاسکتا ہے۔(عمران ظہور غازی)
حیا محض اسلامی شعار ہی نہیں ہے بلکہ ان اقدار میں سے ہے جو قوموں کے عروج و زوال میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ سید مودودی نے اپنی معرکہ آرا کتاب پردہ میں مغرب کی مادہ پرست اور بے حیا تہذیب کس طرح سے معاشرتی اقدار کو تباہ کرتی اور اخلاق کا جنازہ نکالتی ہے، اس کا علمی و تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اس سے حیا اور پردے کے جامع تصور اور معاشرتی انحطاط و انتشار کی اہمیت بخوبی اُجاگر ہوتی ہے۔ عصرِحاضر میں اخلاقی انحطاط مزید کھل کر سامنے آگیا ہے اور مغربی ثقافتی یلغار کے نتیجے میں مسلم ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ایسے میں حیا کے جامع تصور کو اُجاگر کرنے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
زیرتبصرہ کتاب میں ۴۵؍احادیث کی روشنی میں حیا کے جامع تصور کو واضح کیا گیا ہے۔ عفت و پاک دامنی، نکاح، پردہ و غضِ بصر، اُم الخبائث، موسیقی، تشبہہ، اختلاط مرد و زن، بے حیائی کے اثرات اور اسلامی اقدار و معاشرتی روایات کو زیربحث لایا گیا ہے۔ احادیث کی تشریح میں قرآن و حدیث سے استدلال کے ساتھ ساتھ مختصراً عصری مسائل و مباحث بھی بیان کیے گئے ہیں۔ قریبی اعزہ سے پردے کے ضمن میں مولانا مودودی کی راے بھی درج کردی جاتی تو معتدل نقطۂ نظر سامنے آجاتا۔ آخر میں احادیث کے راویوں کا مختصر تذکرہ بھی دیا گیا ہے جس سے صحابہ کرامؓ کی سیرت کے ساتھ ساتھ ان کے قرآن و حدیث سے شغف اور علمی ذوق سے بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ اپنے موضوع پر احادیث کا جامع مجموعہ ہے۔(امجد عباسی)
تاریخ محض کسی قوم کا ماضی ہی نہیں ہوتی بلکہ قوم کے عروج و زوال، ترقی و تنزل، نشیب و فراز اور جدوجہد کے مراحل کی آئینہ بھی ہوتی ہے۔ سوانحی ادب اور نام وَر شخصیات کے تذکرے سے شخصیت کی خدمات کے ساتھ ساتھ اس عہد کی تاریخ اور جدوجہد سے بھی مختصراً آگہی ہوجاتی ہے۔ میربابر مشتاق نے مسلم تاریخ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ۱۰۰؍ اہم شخصیات کے حالات یک جا کردیے ہیں۔ اس طرح کے مطالعوں سے نوجوان نسل میں اپنے ماضی کے بارے میں خوداعتمادی اور احساسِ تفاخر پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مختلف اَدوار مختلف پہلوئوں سے نظر کے سامنے سے گزر جاتے ہیں۔ طرزِتحریر ایسا ہے کہ قاری روانی سے پڑھتا چلا جاتا ہے۔
شخصیات کا انتخاب سات دائروں میں کیا گیا ہے۔ اصحابِ رسولؐ میں خلفاے راشدینؓ، امام حسنؓ، امام حسینؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محدثین و فقہاے اُمت، محقق و مجدد اور مفسر، صوفیا و مصلح، مجاہدین اسلام، سلاطین و قاضی اور سائنس دان و سیاح اس دائرے میں شامل ہیں۔ چند شخصیات: امام ابوحنیفہ، امام غزالی، ابن خلدون، ڈاکٹر حمیداللہ، علامہ محمداقبال، امام خمینی، سیّد مودودی،امام حسن البنا، قاضی حسین احمد، حسن بصری، جنید بغدادی، مولانا محمد الیاس، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا احمد رضاخان بریلوی، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی، عمرمختار، قاضی شریح، ٹیپوسلطان، بوعلی سینا، ابن بطوطہ وغیرہ۔ شخصیات کی ترتیب الف بائی یا ترتیب زمانی کے مطابق ہوتی تو زیادہ بہتر تھا۔ کچھ ناموں کی کمی محسوس ہوتی ہے، تاہم یہ فطری امر ہے کہ اس طرح کے انتخاب میں کچھ نام رہ جائیں۔
اُمت مسلمہ کے شان دار ماضی، تاریخی اَدوار، احیاے اسلام کی جدوجہد اور عہدساز شخصیات سے آگہی، بالخصوص نوجوان نسل کو اپنے مشاہیر اور ہیروز کو جاننے کے لیے اس مفید کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔(محمد ایوب منیر)
مولانا مودودیؒ مختلف اوقات میں متعدد کانفرنسوں میں شرکت کے علاوہ تین بار علاج کے لیے اور ایک بار ارضِ قرآن کے آثار و مقامات کی سیاحت اور تحقیق کے لیے بیرونِ پاکستان سفر پر روانہ ہوئے۔
زیرنظر کتاب میں انھی مواقع پر شائع ہونے والے مختلف اخباری مضمونوں کے ساتھ ساتھ، ان اسفار پر تین مستقل کتابوں کو بھی کتاب کا حصہ بنادیا ہے۔ جن میںپہلے سفردورہ مشرق وسطیٰ (سفرِعرب و حج بیت اللّٰہ) ستمبر ۲۰۱۲ء، منشورات، لاہور، سفر نامہ ارض القرآن از محمدعاصم الحداد، ۱۹۷۰ء (حالیہ اشاعت الفیصل، لاہور) اور سیّد مودودی کا سفرِ عرب، ازخلیل احمد حامدی، ادارہ معارف اسلامی شامل ہیں۔
یہ تینوں کتب مارکیٹ میں موجود ہیں، مگر یہاں پر ان کی شمولیت یاتلخیص کا جواز نہیں دیا گیا (اگر مستقل کتب کو یوں نئی کتب میں شامل کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو اس سے پیچیدگی پیدا ہوگی)۔ بہرحال مولانا مودودی کے ان اسفار میں مقصدیت کا رنگ گہرا ہے، جو دیگر مسافروں کو سبق دیتا ہے کہ زندگی کے لمحے کس طرح ایک اعلیٰ نصب العین کے لیے گزارنے چاہییں۔(سلیم منصور خالد)
شاہراہِ روزگار پر کامیابی کا سفر ، محض ایک کتاب نہیں بلکہ درجنوں کتابوں کا خلاصہ ہے۔ کتاب کے ۲۰ ؍ابواب میں تمام ضروری موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ موضوعات اپنے پڑھنے والے کو جہاں نئے تصورات و خیالات سے آشنا کرتے ہیں وہاں تحرک کا باعث بھی بنتے ہیں۔ موضوعات میں سے چند: ترقی اور کامیابی کے لیے اشارات، شاہراہِ روزگار کے سنگ میل، ملازمت کیسے تلاش کریں؟ انٹرویو بارے ضروری اُمور، کامیاب زندگی کے لیے درکار صلاحیتیں، مثبت رویّے۔ اسی طرح کامیابی کے ۱۰۰؍اُصول،گھریلو زندگی میں کامیابی کے راز، مکاروں اور چال بازوں سے کیسے بچا جائے، اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی پر اللہ سے تعلق کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نیز دعائیں، اذکاراور وظائف کی صورت میں عمدہ لوازمہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ روزگار بارے رہنمائی کا ایک اہم اور عمدہ ذریعہ اور جامع دستاویز ہے۔ اس سلسلے میں دستیاب کتابیں زیادہ تر انگریزی میں ملتی ہیں یا پھر ترجمے ہوتے ہیں۔ تنہا اور گروپ کی صورت میں کتاب کے مطالعے کے لیے بھی رہنمائی دی گئی ہے۔نوجوان نسل کے لیے ایک مفید رہنما کتاب ہے، جب کہ تعمیر سیرت اور کردارسازی کے لیے بھی عمدہ لوازمہ اور غوروفکر کا ساماں ہے۔
کتاب کیا ہے ایک گلدستہ اور خوب صورت دستاویز ہے۔ دیدہ زیب اور بامعنی سرورق کے ساتھ پُرکشش انداز میں پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب بطور تحفہ دینے اور ہرلائبریری کی زینت بننے کے لائق ہے۔(عمران ظہور غازی)
یہ حقیقت کس سے مخفی ہے کہ اسرائیلی ریاست، فلسطین کی ریاست پر قبضہ کر کے قائم کی گئی ہے۔ رون ڈیوڈ سمیت کئی مغربی محققین اسرائیل کے خوف ناک عزائم کے حوالے سے کتابیں یا مضامین تحریر کرچکے ہیں۔ اسرائیل اردگرد کے ممالک خصوصاً سعودی عرب اور عراق پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اُمت کو اس کا احساس ہی نہیں ہے۔ زیرتبصرہ کتاب Arabs and Israel کی تلخیص ہے۔ مترجم نے اہم موضوعات کا خلاصہ دودو، تین تین صفحات میں کردیا ہے۔مصنف نے تاریخی دستاویزات اور حوالوں سے بھی اسرائیل میں یہودیوں کی غیرفطری آمد کا جائزہ لیا ہے۔ یہودیوں نے اردگرد کے ممالک کو دائمی طور پر اپنے تسلط میں لانے کے لیے جو فوجی و غیرفوجی تفصیلی منصوبے تیارکر رکھے ہیں اُس کا سرسری جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ تاہم کچھ مقامات پر غیرمعمولی اختصار اور اصطلاحات کا ترجمہ کھٹکتا ہے۔ مسئلہ فلسطین کو مختصر طور پر سمجھنے کے لیے یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ ترجمہ رواں دواں ہے۔(محمد ایوب منیر)
چراغ حسن حسرت کی ایک کتاب سرکارِ مدینہ اور آپؐ کے خلفاے راشدین پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اپنے تبصرے (اکتوبر ۲۰۱۴ء) میں اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ ناشر نے مصنف کے نام کے ساتھ مولانا کا سابقہ لگا دیا ہے حالانکہ کلین شیوڈ حسرت مولانا تھے نہ اپنی تصانیف پر یہ لفظ لکھتے تھے، نہ خود کو مولانا سمجھتے تھے۔ ہاشمی صاحب نے لفظ ’مولانا‘ پر اپنے ریمارکس دے کر بڑی دل چسپ بحث چھیڑ دی ہے۔ شاید انھیں نہیں معلوم کہ کم و بیش صدی پون صدی پہلے یہ لفظ اہلِ علم و تحقیق کی تکریم کے لیے لکھا اور بولا جاتاتھا۔ اس کے لیے باریش ہونا شرط نہیں تھا۔ محترم غلام رسول مہر بہت بڑے عالم اور محقق تھے.... کلین شیوڈ تھے لیکن مولانا کہلاتے تھے۔ اقلیم ادب کی ایک اور اہم شخصیت صلاح الدین احمد یاد آرہے ہیں۔انگریزی لباس پہنتے اور سر پر سرلا ہیٹ لگاتے تھے۔ اب یہ بتانا ضروری نہیں کہ وہ کلین شیوڈ تھے لیکن مولانا کہلاتے تھے۔ ’ادبی دنیا‘ کی پیشانی پر ان کے نام کے ساتھ مولانا لکھا جاتا تھا۔ اخباری دنیا کی اہم شخصیت عبدالمجید سالک معروف معنوں میں مولانا نہ تھے لیکن صحافت میں اپنے مقام و مرتبے کے سبب وہ بھی مولانا کہلاتے تھے اگرچہ باریش نہ تھے، بھنویں تک منڈواتے تھے لیکن اپنے تبحرعلمی کی وجہ سے مولانا مشہور تھے۔ اب ان کے نام کے ساتھ مولانا نہ لکھا جائے تو ان کی شخصیت احاطۂ اِدراک میں نہیں آسکتی۔
چراغ حسن حسرت اپنی علمیت کے باوجود جس ذوق کے اسیر تھے اسے دیکھتے ہوئے ایک خالص مذہبی کتاب کا ان کے قلم سے نکلنا انتہائی حیرت کی بات ہے۔ ان کا علمی ذوق خالصتاً ادبی تھا۔ اس میں مذہب کی چاشنی سرے سے تھی نہیں۔ مجھے شبہہ ہے کہ مذکورہ کتاب کسی اور کا شاہکار ہے جسے مولانا چراغ حسرت کے نام منڈھ دیا گیا ہے۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کی پستی اور ناکامی کا سبب کیا ہے؟ ’فرض آپ کو پکار رہا ہے!‘‘ (اکتوبر ۲۰۱۴ء) نے اس سوال کا بہترین حل اور مثبت جواب پیش کیا ہے۔ جتنا اسلام کو نقصان دشمنانِ دین نے پہنچایا ہے یا پہنچا رہے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ نقصان اسلام اور نظامِ خلافت کو ان لوگوں نے پہنچایا ہے جو اسلام کا ناقص تصور دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو مسجدوں، مدرسوں اور عبادت گاہوں تک محدود کر کے رہبانیت کا درس دیتے ہیں۔ اسلام کے اس ناقص تصور کی وجہ سے آج دنیا کی امامت اور اقتدار اسلام کے دشمنوں اور خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں ہے۔
عالمی ترجمان القرآن دنیا بھر کے مسلمانوں کی آواز ہے جس نے ہر دور میں حق اور سچ کا ساتھ دیا۔ ’جھوٹ اور بنگلہ دیش حکومت ساتھ ساتھ‘(اکتوبر ۲۰۱۴ء) سلیم منصور خالد صاحب کا مضمون انتہائی فکرانگیز اور معلومات سے بھرپور ہے اور جس سے بنگلہ دیش حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ دراصل حسینہ واجد اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو قابلِ مذمت ہے۔ تحریر میں اتنی روانی، سلاست اور دل چسپی ہے کہ میں نے تین بار پڑھا، خاص کر عبدالکریم خوندکر نے شیخ مجیب الرحمن کی۷مارچ ۱۹۷۱ء کے تقریر کا حوالہ دے کر تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔
قانون کی اساس اگر دین اور شریعت پر رکھی جائے تو اس سے قوانین کے اندر ایک اور خوبی اور خصوصیت ایسی پیدا ہوجاتی ہے جو عام لادینی وضعی قوانین کے اندر کبھی بھی پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ خصوصیت معاملات کی حلّت و حُرمت اور جواز و عدمِ جواز کا وہ دینی تصور ہے جو ان سے کبھی جدا نہیں ہوسکتا۔مثال کے طور پر ایک قاضی اگر ظاہری بیانات و شہادات کو دیکھ کر کسی فریق کو اُس کے جائز حق سے زائد یا اُس سے علاوہ کچھ دلا دیتا ہے تو فی الحقیقت اُس فریق کے لیے یہ ناجائز فائدہ ہرگز جائز اور حلال نہیں ہوجاتا۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے بھی ایک مرتبہ ایسا ارشاد فرمایا تھا کہ اگر تم میں دو فریق میرے سامنے کوئی قضیہ پیش کریں تو ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی زیادہ چرب زبان ہو اور مَیں اس کی باتوں کی بناپر اُسے غیر کا حق دلا دوں لیکن یہ چیز اُس شخص کے لیے عذاب کی موجب ہوگی۔ اس میں شک نہیں کہ اسلامی قانون پر مبنی عدالتیں بھی فیصلہ ظاہر حالات ہی پر کریں گی، لیکن جن لوگوں پر قانون کا اطلاق اور نفاذ ہوتا ہے، ان کے حق میں قوانین و احکام کا باطنی ، اخلاقی اور دینی پہلو کالعدم نہیں ہوجاتا۔ اس لیے اگر وہ سچے مسلمان ہیں تو قانون کی روح کے بھی خلاف جانے اور اُس سے ناروا استفادہ کرنے سے وہ ہمیشہ سختی سے پرہیز کریں گے۔ عام دنیوی قوانین کے ظاہر کی آڑ میں ان قوانین کے اصل منشا کو ناکام بنانے کی کوششوں سے جو تکلیف دہ صورتِ حال عام معاشروں میں پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ صورتِ حال ایک صحیح اسلامی معاشرے میں اسلامی قانون کے نفاذ کے وقت کبھی رُونما نہیں ہوسکتی.....
اس طرح سے قانون کے سارے ڈھانچے پر ایک دینی اور روحانی رنگ غالب آجاتا ہے اور اُسے ایک ایسا احترام ، وقار اور تقدس حاصل ہوجاتا ہے جو انسانی قوانین کے کسی مجموعے کو نصیب ہونا ممکن ہے۔ اسلامی قانون کی حکمرانی فقط جسم کے اعضا وجوارح پر نہیں ہوتی، بلکہ اُس کی اصل حکومت دل اور دماغ پر ہوتی ہے۔ اس صورت میں اس چیز کی ضرورت بہت کم رہ جاتی ہے کہ قانون کی ظاہری طاقت انسان کو ہروقت اطاعت و تسلیم پر مجبور کرتی رہے۔ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی موقع اگر پیدا ہوتا بھی ہے تو اُسے غنیمت سمجھ کر استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ محض خدا سے ڈر کر نفس کو اتباعِ ہویٰ سے روک لیا جاتا ہے۔(کیا قانونِ ملکی کی بنا دین پر رکھنا مضر ہے؟ شیخ مصطفی احمد الزرقا الشامی، ترجمان القرآن، جلد۴۳، عدد۲، صفر۱۳۷۴ھ ، نومبر ۱۹۵۴ء، ص۴۴-۴۵)