مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۱۸

سوال: جمہوریت کو آج کل ایک بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظامِ سیاست کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بڑی حد تک جمہوری اصولوں پر مبنی ہے۔ مگر میری نگاہ میں جمہوریت کے بعض نقائص ایسے ہیں جن کے متعلق مَیں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ اسلام انھیں کس طرح دُور کرسکتا ہے؟ وہ نقائص درج ذیل ہیں:

۱- دوسرے سیاسی نظاموں کی طرح جمہوریت میں بھی عملاًآخرکار اقتدار جمہور کے ہاتھوں سے چھن کر او ر چند افراد میں مرتکز ہوکر جنگ زرگری کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور امرا کی حکومت (Plutocracy) یا Oligarchy کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔  اس کا کیا حل ممکن ہے؟

۲- عوام کے متنوع اور متضاد مفادات کی بیک وقت رعایت ملحوظ رکھنا نفسیاتی طور پر ایک بڑا مشکل کام ہے۔ جمہوریت اس عوامی ذمہ داری سے کس شکل میں عہدہ برآ ہوسکتی ہے؟

۳- عوام کی اکثریت جاہل، سادہ لوح،بے حس اور شخصیت پرست ہے، اور خود غرض عناصر انھیں برابر گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں نیابتی اور جمہوری ادارات کے لیے کامیابی سے کام کرنا بڑا دشوار ہے۔

۴- عوام کی تائید سے جو انتخابی اور نمایندہ مجالس وجود میں آتی ہیں، ان کے ارکان کی تعداد اچھی خاصی ہوتی ہے اور ان کے مابین باہمی بحث و مشاورت اور آخری فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ آپ کے خیال میں اسلام اپنے جمہوری ادارات میں ان خرابیوں کو راہ پانے سے کیسے روکے گا؟

جواب :آپ نے جمہوریت کے بارے میں جو تنقید کی ہے اس کے تمام نکات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اس مسئلے میں آخری راے قائم کرنے سے پہلے چند اور نکات کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔

اوّلین سوال یہ ہے کہ انسانی معاملات کو چلانے کے لیے اصولاً کون سا طریقہ صحیح ہے؟ آیا یہ کہ وہ معاملات جن لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی مرضی سے سربراہ کار مقرر کیے جائیں اور و ہ ان کے مشورے اور رضامندی سے معاملات چلائیں اور جب تک ان کا اعتماد سربراہ کاروں کو حاصل رہے اسی وقت تک وہ سربراہِ کار رہیں؟ یا یہ کہ کوئی شخص یا گروہ خود سربراہِ کار بن بیٹھے اور اپنی مرضی سے معاملات چلائے اور اس کے تقرر اور علیحدگی اور کارپردازی میں سے کسی چیز میں بھی ان لوگوں کی مرضی و راے کا کوئی دخل نہ ہو جن کے معاملات وہ چلا رہا ہو؟ اگر ان میں سے پہلی صورت ہی صحیح اور مبنی برانصاف ہے تو ہمارے لیے دوسری صورت کی طرف جانے کا راستہ پہلے ہی قدم پر بند ہوجانا چاہیے، اور ساری بحث اس پر ہونی چاہیے کہ پہلی صورت کو عمل میں لانے کا زیادہ سے زیادہ بہتر طریقہ کیا ہے۔

دوسری بات جو نگاہ میں رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ جمہوریت کے اصول کو عمل میں لانے کی جو بے شمار شکلیں مختلف زمانوں میں اختیار کی گئی ہیں یا تجویز کی گئی ہیں ، ان کی تفصیلات سے قطع نظر کرکے اگر انھیں صرف اس لحاظ سے جانچا اور پرکھا جائے کہ جمہوریت کے اصول اور مقصد کو پورا کرنے میں وہ کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں، تو کوتاہی کے بنیادی اسباب صرف تین ہی پائے جاتے ہیں۔

اوّل یہ کہ ’جمہور‘ کو مختارِ مطلق اور حاکمِ مطلق (sovereign) فرض کرلیا گیا اور اس بناپر جمہوریت کو مطلق العنان بنانے کی کوشش کی گئی۔ حالاں کہ جب بجاے خود انسان ہی اس کائنات میں مختارِ مطلق نہیں ہے تو انسانوں پر مشتمل کوئی جمہور کیسے حاکمیت کا اہل ہوسکتا ہے۔ اسی بناپر  مطلق العنان جمہوریت قائم کرنے کی کوشش آخرکار جس چیز پر ختم ہوتی رہی ہے وہ جمہور پر چند آدمیوں کی عملی حاکمیت ہے۔ اسلام پہلے ہی قدم پر اس کا صحیح علاج کردیتا ہے۔ وہ جمہوریت کو ایک ایسے بنیادی قانون کا پابند بناتا ہے جو کائنات کے اصل حاکم (sovereign) نے مقرر کیا ہے۔ اس قانون کی پابندی جمہور اور اس کے سربراہ کاروں کو لازماً کرنی پڑتی ہے اور اس بنا پر وہ مطلق العنانی سرے سے پیدا ہی نہیں ہونے پاتی جو بالآخر جمہوریت کی ناکامی کا اصل سبب بنتی ہے۔

 دوم یہ کہ کوئی جمہوریت اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک عوام میں اس کا بوجھ سہارنے کے لائق شعور اور مناسب اخلاق نہ ہوں۔ اسلام اسی لیے عام مسلمانوں کی فرداً فرداً تعلیم اور اخلاقی تربیت پر زور دیتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ ایک ایک فرد مسلمان میں ایمان اور احساسِ ذمہ داری اور اسلام کے بنیادی احکام کا اور ان کی پابندی کا ارادہ پیدا ہو۔ یہ چیز جتنی کم ہوگی جمہوریت کی کامیابی کے امکانات کم ہوں گے اور یہ جتنی زیادہ ہوگی امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔

سوم یہ کہ جمہوریت کے کامیابی کے ساتھ چلنے کا انحصار ایک بیدار مضبوط راے عام پر ہے اور اس طرح کی راے عام اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرہ اچھے افراد پر مشتمل ہو، ان افراد کو صالح بنیادوں پر ایک اجتماعی نظام میں منسلک کیا گیا ہو، اور اس اجتماعی نظام میں اتنی طاقت موجود ہو کہ بُرائی اور بُرے اس میں نہ پھل پھول سکیں اور نیکی اور نیک لوگ ہی اس میں اُبھر سکیں۔ اسلام نے اس کے لیے بھی ہم کو تمام ضروری ہدایات دے دی ہیں۔

اگر مندرجہ بالا تینوں اسباب فراہم ہوجائیں تو جمہوریت پر عمل درآمد کی مشینری خواہ کسی طرح کی بنائی جائے،وہ کامیابی کے ساتھ چل سکتی ہے اور اس مشینری میں کسی جگہ کوئی قباحت محسوس ہو تو اس کی اصلاح کرکے بہتر مشینری بھی بنائی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد اصلاح و ارتقا کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ جمہوریت کو تجربے کا موقع ملے۔ تجربات سے بتدریج ایک ناقص مشینری بہتر اور کامل تر بنتی چلی جائے گی۔(سیّد مودودی، رسائل و مسائل ،چہارم، ص ۲۷۹- ۲۸۳)


کش مکش حق و باطل اور اُس کی حقیقت

سوال : ایک عرصے سے ایک اُلجھن میں مبتلا ہوں کہ عہد ِ نبویؐ و خلافت ِ راشدہ کو چھوڑ کر آج کی تاریخ تک مسلمانوں کا وہ گروہ ہمیشہ ناکام کیوں ہوتا چلا آرہا ہے، جس نے دین و ایمان کے تقاضے ٹھیک ٹھیک پورے کرنے کی کوشش کی ہے؟سوال یہ ہے کہ  وہ ’دین‘ جو دُنیاوی زندگی کو درست کرنے کے لیے نازل ہوا ہے، جس کا سارے کا سارا ضابطہ دُنیوی زندگی میں عمل کرنے کے لیے ہے، جسے غالب کرنے کے لیے کئی خدا کے بندے اپنی زندگیاں ختم اور کئی وقف کرچکے ہیں، غالب کیوں نہ آسکا؟ اور دنیا کی غالب آبادی ’دین اسلام‘ کی برکتوں سے عام طور پر کیوں محروم رہی ہے؟ خلقِ خدا کی عظیم الشان اکثریت چند مٹھی بھر زبردستوں کے ظلم و ستم کیوں سہتی چلی آرہی ہے؟ معاشی بے انصافی، تنگ دستی اور اذیتوں کی دردناک صورتوں سے کیوں دوچار ہے؟ اور امن و سلامتی قائم کرنے والا دینِ حق اور اس کے نام لیوا کمزوروں، بے بسوں، مجبوروں اور معذوروں کا سہارا بننے میں کیوں کامیاب نہیں ہوتے؟

جواب :آپ جس اُلجھن میں مبتلا ہیں وہ بآسانی حل ہوسکتی ہے اگر آپ ایک مرتبہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتخاب اور ارادہ کی آزادی بخشی ہے، اور اسی آزادی کے استعمال میں اُس کا امتحان ہے۔ اس حقیقت کو اگر آپ ذہن نشین کرلیں تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ کسی ملک یا قوم یا زمانے کے انسانوں میں اگر کوئی دعوتِ باطل فروغ پاتی ہے ، یا کوئی نظامِ باطل غالب رہتا ہے، تو یہ اُس دعوت اور اُس نظام کی کامیابی نہیں بلکہ اُن انسانوں کی ناکامی ہے جن کے اندر ایک باطل دعوت یا نظام نے عروج پایا۔ اسی طرح دعوتِ حق اور اس کے لیے کام کرنے والے اگر اپنی حد تک صحیح طریقے سے اصلاح کی کوشش کرتے رہیں اور نظامِ حق قائم نہ ہوسکے، تو یہ نظامِ حق اور اس کے لیے کام کرنے والوں کی ناکامی نہیں بلکہ ان انسانوں ہی کی ناکامی ہے جن کے معاشرے میں صداقت پروان نہ چڑھ سکی اور بدی ہی پھلتی پھولتی رہی۔ دُنیا میں حق اور باطل کی کش مکش بجاے خود ایک امتحان ہے، اور اس امتحان کا آخری نتیجہ اِس دُنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں نکلنا ہے۔ اگر دُنیا کے انسانوں کی عظیم اکثریت نے کسی قوم یا ساری دنیا ہی میں حق کو نہ مانا اور باطل کو قبول کرلیا، تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حق ناکام اور باطل کامیاب ہوگیا، بلکہ اس کے معنی دراصل یہ ہیں کہ انسانوں کی عظیم اکثریت اپنے رب کے امتحان میں ناکام ہوگئی جس کا بدترین نتیجہ وہ آخرت میں دیکھے گی۔ بخلاف اس کے  وہ اقلیت جو باطل کے مقابلے میں حق پر جمی رہی اور جس نے حق کو سربلند کرنے کے لیے جان و مال کی بازی لگا دی، اس امتحان میں کامیاب ہوگئی اور آخرت میں وہ بھی اپنی اِس کامیابی کا بہترین نتیجہ دیکھ لے گی۔ یہی بات ہے جو نوعِ انسانی کو زمین پر اُتارتے وقت اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتادی تھی: فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِــعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۳۸ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۝۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝۳۹ۧ  (البقرہ ۲: ۳۸-۳۹) ’’پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا، اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔

اس حقیقت کو آپ جان لیں تو یہ بات بھی آپ کی سمجھ میں بخوبی آسکتی ہے کہ اہلِ حق کی اصل ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ باطل کو مٹادیں اور حق کو اس کی جگہ قائم کردیں بلکہ ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی حد تک باطل کو مٹانے اور حق کو غالب و سربلند کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ صحیح اور مناسب و کارگر طریقوں سے کوشش کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ یہی کوشش خدا کی نگاہ میں ان کی کامیابی و ناکامی کا اصل معیار ہے۔ اس میں اگر ان کی طرف سے دانستہ کوئی کوتاہی نہ ہو تو خدا کے ہاں وہ کامیاب ہیں، خواہ دنیا میں باطل کا غلبہ ان کے ہٹائے نہ ہٹے اور شیطان کی پارٹی کا زور  اُن کے توڑے نہ ٹوٹ سکے۔

بسااوقات آدمی کے ذہن میں یہ اُلجھن بھی پیدا ہوتی ہے کہ جب یہ دین خدا کی طرف سے ہے، اور اس کے لیے کوشش کرنے والے خدا کا کام کرتے ہیں، اور اس دین کے خلاف کام کرنے والے دراصل خدا سے بغاوت کرتے ہیں، تو باغیوں کو غلبہ کیوں حاصل ہوجاتا ہے اور وفاداروں پر ظلم کیوں ہوتا ہے؟ لیکن اُوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے آپ اس سوال کا جواب بھی خود پاسکتے ہیں۔ درحقیقت یہ اُس آزادی کا لازمی نتیجہ ہے جو امتحان کی غرض سے انسانوں کو دی گئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ زمین میں صرف اس کی اطاعت و فرماں برداری ہی ہو اور سرے سے کوئی اس کی رضا کے خلاف کام نہ کرسکے تو وہ تمام انسانوں کو اُسی طرح مطیعِ فرمان پیدا کر دیتا جس طرح جانور اور درخت اور دریا اور پہاڑ مطیعِ فرمان ہیں۔ مگر اس صورت میں نہ امتحان کا کوئی موقع تھا اور نہ اس میں کامیابی پر کسی کو جنّت دینے اور ناکامی پر کسی کو دوزخ میں ڈالنے کا کوئی سوال پیدا ہوسکتا تھا۔ اس طریقے کو چھوڑ کر جب اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ نوعِ انسانی اور اس کے ایک ایک فرد کا امتحان لے تو اس کے لیے ضروری تھا کہ ان کو انتخاب اور ارادے کی (بقدرِ ضرورتِ امتحان) آزادی عطا فرمائے۔ اور جب اُس نے ان کو یہ آزادی عطا فرما دی تو اب یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُوپر سے مداخلت کرکے زبردستی باغیوں کو ناکام اور وفاداروں کو غالب کردے۔ اس آزادی کے ماحول میں حق اورباطل کے درمیان جو کش مکش برپا ہے اس میں حق کے پیرو، اور باطل کے علَم بردار اور عام انسان (جن میں عام مسلمان بھی شامل ہیں) سب امتحان گاہ میں اپنا اپنا امتحان دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وفاداروں کی ہمت افزائی اور باغیوں کی حوصلہ شکنی ضرور کی جاتی ہے، لیکن ایسی مداخلت نہیں کی جاتی جو امتحان کے مقصد ہی کو فوت کردے۔ حق پرستوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق کو غالب کرنے کے لیے کہاں تک جان لڑاتے ہیں۔ عام انسانوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق کے علَم برداروں کا ساتھ دیتے ہیں یا باطل کے علَم برداروں کا۔ اور باطل پرستوں کا امتحان اس میں ہے کہ وہ حق سے منہ موڑ کر باطل کی حمایت میں کتنی ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں اور حق کی مخالفت میں آخرکار خباثت کی کس حد تک پہنچتے ہیں۔ یہ ایک کھلا مقابلہ ہے جس میں اگر حق اور راستی کے لیے سعی کرنے والے پٹ رہے ہوں تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حق ناکام ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ خاموشی کے ساتھ اپنے دین کی مغلوبی کو دیکھ رہا ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ حق کے لیے کام کرنے والے اللہ کے امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر پارہے، اُن پر ظلم کرنے والے اپنی عاقبت زیادہ سے زیادہ خراب کرتے چلے جارہے ہیں، اور وہ سب لوگ اپنے آپ کو بڑے خطرے میں ڈال رہے ہیں جو اس مقابلے کے دوران میں محض تماشائی بن کر رہے ہوں، یا جنھوں نے حق کا ساتھ دینے سے پہلوتہی کی ہو، یا جنھوں نے باطل کو غالب دیکھ کر اس کا ساتھ دیا ہو۔

یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں وہ اس امتحان سے مستثنیٰ ہیں، یا محض مسلمان کہلایا جانا ہی اس امتحان میں ان کی کامیابی کا ضامن ہے، یا مسلمان قوموں اور آبادیوں میں دین سے انحراف کا فروغ پانا اور کسی فاسقانہ نظام کا غالب رہنا کوئی عجیب معمّا ہے جو حل نہ ہوسکے اور ذہنی اُلجھن کا موجب ہو۔ خدا کی اس کھلی امتحان گاہ میں کافر، مومن، منافق ، عاصی اورمطیع سب ہی ہمیشہ اپنا امتحان دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔ اس میں فیصلہ کُن چیز کوئی زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی کردار ہے۔ اور اس کا نتیجہ بھی مردم شماری کے رجسٹر دیکھ کر نہیں بلکہ ہرشخص کا، ہر گروہ کا اور ہرقوم کا کارنامۂ حیات دیکھ کر ہی ہوگا۔ (رسائل و مسائل ،پنجم، ص ۳۲۶-۳۳۱)

رسولِ رحمتؐ ، مکہ کی وادیوں میں(جلددوم )، حافظ محمد ادریس ۔ ناشر: مکتبہ معارفِ اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ لاہور۔فون: ۳۵۴۳۲۴۷۶-۰۴۲۔ صفحات :۴۶۴۔ قیمت :۴۵۰ روپے۔

جلد اوّل کے تسلسل میں ،زیرِ نظر دوسری جلد سات ابواب پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں ہجرتِ حبشہ (اوّل و دوم )، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت عمر ؓ ،حضرت ابو ذر غفاری ؓ ،حضرت ضماد بن ثعلبہ ؓ ، حضرت طفیل بن عمرو دوسی ؓ کا قبولِ اسلام ، شعبِ ابی طالب ، عام الحزن ، سفرِ طائف ، سفرِ معراج، بیعتِ عقبہ ( اوّ ل ودوم )، ہجرت مدینہ ، مسجد نبوی کی تعمیر، اصحابِ صفّہ ، اذان اور نماز ، نمازِ جمعہ کی فرضیت اور اہمیت ، رمضان کے روزے اور عیدین ، تحویلِ قبلہ اور اسلامی تقویم کے موضوعات پر تحقیق کے ساتھ بات کی گئی ہے۔ہر باب متعدد ضمنی سرخیوں میں منقسم ہے۔ احادیث اور اشعار کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ اقبال اور حفیظ جالندھری کا کلام، اسی طرح نقشے اورکہیں کہیں تصاویر بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ مؤلف نے بتایا ہے کہ پہلی دو جلدیں مکی زندگی کے چند واقعات پر مشتمل ہیں لیکن بعض موضوعات کی مزید وضاحت کے لیے مدنی زندگی کے چند واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

 مکتبہ معارف اسلامی نے کتاب اہتمام سے شائع کی ہے۔ مؤلف کے لیے باعثِ اجر اور کتب سیرت کے اردو ذخیرے میں ایک قابلِ لحاظ اضافہ ہے۔ ( رفیع الدین ہاشمی )


جلووئوں کا نہیں ٹھکانہ ، ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی ۔ ناشر: جہانِ حمد پبلی کیشنز ، نوشین سنٹر ، دوسری منزل ، کمرہ نمبر ۱۹ ، اردو بازار کراچی ۔ صفحات : ۲۹۷۔ قیمت : ۶۰۰ روپے۔

پاکستان ، بھارت اور غیر ممالک میں مقیم دونوں ملکوں کے مسلمانوں پر مشتمل جہانِ اردو سے ہر سال کم وبیش دو تین لاکھ خواتین وحضرات فریضۂ حج ادا کرتے ہوں گے لیکن حج کے سفرنامے سال میں فقط دو یا تین ہی سامنے آتے ہیں۔ اس برس شائع ہونے والے سفر ناموں میں زیرنظر ’ سفرنامہ با تصویر ‘ بہت خوب صورت ہے اور نئی پرانی تصاویر کی شمولیت نے سفرنامے کی خوبیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر سلیس سلطانہ نامور قلم کار ہیں۔ انھوں نے آپ بیتی (مشاہدات) کے تاثرات کے ساتھ ساتھ مناسکِ حج وعمرہ کے بارے میں ہر طرح کی معلومات کے ذریعے قارئین کی رہنمائی بھی کی ہے۔

دراصل یہ ان کے عمرے اور حج کے متعدد اسفار (۱۹۹۳ء، ۱۹۹۵ء،۱۹۹۸ء، ۲۰۰۱ء، ۲۰۰۲ء ، ۲۰۰۶ء ، ۲۰۰۷ء ، ۲۰۰۸ء ، ۲۰۰۹ء ، ۲۰۱۰ء ) کے مشاہدات کا مجموعہ ہے۔   حرمین شریفین کے ایک درجن اسفا ر کے نتیجے میں عمرے اور حج کے فوائد اور مسائل ومشکلات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے اور ایسے پہلوئوں سے بھی واقفیت ہو جاتی ہے جو ایک دو بار سفر کرنے والوں کی نگاہ میں نہیں آتے ۔

کتاب میں جناب نعیم صدیقی اور مظفر وارثی کی نعتیں اور سید نفیس الحسینی کی الواداعی نظم بھی شامل ہے۔ ( رفیع الدین ہاشمی )


جنرل محمد ضیاء الحق ، شخصیت اور کارنامے، ضیاء الاسلام انصاری۔ ناشر: مکتبہ راحت الاسلام، مکان نمبر ۲۶، سٹریٹ نمبر ۴۸،ایف ۸/۴، اسلام آباد ۔ صفحات : ۳۶۵۔ قیمت :۱۲۰۰ روپے ۔

جنرل محمد ضیاء الحق (۵ جولائی ۱۹۷۷ء-۱۷ ؍اگست ۱۹۸۸ء ) ایک فوجی آمر تھے مگر اسلام ، پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کے لیے درد مندانہ جذبات رکھتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ افغانستان میں روسی فوجوں کی شکست اور اسی کے نتیجے میں سویت یونین کا خاتمہ ہے۔  گرم پانیوں تک رسائی روسیوں کا پرانا خواب تھا۔ افغانستان میں فوج کشی اسی خواب (منصوبے) کو رُوبۂ عمل لانے کی ایک کاوش تھی۔سوپر پاور ، سویت یونین کے سامراجی کردار کا بت ضیاء الحق نے توڑا۔

زیر نظر کتاب کے مصنف لکھتے ہیں: ’۱۷ ؍اگست ۱۹۸۸ء کو جب طیارے کے حادثے میں جنرل محمد ضیاء الحق صدر پاکستان اپنے ۲۶ فوجی رفقا اور دیگر افراد کے ساتھ جاں بحق ہو گئے تو پوری دنیا میں کس شدت وجذبات کے ساتھ اس سانحے پر رنج وملال اور غم واندوہ کا اظہار ہو ا تھا کہ دنیا بھر میں فوجی پرچم سرنگوں کر دیے گئے تھے۔ کہیں ایک روز ، کہیں تین روز اور کہیں دس روز تک سوگ منایا گیا۔ پورا عالم اسلام سوگوا ر اور غم گسار تھا۔ اور ۲۰ ؍اگست کو جب جنرل ضیاء الحق کو سپردخاک کیا گیا تو دُنیاکے ۷۰ سے زائد ممالک کے سربراہ بشمول وزیر خارجہ ریاست ہاے متحدہ امریکا ، تدفین کی رسوم میں شرکت کے لیے فیصل مسجد کے زیر سایہ موجود تھے‘۔ (ص ۱۲)

مصنف ایک نام وَر صحافی تھے۔ وہ جنرل کے بہت قریب رہے۔ انھیں شکوہ ہے کہ ’عہدساز شخصیت‘ کے کارناموں کا اعتراف نہیں کیاگیا ۔ یہ کتاب مصنف نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے لکھی ہے۔ زیر نظر، کتاب کا ساتواں نظر ثانی شدہ اڈیشن ہے۔ مصنف کہتے ہیں : ’’میں نے دیانت داری کے ساتھ کوشش کی ہے کہ کوئی خلافِ واقعہ بات شامل نہ ہو، نہ کسی معاملے میں مبالغہ آرائی کی جائے ‘‘ (ص ۲۱)۔ ان کا خیال ہے کہ’’ ضیاء الحق کا چیف آف دی آرمی سٹاف کے عہدے پر مقرر ہونا مشیتِ ایزدی کا ایک خصوصی اعجاز تھا ‘‘ (ص ۲۴۵)۔ اپنے موضوع پر معلومات افزا اور دل چسپ کتاب ہے۔

 بہت سی تصاویر اور دستاویزات بھی شامل ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی )


مولانا عبدالرحیم اشرف ، حیات وخدمات (جلد اوّل)، مرتب : ڈاکٹر زاہد اشرف ۔ ناشر:مکتبہ المنبر، فیصل آباد ۔ ملنے کا پتا:ـ کتاب سرائے اردو بازار لاہور ۔ فون:  ۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ صفحات : ۴۳۲۔ قیمت :درج نہیں ۔

مولانا عبدالرحیم اشرف (م: ۱۹۹۶ء ) غالباً ماچھی گوٹھ کے بعد جماعت اسلامی سے الگ ہو گئے تھے ۔ ان کی بقیہ زندگی تبلیغی ودعوتی ، تعلیمی وتربیتی ، اور طبی سرگرمیوں میں گزری ۔ ان کے لائق فرزند ڈاکٹر زاہد اشرف نے مرحوم کے متعلق مختلف اہل قلم کے طویل ومختصر مضامین ، تاثرات ، پیغامات اور منظومات پر مشتمل زیر نظر مجموعہ شائع کیا ہے جس سے مرحوم کی شخصیت اور خدمات کا بخوبی اندازہ ہو تا ہے ۔ مرتب نے بتایا ہے کہ اس سلسلے کی تین مزید جلدیں شائع ہو ں گی۔

دوسری جلد مولانا عبدالغفار حسن ، مصطفیٰ صادق ، محمد افضل چیمہ ، راجا محمد ظفر الحق وغیرہ کے گیارہ مصاحبوں (انٹرویو) پر مشتمل ہو گی۔ تیسری جلد میں شعبہ ٔ طب سے منسلک حضرات کے مضامین شامل ہوں گے۔ اور چوتھی جلد مرحوم کے اہل خانہ کے تاثرات ومشاہدات پر مبنی تحریروں کا مجموعہ ہو گی۔

کتاب کی طباعت واشاعت سے مرتب کی خوش ذوقی کا اندازہ ہوتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی )


مولانا عبیدا للہ سندھی ودیگر مشاہیر ، علامہ غلام مصطفیٰ قاسمی ، مرتب :محمد شاہد حنیف ۔ ناشر: علامہ غلام مصطفیٰ چیئر، سندھ یونی ورسٹی، جام شورو (سندھ )۔ صفحا ت : ۳۰۲۔ قیمت : ۴۰۰ روپے۔

 علامہ غلام مصطفی قاسمی سند ھ کے نامور عالم تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ کے مدّاح تھے اور عبید اللہ سندھی کو اپنا ’شیخ‘مانتے تھے۔ عبیداللہ سندھی کئی برس روس اور پھر استنبول میں مقیم رہے۔ وہ روس کے اشتراکی اور ترکی کے کمالی انقلاب سے بہت متاثر تھے۔مصنف نے مولانا عبیداللہ سندھی کی ’انقلابی جدوجہد‘ کو اُجاگر کیا ہے۔ ان کے بقول ’’مرحوم کی ساری زندگی سراپا انقلاب تھی‘‘۔(ص۲۹)

قاسمی صاحب کے خیال میں عبیداللہ سندھی کے افکار غلام رسول مہر کے توسّط سے علامہ اقبال تک پہنچے تھے۔ چنانچہ خطبۂ الٰہ آباد میں علامہ نے مفکر علامہ عبیداللہ سندھی کے پروگرام کی بعض اہم باتوں کا بھی ذکر کیا‘‘ (ص۳۰)۔درحقیقت عبیداللہ سندھی کی آنکھیں روسی اشتراکی انقلاب اور ترکی کے کمالی انقلاب سے چند ھیا گئی تھیں۔مولانا مسعود عالم ندوی نے اپنی کتاب مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار وکمالات پر ایک نظر میں بتایا ہے کہ ان کے فلسفے کی معجون میں کچھ زہریلے اجزا بھی موجود ہیں‘‘ مثلاً :اکبر کے دینِ الٰہی کی مدح سرائی، عربی رسم الخط کے بجاے رومن رسم الخط کی ترویج ، نیشلزم پر فخر اور انگریزی لباس پہننے کی تلقین وغیرہ۔

زیر نظر کتاب کے حصہ اوّل میں ان کی شخصیت اور کارناموں پرمصنف کے ۱۵مضامین اور شذرے شامل ہیں۔ دوسرا حصہ ۵۰سے زیادہ قدیم وجدید علما ومشاہیر پر مضامین وشذروں پر مشتمل ہے اور تیسرے حصے میں قاسمی صاحب کی ایک خود نوشت اور چار سفر ناموں کو جمع کیا گیا ہے۔ مرتب نے ایک مفصل اشاریہ بھی ترتیب دیا ہے ۔ زیر نظر کتاب کی ترتیب وتدوین ایک بڑی اہم علمی خدمت ہے۔(رفیع الدین ہاشمی  )

پروفیسر ڈاکٹر سیّد ظاہر شاہ ، پشاور

’اسلامی تحریکیں اور سیاسی مستقبل‘(اگست ۲۰۱۸ء) اسلام اور جاہلیت کی کش مکش کا عمدہ تجزیہ ہے۔  ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے بجا توجہ دلائی ہے کہ: ’’اس معرکہ حق وباطل میں وقتی اتار چڑھائو فطری عمل ہے۔  حق وباطل کی کش مکش میں جہاں بدر ایک زندہ حقیقت ہے وہاں احد و حنین اور موتہ بھی دعوت فکر دیتے ہیں‘‘۔


پروفیسر فاروق حیات ، کروڑ لال عیسن ، لیہ

’اسلامی تحریکیں اور سیاسی مستقبل‘نظر سے گزرا۔ ایک اہم مسئلے کو زیربحث لایا گیا ہے۔ آج اگر نوجوان دینی اور سیاسی وابستگی میں فرق کر رہے ہیں تو اسلامی تحریکوں کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کے جبر کا اندازہ کریں، قومی ریاستوں کے وجود کو محسوس کریں اور مؤثر انداز میں جدوجہد کو جاری رکھیں۔


راجا محمد عاصم ، موہری شریف،کھاریاں

’کتابیں جھانکتی ہیں‘(اگست ۲۰۱۸ء) شاکر احمد فاضل کی تحریر میں موجودہ دور میں قاری کی بے رُخی کو ظاہر کر کے کتابوں کے ساتھ رشتہ جوڑنے کی طرف عمدہ توجہ دلائی گئی ہے ۔ ’حسد سے نجات‘ ڈاکٹر تابش مہدی میں ایک ایسی بُرائی جس میں ہم غیرمحسوس انداز میں مبتلا ہوجاتے ہیں، کی نہ صرف نشان دہی کی گئی ہے، بلکہ اس سے بچنے کا آسان راستہ بھی بتایا گیا ہے۔


محمد امین فہیم ، کنگن پور

’اسلامی تحریکیں اور انسانی وسائل کا نظم وضبط‘ (اگست ۲۰۱۸ء) کے تحت ہلال احمد تانترے نے ایک اہم موضوع پر قلم اُٹھایا ہے اور عصرحاضر کے تقاضوں پر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے مفید تجویز دی ہے کہ اسلامی تحریکوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے اور براہِ راست مشاہدے کے لیے مختلف ممالک میں کارکنان کو کچھ عرصہ گزارنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ اس کے دُور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ ’پرنٹ اور سوشل میڈیا پر تصدیق کی اہمیت‘ (اگست ۲۰۱۸ء) میں تزئین حسن نے سوشل میڈیا کے لیے ضابطۂ اخلاق کے لیے غورطلب نکات پیش کیے ہیں اور بجا توجہ دلائی ہے کہ خبروں کو بغیر تصدیق کے پھیلاناانسانی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، لہٰذا تصدیق، شفافیت اور مواخذہ ناگزیر ہے۔


محمد حسنین   ارساوالا، کراچی

’علم کے سایے میں‘ (جولائی ۲۰۱۸ء) مریم جمیلہ کا انتہائی اہم مضمون ہے۔ معلومات افزا بھی اور دین کی ایک تڑپ بھی! بالخصوص نوجوانوں کے لیے اس میں بہت کچھ سیکھنے کا سامان ہے۔’ترکی اور ملایشیا کے شان دار نتائج‘ (جولائی۲۰۱۸ء) عبدالغفار عزیز کی تحریر ہمیشہ کی طرح عالمی منظرنامے کا ایک اچھا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ ’مغربی فکروفلسفے پر مولانا مودودی کا تبصرہ‘ تو اپنی مثال آپ ہے اور نہایت اہم تحریر ہے۔

’علامہ اقبال کے ہاں ایک شام‘ (اپریل ۲۰۱۸ء) نے تو چار چاند لگا دیے۔ یہ مضمون علامہ اقبال کی ہمہ گیر شخصیت پر ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ مصنّف عمدہ اسلوب میں جامعیت سے بات کہہ گئے۔ شیخ جاوید ایوب صاحب کی تحریر ’تحریک، کارکن اور شعور‘ (اپریل ۲۰۱۸ء) مبنی برحقائق تجزیہ ہے۔ قائدین تحریک کو اس کی روشنی میں جائزہ لینے اور حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔


پروفیسر طارق بٹ ، لاہور

عبیداللہ فہد فلاحی کا مولانا مودودیؒ پر مضمون ’مغربی فکروفلسفے پر مولانا مودودی کا تبصرہ‘ (جولائی ۲۰۱۸ء) اچھا ہے لیکن یکہ طرفہ ہے۔ تحقیق کا تقاضا تھا کہ وہ ان لوگوں کے موقف کا بھی ذکر کرتے جو مولانا کی فکر کے بعض پہلوئوں کو مغرب سے مستفاد سمجھتے ہیں (مثلاً مغربی جمہوریت وغیرہ) اور دلائل سے اس پر بھی بحث کرنا چاہیے تھی۔


سہیل  ، حیدرآباد، بھارت

موجودہ انتخابات میں جہاں تحریک انصاف ایک بڑی جماعت بن کر ابھری ہے وہاں ایم ایم اے کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔متحدہ مجلس عمل میں سب سے زیادہ خسارہ جماعت اسلامی کو ہوا ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت کو آیندہ کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات اور ایک مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جس سے ملک اور قوم کے اندر تبدیلی لائی جا سکے۔غلطیوں سے سبق سیکھنا، نئے تجربات کرنا، میدان میں ڈٹے رہنا اور پیہم جدوجہد ہی کامیابی کی کلید ہے۔

 

تصحیح: ’آپ نماز سمجھ کر کیسے پڑھیں؟‘ (اگست ۲۰۱۸ء) ڈاکٹر محی الدین غازی میں سورئہ فاتحہ کا ترجمہ سہواً ’’ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے انسانوں کا رب ہے‘‘ (ص ۳۱) شائع ہوگیا۔ درست ترجمہ ہے: ’’ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہانوں کا رب ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس لغزش کو معاف فرمائے۔ ادارہ

دوسری دینی جماعتوں کے متعلق میرا نقطۂ نظر ہمیشہ سے یہ رہا ہے، اور میں اس کا اظہار بھی کرتا رہا ہوں کہ جو جس درجے میں بھی اللہ کے دین کی کوئی خدمت کر رہا ہے، بساغنیمت ہے۔

مخالفِ دین تحریکوں کے مقابلے میں دین کا کام کرنے والے سب حقیقت میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اور انھیں ایک دوسرے کو اپنا مددگار سمجھنا چاہیے۔ رقابت کا جذبہ اگر پیدا ہوسکتا ہے تو اسی وقت، جب کہ ہم خدا کے نام پر دکان داری کر رہے ہوں۔ اس صورت میں تو بے شک ہردکان دار یہی چاہے گا کہ میرے سوا اس بازار میں کوئی اور دکان نظر نہ آئے۔ لیکن، اگر ہم یہ دکان داری نہیں کر رہے ہیں، بلکہ اخلاص کے ساتھ خدا کا کام کر رہے ہیں ،تو ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ ہمارے سوا کوئی اور بھی اسی خدا کا کام کر رہا ہے۔ اگر کوئی کلمہ پڑھوا رہا ہے تو وہ بھی بہرحال خدا ہی کی راہ میں ایک خدمت انجام دے رہا ہے، اور اگر کوئی وضو اور غسل کے مسائل بتارہا ہے تو وہ بھی اس راہ کی ایک خدمت ہی کر رہا ہے۔ آخر اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے رقابت کیوں ہو اور ہم ایک دوسرے کی راہ میں روڑے کیوں اٹکائیں؟

 کلماتِ خبیثہ کی اشاعت کرنے والوں کے مقابلے میں تو کلمۂ طیبہ پڑھوانے والا مجھے عزیز تر ہونا چاہیے، اور فسق و فجور پھیلانے والوں کے مقابلے میں احکامِ شرعیہ کی تعلیم دینے والا بھی مجھے محبوب ہی ہونا چاہیے۔ میں نے جماعت ِ اسلامی کے کارکنوں میں بھی ہمیشہ یہی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے خلاف کسی روش کو میں نے کبھی پسند نہیں کیا ہے۔ اگر آپ نے کہیں جماعت میں اس سے مختلف کوئی جذبہ و عمل پایا ہو تو مجھے تعینِ مقام و اشخاص کے ساتھ اس کی خبر دیجیے، تاکہ میں اس کی اصلاح کرسکوں۔([سیّدابوالاعلیٰ مودودی] ترجمان القرآن، جلد۵۰، عدد۶،      محرم ۱۳۷۷ھ/ ستمبر۱۹۵۸ء،ص۶۱)