بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک ہے، جہاں پر مذہب یا اس کا انتخاب کسی شخص کی ذاتی پسندو ناپسند پر منحصر ہے۔ بھارتی آئین کے بنیادی اصولوں کے مطابق حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اسی طرح شہریوں کو مذہب کی تبدیلی کی بھی پوری آزادی کا دعویٰ کیا گیا ہے بشرطیکہ اس میں جبر و لالچ شامل نہ ہو۔ اس کے باوجود تبدیلیِ مذہب کو سخت بنانے اور اس کو کئی پیچیدہ شرائط کے ساتھ تابع کرنے کی غرض سے ملک کی آٹھ صوبائی حکومتوں اڑیسہ، مدھیہ پردیش، اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور جھارکھنڈ نے ابھی تک اسمبلیوں سے باضابطہ قوانین منظور کروائے ہیں۔ ان کا ہدف خاص طور پر دلت ہیں، جن کے متعلق اونچی ذات کے ہندوؤں کو ہمیشہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ وہ کہیں ان کے ظلم و ستم سے تنگ آکر مسلمان یا عیسائی نہ بن جائیں۔ اگرچہ تبدیلیِ مذہب کو بھی ذاتی فعل کے زمرے میں بیان کیا جاتا ہے، لیکن اگر اس کا جواز یہ بتایا جائے کہ موجودہ مذہب میں رہتے ہوئے حکومت سے انصاف ملنے کی اُمید نہیں ہے، تو یہ کسی بھی معاشرے کے لیے ایک نہایت ہی تشویش کن صورت حال قرار دی جاتی ہے۔
حال ہی میں بھارتی دارالحکومت دہلی سے متصل اترپردیش صوبہ کے باغپت ضلع کی تحصیل بڑوت کے بدرکھا گاؤں میں ایک ہی مسلم خاندان کے بیس افراد نے مرتدبن کر ہندو مذہب اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ان افراد نے ایک باضابطہ تقریب میں مذہب تبدیل کرنے کے لیے ایس ڈی ایم کے سامنے مذہب تبدیل کرنے کی عرضی دی تھی۔ اپنے نوجوان بیٹے گلشن عرف گلزار کے قتل کے معاملے میں پولیس کے رویے سے تنگ آکر اخترعلی کے اہل خانہ جس میں سات مرد اور تیرہ خواتین شامل تھیں،انھوں نے ایس ڈی ایم بڑوت کو حلفیہ بیان دے کر اپنی مرضی سے اسلام مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنانے کی اجازت طلب کی تھی۔اس کے اگلے دن ہندو رواج کے مطابق ہوان، بھجن و منتروں کے بعد گائوں کے شیو مندر میں جاکر باقاعدہ اپنا نام اور مذہب تبدیل کرلیا۔ اس دوران ہندو یوا واہنی کے ریاستی صدر شوکیندر کھوکھر اور ضلعی صدر یوگیندر تومر سمیت کئی لوگ بھی موجود تھے۔ہون اور ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیاگیا۔
بتایا جاتا ہے کہ جوگی خاندان کا اختر علی کا بیٹا گلشن علی کپڑے کی تجارت کرتا تھا۔ ماہ جولائی میں گلشن علی کی لاش ان کی ہی دکان میں کھونٹی سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ اہل خانہ کا الزام تھا کہ اس کا قتل کرکے اس کی لاش لٹکا دی گئی تھی، لیکن پولیس کسی تحقیق و تفتیش کے بغیر اس قتل کو خودکشی بتاتی رہی اور خودکشی کا کیس درج کرنے کے بعد جبراً اس کی لاش دفنا دی گئی۔ اس کی شکایت متاثرہ خاندان نے ضلعی اعلیٰ افسران سے کی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ معاملے کی تفتیش پر مامور اے ایس پی راجیش کمار شریواستو نے کہاکہ اہل خانہ نے اپنے ہی ہم مذہبوں سے ناراض ہوکر تبدیلی مذہب کیا ہے،مگر اختر علی اور ان کے اہل خانہ نے راقم کو فون پر بتایا کہ ’’مذہب اسلام میں رہ کر وہ اپنے بیٹے کو انصاف نہیں دلاسکتے کیو ںکہ پولیس شاید ہی کسی مسلمان کی بات سنتی ہے‘‘۔ان کو شکوہ تھا کہ ’’گائوں اور اس کے آس پاس کے مسلمان بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں اور نہ پولیس تعاون کررہی ہے۔ اس لیے ہم لوگوں نے مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حکومت داد رسی کرسکے‘‘۔
۲۰۱۷ء میں اترپریش اسمبلی انتخابات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے احساس ہوا کہ ووٹر بجلی، سٹرک، پانی سے زیادہ انصاف اور دادرسی کوترجیح دے رہا ہے۔ دیوبند کے قریب ایک گائوں میں مجھے بتایا گیا کہ: ’’اگر لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کی حکومت ہے، تو پولیس صرف یادو برادری کی سنتی ہے اور اگر بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی برسراقتدار ہے تو صرف دلت کی شنوائی ہوتی ہے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ موجود دور میں جب بی جے پی حکومت ہے، اونچی ذات کے برہمن اور ٹھاکر پولیس تھانوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے رہتے ہیں اور صرف انھی کی سفارش پر اب پولیس کوئی کارروائی کرتی ہے‘‘۔
اس طرح کے واقعات شاید بھارت کے طول و عرض میں پیش آتے ہوںگے،مگر جس علاقے میں ارتداد کا یہ سانحہ پیش آیا وہ عالمی شہرت یافتہ دارالعلوم دیوبند سے محض ۱۰۰کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس علاقے میں مدرسوں ، عالیشان مساجد اور سنہرے کلسوں سے مزین خانقاہوں اور درگاہوں کا ایک جال بچھا ہواہے۔ اس کے علاوہ جمعیت علماے ہند کا اچھا خاصا رسوخ ہے۔ جمعیت کے ذمّہ داروںکا کہنا ہے کہ: ’’ہم نے علاقے کے متعدد ذمہ داروں سے گفتگو کرکے اس مسئلے پر توجہ دینے کی کوشش کی تھی مگر مرتد ہونے والے ان ۱۳؍ افراد نے برادری ، رشتہ داروں کی بھی نہیں مانی۔ ان کا ایک لڑکا پھانسی لگاکر مرگیا تھا۔ اس کا الزام یہ لوگ اسی کے پھوپھی زاد پر لگاکر مسلمانوں کو جھوٹے کیس میں پھانسنا چاہتے تھے ، مسلمانوں کے سمجھانے بجھانے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ لیکن ایک بہو نے مرتد ہونے سے انکار کردیا اور وہ اپنے بچوں کو لے کر اپنے میکے چلی گئی‘‘۔
جمعیت کے ذمہ داران کچھ بھی صفائی دیں، مگر ان کی ناک کے نیچے اس علاقے کے دیہات میں مسلم آبادیاں کسمپرسی اور جہالت کا شکار ہیں۔ عالیشان مساجد، مدرسوں اور خانقاہوں کو آراستہ بنانے کے ساتھ ساتھ اگر ان آبادیوں کی تعلیم و تربیت اور ان کو روزگار دلانے کی سمت میں بھی وہ کام کرتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔حالات یہ ہیں کہ اندرون ومضافاتی دیہات میں تو مسلمان دین سے بالکل ناآشنا ہیں،کیوںکہ بڑے حضرات اور داعی اسلام وہاں جانا گوارا ہی نہیں کرتے۔ ان مضافاتی دیہات میں جاکر ان کمزور و بے سہارا اور کھیتی مزدور مسلمانوں کی خیرخبر لینے والے بہت کم ہیں۔ مذہب تبدیل کرنے والوں کا یہ الزام ہے کہ ان کی داد رسی نہیں کی گئی۔گو یہ تبدیلی مذہب کا معقول عذر نہ ہو، لیکن مسلم تنظیموں کو ملزم کے کٹھرے میں ضرور کھڑا کر دیتا ہے- زکوٰۃ کا نظام جو بے سر و سامان مسلمانوں کے لیے بنایا گیا تھا وہ زیادہ تر پیشہ ور فنڈ جمع کرنے والوں کے پیٹ کو بھرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ دھیرہ دون سے مفتی رئیس احمد قاسمی کے مطابق ان کے محلے کے ایک کھاتے پیتے مسلم گھرانے کی لڑکی ایک ہندو بھنگی کے ساتھ بھاگ گئی۔ مفتی صاحب نے انتظامیہ پر دباؤ ڈالا تو ڈیڑھ دن بعد پولیس نے لڑکی کو برآمد کرلیا مگر لڑکی جیسے ہی جج کے سامنے پہنچی، اس نے اس بھنگی کے ساتھ جانے اور اپنے ہندو ہونے کا اعلان کردیا۔ مفتی صاحب کے بقول ان کے علم میں پانچ ایسی مسلم لڑکیاں ہیں جو صرف بھنگی برادری میں گئیں ہیں۔ عام ہندوؤں کے ساتھ جانے والی لڑکیوں کی اکیلے دھیرہ دون میں ہی ایک بڑی تعداد ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیکرٹری مولانامحمد عمر محفوظ رحمانی کے مطابق چند برسوں سے باضابطہ پلاننگ کے تحت مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنساکر ہندو بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جب وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک پروگرام میں مہاراشٹر کے مشہورشہر پونا گئے تو معلوم ہوا کہ ان کے ایک جاننے والے کی بھانجی نے ہندو لڑکے کے ساتھ بھاگ کر کورٹ میریج کی ہے۔ معلوم ہوا کہ صرف پونا میں دو برسوں میں ۴۴مسلمان لڑکیوں نے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی ہے۔ اسی سال اگست میں۱۱مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواستیں کورٹ میں دائر ہوئی ہیں اور ستمبر میں۱۲لڑکیوں نے درخواست دی ہے۔ اسی طرح بمبئی میں۱۲،تھانے میں۷، ناسک میں۲، اور امراوتی میں۲ لڑکیوں نے کورٹ میں دیگر مذاہب کے لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواست دی ہے ۔
بھوپال کی گنجان مسلم آبادی والے ایک علاقے میں اس طرح کے دسیوںواقعات ہوچکے ہیں، اور صرف غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی نہیں شادی شدہ عورتیں بھی اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کے ساتھ چلی گئی ہیں۔ کچی بستیوں میں رہنے والی مسلمان لڑکیاں فرقہ پرست عناصر کی اس منصوبہ بند سازش کا’لقمۂ تر‘بنی ہوئی ہیں۔ مولانا صاحب کے مطابق گجرات میں مسلمان لڑکیوں کو رجھانے ،قریب کرنے اور پھر ان کاجنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دیے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائل ،آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، ایکٹیوا بائک وغیرہ۔ان کی باضابطہ ’فنڈنگ‘کی جارہی ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انھیں اس کام پر لگایا گیا ہے۔ یہ محض اتفاقی واقعات نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک سوچا سمجھا منصوبہ کام کر رہاہے۔’لوّ جہاد‘نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے،البتہ یہ ’شوشہ‘ صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں ’انتقامی جذبہ‘ اُبھارا جائے اور خود مسلمانوں کو ’لوّ جہاد‘میں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے۔ان کے مطابق باضابطہ ایسے ہندو جوانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے، جن کاکام ہی محبت کے نام پر مسلمان لڑکیوںکو تباہ و برباد کرنا ہے۔یہ لو گ پہلے ہمدردی کے نام پرکسی مسلمان لڑکی سے قریب ہوتے ہیں،پھر محبت کا فریب دیتے ہیں، اور شادی کا وعدہ کرتے ہیں، اور پھر جنسی استحصال کا مرحلہ شروع ہو جاتاہے اور جب وہ لڑکی عفت و عصمت کا گوہر لٹاچکتی ہے او ر اس لڑکے سے شادی کا اصرار کرتی ہے تو پھرکورٹ میں کورٹ میرج کی درخواست دی جاتی ہے۔
پچھلے ماہ اسی طرح کے ایک واقعے میں ہریانہ کے روہتک ضلع کے ٹٹولی گاؤں میں ایک پنچایت نے فرمان جاری کرکے مقامی مسلمانوں پر ٹوپی پہننے اور لمبی داڑھی رکھنے پر پابندی عائد کی۔ اس کے علاوہ یہ بھی حکم دیا گیا کہ: ’’وہ بچو ں کے ہندو نام ہی رکھیں گے‘‘۔ گاؤں کے بیچ میں وقف بورڈ کی جو زمیں قبرستان کے لیے استعمال ہوتی تھی اس کو پنچایت نے اپنی تحویل میں لے کر زرعی اراضی میں تبدیل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عید الاضحی کے موقعے پر گائوں میں دھوبی خاندان کے یامین کھوکھر پر الزام لگایا گیا کہ اس نے بچھڑے کی قربانی کی تھی۔ بعد میں اس کو پولیس گرفتار کرکے بھی لے گئی، مگر جلد ہی ضمانت پر و ہ رہا ہوگیا۔ روہتک نمبردار نے ۲۰ستمبر کو اجلاس بلا کر الیاس کو گائوں بدر کرنے کا حکم سنایا۔ گاؤں کی ۳ہزار نفوس کی آبادی میں ۶۰۰مسلمان ہیں۔ اس فرمان میں مزید یہ حکم دیا گیا کہ: ’’گائوں میں کہیں بھی کھلی جگہ پر نماز ادا نہیں کی جائے گی‘‘۔ یاد رہے گائوں یا اس کے آس پاس میں کہیں بھی مسجد نہیں ہے۔ مسلم آبادی جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے روہتک شہر جاتی ہے۔
اسی سال مارچ میں آگرہ کی کچی بستی مدھونگر میں تین سو مفلوک الحال مسلمانوں کے مرتد ہونے کی خبر آئی۔ انتہاپسند ہندو تنظیموں نے ان کی ’گھر واپسی‘ یعنی ہندومت اختیار کرنے کی تقریب منعقد کی، جس میں ۷۰ کے قریب افراد نے شرکت کی تھی۔ بھجنوں کے درمیان ہندو دھرم اختیار کیا۔اسی مہینے فیض آباد، یوپی سے بھی ۲۲مسلمانوں کے مرتد ہونے کی خبر آئی تھی۔ میڈیا سے بات چیت میں ان لوگوں نے کہا: ’’ہم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ راشن کارڈ اور مفت ہائوسنگ پلاٹ دیے جائیں گے‘‘ جو کہ سراسر لالچ اور غربت کا ناجائز فائدہ اُٹھانا ہے۔
چوںکہ تقسیمِ ملک کے وقت یہ علاقہ شدید فسادات کی زد میں آگیا تھا، جولوگ کئی وجوہ کی بناپر ہجرت نہیں کرسکے تھے، انھوں نے اپنی حفاظت کی خاطر اپنے نام تبدیل کردیے ۔ وہ دیوالی، ہولی اور دیگر ہندو تہوار بھی مناتے ہیں ، مگر گھروں میں اسلامی رسوم و رواج کو انھوں نے زندہ رکھا ہوا تھا۔ ان کی نئی پود اب باقاعدہ مسلم شناخت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے ، جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ بہار میں دربھنگہ کے ایک گائوں میں ایک مسلم خاندان پر پنچایت نے ۲۵ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ، کیوںکہ اس نے بڑے جانور کا پایہ اپنے گھرمیں پکایا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ۲۰۰۲ء میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے بعد جن لوگوں نے دیہی علاقوں سے ہجرت کرکے کیمپوں میں پناہ لی تھی، جب ان کی واپسی کی کوششیں ہورہی تھیں ، تو کئی علاقوں کی پنچایتیںان کو اسی شرط پر واپس بسانے پر تیار تھیں کہ مسلمان حلفیہ بیان میں یہ یقین دلائیں کہ نہ وہ گائوں میں مسجد بنائیں گے اور نہ بلند آواز میں اذان دیں گے۔یہ باضابطہ تحریری حلفیہ بیانات تھے۔اسی طرح کی چند اور شرائط بھی تھیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر تیسرا مسلمان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔ پچھلے ۵۰برسوں میں ان کی حالت دلتوں اور قہرزدہ قبائل سے بھی بد تر ہوچکی ہے۔ یہ وہی قوم ہے جو ایک صدی قبل تک اس خطے کی حکمران تھی۔ مذبح خانے (سلاٹر ہائوس) بند کیے جانے سے اتر پردیش میں ہزاروں مسلمان بے روز گار ہوچکے ہیں۔ گائے کے نام پر افواہ پھیلا کر جانوروں کا کاروبار کرنے والوں کو جس طرح مارا پیٹا جا رہا ہے، اس سے چھوٹے چھوٹے مسلمان تاجروں کو کاری ضرب پہنچی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بڑے تاجر جو بکرے اور بڑے گوشت کو خلیجی اور دیگر ممالک کو بر آمد کرتے ہیں، ان کے کاروبار شد و مد کے ساتھ جاری ہیں، کیوں کہ ان میں اکثریت جین یا ہندو ہیں۔
شاید یہ واقعات اسلام کے نام پر وجود میں آئے پاکستان میں رہنے والے مذہبی ادارے چلانے والوں اور ارباب حل و عقد کی سمجھ میں نہ آئیں، کیوں کہ وہ فرقہ بندی اور فروعی معاملات میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ انھیں کیا معلوم کہ آزادی کی فضا میں ان کے سانس لینے کی کیا قیمت بھارتی مسلمان ادا کر رہے ہیں۔ بجاے اس کے کہ وہ اپنے اخلاق سے دنیا کواسلام کی صحیح تعریف سے روشناس کرواتے، ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کے رجحان نے تو اچھے خاصے مسلمان کو بھی خوار اور مایوس کیا ہے۔ اُمید تھی کہ جو کام ۸۰۰سال تک برصغیر پاک و ہند پر حکومت کرنے والے مسلم حکمران نہیں کر پائے ، قائد اعظم محمد علی جناح کے جانشین اس ملک کو ایک لیبارٹری کی طرز پر استعمال کرکے اسلام کے حقیقی سماجی انصاف کے پیغام کو عام کرکے برصغیر کے دیگر خطوں، خاص طور پر بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ اور مثال کا کام کریں گے۔ ان کی اس کاوش سے بھارت میں دیگر مذاہب ، خصوصاً دلتوں تک اسلام کے آفاقی نظام کو پہنچانے میں مدد ملتی۔
ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر بھارت کے پسماندہ طبقات کے سب سے بڑے لیڈرتھے۔ ان کا رجحان اسلام قبول کرنے کا تھا۔ اسلام کی طرف مگران کے بڑھتے قدم رک گئے جس کی ایک بڑی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ مسلمانوں کے اندر چھوٹی بڑی ذاتوںکا سسٹم موجود ہے۔ اگر انھوں نے اسلام قبول کرلیا تو انھیں مسلم سماج میں بھی برہمنواد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح مسلمانوں کے اندر مسلکی جھگڑا بھی انھیں دکھائی دیا، جو ان کے لیے پاؤںکی زنجیر بن گیا۔ انھوں نے ایک موقعے پر اپنی تقریر میں کہا: ’’میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں، لیکن اگر میں اسلام قبول کرتا ہوں تومجھے وہابی کہہ کر خارج از اسلام کردیا جائے گا‘‘۔قصۂ مختصر، اگر مسلمان اپنا وتیرا تبدیل نہیں کرتے، اسلام کے حقیقی سماجی انصاف کے پیغام کو عملاً نہیں اپناتے، تو دلتوں اور دیگر طبقات کو اپنے ساتھ ملانا تو دُور کی بات، خود مسلمانوں کی نئی پود بھی دور چلی جائے گی۔
زندگی مسلسل واقعات و احداث سے عبارت ہے۔ اقوام و افراد کے لیے ہر لمحہ کسی نہ کسی خیر یا شر کی بنیاد بن سکتا ہے۔ کئی واقعات و لمحات تو انتہائی دُور رس اثرات چھوڑجاتے ہیں۔ کبھی اتنے دُور رس کہ ان سے پہلے اور ان کے بعد کا زمانہ مختلف ہوجاتا ہے۔ مثال دیکھنا ہو تو گذشتہ دوعشروں میں نائن الیون اور عرب بہار کے دواہم واقعات ہی ملاحظہ فرمالیجیے۔۲؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں ایک نمایاں سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل بھی ایسا ہی ایک تیسرا واقعہ ثابت ہورہا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ قتل تو روزانہ ہوتے ہیں۔ صحافی بھی بہت سے مارے جاچکے ہیں۔ کشمیر، شام، فلسطین اور روہنگیا سمیت کئی خطوں میں خون کی ہولی بھی مسلسل کھیلی جارہی ہے، آخر جمال کا قتل اتنا اہم کیوں ہوگیا؟ آئیے اس کی حقیقت و اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
جمال خاشقجی مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والا ایک بے باک صحافی تھا۔ راقم سمیت پاکستان کے کئی افراد سے ان کا تعارف برسوں پر محیط ہے۔ حُسن اتفاق سے ان کی شہادت سے ایک ہفتہ قبل استنبول ہی میں ان سے آخری مفصل ملاقات ہوئی۔ معروف عالمی تھنک ٹینک ’الشرق فورم‘ کے زیراہتمام ’سیاسی اسلام‘ (اسلامی تحریکات کے لیے اہل مغرب کی نئی اور طنزیہ اصطلاح) کے موضوع پر دو روزہ سیمی نار میں ہم دونوں مدعو تھے۔ تین روز اکٹھے ہی قیام و تبادلۂ خیال رہا۔ جمال اشتراکی روس کے خلاف جہاد کے زمانے میں افغانستان سے رپورٹنگ کرتا رہا۔ بعد میں یکے بعد دیگرے معروف عرب روزناموں الشرق الاوسط ، عرب نیوز اور الوطن کا ایڈیٹر رہا۔ اس دوران ایک اور معروف روزنامے الحیاۃ میں کالم شائع ہوتے رہے۔ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال نے ’العرب‘ کے نام سے الجزیرہ چینل جیسا ایک نیا نیوز چینل بنانے کا ارادہ کیا تو جمال کو اس کا سربراہ بنایا۔ بحرین کے دارالحکومت المنامہ میں قائم اس شان دار چینل پر ایک خطیر رقم خرچ ہوئی۔ لیکن جونہی چینل کی نشریات شروع ہوئیں، مقامی ذمہ داران اس کی سچائی کی تاب نہ لاسکے۔ ایک دن بعد ہی چینل پر پابندی لگی اور پھر ہمیشہ کے لیے بند کردیا گیا۔
شاہ فیصل مرحوم کے صاحبزادے اور طویل عرصے تک سعودی خفیہ ادارے کے سربراہ رہنے والے شہزادہ ترکی الفیصل اس حساس ذمہ داری سے فارغ ہوئے تو اہم عرب چینل MBC پر ان کے انٹرویوز کا طویل سلسلہ چلا۔ یہ انٹرویو کرنے والا بھی جمال ہی تھا۔ ترکی الفیصل کو برطانیہ اور پھر واشنگٹن میں سعودی سفیر بنایا گیا تو جمال ان کے ابلاغیاتی مشیر کے طور پر ساتھ رہا۔ اس دوران میں وہ واشنگٹن پوسٹ جیسے عالمی اخبارات میں لکھنے لگا۔ جمال کے قتل کے بعد واشنگٹن پوسٹ کے صحافی ڈیوڈ اگناٹیوس نے شہزادہ ترکی الفیصل سے ۹۰ منٹ کا انٹرویو کیا، جس میں انھوں نے اس قتل پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ جمال سے اپنے تعلق کے بارے میں بھی کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’وہ افغان جہاد کی رپورٹنگ کے لیے ایک صحافی کے طور پر افغانستان گیا تھا۔ اس وقت ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ پھر جب وہ عرب نیوز کا ایڈیٹر بنا تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔ گذشتہ چار برس سے ہمارے مابین اختلاف راے ہوگیا تب سے ہمارا رابطہ تقریباً منقطع تھا۔ ہمارا اختلاف الاخوان المسلمین کے بارے میں ہوا تھا۔ میرا کہنا تھا کہ اخوان جمہوریت کے دعووں کی آڑ میں دہشت گردی کرتی ہے، جمال کو میری اس راے سے اتفاق نہیں تھا‘‘۔
سعودی عرب میں قیادت اور حالات تبدیل ہونے کے بعد جمال نے مستقل طور پر بیرون ملک رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ انھیں کئی اُمور بالخصوص اختلاف راے کی بنیاد پر کی جانے والی گرفتاریوں سے اختلاف تھا۔ وہ اس بارے میں کھلم کھلا اظہار کرتا تھا۔ اس سب کچھ کے باوجود زمینی حقائق کو بھی جانتا تھا۔ استنبول میں ہماری اس آخری ملاقات کے دوران بھی اس نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ بعض اختلافات کے باوجود، سعودی عرب کی اہمیت کے پیش نظر اس سے گفت و شنید اور روابط جاری رہنا چاہییں۔ طویل عرصے سے تنہا بیرون ملک رہتے ہوئے انھوں نے دوسری شادی کا ارادہ کرلیا۔ ۳۶ سالہ ترک صحافی خدیجہ چنگیز جو شان دار عربی بھی جانتی ہے، سے ان کی تحریروں بالخصوص سلطنت آف عمان کے بارے میں لکھے جانے والے مقالے کے حوالے سے تعارف ہوا، جو شادی کے لیے آمادگی پر منتج ہوا۔ منگنی تو خاموشی سے ہوگئی، لیکن اتاترک کے سیکولر دستور کے مطابق دوسرا نکاح کرنے کے لیے پہلی بیوی سے طلاق کی مصدقہ دستاویز پیش کرنا لازمی تھا۔ ان دستاویزات کی تصدیق کے لیے ۲۸ ستمبر کو اپنے ملک کے قونصل خانے گئے تو چند روز بعد دوبارہ آنے کو کہا گیا۔ ۲؍اکتوبر کو کاغذات تیار ہونے کی اطلاع دی گئی۔ دوپہر ایک بج کر ۳۷منٹ پر اندر گیا تو خصوصی جہاز میں آنے والے ۱۵؍ افراد کے ہاتھوں انتہائی سفاکیت سے قتل کرکے، لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گئے۔خدیجہ چنگیز قونصل خانے کے باہر منتظر تھی۔ دونوں میں یہ طے پایا تھا کہ اگر واپسی میں غیر معمولی تاخیر ہوئی تو وہ فوراً اپنے ایک عزیز یاسین اقطائی کو مطلع کردے گی۔ یاسین اقطائی اس وقت حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے نائب صدر اور تنظیمی اُمور کے سربراہ ہیں۔ اس سے پہلے وہ پارٹی کے خارجہ اُمور کے سربراہ تھے۔ وہ لمحہ اور آج کا لمحہ اس واقعے کے اثرات شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیں۔
۲؍اکتوبر کی شام ہی یہ خبر پوری دنیا میں پھیل چکی تھی کہ ایک صحافی اپنے ہی ملک کے قونصل خانے میں لاپتا اور شاید قتل کیا جاچکا ہے۔ جمال کے قتل کے اگلے روز ہی ترکی نے ان ۱۵؍افراد کی ویڈیو اور تصاویر نشر کردیں، جو اسی غرض کے لیے دو خصوصی جہازوں پر استنبول آئے اور واردات کے بعد اسی سہ پہر سعودی عرب واپس چلے گئے تھے۔ آیندہ آنے والے دنوں نے ان سب کی ساری نقل و حرکت کی ویڈیو ریکارڈنگ عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچا دی۔ نہ صرف یہ بلکہ جمال کے قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد سے لے کر ۲۲ منٹ کی ریکارڈنگ ایسی ہے، جس میں قاتلوں اور مقتول کے مابین ہونے والی چند لمحوں کی گفتگو سے لے کر، اسے بے ہوش کرنے اور پھر برقی آرے سے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی ساری تفصیل موجود ہے (تادمِ تحریر اس کی ریکارڈنگ نشر نہیں کی گئی)۔ واردات کے بعد سعودی قونصل جنرل اور اعلیٰ ذمہ داران نے کہا کہ جمال یہاں آنے کے کچھ دیر بعد پچھلے دروازے سے واپس چلا گیا۔ لیکن بعد ازاں سرکاری سعودی ذرائع نے اعلان کیا کہ ’’تحقیقات کے بعد معلوم ہوگیا ہے کہ جمال خاشقجی قونصل خانے کی عمارت ہی میں سفاکانہ طریقے سے قتل کردیا گیا تھا۔ اس کا قتل دوران تفتیش اسے چپ کروانے کی کوشش کے دوران دم گھٹنے سے ہوا۔ اس الزام میں سعودی عرب میں ۱۸ مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیاگیا ہے، مزید تحقیقات جاری ہیں‘‘۔ بعد ازاں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے اور ولی عہد نے ریاض میں منعقدہ ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بھی اس بہیمانہ قتل کو انتہائی وحشیانہ کارروائی قرار دیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار انصاف کے شکنجے سے بچ نہ پائے گا۔ سعودی ولی عہد نے یہ خوش آیند بات بھی زور دے کر کہی کہ: ’’جب تک شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر اردوان موجود ہیں کوئی طاقت دونوں برادر ملکوں کے مابین کوئی دراڑ پیدا نہیں کرسکتی‘‘۔
اللہ رب العزت نے کسی بھی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔لیکن بعض جرائم کی شناعت و سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ سفارت کاری کی دنیا عین جنگ کے عروج پر بھی محفوظ رکھی جاتی ہے۔ گھمسان کا رن پڑا ہو اور جانی دشمن بھی سفیر یا پیغام بر کی صورت میں سامنے آجائے تو اسے کوئی گزند نہیں پہنچائی جاسکتی۔ ویانا کمیشن آج کی دنیا میں سفارت خانوں اور سفارت کاروں کے لیے خصوصی مراعات یقینی بناتا ہے۔ سفارت خانے ہی کو اگر مقتل گاہ میں بدل دیا جائے تو سب کے لیے ناقابلِ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح صحافت اور صحافیوں کو بھی خصوصی مقام حاصل ہے۔ صحافی دوران جنگ برستی آگ میں بھی محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔اس قتل کی تیسری سنگینی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے غائب کر دینا ہے۔ ابھی تک نہ لاش ملی، نہ کفن اور نمازِ جنازہ نصیب ہوسکا۔
سعودی فرماں روا شاہ سلمان کا یہ اعلان اور طیب اردوان کو ان کی یہ یقین دہانی یقینا اہم اور حوصلہ افزا ہے کہ قاتل جو بھی ہو، کسی طور سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ ترک حکومت کی شائع کردہ فہرست میں آنے والے ۱۵ ،اور قونصل خانے کے تین افراد کی گرفتاری کے اعلان کے ساتھ ہی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ترین خصوصی مشیر سعود القحطانی اور انٹیلی جینس کے نائب سربراہ جنرل احمد العسیری کو ذمہ داریوں سے سبکدوش کردینے کی خبریں بھی انتہائی اہم ہیں۔ لیکن ابھی تک کئی اہم سوالات کے جواب باقی ہیں۔ ۲۶ ؍اکتوبر کو صدراردوان نے اپنے ان مطالبات و سوالات کا دو ٹوک اعادہ کیا ہے کہ جب یہ معلوم ہوگیا کہ جمال قونصل خانے میں قتل ہوا تو لاش کہاں ہے؟ قاتل گرفتار ہوگئے ہیں تو بآسانی خود انھی سے معلوم ہوسکتا ہے کہ انھیں قتل کا حکم کس نے دیا؟ قاتلوں کے مقامی ترک سہولت کار اگر ہیں تو کون ہیں؟
ان سوالات کا تسلی بخش جواب اور قاتلوں کو قرار واقعی سزا دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس قتل کی آڑ میں کئی عالمی قوتیں سرزمین حرمین شریفین کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرنا چاہتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس واردات سے پہلے ہی لگاتار اپنے توہین آمیز اور بے سروپا بیانات میں سعودی عرب کو دھمکیاں دیتے اور بلیک میل کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’’پیسے دو‘‘۔ تمھاری حفاظت ہم کررہے ہیں۔ ہم نہ ہوں تو تم دو ہفتے بھی باقی نہ رہ سکو۔ پیسے دو‘‘۔ جمال خاشقجی کے قتل کے بعد بھی وہ اپنی یہی دھمکیاں دُہرا رہا ہے۔
دیکھا جائے تو اس سفاکانہ قتل کے شر سے اللہ تعالیٰ ایک خیر برآمد کرنے کا موقع فراہم کررہا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی دونوں ہی عالم اسلام کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصے سے بوجوہ دونوں کے تعلقات سردمہری بلکہ تناؤ کا شکار ہوتے جارہے تھے۔ دونوں کے دشمن بھی اس آگ پر تیل چھڑک رہے تھے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان ابلاغیاتی جنگیں بھڑکائی جارہی تھیں۔ ترکی میں آنے والے اقتصادی بحران کو بڑھاوا دینے کی بڑہانکی جاری تھی۔ جمال کے قتل کے بعد دونوں برادر ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے مابین کئی بار گفتگو ہوچکی ہے۔ گورنرمکّہ خالدالفیصل انقرہ میں صدر اردوان سے ملاقات کرچکے ہیں۔ سعودی قیادت نے ترکی اور ترک قیادت کے بارے میں بہت حوصلہ افزا بیان دیے ہیں۔ اتوار ۲۸ ؍اکتوبر کو سعودی اٹارنی جنرل، استنبول میں اپنے ترک ہم منصب سے مذاکرات کررہے ہیں۔ اگر دونوں برادر ملک، قتل کی اس سنگین واردات کے تمام مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہوئے، قرآنی حکم پر عمل درآمد کرلیتے ہیں تو نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے بلکہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا بھی سدباب ہوسکے گا۔خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں جاری تہ در تہ سیاسی اور اقتصادی بحرانوں میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے، بلکہ اس کے اہم عالمی اثرات مرتب ہوںگے۔ یورپی پارلیمنٹ اس واقعے کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرچکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ پورے پورے صفحے کے اشتہارات شائع کر رہا ہے کہ Demand the Truth۔
مسلم دنیا میں گذشتہ نصف صدی کے دوران مصر، سوڈان ، ترکی ، تیونس ، پاکستان ، لبنان اور بنگلہ دیش میں تحریکات اسلامی کو جن مسائل کا سامنا رہا ہے ،ان میں اکثر کو نظر انداز کرتے ہوئے ابلاغ عامہ ہی نہیں خود تحریکی کارکن تحریک کی مقبولیت یا ناکامی کو صرف ایک ہی پیمانے پر ناپنے لگے ہیں اور وہ ہے سیاسی محاذ پر پارلیمان میں نشستوں کی تعداد اور حکومت میں عمل دخل۔ بلاشبہہ سیاسی کامیابی کسی تحریک کی توسیع،مقبولیت اور اثر کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہو سکتا ہے لیکن محض سیاسی عینک سے ہر چیز کو دیکھنا تحریکی مزاج اور مقاصد سے مناسبت نہیں رکھتا۔
اگر تحریک اسلامی ، دعوت اسلامی ، اقامت دین ، تبدیلیِ قیادت کی اصطلاحات کا صرف ایک سیاسی مفہوم ہی ہے تو یہ فکر کی ایک بنیادی غلطی ہے ۔ دنیا کی تمام اسلامی تحریکیں قرآن و سنت سے اخذ کر دہ ترجیحات کی بنا پر تبدیلی کا آغاز فرد، خاندان، معاشرہ اوراداروں کی تبدیلی و اصلاح سے کرتی ہیں۔سنت انبیاؑ بھی یہی ہے اور اسی کو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا۔ تحریکات اسلامی اور دیگر تحریکات اصلاح نفس کا بنیادی فرق یہی ہے کہ اول الذکر تحریکات فرد کی اصلاح کو اپنا اعلیٰ مقصد قرار دے کر اجتماعیت کی جگہ انفرادیت میں اُلجھ جاتی ہیں اور بعض اوقات مثالی انفرادی کردار پیدا کرنے میں کامیاب ہونے کے باوجود فرد کی اصلاح سے امت کو کوئی اجتماعی فائدہ نہیں ہوتا۔گو نظری طورپر یہی کہا جاتا ہے کہ جب سارے افراد درست ہو جائیں گے تو معاشرہ خود بہ خود ٹھیک ہو جائے گا ۔ اگر واقعی ایسا ہی ہوتا تو اللہ تعالی کو اقامت صلوٰۃ فرض کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھ لیا کرتے اور نفس کی اصلاح کے اعلیٰ مقام تک پہنچ جاتے ۔ نہ روزہ کو ایک پورے مہینے کے لیے اجتماعی طور پر فرض کرنے کی ضرورت تھی، نہ جہاد فی سبیل اللہ کو افضل و اعلیٰ کہنے کی ضرورت تھی۔ لوگ مجاہدۂ نفس کرکے اپنے خیال میں دنیا اور آخرت میں کامیابی کے مستحق بن جاتے اور سیاست، معیشت، ثقافت ہر شعبے کو آزاد چھوڑ کر کسی غیبی قوت کے ذریعے اچانک معاشرے میں عدل و انصاف، امن و محبت اور حقوق و فرائض کے نظام کا قیام ہو جاتا ۔ نہ حضرت موسٰی کو وقت کے جباروں سےٹکرانے کی ضرورت تھی، نہ حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤدؑ کو زمین پر خلافت الٰہی قائم کرنے کی خواہش ہونی چاہیے تھی۔
تحریکی فکر اور عام دینی فکر میں فرق یہی ہے کہ اسلام کی اجتماعیت ، جو اس کی روح ہے، کو بنیاد بناتے ہوئے فرد، خاندان معاشرہ اور زمام اقتدار کی تبدیلی اس کے واضح اہداف ہیں ۔
ظاہر ہے انسانی معاشرے میں کوئی کام اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب اس کام کے کرنے والےباصلاحیت اور ماہرانہ اہلیت رکھتے ہوں ۔ اگر ہم ایک مکان نہیں، ایک شلوار قمیص بھی سلوانا چاہتے ہیں تو بہترین درزی تلاش کرتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک گروہ معاشرے اور ملک کی اصلا ح کرنے چلے اور اس کے پاس افراد وہ ہوں جو نہ دین سے آگاہ ہوں ، نہ انتظامی معاملات میں مہارت رکھتے ہوں ۔ اس لیے افراد سازی بذریعہ تطہیر افکار وہ پہلا قدم ہے جس کے بغیر کوئی دعوتی، اصلاحی اور اقامت دین کی تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ سب انسان ایک سانچے میں ڈھل کر یکساں نہیں ہو سکتے ۔کیا سارے صحابہؓ اور عشرہ مبشرہ برابر تھے۔؟ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عشرہ مبشرہ کے علاوہ دیگر صحابہؓ میں کوئی خامی پائی جاتی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ مصدقہ طور پر اخلاص کے باوجود نبی کریمؐ نے حضرت ابوذرؓ سے یہی تو کہا تھا کہ ہم تمھیں کسی ذمہ داری پر نہیں لگائیں گے کیوں کہ اس کے لیے جو صلاحیت درکار ہے وہ تم میں نہیں ہے۔ یہ نہ ان کے تقویٰ پر ، نہ دین کے علم پر کسی قسم کے شبہہ کااظہار تھا۔ اسی لیے ہر تحریک اسلامی کو اپنے فرد مطلوب کے لیے ایک معیار اور پیمانہ طے کرنا ہوتاہے۔ جماعت اسلامی کے حوالے سے دستور جماعت اسلامی کی دفعہ ۳عقیدہ کے زیر عنوان اپنے فرد مطلوب کے تصور کو واضح کر تی ہے ۔ دستور کی دفعہ۴ یہ وضاحت کر دیتی ہے کہ وہ کس قسم کی تبدیلی چاہتی ہے، جزوی اصلاح کی یا مکمل دین کی اقامت۔اسلامی نظام زندگی سے مراد محض عبادات ہیں یا انفرادی ، اجتماعی ، معاشرتی اور ملکی سطح پر قرآن و سنت کی تعلیمات کا نفاذ و قیام اور اس کام کے لیے اجتماعی جدو جہد لازمی ہے ۔
یہی وہ فرق ہے جو کسی تحریک کو تحریک اسلامی بناتاہے لیکن کیا جب تک ہر فرد انسانِ مطلوب کے معیار کا نہ ہو جائے ، دعوتی ، اصلاحی اور سیاسی سرگرمیوںکو معطل کر دیا جائے ؟نظری طور پر تو یہ بات شاید معقول نظر آئے، عملاً ایسا ممکن نہیں ہے۔ بلاشبہہ ایک کم سے کم معیار کا تعین کیا جانا چاہیے کہ اگر ایک فرد نہ نماز باجماعت کا اہتمام کرتا ہو، نہ اس کے گھر کا ماحول طہارت وپاکیزگی کا عکاس ہو ، نہ اس کا کاروبار حلال و حرام کا فرق کرے لیکن اس سب کے باوجود بھی اسے تحریک میں شامل کر لیا جائے تو یہ دستور کے منافی ہو گا۔ہاں، اگر وہ باوجود کوشش کے تین نمازیں جماعت سے ادا کرپاتا ہو ، اپنے گھر میں تمام کوشش کے باوجود ابھی کامیاب نہیں ہوا ہو اور اپنے کاروبار سے حرام کے عنصر کو نکالنے میں لگا ہوا ہو اور جلد اسے پاک کر لے گا، تو اس سعی و کوشش اور خلوص نیت اور مسلسل جدوجہد میں لگنے کی بنا پر اسےتحریک میں شامل تو کر لینا چاہیےلیکن ساتھ ہی اس کی تربیت و تعمیر سیرت کا عمل جاری رہنا چاہیے ۔ قرآن کاا صول ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی برداشت سے زیادہ بوجھ اس پر نہیں ڈالتا ۔ جو چیز ایک فرد کی طاقت سے باہر ہو اس پر اس کی گرفت نہیں کی جاسکتی۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ ایک سیاسی کارکن جو اپنے علاقے میں اثر و رسوخ تو رکھتا ہو لیکن عبادات و معاملات میں بہت پیچھے ہو پھر بھی محض اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے اسے تحریک میں شامل کر لیا جائے ۔ تحریک کو فرد کی اصلاح کے معیار پر سختی سے عمل کرنا ہو گا ۔کیوں کہ اس کا ہدف کثرت افراد نہیں ، تطہیر و تبدیلی افراد ہے اور ایسے افراد کو پوری محبت و احترام کے ساتھ موقع دینا ہو گا کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کر یں اور اس کے بعد ہی تحریک کا حصہ بنیں ۔
ایسے ہی تطہیر افکار اور تربیت افراد کسی خلا میں نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ایک ایسی جماعت کے وجود کی ضرورت ہے جو ہمہ وقت تزکیہ نفس اور تعمیر سیرت کے مواقع پیدا کرتی ہو اور جس میں افراد کی شمولیت کا مقصد محض سیاسی قوت کے حصول کی جگہ باصلاحیت، فکری اور عملی قیادت کی تیاری ہو ۔یہ کام ایک طویل المعیاد عمل ہے ۔ یہ دو تین تربیت گاہوں یا اجتماعات میں شرکت کرنے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے مسلسل عملی تربیت کی ضرورت ہے،جو صرف دعوتی میدان ہی میں ہو سکتی ہے ۔ کوئی ایک ہفتہ یا تین دن کا کورس اس کام کو حتمی طور پر نہیں کر سکتا ۔
تزکیہ فکر اور تربیت اخلاق محض نئے آنے والے افراد کے لیے نہیں،تحریک میں ہر سطح کی ذمہ دار قیادت کے لیے بھی ضروری ہے ۔اگر قیادت ایک مقام فکر وعمل پر رُک جائے اور اس میں مسلسل ترقی کی کوشش نہ کرے تو وہ کارکنوں کو قابل عمل مثال فراہم کرنے میں ناکام رہے گی۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ تھوڑے یا عبوری عرصے کے لیے کارکن اپنی بے چینی کا اظہار نہ کریں اور حُسنِ ظن رکھتے ہوئے قیادت کے ساتھ چلتے رہیں لیکن جلد ان کے ذہنوں میں گمان ، ظن اور بدگمانی پیدا ہو نا ایک فطری عمل ہے۔تحریک اسلامی میں جس لمحے کارکنوں میں یہ بے چینی پائی جائے فوری طور پر اسے سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے اور تعمیری انداز میں اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
اس فکر کا پایا جانا اس پہلو سے تو اچھا ہے کہ تحریک میں لوگ اپنی سوچ اور فکر کا استعمال کررہے ہیں اور تحریک جامد اور ساکت نہیں ہے ۔لیکن ہر فکر خود اپنی جگہ پر صحیح قرار نہیں دی جاسکتی اور بعض تصورات بہت معصوم ہوتے ہیںلیکن وہ تحریک کے مقصد وجود کی ضد ہوتے ہیں ۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا دعوتی ، اصلاحی اور سیاسی تبدیلی الگ الگ دائروں کا نام ہے یا دعوت اصلاح میں سیاسی اصلاح ایک لازم و ملزوم عنصر ہے؟ تحریکات اسلامی اور جماعت اسلامی کو دیگر تحریکات سے ممتاز کرنے والا یہی وہ پہلو ہے جو ہم اکثر بھول جاتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کا مقصد چند ایسے زاہد و عابد افراد کا پیدا کرناکبھی نہ تھا جو علم کے موتی بکھیرتے رہیں اور معیشت ، معاشرت ، ثقافت اور سیاست و قانون پر شیطانی فکر غالب رہے بلکہ روز اول سے اس کا نصب العین اقامت دین رہا ہے ۔ جس میں سیاسی تبدیلی ایک لازمی مرحلہ ہے اور کام وہاں جاکر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ملکی اداروں کی تبدیلی و اصلاح کا کام وہاں سے شروع ہوتا ہے ۔ نظام کی تبدیلی محض پارلیمان میں چند نشستوں پر جا کر بیٹھ جانے کا نام نہیں ہے ، بلکہ ملکی معیشت ، تعلیم ، قانون، ابلاغِ عامہ، غرض ہر شعبے میں افرادی قوت ، نظریاتی اور مقصدی اصلاح کرنے کا نام ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ کام چند وزراتوں یا کسی طرح وزارت عظمیٰ تک پہنچ جانے سے نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک طویل اور مسلسل عمل ہے جس میں نصرتِ الٰہی کے ساتھ صحیح حکمت عملی کا بڑا دخل ہے۔
یہ خیال کمزور ہونے کے باوجود بذاتِ خود بحث اور تجزیے کا تقاضا کرتا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے سیاسی کام کو معطل کر دیا جائے یا دو الگ دائرے طے کر لیے جائیں۔ درحقیقت یہ تصور جماعت کے قیام و مقصد اور دستور کے منافی ہے ۔اگر ایسا کیا جائے گا تو جماعت اسلامی اس تصور کی توثیق کرے گی جس میں بعض حضرات نے تبلیغ کو اختیار کر لیا اور بعض افراد نے سیا سی محاذ سنبھال لیا ، نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔اگر ایسا کیا جائے تو یہ سیکولر افراد کی تقویت اور خوشی کا باعث ہو گا اور جو حضرات جماعت اسلامی سے کسی نہ کسی وقت بھلائی کی امید رکھتے ہیں ان کی امیدوں کو چکنا چور کرنا ہو گا ۔نہ صرف یہ بلکہ خود وہ لوگ جو جماعت میں اس بنا پر شامل ہو ئے کہ یہاں دین کا ا جتماعی تصور ہے، اور یہاں وہ توازن ہے جو دین چاہتا ہے۔ یہاں اخلاص نیت ہے ۔ یہاں عہدوں کی طلب نہیں ہے۔ یہاں حصول امارت یا شوریٰ کے لیے نجویٰ اورcanvassing نہیں ہے۔ یہاں کسی لسانی یا صوبائی وابستگی کی بنیاد پر کسی کا انتخاب نہیں کیا جاتا ۔یہ اور جماعت کے کلچر سے وابستہ دیگر وجوہ جو کسی کے جماعت سے قریب آنے کا سبب بنتی ہیں ، ان تمام توقعات کو ختم کر دینا ہو گا۔
جماعت اسلامی کے بانی امیر نے اس طرف تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل میں متوجہ کیا تھا:’’یہ کہنا کہ جماعت اسلامی سیاسی جدوجہد کے میدان سے ہٹ کر پہلے کارکنوں کے اخلاق بنائے پھر اس میدان میں قدم رکھے،اپنے پیچھے اخلاق کی تیاری کا یہ تصور رکھتا ہے کہ ایک کام کے لیے جس قسم کے اخلاق کی ضرورت ہے وہ اس کام میں پڑے بغیر کہیں باہر سے تیار کرکے لائے جاسکتے ہیں۔ حالاںکہ یہ تصور اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی آدمی پانی میں اترے بغیر تیراک ہوسکتا ہے۔ عقل اس کو غلط کہتی ہے ‘‘۔(ص ۱۱۶)
تاہم، جس چیز پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم تحریک کی کامیابی و ناکامی کو صرف سیاسی پیمانے ہی سے ناپنا چاہتے ہیں تو گذشتہ دو اور حالیہ الیکشن کے اعداد وشمار سامنے رکھ کر دیکھا جائےکہ ہمارے مجموعی حاصل کر دہ ووٹوں میں کس تناسب سے کمی یا اضافہ ہوا ہے؟ہم نے کس عمر ، قابلیت ، تجربہ کے افراد کو انتخابی نمایندہ بنایا اور ہر صورت حال میں کامیابی و ناکامی کی وجوہ کیا تھیں؟ اس پہلو سے خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ گذشتہ ۱۰ سال میں ہماری ترجیحات کیا رہی ہیں؟ ہمارے وقت ، مالی وسائل ، صلاحیتوں، منصوبہ بندی کا کتنا تناسب ، قیادت کی اپنی تربیت ، مرکزی شوریٰ اور عاملہ کے ہر فرد کی کارکردگی اور مالی ، فکری تعاون میں صرف ہوا؟ اور کتنا صوبائی اور ضلعی بنیاد پر افراد کے تقرر ، ان کی صلاحیتوں کی نشو ونما (grooming )، ان کا احتساب، ان کی کارکردگی کے معروضی جائزے پر صرف ہوا؟
اس بات کے جائزے کی بھی ضرورت ہے کہ ۱۰ سالہ مدت میں سیا سی منصوبہ بندی اور تنظیمی دوروں اور معاملات میں وقت کا استعمال اور دعوت پر غور وفکر، فکر مودودی سے استفادہ، قرآن و سنت کا براہِ راست مطالعہ اور تجزیہ ، جماعت کی مجموعی فضا سیاسی رہی یا دعوتی؟ للہیت کے پیدا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ سیاسی محاذ پر مقصود محض شکست دینا تھا یا ہماراطرزِ عمل مصلحانہ اور دعوت کار ہے یا پیشہ ور حزبِ اختلاف کی طرح ہر بات پر منفی طرزِ عمل و تنقید کرتے رہے ، یا وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى (جو کام نیکی اور خداترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو۔ المائدہ۵:۲)پر عمل ہو رہا ہے یا صرف عدم تعاون پر عمل رہا؟ مخالف کا دل جیتنے کے لیے اپنے اہداف و طریقۂ کار سے ایک انچ ہٹے بغیر کیا اقدامات کیے ؟ دیگر تحریکات اسلامی خصوصاً تیونس اور ترکی جہاں تحریک اسلامی کو سیاسی کامیابی ہوئی ، کیا ان کا علمی، تاریخی جائزہ لیا گیا؟ تیونس میں خصوصاً جس طرح النہضۃ نے اپنے مخصوص حالات میں تبدیلی اختیار کی ہے، کیا اس کے بعد وہ ہمارے لیے مثال بن سکتی ہے؟ ترکی میں طیب اردگان کو لانے میں نجم الدین اربکان کا کتنا دخل تھا اور پھر باہمی اختلافات کے بعد آج وہاں پر دعوتی اور تحریکی کام کی شکل کیا ہے؟غرض علمی اور تحقیقی جائزے کے بغیر کسی بھی تحریک اسلامی کی حکمت عملی کو کسی دوسرے مقام پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ کیا واقعی جماعت کی حکمت عملی میں کوئی ایسی خرابی ہے کہ جب تک تیونس اور ترکی سے تریاق نہیں آئے گا، کام نہیں ہو سکتا یا ہم نے خود بعض فیصلے غلط کیے ہیں ، جن کی بنا پر ہم دعوتی اور سیاسی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ان تمام پہلوؤں پر ان حضرات کو غور کرنےکی ضرورت ہے جو خود میدان میں کام میں مصروف ہوں۔ چند دانش وَر کسی بھی تحریک کو مسائل کا حل نہیں دے سکتے ۔ گو، حکمت مومن کی گم شدہ پونجی ہے اور جہاں سے بھی ملے اسے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
اس امر کی ضرورت ہے کہ ترجیح اوّل کے طور پر کارکنوں کی فکر ی تربیت اور دعوتی میدان میں شرکت کے ذریعے عملی تربیت کو اختیار کیا جائے اور ساتھ ہی بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں، صالح اور مکمل طور پر تحریکی فکر رکھنے والے افراد کو متعارف کروایا جائے جو ۱۰ سال بعد ملکی سطح پر تحریک کو قیادت دے سکیں۔
مروج قانونی اصطلاح کے مطابق جرائم جو مستلزمِ سزا ہیں، انھیں بالعموم دیوانی (Civil)اور فوجداری (Criminal)جرائم میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ دیوانی مقدمات میں عام طور پر مالی تاوان یا قید کی سزا دی جاتی ہے اور فوجداری جرائم میں اس کے علاوہ سنگین مقدمات میں موت تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ اسلامی قانون کی اصطلاح میں حدود یا قصاص کے مقدمات فوجداری نوعیت کے ہیں، مگر اُن کے مابین فرق و امتیاز واضح طور پر سمجھ میں نہیں آیا۔
مثلاً یہ کہ اُن میں سے ہرجرم آیا قابلِ دست اندازیِ ریاست ہےیا نہیں؟ اور دعویٰ دائر ہوجانے کے بعد آیا ہر فوجداری مقدمہ قابلِ راضی نامہ ہے یا نہیں؟ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ ہرایسا مقدمہ قابلِ راضی نامہ مابین فریقین ہے۔ قتل کے مقدمات، قاتل و مقتول یا مقتول کے وارثوں میں قابلِ راضی نامہ ہیں، لیکن اِن میں حقِ دعویٰ اور قصاص لینے کا حق کس کو حاصل ہے؟ اگر اس میں مدعی و مدعا علیہ باہم مصالحت اور سمجھوتا کرلیں تو کیا ریاست یا حکومت ثبوتِ جرم کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کرسکتی؟ اگرایسا ہو تو بعض قتل رائیگاں جائیں گے اور جن مجرمین کے پاس طاقت یا دولت ہے وہ مظلومین کا منہ بند کردیں گے، نیز جو وارث مقتول کے قصاص کا مطالبہ کرسکتے ہیں اُن کی کوئی متعین فہرست ہے یا ہرقسم کا رشتہ دار یا خاندان کا فرد اس کا حق رکھتا ہے؟
اسلام کے نظامِ قانون کی رُو سے بعض فوجداری جرائم ایسے ہیں، جن میں ملزم کے خلاف حکومت یا ہر شہری مدعی یا فریقِ مقدمہ بن سکتا ہے، مثلاً سرقہ، ڈاکا، رہزنی، زنا۔ ان جرائم کو جرائمِ حدود کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ناقابلِ راضی نامہ ہیں۔ اس کے برعکس بعض جرائم ایسے ہیں، جن میں مستغیث یا فریق یا تو وہ شخص بن سکتا ہے، جو خود مظلوم اور ملزم کی تعدّی کا شکار ہوا ہو اور اگر مظلوم زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ہو تو صرف مظلوم کے اولیا اور ورثا ہی مدعی یا فریقِ مقدمہ بن سکتے ہیں، البتہ کوئی وارث موجود نہ ہو تو پھر مظلوم کا ولی حاکم و قاضی ہوگا۔ اُن کے ماسوا کوئی دوسرا شخص فریقِ مقدمہ نہیں بن سکتا۔ اِن جرائم کو جرائمِ قصاص کہا جاتا ہے۔ جرمِ قتل کا شمار بھی جرائمِ قصاص میں ہوتا ہے، مگر اسے جرائمِ حدود میں شامل نہیں کیا گیا۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ۰ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّہٖ سُلْطٰنًا (بنی اسرائیل۱۷:۳۳)قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اُس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔
قرآنِ مجید میں یہاں ’ولی‘ کے حق کے لیے ’سلطان‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس سے مراد حجت ہے جس کی بنا پر وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اس ارشادِ ربانی سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں، بلکہ اولیاے مقتول ہیں اور اولیاے مقتول سے مراد مقتول کے وہ وارث ہیں جنھیں شرعی قانونِ وراثت کی رُو سے مقتول کے ترکے میں سے حصہ مل سکتا ہے۔
امام کاشانی اپنی کتاب البدائع والصنائع میں بیان من یستحق القصاص (اس کا بیان کہ قصاص کا مستحق کون ہے)کے زیرعنوان فرماتے ہیں:
الْمَقْتُولُ لَا یَخْلُو إمَّا أَنْ یَکُوْنَ حُرًّا، وَإِمَّا أَنْ یَکُوْنَ عَبْدًا، فَإِنْ کَانَ حُرًّا لَا یَخْلُوْ إمَّا أَنْ یَکُوْنَ لَہُ وَارِثٌ، وَإِمَّا أَنْ لَمْ یَکُنْ، فَإِنْ کَانَ لَہُ وَارِثٌ فَالْمُسْتَحِقُّ لِلْقِصَاصِ ہُوَ الْوَارِثُ کَالْمُسْتَحِقِّ لِلْمَالِ..... وَالْوَرَثَۃُ خُلَفَاؤُہُ فِي اسْتِیفَائِ الْحَقِّ یَقَعُ الْإِثْبَاتُ لِلْمَیِّتِ، وَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْ آحَادِ الْوَرَثَۃِ خَصْمٌ عَنْ الْمَیّتِ فِي حُقُوقہِ کَمَا فِي الدِّیَۃِ وَالدَّیْنِ (بدائع الصنائع، جلد۷، ص ۲۴۲) مقتول آزاد ہوگا یا غلام، اگر وہ آزاد ہو تو اُس کا معاملہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہوگا، یا تو اُس کا کوئی وارث ہوگا یا نہیں ہوگا۔ اگر اس کا کوئی وارث ہو تو قصاص کا مستحق وہی وارث ہے جس طرح کہ وہ مال کا مستحق ہوتا ہے۔ وارث ہی مقتول کے جانشین اور نائب ہوتے ہیں اور وارثوں میں سے ہر ایک مقتول کی طرف سے خصم، یعنی دیت اور قرض وغیرہ کے معاملات میں مدعی ہوتا ہے۔
یہ اصول دیگر کتب ِ فقہ میں بھی مذکور ہے، مثلاً ہدایہ کے ابواب القتل میں مصنف لکھتے ہیں:
اَلْقِصَاصُ طَرِیْقَہٗ طَرِیْقُ الْوِارَثَۃِ کَالدَّیْنِ وَھٰذَا لِاَنَّہٗ عِوَضٌ عَنْ نَفْسِہٖ فَیَکُوْنُ الْمِلْکُ فِیْہِ لِمَنْ لَہٗ الْمِلْکُ الْمُعَوَّضِ کَمَا فِی الدِّیَۃِ، قصاص کے حصول کا طریقہ وراثت کے حصول کے مطابق ہے جس طرح وارث اپنے مورث کا ورثہ اور قرض وصول کرتا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ قصا ص جان کا بدلہ ہے، تو قصاص میں بھی حق اور ملکیت اسی کو حاصل ہوگی جس کو دوسرے مالی حقوق دیت وغیرہ میں حاصل ہوتے ہیں۔
ہدایہ کی شرح عنایہ اور دوسری شرح فتح القدیر میں مذکورہ بالا اصول درج کرنے کے بعد مزید وضاحت اور توجیہہ ان الفاظ میں درج ہے:
اَلْاَصْلُ اَنَّ اِسْتِیْفَاءَ الْقِصَاصِ حَقُ الْوَارِثِ عِنْدَہٗ ، امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ’’اس کی اصل اور بنیاد یہ ہے کہ قصاص کی تحصیل و تکمیل وارث کا حق ہے‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ کے دو رفقا اور شاگردقاضی ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کا استدلال فتح القدیر شرح ہدایہ میں یوں بیان کیا گیا ہے:
وَاَمَّا عِنْدَھُمَا الْقِصَاصُ حَقٌّ ثَابِتٌ لِلْمُوَرِّثِ اِبْتِدَاءً مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہِ ثُمَّ یَنْتَقِلُ بَعْدَ مَوْتِہٖ اِلَی الْوَارِثِ بِطَرِیْقِ الْوِرَاثَۃِ کَسَائِرِ اَمْلَاکِہٖ ، امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک ’’حقِ قصاص ابتدا میں تو مورث کے لیے ثابت ہوتا ہے (اگر وہ زندہ رہے تو خود لے گا ورنہ) اُس کی موت کے بعد بہمہ وجوہ یہ حق وارث کی طرف بطریقِ وراثت منتقل ہوتا ہے جس طرح اُس کی جملہ املاک وارثوں کی جانب منتقل ہوتی ہیں۔
شریعت ِ اسلامی کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جو افراد ذمہ دارانہ حیثیت کے حامل ہوتے ہیں، اُن کی خطا پر بعض اوقات اُن سے زیادہ سخت طریق پر بازپُرس ہوتی ہے اور عام افراد کے مقابلے میں اُنھیں رعایت دینے اور نرمی اختیار کرنے کے بجائے شدت برتی جاتی ہے۔ سورئہ احزاب، آیت ۳۰ میں اَزواجِ مطہراتؓ سے فرمایاگیا:
يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ يُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ط (الاحزاب ۳۳:۳۰) اے نبیؐ کی بیویو! تم میں سے اگر کوئی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی، تو اُسے دُہرا عذاب دیا جائے گا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ اَزواجِ مطہراتؓ سے ایسی بات کا اندیشہ تھا، بلکہ اس سے مقصود اُنھیں یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں اُن کا مقام جس قدر بلند ہے اس کے لحاظ سے اُن کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں۔ البحرالرائق جو حنفی فقہ کی معتبر کتاب ہے، اس کے حوالے سے مولانا عبدالشکور لکھنوی اپنی کتاب علم الفقہ، جلدسوم میں روزے کی قضا اور کفّارے کے زیرعنوان لکھتے ہیں:
اگر کسی بادشاہ پر کفّارہ واجب ہو تو اُسے غلام کو آزادکرنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم نہ دینا چاہیے کیونکہ یہ چیزیں اُس کے نزدیک کچھ دشوار نہیں۔ ان سے کچھ بھی تنبیہہ اُس کو نہ ہوگی، بلکہ اُسے ساٹھ روزے رکھنے کا حکم ہونا چاہیے کہ اس پر گراں گزرے اور آیندہ رمضان کے روزے کو اس طرح فاسد نہ کرے۔
سزا دینے کے سلسلے میں حکومت کو بھی بعض استثنائی حالات میں تعزیری حق کی گنجایش ہے۔ اس سلسلے میں عبدالرحمٰن الجزری اپنی کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ (ج۵،ص ۲۶۵) میں لکھتے ہیں:
اِذَا عَفَا اَوْلِیَاءُ الدَّمِ عَنِ الْقَاتِلِ …… وَلٰکِنْ رَاَی الْحَاکِمُ اَنَّ اِطْلَاقَہٗ یُھَدِّدُ الْأَمْنَ الْعَامَ فَلَہٗ اَنْ یُعَزِّرَہٗ بِمَاشَاءَ…… الخ (یعنی اگر مقتول کے اولیا قاتل کو معاف کر دیں اور حاکم یہ دیکھیے کہ اِس معافی سے امن عامہ کو خطرہ لاحق ہوجائے گا، تو حاکم اُس قاتل کو معافی کے بعد بھی جو سزا چاہے دے سکتا ہے۔
اب مذکورہ بالا اصول پر اسلامی عدالتی نظام سے ایک نظیر بھی (مرات سکندری، ۴۵-۴۶، بحوالہ ہندستان کے عہد رفتہ کی سچی کہانیاں، مطبوعہ اعظم گڑھ، ص ۱۵۵) ملاحظہ فرمایئے:
’’گجرات کے حکمران احمد شاہ اوّل (م:۱۴۳۲ء) کے داماد نے جوانی اور شاہی رشتے کے غرور وتکبر میں ایک شخص کو بے قصور قتل کر دیا۔ سلطان احمد شاہ اوّل کو معلوم ہوا تو اُس نے اپنے داماد کو باندھ کر قاضی کے پاس بھیج دیا۔ قاضی نے مقتول کے وارثوں کو دو سو اُونٹوں کے قصاص پر راضی کر کے سلطان کے سامنے پیش کیا۔ سلطان نے اُن کو دیکھ کر کہا کہ اگرچہ مقتول کے وارث راضی ہیں، لیکن مجھ کو خود یہ قبول نہیں کہ اس طرح دولت مند لوگ خونِ ناحق کرنے میں دلیر ہوجائیں گے، چنانچہ سلطان کا داماد قتل کیا گیا۔ سلطان کے حکم سے اُس کی لاش ایک روز تک دار پر لٹکتی رہی تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں‘‘۔ (جسٹس ملک غلام علی)
کیا قرآن و حدیث اور سلف سے اس کی کوئی نظیر پیش کی جاسکتی ہے کہ مزدور کو اس کی اُجرت کے علاوہ پیداوار کے منافع میں بھی شریک کیا گیا ہو؟
یہ مسئلہ دراصل مباحات میں سے ہے۔ شریعت کا اصول یہ ہے کہ انسان کو جس چیز سے منع نہیں کیا گیا ہے اسے وہ اسلام کے حدود اربعہ کا لحاظ رکھتے ہوئے کرسکتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ہمیں معاشیات کے بارے میں چند بنیادی اصول دیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کی روشنی میں ہم اپنی ضروریات کے مطابق تفصیلات طے کرسکتے ہیں۔
جہاں تک سلف سے نظیر لانے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق یہ جان لیجیے کہ اس زمانے میں سرمایہ اور محنت کے وہ مسائل ہی پیدا نہیں ہوئے تھے، جن سے ہمیں یورپ کے صنعتی انقلاب کے بعد سابقہ پیش آیا ہے۔ جدید معاشی نظام نے انسانیت پر جو ظلم ڈھائے ہیں ان کا قرنِ اوّل میں کوئی نشان نہیں ملتا۔ اس زمانے میں چھوٹی چھوٹی گھریلو صنعتیں تھیں، جن میں دس دس، بارہ بارہ افراد کام کرتے تھے اور ایک کنبے کی طرح وہ اپنے معاملات طے کر لیا کرتے تھے۔ یورپ میں صنعتی انقلاب آیا تو اس نے بڑی تیزی سے پوری دنیا میں اپنے پنکھ پھیلا دیے اور گھریلو صنعتیں (Cottage Industries) دم توڑنے لگیں۔ بڑے بڑے کارخانے لگ گئے اور ہزاروں آدمی بیک وقت ایک کارخانے میں کام کرنے لگے۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ وہ محنت کش ایک بہت بڑے کارخانہ دار کے دست ِ نگر ہوگئے۔کارخانہ دار انھیں من مانی شرائط پر ملازم رکھنے لگا، اور وہ مجبور تھے کہ کارخانہ دار کی شرائط پر کام کریں، کیوں کہ کام نہ کرنے کی صورت میں ان کا جینا محال تھا۔ ان کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ ایک دن ہی فاقے سے بچ سکیں۔ دوسری طرف کارخانہ دار اتنی دولت کا مالک تھا کہ وہ دو سال بھی کارخانہ نہ چلائے تو اللے تللے سے رہ سکتا تھا۔ مزدورکی اس مجبوری سے سرمایہ دار نے خوب فائدہ اُٹھایا۔ بالآخر مزدوروں کے اندر اس ظلم کے خلاف لہر اُٹھی اور انھوں نے متحد ہوکر آواز بلند کی تو سرمایہ دار کو اس متحدہ قوت کے سامنے جھکنا اور مزدوروں کے انسانی حقوق تسلیم کرنا پڑے۔ ایک مدت کی جدوجہد کے بعد یورپ میں مزدور اور کارخانہ دار کے تعلقات خوش گوار مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔
اب سوال کے اصل نکتے کی طرف آتا ہوں، یعنی کیا مزدور کا اُجرت کے علاوہ نفع میں بھی حصہ ہے؟ اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ مزدور کو جو اُجرت ملتی ہے وہ دراصل نفع ہی کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ اب ضروری نہیں کہ وہ نفع میں اس کی نسبت کے عین مطابق ہو۔ چونکہ مزدور کو اپنی گزراوقات کے لیے ایک ماہانہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے وہ رقم اسے تنخواہ کی صورت میں مل جاتی ہے، لیکن زائد منافع اس کا محفوظ رہتا ہے جو سال چھے مہینے میں پورا حساب لگانے کے بعد اسے بونس کی شکل میں ملنا چاہیے۔(سیّدابوالاعلٰی مودودی)
جب مزدور منافع میں شریک ہونے کا دعوے دار ہے تو کیا یہ ضروری نہیں کہ اسے نقصان میں بھی برابر کا شریک ٹھیرایا جائے؟
شرکت‘ اور ’مضاربت‘ دو مختلف اصطلاحیں ہیں۔ ’شرکت‘ اسے کہتے ہیں کہ ایک آدمی کسی کاروبار میں اپنے سرمایے کے ساتھ شریک ہو۔ ایسی صورت میں کاروبار میں ہونے والے نفع اور نقصان میں دونوں حصہ دار قرار پاتے ہیں۔ اور ’مضاربت‘ اسے کہتے ہیں کہ ایک آدمی کسی کاروبار میں محض اپنی محنت کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور محنت کے صلے میں وہ اس کاروبار سے نفع حاصل کرتا ہے، مگر وہ اس کاروبار میں ہونے والے کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ ایک مزدور اور کارخانہ دار کے درمیان یہی ’مضاربت‘ کا تعلق ہے، جس میں نقصان کی زد اس پر نہیں پڑتی۔ (سیّدابوالاعلٰی مودودی)
میں کئی برس سے ایک کاروبار کررہا ہوں ۔ میں نے اپنے ایک دوست کو پیش کش کی کہ وہ بھی اس میں شریک ہوجائے۔ وہ اس پر رضا مند ہوگیا۔ اب کاروبار میں میرا سرمایہ ۷۰ فی صد اور میرے دوست کا ۳۰ فی صد ہے ۔ ہم اس پر متفق ہوگئے کہ نفع میں دونوں برابر کے شریک ہوںگے ، یعنی نفع میں ہر ایک کا حصہ ۵۰ فی صد ہوگا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کاروبار میں خسارہ ہوتو کیا اس میں بھی ہم دونوں برابر کے شریک ہوں گے، یعنی ہر ایک کو۵۰ فی صد خسارہ برداشت کرنا ہوگا، یا جس کا سرمایہ جس تناسب سے لگا ہوا ہے اس کے اعتبار سے اسے خسارہ برداشت کرنا ہوگا؟
مشترکہ تجارت ’شرکت‘ اور ’مضاربت‘ دونوں طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ ’شرکت‘ یہ ہے کہ دو یاد و سے زائد افراد متعین سرمایوں کے ساتھ کسی کاروبار میں شریک ہوں اور ان کے درمیان یہ معاہدہ طے پائے کہ وہ مل کر کاروبار کریںگے اور نفع ونقصان میں ان کی شرکت متعین تناسب کے ساتھ ہوگی۔ ’مضاربت‘ یہ ہے کہ ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس سے کاروبار کرے اوران کے درمیان یہ معاہدہ ہوکہ نفع میں ایک متعین تناسب سے اسے حصہ ملے گا۔
’شرکت‘ اور ’مضاربت‘ دونوں صورتوں میں نفع دونوں فریق کے درمیان باہم طے کردہ تناسب سے تقسیم ہوگا۔ کسی فریق کے لیےکوئی متعین رقم طے کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ سوال کہ کیا شرکاے کاروبار باہم رضا مندی سے نفع کی تقسیم جس تناسب کے ساتھ چاہیں ، کرسکتے ہیں ؟ ’مضاربت‘ کی صورت میں اس کا جواب تمام فقہا اثبات میں دیتے ہیں ، البتہ ’شرکت‘ کی صورت میں ان کے درمیان اختلاف ہے ۔ احناف اورحنابلہ اس صورت میں بھی شرکاے کاروبار کواجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے درمیان نفع کی تقسیم کا جوتناسب چاہیں ، طے کرسکتے ہیں، لیکن مالکیہ اور شوافع کہتے ہیں کہ نفع کی تقسیم شرکا کے فراہم کردہ سرمایوں کے تناسب سے عمل میں آئےگی۔
جہاںتک نقصان کا معاملہ ہے ، شرکت کی صورت میں وہ ہمیشہ کاروبار میں لگے ہوئے سرمایوں پر ان کی مقداروں کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گااوراسے ان سرمایوں کے مالک برداشت کریں گے۔ مضاربت کی صورت میں مُضـارِب (کاروبارکرنے والے) پر نقصان کا کچھ بار نہیں ڈالا جائے گا ، اسے کلّی طورپر صرف سرمایہ دار کوبرداشت کرنا ہوگا۔
نفع اورنقصان میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کے نزدیک نفع سرمایہ لگاکر کاروباری جدو جہد کرنے کا نتیجہ ہے، جب کہ نقصان کسی جدوجہد کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ کاروباری جدو جہد کے باوجود سرمایے میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ اسلامی معاشیات کے ممتاز ماہر پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی نے کاروبار میں نفع اورنقصان کے فرق کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:
نفع اورنقصان کی نوعیت میں اصولی فرق کا شریعت نے لحاظ رکھا ہے ۔ یہ بات مضاربت کے شرعی اصول سے واضح ہے۔اگر کاروبارِمضاربت میں نقصان ہو تو کاروباری فریق کو اس نقصان کا کوئی حصہ نہیں برداشت کرنا ہوگا ۔ اس نے سرمایے کے ذریعے کاروبارمیں جدوجہد کی، تاکہ سرمایے میں اضافہ ہو اوراس نفع میں سے اسے بھی حصہ ملے، لیکن باوجود کوشش کے اضافہ نہ ہوسکا۔ اس کی کاروباری جہدوجہد ناکام رہی، اسے کوئی نفع نہیں ملے گا۔ یہی اس کا نقصان ہے ۔ اس سے آگے بڑھ کر اس پر سرمایے میں واقع ہونے والی کمی، یعنی کاروبار میں خسارے کا بار نہیں ڈالا گیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ شریعت نقصان کو کاروباری جدوجہد کا نتیجہ یا ثمرہ یا حاصل نہیں قرار دیتی۔ وہ نقصان کوسرمایے میں نقصا ن قرار دیتی ہے ۔ اس کے برعکس اگرمضاربت پر سرمایہ حاصل کرکے کاروباری جدوجہد کرنے والے کی کوششیں کا م یاب ہوئیں اور کاروبار میں نفع ہوا تو اسے اس نفع میں سے ایک حصہ ملتا ہے۔معلوم ہوا کہ شریعت نفع کو سرمایے کے ساتھ کاروبار ی جدوجہد کا نتیجہ اورثمرہ قرار دیتی ہے ۔ شریعت نے نفع اور نقصان کوایک درجہ نہیں دیا ہے، نہ ان کی تقسیم کا اصول ایک رکھا ہے۔(شرکت ومضاربت کے شرعی اصول، مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ،۱۹۸۴، ص ۳۳-۳۴)
خلاصہ یہ کہ مشترکہ تجارت کے دو فریق الگ الگ تناسب میں اپنا سرمایہ لگانے کے باوجود نفع میں برابر کے شریک ہوسکتے ہیں، لیکن نقصان کی صورت میں انھیں اپنے لگائے ہوئے سرمایے کے تناسب کے مطابق ہی نقصان برداشت کرنا ہوگا۔(مولانا رضی الاسلام ندوی)
آج کل عورتوں میں چست لباس بطور پہناوا بہت عام ہوگیا ہے ، خاص طور پر جسم کے نچلے حصے میں پہنا جانے والا لباس ۔ چنانچہ ٹانگوں کا حجم بالکل نمایاںرہتا ہے۔ بسااوقات دینی حلقوں کی خواتین بھی ایسا لباس زیب تن کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ کیا’عموم بلویٰ‘ کی وجہ سے ایسا لباس اب جواز کے دائرے میں آگیا ہے ؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔
جواب: ضروری ہے کہ لباس سے ستر پوشی ہو۔ شریعت میں عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھ (کلائی تک) کے علاوہ پورا بدن ستر قراردیا گیا ہے اوراسے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ کی بہن حضرت اسماءؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضر ہوئیں۔ اس وقت ان کے بدن پر باریک کپڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا رُخ پھیر لیا اور انھیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
یَااَسْمَائُ ! اِنَّ الْمَرْاَۃَ اِذَا بَلَغَتِ الْمَحِیْضَ لَمْ تَصْلُحْ اَنْ یُّرٰی مِنْہَا اِلاَّہٰذَا وَہٰذَا (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فیما تبدی المرأَۃ من زینتہا، حدیث:۴۱۰۴)، اے اسماء! عورت جب سنِّ بلوغ کو پہنچ جائے تو مناسب نہیں کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی دے، سواے اس کے اوراس کے (یہ فرماتے ہوئے آپؐ نے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا )۔
حدیث بالا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے لباس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اتنا باریک نہ ہو کہ اس کا بدن جھلکے۔ اس لیے کہ اس صورت میں ستر پوشی نہیںہوسکتی ، بلکہ اس سے عورت کے محاسن میںاضافہ ہوگا۔ حدیث میں اس کے لیے بہت بلیغ تعبیراختیار کی گئی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : نِسَاءٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ ...... لاَ یَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یَجِدْنَ رِیْحَہَا ( مسلم ، کتاب اللباس ، باب النساء الکاسیات العاریات ،حدیث ۲۱۲۸) ’’ایسی عورتیں جوکپڑے پہن کر بھی عریاں معلوم ہوں و ہ جنت میں نہیں جائیںگی ، بلکہ و ہ جنت سے اتنی دوری پر ہوںگی کہ جنت کی خوش بوبھی ان تک نہیں پہنچ سکے گی‘‘۔
عورت کے لباس کے لیے یہ بھی ضـروری ہے کہ وہ اتنا چست نہ ہو کہ اس کے جسمانی نشیب وفرا ز نمایاں ہوجائیں اوراعضا کا حجم دکھائی دینے لگے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت دحیہ کلبی ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قطبی کپڑا تحفے میں بھیجا ۔ اسے آپؐ نے مجھے عنایت فرمایا ۔ میںنے اسے اپنی بیوی کودے دیا ۔ کچھ دنوں کے بعد آپؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا : ’’تم نے اس قطبی کپڑے کو کیوں نہیں پہنا؟ ‘‘ میںنے عرض کیا : ’’ اے اللہ کے رسولؐ ! میں نے اسے اپنی بیوی کو دے دیا ہے ۔ ‘‘ آپ ؐ نے فرمایا :مُرْہَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَہَا غِلاَلَۃً، اِنِّی اَخَافُ اَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِہَا (احمد : ۲۱۷۸۶) ’’اس سے کہو کہ اس کے نیچے استر لگالے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس کے بغیر ہڈیوں کا حجم ظاہر ہوگا‘‘۔
اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان خاتون کے لیے چست لباس پہنا درست نہیں ہے ۔ اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (مولانا رضی الاسلام ندوی)
فاضل مصنف زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد میں پروفیسر رہے ہیں اور ان کا شمار زرعی ماہرین میں ہوتا ہے۔ باعث ِ تعجب ہے کہ انھوں نے ایک ایسے علمی اور فکری موضوع پر قلم اُٹھایا ہے جس کا زراعت کے کسی بھی شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآن، حدیث اور دیگر علومِ اسلامیہ کے حوالے سے انھوں نے جس عمدگی سے مباحث سمیٹے ہیں، اس کا سبب خود ان کے خیال میں سیّدابوالاعلیٰ مودودی کا فیضانِ نظر ہے۔ ان کے بقول :’’آپ کی تحریروں سے متاثر ہوکر ایک فرد کے اندر وہ نظرپیدا ہوجاتی ہے جس سے وہ صحیح اور غلط میں تمیز کرسکتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر آفتاب صاحب کو اپنے زمانۂ ملازمت ہی سے شدید احساس تھا کہ وطن عزیز کے بعض ادارے اور نام نہاد دانش ور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اور دینی تشخص کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں خاندانی نظام، حقوقِ نسواں، مساواتِ مرد وزن وغیرہ کے حوالے سے بعض احادیث کی آڑ میں دین بیزاری اور اباحیت کے جراثیم پھیلائے جارہے ہیں۔ وہ متعلقہ موضوعات خصوصاً حدیث کا مطالعہ کرتے رہے۔ ملازمت سے وظیفہ یاب ہونے کے بعدلمبی تعطیلات میں سعودی عرب میں قیام کا موقع ملا ۔ انھوں نے اپنے مطالعے کو مکمل کیا پھر قلم اُٹھا کر زیرنظر کتاب تالیف کی۔ اس کے ابواب کے موضوعات (علمِ حدیث اور اس کا ارتقا؛ جنسیت، انسانی زندگی میں اس کی ضرورت و اہمیت؛ اسلام میں عورت کا مقام اور خاندانی نظام؛ مساواتِ مرد و زن کے حامی اور منکرینِ حدیث کے شکوک و شبہات ، ایک تنقیدی جائزہ؛ قرآن اور احادیث پر مستشرقین کے اعتراضات کا جائزہ؛ احادیث میں جنسی موضوعات پر ایک مجموعی نظر) سے کتاب کے مباحث کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔ درحقیقت مصنف نے بڑے دردمندانہ انداز میں صحیح اسلامی نقطۂ نظر کی ترجمانی کی۔ احادیث نبویؐ پر اعتراضات کا بھی بڑی عمدگی سے ردّ کیا ہے۔
کتاب کے آخر میں چار ضمیمے شامل ہیں۔ حدیث کے بارے جسٹس محمد شفیع کے اِشکالات پر مولانا مودودی کے تبصرے سے ڈاکٹر آفتاب صاحب کی توضیحات مزید مضبوط ہوتی ہیں۔ پھر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام کے مضمون: ’فرد کی قوامیت، مفہوم اور ذمہ داری‘ اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالحی ابڑو کے مضمون ’عورتوں کی باجماعت نماز‘ کی حیثیت تائید ِ مزید کی ہے۔ناشر نے کتاب اچھے معیار پر شائع کی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
سائنسی ترقی نے دُور دراز ملکوں اور براعظموں کی طنابیں کھینچ دی ہیں۔ ’پردیس‘ کا تصور ختم ہونے کو ہے۔ ایک طرف انسان سمندروں سے پاتال کی خبریں لارہا ہے اور دوسری طرف وہ ستاروں کی گزرگاہوں کا ہم رکاب ہے، مگر اِس غیرمعمولی ترقی کے باوجود وہ بقولِ اقبال: ’زندگی کی شب ِ تاریک سحر کر نہ سکا‘ کی کیفیت سے دوچار ہے۔ سائنس نے انسان کے لیے آسایش مہیا اور آسانیاں فراہم کی ہیں۔ اِس اعتبار سے وہ انسانیت کے لیے باعث ِ رحمت ہے مگر بعض حریص انسانوں اور قوتوں نے سائنس کو نیوکلیائی ہتھیاروں اور طرح طرح کی زہریلی گیسوں، اور زہریلے جرثوموں والے بموں کے ذریعے دو عظیم جنگوں میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اب بھی یہ سلسلہ افغانستان، شام، عراق اور صومالیہ میں جاری ہے۔
زیرنظر کتاب اسی اجمال کی تفصیل پیش کرتی ہے۔ آٹھ ابواب (سائنس اور ٹکنالوجی ایک تعارف۔ سائنس رحمت بھی زحمت بھی۔ بنی نوعِ انسان کی ہلاکت۔ سیاسی و اقتصادی استحصال۔ انسانوں پر سائنسی تحقیق اور مالی مفادات۔ ماحول کی تباہی۔ سائنس کا ذمہ دارانہ استعمال) کے عنوانات سے موضوع کے ابعاد کا اندازہ ہوتا ہے۔ مصنف نے ایک بہت پھیلے ہوئے موضوع کے سمندر کو ایک کتاب کے کوزے میں بند کر دیا ہے۔
دراصل، سائنس اور ٹکنالوجی توایک ذریعہ ہے۔ آپ چاہیں تو اس کے ذریعے انسان کو بیماریوں سے نجات دلا کر اُسے صحت مند بنا سکتے ہیں۔ چاہیں تو اُسے اعلیٰ تعلیم دلا کر نئی سے نئی ایجادات کے ذریعے سے زندگی کو باسہولت بنا سکتے ہیں، مگر جیساکہ فیضان اللہ خان نے بتایا ہے کہ بڑی طاقتوں نے سائنس اور ٹکنالوجی کو اپنے مخالفین اور چھوٹی قوموں کے استحصال کا ذریعہ بنایا، سائنسی تجربات کے لیے زندہ انسانوں کی چیرپھاڑ کی اور کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کو پھیلایا۔
مصنف نے مستند حوالوں کے ذریعے برطانیہ، امریکا، جاپان،عراق، شام اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے اداروں اور مجرمین کی نشان دہی کی ہے۔ بڑی طاقتوں کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے اپنے جرائم پر پردہ پوشی کے لیے کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں پر پابندی کی بظاہر تو حمایت کی اور معاہدے بھی کیے کہ ہم ان ہتھیاروں کے استعمال سے اجتناب کریں گے مگر جرائم کا ارتکاب بھی جاری رکھا۔ مصنف کہتے ہیں: ’’ٹکنالوجی نے لوگوں کے درمیان فاصلے تو ختم کر دیے، لیکن دلوں کے فاصلوں میں اضافہ ہوگیا۔ کیونکہ انسان سائنسی ترقی کو اپنے اقتدار اور غلبے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ آسمانی ہدایت ہی دینِ اسلام کی جامع ترین شکل میں دنیاوی تعصبات و ترجیحات سے ماورا ہوکر رہنمائی کرتی ہے اور اِس راستے پر چل کر انسان سائنس کو نسلِ انسانی کے لیے کامل راستہ سلامتی کا ذریعہ بنا کر رکھ سکتا ہے‘‘۔
اس وقت، جب کہ ماحولیاتی آلودگی ، گلوبل وارمنگ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی پوری دنیا کے لیے مسئلہ بنے ہوئے ہیں، سائنس بورڈ نے ایک راہ نماکتاب تیار اور شائع کرکے ایک مفید خدمت انجام دی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
اُردو کے علمی حلقے مریم جمیلہ کے نام سے بہ خوبی واقف ہیں۔ ان کی درجنوں انگریزی کتابوں میں سے چند ایک کے اُردو تراجم بھی شائع ہوچکے ہیں۔ مغربی تہذیب کے بارے میں ان کے خیالات اس لیے اہمیت رکھتے ہیں کہ وہ نیویارک کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئیں اور ان کی تعلیم امریکی اور ایک یہودی اسکول اور بعدازاں یہودی اساتذہ کی شاگردی اور نگرانی میں ہوئی لیکن اللہ نے انھیں ہدایت دی۔ اسلام قبول کرلینے کے بعد وہ پاکستان آگئیں اور پلٹ کر کبھی امریکا نہیں گئیں۔ یہیں پیوند ِ خاک ہوئیں۔
اُردو میں ترجمہ شدہ ان کے ۱۶مضامین اور مصاحبوں (انٹرویو) پر مشتمل زیرنظر کتاب خاصی دل چسپ ہے، حالاں کہ ایسے علمی مباحث کم ہی ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ مغربی تہذیب اور مادہ پرستی، تحریکِ آزادیِ نسواں ، ابوالکلام آزاد، سرسیّد احمد خاں، جدید ترقی و تمدن اور مولانا مودودی وغیرہ۔ دو مضامین (میرا مطالعہ - یہودیت سے اسلام تک) کی حیثیت خودنوشت کی ہے۔ اسی طرح آخری مصاحبہ ’مریم جمیلہ کی کہانی خود ان کی زبانی ‘ایک طرح کی خودنوشت کی حیثیت رکھتا ہے۔
بعض باتیں چونکا دینے والی ہیں، مثلاً وہ کہتی ہیں:’’موجودہ صورتِ حال میں احیاے اسلام کی کسی تحریک کی کامیابی کا امکان نظر نہیں آتا‘‘۔ان کے خیال میں اس کی متعدد وجوہ ہیں، مثلاً : ’’ہماری جدید تعلیم یافتہ اشرافیہ، سابقہ فرماں روائوں کی ہوبہو نقل ہیں اور یہ لوگ جوش و جذبے کے ساتھ وطن یا معاشرے کو مغربی ممالک کی روایات میں رنگنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس اشرافیہ کے لوگ تعداد میں بہت کم ہیں۔دوسری طرف مسلمانوں کی آبادی کا ایک تہائی، یعنی عوام اگرچہ مضبوط عقیدے کے مسلمان ہیں اور کچھ باعمل بھی ہیں، لیکن ان سب کو آسانی سے ورغلایا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر مسلمان اسلام کو حساس معاملہ سمجھنے کے بجاے عادت اور رواج کے طور پر اپناتے ہیں۔ تیسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مصنّفین موجودہ زمانے کے مسائل کا قابلِ عمل اور حقیقی حل پیش کرنے کے بجاے ماضی کی کامیابیوں پر فخر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں‘‘۔مریم جمیلہ کے خیال میں ہماری کامیابی کا امکان صرف اس صورت میں ہے کہ مادیت پرستوں سے دنیا کی قیادت چھین لی جائے۔
جملہ مضامین فکرانگیز ہیں، خصوصاً کالجوں کے اساتذہ کے لیے قابلِ مطالعہ___ خالد امین نے قریب قریب نصف مضامین خود ترجمہ کیے یا دوستوں سے کرائے۔ یہ اہتمام لائقِ داد ہے۔کتاب خوب صورت چھپی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
میں قانون کا طالب علم ہوں۔ گذشتہ روز ایک کلینک پر ترجمان القرآن پڑھنے کو ملا، جس میں ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی کا مضمون ’ ڈاکٹر حمید اللہ اور قانون بین الممالک‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء)،تاریخ اور علم وفن کی گہرائی تک لے گیا۔ ہمارے بزرگوں نے اتنی محنتوں کے ساتھ علوم وفنون کے دامن کو مالا مال کیا اور ہم ہیں کہ بدقسمتی سے محض مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہو کر ، احساس کم تری کا شکار ہیں۔
’مستحکم پاکستان : مولانا مودودی کا لائحہ عمل‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء ) جاوید اقبال خواجہ نے بڑی رواں تحریر میں قابلِ تحسین مضمون لکھا ہے ، جس میں اہل وطن کے لیے مستقل رہنمائی کا خزانہ موجود ہے
اکتوبر ۲۰۱۸ء کے شمارے میں عارف الحق عارف کا مضمون:’بنگلہ دیش کا ایک تحریکی سفر‘، اعلیٰ درجے کا عملی اور رہنما مضمون ہے۔ یقینا تحریک کے پالیسی ساز اس کے مندرجات کی گہرائی پرغور فرمائیں گے۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد طلب پیدا ہوئی ہے کہ پروفیسر غلام اعظم مرحوم کی خود نوشت کا اردو میں ترجمہ شائع ہو۔
انصار عباسی کے مضمون ،’ اعلیٰ عدلیہ ، عربی زبان…، (اکتوبر ۲۰۱۸ء ) نے حکمران طبقے اور عدلیہ کے رویے کو بے نقاب کیا ہے۔ مضمون کے جامع تعارفی نوٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف کی کم ہمتی بلکہ عربی کی سراسر مخالفت دیکھ کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہییں ، جو انھیں دینی شرافت کی علامت سمجھتے ہیں ۔
’قادیانیت کے حوالے سے بحث‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء )میں برطانوی سامراج کی ہندستان آمد، کے حوالے سے ایک انگریزی رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے کہ: ’یہ رپورٹ آج بھی انڈیا آفس لائبریری میں موجود ہے، جس کی روشنی میں مرزا ے قادیان کو ’ظلی نبی ‘ بنایا گیا ہے‘ (ص ۲۹)۔ بلاشبہہ انڈیا آفس لائبریری میں تقریباً تین سو برسوں پر پھیلے برطانوی مسودات اور رپورٹیں موجود ہیں۔ان کے بارے میں معلومات ’ویب سائٹ ‘ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ افسوس کہ پوری کوشش کے باوجود مَیں اس رپورٹ کا کسی شکل میں سراغ نہیں لگا سکا۔ قادیانیت کے خلاف بعض غیر ثقہ باتوں یا حوالوں کو بھی دُہرایا جا تا ہے جو مناسب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جھوٹی سامراجی اور گمراہ کن اقلیت کی حماقتوں، غداریوں اور ضلالتوں کے لیے خود ان کا اپنا مطبوعہ ریکارڈ ہی بہت کافی ہے ، جس پر اکتفا کر کے مقدمہ پیش کرنا چاہیے ۔
[اعتذار: مذکورہ مضمون کے آخر میں ’ایک قادیانی کو وزیر بنانے‘ کا ذکر ہے۔ یاد رہے اس جملے سے فاضل مضمون نگار کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ بے جا اضافہ (نائب مدیر کی غیرموجودگی میں) ادارے کے ایک کارکن کی طرف سے ہوا ہے، جس پر معذرت خواہ ہیں۔ ادارہ]
’تاریخ کے دریچے ہولناک ہیں اور حوصلہ افزابھی‘ اس بیان کی سچائی کے لیے پروفیسر ابصار عالم کا مقالہ:’ شیخ احمد سرہندی کے خلاف جہانگیری الزامات‘ ( اکتوبر ۲۰۱۸ء ) بڑے قیمتی واقعات ومباحث کو پیش کررہا ہے۔ اس بھولے بسرے باب کی یاد دہانی پر ترجمان القرآن مبارک باد کا مستحق ہے۔
’سیکولر جناح؟‘ از احمد سعید (ستمبر ۲۰۱۸ء ) دل چسپ مضمون ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سیکولر طبقے نے اپنی فکری بے اعتدالی کو پروان چڑھانے کے لیے قائد اعظم کے نام کو استعمال کرنے کا وتیرا اختیار کر رکھا ہے۔ یہ مضمون اس ذہنیت کا ایک مؤثر جواب ہے۔
ستمبر ۲۰۱۸ء کا شمارہ مؤثر ، دلچسپ اور فکر انگیز تھا۔ خصوصاً پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کے ’اشارات‘ بہت گہرا، وسیع اور قابلِ عمل پیغام دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی تشکیل کی وضاحت پر جناب سید مودودی ؒ کا مضمون سوچنے پراُبھارتا ہے اور احمد سعید کی تحریر ’سیکولر جناح؟ ‘ کئی پہلوئوں سے نئی معلومات پیش کرتی ہے۔
ڈاکٹر انیس احمد کے اشارات ’تحریک اسلامی اور خلافت جمہور‘(ستمبر ۲۰۱۸ء ) میں امتِ مسلمہ کے روشن ادوار کا جو تجزیہ پیش کیا گیا ہے ، وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کے لیے حوصلے اور استقامت کا باعث ہو گا۔ اسی مضمو ن میں دعوت کی نئی راہوں کے تحت بیان کردہ نکات عمل درآمد کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر عبدالغفار عزیز کا مضمون ’خود احتسابی اور ایک تجویز، بھی دعوت فکر دیتا ہے۔
ماہ نامہ چراغِ راہ (کراچی) اسلامی قانون نمبر ، جلد اوّل و دوم، مرتب: پروفیسر خورشیداحمد۔ قیمت، جلداوّل: چار روپے۔ جلد دوم: تین روپے آٹھ آنے۔ صفحات: ۳۵۰۔ مقامِ اشاعت: دفترچراغِ راہ، کراچی۔
اس ملک میں بعض اہم مراحل پر چراغِ راہ نے جو فکری اور علمی رہنمائی لوگوں کو دی ہے وہ کسی صاحب ِ نظر سے پوشیدہ نہیں۔ اسی سلسلے کی تازہ ترین پیش کش اسلامی قانون نمبر ہے۔ اس نمبرمیں جو دو جلدوں پر مشتمل ہے، تقریباً وہ سارے مسائل آگئے ہیں جو اس ضمن میں سامنے آسکتے ہیں۔ اس نمبر کے لکھنے والوں میں اسلامی دنیا کی نام وَر شخصیتوں کے علاوہ بعض غیرمسلم اہلِ علم بھی شامل ہیں۔ کسی انسانی کوشش کو خواہ وہ کتنی ہی اچھی اور عمدہ ہو، آخری اور مکمل نہیں کہا جاسکتا۔ یہی حال اس نمبر کا بھی ہے لیکن یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اُردو میں اسلامی دستور پر کسی کتاب یا رسالے میں آج تک اس قدر مواد جمع نہیں کیا گیا جتنا کہ اس میں موجود ہے۔ اس کامیاب کوشش کے لیے چراغِ راہ کے اربابِ بست و کشاد اور خصوصاً اس کے نوجوان و فاضل مدیر بہت زیادہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔
مولانا مودودی اور تصوف ، مرتبہ:مولانا ابومنظور شیخ احمد۔ ناشر: مکتبہ جہانِ نو، سرگودھا۔ صفحات: ۱۴۰، قیمت: ڈیڑھ روپیہ۔ طباعت کا معیار عمدہ۔
مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی پر جو مختلف اعتراضات وقتاً فوقتاً کیے گئے ہیں، اُن میں ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ مولانا تصوف کی مخالفت خواہ مخواہ کرنے لگے ہیں۔ یہی اعتراض بعض بڑی واجب الاحترام شخصیتیں بھی کرتی ہیں، اس لیے ضروری تھا کہ اس اعتراض کا جائزہ لیا جاتا۔ اسی ضرورت کے پیش نظر مولانا ابومنظور شیخ احمد نے اس موضوع پر قلم اُٹھایا اور یہ ثابت کیا ہے کہ: اگر تصوف سے مراد تزکیۂ نفس ہے تو پھر مولانا بھی اس کے اُسی طرح قائل ہیں جس طرح کہ کسی مسلمان کو ہونا چاہیے۔ اسی سے اس کے اندر اخلاص اور بے لوثی پیدا ہوتی ہے اور اسی راہ پر چل کر وہ صبروثبات جیسی لازوال نعمت پاتا ہے۔ لیکن اگر تصوف سے مراد اشراقی، رواقی، زرتشتی اور ویدانی فلسفوں کا وہ ملغوبہ ہے، جس میں مشرکانہ تخیلات اور اعمال تک خلط ملط ہوگئے ہوں تو اُس تصوف کے مولانا نہ صرف قائل ہی نہیں بلکہ سخت مخالف بھی ہیں اور اسے بیخ و بُن سے اُکھاڑنا خدمت ِ دین سمجھتے ہیں‘‘۔ زیرتبصرہ کتاب کا اندازِ بیان بڑا سنجیدہ اور باوقار ہے۔ (’مطبوعات‘، پروفیسر عبدالحمید صدیقی، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۲، نومبر ۱۹۵۸ء، ص ۶۲-۶۳)