یورپ کی نشاتِ ثانیہ کے دوران، سائنس کا مذہب سے تصادم ہوا ۔ دوسری جانب یہ بات ہر شک و شبہہ سے بالاتر ہے کہ علوم کے بارے میں قرآن کا بیان ناقابلِ انکار اور آخری حقیقت ہے: اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ۶۰ (اٰل عمرٰن۳: ۶۰) ’’یہ اصل حقیقت ہے جو تمھارے ربّ کی طرف سے بتائی جارہی ہے، اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو، جو اس میں شک کرتے ہیں‘‘۔آج دنیا میں کو ئی ایسا تجربہ اور مشاہدہ ،کوئی سائنسی تحقیق اور انکشاف ایسا سامنے نہیںآیا جو قرآن کے کسی پیش کردہ حقائق کی نفی کرسکے ۔جدید تحقیقات اور انکشافات نے قرآن کی حقانیت اور صداقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں ہی کیا ہے۔قرآن میں جو باتیں چودہ سو سال پہلے کہی گئی تھیں،جدید تحقیقات اس کی حقانیت پر استدلال کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے انسانی علوم میں اضافہ ہوتا رہے گا، یہ انکشافات قرآن کی صداقت پر شہادت دیتے رہیںگے۔قرآن نے آفاق و انفس کی نشانیاںبار بار پیش کی ہیںاور پھر تدبرو تفکر کی دعوت بھی دی ہے۔جب انسان اس کی کھوج لگانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی قوانین فطرت کو دریافت کرتا ہے اور کبھی حیرت انگیز معلومات اس کے سامنے آتی ہیں۔
تفہیم القرآن کے تفسیری حواشی میں دیگر علوم کی طرح سائنس کی جدید تحقیقات سے بھی اس کا دامن بھرا پڑا ہے۔ مولانا مودودی نے بالواسطہ طور پر بہت سے اہم نفسیاتی حقائق اور رُموز کی نشان دہی کی ہے۔نفسیاتی اعتبار سے تفہیم القر آن کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ مولانا مودودی نے آثار النفس سے توحید و رسالت اور معاد (آخرت) جیسے اہم حقائق کی حقیقت کو منوایا ہے ۔ آثار النفس سے انھوں نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ انسانی جسم کی ہیئت ترکیبی ،اور اس کی ساخت اس امر کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کا سامان بھی مہیا کیا جاتارہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی جسم کو انھوں نے محکم دلیل کے طور پر بار بار پیش کیا ہے ۔
موجودہ ماہرین نفسیات میں سے اکثر کی نگاہ صرف انسانی جسم کے حیاتیاتی تقاضوںتک محدود رہی ،اور اسی وجہ سے وہ بہت سی کوتاہ اندیشیوںکا شکار ہوئے۔ پھر ڈارونیت سے متاثر مکاتب ِفکر کی سب سے بڑی کوتاہی یہ رہی ہے کہ انھوں نے انسان کے محض حیاتیاتی تقاضوں پر زور دیا ہے ،لیکن ان تقاضوں کے علاوہ انسان کی روحانی زندگی کے جو تقاضے ہیں،انھیں نظر انداز کیا ہے ۔مولانا مودودی نے ان روحانی تقاضوںکی طرف بڑے فکرانگیز انداز میں توجہ مبذول کروائی ہے، مثلاًسورۃ الرحمٰن (۵۵) میں انسانی جسم کی ساخت پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا ہے:
انسان کے اپنے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور ایک ایک خلیہ (cell)وہ کام سیکھ کر پیدا ہوا ہے جو اسے انسانی جسم میں انجام دیناہے۔پھر آخر انسان بجاے خود اپنے خالق کی تعلیم و رہنمائی سے بے نیاز یا محروم کیسے ہو سکتا ہے؟ (تفہیم القرآن ،۵، حاشیہ۲، ص ۲۴۹)
اس ذکر کے لیے مولانا مودودی نے قرآن کی چند آیات اس کی وضاحت کے لیے پیش کی ہیں کہ جن میں ان باتوں کو بخوبی بیان کیا گیا ہے :
علمِ نفسیات میں گویائی اور اکتسابی علم (Learning)پر خاصی طویل بحثیں موجود ہیں،لیکن مادہ پرست ذہنوں نے ان دو جوہری ماخذ کے مختلف پہلوئوں کا کما حقہ تجزیہ نہیں کیا۔قوت گویائی کے پیچھے عقل و شعور کی لامتناہی کڑیوں کی طرف بھی بہت کم ماہرین نفسیات نے توجہ دی ہے ۔ سورۂ رحمٰن میں عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (اور اسے بولنا سکھایا)کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی نے اس انسانی جوہر کے بہت سے مضمرات کو بھی اجاگر کیا ہے ۔مثال کے طور پر:
یہ محض قوت گویائی ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے عقل و شعور ،فہم و ادراک ،تمیزو ارادہ، اور دوسری ذہنی قوتیں کارفرماہوتی ہیں، جن کے بغیرانسان کی قوتِ ناطقہ کام نہیں کرسکتی۔ اس لیے بولنا دراصل انسان کے ذی شعوراور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے۔ اور یہ امتیازی وصف جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے تعلیم کی نوعیت بھی وہ نہیں ہو سکتی، جو بے شعور اور بے اختیار مخلوق کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے ۔(تفہیم ،۵، حاشیہ۳، ص ۲۴۹)
انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار ہونے کی توضیح و توجیہہ مولانا مودودی نے تخلیق آدم کی طرف توجہ دلانے والی آیات سے بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ السجدہ کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ (اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ السجدہ ۳۲:۹) کے الفاظ کی مولانا نے بڑی معنی خیز وضاحت کی ہے :
’روح‘ سے مراد محض وہ زندگی نہیں ہے، جس کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے ،بلکہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے جو فکر وشعور اور عقل و تمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے ۔جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقات ارضی سے ممتاز ایک صاحب ِشخصیت ہستی ،صاحب ِاَنا ہستی ،اور حاملِ خلافت ہستی بنتا ہے ۔اس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اسی کی مِلک ہے اور اس کی ذات پاک کی طرف اس کا انتساب اسی طرح کا ہے، جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسوب ہوکر اس کی چیز کہلاتی ہے ،یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم،فکر، شعور ،ارادہ ،فیصلہ ،اختیار اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تَو ہیں۔ان کا سر چشمہ مادّے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے ،اللہ کی حکمت سے اس کو دانائی ملی ہے ،اللہ کے اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے۔یہ اوصاف کسی بے علم، بے دانش، اور بے اختیار ماخذ سے انسان کے اندر نہیں آئے ہیں۔(تفہیم ،۴، حاشیہ۱۶، ص ۴۱)
انسانی جسم کی ساخت اور تخلیقِ آدم کا یہ تصور علم النفس میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔جدید علم نفسیات کی کوتاہیوں اور گمراہیوں کا سر چشمہ وہ مادی اور میکانکی تصورِ حیات ہے،جس کی فکری بنیادیں ڈارون [م: ۱۸۸۲ء]اور ہربرٹ سپنسر [م: ۱۹۰۳ء]کے نظریات پر استوار ہیں۔ان نظریات سے انسانی زندگی کا یہ تصور ابھرتا ہے کہ انسانی شعور کے نام کی کوئی چیز انسان کو حاصل نہیں اور اگر حاصل ہے بھی تو اس کا وجود اور عدم وجود دونوں بے معنی اور بے سود ہیں،کیوںکہ اس کا انسانی زندگی میں کوئی دخل نہیں۔انسان کے بارے میں سگمنڈ فرائڈ [م:۱۹۳۹ء] نے اپنے تصور وافکار کی عمارت اٹھائی اور انسان کو میکانکی قوانین اور شعوری محرکات کے جبر کی محسوس اور غیر محسوس زنجیروں میںجکڑا ہوا دکھایا۔ مولانا مودودی نے اس میکانکی تصورِ حیات اور تصورِ شعور کی قرآن حکیم کی روشنی میں تردید کی ہے اور اس کے مہلک اثرات کا جائزہ لیا ہے ۔اس تصور حیات سے انسانی زندگی جس سانچے میں ڈھلتی ہے، اس کی اجمالی تصویر سورۃ الاعراف کی اس آیت کی تشریح میں پیش کی ہے ،جہاں پر وحی کی روشنی سے بے نیاز ہوکر جینے والوں کی زندگی کو کتّے کی زندگی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
دوسری جگہ مولانا مودودی نے انسانی زندگی میں وحی اور ہدایت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے انسانی فطرت کے اس جوہر کو اُجاگر کیا ہے جسے قرآن حکیم نے ’نفسِ لوامہ‘ کہاہے ۔ ’نفسِ لوامہ‘ پر سبھی مفسرین نے بحث کی ہے اور تصوف میں نفس کی تین اقسام کا ذکر بڑی تفصیل سے موجود ہے۔ مولانا مودودی کا علمی کمال یہ ہے کہ انھوں نے ’نفسِ لوامہ‘ سے معاد پر بھی استنباط کیا ہے۔ مولانا مودودی نے اس لطیف نکتے کی وضاحت یوں فرمائی ہے:
اب اگر انسان کے وجود میں اس طرح کے ایک ’نفسِ لوامہ‘ کی موجودگی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی ’نفسِ لوامہ‘ زندگی بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے، جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے۔کیوںکہ فطرت کا یہ تقاضا کہ اپنے جن اچھے اور برے اعمال کا انسان ذمہ دار ہے، ان کی سزا یا جزا اسے ضرور ملنی چاہیے،زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہوسکتا۔ (تفہیم ،۶، حاشیہ۲، ص ۱۶۳)
’نفسِ لوامہ‘ سے آخرت پر استدلال کے علاوہ مولانا نے ’نفسِ لوامہ‘ کی وضاحت بھی بڑے فکر انگیز انداز میں کی ہے ۔ سورۂ قیامہ:۷۵،سورئہ دہر:۷۶ اور سورۂ شمس:۹۱ میں ’نفسِ لوامہ‘ سے انسانی فطرت کے پہلوئو ں کو واضح کیا گیا ہے ۔اسی طرح مولانا مودودی نے ’سواء السبیل‘کی اصطلاح پر جو اظہار خیال کیا ہے وہ بھی نفسیاتی مباحث میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’نفسِ لوامہ‘ اور ’سواء السبیل‘دراصل دونوں لازم و ملزوم ہیں۔(دیکھیے: تفہیم القرآن،اوّل، سورئہ مائدہ ۵، حاشیہ ۳۵، ص ۴۵۲-۴۵۴)
انسانی فطرت میں ’نفس لوامہ‘ اور’سواء السبیل‘کی وجہ سے راہ راست کے داعیہ کی نشان دہی کے علاوہ مولانامودودی نےقَالُوا بَلٰیکے مفاہیم کی وسعتوں کو واضح کرکے انسانی فطرت کے بہت اہم گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ ان گوشوں کی روشنی میں کارل ژنگ [م:۱۹۶۱ء] کے نقوشِ اولین (Archetypes) کے تصور کا اگر تنقیدی جائزہ لیا جائے،تو قرآن میں انسانی نفسیات کے بہت سے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں،جن پر اب تک بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔ابن عربی کے اعیان ثابتہ کے تصور کو ان مباحث کی مدد سے زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی نے میثاق کے نقش کی اہمیت کے بارے میں لکھا ہے :
اس نقش کو شعور وحافظہ میں تازہ تو نہیں رکھا گیا ،لیکن وہ تحت الشعور (subconscious mind) اوروجدان(Intuition)میں یقینا محفوظ ہے۔اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے تحت الشعوری اور وجدانی علوم کا حال ہے۔تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاملات کے تمام شعبوںمیں انسان سے آج تک جو کچھ بھی ظہور میں آیا ہے، وہ سب درحقیقت انسان کے اندر بالقوۃ (potentially) موجودتھا ۔خارجی محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر کچھ کیا ہے تو صرف اتنا کہ جو کچھ بالقوۃ موجود تھا اسے بالفعل کردیا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی تعلیم ،کوئی تربیت،کوئی ماحولی تاثیر اور کوئی داخلی تحریک انسان کے اندر کوئی چیز بھی، جو اس کے اندر بالقوۃموجود نہ ہو، ہرگز پیدا نہیں کرسکتی۔اور اسی طرح یہ سب مؤثرات اگر اپناتمام زور بھی صرف کردیں تو ان میں یہ طاقت نہیںہے کہ ان چیزوںمیں سے، جو انسان کے اندر بالقوۃ موجود ہیں،کسی چیز کو قطعی محو کردیں۔زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں،وہ صرف یہ ہے کہ اسے اصل فطرت سے منحرف (pervert)کردیں۔ لیکن وہ چیز تمام تحریفات کے باوجود اندر موجود رہے گی، ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتی رہے گی، اور خارجی اپیل کا جواب دینے کے لیے مستعد رہے گی ۔(تفہیم ،۲، حاشیہ ۱۳۵، ص ۹۸)
مولانا مودودی نے انسانی فطرت کی اصل افتاد اور اس کے داعیات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت کے تصادموں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ سورۂ اعراف میں حبوط آدم سے متعلقہ آیات کی توضیح کرتے ہوئے نفس انسانی کی ترغیبات کا ذکر مولانانے تفصیل سے پیش کیا ہے ۔اس تفصیل کی مددسے انسانی شخصیت کے تصادمات کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ اجتماعی نفسیات سے متعلق امور کا ذکر بھی مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں جابجا کیا ہے۔
مثال کے طور پر سودکے ہمہ گیر اثرات کو مولانا مودودی نے بڑے عمدہ انداز میںپیش کیا ہے ۔اس بحث میں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی کوتاہی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سود کے علاوہ اباحیت مطلقہ اور زنا کے اثرات پر مولانا مودودی نے سورئہ نور پر بحث کی ہے ۔وہ ان تمام خرابیوں کو سامنے لاتے ہیں، جو اُس معاشرے میں فروغ پاتی ہیں،جہاں جنسی خرابیوں کے بارے میں مداہنت (compromise) کی روش موجود ہو۔ سود ،زنا کے علاوہ سورۂ بنی اسرائیل میں انسانی اجتماعی نفسیات کو سمو دیا ہے۔ اسی طرح انھوں نے تین بنیادی خرابیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فحش ،منکر اور بغی ،جن سے ہلاکت پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ اجتماعی خوبیاںجن سے معاشرہ فردوس بہ داماں بنتا ہے،گویا اجتماعی انسانی نفسیات کا ایک عمدہ خاکہ تفہیم القرآن کی مدد سے تیار کیا جا سکتا ہے ۔
ایک اعلیٰ بھارتی پولیس افسر وبھوتی نارائن رائے (Vibhuti Narain Ray) کی تحریر کردہ یہ کتاب Hashimpura 22 May فرقہ وارانہ فسادات کی داستان ہی نہیں ہندستانی مسلمانوں کی مظلومیت ، بے چارگی اور انصاف سے محرومی کا نوحہ بھی ہے ۔ یہ کتاب تحریر کرنے میں وبھوتی نارائن رائے کو ،جو ہندی کے ایک اعلیٰ پائے کے ادیب بھی ہیں،۲۹ سال لگے !اور کتاب ہاشم پورہ قتل عام کی ۳۰ویں برسی پر شائع ہوئی ۔ تین عشروں پر پھیلے عرصے کو مختصر نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم، اس طویل مدت کے دوران میں بھی نہ تو میرٹھ، ملیانہ اور ہاشم پورہ قتل عام کے متاثرین کو انصاف مل سکا ہے اور نہ ان قصورواروں کو کہ جنھیں میرٹھ کے مسلمان ’مجرم‘ قرار دیتے ہیں،کوئی سزا ہی دی جاسکی ہے ۔پھر یہ ’قصوروار‘ یا ’ مجرم‘ کوئی اور نہیں پولیس والے ہی ہیں ، یوپی کی بدنام زمانہ پی اے سی (پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری ) کے جوان۔ یہ کتاب اس لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ پولیس والوں کی درندگی اور مسلمانوں کی مظلومیت کو، ایک پولیس والے نے ہی اُجاگر کیا ہے ۔
یہ کتاب ابتدائیے اور نو ابواب پر مشتمل ہے۔ ہاشم پورہ کے قتل عام کی داستان انتہائی دل دہلانے والے انداز میں تحریر کی گئی ہے ۔حقائق اور سچائی سے کہیں رُوگردانی نہیں کی گئی ہے۔ میرٹھ کے فسادات کا دور، شدیدقسم کی فرقہ پرستی کا دور تھا۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک زوروں پر تھی، تب بھارتی وزیراعظم راجیوگاندھی (م: ۲۱مئی ۱۹۹۱ء)نے مسجد کا بند دروازہ کھلوا دیا تھا۔فرقہ وارانہ کشیدگی کا عالم یہ تھا کہ پی اے سی نے اپنے ہی ایک مسلم افسر کی اس وقت جان لے لی تھی، جب اس نے مسلمانوں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انھی حالات میں۲۲ مئی۱۹۸۷ء کو وہ واردات ہوئی جسے وبھوتی رائے نے ’ہندستان میں حراستی قتل کی سب سے بڑی واردات‘ قرار دیا ہے ۔ اس رات جو کچھ ہوا رائے نے پہلے باب میں اسے بڑی تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ انھوں نے یہ پتا لگانے کی بھی کوشش کی ہے کہ ہاشم پورہ قتل عام کی بنیادی ’وجہ ‘ کیا تھی؟
بات ۲۱مئی ۱۹۸۷ءسے شروع ہوتی ہے جب ایک فوجی افسر میجر ستیش چندرکوشک کےبھائی پربھات کوشک کو ، جو مکان کی چھت پر تھا ایک گولی آکر لگی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ یاد رہے کہ ستیش اور پربھات کی خالہ شکنتلا شرما اس زمانے میں بھارتیہ جنتاپارٹی میں ایک شعلہ بیان لیڈرتھیں۔ ۲۱مئی کو پربھات کی موت ہوئی اور۲۲مئی کو پی اے سی کی ۴۱ویں بٹالین کمانڈر سریندر پال سنگھ کی قیادت میں ہاشم پورہ پہنچی ۔ موقعے کے گواہ بتاتے ہیں کہ پی اے سی کی ٹکڑی کے ساتھ میجر ستیش چندر کوشک بھی تھے۔ ۴۲مسلم نوجوانوں کو بندوق کی نوک پر گھروں سے نکال کر ٹرک میں بھرا گیا ۔ ٹرک پہلے مرادنگر پہنچا پھر مکن پور، جہاں اپرگنگا اور ہنڈن ندی کے کنارے پرمسلم نوجوانوں کو ٹرک سے اُترنے کے لیے کہا گیا ، وہ جیسے جیسے اترتے گئے ویسے ویسے پی اے سی والے انھیں گولی مارکر ندی میں پھینکتے گئے ۔ ’ ہاشم پورہ ۲۲مئی‘ ان ہی مقتولین کی داستان ہے ۔ دوایسے افراد کی زبانی یہ رُودادِ الم رائے نےجمع کی ہے، جو گولی باری سے اللہ کی مشیت سے اس لیے بچ نکلے تھے کہ دنیا کے سامنے پی اے سی کی درندگی کو افشا کرسکیں۔ رائےلکھتے ہیں:
رات کے کوئی ساڑھے دس بجے ہوں گے ، ہاپوڑ سے میں بس ابھی واپس لوٹا ہی تھا۔ ضلع مجسٹریٹ نسیم زیدی کو ان کی سرکاری رہایش گاہ پرچھوڑ کر میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر اپنے گھر کے قریب پہنچا تو میری کار کی ہیڈلائٹس ڈرے سہمے وہاں کھڑے سب انسپکٹر وی بی سنگھ پر پڑیں، جو لنک روڈ پولیس اسٹیشن کے انچارج تھے۔ مجھے احساس سا ہوا کہ اس کے حلقے میں کوئی خوف ناک بات ہوگئی ہے ۔ میں نے ڈرائیور سے کارروکنے کو کہا اور باہر نکل آیا ۔
اس کے بعد وبھوتی رائے نے وی بی سنگھ کی زبانی یہ خبر سننے کی تفصیل بیان کی ہے کہ ’’پی اے سی نے چند مسلمانوں کو قتل کردیا ہے‘‘۔رائے کے دماغ میں سوالات اٹھنے لگے ، انھیں کیوں قتل کیا گیا ہے؟ کتنوں کو قتل کیا گیا ہے؟ انھیں کہاں سے اٹھایا گیا تھا؟ رائے نے ان سوالات پر صرف غور ہی نہیں کیا بلکہ وہ مرادنگر کی سمت روانہ ہوئے ۔ اپرگنگا اور ہنڈن ندی کے قریب ہونے والے قتل عام سے تین افراد بابودین، ذوالفقار اور قمرالدین بچ نکلے تھے ۔ بابودین کورائے نے ندی سے نکالا تھا، اس کو دوگولیاں لگی تھیں ۔دوسرے دو افراد بھی زخمی مگر زندہ تھے۔
آج ۳۰سال بعد لوگوں کے ذہنوں سے ہاشم پورہ قتل عام کے نقوش محو ہوچکے ہیں، جنھیں دوبارہ اُجاگر کرنے کا کام رائے نے اس کتاب سے کیا ہے۔۔ رائے نے اسے ’آزاد ہندستان میں حراستی قتل کی سب سے بڑی واردات‘ کہا ہے۔ وہ اسے ’ریاست کی بہت بڑی ناکامی‘ قرار دیتے ہیں‘۔ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسی واردات ہے جس میں ریاست کے ایجنٹ، قاتلوں کے ساتھی بنے ہوئے تھے اور یہ ناقابلِ معافی جرم ہے ‘۔
جب ہاشم پورہ کی واردات ہوئی تھی تب رائے پڑوسی ضلع غازی آباد میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے ۔انھوں نے ذکر کیا ہے کہ وہ پی اے سی کی چھاؤنی بھی گئے اور اس ٹرک کو بھی دیکھا جس میں مسلمانوں کو بھر کرلے جایا گیا تھا، ٹرک کو پانی سے دھویا جارہا تھا۔رائے نے اعلیٰ پولیس افسران تک ’قتل عام‘ کی خبر پہنچائی۔ قتل عام کا معاملہ درج کرانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی۔ انھوں نے تفتیشی ایجنسیوں کی چھان بین پر نگاہ رکھی۔ پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری (پی اے سی) کی نقل وحرکت پر نظر رکھی۔ انھوں نے دیکھا کہ ’ ریاست اور پولیس نے مل کر قتل عام کی ایک المناک واردات پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ ‘
رائے نے ۲۲مئی کے روزہی اعلیٰ پولیس افسران کے سامنے پی اے سی کی چھاؤنی پر ’چھاپہ مارنے‘ کی تجویز پیش کی تھی جو ٹھکرادی گئی تھی۔ یہ تجویز انھوں نے صرف اعلیٰ پولیس افسران کو نہیں اس وقت کے کانگریسی وزیراعلیٰ ویر بہادر سنگھ کے سامنے بھی رکھی تھی اور انھیں ’قتل عام‘ کی واردات سے بھی باخبر کیا تھا۔ پھر یہ تجویزبھی سامنے رکھی تھی کہ پی اے سی کی چھاؤنی پر چھاپہ مارا جانا چاہیے تاکہ ثبوت اکٹھے کیے جاسکیں‘‘۔ مگر کانگریس نے ہمیشہ کی طرح میرٹھ فسادات اور ہاشم پورہ قتل عام کو بھی نہ صرف دبانے کی بلکہ ساری واردات کو ’ من گھڑت‘ قرار دینے کی کوشش کی اور اس میں وہ اعلیٰ پولیس افسر بھی شریک تھے، جنھیں یہ خبر رائے نے خود دی تھی کہ قتل عام ہوا ہے۔ رائے کہتے ہیں کہ: ’’ہاشم پورہ کے مقتولین اور متاثرین کیسے جمہوریت کے تینوں ستونوں کی طرف سے نظرانداز کیے گئے، بلکہ تینوں ہی ستونوں، یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ نے ان سے ’ ناانصافی‘ کی‘‘۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ’’ہاشم پورہ قتل عام کی کہا نی ہندستانی ریاست اور اقلیتوں کے درمیان گھناؤنے غیرمتوازن تعلقات، پولیس کے اخلاقی رویّے اور پریشان کن سست رفتار عدالتی نظام کی کہانی ہے‘‘۔ رائے کے مطابق: ’’ ہاشم پورہ آج بھی بہیمانہ ریاستی جبر اور ایک بے ریڑھ کی ایسی ریاست و حکومت کی علامت بنا ہوا ہے ،جو اپنے ہی لوگوں ۔۔۔قاتلوں کے آگے سرنگوں ہوگئی تھی‘‘۔
ایک پولیس اور انٹیلی جینس افسر کے طور پر رائے نے تفصیل سے بتا یا ہے کہ کیسے ’ تفتیش‘ کا رخ موڑا گیا ۔وہ بہت سارے چہروں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور بہت سارے کرداروں کے ’رویّے‘ کو اُجاگر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کیسے اپرگنگا اور ہنڈن ندی کے قریب ہوئے قتل عام سے بچنے والے نوجوانوں کو وہ محفوظ ٹھکانے تک لے گئے ۔ وہ بھارتی سیاست دان اور دانش ور سیّدشہاب الدین (م: ۴مارچ ۲۰۱۷ء) سے ملاقات اور بابودین کو ان کے سامنے پیش کرنے کے ساتھ، ان کی ڈاکٹر صاحبزادی کی جاںفشانی اور انھی کے ذریعے ہاشم پورہ قتل عام کو اُجاگر کرنے کا ذکر بھی بڑی وضاحت سے کرتے ہیں ۔
راجیوگاندھی، پی چدمبرم (اُن دنوں وزیر داخلہ تھے)، ایل کے اڈوانی وغیرہ کا ذکر بھی کتاب میں موجود ہے ۔راجیوگاندھی نے پہلے ’ دل چسپی‘ دکھائی تھی اور پھر ’بے رخی‘۔ اس زمانے کی میرٹھ کی کانگریسی مسلمان رکن پارلیمنٹ محسنہ قدوائی (پ:۱۹۳۲ء)ان کے قلم کی کاٹ سے نہیں بچ پاتیں کہ جنھوں نے دوٹوک انداز میں، پارلیمانی اور عوامی سطح پر وبھوتی رائے کی مدد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ اپنی تحریر میں مسلم قائدین پر بھی برملا تنقید کرتے ہیں ۔ ان کے قلم کی دھار کے سامنے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سی آئی ڈی سیّد خالد رضوی اور اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ نسیم زیدی پردے کے پیچھے چھپ نہیں پاتے۔
وبھوتی نارائن رائے نے جس کتاب کو تحریر کرنے کا آغاز۱۹۸۷ء سے کیا تھا اس کی تکمیل وہ ہاشم پورہ قتل عام کے مقدمے کے فیصلے کے بعد کرنا چاہتے تھے ۔ فیصلہ ۲۱مارچ ۲۰۱۵ءکو آیا ، اس سے قبل ۲۱جنوری ۲۰۱۵ءکو فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلےمیں تمام ملزم پولیس والوں کو بری کردیا ۔ رائے اس فیصلے پر کہتے ہیں کہ’ فیصلہ افسوس ناک ضرور ہے مگر اُمید کے برخلاف نہیں‘۔ رائے نے تسلیم کیا ہے کہ تفتیش کو دانستہ غلط رخ دیا گیا ۔ آخرکار ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۸ء کو، ۳۱برس بعد دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود گویل نے فیصلہ سناتے ہوئے، ہاشم پورہ قتل عام کے جرم میں پولیس کے ۱۶سابق افسروں کو عمرقید کی سزا سنا دی ہے۔
وبھوتی نارائن رائے (پ: ۲۸نومبر۱۹۵۱ء ، اعظم گڑھ، اور الٰہ آباد یونی ورسٹی سے ایم اے انگریزی) کی یہ کتاب Hashimpura 22 May: The Forgotten Story of Indian's Biggest Custodial Killing ۳۰۴صفحات پر مشتمل ہے، جسے پینگوین ،انڈیا نے جولائی ۲۰۱۶ء میں شائع کیا ہے۔ بھارتی ۳۹۹ روپے یا ۱۵؍ڈالر اس کی قیمت ہے۔ جو شخص ’عظیم جمہوری ہندستان‘ کے غیرجمہوری چہرے کو دیکھنا چاہتا ہے، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ انگریزی کے علاوہ یہ ہندی میں بھی دستیاب ہے، مگر اب تک اُردو ترجمہ شائع نہیں ہوا۔ممکن ہے کوئی صاحب یہ خدمت انجام دے رہے ہوں۔
پروفیسر محمد سعودعالم کا مضمون ’قرآن اور علمِ نافع‘ (نومبر۲۰۱۸ء) زندگی اور علم کے بارے میں فرد کے نقطۂ نظر کو وہ راہیں دکھاتا ہے ، جو اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ ہیں۔
سری نگرسے میرے چچا ایک تحفے کے طور پر عالمی ترجمان القرآن کا شمارہ نومبر۲۰۱۸ء لائے، جسے مَیں نے دو نشستوں میں پڑھ ڈالا۔ہر مضمون کو پہلے مضمون سے بڑھ کر قیمتی پایا۔ خاص طور پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے قرآنِ حکیم سے اقبال کی وابستگی کو بڑے خوب صورت انداز سے بیان کیا ہے، اور یہ چیز ہمیں قرآن سے تعلق جوڑنے پر اُبھارتی ہے۔ اسی طرح مولانا مودودی کی مختصر، مگر جامع تحریر ’توازن‘ نے بہت کچھ سوچنے کے لیے رہنمائی دی۔پروفیسر خورشید احمد کی تحریر ’حکومت کی کارکردگی اوردرپیش چیلنج‘ میں دردمندی اور ہمدردانہ بلکہ دوستانہ تنقید میں بھی گہرے سبق پوشیدہ ہیں۔ افتخار گیلانی نے جارحیت پسند بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کی بے وزنی اور ظلم کی زیادتی کو جان دار انداز سے پیش کیا ہے۔ کاش! یہ رسالہ جموں و کشمیر کی ہربہن اور ہربھائی کے ہاتھ میں پہنچے۔
’ریاست مدینہ‘ اگرچہ ہمارے ہاں ایک نعرہ ہے، لیکن سچی بات ہے کہ یادداشت کو تازہ کرنے اور تاریخ سے جڑنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔ سیّداسعدگیلانی نے بڑے مختصر انداز میں ہمیں ہماری گم شدہ جنت کی منزل بتائی ہے۔ پھر ڈاکٹر انیس احمد نے اسلامی تحریکوں کو آگے بڑھنے کے لیے رہنما اصول دیے ہیں۔
قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں میں اضافے کے بارے میں جاوید اقبال خواجہ کے مضمون نے گہری فکرمندی سے دوچار کیا اور اس سے زیادہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا سبق دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک صاحب ِ ایمان کی حیثیت سے ہمیں آگے بڑھ کر جھوٹے پروپیگنڈے کا تدارک کرنا چاہیے۔
’بھارت میں ارتداد یا بدحالی‘ کے موضوع پر ہمیشہ کی طرح افتخارگیلانی کا محنت اور مہارت سے لکھا پیغام اور تجزیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھارت میں، برہمنیت کی اس جارحیت پسندی اور مسلمانوں کی بے بسی کا کچھ بھی پاس و لحاظ رکھنے کی ہمت اور صلاحیت رکھتے ہیں؟ یہ کام نجی سطح پر بھی ہونا چاہیے، مگر اس سے زیادہ مسلم ممالک کی حکومتوں کے دیکھنے کا ہے۔
نومبر ۲۰۱۸ء میں محمد بشیر جمعہ نے اپنی تحریر ’عملی زندگی میں تنظیم وقت‘ میں بڑے دل نشین انداز میں روزمرہ کے کاموں کی منصوبہ بندی کا نظام الاوقات دیا ہے۔ ان ہدایات کی روشنی میں ہم روزانہ کے اُمور کے ساتھ تحریکی کام اور عبادت کے لیے نہ صرف آسانی سے وقت نکال سکتے ہیں، بلکہ بہت سے فضول کاموں سے بھی بچ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ’رسائل و مسائل‘ میں ’فوجداری جرائم‘ تجارت میں شرکت اور مضاربت کا فرق پیش کر کے تجارت کے اہم اصول واضح کیے ہیں۔ خواتین کے چست لباس کے حوالے سے موجودہ حالات میں عورتوں کے لباس کے حوالے سے پیدا ہونے والی صریح غلط کاری کی طرف اشارہ کر کے لباس کے آداب کو بہتر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
پروفیسر ابصارعالم کا مقالہ ’شیخ احمدسرہندی کے خلاف جہانگیری الزامات‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء) کو شیخ احمد سرہندی کے عقائد وحدت الشہور کے تناظر میں پرکھنا چاہیے، جو اسلامی عقائد سے بعدالمشرقین رکھتے ہیں۔
اگر خدا کا خوف نہ ہوتا…!
جس بحث کا آپ نے ذکر کیا ہے، اس کے موقع و محل اور اندازے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اصل بناے بحث بجاے خود یہ مسائل نہیں ہیں بلکہ دل کا ایک پرانا بخار ہے جو مدتوں سے موقعے کی تلاش میں دبا پڑا تھا اور اب اس کو نکالنے کے لیے کچھ مسائل بطور حیلہ ڈھونڈ لیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرکے بیٹھ جائے کہ کسی کو متہم کرنا ہے تو دنیا میں کوئی نہیں ہے جو ایسے شخص کی مار سے بچ جائے۔ آپ جس بڑے سے بڑے قدیم یا جدید مصنف کا نام چاہیں لے لیں، میں آپ کو بتاسکتا ہوں کہ متہم کرنے کا ارادہ کرلینے کے بعد اس کے ہاں سے کیسے کیسے سخت الزامات کی بنیادیں برآمد کی جاسکتی ہیں۔ دوسروں کو چھوڑیئے، اگر خدا کا خوف اور ایک ایک لفظ پر اس کے حضور بازپُرس کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بطور نمونہ بتاتا کہ خود اِن حضرات کو ضّال اور مضلّ ثابت کر دینا، بلکہ انھیں دین اور ملّت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ٹھیرا دینا کتنا آسان ہے اور آدمی تقویٰ و خشیت کا لباسِ زور پہن کر کیسی کچھ باتیںخود ان لوگوں کے خلاف بنا سکتا ہے۔
میرا قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کی تنقید میں مجھے اس طرح کے محرکات محسوس ہوتے ہیں تو مَیں اس کا جواب دینے سے پرہیز کرتا ہوں، کیونکہ وہ تو اپنے مقصد کی خاطر ہروادی میں بھٹکتا پھرے گا، میں اپنا مقصد چھوڑ کر اس کے پیچھے کہاں کہاں بھٹک سکتا ہوں۔اور آخر اس طرح کے لوگوں سے اُلجھ کر مَیں پھر اور کسی کام کے لیے وقت بھی کہاں سے لاسکتا ہوں۔
اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ بعض حضرات [برسوں] سے مسلسل مجھ پر حملے کررہے ہیں، اور ابھی چند سال سے تو کچھ لوگوں نے میرے خلاف الزام تراشیاں کرنا اپنا مستقل مشغلہ ہی بنارکھا ہے، مگر میں نے کبھی ان کی کسی بات کا جواب نہ دیا، یا حد سے حداگر کبھی ضرورت سمجھی تو اپنی پوزیشن کی وضاحت کردی اور اس کے بعد انھیں چھوڑ دیا کہ جب تک چاہیں اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے رہیں۔ (’رسائل و مسائل‘،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۳، دسمبر ۱۹۵۸ء، ص۵۶-۵۷)