دسمبر ۲۰۱۸

فہرست مضامین

تفہیم القرآن اور علم نفسیات

ڈاکٹرعظمیٰ خاتون فلاحی | دسمبر ۲۰۱۸ | نظامِ حیات

مدینہ منورہ کی ریاست کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان بار بار یہ کہتے ہیں کہ ان کا آئیڈیل مدینہ کی ریاست اور حکومت ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے یقینا ان کا دل بھی یہی چاہتا ہوگا کہ وہ یہ کام کریں اور اس کی عملی تشکیل کی سمت میں بامعنی قدم بڑھائیں۔ ہمیں اس خواہش کو محض سیاسی بیان سمجھنے کے بجاے ان کے قول کواقبال، قائداعظم اور تحریک ِ پاکستان کے تصورِ پاکستان کا اعادہ سمجھنا چاہیے اور حکومت اور قوم دونوں کی ذمہ داری ہے کہ عملاً اس سمت میں پوری یکسوئی کے ساتھ پیش قدمی کریں۔

یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم متعین کرکے بتائیں کہ یہ ماڈل کیا ہے؟ پھر اس بات کو واضح کیا جائے کہ اس ماڈل کو حاصل کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟ ہم نے جو نکات نومبر۲۰۱۸ء کے ترجمان میں بیان کیے تھے ،وہ اس باب میں معاون ہوسکتے ہیں ۔

ریاست مدینہ کے ماڈل کے حوالے سے بنیادی طور پر غورطلب باتیں حسب ِذیل ہیں:

  • مدینہ کے ماڈل میں خود حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مرکزیت حاصل ہے، یعنی آپؐ کے فرمودات (جو وحی پر مبنی ہوتے تھے)، آپؐ کا کردار،آپؐ کے فیصلے اور بحیثیت مجموعی آپؐ کا قائم کردہ طرزِ حکمرانی ہی اصل ماڈل ہے۔ چنانچہ حضوؐر کی ذات سے تعلق، ان سے رہنمائی لینا اور سنت کو معیار (criteria) بنانا، یہ اس ریاست کی پہلی ضرورت ہے۔
  • مدینہ ، مکّہ کا تسلسل:دوسری بات یہ ہے کہ مدینہ دراصل مکّہ میں پیش کی جانے والی دعوت، جدوجہد، کش مکش اور تربیت کا تسلسل اور تکمیل ہے۔ مدینہ کا معنی صرف مدینہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مکّہ اور مدینہ کا رسالت ِمحمدیؐ کا پورا دور ہے۔ گویا کہ مکّہ اور مدینہ میں دوئی نہیں یک رنگی اور یک جائی ہے۔
  •  میثاق:تیسری چیز یہ ہے کہ مدینہ کی سیاسی تنظیم اور بنیاد دو میثاق ہیں۔ یہ دونوں اہم تاریخی دستاویزات ہیں جن کا ازسرِنو مطالعہ اور تجزیہ کرنے اور ان سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ ان کی اشاعت بھی اس کے لیے مفید اور ضروری ہے۔
  1. پہلا میثاق وہ ہے جو حضوؐر اور اہلِ مدینہ میں سے قبولِ اسلام کرنے والوں کے درمیان ہوا، خاص طور سے ’بیعت عقبۂ ثانی‘۔ اس بیعت میں جس چیز پر لوگوں نے بیعت کی وہ حضوؐر کو صرف نبی ماننا ہی نہیںتھا بلکہ انھیں قائد، سربراہِ مملکت اور مدینہ کا سربراہ تسلیم کرنا تھا۔ بیعت عقبۂ ثانی کے موقعے پر پوری بحث کو پڑھیں تو وہاں یہ الفاظ بیان ہوئے تھے کہ مدینہ سے آنے والے   ایک یا ایک سے زیادہ لوگوں نے یہ کہا کہ سوچ لو تم کیا بات تسلیم کرنے جا رہے ہو؟ یہ ماننے کے بعد ساری دنیا تمھارے خلاف اُٹھ کھڑی ہوگی اور تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے اور ان کے دفاع اور دین کے لیے جان دینے کا عہد کر رہے ہو۔ یہ اُن کا وژن تھا۔انھوں نے کہا کہ ہاں، ہم سمجھتے ہیں کہ کیا عہد کر رہے ہیں اور ہمیں یہ قبول ہے۔ گویا یہ حضوؐر کو نبی ماننا، ان کو پولٹیکل اتھارٹی ماننا اور ان کی بنیاد پر ایک مملکت قائم کرنا ہے۔ یہ پہلے میثاق کی بنیاد تھی۔ یہ حضوؐر کے اور حضوؐر کے ماننے والوں کے درمیان میثاق ہوا تھا۔
  2. دوسرا ’میثاقِ مدینہ‘ ہے جو پہلی ہجری میں غیرمسلموں کے ساتھ ہوا تھا، جس میں خصوصیت سے بنی اسرائیل، مدینہ کے قبائل اور قبائل کے سردار شامل تھے۔ اس معاہدے کی روح یہ ہے کہ حضوؐر نے غیرمسلموں کو غیرمسلم رہتے ہوئے اسلامی ریاست کا شہری مانا، ان کے حقوق طے کیے اور یہ اہداف طے کیے کہ کس طرح سے مل کر دفاع کریںگے۔ طے ہوا کہ یہود اپنے دفاعی اخراجات خود برداشت کریں گے اور مسلمان اپنے دفاعی اخراجات خود برداشت کریں گے۔

معلوم ہوا کہ شہریت، حقوق اور ذمہ داریاں ان دونوں میثاقوں کی بنیاد ہیں۔ اس سے    یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مختلف عقائد کے حامل افراد ایک ریاست کے شہری ہوسکتے ہیں اور اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے مشترک تعلقات (joint relationship) کے ساتھ ریاست کا نظام چلایا جاسکتا ہے، یعنی ایک یہ کہ مسلمانوں کا حضوؐر کو بحیثیت نبی ماننا اورریاست کا سربراہ ماننا، اور غیرمسلموں کا حضوؐر کو نبی تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی انھیں ریاست کا سربراہ ماننا، آخری سیاسی اتھارٹی تسلیم کرنا۔ پھر یہ کہ ایک اسلامی قیادت اور اسلامی مملکت کا غیرمسلموں کے حقوق اور ان کے مقام کا تعین کرنا۔ مدینہ کا ماڈل سمجھنے کے لیے یہ دونوں معاہدے بنیاد ہیں۔

  • مسجد :حضوؐر نے مدینہ میں آتے ہی پہلا کام یہ کیا ہے کہ جہاں آپؐ کی اُونٹنی بیٹھی، آپؐ نے وہ زمین حاصل کرکے وہاں مسجد کی تعمیر فرمائی۔ ہمارےوزیراعظم صاحب کو جاننا چاہیے کہ یہ مسجد عبادت گاہ بھی تھی اور مشاورت کے لیے آج کی اصطلاح میں پارلیمنٹ بھی، مقامِ عدل و قضا بھی تھا اور اُمورِخارجہ و اُمورِ دفاع کا مرکز بھی۔ یہ تمام اُمور اللہ کے گھر میں، اللہ کی رہنمائی اور رسولؐ کی قیادت میں، آخرت کی جواب دہی اور انسانیت کی فلاح کے لیے انجام پاتے تھے۔
  • مدرسہ : پھر اس مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ قائم کیا اور تعلیم کاسلسلہ شروع کیا جس کا مطلب ہے کہ ریاست مدینہ میں جتنی اہمیت مسجد کی ہے، اسی قدر اہمیت قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس اور علم کی بھی ہے۔
  • ماں : اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کا دین میں بڑا بنیادی کردار ہے۔ انھوں نے حضوؐر کی تسکین، مالی معاونت، وفاداری،اولاد کی تربیت کی اورصحابیات نے مکّی دور میں بے پناہ قربانیاں دیں۔ تاہم، ماں کا کردار مدینہ میں آکر ایک اور شان کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ خاندان کی تشکیل ، مذکورہ تمام قربانیوں سے بڑی قربانی یہ کہ اُمت کی اصلاح اور تربیت کے لیے اُم المومنین کا اپنی   نجی زندگی کوعام کر دینا ہے۔ یہ مرحلہ مدینہ منورہ میں پیش آیا، جس نے رسولؐ کی نجی زندگی کو پبلک زندگی میں تبدیل کر دیا اور نجی اور مجلسی زندگی کا ہرپہلو اُمت کے لیے سنت اور نمونہ قرار پایا۔
  • مواخات :اس کے بعد آپؐ نے اسلامی معاشرت اور مواخات کے فروغ کے لیے معاہدئہ مواخات کیا، یعنی مدینہ کی نئی آبادی مہاجروانصار کے درمیان نئے تعلقات قائم کیے۔ فنی طور پر دیکھیں تو دو مختلف قومیں، مختلف روایات کی علَم بردار ہیں۔ قریش عرب میں ایک اُونچا مقام رکھتے تھے مگر یہاں وہ ایک مجبور اور مہاجر کی حیثیت سے آئے تھے ۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا کہ کیسے سوسائٹی کے اندر ایک نیا بھائی چارہ، نئی اخوت قائم کی جائے اور معاشرتی تعلقات قائم کیے جائیں؟ اس کو مواخات کہا جاتا ہے اور یہی مواخات اسلامی وحدت اور اُمت بنانے کی بنیاد بن گئی اور مدینہ کو صحیح معنوں میں مدینہ بنا دیا۔ پھر مدینہ محض انصار اور مہاجروں کا مسکن نہیں رہا بلکہ اُمت مسلمہ کا مرکز و محور بن گیااور ہمیشہ رہے گا۔
  • مساوات:یہاں سے مساوات کا تصور اُبھرتا ہے۔ ایسی مساوات کہ جس میں: مسلم و غیرمسلم کے درمیان، امیر اورغریب کے درمیان،اعلیٰ نسب اور کم نسب کے درمیان اور غلام اور آقا کے درمیان انصاف کرنا ہے بلکہ انصاف سے آگے بڑھ کر اپنا حق دوسرے کے لیے قربان کرنا، یعنی احسان کا رویہ اپنانا۔
  • مفادِ عامہ:یہاں سے مفادِ عامہ سامنے آتا ہے۔ اسلام میں جہاں اللہ سے تعلق اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، وہیں ہماری اجتماعی زندگی اور معاشرت کا مرکز مفادِ عامہ ہے، یعنی فلاحی ریاست میں فلاحی معاشرے کا قیام ضروری ہے۔ قرآنِ پاک میں جس طرح نماز اور زکوٰۃ کی تلقین ہے، اسی طرح حقوق العباد کی ادایگی کا حکم بھی ہے۔ خون کے رشتوں کے احترام اور ان کو نفقہ اور میراث کے قوانین کے ذریعے ایک سوشل سیکورٹی کے نظام میں مربوط کرنا ضروری ہے۔ پھر سوسائٹی کے مظلوم اور محروم طبقات، خصوصیت سے یتامٰی، مساکین اور بیوائوں کی کفالت کے لیے فکرمندی اور زکوٰۃ اور زکوٰۃ سے بھی زیادہ انفرادی اور اجتماعی ایثار کے ذریعے وسائل فراہم کرنے کی ہدایت۔ اسلام کا یہ فلاحی نظام اخلاق اور قانون دونوں کو مؤثر طور پر استعمال کرتا ہے اور یتیم اور مسکین کے حق سے لاپروائی کو دین اور یومِ آخرت کے انکار سے تعبیر کرتا ہے۔ یہ عمل مدینہ کے فلاحی نظام کو تاریخ کا ایک منفرد نظام بنا دیتا ہے۔
  • مجاہدہ اور جہاد: پھر تمام غزوات اور سرایا اسی زمانے میں ہوتے ہیں اور جہاد  فی سبیل اللہ، دعوت، ہجرت براے دعوت۔ نیز ہجرت دعوت بھی تھی اور ظلم سے بچنے کا ذریعہ بھی ۔ حضوؐر کے دور میں اور حضوؐر کے بعد دنیا کےگوشے گوشے میں لوگوں کو دعوت کے لیے بھیجا گیا۔ اس مجاہدے کا آغاز دعوت اور اس کا فطری نتیجہ ، حق و باطل کی کش مکش اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی کوشش ہے۔ اس کا ایک مرحلہ مقابلہ اور تصادم بھی ہے۔ جہادفی سبیل اللہ ان تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ شرک اور نفاق، بیرونی اور اندرونی چیلنجوں سے نبٹنے کے مراحل میں جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔
  • مذاکرات : حضوؐر نے مدینہ کے دورِ حکمرانی میں، اس زمانے کے تمام حکمرانوں کے نام خطوط لکھ کر سفیروں کو روانہ کیا۔ اسی طرح قریش کے ساتھ مذاکرات کیے اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حق کی آبیاری کے لیے دعوت، دفاع اور مذاکرات سب چیزیں ضروری ہیں۔
  • معبود حقیقی کا قرب: ان سب چیزوں کا ہدف اور مقصود معبودِ حقیقی کا قرب ہے، اس کی رضا کا حصول ہے اور اس کے حصول پر کامیابی ہے۔

یہ ۱۲کے ۱۲ نکات ’میم‘ سے شروع ہوتے ہیں: محمدؐ، مدینہ، میثاق، مسجد، مدرسہ، ماں، مواخات، مساوات، مفادِ عامہ، مجاہدہ اور جہاد، مذاکرات اور معبودِ حقیقی کا قرب۔

یہ ہے مدینہ کا ماڈل اور یہ ہیں اس ماڈل کے بنیادی اجزا۔ آج کے زمان و مکان (Time and Space) میں آپ جتنا بھی رنگ بھرلیں اوراس کو وسعت دے لیں، آپ کے لیے، اُمت کے لیے اور انسانیت کے لیے سعادت مندی کا راستہ آں حضوؐر کی قائم کردہ ریاست ِ مدینہ کے اتباع ہی میں مضمر ہے۔

(سفرِ برطانیہ کے دوران یہ نکات برادرِ عزیز سلیم منصور خالد کو اِملا کرا دیے تھے)

اللہ کی رضا کا حصول روحانیت کا سب سے بلند مرتبہ ہے۔ اس مرتبے کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مضبوط قلبی تعلق مطلوب ہے اور یہی عبادت کی روح ہے۔ جبریل امینؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے ، آنجنابؐ نے پوچھا کہ احسان کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا:

اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ (الجامع الصحیح مسلم) اللہ کی عبادت اس طرح کیجیے کہ گویا آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو اتنی کیفیت پیدا کیجیے کہ خد اآپ کو دیکھ رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے رُوبرو ہونا بندگی کا کمال ہے، مگر اس کیفیت کا دل میں پیدا ہونا پاکیزگیِ  قلب اور انابت کی گہرائی چاہتا ہے۔خدا کو دیکھنے کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے اعضاو جوارح کی تربیت کے ساتھ نفس کا تزکیہ اور دل کی خشیت ضروری ہے ۔ اس سے نیچے کی منزل یہ ہے کہ یہ کیفیت پیدا ہوجائے کہ خدا ہم کو دیکھ رہا ہے۔ یہ تصور بھی انسان کے دل کو بدل دیتا ہے اور نفس کے شروروفتن کوزائل کر دتیا ہے۔ یہی اخلاص ہے۔

اخلاص

ایک مزدور کو اگریہ معلوم ہو کہ اس کا مالک موقعے پر موجود نہیں ہے تو وہ کام میں سستی کرتا ہے، وقت ضائع کرتا ہے اور کام کرتا بھی ہے تو بے دلی سے کرتا ہے، کام کا مطلوبہ نتیجہ نہیں نکلتا ۔ لیکن اگر کسی مزدور کو یہ معلوم ہو کہ اس کا مالک اس کے سامنے کھڑا ہے تو کام میں چستی دکھاتا ہے ، جی لگا کر کام کرتا ہے اور وقت گذاری سے پرہیز کرتا ہے۔ اسی طرح بندے کو یہ احساس ہو جائے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے تو اس کے دل کی کیفیت اور جسمانی عمل کی حالت بدل جاتی ہے۔اس کی عبادت میں یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے اور اسی سے اخلاص پیدا ہوتا ہے۔

عبادت سے مراد صرف نماز نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی عبادت ہے اور ہر عبادت اپنی قبولیت کے لیے اخلاص چاہتی ہے۔ اللہ کی رضا جوئی ، بے لوث بندگی ، اللہ سے خوف وامید کے ساتھ طلب، قبولیت کے دروازے کھولتی ہے۔ کسی عمل میں نام ونمود اور ریا کاری شامل ہو جاتی ہے تو اللہ اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے اور وہ عمل مقبول نہیں ہوتا ۔ اسی لیے اللہ کا حکم ہے:

فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّيْنَ۝۲ۭ اَلَا لِلہِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ۝۰ۭ (الزمر ۳۹:۲-۳) اللہ کی عبادت کرو اس کے لیے دین کو خالص کر کے، آگاہ رہو کہ دین خالص اللہ کے لیے ہے۔

صدقہ ،زکوٰۃ ، خیرات ، غربا پروری اور ناداروں کی حاجت روائی سب انسانیت کی بھلائی اور روحانیت کی ترقی کا عمل ہے ،مگر اس کی شرط بھی اللہ کی رضا جوئی ہے۔ ارشاد ہے:

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا۝۸ اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا۝۹ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِيْرًا۝۱۰ (الدھر ۷۶:۸۔۱۰) اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور ان سے کہتے ہیں کہ ) ہم تمھیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں،  ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیںنہ شکریہ۔ ہمیں تو اپنے رب سے ا س دن کے عذاب کا خوف ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہو گا۔

اللہ کا ذکردل کی زندگی ہے

اخلاص کے لیے اللہ کے حاضرو ناظر ہونے کا احساس ضروری ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کا استحضار اور اس کا ذکر کرتے رہنا روحانیت کی شاہِ کلید ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى۝۱۴ۙ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰى۝۱۵ۭ بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۝۱۶ۡۖ وَالْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى۝۱۷ۭ اِنَّ ہٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى۝۱۸ۙ صُحُفِ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى۝۱۹ۧ (الاعلٰی ۸۷: ۱۴-۱۹) بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنا تزکیہ کیا، اپنے رب کے اسم گرامی کا ذکر کیا اور نماز ادا کی ، بلکہ تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، جب کہ آخرت باقی رہنے والی اور بہترہے۔ یہ بات گذشتہ آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہے، صحیفہ ابراہیم ؑاور صحیفہ موسیٰ ؑ میں۔

اللہ کے ذکر سے روحانیت جِلا پاتی ہے اور روحانی ترقی نصیب ہوتی ہے۔ یہ بات پہلے بھی تمام آسمانی صحیفوں میں بیا ن کی گئی ہے اور اس قرآن میں بھی اس کی تائید کی گئی ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللہَ ذِكْرًا كَثِيْرًا۝۴۱ۙ وَّسَبِّحُــوْہُ بُكْرَۃً وَّاَصِيْلًا۝۴۲ (الاحزاب ۳۳:۴۱-۴۲) اے ایمان والو! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کرو۔

دل میں اللہ کی یاد اور زبان سے اس کا ذکر قلب انسانی کو تروتازہ رکھتا ہے۔ ذکر الٰہی روح کی غذا ہے۔جس دل میں خدا کی یاد ہو وہ زندہ ہے اور جو دل یادِ خدا سے غافل ہو وہ مُردہ ہے۔ قرآن نے یہ راز اس طرح عیاں کیا ہے:

 اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِكْرِ اللہِ ۝۰ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۝۲۸ۭ (الرعد ۱۳:۲۸) جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے طمانیت پاتے ہیں۔ آگاہ ہو کہ اللہ کے ذکرہی سے دلوں کو تسکین ملتی ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روحانی نکتے کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی ہے:

مَثَلُ الَّذِیْ یَذْکُرُ رَبَّہٗ وَالَّذِیْ لَا یَذْکُرُہٗ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ (الجامع الصحیح     بخاری ) اس شخص کی مثال جو خدا کو یاد کرتا ہے زندہ کی ہے، اور اس شخص کی مثال جو خدا کو یاد نہیں کرتا مُردہ کی ہے۔

قرآن کی نظر میں ہر سانس لینے والا انسان زندہ نہیں ہے بلکہ ذکر کرنے والا انسان زندہ ہے۔ جسمانی زندگی کھانے سے اور سانس لینے سے قائم رہ سکتی ہے مگر روحانی زندگی یادِخدا کے بغیر قائم نہیںرہ سکتی۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا۔اسلام کے احکام تو بہت سے ہیں مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجیے جسے میں لازم پکڑلوں۔رسولؐ پاک نے ارشاد فرمایا :

لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِنْ ذِکْرِ اللہِ (سنن ترمذی ) تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تروتازہ رہے۔

اللہ کے ذکر کی ایک تو عمومی شکل ہے کہ اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے ، صبح وشام اللہ کے نام کا ورد کیجیے ، اس کی تسبیح کیجیے ، جس کا حکم قرآن پاک میں اس طرح دیا گیا ہے:

وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَــہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ۝۲۰۵ (الاعراف ۷:۲۰۵) اپنے جی میں اپنے رب کا ذکر کرو،عاجزی اور خاموشی اور کم آواز سے صبح وشام اور غافلوں میںنہ ہوجائو۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے:

فَسُـبْحٰنَ اللہِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ۝۱۷ وَلَہُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْہِرُوْنَ۝۱۸ (الروم۳۰:۱۷-۱۸) اللہ سزا وارۂ تسبیح ہے،جب تمھاری شام ہو اور جب تمھاری صبح ہو،اسی کے لیے آسمان وزمین میں حمد ہے، رات میں بھی اور جب تمھارا دن ہو۔

اللہ کا ذکر انسان کے میل کچیل کو دھو دیتا ہے، دل کی سختی کو دور کر کے خشیت وانابت پیدا کر دیتا ہے، اور اسے بارگاہِ رب العزت میں نذر کے قابل بنادیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۝۲ۚۖ (الانفال ۸:۲)سچّے اہل دل تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں توان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمومی ذکر کے لیے بہت سے وظائف کی تعلیم فرمائی ہے۔ اس میں سب سے آسان ا ور مقبول ذکر ہے ـ: سُبْحَانَ اللہِ  وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ  الْعَظِیْمِ۔

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ، ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ ،حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحمٰنِ  سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ  الْعَظِیْمِ (الجامع الصحیح بخاری) دو جملے رحمن کو بہت بہت پسند ہیں، وہ جملے زبان پر ہلکے اور میزان میںبھاری اور رحمن کو محبوب ہیں۔ سُبْحَانَ اللہِ   وَ بِحَمْدِہٖ  سُبْحَانَ اللہِ  الْعَظِیْمِ ۔

اللہ کے ذکر کی دوسری شکل خاص اور ضابطۂ بند ہے اور وہ نماز ہے جو پانچ وقتوں میں فرض ہے اور بقیہ اوقات میں نفل ہے۔ نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ (طہٰ ۲۰:۱۴) نماز قائم کرمیری یاد کے لیے ۔

ذکر کی منظم اور مکمل صورت نماز ہے۔اسی لیے نماز کو مو من کی معراج فرمایا گیا ہے۔  رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا صَلّٰی یُنَاجِیْ رَبَّہُ ،’’جب تم میں سے  کوئی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے‘‘۔

بندہ کا خدا سے ،حبیب سے مکالمہ وجدانگیز ، روح پرور اور حاصل زندگی ہوتا ہے۔ یہ مقام انسان کو نماز سے حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَيِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ۝۰ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْہِبْنَ السَّـيِّاٰتِ ۝۰ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ۝۱۱۴ (ھود ۱۱:۱۱۴) نماز قائم کرو دن کے کناروں میںاور رات کے حصے میں، بے شک نیکیاں برائیوں کو زائل کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے ذکر کرنے والوں کے لیے۔

عمومی ذکر کا اعتبار اسی وقت ہوتا ہے جب انسان ذکر خصوصی، یعنی نمازکااہتمام کرتا ہو۔ جو شخص فرض نمازوں کا پابند نہیں وہ لاکھ ذکر الٰہی کا دعویٰ کرے اس کا دعویٰ معتبر نہیں، کیوں کہ ایمان اور کفر کے درمیان حدِ فاصل نماز ہے۔ جو شخص خدا کا دوست ہونے کا دعویٰ کرتاہے وہ اس کے آگے سر جھکانے سے اور اس کے حکم کی تعمیل کرنے سے کیسے روگردانی کرسکتا ہے۔

اعمالِ صالحہ

نماز کے علاوہ دوسری تمام عبادات کا اہتمام کرنا،جیسے صدقہ، زکوٰۃ ، خیرات، روزہ ،حج ، جہاداور ان عبادات کے علاوہ تمام اعمالِ صالحہ کا التزام کرنا روحانیت کے لیے لازم ہے۔ صرف کلمۂ توحید کا اقرار کرنا اور شرک وکفر سے پرہیز کرنا روحانی زندگی کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ نیک عمل کو زندگی کا طریقہ اور وظیفہ بنا لینا ضروری ہے۔ روحانیت کے لیے اعمال صالحہ کا اہتمام کرنے کی ضرورت اور حکمت کیا ہے؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے لکھا ہے:

ــ’’عیسائیوں میں جیسا کہ پال کے خطوط میں ہے، صرف ایمان پر نجات کا دارومدار ہے، اور بودھ دھرم میں صرف نیکو کاری سے نروان کا درجہ ملتا ہے اور کہیں صرف گیان اور دھیان کو نجات کا راستہ بتایا گیا ہے ، مگر پیغمبر اسلام علیہ السلام کے پیغام ننے انسانیت کی نجات کا ذریعہ ذہنی (ایمان) اور جسمانی (عمل صالح ) کو ملا کر قرار دیا ہے، یعنی پہلی چیز یہ ہے کہ ہم کو اصول کے صحیح ہونے کا یقین ہو، اس کو ایمان کہتے ہیں ، پھر یہ کہ ان اصولوں کے مطابق ہمارا عمل درست اور صحیح ہو،یہ عمل صالح ہے۔ ہر قسم کی کامیابیوں کا انحصار انھی دوباتوں پرہے۔کوئی مریض صرف اصول طبی کوصحیح ماننے سے بیماریوں سے نجات نہیں پا سکتا ، جب تک وہ ان اصولوں کے مطابق عمل بھی نہ کرے۔ اسی طرح صرف اصولِ ایمان کو تسلیم کر لینا انسانی فوز وفلاح کے لیے کافی نہیںہے جب تک ان اصولوں کے مطابق پورا پورا عمل بھی نہ کیا جائے‘‘۔۶

عمل صالح کا اہتمام کرنے سے انسان اللہ کی نظر میںبھی محبوب ہو جاتا ہے اور دوسرے انسان بھی اس سے محبت اور اس کی عزت کرنے لگتے ہیں،یعنی جو اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتا ہے وہ بندوں کی نظر میں بھی محبوب ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۝۹۶ (مریم ۱۹:۹۶) جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کا اہتما م کیا عنقریب رحمٰن ان کو دوست بنائے گا۔

ترک  معاصی

اعمالِ صالحہ کا فائدہ انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب وہ بُرے اعمال ، بُرے خیالات اور بُری باتوں سے اجتناب کرے۔ اعمالِ صالحہ روحانی امراض کے لیے دوا ہیں اور بری باتوں سے دُور رہنا پرہیز کے درجے میں ہے۔جب تک مریض پرہیز نہیں کرتا دوا کارگر نہیں ہوتی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَذَرُوْا ظَاہِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ ۝۰ۭ (الانعام ۶:۱۲۰) ظاہری اور باطنی ہر قسم کی برائی ترک کر دو۔

بُرے اعمال اور برے خیالات کا اثر انسان کے قلب وذہن پر پڑتا ہے اور اسے روحانی کیفیات کا حامل بننے سے روکتا ہے۔ قرآن پاک میںہے:

كَلَّآ بَلْ  ۝۰۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝۱۴  (المطففین ۸۳:۱۴) ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے ۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرسیاہ نکتہ بن جاتا ہے۔اگر وہ اس سے توبہ واستغفار کرتا ہے تو وہ سیاہی زائل ہو جاتی ہے، اور اگر وہ پھر گناہ کرتا ہے توسیاہی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کاذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے۔

اس لیے روحانیت کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ اوصاف رزیلہ انسان کے دل سے  نکل جائیں اوردوسری منزل یہ ہے کہ اوصاف حمیدہ کادل خوگرہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے  توبہ و استغفار کرنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ جَمِيْعًا اَيُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۳۱ (النور ۲۴:۳۱)   اے مومنو! تم سب اللہ سے توبہ کرو تا کہ فلاح پائو۔

توبہ واستغفار

انسان سے دانستہ خطائیں سر زد ہوتی ہیں۔توبہ ان خطائوںسے معافی کادروازہ کھولتی ہے اور اللہ کی رحمت کومتوجہ کرتی ہے۔اللہ کو وہ بندہ پسند ہے جو غلطی کرے تو اللہ سے توبہ واستغفار کرے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت آدم ؑ اور ابلیس دونوں سے غلطی سرزد ہوئی۔ حضرت آدمؑ کی غلطی یہ تھی کہ اللہ کے منع کرنے کے باوجود انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا اور ابلیس کی غلطی یہ تھی کہ  اللہ کے حکم دینے کے باوجود حضرت آدمؑ کو سجدہ نہ کیا۔ دونوں خطا کار تھے مگر ایک راندۂ دربار ہوا اور دوسرے نے معافی اور محبت پائی،اس لیے کہ دونوں کے رویے میں بڑا فرق تھا۔

پہلا فرق یہ تھا کہ حضرت آدم ؑنے اپنی غلطی کا اقرار کیا مگر ابلیس نے اپنی غلطی کا اقرار نہیں کیا ۔ دوسرا فرق یہ تھا کہ حضرت آدم ؑاپنی غلطی پر نادم ہوئے اور ابلیس کو اپنی غلطی پر ندامت نہیں ہوئی۔ تیسرا فرق یہ تھا کہ حضرت آدمؑ نے اپنی غلطی کو اپنے نفس کی خطا قرار دیا اور ابلیس نے اپنی غلطی کو خد ا سے منسوب کیا اور کہا:رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ(الحجر۱۵:۳۹)’’اے رب تو نے مجھے گمراہ کیا‘‘۔ چوتھا فرق یہ تھا کہ حضرت آدمؑنے گڑگڑا کر توبہ کی اور کہا:

رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنفُسَنَا وَ اِن لَّمْ تَغفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الخٰسِرِینَ اے ہمارے رب ہم نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور رحم نہ کرے تو ہم خسارے میں مبتلا ہو جائیں گے۔

اور ابلیس توبہ کرنے کے بجاے گناہ پہ قائم رہا۔ابلیس کا یہ رویہ غلطی پر اصرار اور سر کشی کا تھا۔ حضرت آدمؑ کا رویہ عاجزی کا تھا۔ ابلیس نے استکبار کیا،حضرت آدم ؑنے استغفار کیا۔ اسی فرق نے دونوں کے انجام کو جدا کیا۔ ابلیس ملعون ہوا اور حضرت آدمؑ محبوب ہوئے۔

صبر وتوکل کا التزام

روحانی اعمال ووظائف کی پابندی کرنا اور منکرات وخواہشات سے اجتناب کرنا صبر چاہتا ہے۔ اس راہ میں مشکلات وموانعات ہیں، تکالیف اور شدائد ہیں اور ان کو انگیز کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو صبر کی تلقین کی ہے اور صبر ہی پر آخرت کا اجر ملتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

 اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(الزمر۳۹:۱۰) صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔

صبر انسان کو حرص وہوس سے بچاتا ہے اور گناہ اور شہوت سے بھی دُور رکھتا ہے۔ صبر وقتی بھی ہوتا ہے اور دائمی بھی۔ روحانی زندگی دائمی زندگی ہے۔ اس لیے صبر کو ہمیشہ اختیار کرنا مومن کی شان ہے۔ اس کے لیے نمونہ انبیا علیہم السلام ہیں خصوصاً محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے جس کے اتباع کا حکم قرآن پاک میں اس طرح دیا گیا ہے:

فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُل(الاحقاف ۴۶:۳۵) جس طرح  عالی ہمت رسولوںؑ نے صبر کیا اس طرح صبر کرو۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوال کیا، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عطا فرمایا ۔ انھوں نے پھر سوال کیا، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔یہاں تک کہ آپؐ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مال ان کو دینے کے بعد فرمایا کہ میرے پاس جو مال آتا ہے وہ تم سے بچا کر نہیں رکھتا۔ اب جو شخص اللہ سے عفت چاہتا ہے اللہ اس کو عفیف بنا دیتا ہے اور جو استغناء طلب کرتا ہے اس کو مستغنی بنا دیتا ہے، اور جو کوشش کر کے صبر اختیار کرتا ہے اللہ اس کو صابر بنادیتا ہے اور کسی شخص کو صبر سے بہتر وسیع عطیہ نہیں دیا گیا ۔(الجامع الصحیح بخاری )

انسانی اذیتوں ، آسمانی بلائوں اور دنیوی مشکلات ومصائب پر صبر کرنے کے ساتھ ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرے۔اسباب ووسائل سے بھی کام لے مگر ان پر بھروسا      نہ کرے، بلکہ بھروسا صرف اللہ پر کرے ، کیوںکہ مشکلات اللہ کی طرف سے آتی ہیں، وسائل واسباب کو اللہ پیدا کرنے والا ہے اور وہی وسائل سے ماورا ہو کر انسان کی مدد کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ۝۰ۭ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا۝۳ (الطلاق ۶۵:۳) جو شخص اللہ پر بھروسا کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے، اللہ اپنا کام انجام تک پہنچاتا ہے، ہر چیز کے لیے اس نے پیمانہ مقرر کر رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب رسولوں کو توکّل کی تفہیم اس طرح دی ہے:

وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللہِ وَقَدْ ہَدٰىنَا سُبُلَنَا ۝۰ۭ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰي مَآ اٰذَيْتُمُوْنَـا۝۰ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۝۱۲ۧ (ابراہیم۱۴:۱۲) اور ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں ،جب کہ اس نے ہمیں ہماری راہیں دکھائیں ، اور ہم تمھاری اذیتوںپر صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔

مال ودولت روحانیت کے منافی نہیں

فقر ودرویشی روحانیت کے لیے موزوں ہے مگر لازمی نہیں ہے۔ مال ودولت روحانیت کے منافی نہیں ہے بشر طیکہ حلال طریقے سے کمایا جائے اور اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کیے جائیں۔ اگر حقوق اللہ ادا کرتے ہوئے مال ودولت حاصل کیا جائے تو یہ مذموم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

رِجَالٌ۝۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءِ

الــزَّ کٰــوۃِ ۝۰۠ۙ (النور ۲۴:۳۷) یہ وہ لوگ ہیں جن کو تجارت اور بیع اللہ کے ذکرسے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے نہیں روکتی ۔

غریبوں ، ناداروں اور محتاجوں پر مال ودولت خرچ کرنا روحانیت کا طریقہ ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب انسان کے پاس مال ودولت ہو۔ مال داروں پر اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ فرض کی ہے اور ان کو صدقات کی تعلیم دی ہے۔ارشاد فرمایا:

اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۲۷۴ؔ (البقرہ ۲:۲۷۴) جو لوگ اپنا مال خرچ کرتے ہیں رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور ظاہری طور پر ، ان کے لیے ان کا اجر ہے، ان کے رب کے پاس، نہ ان کو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا تزکیہ نفس کا بڑا ذریعہ ہے۔ غریبوں پر مال خرچ کرنے سے دولت بھی پاک ہوتی ہے اور انسان کا نفس بھی پاک ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ  میںبہت سے نادار تھے اور بہت سے مال دار ۔ مال دار صحابہ ،نادار صحابہ سے کسی طرح بھی روحانیت میں کم نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ کے تمام احکام بجالاتے تھے اور جو دولت ان کے پاس تھی اسے ناداروں ،محتاجوں اور جہاد میں خرچ کرتے تھے۔ اگر مال داری روحانیت کے منافی ہوتی تو یہ حضرات ہرگز اسے گھر میں آنے نہ دیتے ، کیوں کہ یہ حضرات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ اور ان کے جانشین تھے۔ حضرت ابو بکر ؓ ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ جیسے صحابہ وولت وثروت میںممتاز تھے، تو انفاق فی سبیل اللہ اور غربا پروری میںبھی بے مثال تھے،چنانچہ ان کا روحانی مقام بھی بہت بلند تھا۔

حکومت روحانیت کے منافی نہیں

دولت کی طرح حکومت اور قیادت بھی روحانیت کے منافی نہیںہے، بشرطیکہ خواہش نفس کی تکمیل کے لیے اور عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے نہ کی جائے۔ حکومت اور قیادت کو  دُنیا داری کا کام سمجھا جاتاہے اور روحانیت کو اس سے دور خیال کیا جاتا ہے، مگر قرآن کی نظر میںحکومت اور روحانیت میں تضاد نہیں ہے۔ اگر حکومت اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے کی جائے، انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ کی جائے اور اللہ کے احکام کو اللہ کی زمین میں نافذ کرنے کے لیے کی جائے تو یہی روحانیت کا تقاضا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ۝۰ۭ وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۝۴۱(الحج ۲۲:۴۱) ان لوگوں کوجب ہم زمین میں اقتدار عطا کرتے ہیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں،زکوٰۃ دیتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا اور نیکی کی اشاعت کرنا خالص روحانی عمل ہے اور یہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ اس ذمہ داری کو نبھائیں تو مسند حکومت پر سرفراز ہونے کے باوجود وہ روحانی ہستیاں ہیں۔ انبیا علیہ السلام سے زیادہ روحانی شخصیت دنیا میں کس کی ہوسکتی ہے۔غور کیجیے کہ حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اپنے وقت کے عظیم الشان باد شاہ ہیں اور ایسے صاحب شوکت وحشمت کہ چرند پرند اور ہوائوں پر بھی حکومت ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ اللہ کے جلیل القدر نبی بھی ہیں اور روحانیت کے امام بھی ہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی ہے:

رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا۝۸۰ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۰) پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میںکوئی روحانی ہستی نہیںپیداہوئی،مگر آپؐ  کا اقتدار کے لیے دعا کرنا اور پھر مدینہ پہنچ کر اسلامی ریاست قائم کرنا روحانیت کے منافی نہیں ہے بلکہ روحانیت کو مضبوط اوروسیع کرنے کے لیے ہے،تا کہ زمین پر شیطان کی حکومت ختم ہو اور رحمٰن کی حکومت جاری وساری ہو۔اللہ کے بندوں کے لیے اللہ کی بندگی کا ماحول ساز گار ہو،نفسانیت کا خاتمہ ہو، روحانیت کا بول بالا ہو۔

جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاے راشدین ،حضرت ابو بکر ؓ ، حضرت عمر ؓ، حضرت عثمان ؓاور حضرت علی ؓ مثالی حکمران تھے۔دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے اسوہ اور رہنما تھے اوراسی کے ساتھ وہ روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔آج کی روحانی ہستیوں کا کمال یہ ہے کہ وہ ان خلفاے راشدین کے نقش قدم تک پہنچ جائیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں جس اعتدال وتوازن کی ضرورت ہے وہ ان پاک ہستیوں سے سیکھیں ۔

روحانیت مطلوب ہے رہبانیت نہیں

قرآن نے روحانیت کی جو تعلیم دی ہے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد، یعنی اللہ اور بندوں کے حقوق کی یکساں ادایگی کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے انسان سماج میں  رہ کر دنیا کی ضروریات کی تکمیل کرتے ہوئے اپنی روحانی پاکیزگی کا اہتمام کرے۔سماج سے کٹ جانا، گوشہ نشینی اختیار کرلینا ، لوگوں کی حاجت روائی سے رو گردانی کرنا اور انسانی حقوق کی ادایگی سے غفلت برتنا روحانیت کے منافی ہے ۔ انسانوں کی فیض رسانی کرنا اور ان کی تکالیف پر صبر کرنا روحانیت کا تقاضا ہے، جب کہ رہبانیت ترکِ دنیا کی تعلیم دیتی ہے،انسانی سماج سے علیحدہ ہوجانے اور گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر یاد ِخدا میں زندگی گزارنے کی تلقین کرتی ہے۔ رہبانیت اللہ کو مطلوب نہیں ہے اور اسلام اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادایگی کو روحانی زندگی کا مشن قرار دیتا ہے۔

علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں:

اکثر مذاہب نے دین داری اور خدا پرستی کا کمال یہ سمجھا تھا کہ انسان کسی غار،کھوہ یا جنگل میں بیٹھ جائے اور تمام دُنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔، اسلام نے اس کو عبادت کا صحیح طریقہ نہیں قرار دیا ہے۔ عبادت در حقیقت خدا اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کانام ہے۔ اس بنا پر وہ شخص جو اپنے تمام ہم جنسوں سے الگ ہوکر ایک گوشے میں بیٹھ جاتا ہے، وہ در حقیقت ابناے جنس کے حقوق سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ کسی تعریف کا مستحق نہیں۔ ۷

ازواج واولاد روحانیت کے منافی نہیں

روحانیت کی راہ عبادت ہے اور عبادت کے لیے انسان یکسوئی چاہتا ہے ۔اس یکسوئی کے لیے کبھی وہ تجرد کی زندگی اختیار کر لیتا ہے،یعنی ازواج واولاد کی ذمہ داریوں سے گریز کرتا ہے، اگرچہ تجرد کی زندگی اسلام کی کی نظر میں حرام نہیںہے مگر مطلوب بھی نہیں ہے۔ انبیا علیہم السلام کی روحانی ہستیاں ازواج واولاد کی حامل تھیں۔ ان انبیا ؑمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوررحضرت یحییٰ علیہ السلام نے گو کہ شادی نہیں کی اور ان کے بال بچے نہیں تھے مگر انبیا علیہ السلام کی عظیم اکثریت اُن پر مشتمل تھی جنھوں نے شادی کی اور ازواج واولاد کے حامل ہوئے۔ خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادیاں کیں اور صاحب ِاولاد ہوئے، اس لیے کہ روحانیت کے لیے تجرد کی زندگی مطلوب نہیں ہے بلکہ بال بچوں کی ذمہ داری کے ساتھ روحانی زندگی مطلوب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو یہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے:

رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۝۷۴ (الفرقان ۲۵:۷۴) اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اوراپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔

قبر پرستی روحانیت کے منافی ہے

روحانیت کی علامت صرف تقویٰ اورخدا ترسی ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادایگی ہے۔ اس کے برعکس آج کے عہد میں روحانیت کے لیے مخصوص علامتیں اور رسمیں وضع کر لی گئی ہیں۔ اس ظاہرداری کا روحانیت سے تعلق نہیں ہے، بلکہ بعض رسمیں روحانیت کے لیے نقصان دہ اور مہلک ہیں۔ان ہی میں ایک رسم بزرگوں اور نیک بندوں کی قبروں کو مزین کرنا، ان پر چراغاں کرنا اور ان کو حاجت روائی کے وسیلے کے طور پر اختیار کرنا اور ان کو مذہبی سرگرمیوں کا مرکز بنانا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر جانے اور مُردوں کے لیے دعاے مغفرت کرنے کی تعلیم تو دی ہے مگر قبروں کوسجدہ گاہ بنانے کی ممانعت فرمائی ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:

وَ اِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ اَنْبِیَاءِ ھِمْ وَصَالِحِیْھِمْ مَسَاجِدً ا فَلَا تَتَّخِذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدًا اِنِّیْ اَنْھٰکُمْ عَنْ ذٰلِکَ (الجامع الصحیح مسلم ) تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے، تم لوگ قبروں کو مسجد نہ بنا لینا۔ میں تم کو اس سے روکتا ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں اُم المومنین حضرت ام سلمہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ نے حبشہ کے ایک گرجے کا تذکرہ کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کے یہاں جب کسی نیک انسان کا انتقال ہوتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں اس کی تصویر لٹکا دیتے۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بد ترین مخلوق ہیں قیامت تک ۔ (الجامع الصحیح مسلم )

قبریں خواہ انبیا ؑکی ہوں یا بزرگوں کی، وہ حاجت روائی کا ذریعہ نہیں ہیں اور نہ عبادت کا مرکز ہیں، بلکہ وہ صرف موت کو یاد کرنے کا مقام ہیں۔ ان کے اسوہ پر چلنے کی ضرورت ہے اور ان کی روحانی تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مسجدیں روحانیت کا مرکز ہیں

قبروں کے مقابلے میں مسجدیں حاجت روائی کا وسیلہ اور روحانیت کا مرکز ہیں۔ چوں کہ مسجدمیں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اور عبادت کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اس سے فریاد کی جاتی ہے، اس سے حاجت روائی کی دعا مانگی جاتی ہے اور خدا اپنے بندوں کی دعا قبول کرتا ہے۔اس لیے روحانیت کا اس سے بہتر اور کوئی مرکز نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ ۝۰ۙ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۝۳۶ۙ (النور ۲۴:۳۶) اللہ کا نور ان گھروں میںپایا جاتا ہے جس میں اپنے نام کا ذکر کرنے اور اسے بلند کرنے کا حکم دیا ، ان گھروں میں صبح وشام اس کی تسبیح بیان کی جاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ سات لوگ جو قیامت کے دن اللہ کے سایے میں ہوں گے ان میں ایک شخص وہ ہے جس کا دل مسجد میںلگا ہوا ہو ۔(الجامع الصحیح بخاری )۔ یعنی جس شخص نے مسجد میں پابندی سے نماز ادا کرنے کو وظیفۂ زندگی بنا لیا ہے وہی سایۂ خدا وندی کا مستحق ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور بندگی روحانیت ہے۔ اللہ کے حکم پر عمل کرنا اور غیر اللہ سے کنارہ کشی کرنا روحانیت کی شاہ کلید ہے۔

بہت سے مسلمان ایسے ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعے سے ساری دل چسپی محض حصولِ ثواب کے لیے رکھتے ہیں (اس سعادت سے انکار نہیں کہ حضوؐر سے قربت کی ہرکوشش اللہ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہے اور اجر کا باعث ہے۔ لیکن ایسی کوشش کا اوّلین مدعا اپنی زندگی کو سنوارنا بھی تو ہو )۔ دھوم دھام سے میلاد کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں اور اس اعتقاد سے کی جاتی ہیں کہ ان مجالس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پر نور جلوہ گر ہوتی ہے اور اپنے پیروئوں کی محبت کے مظاہر کو دیکھ کر خوشنود ہوتی ہے۔ شیر ینی کے طشت ، پھولوں کے گجرے اور ہار، قوالی اور نعت خوانی کے اہتمام، اگر بتیوں اور لوبانوں کی خوشبوئوں کے مرغولے ، قمقموں اور فانوس کی لمعہ پاشیاں یہ سب کچھ اسی جذبے کے ترجمان ہیں۔

سیرت نبویؐ سے اس انداز کی عقیدت جو نقشہ سامنے لاتی ہے، اس سے ہم کسی آدم زاد  شخصیت سے نہیں بلکہ ایک فوق الانسان ہستی سے متعارف ہوتے ہیں، جس کا پیکر نور سے ڈھلا ہے۔  جس کے کارنامے میں سارا کردار صرف معجزوں کا ہے، جو عالم اسباب کے قوانین سے بالا تر ہے، جس کے سارے کام فرشتے انجام دیتے ہیں اور جس کی ہر بات ہر چیز انسانی فہم کے دائرے سے باہر ہے۔

اس بنیادی حقیقت سے کوئی صاحب ِ ایمان انکار نہیں کرسکتا کہ ابناے نوع کے مقابلے میں حضوؐر کاروحانی اور اخلاقی پایۂ مرتبت ان انتہائوں پر ہے کہ وہاں بہت سی فوق العادت چیزیں بھی ملتی ہیں، وہاں معجزے بھی ہیں اور وہاں فرشتے بھی حرکت کرتے نظر آتے ہیں مگر بہرحال وہ پاک زندگی ایک انسان کی ہے جو افضل البشر ہیں اور ان کی عظمت کا اساس ہی یہ ہے کہ ایسی لامثال زندگی ایک انسان نے پیش کی۔ وہاں قوانین فطرت اور نو امیسی تاریخ وحدیث ہی کے دائرے میں سارا کام ہوتا ہے اور کامیابی کی راہ کے ایک ایک چپے پر انسانوں کو سبق دینے کے لیے انسانوں ہی کی طرح قربانیاں پیش کی جاتی ہیں۔

وہ ایک انسان کی زندگی ہو کر ہمارے لیے اسوہ بنتی ہے اور اسی کے تصور کے ساتھ ہم اس حیاتِ مقدسہ سے اکتساب کر سکتے ہیں۔ اس سے عزم وہمت کا درس لے سکتے ہیں۔ اس کے اصول کی پابندی اور فرض شناسی کا سبق سیکھ سکتے ہیں۔ اس سے انسانیت کی خدمت کا جذبہ اخذ کر سکتے ہیں اور اس سے بدی کی طاقتوں کے خلاف معرکہ آرا ہونے کے لیے اپنے اندر ایک تڑپ پید ا کرسکتے ہیں۔

اور اگر سیرت نبوی ؐ کو محض معجزہ بناکر اسے فوق الانسان کے طور پر ہی دیکھا جائے تو پھر مٹی کے بنے ہوئے انسانوں کے لیے اس میں نمونہ کیا رہے گا۔ ایسی ہستی کے سامنے ہم مرعوب اور حیرت زدہ تو ہو سکتے ہیں، اس سے ہم عقیدت تو رکھ سکتے ہیں، مگر اس کا اتباع نہیں کرسکتے ۔ چنانچہ جہاں عقیدت مندی کا ایسا خاص رنگ پہنچتا اور گہرا ہوتا جاتا ہے، عملی زندگیاں اتباع نبوت سے اتنی ہی آزاد ہوتی جاتی ہیں، بلکہ الٹی حالت یہ ہے کہ گھنائونے معاشی اور معاشرتی جرائم کے میکدے میں جو لوگ خم لنڈھاتے ہیں، وہ بھی اس سستے مظاہر ۂ عقیدت سے اپنے مضطرب ضمیر کو اطمینان دلاتے ہیں  ع

کچھ بھی ہیں لیکن تیرے محبوب کے امت میں ہیں

دوسری طرف ایک مغربی رجحان اعاظم پرستی یا Hero Worship کی صورت میں حاوی نظر آتا ہے۔ یہ رجحان اپنی روح کے اعتبار سے قوم پرستانہ جذبات کا آئینہ دار ہے۔ ایک طرح کا قومی تفاخر ہے جو دوسروں کے سامنے گویا یہ کہتا ہے کہ دیکھو ہمارے پاس ایسی اور ایسی ہستیاں ہیں۔ ہماری تاریخ میں اتنے اتنے بڑے پائے کے بزرگ ہو گزرے ہیں اوران کے یہ یاد گار کارنامے ہیں، جن کے ہم وارث ہیں اور جو ہمارے لیے سرمایۂ افتخار ہیں۔ اس رجحان کی علامت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ کھوکھلا ہوتا ہے اور اس کے تحت ہر قوم متعدد شخصیات کے ایام پیدایش اور دوسرے یادگاری دن بڑے ٹھاٹ باٹ سے مناتی ہے مگر یہ ایام کہیں بھی ان شخصیتوں سے استفادے کا ذریعہ نہیں بنتے۔ انسانیت کے جن نمونوں کو بصد تفاخر دوسروں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ان کا کوئی پرتو، انھیں پیش کرنے والوں کی اپنی زندگی میں دکھائی نہیں دیتا اور نہ کبھی اس پر تو کو اخذ کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس رجحان کے تحت حضوؐر کی یاد تازہ کرنے کے لیے جو تقاریب منعقد ہوتی ہیں، کہنے کو تو ایک خاص طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں مگر زندگی پر ان کا کوئی اثر نمودار نہیں ہوتا۔

تیسراغلط نقطۂ نظر وہ ہے جو حضوؐر کے پیغام کو ایک نظام حیات کا پیغام نہیں سمجھتا بلکہ ایک مذہب کا پیغام قرار دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے جو لوگ متاثر ہیں ان کا تصور یہ ہے کہ حضوؐر بس چند اعتقادات، چند رسوم، چند عبادات، چند اورادووظائف، چند اخلاقی سفارشیں اور چند فقہی احکام پہنچانے آئے تھے۔ ایسا عنصر حضوؐر سے بس طہارت ، نماز روزے ، نوافل واذکار اور انفرادی اخلاق کی حد تک اکتسابِ فیض کرتا ہے، لیکن تمدنی زندگی کے وسیع تر معاملات میں وہ پوری شانِ بے حسی کے ساتھ ہر باطل کے کام آتا ہے اور ہر جاہلیت کے ساتھ سازگاری کرلیتا ہے۔ اس عنصر نے گویا سیرت نبوی ؐ کی مقدس کتاب کے بے شمار زریں ابواب کو فراموشی کی سرزمین میں دفن کر دیا ہے اور بس ایک مقدمے کی نقل کو لے کر اسی میں کھو گئے ہیں۔ اس عنصر نے اب تک حضوؐر کی جو ترجمانی کی ہے، اس سے متاثر ہو کر دورِ حاضر کی کوئی غیر قوم تو کجا خود تعلیم یافتہ نوجوان مسلم تک یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ حضوؐر ان کے لیے قافلۂ سالار تمدن بھی ہوسکتے ہیں اور ان کی بار گاہ سے تازہ ترین کٹھن مسائل کا کوئی حل بھی مل سکتا ہے۔

یہ غلط نقطۂ ہاے نظر پنپ اس لیے رہے ہیں کہ فضا ان کے لیے سازگار ہے۔ فضا یوں سازگار ہے کہ جس نظام سیاست وتمدن اور جس ہیئت معیشت ومعاشرت سے ہم دوچار ہیں اسے خاص نقشے کا انسان درکار ہے۔ وہ بالکل دوسری ہی سیرت افراد میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کا کام ایک اور ہی طرز کے ذہن وکردار سے چلتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہاں عملی زندگی کو سرے سے اُس نمونۂ زندگی کی ضرورت ہی نہیں جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پیش کرتی ہے۔ اس منڈی میں اُس متاع فکرو عمل کی مانگ ہی نہیں ہے جو آںحضوؐر کی زندگی سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ زندگی کا اجتماعی نظام جس طرز کے وزیر، افسر،  جج، وکیل ، لیڈر، صحافی ، سپہ سالار، سپاہی اور پٹواری،  زمین دار ، ادیب، عام مزودر اور سرمایہ دار مانگتا ہے، ان کا نقشۂ انسانیت اس سے بالکل متضاد قسم کا ہے جس کا مظاہرہ سرور عالمؐ نے تاریخ کےاوراق پر پیش فرمایا۔

چھائے ہوئے نظام کی مانگ کے مطابق گھر گھر میں مائوں کی محبت کی گودیں اور باپوں کی شفقت کی نگاہیں اولادوں کو پال رہی ہیں۔ اس نظام کی ضروریات کا لحاظ رکھ کر ادارہ ہاے تعلیم وتربیت بیس بیس سال ایک ایک فرد پر صرف کرکے کام کے پُرزے بنا رہے ہیں اور اسی کے تقاضوں کے تحت ہر صاحب ِشعور خود اپنے ذہن وکردار کو ایک خاص شکل دینے میں ساری عمر مصروف رہتا ہے۔ یہ نظام جن جن چیزوں کو حقارت اور کراہت سے دیکھتا ہے، ماحول کی پوری طاقت ان کو مٹانے کے در پے رہتی ہے۔ یہ نظام جس بولی کو پسند کرتا ہے، زبانیں آپ سے آپ اسی بولی کو بولنے لگتی ہیں۔ یہ جس لباس کو پسند کرتا ہے، وہ لباس از خود زیب بدن ہونے لگتے ہیں۔ یہ ایک اشارہ کرتا ہے اور قدیمی حیادار گھرانوں کی بہوبیٹیوں کے چہروں سے نقابیں اُلٹ جاتی ہیں۔ عزت کی روش وہ ٹھیرتی ہے جسے مروجہ نظام رائج کرنا چاہے اور ذلت کا طرز وہ قرار پاتا ہے جسے چلتا ہوا تمدن نا پسند کرے۔ جن فنون کو یہ پسند کرتا ہے وہ ذریعۂ مقبولیت بنتے ہیں اور جن جن مشاغل کو یہ مسترد کرتا ہے وہ نذر تغافل ہو جاتے ہیں۔ یہ اپنی اقدار خود بناتا ہے اور تمام افراد سے منواتا ہے اور دوسری تمام روایات، اقدار اور شعائر کو مر جانا پڑتا ہے۔

کچھ حمیت دار افراد اور خاندان، اس ماحول کے جبری دھارے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں مگر معاشی محرومی، ثقافتی پس ماندگی اور احساس برتری کا دبائو اتنا سخت ہوتا ہے کہ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ یہ سب اپنے آپ کو ماحول کے حوالے کرتے جاتے ہیں۔اس ماحول میں  سرور عالم ؐ کی سیرت پر کتابیں اگر کوئی لکھے اور پڑھے بھی اور وعظ سنے اور سنائے بھی تو اسوۂ حسنہ کا ذوق لوگوں کے اندر آئے کہاں سے ؟

سچی بات یہ ہے کہ سیرت نبوی ؐ میں ان لوگوں  کے لیے پیغام ہے ہی نہیں جو کسی غیراسلامی نظام سے بھی یہ بات بنائے رکھنا چاہتے ہوں اور جن کے مفاد کے سودے کسی باطل سے چمک رہے ہوں۔ یہ لوگ سیرت پڑ ھ کر سر دھنتے ہوں گے، ان کو ذہنی لطف و سرور ملتا ہوگا ،ان کی معلومات میں بھی کچھ اضافہ ہوتا ہوگا، لیکن ان میں یہ تحریک کہاں سے آئے گی کہ وہ اس سیرت کے سانچے میں زندگی کو ڈھالیں؟

لیکن ہم کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی داستانِ حیات کوئی خیالی کردار نہیں۔ اس کا مقام ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسے ہم علم وادب کے تفریحی چوپال کا محض ایک سرمایۂ رونق بنائیں۔ اس کی قدر وقیمت اجازت نہیں دیتی کہ اسے ہم محض ذہنی لذت حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں۔ اس کا احترام روکتا ہے کہ ہم اسے محض قومی فخر کے جذبے کی تسکین کا سامان بنائیں۔

افسوس کہ یہ غلط نقطہ ہاے نظر ہمارے ہاں مل جل کر کام کر رہے ہیں اور یہی اصل مقصد میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ کون شمار کرسکتا ہے کہ ہرسال کتنی مجالس میلاد اور جلسہ ہاے سیرت، ہمارے ملک میں منعقد ہوتے ہوں گے؟ ایک ربیع الاوّل کے مہینے میں کتنے وعظ اور کتنی تقریریں ہوا میں لہریں اُٹھا دیتی ہوں گی؟ کتنے مقالے اور کتابیں لکھی جاتی ہوں گی؟ کتنے رسالوں کے خاص نمبر اس موضوع پر شائع ہوتے ہوں گے؟ شعرا کتنی نعتیں لکھتے ہوں گے؟ اور قوال ان کو کہاں کہاں گاتے پھرتے ہوں گے؟ دعوتوں اور ضیافتوں کی کیسی کچھ بہاریںدسترخوانوں پر آتی ہوں گی؟ بازاروں کو سجانے، پہاڑیوں کو کھڑا کرنے اور محرابیں بنانے میں کتنا روپیہ کھپا دیا جاتا ہوگا؟

لیکن دوسری طرف ذرا یہ بھی سوچیے کہ ایک اچھے مقصد پر قوتوں اور روپے کے اس صرف کا واقعی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جائزے کی ترازو کے ایک پلڑے میں اپنی ایک سال کی ان سرگرمیوں کو رکھیے اور دوسرے پلڑے میں حاصل شدہ نتائج کو رکھ کر جانچ کر دیکھیے کہ کیا وز ن نکلتا ہے؟کتنے افراد ہوں گے جو ان نیک مساعی کی بدولت سیرتِ نبویؐ کے سانچے میں اپنی زندگیاں ڈھالنے کی مہم میں ہرسال لگ جاتے ہوں گے؟ اگر ایک جلسے اور ایک مقالے اور ایک نعت کے ذریعے صرف ایک ہی آدمی بدلا ہوتا تو اندازہ کیجیے کہ گذشتہ دو سو سال کا کیا حاصل ہونا چاہیے تھا، اور اگر عملاً وہ حاصل نہیں ہے تو کہیں ہماری مساعی میں کوئی کوتاہی تو موجود نہیں ہے؟

رونا اس کا نہیں کہ وہ کچھ حاصل نہیں ہوا جو مطلوب ہے ،بلکہ اس سے بڑھ کر ماتم اس کا ہے کہ ہمارے پلّے وہ کچھ پڑ رہا ہے، جو محسنِ انسانیت کے پیغام اور کارنامے سے کھلم کھلا ٹکراتا ہے۔ ہمارے اندر آج ایسے عناصر پروان چڑ ھ رہے ہیں جو حضوؐر کے عطا کردہ نظامِ زندگی کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں۔ ایسے عناصر جو حضوؐر کی تعلیمات کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ ایسے عناصر جو سیرت اور سنت اور حدیث کا سارا ریکارڈ دریابرد کردینا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر جو قرآن کو قرآن پیش کرنے والی ہستی کی ۲۳سالہ جدوجہد سے بے تعلق کر دینا چاہتے ہیں،اور حضوؐر کی ہستی کو بطور عملی نمونہ انسانیت کی نگاہوں سے گم کردینے کی خاطر کوشاں ہیں۔ پھر ستم بالاے ستم یہ کہ تعبیر و تاویل کے نام پر حضوؐر کی شخصیت، پیغام اور کارنامے کو موجودہ فاسد تہذیب کے فکری سانچے میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوششیں بھی ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں کہ جس میں محسنِ انسانیتؐ کی بالکل نئی تصویر عالمی طاقتوں کے ذوق کے مطابق تیار کر دی جائے۔

یہی وجہ ہے کہ سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت کے بے شمار مظاہر موجود ہونے کے باوجود اور سیرت پر دماغی کاوشیں صرف ہونے کے باوجود ہماری تاریخ کے اُفق سے وہ نیا انسان طلوع نہیں ہو رہا جس کا نمونۂ کامل حضوؐر نے پیش فرمایا تھا۔ حضوؐر کی سیرت ہمارے اندر بجز اس کے کسی طرح جلوہ گر نہیں ہوسکتی کہ ہم اُس نصب العین کے لیے ویسی ہی جدوجہد کرنے اُٹھیں، جس کے لیے حضوؐر کی پوری زندگی کو ہم وقف پاتے ہیں۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ایک فرد کی سیرت نہیں ہے بلکہ وہ ایک تاریخی طاقت کی داستان ہے، جو انسانی پیکر میں جلوہ گر ہوئی۔ وہ زندگی سے کٹے ہوئے ایک درویش کی سرگزشت نہیں ہے جو کنارے بیٹھ کر محض اپنی انفرادی تعمیر میں مصرو ف رہا ہو، بلکہ وہ ایک ایسی ہستی کی  آپ بیتی ہے جو ایک اجتماعی تحریک کی روح رواں تھی۔ وہ محض ایک انسان کی نہیں بلکہ ایک انسان ساز کی آواز ہے۔ وہ عالمِ نو کے معمار کے کارنامے پر مشتمل ہے۔ ایک پوری جماعت، ایک انقلابی تحریک اور ایک ہیئت اجتماعیہ اس کارنامے کی تفصیل اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔

سرورعالمؐ کی سیرت غارِحرا سے غارِثور تک، حرمِ کعبہ سے لے کر طائف کے بازاروں تک، اُمہات المومنینؓ کےحجروں سے لے کر میدان ہاے جنگ تک چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے نقوش بے شمار افراد کی کتابِ حیات کے اَوراق کی زینت ہیں۔ ابوبکر و عمر، عثمان و علی، عماریاسرو خالد و خویلد اور بلال و صہیب رضوان اللہ علیہم اجمعین، سب کے سب ایک ہی کتابِ سیرت کے چمکتے دمکتے زندہ اوراق ہیں۔ ایک چمن کا چمن ہے کہ جس کے لالہ و گل اور نرگس و نسترن کی ایک ایک پتی پر اس چمن کے مالیؐ کی مقدس زندگی مرقوم ہے۔ وہ قافلۂ بہاراں وقت کی جس سرزمین سے گزرا ہے ، اس کے ذرّے ذرّے پر نگہت کی مہریں ثبت کرگیاہے۔ دنیا کی اس بلند ترین شخصیت کو اگر سیرت نگاری میں محض ایک فرد بنا کر پیش کیا جائے اور سوانح نگاری کے مروّجہ طرز پر اس کی زندگی کے بڑے بڑے کاموں، اس کی نمایاں مہمات اور اس کے اخلاق و عادات کو بیان کر دیا جائے، کچھ تاریخوں کی چھان بین اور واقعات کی کھوج کرید کر دی جائے، تو ایسی سیرت نگاری سے صحیح منشاء ہرگز پورا نہ ہوگا۔

پھر سرورعالمؐ کی زندگی کی مثال کسی ایک تالاب میں کھڑے پانی کی سی نہیں کہ جس کے  ایک کنارے کھڑے ہوکر ہم بیک نظر اس کا جائزہ لے ڈالیں۔ وہ تو ایک بہتا ہوا دریا ہے کہ جس میں حرکت ہے، روانی ہے، کش مکش ہے، موج و حباب ہیں، سیپیاں اور موتی ہیں، اور جس کے پانی سے مُردہ کھیتیاں مسلسل زندگی پا رہی ہیں۔ اس دریا کا رمز آشنا ہونے کے لیے، اس کے ساتھ ساتھ رواں ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے سیرت کی بہت سی کتابیں پڑھ کر نادر معلومات تو ملتی ہیں، لیکن ہمارے اندر تحریک پیدا نہیں ہوتی۔ جذبے انگڑائی نہیں لیتے، عزم و ہمت کی رگوں میں نیا خون نہیں دوڑتا، ذوقِ عمل میں نئی حرارت نہیں آتی،ہماری زندگیوں کا جمود نہیں ٹوٹتا، وہ شرارِ آرزو ہم اخذ نہیں کرپاتے کہ جس کی گرمی نے ایک یکہ و تنہا اور بے سروسامان فرد کو قرنوں کے جمے ہوئے فاسد نظام کے خلاف معرکہ آرا کر دیا۔

اصل میں آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم معروف اصطلاح کے محدود تصور کے مطابق فقط ایک ’بڑے آدمی‘ نہ تھے۔ آپؐ کی سیرت ایک ایسے’بڑے‘ یا مشہور آدمی کی داستانِ زندگی نہیں ہے، جسے لوگوں کو مشاہیر کے سوانحی سلسلوں میں گنوایا جاتا ہے۔ یہ ہستی ’بڑے‘ اور ’مشہور‘ آدمیوں کی سوانح سے بہت اُوپر کی نعمت ِ الٰہی ہے۔

دنیا میں بڑے آدمی بہت پیدا ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ بڑے لوگ وہ بھی ہیں جنھوں نے کوئی اچھی تعلیم اور کوئی تعمیری فکر پیش کر دی۔ وہ بھی ہیں جنھوں نے اخلاق و قانون کے نظام سوچے۔ وہ بھی ہیں جنھوں نے اصلاحِ معاشرہ کے کام کیے۔ وہ بھی ہیں جنھوں نے ملک فتح کیے اور بہادری سے منسوب کاموں کی میراث چھوڑی۔ وہ بھی ہیں جنھوں نے عظیم الشان سلطنتیں چلائیںاور وہ بھی ہیں جنھوں نے فقرودرویشی کے حیرت انگیز نمونے ہمارے سامنے پیش کیے۔ وہ بھی ہیں جنھوں نے دنیا کے سامنے انفرادی اخلاق کا اُونچے سے اُونچا معیار قائم کر دکھایا___ مگر ایسے بڑے آدمیوں کی زندگی کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو بالعموم یہی دیکھتے ہیں کہ ان کی قوتوں کا سارا رس اُس زندگی کی کسی ایک شاخ نے چُوس لیا اور باقی ٹہنیاں سوکھی رہ گئیں۔ ایک پہلو اگر بہت زیادہ روشن ملتا ہے تو کوئی دوسرا پہلو تاریک دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف افراط ہے تو دوسری طرف تفریط۔

 لیکن، ان سب کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر گوشہ دوسرے گوشوں کے ساتھ پوری طرح متوازن بھی ہے اور پھر ہرگوشہ ایک ہی طرح کے کمال کا نمونہ ہے۔ جلال ہے تو جمال بھی ہے، روحانیت ہے تو مادیت بھی ہے،معاد ہے تو معاش بھی ہے، دین ہے تو دنیا بھی ہے،   اک گونہ بے خودی بھی ہے مگر اس کے اندر خودی بھی کارفرما ہے۔ اللہ کی عبادت ہے تو اس کے بندوں کے لیے محبت و شفقت بھی ہے۔ کڑا اجتماعی نظم ہے تو فرد کے حقوق کا احترام بھی ہے۔ گہری مذہبیت ہے تو دوسری طرف ہمہ گیر سیاست اور کارِ ریاست بھی ہے۔ قوم کی قیادت میں انہماک ہے مگر ساتھ ساتھ اَزدواجی زندگی کا دھارا بھی خوب صورتی سے چل رہا ہے۔ مظلوموں کی داد رسی ہے تو ظالموں کا ہاتھ پکڑنے کا اہتمام بھی ہے۔

آپؐ کی سیرت کے مدرسے سے ایک حاکم، ایک امیر، ایک وزیر، ایک افسر،ایک ملازم، ایک آقا، ایک سپاہی، ایک تاجر، ایک مزدور، ایک جج، ایک معلّم، ایک واعظ، ایک لیڈر، ایک ریفارمر، ایک فلسفی، ایک ادیب، یعنی ہر کوئی یکساں درس عمل لے سکتا ہے۔ وہاں ایک باپ کے لیے، ایک ہم سفر کے لیے اور ایک پڑوسی کے لیے یکساں مثالی نمونہ موجود ہے۔ ایک بار جو اس درس گاہ تک آپہنچاہے پھر اسے کسی دوسرے دروازے کو کھٹکھٹانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انسانیت جس آخری کمال تک پہنچ سکتی تھی وہ اس ایک ہستی میں جلوہ گر ہے۔ اس لیے دنیا کے منصف مزاج لوگوں کے نزدیک اس ہستی کو ’انسانِ اعظم‘ کے لقب سے پکارنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔    تاریخ کے پاس ’انسان اعظم‘ صرف یہی ایک ہے جس کو چراغ بناکر ہردور میں ہم ایوانِ حیات  روشن کرسکتے ہیں۔ کروڑوں افراد نے اس سے روشنی لی، لاکھوں بزرگوں نے اپنے علم و عمل کے دیئے اسی کی لو سے جلائے، دنیا کے گوشے گوشے میں اس کا پیغام گونج رہا ہے اور دیس دیس کے تمدن پر گہرے اثرات اس کی دی ہوئی تعلیم کے پڑے ہیں۔ کوئی انسان نہیں جو اس ’انسانِ اعظم‘ کا کسی نہ کسی پہلو سے زیراحسان نہ ہو۔ لیکن کتنے رنج و اَلم کا مقام ہے کہ اس کے احسان مند اس کو جانتے نہیں، اس سے تعارف نہیں رکھتے۔

اس کی ہستی کے تعارف اور اس کے پیغام کے فروغ کی ذمہ داری اس کی قائم کردہ اُمت پر تھی، لیکن وہ اُمت خود ہی اُس سے اور اُس کے پیغام سے دُور جاپڑی ہے۔ اس کے پاس کتابوں کے اَوراق میں کیا کچھ موجود نہیں ہے، لیکن اس کی کھلی ہوئی کتابِ عمل کے اَوراق پر ’انسانِ اعظم‘ کی سیرت کی کوئی تصویر دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی اُمت اور قوم کی مذہبیت ، اس کی سیاست، اس کی معاشرت، اس کے اخلاق، اس کے قانونی نظام اور اس کے کلچر پر اس سیرت کے بہت ہی دھندلے نشانات باقی رہ گئے ہیں، اور و ہ بھی بے شمار نت نئے نقوش میں خلط ملط ہوکر مسخ ہورہے ہیں۔ اس اُمت یا قوم کا اجتماعی ماحول زمین کے کسی ایک چپے پر بھی یہ گواہی نہیں دیتا کہ میں   محمدؐ کے دیے ہوئے اصولوں اور اس کی قائم کردہ روایات و اقدار کا آئینہ دار ہوں، بلکہ اُلٹا یہ اُمت اور یہ قوم دنیا کے مختلف فاسد نظاموں کے دروازوں پر بھیک مانگتی بھٹکتی پھرتی ہے اور ہرقائم شدہ طاقت سے مرعوب ہوکر اپنے سرمایۂ افتخار پر شرمسار دکھائی دیتی ہے۔ اس نے قرآن کو غلافوں میں لپیٹ دیا ہے اور ’انسانِ اعظم‘ کی سیرت کا گلدستہ بنا کر طاق نسیاں پر رکھ دیا۔

دوسرا غضب یہ ڈھایا کہ اپنے آپ کو ایک مذہبی اور قومی جتھے میں بدل کر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو محض اپنے قومی و مذہبی رہنما کی حیثیت دے دی اور اس بین الاقوامی ہستی کے پیغام اور نمونۂ حیات کو گروہی اجارہ دار بنالیا۔ حالاں کہ آپؐ ساری انسانیت کے رہنما بن کر آئے اور ساری انسانیت کے لیے پیغام اور نمونہ لائے تھے۔ سیرت کو اس انداز سے پیش کرنے کی ضرورت تھی کہ انسانیت کا   یہ ایک نمونہ ہے کہ جس کے سانچے میں ڈھل کر انسان اپنے اور ابناے نوع کی فلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے اور مسائل کے گوناگوں خارزاروں سے نجات پاکر ایک پاکیزہ نظامِ زندگی حاصل کرسکتا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اور اسوہ درحقیقت سورج کی روشنی اور بارش کے پانی اور ہوا کے جھونکوں کی طرح کا فیضان عام تھا، لیکن اسے ہم نے اپنی نااہلی سے گروہی خول میں بند کر دیا۔ آج سقراط و افلاطون، ڈارون و میکیاولی ، مارکس و فرائڈ اور آئن سٹائن سے تو ہر ملک و مذہب کے لوگ تھوڑا یا بہت استفادہ کرتے نظرآتے ہیں، اور ان میں سے کسی کے خلاف کسی گروہ میں اندھا تعصب کا رونا نہیں ہے، لیکن محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نوادرِ علم اور رہنمائی سے استفادہ کرنے میں بے شمار تعصبات حائل ہوجاتے ہیں۔ لوگ یوں سوچتے ہیں کہ: ’’محمدؐ تو مسلمانوں کے ہیں اور مسلمان ہم سے الگ اور ہم مسلمانوں سے الگ ہیں۔ لہٰذا، مسلمانوں کے ہادی اور رہبر سے ہمارا کیا واسطہ!‘‘ افسوس ہے کہ اس تاثر کے پیدا ہونے اور غیرمعمولی حد تک جاپہنچنے میں ہم مسلمانوں کے طرزِعمل کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ خود ہم ہی ہیں کہ جنھوں نے اپنے قول اور عمل سے، محسنِ انسانیتؐ کی نہایت غلط نمایندگی کی ہے۔

دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ملک میں رائج قوانین کے مطابق واضح طور پر ’قادیانی گروپ‘ یا ’لاہوری گروپ‘ (جو اپنے کو ’احمدی‘ یا کوئی دوسرا نام دیتے ہوں) کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے کر ’غیرمسلم‘ کہا گیا ہے۔

دستور کی دفعہ ۲۶۰  ذیلی دفعہ ۳  شق (الف) اور (ب)

  1. ’مسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط طور پر ایمان رکھتا ہو، اور  پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبرہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے، اور
  2. ’غیرمسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی دفعہ ۲۹۸ سی: قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتا ہو)، بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہو، یا اپنے عقیدے کا بطورِ اسلام کے حوالہ دیتا ہو، یا موسوم کرتا ہو، یا دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دیتا ہو، الفاظ سے جو چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا ظاہری حرکات سے یا کسی طریقے سے خواہ کچھ بھی ہو، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے، اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزاے قید دی جائے گی، جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اور سزاے جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔

  • دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ ذیلی ۳ کی شق (الف) میں ’مسلمان‘ کی تعریف میں ختم نبوت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، جب کہ اسی کی شق (ب) ’غیرمسلم‘ کی تعریف میں واضح طور پر قادیانی گروپ، لاہوری گروپ (جو اپنے کو ’احمدی‘ یا دوسرے نام سے پکارتے ہوں) کو شامل کیا گیا ہے (اختصار کی خاطران کو صرف’قادیانی‘ لکھا جائے)۔
  • اس دستوری دفعہ کی مکمل تنفیذ کے لیے مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو اپنے کو ’احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے پکارے جاتے ہوں) میں سے کوئی شخص براہِ راست یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے یا کہلوائے، اپنے عقیدے کو اسلام کہے یا ایسے عقیدے کی تبلیغ کرے یا دوسرے کو اس کی زبانی یا تحریری دعوت دے وغیرہ تویہ جرم ہے اور اس کے لیے سزا بیان کی گئی ہے۔ نیز اس کی سنگینی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ یہ جرم قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت ہے۔
  • دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ذیلی دفعہ ۳ کی شق (ب)میں واضح طور پر غیرمسلم کے طور پر عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ، پارسی کے ساتھ قادیانیوں کو بھی لکھا گیا ہے اور اس کے بعد بہائی اور شیڈول کاسٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ دستوری طور پر قادیانی مکمل طور پر غیرمسلم ہیں۔
  • مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ۲۹۸ سی میں دستوری تقاضوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کوئی قادیانی کسی صورت یا انداز میں اپنے آپ کو مسلمان کہے یا مسلمان کے طور پر تبلیغ وغیرہ کرے تو یہ ایک سنگین جرم ہے۔
  • دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ دفعہ ۳ شق (ب) سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس میں درج قادیانیت سمیت تمام مذاہب کے ماننے والے لوگوں کی ایک ہی حیثیت ہے، یعنی وہ غیرمسلم ہیں اور وہ اس حیثیت کو مانتے ہیں اور اپنے مذہب کے حوالے سے انھوں نے اپنی شناخت قائم کی ہے، لیکن ’قادیانی‘ جان بوجھ کر اپنی اصل حقیقی شناخت، یعنی غیرمسلم کو اختیار نہیں کرتے جو کہ دستور اور قانون کی خلاف ورزی اور جرم ہے۔

اس صورتِ حال کے پیش نظر مزید قانون سازی ضروری تھی تاکہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۲۶۰ ذیلی دفعہ ۳ کی شق (الف) پر مکمل عمل درآمد ہوسکے۔

مجموعہ تعزیراتِ پاکستان، دفعہ ۲۹۸ ،ب

        1. قادیانی یا لاہوری جماعت کا کوئی فرد (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں) جو زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری بیان سے:

  • کسی شخص کا، علاوہ خلیفہ یا پیغمبر محمدؐ کے، مصاحب کے بطور امیرالمومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا ’رضی اللہ عنہ‘ کے حوالے دے یا خطاب کرے۔
  • کسی شخص کا، علاوہ زوجۂ پیغمبر حضرت محمدؐ کے، بطور اُم المومنین کے حوالہ دے یا خطاب کرے۔
  • کسی شخص کا، علاوہ پیغمبر حضرت محمدؐ کے رکن کنبہ کے، بطور اہلِ بیت کے حوالہ دے یا خطاب کرے، یا
  • اپنی عبادت گاہ کا بطور مسجد کا حوالہ دے، نام لے یا پکارے۔

تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی ایسی مدت کی سزاے قید دی جائے گی، جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔

       2. قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتے ہیں) جو زبانی یا تحریری الفاظ سے یا ظاہری حرکات سے، اپنے عقیدے میں پیروی کردہ عبادت کے لیے بلانے کے لیے کسی طریقے یا شکل کو بطور اذان کے حوالہ دے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزاے قید دی جائے گی، جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔

  • مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ بی کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ قادیانی  نہ صرف اپنے آپ کو ’مسلمان‘ کہتے تھے بلکہ وہ مسلمانوں کی مقدس اور دینی اصطلاحات اپنے اہل مذہب اور مذہبی مقامات و اعمال کے لیے استعمال کرتے تھے جو کہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء اور ملکی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اس جرم کو قابلِ دست اندازی پولیس قرار دے کر قانون کو نافذ کرنے والوں کے لیے اس کا نفاذ ممکن بنا دیا گیا ہے۔

ملکی دستور و قانون کو تسلیم کرنا پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ  اہم عہدوں اور اداروں میں ان کا تقرر ہونا چاہیے، کہ جو ملک کے دستور و قانون کو تسلیم کرتے ہوں۔ مذکورہ بالا زمینی حقائق و تفصیلات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قادیانی ملکی دستور اور قانون کا صریح انکار کرتے ہیں۔ وہ اپنے کو ’غیرمسلم‘ نہیں مانتے جو کہ دستور و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، لہٰذا، اہم عہدوں اور اہم پالیسی ساز اداروں میں ان کا تقرر دستور و قانون کے حوالے سے نہیں ہونا چاہیے۔ یہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے اور ہر محب ِ وطن پاکستانی اس کا پُرجوش حامی ہے۔

قادیانی اور حقوقِ انسانی

دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان (اختصار کی خاطر ’دستور‘ لکھا اور پڑھا جائے گا) کے حصہ دوم کے باب اوّل کا عنوان بنیادی حقوق (Fundamental Rights) ہے۔ دفعہ ۸ تا ۲۸ تک میں پاکستانی شہریوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ہیں وہ حقوق جو کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ دستور اور دستوری اداروں و نظام میں اقلیتوں کے حقوق درج ذیل ہیں:

  • ابتدائیہ (Preamble) کے پیرا نمبر ۶-۸-۹ میں حقوق بیان ہوئے ہیں: lقراردادِ مقاصد (Objective Resolution) دفعہ ۲-الف کے پیرا نمبر ۶-۸-۹ میں حقوق بیان ہوئے ہیں۔ lباب دوم: پالیسی سازی کے اصول (Principal of Policy) کی دفعہ ۳۶ میں حقوق بیان ہوئے ہیں۔ lالیکشن میں ووٹ دینے اور جنرل سیٹ پر اُمیدوار بننے کے لیے حق بیان کیا گیا ہے۔ lقومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں خصوصی کوٹہ (نمایندگی کا حق) بیان ہوا ہے۔ lقومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں ووٹ کا حق حاصل ہے۔ lقومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی کمیٹیوں کی صدارت و ممبر ہونے کا حق حاصل ہے۔ lقومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں برابر کی مراعات (Previllages) حاصل ہیں۔
  • دستور کے حصہ دوم باب اوّل میں بیان کیے گئے بنیادی حقوق میں سے درج ذیل بہت اہم ہیں: lدفعہ۹ :فرد کی زندگی اور آزادی کی حفاظت lدفعہ۱۰:فرد کی غیرقانونی گرفتاری اور حبس بے جا سے تحفظ lدفعہ ۱۰-اے: شفاف عدالتی کارروائی کا حق lدفعہ ۱۱: غلامی، زبردستی مزدوری وغیرہ کی ممانعت lدفعہ ۱۴:آدمی کی عزت و حیثیت اور نجی زندگی کا تحفظ lدفعہ ۱۵: حرکت (آنے جانے) کی آزادی lدفعہ ۱۶:جمع ہونے/ جلسہ جلوس کی آزادی lدفعہ ۱۷: انجمن سازی کی آزادی lدفعہ ۱۸:کاروبار اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی آزادی lدفعہ ۱۹:اظہار راے اور تقریر کی آزادی lدفعہ ۱۹-اے: معلومات تک رسائی کا حق lدفعہ ۲۰: کسی مذہب کو قبول کرنے   اور مذہبی ادارہ چلانے کی آزادی lدفعہ ۲۱:کسی مخصوص مذہب کی تشہیر کے لیے ٹیکس سے تحفظ lدفعہ ۲۲: مذہب کے تعلیمی اداروں کا تحفظ lدفعہ ۲۳:جایداد کی خریدوفروخت وغیرہ کا حق lدفعہ ۲۴: جایداد کے حقوق کا تحفظ lدفعہ ۲۵: شہریوں کی برابری lدفعہ ۲۵-اے: تعلیم کا حق lدفعہ ۲۶: پبلک مقامات پر غیرامتیازی سلوک کا حق lدفعہ ۲۷: ملازمتوں میں غیرامتیازی سلوک کا حق lدفعہ ۲۸: زبان اور تہذیب وغیرہ کا تحفظ۔

یہ تمام حقوق عمومی طور پر تمام پاکستان کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ان حقوق کی تنفیذ میں اگر کوئی رکاوٹ ہو یا اگر حکومت یا کسی کی طرف سے حقوق پامال ہو رہے ہوں تو دستور کی دفعہ ۱۹۹ کے تحت پاکستان کے تمام ہائی کورٹوں اور دفعہ۱۸۴ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا راستہ موجود ہے۔

دستور کی دفعہ۵ ریاست سے وفاداری اور دستور و قانون کی تابع داری

  1. مملکت سے وفاداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
  2.  دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہرشخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو (واجب التعمیل) ذمہ داری ہے۔

پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۶۰ ذیلی دفعہ ۳ شق (ب) قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیتی ہے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے اہم قانون مجموعہ تعزیرات پاکستان  کی دفعہ ۲۹۸ سی میں واضح طور پر درج ہے کہ: قادیانی اپنے کو اگر ’مسلم‘ ظاہر کرے یا کہے گا تو یہ جرم ہے اور سزا کا مستوجب ہوگا، جب کہ دستور کی دفعہ۵ واضح طور پر ہرمسلم اور غیرمسلم پاکستانی شہری سے تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کے دستور و قانون کو غیرمشروط اور مکمل طور پر مانے اور اطاعت کرے۔

قادیانیوں کو عمومی طور پر مذکورہ بالا تمام حقوق حاصل ہیں اور وہ ان حقوق سے مستفیذ ہورہے ہیں۔ شکایت تو ہم اکثریتی مسلمان پاکستانیوں کو ہے کہ قادیانی اپنی دستوری اور قانونی حیثیت، یعنی ’غیرمسلم‘ ہونے کو قبول نہیں کر رہے، مگر دوسری طرف دستوری حقوق سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں، جب کہ دستور کے تقاضوں کے مطابق ’غیرمسلم‘ کی حیثیت اختیارکرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہرپاکستانی سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

مغربی ممالک خاص طور پر امریکا اپنے مقاصد کے لیے قادیانیوں کو استعمال کرتا ہے۔ اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے صرف ایک مثال بیان کی جاتی ہے۔ ۱۳نومبر ۲۰۱۷ء کو جنیوا میں Universal Periodic Review of Pakistan میں امریکی وفد کے سربراہ جیس برنسٹین نے مطالبہ کیا کہ:

Repeal blasphemy laws and restrictions and end their use against Ahmadi Muslims and others and grant the visit request of the UN Special Reporter the Promotion and Protection of the Right to Freedom of Opinion and Expression. (Ref:https://geneva.usmission.gov)

توہین رسالتؐ کے قوانین اور پابندیاں منسوخ کی جائیں اور ان کا احمدی مسلمانوں اور دیگر کے خلاف استعمال روکا جائے اور یواین اسپیشل رپورٹر کو آزادیِ اظہار کے قانون کے فروغ اور تحفظ کے لیے دورے کی اجازت دی جائے۔

اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پاکستان کے دستور میں درج قادیانیوں کی ’غیرمسلم‘ کی حیثیت سے انکار کی پشت پر امریکی حمایت اور مکمل پشت پناہی موجود ہے۔ امریکی وفد کے سربراہ کا صرف ’احمدی‘ کہنے کے بجاے ’احمدی مسلمان‘ کہنا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔اس طرح کا پاکستان کے دستور سے متصادم مطالبہ کیا کوئی دوست ملک کرسکتا ہے؟ نیز جن قادیانی ’غیرمسلم‘ کے حق میں غیردستوری مطالبہ کیا گیا ہے وہ کیا پاکستان کے وفادار ہوسکتے ہیں؟

عام پاکستانی پوچھتا ہے کہ امریکا کے وفد کے سربراہ نے قادیانیوں کے علاوہ دیگر ’غیرمسلم‘ اقلیتوں کے لیے کیوں ایک لفظ بھی نہیں بولا؟ سپریم کورٹ کے سابق دو غیرمسلم چیف جسٹس کارنیلس اور بھگوان داس کے خلاف کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ اسی طرح تقریباً ہرحکومت کے دور میں وفاقی و صوبائی حکومتوں میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے وزیر ہوتے ہیں، مگر ان پر اعتراض نہیں کیا گیا، کیوںکہ وہ دستور کے تقاضوں کو قبول کرتے ہیں اور محب ِ وطن ہیں۔

اس لیے محب ِ وطن پاکستانی مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو اہم عہدوں اور اہم پالیسی ساز اداروں میں اس وقت تک نہ رکھا جائے جب تک وہ ملکی دستور و قانون کے تقاضوں کے مطابق اپنے کو’غیرمسلم‘ تسلیم نہ کرلیں۔

ہرقسم کی علمی، تحقیقی اور اخلاقی حدود یا اقدار سے ماورا، ہمارا سوشل میڈیا، جھوٹ اور مبالغے کا پرچارک یا ذریعہ بن چکا ہے۔اس ذریعے کو سیاسی جماعتیںاپنے مخالفین کی کردارکشی، دانش وَر حضرات نفرت بونے اور کنفیوژن پھیلانے، مذہبی عناصر فتوے دینے اور مذہبی اقلیتیں اپنے مفادات کی  آڑ میں جھوٹے دعوے کرنے کے لیے بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ بن چکا ہے۔ بلاشبہہ اس میں بعض اوقات نادر تحریریں اور مستند مواد بھی ملتا ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ خدا جانے یہ صورتِ حال ہمیں کہاں لے جائے گی۔

اس کا ایک پہلو بہرحال بڑا تشویش ناک اور قابلِ توجہ ہے۔ وہ یہ کہ ہماری نوجوان نسل کتاب، مطالعے اور تحقیق سے رشتے منقطع کرکے صرف سوشل میڈیا پر تکیہ کیے بیٹھی ہے اور سوشل میڈیا ہی ان کی معلومات اور ذہنی تربیت کا واحد ذریعہ بن چکا ہے۔ جھوٹ، نفرت، علاقائی و مذہبی تعصبات اور فرقہ واریت کے پرچار کے لیے لکھی گئی تحریریں پڑھ پڑھ کر ہماری نوجوان نسلوں کی سوچ کنفیوژن کا شکار ہورہی ہے۔حال ہی میں مجھے ایک بلاگ پڑھنے کا موقع ملا، جس میں پاکستانی مسلمانوں پر تبرا بھیج کر ایک مذہبی اقلیت کے دانش وَر نے پھر وہی دعویٰ دہرا ڈالا ہے، جس کی تردید کئی بار کی جاچکی ہے۔ تاریخ کا ریکارڈ ہزار بار ان کے جھوٹ کی نفی کرے، لیکن یہ عجیب لوگ ہیں کہ وہ غلط بات کو  بار بار دہراتے رہیں گے، تاکہ مطالعے سے عاری نوجوان ان کے جھانسے میں آجائیں اور ان کے   نقطۂ نظر کو قبول کرکے قائداعظمؒ کو انگریزوں کا ایجنٹ اور قیامِ پاکستان کو انگریزوں کا تحفہ سمجھ لیں۔

لاعلمی قابلِ معافی ہے لیکن بدنیتی ایسا جرم ہے جس کی سزا دونوں جہانوں میں ملتی ہے۔ جب ایک ایسا شخص جو علم و فضل کی شہرت رکھنے اور مؤرخ ہونے کا دعویٰ بھی کرے، مگر دوسری طرف ببانگ دہل تاریخی حقائق کو مسخ کرے، تو اس کا رویہ لاعلمی کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ نرم سے نرم الفاظ میں بھی خبث ِ باطن ہی کہلاتا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں کانگریسی پروپیگنڈے اور ہندو ذہنیت کے ’ہرکارے‘ یا ایسے افراد موجود ہیں، جو وقتاً فوقتاً پاکستان کی نظریاتی اساس میں بدگمانیوں کا زہر گھولتے رہتے ہیں اور قائداعظمؒ سے قیامِ پاکستان کے جرم کا انتقام لیتے رہتے ہیں۔ تحریک ِ پاکستان اور قائداعظمؒ کے حوالے سے نوجوان نسلوں میں بدظنی اور بدگمانیاں پھیلانے کے لیے پہلے جب یہ مہم عبدالولی خان نے شروع کی تھی تو اسی وقت پروفیسر وارث میر مرحوم نے مدلل جواب دے کر انھیں لاجواب اورکانگریسی ہرکاروں کا منہ بند کر دیا تھا۔

قراردادِ لاہور (پاکستان) کی عظمت کو ٹھیس لگانے کے لیے پہلے ان خان صاحب نے اور پھر ڈاکٹر مبارک علی صاحب نے ایک اخبار میں یکم اپریل ۲۰۱۷ء کو یہ دعویٰ کیا کہ: ’’وائسرائے لنلتھ گو نے قراردادِ لاہور سرظفراللہ خاں سے لکھوائی اور یہ مسوّدہ قائداعظمؒ کو دے دیا۔ جنھوں نے ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کے اجلاس میں مسلم لیگ سے منظور کروا دی اور پھر قراردادِ پاکستان کا نام دے دیا گیا‘‘۔ حالیہ زمانے میں، پاکستان میں تاریخ کے نام پر اس سے بڑا جھوٹ شاید ہی بولا گیا ہو۔

پہلی بات یہ ہے کہ قرارداد ِ پاکستان کا اصلی مسودہ کراچی یونی ورسٹی کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ پس منظر کے طور پر ذہن میں رہے کہ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے ۲۱مارچ ۱۹۴۰ء کو قرارداد ڈرافٹ کرنے کے لیے سرسکندر حیات، ملک برکت علی اور نواب اسماعیل خان پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی کے تیار کردہ ڈرافٹ پر سبجیکٹ کمیٹی نے قائداعظمؒ کی صدارت میں ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو سات گھنٹے بحث کی۔ یہ ڈرافٹ اپنی اصل حالت میں مسلم لیگ آرکائیوز میں موجود ہے۔ مذکورہ سبجیکٹ کمیٹی میں علی محمد راشدی، محمدنعمان، ظہیرالدین فاروقی، مشتاق گورمانی، حسین امام، زیڈ ایچ لاری، رضوان اللہ، عبدالحمید خان، نواب آف چھتاری، عزیز احمد اور عاشق حسین بٹالوی وغیرہ نے ۱۴،۱۵ترامیم تجویز کیں۔ یہ تمام ترامیم صاف طور پر پڑھی دیکھی جاسکتی ہیں۔خودقائداعظمؒ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ترمیم بھی قرارداد کے مسودے پر دیکھی جاسکتی ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ اگر ڈرافٹ وائسرائے کی طرف سے آیا تھا تو یہ ترامیم کیا ہوا میں کی جارہی تھیں؟ یہ ساری تحریری کارروائی مسلم لیگ کے ریکارڈ میں موجود ہے، جو ڈاکٹر مبارک اور ان کے مریدوں کے دعوئوں کو باطل ثابت کرتی ہے۔ اس طرح یہ بات بھی شواہد سے ثابت ہوتی ہے کہ قراردادِ لاہور کا سر چودھری ظفراللہ خاں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 اسی مناسبت سے سکندرحیات نے ۱۱مارچ ۱۹۴۱ء کو پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ: ’’میری تیار کردہ،قراردادِ لاہور کے ڈرافٹ میں اتنی زیادہ تبدیلیاں کر دی گئی تھیں کہ اس کی شکل ہی بدل گئی‘‘۔ سرسکندر حیات کا ایک معاملہ یہ بھی تھا کہ وہ متحدہ ہندستان کی فیڈریشن کی بنیادپر مطالبے کے حق میں تھے، جب کہ کُل ہند مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی تقسیم ہند اور مکمل آزادی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ سرسکندر کے لیے ایسی کسی تجویز سے اتفاق ممکن نہ تھا کہ جس پر وہ انگریز وائسرائے اور برطانوی حکومت کو ناراض کرتے۔

اسی طرح پروفیسر اِکرام نے اپنی کتاب Truth is Truth میں، قراراداد پاکستان پر ایک دم یلغار کرنے والے ردعمل کےحوالے سے وائسرائے اور برطانوی سیکرٹری آف اسٹیٹ کی خط کتابت کے اقتباسات دیے ہیں۔ جن سے پتا چلتا ہے کہ برطانوی حکومت، مسلم لیگ سے کس قدر ناراض تھی اور قراردادِ لاہور کو کس طرح تختۂ مشق بنارہی تھی۔ اگر قرارداد لنلتھ گو نے بھجوائی تھی، تو پھر اس قدر غم و غصے کا کیا مطلب؟ یہ خطوط کئی جلدوں پر مشتمل مصدقہ کتاب ٹرانسفر آف  پاور میں موجود ہیں۔ برطانوی حکومت نے ۲۳مارچ کا جلسہ ملتوی کروانے کے لیے جو کوششیں کیں، ان کے ثبوت بھی سیّد شریف الدین پیرزادہ [م:۲۰۱۷ء]کی کتب میں موجود ہیں۔

اب دیکھیےکہ خود چودھری ظفراللہ خاں،قراردادِ پاکستان سے اپنے کسی قسم کے تعلق کی نفی اور تردید کرتے ہیں۔ ۲۵دسمبر ۱۹۸۱ءکو ان کا ایک بیان دوسرے اخبارات کے علاوہ معروف انگریزی اخبار ڈان کے پہلے صفحے پر شائع ہوا، جس کے بعد اس بحث کا سلسلہ بند ہوجانا چاہیے تھا۔   سرظفراللہ خاں کا بیان ملاحظہ فرمایئے:

Sir Zafarullah has denied having ever presented a formula of dividing the sub-continent to the then Viceroy vehemently refuting (Wali Khan's assertions) he stated that he only gave opinion to the Viceroy, whenever asked to do so. It is unthinkable that his opinions were passed on the Quaid-e-Azam and he  accepted without hesitation. It was unimaginable that a formula initiated on March12 was incorporated on March 23, 1940 during those days it took more than two weeks for a communication to reach India from England.

سر ظفراللہ نے اس سے انکار کیا کہ انھوں نے کبھی [برطانوی ہند کے]وائسرائے کو تقسیم ہند کا فارمولا پیش کیا تھا [ولی خان کے اصرار کو] مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا: میں نے وائسرائے کو صرف اپنی راے دی تھی۔ اور یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ ان کی راے کو قائداعظم تک پہنچایا گیا اور انھوں نے اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تسلیم کرلیا۔ اسی طرح یہ بات بھی ناقابلِ یقین ہے کہ ۱۲مارچ کو سوچا جانے والا فارمولا ۲۳مارچ ۱۹۴۰ء کو [لاہور کے اجلاس میں] پیش بھی کر دیا گیا ہو کہ ان دنوں برطانیہ سے انڈیا پہنچنے میں دو ہفتوں سے زیادہ دن لگتے تھے۔

ظفراللہ خاں نے یہ بھی واضح کیا کہ میں نے وائسرائے لنلتھ گو کے کہنے پر ایک اسکیم بنائی تھی، جس میں متحدہ ہندستان کے اندر فیڈریشن کا تصور دیا تھا۔

تحریکِ پاکستان اور قائداعظمؒ پر سیکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ان مصنّفین میں عالمی سطح کے برطانوی ، امریکی، فرانسیسی، سویڈش اور پاکستانی مؤرخین شامل ہیں۔ سب نے قائداعظمؒ کی عظمت کردار، بصیرت اور مستقل مزاجی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ممتاز سوانح نگار والپرٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ تاریخ میں اتنا عظیم لیڈر پیدا ہی نہیں ہوا۔ عالمی سطح کے ان غیرملکی مؤرخین میں سے کسی ایک محقق کو بھی قراردادِ پاکستان سے ظفراللہ خاں کے تعلق کا اشارہ تک نہیں ملا۔ وہ افسانوی اشارہ کہ جو ولی خان کے ذریعے ڈاکٹر مبارک تک پہنچا ہے اور جس جھوٹے دعوے کو اُچک کر پرویز پروازی نے کتابی حوالہ بنادیا ۔ یاد رہے کہ پروازی صاحب کا مذہبی طور پر قادیانیت سے تعلق ہے، اور وہ   قیامِ پاکستان کا کریڈٹ قادیانیوں کو عطا کرنے کی کوشش میں ظفراللہ خاں کو قراردادِ پاکستان کا مصنف قرار دے رہے ہیں۔

قائداعظم، دن رات محنت کر کے اور مسلم قوم کو متحد کرکے حصولِ پاکستان میں جب کامیاب ہوگئے تو وہ عرصہ ان کی بیماری میں شدت کا زمانہ تھا۔ تاہم، انھوں نے اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو حصولِ مقصد کے لیے پوری قوت سے جھونک دیا۔ بیماری بڑھ گئی تو ۷جولائی کو قائداعظمؒ آرام کے لیے دوبارہ کوئٹہ چلے گئے۔ جب علالت مزید شدت اختیار کرگئی تو قائداعظمؒ کو زیارت منتقل کردیا گیا۔ کرنل الٰہی بخش کے علاوہ ٹی بی کے ماہر ڈاکٹر ریاض علی شاہ بھی اس وقت قائداعظمؒ کا علاج کرنے والے بورڈ کے رکن تھے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں ایک چشم کشا اور ایمان افروز گفتگو  لکھی ہے، جس کا ہرلفظ ہمیں غوروفکر کی دعوت دیتا اور قائداعظمؒ کے باطن کی جھلک دکھاتا ہے۔

ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں:’’کوئٹہ میں قائداعظمؒ کی صحت بہتر ہوتی گئی تو ایک دن  کرنل الٰہی بخش نے کہا کہ: ’’ہم دونوں کی انتہائی کوشش ہے کہ آپ کی صحت اتنی اچھی ہوجائے جتنی آج سے سات آٹھ سال پہلے تھی‘‘۔ قائداعظمؒ مسکرائے اور فرمایا: ’’چند سال قبل یقینا میری بھی   یہ آرزو تھی کہ میں زندہ رہوں۔ میں اس لیے زندگی کاطالب نہیں تھا کہ مجھے دنیا کی تمنا تھی اور میں موت سے خوف زدہ تھا، بلکہ اس لیے زندہ رہنا چاہتا تھا کہ قوم نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اور قدرت نےجس [کام] کے لیے مجھے مقرر کیا ہے میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکوں۔ وہ کام پورا ہوگیا ہے۔ میں اپنا فرض ادا کرچکا ہوں۔ پاکستان بن گیا ہے۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اس کی تعمیر کرے۔ اسے ناقابلِ تسخیر اور ترقی یافتہ بنائے، حکومت کا نظم و نسق دیانت داری اور محنت سے چلائے۔ آٹھ برس تک مجھے قوم کے اعتماد و تعاون پر تنہا، مدمقابل عیار اور مضبوط دشمنوں سے لڑنا پڑا ہے۔ میں نے خدا کے بھروسے پر اپنے خون کا آخری قطرہ تک حصولِ پاکستان کے لیے صرف کر دیا ہے۔ مَیں تھک گیا ہوں۔ اب مجھے زندگی سے زیادہ دل چسپی نہیں۔بے شک اللہ کے دوست موت سے نہیں ڈرتے‘‘۔(ڈاکٹر ریاض علی شاہ کا مضمون، مطبوعہ ماہِ نو، کراچی ، ۱۹۴۸ء، بحوالہ قائداعظمؒ کے ۷۲سال از خواجہ رضی حیدر،ص ۳۲۰)

یہی لیڈر جب سفرِآخرت پرروانہ ہوتا ہے تو سرظفراللہ خاں اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے کے بجاے، لاتعلقی سے بیٹھے سارا منظر دیکھتے رہتے ہیں۔ اب انھی کو قراردادِ پاکستان کا خالق بنانے کے لیے ہمارے ترقی پسندی اور روشن خیالی کے دعوے دار دانش وروں اور مؤرخ ہونے کا دعویٰ رکھنے والوں کی بے چینی ایک بھونڈے لطیفے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔

ایک عرصہ قبل ایک ہندو دوست اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں منانے کشمیر جا رہا تھا۔ جانے سے قبل ہچکچاتے ہوئے اس نے کہا کہ : ’’میرا ۱۴سالہ بیٹا، جو دہلی کے ایک اعلیٰ اسکول میں زیر تعلیم ہے، مسلمانوں کے بارے میں عجب و غریب خیالات رکھتا ہے، اور ان کو ایک طرح سے عفریت سمجھتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میرا بیٹا کچھ وقت کسی مسلم فیملی کے ساتھ گزار کر مسلمانوں کے بارے میں خود مشاہدہ کرسکے‘‘۔ اس خواہش کے احترام کے لیے سرینگر میں ہمارے ایک دوست نے میزبانی کا بیڑا اٹھایا ۔ فیملی اور بچوں کے ساتھ چند روز گزارنے کے جب و ہ واپس دہلی وارد ہوا، تو اس لڑکے میں ایک انقلابی تبدیلی آچکی تھی۔ اس کے ساتھ میرا اکثر مکالمہ اور تعامل ہوتا تھا۔ بعد میں اس کے والد نے مجھے بتایا کہ: ’’نہ صرف میرے صاحبزادے بلکہ خود میری اپنی کئی غلط فہمیاں دُور ہوگئی ہیں جنھوں نے ہمارے ذہنوں کو مکڑی کے جالے کی طرح جکڑ رکھا تھا‘‘۔

حال ہی میں دفتر میں میری ایک شریکِ کار نے بتایا کہ ان کے والد ، جو ممبئی کے ایک نامور بزنس مین ہیں، مسلمانوں کو پاس نہیں آنے دیتے۔ اگرچہ کام کے سلسلے میں اکثر ان کا واسطہ مسلمان کاریگروں ہی سے ہوتا ہے، مگر وہ زیادہ سے زیادہ گھر کے برآمدہ تک ، یا ان کے دفتر میں ان کے کیبن کے باہر اپنے معاملات کو نبٹانے آسکتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ: ’’تم واحد مسلمان ہو  جس سے میرے والد خوش اخلاقی اور گرم جوشی کے ساتھ ملتے ہیں‘‘۔ اب مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کو اپنی تعریف سمجھوں یا اپنے مسلمان بھائیوں کی توہین کے طور پر لوں۔

مشہور بھارتی دانش ور اور صحافی سعید نقوی نے اپنی کتاب Being the Other  میں کچھ اسی طرح کے مشاہدات کا ذکر کیا ہے۔ ان کی اصل کتاب انگریزی میں پچھلے سال منظر عام پر   آئی تھی، تاہم اس کا اُردو ترجمہ وطن میں غیر ہندستانی مسلمان  کا اجرا چند روز قبل دہلی میں سابق نائب صدر حامد انصاری نے کیا۔نقوی صاحب رقم طراز ہیں کہ: ’’ایک بار الٰہ آباد یونی ورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے مَیں نے سامعین سے سوال کیا کہ کتنے ہندو طالب علم یا اساتذہ ، کبھی کسی مسلم ساتھی کے گھر گئے ہیں یا قریب سے مسلمانوں کو جاننے کی کوشش کی ہے؟ تو میرے اس سوال کا کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔ چند ایک نے کہا کہ ان کے والد یا دادا اُردو اور فارسی جانتے تھے جو ان کے مذہبی تعصب سے آزاد ہونے کی شہادت تھی، مگر مجھ پر قدم قدم پہ یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ہم عشروں سے نسلی تفریق اور غیریت کی حالت میں جی رہے ہیں اور اس کو تسلیم بھی نہیں کرتے ہیں‘‘۔

 سعید نقوی بھار ت کے ان گنے چنے مسلمانوں میں سے ہیں، جنھوں نے ذاتی طور سے بہت کامیاب زندگی گزاری۔ پانچ عشروں پر محیط اپنے صحافتی کیریر کے دوران وہ مقتدر انگریزی اخبارات اسٹیٹسمین اور انڈین ایکسپریس کے مدیر رہے۔ ان کی بیٹی صبا نقوی اور بھائی جاوید نقوی نے بھی صحافت کی دنیا میں خاصا نام کمایا ہے، مگر ان پانچ دہائیوں میں شاید ہی کبھی ان کو اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش آیا ہوگا۔ ایک لبر ل مسلمان، جو بھارت کے سیکولر کلچر میں رچ بس گیا ہو، جن کے گھر پر عید اور محرم کے ساتھ ساتھ دیوالی اور ہولی بھی اتنے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جاتی ہو، جن کی بیٹی، بھائی ، بھانجی اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے ہندو خاندانوں میں شادیاں کی ہوں، اگر وہ اب اپنے آپ کو ’غیر‘ محسوس کرتے ہوں، تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمان کا کیا حال ہوگا۔

بھارت میں مسلمان کس حد تک سیاسی طور پر بے وزن ہوچکے ہیں؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کے مقتدر لیڈر اور ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے حال ہی میں شکوہ کیا کہ: ’’میری پارٹی کے ہندو اراکین اب مجھے اپنے حلقوں میں جلسے اور جلوسوں میں مدعوکرنے سے کتراتے ہیں‘‘۔ لکھنؤ میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ لیڈر نے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے کہا: ’’۱۹۷۳ء میں کانگریس میں شمولیت کے بعد سے لے کر آج تک میں نے ہر انتخابی مہم میں شرکت کی ہے اور ہندو لیڈر، مجھ کو اپنے انتخابی حلقوں میں لے جانے کے لیے بے تاب ہوا کرتے تھے۔ پہلے جہاں جلسے جلوسوں میں مجھ کو مدعوکرنے کے لیے ۹۵فی صد درخواستیںہندو لیڈروں کی آتی تھیں، اب پچھلے چار سالوں میں سکڑ کر محض ۲۰فی صد رہ گئی ہیں‘‘۔ غلام نبی آزاد، جموں کشمیر ، ضلع ڈوڈہ میں ایک مقامی کانگریسی لیڈر کے گھر پیدا ہوئے ، مگر اپنی انتخابی زندگی کا آغاز۱۹۸۰ء میں مہاراشٹر کے ہندو اکثریتی   لوک سبھا حلقہ واسن سے کیا۔ وہ ۱۹۸۴ء میں دوبارہ اسی سیٹ سے منتخب ہوئے۔ اکثر فخر سے یہ کہتے تھے کہ: میرا سیاسی کیریئر اقلیتی سیاست کے بجاے بھارت کے سیکولر ہندو اکثریت کا مرہونِ منت ہے۔ ۲۰۰۵ء اور ۲۰۰۸ء تک جموں و کشمیر کے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے علاوہ آزاد نئی دہلی میں سینیر مرکزی وزیر اور کانگریس کی اعلیٰ فیصلہ ساز مجلس، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے برسوں ممبر اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ من موہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس حکومت میں مرکزی وزیر صحت کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔

 ایک روز صبح سویرے ان کا فون آیا کہ کسی وقت ان سے دفتر میں آکر مل لوں۔ کشمیر ٹائمز کے دہلی بیورو میں کام کرنے کی وجہ سے ان کو کور کرنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری (beat)کا ایک حصہ تھا۔ آفس جاتے ہوئے میں نرمان بھون میں وزارت صحت کے ہیڈ کوارٹر پہنچا اور ان کے پرسنل سیکریٹری راما چندرن کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس نے مجھے انتظار گاہ میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ جنوبی بھارت کا یہ نوجوان خاصا نک چڑھا ملازم تھا۔ میں نے دیکھا کہ وزیر موصوف کے کمرے کے باہرسبز بتی جل رہی تھی، جس کا مطلب تھا کہ وہ کسی میٹنگ میں مصروف نہیں ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ راما چندرن جی انتظار گاہ میں آنے والے افراد کو ایک ایک کرکے یا وفد کی صورت میں وزیر کے کمرے میں لے جارہے تھے۔ میں نے ان کو یاد دلایا کہ وزیر موصوف نے خود مجھے بلایا ہے۔ قریباً ایک گھنٹے تک نظر انداز کرنے کے بعد موصوف نے مجھے اپنے کمرے میں بلا کر پرسوں ملاقات کے لیے آنے کو کہا۔ میرے بار بار کے اصرار پر وجہ یہ بتائی کہ: ’’آج ملاقاتیوں کی لسٹ میں مسلمان نام کچھ زیادہ ہیں۔ ہمیں وزیر سے ملنے والوں میں توازن رکھنا پڑتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہم ایک سیکولر ملک میں رہتے ہیں اوراس کا تقاضا ہے کہ وزیر سے ملنے والوں کی لسٹ بھی سیکولر ہو۔ آج کی لسٹ میں ہندو ملاقاتیوں کی تعداد کچھ کم ہے‘‘۔ راما چندرن کی یہ وضاحت سن کر  مَیں چکرا گیا۔ لیکن جاتے جاتے ان کو بتایا کہ: ’’آزاد صاحب خاص طور پر اس وقت وزارتی کونسل میں صرف مسلمان اور کشمیر ی ہونے کی حیثیت سے وزیر ہیں‘‘۔

 پچھلے سال وزیر اعظم نریندر مودی کے آبائی صوبہ گجرات میں کانگریس نے بی جے پی کو ہروانے کے لیے جہاں پوری قوت جھونک دی تھی، وہیں کارکنوں کو باضابط ہدایت دی گئی تھی کہ اسٹیج پر کوئی مسلم لیڈر براجمان نہ ہو۔ حتیٰ کہ گجرات سے کانگریس کے مقتدر لیڈر اور سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو پس پردہ رہنا پڑا۔ امیدوارں کو بتایا گیا تھا کہ وہ مسلم محلوں میں ووٹ مانگنے نہ جائیں اور جلسے ، جلوسوں میں لمبی داڑھی اور ٹوپی والوں کو اگلی صفوں میں نہ بٹھائیں۔ کچھ اسی طرح کی حکمت عملی کانگریس اب ۲۰۱۹ء میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا رہی ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کا خیال ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مندروں اور مٹھوں میں جاکر آشیر واد لینے سے وہ خود کو مودی سے زیادہ ہندو ثابت کرکے بی جے پی کے ہندو ووٹ بنک میں نقب لگا سکیں گے۔ پارٹی کے اندر سے یہ خبریں بھی اب چھن چھن کر آرہی ہیں کہ مسلم لیڈروں کو بتایا گیا ہے کہ: ’’انتخابات میں آپ ٹکٹ یا مینڈیٹ کے حصول کے لیے تگ و دو نہ کریں اور حلقے کے لیے کسی مضبوط سیکولر ہندو امیدوار کر ترجیح دے کر اس کو کامیاب بنائیں‘‘۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس طرح اگلی پارلیمان میں مسلمانوں کی سیاسی نمایندگی مزید کم ہوجائے گی۔

نریندر مودی اور ان کے دست راست بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے تقریباً طے کیا ہے کہ: ’’بگڑتی ہوئی معیشت، بے روزگاری اور کرپشن سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پولارائزیشن [مسلمانوں سے نفرت کو پھیلانا ہی] بہترین ہتھیار ہے۔ ہندو کو مسلمانوں کا خوف دلاکر ان کو یک جا کرکے مسلم ووٹ بنک کی ہوا نکالی جائے۔ ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ، یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ ایک عالی شان رام مندر کی تعمیر کے لیے قانون سازی کی تجویز پیش کرکے اس کو ایک انتخابی موضوع بنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ انتہاپسند ہندو حلقے اس لیے بھی تلملائے ہوئے ہیں کہ نئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس معاملے کی تیزی سے سماعت کرنے سے انکار کیا ہے۔ان انتہاپسندوں کا منصوبہ تھا کہ جب سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوگی تو کارروائی کے دوران دلائل اور شواہد کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کرکے ایشو کو انتخابات تک خوب گرم رکھا جائے گا، لیکن چیف جسٹس نے کم از کم اس منصوبے پر تو پانی پھیر دیا ہے۔ اسی طرح کشمیر میں    بے یقینی کی آگ جلائے رکھنا، ملک میں ہندوؤںکو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے پولارائزڈ [متحارب اور نفرت بھرا] ماحول برقرار رکھنا بھی بی جے پی کے انتخابی منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں تعلیم و ترقی کے بجاے عدم تحفظ کا احساس زیادہ گھر کر گیا ہے، جوایک خطرناک علامت ہے۔

آج کے بھارت میں مسلمانوںکی سیاسی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ اس کی تفصیل بیان کرنا ہرگز مشکل کام نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پتا ہے کہ مسلمان ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا اس لیے اسے ان کی کوئی پروا نہیں۔ اس کے لیڈروں کی کوشش ہوتی ہے کہ مسلم ووٹ تقسیم در تقسیم اور ہندو ووٹ یک جا ہو۔ ادھر سیکولر پارٹیوںکو معلوم ہے کہ آر ایس ایس یا  بی جے پی کے مقابلے میں مسلمان کہاں جائے گا، ووٹ تو بہرحال انھی کو ملنا ہے، اس لیے وہ بھی ان کے سماجی اور اقتصادی مسائل کو حل نہیں کرتے۔

سعید نقوی، غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے مقتدر مسلمان لیڈران کرام، جنھیں بھارت کے سیکولر چہرہ کو وقار بخشنے کے لیے اکثر رول ماڈل کے بطور پیش کیا جاتا تھا ، جن کو عام مسلمان پہلے سے ہی ’سرکار ی مسلمان‘ کے نام سے نوازتا تھا ، اب وہ مسلمان بھی اپنے آپ کو سسٹم سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیرالدین شاہ نے حال ہی میں اپنی شائع کردہ سوانح حیات کا عنوان ’ سرکاری مسلمان ‘رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: بدقسمتی سے ان کا سامنا کئی ایسے کامیاب مسلمانوں سے ہو ا ہے جو اپنے سیکولرہونے کا بھرم رکھنے کے لیے مسلم فرقہ اور معاشرت سے دُور رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مسلم افسر کو اپنی کمیونٹی کے مفاد اور اپنی نوکری کے درمیان خاصی باریک اور تنی ہوئی رسی پر چلنا پڑتا ہے۔ اس طرح اکثر اپنی نوکری کو ترجیح دے کر اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ 

جنرل ضمیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ جب میرے والد کو بحیثیت ایڈمنسٹریٹر اجمیر بھیجا گیا تو وہاں مسلمانوں کا رد عمل تھا کہ ایک اور ’سرکاری مسلمان‘ آگیا ۔ مطلب پوچھنے پر والد نے بتایا کہ جب کوئی مسلمان کسی بڑے سرکاری عہدے پر پہنچ جاتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اب ان کا خیر خواہ نہیں رہا ، اب یہ حکومت کی زبان بولے گا اور عام مسلمانوں سے کٹ کے رہے گا‘‘۔ جنرل ضمیر کا مزید کہنا ہے کہ ۱۹۷۰ء میں بحیثیت فوجی افسر جب مَیں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی ایک اسپورٹس ٹیم کی مسوری میں میزبانی کر رہا تھا، تو مَیں نے مسلمان ٹیم ممبران کو فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ کئی روز کے بعد جب یہ ٹیم واپس جارہی تھی تو مَیں نے ان سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ تعلیم کے بعد اب کیا آپ فوج میں بھرتی ہوں گے؟ تو جواب میں کسی نے بھی ہامی نہیں بھری۔ جب ان سے سوال کیا کہ کیا مَیں آپ کو قائل نہیں کرسکا؟ تو سبھی کا مشترکہ جواب تھا: ــ’’آپ تو سرکاری مسلمان ہیں۔ آپ کی بات پر کیسے بھروسا کرسکتے ہیں‘‘۔

نقوی اور ضمیر الدین شاہ کی کتابوں میں ایک نہایت گہری، سچی، تلخ اور بڑی تکلیف دہ ٹیس بیان کی گئی ہے، جو تقریباً ایک صدی قبل قائد اعظم محمد علی جناح نے محسوس کرکے اور پھر کانگریس کو الوداع کہہ کے متعین کی تھی۔ نقوی صاحب کاماننا  ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ تعصب کوئی نئی بیماری ہے۔ ۱۹۶۰ء میں جب وہ دہلی میں روزنامہ انڈین ایکسپریس میں کام کرنے آئے تو انھیں گھر نہیں مل رہا تھا تو کلدیپ نیر نے مدد کرکے گھر دلادیا۔ مگر نقوی صاحب کا کہنا ہے کہ    اب گھر نہ دینے والوں اور گھر دلانے پر بضد لوگوں کے درمیان تناسب مسلسل کم ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ منظرنامہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں کو دھیرے دھیرے اپنے ہی وطن میں ’غیر ‘ بنا دیا گیا ہے۔  کتاب کے مطابق بھارتی مسلمان ’سہ گانہ‘ (Triangle) میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جس کے تین حصے کچھ اس طرح ہیں: ٭ہندی مسلم، ٭بھارت ٭پاکستان اور کشمیر ___ ان تینوں کو حل کیے بغیر مثلث کا مسئلہ حل نہیں ہوگا،مگر پاکستان سے اگر صلح ہوجائے تو ہندو انتہا پسندوں کے پاس سیاست کرنے کے لیے ایشو ختم ہوجائے گا۔ 

نقوی صاحب کے بقول بڑے شہری مراکز میں ہندو قوم پرست بی جے پی اور سیکولر کانگریس کے مابین فرق مٹ چکا ہے۔ ان کے درمیان جو دھوکے کا پردہ ۱۹۴۷ء سے حائل تھا وہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ آبادی کے اجتماعی رویے میں، ان کے سیاسی نظریات سے قطع نظر یکساں نوعیت کی فرقہ واریت سرایت کرچکی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلمان اپنے خول میں سمٹتا جارہا ہے۔ غیرنسل پرست ہندو بھی بھونچکا رہ گئے ہیں۔ بقول نقوی صاحب: جہاں کہیں ممکن ہوتا ہے مَیں ’سیکولر ‘ کی اصطلاح سے اجتناب کرتا ہوں ، کیوںکہ اس لفظ کی حُرمت کو بہت زیادہ پامال کیا گیا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گئی ہے جس پر ہندو قوم پرستی تعمیر کی جارہی ہے۔ اور اب یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں کہ ہزاروں مسلم نوجوانوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا جاتا ہے اور اکثریتی ہندو فرقے کو ان بے گناہوں سے ذرا بھی ہمدردی نہیں ہے۔ گویا فرض کرلیا گیا ہے کہ خواہ ان کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو تب بھی محض مسلمان ہونے کی وجہ سے وہ مجرم ہیں۔ پس ماندہ مسلم بستیوں میں رہنے والوں کے اندر سلگتی ہوئی شکایتوں سے ذہنوں کے اندر خلیج تقویت پاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں کرکٹ کا کھیل ہو یا امریکی انتخابات، ہر مسئلے پر خیالات ایک دوسرے کے برعکس ہوتے ہیں۔

نقوی صاحب کا مزید کہنا ہے کہ ان پر ایک اور حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ جہاں کوئی مسلمان اعلیٰ عہدے تک پہنچتا ہے وہ اپنی مسلم برادری کے افراد کی مدد کرنے سے منہ موڑتا ہے، مبادا اس پر ’فرقہ پرست‘ ہونے کا لیبل نہ لگا دیا جائے۔ شاید اس سے قبل صورت حال اتنی خراب نہیں تھی۔اب کوئی دن نہیں گزرتا جب کوئی بھارتی، مسلمانوں کی شہریت پر سوال نہ اُٹھائے، حتیٰ کہ فلمی دنیا تک میں بھی مذہب کو بخشا نہیں گیا ہے۔ جب ۲۰۱۵ء کے اواخر میں اس دنیا کے دو افراد نے فرقہ وارانہ زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف آواز اٹھائی تو دونوں کو ہندو اکثریت کے غضب ناک ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ چند تنظیموں نے تو مطالبہ کیا کہ ان اداکاروں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔نقوی صاحب کے خاندان کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں رشتہ داروں سے ملنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ میں ان کے ایک دوست نے ان کو مشورہ دیا کہ اب اپنے اقارب کو بھول جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر میں ا ن سب کو بھول چکا ہوں، مگر ایک حسرت ہے، سو وہ بھی چند نسلوں میں ختم ہوجائے گی۔

یہ تو ایک حقیقت ہے کہ ۱۸۵۷ءکے بعد ہی سے مسلمانوں کو انگریز حکمرانوں نے دشمن سمجھ کر’ غیر‘ تصور کرنا شروع کیا تھا، مگر۱۹۴۷ء میں تقسیم کے بعد جہاں مسلمانوں کو پاکستان کی شکل میں ایک ملک ملا، وہیں بھارت میں رہنے والی ایک کثیر آبادی کو پاکستان کی تخلیق کا ’ذمہ دار‘ ٹھیرا کر ایک مستقل ’احساس جرم‘ میں مبتلا رکھتے ہوئے ’غیر ‘بنا دیا گیا۔ اب تو حال یہ ہے کہ پچھلے چار برسوں میں دہلی میں اورنگ زیب روڑ کا نام تبدیل ہوگیا ہے۔ گورکھپور کا اردو بازار، ہندو بازار ہوگیاہے، ہمایوں نگراب پچھلے سال ہنومان نگر ہوگیا، اتر پردیش اور بہار کی سرحد پر تاریخی مغل سرائے شہر دین، دیال اپدھائے نگر ہوگیا اور مغل شہنشاہ اکبر کا بسایا ہوا الٰہ آباد اب پریاگ راج ہوگیا ہے۔ احمد آباد کو اب کرناوتی نگر بنانے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ مٹائی نہیں جاسکتی، مگر یہاں تو تاریخ مسخ ہورہی ہے۔ یہ مٹتے ہوئے نام ، مسخ ہوتی تاریخ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں سے خود اعتمادی چھین کر احساس کمتری میں دھکیل دے گی۔کیوںکہ یہ صرف نام نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کے شان دار ماضی کی جھلک تھی ، جو ثابت کرتی تھی کہ مسلمان اس ملک میں کرایے دار نہیں بلکہ حصہ دار اور اس کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن شاید غیر محسوس طریقے سے ۱۵ ویں صدی کے اواخر کے اسپین کے واقعات دہرائے جا رہے ہیں۔ غالباً بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی تاریخ کو قصۂ پارینہ بنایا جائے گا۔ اسلام سے وابستگی اور مسلم شناخت کو زندہ جاوید رکھنے کی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ مسلمان لیڈروں کو بھی اپنے اندر جھانک کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا سیکولر پارٹیوں کا دم چھلہ بن کر وہ قوم کا بھلا کرسکتے ہیں؟کیا ابھی وقت نہیں آیاکہ ایک متبادل حکمت عملی تیار کرنے پر سنجیدہ غور و خوض کیا جائے؟

جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال نہایت سنگین ہے۔ نہ صرف سیاسی بلکہ انتظامی اعتبار سے بھی صورتِ حال نہایت مخدوش نظر آرہی ہے۔ یکے بعد دیگرے کئی خونیں جھکڑوں سے عوام کو دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔ اکتوبرکے مہینے سے لے کر اب تک (۲۰ نومبر ) ۴۱ عسکریت پسند وں کے ساتھ ساتھ ۲۰شہریوں کو مارا گیا ، جن میں ایک چھے مہینے کی حاملہ خاتون بھی شامل ہے ، جو ایک نہیں بلکہ دو جانیں تھیں۔ خونیں مہینوں کے اس نہ تھمنے والے سلسلے نے عوام کو آہوں اور سسکیوں میں  ماتم کناں چھوڑ دیا۔اِدھر حکومتی ذرائع کے مطابق وادی کشمیر میں ’گذشتہ ۱۰ مہینوں میں ۱۶۴ نوجوانوں نے مختلف عسکریت پسندوں کی صفوں میں شرکت کی‘۔ اور انداز ہ لگایا گیا ہے کہ سالِ رواں میں وادی میں سرگرم جنگجوئوں کی تعداد ۳۵۰/۴۰۰  تک پہنچ سکتی ہے۔

۲۱؍ اکتوبر کو کولگام ضلعے کے لارو گائوں میں تین عسکریت پسندوں کے قتل کے بعد مظاہرین اور حکومتی فورسز کے درمیان پُر تشدد کارروائیوں میں ۲۵عام شہری گولیوں اور پیلٹ چھروں سے بُری طرح زخمی ہوئے۔ جس مکان میں عسکریت پسند چھپے ہوئے تھے، اس کو بھی بارودی مواد سے زمین بوس کر دیا گیا۔ جیسے ہی مقامی لوگ مکان کی طرف آگ بجھانے کے لیے بھاگے تو مکان کے ملبے میں موجود ایک طاقت ور بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کی زد میں آگ بجھانے والے ہی آگئے ، اس طرح سات انسا نی جانیں تلف ہو گئیں۔ مواصلاتی نظام کو بھی ضلعے بھر میں بند کر دیا گیا، اور پھر مزید اضلاع میں انٹرنیٹ سہولت پر پابندی لگا دی گئی۔

جس طرح سے کشمیری اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان انتہائی اقدامات کی طرف مائل ہورہے ہیں ممکن ہے کہ یہ بات بھارت اور اِس کے ہم نوائوں کے لیے باعث تشویش نہ ہو، لیکن یہاں کے  درد دل اور صاحب ِبصیرت افراد کو ایک بڑے سوال کی طرف متوجہ ضرور کر رہی ہے۔ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر جما ہوا ہے اور عملی طور پر اسے کوئی فکر نہیں کہ کون مرے یا کون جیے۔ اُس کے حربوں اور منصوبوں سے تو یہ واضح ہو چکا ہے کہ کشمیر کی پوری آبادی اُس کے لیے ’دہشت گرد‘ ہے اور یہاں کے باسیوں کو مختلف نام دے کر ختم کرنا ہی اصلی ہدف ہے۔ نہ صرف محاصروں کے پُر تنائو آپریشنز اور جھڑپوں کے جنگی جنون کے ذریعے سے، بلکہ مختلف حربے استعمال کرکے ڈرایا دھمکایا جانا بھی شامل ہے تاکہ کشمیریوں کی جانی و مالی حیثیت کو بکھیر دیا جائے۔

کشمیر یونی ورسٹی کے شعبہ سماجیات سے ہر دل عزیر استاد ڈاکٹر رفیع بٹ کا مئی کے مہینے میں جاں بحق ہونا، پھر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ہونہار اسکالر کا ۱۱؍اکتوبر کو ظلم وستم کی نذر ہو جانا، بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ۱۸ ؍ اکتوبر کو ہی کشمیر یونی ورسٹی کے شعبۂ ادویہ سازی سے فارغ التحصیل طالب علم شوکت احمد بٹ، پلوامہ میں شوٹ آئوٹ کے دوران جاں بحق ہو گئے۔ شوکت احمد محض آٹھ دن پہلے عسکریت سے منسلک ہوئے تھے۔ اسی طرح اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایک اور نوجوان اسکالرڈاکٹر سبزار احمد کے اپنے ایک اور ساتھی سمیت نوگام سرینگر میں گولی کا نشانہ بننے پر پوری وادی غم و اندوہ کی لہر میں ڈوب گئی ۔ ۲۴ ؍اکتوبر کو بیج بہاڑا کے آرونی علاقے میں ۴ مزید عسکریت پسند جاں بحق ہوئے۔ ۲۵؍ اکتوبر کو دو مختلف کارروائیوں کے دوران آرونی بیج بہاڑا اور کریری بارہمولہ میں چھے عسکریت پسند جاں بحق ہوئے۔ اگلے روز جمعے کے دن پازل پورہ رفیع آباد میں مزید دوعسکریت پسند حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں جاں بحق ہوئے۔

نومبر کا مہینہ بھی اس حوالے سے خونیں واقعات دہراتا ہوا آیا۔ نومبر کے مہینے میں ۱۸عسکریت پسندوں کے جاںبحق ہونے کے ساتھ ساتھ حریت رہنما (ضلع اسلام آباد) میر حفیظ اللہ کو مسلح افراد نے ۲ ؍ نومبر کو گھر میں گھس کر گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس حملے میں اُن کی اہلیہ بھی  شدید زخمی ہوئیں۔ میر حفیظ اللہ، جنوبی کشمیر سے مزاحمتی جدوجہد کے سرکردہ لیڈر تھے۔ وہ پہلے ہی سے نصف درجن سے زیادہ مقدمات کے سبب ۱۴  سال قید کاٹ کر آئے تھے۔اُن کے گھر کے اردگرد پچھلے کئی دنوں سے مشکوک حالت میں کچھ افراد گھوم رہے تھے۔ بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی کے مطابق ’جس طرح سے حکومت نواز بندوق بردار اخوانیوں نے ماضی میں نے چُن چُن کر جماعت اسلامی کے ارکان کو ختم کرنے کا گھنائونا سلسلہ قائم کیا تھا، اُسی طرز پر آج حریت رہنمائوں کو قتل کیا جارہاہے‘۔ حریت رہنما محمد اشرف صحرائی کے مطابق:’ حکومتی ایجنسیوں کے سامنے تحریکِ حریت اور جماعت اسلامی کے کارکنان اصلی اہداف ہیں‘۔

اس طرح آئے روزیہاں کے نوجوانوں کا کسی نہ کسی محاصرے میں جاں بحق ہونا معمول بن چکا ہے۔ ہر کوئی اس بات پر مضطرب ہے۔ ایسی صورت حال میں اس بات پر غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان طبقے کے لیے کیا کوئی اور راستہ مہیا نہیں ہو سکتا جس میں  وہ اپنی صلاحیتوں سے قوم کی خدمت ذرا مختلف پہلوئوں سے کر سکیں۔

دنیا میں کس انسان کو امن، ترقی، سُکھ ، شانتی جیسی حسین اصطلاحات پسند نہیں؟ بے روزگاری اور سیاسی انتقام سے کس کو نجات نہیں چاہیے؟ دنیا میں ایسا کون سا تعلیم یافتہ نوجوان جو اپنے کیریئر کے بارے بے فکر ہوگا؟ لیکن جس ماحول میں کشمیر کے لوگ اور یہاں کے نوجوانوں کو دھکیلا جا رہا ہے ، اُس میں انھیں آنکھیں بند کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ جب سیاسی اور انتظامی معاملات میں بھی اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں تو وہ اپنے جذبات کے اظہا ر کا حق دنیا کے باقی انسانوںکی طرح رکھتے ہیں، جس پر قابو پانا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتا۔

اس کے بالمقابل بھارت کا حکمران طبقہ محض اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ بھارت اور اس کے ہم نوائوں کے لیے یہ ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ آٹھ لاکھ پر مشتمل فوجیوں سے وہ کب تک یہاں کے لوگوں کو خموش کرا سکتے ہیں؟ اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر کی موجودہ نوجوان نسل ایسے ماحول میں پلی بڑھی ہے کہ جب یہاں عسکریت کا دور دورہ تھا۔ پھر انھوں نے اپنی آنکھوں سے اپنوں کو قتل ہوتے دیکھا ہے، انھوں نے اپنوں کے جنازوں کو کندھے دیے، اپنے ہی بزرگوں کی توہین انھوں نے برداشت کی ہے، اپنی مائوں بہنوں کی عصمت دری اور بے عزتی کے واقعات بھی انھوں نے بچشم سر دیکھے ہیں۔ اسی نوجوان نسل نے اعلیٰ تعلیمی اسناد اپنے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود مختلف محکمہ ہاے شعبہ جات میں دَر دَر کی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ یہاں کی انتظامی بدحالی، کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور سیاسی غنڈا گردی کی اصل ستم زدہ یہی نسل ہے۔ ایسے نو جوانوں کو طاقت کے بل پر روک لینا محال ہے۔

مسئلہ کشمیر کو موجودہ کشمیری نسل کے تشخیصی رموزات (identity aspects) میں اگر دیکھا جائے تو انھوں نے اپنی زندگی کی ایک صبح بھی عزت و وقار کے ساتھ جی کر نہیں دیکھی ہے۔ پھر جب ایسی نسل اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہو، دنیا کے حالات و واقعات کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرتی ہو، سائنس و ٹکنالوجی میں بھی نمایاں ہو، انٹرنیٹ کے ذریعے باقی اقوام کے لوگوں کی زندگیوں کا علم رکھتی ہو، تو اسے سوچنے سمجھنے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ یہ ہے وہ خطرناک صورت حال جس کی طرف نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ بھارت سمیت اقوامِ عالم کے ایوانوں کو خموشی توڑ کر مسئلہ کشمیر کی طرف اوّلین فرصت میں توجہ کرنی ہوگی ، نہیں تو یہاں سے ایسا انسانی بحران اُٹھنے کے خدشات ہیں، جو نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ اقوامِ عالم کے امن کو تباہ کر سکتا ہے۔

انھی حالات میں یہاں پر ایک اور اُبھرتے ہوئے انسانی حقوق کے مسئلے کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔ وادی میں ۹۰ ء کے عشرے کے دوران میں گھروں کی تلاشی جیسی کارروائیاں عمل میں لاتی جاتی تھیں، جن کا مقصد یہ تھا کہ کسی عسکریت پسند کو پناہ تو نہیں دی گئی ہے۔ مسجدوں کے لائوڈ اسپیکروں کو استعمال میں لا کر لوگوں کو بلا لحاظِ جنس، عمر اپنے گھروں سے باہر نکلنے کا حکم دیا اور گائوں کے کسی بڑے میدان میں، جو کہ عمومی طور پر بستی سے الگ ہوتا، جمع کیا جاتا تھا۔ پھر گھر گھر کی تلاشی کا وسیع و عریض جال بچھایا جاتا تھا ۔یہ ایک ایسی ا ذیت ناک صورت حال ہوا کرتی تھی، جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس تلاشی کے دوران گھر کا ساز و سامان بکھیر دینا، گھر کی نایاب چیزوں کا غائب کر دینا، ایک اذیت ناک صورت ہو ا کرتی تھی۔ یہ عمل آج بھی جاری و ساری ہے۔ اگرچہ آج اس عمل کو ’CASO‘ (کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز)کی اصطلاح سے بدلا گیا ہے، لیکن اس کی اذیت ۹۰ ء کے عشرے سے کئی درجے زیادہ ہے۔ تب کشمیریوں کو گھروں سے نکال باہر کرکے توڑ پھوڑ ، اور ماردھاڑ کی کارروائیاں کی جاتی تھیں، اور اَب انھیں گھر میں رکھ کر، ان کے سامنے توڑ پھوڑ اور لُوٹ مار کی کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔

اسی طرح کی ایک اور کارروائی کا نام ’جامہ تلاشی‘ ہے۔جس میں کپڑوں کو کھنگالا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کپڑوں کے اندر کسی ’متنازعہ‘ چیز کو چھپا رکھا ہو۔گھر گھر تلاشی اور جامہ تلاشی کے بعد اب ایک اور تلاشی کی کارروائی نے جنم لیا ہے، جس سے ’موبائل تلاشی ‘ کی اصطلاح سے موسوم کرسکتے ہیں۔

اس معاملے میں بات کرنے سے پہلے ’موبائل فون ‘ کوسمجھنا ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جس سے آپ دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ نہایت آسانی سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ پہلے پہل  یہ صرف ذاتی دوستوں کے ساتھ ہم کلام ہونے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ ٹکنالوجی کی ترقی سے اس میں لکھ کر پیغام بھیجنے کی سہولیت بھی آگئی۔ اور اب موبائل کے اندر انٹرنیٹ اور باقی سہولیات کی مدد سے، اس چھوٹے سے آلے کے ساتھ آپ کی پوری زندگی منسلک ہے۔ آپ کا کاروبار، آپ کی تعلیم، آپ کا باقی دنیا کے ساتھ رابطے میں رہنا ، آپ کی نجی ضروریات، آپ کی شاپنگ، آپ کا بنک، آپ کے راز، بالفاظِ دیگر آپ کی پوری زندگی اس میں مقید ہے۔ اگر اِس کو آپ کی زندگی سے کاٹ دیا جائے، تو آپ اپنے آپ کو اپاہج محسوس کر سکتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے دنیا کا امیر سے امیر ترین اور غریب سے غریب ترین انسان بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ گھر میں تو آپ کی چیزیں عیاں ہوتی ہیں، لیکن اگر کوئی شخص آپ کے موبائل میں جھانک کر آپ کی نجی تصاویر دیکھ لے تو یہ آپ کے لیے ناگوار صورت حال ثابت ہوسکتی ہے ۔اسی طرح سے کوئی شخص اگر آپ کے موبائل کے اندر آپ کے بنک کھاتے کی معلومات حاصل کرلے، آپ کی نجی فون کالز، آپ کے بھیجے گئے پیغامات، یا اسی طرح کی باقی واقفیت کو کرید کرید کر ٹٹول لے تو اس سے بڑھ کر اذیت ناک صورتِ حال اور کیا ہوسکتی ہے۔

اسلامی شریعت نے دوسروں کے رازوں کی ٹوہ لگانے یا کسی کے نجی معاملات میں بے جا مداخلت کو سخت ممنوع قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو، سورۃ الحجرات۴۹:۱۲، اور تفہیم القرآن  ، سورۃ الحجرات، حاشیہ ۲۵ )۔’موبائل تلاشی‘ اصل میں انسان کے رازداری کے حقوق(Right to Privacy) پر براہِ راست شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ رازداری کے حق کو اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے بالفعل نافذکیا ہے۔ البتہ عام طور پر رازداری کے حقوق کو مغرب کی ’روشن خیالی‘ سے اخذ کردہ سمجھا جاتا ہے، جو کہ حقیقت سے انحراف کے مصداق ہے ۔ مغرب کو اس حق کا خیال ۱۹۴۸ء میں اُس وقت آیا، جب اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی اعلامیہ براے انسانی حقوق کی دفعہ۸ میں  یہ تذکرہ کیا گیا کہ کسی بھی انسان کی رازداری کے اندر بے جا مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ اس کے   پس منظر میں انسانی حقوق کی انجمنوں کی اپیل پر بھارتی عدالت عالیہ نے اگست میں رازداری کے حقوق کو آئین ہند میں بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، اس کے تحفظ کا حکم جاری کیا۔ مگر بھارتی انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے لیے ایسے پروٹوکولز اور احکامات کی جو حیثیت ہے، اس کا مظاہرہ جموں و کشمیر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

بدنصیب وادیِ کشمیر میں ’موبائل تلاشی‘ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے اپنے موبائل کے اندر کوئی ایسی تصویر، ویڈیو یا کوئی ایسی فائل تو نہیں رکھی ہے، جو یہاں کے ’امن و قانون‘ کی صورت حال کے لیے خطرہ ہو۔ نوجوانوں کے موبائل کے اندر ایسے مواد کو ایک بڑے ثبوت کے طور پر دیکھا اور موبائل کے مالک کو دھر لیا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں موبائل فون پر کسی ویڈیو ، آڈیو، یا کسی بھی خبر کا موصول ہونا یا اس کی آمد کو روکنا آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ کسی نے آپ کو آپ کی اجازت کے بغیر، کسی واٹس ایپ گروپ میں شامل کرکے اُس گروپ میں کوئی مواد ڈال دیا ہے تو یہ آپ کے موبائل کے جمع خانے (storage ) میں داخل ہوگیا۔ جس میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ۔پھر     اسی طرح سے آج ٹکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ یہ خودبخود’اَپ ڈیٹ‘ یا تازہ ہوتی رہتی ہے۔جس پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، خاص کر ایک عام صارف کوا یسی باتوں کا علم تک نہیں ہوتا ۔

رازداری کے حقوق، انسانی زندگی کے عزتِ نفس کے ساتھ منسلک ہیں۔ ایسے حق کا  سلب ہونا انسان کو ذہنی اذیت سے دوچار کرتا ہے، جس سے بہت ساری نفسیانی اُلجھنیں جنم لیتی ہیں۔ موبائل تلاشی جیسی کارروائیاں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے ۔ انسانی حقوق کےعلَم برداروں کو انسانی حقوق کے اس اُبھرتے ہوئے مسئلے کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔

اب رہی بات اربابِ اقتدار کے جملہ رویوں کی، تو اس کی شدت کا اندازہ ۲۱ ؍ اکتوبر کے  اُس سرکاری حکم نامے سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں گیتا اور رامائن کو کشمیر کے اسکولوں کے نظام میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ سرکاری کتب خانوں میں بھی اس کے لیے خاطر خواہ انتظامات کیے جائیں۔ اگرچہ بعدازاں اس حکم نامے کو عوامی دبائو کے پیش نظر واپس لے لیا گیا، لیکن یہاں کی انتظامی مشینری کے ذہنی سانچے کو سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ اِن متعصب حکم ناموں کے پس پردہ کون کون سے مقاصد کار فرما ہیں۔ یہاں پر یہ نکتہ بحث طلب نہیں ہے کہ کسی مخصوص مذہب کی کتابوں کو اسکولوں میں متعارف کرنا صحیح ہے یا غلط، حالاںکہ امرواقعہ بالکل واضح ہے کہ وادی کی ۹۶ فی صد سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہاں کے اسکولی نظام کو چلانے کی خاطر جموں خطے کے مقابلے میں الگ سے ایک ڈائریکٹوریٹ کام کررہا ہے۔ مگر اس کے باوجود اربابِ اقتدار اپنے مقاصد کی آبیاری کے لیے تمام تر پیشہ ورانہ اخلاقیات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور یہاں کی سیاسی کشیدگی کوانتظامی احکامات میں ڈھالا جا رہا ہے۔ آئے روز کی خوں ریزی سے لوگ ابھی سوگوار ہی ہوتے ہیں کہ اگلی صبح انھیں ایک اور سوگ کے اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔

عوامی مفاد اور وقت کی ضرورت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے دنیابھر میں ایسے خاطر خواہ انتظامات کیے جاتے ہیں کہ جس سے لوگوں کا فائدہ ہو۔ لیکن یہاں جو بھی پالیسی بنائی جاتی ہے،  اُس کا کسی پیشہ ورانہ اخلاقیات سے دُور تک کا کوئی واسطہ دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اسی لیے یہاں جن  فلاحی اسکیموں کا بہ ظاہر سرکاری تقریبات میں بڑے مبالغانہ آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے، وہ بھی    اپنا حقیقی مقصد حاصل کرنے سے پرے ہوتی ہیں۔ اسی طرح کا ایک حکم نامہ ضلع بارہمولہ کے پٹواری حضرات کے نام نکالا اور اُن سے کہا گیا تھا کہ استادوں کی جگہ اب انھیں بورڈ امتحانات میں ڈیوٹیاں انجام دینی ہوں گی۔ متعلقہ حکم نامے کو بھی اگرچہ واپس لے لیا گیا ہے، لیکن یہاں کی انتظامی مشینری کی ذہنیت کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ایک مثال ہے ۔

مشرق وسطیٰ دنیا کا ایسا خطہ ہے، جس کو سیال ڈالر کا خطّہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی پہچان ہے جس نے اسے مسلسل ہیجان خیز اور ہنگامہ پرور حالات سے دوچار کر رکھاہے۔ تاہم، یہ پہچان ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ اسلام اور عالم اسلام کا قلب ہے اور دولت و ثروت یہاں کی باندی ہے۔ اسلام کا مرکز حرمینِ مقدس ہونے کی و جہ سے اسلامیان عالم کے لیے یہ ایمان و عقیدت کا محور ہے۔ مسلمان خواہ کسی بھی خطۂ ارضی میں ہو، کوئی زبان بولتا ہو، اس کے لیے اہم یہ ہے کہ یہاں قبلۂ اول، یعنی مسجد اقصیٰ و بیت المقدس بھی ہیں اور خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ بھی یہیں ہیں۔

سو سال قبل ۱۹۱۸ء میں یہاں تنازعے کی مستقل بنیاد برطانیہ اور فرانس نے ’سائیکس پیکوٹ‘ کے رسواے زمانہ خفیہ معاہدے [۱۶مئی ۱۹۱۶ء] کے تحت رکھ دی۔ بہت کم مسلمان آج یہ حقیقت جانتے ہیں کہ یہ معاہدہ اپنے مقاصد کے حصول میں جغرافیائی اعتبار سے ۸۰ فی صد ناکام رہا تھا۔ اسے برطانیہ سے ’اعلان بالفور‘ [۲نومبر۱۹۱۷ء] اور امریکا سے صدر آئزن ہاور کا ساتھ نہ ملتا تو فلسطین کا تنازع بھی پیدا نہ ہوتا۔ آج پھر شام ویمن اور لیبیا و عراق کے حالات دیکھ کر مسلمان خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطے مسلمانوں کی شکستِ حاضرہ کو تو پیش کر رہے ہیں، لیکن یہ ممالک، امریکا و روس اور یورپ کی ناکامی سے پیدا شدہ بے چینی کے مظہر زیادہ ہیں، جو دام اور بے دام مقاصد کی سراسر ناکامی ہے۔

اسی صورت حال میں جس ۲۰ فی صد ناکامی کا ہمیں سامنا ہے، وہ ’اعلان بالفور‘ کی پیدا کردہ ہے۔ اس اعلان نے اسرائیل کے قیام کو یقینی بنایا تھا۔ فلسطین چھین لیا گیا اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک ناجائز یہودی ریاست بنا دی گئی۔ اب یہی ریاست مستقل فساد کا مرکز ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کو الگ تھلگ کر کے ختم کرنے کی جس حکمت عملی کا آغاز ۱۹۴۸ء سے کیا گیا تھا، وہ آج پورے عروج پر ہے۔ کوئی فلسطینی اس یقین کے ساتھ رات کو سو نہیں پاتا کہ صبح ہوگی۔  اسی سے تکلیف کی اُس شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس میں آج کا فلسطینی مبتلا رکھا گیا ہے۔

اسی درجے کی تکلیف اور غم میں ہر مسلمان گرفتار ہے۔ یہ مسلمان عرب و عجم کی تمیز سے بالاتر ہوکر مبتلا ہے۔ اس کرب سے نکلنے کا آسان ترین راستہ یہ ہے کہ وہ فلسطین کو بھول جائے،    یہ سوچ کر کہ اس کے جسم کا ایک حصہ اس کے لیے تکلیف کا سبب بنا ہوا ہے، اسے کاٹ کر پھینک دیا سو پھینک دیا۔ اب کوئی درد، کوئی تکلیف، کوئی دکھ باقی نہیں رہا۔ لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہے۔ جسم کا کوئی حصہ کاٹ کر پھینکا جاسکتا ہے اور نہ کسی کا اس پر قبضہ ہی برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل نے فلسطین کو عالم اسلام سے جدا کرنے کے لیے اس گھنائونے کھیل کا آغاز ۱۹۴۸ء سے شروع کیا ہوا ہے۔ فلسطینی اسے نکبہ کا نام دیتے ہیں، یعنی بڑی قیامت ۔۱۹۴۸ء، ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء میں اسرائیل نے، تن تنہا نہیں، امریکا و برطانیہ اور یورپ، کی مدد سے عربوں سے جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ تین نشان ہیں ورنہ یہ جنگ تو ہمہ وقت جاری ہے۔ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے حملہ کر کے دریاے اُردن کے مغربی کنارے اور غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ دریاے اُردن کا مغربی کنارہ ہے اور غزہ جو کوسوں دُور مصری سرحدی علاقے پر مشتمل ہے، جسے ایک طرف سے سمندر نے گھیررکھا ہے اور دیگر اطراف سے مصر کی مدد سے اسرائیل نے گھیرا ہوا ہے۔ فلسطینیوں کی غزہ میں ناکہ بندی کی وجہ یہ ہے کہ یہاں آزاد انتخابی عمل سے حماس کو کامیابی ملی تھی۔

مصر اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کیمپ ڈیوڈ [۱۷ستمبر ۱۹۷۸ء]، جب کہ ’تنظیم آزادیِ فلسطین‘ اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدہ [۱۹۹۳ء]کے نتیجے میں وجود میں آنے والی نام نہاد فلسطینی ریاست اسی غزہ اور مغربی کنارے پر مشتمل ایک بلدیہ نما انتظام ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس دو حصوں پر مشتمل ہے۔ فلسطینیوں کا حصہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کہلاتا ہے اور اسے اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں۔ لیکن یہ یروشلم نہیں، مقبوضہ مشرقی بیت المقد س ہے۔ اس فلسطینی ریاست پر ۱۲ سال سے یاسر عرفات کے جانشین محمود عباس کی حکومت ہے۔ اسے برقرار رکھنے میں امریکا، برطانیہ، اسرائیل، یعنی سبھی شرانگیزوں کا مفاد ہے۔

اس تنازعے میں جوہری طور پر فلسطین (اصلی فلسطین جو سارے اسرائیل پر محیط ہے) اور عالمِ اسلام کو شکست ہوئی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے:

  • پہلے عالم اسلام کا متفقہ مطالبہ یہ تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے۔ اب یہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اب کہا جاتا ہے کہ فلسطینی ریاست تسلیم کی جائے۔ یہ مطالبہ اسرائیل سے ہے۔ جس کا صاف مطلب خود اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔یہ پہلی شکست ہے۔
  •  پہلے عالم اسلام کا متفقہ موقف تھا کہ اسرائیل قبول نہیں۔ اس سے ہر طرح کے تعلقات ناقابلِ قبول ہیں، ناقابل عمل ہیں۔ اب اس میں کمی، کمزوری اور پسپائی کے آثار نمایاں ہیں۔
  • پہلے عالمِ اسلام کا متفقہ موقف تھا کہ مقبوضات کی حیثیت مقبوضات کی ہی ہے، خواہ وہ  غزہ ہو، مغربی کنارہ ہو یا مقبوضہ بیت المقدس کا مشرقی حصہ ہو۔ اب یہ اس طرح سے کمزور پڑرہا ہے کہ یہاں اسرائیل یہودی بستیاں تعمیر کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔ پہلے ان تعمیرات پر شدید احتجاج کیا جاتا رہا ہے، اب یہ احتجاج دم توڑ رہا ہے۔ مسلم دنیا پر کارفرما حاکم اشرافیہ کی طرف سے غالباً اسرائیل کے لیے گنجایش پیدا کی جا رہی ہے۔
  • اسرائیل سے تعلقات کی ہر نوعیت ناجائز اور ناقابل قبول تھی۔ اب اس میں کمی آرہی ہے، نرمی پیدا کی جا رہی ہے۔

اس کے پس پردہ کیا ہو رہا ہے؟ اسے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

شرق اوسط کے تنازعے میں یہاں کی حکومتیں، امریکا ، برطانیہ ، فرانس ، اسرائیل ، امریکی اور برطانوی تھنک ٹینک [مرکز دانش] اور ذرائع ابلاغ فریق ہیں۔ ذرائع ابلاغ اس لیے فریق یا فریق نما ہیں، کیوں کہ یہ اسرائیل زدہ ہیں، امریکی و برطانوی ہیں یا ان کے زیر اثر ہیں، حتیٰ کہ  ان میں سکنڈے نیوین ممالک بھی شامل ہیں۔

ان فریقوں کے ذریعے امن کے نام پر کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ نائن الیون کے بعد   ان میں تیزی اور نوعیت میں تبدیلی آگئی ہے۔ نائن الیون کے بعد عراق، لیبیا، شام اور یمن میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، وہ ایک کوشش ہے جس سے عرب اسرائیل تنازعے کے نام سے، شرق اوسط کے تنازعے سے بقیہ عالم اسلام کو الگ کرنے میں کامیابی حاصل کی جا رہی ہے۔ عالم اسلام کی یہ نفسیاتی شکست ہے کہ وہ ذہنی طور پر اس تنازعے کو نسلی و قومی مسئلہ تسلیم کر چکا ہے اور اب اسے  عرب اسرائیل تنازع کہتا ہے، حالاںکہ یہ اسلام کا تنازع ہے، خود انسانیت کا تنازع ہے۔ عملی طور پر  اس کو ’عرب اسرائیل‘ کہنے والوں کا (امریکا و برطانیہ اور اسرائیل) کہنا ہے کہ پہلے بائیس (۲۲) مسلم ممالک سے یہ معاملہ حل کرا لیا جائے، یعنی خطے کی عرب حکومتیں راضی ہو جائیں تو ۵۷ مسلم ممالک میں سے ۳۵ممالک خود بخود مان لیں گے۔ رفتہ رفتہ یہ حکمت عملی کامیابی کی سمت بڑھ رہی ہے۔ اگر عرب مان لیں گے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کو جائز ریاست مان لیں گے تو ایک بلدیاتی ریاست فلسطینیوں کے لیے بن بھی جائے، جو کسی نہ کسی صورت میں اب بھی ہے تو اس طرح تنازع حل ہو جائے گا۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں امریکی مراکز دانش کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ صرف جیمز اے بیکر انسٹی ٹیوٹ کو دیکھیے: اس لیے کہ اس ادارے کا محور شرق اوسط ہی ہے۔ دوسرے، جیمز اے بیکر  امریکا کے وہ سابق وزیر خارجہ ہیں، جو نائن الیون سے پہلے اور بعد میں امریکی حکمت عملی کے معمار رہے ہیں۔ انھی کے ادارے کی سفارشات میں عرب اسرائیل تنازعے کا حل تجویز کیا گیا ہے۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ عرب ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کس طرح استوار ہوں، جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ذ ریعہ بن سکیں۔ ادارےنے سات نکات بطور حکمت عملی پیش کیے ہیں:

  • تعاون کے امکانات کو عملی طور پر طے کیا جائے۔ یہ امکانات خصوصی طور پر تکنیکی ہوں۔ کسی بڑے تعاون سے احتراز کیا جائے تاکہ عالمِ اسلام کے ہوشیار (alert) ہونے کا خطرہ باقی نہ رہے۔ یہ امکانات پہلے پہل خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان دیکھے جائیں۔ اس طرح اعتماد کی فضا پیدا ہوگی۔ سیاسی رابطے قائم ہوں گے۔ ورکنگ گروپس بن سکیں گے۔ جن میں بین الاقوامی ادارے اور فورم شامل ہو سکیں گے۔
  • اعلیٰ سطحی رابطوں کو بتدریج فروغ دیا جائے۔ پہلے پہل وزارتی روابط بنائے جائیں، جن میں فیصلہ ساز حکام کو شامل کیا جائے۔
  • سرمایہ دارانہ رابطوں کو آگے بڑھایا جائے۔ ہر خلیجی ریاست طے کرے کہ اس کے کون سے وسائل استعمال میں لا کر ان رابطوں کو گہرا کیا جاسکتا ہے۔
  • خلیجی ریاستوں کو عرب اسرائیل تنازع میں ’ثالثی‘ کا کردار دیا جائے، تاکہ وہ خطّے میں پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کریں۔ ان علاقائی تنازعات پر کام کریں جن کا اسرائیل سے تعلق ہو۔ اس طرح سے ’نیا شرق اوسط‘ سامنے لایا جاسکتا ہے۔
  • براہِ راست مذاکرات سے الگ کام کرنے والے ورکنگ گروپس اورنیٹ ورکس بنائے جائیں، جو خلیجی سفارت کاری کو ترجیح دیں ، روایتی ثالثی طریقوں کو آزمایا جائے۔ تیسرے فریق (غالباً امریکا، برطانیہ اور دیگر) کو اسی سطح پر شریک کیا جائے، تاکہ براہِ راست مذاکرات سے باہر گروہوں کو شامل کیا جاتا رہے۔
  • ایک تبدیل شدہ ’عرب امن اقدام‘ کو متعین اور مضبوط کیا جائے۔ علاقائی سطح کے حل سے آگے بڑھا جائے۔ عالمی حل سے اجتناب کیا جائے کیوں کہ اس سے بہت احتجاج پیدا ہونے کا احتمال رد نہیں کیا جاسکتا۔
  • سعودی عرب، امارات اور قطر، فلسطینی گروہوں پر اپنے اثرورسوخ کو بروے کار لاتے رہیں۔ اس طرح ان کی حمایت حاصل کی جائے، ان کی مزاحمت توڑی جائے، انھیں  امن اقدام میں شریک کیا جائے۔

ان نکات کی وضاحت میں کہا گیا کہ تصادم زدہ علاقوں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارہ، وغیرہ میں امداد اور ترقی کے پروگرام متعارف کرائے جائیں۔ جہاں جنگ سے تباہی ہو، ان خطّوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے۔ اس کے لیے سعودی عرب، امارات، کویت اور قطر اپنے مالی وسائل سے بھرپور کردار ادا کریں۔

اس پیپر میں بہت سے دیگر نکات بھی ہیں، تاہم اوپر بیان کردہ نکات سے بات سمجھی جاسکتی ہے۔ اگر ہم صرف ’عرب امن اقدام‘ (Arab Peace Initiative) کی طرف ہی توجہ دیں تو نائن الیون کے بعد ایک سرگرمی ہمیں ۲۰۰۲ء سے اب تک نظر آتی ہے۔

  • ’عرب امن اقدام‘ کا سب سے بنیادی نکتہ ایران کو محدود کرنا ہے۔ یوں عرب اسرائیل تنازع تو ثانوی رہ جاتا ہے لیکن ایران سے کش مکش بڑھ جاتی ہے۔
  • ۲۰۰۲ء میں ایک امن اقدام کا آغاز کیا گیا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ امریکی صدر جارج بش کی ہدایت پر اس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا۔ وہ اقوام متحدہ کے ایلچی کے طور پر برسوں اسرائیل مقیم رہے۔ ان کے پیش نظر یہ تھا:
  • فلسطینی ریاست جوں کی توں رہے۔ یہودی بستیوں پر قدغن نظر انداز کر دی جائے۔
  • امریکی مفاد یہ ہے کہ عربوں کے تعلقات اسرائیل سے معمول پر آئیں۔ اسرائیل کا مفاد یہ ہے کہ اس طرح اسے عربوں سے اور عرب ممالک کے راستوں سے، تجارت کے ذریعے سالانہ ۶۰؍ارب ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
  • عرب ممالک کا ایک نیا اتحاد وجود میں لایا جائے، جو سابقہ اتحادوں کی نفی کرتا ہو۔
  • عربوں کے اسرائیل سے معمول کے تعلقات اس کا اوّلین مقصد ہو، یہ تعلقات خصوصی فوجی اور معاشی ہوں۔ اس میں ۲۲عرب ممالک کو شامل کیا جائے۔ ایران کو محدود کرنے کے لیے، خلیج فارس میں ایران کے خطرے کو استعمال کرکے، اس اتحاد سے یہ مقاصد حاصل کیے جاسکیں گے۔

۲۰۰۶ء میں بھی ایسی ہی کوشش کی گئی مگر وہ ناکام ہوگئی۔ ٹونی بلیئر بھی مکمل کامیاب رہے اور نہ ناکام ہی رہے۔ پھر ۲۰۰۹ء میں ایک اور کوشش کی گئی۔ ۲۸ستمبر ۲۰۰۹ء کو جنرل اسمبلی سے خطاب اور سائیڈ لائن پر رابطوں میں امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اومان، سعودی عرب، کویت، بحرین ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے سربراہوں کو پیغام دیا کہ یہ ممالک اپنی فضائی حدود اسرائیلی تجارتی طیاروں کے لیے کھول دیں، تاکہ رات کے وقت یہ طیارے اسرائیلی سامان لے کر جا سکیں۔ ۲۰۱۱ءمیں بھی ایسی ہی کوشش کی گئی۔ ۱۶جنوری ۲۰۰۹ء کو دوحہ قطر میں خصوصی عرب کانفرنس ہوئی، جس میں ۲۲ عرب ممالک نے شرکت کی۔ ایران کے صدر احمدی نژاد بھی اس میں شریک ہوئے۔ تاہم، اس کانفرنس میں مصر اور سعودی عرب شریک نہ ہوئے۔ غالباً وجہ احمدی نژاد کی موجودگی تھی۔ شریک ممالک میں ترکی، شام، فلسطین اور قطر بھی تھے۔ قطری وزیراعظم نے اعلامیہ پڑھا جس میں کہا گیا کہ ’عرب امن اقدام‘ کو منجمد کر دیا جائے تاکہ غزہ پر اسرائیلی تازہ جارحیت پر احتجاج کو مؤثر بنایا جاسکے۔ شام نے اسرائیل سے امن مذاکرات معطل کر دیے۔ قطر اور موریطانیہ نے سفارت کاری منجمد کرنے کا اعلان کر دیا۔

 اب ہم آتے ہیںکہ اہم ممالک کے کردار اور عمل کی جانب۔ اس سلسلے سے پہلے     متحدہ عرب امارات کا تذکرہ۔ امارات کی جملہ سلامتی کی ذمہ داری، تیل و گیس کے کنوئوں اور تنصیبات کی نگرانی اور حفاظت ، شہروں میں جرائم کی روک تھام، ہنگامی صورت حال میں فوری اقدام جیسے نازک اور اہم ترین امور کی انجام دہی، اسرائیل کی ایجنسی ’ایشیا گلوبل ٹیکنالوجیز‘ (AGS) کرتی ہے۔ اس کا سربراہ متی کوشوی ہے جس نےایرک کے ساتھ بلیک واٹر کی بنیاد رکھی تھی۔ امارات کی دو کمپنیاں اس اے جی ایس سے مل کر یہ کام کرتی ہیں۔ ان میں ایک کمپنی’ایڈوانس انٹگریٹڈ سسٹم، (AIS) کہلاتی ہے۔ اس کا سربراہ خلفان الشمسی ہے۔ دوسری کمپنی’ایڈوانس ٹیکنیکل سولوشنز‘ (ATS) ہے۔ اس کا سربراہ محمد زیدالنابلسی ہے۔ یہ تینوں کمپنیاں مل کر ایک منصوبہ چلاتی ہیں جسے Falcon Eye (شاہین کی آنکھ)کا نام دیا گیا ہے۔ ان تینوں کمپنیوں نے مل کر ان کاموں کے لیے پرائیویٹ آرمی تشکیل دی ہے، جسے اسرائیلی فوج کی تکنیکی مدد حاصل ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ کمپنیاں ۶۰کروڑ ڈالر کے معاہدے کے تحت کام کر رہی ہیں۔ اس پراجیکٹ کی مجموعی مالیت ۸۱کروڑ ۶۰لاکھ ڈالر ہے۔ جیمز اے بیکر انسٹی ٹیوٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کی یہ ایک مؤثر مثال ہے۔ امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید کے بارے میں وکی لیکس نے بتایا تھا کہ وہ اسرائیل کی وزیر خارجہ زیپی لیونی کے ذاتی دوستوں میں سے ہیں۔ ایک اور کردار   ڈیوڈویکس بھی ہے، جو ’فالکن آئی پراجیکٹ‘ کا ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۳ء تک نائب صدر آپریشنز رہا ہے اوریہ بھی اسرائیلی ہے۔

آئیے اب قطر کی بات کرلیں۔ قطر نے اسرائیل کو وہ چھوٹ نہیں دی، جو امارات نے دے رکھی ہے۔ قطر کے بارے میں اہم عرب ممالک کا رویہ سخت خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ عرب اسرائیل تنازعے میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر رہا۔ تاہم، الجزیرہ ٹی وی میں بہت سے لوگ اسرائیل سے ہیں۔

اومان حالیہ واقعات کے ساتھ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یا ہو نے اکتوبر کے اواخر میں اومان کا دورہ کیا اور سلطان قابوس سعید سے ملاقات کی۔ یہ سرکاری دورہ تھا۔ اس کے بعد فالو اپ میں اسرائیل کی سپورٹس اور کلچر کی وزیر میری ریگیف بھی آئیں ۔ ان کے ساتھ کھلاڑی بھی آئے۔ جوڈو مقابلے ہوئے، اسرائیلی ترانہ پڑھا گیا۔ میری ریگیف نے عبرانی زبان میں جذباتی خطاب کیا اور موصوفہ کی آنکھیں آنسوئوں سے نم تھیں۔  یہ ۲۸اور ۲۹؍اکتوبر کے واقعات تھے۔ نیتن یاہو ۲۰سال میں پہلے حکمران تھے جس نے اسرائیل کی طرف سے اومان کا دورہ کیا۔

اسی سرگرمی کا ایک اہم حصہ مسقط میں بھی ہوا۔ وہاں اسرائیل کے وزیر ٹرانسپورٹ کاٹز نے کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کوTracks for Regional Peaceکا نام دیا گیا۔ اس کانفرنس میں سعودی عرب بھی شریک ہوا۔ منصوبے کے مطابق اسرائیل سے حیفہ شہر (فلسطین کا شہر) سے ترکی تک ریلوے لائن بچھائی جائے گی، جو متعدد عرب ممالک سے گزرے گی۔ یہ کانفرنس اومان اور اسرائیل نے مل کر کی۔

مصر اور اردن سے اسرائیل کے تعلقات بہت واضح ہیں، کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، یہاں پر ایک اور بات ضروری ہے۔ پاکستان میں بہت شوربلند ہوا کہ اسرائیلی طیارہ پاکستان آیا ہے۔ پورے زور و شور سے تردید کی گئی۔ بین الاقوامی سطح پر سوالات بھی اُٹھے۔    اس سے قطع نظر قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن نے بالکل بے جوڑ، مگر اسرائیل کے موجودہ سیاق و سباق کے مطابق اور حقیقت میں اسلام کی توہین پر مبنی خطاب کیا۔ موصوفہ کو نہ تاریخ کا علم ہے اور نہ تفسیر و سیرت جانتی ہیں۔ حیرت ہے کہ کسی نے پوائنٹ آف آرڈر پر نہیں ٹوکا کہ محترمہ  آپ غلط بات کر رہی ہیں۔

بہرحال رفتہ رفتہ مسلم دنیا میں بھی اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔

کیا یہ ایک دل چسپ اتفاق نہیں کہ یہ سالانہ جلسہ ایک ایسے مرحلے پر منعقد ہو رہا ہے جب ایک نہایت عظیم شاعر اور ڈراما نگار کی وفات پر پورے چار سو سال بیت گئے ہیں۔ میری مراد شیکسپیئر سے ہے، جو ۱۶۱۶ء میں فوت ہوا___ ایک ایسا نابغہ تخلیق کار جس نے تمام عمر فکری روشنی اور گرمی کا اہتمام کیا___  ایسی روشنی اور گرمی جس سے عالمی سطح پر قلوب کو حرارت اور ذہنوں کو جلا ملی۔ جس کا قول تھا کہ: ’ہر غلام اپنے اندر اتنی قوت رکھتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے اپنی غلامی اور ذلت کا پروانہ چاک کر دے‘۔ جس کا موقف تھا کہ: ’دیانت سے بڑی کوئی وراثت نہیں‘۔ جس کا خیال تھا کہ: ’مجنوں، عاشق اور شاعر ایک ہی تخیلاتی قبیلے کے فرد ہیں۔ شاعر کی آنکھ زمین سے آسمان اور آسمان سے زمین تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور جب شاعر کا تخیل حرکت میں آتا ہے تو نامعلوم ہیئتیں،  شکلوں میں ڈھل جاتی ہیں اور وہ خیالی معدومات کو نام اور مقام عطا کرتا ہے‘۔

شیکسپیئر، انگلستان کی نشاتِ ثانیہ کا فرزند تھا، مگر ایسا فرزند جس کو ابتدا میں نہ صحیح تعلیم مل سکی    اور نہ تربیت۔ وہ اپنے قصبے سے بھاگ کر ایک بڑے شہر میں پہنچا اور رفتہ رفتہ وہاں کے لوگوں کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ دراصل فطرت نے خود اس کی حنا بندی کا سروسامان کیا تھا جس کے نتیجے میں اپنے عہد کی اور ہر عہد کی بہترین غنائی شاعری اور میکبتھ ، ہیملٹ اور کنگ لیئر  جیسے لافانی المیہ ڈرامے وجود میں آئے۔ شاعر، سیاست دان اور شیکسپیئر کے معاصر سر والٹر ریلے [مقتول : اکتوبر۱۶۱۸ء] کا قول کس قدر سچا تھا: Shakespeare was the rarest of all things, a whole man! [’شیکسپیئر پورا آدمی تھا، ایک نادر الوجود نابغہ‘]

اس نے اپنے کرداروں کو جو گویا اس کے بچے تھے، اپنی بہترین تخلیقی وراثت منتقل کی۔ ’دردمندی میں گئی ساری جوانی اپنی‘ جتنی میر کے بارے میں سچ ہے اتنی ہی شیکسپیئر کے بارے میں بھی درست۔ یہی ہے وہ دردمندی، جس کا ہمارے پُرآشوب عہد میں شدید فقدان ہے اور جس کے باعث آج پوری نوعِ انسانی ایک دو راہے پر کھڑی ہے۔ شیکسپیئر کے اس ہراساں خرگوش کی طرح جو اپنے پچھلے پنجوں پر سیدھا کھڑا ہے اور شکاری کتوں کی دور سے آتی آوازیں اس کے دل میں ہول اور دہشت پیدا کر رہی ہیں۔

مغربی تہذیب اور فلسفہ

ایک زمانہ تھا کہ اُردو میں ’شہر آشوب‘ لکھے جاتے تھے، اب وقت آ گیا ہے کہ ’عالم آشوب‘ لکھے جائیں۔ یہ کیسا عالمِ اضداد ہے جس میں ایک طرف حیران کن جینیاتی انجینیرنگ کے ذریعے ’ٹرانس ہیومنزم‘ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور تھری ڈی ٹکنالوجی کی کرشمہ کاریاں متعارف ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف یہ بنیادیں رکھنے والے اپنے ہی بھائی بندوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ عراق، افغانستان اور لیبیا کی بربادی کے بعد اب شام کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف نظامِ شمسی کے نئے سیارے دریافت ہو رہے ہیں، بیسیوں نئی کہکشائیں منکشف ہو رہی ہیں اور دوسری جانب اس نیم جاں ارضی سیارے کے باشندوں کو بربادی اور ہلاکت کے ترقی یافتہ دیوتا بغیر کسی احساسِ جرم کے اور بغیر کسی ذہنی خلش کے موت سے ہم کنار کر رہے ہیں۔ معاً کنگ لیئر کا ضرب المثل مکالمہ یاد آتا ہے:

As flies to wanton boys are we to the gods They kill us for their sport!

[جس طرح کھلنڈرے بچے مکھیوں سے سلوک کرتے ہیں، ایسے ہی دیوتا ہمارے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی تفریح طبع کے لیے مار ڈالتے ہیں۔]

نام وَر پرتگالی ادیب ہوزے ساراماگو (۱۹۹۸ء کے نوبیل انعام یافتہ [م:۲۰۱۰ء]) نے ایک جگہ معاصر عالمی آشوب کو اندھے پن کی وبا سے تعبیر کیا ہے۔ اس کے خیال میں یہ اندھاپن ہمیں اس بات کی رخصت دیتا ہے کہ ہم مرّیخ پر راکٹ بھیج کر وہاں کی چٹانوں کی تشکیلی ساخت کو جانچیں پرکھیں مگر اس کرئہ ارضی پر کروڑوں انسانوں کو بھوک سے مار دیں۔ حوزے سارا ماگو کی دانست میں:  ’یا تو ہم اندھے ہیں یا پاگل‘۔ سعدی نے یہی بات صدیوں پہلے برنگِ دیگر کہی تھی:

تو کارِ زمیں را نکو ساختی

کہ باآسماں نیز پرداختی؟

[کیا تو نے زمین کے کاموں کو بنا سنوار لیا ہے کہ اب آسمان کی طرف متوجہ ہوگیا ہے]

۲۶مارچ ۲۰۱۰ء کو انگلستانی اخبار ڈیلی میل میں Slaughter of the Swansکے عنوان سے اینڈریو میلون کی تیار کردہ خبر چھپی۔ خلاصہ یہ تھا کہ ’مشرقی یورپ کے مہاجروں کے ہاتھوں خوب صورت ہنسوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے جو باعثِ تشویش ہے‘۔ پرندوں کے شکار کیے جانے پر اخبار نویس کی یہ تشویش قابلِ داد سہی، لیکن خود اس کا ملک دیگر استعماری طاقتوں کے دوش بدوش خود انسان اور اس کی نہایت قیمتی تہذیب کی بربادی کی جو تاریخ رقم کرتا رہا ہے اور اب بھی بہت حد تک اسی راہ پر گام زن ہے، اس کا حساب کون لے گا؟ مگر اہلِ مغرب اور امریکا کو تو یہ زعم ہے کہ وہ تہذیب کُش نہیں ’خالقِ تہذیب‘ ہیں۔ پھر امریکا اپنے عوام کو باور کراتا ہے کہ دُنیا کی برائیوں کی اصلاح ہمارا منصب ہے۔ یہ وہی نعرہ ہے جس کا علَم بردار ایک زمانے میں انگلستان تھا اور جسے رُڈیارڈ کپلنگ [م: ۱۹۳۶ء]نے Whiteman's Burden کی لغو ترکیب سے پیش کیا تھا۔ امریکا کو بقول ایڈورڈ سعید [م:۲۵ستمبر ۲۰۰۳ء]یہ زَعم ہے کہ: ’جو کچھ ہم چاہتے ہیں، دُنیا بھی وہی چاہتی ہے۔ ’ہم‘ اور ’وہ‘ کی اس ثنویت [duality] نے نوعِ انسانی کے مابین ایک بظاہر ناقابلِ عبور خلیج حائل کر دی ہے۔ فلسفے اور تہذیبوں کی تاریخ رقم کرنے والے دردمند اور نام وَر، صاحبِ اسلوب امریکی ادیب و دانش وَر ول ڈیورنٹ (م:۷نومبر۱۹۸۱ء) نے اپنی کتاب Fallen Leaves [برگ ہاے اُفتادہ]میں،  جو اس کی وفات کے تینتیس برس بعد ۲۰۱۴ء میں شائع ہوئی، ایک جگہ لکھا ہے:

پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ ہمیں خود کو حملے اور تخریب کاری اور کھلے اور چھپے خطرات سے محفوظ کرنے کے لیے اپنی صنعت، سائنس، دانش گاہوں کو اور ٹیکسوں کا آدھا حصہ تازہ ترین اور مہلک ترین ہتھیاروں کی تیاری کے لیے وقف کرنا ہے اور قریباً ایک کروڑ نوجوانوں کو اس امر پر تیار کرنا ہے کہ اُنھیں بغیر کسی اخلاقی یا مذہبی خلش کے حریف کو قتل اور غارت کرنا ہے۔ (ص۱۷۲)

ان سطور سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب عزائم یہ ہوں تو دُنیا میں پائیدار امن دیوانے کے ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ جب دمشق میں اگست ۱۹۲۰ء کو پہلی عالمی جنگ [۱۹۱۴ء-۱۹۱۸ء] کے بعد کا فرانسیسی جرنیل ہینری گورو [م: ۱۹۴۶ء] اُموی جامع مسجد سے متصل، صلاح الدین ایوبی کے  مزار پر دستک دے کر یہ کہہ رہا ہو کہAwake Salahdin! we have retuned. My presence here consecrates the victory of the Cross over the Crescent [صلاح الدین اُٹھو، ہم واپس آگئے ہیں، میری یہاں موجودگی، ہلال پر صلیب کی فتح کی تعظیم کے لیے ہے]تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نئی صلیبی جنگوں کا ڈول ڈالا جا رہا ہے!

جب وِل ڈیورنٹ کا ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو بے محل نہ ہوگا کہ اس کی مذکورہ کتاب کے بعض فکر افروز خیالات کا یہاں اجمالاً ذکر ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دانش وَر کو معاصر اور ماضی کی تہذیبوں کا تجزیہ کرنے اور اپنے عہد کے احوال و ظروف کی چھان پھٹک کی بہت حد تک صلاحیت حاصل تھی۔ اس کی بعض آرا اور تعبیرات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر بحیثیتِ مجموعی اس کے بعض تجزیے بڑے چشم کشا ہیں۔

ڈیورنٹ لکھتا ہے: ’۱۸۸۳ء میں جرمن فلسفی فریڈرک نٹشے [م:۱۹۰۰ء] نے زوال پذیر عیسائیت کے تناظر میں اعلان کیا تھا کہ God is dead. God remains dead and we have killed him  [خدا مر گیا ہے، خدا مرا ہی رہے گا، اور ہم نے اسے مارا ہے]۔

اس نے جمہوریت پر بھی شدید اعتراضات وارد کیے تھے۔

وِل ڈیورنٹ دُکھ کے ساتھ اعتراف کرتا ہے کہ آج آدھی عیسوی دُنیا سرکاری طور پر عیسائیت ترک کر چکی ہے۔ اسی طرح آدھی عیسوی دُنیا کے نزدیک جمہوریت محض فریبِ نظر (Window-dressing)  ہے۔ درحقیقت یہ جمہوریت، سادہ دل دُنیا پر دولت والوں کی حاکمیت ہے۔ تمام یورپ اور امریکا نے حضرتِ مسیح ؑ کی اخلاقیات کو خیرباد کہہ دیا ہے کیوںکہ زبردست فوجی قوت اور نئے عسکری عزائم کے ساتھ اس کی کوئی موافقت نہیں۔ دو عالمی جنگوں کے ہاتھوں عیسائیت شدید طور پر مجروح ہے۔ (ص۵۳)

مغرب کا پچھتاوا

ان عالمی جنگوں میں انسانوں کی جتنی بڑی تعداد موت کے گھاٹ اُتر گئی تھی، اس کا تصور ہی ہولناک ہے۔ دراصل جغرافیائی قومیت اور وطنیت کے تصور کو پوری انیسویں صدی کے یورپ میں بڑے تواتر سے تقویت پہنچائی گئی تھی اور اس میں قدامت پسند اور آزاد خیال دونوں کا حصہ تھا۔ رچرڈ کوچ اور کِرس اسمتھ ۲۰۰۷ء میں اپنی ہنگامہ خیز کتابSuicide of the West  (مغرب کی خودکشی) میں لکھتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ کے پہلے چار مہینوں ہی میں محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ جنگ سب متحارب قوموں کے لیے ہولناک ثابت ہوگی، لیکن نام نہاد قومی شناخت کے احساسِ فخر نے اسے ختم نہ ہونے دیا۔ اس جنگ میں ۸۵ لاکھ افراد کام آئے۔ دوسری عالمی جنگ [۱۹۳۹ء-۱۹۴۵ء]اس سے بھی زیادہ ہولناک ثابت ہوئی جس نے چار کروڑ ۷۰ لاکھ انسانوں کی بھینٹ لی۔ اُدھر دوسری طرف اشتراکیت کے علَم برداروں نے پانچ کروڑ ۴۰لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

ڈیورنٹ نے لکھا ہے کہ:

’’میرے نزدیک ’مرگِ خدا‘ اور دُنیاے عیسائیت کے پڑھے لکھے طبقوں میں عیسائیت کا زوال مغربی تاریخ کا عمیق ترین المیہ ہے___  عالمی جنگوں اور اشتراکیت کی آویزش سے بھی بڑا المیہ!‘‘ ایک متوازن دانش وَر کی طرح ڈیورنٹ ماضی کے ساتھ ارتباط اور روایت سے جڑت کو بھی ضروری گردانتا ہے۔ اس کے خیال میں ’حال مر جاتا ہے، ماضی نہیں‘۔ پھر اپنی معاصر صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہم اہلِ مغرب اپنے وقت کا بڑا حصہ خبروں کے پڑھنے، سننے اور ان پر تبصرے کرتے رہنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ ایسی خبریں کہ جو لمحۂ گزراں سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کا زندہ ماضی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شاید ہمارے عہد کی یہ نہایت المناک سچائی ہے کہ:

We are choked with news and starved of history (p.158) 

[خبروں نے ہمارا گلا گھونٹ دیا ہے اور تاریخ سے ہم کورے ہیں۔]

میرے نزدیک ڈیورنٹ کا مقصود یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ افراد و اقوام کے لیے حیاتِ تازہ کا باعث ہو سکتا ہے، خصوصاً جب حال کے احوال آپ کو شدید اضطراب اور شدید گھٹن سے دوچار کریں۔ وِل ڈیورنٹ اگر آج زندہ ہوتا اور مغربی اور خصوصاً ہمارے ذرائع ابلاغ پر بھانت بھانت کی غُرّاتی جھپٹتی آوازیں سنتا تو اس دُنیا کو فوراً خیرباد کہہ دیتا۔ اقبال کی طرح ڈیورنٹ بھی آزادی کو اس کی حدود کے اندر رکھنا چاہتا ہے اور بے لگام آزادی کو ’طفلانہ خواب‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ سقراط [م:۳۹۹ ق م]کا قول یاد آتا ہے جس نے کہا تھا کہ افراد یا ریاستوں میں حد سے بڑھی ہوئی آزادی، غلامی کے مترادف ہے۔ ظلم کی سب سے بڑھی ہوئی قسم انتہا تک پہنچی ہوئی آزادی سے جنم لیتی ہے۔ ذرا اقبال کو بھی یاد کر لیجیے:

ہو فکر اگر خام تو آزادیِ افکار

انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی

کہ ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری

ڈیورنٹ نے ایک پتے کی بات یہ بھی کہی ہے کہ تعلیم کا مقصود صرف عقل کی آبیاری نہیں۔ مغرب کا المیہ یہ ہے کہ اس نے کردار سازی کا سارا بوجھ خاندان اور کلیسا کے کندھوں پر ڈال دیا۔ لیکن چوںکہ یہ دونوں ادارے کمزور ہو رہے تھے، لہٰذا طالب علم عقل میں تیز اور کردار میں ڈھیلا ہوتا چلا گیا۔ اکبرالٰہ آبادی [م: ۱۹۲۱ء]کی بصیرت کو داد دینی پڑتی ہے، جنھوں نے تقریباً ایک صدی سے زیادہ عرصہ پہلے برملا کہہ دیا تھا:

علومِ مغربی کے بحر میں غوطے لگانے سے

زباں گو تیز ہو جاتی ہے، دل طاہر نہیں ہوتا

یہ بات معلوم ہے کہ ہر تہذیب اپنے مخصوص تصورِ حقیقت کے تابع اور اس کی مظہر ہوتی ہے۔ مغربی تہذیب کے بارے میں اوسوالڈ اشپنگلر [م:۱۹۳۶ء]نے کم و بیش ایک صدی قبل جو بات کہہ دی تھی وہ بہت حد تک آج بھی اتنی ہی سچ ہے، جتنی اس وقت تھی۔ اس نے کہا تھا کہ  مغربی تہذیب اپنی نہاد میں جرمن فلسفی فائوسٹ [م: ۱۵۴۰ء] کے زاویۂ حیات کی تابع ہے ،جس کا فلسفہ ’شیطان سے معاملہ فہمی‘ (deal with the Devil) کے گرد گھومتا ہے۔

عہدِ وسطیٰ کی کئی داستانوں کا ہیرو فائوسٹ اس لحاظ سے بڑا ہی بدقسمت واقع ہوا کہ اس نے علم اور قوت کے حصول کے لیے ابلیس سے اپنی روح کا سودا کیا۔ اوّل تو علم کے الوہی منبع سے صرفِ نظر کرنا اور اسے ابلیس سے طلب کرنا ہی کب صائب تھا، مزید ظلم یہ کہ اس سے قوت اور اقتدار کی بھیک بھی مانگ لی اور یہ سب کچھ اس نے اپنی روح کی قیمت پر کیا، لہٰذا نتیجہ معلوم۔

اوّل اوّل تو اس سے التفات برتا گیا مگر رفتہ رفتہ فائوسٹ لذات کی دلدل میں پھنستا گیا اور ابلیس نے اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا۔ مغرب کے اس فائوسٹی مزاج کا تجزیہ کرتے ہوئے ’مغرب کی خودکشی‘ کے مصنّفین کوچ اور اسمتھ لکھتے ہیں کہ: ’مغربی تہذیب کا مقصود بھی حصولِ قوت ہے اور یہ مسلّمہ اتھارٹی، ثقافتوں، روایتوں، نظامِ عقائد، قبل از صنعتی انقلاب طرزِ حیات اور اس سیارے کے ماحولیاتی نظام کو تہس نہس کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد کا ایک جملہ ایسا ہے جسے اصل انگریزی زبان ہی میں نقل کرنا مناسب ہوگا۔ لکھتے ہیں:

They (the Westerners) always want to do something, when often the best thing is to do nothing. (p.22)

[اہلِ مغرب ہروقت کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، جب کہ اکثر بہترین مصروفیت کچھ نہ کرنا ہے]۔

جب ہر شے کو چیلنج کرنا اور اس کے وجود کی نفی ہی مطمح نظر ٹھیرا اور مقصود محض حصولِ قوت قرار پایا، تو اس کا نتیجہ مثبت اقدارِ حیات اور مسلمات کے ردّ کے سوا کیا نکلتا۔ ’خدا کی موت‘، تاریخ کا اختتام، مرکز کی نفی، ریاست کا اختتام اور حق و صداقت کی موت اور اس طرح کے شاخسانے اسی طرزِ فکر سے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔

اس کے برعکس حق یہ ہے کہ ثبات اور دستورِ حیات ابنِ آدم کی نفسی اور روحانی ضرورت ہے۔ جب نظامِ عقائد کی نفی اور ’خدا کی موت‘ کے مظاہر اور اعلانات ہونے لگیں تو تہذیبیں اپنے برگ و بار کھونے لگتی ہیں۔ فوری نفع کی طلب، ہوسِ ملک گیری، کبھی نچلا نہ بیٹھنے والا تجسّس ایسے ہی طرزِ احساس کے زائیدہ ہوتے ہیں۔ اسی کی کوکھ سے تیل کی دولت پر قبضے اور معدنی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے مظاہر جنم لیتے ہیں۔ اس لوٹ کھسوٹ کا کیسا زندہ اور توانا اظہار اٹھارھویں صدی کے شاعر غلام علی ہمدانی مصحفی [م:۱۸۲۴ء]کے ہاں نظر آتا ہے:

ہندوستاں کی دولت و حشمت، جو کچھ کہ تھی

ظالم فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی!

اب اس اکیسویں صدی میں تو لوٹ کھسوٹ کا یہ شیطانی دائرہ اس قدر پھیل چکا ہے کہ اس میں کئی بڑے بڑے آسمانی سیارے سما جائیں! اس لوٹ کھسوٹ کو کوچ اور کِرسThe Insane Age of Imperialism (استعماریت کا عہدِ دیوانگی)سے تعبیر کرتے ہیں، جس کا زمانہ ۱۸۷۰ء سے ۱۹۱۴ء تک پھیلا ہوا ہے۔ فیڈرو دوستووفسکی [م:۱۸۸۱ء]کے کردار آئیون کرامازوف نے ناول کے محضر پر کتنا بڑا سچ اُگل دیا تھا: If there is no God, everything is permitted [اگر خدا کا وجود نہیں ہے تو پھر ہر شے کی اجازت ہے]۔درحقیقت یہ وہ نفی ہے جو اپنے اگلے مرحلے ’اثبات‘ سے محروم ہے اور ’نفیِ بے اثبات‘ کے بارے میں غالب جیسے بے مثل حکیم نے بہت کھل کر کہہ رکھا ہے کہ:

نفیِ بے اثبات نَبُود جز ضلال

(اِثبات سے محروم نفی سوائے گمراہی کے اور کیا ہے؟)

معاصر عالمی صورتِ حال یہ ہے کہ اس پر یک قطبی (Uni-polar) نظام تیزی سے مسلط ہو رہا ہے۔ غریب اور کمزور قومیں غریب تر اور کمزور تر ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے اقتدارِ اعلیٰ پر حملے ہو رہے ہیں۔ اپنا مطلب نکالنے کے لیے جمہوریت بھی جائز ہے اور آمریت بھی۔ اس ارضی سیارے کی ہوائوں، پانیوں، خوراک، سب میں زہر گھل رہا ہے۔ آبی ذخیروں میں مچھلیاں مر رہی ہیں اور  آبی حیات مسلسل مسموم ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی ٹمبر مافیائوں کے ہاتھوں جنگلوں کے جنگل صاف ہورہے ہیں۔ ’ماحولیات کی موت‘ (Ecocide) ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ گلیشیئر پگھلنا شروع ہو گئے ہیں کیوںکہ عالمی حرارت آفرینی (Global Warming) میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے حیاتِ انسانی، حیوانی اور نباتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پوچھا جا رہا ہے کہ انسانی دماغ کا مستقبل کیا ہے؟ حال آںکہ اصل سوال یہ ہے کہ خود انسان کا مستقبل کیا ہے؟ اقبال نے ۱۹۰۹ء میں کیسی بصیرت افروز بات کی تھی:

Fight not for the interpretation of truth when the truth itself is in danger.  [سچائی کی تعبیرو تشریح کے لیے اُس وقت لڑنا کیا معنی رکھتا ہے، جب خود سچائی کاوجود خطرے میں ہو]۔

دولت کی نامساوی تقسیم کے ضمن میں وِل ڈیورنٹ لکھتا ہے کہ تاریخ میں پہلے بھی ارتکازِ دولت کے شواہد موجود رہے ہیں جس سے مریضانہ اور سرطانی صورتِ حال پیدا ہوتی رہی ہے۔ معاصر صورتِ احوال یہ ہے کہ اب پھر انقلاب کی فریاد امریکا، فرانس اور اٹلی میں بلند ہو رہی ہے۔ یہ فریاد روس اور چین کی صداے بازگشت ہی نہیں بلکہ تلخ کام و تلخ ایام غربت و افلاس کا احتجاج ہے، جو متکبر دولت کے دوش بدوش زندگی گزار رہی ہے۔ طالب علم صاحبانِ اقتدار کا تختہ اُلٹنے کے لیے    ہفتۂ جدوجہد منانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ (ص۱۷۰)

ڈیورنٹ نے تو یہ بات آج سے کم و بیش چالیس بیالیس برس پہلے کہی تھی، تازہ ترین صورتِ حالات معاشیات کے نوبیل انعام یافتہ جوزف ای اِسٹیگلٹز [پ: ۱۹۴۳ء] کی زبانی سنیے جس کی کتاب The Great Divide (وسیع تر خلیج) پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کتاب ۲۰۱۵ء میں شائع ہوئی ہے۔

مصنف کے خیال میں: ’آج کا امریکی خاندان ۲۵برس پہلے کے مقابلے میں بدتر حالت میں ہے۔ وہ امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کا ذکر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ: ’امریکا میں نہایت دولت مند افراد کا تناسب محض ایک فی صد ہے۔ باقی ۹۹فی صد وہ مخلوق ہیں جو معاشی ناآسودگی کا شکار، حال سے بے حال اور مستقبل کے باب میں شدید بے یقینی اور بے اطمینانی کا شکار ہیں۔ اب یہ شعور اس ایک فی صد اقلیت کو بھی ہونے لگا ہے جو دبے لفظوں میں ۱۷۸۹ء کے ’انقلابِ فرانس‘ میں کثرت سے استعمال ہونے والے گلا کاٹ ہتھیار گلوٹین کا ذکر کرنے لگے ہیں‘۔ دُنیا کے ان ایک فی صد لوگوں کے پاس باقی دُنیا کی دولت کا آدھا حصہ ہے‘‘!

اِسٹیگلٹز نے جمہوریت کے بارے میں امریکی صدر ابراہام لنکن [م:۱۸۶۵ء] کے مشہور قول By the people, of the people, for the people کا مضحکہ کرتے ہوئے ۲۰۱۱ء میں اپنے ایک مقالے کا عنوان جمایا تھا، جو اپنی جگہ نہایت بلیغ اور امریکی جمہوریت پر ایک لطیف طنز ہے: Of the one percent, by the one percent, for the one percent [ایک فی صدکا  ایک فی صد سے اور صرف ایک فی صد کے لیے]۔آپ کو یاد ہوگا کہ معاشی ناآسودگی کے شکار ۹۹فی صد غریب امریکی شہری، ۱۷ستمبر ۲۰۱۱ء کو ’قبضہ وال اسٹریٹ‘ تحریک کے نعرے تلے کئی بڑے بڑے جلوس نکال چکے ہیں اور ان کا نعرہ یہ رہا ہے: We are 99%۔ (یعنی امریکا کے ایک فی صد کے مقابلے میں ۹۹ فی صد معاشی ناہمواری و استحصال کا شکار ہیں)۔یہ نعرہ بذاتِ خود بڑا بلیغ اور معنی خیز ہے۔

ابھی اُوپر میں نے دوستووفسکی کا قول نقل کیا تھا کہ اگر خدا نہیں ہے تو پھر ہر شے کی اجازت ہے۔ دراصل ذاتِ حق تعالیٰ کے وجود کے ساتھ بہت سے تصورات وابستہ ہیں۔ سزا و جزا اور عاقبت کے تصور اُسی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ خود کائنات کی تخلیق بھی اسی کے وجود سے وابستہ ہے۔ ماضی اور حال کے متعدد عقل پرست ذاتِ حق کے وجود سے برسرِپیکار رہے ہیں اور یوں صریح انکار یا تشکیک کے متعدد پیرایے اظہار پاتے رہے ہیں۔

سائنس کا مخمصہ

زمانۂ حال کے ممتاز اور عالمی شہرت کے حامل ماہر ریاضیات و طبیعیات و فلکیات اسٹیفن ہاکنگ [م: ۲۰۱۸ء]نے متعدد دل چسپ اور فکر انگیز کتابیں لکھی ہیں، جن میں ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘ نے غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی۔ اُس کی دو اور کتابیں ’بلیک ہولز اینڈ بے بی یونیورسز‘ (۱۹۹۳ء) اور ’دی گرینڈ ڈیزائن‘ (۲۰۱۰ء)بھی کچھ برس پہلے شائع ہوئیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کی ان کتابوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ موصوف کی ساری کوشش یہ ہے کہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ  یہ کائنات ابدی طبیعی اُصولوں کی بنیاد پر آپ سے آپ وجود میں آئی اور اس کے لیے کسی خالقِ کائنات کا وجود ضروری نہیں۔

ہاکنگ کا کہنا ہے کہ: ’حقیقت کی نوعیت کیا ہے؟ کائنات کا طرزِعمل کیا ہے؟ کیا کائنات کے لیے کسی خالق کی ضرورت ہے؟ وعلیٰ ہذا القیاس، یہ سب بنیادی طور پر فلسفے کے سوالات ہیں مگر فلسفہ مرچکا ہے کیونکہ فلسفہ سائنس کے جدید اکتشافات خصوصاً طبیعیات کے قدم بہ قدم نہیں چل سکا‘۔ اس کا خیال ہے کہ حقیقت کا سادہ تصور جدید طبیعیات سے ہم آہنگ نہیں۔ حقیقت کا کلاسیکی تصور یہ تھا کہ ہر شے کی محض واحد تاریخ ہے،جب کہ ’کوانٹم مکینکس‘[قدری میکانیات] کا تصور یہ ہے کہ کسی شے کی واحد تاریخ نہیں متعدد امکانی تاریخیں ہو سکتی ہیں۔ ایسی تاریخیں ایک دوسری کی معاون ہوسکتی ہیں۔ شاید تنقید اور عمرانیات میں تکثیریت کا تصور یہیں سے پیدا ہوا ہو مگر ادبی اور تخلیقی سطح پر یہ تصور نیا نہیں۔ جب استاد ابراہیم ذوق [م: ۱۸۵۴ء]نے یہ شعر کہا تھا تو وہ تکثیریت ہی کی تحسین اور اثبات تو کر رہا تھا:

گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن

اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

بہرحال ہاکنگ کے نزدیک سائنس کے فلسفیوں کو طبیعیات کے نئے محاذوں کا علم نہیں ہے، اور وہ اب تک بیسویں صدی کے سائنسی تصورات، یعنی نظریۂ اضافیت اور کوانٹم مکینکس کی لکیر پیٹ رہے ہیں۔ ’کوانٹم مکینکس‘ سے طبیعیات(فزکس) کا اگلا سنگِ میل اب ایم تھیوری (M.Theory) ہے، جو بقول ہاکنگ ’ہر شے کی تھیوری ثابت ہوگی‘۔ ایم تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری کائنات ہی سب کچھ نہیں۔ اس تھیوری کا مفروضہ یہ ہے کہ متعدد کائناتیں عدمِ محض سے وجود میں آئیں۔ ہاکنگ کے نزدیک ان کے وجود میں آنے کے لیے کسی مافوق الفطرت ذات یا خدا کی مداخلت کی ضرورت نہ تھی بلکہ یہ متعدد کائناتیں طبیعی اُصول کے تحت وجود میں آئیں۔

اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قوانینِ طبیعی کیسے اور کہاں سے وجود میں آئے؟ کیا   یہ بھی عدمِ محض سے وجود میں آئے یا ان کے پسِ پشت کسی ایسی ذات کی کارفرمائی تھی جو علت العلل ہے یا جسے واجب الوجود کہا جاتا ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب اسٹیفن ہاکنگ کے پاس نہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کیا کسی بھی تعقل پرست کے پاس نہیں۔ ہاکنگ یہ تو کہتا ہے کہ: ’اب شاید یہ بتایا جاسکے گا کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا، لیکن یہ اس کے علم میں بھی نہیں کہ اس کا آغاز کیوں ہوا؟‘ بات وہی ہے جس کا اظہار اقبال نے مدتوں پہلے کر دیا تھا:

زماں زماں شکند آنچہ می تراشد عقل

بیا کہ عشق مسلمان و عقل زناری است

[جو کچھ عقل تراشتی ہے، عشق اسے لمحہ بہ لمحہ توڑتا جاتا ہے۔ آگاہ رہ کہ عشق مسلمان ہے اور عقل بت پرست]

دیکھا جائے تو فلسفے کی ساری تاریخ ’زماں زماں شکند‘ کی تاریخ ہے گو کہ یہ تاریخ ہے بہت مزے کی!

اسے فکرِ انسانی کا کرشمہ کہیے یا المیہ کہ یہ عہد بہ عہد افکار و خیالات کے نئے نئے پتلے بناتی اور تراشتی رہتی ہے اور پھر انھیں ترمیم یا شکست سے دوچار کر کے نئی مہم جوئی پر نکل کھڑی ہوتی ہے۔ عہدِ جدید میں علوم کی پرانی حدبندیاں تیزی سے منہدم ہو رہی ہیں اور بین العلومی منہاج (Inter-Disciplinary Approach) پر اصرار ہو رہا ہے جو یقینا اپنی جگہ بڑا مبارک ہے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ بعض فکری تغیرات، ثبات اور دوام کی قدروں کے لیے ایک مستقل چیلنج کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ کیا معروضی صداقت نام کی کوئی چیز ہوتی ہے یا نہیں؟

مابعد جدیدیت کےعلَم بردار کسی ایسی صداقت کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ بریسلر کے خیال میں ان مفکروں اور علَم برداروں کے نزدیک صداقت کی تمام تعریفیں اور اس کی نمایندہ توضیحات محض ذہنِ انسانی کی زائیدہ ہیں، صداقت کی اپنی حیثیت اضافی ہے۔ یہ مفکر نقشے اور تفصیلات کے بجاے کولاژ پر اصرار کرتے ہیں اور کولاژ کے معانی ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ نقشے پر  نگاہ کرنے والا اس کے معانی اور سمت کے تعین میں مدد لیتا ہے، کولاژ کا ناظر و ناقد کئی ممکنہ تعبیرات کے در کھولتا ہے۔ تعبیر کی یہ تکثیریت اپنی جگہ کتنی ہی قابلِ داد کیوں نہ ہو، مگر اس کا الم ناک پہلو  ’شد پریشاں خواب من از کثرتِ تعبیر ہا‘ کا مصداق بہرحال بن جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ صداقتوں اور سچائیوں کا منبع ذہنِ انسانی ہے یا اُن کا صدور واحد خالق و مالک کی ذاتِ حق سے ہوتا ہے؟ مابعد جدیدیت کے علَم بردار اس سوال کے صرف اوّلین حصے سے متفق نظر آتے ہیں۔ اگر ہر فرد کی صداقت دوسرے فرد کی صداقت سے الگ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں نہ معاشرے کا باہمی ارتباط ممکن ہے، نہ اس کی بقا اور نہ وحدتِ فکر کا کوئی امکان باقی رہتا ہے۔ دراصل مغربی ذہن تعقلِ محض کے شکنجے کا اس بُری طرح اسیر ہو گیا ہے کہ الوہی صداقتوں اور ان کے دوام اور ابدیت کی طرف اس کا ذہن منتقل نہیں ہو پا رہا۔ اس سے فسادِ فکر و عمل کی وہ صورتیں پھوٹتی ہیں جن کے باعث یہ پوری دھرتی اس وقت ایک حشر خیز جہنم زار کا منظر پیش کر رہی ہے۔

بحروبر میں فساد

معاشرے یقینا ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں اور ہیں، لیکن کھال کے نیچے ہم سب ایک ہیں۔ بڑی حد تک مشترک طرزِ احساس رکھتے ہیں، مشترک درد رکھتے ہیں۔ ہسٹن اسمتھ (جلال الدین) نے کیسی پتے کی بات کہی ہے کہ ہم کسی دوسرے کے ’دوسرے پن‘ کا اس وقت تک احترام نہیں کرسکتے جب تک ہم اپنے ساتھ اس کی مماثلت کا ادراک اور اعتراف نہیں کر لیتے۔ اسمتھ تبت کے ایک صوفی دانش وَر کالو رمپوچی (Rimpoche)کا قول نقل کرتا ہے جس کی صداقت حیرت انگیز حد تک اقبال کے ایک شعر سے مماثل ہے۔ رمپوچی نے کہا تھا:

’عقل کہتی ہے میں کچھ بھی نہیں، عشق کہتا ہے میں سب کچھ ہوں‘

یوں لگتا ہے گویا رمپوچی نے اقبال ہی کے شعر کو لفظاً لفظاً نثر میں دہرایا ہے:

در بود و نبود من اندیشہ گماں ہا داشت

از عشق ہویدا شد ایں نکتہ کہ ہستم من

[سوچ اس گمان میں تھی کہ مَیں ہوں یا نہیں ہوں۔ عشق سے یہ نکتہ ظاہر ہوا کہ مَیں موجود ہوں۔]

وقت آ گیا ہے کہ تہذیبیں ایک دوسرے کے ہاں مشترک پہلو تلاش کریں اور وحدتِ آدم کے نام پر ایک دوسرے کا اثبات کریں۔ ’بنی آدم اعضاے یک دیگر اند‘ کا نعرہ صرف اقوامِ متحدہ کی دیوارِ بزرگ ہی کی زینت بن کر نہ رہ جائے، دلوں میں بھی اُترے، لہو میں بھی جاری و ساری ہو، مگر ہو کیا رہا ہے؟ خشکی اور تری میں ہر جگہ فساد اور ہلاکت کی کارفرمائی ہے۔ آگ پھیلتی ہے تو ایک گھر تک محدود نہیں رہتی۔ زہریلی ہوائیں کسی پاسپورٹ پر سفر نہیں کرتیں۔ اپنے ہی ملک پر نگاہ ڈالیں۔ نصب العینوں کی شکست، تنگ نظری کا دیو استبداد، خودکش دھماکے، قانون اور ضابطے کی بے احترامی، لوٹ کھسوٹ کی گرم بازاری، افلاس اور عدم مساوات کی حکمرانی۔ قصہ مختصر یہ کہ:

ہرطرف ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا!

پڑوسی ملک میں صورتِ احوال کیا ہے۔ اروندھتی رائے [پ:۲۴نومبر ۱۹۶۱ء] سے پوچھیے، جو An Ordinary Person's Guide to Empire  [۲۰۰۴ء]میں ایک جگہ لکھتی ہیں:

It (India) is conducting nuclear tests, rewriting history books, burning churches and demolishing mosques. Censorship, surveillance, the suspension of civil liberties and human rights, the questioning of who is an Indian citizen and who is not, particularly with regard to religious minorities, are all becoming common practice now (p.79)

[بھارت ایٹمی دھماکے کر رہا ہے، تاریخ کی کتب ازسرِنو لکھوا رہا ہے، گرجاگھروں کو  جلا رہا ہے اور مساجد کو منہدم کررہا ہے۔ سنسر، کڑی نگرانی ، شہری آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندی، یہ سوال کہ کون بھارتی شہری ہے اور کون نہیں، بالخصوص مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے، ایک عام روش بنتی جارہی ہے۔]

مگر بھارت چوںکہ ایک بڑی مارکیٹ ہے، لہٰذا بقول اروندھتی رائے CNN ان ناہمواریوں اور مظالم کو آئینہ کرنے سے قاصر ہے۔ ترک نوبیل انعام یافتہ دانش ور اورہان پاموک (پ:۱۹۵۲ء) نے اپنی فکر انگیز کتاب Other Colors (2007) میں کیسی عمدہ بات کہی تھی اور اس میں کیسی دردمندی چھپی تھی:

When another writer in another house is not free, no writer is free. (p 182)

[جب ایک مصنف اپنے گھر میں آزاد نہیں ہے تو پھر کوئی بھی مصنف آزاد نہیں ہے۔]

اس نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ: ’آئیے ہم یہ سوچیں کہ ثقافتوں اور مذہبوں میں کیڑے نکالنا کہاں تک صحیح ہے؟ یا زیادہ مناسب لفظوں میں یہ سوال کرنا کہ جمہوریت اور آزادی کے نام پر ملکوں پر بے رحمانہ بمباری کرنا کہاں تک روا ہے؟۔ عراق کے خلاف امریکی قیادت میں مارچ ۲۰۰۳ء کے دوران میں بے رحمانہ یلغار پر برطانیہ کے معروف میڈیکل جرنل The Lancet (اجرا: ۱۸۳۳ء) کے مطابق عراق میں ۶لاکھ ۵۶ہزار انسانوں کے بے رحمانہ قتل کے نتیجے میں کہیں امن اور جمہوریت نہیں آ سکی بلکہ اس کے برعکس مغرب کے خلاف نفرت اور غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ وحشیانہ اور ظلم سے بھری جنگ امریکا اور مغرب کے لیے باعثِ شرم ہے۔ (ص۱۸۳)

 کم و بیش ایسے ہی خیالات کا اظہار ممتاز امریکی دانش وَر، ناول نگار اور نقاد خاتون سوسن سونٹیگ [م:۲۰۰۴ء]نے کیا تھا کہ: ’افغانستان اور عراق میں نہتے شہریوں کے قتل سے امریکا کے خلاف نفرت بڑھے گی‘۔ اس نے اس موقعے پر امریکی صدر کی تقریر بازیوں کو Cowboy rhetoric  قرار دیا تھا۔

نجات کی راہ

سوال یہ ہے کہ انتقام، نفرت، باہمی آویزش، قتل و سلب، تباہی و بربادی اور اجتماعی ذہنی اختلال اور پاگل پن کی اس دل شکن اور ہوش رُبا فضا میں کیا کرنا چاہیے کہ زخموں پر مرہم رکھا جاسکے اور اجتماعی آفاقی صحت کو بحال کرنے یا کم از کم مصائبِ عالم کو کسی قدر کم کرنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے؟ میرے نزدیک ایک ہی رستہ ہے، بہت لمبا اور کٹھن مگر بہرحال منزل تک پہنچانے والا اور وہ ہے___ باہمی انسانی احترام اور رواداری کا رستہ۔ فنونِ لطیفہ اور عالمی ادبیات (World Literatures) بھی اسی احترامِ آدم اور رواداری کا سبق دیتے رہے ہیں اور خود ہمارا اُردو ادب بھی اس محضر پر ایک ناطق اور معتبر گواہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

صرف شاعری ہی کو لے لیجیے۔ ملّا وجہی سے اقبال تک اور اقبال سے ہمارے عہد تک، احترامِ آدمیت، رواداری اور برداشت کے عناصر شاعری میں جا بہ جا نظر آئیں گے۔ دراصل بڑا ادب ہی تہذیبوں کو اپنے گہوارے میں پالتا پوستا اور جوان کرتا ہے۔ بڑا ادب اس وقت تک وجود میں نہیں آ سکتا جب تک دل ابنِ عربی [م:۱۲۴۰ء]کے دل کی طرح کا نہ ہو جائے جس کی بے کنار وسعتوں میں ہر مشرب و مسلک کے ہرن قلانچیں بھرتے نظر آئیں۔ ذرا بابا فغانی شیرازی [م:۱۵۱۸ء] کے دو شعر سنیے اور دیکھیے کہ وہ کس طرح ’اندوہِ عالم‘ کو اپنا اصل اثاثہ اور سرمایہ جانتا ہے اور رسمیات و ریاکاری سے بلندتر ہونے اور یک رنگی و یک جہتی کی علامتیں استعمال کرتا ہے:

بقدرِ طاقتِ خود ہر کسے غمے دارد

دل من است کہ اندوہِ عالمے دارد

سبحہ را بگسل فغانی گر پشیماں گشتہ ای

کانچہ در تسبیحِ زاہد نیست در زنّار ہست

[ہرشخص اپنی ہمت کے مطابق غم برداشت کرتا ہے۔ یہ میرا دل ہے کہ دنیا جہان کا غم و اندوہ لیے ہوئے ہے۔ lاے فغانی، اس تسبیح کو توڑ دے، اگر تو اس کو اختیار کرنے سےپشیمان ہو رہا ہے۔ کیوں کہ جو کچھ تسبیح میں نہیں، وہ تجھے زنّار میں مل جائے گا۔]

’زنّار‘ کے ظاہری معانی پر نہ جائیے۔ تصوف کی اصطلاح میں یہ سالک کی یک رنگی، راہِ دین میں متابعت اور راہِ یقین میں استقامت سے عبارت ہے، اور ’راہِ حق میں استقامت سے بڑی کوئی کرامت نہیں‘۔

تشبیہوں، تمثیلوں، پیکروں، استعاروں اور علامتوں کے پیرائے میں ہمارے تخلیق کاروں نے سچائی، صداقت اور احترامِ آدمیت کا جو سبق دیا ہے وہ ہمارے ادب کا ایک لازوال سرمایہ ہے۔ ایسا سرمایہ جس کو لفظ پرستی اور تخیل سے محروم خشک فکری سے برتر اور ماورا ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ذیل کے چند شعر دیکھیے:

’خدا ساز‘ تھا آزرِ بت تراش

ہم اپنے تئیں آدمی تو بنائیں

(میر)

کر زندگی اس طور سے تو درد جہاں میں

خاطر پہ کسی شخص کے تو بار نہ ہووے

بستے ہیں ترے سایے میں سب شیخ و برہمن

آباد تجھی سے تو ہے گھر دیر و حرم کا

یارب درست گو نہ رہوں عہد پر ترے

بندے سے پر نہ ہو کوئی بندہ شکستہ دل

(درد)

باراں کی طرح لطف و کرم عام کیے جا

آیا ہے جو دُنیا میں تو کچھ کام کیے جا

(آتش)

رات دن غافل! بدوں سے بھی کیا کر نیکیاں

کیا بُرا ہے اس میں کچھ تیرا بھلا ہو جائے گا

(ناسخ)

نہ سنو گر بُرا کہے کوئی

نہ کہو گر بُرا کرے کوئی

روک لو گر غلط چلے کوئی

بخش دو گر خطا کرے کوئی

جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے

جو ناسزا کہے اس کو نہ، ناسزا کہیے

بحث و جدل بہ جائے ماں میکدہ جوی کاندراں

کس نفس از جمل نزد، کس سخن از فدک نخواست

(غالب)

(یعنی بحث مباحثے میں نہ پڑ اور مے خانے کا رستہ لے کہ وہاں نہ جنگِ جمل ہے نہ قضیۂ فَدَک)

خیالِ خاطر احباب چاہیے ہر دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

(انیس)

اسی طرح خواجہ الطاف حسین حالی کی ایک رباعی بھی سُن لیجیے:

فتنے کو فرو کیجے بہ ضبط و تمکیں

زہر اگلے کوئی تو باتیں کیجیے شیریں

غصہ غصے کو اور بھڑکاتا ہے

اس عارضے کا علاج بالمثل نہیں

                مراد یہ ہے کہ غصّے میں ہومیوپیتھی (علاج بالمثل) نہیں چلتی!

صاحبو! بڑی تہذیب کا کمال یہ ہے کہ اس سے وابستہ اور اس کے ماننے والے مور کے بدصورت پائوں دیکھ کر اس کے نہایت خوب صورت رنگوں سے مزین پروں اور اس کے وجدآفریں رقص کی نفی نہیں کرتے۔ اقبال نے ’سخنے بہ نژاد نو‘ کے زیرِ عنوان زندئہ جاوید یہ پیغام دیا:

حرفِ بد را برلب آوردن خطاست

کافر و مومن ہمہ خلق خدا ست

آدمیت احترامِ آدمی

باخبر شو از مقامِ آدمی

بندئہ عشق از خدا گیرد طریق

می شود بر کافر و مومن شفیق

[زبان پر بُری بات لانا خطا ہے۔ کافر ہو یا مومن، سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ l آدمیت، احترامِ آدمی سے عبارت ہے، تو آدمی کا مقام پہچان l بندئہ عشق ، اللہ تعالیٰ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کافر و مومن دونوں پر شفیق ہوتا ہے۔] 

کافر اور مومن دونوں سے شفقت اور رحمت کا برتائو سنتِ الٰہیہ ہے اور اقبال کے نزدیک رحمت ورافت کے اسی پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے جس کے ساتھ انسانیت کی بقا مشروط ہے۔ معاصر انسان کو تصادم سے کہیں بڑھ کر باہمی تکلّم کی ضرورت ہے۔ برابری کی سطح پر مکالمے کی احتیاج ہے تاکہ اسے یہ احساس ہو سکے کہ پوری نوعِ انسانی ایک وسیع خانوادے کی حیثیت رکھتی ہے اور اس خانوادے میں نظر آنے والی یہ ساری ثقافتی رنگارنگی اور تہذیبی تنوع منشاے قدرت ہے۔ معاصر دانش وَری کا فرض ہے کہ وہ اس رنگارنگی، اس تنوع اور اس کثرت میں وحدت کے عناصر کا کھوج لگائے، ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت کا احترام کرے اور مذاہبِ عالم میں موجود مشترک عناصر کی نشان دہی کرے۔

اس ضمن میں فلسفے اور علومِ اسلامی کے الجزائری پروفیسر مصطفےٰ شریف کا، یہودی النسل الجزائری فلسفی ژاک دریدا (م: ۹؍اکتوبر ۲۰۰۴ء) کے ساتھ طویل مصاحبہ نہایت قابلِ توجہ ہے جو دریدا کی زندگی کے آخری ایام میں کیا گیا اور اس کی وفات کے بعد Islam and the West کے زیرِ عنوان ۲۰۰۸ء میں شائع ہوا۔ یہ مصاحبہ دریدا کے مذاہب، سیاست اور جمہوریت وغیرہ کے باب میں ایک نئے اور قابلِ توجہ بیانیے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مکالمے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت کی متعارف و موجود صورتوں سے بہت نامطمئن اور معاصر تہذیبی آشوب پر سخت دل گرفتہ تھا۔

 مصطفےٰ شریف کے ایک سوال کے جواب میں اس نے کس قدر درست کہا ہے کہ اسلام کے بارے میں متحجر[stereotyped] یورپی ذہن کی ساخت شکنی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں یونانیوں، یہودیوں اور عربوں کے مزعومہ ثقافتی اختلافات کو بھی جنھیں بڑی ہوا دی گئی ہے، چیلنج کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے خیال میں ہسپانیہ (Spain) وہ نقطۂ اتصال ہے جہاں یونانی، عربی اور یہودی ثقافتی عناصر ایک امتزاج کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ مصطفےٰ شریف کے خیال میں ردِّتشکیلیت کے سردار و سربراہ کا بھی ایک خواب تھا کہ الجزائر میں، جو خود دریدا کی جاے ولادت تھا، الجزائری اور فرانسیسی باہمی اتحاد و احترام کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ دریدا کے خیال میں جس طرح اسلام کے مظاہر میں تکثیری عناصر ہیں، اسی طرح مغرب بھی ایک نہیں بلکہ متعدد مغرب، یعنی  Multiple Wests وجود رکھتے ہیں، جن کا گہری نظر سے مطالعہ ضروری ہے۔

دریدا کے ساتھ مصطفےٰ شریف کا یہ فکر افروز مصاحبہ بہت سے روایتی استعماری حربوں کی بھی قلعی کھولتا ہے۔ الجزائر پر فرانسیسی استعمار کی حاکمیت سے پہلے دریدا کا خاندان الجزائر ہی میں آباد تھا۔ مصطفےٰ شریف کے اس سوال کے جواب میں کہ آپ عربی زبان، عرب،بربر حقیقت اور الجزائر کی تاریخ کو کس زاویۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ دریدا کا جواب یہ تھا کہ چونکہ الجزائر پر فرانسیسی استعمار مسلط تھا، لہٰذا عربی زبان پر پابندی تھی۔ یہ سرکاری اور انتظامی زبان نہ تھی بلکہ ایک غیرملکی زبان کے طور پر مشہور کی جاتی تھی۔ اسے اپنی ہی سرزمین میں محض اختیاری زبان کے طور پر رکھا گیا۔ رہی تاریخ تو فرانسیسی تاریخ تو پڑھائی جاتی تھی، مگر الجزائر کی اپنی تاریخ اور جغرافیے کا ایک لفظ بھی اس نصابِ تعلیم میں شجرِ ممنوعہ تھا۔ بے ساختہ اکبر الٰہ آبادی کا شعر یاد آتا ہے:

تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں، وہ کیا ہے فقط سرکاری ہے

جو عقل سکھائی جاتی ہے، وہ کیا ہے فقط بازاری ہے

غیرمنقسم برعظیم ہند میں بھی انگریزی استعمار نے ایسے ہی حربے استعمال کیے تھے۔ دراصل استعمار جہاں بھی جاتا ہے، اس کا پہلا ہدف وہاں کی زبان اور ثقافت ہوتی ہے اور جب رخصت ہوجاتا ہے تو اپنی معنوی اولاد کو یہ ذمہ داری سونپ جاتا ہے!

دریدا اگرچہ مذہبی مفکر نہیں تھا مگر ایک روشن فکر دانش وَر ہونے کے ناتے وہ دل سے مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ وہ سچے صاحبِ ایمان کو Authentic Believer کا نام دیتا اور بڑی منفرد بات کہتا ہے کہ: ’صرف سچا ایمان دار ہی سچا موسوی، سچا عیسوی، سچا مسلمان ہی (یعنی وہ لوگ جو اپنے مذہبی عقائد کو دل سے مان کر زندگی گزارتے ہیں)، دوسرے مذہبِ سماوی کے ماننے والے کے عقائد کی بہتر تفہیم کر سکتا ہے‘۔ میرے نزدیک تہذیبوں کے مابین بامعنی اور نتیجہ خیز مکالمہ ایسی ہی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے اور موجودہ تہذیبی آشوب میں اس کی سخت ضرورت ہے۔

ژاک دریدا کے انھی خیالات کے مماثل پیرایے ہمیں وِل ڈیورنٹ کے یہاں بھی ملتے ہیں۔ اس کی دانست میں: ’جو مذہب فضائلِ اخلاق پیدا کرے گا اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دے گا وہ اس باہم متحارب عالمی معاشرے میں بہترین تریاق کا حکم رکھتا ہے‘۔ اس کے نزدیک: ’نسل، رنگ اور مسالک فطری ہیں اور انسان کے ارتقا میں مختلف گروہ، ادارے اور افکار‘ عناصرِ محرکہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن لوگوں کے خیالات آپ سے مختلف ہیں، ان کو سمجھنے اور ان سے حُسنِ سلوک کا رویہ روا رکھا جانا ضروری ہے‘۔ ڈیورنٹ نے تاریخ سے گواہی لاتے ہوئے کہا ہے کہ: ’عدم رواداری ہی دہشت گردی، وحشت اور آمریت کی جانب کھلنے والا دروازہ ہے۔ پھر ایک مقام پر جب وہ بڑی دل سوزی سے انسانی مواخات کا علم بلند کرتے ہوئے گویا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے مذاہبِ سماوی کی سچائی بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے:

آزادی میں جڑ پکڑے، ایک ہی الوہی پدر ہونے کے ناتے، ہر جگہ ایک ہی لہو کی وراثت کے امین ہوتے ہوئے ہم دوبارہ اعلان کرتے ہیں کہ تمام انسان بھائی بھائی ہیں اور آزادی کی قیمت باہمی رواداری ہے۔ (ص۷۶)

تہذیبی برتری، ثقافتی سیادت، تکنیکی مہارت کی معراج کے زَعم میں مبتلا اور یک قطبی نظام کے تسلط کے لیے کوشاں اور آرزومند مغربی طاقتوں کو مغرب ہی کے ان دبنگ دانش وَروں کے اس انتباہ پر کان دھرنے چاہییں، جن کا قطعی موقف (بہ حوالہ Suicide of the West)یہ ہے کہ:

The world is not going to become Western. Neither the West nor the Rest is going to become the world. Diversity is here to stay.

[دنیا مغربی تہذیب میں ڈھلنے نہیں جارہی۔ نہ مغرب ہی اور نہ باقی ممالک دنیا بننے جارہے ہیں۔ مستقبل بہرحال تنوع اور کثیرجہتی کا ہے۔]

پھر یہی دانش وَر ایک اور سفاک حقیقت کا ادراک اور اعلان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل خطرہ عام لوگوں سے نہیں بلکہ فکر سازوں (opinion-setters)، اُن کے افکار،  طرزِ اعمال، بے ضمیر سیاست دانوں، خود غرض سربراہانِ تجارت، نامدار مشاہیر اور ان دونوں طرح کے دانش وَروں سے ہے جو یا تو الٹرا لبرل ہیں یا جدید قدامت پسند، یعنی (neo-conservatives)۔ بے اختیار مرحوم اشفاق احمد[م:۲۰۰۴ء] کا قول یاد آتا ہے۔ کہا کرتے تھے کہ ’وطنِ عزیز کو اتنا نقصان عام لوگوں نے نہیں جتنا پڑھے لکھوں نے پہنچایا ہے!‘

محبت میں شفا اور احترام میں آزادی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے جاننے کے لیے کسی لقمان اور کسی بوعلی سینا [م:۱۰۳۷ء] کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، صرف اپنے باطن میں اخلاص سے جھانکنے کی ضرورت ہے۔ محبت اور احترام ہمیشہ بڑے ادب کے عناصرِ ترکیبی رہے ہیں اور بڑے ادب کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کو تنہا نہیں ہونے دیتا۔ یہ تہذیبوں کا فیض یافتہ ہی نہیں، تہذیب گر اور ثقافت ساز بھی ہوتا ہے اور ہمارے اندر بے کنار ہونے کی اُمنگ اور    ع  ’ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا ربّ‘ کی خلش پیدا کرتا ہے۔

معروف رومانی شاعر جان کیٹس [م:۱۸۲۱ء] نے کہا تھا کہ: ’اگر شاعری بے ساختہ آپ کے اندر سے اس طرح نہیں پھوٹتی جیسے درختوں سے پتے تو یہ بیکار محض ہے‘۔ میرے نزدیک آپ اس کے دائرے کو وسیع کر کے اس میں دیگر اصناف و آداب، فلسفہ، تاریخ اور فنونِ جمیلہ کو بھی شامل کرلیجیے تو تہذیب زیادہ شان دار، پُروقار اور مال دار ہو جائے گی اور اس کا وجود مزید توازن اور ترفع سے ہم کنار ہوجائے گا۔

اس عہدِ حشر آثار میں جب سائنس اور دیگر علومِ فطرت کی بے مہار تگ و تاز اور بے دریغ اوربے محابا سرپرستی نے اِس دھرتی کے وجود پر ایک بڑا سوالیہ نشان قائم کر دیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان علوم کے دوش بدوش علومِ انسانی کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے، تاکہ زندگی کی اعلیٰ قدروں: محبت، رواداری اور احترامِ انسانیت کو پورے قد سے کھڑے ہونا نصیب ہو اور ہم ڈولفن کی پشت پر سوار شیکسپیئر کی جل پری کی ان مسحور کن آسمانی آوازوں پر کان دھر سکیں، جنھیں سن کر سمندر کا پُرشور اور آشفتہ سر پانی بھی ساکت ہو جاتا ہے!

 کیا ہمارا موجودہ تہذیبی ویسٹ لینڈ ایسے بہشتی لحن کے سننے کا متمنی اور متحمل ہو سکتا ہے؟

موسمِ گرما کی چلچلاتی دھوپ سے بچنے کے لیے میں نے ڈلہوزی کے مقام پر ایک بنگلہ کرایے پر لیا۔ یہ ضلع گورداسپور میں ایک پہاڑی صحت افزا مقام اور جمال پور سے قریب واقع ہے۔ مئی ۱۹۴۷ء کے آغاز میں مَیں عارضی طور پر یہاں منتقل ہوگیا۔

چند ماہ پیش تر حکومت برطانیہ نے وائسراے لارڈ مائونٹ بیٹن [م: ۱۹۷۹ء]کی مشاورت سے مشہور قانون دان سرسائرل ریڈکلف [م: ۱۹۷۷ء]کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ برطانوی ہند کو ہندو اور مسلم آبادی کی ہیئت کے مطابق تقسیم کرنے کی تجویز پیش کرے۔ بالفاظِ دیگر مغرب میں پنجاب اور مشرق میں بنگال کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انھیں پاکستان میں شامل کر دیا جائے اور ہندوئوں کے اکثریتی علاقوں کو ہندستان میں رہنے دیا جائے۔ بنگال میں ایسی تقسیم نسبتاً آسان تھی، لیکن پنجاب میں سائرل ریڈکلف نے علاقے کے تمام فرقہ وارانہ حقائق کو پس پشت ڈالتے ہوئے تقسیم کا من مانا فیصلہ مسلط کر دیا۔ یہ علاقہ گورداسپور کے ضلعے میں تھا،جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ اگر یہ پورا ضلع پاکستان کو دے دیا جاتا تو ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ ہندستان کے تمام زمینی رابطے منقطع ہوجاتے۔ تاہم، جموں و کشمیر کا ہندو حکمران ہری سنگھ، ہندستان سے الحاق کا فیصلہ کرچکا تھا، حالاں کہ یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا، اور ۱۶فی صد ہندو جموں اور صرف ۷فی صد کشمیر میں رہتے تھے۔ اس وقت یہ خبر عام تھی کہ ریڈکلف کو انڈین نیشنل کانگرس نے مہاراجا کی خواہش کے مطابق ایک خطیر رقم بطور رشوت پیش کی تھی۔

ان تمام سازشوں کا ہمیں علم نہیں تھا۔ ڈلہوزی کی مسلمان آبادی اور گرمیوں کے موسم میں یہاں آئے ہوئے سیاحوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ضلع گورداسپور (جس میں ڈلہوزی شہر واقع تھا) لازماً پاکستان کی حدود میں شامل ہوگا۔ مگر ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ءکی شام کو حتمی تقسیم سے چند گھنٹے پہلے ، ہم یہ دیکھ کر ہکّا بکا رہ گئے کہ پولیس کا ایک ہندو سپرنٹنڈنٹ، ڈلہوزی کی میونسپل بلڈنگ پر ترنگا لہرا رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے باوجود ہم میں سے بہتوں کا خیال تھا کہ سپرنٹنڈنٹ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے یا یومِ آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہی یہ کسی ہندو کی محض ذاتی خواہشات کا اظہار ہے۔ بہرحال، ہمیں اس وقت تک یہ معلوم نہیں تھا کہ سرسائرل ریڈکلف کتنے بڑے جرم کا مرتکب ہوچکا ہے۔

اسی شام میں حسب معمول اپنے ۱۵سالہ بیٹے طلال کو لے کر ڈلہوزی کی پہاڑیوں پر سیر کو نکلا۔ جب ہم رات گئے واپس آرہے تھے، تو ہم نے اچانک بازار کی جانب سے گولی کی سنسناتی ہوئی آواز سنی اور پھر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ بلاشبہہ یہ فساد شروع ہونے کی علامت تھی۔

یہ بات واضح تھی کہ کوئی مسلمان اس طرح گولیاں نہیں برسا سکتا، کیوںکہ ان میں کسی کے پاس کوئی بندوق وغیرہ نہیں تھی۔ چند روز پہلے یہاں جن لوگوں کے پاس قانونی اسلحہ تھا، ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ: ’’آپ رجسٹریشن تازہ کرانے کے لیے تھانوں میں جمع کرا دیں، ایک دو روز میں یہ  اسلحہ آپ کو لوٹا دیا جائے گا‘‘۔ لیکن کم از کم یہاں کے مسلمانوں کو ان کا اسلحہ واپس نہیں کیا گیا۔

مَیں اور طلال ڈلہوزی کے بالائی علاقے کی تاریک او رسنسان گلیوں سے گزرتے ہوئے جلداز جلد اپنے بنگلہ کی طرف جارہے تھے، تاکہ ان بلوائیوں سے محفوظ رہ سکیں کہ اچانک ہماری نظر سڑک کے بیچ میں خون سے لت پت ایک شخص پر پڑی۔ ہم قریب پہنچے اور اسی وقت دو اور آدمی بھی وہاں آگئے، جو کینیڈا سے تعلق رکھتے تھے اور خدمت ِ خلق کی بین الاقوامی تنظیم سے وابستہ تھے۔   ہم سب خون میں لتھڑے ہوئے اس شخص کو دیکھ رہے تھے۔ اسے بڑی بے رحمی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور وہ گوشت،خون اور ہڈیوں کا ایک ڈھیر سا دکھائی دیتا تھا۔اس کے جسم کے آخری بار غیرمعمولی طور پر پٹھوں کے اکڑنے اور ڈھیلے پڑنے کے منظر پر نظر پڑی اور پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔ کینڈین نے بیٹری کی روشنی مقتول کے چہرے پر ڈالی تو مَیں نے اسے فوراً پہچان لیا۔ وہ مسلمان تھا اور موسمِ گرما میں آنے والے سیاح جن گھروں میں ٹھیرتے، وہ ان میں ایک گھر کا باورچی تھا۔ سمجھ میں نہ آیا کہ اس سیدھے سادے، بے ضرر انسان کو کیوں قتل کیا گیا؟

مَیں اپنے بنگلے کی جانب سرپٹ دوڑا ۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ طلال کی والدہ اور ہمارا مخلص کشمیری ملازم بیٹھک میں دبکے اور سہمے سہمے بیٹھے ہیں۔ میں نے بیوی کو  اپنے کمرے میں بٹھایا، جب کہ ہم تینوں، یعنی طلال ، ملازم اور میں نے اپنے کمرے میں رات بھر پہرہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے پاس سواے ایک پرانی فوجی تلوار کے اور کچھ نہیں تھا، جو یہاں کا کوئی سابقہ رہایشی چھوڑ گیا تھا۔ تلوار کے علاوہ لکڑیاں کاٹنے کی ایک کلہاڑی بھی تھی۔ لیکن ان دستی ہتھیاروں سے بڑھ کر جو خطرے کی بات تھی، وہ اس کمرے کی بیرونی دیوار تھی۔ اس کے بیش تر حصے پر شیشہ لگاہوا تھا۔ قد آدم کھڑکیاں ، برآمدے کی طرف کھلتی تھیں ، ان کے اُوپر سے نیچے تک شیشہ لگا ہوا تھا ، تا کہ سورج کی روشنی اندر آ سکے اور ان پر کوئی پردہ بھی نہیں تھا۔

 باہر سے ہمیں کوئی بھی دیکھ سکتا تھا۔ اس لیے تمام روشنیاں بجھاکر ہم سب اندھیرے میں چوکنا بیٹھے رہے۔ گولیوں کی آوازیں قریب سے قریب تر آتی جا رہی تھیں اور ان کے ساتھ ہذیانی چیخیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ کسی وقت بھی حملے کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا تھا، تا ہم کسی نے ہم پر حملہ نہیں کیا۔ گولیوں کی آوازیں اور چیخیں بھی آہستہ آہستہ کم ہو گئیں۔

صبح ہوئی تو ہم بے خوابی اور رات بھر ذہنی تنائو میں مبتلا رہنے کے باعث تھک کر چُور ہوچکے تھے۔ ہمیں کچھ کھانے کا ہوش تک نہیں رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک شخص دوڑتا ہوا ہمارے گھر آیا۔ یہ میرے ایک لاہوری دوست کا گھریلو ملازم تھااور وہ ہمارے پڑوس ہی میں رہتا تھا۔ وہ ایک ضروری پیغام لے کر آیا کہ ہم اپنا ضروری سامان باندھ کر اس کے مالک کے گھر چلے آئیں۔ یہ ڈلہوزی کا سب سے بڑا گھر تھا، جہاں بہت سے مسلمان گھرانے اپنی جانوں کی حفاظت کے لیے جمع ہو چکے تھے۔

چنانچہ ہم نے فوراً اس پیغام پر عمل شروع کر دیا۔ جتنی جلدی ممکن ہو سکا ، سامان سوٹ کیسوں میں بند کیا اور ویران گلیوں سے ہوتے ہوئے اپنے دوست کے گھر پہنچے، جو مردوں ، عورتوں اور بچوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ گھر میں کھانے پینے کی جو چیزیں میسر تھیں، عورتوں نے ان سے  جلدی جلدی ناشتہ تیار کیا۔ مگر یہ سب کے لیے ناکافی تھا، لیکن فاقہ زدہ انسان کے لیے ایک نوالہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔

ہمارے میزبان رحیم اللہ نے تھانے فون کرنے کی کوشش کی، لیکن اُدھر سے کوئی اٹھا نہیں رہا تھا، شاید تاریں کاٹ دی گئی تھیں۔ کسی نے کہا: ’’یہ راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کی کارستانی ہے‘‘۔     یہ ہندو انتہا پسندوں کا ایک متعصب گروہ تھا، جنھوں نے ہر قیمت پر ’بھارت ماتا‘ کی تقسیم کو روکنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔ بعد میں پتا چلا کہ تقسیم ہند سے پہلے بھی انھوں نے لاہور اور امر تسر کے دیہی علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا تھا۔ اس بہیمانہ عمل میں ان کے ساتھ یہاں کے سکھوں نے پورا پورا تعاون کیا تھا اور وہ اب پھر کرپانوں سے مسلمانوں کا خون بہانے میں مشغول تھے۔ اسی طرح جہاں ممکن ہوا جوابی طور پر مسلمانوں نے بھی ہندوئوں اور سکھوں کو قتل کرنا شروع کر دیا اور پھر مغربی اور مشرقی پنجاب کے سرحدی علاقے تباہی اور موت کے خونیں بادلوں کے نیچے چھپ گئے۔

رحیم اللہ کے گھر میں جو ہتھیار تھے ، وہ پناہ لینے والوں نے اٹھا لیے ، لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔ صرف دو پستولیں تھی، ایک چھوٹی خود کار اور دوسرا اعشاریہ بائیس فلو برٹ پستول اور اس کے علاوہ ایک پرانی وضع کی بندوق تھی۔وہ ہمارے میزبان کے دادا کی ملکیت تھی اور اس کی رجسٹریشن بھی نہیں کرائی گئی تھی۔ یہ بندوق کار آمد ضرور تھی، لیکن اس کی حالت بڑی ناگفتہ بہ تھی۔ صرف پانچ یا چھے کارتوس باقی رہ گئے تھے۔ مجھے شک تھا کہ یہ پرانی بندوق فائرنگ کا دھچکا برداشت کر بھی سکے گی یا ٹریگر دباتے ہی خود پھٹ جائے گی؟ تا ہم، ایک پرانی ضرب المثل کے مطابق ’فقیر انتخاب نہیں کر سکتے‘ مجبوراً اسی پرانی بندوق سے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔

اس دن کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا، سوائے دور سے بندوق چلنے کی اِکاّ دُکاّ آوازوں اور زیریں ڈلہوزی کے بازار سے گاہے شوروغل کے۔ لیکن جوںہی رات کا اندھیرا چھایا، ہم نے بعض انسانی سایوں کو حرکت کرتے دیکھا، جو باغ کے نیچے ڈھلوان پر جھاڑیوں میں دبے قدموں چلے جارہے تھے۔ کبھی کبھار دبی آواز میں کسی کے رونے کی بھی آواز سنائی دے جاتی تھی۔ بلاشبہہ ہم چاروں طرف سے محاصرے میں تھے۔

ہم تینوں آتشیں اسلحہ لیے رات کا بیش تر حصہ کھڑکیوں کے قریب بیٹھے رہے۔ رات کے تین بجے میں نے باغ کے نچلے حصے سے ایک اکھڑ اور دبی دبی سی آواز سنی۔ گھر کے قریب بلند پہاڑی سے فوراً بآواز بلند جواب دیا گیا۔ اس خدشے کے باوجود کہ میری بندوق کہیں پھٹ نہ جائے، میں نے نشانہ باندھا اور ٹریگر دبا دیا۔ توپ کے گولے کی طرح ایک دھڑا کے کی آواز گونجی، پھر پُراسرار خاموشی۔ کیا میرا نشانہ ٹھیک ٹھیک لگایا چوک گیا؟ میں نہیں جانتا، لیکن اس کے بعد رات کے بقیہ حصے میں ہمیں نہ کوئی متحرک چیز دکھائی دی اور نہ کوئی آواز سنائی دی۔ جب مجھے یقین ہوگیا کہ محاصرہ اٹھا لیا گیا ہے تو میں نے اپنے ساتھی سے خود کار پستول لیا، اپنے سفید قمیص کے اوپر کوٹ پہنا اور خاموشی سے صحن کا ایک چکر لگانے کے لیے باہر نکلا۔ باہر نہ کوئی حملہ آور نظر آیا، اور نہ اس کی آواز سنائی دی۔

سورج طلوع ہوتے ہی باغ کے نشیبی علاقے سے گرج دار آواز سنائی دی۔ یہ آواز ایک نوجوان برطانوی افسر کی تھی۔ اس نے پوچھا: ’’ کیا سب ٹھیک ٹھاک ہے ؟‘‘ وہ گور کھا سپاہیوں کے ایک فوجی دستے کا افسر تھا۔ یہ فوجی اب جھاڑیوں میں کھڑے نظر آ رہے تھے۔ وہ ہمیں رہا کرانے یہاں آئے تھے اور انھی سے ہمیں پتا چلا کہ رات کے وقت ڈلہوزی کے نچلے علاقے میں اکثر مسلمانوں کو ذبح کر دیا گیا ہے۔

آٹھ یا دس بسیں ہمیں اور ڈلہوزی کے دوسرے مسلمانوں کو لاہور لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔ ہماری جان ومال کی حفاظت کی غرض سے گور کھا سارجنٹ اور اس کے ساتھ چند افراد دو جیپوں پر سوار تھے۔ ہمارا تمام منقولہ سامان کھلے ٹرکوں پر رکھ دیا گیا اور اس کے اوپر ہم سب، یعنی مرد، عورتیں اور بچے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے سمٹے سمٹائے بیٹھے تھے۔ اس طرح یہ قافلہ (convoy) گورکھوں کی دو جیپوں کی نگرانی میں آہستہ آہستہ پہاڑی سڑک کے موڑ کاٹتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ اس سڑک کے دونوں طرف اُونچے نیچے پہاڑی سلسلے اور ڈھلوانوں پر گہری کھائیاں تھیں۔

ہمارا قافلہ چھوٹے بڑے تمام نہری پُلوں (culvert)پر رُک جاتا اور گورکھا سپاہی اس کے گردونواح اور پُل کے نیچے کا بغور جائزہ لیتے۔ ہمارے قافلے کی اگلی بسیں سڑک کا ایک موڑ کاٹ رہی تھیں کہ اچانک دو بڑے بڑے پتھر اُوپر تلے لڑھک کر نیچے آ رہے۔ الحمدللہ، ہم ان کی زد میں نہیں آئے ۔ امرواقعہ ہے کہ ہم پر یہ حملہ گھات لگا کر کیا گیا تھا۔ ہمیں بہت سے لوگ پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے نظر آ رہے تھے، جو ایسے ہی پتھر لڑھکانے کو تیار بیٹھے تھے۔ پھر ایسے ہی مزید پتھر لڑھکتے ہوئے نیچے آنے لگے۔یقینی طور پر گورکھا سپاہیوں کو ہدف بنایا گیا تھا، تاہم ان کا زندہ سلامت رہنا کسی کرشمۂ قدرت سے کم نہیں تھا۔ وہ اپنی طرف آ نے والے پتھر کے اُوپر سے اُچھل گئے اور وہ پتھر ہماری بسوں کی چھتوں کے اُوپر سے ہوتے ہوئے نیچے کھائی میں جاگرے۔ یہ دیکھ کر ہمارے ساتھی گورکھوں کا سر گھوم گیا اور وہ اپنی رائفلوں سے اوپر کھڑے حملہ آوروں پر گولیاں برسانے لگے۔ اس کے بعد پتھر لڑھکانے کا یہ سلسلہ رک گیا اور یہ خطر ناک حملہ ناکام ہو گیا۔ ہمارا قافلہ رواں دواں رہا اور راستے میں کوئی اور حملہ نہیں ہوا۔ سہ پہر کو ہم لاہور پہنچ گئے۔

لاہور میں ہر جانب افراتفری کا عالم تھا۔ لٹے پٹے مسلمان مہاجرین بہت بڑی تعداد میں ہر روز نہیں بلکہ ہر ایک گھنٹے بعد ہندستان سے پہنچ رہے تھے۔ ان میں سے بیش تر مفلوک الحال اور بیماریوں سے نڈھال تھے۔ ا ن میں وہ زخمی لوگ بھی تھے جو ان مسلم کش فسادات کا نشانہ بنے اور زخموں سے کراہتے ہوئے یہاںتک پہنچے تھے۔ ڈاکٹروں ، ہسپتالوں کی نرسوں اور عملہ صفائی کے علاوہ سیکڑوں کارکنوں نے رضا کارانہ طور پر دن رات ان بیماروں کی تیمارداری کی اور جو چل پھر سکتے تھے، ان کے لیے خوراک اور رہایش کا بندوبست کیا۔

  مغربی [یعنی پاکستانی]پنجاب کی حکومت ابھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر پارہی تھی۔ فوج بھی اتنی نہیں تھی کہ وہ نئی سرحدوں کی حفاظت کر سکتی اور پنجاب کی پولیس اور کانسٹیبلری کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکتی۔ امن وامان کا مسئلہ بھی درپیش تھا۔ تقسیم ہند سے ذرا پہلے ہندستان کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو (جن کے پاس محکمہ دفاع بھی تھا) نے خاص مقصد کے تحت مسلمان فوجی یونٹوں کو ان علاقوں سے ، جنھیں پاکستان کا حصہ بننا تھا ، تبدیل کر کے جنوبی ہند کے صوبہ مدراس اور ریاست ٹراونکور بھجوا دیا تھا۔ اس لیے اب پاکستان میں فوجیوں کی تعداد محض ایک ہزار کے قریب رہ گئی تھی ۔ مزید یہ کہ مہاجرین کے جتھے دونوں جگہوں سے آ جا رہے تھے، اور سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں بھی کم پڑ گئی تھیں۔ ہندستان سے آنے والے تھکے ہارے اور پریشان حال مسلمان کئی کئی میل پیدل چل کر پہنچ رہے تھے۔

میں نے لاہور پہنچ کر چودھری نیاز علی خاں [۲۸ جون ۱۸۸۰ء- ۲۴فروری ۱۹۷۶ء] اور ان کے خاندان کا پتا لگانے کی بہت کوشش کی۔ آخری بار میں نے انھیں ڈلہوزی جاتے ہوئے جمال پور میں دیکھا تھا۔ ان کی خیریت کے بارے میں سخت مضطرب تھا۔ میری تمام تر پوچھ کچھ بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ تاہم، میرا دل گواہی دیتا تھا کہ وہ ابھی جمال پور میں گھرے ہوئے ہیں اور یہ علاقہ اب مشرقی [یعنی بھارتی]پنجاب کا حصہ بن چکا ہے۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ ان کے وسیع رقبے میں دیگر مسلمان بھی رہتے تھے۔ حیدر آباد دکن کے نوجوان عالم دین مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی [۲۵ستمبر ۱۹۰۳ء- ۲۳ستمبر ۱۹۷۹ء]اور ان کے ساتھی بھی وہیں تھے، جنھوں نے تحریک احیاے دین کے فروغ کے لیے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تھی۔ میں نے سوچا کہ اگر انھیں پاکستان نہیں لایا گیا تو وہ یقینا فسادات کی نذر ہو جائیں گے۔

اسی نوعیت کے خدشات کے ساتھ میں ایک ایسے شخص سے ملنے گیا، جو لاہور کی بے ہنگم ٹریفک کے نظام کو سنبھالنے کا مدار المہام تھا۔ میری طرح وہ شخص بھی علامہ محمداقبال [۱۸۷۷ء- ۱۹۳۸ء] کے بے تکلف احباب میں شامل تھا اور مجھ سے ان صاحب کے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ان کا نام خواجہ عبدالرحیم [م:۵نومبر ۱۹۷۴ء]تھا۔ مجھے وہ ایک سرکاری دفتر میں مل گئے، جہاں پر مشتعل لوگوں کے ہجوم میں وہ بُری طرح گھرے پھنسے بیٹھے تھے۔ وہ لوگ ان سے کاریا بس یا بیل گاڑی مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ خواجہ عبدالرحیم ان کے مطالبات کو پورا کرنے کا یقین دلا رہے تھے۔

اس بے قابو ہجوم کی دھکم پیل میں سے گزرتے ہوئے خواجہ عبدالرحیم کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا اور دوسروں کو چپ کراتے ہوئے میں نے انھیں چند بسیں اور فوجی حفاطتی دستہ مہیا کرنے کی درخواست کی، تا کہ جمال پور میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچایا جا سکے۔ میری طرح خواجہ عبدالرحیم بھی ان اصحاب کو اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے۔ تاہم، انھوں نے مایوسی بھرے لہجے میں گرجتے ہوئے جواب دیا: ’’ اگر میرے پاس کوئی ٹرانسپورٹ نہ ہو تو میں آپ کو کہاں سے دے سکتا ہوں؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ میں کسی کی بھی مدد کرنے سے قاصر ہوں‘‘۔

میں نے اصرار کیا: ’’مجھے ہر صورت میں یہ مطلوبہ چیزیں چاہییں۔ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جائوں گا ، جب تک میری ضرورت پوری نہیں ہوتی ‘‘۔ 

ہم میں یہ تو تکار جاری رہی۔ دونوں اِدھر اُدھر چلتے رہے، میز پر مکّے مارتے رہے اور  تلخی میں ایک دوسرے کو بُرا بھلا بھی کہتے رہے۔ اس سے پہلے کہ ہم دست بہ گریباں ہوتے، اچانک خواجہ عبدالرحیم بولے: ’’ تھوڑی دیر انتظار کرو، میں کچھ انتظام کرتا ہوں‘‘۔ انھوں نے ٹیلی فون اٹھایا اور کسی سے بات کی۔ خدا کا شکر ہے کہ میں کامیاب رہا۔ مجھے میونسپل کمیٹی کی بسیں لے جانے کا تحریری حکم نامہ مل گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ سہ پہر تک حفاظتی دستے کا بھی انتظام ہو جا ئے گا۔ اگلے روز صبح سویرے میں جمال پور روانہ ہو گیا۔ میرے ہمراہ تین بسیں اور چار مسلح پنجابی فوجی بھی تھے، جو اعلیٰ پیشہ ورانہ مقام رکھتے ہیں، میری بچائو مہم میں آگے بڑھ رہے تھے۔

اب ایک دفعہ پھر میں دشمنوں کے علاقے میں داخل ہورہا تھا۔ گورداس پور کے نزدیک سرحدی چوکی پر ہمیں دوسری طرف جاتے وقت کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ کچھ ہی دیر پہلے پاکستان اور ہندستان کے متعلقہ افسران کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تھا، جس کے تحت مہاجرین ایک دوسرے کے ملک میں بغیر روک ٹوک آ جا سکتے تھے۔لیکن، اس کے باوجود ہندستان کے سرحدی محافظ دستے ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھتے رہے۔ انھیں یقین دلا دیا گیا تھا کہ ہمارے محافظ فوجی دستے کے قانونی اسلحے کے علاوہ ہمارے پاس کسی قسم کا ممنوعہ اسلحہ نہیں ہے۔

جب ہم چودھری نیاز علی خاں کے علاقے جما ل پور میں پہنچے، تو ہم نے دیکھا کہ کم از کم ایک ہزار مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں نے ان کے قلعہ نما صحن میں پڑائو ڈال رکھا تھا۔ جو اپنا سب کچھ لٹا کر گردونواح کے دیہات سے یہاں پر یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ اللہ کا کوئی بندہ انھیں پاکستان لے جائے گا۔ میں جو تین بسیں ساتھ لایا تھا ، وہ اتنی بڑی تعداد کے لیے ناکافی تھیں، لیکن میں نے ان کے ترجمان سے وعدہ کیا کہ لاہور پہنچتے ہی میں ان کی محفوظ نقل مکانی کا انتظام کردوں گا۔بعد میں یہ تمام لوگ پاکستانی فوجی دستے کے ساتھ بحفاظت لاہور پہنچ گئے تھے ۔

مجھے یہ جان کر گہرا اطمینان اور خوشی ہوئی کہ چودھری نیاز علی خاں ، ان کے خاندانی افراد اور ان کے رفیق سیّد ابوالاعلیٰ مودودی مع اپنے ساتھیوں کے، ان خوں ریز ہنگاموں سے محفوظ رہے۔ میری تین بسوں میں انھیں لے جانے کے لیے جگہ بن سکتی تھی، بشرطیکہ وہ صرف اپنا ضروری سامان ساتھ لے جائیں۔ بعض افراد تو بسوں کی چھت پر بھی بیٹھنے کو تیار تھے ۔ میں نے روانگی سے قبل واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ وہ اپنے پاس کوئی اسلحہ نہیں رکھیں گے کیوںکہ ہندستان کا سرحدی عملہ بسوں کے کونے کونے کی تلاشی لیتا تھا۔

سورج ڈھلنے سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہم نے اپنی لاہور واپسی کا سفر شروع کیا۔ یہ تینوں بسیں آدمیوں اور ان کے سامان سے اوپر تک لدی پھندی تھیں۔ ہر بس کی چھت پر بھی خاصی تعداد میں لوگ بیٹھے تھے۔ میں اگلی بس میں ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا اور ہمارے محافظ سپاہی مہاجرین ہی میں سمٹے سمٹائے بیٹھے تھے۔ سرحد عبور کرنے سے ذرا پہلے ایک شخص نے ہمیں روکا۔  وہ سڑک کے بیچ میں کھڑااشاروں سے کچھ بتانے کی کوشش کر رہا تھا۔ سفیدداڑھی والا یہ ایک بوڑھا سکھ اپنا بازو اوپر اٹھائے بآواز بلند ہمیں رکنے کے لیے منت سماجت کر رہا تھا۔

 میرے ساتھ بیٹھے ڈرائیور نے کہا: ’’ نہیں ،ہمیں رکنا نہیں چاہیے۔ ممکن ہے یہ شخص اچانک حملہ کرنے کے لیے گھات میں بیٹھا ہو‘‘۔ لیکن میں نے کچھ اندازہ لگالیا کہ اس کا خدشہ درست نہیں، کیوںکہ اس بوڑھے سکھ کے ارادے خطرناک دکھائی نہیں دیتے تھے اور یہ اندازہ درست تھا۔

جوں ہی تین بسوں پر مشتمل ہمارا یہ قافلہ رکا، تو وہ بوڑھا قریب آیا اور چیخ چیخ کر کہنے لگا: ’’سنو، میرے گھر میں ایک مسلمان خاندان چھپا بیٹھا ہے‘‘۔ اور پھر اس نے ہمیں ذرا تفصیل بتائی کہ ’’وہ مسلمان اسی گائوں کے رہنے والے تھے اور تقسیم سے ایک روز قبل مار دھاڑ اور قتل وغارت گری شروع ہوئی تو وہ اپنی جانیں بچانے میرے ہاں آ گئے۔ میں نے انھیں اپنے گھر میں پناہ دی اور میرے چاروں بیٹے گھر کے سامنے تلوار یں سونتے پہرہ دیتے رہے، لیکن اب ہمارے لیے انھیں زیادہ دیر تک محفوظ رکھنا ممکن نہیں ، کیونکہ اس گائوں کے دوسرے سکھ غصّے سے بے قابو ہوتے جارہے ہیں کہ میںنے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔ ان کے ارادوں کو بھانپ کر میں نے اس مسلمان خاندان کو اپنے گنے کے کھیت میں چھپا رکھا ہے۔ ترس کیجیے اور انھیں اپنے ساتھ لے جائیے۔ میرے لیے انھیں مزید چھپائے رکھنا ممکن نہیں رہا ہے ‘‘۔

ڈرائیور نے پس وپیش کرتے ہوئے کہا: ’’ہم انھیں کیسے لے جا سکتے ہیں ؟ تمام بسیں تو پہلے ہی چھتوں تک بھری پڑی ہیں‘‘۔ لیکن میں نے اس کے احتجاج کی پروا نہ کرتے ہوئے عمررسیدہ نیک خصلت سکھ سے اس مسلمان خاندان کو لانے کے لیے کہا۔ چند منٹوں بعد وہ سب لوگ پہنچ گئے۔ تین آدمیوں کے علاوہ ایک عورت کے ہمراہ، جس نے ایک بچے کو اٹھا یا ہوا تھا۔ وہ اس قدر خوف زدہ تھے کہ ان سے بولا بھی نہیں جاتا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ ہماری تین بسوں میں ان کے لیے کیسے جگہ بنائی گئی۔ میں نے اس نیک دل بوڑھے سکھ کا شکریہ ادا کیا اور اس کے لیے دیر تک دعا کرتا رہا۔ اس کے بعد ہم پھر ہم اپنی منزلِ مقصود کی جانب چل پڑے۔

ہندستان کی سرحدی چوکی پر پہنچتے ہی مولانا مودودی کے ایک رفیق کا رنے مجھے اعتماد میں لیتے ہوئے یہ ایک چونکا دینے والی اطلاع دی کہ منع کرنے کے باوجود بعض ساتھی (راستے میں ممکنہ حملوں سے نبٹنے کے لیے) ایک دو چھوٹی بندوقیں قالین میں چھپا کر لے آئے ہیں اور یہ قالین ایک بس میں منوں سامان کے نیچے دبی پڑی ہے‘‘۔

یہ سن کر مَیں سخت پریشان ہوگیا۔ اگر تلاشی لی گئی اور یہ اسلحہ مل گیا تو یہ سار ی دوڑ دھوپ بیکار ہو جائے گی۔ اس صورت میں سرحدی گارڈ ہم سب کو روک لیں گے اور مہاجرین کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ اس وقت ہم سرحدی چوکی کے بالکل سامنے کھڑے تھے، اس لیے بندوقوں کو کہیں باہر بھی نہیں پھینک سکتے تھے۔

مجھے سخت گھبراہٹ ہو رہی تھی کہ اسی دوران اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا ۔ میں نے سر پر دھوپ سے بچنے والا ہیٹ مضبوطی سے جمایا اور ہندستانی چوکی کے سامنے پڑی ہوئی میز کی جانب تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا چلنے لگا۔ میرا چہرہ مہرہ، سر اور داڑھی کے بالوں کا رنگ ایسا تھا کہ کسی کو میرے یورپین نہ ہونے کا شک نہیں ہو سکتا تھا۔

میں ہندستانی سپاہیوں سے خوش اخلاقی سے ملا اور بڑے نرم لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے انھیں اپنے بارے میں انجمن ہلا ل احمر (ریڈکراس سوسائٹی) سوئٹر ز لینڈ کے نمایندے کا تاثر دیا۔ جس پر کسی بھی ہندستانی نے مجھ سے میرے شناختی کاغذات کا مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے پھوٹ پڑنے والے انسانیت سوز مظالم پر غم وغصّے کا اظہار کیا، لٹے پٹے زاروقطار روتے ہوئے مہاجرین کی شکایات کا بھی ذکر کیا اور ان کے ظالمانہ طرزِ سلوک کی سرزنش بھی کی۔

ہندستانی سارجنٹ اور اس کے ساتھیوں نے جوابی طور پر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے چائے کی دعوت دی۔ ہم کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ میں نے شدید بے چینی کی حالت میں جلدی جلدی چائے پی لی تو انھوں نے فوراً مجھے دوسراکپ پیش کر دیا۔ اس مشق میں کسی نے بسوں کی تلاشی کے بارے میں سوچا تک نہیں، اور تھوڑی دیر بعد مجھے سرحد پار کرنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور چند منٹوں میں سرحد پار کرکے پاکستان کی سرحد میں داخل ہو گئے اور ہندستان ہمارے بہت پیچھے رہ گیا۔ یوں میری زندگی کا ایک باب ختم ہوا، لیکن بڑی تلخ یادوں کے ساتھ۔

اسی دوران میں مجھے پتا چلا کہ لُوٹ مار کرنے والے سکھوں نے جمال پور میں میرے کتب خانے کو تباہ وبرباد کر دیا۔ میری تمام عربی کتب (جنھیں غالباً لوٹ مار کرنے والوں نے ’ناپاک ‘ سمجھا ہو )، اور صحیح بخاری کے مسودات (تقریباً دو تہائی حصہ ابھی غیر مطبوعہ تھا)  اس احمقانہ غم وغصے اور غارت گری کا شکار ہو گئے، یوں میری برسوں کی محنت ضائع ہو گئی۔

لاہور واپس آنے کے چند روز بعد میں دریائے راوی کے کنارے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ مون سون کی بارشیں ختم ہو چکی تھیں، لیکن اس کی لہروں میں تلاطم موجود تھا۔ ہرطرح کا کاٹھ کباڑ بھارت کی جانب سے پانی میں بہتا چلاآرہا تھا۔ درختوں کی ٹوٹی شاخیں ، لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے، کپڑوں کے چیتھڑے اور کاغذات ۔ مجھے خیال آیا کہ اگر کسی بہتے ہوئے کوڑے کرکٹ میں مسودے کا کوئی حصہ محفوظ رہ گیا ہو تو اس کے ہلکے نیلے رنگ سے پہچان لوں گا، کیوںکہ میں لکھتے ہوئے ایسا ہی کاغذ استعمال کرتا تھا۔ چنانچہ اسی دوران میں ہلکے نیلے رنگ کے بہت سے بکھرے ہوئے کاغذ نظر آئے ، جو دریاے راوی کی سطح آب پر تیزی سے بہتے چلے جا رہے تھے۔

لاہور اس سے پہلے اتنے انتشار اور بدنظمی کا کبھی شکار نہیں ہوا تھا۔ کچھ لوگ خوشیاں منارہے تھے، جب کہ بیش تر خوف ناک اندیشوںمیں مبتلا تھے۔ خوشی، خوف اور لالچ حیران کن حد تک آپس میں گڈمڈ ہوگئے تھے۔ ان دنوں پاکستان کے پاس کوئی باقاعدہ فوج نہیں تھی۔ بلوچ رجمنٹ کی ایک بٹالین اور آٹھویں پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی کے علاوہ باقی تمام مسلمان فوجی ابھی تک جنوبی ہند میں پھنسے ہوئے تھے۔

ایک روز ہمیں مشرقی پنجاب [ہندستان] کے سرحدی شہر فیروزپور سے ریلوے اسٹیشن ماسٹر کا ٹیلی فون موصول ہوا کہ: ’’مقررہ پروگرام سےہٹ کر ابھی ابھی مسلمان مہاجر عورتوں کی ایک گاڑی روانہ ہوئی ہے اور چند گھنٹوں بعد قصور کی سرحد پر پہنچ جائے گی‘‘۔ میں نے جلدی جلدی بسوں کا انتظام کیا اور رضاکاروں کو ساتھ لے کر قصور کی طرف روانہ ہوگیا۔

قصور پہنچ کر اپنے انتہائی مخلص اور پرانے دوست مولانا عبداللہ قصوری [م:۱۹۴۹ء]اور ان کے بیٹے محمدعلی قصوری [م: ۱۹۵۶ء] کو لے کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ ایک گھنٹے بعد وہ گاڑی بھی پہنچ گئی۔ اس میں ہرعمر کی کم از کم دو سو عورتیں تھیں اور یہ دیکھ کر ہم سب کے اوسان خطا ہوگئے کہ یہ تمام عورتیں مادرزاد برہنہ تھیں۔ وہ سب مسلمان خواتین ہی تھیں جو زیادہ تر خود کو سر سے پائوں تک برقعہ میں چھپائے رکھتی تھیں۔ کچھ خواتین برقعہ نہیں اوڑھتی تھیں ، لیکن انھوں نے شرم و حیا اور   ضبط ِ نفس کے نسوانی ماحول میں پرورش پائی تھی، اور اب انھیں گاڑی سے اسی برہنہ حالت میں نیچے اُتارا جارہا تھا، جس طرح کہ ولادت کے وقت انسان ہوتا ہے۔ ریل گاڑی کے ان ڈبوں میں نوجوان، ادھیڑعمر، عمر رسیدہ عورتیں اور نابالغ لڑکیوں کی لاشیں بھی بھری پڑی تھیں۔

ہمارے پاس ان کا تن ڈھانپنے کے لیے اتنی تعداد میں کمبل بھی نہیں تھے۔ رضاکاروں نے اپنے قمیص اور کوٹ اُتار کر ہندوئوں کی درندگی اور وحشی پن کا نشانہ بننے والی سسکیاں بھرتی ہوئی ان عورتوں کی برہنگی کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن ان کپڑوں کی تعداد بھی اتنی نہیں تھی کہ تمام عورتوں کے تن ڈھانپ سکتے۔ مجبوراً ہم نے ان مصیبت زدہ عورتوں کو ممکن حد تک جلدی سے لاہور کے ہسپتالوں اور عارضی پناہ گاہوں میں پہنچایا۔

یہ میری زندگی کے انتہائی کربناک تجربات میں سے ایک تھا۔

(کتاب: Home - coming of the Heart)

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کے دوران، سائنس کا مذہب سے تصادم ہوا ۔ دوسری جانب یہ بات ہر شک و شبہہ سے بالاتر ہے کہ علوم کے بارے میں قرآن کا بیان ناقابلِ انکار اور آخری حقیقت ہے: اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ۝۶۰ (اٰل عمرٰن۳: ۶۰) ’’یہ اصل حقیقت ہے جو تمھارے ربّ کی طرف سے بتائی جارہی ہے، اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو، جو اس میں شک کرتے ہیں‘‘۔آج دنیا میں کو ئی ایسا تجربہ اور مشاہدہ ،کوئی سائنسی تحقیق اور انکشاف ایسا سامنے نہیںآیا جو قرآن کے کسی پیش کردہ حقائق کی نفی کرسکے ۔جدید تحقیقات اور انکشافات نے قرآن کی حقانیت اور صداقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں ہی کیا ہے۔قرآن میں جو باتیں چودہ سو سال پہلے کہی گئی تھیں،جدید تحقیقات اس کی حقانیت پر استدلال کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے انسانی علوم میں اضافہ ہوتا رہے گا، یہ انکشافات قرآن کی صداقت پر شہادت دیتے رہیںگے۔قرآن نے آفاق و انفس کی نشانیاںبار بار پیش کی ہیںاور پھر تدبرو تفکر کی دعوت بھی دی ہے۔جب انسان اس کی کھوج لگانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی قوانین فطرت کو دریافت کرتا ہے اور کبھی حیرت انگیز معلومات اس کے سامنے آتی ہیں۔

تفہیم القرآن کے تفسیری حواشی میں دیگر علوم کی طرح سائنس کی جدید تحقیقات سے بھی اس کا دامن بھرا پڑا ہے۔ مولانا مودودی نے بالواسطہ طور پر بہت سے اہم نفسیاتی حقائق اور رُموز کی نشان دہی کی ہے۔نفسیاتی اعتبار سے تفہیم القر آن کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ مولانا مودودی نے آثار النفس سے توحید و رسالت اور معاد (آخرت) جیسے اہم حقائق کی حقیقت کو منوایا ہے ۔    آثار النفس سے انھوں نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ انسانی جسم کی ہیئت ترکیبی ،اور اس کی ساخت اس امر کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کا سامان بھی مہیا کیا جاتارہے۔ اس مقصد کے لیے  انسانی جسم کو انھوں نے محکم دلیل کے طور پر بار بار پیش کیا ہے ۔

موجودہ ماہرین نفسیات میں سے اکثر کی نگاہ صرف انسانی جسم کے حیاتیاتی تقاضوںتک محدود رہی ،اور اسی وجہ سے وہ بہت سی کوتاہ اندیشیوںکا شکار ہوئے۔ پھر ڈارونیت سے متاثر مکاتب ِفکر کی سب سے بڑی کوتاہی یہ رہی ہے کہ انھوں نے انسان کے محض حیاتیاتی تقاضوں پر زور دیا ہے ،لیکن ان تقاضوں کے علاوہ انسان کی روحانی زندگی کے جو تقاضے ہیں،انھیں نظر انداز کیا ہے ۔مولانا مودودی نے ان روحانی تقاضوںکی طرف بڑے فکرانگیز انداز میں توجہ مبذول کروائی ہے، مثلاًسورۃ الرحمٰن (۵۵) میں انسانی جسم کی ساخت پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا ہے:

انسان کے اپنے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور ایک ایک خلیہ (cell)وہ کام سیکھ کر پیدا ہوا ہے جو اسے انسانی جسم میں انجام دیناہے۔پھر آخر انسان بجاے خود اپنے خالق کی تعلیم و رہنمائی سے بے نیاز یا محروم کیسے ہو سکتا ہے؟ (تفہیم القرآن ،۵، حاشیہ۲، ص ۲۴۹)

اس ذکر کے لیے مولانا مودودی نے قرآن کی چند آیات اس کی وضاحت کے لیے پیش کی ہیں کہ جن میں ان باتوں کو بخوبی بیان کیا گیا ہے :

  • اور اللہ ہی کےذمے ہے سیدھا راستہ بتانا، جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں۔ (النحل ۱۶:۹)
  • جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے ربّ کے فرستادے ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے، اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے ربّ کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لیے جو جھٹلائے اور  منہ موڑے۔ فرعون نے کہا: ’اچھا تو پھر تم دونوں کا ربّ کون ہے، اے موسٰی؟‘ موسٰی نے جواب دیا: ’ہمارا ربّ وہ ہے، جس نے ہرچیز کو اس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا‘۔ (طٰہٰ ۲۰:۴۷-۵۰)
  • بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمے ہے۔(الیل ۹۲:۱۲)

علمِ نفسیات میں گویائی اور اکتسابی علم (Learning)پر خاصی طویل بحثیں موجود ہیں،لیکن مادہ پرست ذہنوں نے ان دو جوہری ماخذ کے مختلف پہلوئوں کا کما حقہ تجزیہ نہیں کیا۔قوت گویائی کے پیچھے عقل و شعور کی لامتناہی کڑیوں کی طرف بھی بہت کم ماہرین نفسیات نے توجہ دی ہے ۔  سورۂ رحمٰن میں عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (اور اسے بولنا سکھایا)کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودی نے اس انسانی جوہر کے بہت سے مضمرات کو بھی اجاگر کیا ہے ۔مثال کے طور پر:

یہ محض قوت گویائی ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے عقل و شعور ،فہم و ادراک ،تمیزو ارادہ، اور دوسری ذہنی قوتیں کارفرماہوتی ہیں، جن کے بغیرانسان کی قوتِ ناطقہ کام نہیں کرسکتی۔ اس لیے بولنا دراصل انسان کے ذی شعوراور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے۔ اور یہ امتیازی وصف جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے تعلیم کی نوعیت بھی وہ نہیں ہو سکتی، جو بے شعور اور بے اختیار مخلوق کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے ۔(تفہیم ،۵، حاشیہ۳، ص ۲۴۹)

انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار ہونے کی توضیح و توجیہہ مولانا مودودی نے تخلیق آدم کی طرف توجہ دلانے والی آیات سے بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ السجدہ کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ  (اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ السجدہ ۳۲:۹) کے الفاظ کی مولانا نے بڑی معنی خیز وضاحت کی ہے :

’روح‘ سے مراد محض وہ زندگی نہیں ہے، جس کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے ،بلکہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے جو فکر وشعور اور عقل و تمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے ۔جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقات ارضی سے ممتاز ایک صاحب ِشخصیت ہستی ،صاحب ِاَنا ہستی ،اور حاملِ خلافت ہستی بنتا ہے ۔اس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اسی کی مِلک ہے اور اس کی ذات پاک کی طرف اس کا انتساب اسی طرح کا ہے، جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسوب ہوکر اس کی چیز کہلاتی ہے ،یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم،فکر، شعور ،ارادہ ،فیصلہ ،اختیار اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں،  وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تَو ہیں۔ان کا سر چشمہ مادّے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے ،اللہ کی حکمت سے اس کو دانائی ملی ہے ،اللہ کے اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے۔یہ اوصاف کسی بے علم، بے دانش، اور بے اختیار ماخذ سے انسان کے اندر نہیں آئے ہیں۔(تفہیم ،۴، حاشیہ۱۶، ص ۴۱)

انسانی جسم کی ساخت اور تخلیقِ آدم کا یہ تصور علم النفس میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔جدید علم نفسیات کی کوتاہیوں اور گمراہیوں کا سر چشمہ وہ مادی اور میکانکی تصورِ حیات ہے،جس کی فکری بنیادیں ڈارون [م: ۱۸۸۲ء]اور ہربرٹ سپنسر [م: ۱۹۰۳ء]کے نظریات پر استوار ہیں۔ان نظریات سے انسانی زندگی کا یہ تصور ابھرتا ہے کہ انسانی شعور کے نام کی کوئی چیز انسان کو حاصل نہیں اور اگر حاصل ہے بھی تو اس کا وجود اور عدم وجود دونوں بے معنی اور بے سود ہیں،کیوںکہ اس کا انسانی زندگی میں کوئی دخل نہیں۔انسان کے بارے میں سگمنڈ فرائڈ [م:۱۹۳۹ء] نے اپنے تصور وافکار کی عمارت اٹھائی اور انسان کو میکانکی قوانین اور شعوری محرکات کے جبر کی محسوس اور غیر محسوس زنجیروں میںجکڑا ہوا دکھایا۔ مولانا مودودی نے اس میکانکی تصورِ حیات اور تصورِ شعور کی قرآن حکیم کی روشنی میں تردید کی ہے اور اس کے مہلک اثرات کا جائزہ لیا ہے ۔اس تصور حیات سے انسانی زندگی جس سانچے میں ڈھلتی ہے، اس کی اجمالی تصویر سورۃ الاعراف کی اس آیت کی تشریح میں پیش کی ہے ،جہاں پر وحی کی روشنی سے بے نیاز ہوکر جینے والوں کی زندگی کو کتّے کی زندگی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔

 دوسری جگہ مولانا مودودی نے انسانی زندگی میں وحی اور ہدایت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے انسانی فطرت کے اس جوہر کو اُجاگر کیا ہے جسے قرآن حکیم نے ’نفسِ لوامہ‘ کہاہے ۔ ’نفسِ لوامہ‘ پر سبھی مفسرین نے بحث کی ہے اور تصوف میں نفس کی تین اقسام کا ذکر بڑی تفصیل سے موجود ہے۔ مولانا مودودی کا علمی کمال یہ ہے کہ انھوں نے ’نفسِ لوامہ‘ سے معاد پر بھی استنباط کیا ہے۔ مولانا مودودی نے اس لطیف نکتے کی وضاحت یوں فرمائی ہے:

اب اگر انسان کے وجود میں اس طرح کے ایک ’نفسِ لوامہ‘ کی موجودگی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی ’نفسِ لوامہ‘ زندگی بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے، جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے۔کیوںکہ فطرت کا یہ تقاضا کہ اپنے جن اچھے اور برے اعمال کا انسان ذمہ دار ہے، ان کی سزا یا جزا اسے ضرور ملنی چاہیے،زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہوسکتا۔ (تفہیم  ،۶، حاشیہ۲، ص ۱۶۳)

’نفسِ لوامہ‘ سے آخرت پر استدلال کے علاوہ مولانا نے ’نفسِ لوامہ‘ کی وضاحت بھی بڑے فکر انگیز انداز میں کی ہے ۔ سورۂ قیامہ:۷۵،سورئہ دہر:۷۶ اور سورۂ شمس:۹۱ میں ’نفسِ لوامہ‘ سے انسانی فطرت کے پہلوئو ں کو واضح کیا گیا ہے ۔اسی طرح مولانا مودودی نے ’سواء السبیل‘کی اصطلاح پر جو اظہار خیال کیا ہے وہ بھی نفسیاتی مباحث میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’نفسِ لوامہ‘ اور ’سواء السبیل‘دراصل دونوں لازم و ملزوم ہیں۔(دیکھیے: تفہیم القرآن،اوّل، سورئہ مائدہ ۵، حاشیہ ۳۵، ص ۴۵۲-۴۵۴)

انسانی فطرت میں ’نفس لوامہ‘ اور’سواء السبیل‘کی وجہ سے راہ راست کے داعیہ کی   نشان دہی کے علاوہ مولانامودودی نےقَالُوا بَلٰیکے مفاہیم کی وسعتوں کو واضح کرکے انسانی فطرت کے بہت اہم گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ ان گوشوں کی روشنی میں کارل ژنگ [م:۱۹۶۱ء] کے نقوشِ اولین (Archetypes) کے تصور کا اگر تنقیدی جائزہ لیا جائے،تو قرآن میں انسانی نفسیات کے بہت سے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں،جن پر اب تک بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔ابن عربی کے اعیان ثابتہ کے تصور کو ان مباحث کی مدد سے زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی نے میثاق کے نقش کی اہمیت کے بارے میں لکھا ہے :

اس نقش کو شعور وحافظہ میں تازہ تو نہیں رکھا گیا ،لیکن وہ تحت الشعور (subconscious mind) اوروجدان(Intuition)میں یقینا محفوظ ہے۔اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے تحت الشعوری اور وجدانی علوم کا حال ہے۔تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاملات کے تمام شعبوںمیں انسان سے آج تک جو کچھ بھی ظہور میں آیا ہے، وہ سب درحقیقت انسان کے اندر بالقوۃ (potentially) موجودتھا ۔خارجی محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر کچھ کیا ہے تو صرف اتنا کہ جو کچھ بالقوۃ موجود تھا اسے بالفعل کردیا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی تعلیم ،کوئی تربیت،کوئی ماحولی تاثیر اور کوئی داخلی تحریک انسان کے اندر کوئی چیز بھی، جو اس کے اندر بالقوۃموجود نہ ہو، ہرگز پیدا نہیں کرسکتی۔اور اسی طرح یہ سب مؤثرات اگر اپناتمام زور بھی صرف کردیں تو     ان میں یہ طاقت نہیںہے کہ ان چیزوںمیں سے، جو انسان کے اندر بالقوۃ موجود ہیں،کسی چیز کو قطعی محو کردیں۔زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کرسکتے ہیں،وہ صرف یہ ہے کہ اسے اصل فطرت سے منحرف (pervert)کردیں۔ لیکن وہ چیز تمام تحریفات کے باوجود اندر موجود رہے گی، ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتی رہے گی، اور خارجی اپیل کا جواب دینے کے لیے مستعد رہے گی ۔(تفہیم ،۲، حاشیہ ۱۳۵، ص ۹۸)

مولانا مودودی نے انسانی فطرت کی اصل افتاد اور اس کے داعیات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت کے تصادموں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ سورۂ اعراف میں حبوط آدم سے متعلقہ آیات کی توضیح کرتے ہوئے نفس انسانی کی ترغیبات کا ذکر مولانانے تفصیل سے پیش کیا ہے ۔اس تفصیل کی مددسے انسانی شخصیت کے تصادمات کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ اجتماعی نفسیات سے متعلق امور کا ذکر بھی مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں جابجا کیا ہے۔

مثال کے طور پر سودکے ہمہ گیر اثرات کو مولانا مودودی نے بڑے عمدہ انداز میںپیش کیا ہے ۔اس بحث میں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی کوتاہی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سود کے علاوہ اباحیت مطلقہ اور زنا کے اثرات پر مولانا مودودی نے سورئہ نور پر بحث کی ہے ۔وہ ان تمام خرابیوں کو سامنے لاتے ہیں، جو اُس معاشرے میں فروغ پاتی ہیں،جہاں جنسی خرابیوں کے بارے میں مداہنت (compromise) کی روش موجود ہو۔ سود ،زنا کے علاوہ سورۂ بنی اسرائیل میں انسانی اجتماعی نفسیات کو سمو دیا ہے۔ اسی طرح انھوں نے تین بنیادی خرابیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فحش ،منکر اور بغی ،جن سے ہلاکت پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ اجتماعی خوبیاںجن سے معاشرہ فردوس بہ داماں بنتا ہے،گویا اجتماعی انسانی نفسیات کا ایک عمدہ خاکہ تفہیم القرآن  کی مدد سے تیار کیا جا سکتا ہے ۔

ایک اعلیٰ بھارتی پولیس افسر وبھوتی نارائن رائے (Vibhuti Narain Ray) کی تحریر کردہ یہ کتاب Hashimpura 22 May فرقہ وارانہ فسادات کی داستان ہی نہیں ہندستانی مسلمانوں  کی مظلومیت ، بے چارگی اور انصاف سے محرومی کا نوحہ بھی ہے ۔ یہ کتاب تحریر کرنے میں    وبھوتی نارائن رائے کو ،جو ہندی کے ایک اعلیٰ پائے کے ادیب بھی ہیں،۲۹ سال لگے !اور کتاب ہاشم پورہ قتل عام کی ۳۰ویں برسی پر شائع ہوئی ۔ تین عشروں پر پھیلے عرصے کو مختصر نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم، اس طویل مدت کے دوران میں بھی نہ تو میرٹھ، ملیانہ اور ہاشم پورہ قتل عام کے متاثرین کو انصاف مل سکا ہے اور نہ ان قصورواروں کو کہ جنھیں میرٹھ کے مسلمان ’مجرم‘ قرار دیتے ہیں،کوئی سزا ہی دی جاسکی ہے ۔پھر یہ ’قصوروار‘ یا ’ مجرم‘ کوئی اور نہیں پولیس والے ہی ہیں ، یوپی کی بدنام زمانہ پی اے سی (پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری ) کے جوان۔ یہ کتاب اس لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ پولیس والوں کی درندگی اور مسلمانوں کی مظلومیت کو، ایک پولیس والے نے ہی اُجاگر کیا ہے ۔

یہ کتاب ابتدائیے اور نو ابواب پر مشتمل ہے۔ ہاشم پورہ کے قتل عام کی داستان انتہائی  دل دہلانے والے انداز میں تحریر کی گئی ہے ۔حقائق اور سچائی سے کہیں رُوگردانی نہیں کی گئی ہے۔ میرٹھ کے فسادات کا دور، شدیدقسم کی فرقہ پرستی کا دور تھا۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک زوروں پر تھی، تب بھارتی وزیراعظم راجیوگاندھی (م: ۲۱مئی ۱۹۹۱ء)نے مسجد کا بند دروازہ کھلوا دیا تھا۔فرقہ وارانہ کشیدگی کا عالم یہ تھا کہ پی اے سی نے اپنے ہی ایک مسلم افسر کی اس وقت جان لے لی تھی، جب اس نے مسلمانوں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انھی حالات میں۲۲ مئی۱۹۸۷ء کو وہ واردات ہوئی جسے وبھوتی رائے نے ’ہندستان میں حراستی قتل کی سب سے بڑی واردات‘ قرار دیا ہے ۔ اس رات جو کچھ ہوا رائے نے پہلے باب میں اسے بڑی تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ انھوں نے یہ پتا لگانے کی بھی کوشش کی ہے کہ ہاشم پورہ قتل عام کی بنیادی ’وجہ ‘ کیا تھی؟

بات ۲۱مئی ۱۹۸۷ءسے شروع ہوتی ہے جب ایک فوجی افسر میجر ستیش چندرکوشک کےبھائی پربھات کوشک کو ، جو مکان کی چھت پر تھا ایک گولی آکر لگی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ یاد رہے کہ ستیش اور پربھات کی خالہ شکنتلا شرما اس زمانے میں بھارتیہ جنتاپارٹی میں ایک شعلہ بیان لیڈرتھیں۔ ۲۱مئی کو پربھات کی موت ہوئی اور۲۲مئی کو پی اے سی کی ۴۱ویں بٹالین کمانڈر سریندر پال سنگھ کی قیادت میں ہاشم پورہ پہنچی ۔ موقعے کے گواہ بتاتے ہیں کہ پی اے سی کی ٹکڑی کے ساتھ میجر ستیش چندر کوشک بھی تھے۔ ۴۲مسلم نوجوانوں کو بندوق کی نوک پر گھروں سے نکال کر ٹرک میں بھرا گیا ۔ ٹرک پہلے مرادنگر پہنچا پھر مکن پور، جہاں اپرگنگا اور ہنڈن ندی کے کنارے پرمسلم نوجوانوں کو ٹرک سے اُترنے کے لیے کہا گیا ، وہ جیسے جیسے اترتے گئے ویسے ویسے پی اے سی والے انھیں گولی مارکر ندی میں پھینکتے گئے ۔ ’ ہاشم پورہ ۲۲مئی‘ ان ہی مقتولین کی داستان ہے ۔ دوایسے افراد کی زبانی یہ رُودادِ الم رائے نےجمع کی ہے، جو گولی باری سے اللہ کی مشیت سے اس لیے بچ نکلے تھے کہ دنیا کے سامنے پی اے سی کی درندگی کو افشا کرسکیں۔ رائےلکھتے ہیں:

رات کے کوئی ساڑھے دس بجے ہوں گے ، ہاپوڑ سے میں بس ابھی واپس لوٹا ہی تھا۔ ضلع مجسٹریٹ نسیم زیدی کو ان کی سرکاری رہایش گاہ پرچھوڑ کر میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر اپنے گھر کے قریب پہنچا تو میری کار کی ہیڈلائٹس ڈرے سہمے وہاں کھڑے سب انسپکٹر وی بی سنگھ پر پڑیں، جو لنک روڈ پولیس اسٹیشن کے انچارج تھے۔ مجھے احساس سا ہوا کہ اس کے حلقے میں کوئی خوف ناک بات ہوگئی ہے ۔ میں نے ڈرائیور سے کارروکنے کو کہا اور باہر نکل آیا ۔

اس کے بعد وبھوتی رائے نے وی بی سنگھ کی زبانی یہ خبر سننے کی تفصیل بیان کی ہے کہ ’’پی اے سی نے چند مسلمانوں کو قتل کردیا ہے‘‘۔رائے کے دماغ میں سوالات اٹھنے لگے ، انھیں کیوں قتل کیا گیا ہے؟ کتنوں کو قتل کیا گیا ہے؟ انھیں کہاں سے اٹھایا گیا تھا؟ رائے نے ان سوالات پر صرف غور ہی نہیں کیا بلکہ وہ مرادنگر کی سمت روانہ ہوئے ۔ اپرگنگا اور ہنڈن ندی کے قریب ہونے والے قتل عام سے تین افراد بابودین، ذوالفقار اور قمرالدین بچ نکلے تھے ۔ بابودین کورائے نے ندی سے نکالا تھا، اس کو دوگولیاں لگی تھیں ۔دوسرے دو افراد بھی زخمی مگر زندہ تھے۔

آج ۳۰سال بعد لوگوں کے ذہنوں سے ہاشم پورہ قتل عام کے نقوش محو ہوچکے ہیں، جنھیں دوبارہ اُجاگر کرنے کا کام رائے نے اس کتاب سے کیا ہے۔۔ رائے نے اسے ’آزاد ہندستان میں حراستی قتل کی سب سے بڑی واردات‘ کہا ہے۔ وہ اسے ’ریاست کی بہت بڑی ناکامی‘ قرار دیتے ہیں‘۔ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسی واردات ہے جس میں ریاست کے ایجنٹ، قاتلوں کے ساتھی بنے ہوئے تھے اور یہ ناقابلِ معافی جرم ہے ‘۔

جب ہاشم پورہ کی واردات ہوئی تھی تب رائے پڑوسی ضلع غازی آباد میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے ۔انھوں نے ذکر کیا ہے کہ وہ پی اے سی کی چھاؤنی بھی گئے اور اس ٹرک کو بھی دیکھا جس میں مسلمانوں کو بھر کرلے جایا گیا تھا، ٹرک کو پانی سے دھویا جارہا تھا۔رائے نے اعلیٰ پولیس افسران تک ’قتل عام‘ کی خبر پہنچائی۔ قتل عام کا معاملہ درج کرانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی۔ انھوں نے تفتیشی ایجنسیوں کی چھان بین پر نگاہ رکھی۔ پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری (پی اے سی) کی نقل وحرکت پر نظر رکھی۔ انھوں نے دیکھا کہ ’ ریاست اور پولیس نے مل کر قتل عام کی ایک المناک واردات پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ ‘

 رائے نے ۲۲مئی کے روزہی اعلیٰ پولیس افسران کے سامنے پی اے سی کی چھاؤنی پر ’چھاپہ مارنے‘ کی تجویز پیش کی تھی جو ٹھکرادی گئی تھی۔ یہ تجویز انھوں نے صرف اعلیٰ  پولیس افسران کو نہیں اس وقت کے کانگریسی وزیراعلیٰ ویر بہادر سنگھ کے سامنے بھی رکھی تھی اور انھیں ’قتل عام‘ کی واردات سے بھی باخبر کیا تھا۔ پھر یہ تجویزبھی سامنے رکھی تھی کہ پی اے سی کی چھاؤنی پر چھاپہ مارا جانا چاہیے تاکہ ثبوت اکٹھے کیے جاسکیں‘‘۔ مگر کانگریس نے ہمیشہ کی طرح میرٹھ فسادات اور ہاشم پورہ قتل عام کو بھی نہ صرف دبانے کی بلکہ ساری واردات کو ’ من گھڑت‘ قرار دینے کی کوشش کی اور اس میں وہ اعلیٰ پولیس افسر بھی شریک تھے، جنھیں یہ خبر رائے نے خود دی تھی کہ قتل عام ہوا ہے۔ رائے کہتے ہیں کہ: ’’ہاشم پورہ کے مقتولین اور متاثرین کیسے جمہوریت کے تینوں ستونوں کی طرف سے نظرانداز کیے گئے، بلکہ تینوں ہی ستونوں، یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ نے ان سے ’ ناانصافی‘ کی‘‘۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ’’ہاشم پورہ قتل عام کی کہا نی ہندستانی ریاست اور اقلیتوں کے درمیان گھناؤنے غیرمتوازن تعلقات، پولیس کے اخلاقی رویّے اور پریشان کن سست رفتار عدالتی نظام کی کہانی ہے‘‘۔ رائے کے مطابق: ’’ ہاشم پورہ آج بھی بہیمانہ ریاستی جبر اور ایک بے ریڑھ کی ایسی ریاست و حکومت کی علامت بنا ہوا ہے ،جو اپنے ہی لوگوں ۔۔۔قاتلوں کے آگے سرنگوں ہوگئی تھی‘‘۔

ایک پولیس اور انٹیلی جینس افسر کے طور پر رائے نے تفصیل سے بتا یا ہے کہ کیسے ’ تفتیش‘ کا رخ موڑا گیا ۔وہ بہت سارے چہروں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور بہت سارے کرداروں کے ’رویّے‘ کو اُجاگر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کیسے اپرگنگا اور ہنڈن ندی کے قریب ہوئے قتل عام سے بچنے والے نوجوانوں کو وہ محفوظ ٹھکانے تک لے گئے ۔ وہ بھارتی سیاست دان اور دانش ور سیّدشہاب الدین (م: ۴مارچ ۲۰۱۷ء) سے ملاقات اور بابودین کو ان کے سامنے پیش کرنے کے ساتھ، ان کی ڈاکٹر صاحبزادی کی جاںفشانی اور انھی کے ذریعے ہاشم پورہ قتل عام کو اُجاگر کرنے کا ذکر بھی بڑی وضاحت سے کرتے ہیں ۔

راجیوگاندھی، پی چدمبرم (اُن دنوں وزیر داخلہ تھے)، ایل کے اڈوانی وغیرہ کا ذکر بھی کتاب میں موجود ہے ۔راجیوگاندھی نے پہلے ’ دل چسپی‘ دکھائی تھی اور پھر ’بے رخی‘۔ اس زمانے کی میرٹھ کی کانگریسی مسلمان رکن پارلیمنٹ محسنہ قدوائی (پ:۱۹۳۲ء)ان کے قلم کی کاٹ سے نہیں بچ پاتیں کہ جنھوں نے دوٹوک انداز میں، پارلیمانی اور عوامی سطح پر وبھوتی رائے کی مدد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ اپنی تحریر میں مسلم قائدین پر بھی برملا تنقید کرتے ہیں ۔ ان کے قلم کی دھار کے سامنے  سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سی آئی ڈی سیّد خالد رضوی اور اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ نسیم زیدی پردے کے پیچھے چھپ نہیں پاتے۔

وبھوتی نارائن رائے نے جس کتاب کو تحریر کرنے کا آغاز۱۹۸۷ء سے کیا تھا اس کی تکمیل وہ ہاشم پورہ قتل عام کے مقدمے کے فیصلے کے بعد کرنا چاہتے تھے ۔ فیصلہ ۲۱مارچ ۲۰۱۵ءکو آیا ، اس سے قبل ۲۱جنوری ۲۰۱۵ءکو فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلےمیں تمام ملزم پولیس والوں کو بری کردیا ۔ رائے اس فیصلے پر کہتے ہیں کہ’ فیصلہ افسوس ناک ضرور ہے مگر اُمید کے برخلاف نہیں‘۔ رائے نے تسلیم کیا ہے کہ تفتیش کو دانستہ غلط رخ دیا گیا ۔ آخرکار ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۸ء کو، ۳۱برس بعد دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود گویل نے فیصلہ سناتے ہوئے، ہاشم پورہ قتل عام کے جرم میں پولیس کے ۱۶سابق افسروں کو عمرقید کی سزا سنا دی ہے۔

وبھوتی نارائن رائے (پ: ۲۸نومبر۱۹۵۱ء ، اعظم گڑھ، اور الٰہ آباد یونی ورسٹی سے ایم اے انگریزی) کی یہ کتاب Hashimpura 22 May: The Forgotten Story of Indian's Biggest Custodial Killing  ۳۰۴صفحات پر مشتمل ہے، جسے پینگوین ،انڈیا نے جولائی ۲۰۱۶ء میں شائع کیا ہے۔ بھارتی ۳۹۹ روپے یا ۱۵؍ڈالر اس کی قیمت ہے۔ جو شخص ’عظیم جمہوری ہندستان‘ کے غیرجمہوری چہرے کو دیکھنا چاہتا ہے، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ انگریزی کے علاوہ   یہ ہندی میں بھی دستیاب ہے، مگر اب تک اُردو ترجمہ شائع نہیں ہوا۔ممکن ہے کوئی صاحب یہ خدمت انجام دے رہے ہوں۔

بدرحسین ، پشاور / ماریہ چودھری ، لاہور 

پروفیسر محمد سعودعالم کا مضمون ’قرآن اور علمِ نافع‘ (نومبر۲۰۱۸ء) زندگی اور علم کے بارے میں    فرد کے نقطۂ نظر کو وہ راہیں دکھاتا ہے ، جو اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ ہیں۔


شائستہ    نورین، شوپیاں، کشمیر

سری نگرسے میرے چچا ایک تحفے کے طور پر عالمی ترجمان القرآن کا شمارہ نومبر۲۰۱۸ء لائے، جسے مَیں نے دو نشستوں میں پڑھ ڈالا۔ہر مضمون کو پہلے مضمون سے بڑھ کر قیمتی پایا۔ خاص طور پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے قرآنِ حکیم سے اقبال کی وابستگی کو بڑے خوب صورت انداز سے بیان کیا ہے، اور یہ چیز ہمیں قرآن سے تعلق جوڑنے پر اُبھارتی ہے۔ اسی طرح مولانا مودودی کی مختصر، مگر جامع تحریر ’توازن‘ نے بہت کچھ سوچنے کے لیے رہنمائی دی۔پروفیسر خورشید احمد کی تحریر ’حکومت کی کارکردگی اوردرپیش چیلنج‘ میں دردمندی اور ہمدردانہ بلکہ دوستانہ تنقید میں بھی گہرے سبق پوشیدہ ہیں۔ افتخار گیلانی نے جارحیت پسند بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کی بے وزنی اور ظلم کی زیادتی کو جان دار انداز سے پیش کیا ہے۔ کاش! یہ رسالہ جموں و کشمیر کی ہربہن اور ہربھائی کے ہاتھ میں پہنچے۔


اصغر محمود ، راولپنڈی / ناد علی، ملتان 

’ریاست مدینہ‘ اگرچہ ہمارے ہاں ایک نعرہ ہے، لیکن سچی بات ہے کہ یادداشت کو تازہ کرنے اور تاریخ سے جڑنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔ سیّداسعدگیلانی نے بڑے مختصر انداز میں ہمیں ہماری گم شدہ جنت کی منزل بتائی ہے۔ پھر ڈاکٹر انیس احمد نے اسلامی تحریکوں کو آگے بڑھنے کے لیے رہنما اصول دیے ہیں۔


سعید عرفان ڈار ، سری نگر / غلام کبریا، برمنگھم

قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں میں اضافے کے بارے میں جاوید اقبال خواجہ کے مضمون نے گہری فکرمندی سے دوچار کیا اور اس سے زیادہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا سبق دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک صاحب ِ ایمان کی حیثیت سے ہمیں آگے بڑھ کر جھوٹے پروپیگنڈے کا تدارک کرنا چاہیے۔


حیدر عثمان، سکھر / سعید نوید، کراچی / صابرحسین، ریاض، سعودی عرب  

’بھارت میں ارتداد یا بدحالی‘ کے موضوع پر ہمیشہ کی طرح افتخارگیلانی کا محنت اور مہارت سے لکھا پیغام اور تجزیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھارت میں، برہمنیت کی اس جارحیت پسندی اور مسلمانوں کی بے بسی کا کچھ بھی پاس و لحاظ رکھنے کی ہمت اور صلاحیت رکھتے ہیں؟ یہ کام نجی سطح پر بھی ہونا چاہیے، مگر اس سے زیادہ  مسلم ممالک کی حکومتوں کے دیکھنے کا ہے۔


راجا  محمد  عاصم ، کھاریاں، گجرات

نومبر ۲۰۱۸ء میں محمد بشیر جمعہ نے اپنی تحریر ’عملی زندگی میں تنظیم وقت‘ میں بڑے دل نشین انداز میں روزمرہ کے کاموں کی منصوبہ بندی کا نظام الاوقات دیا ہے۔ ان ہدایات کی روشنی میں ہم روزانہ کے اُمور کے ساتھ تحریکی کام اور عبادت کے لیے نہ صرف آسانی سے وقت نکال سکتے ہیں، بلکہ بہت سے فضول کاموں سے بھی بچ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ’رسائل و مسائل‘ میں ’فوجداری جرائم‘ تجارت میں شرکت اور مضاربت کا فرق پیش کر کے تجارت کے اہم اصول واضح کیے ہیں۔ خواتین کے چست لباس کے حوالے سے موجودہ حالات میں عورتوں کے لباس کے حوالے سے پیدا ہونے والی صریح غلط کاری کی طرف اشارہ کر کے لباس کے آداب کو بہتر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔


شفقت حسین، گجرات

پروفیسر ابصارعالم کا مقالہ ’شیخ احمدسرہندی کے خلاف جہانگیری الزامات‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء) کو شیخ احمد سرہندی کے عقائد وحدت الشہور کے تناظر میں پرکھنا چاہیے، جو اسلامی عقائد سے بعدالمشرقین رکھتے ہیں۔


 

اگر خدا کا خوف نہ ہوتا…!

جس بحث کا آپ نے ذکر کیا ہے، اس کے موقع و محل اور اندازے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اصل بناے بحث بجاے خود یہ مسائل نہیں ہیں بلکہ دل کا ایک پرانا بخار ہے جو مدتوں سے موقعے کی تلاش میں دبا پڑا تھا اور اب اس کو نکالنے کے لیے کچھ مسائل بطور حیلہ ڈھونڈ لیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرکے بیٹھ جائے کہ کسی کو متہم کرنا ہے تو دنیا میں کوئی نہیں ہے جو ایسے شخص کی مار سے بچ جائے۔ آپ جس بڑے سے بڑے قدیم یا جدید مصنف کا نام چاہیں لے لیں، میں آپ کو بتاسکتا ہوں کہ متہم کرنے کا ارادہ کرلینے کے بعد اس کے ہاں سے کیسے کیسے سخت الزامات کی بنیادیں برآمد کی جاسکتی ہیں۔ دوسروں کو چھوڑیئے، اگر خدا کا خوف اور ایک ایک لفظ پر اس کے حضور بازپُرس کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بطور نمونہ بتاتا کہ خود اِن حضرات کو ضّال اور مضلّ ثابت کر دینا، بلکہ انھیں دین اور ملّت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ٹھیرا دینا کتنا آسان ہے اور آدمی تقویٰ و خشیت کا لباسِ زور پہن کر کیسی کچھ باتیںخود ان لوگوں کے خلاف بنا سکتا ہے۔

میرا قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کی تنقید میں مجھے اس طرح کے محرکات محسوس ہوتے ہیں تو مَیں اس کا جواب دینے سے پرہیز کرتا ہوں، کیونکہ وہ تو اپنے مقصد کی خاطر ہروادی میں بھٹکتا پھرے گا، میں اپنا مقصد چھوڑ کر اس کے پیچھے کہاں کہاں بھٹک سکتا ہوں۔اور آخر اس طرح کے لوگوں سے  اُلجھ کر مَیں پھر اور کسی کام کے لیے وقت بھی کہاں سے لاسکتا ہوں۔

اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ بعض حضرات [برسوں] سے مسلسل مجھ پر حملے کررہے ہیں، اور ابھی چند سال سے تو کچھ لوگوں نے میرے خلاف الزام تراشیاں کرنا اپنا مستقل مشغلہ ہی بنارکھا ہے، مگر میں نے کبھی ان کی کسی بات کا جواب نہ دیا، یا حد سے حداگر کبھی ضرورت سمجھی تو اپنی پوزیشن کی وضاحت کردی اور اس کے بعد انھیں چھوڑ دیا کہ جب تک چاہیں اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے رہیں۔ (’رسائل و مسائل‘،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۳، دسمبر ۱۹۵۸ء، ص۵۶-۵۷)