مضامین کی فہرست


۲۰۱۷ فروری

اسلام میں غلامی کا تصور ، از ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر، ناشر: قرطاس ، فلیٹ ،۱۵۔اے، گلشن امین ٹاور، گلستان جوہر، بلاک ۱۵، کراچی۔ فون : ۳۸۹۹۹۰۹۔۰۳۲۱۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت :۲۰۰روپے۔

اسلام کے مدِ مقابل وہ تمام قوتیں ، چاہے مذہبی ہوں یا فکری وسیاسی ، نئے نئے عنوانوں سے اسلام کو نشانہ بناتی ہیں۔ ان کے سو فہم کا چاہے کتنے ہی مدلل اور مسکت اسلوب میں جواب دیا گیا ہو، وہ اپنے کینہ پرور مزاج کے بل پر ان دلائل کو اس طرح نظر انداز کر کے ، الزامی حملے کرتی ہیں گویا کوئی جواب دیا ہی نہیں دیا گیا۔ایسی الزام تراشی کے ترکش کا ایک تیر ’ اسلام میں غلامی‘ ہے۔

اسلامی تاریخ کی ممتاز استاد ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے زیر نظر کتاب میں مغرب اور اس کے زیر اثر ’دانش‘ کی اسی الزامی مہم کا تجزیہ کیاہے۔ عصرِ حاضر کی مغربی دانش قدیم یونانی تہذیب کو   اپنا سرچشمۂ ہدایت سمجھتی ہے، اور ’’یونانی دانش ور غلامی کو انسانی المیہ سمجھنے کے بجاے قانون فطرت سمجھتے تھے ‘‘ (ص۲۹) ۔مصنفہ نے قدیم (یونانی ، رومی، برہمنی ،عربی ) معاشروں میں غلامی کی روایت اور اس کے انسانیت سوز چہرے کا جائزہ (ص۱۳۔ ۷۸) لیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام نے کس طرح انسانوں کی غلامی کے اس باب کو بند کرنے کی حکمتِ عملی متعارف اور نافذ کرائی۔

انھوں نے نوآبادیاتی دور میں لکھی گئی معذرت خواہانہ کتب کے استدلال کو دہرانے کے بجاے، حملہ آور بیانیے کا ٹھوس حقائق کی روشنی میں تجزیہ کیا ہے اور اسلام کا موقف دلائل ونظائر کے ساتھ بخوبی بیان کیا ہے۔ اگرچہ عمومی سطح پر یہ موضوع زیر بحث نہیں لایا جاتا، مگر جدید تعلیمی اداروں میں اسلام اور غلامی کو ایک من پسند ہتھیار کی حیثیت سے استعمال کرنے کاطرزِ عمل دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ کتاب ایسی فریب خوردگی اور فریب دہی کا ایک مؤثر جواب ہے۔ (سلیم منصور خالد ) 


تعلیم ،امن اور اسلام، ترتیب : مجلس تحقیقات اسلامی۔ ناشر: المصباح ،۱۶- اُردو بازار لاہور۔ صفحات:۱۶۸۔قیمت: درج نہیں۔

اسلام کے لفظ ہی میں سلامتی، امن ،اور عدل کا پیغام موجود ہے۔ لیکن مغرب، اس کی حلیف قوتوں اور مسلم اقوام میں غلامانہ ذہنیت کے حامل نام نہاد دانش وروں نے بے وجہ، اسلام پر یلغار کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔

’مجلس تحقیقات اسلامی‘ نے رضا کارانہ طور پر علمِ حدیث ،فقہ ،تاریخ، اسلام و مغرب کی کش مکش اور استشراق کے موضوعات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ حکمت عملی طے کی ہے کہ مناظرانہ یا مبارزت پر مبنی اسلوب میں اُلجھنے کے بجاے ، مثبت طور پر دین اسلام کی منشاء ومرضی کو نئی نسل کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس مجلس میں تمام مکاتب ِفکر کے جید علما اور جدید علوم کا فہم رکھنے والے سماجی علوم کے ماہرین شامل ہیں جو مولانا سمیع الحق ،مفتی منیب الرحمن ،مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا عبدالمالک ،مولانا راغب حسین نعیمی، مجتہد سید نیاز حسین نقوی، ڈاکٹر سفیر اختروغیرہ پر مشتمل ۲۶ رکنی ٹیم ہے۔

مذکورہ مجلس نے اعلیٰ ثانوی(انٹر میڈیٹ ) درجے کے طالب علموں کے لیے یہ مجموعہ بطور درسی کتاب مرتب کیا ہے۔ جو پیش کش میں دیدہ زیب ، اور موضوعات ومباحث میں مؤثر ابلاغی لوازمے پر مشتمل ہے۔ اس کے ۱۴؍ ابواب میں: اختلاف راے، تنازع، تشدد ،حقوق العباد،  آئینِ پاکستان، فرقہ واریت کا سدباب وغیرہ موضوعات شامل ہیں۔ ہر باب میں معلومات کی فراہمی کے بعد نئے الفاظ کے ذخیرے، مشق اور سوالات کو شامل کیا گیا ہے، تا کہ طالب علم پڑھے جانے والے سبق کو نہ صرف سمجھ سکے، بلکہ خود اختیاری جانچ سے اپنی معلومات کو پرکھ بھی سکے۔  درسی سطح پر یہ ایک کامیاب کوشش ہے، جس کا استقبال کیا جانا چاہیے۔ (س م خ)


سیکولرزم ایک تعارف، ڈاکٹر شاہد فرہاد۔ناشر: کتاب محل، دربار مارکیٹ، لاہور، فون: ۸۸۳۶۹۳۲۔۰۳۲۱۔ صفحات :۲۱۴۔قیمت درج نہیں۔

ہر دور کے فتنے اپنی حشر سامانیاں لیے ،چراغِ مصطفویؐ سے اُلجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور آخر فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ عصر حاضر کے ایسے ہی ایک فتنے کا نام سیکولرزم ہے۔ اس فتنے کو نظریہ کہنا ، خود لفظ نظریہ کی توہین ہے۔ وجہ یہ کہ سیکولرزم کا عملی زندگی میں مطلب یہ ہے کہ : ’’تم آزاد ہو، جو چاہو سو کرو۔ ان مادی وسائل اختیارات کو جس طرح چاہوسو برتو، کوئی روک رکاوٹ نہیں‘‘۔

ڈاکٹر شاہد فرہاد نے اس کتاب میں ،دین اور اخلاق ،انسانی تہذیب اور تمدن کو چیلنج کرنے والے اس وحشی نظریے کو سمجھنے ،پرکھنے اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کی مؤثر اور کامیاب کوشش کی ہے۔

موضوعات کے پھیلائو اور نظائر کے انبار سے اَٹے اس موضوع کو اختصار اور صحت کے ساتھ پیش کرنا ایک مشکل کام تھا جسے بڑی خوبی سے انجام دیا گیا ہے، اور سیکولرزم کا حقیقی چہرہ اور اس کے طریقِ واردات کو وضاحت سے پیش کیا گیا ہے۔ (س م خ )


تعارف کتب

o شہید پاکستان ، تذکرہ مطیع الرحمٰن نظامی ، مرتبہ : عباس اختر اعوان، ناشر :اذان سحر پبلی کیشنز،   منصورہ ملتان روڈ لاہور۔ فون: ۴۷۰۸۰۲۴-۰۳۲۱۔صفحات: ۴۱۶۔قیمت: ۴۵۰روپے۔بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر جناب مطیع الرحمٰن نظامی کو جھوٹے مقدمے ،جعلی عدالت اور انصاف کے قتل کے ذریعے پھانسی دی گئی۔ جناب نظامی کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف اخبارات میں جو کالم شائع ہوئے ،انھیں اس مجموعے میں شامل کیاگیا ہے۔ ان کالموں میں دردِ دل کی کسک اور قومی بے حسی کا ماتم ہے۔

o کیا موت اصل زندگی کا آغاز ہے،ڈاکٹر امیر فیاض پیر خیل ، ناشر:گائوں قمبر ،تحصیل سیدوشریف،   ضلع سوات۔ فون:۹۲۷۹۲۳۹-۰۳۴۶۔صفحات: ۳۲۲۔قیمت درج نہیں۔ مصنف کا تعلق سوات کے ایک علمی اور تصوف سے وابستہ خاندان سے ہے۔ جنھوں نے اقامت ِ دین کے قافلے سے وابستگی اختیار کرتے ہوئے اپنے علم وفکر اور تعلقات کی پوری دنیا کو خدمت ِ دین سے منسوب کر دیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے کتاب کے موضوع سے متعلق اپنے حامل مطالعہ کو واقعات اور مباحث کی شکل میں پیش کیا ہے۔

oمجلہ الصراط،سوات: مدیراعلیٰ:مولانا صاحب احمد میدانی ،مدیر: محمد صدیق سواتی، ناشر: جامعہ صراط الجنتہ بلوگرام، سوات ۔فون : ۸۳۰۴۵۰۰۔۰۳۰۶ ۔[خیبر پختونخوا اور متصل علاقوں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے کہ یہاں دینی تعلیم کی طلب اور دینی تعلیم کے مواقع پاکستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ پھر یہ کہ درس وتربیت سے ایک قدم آگے بڑھ کر دینی صحافت اور تحریر وتحقیق کا ذوق بھی پایا جاتا ہے۔ جس کی ایک تازہ مثال مجلہ الصراط    کا یہ پہلا شمارہ ہے ، جو حُسنِ ترتیب کے ساتھ شُستہ اُردو میں شائع ہوا۔  اللہ کرے یہ باقاعدگی سے شائع ہو اور نوجوان اہلِ قلم کی تربیت کا گہوارہ ثابت ہو۔]

غازی امان اللہ خان ، گوجرانوالہ

مولانا مودودی ؒ کا درسِ قرآن ’جنات کی حقیقت‘ (جنوری ۲۰۱۷ء) شائع ہوا۔ اس کی تیسری سطر میں درس کے مرتب کی غلطی سے پروف میں غلطی در آئی ہے: ’سورئہ قٓ میں آتا ہے‘ حالاں کہ مولانا نے ’سورئہ احقاف میں آتا ہے‘ بولا ہے، جس کا پارہ ۲۶ کی آیات ۲۹ تا ۳۱ میں ذکر ہے۔ گویا کہ ریکارڈنگ میں سورئہ احقاف ہی ہے۔میں ذاتی طور پر جامع مسجد قلعہ گوجرسنگھ میں ریکارڈنگ کے لیے جاتا رہا ہوں، بلکہ ایک بار تاخیر ہوگئی۔  حفیظ الرحمٰن احسن صاحب کے ٹیپ ریکارڈر سے ایک درس ریکارڈ کرکے لایا تھا۔ ’مذہب کی تبدیلی کیوں؟‘ ڈاکٹر بی آر امبیدکر کا مضمون وقت کی ضرورت ہے۔ جناب عبدالغفار عزیز کا ’شام لہو رنگ سرزمین‘ بہت دردناک ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اہلِ اسلام کے مصائب و مشکلات کو آسانی میں تبدیل کردے۔


راجا محمد عاصم ، موہری شریف، کھاریاں

اشارات: ’تعلیم اور معاشرتی انقلاب کی راہ‘ (جنوری ۲۰۱۷ء) میں ڈاکٹر انیس احمد نے تعلیم کی اہمیت کو نہایت خوب صورت طریقے سے واضح کیا گیا ہے۔ تعلیمی شعور اور آگہی کے ذریعے نہ صرف ہمارے اندر معاشرتی انقلاب برپا ہوسکتا ہے بلکہ ہماری آخرت بھی سنور سکتی ہے۔

ڈاکٹر جہاں زیب ، لاڑکانہ ۔ پروفیسر احمد کمال،بہاول پور۔  طاہرہ عظیم ،سیالکوٹ

ترجمان القرآن (دسمبر ۲۰۱۶ء) میں ڈاکٹر صفدر محمود کا مضمون’سقوطِ ڈھاکہ: چند حقائق اور دوقومی نظریہ‘تاریخ اور معلومات کا خزانہ ہے۔ ہماری نئی نسل تو ایک طرف اچھے خاصے استاد، پروفیسر اور صحافی بھی ان معلومات سے بے خبر ہیں۔ محترم ڈاکٹر صاحب کی تحریریں قارئینِ ترجمان  کو تحریکِ پاکستان اور تاریخِ پاکستان سے آگاہ کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔


وحید الدین سلیم ، حیدرآباد دکن

عزیز دوست اور بھائی مسلم سجاد کے انتقال کی خبر ہمارے لیے شدید دُکھ اور محرومی کا باعث بنی۔  محترم خرم مراد اور پروفیسر مسلم سجاد دونوں بھائیوں نے ترجمان القرآن  کی ترقی اور اشاعت کے لیے بے پناہ محنت سے کام کیا، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین!


اعجاز جعفر ،سری نگر (مقبوضہ کشمیر)

’سیرتِ رسولؐ اور حُسنِ اعتدال‘ (جنوری ۲۰۱۷ء) بہت ہی دل چسپ مضمون تھا۔ قرآنِ مجید نے اعتدال کو نہ صرف پسند کیا ہے بلکہ کافروں کے باطل خدائوں، یعنی بتوں کو گالیاں دینے سے بھی منع کیا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ راہِ اعتدال سے ہٹ کر اور ضد میں آکر مسلمانوں کے سچے واحد خدا کو ہی بُرا بھلا نہ کہنا شروع کردیں۔ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًما بِغَیْرِ عِلْمٍط(الانعام ۶:۱۰۸)  ’’اور(اے مسلمانو) یہ لوگ اللہ کے سواجس کو پکارتے ہیں انھیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم و عمل اور عبادت و ریاضت کے ہرشعبے میں ہمیشہ اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے بھی نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال و افعال اور اقوال و گفتار کی اِتباع کر کے اعتدال کو اپنی زندگی کا عملی سرمایہ بناکر دائمی سرخروئی حاصل کی ہے۔ فقہاے کرام نے دلیل کی بنیاد پر باہم اختلاف کے باوجود اعتدال کی اخلاقی صفت کو کبھی نظرانداز نہیں کیا، بلکہ ہرممکن حدتک اس پر عمل کیا ہے۔ صالحین و عابدین نے بھی علمی و عملی اور معاشی و معاشرتی زندگی میں میانہ روی، اخلاقی اقدار، رواداری، برداشت اور اعتدال کے راستے پر عمل کیا ہے، جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جملہ شعبہ ہاے زندگی میں ہرشخص کے لیے اس پر عمل کرنے میں ہی عافیت اور سلامتی ہے۔

کارکنوں کے باہمی تعلقات

یہ ایک طویل اور مفید مقالہ ہے، جسے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے اپنے کارکنوں کی رہنمائی اور تربیت کی غرض سے مرتب کیا ہے۔ اس میں بہت محنت کے ساتھ مواد متعلقہ کو کتاب و سنت سے   جمع کرکے سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ دین حق کے پیروکاروں اور تحریک ِ اسلامی کے خدمت گزاروں کو ان شاء اللہ اس سے بہت مدد اور روشنی حاصل ہوگی۔ [نعیم صدیقی]

اسلامی تحریک ایک اجتماعی انقلاب کی داعی ہے، اس لیے اس کا یہ فریضہ بالکل اوّلین اہمیت کا حامل ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو عام طور پر تمام انسانوں سے، اور خاص طور پر باہم ایک دوسرے کے ساتھ صحیح صحیح بنیادوں پر مربوط کردے۔ اسلامی تحریک کے کارکنوں کے باہمی تعلقات کو قرآن اس طرح ظاہر کرتا ہے کہ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ ۔ اگرچہ بظاہر یہ صرف تین الفاظ کا ایک مختصر سا فقرہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ باہمی تعلقات کی بنیاد اصولی حیثیت ، اہمیت اور گہرائی ظاہر کرنے کے لیے یہ بالکل کافی ہے اور اس معاملے میں اسے ایک اسلامی تحریک کے چارٹر کی حیثیت دی جاسکتی ہے۔

اس سے ایک طرف تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تحریک میں افراد کا باہم دگر رشتہ ایک اصولی رشتہ ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اور فکر کی یگانگت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، اور نصب العین کی یکسانیت اس کی بنیاد بنتی ہے۔ یعنی یہ ایمان کا اشتراک ہے جو اس میں رنگ بھرتا ہے۔ دوسری طرف یہ کہ اصولی رشتہ ہونے کی بنا پر    یہ کوئی روکھا سوکھا رشتہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں جو استحکام، گہرائی اور شدید محبت سموئی ہوتی ہے، اس کو صرف دوبھائیوں کا باہمی تعلق ہی ظاہر کرسکتا ہے اور یہی تعلق ہے جو ’اخوت‘ کہلاتا ہے۔ ایک اصولی رشتے کو اسلام جو وسعت و استحکام اور جذبات بخشتا ہے، اس کی ترجمانی کے لیے ’اخوۃ‘ سے بہتر اور کیا لفظ ہوسکتا تھا۔

… جو لوگ ہر رنگ اُتار کر صرف اللہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں، تمام اطاعتیں ترک کر کے صرف اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، ہر باطل سے کٹ کر صرف حق سے جڑ جاتے ہیں اور صرف اللہ کے لیے یکسو ہوجاتے ہیں، وہ بھی اگر ایک دوسرے سے مربوط اور متعلق نہ ہوں گے اور محبت کے تعلقات قائم   نہ کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ نصب العین کے لیے یکسوئی سے زیادہ بڑی کون سی قوت ہے جو انسان کو انسان سے جوڑ سکتی ہے۔(’اسلامی تحریک میں کارکنوں کے باہمی تعلقات، [خرم مراد]، ترجمان القرآن، جلد۴۷، عدد۵، جمادی الاولیٰ ۱۳۷۶ھ/ جنوری ،فروری ۱۹۵۷ء، ص۲۳-۲۴)