مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۱۷

مسلمان فقہا کے درمیان ہر دور میں اختلافات پائے گئے ہیں، کیوںکہ وہ لوگ زمانے کی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے اجتہاد کیا کرتے تھے اور اجتہاد میں اختلاف کا وقوع پذیر ہونا ناگزیر ہے۔ بقول مفتی محمد شفیع صاحب ’’اختلاف صرف احمقوں میں نہیں ہوتا یا ان ضمیر فروش لوگوں میں کہ جو اپنے آقائوں کی ہر بات آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں‘‘۔ چنانچہ سلف صالحین میں بھی اختلاف راے کا سلسلہ جاری رہا۔ مزید برآں بعض اوقات سیاسی مخالفت کی بنا پر محاذ آرائی کی نوبت آئی ۔ ایسے تمام مراحل میںاسلاف کا عمل جاننے کے لیے ہم یہاں پر کچھ واقعات پیش کرتے ہیں، جس سے یہ اندازہ ہو گا کہ بظاہر کسی نہ کسی انداز میں مخالفت کے باوجود دینی معاملات اور شرعی احکامات کے سلسلے میں وہ لوگ نہایت احتیاط برتتے تھے اور ان کا یہ اختلاف راے کبھی بھی دین میں شقاق وفرقہ بندی کا باعث نہیں بنی۔

  •  امام بیہقی نے سنن میں راویت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ان کے آزاد کردہ غلام کریب نے آ کر یہ شکایت کی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تین کے بجاے ایک وتر پڑھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ’’معاویہ ٹھیک ہی کرتے ہوں گے کیوںکہ وہ ہم سے بڑھ کر عالم ہیں‘‘ ۔ یاد رہے عبد اللہ بن عباس ؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے، جب کہ اس وقت حضرت معاویہؓ ،حضرت علی ؓ سے برسرِ پیکار تھے۔
  • حضرت علی ؓ کے خلاف اہل شام نے جو بغاوت کی تھی اور ان کے لیے جو مشکلات پیدا کی تھیں ان سے ہر صاحبِ علم واقف ہے، مگر جب حضرت علی ؓ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ کافر ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا:’’ نہیں ! کفر سے تو وہ بھاگے ہیں‘‘۔پھر پوچھا گیا:ــ’’ کیا وہ منافق ہیں؟ ‘‘ حضرت علی ؓ نے فرمایا: ’’ نہیں ،منافق کثرت سے خدا کو یاد نہیں کرتے اور وہ لوگ خدا کو کثرت سے یاد کرتے ہیں‘‘۔ سوال کیا گیا کہ پھر وہ کیا ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ وہ ہمارے بھائی ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے ‘‘ ۔
  • مولانا مفتی محمد شفیع  ؒ نے معارف القرآن میں تفسیر در منشور کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ: ایک مرتبہ ان کو کسی نے یہ خبر دی کہ فلاں فلاں آدمیوں کے مابین سخت جھگڑا ہے اور وہ ایک دوسرے کو مشرک کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا: ’’ تمھارا کیا خیال ہے کہ میں تم سے کہوں گا کہ جائو اور ان سے لڑو ؟ ہرگز نہیں ، جائو اور ان کو نرمی سے سمجھائو۔ مان جائیں تو ٹھیک ورنہ اپنی فکر کرو۔ (تفسیر سورئہ مائدہ، معارف القرآن، ۳، ص ۲۵۱)
  • ابو حنیفہ دینوری ؒ اخبار الطوال  میں لکھتے ہیں کہ: ایک دفعہ حضرت علی ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ ان کے بعض رفقا اہل شام کو برا کہتے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو پیغام بھیج کر ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ انھوں نے جواب دیا : ’’ اے امیر المومنین ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں ؟ ‘‘ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ’’بے شک، مگر میں تمھارے لیے پسند نہیں کرتا کہ تم لعن طعن کرو‘‘۔
  • امام مالکؒ خود ایک فقہی مسلک کے بانی تھے، مگر جب ان سے امام ابو حنیفہؒ کی استعداد علمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے قریب ہی واقع ایک ستون کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ’’ابوحنیفہ پتھر کے اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو دلیل سے ثابت کر دکھائیں گے‘‘۔
  • شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنے رسالہ الانصاف فی بیان سبب الاختلاف میں علامہ سیوطیؒ کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ: ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید عباسی نے امام مالک سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ: ان کی کتاب موطا  خانہ کعبہ میں آویزاں کر دی جائے اور لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اختلاف ترک کر دیں اور اس کتاب کے مطابق عمل کریں۔ یہ سن کر حضرت امام مالک نے فرمایا : ’’ایسا نہ کیجیے ۔ فروعی مسائل میں خود صحابہ کرامؓ آپس میں اختلاف رکھتے تھے اور وہی صحابہ کرام اطراف ممالک اسلامی میں بکھر گئے ہیں اور یہ انھی کے مختلف طریقے ہیں جو مختلف علاقوں میں پھیل چکے ہیں‘‘۔
  •  امام ابو حنیفہ ؒ کو فقہ اسلامی پر بہت زیادہ عبور حاصل تھا اور اکثر ائمہ انھیں امام تسلیم کرتے تھے۔ ان کے شاگردوں اور زیر تربیت لوگوں میں کئی ایک مجتہد اور فقہ کے امام ثابت ہوئے ۔ تا ہم، فتنہ معاصر کی وجہ سے بعض لوگوں کی ان سے مخالفت تھی اور وہ ان پر سخت لعن طعن  کیا کرتے تھے۔ مگر امام صاحب کا حال یہ تھا کہ ان کے بارے میں عبد اللہ بن مبارک ؒ نے سفیان ثوری ؒ سے کہا: تعجب ہے ابو حنیفہ کے ہاں غیبت بالکل نہیں ہے‘‘۔سفیان ثوری ؒ نے جواب دیا : ’’اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ ابو حنیفہ نادان نہیں کہ اپنے نیک اعمال دوسروں کو دے ڈالیں‘‘ (حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص دوسروں کی غیبت کرتا ہے قیامت کے دن اس کی نیکیاں اس شخص کے لیے شمار کی جائیں گی جس کی غیبت اس نے کی ہو گی)۔
  • علامہ شبلی نعمانی نے امام ابو حنیفہ کے حالات بیان کرتے ہوئے دوواقعات نقل کیے ہیں:

___ امام سفیان ثوری کو امام ابو حنیفہ سے کچھ شکر رنجی تھی۔ ایک شخص نے آکر امام ابو حنیفہ سے کہا کہ سفیان ثوری آپ کو برا کہتے ہیں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ: اللہ، میری اور سفیان دونوں کی مغفرت کرے۔ سچ تو یہ ہے کہ ابراہیم نخعی کے ہوتے ہوئے بھی اگر سفیان ثوری دنیا سے اُٹھ جاتے تو مسلمانوں کو سفیان کے مرنے کاماتم کرنا پڑتا۔

___ ایک دن حلقۂ درس کے دوران ایک نو عمر لڑکے نے کوئی مسئلہ پوچھا۔ امام ابوحنیفہ  نے جواب دیا۔ اس لڑکے نے کہا : ’’امام صاحب! آپ نے غلط جواب دیا ہے‘‘۔ابوالخطاب جرجانی درس میں موجود تھے۔ انھیں لڑکے کی بات سن کر بڑا غصہ آیا اور حاضرین کو مخاطب کر کے کہا : ’’تعجب ہے کہ ایک لونڈا جو بھی منہ میں آئے امام سے کہہ دے اور آپ لوگ ٹس سے مس نہ ہوں‘‘۔امام ابوحنیفہ نے ابوالخطاب سے کہا : ’’ان لوگوں پر کچھ الزام نہیں، میں اس جگہ بیٹھا اس لیے ہوں کہ لوگ آزادانہ میری غلطیوں کی نشان دہی کریں اور میں تحمل سے سنوں ‘‘ ۔

  • امام احمد بن حنبلؒ نکسیر پھوٹنے سے وضو کے ٹوٹ جانے کے قائل تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا : ’’ کیا آپ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھیں گے جس نے جسم سے خون نکلنے کے بعد وضو نہ کیا ہو ؟‘‘امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ’’ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں امام مالک اور سعید بن المسیب کے پیچھے نماز نہ پڑھوں ‘‘(یاد رہے کہ یہ دونوں حضرات اس بات کے قائل تھے کہ نکسیر پھوٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ) ۔
  •  عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ اپنے ایک مرید کو نصیحت فرماتے ہوئے کہا : ’’خدائی اور نبوت کا دعویٰ مت کرنا ‘‘۔اس نے حیرت سے پوچھا : ’’حضرت! کیا اس بات کا امکان ہے کہ بندۂ ناچیز اس قسم کا دعویٰ کرے ؟ ‘‘ انھوں نے فرمایا :’’ اللہ وہ ہے جو وہ کہہ دے وہی اٹل ہے اور اس کی خلاف ورزی ممکن نہیں۔ پس جو انسان اپنی راے کو یہ حیثیت دے کہ اس سے اختلاف کرنا ممکن نہ رہے تو اس سے بڑھ کر خدائی کا دعویٰ کیا ہو گا ؟ اسی طرح نبی وہ ہے جو بات وہ کہے وہی سچ ہے اور اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں۔ پس جو شخص اپنے قول کے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ یہی سچ ہے تو اس نے نبوت کا دعویٰ کیا‘‘۔
  • اختلافِ راے کے باوجود رواداری ، خیر خواہی اور احترام باہمی کی ایک اعلیٰ اور عمدہ مثال امام شافی نے قائم کی ہے۔ آپ نے ایک مرتبہ امام ابو حنیفہ کی قبر کے قریب نماز فجر پڑھتے ہوئے دعاے قنوت چھوڑ دی۔ جب ان سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : ’’ بعض اوقات  ہم اہل عراق کے مسلک پر بھی عمل کر لیتے ہیں‘‘۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام صاحب نے فرمایا : ’’صاحب قبر کے لحاظ نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہے ‘‘۔

ان واقعات پر غور کرنے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہمارے سلف صالحین میں اختلاف راے اور سیاسی مخالفت کے باوجود کس قدر رواداری پائی جاتی تھی اور وہ باہمی احترام اور عزت نفس کو کس قدر ملحوظ رکھتے تھے۔ انھوں نے اختلاف راے کو کبھی اپنی اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا اور کبھی یہ نہ کہا کہ صرف میری ہی بات حق ہے اور دوسروں کی باطل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ معمولی معمولی فقہی اُمور پر لڑتے ہوئے امت میں افتراق پیدا کرنا نہایت خطرناک اور دین دشمنی سمجھتے تھے اور اس سے سختی سے پرہیز کرتے تھے۔ تاہم، اس سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ موجودہ دور میں اس قسم کے لوگ بالکل نہیں پائے جاتے اور یہ خاصیت صرف اسلاف کی تھی جو اب ناپید ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ تعصب اور تنگ نظری کے اس ظلمت کدہ میں اب بھی ایسے ستارے موجود ہیں جو ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو وسعت نظر اور حقیقی دین داری سے بہرہ مند فرمائے ۔ آمین    !

وہ مذاہب جو عرفِ عام میں صلح و آشتی اور امن و سلامتی، نیز انسانی ہمدرردی اور محبت کے ’علَم بردار‘ قرار دیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک عیسائیت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ باتیں بڑی حد تک صحیح بھی معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن عیسائیت کے سلسلے میں ہمیں یہ بات قطعاًنہیں بھولنی چاہیے کہ یہ ایک نا تمام مذہب ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام  کی لائی ہوئی شریعت کی تجدید ہے۔ گویا اصل شریعت شریعتِ موسوی ہے، جو بنی اسرائیل کے لیے تھی اور حضرت موسٰی کی بعثت خالصتاً بنی اسرائیل ہی کی طرف کی گئی تھی۔ مولا نا مودودیؒ لکھتے ہیں:

اس حقیقت کو خود مسیحی علمابھی تسلیم کرنے لگے ہیں۔ [کچھ عرصہ پہلے] ایک مشہور مسیحی عالم ڈین انجے نے، جن کو کنیسہ سینٹ پال کا سب سے بڑا منصب حاصل تھا، گرٹن کالج کیمبرج میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ: مسیحؑ نے کبھی موسوی تعلیم سے انحراف نہیں کیا، نہ کوئی نئی تعلیم دی ، نہ موسوی مذہب کے مقابل کوئی نیا مذہب قائم کیا۔ روحانی معاملات میں وہ آزادی تو ضرور چاہتے تھے، لیکن اپنے ملک اور وقت کی باتوں کو انھوں نے قبول کیا۔ اس لحاظ سے موسوی شریعت سے الگ ہونا تو ضروری تھا، مگر مسیح نے عیسائیوں کے لیے خود کوئی شریعت تجویز نہیں کی۔(سیّد ابو الاعلیٰ مودودی،  الجہاد فی الاسلام، ص ۴۳۵، ۴۳۶، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ۱۹۷۸ء)

اس سلسلے میں خود حضرت عیسیٰؑ کا یہ قول انجیل متی میں مرقوم ہے :

یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ [متی ، ۵:۱۷]

دراصل بعثت مسیح ؑکا مقصدان کمیوں، خامیوں اور نقائص کو دُور کرنا تھا، جو ایک طویل مدت سے افراد قوم میں در آئی تھیں اور جنھوں نے انھیں اندر ہی اندر کھو کھلا بنا کر رکھ دیا تھا۔ آپؑ کا مقصد ان میں اخلاقی فضیلت کی روح پھونکنا، اور انھیں راست بازی، دیانت داری، حلم و بر درباری، عفوودرگزر، زہد و تقویٰ، قناعت و سیر چشمی اور فروتنی و ایثار کی تعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ حد سے زیادہ طمّاع، دنیا پرست اور بندۂ غرض بن کر رہ گئے تھے۔ اس لیے حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنا پورا وقت ان کی انھی اخلاقی خرابیوں کو مٹانے میں صرف کیا۔ پس یہ بات سچ ہے کہ  حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات میں اخلاقی فضائل اور نفسانی خواہشات کو دبانے پر زیادہ زور ہے۔

اس مسلّمہ حقیقت کو جان لینے کے بعد یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی نبوت زیادہ مدت کے لیے نہ تھی۔ کل ڈھائی یا تین سال کی مدت انھیں میسر آئی اور اس مختصر سی مدت میں ان کے لیے جو کچھ ممکن تھا، انھوں نے کیا۔ ان کے بعض اقوال سے اس بات کی بھی شہادت ملتی ہے کہ وہ جنگ و قتال کی اہمیت سے غافل نہ تھے اور حق پر باطل کی فتح کو وہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کر سکتے تھے۔ اس مضمون میں حضرت مسیحؑ کی تعلیمات کے اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اگرچہ عیسائیت میں امن و عدل سے متعلق کافی مواد ہے، حالاں کہ اس قسم کی تعلیمات سے مثالی معاشرے کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

انجیل کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسیحیت جنگ کی مخالف تو ضرور ہے، لیکن بہت ساری آیتوں میں دشمنوں سے جنگ و قتال کی تلقین بھی ملتی ہے۔ چنانچہ مسیحیت میں جنگ و جہاد کے تصور کو سرے سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ہاں، اتنا ضرور ہے کہ عیسائیت کے نزدیک سب سے بڑا حکم، محبت کا اصول ہے، جیسا کہ انجیل مقدس میں ہے :

دوسرا اس کے مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔[متی ،۲۲: ۳۹]

پیروانِ مسیح کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ ظلم و عدوان اور سرکشی و فساد کے خلاف آواز بلند  نہ کریں، بلکہ اس کے سامنے سرا طاعت جھکا دیں اور خود پر ہونے والے مظالم کو برداشت کریں۔ اس کی واضح مثال ’پہاڑی کا وعظ‘ ہے، جس میں حضرت مسیحؑ نے اپنے حواریوں کو اخلاق و کردار کی درستی، اور ظلم و ستم سے دور رہنے بلکہ انتقام اور بدلہ کے جذبات سے بھی دور رہنے کی تلقین کی ہے:

تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت، لیکن میں کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرو، بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا گال اس کی طرف پھیر دے، اور کوئی تجھ پر نالش کرکے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لینے دے۔ [متی ، ۵: ۴۱]

ان آیتوں کی روشنی میں یہ بات واضح انداز میں کہی جا رہی ہے کہ تم ظلم و جور کے خلاف کوئی بھی آواز بلند نہ کرو بلکہ ان تمام چیزوں کو سہتے رہو، اسی میںتمھاری بھلائی مقدر ہے۔اسی طرح دوسری جگہ دشمنوں سے حسن سلوک اور نیک برتائو کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھو اور اپنے دشمن سے عداوت، لیکن اپنے ستانے والوں کے لیے دعا کرو۔[متی ،۵: ۴۴]

انجیل مقدس کی ایک دوسری آیت میں ہے :

میں تم سننے والوں سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمن سے محبت رکھو، جو تم سے عداوت رکھے ان کا بھلا کرو، جو تم پر لعنت کریں ان کے لیے برکت چاہو، جو تمھاری تحقیر کریں ان کے لیے دعا مانگو … چاہتے ہو کہ لوگ تمھارے ساتھ اچھا برتائو کریں تو تم بھی ان کے ساتھ ویسا ہی کرو۔ اگر تم محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمھارا کیا احسان ہے، کیونکہ گناہ گار بھی اپنے محبت رکھنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔ [لوقا ، ۶: ۲۷-۳۲]

یہ تعلیم مسیحؑ کا اصل الاصول ہے اور ان الفاظ ہدایت کا منشا بھی واضح ہے کہ ایک سچا عیسائی یا مسیحی اگر کامل اور خدا کا قریبی بننا چاہتا ہے تو وہ کسی بھی حال میں ظلم و تعدی اور جبرو تشدد کا مقابلہ نہ کرے، بلکہ فتنہ پروروں اور فسادیوں کے سامنے اپنے حقوق سے دست بردار ہو جائے۔

حضرت عیسیٰؑ کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ قوم کو اخلاقی پستی اور تنزل و انحطاط سے نکالا جائے اور ان کے اندر اچھے اخلاق کی روح پھونکی جائے، کیونکہ اس عمل کے بغیر قومیں کبھی کائنات میں اپنا وجود بر قرار نہیں رکھ سکتیں۔ اسی لیے حضرت مسیحؑ نے اپنی تعلیمات میں قومی سیرت کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ کی اور اپنے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اس بات کا ہمیشہ خیال رکھا کہ کہیں بھی حکومت و اقتدار سے تصادم کی صورت پیش نہ آئے۔ اگر وہ ابتداء ہی میں جنگ و جدال کی صورت حال کو پیدا کر دیتے تو وہ اپنے اس اصلاحی مشن میں نا کام نظر آتے۔ اسی لیے انھوں نے حکومت کے ساتھ تصادم سے ہمیشہ خود کو دور رکھا۔ ایک موقعے پر حضرت مسیحؑ  سے قیصر کو ٹیکس دینے کے سلسلے میں یہودیوں نے مسئلہ دریافت کیا تو حضرت مسیحؑ  نے کہا :’’جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو دو‘‘۔ [مرقس ، ۱۰: ۲۵]

ابتدا میں ان سب احکام کا مدعا یہ تھا کہ حکومت و طاقت سے نبرد آزمائی نہ ہو اور قوم میں ثابت قدم رہنے کی قوت پیدا ہو جائے۔ بعد میں جب ان میں دھیرے دھیرے ہمت و حوصلہ آنے لگا تو انھوں نے اپنی قوم کو استقامت، تحمل اور بے خوفی کی تعلیم دینا شروع کر دی۔ ان کے اندر سے خوف وہر اس کو نکالنے کی بھرپور کوشش کی۔ چنانچہ انھوں نے کہا :

لیکن خبر دار رہو، وہ تم کو عدالتوں کے حوالے کریں گے اور تم عبادت خانوں میں پیٹے جائو گے اور بادشاہوں کے سامنے میری خاطر حاضر کیے جائو گے تاکہ ان کے لیے گواہ ہو … مگر جو آخر تک برداشت کرے گا نجات پائے گا۔[مرقس ، ۱۳: ۹]

انھوں نے اپنی ذات سے محبت اور بے خوفی کو گلے لگانے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا :

جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے، وہ اسے کھوئے گا۔ اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا وہی اسے بچائے گا۔ [لوقا ، ۹: ۲۴]

انھوں نے لوگوں کی طاقت و قوت پر بھروسا کرنے کے بجاے خدا کی ذات پر بھروسے کی تعلیم دی کہ تم لوگوں کے الطاف و عنایات کے خواہاں نہ رہو بلکہ اپنے خدا سے مانگو۔ انھوں نے کہا:

جب تم برے ہو کر اپنی اولاد کو اچھی چیزیں دیتے ہو تو تمھارا باپ اپنے مانگنے والوں کو کیوں نہ دے گا۔ [لوقا ، ۱۱: ۱۳]

حضرت عیسیٰؑ لوگوں کے دلوں سے قتل کیے جانے کا خوف بالکل نکال دینا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ لوگ جسموں کو تو قتل کر سکتے ہیں، روحوں کو اسیر نہیں بنا سکتے کیوںکہ  یہ ان کے اختیار سے باہر ہے۔ فرماتے ہیں :

مگر میں تم دوستوں سے کہتا ہوں ان سے نہ ڈرو جو بدن کو قتل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اور کچھ نہیں کر سکتے۔ اُس سے ڈرو جس کو اختیار ہے کہ قتل کرنے کے بعد جہنم میں ڈالے۔ [لوقا ،۱۲: ۴-۵]

حضرت عیسٰیؑ اور جنگ و جہاد

حضرت مسیحؑ  یہ سب نصیحت آمیز باتیں اپنی قوم کو اس وجہ سے بتا رہے تھے کہ نفس، اَنا، ریا اور اقتدار کے بتوں سے نبرد آزما ہو کر روحانیت کی اعلیٰ منزل حاصل ہو جائے اور خدائی بادشاہت کا حصول ممکن ہو سکے، نیز ان کے اندر حریت و آزادی کے حصول کا جذبہ پیدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں حضرت عیسٰیؑ نے اپنی تعلیمات کو صرف ہمدردی، ترحم اور اعلیٰ اخلاقیات پر مرکوز رکھا۔ لیکن جب ان کے اندر یہ جذبات نشو و نما پا گئے تو تدریجی طور پر آخری زمانے میں جہاد و قتال اور جنگ وغیرہ کی بھی تعلیمات دیں۔ اس میں صداقت ہے کہ ابتدا میں تو بہت کم لوگ مذہب عیسائیت کے حلقۂ بگوش ہو سکے، کیوںکہ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے حواریوں کو کسی بھی طرح کے رد عمل سے منع کردیا تھا، لیکن بعد میں آپ ؑ نے جنگ و قتال اور دشمنوں سے بدلہ لینے کی بھی تعلیم دی، تو قابلِ ذکر حد تک حلقۂ احباب بڑھا۔ چند اقتباسات بغرض ملاحظہ پیش کیے جاتے ہیں :

حضرت عیسیٰؑ اپنے دشموں کو قتل کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

میرے دشمنوں کو میرے سامنے لاکر قتل کر دو، جنھوں نے نہیں چاہا کہ میں ان پر بادشاہی کروں۔[لوقا، ۱۹: ۲۷]

حضرت مسیحؑ  نے اپنے ماننے والوں کو تلوار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :

اس نے ان سے کہا کہ مگر اب جس کے پاس بٹوا ہو وہ اسے لے اور اسی طرح جھولی بھی اور جس کے پاس نہ ہو وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خریدے … انھوں نے کہا:     اے خداوند دیکھ لو تلواریں ہیں، اس نے کہا بہت ہیں۔[لوقا، ۲۲: ۳۷-۳۸]

جنگ پر استقامت و پایداری کی تلقین کرتے ہوئے حواریین کو یہ تعلیم دیتے ہیں :

بلکہ خود تیری جان بھی چھد جائے تاکہ بہت لوگوں کے دلوں کے خیال کھل جائیں۔ [لوقا، ۲: ۳۶]

دوسری جگہ حضرت مسیحؑ  جنگوں کے سلسلے میں اپنے پیروکاروں سے فرماتے ہیں :

 جب تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں سنو تو گھبرا نہ جانا۔ ان کا واقع ہونا ضرور ہے لیکن اس وقت تک ختم نہ ہوگا۔ کیوںکہ قوم پر قوم ،سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی، جگہ جگہ بھونچال آئے گا اور کال پڑیں گے۔[متی،۲۴: ۶-۸]

انجیل لوقا میں ہے کہ حضرت مسیحؑ کی بعثت کا مقصد لوگوں میں جدائی پیدا کرانا ہے۔ مقصد بعثت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیحؑ  ارشاد فرماتے ہیں :

کیا تم گمان کرتے ہو کہ میں زمین میں صلح کرانے آیا ہوں؟ میں تم سے کہتا ہوں کہ نہیں، بلکہ جدائی کرانے آیاہوں۔[لوقا، ۱۲: ۵۱]

انجیل مرقس میں یہ تعلیم ہے :

کیوںکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا، اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا بڑا کیا جائے گا۔ [لوقا،۱۴: ۱۹]

لوقا کی انجیل میں یہ آیت مقدس جنگ کی ترجمانی کرتی ہے :

کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے وہ اسے کھوئے گا، اور جو کوئی میری اور انجیل کی خاطر اپنی جان کھوئے گا وہ اسے بچائے گا۔[مرقس، ۸: ۳۵]

متی کی انجیل کی یہ ہدایت بھی دیکھی جائے :

اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تم سے عداوت رکھیں گے مگر جو اخیر تک برداشت کرے گا نجات پائے گا۔[متی، ۱۰: ۲۳]

جنگ و قتال آپسی رشتے داروں میں ہونے کی پیشین گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

اور بھائی بھائی کو اور بیٹا باپ کو قتل کے لیے حوالے کرےگا اور بیٹے ماں باپ کے خلاف کھڑے ہو کر انھیں مروا ڈالیں گے۔ [مرقس، ۱۳: ۱۲]

عیسیٰ مسیح ؑ اپنے متبعین کو دشمنان حق پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے فرماتے ہیں کہ تم پوری جدوجہد کے ساتھ دشمنوں سے مقابلہ کرو اور اس مقابلے میں تم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ انجیل مقدس میں حضرت عیسیٰؑ کا یہ فرمان موجود ہے :

دیکھو میں نے اختیار دیا ہے کہ سانپوں اور بچھوئوں اور دشمن کی ساری قدرت پر غالب آئو، اور تم کو ہر گز کسی چیز سے ضرر نہ پہنچے گا۔[لوقا، ۱۰: ۲۲]

انجیل لوقا میں ہی یہ آیت بھی ملاحظہ فرمائی جائے :

میں زمین میں آگ بھڑکانے آیا ہوں اور آگ لگ چکی ہوتی تو میں کیا خوش ہوتا۔[لوقا، ۱۲: ۴۹]

اور ایک جگہ اور حضرت عیسیٰ مسیح ؑکا ارشاد لوقا کی انجیل میں ملاحظہ ہو :

اگر کوئی میرے پاس آئے اور اپنے باپ اور ماں اور بیوی اور بچوں اور بھائیوں اور بہنوں بلکہ جان سے بھی دشمنی نہ کرے، تو میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔[لوقا، ۱۴: ۲۶]

حضرت موسٰی کی تعلیم صدیوں بنی اسرائیل کے کانوں سے ٹکراتی رہی لیکن ان کی تعلیم  ان کی زندگیوں پر قطعاً اثر انداز نہ ہو سکی۔ وہ حد سے زیادہ دنیا طلبی کی طرف راغب تھے۔ خدا ترسی سے وہ بہت دور ہو چکے تھے۔ انھی برائیوں کو دور کرنے کے لیے حضرت مسیحؑ کو اللہ رب العزت نے مبعوث فرمایا اور حضرت عیسیٰؑ نے موسویؑ شریعت میں انھی چیزوں کی تجدید فرمائی۔ پس دین مسیحؑ  کوئی علیحدہ دین نہ تھا، بلکہ یہ شریعت موسوی کی تکمیل تھا۔ خود انجیل میں حضرت مسیحؑ  کے یہ الفاظ مذکور ہیں :

یہ نہ سمجھو کہ میں توراۃ یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ کیوں کہ میں تم سب سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں توراۃ کا ایک نقطہ یا ایک شوشہ بھی پورا ہوئے بغیر نہ ٹلے گا۔[متی، ۵: ۱۷-۱۸]

ایک دوسری جگہ اپنے متبعین کو حکم دیتے ہیں :

[فقیہ اور فریسی موسٰی کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمھیں بتائیں سب عمل میں لائو اور مانتے رہو، لیکن ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کرتے نہیں ہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جنھیں اٹھانا بھی مشکل ہے دوسروں کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں، مگر انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔[متی، ۳۳: ۱-۴]

یوحنا نے اپنی انجیل میں شریعت موسوی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

شریعت موسٰی کی معرفت دی گئی اور فضیلت و صداقت یسوع مسیحؑ  کی معرفت پہنچی۔ [یوحنا، ۱: ۱۷]

ان تمام اقوال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شریعت موسوی کے احکام و ہدایت کو حضرت مسیحؑ نے نہ صرف باقی رکھا، بلکہ ان پر صداقت و فضیلت کی مہر بھی لگا دی۔

’عہد نامہ قدیم‘ میں بھی بہت ساری آیتیں ہیں جو واضح انداز میں یہ بتاتی ہیں کہ جنگ و جدال کا ہونا طے ہے۔ اس جنگ کے ذریعے سے لوگوں کو ہلاک و برباد کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔ ان آیتوں میں یہ بھی تعلیم ملتی ہے کہ جس ملک و قوم پر تم حملہ آور ہو اس کو بالکل ہی نیست و نابود کر دو، سرسبز و شاداب کھیتوں اور باغوں کو جلا کر خاک میں تبدیل کر دینے کی تلقین ملتی ہے۔ یہ آیتیں جنگ کا اتنا بھیانک تصور دیتی ہیں کہ آسمانی کتابوں میں کہیں اور نہیں ملتا۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والی یہ آیات ’عہد نامہ قدیم‘ کی کتاب استثناء میں آئی ہیں :

جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو پہنچے تو اسے پہلے صلح کا پیغام دینا اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گذار بن کر تیری خدمت کریں۔ اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تُو اس کا محاصرہ کرنا، اور جب خدا وند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کردے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا، لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور شہر کے سب مال لوٹ کر اپنے لیے رکھ لینا، اور تُو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خدا وند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو، کھانا اور سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے دور ہیں اور ان قوموں کے شہروں میں جن کو خدا وند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا۔[کتاب استشناء،۲۰: ۱۶-۱۰]

کسی بھی چیز کا پاس و لحاظ نہ رکھا جائے چاہے وہ انسان ہوں یا حیوان، لوگوں کے مسکن ہوں یا عبادت گاہیں، سب کو تباہ و برباد کر دینے کی تعلیم ’عہد نامہ قدیم‘ میں ملتی ہے جیسا کہ   کتاب خروج کی اس آیت سے واضح ہوتا ہے :

اور میں ان کو ہلاک کر ڈالوں گا، تو ان کے معبودوں کو سجدہ نہ کرنا اور نہ ان کی عبادت کرنا، نہ ان کے لیے کام کرنا بلکہ تو ان کو بالکل اُلٹ دینا، ان کے ستونوں کو ٹکڑے کرڈالنا۔[کتاب خروج، ۲۳: ۲-۲۳]

قوموں کو تباہ و برباد کرنے میں اور ان کو تہس نہس کرنے میں کمی و کوتاہی پر تنقید کی جاتی ہے اور کسی بھی قوم سے کوئی ایسا عہد و پیمان کرنے کو شدت سے ممنوع قرار دیا جاتا ہے، جو اس کی تباہی و بربادی میں مانع و مزاحم بنے، جیسا کہ کتاب خروج کی دوسری آیت میں موجود ہے :

سو، خبر دار رہنا کہ جس ملک کو تو جاتا ہے، اس کے باشندوں سے کوئی عہد نہ باندھنا، ایسانہ ہو کہ وہ تیرا پھندا ٹھیرے، بلکہ تو ان کی قربان گاہوں کو ڈھا دینا اور ان کے ستونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا۔ [کتاب خروج، ۳۴: ۳۱-۱۲]

عہد نامہ قدیم و جدید کے ان اقتباسات پر غور کیا جائے تو دشمنانِ اسلام کے ان اعتراضات پر سخت حیرت ہوتی ہے، جو وہ اسلام کے مقدس تصورِ جہاد پر یہ اعتراض اور کذب بیانی کرتے چلے آرہے ہیں کہ اسلام کی اشاعت و تبلیغ دنیا میں بزورِ تلوار ہوئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی لاچار، مجبور اور مقہور اگر اپنی مدافعت میں جان پر کھیل کر ظالموں کے خلاف جنگ و جدال کی راہ اختیار کرے، اور اپنے حقوق کی بازیافت کے لیے جد وجہد کرے، اور مذہبی آزادی کے لیے جابروں اور ظالموں سے پنجہ آزمائی کرے اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے قربانی پیش کرے، تو کیا یہ قتل و غارت گری کو بڑھاوا دینا ہے؟ کیا یہ اسلام یا مسلمانوں سے منسوب دہشت گردی اور وحشت ہے؟ نہیں، بلکہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے یہ ایک نیک عمل ہے۔ یہ تو ظلم و تشدد، قتل و غارت گری، فتنہ و فساد اور بدامنی و ناانصافی کے خلاف ایک منظّم کوشش ہے۔

’عہد نامہ قدیم‘ کی تعلیمات سے قطع نظر ’عہد نامہ جدید‘ میں جنگ اور محرکات جنگ کا خواہ ناقص تصور ہو یا شر پسندوں اور ظالموں سے بلا قید و شرط اغماض اور چشم پوشی ہو، یہ سب تعلیمات اپنے متبعین کوفی الحقیقت سیکنت و طمانیت کی نعمت سے محروم رکھتی ہیں اور کم از کم یہ بات تو حتمی اور قطعی ہے کہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں یہ تعلیمات زبردست مانع و مزاحم ہیں، جس میں  عدل و انصاف اور امن و آشتی کا ماحول ہو، مظلوموں کی دادرسی کا روح پرور منظر ہو اور شرپسندوں اور فتنہ پروروں کے خلاف محاذ آرائی ہو۔

مشکوک آمدنی پر قطع تعلقی؟

سوال :مرکز قومی بچت میں رقم لگانا کیسا ہے ؟ طریق کار یہ ہے کہ لوگ اپنے پیسے جمع کراتے ہیں اورایک لاکھ پر ۱۰۰۰؍۱۱۰۰ روپے ماہانہ کے حساب سے منافع وصول کرتے ہیں اور رقم بھی محفوظ رہتی ہے ۔

میرے کئی جاننے والے ہیں جنھوں نے اپنی رقم قومی بچت کے مرکز میں رکھی ہے ۔ اکثر آسودہ حال ہیں ۔ذاتی مکان ہے ، ۵۰ ہزار روپے ماہانہ پنشن بھی ملتی ہے ۔ مکان کا ایک حصہ کرایے پر بھی دیا ہوا ہے ، خرچ براے نام ہے ۔ میں نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی ایسے شخص کے گھر سے جس کی رقم مرکز قومی بچت میں لگی ہو اورمجھے پتا چل جائے تومیں اس کے گھر سے پانی پینا بھی اپنے لیے ناجائز سمجھتا ہوں،البتہ گھروالوں کو اس بارے میں منع نہیں کیا ہے اورکہا ہے کہ جومہمان آئے اس کی مناسب خاطر تواضع کی جائے ، البتہ وہ میرے گھر میں کوئی چیز نہ لائے ۔

کیا میرا یہ فیصلہ درست ہے ؟ دین اسلام کی روشنی میں ایسا کرنا کیسا ہے؟ کئی علما جوازکا بھی فتویٰ دیتے ہیں اورکچھ کہتے ہیں کہ جب حکومت دیتی ہے تو ہم کیوںنہ لیں؟ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ ایسا کرتے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں؟ میری اُلجھن دور فرمادیں؟

جواب:کسی جمع شدہ رقم پر متعین مقدار میں منافع حاصل کرنا ربا (سود ) ہے، جسے اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن کریم میں سودی لین دین کرنے والوں کے خلاف اللہ اوراس کے رسولؐ کی طرف سے جنگ کا اعلان کیا گیا ہے ۔(البقرہ۲: ۲۷۸-۲۷۹)، اورحدیث میں ہے کہ سودی کاروبار کرنے والوں اوراس میں معاونت کرنے والوں ، دونوں پراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے (مسلم:۱۵۹۷، ۱۵۹۸)۔ اس لیے اصولی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ سودی کاروبار اور اس میں ملوث افراد کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

البتہ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سود خوری کا ارتکاب کررہا ہوتو کیا اس سے سماجی تعلقات  رکھے جاسکتے ہیں ؟ اس کی تقریبات میں شریک ہوا جاسکتا ہے ؟ اس کی دعوت قبول کی جاسکتی ہے ؟ اور اگروہ کوئی تحفہ دے تواسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟

اس کا فیصلہ کرتے وقت دین کی مجموعی تعلیمات اور شرعی مصلحت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔ ایک طرف اہل خاندان اورسماج میں رہنےوالے دیگر افراد سے تعلقات رکھنے کاحکم دیا گیا ہے اوران سے قطع تعلقی سے روکا گیا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے سے ہمیں یہی تعلیم ملتی ہے ۔ آپؐ نے نہ صرف اپنے خاندان والوں، اوردیگر اہل ایمان سے خوش گوار تعلقات رکھے، بلکہ سماج کے دیگر غیر مسلم افراد اور غیر مسلم حکم رانوں سے بھی روابط رکھے، اور ان کے ساتھ تعلقات میں خوش گواری کے لیے انھیں ہدیے بھیجے اوران کے ہدیے قبول کیے ۔ دوسری طرف حرام مال اورحرام مشروبات سے احتراز کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس لیے فقہا نے یہ راے ظاہر کی ہے کہ اگر کسی شخص کی کل آمدنی یا اس کا زیادہ تر حصہ سود پر مبنی ہوتو اس کی دعوت یا اس سے کوئی تحفہ قبول کرنا جائزنہیں ، لیکن اگرایسا نہ ہو اوراس کی زیادہ تر آمدنی حلال ذرائع سے ہوتو اس کی دعوت یا اس کا تحفہ قبول کرنے میں کوئی مضایقہ نہیں ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سیکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی (بھارت) نے فتاویٰ عالم گیری کے حوالے سے لکھا ہے:’’اگر معلوم ہوکہ دعوت سودی پیسے سے کی جارہی ہے تب تو دعوت میں شریک ہونا قطعاً جائز نہیں ہے اوراگر دعوت کا حلال پیسےسے ہونا معلوم ہوتو دعوت میں شرکت جائزہے،اور اگر متعین طورپر اس کا علم نہ ہو تو پھر اس بات کا اعتبار ہوگا کہ اس کی آمدنی کا غالب ذریعہ کیا ہے ؟ اگر غالب حصہ حرام ہے تو دعوت میں شرکت درست نہیں اورغالب حصہ حلال ہے تو دعوت میںشرکت جائز ہے‘‘ ۔(کتاب الفتاویٰ ، زمزم پبلشرز ، کراچی ،ج۶، ص ۲۰۱،بہ حوالہ الفتاویٰ الہندیۃ: ج۵، ص ۳۴۳)

علما یہ بھی کہتے ہیں کہ جولوگ سودی کاروبار اور لین دین میں ملوث ہوں ان کی دعوتوں میں شرکت کرنے سے سماج کے سربر آوردہ لوگوں اورخاص طور پر علما کو احتراز کرنا چاہیے ، تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہواور دو سروں تک درست پیغام جائے ۔

بہر حال اس معاملے میں دینی مصلحت اور شرعی تقاضوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے اوراس کے مطابق جوبات مناسب لگے اس پرعمل کرنا چاہیے۔(مولانا ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی)


مطلقہ ماں کا حقِ حضانت (پرورش)

سوال : اخبار میں ایک استفسار کے جواب میں درج ہے: ’’شرعاً والد کو یہ حق حاصل ہے، بلکہ اُس کے لیے ضروری ہے کہ اگر طلاق کی نوبت آئے تو اپنی ساری اولاد کو    وہ اپنے پاس رکھے۔ والدہ کو اولاد رکھنے کا کوئی حق نہیں، مگر حدیث پاک میں آیا ہے کہ:

۱- ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے، میرا بطن اس کی جاے قرار تھی۔ میرے سینے سے اس نے دودھ پیا اور میری آغوش نے اِسے پالا ہے۔ اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جب تک تو نکاح نہ کرے، تو اِس بچے کی زیادہ حق دار ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ ، بلوغ الصغیر وحضانتہ)

۲- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ چاہے تو باپ کے پاس رہے اور چاہے تو ماں کے پاس۔(ایضاً)

۳- ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ’’میرا خاوند چاہتا ہے کہ میرے بیٹے کو لے جائے ، حالاں کہ وہ [بچہ]مجھے پانی لا دیتا ہے اور میرے کام آتا ہے۔ آپؐ نے اس لڑکے سے فرمایا: ’’یہ تمھارا باپ ہے اور یہ تمھاری ماں ہے، جس کا ہاتھ چاہو پکڑلو‘‘۔ اُس نے ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اُسے لے کرچلی گئی۔ (ایضاً)

۴- حضرت ابوہریرہؓکے پاس ایک فارسی عورت آئی، جس کے ساتھ اُس کا بیٹا تھا، اور جس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی۔ میاں بیوی نے حضرت ابوہریرہؓ کے سامنے اپنے مقدمے کو پیش کیا۔ عورت نے اپنی زبان میں کہا: میرا خاوند، میرے بیٹے کو  لے جانا چاہتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: ’’بچے کے بارے میں قرعہ ڈال لو‘‘۔ خاوند نے آکر کہا: ’’میرے بیٹے کے بارے میں میرے استحقاق میں کون جھگڑا کرسکتا ہے‘‘؟ حضرت ابوہریرہؓ نے جواب دیا: میں یہ بات صرف اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور ایک عورت نے آکر کہا: ’’میرا خاوند میرے بیٹے کو لینا چاہتا ہے، حالاں کہ بچہ میرے کام کرتا ہے اور مجھے پانی لا دیتا ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’دونوں میں قرعہ ڈال لو‘‘۔ باپ نے کہا: ’’میرے بیٹے کے بارے میں کون جھگڑا کرسکتا ہے‘‘؟ آپؐ نے بچے سے فرمایا: ’’یہ تمھارا باپ ہے اور یہ تمھاری ماں ہے، جس کا ہاتھ چاہو پکڑلو‘‘۔ اُس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔ (ایضاً)

۵- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے والدہ اور اُس کے بیٹے کے درمیان جدائی ڈالی، اللہ تعالیٰ اُس کے اور اُس کے پیاروں کے درمیان قیامت کے روز تفریق کرے گا‘‘۔ (مشکوٰۃ حق الملوک والفضات)


براہ کرم ان احادیث کی روشنی میں متذکرہ بالا بیان کی تصحیح فرما دیں؟

جواب :آپ کی تنبیہہ کا شکریہ۔ سوال و جواب جس شکل میں شائع ہوا ہے، اُس پر آپ کے ذہن میں اشکال کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ سائل نے اپنے حالات بہت تفصیل سے تحریری اور پھر زبانی بیان کیے تھے، اور اُن کا مطالبہ یہ تھا کہ دلائل اور تفصیلات کے بغیر اُنھیں ایک مختصر اور قطعی جواب دیا جائے۔ اس سوال و جواب کی اشاعت قطعاً پیشِ نظر نہ تھی، لیکن کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر اُنھوں نے سوال کا ایک بے ربط سا خلاصہ اور میرا مجمل جواب اخبار میں شائع کرا دیا۔ بہرحال، اب جب شائع ہوچکا ہے اور آپ نے اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے تو میں دوبارہ اپنے مدعا کو واضح طور پر بیان کیے دیتا ہوں۔

آپ نے جو پانچ احادیث نقل فرمائی ہیں ،اُن میں سے پانچویں حدیث تو تفریقِ زوجین  اور حضانت ِ صغیر سے متعلق نہیں ہے۔ وہاں والدہ اور وَلد سے مراد لونڈی اور اُس کی اولاد ہے اور تفریق سے مراد بچوں کو ماں سے جدا کر کے باپ کے سپرد کرنا نہیں ہے، بلکہ والدہ اور بچوں کو الگ الگ افراد کے سپرد کرنا ہے، یا اُن کے ہاتھ بیچ دینا ہے۔ مگر متعدد احادیث سے بھی اس فعل کی ممانعت ثابت ہے۔ بقیہ پہلی چار احادیث سے درج ذیل احکام مستنبط ہوتے ہیں:

۱- زوجین کی تفریق اور اولادِ  صِغَار [چھوٹی عمروں]کی موجودگی کی صورت میں اولاد  اگر سنِ تمیز کو نہ پہنچی ہو اور مادرانہ شفقت کی محتاج ہو، تو والدہ اُسے اپنی حضانت (پرورش) میں رکھنے کی زیادہ حق دار ہے، بشرطیکہ وہ نکاحِ ثانی نہ کرے۔

 ۲- اگر اولاد سنِ تمیز کو پہنچ جائے تو ایسی صورت میں یا تو قرعہ اندازی کی جائے گی، یا پھر اگر والدین میں سے کوئی ایک یا، دونوں اس کے لیے رضامند نہ ہوں، تو بچے کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ والدین میں سے جس کے ساتھ رہنا پسند کرے، اُسی کے ساتھ ہوجائے۔

یہ اُصول جو سنت ِ نبویؐ سے ثابت ہیں، اِن سے اختلاف کی کسی مسلمان کو گنجایش نہیں۔ البتہ، ائمۂ سلف نے ان اور اسی قبیل کی دوسری احادیث کے سیاق و محل کا لحاظ رکھتے ہوئے، نیز والدین اور اولاد کے باہم دگر شرعی حقوق اور ذمہ داریوں کو من حیث المجموع نگاہ میں رکھتے ہوئے، والدہ کے حقِ حضانت کے لیے چند مزید شرائط و حدود بیان کیے ہیں، مثلاً: علماے مذاہب اربعہ کا قریب قریب اس پر اتفاق ہے کہ حسب ذیل عُیوب اگر والدہ میں ہوں درآں حالیکہ والد ان سے بری ہو، تو والدہ کا حقِ حضانت ساقط ہوجائے گا:

l ارتداد l فتورِ عقل l ترکِ صوم و صلوٰۃ یا علانیہ فسق و فجور l تربیت ِ اولاد سے قطعی غفلت l اولاد کو لے کر کسی ایسے ماحول میں رہنا، جہاں فسادِ اخلاق کا اندیشہ ہو، یا کسی ایسے دُورافتادہ شہر میں جاکر مقیم ہونا، جہاں والد کے لیے اولاد کی تعلیم و تربیت کی دیکھ بھال دشوار ہو۔ lوالد کے عدمِ استطاعت کے باوجود اُس سے اولاد کے نفقے کا مطالبہ کرنا۔

اسی طرح فقہا کی راے یہ بھی ہے کہ والدہ کے پاس رہنے کی مدتِ حضانت سات یا زیادہ سے زیادہ نو برس ہے۔ اس کے بعد والد کو حق حاصل ہے کہ وہ اولاد کو اپنے چارج میں لے لے۔

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان شرائط میں سے کوئی شرط بھی مذکورہ احادیث یا عام اصولِ شریعت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اولاد کے نان نفقے، اُن کی مادی و اخلاقی تربیت، اُن کی تعلیم، ہُنرآموزی اور اُن کے شادی بیاہ کی اصل ذمہ داری والد پر ہے، نہ کہ والدہ پر۔ مرد ہی بحیثیت قوامِ خاندان قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا [التحریم ۶۶:۶] کا اوّلین مخاطب ہے۔ ان حالات میں یہ کس طرح قرینِ قیاس ہوسکتا ہے کہ والدہ کو غیرمعین مدت کے لیے علی الاطلاق حقِ حضانت دے دیا جائے، کہ وہ والد کی خواہش کے علی الرغم جس سانچے میں چاہے اولاد کو  ڈھال دے اور پھر اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے اولاد کو والد کے حوالے کردے۔

اسی بناپر یہ کہنا بھی صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ مدتِ حضانت کو سنِ بلوغ تک لازماً طول دینا چاہیے۔ جب اولاد بالغ اور صاحب ِ اختیار ہوگئی، تو اُس وقت اُس کے والد کی ولایت میں آنے کے کوئی معنی ہی باقی نہیں رہتے۔ اُس وقت وہ ایک طرح سے اپنے نفع و ضرّر کی خود مکلف اور   ذمہ دار بن جاتی ہے۔ اس لیے حکمت ِ شریعت عین اس امر کی متقضی ہے کہ ایک طرف تو مدتِ حضانت کی ایک مناسب حد متعین کی جائے، اور دوسری طرف والدہ کے حقِ حضانت پر مناسب قیود عائد کی جائیں۔ والدہ پر عدمِ نکاح اور عدمِ ارتداد کی قید خود احادیث میں آگئی ہے۔ اسی سے مزید پابندی اور تحدید کا جواز نکل سکتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر دوسری شرائط کا ذکر نہیں فرمایا، تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جو مقدمات آپؐ کے سامنے پیش ہوئے اُن میں والدہ کی طرف سے اس طرح کے خدشات کے بارے میں امن و اطمینان تھا ورنہ خاموش نہ رہتے، بلکہ والدہ کی حضانت کی صورت میں متوقع مضرات کو ضرور بیان کرتے اور اپنے آپ کو زیادہ حق دار ثابت کرنے کے لیے صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا نہ کرتے کہ باپ سے بیٹے کے معاملے میں کون جھگڑسکتا ہے، بلکہ ساتھ یہ بھی کہتے کہ والدہ اس کی تربیت خراب کرے گی۔ گویا کہ اِن جھگڑوں میں، والدین میں سے کسی ایک کے صالح اور دوسرے کے غیرصالح ہونے کا سرے سے سوال تھا ہی نہیں، صالحیت کے لحاظ سے والدین مساوی تھے۔

اصل تقابل صرف ماں کی مامتا یا اس کے احتیاج اور پدری محبت کے درمیان تھا۔ ایسی صورت میں ماں کو ترجیح دی گئی ہے، یقینا اب بھی دی جائے گی۔ اس سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ اگر ماں تربیت ِ اولاد کی عظیم ذمہ داریاں اُٹھانے کے لیے قطعی نااہل ہو، تب بھی اُس کے حقِ حضانت کو مقدم رکھ کر اولاد اُس کے سپرد کر دی جائے گی۔(جسٹس ملک غلام علی، رسائل و مسائل، ششم، ص ۴۹۶-۵۰۱)

راجا محمد عاصم ،موہری شریف ،کھاریاں

’اسلامی تہذیب کے چودہ اصول‘ (مارچ ۲۰۱۷ء) معنویت اور سادہ بیانی کا بہترین نمونہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سیّدابوالاعلیٰ مودودی کو اَجرِعظیم عطا فرمائے۔


عنایت الرحمٰن ، منصورہ، لاہور

حبیب الرحمٰن چترالی کی تحریر ’پاکستانی قومی بیانیے کی تشکیل‘ (مارچ ۲۰۱۷ء) ایک عمدہ ہے۔ مولانا مودودی کے بیان کردہ ’اسلامی تہذیب کے چودہ اصول‘ بہترین بحث ہے، مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کوئی کام نہیں ہورہا۔ لہٰذا، یہ لگتا ہے کہ اتنی قیمتی تحریر بھی بس شائع ہوکر رہ جائے گی۔


حاجی انواراللہ   ، مدین ، سوات

’اُمت کے فیصلے ، اُمت کے مشورے سے‘ (فروری، مارچ ۲۰۱۷ء) بہترین مضمون ہے۔ خدا کرے کہ قارئین ترجمان اس کے مطالعے سے محروم نہ رہیں۔ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ص (الشوریٰ ۴۲:۳۸) کی یہ تشریح کہ: ’’قرآن نے اسے الگ حق سے زیادہ ایک فرض قرار دیا ہے‘‘ دل کو بہت بھلی لگتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی بساط کے مطابق گھروں سے لے کر اداروں تک شورائیت کا نظام نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!


ڈاکٹر خواجہ ظفر الٰہی  ، ریاض، سعودی عرب

فروری ۲۰۱۷ء کے شمارے کا ہر مضمون اپنی اپنی جگہ اہم اور معلومات لیے ہوئے ہے۔ صائمہ اسما نے ’تحریکی خواتین :کام کی راہیں‘ میں بہت ہی کم الفاظ میں بڑے مؤثر طریقے سے نہ صرف حلقۂ خواتین کی تاریخ بیان کی ہے، بلکہ ماضی میں کیے گئے کام کی تفصیل، موجودہ دور میں اس کام میں پیش آنے والی مشکلات اور کمزوریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ صورت حال صرف خواتین کے کام کی نہیں بلکہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تحریک سے متعلق کئی حلقے بھی انھی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔

ان کی یہ بات بہت اہم ہے کہ گذشتہ ۲۰برسوں میں معاشرے کا فکری اور سماجی توازن بڑی تیزی سے تبدیل ہوا ہے، جس کا ادراک کرنا بھی مشکل ہے۔ صاف دکھائی دےر ہا ہے کہ نئے مؤثر تعلیم یافتہ طبقات میں دینی حلقوں کا اثرورسوخ محدود تر ہوتا جارہا ہے۔سماجی سطحوں پر دعوت کے دائرے میں زیادہ وسعت نہ آنے کے باعث، حال اس انجن کا ہے جس کی ساری توانائی اپنی ہی مشینری کو رواں رکھنے میں صرف ہورہی ہوتی ہے۔

پروفیسر خورشید احمد صاحب نے۲۰ سال قبل ہمارے حلقے کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مستقبل میں کام کے لیے پروفیشنلزم اور جدید ترین مہارتوں کے حصول کی نشان دہی کی تھی۔اگر ہمیں ا س صورت حال سے نکلنا ہے تو ان کی نصیحت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اپنے دعوتی ،تنظیمی اور تربیتی پروگراموں کو پروفیشنل انداز سے ترتیب دینا اور اپنے کام کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنا ہوگا۔ ہرسطح پر قیادت کی جدید خطوط پر تربیت ضروری ہے۔ کیوںکہ جب تک قیادت ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں ہوگی ارکان کی تربیت ممکن نہیں ہوگی۔


ڈاکٹر سیّد ظاہر شاہ ، پشاور

’’لَا تَحْزَنْ،غم نہ کر‘‘(فروری ۲۰۱۷ء) میں عرب دنیا میں مسلمانوں بالخصوص اخوان المسلمون کے تعذیب کے حالات ایک دُکھ اور درد دینے والی داستان ہے۔ صحیح نشان دہی کی گئی ہے کہ دشمن تو ہمارا دشمن ہے اس سے ہم کیوں گلہ کریں، مسلمانوں کے حکمران کیوں ان کے آلۂ کار بنتے ہیں اور پھر عوام کیوں اس پر خاموش ہیں۔ جملہ مسلم ممالک کا رویّہ بھی اُمت مسلمہ کے لیے قابلِ تعریف نہیں ہے۔ رینڈ کارپوریشن کی سفارشات کہ ’’سیاسی اسلام کا خاتمہ دُنیا کی ترجیح اوّل ہونا چاہیے‘‘ کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے بعض سادہ لوح دین دار طبقے بھی اس حوالے سے غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔


اعجاز جعفر ،سری نگر (مقبوضہ کشمیر)

’سیرتِ رسولؐ اور حُسنِ اعتدال‘ (جنوری ۲۰۱۷ء) بہت ہی دل چسپ مضمون ہے۔ قرآنِ مجید نے اعتدال کو نہ صرف پسند کیا ہے بلکہ کافروں کے باطل خدائوں، یعنی بتوں کو گالیاں دینے سے بھی منع کیا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ راہِ اعتدال سے ہٹ کر اور ضد میں آکر مسلمانوں کے سچے واحد خدا کو ہی بُرا بھلا نہ کہنا شروع کردیں: ’’اور(اے مسلمانو) یہ لوگ اللہ کے سواجن کو پکارتے ہیں انھیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں‘‘۔(الانعام ۶:۱۰۸)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم و عمل اور عبادت و ریاضت کے ہرشعبے میں ہمیشہ اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے بھی نبی اقدس ؐ کے اعمال و افعال اور اقوال و گفتار کی اِتباع کر کے اعتدال کو اپنی زندگی کا عملی سرمایہ بناکر دائمی سرخروئی حاصل کی ہے۔ فقہاے کرام نے دلیل کی بنیاد پر باہم اختلاف کے باوجود اعتدال کی اخلاقی صفت کو کبھی نظرانداز نہیں کیا، بلکہ ہرممکن حدتک اس پر عمل کیا ہے۔ صالحین و عابدین نے بھی علمی و عملی اور معاشی و معاشرتی زندگی میں میانہ روی، اخلاقی اقدار، رواداری، برداشت اور اعتدال کے راستے پر عمل کیا ہے، جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جملہ شعبہ ہاے زندگی میں ہرشخص کے لیے اس پر عمل کرنے میں ہی عافیت اور سلامتی ہے۔

دعوت کی منفرد آواز

ابتداے کار سے ۱۹۳۷ء تک کا زمانہ وہ تھا، جس میں ایک شخص کے محدود ذاتی ذرائع کے سوا کوئی ذریعہ کام کرنے کے لیے موجود نہ تھا، اور مواقع بھی اس سے زیادہ کچھ نہ تھے کہ سخت پراگندا خیالی کے ماحول میں ایک نہایت قلیل تعداد ایسے لوگوں کی فراہم ہوسکتی تھی، جو اسلام کے متعلق وہ باتیں پڑھنے اور سننے کے لیے تیار ہوں، جو وہ شخص پیش کرنا چاہتا تھا۔ اس حالت میں کرنے کا کام یہی تھا، اور اس کے سوا کچھ کیا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ حکمت کے ساتھ مسلسل تبلیغ سے کچھ لوگوں کو اس تخیل کا اس حد تک معتقد بنادیا جائے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کے لیے عملاً کچھ کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔

اس دور کے کام کو اگر آپ سمجھنا چاہیں تو خصوصیت کے ساتھ الجہاد فی الاسلام کا تیسرا باب (مصلحانہ جنگ)، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی اور تنقیحات کو بغور پڑھیں۔

ان میں سے پہلی کتاب میں وضاحت کے ساتھ یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ مسلمان دراصل نام ہی اُس بین الاقوامی گروہ کا ہے، جسے دنیا میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے لیے وجود میں لایا گیا ہے۔

دوسری کتاب میں اسلامی نظامِ زندگی کا جامع تصور، اُس کی فکری بنیادوں اور منطقی تقاضوں کے ساتھ پیش کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر تہذیب ہے، جو حیاتِ دنیا کے تمام گوشوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی اور تمام دنیا پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تیسری کتاب میں اوّل سے آخر تک جو بات ذہن نشین کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی کافرانہ و فاسقانہ نظامِ زندگی کے ہمہ گیر فکری اور عملی تسلط کے تحت محض عقائد اور عبادات کے بل پر اسلامی نظامِ زندگی پنپ نہیں سکتا، بلکہ خود عقائد اور عبادات کا بھی اپنی جگہ قائم رہ جانا ممکن نہیں ہے۔ اس ہمہ گیر تسلط کو مٹا کر جب تک اسلام کا ہمہ گیر تسلط قائم کرنے کے لیے کام نہ کیا جائے گا، کسی مذہبی حرکت و عمل سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکے گا___ یہ وہ بنیادی کام تھا جس سے بگاڑ کے اصل اسباب مشخص ہوکر نگاہوں کے سامنے آئے اور ذہنوں میں ایک ایسی تحریک کے لیے آمادگی پیدا ہوئی، جس کا مقصد نظامِ زندگی میں اساسی تغیر پیدا کرنا ہو۔ (’تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل‘،ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۴۸، عدد۱،  رجب ۱۳۷۶ھ / اپریل ۱۹۵۷ء، ص۱۱-۱۲)