مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۱۵

کینیا مشرقی افریقہ کا ایک اہم ملک ہے۔ یہ بھی اکثر افریقی ممالک کی طرح کثیرالقومیتی اور کثیراللسانی ملک ہے۔ آبادی کے تناسب کے بارے میں سرکاری اور مغربی اداروں کے اعداد وشمار خاصے متنازعہ ہیں۔ کُل آبادی۲۰۰۹ء کی مردم شماری میں ۳ کروڑ، ۸۶لاکھ ۱۰ہزار ۹۷ ریکارڈ کی گئی۔ اس وقت آبادی کا تخمینہ اضافۂ آبادی کے حساب سے ساڑھے چار کروڑ سے زائد لگایا جاتا ہے۔ عیسائی آبادی (تمام عیسائی فرقوں کو شامل کرکے) ۴۰ سے ۴۵فی صد ہے۔ مسلمان ۲۵ سے ۳۰فی صد کے درمیان ہیں، جب کہ باقی آبادی قدیم افریقی مذاہب، روایت پرست، بت پرست یا لامذہب قبائل پر مشتمل ہے۔ مشنری ادارے اور مغربی این جی اوز مسلمانوں کے علاوہ تمام آبادیوں کو عیسائی شمار کرلیتے ہیں۔ کینیا ۱۹۶۳ء میں برطانوی استعمار سے آزاد ہوا تھا۔ یہ آٹھ صوبوں پر مشتمل ہے۔ ساحلی پٹی اور سمندری جزائر میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اسی طرح شمال مشرقی صوبہ کم وبیش ۹۰فی صد مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ مشرقی صوبے میں بھی مسلمان عیسائیوں سے نسبتاً زیادہ ہیں۔ صومالیہ کے ساتھ ملحقہ صوبے میں مسلمان صومالی الاصل ہیں۔ اس صوبے کا دارالحکومت گریسا ہے۔

۲؍ اپریل۲۰۱۵ء کو گریسا میں سرکاری یونی ورسٹی کے گریسا کالج ہاسٹل پر صومالیہ میں برسرِپیکار عسکری تنظیم الشباب نے طلبہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ۱۴۷؍افراد مارے گئے۔ ان میں اکثریت طلبہ کی تھی اور باقی سٹاف اور عملے کے لوگ تھے۔ یہ سب نہایت سفّاکی اور بے دردی سے ہلاک کردیے گئے۔ ایک بہت تشویشناک بات یہ تھی کہ حملہ آوروں نے ہاسٹل پر قبضہ کرکے پہلے اعلان کیا کہ مسلمان طلبہ الگ ہوجائیں۔ پھر انھیں حکم دیا گیا کہ وہ بھاگ جائیں۔ اس کے بعد باقی ماندہ طلبہ اور عملے پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ نیروبی سے نکلنے والے مسلمانوں کے  ہفت روزہ ترجمان فرائیڈے بلٹن، شمارہ۶۲۳،۱۰ اپریل کے مطابق کینیا کی مسلمان آبادی اور مسلم تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے ایک گہری سازش قرار دیا۔ نیروبی کی مرکزی جامع مسجد کے امام، شیخ جمعہ امیر اور مسلمان راہنما شیخ سُبقی نے مقتولین کے خاندانوں سے اظہار تعزیت بھی کیا اور متاثرہ خاندانوں میں امداد بھی تقسیم کی۔ انھوں نے اس موقعے پر کہا کہ کینیا میں تمام مذاہب کے لوگ آپس میں امن وامان سے رہتے ہیں۔ ہمیں اس سازش کو سمجھنا اور اس کا تدارک کرنا چاہیے۔

الشباب نے اس تازہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سے قبل ۱۹۹۸ء میں امریکی سفارت خانے پر بھی حملہ ہوا تھا جس میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔ اس حملے میں کون ملوث تھے،  یہ ثابت نہ ہوسکا، مگر الزام مقامی مسلمانوں پر ہی لگا تھاجس کے بعد بہت سے نوجوانوں کو سکیورٹی اداروں نے گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ گذشتہ سال کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر اچانک حملہ کرکے دن دہاڑے ۷۰گاہکوں اور دکان داروں کو قتل کردیا گیا تھا، جن میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔ اس حملے میں تمام حملہ آور بھی سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔ ۱۰،۱۲ برسوں سے صومالیہ میں حکومت کے ساتھ الشباب کی جھڑپیں اور جنگیں ہوتی رہتی ہیں۔ الشباب کے لوگ اپنا تعلق القاعدہ سے جوڑتے ہیں۔ کینیا اور صومالیہ کی حکومتیں آپس میں ایک دوسرے سے دوستانہ تعلقات رکھتی ہیں۔ ان واقعات سے بحیثیت مجموعی کینیا میں سرگرمِ عمل اسلامی تنظیموں اور اداروں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر بہت سے بے گناہ مسلمان علما اور اسکالر اور دیگر شخصیات کے خلاف کارروائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں فورتھ شیڈول کی طرح کینیا میں بھی اسی طرح کے قواعد وضوابط استعمال ہوتے ہیں۔

گریسا کے اس واقعے کے فوراً بعد کینیا کے صدر مسڑاوہورُو کنیاٹا (Uhuru Kenyatta) نے قوم کے نام اپنے خطاب میں مدارس اور مساجد کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا۔ مسلمان راہنماؤں نے فوری طور پر صدر کے اس بیان کی تردید کی۔ نیروبی کے مشہور وکیل اور جامع مسجد کمیٹی کے ممبر مسٹر ابراہیم لتھومے نے ٹیلی وژن کے ایک پروگرام میں کہا کہ مساجد ومدارس ہرگز تشدد کی تعلیم نہیں دیتے۔ دراصل یہ حکومت اور اس کے اداروں کی نااہلی ہے کہ وہ حالات کا صحیح ادراک نہیں کرپاتے اور نہ بروقت خطرات کا تدارک کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ’سپریم کونسل آف کینیا مسلمز‘ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ حسن اولے نادو نے بھی کہا کہ حکمرانوں کو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اپنی سرکاری اور عوامی پالیسیاں ترتیب دینی چاہییں۔ ثبوت کے بغیر محض الزامات سے حالات درست ہونے کے بجاے مزید بگڑ سکتے ہیں۔

گریسا اور اس صوبے کے دیگر علاقے مسلمان آبادی پر مشتمل ہیں۔ ینگ مسلم ایسوسی ایشن نے آزادی کے بعد ۱۹۶۰ء کے عشرے میں گریسا میں ایک بہت بڑا اسلامی مرکز قائم کیا تھا۔ الحمدللہ یہ اب بھی موجود ہے۔ اس مرکز میں یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نظام تعلیم میں عصری اور جدید دونوں نصاب پڑھائے جاتے ہیں۔  چند سال قبل جب اس شہر میں سرکاری یونی ورسٹی قائم ہوئی تو اس سے اس اسلامی مرکز کو بھی خاصی تقویت پہنچی۔ اس سے قبل یہاں سے میٹرک اور انٹر کے بعد طلبہ کو نیروبی، ممباسااور کسومو یا دیگر بڑے شہروں کی طرف جانا پڑتا تھا، جو یہاں سے خاصے دُور واقع ہیں۔ گذشتہ سالوں کے دوران اسلامی مرکز گریسا اور اسلامک فاؤنڈیشن نیروبی کی طرف سے قائم کردہ دیگر شہروں میں تعلیمی اداروں سے نکلنے والے طلبہ سرکاری اور پرائیویٹ یونی ورسٹیوں سے ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اہم سرکاری اور سفارتی عہدوں پر فائز ہیں۔ یونی ورسٹیوں میں مسلم یوتھ آرگنائزیشن بھی منظم انداز میں کام کررہی ہے۔ اس طرح کے پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں اس کا کام بھی بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

گریسا کے واقعے نے ملک بھر میں عمومی طور پر اور تعلیمی اداروں میں بالخصوص خوف وہراس کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اس گمبھیر صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نیروبی یونی ورسٹی کے ایک ہوسٹل میں ۱۱اور ۱۲؍اپریل۲۰۱۵ء کی درمیانی شب، صبح صادق کے وقت دھماکے کی آواز سے خوف و ہراس پھیل گیا کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے، حالانکہ یہ دھماکا بجلی کے نقص کے باعث ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں بھگدڑ سے ایک طالب علم جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

تیسری دنیا اس وقت آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ اس کے پیچھے بڑی طاقتوں اور ان کی ایجنسیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے، مگر ترقی پذیر مسلم وغیرمسلم ممالک کے حکمرانوں اور عوام کو خود اپنے حالات درست کرنے کی فکر کرنا ہوگی۔ محض دوسروں کو ذمہ دار قرار دینے سے حالات نہیں سدھر سکتے۔

سوال : روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاریؓ جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو فرمایا کہ میں نے ایک بات اب تک تم سے چھپا رکھی تھی۔ اب آخر وقت میں پیش کر رہا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ اگر تم سب لوگ ملائکہ کی طرح بے گناہ ہوجائو اور تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اور مخلوق پیدا کردے گا جو گناہ کر کے توبہ کریں گے۔(مسلم)

اس حدیث کی وضاحت کے سلسلے میں ایک کھٹک سی ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ گناہ کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ معاف کردے ورنہ وہ کوئی دوسری مخلوق پیدا کردے گا؟ نیز اس کی صحت کے بارے میں بھی واضح کردیجیے۔

جواب:آپ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ مسلم، کتاب التوبہ باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبہ میں دو سندوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں: لَوْلَا اَنَّکُمْ تُذْنِبُوْنَ لَخَلَقَ اللّٰہُ خَلْقًا یُذْنِبُوْنَ لِیَغْفِرَلَھُمْ۔ دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں:  لَوْ اَنَّکُمْ لَمْ تَکُنْ لَکُمْ ذُنُوْبٌ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ لَجَائَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ لَہُمْ ذُنُوْبٌ یَغْفِرُھَا لَھُمْ۔ حضرت ابوایوب انصاریؓ کی اس روایت کے بعد حضرت ابوہریرہؓ کی ایک روایت بھی مسلم میں نقل ہوئی ہے   جس کے الفاظ یہ ہیں: وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ لَوْلَمْ تُذْنِبُوْا لَذَھَبَ اللّٰہُ بِکُمْ وَلَجَائَ بِقَوْمٍ یُذْنِبُوْنَ فَیَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰہَ فَیَغْفِرُلَہُمْ۔تینوں احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم گناہ نہ کرو یا تمھارے گناہ نہ ہوں تو اللہ دوسری ایسی قوم لے آئے گا یا ایسی مخلوق پیدا کردے گا جن کے گناہ ہوں گے اور وہ بخشش مانگیں گے تو اللہ ان کے گناہ معاف کردے گا۔

یہ حدیث سنداً تو بالکل صحیح حدیث ہے۔ اس لیے کہ مسلم  ان کتابوں میں شامل ہے جو صحیح احادیث ہی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے آپ پہلے تین باتوں کو اپنے ذہن میں رکھیں تاکہ اُلجھن اور کھٹک کا ازالہ ہوجائے۔

۱- پہلی بات یہ ہے کہ کسی حدیث و آیت کی تشریح و تفسیر کے لیے اسی موضوع سے متعلق دوسری آیات و احادیث کو سامنے رکھنا چاہیے۔

۲- دوسری بات یہ ہے کہ بعض آیات و احادیث کا اسلوبِ بیان قانونی ہوتا ہے جس میں محدود و مخصوص الفاظ میں شریعت کے قانون اور ضابطے کی وضاحت مقصود ہوتی ہے، اور بعض   آیات و احادیث کا اسلوب خطیبانہ اور واعظانہ ہوتا ہے جس میں اصل حکم بیان کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ترغیب و ترہیب اصل مقصد ہوتا ہے۔ اس نوع کے واعظانہ، خطیبانہ اور ترغیبی یا ترہیبی کلام میں الفاظ کا لغوی مفہوم مراد نہیں ہوتا بلکہ جذبات کو اُبھارنا اور عمل پر آمادہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس قسم کے الفاظ میں مبالغہ اور فرضی قسم کی مثالیں بھی بیان ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معلمِ قانون بھی تھے اور واعظ بھی۔ اس لیے آپؐ کے کلام میں دونوں پہلو جلوہ گر ہوتے ہیں۔ سخن فہمی کا ذوقِ سلیم رکھنے والا شخص موقع و محل کی مناسبت سے اور دوسری احادیث کی روشنی میں رسولؐ اللہ کا منشا معلوم کرسکتا ہے۔

۳- تیسری بات یہ ہے کہ خلافت ِ ارضی کا منصب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نہیں دیا بلکہ انسان کو دیا ہے۔ فرشتوں کے اندر گناہ کی سرے سے قوت ہی نہیں ہے۔ اگر ان کو زمین کی خلافت دی جاتی تو اللہ کی قہاریت، جباریت، عفو، تواب اور غفار کی صفات کا ظہور نہیں ہوسکتا تھا۔ انسان کے اندر شر کی قوت بھی رکھی گئی ہے۔ اس کا نفس امارہ بالسوء بھی ہے اور لوامہ یامطمئنہ بھی ہے۔ انسان کبھی عالمِ بالا اور ملکیت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور کبھی عالم سفلی اور بہیمیت کی جانب متوجہ ہوجاتا ہے۔ انسان کامل، یعنی نبی ؑ سے چونکہ اصلاح اور دعوت و ارشاد کا کام لیا جاتا ہے، اس لیے بشر ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں اور بُرائیوں سے محفوظ و معصوم رکھتا ہے۔ لیکن باقی انسان اپنے اعمال کے اعتبار سے رحمت و مغفرت کا مظہر بھی ہوتے ہیں اور قہروغضب کا مظہر بھی ہوتے ہیں۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔

پہلے نمبر پر بیان کردہ قاعدے کی روشنی میں جب ہم اس حدیث پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اس حدیث کا مقصد گناہوں پر آمادہ کرنا نہیں ہے بلکہ توبہ و استغفار کی ترغیب دلانا ہی اصل مقصد ہے اور مایوسی کے احساس کا ازالہ کرنا پیش نظر ہے۔ اس لیے کہ متعدد آیات و احادیث میں اللہ و رسولؐ کی نافرمانی سے اور گناہوں کے ارتکاب سے روکا گیا ہے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانی و بشری کمزوریوں کی بناپر گناہوں کا صدور تو ہوتا رہے گا، اور اگر ان کو توبہ و استغفار کی فضیلت و اہمیت نہ بتائی جائے تو وہ مایوسی کا شکار ہوکر مزید گناہ کریں گے۔ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ط (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائو، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ الزمر ۳۹:۵۳) کا بھی یہی مفہوم ہے کہ اگرچہ اللہ کی رحمت و مغفرت کے بھروسے پر گناہوں کا ارتکاب کرنا حماقت و بغاوت ہے لیکن گناہ سرزد ہوجانے کے بعد اللہ کی اس رحمت و مغفرت سے مایوس ہو جانا بھی حماقت و جہالت ہی کی ایک قسم ہے۔

یہی بات زیربحث حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ مغفرت و رحمت اللہ کی صفت ہے۔ اس کا ظہور ہوکر رہے گا۔ اگر بالفرض تمھارے گناہ سرے سے موجود ہی نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ کوئی دوسری مخلوق پیدا کرے گا جو گناہ کرنے کے بعد مایوس نہیں ہوگی بلکہ توبہ و استغفار کرے گی۔ لہٰذا تم سے بھی اگر کوئی گناہ صادر ہوجائے تو مایوس ہونے کے بجاے توبہ واستغفار کے حکم پر عمل کرو۔ نہ صرف یہ کہ توبہ واستغفار سے تمھارے گناہ معاف ہوجائیں گے بلکہ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِھِمْ حَسَنٰتٍ ط (ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ الفرقان ۲۵:۷۰) سے معلوم ہوتا ہے کہ مزید حسنات و درجات سے بھی نوازے جائو گے۔

دوسرے قاعدے کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ زیربحث حدیث میں   اسلوبِ کلام خطیبانہ اور واعظانہ ہے۔ اور مقصد یہ نہیں ہے کہ تم گناہ کرو تاکہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے بلکہ مقصد یہ ہے کہ چونکہ تم سے گناہ صادر ہوتے ہیں اس لیے توبہ و استغفار کرو تاکہ اللہ تعالیٰ معاف کردے۔ گناہ کے صدور کی خبر دے کر توبہ کا حکم دیا گیا ہے۔ گناہ کا حکم دے کر توبہ کا حکم نہیں دیا گیا۔

تیسرے قاعدے کی رُو سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی خلافت انسانوں کے لیے ہے جو رحمت کا مظہر بھی ہیں اور غضب کا مظہر بھی۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ میں دوسری مخلوق پیدا کرتا ہوں بلکہ یوں کہا گیا ہے کہ اگر تم گناہ نہ کرتے تو میں دوسری مخلوق پیدا کردیتا لیکن چونکہ تم گناہ کرتے ہو تو صفت ِ غفاریت کے ظہور کے لیے دوسری مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔

حاصل بحث یہ ہے کہ انسان گناہ کرتے رہیں گے لیکن اللہ بھی مغفرت فرماتے رہیں گے بشرطیکہ انسان توبہ و استغفار کرتا رہے۔ اس لیے مایوس نہیں ہونا چاہیے(مولانا گوہر رحمٰن)۔ (تفہیم المسائل، حصہ اوّل،ص ۳۹-۴۳)


خواتین اور جینز کا استعمال

س : میری خالہ کافی عرصے کے بعد امریکا سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ آئی ہیں۔ ان کی بیٹیاں جینز پہنتی ہیں، لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہیں تو سارے کپڑے چادر سے چھپاکر نکلتی ہیں۔ میں نے بہت دفعہ اپنی کزن کو جینز پہننے سے منع کیا لیکن وہ کہتی ہیں کہ جینز پہننا کوئی گناہ نہیں ہے، نہ یہ مردوں کی مشابہت ہے اور نہ کافروں کی۔ وہ یہ جواز پیش کرتی ہیں کہ آج پوری دنیا میں عورتیں پینٹ پہن رہی ہیں۔ امریکا میں بھی مسلم عورتیں پہنتی ہیں۔ ایران، سعودی عرب، دبئی، ترکی اور خود پاکستان میں بھی عورتیں جینز پہنتی ہیں۔ اب یہ لباس مسلمانوں میں بھی رواج پاچکا ہے۔ کافروں کی مشابہت  یہ جب ہوتا جب اسے صرف کافر ہی پہنتے۔ اگر پینٹ چست نہ ہو، ڈھیلی ڈھالی ہو، قمیص پینٹ کے اندر نہ ہو بلکہ باہر ہو، ڈھیلی ڈھالی ہو اور کم از کم رانوں تک ہو اور ستر نمایاں نہ ہو تو پینٹ جائز ہے۔ دوسرے، یہ بات کہ یہ مردوں کی نقل ہے، تو یہ بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں جس طرح عورتوں اور مردوں کی شلواریں ایک جیسی ہوتی ہیں، اسی طرح سب جگہ پر پینٹ بھی مردوں اور عورتوں کی ایک جیسی ہیں۔ اگر کوئی لڑکی پینٹ کوٹ پہنے یا مردانہ قمیص شلوار پہنے، یا کوئی خاص مردوں کا لباس پہنے تو وہ مردوں کی نقل ہوگا، اور اسی طرح کوئی عورت خاص کافر عورتوں کا لباس پہنے تو وہ کافروں سے مشابہت ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں۔

ج:لباس کے بارے میں اصولی ہدایات سورئہ اعراف، آیت ۲۶، ۲۷، ۲۸،۳۱، ۳۲ میں دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک اصولی ہدایت یہ ہے کہ لباس تقویٰ کا ہو۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ لباس التقوٰی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:’’انسان کے لیے لباس کا صرف ذریعۂ سترپوشی اور وسیلۂ زینت و حفاظت ہونا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ فی الحقیقت اس معاملے میں جس بھلائی تک انسان کو پہنچنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ اس کا لباس تقویٰ کا لباس ہو۔ یعنی پوری طرح ساتر بھی ہو، زینت میں بھی حد سے بڑھا ہوا یا آدمی کی حیثیت سے گرا ہوا نہ ہو، فخروغرور اور تکبر و ریا کی شان لیے ہوئے بھی نہ ہو اور پھر ان ذہنی امراض کی نمایندگی بھی نہ کرتا ہو جن کی بناپر مرد زنانہ پن اختیار کرتے ہیں، عورتیں مردانہ پن کی نمایش کرنے لگتی ہیں اور ایک قوم دوسری قوم کے مشابہ بننے کی کوشش کرکے خود اپنی ذلت کا اشتہار بن جاتی ہے‘‘۔(تفہیم القرآن، ج۲،ص ۲۰)

ایک قوم کا دوسری قوم کے مشابہ بننے سے یہی مراد نہیں ہے کہ ان کے شعار کو اپنائے بلکہ ان کے طور طریقوں، وضع قطع، تراش خراش کو اپنانا بھی ان کے مشابہ بننا ہے۔ پھر دوسری قوموں کے ساتھ مشابہت کے علاوہ مسلمانوں میں ایسے لوگ اور ایسے طبقات جو دوسروں کی تہذیب و روایات کو اپنائے ہوئے ہوں، ان کے رہن سہن، ان کے لباس کو پہنتے ہوں، ان کے ساتھ بھی مشابہت  نہ ہو، بلکہ صلحا اور متقین جو اسلامی تہذیب و اقتدار کو سینے سے لگائے ہوئے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور سلف صالحین، مردوں اور عورتوں کے لباس کی یاد تازہ کرتے ہوں، ان کی پیروی اور نقالی کرنے والے ہوں۔ ان کے ساتھ مشابہت کرنے والے اہلِ تقویٰ اور اسلامی اقدار و روایات کو اپنانے والوں کی شکل اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ظاہر کا اثر باطن پر بھی ڈال دے گا۔ تواضع اور انکساری کا لباس آدمی میں تواضع اور انکساری پیدا کرتا ہے اور تکبر و غرور کا لباس آدمی میں تکبر و غرور پیدا کرتا ہے۔

مولانا مفتی محمد شفیعؒ اس موضوع پر اس آیت کی تفسیر لکھتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’لباسِ تقویٰ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ظاہری لباس کے ذریعے سترپوشی اور  زینت و تجمل سب کا اصل مقصد تقویٰ اور خوفِ خدا ہے جس کا ظہور اس کے لباس میں بھی اسی طرح ہونا چاہیے کہ اس میں پوری سترپوشی ہو، کہ قابلِ شرم اعضا کا پورا پردہ ہو، وہ ننگے بھی نہ رہیں، اور لباس بدن پر ایسا چست بھی نہ ہو جس میں یہ اعضا مثل ننگے کے نظر آئیں۔ نیز اس لباس میں فخروغرور کا انداز بھی نہ ہو بلکہ تواضع کے آثار ہوں، اسراف بے جا بھی نہ ہو، ضرورت کے موافق کپڑا استعمال کیا جائے۔ عورتوں کے لیے مردانہ اور مردوں کے لیے زنانہ لباس بھی نہ ہو، جو اللہ کے نزدیک مبغوض و مکروہ ہے۔ لباس میں کسی دوسری قوم کی نقالی بھی نہ ہو جو اپنی قوم و ملّت سے غداری اور اعراض کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ اخلاق و اعمال کی درستی بھی ہو، جو لباس کا اصل مقصد ہے۔(معارف القرآن، ج۳،ص ۵۳۶)

آپ نے جیز کی جو صورت تحریر کی ہے، وہ بے شک وہی ہو جو آپ نے لکھی ہے کہ ساتر ہو، اس میں مردوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو، لیکن یہ ہمارے معاشرے کی نہیں، بلکہ مغربی معاشرے کی ایجاد اور مغرب کا لباس ہے۔ آپ تو بے شک اسے اس طرح استعمال کریں گی جو ساتر ہوگی، لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے تو یہ ساتر نہیں ہے بلکہ اصل میں یہ مغربی لباس کی نقالی ہے۔ اس کے بجاے آپ اسلامیت اور پاکستانیت کو پھیلائیں، پاک و ہند کے دینی گھرانوں کو پیش نظر رکھیں۔ آپ پاکستان اور عالمِ اسلام کی صالحات کی پیروی کریں۔ اس سے دینی اور اسلامی ذہنیت نشوونما پائے گی، آخرت کی فکر پیدا ہوگی اور نیک خواتین کی طرح آپ میں بھی نیکی کا جذبہ پیدا ہوگا۔

نیک لوگوں کا لباس نیکی اور بُرے لوگوں کا لباس بُرائی کی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ انسان کا لباس، انسان کی صحبت تو آدمی پر اثرانداز ہوتی ہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بکریوں والوں میں مسکنت اور تواضع پائی جاتی ہے اور فخروغرور اُونٹوں کی دُموں کو پکڑ کر چلنے والوں میں پایا جاتا ہے۔ لباس دراصل ذہنی طور پر اہلِ لباس کی صحبت ہے اور اس پر وہی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو صحبت پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے خواتین کو جینز کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

آپ کی کزن نے ایران، سعودی عرب اور پاکستان کے جن اُونچے گھرانوں کی خواتین کا حوالہ دیا ہے کہ وہ بھی پینٹ پہنتی ہیں، تو اس بارے میں عرض ہے کہ یہ وہ خواتین ہیں جو      مغربی تہذیب کی نقالی کرتی ہیں۔ اس لیے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ان کی نقالی کو چھوڑ دیجیے۔ ان کے بجاے دنیا کے اسلامی گھرانوں کی خواتین کو اپنے لیے نمونہ بنائیں جو مغربی تہذیب سے متاثر اور اس کی دل دادہ نہیں۔ وہ مغربی تہذیب کو باعث ِ عزت و فخر سمجھنے کے بجاے اسلامی تہذیب و روایات کی قدر کرتی ہیں اور اس میں شرف و وقار سمجھتی ہیں۔ (مولانا عبدالمالک)

غیرمسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق ، مولانا سیّد جلال الدین عمری،     مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،دہلی، بھارت۔ صفحات: ۳۲۰۔ قیمت: ۱۸۵ روپے (بھارتی)

محترم مولانا سیّد جلال الدین عمری کا شمار بھارت کے نام وَر علما میں ہوتا ہے۔ آپ کے قرآن و سنت کی روشنی میں عصری مسائل پر تحقیقی مقالے اور کتب نہ صرف بھارت میں بلکہ تراجم کی شکل میں یورپ ، امریکا، ترکی اور عالمِ عربی میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ اب تک ۵۰ کے لگ بھگ تصنیفات منظرعام پر آچکی ہیں۔

زیرتبصرہ کتاب غیرمسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق آپ کی تحقیقی تصنیفات میں ایک قیمتی اضافہ ہے اور موضوع پر متعلقہ مسائل کا کماحقہٗ احاطہ کرتی ہے۔ کتاب ۱۵ مباحث پر مبنی ہے اور اصولی اور عملی پہلوئوں پر مستند معلومات فراہم کرتی ہے۔ کتاب کا آغاز خاندان میں تعلقات اور عام انسانی تعلقات سے ہوتا ہے جس سے اسلام کے عمومی تصور انسانیت کی وضاحت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں غیرمسلموں کے ساتھ معاشرتی تعلقات،سماجی تعلقات، ازدواجی تعلقات اور کاروباری معاملات کا جائزہ قرآن و سنت اور فقہ کے ائمہ کی آرا کی روشنی میں لیا گیا ہے۔

عملی مسائل سے بحث کرتے ہوئے محترم مولانا نے جن پہلوئوں پر سیرحاصل بحث فرمائی ہے ان میں غیرمسلموں کو سلام کا حکم، مسجد میں غیرمسلم کا داخلہ، غیرمسلم سے تحائف کا تبادلہ، غیرمسلم کی شہادت، اور پھر اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کے حقوق پر ایک مفصل باب باندھا ہے۔اس میں اسلامی ریاست کی خصوصیات و اصول جن میں عدل و انصاف کا قیام، مذہبی معاملات میں جبر کا نہ ہونا، اسلام کا دیگر مذاہب کے بارے میں طرزِعمل اور اہلِ کتاب کے ساتھ رویے پر بحث کی گئی ہے۔ اسلامی ریاست کے حوالے سے یہ وضاحت بھی قرآن و سنت کی روشنی میں کی گئی ہے کہ جہاد کا مقصد کسی کو مسلمان بنانا نہیں بلکہ ظلم و فساد کا دُور کرنا ہے۔

ذمیوں کے حوالے سے مستشرق اور ان سے تربیت پانے والے بے شمار مسلمان مفکرین نے بہت معذرت کے ساتھ اسلام اور ذمیوں کی بحث کی ہے۔ محترم مولانا نے بغیر کسی مداہنت کے حق کو جیساکہ وہ ہے بیان کیا ہے اور ہربات کی دلیل قرآن و سنت سے دے کر یہ واضح کیا ہے کہ ذمی دوئم درجہ کا شہری نہیں ہے۔ اس کے حقوق بھی وہی ہیں جو ایک مسلمان شہری کے ہیں۔

بین الاقوامی قانون میں ایک اہم بحث کا تعلق حالت ِ جنگ اور حالت ِ امن میں غیرمسلم اقوام کے ساتھ معاہدات و معاملات کی ہے۔ اس پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے کہ معاہدوں کی حیثیت، کن حالات میں انھیں منسوخ کیا جاسکتا ہے ، اور جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔

کتاب کے آخر میں بحث کو سمیٹتے ہوئے غیرمسلموں سے عدم تعلق کے احکام کا پس منظر بیان کیا گیا ہے تاکہ وہ شبہات جو قرآن و سنت کے جزوی مطالعے سے پیدا ہوسکتے ہیں انھیں اسلام کی کُلی تعلیمات اور اُس پس منظر میں دیکھا جائے جو ان کا سبب النزول ہے۔ یہ اہم باب ہے اور داعیانِ اسلام کے لیے اس کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ان تمام رواداری کے عملی مظاہروں کے باوجود جن سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے مخالفین چُن چُن کر صرف ان آیات یا احادیث کا ہی تذکرہ کرتے ہیں جن میں منکرین، مشرکین اور اہلِ کتاب کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ انھیں رازدار نہ بنائو۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مدینہ منورہ میں منافقین کی ایک جماعت بظاہر اپنے اسلام لانے کا اعلان کرنے کے باوجود، یہود اور مشرکین مکہ کے ساتھ مسلسل رابطے اور سازشوں میں مصروف تھی۔ قرآن کریم جس ہستی نے نازل فرمایا وہ العلیم اور الخبیر ہونے کی بناپر ان کی سازشوں، مکر اور چالوں سے سب سے زیادہ آگاہ تھا۔ اس لیے اسلامی دعوت کی بقا اور فروغ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان کو آگاہ کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ ان کے ظاہر پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں اپنے رازوں میں شامل نہ کیا جائے۔

یہ بات ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس سے کوئی کافر بھی انکار نہیں کرسکتا۔ اس میں نہ کوئی کینہ ہے، نہ دشمنی، نہ چال بازی اور نہ کوئی ناانصافی۔ ایک بچہ بھی اپنے دشمن پر اعتماد نہیں کرتا۔ منافقین اور مشرکین کا کردار اسی بات کا مطالبہ کرتا تھا کہ ان کو بعض معاملات میں بالکل الگ رکھا جائے۔ یہی شکل بین الاقوامی قانون میں آج بھی پائی جاتی ہے۔

اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس کا جدید انگریزی میں ترجمہ جلد آنا چاہیے اور اسے ہر معروف کتب خانے کی زینت بننا چاہیے۔(ڈاکٹر انیس احمد)


نوآبادیاتی عہد میں مسلمانانِ جنوبی ایشیا کے سیاسی افکار کی جدید تشکیل: سرسیّد احمد خاں اور اقبال، ڈاکٹر معین الدین عقیل، ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ صفحات:۶۸۔ قیمت: درج نہیں۔

ہندستان پر انگریزوں کے غلبے کے بعد ایک طرف تو بعض شخصیات کا ردعمل سامنے آیا اور دوسری طرف مزاحمت کی متعدد تحریکیں اُٹھیں۔ افراد میں سرسیّد احمد خاں اور علامہ اقبال کا ردعمل مختلف صورتوں میں نمایاں ہوا۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل نے اپنی تازہ کتاب میں دونوں اکابر کے ردعمل کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ہے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ نوآبادیاتی عہد میں ہندستان میں جن تصورات نے مسلمانوں میں ایک مستحکم شعور پیدا کرنے اور مسلم ملّت کو اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کیا، سرسیّد اور اقبال کے خیالات ہیں جو اُنھوں نے اہم سیاسی مراحل میں قوم کے سامنے پیش کیے۔  سرسیّد مسلمانوں میں وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے حقیقی مقاصد کو سمجھا اور واضح کیا کہ ہندو اور مسلمان ایک نہیں دو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو کانگریس سے دُور رہنے کی تلقین کی۔ پھر مسلمانوں کے تقلیدی اور فرسودہ و جامد خیالات کو حرکت و عمل سے بدلنے کی کوشش کی، اور اس کے لیے انھوں نے جدیدتعلیم کو مفید اور مؤثر خیال کیا۔

علامہ اقبال نے مغرب کو اور اس کی لائی ہوئی جدید تعلیم کو نسبتاً زیادہ عمیق نظروں سے دیکھا اور ہندستانیوں کو اس کے دُور رس اثرات سے آگاہ کیا۔ اُن کے نزدیک مسلمانوں کے اصل امراض: بے عملی، محکومی اور وطن پرستی تھے۔ حرکت، تبدیلی اور ذہنی انقلاب کے ذریعے ان امراض کو دُور کیا جاسکتا تھا۔

کتاب کے آخر میں سرسیّداحمد خاں کا وہ معروف خطبہ شامل ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کانگریس میں مسلمان بحیثیت قوم شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح اقبال کا خطبۂ الٰہ آباد بھی منسلک ہے جس میں اقبال نے ایک آزاد اسلامی مملکت کے قیام کا عندیہ دیا تھا۔اس ٹھوس علمی مقالے کے آخر میں مؤلف نے ایک سو ایک تائیدی حوالے اور حواشی شامل کیے ہیں۔ مگر سرورق ساز کا فہم ناقص ہے(علامہ کو ببول کے درخت پر بٹھا دیا)۔ اسی طرح اشاریے کی کمی کھٹکتی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


شبلی کی آپ بیتی، مرتبہ : ڈاکٹر خالد ندیم۔ ناشر: کتاب سراے، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۲۰۳۱۸- صفحات: ۳۷۶۔ قیمت: درج نہیں۔

مولانا شبلی نعمانی عالم دین، شاعر، ادیب، مؤرخ، سیرت نگار اور ماہرتعلیم تھے۔ سرسیّد تحریک سے بعض پہلوئوں میں اختلاف کے باوجود مسلمانوں میں تعلیم (متوازن اور بامقصد تعلیم) کے فروغ کے لیے عمربھر کوشاں رہے۔ شبلی صدی (۱۹۱۴ئ-۲۰۱۴ئ) کے موقعے پر اُن پر کتابیں اور مضامین لکھ کر اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ پاکستان میں کم اور بھارت میں زیادہ۔ دارالمصنّفین نے معارف کا خاص نمبر شائع کیا اور ایک بین الاقوامی شبلی سیمی نار بھی منعقد کیا (حکومت ِ بھارت نے اس سیمی نار کے ۱۸ پاکستانی مدعوین میں سے کسی ایک کو بھی ویزا نہیں دیا)۔ شبلی کی حیات پر موجود متعدد کتابوں میں زیرنظر کتاب ایک منفرد اضافہ ہے۔

یہ شبلی کی ایسی خودنوشت ہے جسے اُنھوں نے خود نہیں لکھا بلکہ ڈاکٹر خالد ندیم نے اُن کی تحریروں سے اقتباسات لے کر ان کی آپ بیتی مرتب کی ہے۔ یہ شبلی کی ایک صحیح، سچی اور کھری تصویر ہے۔ اس میں شبلی کے احساسات، جذبات، ولولے، عزائم،ارادے اور منصوبے نظر آتے ہیں۔ ان سب کا منتہاے مقصود ملت ِاسلامیہ اور دین اسلام کا احیا تھا۔ اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی اپنی ملّت کے دگرگوں حالات پر کڑھتے اور اُنھیں پستی اور پس ماندگی سے نکالنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں سوچتے تھے۔ افسوس تو یہ ہے کہ شبلی کو ایک غیرملکی استعماری حکومت میں کام کرتے ہوئے اپنوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

شبلی کی آپ بیتی پڑھتے ہوئے ہم سفرنامہ بھی پڑھتے ہیں، نام ور شخصیات پر شبلی کا تبصرہ بھی اور اُن کی شاعری سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں شبلی بے اطمینانی اور پریشانی کے عالم میں تلخ ہوجاتے ہیں۔ اس دل چسپ کتاب میں وہ دردمندی اور اضطراب بہت نمایاں ہے    جس نے شبلی کو عمربھر بے چین رکھا۔ مرتب نے بڑی محنت اور فن کاری سے آپ بیتی تیار کی ہے۔  دہلی یونی ورسٹی کے ڈاکٹر عبدالحق خالدندیم کی فہم و فراست پر انھیں داد دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’آپ بیتی کے کوائف جمع کرنے میں خون دل کی کشید کرنی پڑتی ہے… یہ قلم سے کسب ِضیا کی ایک انوکھی مثال ہے… نشاطِ کار کی قابلِ قدر مثال‘‘۔ دیباچہ نگار ڈاکٹر ممتاز احمد نے لکھا ہے کہ  ’’یہ صرف شبلی کی آپ بیتی ہی نہیں بلکہ ہماری عہدساز ادبی تہذیبی تاریخ کی ایک بصیرت آموز دستاویز بھی ہے‘‘۔ طباعت و اشاعت معیاری ہے۔ آخر میں اشاریہ بھی شامل ہے۔ کتاب پاکستان اور بھارت سے بیک وقت شائع ہوئی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


نسیم حجازی کی تاریخی ناول نگاری کا تحقیقی اور تنقیدی تجزیہ، ڈاکٹر ممتازعمر۔ ناشر: انجمن ترقی اُردو، ڈی-۱۵۹، بلاک ۷، گلشن اقبال، کراچی-۷۵۳۰۰۔ صفحات: ۶۹۴۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔

تاریخی ناول نویسی میں جو کامیابی اور مقبولیت نسیم حجازی کو حاصل ہوئی وہ اُردو کے کسی دوسرے ناول نگار کے حصے میں نہیں آئی۔

زیرتبصرہ کتاب میں نسیم حجازی کے سات منتخب تاریخی ناولوں: داستانِ مجاہد، محمدبن قاسم، آخری چٹان، خاک اور خون، یوسف بن تاشفین، معظم علی، اور تلوار ٹوٹ گئی کا تنقیدی و تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ان ناولوں میں مسلمانوں کے  شان دار ماضی، تاریخ کے نشیب و فراز اور عروج و زوال کے اسباب و محرکات کے ساتھ ساتھ احیاے اسلام کی جدوجہد کے لیے لازوال قربانیوں اور ایمان افروز جذبے کی خوب صورت منظرکشی کی گئی ہے جو بالخصوص نوجوانوں کو اپنی تاریخ سے شناسائی کے ساتھ عمل کے لیے اِک ولولۂ تازہ دیتی ہے۔ نسیم حجازی کے ناولوں کی وجۂ مقبولیت اور پذیرائی کا سبب بھی یہی انفرادیت ہے۔

اُردو ادب کے متعدد نقادوں کی آرا نقل کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمغنی کے مطابق: ’’نسیم حجازی کا طرزِ تحریر اُردو کی بہترین نثری روایات کا امین ہے جو علامہ شبلی، علامہ ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کے عالمانہ مضامین میں ترقی پاکر اظہار و بیان کا مثالی معیار مقرر کرتی ہیں۔ اس طرزِ تحریر میں نفاست و شوکت اور متانت و دبازت ہے‘‘ (ص ۶۱۳)۔ ناول نگاری میں نسیم حجازی کے ادبی کام کا مقام متعین کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے: ’’نسیم حجازی اس قافلے کے نہ سالار ہیں نہ آخری آدمی۔ مسلمان اپنی نشاتِ ثانیہ کے لیے ہمیشہ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکتے رہیں گے، اور تاریخی ناول یا افسانہ نگاری کی روایت زندہ رہے گی۔ عبدالحلیم شرر نے جو بیج بویا تھا اور جس کی آبیاری نسیم حجازی نے کی تھی، وہ پودا دیگر صاحبانِ قلم کی تحریروں کی صورت میں برگ و بار لا رہا ہے اور یہ روایت آگے بڑھتی رہے گی‘‘ (ص ۶۵۴)۔نسیم حجازی کے ناولوں کے بارے میں سیّدمودودی نے فرمایا تھا: ’’میں نوجوانانِ پاکستان سے [کہوں] گا کہ وہ نسیم حجازی صاحب کے ناول ضرور پڑھیں اور اپنی سنہری تاریخ کے سبق آموز واقعات سے واقفیت حاصل کریں اور ملک و قوم کی صحیح خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کریں‘‘ (ص ۶۴۶)۔(ظفرحجازی)


امریکا اور یورپ میں عورتوں کی حالتِ زار، مؤلف: ڈاکٹر عبدالغنی فاروق۔ ناشر: کتاب سراے، الحمد مارکیٹ غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ صفحات:۹۵۔قیمت :۱۰۰روپے۔

زیر نظر کتاب اخبارا ت کی خبروں ،رسائل وجرائد میں شائع شدہ مضامین اور مختلف سروے رپورٹوں کے اعدادو شمارپر مشتمل ایسی دستاویز ہے جس میں یورپ کا تاریک تر اندرون صاف دکھائی دیتاہے۔اس کتاب کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملازمتوں میں امتیازی سلوک، کم تنخواہیں،جنسی تشدد،جبری شادی اورگھریلو تشدد عام ہے۔ لاکھوں خواتین ہر سال جنسی تشدد کا نشانہ بنتی اور روزانہ بھوکی سوتی ہیں۔  اس کتاب میں ۲۰۰۳ء میں بی بی سی کے پیٹر گلائوڈ کا ایک سروے بھی شامل ہے  جس میں خواتین پر گھریلو تشدد کا جائزہ پیش کیا گیاہے۔اس سروے کے مطابق برطانیہ ۷۸ فی صد خواتین و حضرات نے کتے کو تشد دسے بچانے کے لیے پولس کو اطلاع دینا اپنا فرض بتایا، لیکن اپنے پڑوس میں مرد کی جانب سے اپنی بیوی یا گرل فرینڈ پرتشددکو ۴۷ فی صد افراد نے نجی معاملہ قرار دے کر عدم مداخلت کا عندیہ دیا۔

اس کتاب میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو یورپ اور امریکا کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں اور جو ترقی ، خوش حالی اور روشن خیالی کے نام پر یورپ کی خاندان شکن معاشرت اور بے لگام کلچر کو ہم پر مسلط کرنے کے لیے ہلکان ہورہے ہیں۔ (حمید اللّٰہ خٹک)


جو اکثر یاد آتے ہیں، ابونثر (احمد حاطب صدیقی)۔ناشر: ایمل مطبوعات، ۱۲-دوسری منزل، مجاہد پلازا، بلیوایریا، اسلام آباد۔ فون: ۵۱۶۸۵۷۲-۰۳۲۱۔ صفحات: ۲۸۰ روپے۔ قیمت:۴۸۰روپے۔

مؤلف کے کالموں کا یہ مجموعہ مختلف شخصیات کے خاکوں پر مشتمل ہے۔ ان خاکوں میں معلومات بھی ہیں اور تاریخ بھی، نظریات بھی ہیں اور فلسفہ بھی اور ادبی اسلوب کی چاشنی بھی۔ بعض خاکے ایسے ہیں جن کو پڑھ کر بے اختیار ہنسی چھوٹ پڑتی ہے (شفیع نقی جامعی) اور بعض ایسے ہیں کہ جن کو پڑھ کر آنکھوں سے آنسو چھلک چھلک پڑتے ہیں (میجر آفتاب حسن)۔ بعض خاکے طویل ہیں اور بعض مختصر۔ کچھ معروف شخصیات کے (افتخار عارف، پروفیسر غفوراحمد، حکیم محمد سعید، مشتاق احمد یوسفی، سلیم احمد، آباد شاہ پوری، عبدالستار افغانی) اور بعض غیرمعروف (نورمحمد پاکستانی، محسن ترمذی، استاد حسن علی، محمدگل اور ایک نامعلوم شخص)۔ خاکوں کے عنوانات بھی برمحل، بے ساختہ اور خوب ہیں۔

ابونثر کے قلم سے نکلے ہوئے یہ خاکے جہاں دردِ دل، سوز و گداز اور اسلوبِ بیان کی چاشنی سے معمور ہیں،وہیں یہ گذشتہ ۴۰سالہ عہد کی تاریخ ہے۔ خاکہ نگاری کا یہ اسلوب اور انداز ہرعمر کے افراد کے لیے سامانِ ضیافت کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ کتاب خاکہ نگاری میں نئے باب کی تمہید اور ہرلائبریری میں جگہ پانے کی حق دار ہے۔(عمران ظہور غازی)


تعارف کتب

o مجلہ الحمد کراچی (سیرت نمبر) ، مدیر: ڈاکٹر محمد اظہر سعید۔ ناشر: الحمد اکیڈمی، ۱۶۵-ای، بلاک۳، پی ای سی ایچ ایس، کراچی۔ صفحات:۲۲۴۔ قیمت: ۹۰ روپے۔[الحمد کالج آف پروفیشنل ایجوکیشن کراچی کا مجلہ الحمد        سیرت النبیؐ کے موضوع پر ہے۔  اس مجلے نے اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے زیراہتمام سیرت النبیؐ کے موضوع پر مجلّوں کے درمیان منعقدہ مقابلہ ۲۰۱۴ء میں شرکت کر کے دوم انعام پایا۔ حمدو نعت کے بعد   کُل ۱۱مقالات شائع کیے گئے ہیں۔ یہ مقالات حکیمانہ تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفوس سیرتِ طیبہ کی روشنی میں دعوت و تبلیغ کی حکمت وعملی ، آنحضرتؐ کا نوجوانوں کے ساتھ سلوک ، رحمۃ للعالمینؐ بحیثیت بلدیاتی منتظم وغیرہ جامع انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ رسالہ اپنے مواد اور مضامین کے اعتبار سے عمدہ پیش کش ہے۔]

o چمن زار حقائق ، مرتبہ: گوہرملسیانی۔ ناشر: دارالنوادر، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۸۸۹۸۶۳۹-۰۳۰۰۔ صفحات:۲۴۸۔ قیمت: درج نہیں۔[جناب گوہر ملسیانی کی نمایندہ منتخب قومی و ملّی نظموں کا یہ مجموعہ چمن زار حقائق ایک مؤثر پیش کش ہے، جو پاکستان کے نشیب و فراز، سیاسی، سماجی اور معاشی کیفیت، نظریات، تعلیماتِ قرآن اور تصوراتِ اقبال اور حکمرانوں کے غیراسلامی اقدار کی جھلک پیش کرتا ہے۔ فکرواحساس کو مہمیز دینے والے کلام کی چند نظمیں بالخصوص اُمیدطلوعِ سحر، اتحاد عالمِ اسلام، جذبات نور، حقیقت ِ وطن، رقصِ ابلیس، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے چند آنسو قابلِ ذکر ہیں۔]

o زندان سے تخت شاہی تک ، عبدالعظیم معلم ندوی۔ ناشر:معہدامام حسن البنا شہید، مکتبہ علی العلمیہ، مدینہ کالونی،بھٹکل۔صفحات:۵۶۔ قیمت: ۴۰ روپے (بھارتی)۔[یہ مختصر مگر سادہ انداز و اسلوب لیے ہوئے حضرت یوسف ؑ کے مکمل واقعے پر مشتمل قرآنی قصہ ہے۔ جس میں حضرت یوسف ؑ کی پاکیزہ زندگی کا خوب صورت نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ اچھوتے انداز میں حضرت یوسف ؑ کی زندگی بطورِ نمونہ پیش کر کے نوجوان نسل کو غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے کہ آج کے دور میں جب بُرائی، ناشائستگی، بدتہذیبی اور عریانی و فحاشی اپنے لائولشکر کے ساتھ حملہ آور ہے، بچائو کیسے ممکن ہے۔]

o قومیں کیوں ہلاک ہوتی ہیں؟ ، مولانا سیّد جلال الدین عمری۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۹، بلاک۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰-۰۲۱۔ صفحات:۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔[قرآنِ مجید کی روشنی میں قوموں کے زوال کے اصول، مثلاً: تکبر اور خودسر ی کی روش ، فساد فی الارض، ظلم وعدوان، فسق و فجور اور گناہوں کے ارتکاب کا تذکرہ ہے۔ مادی ترقی اور اقوامِ عالم پر بالادستی کے باوجود عقیدے اور فکر کا بگاڑ اور اخلاقی انحطاط بالآخر زوال کا سبب بنتا ہے۔ ان اصولوں کی روشنی میں مغربی اقوام کا تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔]

o آپ کے لیے کون سا منصوبہ مناسب ہے؟ ، محمد صالح المنجد، ترجمہ: عبدالغفور مدنی۔ ناشر: منشورات، منصورہ، لاہور۔ فون:۳۵۲۵۲۲۱۱-۰۴۲۔ صفحات: ۴۸۔ قیمت: ۲۰ روپے۔[کتابچے میں بامقصد زندگی گزارنے کے لیے مختلف منصوبوں، خداداد خوابیدہ صلاحیتوں کی دریافت، منصوبوں کی کامیابی کے ضابطے اور ناکامی کے اسباب، نیز بعض کامیاب منصوبوں کا بطورِ مثال تذکرہ کیا گیا ہے۔ سلف صالحین اور نامور شخصیات کے واقعات بامقصد زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ عالمِ عرب سے اپنے موضوع پر مفید ترجمہ سامنے آیا ہے۔ ]

عبدالرشید عراقی ، گوجرانوالہ

’دعوت، تربیت اور اقامت دین‘ (اپریل ۲۰۰۵ئ) صحیح معنوں میں دین اسلام کی دعوت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام دین رحمت ہے جو اپنی ہمہ گیر خصوصیات و امتیازات کی بنا پر ترقی پذیر ہے۔ اس کی خوبیاں و عطربیزیاں لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہی ہیں اور لوگ اسلام کے سایۂ عاطفت میں ہی اپنے آپ کو مطمئن و مامون سمجھتے ہیں۔ اس لیے محترم مدیر کی یہ تحریر کہ جماعت اسلامی کی دعوت نہ کسی شخصیت کی طرف ہے، اور نہ کسی مخصوص مسلک کی طرف بلکہ اس کی دعوت صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی دعوت ہے، اسلام کی اصولی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔

’قتلِ جمہوریت ہی نہیں قتلِ انسانیت بھی‘ (اپریل ۲۰۱۵ئ) حکومت بنگلہ دیش کے ظلم و ستم کی داستان ہی نہیں جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔


عبداللّٰہ ، پتوکی

’اسلامی قانونِ جنگ اور عصرِحاضر‘(مارچ ۲۰۱۵ئ) جامع مقالہ ہے، تاہم آج جس طرح جہاد کے نام پر سفاکیت اور تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں، ان کی تردید بھی ہوجاتی تو حالاتِ حاضرہ پر صحیح انطباق ہوجاتا۔


محمد صادق کھوکھر ، لسٹر،برطانیہ

 ’اسلام اور ریاست: چند بنیادی مباحث‘ (مارچ ۲۰۱۵ئ) پڑھ کر وہ تمام خدشات دُور ہوجاتے ہیں جو جاوید احمد غامدی صاحب کی بحث سے پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم ایسے حضرات جو اس بحث کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں، ان کے لیے ایک آدھ جملے میں بتا دیا جاتا کہ زیربحث کون ہے؟ یا کس کے نظریات ہیں تو زیادہ بہتر ہوتا۔


اعجاز عالم ، نواب شاہ

پروفیسر علی اصغر سلیمی کا مضمون ’دین کا حقیقی مقصد: نظامِ عدل کا قیام‘ (مارچ ۲۰۱۵ئ) بہت پسند آیا۔ کاش! ہمارے عوام اور خصوصاً علماے کرام اس کی اہمیت کو محسوس کرسکیں تو اس ملک کی تقدیر بدل جائے۔ یہ فکرِعام کیسے کی جائے؟ اس پر بھی روشنی ڈال دی جاتی تو اور کارآمد ہوتا۔

’متاعِ فقیر‘

آخر مولانا مودودی میں وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے اس کی قید اور اس کی رہائی سے    اَن گنت لوگ دل چسپی رکھتے ہیں۔ وہ کوئی فرشتہ یا کوئی فوق البشر ہستی نہیں ایک انسان ہے اور   اسی طرح کا خاکی انسان ہے جیسے ہم سب ہیں۔ وہ کسی مقامِ خاص کا مدعی نہیں، اپنے آپ کو محض اُمت محمدیہ کے ایک مسلمان فرد کی حیثیت میں پیش کرتا ہے۔ وہ پیری کی مسند بچھا کر نہیں بیٹھتا بلکہ عام آدمیوں کی طرح رہتا سہتا ہے اور عام آدمیوں سے ملتا جلتا ہے۔ وہ اپنے لیے خصوصی امتیازات اور القاب و آداب نہیں چاہتا بلکہ کسی تکلف وتصنّع کے بغیر ہرقسم کے لوگ اس سے معاملات رکھتے ہیں۔ وہ کرامات اور شعبدے دکھا کر اور خواب اور کشف بیان کر کے کسی کو مسحور نہیں کرتا بلکہ   سیدھے سیدھے استدلال سے بات کہتا اور بات کا جواب دیتا ہے۔ اس کے پاس ملک کا کوئی انتظامی و وزارتی منصب نہیں ہے کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں پر دھونس جماتاہو۔ اس کے قبضے میں  کوئی ایسااختیار نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے نام الاٹ منٹیں کرکر کے، درآمدی برآمدی لائسنس بانٹ بانٹ کر ، پاسپورٹ دے دے کر ، ان کی سفارشوں پر ان کے کام بنابناکر، یا ان کی آزادیوں اور ان کی عزتوں پر چھاپے مارمار کر ان کو اپنا حمایتی اور قصیدہ خواں بنا رکھے۔ وہ فنِ سازش میں کوئی درک نہیں رکھتا کہ لوگوں کو شرپسندانہ نجویٰ کے ذریعے باہم دیگر توڑ توڑ کر اپنے اثرورسوخ کا راستہ نکالے۔ یہ سب کچھ نہیں ہے تو پھر وہ کیا چیز ہے جس نے مولانا مودودی کو ایک نمایاں حیثیت دے دی ہے؟

ایک متاع ایمان! ایک نورِعلم! ایک دعوتِ حق! ایک نظریہ و اصول! ایک پاکیزہ مقصد و نصب العین!ایک نقشۂ تعمیر! ایک جذبۂ خدمت! ایک متاعِ کردار! بس ’’یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر‘‘۔ (’اشارات‘، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۴۴، عدد۲-۳، شعبان ۱۳۷۴ھ ، مئی ۱۹۵۵ئ، ص۴-۵)

______________