بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، چین، لائوس، بھارت اور خلیج بنگال کے درمیان گھرا ہوا میانمار (برما) مسلم اقلیت کے ساتھ جو ظالمانہ و وحشیانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔
بُدھ دہشت گردوں (جنھیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہے)نے مسلم رُوہنگیا آبادی کو دو ہی راستے فراہم کیے۔ یہاں سے فرار ہوجائو، ورنہ پوری آبادی کو جلاکر راکھ کردیا جائے گا۔ ۱۰۰، ۱۰۰؍ افراد پر مشتمل رُوہنگیا مسلمانوں کے قافلے چھوٹی کشتیوں پر بٹھا کر کھلے پانیوں میں نامعلوم منزل کی طرف دھکیل دیے گئے کہ یہاں سے نکل کر کہیں پناہ تلاش کرو یا سمندر میں ڈوب مرو۔
۱۳ سے ۱۵ لاکھ رُوہنگیا آبادی کے بارے میں اُن کا یہی دعویٰ ہے کہ یہ مسلم لوگ بنگال سے ترکِ وطن کرکے برما میں زبردستی آگئے تھے۔ یہ بنگالی غیرملکی ہیں، اجنبی ہیں، انھیں واپس جانا چاہیے، ان کی موجودگی غیرقانونی ہے۔
سابقہ فوجی بُدھ حکومت کی طرح موجودہ جمہوری حکومت بھی اراکانی رُوہنگیا مسلمانوں کو کسی قسم کے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اگرچہ رُوہنگیا مسلمان یہاں ۵۰۰سال سے بھی زائد عرصے سے رہ رہے ہیں۔ اراکان کے نام سے اُن کی ریاست تھی۔ اراکانی ریاست کا نام بھی پانچ اراکینِ اسلام کی وجہ سے اراکان رکھا گیا تھا۔
مئی کے تیسرے ہفتے میں ملائیشیا کے ساحلی علاقوں سے کم و بیش ۱۳۵؍افراد کی لاشیں ملیں۔ اُنھیں بے سروسامانی ، بیماری اور غذائی قلت سے ہلاک ہونے والے رُوہنگیا شناخت کیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ لاتعداد افراد ابھی سمندر میں موجود ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کشتیوں کا پٹرول ختم ہوتے ہی یہ افراد غرق ہوجائیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے رسائل و جرائد میں تصاویر بھی شائع ہوئیں۔ سیکڑوں رُوہنگیا مسلمان نوجوانوں کی کھلے سمندروں میں موجودگی کا پتا لگا۔ جب کہ انڈونیشیا، ملایشیا، تھائی لینڈ، آسٹریلیا، کمبوڈیا اور بنگلہ دیش کی سیکورٹی افواج ان کشتیوں کو ساحل تک پہنچنے ہی نہیں دیتیں، کجا یہ کہ ان کی جان بچائیں۔
خوراک کی عدم دستیابی، کشتیوں میں مسلسل موجودگی اور بدترین حالات کی وجہ سے ۵۰۰ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اہل کار نے خلیج بنگال سے ملحقہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ سمندری قوانین کی پاس داری کرتے ہوئے کم از کم ان کی زندگی کو بچانے کی کوشش کریں اور ان کو عارضی قیام گاہیں فراہم کریں یا انسانی ہمدردی کی بنا پر جو کرسکتے ہوں کریں لیکن اس کا خاطرخواہ اثر نہ ہوا۔ تاہم تھائی لینڈکی حکومت نے فضائی ذرائع سے خوراک کی تقسیم کا معمولی سا سلسلہ شروع کیا لیکن خوراک اور پینے کے پانی کے حصول کے لیے چھیناجھپٹی کے دوران سمندر میں گرکر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی دل دہلا دینے والی ہے۔ اس المیے کے بارے میں غور کے لیے انڈونیشیا، ملایشیا، تھائی لینڈ اور میانمار کے وزراے خارجہ کی میٹنگ ۲۱مئی کو طے کی گئی۔ مگر میانمار نے شرکت نہ کی اور موقف اختیار کیا کہ اس کانفرنس میں ’رُوہنگیا‘ کا لفظ استعمال کیا جارہا ہے۔ یاد رہے انتہاپسند بُدھ شہری اور سرکاری افراد اُس اجلاس میں شرکت ہی نہیں کرتے جہاں ’رُوہنگیا‘ لفظ استعمال ہو۔نوبل انعام یافتہ آن سان سوچی کی خاموشی بھی ناقابلِ فہم ہے۔
رُوہنگیا اپنے علاقے میں محدود رہتے ہیں۔ اُن کے علاقوں کے اردگرد بھاری فوج تعینات رہتی ہے۔ اپنے علاقے سے باہر نکلنا اُن کے لیے ممکن نہیں۔ کسی بھی وقت اُن پر مسلح دہشت گرد حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ پولیس اور فوج اِن دہشت گردوں کی مددگار ہوتی ہے۔ کوئی ادارہ اُن کی آہ و بکا پر رپورٹ درج کرنے اور قانونی کارروائی کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جبری مشقت کے ذریعے بھی وہ اراکانی مسلمانوں کو ختم کرنے یا سزا دینے پر عمل پیرا ہیں۔
۲۰۱۲ء میں بُدھ دہشت گردوں کے حملوں سے ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھربار سے محروم کر دیے گئے تھے۔ ۸۰۰ ؍افراد ظالمانہ طریقے سے ہلاک کردیے گئے تھے۔ اُس وقت سے اب تک تنائو اور خوف کی کیفیت طاری ہے اور اسی دہشت کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے یہاں رہنا مشکل ترین بن کر رہ گیا ہے۔ ۲۰۱۲ء کے افسوس ناک واقعات کے بعد سے کشتیوں کے ذریعے جبری انخلا کہیے، فرار کہیے، یا انسانی اسمگلروں کا جال___ ایک لاکھ افراد میانمار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اس سرگرمی میں بُدھ دہشت گرد بھی شامل ہیں جنھوں نے انسانی اسمگلروں کو قانونی تحفظ اور ایسی سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں کہ وہ رُوہنگیا لوگوں کو اغوا کریں، قید کریں یا لالچ دیں اور انھیں کشتیوں میں بھر کر سمندر میں لے جائیں۔ رُوہنگیا قوم ’دُنیا کی انتہائی بے سہارا اور بے یارومددگار قوم‘ ہے۔ کشتیوں میں عموماً نوجوان کو سمگل ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ مزاحمت کرنے والے باقی نہ رہیں اور بعد میں میانمار کی سرزمین پر بوڑھے لوگوں، عورتوں اور بچوں کا بآسانی صفایا کیا جاسکے۔ نوجوان مسلم لڑکیوں کی عصمت دری کی داستانیں اس کے علاوہ ہیں۔
نقشے پر دیکھا جائے تو میانمار راکھن صوبہ ( سابقہ اراکان ریاست) بھی بنگلہ دیش کے ساتھ جغرافیائی طور پر ملحق ہے۔ اس کی برما سے قربت سمندر کے ذریعے ہے۔ کئی ہزار اراکانی مسلمان گذشتہ برسوں سے بنگلہ دیش میں قیام پذیر ہیں۔ اُن کی داستانِ غم علیحدہ ہے۔ موجودہ المیے کے آغاز میں یہ خبریں بھی آئیں کہ کشتیوں میں سوار ہونے والے لوگوں میں بنگلہ دیش میں قیام پذیر رُوہنگیا بھی ہیں، تاہم بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے ساحلی پٹی پر تعینات سیکورٹی گارڈز کو یہ پیغام دینے کا موقع ضائع نہ کیا کہ ان کشتی سواروں میں سے کوئی بھی فرد بنگلہ دیش میں داخل نہ ہو۔ بنگلہ دیش کم از کم اُنھیں موت کے منہ میں جانے سے بچاسکتا ہے لیکن یہ کون سوچتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں بھی پناہ کے طلب گاروں کو بنگلہ دیشی حکومت نے ساحلی علاقوں پر نہ اُترنے دیا تھا۔ طوفانی لہروں کا مقابلہ کرنے والے کشتی والے دربدر انسانوں کا معاملہ بین الاقوامی برادری کے سامنے آیا تو امریکی صدر باراک اوباما نے صرف یہ بیان دینے پر اکتفا کیا کہ ’’برما کی حکومت کو چاہیے کہ وہ نسلی و لسانی بنیاد پر امتیاز ختم کرے‘‘۔ امریکا نے حسب معمول مسلمانوں کے قتلِ عام، بے دخلی ، نسلی تطہیر اور جلاوطنی کو برداشت کرلیا۔ گذشتہ ۵۰، ۶۰برس سے جو دہشت گردی میانمار کی حکومت مسلمانوں کے خلاف کر رہی ہے اُس کے خلاف امریکا ، روس اور چین نے کوئی بامعنی موقف اختیار نہیں کیا۔
میانمار کے اندر ایسے بُدھ بھکشو دندناتے رہے کہ جو اسلام کو اور مسلمانوں کا صفایا کرنے کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں۔ چند بُدھ عبادت گاہوں سے باقاعدہ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس سرزمین کو مسلم غیرملکیوں سے پاک کردو۔ ان کو زندگی سے محروم کردو۔ پیدایش اور موت کا اندراج، پاسپورٹ ، تعلیم، علاج، سفر، رہایش ایسے معاملات میں مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملازمت اور سرکاری اداروں میں عمل دخل کا سوال ہی نہیں۔ ان کے لیے زندہ رہنے کے لیے یہی راستہ چھوڑا گیا ہے کہ وہ باپ دادا کے نام بدھوں جیسے ظاہر کرکے بُدھ تہذیب اور کلچر کو اختیار کرلیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نکاح چھوڑ دیں۔
پاکستان، بنگلہ دیش، سعودی عرب، انڈونیشیا، ملایشیا، برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں چندہزار یا ایک لاکھ کے لگ بھگ جو اراکانی مسلمان موجود ہیں اُن کا مستقبل بھی محفوظ نہیں ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ وغیرہ نے مسئلے کو شدت سے اُٹھایا اور عالمی برادری کے سامنے اسے سمندروں میں تیرتے تابوت کی صورت میں پیش کیا۔ان تنظیموں کے نمایندوں نے جن الم ناک حالات کی نشان دہی کی وہ بیان سے باہر ہے۔
مادرِ وطن چھوڑ کر سمندروں میں زندگی اور ٹھکانے کی تلاش کرنے والے دربدر رُوہنگیا مسلمانوں کے حق میں ترکی کے علاوہ پاکستان میں بھی مختلف دینی تنظیموں نے مظاہرے کیے۔ حکومت پاکستان نے خصوصی کمیٹی بناکر اسلامی ممالک کی تنظیم سے بھی رابطہ کیا، اقوامِ متحدہ میں اس مسئلے کو اُٹھانے کا جائزہ لیا اور ۵۰لاکھ ڈالر کی امداد بھی مختص کی تاکہ اقوامِ متحدہ کے اداروں کے ذریعے اِن درماندہ لوگوں کی خوراک کا بندوبست کیا جاسکے۔
امیرجماعت اسلامی جناب سراج الحق نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط کے ذریعے اس کا فریضہ یاد دلایا کہ برما کی حکومت پر دبائو ڈال کر ان مسلمانوں کو اپنے وطن بھیجا جائے اور اقوامِ عالم کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرائی کہ جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور کی طرح اراکانی مسلمان بھی انسان ہیں، ان کے بھی حقوق ہیں اور ان کو کم از کم زندہ رہنے اور اپنی ہی سرزمین پر سانس لینے کی اجازت تو دی جائے۔ اراکان مسلمانوںکو اپنی ہی سرزمین پر رہنے کا حق دیا جائے۔ وگرنہ میانمار پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں۔
بنگلہ دیشی اقتدار پر قابض حسینہ واجد، انسانی لہو کے جام پر جام پی رہی ہے۔ ہزاروں علما، طلبہ، سیاسی کارکنوں کے خون کی ہولی کھیلنے کے ساتھ، جس نے گذشتہ عرصے کے دوران جماعت اسلامی کے مرکزی رہنمائوں عبدالقادرمُلّا اور محمد قمرالزماں کو پھانسی دی۔ اب اس عمل میں تیزی لارہی ہے۔ اس خونیں کھیل کے لیے نام نہاد ’عالمی جنگی جرائم‘ کا ٹریبونل قائم کیا، جسے دنیا کے کسی باضمیر فرد نے عدالت تسلیم نہیں کیا۔ اسی کے ذریعے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی لیڈرشپ کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے۔
بھارت کی کٹھ پتلی بنگلہ دیشی حکومت کا اگلا ہدف، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد ہیں، جنھیں مذکورہ ٹریبونل نے ۱۷جولائی ۲۰۱۳ء کو سزاے موت سنائی تھی۔ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ ۲۷مئی ۲۰۱۵ء کو سپریم کورٹ نے اپیلیٹ بنچ تشکیل دیا تاکہ درخواست کو سرسری سماعت کے بعد ٹھکانے لگایا جائے۔
۱۶جون کو چیف جسٹس سریندر کمار سنہا کی سربراہی میں اپیلیٹ بنچ نے، علی احسن مجاہد کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزاے موت کو بحال رکھا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل محبوب عالم نے سرکاری موقف پیش کیا، جب کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)کے مشیراعلیٰ خوندکر محبوب حسین اور ایس ایم شاہ جہاں نے علی احسن صاحب کی وکالت کی۔
علی احسن کے بیٹے علی احمد مبرور نے کہا: ’’ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف نہیں ملا، اور اس فیصلے کے ذریعے ایک بار پھر انصاف کا قتل ہوا ہے‘‘، جب کہ اٹارنی جنرل محبوب عالم کے بقول: ’’سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد سزاے موت کے فیصلے پرعمل درآمد کردیا جائے گا‘‘۔
جنگی جرائم کے مقدمات میں عالمی شہرت یافتہ قانون دان ٹوبی کیڈمین نے بنگلہ دیش کے نام نہاد ’انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل‘ کو عالمی عدالتی معیارات کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے کہا: ’’نہ اس ٹریبونل کے ارکان کی عدالتی تربیت ہے اور نہ وہ انٹرنیشنل کریمنل قانون کے ماہر ہیں‘‘۔ اسی طرح انسانی حقوق کی بہت سی عالمی تنظیموں: ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل سنٹر فار ٹرانزیشنل جسٹس نے بھی مقدمے کی سماعت ، کارروائی اور ٹریبونل کے وجود پر کھلے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد علی احسن مجاہد کے سینیر وکیل خوندکر محبوب حسین نے اخباری نمایندوں کو بتایا: ’’ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر حیرت ہوئی ہے، خصوصاً اس صورت میں، جب کہ استغاثہ درست گواہیاں اور موزوں ثبوت پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ بہرحال ہم تفصیلی فیصلے کی کاپی موصول ہونے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کریں گے‘‘۔
علی احسن مجاہد کے بڑے بھائی علی افضل محمد خالص (امیر جماعت اسلامی فریدپور) نے کہا: ’’میرے بھائی کو جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے، حالانکہ وہ اس مقدمے میں ہراعتبار سے بے گناہ ہیں۔ میرا خاندان اس فیصلے کو مسترد کرتا ہے، جو جھوٹ، جعل سازی، سازش اور غیراخلاقی بنیاد پر گھڑا گیا ہے۔ ہم اس سفاک حکومت اور اس کی ظالم عدلیہ کے اس غیراخلاقی، غیرقانونی اور غیرانسانی فیصلے کے خلاف اس دنیا میں احتجاج تک نہیں کریں گے اور صرف اللہ تعالیٰ سے انصاف چاہیں گے، اسی کا فیصلہ انصاف اور عبرت کا نمونہ ہوگا‘‘۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے قائم مقام امیر مقبول احمد نے کہا: ’’اس جھوٹے، بے بنیاد اور انتقام پر مبنی مقدمے نے ایک بار پھر اس بے رحم حکومت کا چہرہ بے نقاب کردیا ہے، جو جماعت اسلامی کو ختم کرنے کے لیے ہرغیراخلاقی ہتھکنڈا استعمال کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ یہ حکومت علی احسن مجاہد جیسے سنجیدہ، بہادر اور دانش ور رہنما کے وجود کو ختم کرنے کے لیے ہرانتہائی سطح تک جانے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے‘‘۔
علی احسن مجاھد کا پیغام: سزاے موت کا فیصلہ سننے کے بعد علی احسن مجاہد صاحب نے حسب ذیل پیغام دیا ہے، جسے ان کے بیٹے علی احمد مبرور نے سوشل میڈیا پر جاری کیا ہے: ’’الحمدللہ، میں اس انتہائی سزا کے اعلان پر ذرّہ برابر پریشان نہیں ہوں، جسے حکومت نے اپنی بدترین دشمنی کی تسکین کے لیے سنایا ہے۔ میرے فاضل وکلاے کرام نے مقدمے کی پیروی قابلِ تحسین محنت سے کی ہے اور سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے اس سچائی کو پوری قوت اور مہارت سے پیش کیا ہے، جو میری بے گناہی کی دلیل ہے۔ میں یقین کامل رکھتا ہوں کہ میرے خلاف گھڑے گئے مجرمانہ الزامات کی سرے سے کوئی حقیقت نہیں ہے، کجا یہ کہ ان کی بنیاد پر کوئی سزا سنائی جائے۔ حکومتی استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ اسی طرح اس مقدمے کے تفتیشی افسر تک نے اعتراف کیا ہے کہ ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران میں، مَیں مذکورہ کسی بھی الزام یا جرم میں ملوث نہیں پایا گیا، مگر اس کے باوجود میں عدل سے محروم رکھا گیا ہوں۔
’’اس ماحول میں، مَیں جانتا ہوں کہ صرف میرا اللہ ہی میرا گواہ ہے۔ میں واشگاف لفظوں میں اعلان کرتا ہوں کہ مجھ پر عائد کردہ الزامات ۱۰۰ فی صد جھوٹے،جعلی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ مجھے الزامات اور کردارکشی کی اس یلغار کا نشانہ صرف ایک بنیاد پر بنایا جا رہا ہے ، اور وہ یہ کہ میں تحریک اسلامی کا کارکن ہوں۔
’’میرے ہم وطنو! بنگلہ دیش میں روزانہ سیکڑوں لوگ قدرتی اسباب سے موت کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ اموات کسی نام نہاد عدالتی ڈرامے میں سنائی جانے والی سزاے موت سے نہیں ہوتیں۔ کب اور کہاں کس فرد نے موت کی آغوش میں جانا ہے، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ کسی کو اختیار نہیں کہ وہ زندگی اور موت کے بارے میں ذاتِ باری کے فیصلے کو تبدیل کرے۔ اس صورت میں سزاے موت کا سنایا جانا میرے لیے کوئی وزن اور وقعت نہیں رکھتا۔ سو، مجھے اس خبر پر کوئی پریشانی نہیں کہ میرے لیے موت کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
’’میرا ایمان ہے کہ ایک بے گناہ فرد کا قتل، تمام انسانیت کا قتل ہے۔ میں نے زندگی بھر کسی فرد کو نہ قتل کیا ہے اور نہ کسی ایسے گھنائونے فعل کا شریکِ جرم رہا ہوں۔ اسی طرح میں یہ بھی جانتا ہوں کہ حکومت نے باطنی نفرت اور سیاسی انتقام میں میرے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی الزامات کو ایک نام نہاد عدالت میں سزاے موت کا ذریعہ بنایا ہے۔ سن لیجیے، میں اپنی زندگی کے ہرلمحے میں، اللہ کے دین کی خدمت اور سربلندی کے لیے اپنی جان دینے کے لیے تیار تھا اور تیار ہوں۔ اللہ ہی میرا حامی و مددگار ہے___علی احسن مجاہد‘‘
سوال : میں ایک دینی مرکز کے کیمپس میں واقع مسجد میں پنج وقتہ نماز ادا کرتا ہوں۔ جہاں باہر سے مہمان تشریف لاتے ہیں۔ ان میں سے بعض حضرات جمع بین الصلوٰتین کی نیت سے ظہر کی جماعت سے فارغ ہوتے ہی عصر کی نماز اور مغرب کی جماعت سے فارغ ہوتے ہی عشاء کی نمازباجماعت پڑھنے لگتے ہیں۔ چنانچہ ان کے لیے یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کون سی نماز پڑھی جارہی ہے۔ ’جمع بین الصلوٰتین‘ کے تحت ظہر یا عصر یا عشاء کی نماز پڑھی جارہی ہے یا مغرب یا عشاء کی دوسری جماعت ہو رہی ہے؟ عام لوگ ظہر یا مغرب کی دوسری جماعت سمجھ کر اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل سوالات جواب طلب ہیں:
۱- جب عام نمازیوں کو غلط فہمی کا اندیشہ رہتا ہو تو اس طرح مسجد کے اندر ’جمع بین الصلوٰتین‘ کہاں تک درست ہے؟
۲- جو لوگ ظہر یا مغرب کی نیت سے عصر یا عشاء کی جماعت میں شامل ہوتے ہیں، ان کی نماز ہوگی یا نہیں؟ کیوں کہ امام اور مقتدی دونوں کی نیت الگ الگ ہوگئی۔
۳- اگر مسجد میں اذان یا جماعت کے متعینہ وقت سے پہلے باجماعت نماز ادا کی جائے تو درست ہے یا نہیں؟
جواب:مسجد میں وقت ِ ضرورت دوسری جماعت کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ ہیئت تبدیل کردی جائے، یعنی پہلی جماعت مسجد کے جس حصے میں ہوتی ہے، اس سے ہٹ کر کسی اور جگہ دوسری جماعت کی جائے۔ اگر مسجد میں کچھ مسافر موجود ہوں اور وہ جمع بین الصلوٰتین کی غرض سے دوسری نماز جماعت سے ادا کرنا چاہیں تو وہ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر کچھ مسافر مسجد میں باجماعت عصر یا عشاء کی نماز پڑھ رہے ہوں اور کوئی شخص اسے ظہر یا مغرب کی نماز سمجھ کر جماعت میں شامل ہوجائے تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ بہ الفاظ دیگر اگر امام اور مقتدی کی نیتیں الگ الگ ہوجائیں، امام نے کسی نماز کی نیت کی ہو اور مقتدی کی نیت کسی اور نماز کی ہو تو مقتدی کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟
اس سلسلے میں احناف، مالکیہ اور حنابلہ کا مسلک یہ ہے کہ نماز کی نیت کے معاملے میں امام اور مقتدی کا اتحاد ضروری ہے۔ اگر امام عصر کی نماز پڑھا رہا ہے اور مقتدی کی نیت نمازِ ظہر کی ہے یا امام عشاء کی نماز پڑھا رہا ہے اور مقتدی کی نیت نمازِ مغرب کی ہے تو مقتدی کی نماز درست نہ ہوگی۔ ان کا استدلال اس حدیث ِ نبویؐ سے ہے:
اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤتَمَّ بِہٖ فَلَا تَخْتَلِفُوْا عَلَیْہِ (بخاری، کتاب الاذان) امام اسی لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ اس لیے اس سے اختلاف نہ کرو۔
البتہ شوافع کہتے ہیں کہ نماز کی صحت کے لیے امام اور مقتدی دونوں کی نمازوں کا ایک ہی ہونا ضروری نہیں ہے۔ نماز کے ظاہری افعال میں یکسانیت ہو تو مقتدی کی نماز درست ہوگی، خواہ اس کی نیت کسی نماز کی ہو اور امام کوئی اور نماز پڑھا رہا ہو۔(الموسوعۃ الفقیہ، کویت، ۶/۲۲-۲۳، ۳۳)
کسی نماز کا وقت ہوجائے، لیکن ابھی اس کی اذان یا جماعت نہیں ہوئی ہے، کچھ لوگ ہیں جنھیں کسی ضرورت سے فوراً سفر پر نکلنا ہے، وہ مسجد میں اپنی جماعت کرسکتے ہیں۔ البتہ ان کے لیے مناسب ہے کہ مسجد کے جس حصے میں جماعت ہوتی ہے، اس سے ہٹ کر کسی اور جگہ اپنی جماعت کرلیں۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
س: نماز میں بھول جائیں تو سجدۂ سہو لازم ہوجاتا ہے۔ اگر معمولی سی بھول ہو، مثلاً چار یا تین رکعتوں کے فرض میں دوسری رکعت کی التحیات کے بعد تیسری رکعت کے لیے اُٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔ نمازی بھول کر درود شریف شروع کردیتا ہے مگر دوچار الفاظ (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی…) کے بعد ازخود متنبہ ہوکر اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح چار فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد رکوع میں جانا ہوتا ہے۔ نمازی بھول کر آیاتِ قرآنی پڑھنا شروع کردیتا ہے (قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ…) فوراً متنبہ ہوجاتا ہے اور رکوع میں چلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی چھوٹی موٹی بھول چوک پر بھی سجدئہ سہو لازم ہے؟
ج: جب فرض اور واجب کی تاخیر ہوجائے یا واجب رہ جائے اور یہ تاخیر اتنی ہو کہ اس وقت میں کوئی رکن ادا کیا جاسکتا ہو تو پھر سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔ قعدہ اول میں جب ایک نمازی تشہد کے قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھ لیتا ہے تو اسے فوراً تیسری رکعت کے لیے اُٹھنا چاہیے۔ اگر وہ تشہد سے فارغ ہونے کے بعد اتنی دیر بیٹھ گیا کہ اس میں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ پڑھا جاسکتا ہو تو پھر سجدئہ سہو واجب ہوگیا کیوںکہ درود شریف کے مذکورہ حروف اتنے ہیں کہ ان سے رکن ادا ہوسکتا ہے، مثلاً رکوع یا سجدہ اتنی مقدار میں تسبیحات سے ادا ہوسکتا ہے۔
۲- تیسری اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ کا پڑھنا جائز ہے۔ لہٰذا تیسری یا چوتھی رکعت میں فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھ لی تو اس سے سجدئہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ اسی طرح سورہ کے چند الفاظ پڑھ لیے تب بھی سجدئہ سہو واجب نہیں ہوتا۔(مولانا عبدالمالک)
س : ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ پیٹ کے تین حصے کیے جائیں: ایک کھانے کے لیے، دوسرا پینے کے لیے، تیسرا خالی رکھا جائے۔ آج کل ڈاکٹرز حضرات کھانا کھانے کے ساتھ پانی پینے کو مضر گردانتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں، جب کہ اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد پانی کے لیے جگہ خالی رکھی جائے۔ براہِ کرم وضاحت فرما دیں؟
ج:مقداد بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَامَلأَ آدَمِیٌّ وِعَائً شَرًّا مِّنْ بَطْنٍ ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ اُکَیْلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہ، فَاِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہٖ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ وَثُلُثٌ لِنَفَسِہٖ (ترمذی: ۲۳۸۰، ابن ماجہ: ۳۳۴۹، صحیح ابن حبان: ۵۲۱۳) کسی آدمی نے پیٹ سے برابر تن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے اپنی پیٹھ سیدھی رکھنے کے لیے چند لقمے کافی ہیں۔ اگر وہ لازماً زیادہ کھانا ہی چاہے تو (پیٹ کے تین حصے کرلے) ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے)۔
علامہ البانیؒ نے اس حدیث کی تخریج اپنی کتاب ارواء الغلیل میں کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث میں بڑی حکمت کی بات بتائی گئی ہے۔ اس میں شکم پُری سے روکا گیا ہے۔ سروے رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل پیٹ کی جتنی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان میں سے زیادہ تر بسیارخوری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ دعوتوں اور تقریبات کو جانے دیجیے، لوگ روزمرہ کے معمولات میں کھانے کا اس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے، وہ کھانے ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اس حدیث سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ آدمی کھانے کے لیے زندہ نہ رہے، بلکہ زندہ رہنے کے لیے کھائے۔
کھانے کے دوران یا اس سے فارغ ہوتے ہی فوراً پانی پینا طبی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ معدے سے ایسے افرازات (secretions) خارج ہوتے ہیں جو ہضمِ غذا میں معاون ہوتے ہیں۔ کھانا معدے میں پہنچتا ہے تو وہ افرازات اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کھانا درست طریقے سے جلد ہضم ہوتا ہے۔ کھانے کے دوران یا اس کے فوراً بعد پانی پی لینے سے ان افرازات کی تاثیر کم یا ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کھانے سے فراغت کے نصف گھنٹے کے بعد پانی پیا جائے۔
مذکورہ بالا حدیث میں کھانے کے بعد فوراً پانی پینے کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بلکہ اس میں صرف یہ بات کہی گئی ہے کہ آدمی اپنے پیٹ کو کھانے سے مکمل نہ بھرلے، بلکہ کچھ گنجایش پانی کے لیے بھی رکھے۔ اب اگر کوئی شخص کھانے سے فارغ ہونے کے کچھ دیر بعد پانی پیے تو اس سے حدیث کی مخالفت نہ ہوگی، بلکہ طبی اعتبار سے یہ بہتر ہوگا۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
یہ ایک یادگار مجلہ ہے، رنگین، دیدہ زیب، زرِ کثیر سے شائع کردہ، جس کی پیش کش دل نواز اور ترتیب و تدوین خوش کن۔ یہ چیزیں تو اور بھی جگہوں پر ہوتی ہیں، مگر اس اشاعت کی اس ثانوی خوبی کے ساتھ اصل خوبی اس کا پیغام اور اس کے مندرجات کی انفرادیت ہے۔ اس مجلے کی خوبی یہ ہے کہ قاری، رواں دواں اسے دیکھتا اور پڑھتا چلا جاتا ہے۔ نئی نسل کے جذبات اور تعمیری اہداف سے واقفیت حاصل کرتا ہے اور مسلم دانش وروں کی تخلیقی سوچ سے متعارف ہوتا ہے۔
مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر جنرل (سابق) ضمیرالدین شاہ کے عالی دماغ نے، دینی مدارس پر یلغار کے بجاے انھیں عمومی دھارے میں لانے کے لیے نومبر ۲۰۱۳ء میں ’’برج (Bridge:پل) کو رس‘‘ کا اجرا کیا۔ یعنی دینی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان ربط و تعاون کی عملی، تدریسی اور تحقیقی صورتوں کی ٹھوس بنیادوں پر تشکیل۔ اس پروگرام کے تحت دینی مدارس کے طلبا و طالبات کو ایسی صلاحیت و قابلیت سے آراستہ کرنے کا اہتمام کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ دینی و علمی میدان میں کارہاے نمایاں انجام تو دیں ہی، لیکن اگر چاہیں تو میڈیکل، انجینیرنگ، انتظامیات اور سائنس کے شعبوں میں بھی داخلہ حاصل کرسکیں۔
مسلکی اور گروہی بنیاد پر دینی مدارس کی تقسیم بڑی واضح ہے۔ اس کورس کے ذریعے، زیرتعلیم طالب علموں کو اس محدود دائرے سے بلند ہوکر وسیع تر بنیادوں پر اُمت ِ مسلمہ کا رہنما بنانا پیش نظر ہے۔جس کے لیے فیکلٹی میں جملہ مکاتب ِ فکر کے فاضل علما بھی شامل ہیں۔ اس کورس کے فاضلین عملی میدان میں کس فکرونظر کے حامل ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اگر اس کورس کی تدریس کے دوران ’تجدد پسندی‘ ،’مداہنت روی‘ اور انکار حدیث و سنت کے سایے گہرے ہوئے، تو سمجھ لیجیے کہ خواب بکھر جائے گا۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔اس ’سووینیر‘ (اُردو،انگریزی) میں بہت سے طلبا و طالبات نے کورس کی تکمیل یا زیرتعلیم ہوتے ہوئے اپنے مشاہدات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ضمیرالدین شاہ صاحب کی کوششیں رنگ لاتی دکھائی دیتی ہیں۔ (سلیم منصورخالد)
زیرنظر کتاب بنیادی طور پر ۷۸-۱۹۷۷ء میں، جنرل محمد ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران صحافت پر گزرنے والی کٹھن رات کی رُوداد ہے۔ اسی طرح تمام مکاتب ِ فکر سے متعلق صحافی کارکنوں کی جدوجہد، مشکلات، قربانیوں اور قیدوبند کی صعوبتوں کی تفصیلات ہیں۔کتاب پر سوشلسٹ گروہ کی گہری چھاپ ہے جن کا طرزِفکر یہ ہے کہ: ’پاکستان کی تاریخ کے تمام مسائل، ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۸ء کے دوران ہی پیدا ہوئے‘۔ اس کتاب میں بھی یہی آہنگ موجود ہے اور جماعت اسلامی کے لیے طعنہ زنی کا اہتمام بھی۔ مگر اس کے باوجود اگر کوئی ایسا مقام آیا کہ جب احفاظ الرحمن کا کوئی ممدوح راستے میں آیا تو اس کو کٹہرے میں لانے کی راہ میں مؤلف نے کوئی ہچکچاہٹ نہیں برتی۔
مثال کے طور پر: ’بھٹو کے دور میں تعزیراتِ پاکستان میں اس قسم کی ترامیم کی گئی تھیں‘ جن کے نتیجے میں الزام لگانے والے پر ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری کے بجاے [اپنی] بے گناہی کا ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دی گئی تھی۔ قانون کے نام پر اس ظالمانہ لاقانونیت کے نفاذ کے خلاف بھی [ہم نے] ملک گیر تحریک چلائی‘‘ (ص۵۱۵)۔ اسی طرح ۱۹۷۴ء میں روزنامہ مساوات میں خودپیپلزپارٹی کی جانب سے صحافی کارکنوں کے خلاف ’بھٹوگردی‘ اور اس کی قیادت کرتے ہوئے عباس اطہر کی یلغار (ص ۵۲۴-۵۳۰) کا حوالہ عبرت ناک ہے۔
اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۷۷ء کے مارشل لا کی فوجی عدالتیں کس انداز سے ’فراہمی عدل‘ کا اہتمام کرتیں اور کیسے خودساختہ گواہوں کے ’حلفیہ‘ بیانات پر، ملزم کو جرح و صفائی کا موقع دیے بغیر کوڑوں اور قید کی سزائیں دیتیں۔
۱۸جولائی سے ۱۲ستمبر ۱۹۷۸ء کے دوران ۲۱۸ صحافی گرفتار ہوئے (ص ۱۹۶-۲۰۸)۔ ان قیدیوں کے خطوط اور رُودادِ اسیری میں بہت سے نکات، جذبے کو مہمیز لگاتے، اور ادب و اظہار کے زاویے نمایاں، دُکھ اور عمل کی راہوں کو واشگاف کرتے ہیں۔(سلیم منصور خالد)
الایام ایک غیر سرکاری ادارے کے تحت شائع ہوتا ہے۔ زیرنظر جنوری تا جون ۲۰۱۵ء کا شمارہ ہے۔ الایامکثیراللسانی رسالہ ہے۔ انگریزی میں دو، فارسی اور عربی میں ایک ایک مضمون شامل ہے۔ یہ مجلہ ایچ ای سی کی منظور شدہ فہرست میں شامل ہے۔
اس میں تاریخ، حدیث، ادب، مصوری وغیرہ کے موضوعات پر وقیع مقالات شامل ہیں، مثلاً: ’صحیح بخاری کے اشکالات اور ان کے حلول‘، ’مسلمان اور فنِ مصوری‘، ’مستشرقین اور ڈاکٹر محمد حمیداللہ‘، ’برصغیر میں قرامطہ کا سیاسی اثرورسوخ‘، ’علامہ راشدالخیری، بحیثیت تاریخ و سیرت نگار‘۔ ’پروفیسر محمد شکیل اوج مرحوم‘ پر چھے مضامین شامل ہیں، جو ان کی شخصیات اور علمی و دینی خدمات کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔
’حضور بے حضوری‘ کے عنوان سے جناب عارف نوشاہی کے عمرے کے دوسفرنامے اپنے اندر علمی اور تحقیقی پہلو رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر نگار سجاد نے کلیم عاجز کا مختصر خاکہ پیش کیا ہے جس میں ان کے ادبی و شعری کمالات بھی سامنے آئے ہیں۔’مطبوعات جدیدہ‘ الایامکا مستقل حصہ ہے۔ محمد سہیل شفیق نے ۱۹ تازہ رسالوں اور کتابوں کا مختصر مختصر تعارف کرایا ہے، اور ’بیادِ رفتگان‘ میں زیباافتخار نے مرحومین کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔
الایام میں موضوعات اور مضامین کا جو تنوع ہے، وہ یونی ورسٹیوں کے رسالوں میں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، چنانچہ اساتذہ اور تحقیق کرنے والے طلبا و طالبات کے علاوہ عام قارئین کے لیے بھی اس میں دل چسپی کا سامان موجود ہے۔ اگر آیندہ اشاعتوں میں مضامین پر مراسلات کا سلسلہ بھی شامل کیا جائے تو مفید ہوگا۔ (رفیع الدین ہاشمی)
نام ور شخصیات جنھیں اہم مناصب پر فائز رہنے اور ملکی تاریخ کے اہم مراحل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہو ان کی سرگزشت یا سوانح تاریخی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ زیرتبصرہ کتاب بھی اسی نوعیت کی ہے۔ یہ ۹۶ سالہ ریٹائرڈ جرنیل اور نام ور سیاست دان جنرل عبدالمجیدملک کی آپ بیتی ہے۔ ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولنے والے عبدالمجید فوج میں سپاہی کلرک کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور ترقی کرتے کرتے جرنیل بنے۔
یوں تو زیر نظر کتاب ایک فرد کی بھرپور زندگی کی کہانی ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ تقریباً ایک صدی کی تاریخ ہے ۔صدی بھی ایسی جس میں جنگ عظیم اوّل و دوم،تحریکِ پاکستان، قیامِ پاکستان اورہجرت جیسے تاریخ ساز واقعات رُونما ہوئے۔ابتداے ملازمت میںانھیں تحریک پاکستان سے دل چسپی پیداہوئی ۔۱۹۴۸ء میں ایک ہفتے کے لیے قائداعظم کے (عارضی) اے ڈی سی بھی رہے۔ مسلم لیگ اور کانگریس کی جن نام وَر شخصیات کو انھیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، ان کا تذکرہ بھی ہے۔
مصنف کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب ذوالفقارعلی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو پاک فوج کا سربراہ بنا دیا تو انھوں نے استعفا دے دیا۔۱۹۸۵ء کے انتخابات میںقومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر میدانِ سیاست میں وارد ہوئے۔
۱۹۵۸ء کے پہلے مارشل لا کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے، تاہم بعد میں وہ مارشل لا کے ناقد رہے اورایک طویل عرصے تک فوجی حکمرانی کے مقابلے میں سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ مصنف کے بقول سانحۂ کارگل کی تمام تر ذمہ داری جنرل پرویزمشرف اور ان کے تینوں ساتھی جرنیلوں پرعائد ہوتی ہے جنھوںنے وزیراعظم نوازشریف اور پوری سیاسی قیادت کو اس آپریشن سے بے خبر رکھا تھا(ص ۲۴۲)۔انھوں نے جہاں پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہاں نوازشریف کے مختارِکل بننے کے شوق کے بھی ناقد ہیں۔ یہ کتاب اہم واقعات و حوادث اور فیصلوں کے گہرے مشاہدے کی داستان ہے۔(حمیداللّٰہ خٹک)
زندگی گزارتے ہوئے اور مطالعہ کرتے ہوئے بہت سے ایسے مسائل سامنے آتے ہیں جن کا بہ ظاہر کوئی اطمینان بخش حل نظر نہیں آتا۔ کسی صاحب ِ علم کی رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ زیرتبصرہ ۱۰۰صفحے کی کتاب میں اسی طرح کے ۳۸ موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ محترم مؤلف نے کتاب و سنت کی روشنی میں اور جدید دور کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے جامع اور مختصر جواب دیے ہیں، جو قاری کو مطمئن کرتے ہیں۔ چند موضوعات درج کر رہا ہوں تاکہ اس مختصر کتاب کی وسعت کا اندازہ ہو: پست انسانی جذبات اور تعلیمی اداروں کی زبوں حالی، اسلام میں محبت کی شادی کا تصور، غیرمسلم فوج میں ملازمت، حبط عمل کا مطلب، اسلام اور جنسی تعلیم، عمر بڑھ سکتی ہے، انسانی کلوننگ کی شرعی حیثیت، روزہ اور ہوائی سفر، بنک کی ملازمت وغیرہ وغیرہ۔ محترم مؤلف نے اظہارِ خیال کیا ہے ، اپنی راے دی ہے، فتویٰ نہیں دیا۔ اسی لیے کتاب کا نام سوچنے کی باتیں مناسب ہے۔ (مسلم سجاد)
آلودگی پوری دنیا کے لیے ایک گمبھیر مسئلے کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ماحول سے دوستی کیجیے، اُردو سائنس بورڈ کی ’اُردو سائنس سیریز‘ کے تحت ایک ایسی کاوش ہے جس میں ایک دل چسپ کہانی کے انداز میں ماحول کی بہتری کے لیے اقدامات اُٹھانے کے لیے رہنمائی دی گئی ہے۔ چین میں کس طرح سے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، ان کا بھی تذکرہ ہے، مثلاً بچوں کو بورڈنگ سکول میں پڑھایا جاتا ہے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک کم ہو اور دھویں سے بچا جاسکے۔ اکثر لوگ ذاتی سواری کے بجاے ٹرین یا سائیکل استعمال کرتے ہیں، نیز ماحول کی بہتری کے لیے لوگ آگے بڑھ کر تعاون کرتے ہیں۔ اسی طرح صحت مند ماحول کے لیے اپنے محلے اور گردونواح کو اپنی مدد آپ کے تحت صاف ستھرا رکھنے، کوڑا کرکٹ کو جلانے کے بجاے ری سائیکل کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
مصنفہ نے بجاطور پر توجہ دلائی ہے کہ ہمیں ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ معاشرتی آلودگی کا بھی سامنا ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ ساتھ اچھی اقدار و روایات کو بھی پروان چڑھایا جائے اور ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں اس کے لیے کام کرے۔ صاف ستھرا ماحول ہی صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔(امجد عباسی)
oتیرا کوئی شریک نہیں، محمد ارشد۔ ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سنٹر، پریس مارکیٹ، امین پور بازار، فیصل آباد۔ صفحات: ۱۷۸۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔[زیرنظر کتاب حج کا سفرنامہ ہے۔ مصنف نے حرمین شریفین کے سفرِسعادت کے تاثرات، مشاہدات اور احساسات نہایت اختصار سے بیان کیے ہیں۔ جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا، سپردِ قلم کردیا ۔ مصنف کو بعض اُمور میں نہایت تعجب ہوا کہ حرمین شریفین میں لوگ نمازیوں کے آگے سے بے تکلف گزر جاتے ہیں (ص۲۶)۔ اُونچی آواز سے روضۂ رسولؐ پر دعائیں مانگتے ہیں۔ موبائل پر اپنے دیس میں کسی عزیز سے کہہ رہے ہوتے ہیں: ’’میں یہاں روضۂ رسولؐ کی جالیوں کے پاس ہوں‘‘ (ص ۳۲)۔ مصنف نے دل چسپ مشاہدات قلم بند کیے ہیں۔ ]
o توہین رسالتؐ: اسباب اور سدّباب ، ڈاکٹر حبیب الرحمن۔ ناشر: ڈی بی ایف، سیرت ریسرچ سنٹر، سی-۲، ہائی لینڈ ٹریڈرز بلڈنگ، سیکنڈ فلور،فیز۲، ڈیفنس، کراچی۔ فون: ۳۵۳۹۵۹۲۸-۰۲۱۔ صفحات:۵۶۔ قیمت: درج نہیں۔[ مغرب میں توہین رسالتؐ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر اس کے اسباب کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیتے ہوئے تحفظ ناموسِ رسالتؐ کے لیے انفرادی، اجتماعی اور حکومتی سطح پر لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔ اسلام مخالف قوتیں توہین ناموسِ رسالتؐ سے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں، ان کا جائزہ بھی لیا گیا ہے اور مؤثر احتجاج کے لیے مثالوں کے ذریعے تجاویز دی گئی ہیں۔ اپنے موضوع پر مفید مطالعہ ہے۔]
o مجلہ السیرۃ ، مدیراعلیٰ: ڈاکٹر حبیب الرحمن، ڈی بی ایف، سیرت ریسرچ سنٹر، سی-۲، ہائی لینڈ ٹریڈرز بلڈنگ، سیکنڈ فلور،فیز۲، ڈیفنس، کراچی۔ فون: ۳۵۳۹۵۹۲۸-۰۲۱۔ صفحات:۴۸۔ قیمت: درج نہیں۔[دلشاد بیگم فائونڈیشن (ڈی بی ایف) کے تحت سیرت ریسرچ سنٹر قائم کیا گیا ہے اور مجلہ السیرۃ کا اجرا کیا گیا ہے۔ مجلے کا مقصد: احیاے سنت اور عظمت سیرۃ النبیؐ کو علمی و تحقیقی تحریک میں بدلنا اور اصلاحِ معاشرہ ہے (اداریہ)۔ رمضان المبارک کی مناسبت سے خصوصی اشاعت پیش کی گئی ہے۔ رمضان کی اہمیت، نبی کریمؐ کے معمولات، رمضان کے تقاضے اور جدید فقہی مسائل وغیرہ زیربحث آئے ہیں۔]
o عورت کیا کچھ کرسکتی ہے؟ خدیجہ نوید عثمانی۔ ناشر: ادارہ بتول، ۱۴-ایف، سیّد پلازا، ۳۰-فیروز پور روڈ، لاہور۔ فون: ۳۷۵۸۵۴۴۹-۰۴۲۔ صفحات: ۶۴۔ قیمت: ۹۰ روپے۔[صحابیاتِ رسولؐ کا دل نشین تذکرہ اور ادبی چاشنی لیے ہوئے ایمان افروز واقعات۔ عورت کے کردار کے مختلف پہلو: ایمان کے لیے تڑپ، تلواروں کی چھائوں میں، راہِ حق میں استقامت و عزیمت کے مراحل اور نیکی میں سبقت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان نقوش سے عمل کے لیے تحریک اور آخرت کی فکر کو تقویت ملتی ہے۔ تاہم قیمت زیادہ ہے۔]
الفرقان پارہ عَمَّ (تیسواں پارہ) جو اس سے پہلے دوچار دفعہ چھپ کر مقبول ہوچکا ہے، احباب کے اصرار پر دیدہ زیب نیاایڈیشن شائع کیا گیا ہے۔ ان خواتین و حضرات کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جو دعوتِ دین میں مصروف ہیں۔ خواہش مند خواتین و حضرات ۶۰روپے کے ڈاک ٹکٹ ارسال کریں۔
براے رابطہ: شیخ عمر فاروق 15-B وحدت کالونی، وحدت روڈ، لاہور ۔ فون: 042-37810845
اسلامی ریاست میں شاتمِ رسولؐ ذمی کی پوزیشن
سوال: راقم نے پچھلے دنوں آپ کی تصنیف الجہاد فی الاسلام کا مطالعہ کیا۔ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ: ’’ذمی خواہ کیسے ہی جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کردینا، مسلمانوں کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا یا کسی مسلمان عورت کی آبروریزی کرنا، اس کے حق میں ناقضِ ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں عقد ِ ذمّہ باقی نہیں رہتا: ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکلے اور دشمنوں سے جاملے، دوسرے یہ کہ حکومت ِ اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کر کے فتنہ و فساد برپا کرے‘‘۔
میری تحقیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی سے ذمّی کا عقد ِ ذمہ ٹوٹ جاتا ہے۔ آپ نے اپنی راے کی تائید میں فتح القدیر ، ج۴، اور بدائع،ص ۱۱۳ کا حوالہ دیا ہے لیکن دوسری طرف علامہ ابن تیمیہؒ نے الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول کے نام سے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے.... حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ ایک یہودیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی کرتی رہتی تھی ۔ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹا، یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ نبی ؐ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا(ابوداؤد)۔ ایک مقامی عالم نے اخبار اہلِ حدیث (سوہدرہ) میں آپ کی اس راے کے خلاف ایک مضمون ’مولانا مودودی کی ایک غلطی‘ شائع کیا ہے اور متعدد علما کے فتاویٰ درج کیے ہیں۔
جواب: یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اس میں دوسری طرف بھی علما کا ایک بڑا گروہ ہے اور اس کے پاس بھی دلائل ہیں۔ اصل اختلاف اس بات میں نہیں ہے کہ جزیہ نہ دینا، یا سبِّ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ہتک ِ مسلّمات قانونی جرم مستلزم سزا ہیں یا نہیں، بلکہ اس امر میں ہے کہ: ’یہ جرائم آیا قانون کے خلاف جرائم ہیں یا دستورِ مملکت کے خلاف؟‘ ایک جرم وہ ہے جو رعیت کا کوئی فرد کرے تو صرف مجرم ہوتا ہے۔ دوسرا جرم وہ ہے جس کا ارتکاب وہ کرے تو سرے سے رعیت ہونے ہی سے خارج ہوجاتا ہے۔ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ: ذمّی کے یہ جرائم پہلی نوعیت کے ہیں۔ بعض دوسرے علما کے نزدیک: ’ان کی نوعیت دوسری قسم کے جرائم کی سی ہے‘۔ یہ ایک دستوری بحث ہے جس میں دونوں طرف کافی دلائل ہیں۔ اخبار اہل حدیث میں جن صاحب نے مضمون لکھا ہے، انھوں نے انصاف نہیں کیا کہ اسے صرف مودودی کی غلطی قرار دیا۔ یہ اگر غلطی ہے تو سلف میں بہت سے اس کے مرتکب ہیں۔ مودودی غریب کا تو صرف یہ قصور ہے کہ [وہ] کسی مسئلے میں مسلکِ حنفی کی تائید کرتا ہے تو اہلِ حدیث سے گالیاں کھاتا ہے اور کسی میں اہلِ حدیث کی تائید کرتا ہے تو حنفی اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔( ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۵۵ئ،ص ۶۱-۶۳)
______________