مضامین کی فہرست


جون ۲۰۲۳

کشمیر کی سب سے قدیم اور تاریخی جامع مسجداب کے برس بھی عید الفطر کے موقعے پر اُداس اور ویران رہی، اپنے نمازیوں کی نمازِ عید اور دید کو ترستی رہ گئی۔ وجہ یہ تھی کہ جبر کی طاقت کے خیال میں ’’کشمیریوں کے اس قدر بڑے اجتماع سے بغاوت پھیلنے اور اندیشۂ نقص امن کا خطرہ ہوتا ہے‘‘۔ اس لیے مجبوراً کشمیریوں نے عید الفطر کے چھوٹے اجتماعات منعقد کیے۔ ایسے ہی کئی اجتماعات کی وڈیو کلپس میڈیا میں گردش کرتی دیکھی جاسکتی ہیں، جن میں جموں کی چناب ویلی کے بھدرواہ علاقے کی ایک سرگرمی نے ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ وہاں سیکڑوں لوگ سبز پرچم لیے گھوم رہے تھے۔ یہ پُرجوش لوگ کورس کی شکل میں اقبال کا انقلابی اور آفاقی کلام پڑھ رہے تھے:

خودی کا سرِ نہاں لااِلٰہ الااللہ
باطل سے دبنے والے، اے آسماں نہیں ہم

چناب ویلی کی یہ سرگرمی جس انداز سے اس بار زبان زدِعام ہوئی ہے، اس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ رسمِ وفا پورے جموں وکشمیر کے قصبوں، دیہات اور شہروں تک وسیع ہوجائے گی، اور آیندہ مزاحمت میں یہی رنگ نمایاں دکھائی دے گا۔چار سال کے بے سود انتظار اور گردوپیش سے مایوس ہو کر صوفی منش عوام اور مجاہد صفت قوم نے اپنے محسن اور فکری رہنما اقبال کو دوبارہ پکار ا ہے، اور اقبال نے مظلوموں اور مقہوروں کا یہ بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا ہے۔ اس طرح ان کی قیامت خیز تنہائی میں وہ اپنی قوم کی مدد کو آگئے ہیں۔

یہ وہی دیس ہے جس کے بارے میں اقبال خود کہتے ہیں:

تنم گُلے زخیابانِ جنّتِ کشمیر
دل از حریمِ حجاز و نواز شیرازاست

میرا جسم کشمیر کی مٹی سے آیا ہے، میرا دل سرزمین حجاز کا ہے اور میرے نغمے ایران کے ہیں۔

پھر وہ کشمیریوں کی حالت ِ زار پر اپنی افسردگی کا اظہا ریوں کرتے ہیں:

آج وہ کشمیر ہے محکوم ومجبور وفقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

آہ یہ قومِ نجیب وچرب ودست وتر دماغ
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر؟

کشمیر میں ڈوگرہ کی شخصی حکمرانی کے خلاف وادیٔ کشمیر کے مسلمانوں میں برپا انقلاب میں کشمیر سے باہر اگر کسی فرد کا بھرپور کردار ہے تو یہ نام اقبال ہی کا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ بیرونی ہمدردوں کی بے تدبیریوں اور غلطیوں کی وجہ سے کشمیری اس انقلاب کی تکمیل سے محروم رہ گئے اور یہ انقلاب عملی شکل میں نہ ڈھل سکا۔ڈوگرہ درندگی سے نکل کر وہ فاشسٹ ہندستان کی غلامی کا شکار ہوگئے اور اقبال کے ہاتھوں برپا کردہ بیداری کا انقلاب ان کے سینوں میں موجزن اورشعلہ بار ہوا۔

اقبال کشمیریوں کی فکری رہنمائی اور ان کی حالتِ زار دنیا تک پہنچانے کے لیے کام کرتے رہے۔انھی کی تحریک پر ہی کشمیری وکلا نے وائسرائے ہند کے نام خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں انگریز سرکار نے ڈوگرہ حکمرانوں کو ایسی اصلاحا ت پر مجبور کیا، جن میں کشمیریوں کے لیے سانس لینے کی آزادی کا حصول ممکن ہوا۔ان خطوط میں اقبال کے استعاروں اور اصطلاحات نے ڈوگرہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ انگریز کو بھی چونکا دیا تھا۔ اقبال، کشمیر کومسلم امت کی تحریک سے جوڑتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔

 پھر ۱۹۳۱ء میں جب اقبال اپنے دوسرے سفر پر کشمیر آئے تو تحقیق کاروں کے مطابق وہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ کشمیر کی وادیوں میں اب آزادی و انقلاب کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ دبے اور کچلے ہوئے عوام میں خوئے بغاوت اور جذبۂ حُریت دکھائی دینے لگا ہے۔ان مناسبتوں کے پس منظر میں کشمیریوں اور اقبال کا ساتھ بہت پرانا اور گہرا ہے۔وہ اس حقیقت سے بخوبی  آگاہ ہیں کہ اقبال کے فارسی کلام میں کوہ ودمن میں آگ لگانے کی صلاحیت ہے۔یہ مُردہ ضمیر اور بے حس وحرکت جسموں کو اُٹھا کر معرکہ زن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران کے انقلاب میں اقبال کے کلام سے رہنمائی کا اعتراف آیت اللہ علی خامنہ ای نے۱۹۸۶ء میں کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ایران کا انقلاب اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔ہم اقبال کے دکھائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں‘‘۔

اور ۱۹۹۰ء میں جب سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا تو تاجکستان کے طول و عرض میں آزادی کی راہ پر چلنے والے ہزاروں افراد اقبال کے اس نغمے پر جھوم رہے تھے:

اے غنچۂ خوابیدہ چو نرگس نگراں خیز
از خوابِ گراں، خوابِ گراں، خوابِ گراں خیز

اے خوابیدہ کلی تو نرگس کے پھول کی طرح آنکھ کھول۔گہری نیند سے، گہری نیند سے، گہری نیند سے جاگ۔

اس روز بی بی سی،لندن نے ’سیر بین‘ پروگرام کا آغاز دوشنبے میں انھی لوگوں کی زبان سے ادا ہونے والے اسی نغمے سے کیا تھا۔آج کشمیریوں پر عتاب کا دور ماضی سے کہیں زیادہ سخت ہے، جب ان کے لیے ایک اور ’گلانسی کمیشن‘ (۱۹۳۲ء)کی ضرورت محسو س کی جارہی ہے، کیونکہ ان کے جمہوری اور انسانی حقوق اور کشمیری اور مسلمان کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت خطرات کی زد میں ہے۔ مگر آج کوئی اقبال موجود نہیں ہے،جس کے لکھے اور بولے ہوئے لفظوں سے جبر کی دیوار میں شگاف ڈالا جا سکے۔المیہ یہ نہیں کہ کشمیری حالات کے جبر کا شکار ہو چکے ہیں اور ہرن، بھیڑیوں کے غول میں پھنس چکا ہے۔ بلکہ المیہ یہ ہے کہ ان حالات میں ان کا مونس اور غم خوار اور ہمدرد ہونے کا  دعوے دار بھی حالات کے آگے سپر ڈال چکا ہے۔

 کشمیری جب بھی حالات کے جبر کا شکار ہوکر تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں، تو اسی دھرتی کے خمیر سے جنم لینے والا ایک نابغہ روزگار ان کی فکری اور عملی مدد کو آتا ہے۔یہ کشمیر کی وادیِ لولاب کا فرزند ہوتاہے، جسے دنیا علامہ محمد اقبال کے نام سے جانتی ہے۔انیسویں صدی میں جب کشمیری شخصی حکمرانی کے جبر کا شکار تھے اور ان کی آواز وادی کے قید خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی تھی۔ بڑے مراکز میں رہنے والوں کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ بانہال کے پہاڑوں کی اُوٹ میں جنّت گم گُشتہ کے باسی کس حال میں ہیں، تو اس ہلاکت خیز تنہائی میں اس دور کے علّامہ محمد اقبال جو اپنے کلام اور فکر وفن کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہوچکے تھے ،اپنی درماندہ حال قوم کی مدد کو آئے تھے۔

علّامہ اقبال نے نہ صرف اپنے آبائی وطن کشمیر اور علاقے لولاب کا دورہ کیا بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے کشمیریوں کو بیدار کرنے کا بیڑا بھی اُٹھایا۔انھوں نے لاہور کے پرانے کشمیریوں کی محفلوں میں کشمیر کے حالات پر بات کا آغاز کیا،لاہور کے اخبارات کو کشمیر کے حالات پر لکھنے اور بولنے کا مسلسل مشورہ دینا شروع کیا۔ایسی ہی ایک محفل میں علامہ نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا:

پنجۂ ظلم وجہالت نے برا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر و بے بال کیا

توڑ اس دست جفا کیش کو یارب جس نے
روحِ آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا

یوں اقبال کی رہنمائی میں کشمیر کے حالات کی خبر وادی کی تنگنائے سے نکل ہندستان کی وسعتوں تک پہنچنے لگی، جس کا مطلب یہ تھا کہ معاملے کی حقیقت انگریز سرکارتک پہنچنے لگی ہے۔شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ انگریز سرکار کے دباؤ پرڈوگرہ حکمران کشمیر میں اصلاحات کے لیے ’گلانسی کمیشن‘ جیسے فورمز کو جگہ دینے پر مجبور ہونے لگے۔ اقبال ایک راہ دکھلا کر دنیا سے چلے گئے، مگر ان کا کلام اور فکر کشمیر میں حُریت اور انقلاب کے شعلوں کومسلسل زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی۔اسی فکری انقلاب کے اثرات اگلے ہی عشرے میں ایک واضح بیداری کی شکل میں اُبھرتے نظر آئے۔

آج کشمیری ایک بار پھر ۱۹۳۰ءکے زما نے میں پہنچ گئے ہیں، بلکہ حالات تو اس سے بھی بدتر ہیں۔وہ ایک بار پھر وادی کے پہاڑوں کے پیچھے قید ہوچکے ہیں۔آزاد دنیا سے ان کے روابط منقطع ہو چکے ہیں۔اگر روابط قائم بھی ہیں تو وہ دل کی بات زبان پر لانے سے قاصر ہیں۔ اس کی پُراثر اور دل دوز منظر کشی بھارت کےThe Wire ٹی وی کی میزبان عارفہ خانم شیروانی صاحبہ نے اس سال جنوری میں اپنے دورۂ سری نگر میں کی تھی۔

جب وہ مائیک اُٹھائے سری نگر کی گلیوں میں لوگوں سے پوچھ رہی تھیں کہ ’’۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے فیصلے کے بعد حالات کیسے ہیں؟‘‘اکثر لوگ تو جواب دینے سے پہلو بچاکر اور نگاہیں جھکا کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتے تھے، مگر انھی لوگوں میں ایک واجبی سے حلیے والے ذہین شخص نے کچھ نہ کہتے ہوئے سب کچھ کہہ دیا۔وہ اگر ایک لفظ بھی نہ بولتا تو تب بھی اس کے چہرے کے تاثرات پوری کہانی سنا رہے تھے۔عارفہ خانم نے مائیک آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ’’ ۵؍اگست کے بعد حالات کیسے ہیں؟‘‘ تو اس شہری کا جواب تھا: ’’ٹھیک ہیں، سب ٹھیک ہے۔حالات اچھے ہیں‘‘۔شاید عارفہ خانم کو اس جواب میں روکھا پن محسوس ہوا،تو انھوں نے کچھ بتانے پر اصرار کیا۔ اس شخص نے زمانے بھر کا کرب اپنے لہجے میں سمیٹتے ہوئے کہا:’’کیا بتاؤں، اب کہنے کو کیا بچا ہے؟ سب کچھ تو چھن گیا۔ جو شخص دن کو بات کرتا ہے، وہ رات کو اُٹھالیا جاتا ہے‘‘۔

یوں دکھائی دیتا ہے کہ اس ماحول میں کشمیر کے لوگ اپنے جذبات کاا ظہا رکرنے سے قاصر ہیں۔ایسے میں اقبال کی فکر اور انقلابی سوچ کو اپنا کرانھوں نے حالات کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے یہ اندازہ بھی ہورہا ہے کہ کشمیری عوام کے جذبات نے اپنے اظہار کے لیے ایک نیاراستہ اور اپنی قیادت کے لیے اپنا فکری رہنما ڈھونڈ لیا ہے۔ ۵؍اگست کے بعد ظلم کے سیاہ بادلوں میں انھوں نے روشنی کا ایک طاقت ور استعارہ تلاش کر لیا ہے:

باطل سے دبنے والے، اے آسماں نہیں ہم

 کلامِ اقبال کورس کی شکل میں عید کے روز گلی کوچوں میں پڑھتے ہوئے گھومنے والے کشمیریوں کے مزاج اور موڈ سے یہی انداز ہ ہورہا ہے۔اب کی بار کشمیر کواقبال کی ضروت بیداری کے لیے نہیں، بلکہ ایک بیدار معاشرے میں احساس کی ایسی چنگاری کو زندہ رکھنے کے لیے ہے۔

قضیۂ کشمیر پر جن دومحققین کی کتابیں آج تک بطورِ حوالہ ایک مقام رکھتی ہیں، وہ سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرٹ کے والد اور اقوم متحدہ میں چیکوسلواکیہ کے سفیر جوزف کاربل اور برطانوی مصنف الیسٹر لیمب ہیں۔

جوزف کاربل (Joseph Korbel) نے ۱۹۵۴ء میں اپنی کتاب Danger in Kashmir (پرنسٹن یونی ورسٹی، نیوجرسی)میں دُنیا کو خبردار کیا تھا کہ یہ قضیہ امنِ عالم کے لیے شدید خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں اقوام متحدہ کی کوششوں میں آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر الیسٹر لیمب [۹جنوری ۱۹۳۰ء- ۱۵مارچ ۲۰۲۳ء]کی کتب: The Crisis in Kashmir 1947-1966 (۱۹۶۶ء)، Kashmir: A Disputed Legacy 1846-1990 (۱۹۹۲ء)، Birth of a Tragedy, Kashmir 1947 (۱۹۹۷ء)،  Incomplete Partition 1947-1948 (۱۹۹۷ء) میں مسئلہ کشمیر اور۱۹۴۷ء میں رونما ہونے والے واقعات پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ انھی ۹۳ سالہ برطانوی مصنف کا ۱۵مارچ ۲۰۲۳ءکو لندن میں انتقال ہوا۔

ڈاکٹر الیسٹر لیمب سے کبھی براہِ راست ملاقات کا شرف تو حاصل نہیں ہوا، مگر ۲۰۱۰ء میں جب بھارت کے مشہور محقق اور کالم نویس اور ’بھارت-پاکستان تعلقات‘ پر ایک اتھارٹی اے جی نورانی نے دو جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب The Kashmir Disputeپر کام شروع کیا، تو انھوں نے مجھے بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کی ذمہ داری سونپی۔ اس مناسبت سے مجھے فون، ای میل وغیر ہ پر ڈاکٹر الیسٹر لیمب سے وقتاً فوقتاً رابطہ کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ان کا کہنا تھا:’’نہ صرف کشمیر بلکہ بھارت- چین سرحدی تنازعے کے سلسلے میں خاص طور پر بھارت میں معروضی تحقیق کا فقدان ہے‘‘۔

پروفیسر لیمب کا کہنا تھا:’’۱۹۶۲ء میں جب چین - بھارت سرحدی تنازع زور پکڑ رہا تھا اور دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے، تو لندن میں پبلک ریکارڈ آفس اور انڈیا آفس لائبریری کے برطانوی آرکائیوز میں مجھ کو متعدد ایسی دستاویزات ملی تھیں، جو بھارتی وزارت خارجہ کے دعوؤں کی یکسر نفی کرتی تھیں۔ مجھ کو لگا شاید بھارتی حکومت کی نگا ہ میںیہ دستاویزات نہیں آئی ہوں گی۔ اس لیے میں نے لند ن میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سینئر اہلکار سے ملاقات کرکے ان کو صورت حال سے آگاہی دی اور بھارتی حکومت کو بھی یہ دستاویزات بھیجیں۔ مگر بعدازاں میں اس نتیجے پر پہنچا کہ بھارتی حکومت کو ان اصل دستاویزات کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ دانستہ تحریف شدہ (tempered) دستاویزات کی بنیاد پر چین کے خلاف اپنا مقدمہ بنا رہے ہیں‘‘۔

 اے جی نورانی نے بھی اپنی کتاب  India, China Boundary Problem میں تذکرہ کیا ہے کہ کس طرح بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو [م: ۱۹۶۴ء]نے چین کے ساتھ سرحدی تنازع کھڑا کرنے کے لیے تمام پرانی دستاویزات اور نقشوں کو تلف کرکے نئی دستاویزات اور نئے نقشے بنانے کا حکم صادرکیا تھا اور پھر اسی حوالے سے ۱۷صفحات پر مشتمل ایک ’خفیہ یادداشت‘ وزارتوں میں تقسیم کی تھی۔

چینی اُمور کے ماہر اور چین میں متعین برطانوی سفارت کار لاینل لیمب، کے ہاں ۹جنوری ۱۹۳۰ء کو چینی صوبے ہیلونگجیانک کے شہر ہاربن میں الیسٹر لیمب پیدا ہوئے۔ انھوں نے پبلک اسکول ہیرو میں تعلیم حاصل کی، جہاں اُن سے تقریباً ۴۰سال قبل جواہر لعل نہرو بھی تعلیم حاصل کرچکے تھے، اور پھر کیمبرج یونی ورسٹی میں تاریخ کا مطالعہ کیا۔ لیمب کا ڈاکٹریٹ مقالہ برطانوی دورِ حکومت میں ہندستان کی سرحدوں اور خاص طور پر چین کے ساتھ حدبندی لائن کے موضوع پر تھا۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں لیمب نے ملایا یونی ورسٹی اور بعد میں آسٹریلیا اور گھانا میں پڑھایا۔ اس دوران انھوں نے کشمیر کی تاریخ پر اپنی پہلی کتاب مکمل کی۔ ۱۹۹۰ءکے عشرےمیں، انھوں نے کشمیر کی ۲۰ ویں صدی کی تاریخ اور خاص طور پر الحاق کے بحران کے بارے میں یکے بعد دیگرے تین مزید تفصیلی کتابیں شائع کیں۔

پروفیسر لیمب کو مسئلہ کشمیر کی قانونی اور سفارتی تاریخ کا ماہر تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں: ’’اگست ۱۹۴۷ءکو جب برٹش انڈیا دو آزاد مملکتوں میں تقسیم ہوگیا، تو جموں وکشمیر کے اُس وقت کے مہاراجا ہری سنگھ [م: اپریل ۱۹۶۱ء]نے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے میں تاخیر کی۔ بعد ازاں اکتوبر کے مہینے میں جب پونچھ اور دوسرے خطوں میں مہاراجا کے خلاف تحریک شروع ہوئی اور پاکستان کے صوبہ سرحد [خیبرپختونخوا]سے مسلح قبائلی جنگجو کشمیر میں داخل ہوئے تو مہاراجا نے نئی دہلی، بھارت سے فوجی امداد طلب کی۔چنانچہ ۲۷؍ اکتوبر کو انڈین فوج کشمیر پہنچی، جس کے بعد مہاراجا نے جموں وکشمیر کا مشروط الحاق بھارت کے ساتھ کیا‘‘__ لیمب ٹھوس حقائق اور دستاویزات کی بنیاد پر ثابت کرتے ہیں کہ ’’بھارتی فوج کی جموں و کشمیر میں دراندازی اور سرینگر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ہی الحاق کی دستاویز پر دستخط لیے گئے‘‘۔

 چند سال قبل جواہر لال نہرو اور اندارا گاندھی کے ایک معتمد خاص آنجہانی جی پارتھا سارتھی [م: اگست ۱۹۹۵ء]کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب نے بھی آزادانہ الحاق کی تھیوری کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی۔ جی پارتھاسارتھی کے بیٹے اشوک پارتھا سارتھی ، جو خود بھی بھارت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں، انھوں نے اپنی کتاب جس کا ٹائٹل GP:1912-1995 تھا، ۲۰۱۸ء  میں شائع کی ہے۔ ان کے مطابق پشتون قبائلی حملے سے ایک ماہ قبل ۲۳ستمبر۱۹۴۷ء ہی کو کشمیر کی بھارت کے ساتھ الحاق کی بساط بچھ چکی تھی۔ راجا ہری سنگھ کے تذبذب کو ختم کرنے کے لیے نہرو نے گوپال سوامی آئینگر [م: فروری ۱۹۵۳ء]، جو جی پارتھا سارتھی کے والد تھے، انھیں ایک خفیہ مشن پر سرینگر روانہ کیا تھا۔ پارتھا سارتھی کا کہنا ہے کہ میرے والد نے سرینگر میں دو دن قیام کیا اور اس دوران وہ مہاراجا کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ بطور ایک ہندو راجا ان کا مستقبل بھارت ہی میں محفوظ ہے۔ کتاب کے مطابق دہلی واپس آکر جب آئینگر، نہرو کو رپورٹ دے رہے تھے تو وزیراعظم نہرو نے برجستہ کہا:ـ’’مجھے یقین تھا کہ تم اچھی خبر لے کر ہی آؤ گے اور یہ صرف تم ہی کرسکتے تھے‘‘___ گوپال سوامی آئینگر کشمیر کے وزیراعظم بھی رہ چکے تھے۔ بھارتی حکومت نے ۱۲ سے ۱۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کے درمیان انڈین آرمی کی ۵۰ویں پیرا شو ٹ بریگیڈ کے ۴کمانڈو پلاٹون اور پٹیالہ پولیس کے دستے کشمیر بھیج دیئے، جنھوں نے سرینگر ہوائی اڈے کو گھیرے میںلیے رکھا۔

ڈاکٹر لیمب نے بھی اپنی کتاب Birth of a Tragedy, Kashmir 1947 کے چھٹے باب میں ’الحاق کی دستاویز‘ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ نا معلوم وجوہ کی بنا پرمبینہ طور پر ’الحاق کی اس دستاویز‘ کو بھارتی وزراتِ داخلہ کی جانب سے ۱۹۴۸ء میں شائع White Paper on States میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اسی طرح نہ یہ ان دستاویزات میں شامل تھی، جو حکومت نے اسی سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجیں تھیں۔ محققین کو بھی اس تک رسائی نہیں دی گئی تھی۔ ۲۰۰۵ء میں جب بھارت میں معلومات کے حق کا قانون پاس ہوا، تو اس حق کو استعمال کرکے میں نے اس ’دستاویزِ الحاق‘ اور سپریم کورٹ رجسٹری سے مقبول بٹ کی کیس فائل کا مطالعہ کرنے کی درخواست دائر کی تھی، اور یہ درخواست قومی سلامتی کا حوالہ دے کر خارج کردی گئی۔

وی پی مینن [م: ۱۹۶۶ء]،جو بھارت سرکار کے ریاستوں سے متعلق امور کے محکمے کے سربرا ہ تھے اور جن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ انھوں نے دستاویز الحاق پر مہاراجا کے دستخط حاصل کیے،وہ اپنی کتاب The Story of The Integration of Indian States (1956)  میں لکھتے ہیں:’’میں ۲۶؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو دہلی سے بذریعہ ہوائی جہاز جموں آیا اور جموں میں ’دستاویزِ الحاق‘ پر مہاراجا کے دستخط لیے اور واپس دہلی چلا گیا‘‘۔مگر لیمب کا کہنا ہے: ’’یہ دعویٰ کسی بھی طرح صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ ۲۶؍اکتوبر کی صبح ہی مہاراجا اپنے خاندان کے ساتھ کشمیر چھوڑ کر جموں کی جانب روانہ ہوا، اور جموں سرینگر شاہراہ، جسے ان دنوں بانہال کارٹ روڈ کہاجاتا تھا،کی حالت دیکھتے ہوئے اور ان عینی شاہدین، جنھوں نے مہاراجا کے کاررواں کو راستے میں جاتے ہوئے دیکھا،کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہاراجا کے لیے شام۷بجے سے قبل جموں پہنچنا ناممکن تھااور چونکہ ان دنوں جموں ہوائی اڈے پر رات کے وقت اُڑان بھرنے اور اُترنے کی سہولت میسر نہ تھی، تو اس زمینی صورتِ حال کے مطابق یہ ناممکنات میں تھا کہ کوئی شخص دہلی سے جموں آئے اور شام کو جموں میں مہاراجا کے دستخط لے کر رات کو ہی واپس دہلی چلاجائے‘‘۔

اس طرح سے انھوں نے مینن کے دعوے کا جھوٹ بے نقاب کردیا۔اتنا ہی نہیں، برطانوی ہائی کمیشن کے ریکارڈLP&S/13/1845b,ff 283-95-India Office Recordsکے مطابق اس وقت کے بر طانوی ڈپٹی ہائی کمشنربرائے بھارت،الیگزنڈر سائمن ۲۶؍اکتوبرکو نئی دہلی میں مینن سے ملے اور انھیں بتایا گیا کہ وہ۲۷؍اکتوبر کو جموں جارہے ہیں، یعنی بھارتی فوج کی لینڈنگ کے بعد ’دستاویز ِالحاق‘ پر دستخط کروانے جا رہے تھے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گورنر جنرل لارڈماؤنٹ بیٹن [م: اگست ۱۹۷۹ء]نے پہلے ہی مہاراجا ہری سنگھ کو فوجی امداد کی یقین دہانی کرائی تھی۔

بھارتی حکومت کی طرف سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر ’دستاویزِ الحاق‘ کی اصل کاپی کو خفیہ رکھنے سے لیمب کی تھیوری کو تقویت ملتی تھی۔ بی بی سی سے تعلق رکھنے والے صحافی اور مصنف اینڈریو وائٹ ہیڈ نے بھی کئی بار اس دستاویز کو دیکھنے اورمطالعہ کرنے کی درخواست کی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔

مجھے یاد ہے کہ دہلی میں ’نیشنل آرکائیوز ‘کے تہہ خانہ کے ایک کونے کی الماری میں بقیہ تمام ریاستوں کی دستاویزاتِ الحاق عوام اور محققین کے مطالعے کے لیے رکھی ہوئی تھیں، مگر ان میں صرف کشمیر کی دستاویز غائب تھی۔ ۲۰۱۰ء میں جب معروف ماہر تعلیم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر اور مؤرخ ڈاکٹر مشیر الحسن [م: دسمبر۲۰۱۸ء]کو ’نیشنل آرکائیوز‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا، تو اے جی نورانی صاحب کے باقاعدہ قانونی مطالبے کی تعمیل کرتے ہوئے انھوں نے اپنے دفتر میں مجھے اس ’دستاویزِ الحاق‘ کا محض مطالعہ کرنے کی اجازت دی، مگر اس کی کاپی یا فوٹو کھنچنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’آخر بھارتی حکومت اس کو کیوں خفیہ رکھنا چاہتی تھی؟ ‘‘

ڈاکٹر مشیرصاحب بھی اس پر حیران و پریشان تھے۔ تاہم ۲۰۱۶ء میں رائٹ ٹو انفارمیشن مہم چلانے والے کارکن وینکٹیش نائک نے اس دستاویز تک باقاعدہ رسائی حاصل کی۔ دستاویز کے آخر میں گورنر جنرل کے دستخط سے قبل ٹائپ کیا ہوا ’اگست‘ کاٹ کر ہاتھ سے سبز روشنائی سے ’اکتوبر‘ کیا گیا ہے۔ ان کے دستخط بھی سبز روشنائی میں ہیں۔ مگر دستاویز کے اندر نیلی روشنائی میں خالی جگہ کو پُر کرکے ’اندر مہندر راجیشور شری ہری سنگھ والی جموں و کشمیر‘ لکھا گیا ہے اور ٹائپ شدہ ۲۶؍اگست کاٹ کر اکتوبر کیا گیا ہے۔ اس ساری جعل سازی کی ایک یہ توضیح کی جاسکتی ہے کہ شاید گوپال سوامی آئینگر نے ستمبر ہی میں مہاراجا ہری سنگھ سے دستاویز پر دستخط حاصل کیے ہوں گے، اور اکتوبر میں گورنر جنرل سے دستخط حاصل کیے گئے۔ یعنی یہ دستاویز پہلے ہی شاید دہلی میں موجود تھی، مگر یہ وضاحت بھی گھماپھرا کر کہانی کاری سے زیادہ وزن نہیں رکھتی۔

پروفیسر الیسٹر لیمب کو ممتاز تاریخ دانوں میں شمار کیا جائے گا۔ اسکالر ایان کوپلینڈ کے مطابق ’’ان کو مکمل تحقیق اور تفصیل حاصل کرنے میں ملکہ حاصل تھا‘‘۔ پرشوتم مہرا نے انھیں امتیازی اور عظیم مؤرخ قرار دیا ہے، ’’جن کا کام،اُن کی بے پناہ محنت اور حددرجہ باریک بینی سے باوزن تھا‘‘۔ معروفمصنف وکٹوریہ شوفیلڈ کے مطابق ’’لیمبنے کامیابی کے ساتھ اہم مسائل اور غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کام حقائق سے اتنا بھرپور ہے کہ ہر باب کے ساتھ اضافی نوٹ فراہم کیے گئے ہیں‘‘۔ لیوراس ایچ منرو کا کہنا ہے کہ ’’لیمب نے کشمیر کی مستند تاریخ لکھی ہے اور کشمیر کو پیچیدگیوں کے گرداب میںڈالنے کے لیے اپنے ہم وطن ماؤنٹ بیٹن کو موردِ الزام ٹھیرایا ہے‘‘۔  وکٹرکیرن کے مطابق: ’’لیمبجنوبی ایشیا  پر ایک اعلیٰ ترین اتھارٹی ہے‘‘۔ مؤرخ ہیو ٹنکر نوٹس کا کہنا ہے: ’’اگرچہ لیمب نے کشمیر کی سیاسی تاریخ کو ماہرانہ انداز میں بیان کیا ہے، مگر بھارتی محققین ان کی تھیوری کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔ مؤرخ سری ناتھ راگھون کا کہنا ہے: ’’یہ دریافت لیمب کے ہی سر جاتی ہے کہ کشمیر کے الحاق کے معاہدے پر ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو بھارتی فوجوں کے اُترنے کے بعد ہی دستخط ہوئے تھے‘‘۔

بلاشبہہ آج ان تھیوریوں کی محض ایک علمی قدر ہی رہ گئی ہے۔ جس طرح جوزف کاربل نے ۱۹۵۴ءمیں کشمیر کو عالمی امن کے لیے ایک خطرہ بتایا تھا، و ہ خطرہ اور عوامل آج بھی برقرار ہیں اور ان میں کچھ زیادہ ہی شدت آگئی ہے ۔کیونکہ اس خطے کے تین ممالک بھارت، پاکستان اور چین، جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور کسی کشیدگی کی صورت میں یہ پورا خطہ تباہ و برباد ہوسکتا ہے۔

پروفیسر الیسٹر لیمب اپنی کتاب Incomplete Partition  کے اختتام پر لکھا ہے:’’ہرفردکا ایک نکتے پر دوسروں کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ تاہم، یہ ضروری ہے کہ مسئلے کے تمام پہلوؤں پربحث کرکے ان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ میری تحقیق کا مقصد کشمیر پر کوئی پتھر پر لکیر کھنچنا نہیں ہے، بلکہ تاریخی اور دستاویزی شوا ہد کو سامنے لاکر ان پر بحث کروانا ہے‘‘۔ بلاشبہہ ایک معروضی بحث و مباحثہ کروانا ہی مؤرخ کشمیر الیسٹر لیمب کے لیے سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا۔

خطۂ بنگال دعوتِ حق سے وابستہ یادوں، عزیمتوں اور قربانیوں کی سرزمین ہے۔ پہلے یہ مشرقی پاکستان تھا اور اب بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔ وہاں تحریک اسلامی کے تابندہ نقوش کی ایک تاریخ ہے، جسے محفوظ کرنا ہم پر قرض ہے۔ آج بنگلہ دیش، تحریک اسلامی سے وابستگان کے لیے قید، تعزیر اور تختۂ دار سے منسوب ایک خطہ ہے، جہاں قدم قدم پر ظلم کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ اسی سرزمین پر قیامِ پاکستان کے تین سال بعد تحریک اسلامی کے ایک نوعمر طالب علم محبوب الٰہی نے تعلیمی دُنیا میں دعوتِ دین سے منسوب کھجور کا پودا لگایا تھا۔ یہی محبوبِ الٰہی ۹۱برس کی عمر فانی گزار کر، یکم مئی ۲۰۲۳ء کو ربِّ جلیل و کریم کے حضور پیش ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے مقربین میں مقام عطا فرمائے، آمین۔

 خواجہ صاحب کے آباواجداد کشمیر اور سہگل برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم، رہائشی تعلق پنجاب کے ضلع جہلم، پنڈ دادن خاں سے تھا۔ محبوب الٰہی جولائی ۱۹۳۲ء میں پیدا ہوئے ۔ بچپن کا ابتدائی حصہ اپنے والدین کے ساتھ پٹنہ ، گریڈی ( بہار) اور کلکتہ میں گزارا۔ شدید بیماری کے دوران کلکتہ میں والدین نے ان کی تعلیم کے لیے گھرپر ہی انھیں ایک اتالیق محمدرفیق شبلی کی نگرانی میں دے دیا۔ رفیق صاحب مولانا مودودی کی کتب کے شیدا تھے۔ انھوں نے اپنے طالب ِ علم محبوب الٰہی کو مولانا مودودی کی تحریریں پڑھنے کے لیے دیں اور اسلام سے عملی وابستگی کی شاہراہ پر گام زن کردیا۔ قیامِ پاکستان کے زمانے میں محبوب صاحب والدین کے ہمراہ آبائی وطن آگئے۔

آپ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے بالکل ابتدائی  زمانے کے رفقا میں سے تھے۔ ۱۹۵۰ء میں اپنے نانا محمد امین صاحب کے ہاں مشرقی پاکستان چلے گئے، جنھوں نے پٹ سن کی مصنوعات کے لیے ’امین جیوٹ مل‘ قائم کر رکھی تھی۔ محبوب صاحب نے خطبات، سلامتی کا راستہ اورشہادتِ حق سے دعوتِ حق کی جو روشنی حاصل کی تھی، اسے بانٹنے کے لیے انھوں نے ڈھاکا شہر کے علاوہ مشرقی پاکستان کے دوسرے شہروں چٹاگانگ،راج شاہی، کھلنا، میمن سنگھ سے چیدہ چیدہ طلبہ کو جمع کرکے اسلامی چھاترو شنگھو (اسلامی جمعیت طلبہ) قائم کی۔اسلامی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان کے ناظم کی حیثیت سے لاہور میں منعقدہ چوتھے سالانہ اجتماع ۲،۳،۴ نومبر ۱۹۵۱ء [دہلی مسلم ہوٹل، انارکلی، لاہور]میں شرکت کی ۔ پھر کچھ مدت میں باقاعدہ کوشش کرکے تنظیمی ذمہ داریاں مقامی بنگالی رفقا کے سپرد کیں۔ اپنے بعد سید محمد علی کو مشرقی پاکستان جمعیت کا ناظم مقرر کیا اور کچھ عرصہ بعد ڈھاکا جمعیت کا ناظم قربان علی صاحب کو بنایا ۔یہ خواجہ صاحب کی مردم شناسی کا ثمر تھا کہ اس زمانے میں سید محمد علی، عبدالجبار، شاہ عبدالحنان (بعد میں اسٹیٹ بنک کے ڈپٹی گورنر )،اور فیاض الدین جیسے مثالی کارکن نظم جمعیت میں آئے اور مستقبل میں تحریک اسلامی کو ایک دانش ور اور عملی قیادت فراہم کرنے کا ذریعہ بنے۔ اسی طرح خواجہ صاحب جمعیت کی دعوتی اور تنظیمی کاوشوں کو وسعت دینے اور جملہ مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے صف اول میں کھڑے رہے ۔

۱۹۵۶ء میں، ڈھاکا یونی ورسٹی سے ایم اے اکنامکس کیا، اور اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن اسکول آف اکنامکس سے گریجوایشن کی، اور لندن ہی سے چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کا امتحان پاس کیا۔ خواجہ محبوب صاحب نے برطانیہ میں جماعت اسلامی کے پہلے نمایندہ فرد کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا ۔ اسلامک کلچرل سنٹر، بیکرسٹریٹ میں درسِ قرآن کا حلقہ قائم کیا، اور مصر سے اخوان المسلمون کے وابستگان سے ربط و تعلق قائم کیا۔ یہ سلسلہ ’یوکے اسلامک مشن‘ سے بھی پہلے تحریک اسلامی کی کونپل ثابت ہوا۔ انھی کوششوں کے نتیجے میں آج لندن کی سب سے بڑی مسجد کا انتظام بنگالی رفقا بڑے مثالی طریق پر چلا رہے ہیں، جسے اِن نوجوانوں نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا تھا۔ یہیں آج کل ’ریسرچ اینڈ آرکائیوز سنٹر‘ ممتاز محقق، جناب جمیل شریف کی زیر نگرانی کام کر رہا ہے ۔

اسی قیام کے دوران خواجہ صاحب نے ڈھاکا سے جمعیت کے ہونہار لیڈر قربان علی صاحب کو لندن بلاکر بیرسٹری کا امتحان دلانے میں فراخ دلانہ تعاون کیا۔  بیرسٹر قربان علی مرحوم بڑے جذبے سے اس واقعے پر شکر گزاری کا اظہار کیا کرتے تھے ۔ خواجہ صاحب قیامِ لندن کے دوران ہفت روزہ ایشیا لاہور (مدیر: نصراللہ خاں عزیز) میں باقاعدگی سے ’مکتوب لندن‘ لکھتے رہے، جو معلومات اور راست تجزیے کا مرقع ہوتا تھا۔ لکھنے کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے لندن کے مختلف اخبارات کو بعض اوقات مراسلے اور مختصر مضامین اپنے قلمی نام Saigal (سیگل) سے بھیجے، جو اشاعت پذیر ہوئے۔ پروفیسر احمد شاہ بخاری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا کہ انھوں نے کیمبرج میں قیام کے دوران لندن کے اخبار کو مضمون بھیجا، جو نہ چھپا، لیکن پھر وہی مضمون چند روز بعد ’پطرس‘ کے نام سے بھیجا تو شائع ہوگیا۔(یہ ہے یورپ کا نام نہاد ’غیرمتعصب‘ پریس!)

خواجہ صاحب تعلیم مکمل کرکے دوبارہ مشرقی پاکستان ہی منتقل ہو گئے اور امین جیوٹ ملز کے شعبۂ حسابات سے منسلک ہوئے اور باقی وقت تحریکی مصروفیات کے لیے وقف کیا۔۱۹۶۵ء میں خواجہ محبوب الٰہی نے ڈھاکا میں جماعت اسلامی کے امیرخرم جاہ مراد اور اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر خورشید احمد کو تجویز پیش کی کہ اگر مولانا عبدالرحیم صاحب، امیرجماعت اسلامی مشرقی پاکستان کو تنظیمی ذمہ داریوں سے فراغت دلائی جائے اور وہ پورا وقت تفہیم القرآن کو بنگالی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے مختص کردیں، تو اس ضمن میں تمام مالی اخراجات کو وہ ذاتی طور پر ادا کریں گے،اور اس مد کے لیے پانچ سو روپے ماہانہ اعانت دیں گے  (یاد رہے ، تب ایک سو بیس ، پچیس روپے تولہ سونا ہوا کرتا تھا)۔  پھر ۶۷- ۱۹۶۶ میں اس تجویز پر عمل شروع ہوا ،اور مولانا عبدالرحیم صاحب نے یہ کارنامہ بہت تیزی اور کمال درجے محنت سے مکمل کردیا۔

۱۹۷۱ء میں عوامی لیگ کی بغاوت کے دوران شرپسندوں نے امین جیوٹ مل لوٹ لی اور خواجہ صاحب بہت مشکل حالات میں واپس مغربی پاکستان آئے ۔یہاں فیملی کے صنعتی اور کاروباری اداروں میں بطور معاشی مشیر ذمہ داریاں ادا کرنے لگے۔ پھر ’نیلم گلاس‘ اور ’لائنر پاک جیلاٹین‘ (کالا شاہ کاکو) پراجیکٹ کو کامیابی سے چلایا ۔

آزاد جموں و کشمیر میں ۱۹۷۲ء کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام عمل میں آیا، جب کہ  ۱۳جولائی ۱۹۷۴ء کو جماعت اسلامی نے مولانا عبدالباری کی قیادت میں یہاں کام کا آغاز کیا۔ قبل ازیں جماعت کے افراد زیادہ تر مسلم کانفرنس ہی کی تائید و حمایت کرتے تھے۔ یوں اس پارٹی سے وابستہ افراد کے بیٹے جمعیت کی طرف رجوع کرنے لگے۔ تاہم ۱۹۷۶ء میں ذوالفقارعلی بھٹو صاحب کے دورِ حکومت میں مسلم کانفرنس بے جا پریشانی کا شکار ہوگئی۔ اس کے قائدین اپنے بیٹوں پر ناروا دبائو ڈالتے ہوئے، بھرے جلسوں میں انھیں کھڑا کرکے ’’جمعیت میں شمولیت سے توبہ کرانے‘‘ لگے۔ یہ حالات دیکھ کر خواجہ محبوب الٰہی صاحب نے آزاد کشمیر جمعیت کے ناظم رائومحمداختر کو بلاکر کہا: ’’یہ تو بڑی ناپسندیدہ صورتِ حال ہے‘‘۔ رائو صاحب نے بتایا: ہمارا تو مسلم کانفرنس سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، لیکن اس طرح دعوت کا کام اور کشمیرکاز ضرور متاثر ہوگا‘‘۔ خواجہ صاحب نے کہا: ’’ٹھیک ہے کوشش کرتا ہوں کہ معاملات سلجھ جائیں‘‘۔ اس ملاقات کے صرف دوروز بعد خواجہ صاحب نے کشمیر جمعیت کے ناظم کو پیغام بھیجا کہ ’’میں نے سردار عبدالقیوم خاں صاحب اور سردار سکندر حیات صاحب کو گھر کھانے پر دعوت دی ہے، آپ بھی آجائیں‘‘۔ آزاد کشمیر جمعیت کے ناظم اور جمعیت کے ناظم اعلیٰ اس دعوت میں شریک ہوئے۔ اس طرح بڑے خوش گوار ماحول میں خواجہ صاحب نے بے جا گریز اور تلخی کو ختم کرادیا، یوں دس بارہ برس تک فضا اطمینان بخش رہی۔

پاکستان بننے کے فوراً بعد جن پانچ چھے نوجوانوں کو مولانا مودودی نے شفقت سے نوازا، خواجہ صاحب ان خوش نصیبوں میں شامل تھے ، جب کہ دیگر نوجوانوں میں اسرار احمد،ظفر اسحاق انصاری ،خرم مراد، خورشید احمد اورحسین خان نمایاں تھے۔ انھوں نے اپنی والدہ اور مولانا مودودی کے ہمراہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ، اور حج کے دوران ان کی خدمت گزاری کی ۔

خواجہ صاحب، جماعت کے رسائل و جرائد کی مالی اعانت بڑے تسلسل سے کرتے۔ تحریک کی مختلف ذیلی تنظیموں کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے، مشورے دیتے، نئے منصوبوں کی افادیت پر گفتگو کرتے، حوصلہ بڑھاتے اور دل کھول کر مالی امداد کرتے تھے۔ جہاد افغانستان کے دوران صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں خوب معاونت کی۔ درجنوں ذہین نوجوانوں کو میڈیکل، انجینئرنگ اور سائنس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مسلسل وظائف دیے۔ جہادکشمیر کے لیے مالی وسائل مختص کیے۔ حزب المجاہدین جموں و کشمیر کے سربراہ سیّد صلاح الدین نے بجا طور پرکہا: ’’خواجہ صاحب ایک خدا ترس اور جودوسخا کا پیکر تھے۔ خصوصاً بھارتی مظالم کے مارے ورثا، مہاجرین اور محبوسین کشمیر کے حوالے سے انتہائی متفکر رہتے تھے اور مالی اعانت کرنے میں پیش پیش ہوتے تھے‘‘۔ خواجہ صاحب کی اہلیہ سلمیٰ یاسمین نجمی صاحبہ نے پہلے خواتین کے ماہ نامہ بتول  اور پھر عفت  کو بڑی باقاعدگی اور بلند معیارپر شائع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ خواجہ صاحب کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے ، آمین!

پاکستان میںوقتاً فوقتاً بہت سی عجیب چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور حیرت کے سمندروں میں ڈبو دیتی ہیں۔عقل، منطق، اخلاق اور شعور ماتم کرتے رہ جاتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کی صورت میں دیکھنے میں آیا۔

’پیمرا‘ نے اے آروائی چینل کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی۔ مسئلہ یہ تھا کہ ۲۰۲۰ء میں مذکورہ چینل پر ایک ڈراما ’جلن‘ کے عنوان سے چل رہا تھا، جس میں ایک بہنوئی اپنی بیوی کی چھوٹی بہن سے عشق میں مبتلا دکھایا گیا تھا۔ پھر کہانی اور ڈرامے کے لوازمات پورا کرنے کے لیے اخلاق باختگی و بے حیائی کا پورا طرزِ بیان اپنے مناظر کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ ’پیمرا‘ کے چیئرمین نے عوامی حلقوں کے رَدعمل کے جواب میں اس ڈرامے پر پابندی لگادی۔ چینل نے سندھ ہائی کورٹ میںاستدعا کی کہ پابندی ہٹائی جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے فنی بنیادوں پر یہ کہہ کر پابندی ہٹادی کہ ’’پابندی عائد کرنے کے لیے سیکشن ۲۶ کے ضابطے پر عمل نہیں کیا گیا‘‘، جس پر ’پیمرا‘ نے چینل کے خلاف، سپریم کورٹ میں اپیل کردی، جہاں سے ڈھائی سال بعد ۱۲؍اپریل ۲۰۲۳ء کو دورکنی بنچ، مشتمل بر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک نے متفقہ طور پر ’پیمرا‘ کا موقف مسترد کردیا اور اے آر وائی چینل کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

اس فیصلے میں تین نکات پر زور دیا گیا ہے:l’پیمرا‘ عوامی نمایندوں پر مشتمل ایک وفاقی اور صوبائی شکایات کے لیے کونسلیں بنائے۔  lشکایات کی کونسلیں کسی پروگرام پر پابندی کے لیے معیار مقرر کریں lفحاشی اور بیہودگی کی کیا تعریف ہے؟

بلاشبہہ کسی بھی ڈرامے پر پابندی کی مختلف وجوہ میں بنیادی پہلو اخلاقیات کی مناسبت سے سامنے آتا ہے ، جب کہ ایک مسلم معاشرے میں اخلاقیات کا قانون اور ضابطہ: قرآن، سنت، فقہ اور تاریخی نظائر کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ سے ایسی کوئی رہنمائی نہیں دی گئی کہ  ان کی نسلوں میں دینی اُمور کے ماہرین کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ عمومی حکم کی بنیاد پر یہی امکان ہے کہ معروف این جی اوز کے زیراثر اور دین بے زار لوگ ہی ایسی کونسلوں کے کرتا دھرتا بن کر فیصلے کریں گے، جیساکہ عام طور پر ہوتا آرہا ہے۔

اس فیصلے پر کلام کرتے ہوئے شریعت اور قانون کے پروفیسر محمد مشتاق صاحب کہتے ہیں:  ’’اے آر وائی کا بنیادی اعتراض تو یہ تھا کہ ’پیمرا‘ نے پابندی لگانے کےلیے اس قانونی طریقِ کار پر عمل نہیں کیا، جو ’پیمرا‘ کے قانون میں طے کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ نے اس اعتراض کو قبول کیا ہے کہ قانون میں وضع کردہ طریقِ کار کی پابندی ضروری ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے اس سے آگے بڑھ کر ایسی بحث شروع کی ہے ،جس کی ضرورت نہیں تھی اور پھر اس بحث میں کئی بنیادی اور اہم اُمور کو نظر انداز کردیا ہے، جن پر بات کیے بغیر وہ بحث مکمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ ’برداشت‘ ( Tolerance)سب سے اہم 'آئینی قدر ہے اور اس معیار پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ لیکن فاضل ججوں نے یہ نہیں بتایا کہ ’برداشت‘ سے مراد کیا ہے اور برداشت کی وسعت اسلامی اصولوں سے طے کی جائے گی یا مغربی/سیکولر/لبرل مفروضات سے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے اور، بدقسمتی سے، اس پر بہت ہی عمومی، ادھوری اور سطحی نوعیت کی گفتگو کی گئی ہے‘‘۔

یاد رہے، آج کی دُنیا میں ’Tolerance ‘(برداشت) کوئی مجرد لغوی لفظ نہیں ہے بلکہ لبرل ازم کی ایک سوچی سمجھی اور پورے پس منظر کو لیے سیاسی و تہذیبی اصطلاح ہے، جس کا مخصوص ہدف، مفہوم اور متعین ایجنڈا ہے۔

فیصلے کے پیراگراف ۲۴ میں فاضل ججوں نے تحریر فرمایا ہے: ’برداشت‘ ایک کثیرالجہتی تصور ہے، اور عام طور پر اس سے مراد افراد یا گروہوں کے درمیان رائے، عقائد، رسم و رواج اور طرزِعمل میں اختلاف کو قبول کرنا، اور ان کا احترام کرنے کی صلاحیت رکھنا اور ان سے راضی ہونا شامل ہے۔ اس میں نسل، مذہب، ثقافت، جنس(gender)، جنسی رجحان (sexual orientation)، سیاسی نظریہ اور انسانی تنوع (diversity)کے دیگر پہلوئوں میں فرق اور اختلاف شامل ہوسکتا ہے‘‘___ صاف نظر آتا ہے کہ فیصلے میں اس اصطلاح کو ’جنس اور جنسی رجحان‘ سے منسوب کرکے، اباحیت پسندی کے پورے فلسفے کو زیرغور لائے بغیر فیصلے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کے مضمرات کا اندازہ نہیں لگایا گیا۔

پروفیسر محمد مشتاق صاحب کے مطابق: ’’دلچسپ بات یہ ہے کہ فاضل ججز نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ ’اظہارِ رائے کی آزادی‘ کے حق پر کئی حدود و قیود قانون کے تحت لگائی جاسکتی ہیں اور یہ کہ ان حدود میں وہ بھی ہیں جو 'اسلام کی عظمت کے مفاد میں لگائی جاسکتی ہیں( یہ ترکیب آئین کی اسی دفعہ میں مذکور ہے جس میں اظہار رائے کی آزادی کے حق کی ضمانت دی گئی ہے)۔ پھر کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ ۲۰صفحات پر مشتمل اس پورے فیصلے میں ایک بھی قرآنی آیت، حدیثِ نبویؐ یا اسلامی اصول کا ذکر تک نہیں کیا گیا!

اسی طرح فاضل ججز نے ’جنسی رجحان‘ کا بھی ذکر کیا ہے، حالانکہ ’جنسی رجحان‘ پر مقدمے کے فریقوں کی جانب سے بحث ہی نہیں کی گئی! کیا فاضل ججز نے یہ ترکیب استعمال کرنے سے قبل جنس اور صنف کے متعلق آئینی دفعات پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا، جہاں بظاہر جنس اور صنف میں کوئی فرق نہیں ہے اور جہاں ’جنس‘ ہو یا ’صنف‘، اس کی بس دو ہی قسمیں ذکر کی گئی ہیں؟ جو لوگ ’جنس ‘اور’ صنف‘ میں فرق کرتے ہیں یا دو سے زائد جنسوں یا صنفوں کے قائل ہیں، ان کے خلاف تشدد کا عدم جواز ایک الگ امر ہے، لیکن ان اُمور کو بحث میں لائے بغیر فاضل جج یہ ترکیب کیسے استعمال کرسکتے تھے؟ یقینا اپنے نظریاتی پس منظر کی وجہ سے فاضل ججز نے ایسا ضروری سمجھا ہوگا، لیکن آئین و قانون کی رُو سے ان کےلیے مناسب طریقہ یہی تھا کہ ایسے اُمور پر کوئی بات کہنے سے قبل پوری بحث تو ہونے دیتے اور پھر اس بحث کا تنقیدی تجزیہ کرکے اپنی رائے دیتے۔ ایسا کیے بغیر اپنی مرضی فیصلے میں شامل کرنا درست نہیں ہے۔

’’فیصلے کا یہ حصہ غیر ضروری اور غیر متعلق سہی، لیکن اب اسی حصے کو معاشرے کے بعض افراد سپریم کورٹ کے فیصلے کے طور پر پیش کرکے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کریں گے اور کون اس بحث میں پڑے گا کہ آئینی و قانونی لحاظ سے اس حصے کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔

چونکہ اس فیصلے میں کئی ایسے امور ہیں جو واضح طور پر درست نہیں ہیں، اس لیے اس کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی جانی چاہیے، جس میں درج ذیل اُمور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے:

  • اظہارِ رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حقوق کی حدود۔
  • ان حقوق پر عائد ہونے والی ان قیود کی وسعت، جو اسلام کی عظمت کے مفاد میں کسی قانون کے تحت عائد کی جاسکتی ہیں۔
  • اسلامی جمہوریہ پاکستان میں فحاشی اور آرٹ کے مفہوم کا تعین اسلامی اصولوں کی روشنی میں۔ کیونکہ اس اسلامی جمہوریہ میں تمام قوانین کی اسلام کی روشنی میں تدوین اور تعبیر ضروری ہے۔
  • '’جنسی رجحان‘ کی ترکیب کا مفہوم اور اس کی حدود کا تعین اسلامی اصولوں کی روشنی میں۔
  • میڈیا، سوشل میڈیا اور اظہار و بیان کے تمام پلیٹ فارموں پر اس فیصلے کے مضمرات پر بات ہونی چاہیے،اور رائے عامہ بیدار کرنی چاہیے۔

نظر ثانی کی درخواست مقدمے کا فریق ہی دائر کرسکتا ہے، لیکن اگر ’پیمرا‘ کو اس سے دلچسپی نہ ہو، تو پھر اس موضوع پر آئین کی دفعہ ۱۸۳ (۳) کے تحت باقاعدہ درخواست دائر کی جانی چاہیے۔ یہ ہے وہ بنیادی سوال جس پر اسلامی تشخص کے حوالے سے فکر مند تمام لوگوں کو غور و فکر اور بحث کی ضرورت ہے۔

’’خدا جانے میں نے ایسی کون سی خطا کی تھی جو تم جیسی نالائق اولاد سے مجھے نوازا‘‘۔

’’میری ساری اولاد نالائق نکل گئی‘‘۔

’’مجھ سے دوبارہ اس طرح بات مت کرنا، ورنہ تمھاری زبان کھینچ لوں گا‘‘۔

’’جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ جب تک معاف نہ کر دوں، تم جہنم میں رہوگے‘‘۔

یہ چند ایسے جملے ہیں، جو اکثر ہمارے آس پاس بدسلوکی کے شکار اور نظرانداز کیے جانے والے بچے اپنے والدین یا بزرگوں سے سنتے رہتے ہیں۔ زبانی بدسلوکی یا جسمانی تشدد، اکثر اوقات نادانستہ طور پر سرزد ہو جاتا ہے اور ہمیں اس کے خطرناک اثرات کا علم تک نہیں ہوتا۔

بچوں کے ساتھ بدسلوکی کو نظرانداز کرنے کے دُور رس اثرات ہوتے ہیں۔ ایسی بدسلوکی کا شکار شخص جوانی بلکہ بڑھاپے تک اس کے اثر سے نہیں نکلتا، اور نتیجے کے طور پر زندگی بھر دوسرے انسانوں کو جلاتا، گھلاتا اور تباہ کرتا رہتا ہے۔ ایسا رویہ اگر مذہبی گھرانے یا افراد کے ہاں پایا جائے تو متاثرہ بچہ، خود اسلام سے بے زار ہوسکتا ہے،اور بہت سی صورتوں میں ایسا دیکھا گیا ہے۔

اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں والدین یا خاندان کے بزرگوں کی طرف سے بچوں کے ساتھ بدسلوکی، بد تمیزی اور تشدد کو جائزبلکہ ان کی تربیت کے لیے ایک مناسب عمل تصور کیا جاتاہے، حالانکہ یہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا روگ ہے جو مستقل ہمارے گھر اور خاندان کو تباہ کر رہا ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔

والدین کے ساتھ ساتھ دیگر رشتہ داروں کی جانب سے بھی کئی مرتبہ اس قسم کا رویہ روا رکھا جاتا ہے، مگر خاندان کی عزت کے نام پر ہم خاموش رہتے ہیں اور اس کا نوٹس تک نہیں لیتے۔ یقین جانیے اس طرح کے ظلم اور اذیت کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو بچے کو اس کی بڑھتی عمر کے دوران منفی طور پر متاثر کر سکتے ہیں، جس کے اثرات اس کی ذہنی یا جسمانی صحت پر بھی پڑسکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں تو خیر اسے کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا، لیکن مغرب میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے چند طویل مدتی مطالعات کیے گئے ہیں،جن میں سے چند ایک کے نتائج کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے:دماغی نشوونما میں خرابی، زبان میں بگاڑ اور تعلیمی معذوری کا باعث بننا، خراب جسمانی صحت جیسے دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی سنگین بیماریوں کا شکار ہونا۔ نفسیاتی مرض، کمزور اعصاب اور سماجی مشکلات کا پیدا ہونا۔ ڈیپریشن یا مسلسل مایوسی کا شکار ہونا، بے چین رہنا ، کسی لت میں پڑ جانا وغیرہ۔اسی طرح جنسی بے راہ روی، منشیات، شراب نوشی اور دوسروں کے ساتھ بدسلوکی جیسے مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔ اپنے والدین یا خاندان کے دیگر افراد کی طرف سے بدسلوکی کے بعد ان بچوں کا اپنے بزرگوں کے ساتھ جو رشتہ ہوتا ہے وہ بھی کمزور ہوتا ہے، یا ٹوٹ جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں تو اعتماد بحال کرنا ایک ناممکن کام بن جاتا ہے۔

ہارورڈ یونی ورسٹی کے مجلّے The Harvard Gazettte (اپریل ۲۰۲۱ء) کے مطابق سماجی علوم کی ماہر ڈاکٹر کیٹی مک لافلن (Katie McLaughln)اور جان لوئب (John Loeb) نے اپنی رپورٹ How Spanking may Affect Brain Development in Children? میں کہا ہے کہ تھپڑ مارنے اور جسمانی تشدد سے بچوں کی دماغی نشوونما کو عین اسی طرح نقصان ہوتا ہے جس طرح شدید تشدد میں ہوتا ہے۔ اس سے بچوں کی دماغی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔  علاوہ ازیں دماغ کے وہ حصے بھی متاثر ہوتے ہیں جو فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگرچہ یہ مطالعہ مختصر ہے، لیکن اس میں تین سے گیارہ برس کے ۱۴۷ ؍ایسے بچوں کا انتخاب کیا گیا، جو اسکول یا گھر میں مار کے شکار ہورہے تھے۔ ایسے بچوں کے ایک دماغی گوشے پری فرنٹل کارٹیکس (PFC) کی سرگرمی متاثر ہوتی ہے۔ بچوں پر تشدد سے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ بچوں کی پٹائی دائمی ڈپریشن، اداسی اور بے چینی کی وجہ بنتی ہے۔

اسلام میں والدین کو بہت اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ والدین کی عزت و تکریم کانہ صرف حکم دیا گیاہے بلکہ انھیں اُف تک نہ کرنے کو کہا گیا ہے ۔ تاہم، اس احترام کے نام پر خود والدین کو بچوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔جہاں قرآن میں والدین کے حقوق کا تذکرہ کیا گیا، اسی طرح انصاف اور عدل کو بھی قائم کرنے کے لیے کہا گیا ہے، چاہے کسی کو اپنے والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ بولنا پڑے۔ فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِالْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۝۰ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللہُ اَوْلٰى بِہِمَا۝۰ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا۝۰ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۝۱۳۵ (النساء ۴:۱۳۵) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو، اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زَد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگرتم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اتَّقُوْا اللّهَ  وَاعْدِلُوْا  بَیْنَ أَوْلَادِكُمْ (صحیح بخاری) ’’اللہ سے ڈرو،اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو‘‘۔ ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: فَلَا تَشْہدنی اِذَا فَاِنِّی لَا اشھد عَلٰی جور (صحیح بخاری ، صحیح مسلم) ’’تب مجھے گواہ مت بناؤ،میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا‘‘۔

یہاں پر ہم کچھ اپنے معاشرے سے مثالیں پیش کرتے ہیں، جن میں دیکھیں گے کہ والدین یا سرپرستوں کی جانب سے بچوں کے ساتھ اس قسم کا رویہ اپنایا گیا تو ان کے ساتھ کیا ہوا؟ ان براہِ راست مکالموں کی رپورٹنگ میں احتیاط کی خاطر شناخت ظاہر نہیں کر رہے۔

  • میرے والد نشے کے عادی ہیں۔انھوں نے ماضی میں اپنے والدین کے رویے کی وجہ سے بڑے ہوکر لوگوں کو دھوکا دیا،چوری کی اور ہر وہ غلط کام کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ وہ مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ ہم انھیں بڑی رقم دیں، خاص طور پر جب ہمیں اپنی یونی ورسٹی سے وظیفہ ملتا ہے کہ وہ رقم انھیں دی جائے۔ ایک بار یوں ہوا کہ میں نے اپنی والدہ کو اس رقم کے بارے میں بتایا جو میں نے انھیں دی تھی۔ اس پر گھر میں قیامت برپا ہوگئی، غصے میں انھوں نے اماں کو طلاق دے دی اور آج بھی میرے والد مجھ پر ان سے طلاق کا الزام لگاتے ہیں۔

جب مجھے ان کے نشے کی لت کے بارے میں پتہ چلا تو میں نے انھیں سنبھالنے اور علاج کی کوشش کی۔ مگر اُن کا واحد مطالبہ پیسے ہیں، تاکہ وہ مرضی سے نشہ خریدیں۔ چونکہ یہ کام مجھ سے اُن کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتاتو وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ ’’میں تم سے خوش نہیں ہوں۔ اس لیے تم کبھی جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکو گے‘‘۔

کئی مرتبہ مجھ پر شدید نفسیاتی حملہ ہوا۔ ایک مرتبہ تو مجھے یقین ہو گیا کہ میرے والد نے جو کہا تھا وہ سچ تھا۔ میں نے اس وقت یہاں تک سوچا کہ خود کشی کرلوں اور اپنے آس پاس کے لوگوں پر بوجھ نہ بنوں۔ اب بھی صرف ایک ہی بار ان کی آواز سنتا ہوں جب انھیں پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُن کی اس قابلِ رحم اور دوسروں کے نزدیک شاید قابلِ نفرت حالت کے پیچھے، میرے دادا کے ہاتھوں اُن پر بچپن کا تشدد اور تذلیل ہے، جس نے اُن کی شخصیت مسخ کرکے رکھ دی۔

  • ایک اور نوجوان کا کہنا تھاکہ ’’ماں باپ سے اولاد کے تعلق کے بارے میں کچھ بولنے یا بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا پورا وجود والدین کے لیے سپاس گزاری کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جن کے دل اپنے بچپن کی نسبت سے، اپنے باپ کی طرف سے میلے اور دُکھی رہتے ہیں۔ اس کی ایک ہزار وجوہ ہو سکتی ہیں۔ اگر میں اپنی ماں کے ساتھ کسی کو بدتمیزی کرتے ہوئے مسلسل دیکھوں گا، اپنے یا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ گالم گلوچ کرتے دیکھوں گا تو میرا دل اس شخص کے لیے کیسے نرم اورگداز ہوسکتا ہے؟ بھلے رشتے میں وہ میرا باپ ہی کیوں نہ ہو۔کیا کسی کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی ماں کی سسکیاں، اس کی تذلیل، چہرے پر طمانچے سے پڑے نیل یا پھر کھانے میں معمولی نمک کی کمی پر پلیٹ اٹھا کر پھینک دینے اور گالم گلوچ کی اذیت کو بھول جائے؟ یا معمولی معمولی بات پر بہن بھائیوں کو تھپڑ جڑتے اور گالیاں اور طعنے سنتے دیکھے!

ہم سب کے حافظے میں ایسے واقعات یا اس سے ملتی جلتی وارداتیں محفوظ ہوتی ہیں۔ جس وقت ہماری ماں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہوتی ہے، اس وقت ہم اس لائق تو نہیں ہوتے کہ باپ کا ہاتھ پکڑ لیں، لیکن دل میں گانٹھ تو پڑ ہی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کبھی ہم ابا جان پر جاں نثار ہونے کا مظاہرہ کریں تو اس حرکت کو کیا کہا جائے گا؟ منافقت؟ کیونکہ ہمارے دل میں والد کے لیے فطری احترام کا جذبہ ختم ہوچکا ہوتا ہے،اور تشدد نے اپنا زہر ہمارے وجود میں اُنڈیل دیا ہوتا ہے۔

ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں ان نصیحتوں کا تو انبار ہے کہ باپ کے سامنے اف تک نہ کرو، باپ کی فلاں فضیلت ہے، وہ اگر ہڈیاں بھی توڑ دے تو یہ اس کا حق ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ یہی ناصحین اس پہلو سے تقریباً نہ ہونے کے برابر گفتگو کرتے ہیں کہ اولاد کا باپ پر کیا حق ہے؟ اب تک تو یہی بتانے پر زور ہے کہ سارے حقوق و فضائل باپ کے ہیں، ساری تعلیمات کا زور اولاد کو یہ باور کرانے پر ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟ مگر باپ ہونے کے ناتے اولاد کے لیے اس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے رہنے کو شاید فضول جانتے ہیں!

اس طرح کی ہزاروں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ کیا اس کے ذمہ دار محض بچے یا اولاد ہیں یا مساوی طور پر وہ والدین ہیں جنھوں نے اپنی اولاد کو مستقل اذیت دے کر ان کی زندگیوں کو تباہ و برباد کیا ہے؟ اس حوالے سے ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم غیرشعوری طور پر اپنی اولاد کی نظروں میں ایک وِلن اور ناپسندیدہ انسان تو نہیں بن رہے ہیں؟

اس بابت جمعے کے خطبات اور دیگر ذرائع سے بھی لوگوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم والدین کے حقوق کے بارے میں تو ہر جگہ سنتے ہیں، لیکن بچوں کے حقوق اور عزّتِ نفس کے حوالے سے عموماً خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ہمیں اس رویے کو نہ صرف ختم کرنا ہوگا بلکہ ایسے والدین اور سرپرستوں کو عظیم نقصان سے خبردار کرنا چاہیے۔ نیز نبی اکرمؐ جس شفقت سے بچوں سے پیش آتے تھے اس اسوئہ حسنہ کو بھی پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام نے بہتر معاشرے کے قیام پر زور دیا ہے اور یہ معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب سب کے حقوق کا تحفظ ہو۔یہ بات ہمیں بچپن ہی سے بتائی جاتی ہے کہ بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے پیار اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے ۔بدقسمتی سے بڑوں کے ادب کا خیال تو رہتا ہے مگر بچے پیار سے محروم رہ جاتے ہیں !

چین کی ثالثی کے نتیجے میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت، مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی اور سیاسی منظر نامے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مخالفت کے ایک طویل دورانیے نے بڑے پیمانے پر عدم استحکام اور عدم تحفظ کو جنم دیا، جس کا اثر پورے خطے پر پڑا تھا۔ الحمدللہ، یہ پیش رفت دو روایتی حریفوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام اور خطے سے باہر تعاون اور اشتراک کا ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔

’سعودی، ایران معاہدہ‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے لیے مثبت نقطۂ نظر کو سامنے لاتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی یہ بحالی، توانائی اور تجارتی تعاون کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گی، جو خود پاکستان کی معیشت کے فروغ کا باعث ہوگا۔ پاکستان کے تاریخی اور روایتی طور پر ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات رہے ہیں، جب کہ سعودی عرب دینی اور اقتصادی طور پر ایک اہم ملک ہے جس میں پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ معاہدہ علاقائی امن و استحکام کی جانب ایک قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا تعمیری کردار، قیامِ پاکستان کے بعد سے قائم ہے اور اس نے خطے کے ممالک کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی کوششوں کی مسلسل حمایت کی ہے۔ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ (BRI) کا مقصد ایک بڑی اور ایک دوسرے کے تعاون پر منحصر مارکیٹ تیار کرنا ہے۔ اس طرح بلاشبہہ چین، تجارتی اہداف کے ساتھ ساتھ اپنے عالمی اور سیاسی مفادات کو بھی فروغ دے گا۔ بی آر آئی پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔ سعودی عرب اور ایران نے چین کے تعمیراتی منصوبوں کے لیے مشرق وسطیٰ کے دیگر ۱۹ ممالک کے ساتھ بی آر آئی پر دستخط کیے ہیں۔

’چین پاک اقتصادی راہداری‘ ( CPEC) کے فریم ورک کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور چین کو بہت کچھ معاونت دے سکتا ہے۔ چین نے اقتصادی راہداری اور بی آر آئی کا ایک فلیگ شپ کوریڈور ۲۰۱۵ء میں شروع کیا تھا جس کی مالیت تقریباً ۶۲ بلین ڈالر ہے، اور اس منصوبے میں تقریباً ۲۶بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ اس وقت جاری ہے اور مکمل ہونے پر یہ چین پاکستان کو مغربی چین سے گوادر پورٹ تک قدرتی گیس اور خام تیل کی نقل و حمل کا راستہ فراہم کرے گا۔ شمالی پاکستان میں شاہراہ قراقرم (KKH)کی تزئین و آرائش ہو چکی ہے،  جس نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں اور مستقبل قریب میں اسے مزید جدید بنایا جائے گا اور وسعت دی جائے گی۔

پاکستان میں گوادر بندرگاہ کا تزویراتی (strategic) محل وقوع چین اور پاکستان دونوں کے لیے عظیم اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی امکانات پیش کرتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ، آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پر واقع ہے، جو دنیا میں تیل کی ایک تہائی کھیپ کو سنبھالتی ہے، اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات میں گیم چینجر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین ’پاکستان اقتصادی راہداری،  میں گوادر کا مقصد چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بحرہند سے جوڑنا ہے۔ پاکستان کا گوادر فری زون منصوبہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتا ہے، جب کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ ٹیکس مراعات، کاروباری اداروں کو وہاں صنعت کاری کرنے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ صنعت کاری کے مرکز (Hub) کے طور پر گوادر کی صلاحیت چینی اور مشرق وسطیٰ کی کمپنیوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے، جو اپنے صنعتی اور تجارتی اہداف کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

ایران، بھارت اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسٹرے ٹیجک طور پر متوازن بنا رہا ہے کیونکہ وہ خطے میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔ بھارت، چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کرکے علاقے میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ لیکن یہ غیر یقینی ہے کہ بھارت ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گا کیونکہ امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ بی آر آئی میں ایران کی شمولیت کے اس فیصلے سے ایران کا کردار کیا ہوگا؟ یہ توجہ طلب پہلو ہے۔ تاہم، پاکستان کی گوادر پورٹ میں چین کی سرمایہ کاری، چابہار میں بھارت کی سرمایہ کاری کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ بہر حال، چابہار کو گوادر سے جوڑنے والی ایک شاہراہ اور قدرتی گیس کی پائپ لائن کی تعمیر ایران کو گوادر کے راستے پاکستان اور چین کو قدرتی گیس برآمد کرنے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے پاکستان اور ایران کے درمیان کثیر جہتی تعاون کے مواقع موجود ہیں۔

چین کا ۲۰۲۱ء میں ایران کے ساتھ ۲۵ سالہ اسٹرے ٹیجک تجارت اور سرمایہ کاری کا معاہدہ، جس کی مالیت ۳۰۰ بلین ڈالر ہے، یہ اس کے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ (BRI)کا حصہ ہے۔ اس اقدام کو چابہار گہرے پانی کی سمندری بندرگاہ میں بھارتی سرمایہ کاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر اس معاہدے میں سعودی عرب کی شمولیت سے خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے جو پاکستان کے لیے خوش آیند پیش رفت ہے۔ معاہدے کے تحت توانائی کی فراہمی کے لیے پاکستان کے راستے کی ضرورت ہوگی۔ اسلام آباد ممکنہ طور پر ایران سے تیل اور گیس رعایتی شرح پر حاصل کرے گا، جب کہ چین، ایرانی تیل سے کم از کم ۱۲  فی صد کی رعایت پر فائدہ اٹھائے گا۔

سعودی ایران تعلقات کی خوش گواری، پاکستان کے لیے سعودی عرب کے دباؤ کے بغیر ایرانی تیل اور گیس حاصل کرنے کا ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ سی پیک میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری بشمول گوادر میں ایک بڑی آئل ریفائنری کا قیام خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، سی پیک منصوبے کے تحت ڈبل ٹریک ریلوے اور پائپ لائنیں، جو اس وقت زیر تعمیر ہیں، مشرق وسطیٰ اور چین کے درمیان سامان کی آمدورفت کے لیے ایک نیا چینل بنائیں گی، جس سے مخصوص جغرافیائی صورتِ حال میں باہم اقتصادی اور سیاسی انحصار میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان  ان ممالک کے درمیان راستوں کو جوڑ کر اور سستے نرخوں پر تجارت کر کے نمایاں آمدنی حاصل کر سکتا ہے، جس سے اس کی معیشت کو نمایاں فروغ حاصل ہو گا۔

گوادر پورٹ شہر کی ترقی پاکستان میں سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے اور عرب ممالک سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ جدید نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچا ہے اور اعلیٰ ترین سہولیات دنیا بھر کے سیاحوں کو خاص کر مشرق وسطیٰ کے سیاحوں کو راغب کر سکتا ہے۔ مزید برآں، گوادر اسپیشل اکنامک زونز اور ری ایکسپورٹ زونز کی جاری ترقی سے پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی گوادر کے  آئل ٹرمینل سٹی میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کر چکے ہیں۔ سابقہ حکومت نے ۲۰۱۹ء میں پیٹرو کیمیکلز میں ۱۰بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور بعد میں آئل ریفائنری کی تعمیر کے لیے ۵ بلین ڈالر کے مشترکہ منصوبے کی تیاری کی جارہی تھی۔

آخر میں، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کا معمول پر آنا پاکستان کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون سے فائدہ اٹھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ BRI میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر، پاکستان اس نئی پیش رفت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے اور امید ہے کہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کا باعث بنے گی۔ مگر اس سب کچھ کے لیے ملک میں امن اور خارجہ پالیسی میں توازن اور معاملات میں شفافیت ضروری ہے۔

سوال: سورۂ بقرہ کی آیت ۱۹۶ میں میقات سے باہر رہنے والوںکو عمرہ اورحج ایک ہی سفر میںکرنے کی اجازت ہے ۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد حرام کے قریب رہنے والے حج کے موسم یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کی ۱۲،۱۳ تاریخ تک عمرہ نہیں کرسکتےاورنہیں کرنا چاہیے؟جوکوئی قریب رہنے والا موسم حج میں نیکی سمجھ کر عمرہ کرے گا غلطی کرے گا، اسی لیے آخر میں ہے :وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝۱۹۶ (البقرہ۲:۱۹۶)’’اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سخت سز ا دینے والا ہے ‘‘۔

مقامی لوگ حج ختم ہونے کے بعدآخرِ رمضان تک جب چاہیں عمرہ کرسکتے ہیں ، لیکن جیسے ہی شوال شروع ہو وہ عمرہ نہیں کرسکتے، وہ صرف باہر کے افراد ہی کریں گے۔ اگر کوئی مقامی فرد ایامِ حج میں عمرہ کرے تو اس نے غلطی کی ،چاہے وہ حج کرے یا نہ کرے۔ اگروہ حج کرے گا تو دم دینے والی رائے زیادہ قوی لگتی ہے ۔ یہ دم جنایت ہوگا، جب کہ باہر سے آنے والے عمرہ اورحج کرنے پر جوقربانی کرتے ہیں وہ دم شکر گردانا جائےگا؟

جواب : سورۂ بقرہ کی آیت ۱۹۶ میں فرمایا گیا ہے :’’ جوشخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اُٹھائے وہ حسب مقدور قربانی کرے اور اگرقربانی میسر نہ ہوتو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے‘‘۔ اس کے بعد آیت کا ٹکڑا ہے : ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْـحَرَامِ۝۰ۭ  ’’یہ رعایت ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھربار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں‘‘۔

اس آیت میںبتایا گیا ہے کہ باہر سے آنے والے ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج دونوں کرسکتے ہیں۔ بس انھیںقربانی کرنی ہوگی، یا دس روزے رکھنے ہوں گے۔ اس کے ذریعے دراصل عرب جاہلیت کے اس خیالِ خام کا رَد کیا گیا ہے جوسمجھتے تھے کہ عمرہ اور حج کے لیے الگ الگ سفر کرنا ضروری ہے۔ ایک ہی سفر میں دونوں کی انجام دہی گناہ ہے ۔ اس سہولت سے ان لوگوں کو مستثنیٰ کردیا گیا ہے جومکہ کے آس پاس میقاتوں کی حدود میںرہتے ہوں ، اس لیے کہ ان کے لیے عمرہ اورحج دونوں کے لیے الگ الگ سفر کرنا کچھ مشکل نہیں ۔

اس سے یہ استنباط کرنا صحیح نہیں ہے کہ میقات کے اندر رہنے والوں کے لیے ایامِ حج (شوال، ذی قعدہ اورذی الحجہ کے ابتدائی ۱۲،۱۳ دن ) میں عمرہ کرنا درست نہیں ۔ وہ بھی ان ایام میںعمرہ کرسکتے ہیں: علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے:اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِیْمَنْ اعْتَمَرَ فِی أَشْہُرِ الْحَجِّ، ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی بَلَدِہٖ وَمَنْـزِلِہٖ، ثُمَّ حَـجَّ مِنْ عَامِہٖ  فَقَالَ الْجُمْہُوْرُ مِنَ الْعُلَمَاءِ : لَیْسَ بِمْتَمَتِّعٍ ، وَلَا ہَدْیَ عَلَیْہِ وَلَا صِیَامَ   (الجامع لاحکا م القرآن،ج۳،ص ۳۰۷) ’’جو شخص حج کے مہینوں میں عمرہ کرے ، پھر اپنے علاقے اورگھر کی طرف لوٹ جائے ، پھراسی سال حج کرےتو جمہور علما کہتے ہیں کہ وہ متمتع ( حج تمتع کرنے والا) نہیںہوگا۔ نہ اس پر قربانی واجب ہوگی، نہ اس کے ذمے روزے لازم ہوں گے‘‘۔

البتہ یہ بات صحیح ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک حجِ تمتع اور حجِ قِرَان کی سہولت صرف میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے ہے ۔ میقات کے اند ررہنے والے صرف حجِ افراد کریں گے، اگروہ حجِ تمتع یا حجِ قِرَان  کریں تو وہ بھی دم دیں گے (یعنی قربانی کریں گے) ، لیکن وہ دم تمتع کا نہ ہوگا بلکہ جنایت کا ہوگا، چنانچہ خودان کے لیے اس کا گوشت کھانا جائز نہ ہوگا۔جب کہ امام شافعیؒ کے نزدیک وہ بھی حجِ تمتع اور حجِ قِرَان  کرسکتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ آیت میں اشارہ ھَدْی (قربانی) اورصیام (روزہ) کی طرف ہے کہ اس کا حکم صرف میقات کے باہر رہنےوالوں کے لیے ہے۔ (تفسیر قرطبی،ج۳،ص ۳۱۸)

آیت کے آخر میں وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝۱۹۶  عمومی بیان ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواحکام دیے گئےہیں ان پر عمل کرو، ورنہ اس کی سزا سے نہیں بچ سکتے۔(مولانا محمد رضی الاسلام ندوی)

سیرت عشرہ مبشرہؓ، حافظ محمد ادریس۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ فون: 042-35252419۔ صفحات: ۸۰۰۔ قیمت(مجلاتی سائز): ۳ہزار روپے ۔

سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے لیے، تمام زمانوں میں سرچشمۂ ہدایت ہے اور اس سے براہِ راست فیض پانے والے صحابۂ کرامؓ دُنیا کے خوش نصیب ترین انسان ہیں۔ اور ان میں سب سے بلند مرتبہ وہ اصحابِ رسولؐ ہیں، جنھیں عشرہ مبشرہؓ یعنی وہ دس لوگ کہ جنھیں اِس دُنیا میں آخرت میں کامیابی کی بشارت دے دی گئی تھی۔

حافظ محمد ادریس صاحب کی زندگی علم کی شاہراہ پر چلتے اور دعوتِ حق کے پھول کھلاتے گزری ہے۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے انھیں صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں کے مطالعے اور اس سے حاصل کردہ نتائجِ فکر نوجوانوں میں بیان کرنے سے طبعی رغبت تھی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ صحابہؓ کی زندگی کی مناسبت سے ان کی پہلی کتاب روشنی کے مینار شائع ہوئی۔بعدازاں سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مربوط سسٹم کے تحت پڑھا بھی، لکھا بھی اور سیکڑوں اجتماعات میں بیان بھی فرمایا۔

عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں: حضرت ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علی بن ابی طالبؓ، حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت زبیر بن العوامؓ، حضرت سعید بن زیدؓ__ ان صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاکیزہ زندگیوں پر الگ الگ اور یک جا صورت میں کئی فاضلین نے پہلے بھی گراں قدر سوانحی کتب تحریر کی ہیں۔ ان کی موجودگی کے باوجود جناب حافظ محمد ادریس کی زیرنظر کتاب کئی حوالوں سے منفرد ہے۔ جس میں انھوں نے ان حضرات کی زندگیوں کی دعوتی کاوشوں، عملی کارناموں، تربیتی اسلوب اور انسانیت کی تعمیروترقی میں ہمہ پہلو کردار کومرتب انداز میں پیش کیا ہے۔ حافظ صاحب کا اسلوبِ بیان سادہ، رواں اور دل میں اُترنے والا ہے۔ یہ کتاب طالبانِ علم کے لیے واقعی روشنی کے میناروں کی بلندی کا ذریعہ بنے گی۔(س م خ )


علّامہ اقبال اور فتنۂ قادیانیت، محمد متین خالد۔ ناشر:علم و عرفان پبلشرز، اُردو بازار، لاہور۔  فون:042-37352332۔صفحات: ۷۵۱۔ قیمت: ۲۰۰۰روپے۔

علّامہ اقبال کے سوانح سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی زمانے میں وہ قادیانیوں کے بارے میں قدرے نرم گوشہ رکھتے تھے، لیکن محمد الیاس برنی کی کتاب قادیانی مذہب کا مطالعہ ان کے لیے چشم کشا ثابت ہوا۔ پھر علّامہ اقبال نے قادیانیوں اور قادیانیت کی اصلیت کو متعدد مضامین کے ذریعے بے نقاب کیا۔ جناب علّامہ کے بھتیجے شیخ اعجاز احمد ایک غالی قادیانی تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب مظلوم اقبال میں علّامہ اقبال کے موقف کو مصلحت پرستانہ قرار دیا، جس کی مدلّل تردید زندہ رُود میں فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال نے کی ہے۔

علّامہ اقبال اور قادیانیت کے موضوع پر بیسیوں اہل قلم نے مضامین لکھے۔ قادیانیت شناس محمد متین خالد نے اس موضوع پر جملہ تحریروں کو یکجا کرکے زیرنظر کتاب مرتب کی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک مفصل اور مبسوط مطالعہ ہے۔ مجلد کتاب اہتمام سے شائع کی گئی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


اہلِ قرآن‘ کا تاویلی فلسفۂ ختم نبوت، تحقیقی مطالعہ، ڈاکٹر ظفراقبال خان۔ ناشر:کتاب سرائے، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: 0332-6771768۔صفحات ۵۴۴۔ قیمت : درج نہیں۔

ڈاکٹر انوار احمد بگوی کے بقول:’’ڈاکٹر ظفراقبال علم کے دھنی اور قلم کے مجاہد ہیں، جو ایک دُورافتادہ مقام پر بیٹھ کر تسلسل کے ساتھ تحقیقی و تصنیفی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جھنگ کے ایک دُورافتادہ قصبے حویلی بہادر شاہ میں انھوں نے تعمیرانسانیت لائبریری کے نام سے ایک بڑا کتب خانہ فراہم کر رکھا ہے‘‘۔وہ بیرون شہر سے آنے والے تحقیق کاروں کو استفادے کی سہولت دیتے ہیں اور اُن کی مہمان نوازی بھی کرتے ہیں۔

زیرنظر کتاب میں انھوں نے فلسفۂ ختم نبوت کے سلسلے میں بعض گمراہ مصنّفین اور مفکرین (خصوصاً غلام احمد پرویز، ڈاکٹر عبدالودود، اسلم جیراج پوری وغیرہ) کی تاویلات کا تجزیہ کرکے ان کا رَد پیش کیا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک مدلل اور مفصل کتاب ہے۔ اسلوبِ بیان فلسفیانہ ہے، اس لیے عام فہم نہیں بلکہ عالمانہ ہے۔ کتاب اہتمام سے شائع کی گئی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تاریخ مخزنِ پاکستان (جلداوّل) ، مہر محمد بخش نول۔ ناشر: قلم فائونڈیشن ، بنک سٹاپ ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ ۔ رابطہ : 0300-0515101 ۔ صفحات :۹۳۶۔ قیمت: ۳ ہزارروپے۔

نول صاحب نے یہ ایک منفرد نوعیت کی کتاب تصنیف کی ہے جو پاکستان کے شہروں، قصبوں، گوٹھوں اور گائوں اور ان کے اندر واقع قلعوں، بیراجوں، عمارتوں کی تاریخ اور تعارف پر مشتمل ہے۔ بڑے شہروں پر تو معلوماتی کتابیں مل جاتی ہیں اور قصبوں پر بھی کچھ نہ کچھ لکھا گیا ہے مگر چھوٹے چھوٹے گائوں کا تذکرہ پہلی بار سامنے آیا ہے، مثلاً کسی گائوں کا پرانا نام، آباد کیسے اور کب ہوا؟ آبادی؟ کس قریبی شہر یا قصبے سے فاصلہ؟ وہاں اسکول پرائمری یا مڈل یا ہائی؟ پینے کا پانی؟ اسلام کوٹ نام کے دو گائوں ہیں، اسی طرح اسلام گڑھ (چولستان)، اسلام گڑھ (گجرات)، ایک شہر، قصبے یا گائوںکی تاریخ کے ساتھ اس کی معروف شخصیات کا تعارف مع تصاویر، تصاویر بکثرت۔نول صاحب نے بذریعہ سائیکل، موٹرسائیکل، بس، چنگ چی اور اپنی گاڑی سے سفر کیا اور اپنے کیمرے سے تصاویر بنائیں۔ کل ۲۲۰۰ مقامات کا تذکرہ ہے۔

تقریباً اسّی برس کی عمر میں مصنف کی جانب سے ایسی گہری تحقیق کرنا اور ایک طرح کا دائرہ معارف (انسائی کلوپیڈیا) مرتب کرنا، جان جوکھوں اور کمال کا کام ہے۔ نول صاحب، مبارک باد کے مستحق ہیں۔ صدارتی تمغے اور اوارڈ کا مستحق اُن سے زیادہ کون ہوگا؟ (رفیع الدین ہاشمی)

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم عام ہے، مگر اس پر عمل کرنے میں آدمی کو حکمت ملحوظ رکھنی چاہیے۔موقع و محل کو دیکھے بغیر ہرجگہ ایک ہی لگے بندھے طریقے سے اس کام کو کرنے سے بعض اوقات اُلٹا اثر ہوتا ہے۔ اس کا کوئی ایسا طریقہ بتادینا مشکل ہے، جس پر آپ آنکھیں بند کرکے عمل کرسکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ خود آہستہ آہستہ اپنے تجربات سے سبق حاصل کریں اور رفتہ رفتہ اپنے اندر اتنی حکمت پیدا کریں کہ ہرموقع اور ہرآدمی اور ہرحالت کو سمجھ کر امربالمعروف یا نہی عن المنکر کی خدمت انجام دینے کا ایک مناسب طریقہ اختیار کرسکیں۔

اس کام میں اوّل اوّل آپ سے بھی غلطیاں ہوں گی، اور بعض مواقع پر غلطی آپ کی نہ ہوگی، مگر دوسرے شخص کی طرف سے جواب نامناسب ہوگا۔ لیکن یہی تجربات آپ کو صحیح طریقہ سکھاتے چلے جائیں گے بشرطیکہ آپ بددل ہوکر اس کام کو چھوڑ نہ دیں، اور ہرتجربے کے بعد غور کریں کہ اس میں اگر آپ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ کیا ہے اور دوسرے نے اگر ضد یا ہٹ دھرمی سے کام لیا ہے تو اسے راہِ راست پر لانے کا بہتر طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

یہ بھی خیال رکھیے کہ یہ کام بڑا صبر چاہتا ہے۔ جہاں آپ بُرائی دیکھیں اور محسوس ہو کہ اس وقت اس پر ٹوکنا مناسب نہیں ہے تو ٹال جایئے اور دوسرا کوئی مناسب موقع اس کے لیے تلاش کرتی رہیے۔ اس کے علاوہ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جس جگہ ایسی کوئی بُرائی ہو کہ اس کو ٹوکنا آپ کے لیے مشکل ہو تووہاں سے ہٹ جایئے اور اگر کوئی صحبت یا تقریب اس قسم کی ہو تو اس سے الگ رہیے۔ ایسے مواقع پر لوگ بالعموم خود آپ کی علیحدگی کی وجہ پوچھیں گے۔ اس وقت آپ کو یہ موقع مل جائے گا کہ بڑی نرمی کے ساتھ وجہ بیان کریں اور یہ کہہ دیں کہ ’آپ لوگوں کو روکنا تو میرے بس میں نہیں ہے، مگر احکامِ خدا و رسولؐ کی خلاف ورزی میں شریک ہونے کی جرأت بھی میرے اندر نہیں ہے‘۔(’رسائل و مسائل‘ ، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، ج ۶۰، عدد۳، جون ۱۹۶۳ء، ص۵۸)