تصور کریں اگر ایران، شام، لبنان یا ترکی - روس اور چین کی مکمل سفارتی حمایت اور مسلح مدد اور ارادے کی قوت کے ساتھ ساتھ وسائل سے بھی لیس ہو اور تل ابیب پر تین ماہ تک دن رات بمباری کرے، دسیوں ہزاروں اسرائیلیوں کو قتل کرے، لاتعداد کو معذور اور لاکھوں کو بے گھر کرے اور پورے شہر کو غزہ کی طرح ناقابلِ رہایش ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردے۔
صرف چند لمحوں کے لیے یہ تصور کریں کہ: ایران اور اس کے اتحادی تل ابیب کے آبادی والے حصوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، اسکولوں، یونی ورسٹیوں، لائبریریوں اور ایسی کوئی بھی جگہ جہاں انسان آباد ہوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں، تاکہ یقینی طور پر زیادہ سے زیادہ شہری ہلاکتیں ہوں۔ اور دنیا کو یہ بتائیں کہ وہ صرف اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ کو تلاش کر رہے ہیں۔
اپنے آپ سے پوچھیے کہ امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور جرمنی اس خیالی جنگی منظر نامے کے جواب میں ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر کیا کریں گے؟
اب حقیقت کی طرف واپس لوٹ آئیےاور اس حقیقت پر غور کریں کہ ۷؍ اکتوبر سے پہلے (اور اس تاریخ سے بھی پہلے کے کئی عشروں تک) تل ابیب کے مغربی اتحادیوں نے نہ صرف یہ دیکھا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا کیا ہے،بلکہ ان اتحادیوں نے اسے فوجی سازوسامان، بم، گولہ بارود اور سفارتی امداد فراہم کرنے کے ساتھ مکمل پشت پناہی بھی کی ہے، جب کہ فلسطینیوں کے قتل عام اور نسل کشی پر امریکی ذرائع ابلاغ اسرائیلی جارحیت کے حق میں نظریاتی جواز بھی پیش کرتے آ رہے ہیں۔
مذکورہ بالا خیالی جنگی منظر نامے کو موجودہ عالمی نظام ایک دن کے لیے بھی برداشت نہیں کرے گا۔ اسرائیل کی پشت پر امریکا، یورپ، آسٹریلیا اور کینیڈا کی فوجی غنڈا گردی کے مقابلے میں ہم بے بس لوگ، فلسطینیوں کی طرح کسی شمار میں نہیں لائے جاتے۔ یہ صرف ایک سیاسی حقیقت نہیں ہے بلکہ وہ شے جو’مغرب‘ کہلائی جاتی ہے، اس کے ’اخلاقی‘ وجود اور فلسفہ کائنات کا ایک لازمہ ہے۔
ہم میں سے وہ لوگ جو یورپ کے اخلاقی تخیل کے دائرہ کار سے باہر رہتے بستے ہیں، وہ ان مغربیوں کی فلسفیانہ کائنات میں شمار نہیں کیے جاتے: عرب، ایرانی اور مسلمان؛ یا ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے لوگ - ہم یورپی فلسفیوں کے لیے کوئی حقیقی وجود نہیں رکھتے،سوائے اس کے کہ ہم ایک مابعد الطبیعیاتی خطرہ ہیں، جسے ہر طور پر فتح کر لینا یا خاموش کر دینا چاہیے۔
ایمانویل کانٹ اور جارج ولہیم فریڈرک ہیگل سے لے کر، ایمینوئل لیوناس اور سلووج زیزیک کے بعد بھی، ہم یا تو عجیب و غریب چیزیں ہیں، اشیا ہیں یا وہ معلوم چیزیں ہیں، جن کو سمجھنے کی ذمہ داری مستشرقین کو سونپی گئی تھی۔ اسی طرح، اسرائیل یا امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے ہاتھوں، ہم میں سے ہزاروں افراد کا قتل، یورپی فلسفیوں کے ذہنوں میں ذرا بھی رُک کر سوچنے کا باعث نہیں بنتا۔
اگر آپ کو اس پر شک ہے، تو آپ معروف یورپی فلسفی جرگن ہیبرماس (Jurgen Habermas) اور اس کے چند ساتھیوں پر ایک نظر ڈالیں، جو حیران کن بے شرمی کے ساتھ ظالمانہ بدمعاشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ آیا ہم ایک انسان کے طور پر ۹۴ سال کے ہیبرماس کے بارے میں کیا سوچیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم ان کے بارے میں ایک سماجی سائنس دان، فلسفی اور تنقیدی مفکر ہونے کے ناطے کیا سوچیں؟
دنیا اسی قسم کے سوال ایک اور بڑے جرمن فلسفی، مارٹن ہائیڈیگر کے بارے میں اس کی نازی ازم کے ساتھ انسانیت سوز وابستگی کی روشنی میں پوچھتی آ رہی ہے۔ ہمیں بھی اسی طرح ہیبرماس کی متشدد صہیونیت اور اس کے پورے فلسفیانہ منصوبے اور ان کے اہم نتائج کے بارے میں، ایسے اہم سوالات پوچھنے چاہئیں۔
اگر ہیبرماس کے اخلاقی تصور میں فلسطینیوں جیسے لوگوں کے لیے دُنیا میں ذرا برابر بھی جگہ نہیں ہے، تو کیا ہمارے پاس اس کے پورے فلسفیانہ منصوبے کو قبائلی یورپی سامعین کے علاوہ، باقی انسانیت سے متعلق سمجھنے کی کوئی وجۂ جواز موجود ہے؟
ایک کھلے خط میں ممتاز ایرانی ماہر عمرانیات آصف بیات نے ہیبر ماس کو لکھا ہے: ’’جب غزہ کی صورتِ حال پر بات کرنے کا وقت آتا ہے تو ہیبر ماس ’اپنے ہی خیالات سے متصادم‘ بات کرتا ہے۔ میں اس بات سے اختلاف کرتا ہوں۔ فلسطینی زندگیوں سے بے خبری اور سفاکانہ لاتعلقی کی صہیونیت سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔ یہ اس عالمی نظریہ سے بالکل مطابقت رکھتا ہے جس میں غیر یورپی لوگ، مکمل طور پر انسان نہیں ہیں، یا محض ’انسان نما جانور‘ ہیں، جیسا کہ اسرائیلی وزیر دفاع یاو گیلنٹ نے سر عام کہا ہے۔
فلسطینیوں کی زندگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، ہیبرماس کی صہیونیت ہائیڈیگر کے نازی ازم سے جا ملی ہے۔ فلسطینیوں کو سراسر نظر انداز کرنے کے اس رویے کی جڑیں جرمن اور یورپی فلسفیانہ تخیلات میں بہت گہری ہیں۔ عام حکمت کے مطابق ’ہولوکاسٹ‘ کے جرم میں شرم کے مارے جرمنوں نے اسرائیل کے لیے ٹھوس وابستگی پیدا کر لی ہے۔لیکن باقی دنیا کے لیے، جیسا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کی گئی شاندار دستاویز سے ثابت ہوتا ہے، جرمنی میں نازی دور میں جو کچھ کیا گیا، اور اب صہیونی دور میں جو کچھ کیا جارہا ہے، میں مکمل مطابقت ہے۔
یقینا ہیبرماس کی پوزیشن صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطینی قتل عام کے لیے جرمن ریاست کی پالیسی کے مطابق ہے۔ یہ &’جرمن بائیں بازو‘ ; کی نسل پرستانہ دشمنی، اسلام دشمنی رویوں کے بھی بالکل مطابق ہے، جو وہ عربوں اور مسلمانوں سے کرتے ہیں۔ اور یہ ان کے اس رویے کے بھی مطابق ہے، جس کی بنا پر وہ اسرائیلی غیر قانونی آباد کاروں کی فلسطینی نسل کشی کی حمایت کرتے ہیں۔
ہمیں اس بات پر معاف رکھیے، اگر ہم یہ بات سوچ رہے تھے کہ جرمنی ہولوکاسٹ کی تاریخ پر شرمندہ ہے، نہیں بلکہ وہ نسل کشی کی بیماری میں مبتلا ہے، کیونکہ اس پوری صدی (نہ کہ صرف پچھلے ایک سو پندرہ دن) میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام میں جرمنی بالواسطہ ملوث رہا ہے۔
یورو سینٹرزم (Eurocentrism) کا الزام جو یورپی فلسفیوں کے تصورِ دنیا کے خلاف مسلسل لگایا جاتا ہے، وہ محض ان کی سوچ کی ایک علمی خامی کی طرف اشارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی اخلاقی پستی کی ایک مستقل علامت ہے۔ ماضی میں متعدد موقعوں پر میں نے یورپی فلسفیانہ سوچ کی اس لاعلاج نسل پرستی کی طرف نشان دہی کی ہے اور آج بھی ان کے مشہور نمایندوں کے سامنے نشاندہی کرتا رہتا ہوں۔
یہ اخلاقی پستی محض ایک سیاسی غلطی یا نظریاتی خلا پر مشتمل نہیں ہے۔ یہ ان کے فلسفیانہ تخیلات میں گہرائی سے لکھی گئی ہے، جو ناقابل تلافی طور پر ایک وحشیانہ قبائلی سوچ ہے۔ آج کی دنیا، یورپی نسلی فلسفے کی جھوٹی نیند سے بیدار ہو چکی ہے۔ آج ہم نے یہ آزادی فلسطینیوں جیسے مصائب میں گھرے لوگوں کے ہاتھوں حاصل کی ہے۔
یہاں، ہمیں مارٹنیک کے ایک عظیم الشان شاعر ایمی سیزائر (Aime Cesaire)کے ایک بیان کو دُہرانا چاہیے؛ &’’ہاں، یہ سود مند ہوگا، اگر ہم طبی لحاظ سے، ہٹلر کے اقدامات اور ہٹلرازم کا تفصیلی مطالعہ کریں اور بیسویں صدی کے بہت ہی ممتاز، انتہائی انسان دوست، انتہائی مسیحی بورژوا کے سامنے یہ انکشاف کیا جائے کہ اپنے اندر موجود ایک ہٹلر سے وہ ناواقف ہے، وہ ہٹلر اس کے اندر بستا ہے، وہ ہٹلر اس کا شیطان ہے، اور اس کے خلاف آواز اٹھانا اس کے لیے متضاد عمل ہے، اور وہ اس پر قائم نہیں رہ سکتااور یہ کہ دل کی گہرائیوں میں وہ جس چیز کے لیے ہٹلر کو معاف نہیں کرسکتا وہ بذات خود اس کا جرم نہیں جو اس نے انسانیت کے خلاف کیا، اور نہ یہ انسانیت کی بے توقیری پر مبنی رویہ ہے، بلکہ دُکھ صرف اس بات پر ہے کہ یہ جرم ایک سفید فام آدمی کے خلاف ہوا، جس میں سفید فام آدمی کی تذلیل ہوئی اور یہ حقیقت اس میںمضمر ہے کہ اس نے نوآبادیاتی طریق کار کا اطلاق یورپ پر کیا جو اس وقت تک صرف [عرب، ہندستانی اور افریقیوں کے لیے مخصوص تھا]‘‘۔
فلسطین، آج نوآبادیاتی مظالم کی ایک توسیع ہے جس کا حوالہ سیزائر نے اپنی تحریرمیں دیا ہے۔ ہیبرماس اس بات سے لاعلم دکھائی دیتا ہے کہ اس کی فلسطینیوں کے قتل عام کی توثیق کرنا مکمل طور پر اُس نسل کشی سے مطابقت رکھتا ہے، جو اُس کے آباؤ اجداد نے نمیبیا میں ہریرو اور نِما قبیلوں کی کی۔ اس ضرب المثلی شتر مرغ کی طرح، جرمن فلسفی بھی اپنے سروں کو یورپی فریبوں کے اندر پھنسائے ہوئے ہیں، جو یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ دنیا اسے نہیں دیکھ رہی۔
میری نظر میں، ہیبرماس نے کچھ بھی کہا، وہ حیران کن یا متضاد نہیں کہا ہے۔ بالکل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ اپنے فلسفیانہ حسب نسب کی لاعلاج قبائلیت کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے، جس نسب نے غلطی سے آفاقی رنگ اختیار کرنے کا دعویٰ کر رکھاتھا۔
دنیا نے اب اس نام نہاد ’آفاقیت‘ کے غلط داغ سے خود کو صاف کر لیا ہے۔ ہیبر ماس اور اس قبیل کے لوگوں کے مقابلے میں دیگر فلسفی جیسا کہ ڈ یموکریٹک رپبلک آف کانگو کے وی وائی موڈیمبے،ارجنٹائن کے میگنولو یا اینرک ڈوسل یا جاپان کے کوجن کراتانی کے پاس آفاقیت کے کہیں زیادہ جائز دعوے ہیں۔
میری رائے میں، فلسطین پر ہیبرماس کے بیان کا اخلاقی دیوالیہ پن، یورپی فلسفے اور باقی دنیا کے درمیان نوآبادیاتی تعلق میں ایک اہم موڑ ہے۔ دنیا یورپی نسلی فلسفے کی جھوٹی نیند سے بیدار ہوچکی ہے۔ ہم نے یہ آزادی آج فلسطینیوں جیسے مصائب میں گھرے لوگوں کے طفیل حاصل کی ہے، جن کی طویل، تاریخی بہادریوں اور قربانیوں نے آخرکار &’مغربی تہذیب‘ کی بنیادیں، جو بے شرم وحشت و درندگی پر کھڑی تھیں، منہدم کر دی ہیں۔(مڈل ایسٹ آئی)
مذہب و نسل کی بنیاد پر انسان سے نفرت کی تمام شکلیں قابلِ مذمت ہیں لیکن امریکا میں خاص طور پر اکثر یہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے تمام ناقدین کو ’یہود دشمن‘ (Antisemitists) قرار دے کر ان کا محاسبہ ہوتا ہے،جب کہ ’عرب دشمنی‘ کے واقعات کو بڑی آسانی سے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ پہلی عرب اسرائیل جنگ سے بھی پہلے کا ہے اور ۱۹۳۰ء کے عشرے سے یہود پسند گروہ یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ’ارضِ فلسطین سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو نکالا جائے‘۔ یہ مذہبی اور نسلی تعصب نہ صرف برداشت کیا گیا بلکہ جب امریکی صدر [۵۴-۱۹۴۵ء] ہیری ٹرومین جیسے سیاست دانوں نے فلسطین کی غیر یہودی اور عرب آبادی کے تحفظات کو مکمل نظر انداز کرنا شروع کیا، تو اُس دن سے لے کر آج تک یہ امریکی خارجہ پالیسی کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔
چونکہ اسرائیل اپنی اچھی خاصی غیر یہودی آبادی کے باوجود خود کو یہودی ریاست قرار دیتا ہے، اس لیے اس کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والا ہر فرد بڑی آسانی سے ’یہود دشمن‘ قرار پاکر مطعون ٹھیرتا ہے۔ اس رویے کا نقصان عربوں کو ہوتا ہے جو اپنے خلاف پائے جانے والے تعصب یا مسئلہ فلسطین پر بات کریں تو فوراً ’یہود دشمن‘ قرار پاتے ہیں کیونکہ اسرائیلی برادری تاریخی طور پر امریکی میڈیا اور تعلقات عامہ کے دیگر اداروں میں اپنے رسوخ کے باعث الفاظ اور بیانیے کی اہمیت سے بہتر طور پر واقف ہے۔ یہ ’عرب دشمنی‘ کی ایک واضح مثال ہے کہ اسرائیلی وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور کئی منتخب نمایندے کھلم کھلا یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ’’فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر مصر کی جانب دھکیل دیا جائے‘‘۔
اسرائیلی حکومت کی جارحیت کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے ’یہود دشمنی‘ کا بطور ہتھیار استعمال نہ صرف اسرائیل غزہ جنگ میں نمایاں ہے بلکہ اس کے اثرات امریکا میں بھی واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں، جو اسرائیلی ریاست کا سب سے بڑا سرپرست اوراس بات کا ضامن ہے کہ اسے اپنے جنگی جرائم کی سزا نہ مل سکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اسرائیلی حکومت کے ناقدین کو خاموش کروانے کا فریضہ امریکا نے سنبھال رکھا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکا نے غزہ میں ’انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی‘ کی قرار داد کو ویٹو کردیا تھا جس نے یہ حقیقت مزید آشکارا کر دی کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق جیسے بنیادی معاملات پر بھی طاقت ور ممالک کے سامنے بے بس ہے۔
’یہود دشمنی‘ کا یہ استعمال ہمیں یونی ورسٹیوں میں بھی نظر آتا ہے، جہاں طویل عرصے سے یہودی طلبہ کو فلسطینی ہم مکتبوں کے مقابلے میں بہتر حقوق اور سہولیات حاصل ہیں۔ میں ۱۹۷۰ء کی دہائی میں یونی ورسٹی آف الینائی (University of Illinois) میں عرب طلبہ کی تنظیم، عرب اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ASO) کی قیادت کر چکا ہوں۔اس عہدے پر مجھے یونی ورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اکثر ہماری تقریبات کے لیے فنڈز دینے سے انکار کر دیا جاتا یا فلسطین پسند سمجھے جانے والے مقررین کو مدعو کرنے کی اجازت نہ ملتی۔ اس کے مقابلے میں اسرائیل کے حق میں ہونے والی تقریبات کو اکثر یونی ورسٹی کی مالی معاونت حاصل ہوتی۔
جب ہم اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے تو ہمیں نہ صرف اساتذہ بلکہ یونی ورسٹی کے اخبار کی جانب سے بھی ’یہود دشمن‘ قراردیا جاتا۔ اسی صورتِ حال کے باعث میں نے میڈیکل کو چھوڑ کر صحافت کو پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ آج فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والوں کے لیے یونی ورسٹیوں کی صورتِ حال اس سے بھی بری ہے۔ اس صورت حال کی تشکیل میں امریکی میڈیا کے تعصبات کا کلیدی کردار ہے۔
۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل میں ہونے والے پُر تشدد واقعات کے بعد سے امریکا کی اسرائیل پسند تنظیموں کی پوری کوشش ہے کہ تل ابیب کے رد عمل اور اس کے ناجائز اور ناروا مظالم پر ہونے والی ہر تنقید کو ’یہود دشمنی‘ قرار دے کر دبا دیا جائے۔ ۷؍اکتوبر کو حماس کے حملے کو اسرائیل نے اپنے غصے کا جواز بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر بلا امتیاز جنگی کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں ۲۲ہزار سے زیادہ شہری اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ ان میں ۸ہزاربچے بھی شامل ہیں۔ ۷؍اکتوبر کے بعد سے اسرائیل غزہ کے تقریباً ۷۰ فی صد گھروں کو مسمار کرچکا ہے۔
اس ضمن میں جو بھی اسرائیلی حکومت کی خونخوار پالیسی کی جانب اشارہ کرتا ہے، اسے ’یہود دشمن‘ قرار دے کر سختی سے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ کوئی یونی ورسٹی بھی اس یک طرفہ ظلم سے محفوظ نہیں ہے۔ ہارورڈ جیسی مؤقر یونی ورسٹی کی پہلی سیاہ فام خاتون صدر کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ ڈاکٹر کلاڈین گی پر ان الزامات کے ساتھ حملہ کیا گیا کہ انھوں نے یونی ورسٹی میں ’یہود دشمنی‘ کو جگہ دی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ یونی ورسٹی میں پائے جانے والی ’عرب دشمنی‘ کے جذبات یا اسرائیلی مظالم کے حق میںہونے والے مظاہروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، پھر ’عرب دشمنی‘ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ اس یلغار اور دیگر پروفیسروں، اسرائیل پسند تنظیموں، میڈیااور دائیں بازو کے اراکین کانگریس کی جانب سے یوں ہراساں کیے جانے کے بعد کلاڈین نے مستعفی [۲جنوری ۲۴ء] ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
ڈاکٹر کلاڈین کا جرم کیا تھا؟ دراصل انھوں نے یونی ورسٹی میں ’یہود دشمنی‘ کے الزامات کا ایک متوازن جواب دینے کی کوشش کی اور کہا کہ’ ’یہود دشمنی تشدد پر اُبھارنے والے جذبات کا نام ہے۔ یہ سلامتی کے اصولوں کے خلاف اور ہراسمنٹ سے متعلق ہارورڈ کے قوانین سے متصادم ہے‘‘۔ انھوں نے قبول کیا کہ یونی ورسٹی میں اسرائیل پسند اور فلسطین پسند گروہوں کی جانب سے ’بے جا اور بے سوچا سمجھا بیانیہ‘ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس بیانیے میں ہمیں ’عرب دشمنی‘ یا فلسطین مخالف جذبات کا کہیں ذکر نہیں ملتا، جس کی مخصوص سیاسی وجوہ ہیں۔ مزید برآں اس سے عیسائی مذہب رکھنے والے عربوں کے تحفظات کا ازالہ بھی نہیں ہوتا، چنانچہ اصل پالیسی وہی ہونی چاہیے جو ’عرب دشمنی‘ اور ’یہود دشمنی‘ دونوں کا تدارک کر سکے۔
اسرائیلی مظالم کے خاتمے کے لیے اٹھنے والی ہر آواز دبا دی جاتی ہے، جب کہ حماس پر الزامات کی بازگشت امریکا میں ہر سطح پر سنائی دے رہی ہے۔ اس غیر متوازن صورتِ حال کا باعث یہی ہے کہ ’یہود دشمنی‘ کو ایک ایسا ہتھیار بنا لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسی قدر ہولناک جرائم اور اسرائیل کے خلاف ہونے والے واقعے سے کہیں زیادہ فلسطینی بچوں اور عورتوں کی قتل و غارت گری نظر انداز کی جا رہی ہے۔
فرانز کافکا کا یہ قول مشہور ہے:’’شاید تم ہر اس شے کو کھو دو جس سے تمھیں محبت ہے، لیکن آخر میں محبت کسی اور صورت میں تمھارے پاس لوٹ آئے گی۔‘‘ میری رائے میں یہی اصول دیگر انسانی جذبات مثلاً نفرت، بے زاری، غصے اور انتقام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اربوں ڈالر کی عسکری اور معاشی امداد اور ہر ممکن طریقے سے فلسطینیوں کی نسل کشی میں معاون بننے والے امریکی حکام کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے۔
پوری دنیا اس صورتِ حال کو دیکھ ، سن اور پڑھ رہی ہے اور امریکی ریاست کو براہ راست فلسطینیوں کی خون ریزی کا حصہ بنتے ہوئے دیکھ کر لوگوں کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے اندازہ لگاتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا تھا: ’’غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۶ء کے درمیان شام کے شہر حلب میں ہونے والی تباہی، یوکرینی شہر ماریوپول کی بربادی، اور دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی جانب سے جرمنی پر ہونے والی بمباری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ جنگ حالیہ تاریخ کی سب سے ہولناک اور خون ریز جنگ بن چکی ہے‘‘۔
مرنے اور ملبے میں دب کر لاپتہ ہونے والے ہزاروں شہریوں سے کہیں زیادہ تعداد ان کی ہے جو زخمی یا معذور ہو چکے ہیں۔ ان میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق ’’کتنے ہی بچے ایسے ہیں جو اپنی ٹانگ یا بازو کے نقصان کو رو رہے ہیں۔ غزہ کی یہ تکلیف ٹیلی ویژن اور دیگر تمام ممکنہ ذرائع مواصلات پر براہِ راست دکھائی جا رہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ساری دنیاکے لوگ فلسطینی بچوں کی تکلیف میں شامل ہیں، لیکن اس نسل کشی کو روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہیں‘‘۔
اگرچہ تمام یورپی ممالک اپنی رائے کو بدلتے ہوئے غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں،لیکن واشنگٹن نے ایسے تمام مطالبوں کو رد کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ۱۸؍اکتوبر کو جنگ بندی کے لیے کی جانے والی پہلی سنجیدہ کوشش کو ’ویٹو‘ کرتے ہوئے امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج آرٹیکل ۵۱کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘‘یہ منطق ساری دنیا کے سامنے غزہ کی جنگ کا پس منظر واضح ہونے کے بعد بھی امریکی حکام کی جانب سے کئی موقعوں پر دُہرائی جا چکی ہے۔ خودغرضی پر مبنی یہ منطق بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے خلاف ہے، جن کے مطابق جنگ کے دوران بھی نہتے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہ جنگ کا شکار ہونے والے عام شہریوں تک امداد کی رسائی کو روکا جاسکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے اور اس میں بھی ۷۰ فی صد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ مزید برآں، اسرائیل کے غیر انسانی اقدامات کے باعث غزہ کی بچ جانے والی آبادی کو اب قحط کا سامنا ہے، جس کی مثال ہمیں فلسطین کی حالیہ تاریخ میں اس سے قبل نہیں ملتی۔ چنانچہ اسرائیل خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر فوری ضرورت کی اشیا کا قحط پیدا کر کے واشنگٹن کے اپنے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بیرونی امداد سے متعلق امریکی قانون کے سیکشن ۶۲۰۱ کے مطابق: ’’کسی ایسے ملک کو امداد نہیں دی جائے گی جس کے متعلق صدر کو یہ علم ہو کہ یہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر امریکی امداد کی رسائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے یا ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے‘‘۔
امریکا میں بائیڈن حکومت نے مجبور کرنا تو درکنار، اسرائیلی حکومت پر یہ زور بھی نہیں دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حالیہ نسل کشی کے دوران انسانیت کے بالکل بنیادی قوانین کا احترام کرے۔ اس کے برعکس صدر بائیڈن اس جنگ کو طول دینے کے لیے درکار تمام وسائل اسرائیلی حکومت کو مہیا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی چینل ۱۲ پہ ۲۵دسمبر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ۲۰بحری بیڑے اور ۲۴۴کے قریب امریکی ہوائی جہاز، ۱۰ ہزار ٹن سے زائد اسلحہ و بارود اسرائیل پہنچا چکے ہیں۔ اس فوجی رسد میں تقریباً ۱۰۰؍ایسے ۲ہزارپاؤنڈ کے بنکر شکن بم بھی شامل ہیں، جو اس جنگ میں مسلسل استعمال ہوتے آرہے ہیں اورہر دفعہ سیکڑوں شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا نے جو قابل ذکر قدم اٹھایا ہے، وہ بحیرہ احمر میں ’آپریشن پراسپیریٹی گارڈین‘ کے نام سے ایک اتحاد کی تشکیل ہے، تا کہ اسرائیل سے آنے جانے والے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
گمان غالب ہے کہ امریکا نے اپنے ماضی، عراق جنگ اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ وغیرہ سے کچھ نہیں سیکھا ہے، کیونکہ یہ آج بھی اسرائیلیوں ، فلسطینیوں، عربوں اور مسلمانوں کی حمایت میں توازن پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ دوسری طرف کچھ امریکی حکام حقیقت سے بالکل ہی لاتعلق نظر آتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں گذشتہ ماہ ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ ’’آپ مجھے کسی ایک ملک، دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کا نام بتا دیں جو امریکا سے زیادہ فلسطینیوں کے دکھ درد کا مداوا کرنے کی کوشش کر رہا ہو، تو مجھے یقین ہے کہ آپ نہیں بتا سکیں گے‘‘۔ لیکن یہ سوال موجود ہے کہ بدنام زمانہ اسمارٹ بم، بنکر شکن بم، اور ہزاروں ٹن اسلحہ بارود ’فلسطینیوں کے دکھ درد کا مداوا‘ کیسے کر سکے گا؟
اگر جان کربی فلسطینیوں کی نسل کشی میں اپنی ریاست کے کردار سے لاعلم ہیں تو میرے خیال میں امریکی خارجہ پالیسی کا بحران ہماری توقعات سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ اگر وہ اس سب سے باخبر ہیں، جو کہ انھیں ہونا چاہیے، تو امریکا کا اخلاقی بحران ہماری حالیہ تاریخ کی بدترین مثال ہے۔ امریکی سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انتظامیہ کی تمام تر توجہ اسی بات پر رہتی ہے کہ ان کا کوئی عمل یا بے عملی آیندہ انتخابات میں ان کی جماعت کے لیے کن مضمرات کا باعث بنے گی۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ نہ ہر چارسال بعد نومبر کی ایک مقررہ تاریخ سے شروع ہوتی ہے اور نہ اس پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ کافکا نے کہا تھا، ’’آخر میں محبت کسی اور صورت میں تمھارے پاس لوٹ آئے گی‘‘۔ ان کی بات درست ہے لیکن نفرت بھی اسی طرح واپس آ سکتی ہے جس کا اظہار عجیب و غریب طریقوں سے ہوتا ہے۔ خود امریکا کو اپنے تجربات کی بنیاد پر سب ملکوں سے زیادہ اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے تھا، مگر وہاں کوئی مردِ دانش یہ بات کرتا دکھائی نہیں دیتا۔
ہر مسلمان کا دل رنجیدہ ہے۔ ہر توحید پرست کا دل زخمی ہے۔ ہر بندۂ مومن کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ مگر یہ رنجید گی، یہ زخم اور آنسوؤں کی برکھا، کسی بندوق کی گولی، بم کے ٹکڑے یا تلوار کے وار کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بے چارگی دراصل حرمین الشریفین سے نسبت رکھتی ہے۔
اگر کوئی عام تنازع نہ ہو توریاستوں کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات کے فروغ میں کسی کے لیے اعتراض کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ لیکن ہر ملک محض تجارت کی منڈی اور سفارت کی مسند پر نہیں جھول رہا ہو تا، بلکہ ان مفادات کے ساتھ اپنی تاریخ و تہذیب کے کچھ سوالات بھی پیش نظر رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی مادی ترقی پر سبھی مسلمان خوش ہیں، لیکن سعودی عرب محض دوسو ملکوں میں سے ایک ملک نہیں ہے۔ حرمین الشریفین کی مناسبت سے یہ ملک پہچان اور بڑے منفرد تقاضے رکھتا ہے، جس سے نہ وہ چھٹکارا پا سکتا ہے اور نہ مسلم دنیا کی توقعات کو وہاں کے حکمران روند سکتے ہیں۔
جیسا کہ اس تحریر کے شروع میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کےدل خون کے آنسورو ر ہے ہیں تو اس تلخ نوائی کا حوالہ یہ ہے کہ بھارت میں ایک ایسی حکومت اپنے مسلم دشمنی پر مبنی ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، جو: مسلمانوں کو قتل و غارت میں جھونکنے، مسجدوں کو شہید کرنے، ہجومی قتل عام کی سرپرستی کرنے، مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کرنے کے واقعات کو بڑھاوا دینے اور بہت سے نوجوانوں کو مقدمات کے بغیر جیلوں میں پھینک دینے جیسی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کی سرپرستی میں قائم اس بدنام حکومت کی وزیر برائے اقلیتی اُمور، سمرتی ایرانی، جن کے ہمراہ خارجہ امور کے وزیر مملکت مرلی دھرن بھی تھے، انھوں نے مدینہ منورہ کا دورہ کیا ۔ سمرتی نے اُسی روز یعنی ۸جنوری کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بڑی خوشی سے اپنی نوعدد تصویریں شائع کرتے ہوئے لکھا ’’آج میں مدینہ کے تاریخی سفر پر نکلی، جو اسلام کے متبرک ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس میں مسجد نبویؐ کے اطراف کی زیارت کرنے کے ساتھ ہی احد پہاڑ اور مسجد قبا کی بیرونی حدود شامل ہیں‘‘۔ انڈین سرکاری نشریاتی ادارے ’دوردرشن‘ نے اس دورے کو غیر معمولی اور تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’یہ پہلا موقع ہے کہ جب ایک غیر مسلم وفد کا استقبال مدینہ میں کیا گیا، جس سے انڈیا اور سعودی عرب کے غیرمعمولی رشتوں کی عکاسی ہوتی ہے‘‘۔
مراٹھی زبان میں ہندو نسل پرست اخبار سناتن پرابھات نے ۱۲ جنوری کی اشاعت میں فخریہ لہجے میں لکھا:’’بھارتی یونین وزیر سمرتی ایرانی نے مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ کا دورہ کیا،جہاں عورتیں سر ڈھانپ کر جاتی ہیں، وہاں سمرتی اپنی ساڑھی میں ملبوس گئی اور اپنے سر کو بالکل نہیں ڈھانپا۔ سعودی عرب نے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن پاکستان والے اس بات پر ضرور پریشان ہیں۔‘‘ بی بی سی لندن نے اس استقبال کو ’’غیر معمولی تاریخی واقعہ‘‘ قرار دیا۔
بنگلہ دیشی تسلیمہ نسرین نے اپنے بیان میں لکھا، ’’میں سمرتی کو سلام پیش کرتی ہوں کہ اس نے سر نہیں ڈھانپا‘‘۔ جرمن ٹیلی ویژن کے مطابق:’’ایک بھارتی میڈیا پرسن نے لکھا ہے: آپ نے ایک کٹر مسلم ملک میں سر نہ ڈھانپ کر اپنی حقیقی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے‘‘ ۔
جواہر لال نہرو کے ہاتھوں ۱۹۳۷ء میں جاری کردہ اخبار قومی آواز (۱۴جنوری ۲۰۲۴ء) کے مطابق: ’’۲۰۲۱ ء میں ولی عہد نےمدینہ منورہ میں غیر مسلموں کے لیے داخلے سے متعلق بورڈ ہٹادیےتھے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس دورے کے پیچھے وزیر موصوفہ کی اپنی ذاتی خواہش تھی یا سعودی حکام کی جانب سے خود کو لبرل دکھانے کی ایک کوشش؟ بہر حال، اس واقعے سے اتنا اندازہ ہو گیا ہے کہ سعودی حکام آنے والے دنوں میں یہ عمل مکہ مکرمہ میں بھی دکھا سکتے ہیں۔ ویسے سمرتی ایرانی کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ جہاں اور جب جب موقع ملا ہے کھل کر اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کیا‘‘۔ یہی اخبار مزید لکھتا ہے: ’’سمرتی کے دورے سے پہلے تک سعودی حکمرانوں نے بھی حرم مکہ کی طرح حرم مدینہ میں بھی غیر مسلموں، کے داخل ہونے پر پابندی عائد کر رکھی تھی، اور اس پالیسی کے تحت حدودِ حرم پر باضابطہ علانیہ بورڈ لگائے جاتے تھے، جس میں حرم مدینہ کے راستوں پر ’’صرف مسلمین‘‘ (Only Muslims)کے بورڈ لگا ئےجاتے تھے۔اب ۹۴ سال بعد اچانک مدینۃ الرسول میں غیرمسلموں کو عزت و احترام سے بلانا کیا ظاہر کرتا ہے؟‘‘
اسی طرح اُردو العربیہ ڈاٹ نیٹ (۴؍مئی۲۰۲۱ء) کا یہ شذرہ دیکھیے: ’’سعودی عرب کی حکومت نے مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخلے کے راستوں پر غیرمسلموں، اور مسلمانوں کے لیے مختص راستوں کی راہ نمائی کے لیے لگائے گئے بورڈوں پر اصطلاحات تبدیل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس ضمن میں پہلی تبدیلی لفظ ’غیرمسلم‘ کے بجائے ’حدود حرم‘ کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ ماضی میں یہ عبارت مدینہ منورہ کے تقدس کے پیش نظر اپنائی گئی تھی کہ ’حرمِ مکی‘ کی طرح ’حرمِ مدنی‘ میں بھی غیر مسلم داخل نہیں ہوسکتے تھے‘‘۔ بی بی سی (۹جنوری ۲۰۲۴ء) کےمطابق: ’’سعودی ’ای ویزہ‘ ویب سائٹ کے مطابق غیر مسلم افراد کو مدینہ کی سیر کی دعوت دی جاتی ہے، تاہم مسجد نبویؐ کے احاطے میں ان کا داخلہ ممنوع ہے‘‘۔
ان تفصیلات کا مقصد یہ ہے کہ چودہ سو سال سے اختیار اور نافذ کیے گئے فیصلے اور روایت کو ختم کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا حرمِ مدنی کے حوالے سے حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے فیصلے کو تبدیل کرنا پیش نظر ہے؟ اور کیا اس کا سبب واقعی مغربی دنیا کے سامنے لبرل بننے کی خواہش ہے؟
تین احادیث نبویؐ الجامع الصحیح سے مطالعے کے لیے درج کی جاتی ہیں:
l…’’ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن احول عاصم نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (یعنی جبل عیر سے ثور تک )۔ اس حد میں کوئی درخت نہ کاٹا جائے نہ کوئی بدعت کی جائے اور جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب فضائل المدینہ،حدیث: ۱۸۶۷) [یعنی حرم مدینہ کا بھی وہی حکم ہے، جو مکہ کے حرم کا ہے۔ امام مالک اور امام شافعی اور احمد بن حنبل اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے]۔
l…’’ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبید اللہ نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں جو زمین ہے وہ میری زبان پر حرم ٹھہرائی گئی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمؐ بنوحارثہ کے پاس آئے اور فرمایا بنوحارثہ ! میرا خیال ہے کہ تم لوگ حرم سے باہر ہو گئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کہ نہیں بلکہ تم لوگ حرم کے اندر ہی ہو۔(رقم: ۱۸۶۹)
l…ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمان بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صحیفہ کے سوا جو نبی کریم ؐ کے حوالے سے ہے اور کوئی چیز (شرعی احکام سے متعلق ) لکھی ہوئی صورت میں نہیں ہے۔ آنحضرتؐ نے فرمایا: مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اورانسانوں کی لعنت ہے…آپؐ نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے۔ اس لیے اگر کسی مسلمان کی (دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے ) بدعہدی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے، نہ نفل۔(رقم:۱۸۷۰)
ہمیں اس بات سے غرض نہیں کہ مملکت سعودی عرب مادی ترقی کے لیے کن راستوں کا انتخاب کرتی ہے (اگرچہ اسلامی شریعت اس معاملے میں بھی واضح احکامات بیان کرتی ہے)۔ تاہم، یہ ضرور عرض کیے دیتے ہیں کہ حرمین الشریفین کسی بادشاہ کی ملکیت نہیں ہیں اور نہ اسلامیانِ عالم اُن کی رعایا ہیں۔ اس لیے وہ تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا احساس کریں اور چودہ سو برس کی تاریخ کا احترام کریں۔ مدینہ منورہ کو ٹورسٹ سنٹر بنانے سے اجتناب برتیں، اور ایسے راستے نکالنے کے لیے درباری علما کی فتویٰ نویسی پر اعتماد کرنے کے بجائے، اللہ اور اس کے رسولؐ سے اپنی محبت کو فروغ دیں، کہ جس پر وہ عشروں سے کاربند چلے آئے ہیں۔
اسی طرح اُن علما اور دانش وروں سے درخواست ہے کہ وہ وہاں کانفرنسوں میںجا کر محض میزبانی کا لطف نہ اٹھائیں بلکہ جس دین کی بنیاد پر وہ یہ اعزاز حاصل کرتے ہیں، اس کی تعلیمات کے مطابق حکمرانوں تک اپنے سچے اور حقیقی جذبات پہنچا کر، انھیں غلط فیصلوں سے منع کریں۔
جنوری ۱۹۶۴ء کو صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کی حکومت نے جماعت اسلامی پاکستان پر پابندی عائد کردی، دفاتر سربمہر کردیئے، امیرجماعت اسلامی مولانا مودودی سمیت مرکزی مجلس شوریٰ کے ارکان کو گرفتار کرلیا اور ماہنامہ ترجمان القرآن کا ڈیکلریشن منسوخ کرکے اشاعت روک دی۔ اس لیے ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۴ءسے جون ۱۹۶۴ء تک شائع نہیں ہوا۔(ادارہ)