بھارت میں عام انتخابات ۱۹؍اپریل سے شروع ہوں گے اور سات مرحلوں میں مکمل ہونے کے بعد ۴جون کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ حکمران پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج جنوبی ہند میں اپنی پوزیشن محفوظ بنانا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ صرف ’شمالی انڈیا‘ کا لیڈر ہونے کا داغ مٹانا چاہتے ہیں۔ پھر یہ کہ جنوبی ہند بنیادی طور پر انڈیا کی معاشی قوت کا مرکز ہے۔ اگرچہ حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہروقت ہی انتخابی مہم کی حالت میں رہتی ہے، مگر اس بار ۷مارچ کو سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریند را مودی نے یہ عندیہ دے دیا کہ اس بار ہندستان میں ووٹروں کو لبھانے کے لیے ’کشمیر کارڈ‘ کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔ یاد رہے ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں پاکستان کو سبق سکھانے کو انتخابی موضوع بنایا گیا تھا۔ ماضی میں بھی بھارت کے وزرائے اعظم سرینگر آتے رہے ہیں۔ مودی کے پیش رو من موہن سنگھ نے اپنے دس سالہ دو رِ اقتدار میں چار بار سرینگر کا دورہ کیا۔
مودی نے اس سے قبل ۲۰۱۵ء میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید، جن کی پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ انھوں نے ریاست میں مخلوط حکومت بنائی تھی، کے ہمراہ سرینگر میں عوامی ریلی سے خطاب کیا تھا۔مگر اب کی بار خصوصیت یہ تھی، کہ اس خطے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ان کا سرینگر کا پہلا دورہ تھا۔ پھر یہ خالصتاً بی جے پی کی اپنی ریلی تھی۔
بھارت کی ملک گیر پارٹیوں میں ماضی میں اس طرح کی ریلیاں صرف کانگریس پارٹی ہی وزیراعظم اندرا گاندھی کے لیے اپنے بل بوتے پر کشمیر میں منعقد کراتی تھی۔ ان کے بعد راجیو گاندھی سے لے کر ڈاکٹر من موہن سنگھ تک ، جن وزرائے اعظم نے سرینگر میں کسی ریلی سے خطاب کیا ہے، ان کومقامی پارٹیوں: نیشنل کانفرنس یا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے لیے منعقد کیا تھا۔ اندرا گاندھی نے ہمارے قصبے سوپور میں بھی دو بارعوامی جلسے سے خطاب کیا ہے۔۱۹۸۳ء میں کانگریس نے جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے خلاف انتخابات میں پوری طاقت جھونک دی تھی، تو اس انتخابی مہم کی کمان وزیر اعظم اندرا گاندھی نے خود ہی سنبھالی تھی، اور ایک کھلی جیپ میں ہمارے گھر کے سامنے سے ہی گذر کر جلسہ گاہ میں پہنچی تھیں۔
نریندرا مودی کی ریلی کے بارے جموں و کشمیر روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ایک عہدے دار نے اعتراف کیا کہ ’’شرکا کو لے جانے کے لیے ۹۰۰ سرکاری بسوں کا انتظام کیا گیا تھا‘‘۔ اس سے قبل، یہ اطلاع بھی دی گئی تھی کہ ’’تقریباً ۷ہزار سرکاری ملازمین، اساتذہ اور جموں اینڈ کشمیر کے بینک کے عملے کو ریلی میں لازمی شرکت کا حکم دیا گیا تھا۔ انھیں فجر سے پہلے مختلف مخصوص جگہوں پر جمع ہونے کو کہا گیا تھا، جہاں سے ان کو بسوں میں لاد کر اسٹیڈیم پہنچایا گیا تھا۔ ان میں سے ۱۴۵بسیں بارہمولہ ضلع سے لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچانے کے لیے وقف کی گئی تھیں۔
جس طرح ماضی میں اندرا گاندھی کو یہ شوق چرایا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقہ وادیٔ کشمیر سے سیٹیں جیت کر ایک طرح کا پیغام دیا جائے، اسی راستے پر مودی چل رہے ہیں۔ وادیٔ کشمیر میں جگہ بنانے کے لیے کانگریس بھی اپنی بھر پور طاقت جنوبی کشمیر یعنی اننت ناگ کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے لگاتی تھی، بی جے پی بھی اسی سیٹ کو حاصل کرنے کے لیےپر تول رہی ہے۔
۱۹۸۷ء کے دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد یہاں کے عوام کا جمہوری نظام پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے اور ووٹر ٹرن آوٹ عدم دلچسپی اور آزادی پسند پارٹیوں کے بائیکاٹ کال کی وجہ سے بہت ہی کم ہوتا آیا ہے ۔ مگر پھر بھی ماضی میں حکومتی عہدوں پر جو افراد براجمان ہوتے تھے، وہ کسی حد تک ان کے مسائل سے آگاہ ہوتے تھے۔ لیکن ۲۰۱۸ءکے بعد سے یعنی پچھلے سات سال سے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو مرکزی بیور کریسی چلا رہی ہے۔ اس وقت ۲۰ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں میں سے صرف آٹھ ہی مقامی ہیں۔ خطے کے ۱۱۲؍اعلیٰ پولیس افسران میں صرف ۲۴مقامی ہیں۔
جموں و کشمیر کی چھ پارلیمانی نشستوں میں تین وادیٔ کشمیر ، دو جموں اور ایک لداخ کے لیے مختص کی گئی تھیں۔ چونکہ اب لداخ کو علیحدہ کر دیا گیا ہے، اس لیے یہ سیٹیں اب پانچ ہی رہ گئی ہیں۔ ۲۰۱۸ء میںہونے والے پنچایتی انتخابات کا نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا۔ کیونکہ وہ وزیر اعظم سے دفعہ۳۷۰ ، اور ۳۵-اے کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی چاہتے تھے۔ اس وجہ سے بی جے پی نے غیر متعلقہ افراد کو کھڑا کرکے اور ان کو جتوا کر سیاسی کارکنوں کی ایک نئی کھیپ تیار کرلی، جو اب ان کو چیلنج دے رہے ہیں، گو کہ ان میںسے کئی تو مزاحیہ کردار لگتے ہیں۔
اس وقت دو بڑی مقامی پارٹیوں کے علاوہ سید الطاف بخاری کی ’اپنی پارٹی‘، غلام نبی آزاد کی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی اور سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس بھی میدان میں ہے۔ سابق ممبر اسمبلی انجینئر رشید، جو پچھلے پانچ برسوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں، کی عوامی اتحاد پارٹی بھی انتخابات میں اُترنے کا عزم رکھتی ہے۔ گویا بی جے پی سمیت سات پارٹیاں انتخابات میں قسمت آزمائی کریں گی۔
چونکہ بی جے پی جنوبی کشمیر یعنی اننت ناگ سیٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہے، اس لیے حدبندی کمیشن کے ذریعے اس کا حلیہ تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ اس میں اب جموں ڈویژن کے دو اضلاع یعنی راجوری اور پونچھ کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ دونوں اضلاع اس سے قبل جموں،توی سیٹ کا حصہ ہوتے تھے۔ ریاسی ضلع کو ادھم پور سیٹ سے الگ کر کے جموں حلقے میں شامل کیا گیا ہے۔
اسی طرح شوپیاں کو جو جنوبی کشمیر کے بالکل وسط میں ہے، سرینگر کی سیٹ کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس کا سرینگر حلقہ کے ساتھ زمینی رابطہ ہی نہیں ہے۔ اننت ناگ کو راجوری پونچھ سے ملانے کا واحد ذریعہ شوپیاں کے راستے مغل روڈ ہے اور یہ راستہ سردیوں میں بند رہتا ہے ۔ کسی بھی امیدوار کو اس انتخابی حلقہ کے پیر پنچال کے دوسری طرف کے علاقوں کی طرف انتخابی مہم کے لیے جانا ہو، تو پہلے ڈوڈہ، پھر ادھم پور او ر پھر جموں یعنی تین اضلاع کو عبور کرکے اپنے حلقہ کے دوسری طرف پہنچ سکتا ہے۔
جنوبی کشمیر واحد ایسا خطہ ہے، جو خالصتاً کشمیری نژاد نسل پر مشتمل تھا۔ ورنہ چاہے وسطی کشمیر ہو یا شمالی کشمیر ، اس میں دیگر نسل کے افراد بھی آباد ہیں۔ اب پونچھ ، راجوری کو شامل کرکے اس میں گوجر اور پہاڑی آبادی کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ کشمیری آبادی کے اثر و رسوخ پر روک لگائی جاسکے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب اس حلقے کی کُل ۲۶لاکھ ۳۱ہزار کی آبادی میں ۱۴لاکھ ۸۰ہزار کشمیری یعنی ۵۶ء۲۵فی صد، گوجرو بکروال ۸۱ فی صد، پہاڑی ۸۴ فی صد، ڈوگرہ۴۷ فی صد اور پنجابی ۴۹ فی صد ہوں گے۔
بی جے پی کو یقین ہے کہ حال ہی میں پہاڑی آبادی کو شیڈول ٹرائب (ST) کی فہرست میںشامل کرنے سے یہ آبادی یکمشت اس کے امیدوار کو ووٹ دے گی۔ پہلے یہ سہولت صرف گوجربکروال کمیونٹی کو ہی مہیا تھی، جو پس ماندہ قوم تصور کی جاتی تھی۔ اس سہولت کی وجہ سے پہاڑی کمیونٹی ، جو جموں و کشمیر کی آبادی کا ۷فی صد یعنی کل ۷ء۹ لاکھ ہیں، کے لیے اسمبلی، ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں نشستیں مخصوص ہوں گی۔ مگر اس کی وجہ سے گوجر بکروال کمیونٹی ناراض ہے، کیونکہ ابھی تک وہ اکیلے ہی ان نشستوں کی دعوےدار تھی۔
مگر اس سب کے باوجود اور جموں و کشمیر میں ’امن و امان کی بحالی‘ کے بلندبانگ دعوئوں کے باوجود اسمبلی کے انتخابات نہیں ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کا کہنا ہے: ’’اگرچہ سب سیاسی پارٹیوں نے لوک سبھا کے ساتھ ہی یہاں کی اسمبلی کے انتخابات کرانے کی وکالت کی تھی، مگر سیکورٹی اداروں نے اس کی مخالفت کی ہے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ ’’نئی حدبندی کے مطابق جموں و کشمیر کی ۹۰نشستوں کے لیے تقریباً ایک ہزار اُمیدوار ہوں گے، اور سیکورٹی فورسز کی اضافی ۵۰۰ کمپنیوں کی ضرورت ہوگی‘‘۔
کشمیر میں زمینی حقیقت یہ ہے کہ سبھی روایتی سیاسی قوتوں کی ایک طرح سے زبان بندی کرکے ان کو بے وزن کر دیا گیا ہے اور کشمیر میں واقعی قبرستان کی سی خاموشی کا ماحول مسلط کردیا گیا ہے۔ اگر اطمینان کی خاموشی درکار ہے، تو اس کے لیے سیاسی عمل کے ساتھ سیاسی زمین بھی واپس دینی ہوگی، اور مسئلہ کے دیرپا حل کے لیے بین الاقوامی کوششیںبھی کرنا پڑیں گی۔
ذرائع ابلاغ اور اہم ٹی وی چینلوں پر تقریباً مکمل کنٹرول اورسوشل میڈیا پلیٹ فارم میں زبردست دراندازی کے بعد اب ’ہندوتوا تحریک‘ ہندستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اپنے نسل پرستانہ سیاسی مقاصد کے لیے ہندستانی فلم اور سنیما کو استعمال کر رہی ہے۔ چنانچہ گذشتہ چند برسوں کے دوران مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غرض سے متعدد فلمیں منظر عام پر آئی ہیں۔ اس نئی سرگرمی کے پس پشت یقینی بات ہے کہ ہندستان کے موجودہ حکام ہی ہیں، اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ حکمران پارٹی کے لیڈران اور ان کی ریاستی حکومتیں بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ ان کوششوں کی تائید کر رہی ہیں۔ ان فلموں کی تشہیر بھی کی جا رہی ہے۔ان فلموں کے مفت خصوصی شو چلانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور جن ریاستوں میں بی جے پی حاکم ہے وہاں تفریحی (انٹرٹینمنٹ) ٹیکس بھی معاف کیا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں منظر عام پر آنے والی فلموں میں یہ شامل ہیں:
کہا جاتا ہے کہ اُس زمانے میں کشمیر کے گورنر جگ موہن نے، جو کہ مسلم دشمنی کے لیے معروف تھا، وادیٔ کشمیر کے ہندوؤں سے کہا کہ وہ چند ہفتوں کے لیے کشمیر سے چلے جائیں تاکہ مسلمانوں کو سبق سکھایا جا سکے اور کشمیر کی سڑکوں پر آزادی کے ساتھ گولیاں چلائی جاسکیں۔ پھر وادیٔ کشمیر سے ہندوؤں کے نکل جانے کے فوراً بعد جگ موہن نے یہی کیا بھی۔ اس نے ایک جنازے پر گولیاں برسانے کا حکم بھی دیا ، جس کے نتیجے میں چند منٹوں کے اندر ہی ۴۰ سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ وہی گورنر ہے جس نے ان ہندوؤں کو ہندو اکثریت والے علاقے ’جموں‘ میں منتقل کرنے کے لیے آدھی رات کو فوجی گاڑیاں فراہم کی تھیں۔ جموں میں ان ہندوؤں کے لیے گھر بنائے گئے اور انھیں وظیفے، ملازمتیں اور دوسری بہت سی سہولتیں آج بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ مگر ایسی سہولتیں نقل مکانی کرنےو الے متاثر مسلمانوں کو کبھی نہیں فراہم کی گئیں۔
حکومتِ کشمیر یا حکومتِ ہند نے کشمیر سے ہندوؤں کی نقل مکانی کے اصل حقائق کا پتہ لگانے کے لیے آج تک عدالتی کمیشن مقرر نہیں کیا۔ لیکن یہ چیز بھی انتہا پسند ہندوؤں کو مسلمانوں پر یہ الزام عائد کرنے سے نہیں روک پائی کہ انھوں نے ہی ہندؤوں کو کشمیر سے نکالا ہے ، جب کہ کشمیر کے مسلمان تو خود ا ٓج تک مغلوب و شکست خوردہ ہیں، اور اس فوج کا قہر برداشت کر رہے ہیں جو کشمیر کے اندر بڑی تعداد میں موجود ہے ۔ کشمیریوں کے خلاف فوج کی ظلم وزیادتی کو قانون کی حمایت حاصل ہے۔فلم ’کشمیر فائلز‘ انھی جھوٹی باتوں کو دُہراتی ہے، تاکہ عام ہندوؤں میں یہ پیغام پہنچایا جا سکے کہ ’’ہندستان کے واحد مسلم اکثریتی خطے کشمیر میں مسلمانوں نے ہندوؤں پر ظلم کیا ہے اور جہاں بھی یہ اکثریت میں ہوتے ہیں یہی کرتے ہیں‘‘۔
ہم نے ذاتی طور پر ہندستان کی وزارت داخلہ سے (ہندستان کے آر ٹی آئی قانون کے تحت) داعش کیمپ میں شامل ہونے والی تعداد کے متعلق معلوم کیا تو وزارت داخلہ کا جواب یہ تھا کہ اس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے۔ پھر جب ہم نے ریاست کیرالا کے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے بھی یہی سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ ’یہ خفیہ معلومات ہیں، انھیں بیان نہیں کیا جا سکتا‘۔ پھر فلم بنانے والوں کو یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں؟ اس پر ہنگامہ ہوا تو بعض مسلمان عدالت چلے گئے۔ نتیجہ یہ کہ فلم پروڈیوسر بھی پلٹ گئے اور کہنے لگے کہ ’’تین ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد داعش کیمپ میں شامل ہو گئی تھیں‘‘۔ لیکن وہ لڑکیاں کون تھیں،ان کی متعین نشان دہی آج تک نہیں کی گئی۔
گذشتہ نومبر۲۰۲۳ء کے دوران جب ہندستان کے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’دی کیرالا اسٹوری‘ کو پیش کیا گیا تو حیرت کی بات یہ ہوئی کہ سلیکشن کمیٹی کے صدر اسرائیلی فلم پروڈیوسر نداف لبید نے سلیکشن کمیٹی کے ارکان کی طرف سے یہ بیان دیا کہ یہ ’’ایک پروپیگنڈا فلم ، معیار سے فروتر اور بے ہودہ فلم ہے اور فیسٹیول میں پیش کیے جانے کے لائق نہیں ہے‘‘۔ مذکورہ بالا اسرائیلی پروڈیوسر کو ہندستان سے نکالنے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ اس بیان کے خلاف فوراً بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا ، کیوں کہ انتہاپسند نسل پرست ہندوؤں کے نزدیک اسرائیل تو ہندستان کا جگری دوست سمجھا جاتا ہے۔ آخرکار مجبور ہو کرہندستان میں اسرائیل کے سفیر کو معذرت کرنا پڑی کہ’’وہ بیان اسرائیلی فلم پروڈیوسر کی ذاتی رائے پر مبنی ہے‘‘۔
جھوٹ کا پردہ فاش ہوجانے کے باوجود یہ فلم ہندستان بھر کے سنیما ہالوں میں دکھائی جارہی ہے اور لوگوں کے ذہنوں کو مسموم کر رہی ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے لیڈر، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں، نے اس فلم کی تعریف کی اور بی جے پی کے لیڈروں نے بعض مقامات پر اس فلم کو مفت میں دکھانے کا بندوبست بھی کیا، بلکہ سینما کے ٹکٹ خرید کر انھیں ہندوؤں میں تقسیم کیا تاکہ وہ فلم دیکھ سکیں۔
ان فلموں کے پرڈیوسروں کا کہنا ہے کہ ’’یہ آرٹ فلمیں ہیں، جن کی بنیاد ایسے قصے کہانیاں ہیں جن کا درست ہونا ضروری نہیں ہے‘‘۔ تاہم، یہ بات تو طے شدہ ہے کہ سادہ لوح ہندو اِن فلموں کو دیکھ کر یہ تاثر لیں گے کہ اسلام ظلم و تشدد اور دہشت گردی کا مذہب ہے اور اس مذہب پر ایمان رکھنے والے دہشت گرد ہوتے ہیں جو دہشت گردی کے ذریعے سے اپنے مذہب پر عامل ہیں۔
فلم کے اندر ’رام‘ کو ایک جنگ جُو اور انتہاپسند کے رُوپ میں دکھایا گیا ہے، جو ان کی اس تصویر سے مختلف ہے جس میں انھیں ایک نرم خُو،فیاض اور انسانیت نواز شخصیت کے طور پر دکھایا جاتا ہے، اور ہندو آج بھی انھیں انسانیت کے اعلیٰ نمونے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن ’ہندوتوا‘ کی سیاسی تحریک افسانوی کرداروں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر ہندو نوجوانوں کو مشتعل کرنا اور انھیں انتہا پسندی و دہشت گردی پر اُبھارنا چاہتی ہے۔اس فلم کی وجہ سے ہند کے اندر ایک بحران کی صورت نے جنم لیا ۔ حزب مخالف کے لیڈروں نے فلم اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید شروع کردی، کیوں کہ فلم میں ہندو دھرم کی مذہبی علامتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔نیپال کے اندر تو معاملہ اس قدر سنگین ہوگیا کہ اس نے اپنی سرزمین پر اس فلم کی نمایش کو ممنوع کر دیا۔
کچھ اور فلمیں اگلے چند ہفتوں میں ریلیز ہونے والی ہیں تاکہ آنے والے انتخابات میں حکمران پارٹی کو فائدہ پہنچ سکے۔ ان آنے والی فلموں میں چند یہ ہیں: ’فائٹر‘ (پلواما کے بارے میں)، ’آرٹیکل ۳۷۰ ‘(کشمیر کی خود مختاری کے بارے میں)، ’نکسل اسٹوری، جے این یو‘ (دہلی کی لیفٹ نوازیونی ورسٹی کے بارے میں)، ’سابر متی رپورٹ‘ (گودھرا ٹرین کے حادثے کے بارے میں جس کو گجرات فسادات ۲۰۰۲ بھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا)، ’رضاکار‘ (حیدر آباد دکن کی ملیشیا کے بارے میں)، ’گاندھی گوڈسے، میں اٹل ہوں‘ (اٹل بیہاری کے بارے میں)، ’سواتنتر ویر ساورکر‘ (ہندوتوا کے نظریہ ساز کے بارے میں)۔ یہ سب فلمیں واقعات کو ایسا رُخ دیں گی، جو ’ہندوتوا‘ کے نظریے سے میل کھاتا ہے تاکہ الیکشن میں بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکے ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ، جو کہ دنیا کی سب سے مال دار سیاسی جماعت ہے یا اس جماعت کی حمایت کرنےو الے تاجر اوربزنس مین وہی لوگ ہیں، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس پروپیگنڈا مہم کی فنڈنگ کرتے ہیں، تاکہ حکمران جماعت کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے ان فلموں سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے ۔موجودہ حکومت ِ ہند کی پالیسی مسلمانوں کے خلاف نفرت کو مسلسل ہوا دینے کی ہے، تاکہ شدید قسم کی گروہی پولرائزیشن ہو اور انتخابات میں وہ اس کا فائدہ اُٹھا سکے۔ ’اسلامک کونسل آف وکٹوریہ‘ آسٹریلیا (ICV)کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۹ء- ۲۰۲۱ء کے دوران دنیا بھر میں مسلم مخالف (Islamophobic)سوشل میڈیا پوسٹ سب سے زیادہ ہندستان سے نکلے، جب کہ دُنیا بھر سے مسلم مخالف سوشل میڈیا مہم کا ۸۵ فی صد زہریلا لوازمہ تین ملکوں (انڈیا، امریکا، برطانیہ) سے پھیلایا جارہا ہے:

نفرت کی آگ بھڑکانے والی اس پست درجے کی سیاست کاری کو روکنے کے لیے ابلاغی، صحافتی، ادبی ، علمی، فکری اور ثقافتی حلقوں کی جانب سے افسوس کہ کوئی قابلِ ذکر کوشش دکھائی نہیں دے رہی۔ خوف کی اس فضا میں مجموعی طور پر نقصان ہوگا، کاش کوئی اس پر سوچے!
گذشتہ ہفتے برطانوی پارلیمنٹ میں ، کمیونٹی سیکریٹری مائیکل گوو نے ’انتہاپسندی‘ کی ایک نئی ’تعریف‘ (definition)بطور ریاستی پالیسی کے متعارف کروائی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف برطانیہ بلکہ دُنیا بھر میں خدمت دین سے وابستہ مسلم تنظیمات میں گہری تشویش پیدا ہوئی۔ اس تعریف میں کہا گیا ہے :
انتہا پسندی،تشدد، نفرت یا عدم برداشت پر مبنی کسی نظریے کی ترویج یا ترقی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ؛ اول : دوسروں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی نفی؛ یا دوم: برطانیہ کے لبرل پارلیمانی جمہوریت اور جمہوری حقوق کے نظام کو کمزور کرنا، الٹ دینا یا تبدیل کرنا؛ یا سوم: جان بوجھ کر (اوّل یا دوم نوعیت کے) نتائج حاصل کرنے کی سہولت دینے والا ماحول پیدا کرنا۔
Extremism is the promotion or advancement of an ideology based on violence, hatred or intolerance, that aims to: (1) negate or destroy the fundamental rights and freedoms of others; or (2) undermine, overturn or replace the UK’s system of liberal parliamentary democracy and democratic rights; or (3)intentionally create a permissive environment for others to achieve the results in 1 or 2.
یاد رہے برطانوی حکومت نے اس سے پہلے ۲۰۱۱ء میں ’انتہا پسندی‘ کی ایک تعریف متعین کی تھی، جس کا بنیادی ہدف پُرتشدد حملوں یا اس نوعیت کا عملی اقدام تھا۔ لیکن اس ۲۰۲۴ء کی نئی تعریف کے مطابق محض کوئی بھی ایسا نظریہ رکھنا، جو برطانوی اقدار کے خلاف ہو، وہ ’انتہاپسندی‘ سمجھا جائے گا۔ اس کے لیے کسی پُرتشدد یا کسی عملی اقدام کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ ۲۰۱۱ء کی تعریف یہ تھی:
برطانوی بنیادی اقدار کی فعال مخالفت، بشمول جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انفرادی آزادی اور مختلف عقائد اور عقائد کے باہمی احترام اور رواداری کے خلاف اقدامات کرنے والے گروہ یا افراد کو انتہا پسند تصور کیا جائے گا۔
vocal or active opposition to British fundamental values, including democracy, the rule of law, individual liberty and the mutual respect and tolerance of different faiths and beliefs
یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب ہوگا کہ پیش کردہ نئی تعریف، پرانی سے کس طرح مختلف ہے۔ ۲۰۱۱ء میں، انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے حکومت نے ’عملی انتہا پسندی‘ کو ’’بنیادی برطانوی اقدار، بشمول جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انفرادی آزادی اور مختلف عقائد اور عقائد کے باہمی احترام اور رواداری کی فعال مخالفت‘‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔
لیکن ۲۰۲۴ء میں وضع کردہ نئی تعریف کے تحت اصل ہدف فعال مخالفت یا اقدام سے بدل کر محض ’برطانوی اقدار‘ کے مخالف نظریہ اور اس کی ترویج ہے۔ یعنی اب اصل ہدف صرف پُرتشدد اقدام نہیں بلکہ صرف ایسے نظریات بھی انتہا پسندی کے دائرے میں آئیں گے، جو برطانوی لبرل نظریات سے منافی ہوں۔ یہ بات سمجھنا چاہیے کہ نئی وضع کردہ تعریف کے، برطانیہ میں رہنے بسنے والے مسلمانوں، مسجدوں، اشاعتی اداروں اور مسلم تنظیمات پر گہرے دُوررس اثرات پڑیں گے۔
اس حوالے سے اگر مائیکل گوو کی پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریر کا جائزہ لیا جائے تو اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک نئی تعریف نہیں ہے بلکہ انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مکمل ریاستی پالیسی بیان ہے۔ جس کا اطلاق فوری طورپرکیا جائے گا۔ اس لیے وزیروں اور سرکاری ملازموں پر ایسی تنظیموں سے رابطہ کرنے یا فنڈنگ کرنے پر پابندی ہوگی، جنھیں انتہا پسند شمار کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس پالیسی کا نفاذ صرف حکومت اور اس کے محکمہ جات پر ہوگا، جب کہ کونسلوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ حکومت کی پالیسی کی پیروی کریں گے۔ یعنی وہ تنظیمات جو نئی تعریف کے تحت ’انتہا پسند‘ قرار پاتی ہیں، اب ریاستی سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔ پالیسی کے تحت، ’انتہا پسند‘ دائرے میں نشان زدکی گئی تنظیمات اور افراد کو ’بلیک لسٹ‘ (ناپسندیدہ) قرار دیا جائےگا اور انھیں ریاست برطانیہ کی طرف سے ایک طرح کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مائیکل گوو نے اپنی تقریر میں واضح الفاظ میں کہا کہ ’’یہ دراصل ۷؍اکتوبر کو حماس، اسرائیل جنگ کی وجہ سے برطانوی معاشرے میں پیدا ہونے والے ردعمل اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خطرے کا جواب ہے‘‘۔ مطلب یہ کہ فلسطین کی حمایت میں برطانیہ میں ہونے والے احتجاج اور اسرائیل مخالف جذبات درحقیقت یہ نئی پالیسی بنانے کی وجہ قرار دئیے گئے ہیں۔
خود مائیکل گوو کے مطابق اس کا مقصد انتہائی دائیں بازو کے اسلامی اور انتہا پسندوں کو نشانہ بنانا ہے۔لہٰذا، ’ہاؤس آف کامنز‘ میں اپنے اعلان میں، کمیونٹی سیکرٹری نے کہا کہ ابتدائی طور پر مسلم گروپ ’مسلم ایسوسی ایشن آف برٹین‘، مسلم انگیج منٹ اینڈ ڈویلپمنٹ اور انتہائی دائیں بازو کے گروہ برٹش نیشنل سوشلسٹ موومنٹ اینڈ پیٹریاٹک الٹرنیٹو وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر گروہ مثلاً فرینڈز آف الاقصیٰ ، فائیو پلرز اور فلسطین ایکشن وغیرہ بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔ مسلم تنظیموں کا نام لیتے ہوئے مائیکل گوونے پارلیمانی استثناء کا سہارا لیا، تاکہ وہ اس حوالے سے قانونی مضمرات سے بچ سکیں۔
یاد رہے برطانیہ میں اس سال عام انتخابات ہوں گے، لہٰذا کنزرویٹو پارٹی، مسلمانوں کے خلاف اقدام کرکے سیاسی طور پر دائیں بازو کے ووٹر کی حمایت بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ ہتھکنڈا ہے، جسے بعض ملکوں میں استعمال کرکے فائدہ اُٹھایا گیا ہے۔
یہاں ان اُمور کی نشاندہی ضروری ہے جن کی وجہ سے نئی تعریف مسلمان حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔اگرچہ یہ تعریف اور اس کی بنیاد پر بنی پالیسی کوئی قانون نہیں ہے لیکن اس کے باجود، انتہا پسند قرار دئیے جانے کی صورت میں حکومتی تعصب کا شکار ہونے اور اپنے حقوق سے محروم ہونے والے افراد یا تنظیمات کے پاس، انتہا پسند گردانے جانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود نہیں۔مزید برآں یہ نئی تعریف پیش کرنے سے پہلے کوئی تفصیلی مشاورت یا بحث بھی نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ اس بات کا واضح خدشہ موجود ہے کہ یہ تعریف، آزادیٔ اظہار جو جمہوریت اور لبرل اقدار کا مسلّمہ اصول ہے کے خلاف ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔
مائیکل گوو کی تقریر کے اندر برطانیہ میں بروئے کار مسلم تنظیموں کو خصوصی طور پر نشانہ بنانا اور فوری وجۂ جواز مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازعے کو قرار دینا، اور ’انتہاپسندی‘ کو مسلمانوں ہی سے منسلک کردینا، یہ ثابت کرتا ہے کہ دراصل برطانوی پالیسی سازوں کے ذہن میں مسلمانوں کے حوالے سے چھپا تعصب کارفرما ہے۔ اس گمان کو مائیکل گوو کے وہ خیالات مزید تقویت دیتے ہیں، جن میں انھوں نے مسلمان سیاسی مفکروں جیساکہ سیّدمودودی، حسن البنا اور سیّد قطب کے نظریات کو انتہا پسندی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے خاص طور پر برطانوی معاشرے کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا، اور کہا کہ ’’اس حوالے سے برطانوی حکومت مستقبل میں اپنا ردعمل دیتی نظر آئے گی‘‘۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ، جدید سیاسی، سماجی و اخلاقی نظریات اپنے آپ میں کئی صدیوں کی فلسفیانہ اور ادبی تنقید کا حاصل ہیں۔ لہٰذا ، کسی ریاست میں نافذ العمل سیاسی ،سماجی و اخلاقی نظریات اور اقدار کو، تنقید سے بالاتر سمجھنا اور ایک جابرانہ پالیسی، معاشرے کے تمام طبقات سے زبردستی تسلیم کروانا خود جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مائیکل گوو کے پالیسی بیان کے عملی نفاذ کی صورت میں، کثیرقومی برطانوی معاشرہ ایک نئی تقسیم کا شکار ہوسکتا ہے، جس کی بنیاد خود حکومتی پالیسی ہو گی۔ اس کے علاوہ انتہا پسندی کی نئی تعریف کے مضمرات صرف برطانوی معاشرے تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ دنیا کے دیگر خطوں بالخصوص برطانوی استعمار میں رہنے والے، غیر مسلم اکثریتی ممالک مثلاً آسٹریلیا، اور ہندستان وغیرہ میں دُور رس اثرات کے حامل ثابت ہوں گے۔ جس کے نتیجے میں برطانیہ اور دیگر غیر مسلم ممالک خاص طور پر دائیں بازو کی سیاسی تحریکوں کی اٹھان سے متاثر یورپی ممالک میں بسنے والے مسلمان اور کام کرنے والی تنظیمات کو عملی مشکلات اور قدم قدم پر تعصب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اس سارے منظر نامے کے پیش نظر اگرچہ ’مسلم کونسل آف برطانیہ‘ (MCB)نے اس تقریر کے بعد حکومت کی متعصبانہ پالیسی کو چیلنج کیا ہے، لیکن یہاں پر اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ’انتہا پسندی‘ کی نئی تعریف پر نمایندہ مسلم ممالک، خاص طور پر ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC) اور دیگر مؤثر ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو فوراً نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔*
*برطانیہ کی ۴۰۰ مساجد کے اماموں اور اسلامی اسکالروں نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت کی جانب سے کی گئی اس غلط تعریف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیلی لابی کے زیراثربرطانیہ میں ۳۵لاکھ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش ہے۔ (۲۲مارچ ۲۰۲۴ء)
کیا مسلم لیگ کی لگی بندھی معاشی حکمت عملی ۲۰۲۴ء میں بھی کارگر ہو سکے گی؟ دراصل روایتی طور پر ’ن‘ لیگ کی معاشی منصوبہ بندی کا دارومدار انفراسٹرکچر کی ترقی اورشرح تبادلہ کے کنٹرول پر رہا ہے۔ گذشتہ تین عشروں میں اس پارٹی کی مختلف حکومتوں کے دوران مذکورہ حکمت عملی کے ملتے جلتے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں اس جماعت کی پہلی حکومت اسی حکمت عملی کے ساتھ ۷ء۷فی صد کی حیرت انگیز شرح نمو حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی، جب کہ ۱۹۹۷ء میں یہی شرح نمو گھٹ کر ایک فی صد پر آگئی ہے۔ مسلم لیگ کے آخری دور حکومت (۱۸-۲۰۱۳ء) میں معیشت اوسطاً ۵ فی صد سالانہ کی شرح نمو پر چلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ۲۰۲۲ء تا ۲۰۲۳ء کے مختصر دور میں شرح نمو کافی کمی کے بعد ۰ء۲۹ فی صد پر آگئی تھی۔
تاہم، یہ معاشی ماڈل ۲۰۲۴ء میں دو عوامل کے سبب کامیاب نہیں ہو سکتا: اوّل، اس سال بجٹ خسارہ بہت زیادہ یعنی ساڑھے آٹھ کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے،نتیجہ یہ کہ ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کے لیے رقم موجود ہی نہیں ہے۔ دوم، اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرِ مبادلہ کے ذخائر اتنے نہیں ہیں کہ انھیں استعمال کرتے ہوئے مارکیٹ میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھا جاسکے۔ ان مشکلات کے سبب اس ماڈل کا کامیاب ہونا خاصا مشکل ہے۔
پاکستان شدید اور گہری معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایک طرف ادائیگیوں میں عدم توازن کا بحران درپیش ہے تو دوسری طرف مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور قرض کا بوجھ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ مسائل کے حل کے لیے دو خوبیاں درکار ہیں: ایک، وژن اور دوسرا فیصلہ کن اقدامات کی صلاحیت اور حوصلہ۔
فوری طور پر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقتصادی نظم و ضبط، رسد میں اضافہ، اور معاشرے کے مخصوص طبقوں کے لیے سماجی تحفظ کے اقدامات کرنے ضروری ہیں، تا کہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔
اس لیے سب سے پہلے قرضوں کے انتظام اور تنظیم نو پر دھیان دینا ہو گا تا کہ ان کا ایک پائیدار بندوبست تلاش کیا جا سکے۔ قرضوں میں چھوٹ اور قرض خواہوں کے ساتھ بہتر شرائط کے حصول کے لیے بات چیت کرنی ہو گی۔انھیں قرض کے بندوبست اور معاشی پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے ایک بالکل نئے زاویۂ نظر کی ضرورت ہو گی۔
نئی حکومت کو کئی خوفناک مسائل کا سامنا ہے۔ ’ن‘لیگ کے روایتی معاشی ماڈل پر کاربند رہتے ہوئے ان مسائل سے نپٹنا ناممکن ہے۔ چنانچہ نئے وزیر خزانہ کو ماضی کے تجربات کے بجائے حقیقی معنوں میں پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہو گی اور پاکستان کے معاشی مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے کئی مشکل اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
فرسودہ معاشی نظام اور پرانے تجربات پر گزارا کرنے کے دن جاچکے ہیں، اب ایسی معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے، جو ماضی کی زنجیروں سے آزاد ہو۔ پاکستان کو روایتی حربوں سے جان چھڑوانا ہوگی، اور غیر روایتی حل تلاش کرنا ہوں گے۔
آئی ایم ایف کی شرائط پر بے چون و چرا سر تسلیم خم کرنے کے بجائے پاکستان کی خودمختاری کا احساس کرتے ہوئے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرنا ضروری ہوگا۔ وژن، تجربے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے ایک نیا وژن ضروری ہے۔
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پرانے معاشی ماڈلوں کی باقیات سے پیچھا چھڑوانا ہو گا۔ ’ن‘لیگ کی معاشی حکمت عملی متروک ہو چکی ہے اور موجودہ مسائل کا حل اس کے ذریعے ممکن نہیں۔ اس لیے ماضی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جدت، پائیداری اور نئے تجربات کا رُخ کیا جائے، جن کی ضرورت آج سے پہلے کبھی اتنی نہ تھی۔ عمل کی گھڑی آن پہنچی ہے!
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ہماری دنیا میں پائی جانے والی ظالمانہ معاشی ناہمواری کی چند مزید چشم کشا جھلکیاں سامنے آئی ہیں۔ مہنگی کاریں بنانے والی مشہور زمانہ کمپنی ’لیمبورگنی‘ نے پہلی دفعہ ایک سال میں دس ہزار کاریں فروخت کرنے کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ اس کمپنی کے موجودہ ماڈل Revuelto 2024 کی قیمت ۶ لاکھ ۸ ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔
’گوگل‘ کے شریک بانی لیری پیج کے ذاتی جزیروں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے۔ ان کی تازہ ترین خرید پورٹو ریکو اور برٹش ورجن آئی لینڈز کے درمیان واقع ایک جزیرہ ہے جو انھیں ۳۲ملین ڈالر (یعنی بارہ ارب ۲۳کروڑ روپے ) میں پڑا ہے۔
آسٹریا کی کمپنی ’موشن کوڈ: بلیو‘ نے ایک نئے بحری جہاز کا ڈیزائن جاری کیا ہے، جو چار ہفتے تک مسلسل زیر آب رہنے کی صلاحیت سے لیس ہے۔اس ۵۴۱ فٹ لمبے جہاز ’Migaloo M5 ‘کے اندر ایک سوئمنگ پول اور ہیلی پیڈ بھی موجود ہے اور اس کی قیمت ۲ بلین ڈالر رکھی گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آسٹریائی تخلیق کار اپنی توانائیاں ارب پتیوں کے لیے ایسے ۲بلین ڈالر کے مہنگے کھلونے بنانے میں کیوں لگا رہے ہیں؟ اس کی وجہ ظاہر ہے: عصر حاضر کے امرا دولت کے ان پہاڑوں پر براجمان ہیں، جہاں ایسے چند ارب ڈالر کا خرچ ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
دولت کے یہ پہاڑ کیونکر پھیل رہے ہیں؟ ’آکسفام‘ (Oxfam)کے محققین نے اپنی حالیہ تحقیق میں اس سوال کا متاثر کن جواب پیش کیا ہے:’’گذشتہ چار عشروں میں جی-۲۰ ممالک کی کل قومی آمدن کا ’ٹاپ ایک فی صدی سرمایہ داروں‘ کو جانے والا حصہ بڑھتے بڑھتے ۴۵ فی صد تک پہنچ چکا ہے‘‘۔ یعنی دنیا کے بیس بڑے ممالک اپنی کل آمدن کا ۴۵ فی صد صرف ’ایک فی صد طبقے‘ کو پیش کرتے ہیں، اور یہ کہ: ’’ان کی آمدن پر لگنے والے ٹیکس کی شرح تقریباً ایک تہائی کم ہو چکی ہے‘‘۔
’آکسفام‘ کے مطابق ۲۰۲۲ میں جی-۲۰ ممالک کے ’ٹاپ ایک فی صد طبقے‘ کی آمدن ۱۸ٹریلین ڈالر تھی۔ یہ اعداد و شمار اس ہفتے شروع ہونے والے جی-۲۰ کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کے اجلاس سے قبل جاری کیے گئے ہیں۔ دراصل جی-۲۰ میں ۲۱؍اراکین شامل ہیں، جن میں سے دنیا کے ۱۹طاقت ور ترین ممالک ہیں، جب کہ بیسواں ’یورپی یونین‘ اور اکیسواں امسال پہلی دفعہ شامل ہونے والا رکن ’افریقی یونین‘ ہے۔
۲۰۲۴ء کے لیے جی-۲۰ کے سربراہ برازیل نے ساؤ پاؤلو میں اس اجلاس کا اہتمام کیا ہے۔ برازیل میں لُول ڈاسلوا کی بائیں بازو کی حکومت نے اس اجلاس کی میزبانی کے لیے خاصے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے پیچھے ان کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی دولت پر ٹیکس عائد کرنے کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر پیش کیا جائے۔
پچھلے ہفتے برازیلین وزیر خزانہ فرنانڈوحداد نے برازیلی اخبار ’او-گلوبو‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا:’’ دنیا کا کوئی ملک اس وقت امیروں پر ٹیکس لگانے کے معاملے میں برازیل پر برتری نہیں رکھتا‘‘۔ گذشتہ سال برازیلی صدر لُول ڈا سلوا نے برازیلی امرا کی بیرون ملک سرمایہ کاری پر ۱۵ فی صد محصول عائد کیا تھا، اور امرا کے مددگار چور دروازے بند کرنے کے لیے برازیلی حکومت نے ذاتی پنشن فنڈز میں ڈالی جانے والی رقم پر بھی ایک حد مقرر کر دی ہے۔
ساؤ پاؤلو اجلاس میں افتتاحی تقریر کرتے ہوئے برازیلی وزیر خزانہ فرنانڈو حداد کا کہنا تھا: ’’ماحولیاتی تباہی اور دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کے خلاف ایک نئی عالمی مہم کا وقت آ گیا ہے۔ہم ایک بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ ایک فی صد امیر ترین طبقہ دنیا کے ۴۳ فی صد اثاثوں پر قابض ہے اور دنیا کی دو تہائی غریب آبادی کے برابر کاربن فٹ پرنٹ پیدا کرتا ہے۔قومی معیشتوں کے مقابلے میں اقتصادی اداروں کے بڑھتے ہوئے حجم نے امیروں کو ٹیکس سے فرار کے نئے طریقے فراہم کر دیئے ہیں۔تاہم، حالیہ برسوں میں ایسی ٹیکس چوری سے بچنے میں ریاستوں کو کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے‘‘۔ (کاؤنٹرپنچ، ۶مارچ ۲۰۲۴ء)
اخلاق کی اہمیت انفرادی و اجتماعی زندگی میں مسلّمہ ہے۔ اچھے اور پُرامن معاشرے کی تعمیر میں اخلاقِ حسنہ کلیدی رول ادا کرتے ہیں ۔تمام آسمانی کتب میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے کامیابی کے لیے اس کو لازمی قرار دیا ہے ۔ آ ج اخلاقی زوال ہر سطح پر عام ہے۔ تعلیم گاہیں بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ اس کی روک تھام کی اشدضرورت ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور تعلیم گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کل ملک و ملت کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں۔ لہٰذا ان تعلیم گاہوں کا ماحول ایسا بنایا جائے کہ طلبہ اچھے اخلاق کے حامل ہو سکیں ۔ اس سلسلے میں چند عوامل کا ذکر کیا جا رہا ہے ۔ ان کے ذریعے سے تعلیم گاہوں میں اخلاقیات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
حُسنِ خلق کے مقاصد: حُسن اخلاق کو اختیار کرنے کے درج ذیل مقاصد ہیں:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں آپؐ کی اخلاقی خوبیوں کا ذکر کیا ہے۔ایک مقام پراللہ تعالیٰ نے نبیؐ کے بلند اخلاق کاذکر کرتے ہوئے فر مایا : وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۴ (القلم ۶۸:۴) ’’بے شک آپ ؑ اعلیٰ اخلاق والے ہیں‘‘۔کتب سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دعوت کا کام کر رہے تھے تو حضرت ابوذر ؓ نے اپنے بھائی کو مدینہ سے مکہ بھیجا کہ وہ رسول اکرمؐ کے بارے میں معلومات حاصل کر کے لائیں ۔انھوں نے آکر اطلا ع دی کہ رَاَیْتُہٗ یَاْمُرُ بِـمَکَارِمِ الْاَخْلَاقِ (مسلم) ’’میںنے ان کو دیکھاکہ وہ لوگوں کواخلاق حسنہ کی تعلیم دیتے ہیں‘‘۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اخلاق کے عظیم الشان مرتبہ پر فائز تھے ۔ انسانوں کوبھی آپؐ اچھے اخلاق اپنانے کی تعلیم دیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:اِتَّقِ اللہَ حَیْثُ مَاکُنْتَ وَاَتْبِعِ السَّیِئَۃَ الْحَسْنَۃَ تَمْحُھَا وَخَالِقِ النَّاسِ بِخُلُقٍ حَسَنٍ (ترمذی)’’جہاں کہیں بھی رہواللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہواور برائی کے بعد نیکی کرلو تاکہ نیکی برائی کو مٹا دے اور لوگو ں کے ساتھ خوش خوئی سے پیش آؤ‘‘۔
ایک شخص نے نبی کریم ؐ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ؐ !فلاں عورت نفل نماز پڑھنے ، نفل روزے رکھنے اور صدقہ کرنے کے لیے مشہور ہے۔ لیکن اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے ۔ آپ ؐ نے فرمایا : وہ جہنمی ہے ۔ اس آدمی نے پھر کہا : اے اللہ کے رسول ؐ !ایک دوسری عورت ہے جو کم نماز پڑھتی، کم روزے رکھتی ہے اور کم مقدار میں صدقہ کرتی ہے۔ مگر وہ پنیر کے چند ٹکڑے غریبوں کو دیتی ہے اور پڑوسیوں کو اپنی زبان سے تکلیف نہیں پہنچاتی ۔ آپ ؐ نے فرمایا:’’وہ جنتی ہے‘‘۔(احمد)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہوکہ مفلس کون ہے ؟ لو گوں نے عرض کیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ مال و اسباب۔ آپؐ نے فر مایا :’’ میری امت کا مفلس شخص وہ ہے، جو قیامت کے روز اس حال میں حاضر ہو کہ اس کے پاس نماز، روزہ اور زکوٰۃ سب ہو، مگر اسی کے ساتھ دنیا میں اس نے کسی کو گالی دی ہو گی ، کسی پر بہتان تراشی کی ہو گی ، کسی کا مال ہڑپ کرکے کھایا ہوگا،کسی کی پٹائی کی ہوگی،تو ان تمام مظلوموں کو اس کی زیادتیوں کی بنا پر بدلے میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی۔ اگر نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور مظلوموں کے حقوق باقی رہ جائیں گے تو ان کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ نماز وروزہ کی دین میں اپنی جگہ پر اہمیت مسلّمہ ہے۔ لیکن یہ حدیثیں بتاتی ہیں کہ آخرت کی کامیابی کے لیے اچھے اخلاق کو اختیار کرنا لازمی و ضروری ہے۔
تعلیم کا مقصد انسانی زندگی پر بہت گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ تعلیم کا مقصد ’تعلیم برائے معاش‘، ’ تعلیم برائے علمیت‘ ہو تو طلبہ پیسے کمانے کی مشین بنتے ہیں یا ساری توجہ اچھے نمبروں کو حاصل کرنے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اخلاقیات، انسانیت کے تقاضے نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کے مقاصد میں سے ایک مقصد معاش اور علمی لیاقت تو ہوسکتا ہے لیکن اس کو اصل کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ تعلیم کا مقصد تویہ ہے کہ نئی نسل کی تربیت و نشوونما ایسی ہو کہ ان کی خوابیدہ فطری صلاحیتوں کو جِلا بخشی جا سکے۔ انھیں اپنی انفرادی و اجتماعی، عائلی و سماجی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی اداکرنے والا بنایا جا سکے۔پاکیزہ سیرت و کردار ، اخلاق کریمہ کا خو گر بنایا جاسکے۔ اپنی ذات ،سماج ومعاشرے کے لیے نفع بخش و مفید تر بنایا جا سکے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد ہے کہ انسان اللہ کا صالح بند ہ بن جائے،تاکہ اس دنیا میں انسانوں کے کا م آنے والا ، لوگوں میں خیر و بھلائی پھیلانے والابن سکے اور آخرت میں کامیاب ہو سکے۔ہمارے ادارے قائم کرنے کا مقصد یہی ہے۔ یہ مقصد ذمہ داران، تدریسی وغیر تدریسی عملہ ، والدین ، سر پرستوں،طلبہ سب کے سامنے رہنا چاہیے۔
اسلام کے نظامِ تعلیم میں اخلاقیات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسلامی نظام تعلیم کی بنیاد توحید، رسالت اور آخرت کے عقیدے پر ہے ۔ وہ خلافت، وحدت انسانیت، احترام انسانیت، آزادیٔ رائے جیسے تصور کو اہمیت دیتا ہے۔ نظام تعلیم میں درسیات کی بنیادی حیثیت ہے ۔ کتابیں اپنا اثر چھوڑتی ہیں، لہٰذا نصاب ایسا ہو نا چاہیے، جن سے طلبہ کے اندر اعلیٰ نصب العین، پاکیزہ نظریۂ حیات اور مقصد ِزندگی ذہین نشین ہو سکے، جو بچوں کے کردار کوپاکیزہ اخلاق کا حامل بنائے۔
اچھی باتیں سکھانے کا بڑا اجر ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہٖ ( مسلم) ’’جو شخص کسی بھلائی کی طرف راہ نمائی کرے اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ نیکی کرنے والے کو‘‘۔ مُعَلِّمُ الْخَیْرِ یَسْتَغْفِرْ لَہٗ کُلُّ شَیْ ءٍ ( ترمذی) ’’معلم خیر کے لیے تمام چیز یں دعا ئے مغفرت کرتی ہیں‘‘ ۔ ان احادیث سے پیشۂ معلمی کی اہمیت کا انداز لگا یا جاسکتا ہے ۔ اس فر ض کی ادائیگی معلم کے لیے دنیا میںباعث خیر ہے اور آخرت میں کا میابی کی ضمانت ہے۔ اس فرض سے غفلت سے ، سستی ، کوتاہی ، لاپراوہی آخرت میں نامرادی کا سبب بنے گی ۔
معلم کو چاہیے کہ وہ اپنے طلبہ سے حسن سلوک ، محبت ، شفقت ، ایثارسے پیش آئے۔ طلبہ کی غلطیوں پر در گزرسے کام لے اور اگر قابلِ گرفت بات ہو تو بہت احتیاط کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ ان کی غلطیوں پر ان پر طعن و تشینع سے اجتنا ب برتے ۔طلبہ کی عزّتِ نفس کا خیال رکھے۔ طلبہ کی پریشانیوں ، دقتوں، مسائل کو سمجھنے اور ان کوہمدردی سے حل کرنے کی کوشش کرے۔ وہ خود بھی اخلاق کریمہ سے متصف اور اصول پسند ہو۔ اس کے قول و عمل میں مطابقت ہو۔ طلبہ کو انبیاءؑ، صحابہؓ و تابعینؒ کے واقعات ، اخلاقی کہانیاں سنا کر ان کو اخلاق حسنہ کا خوگر بنادے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ (التحریم۶۶:۶)، ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے آپ کواور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤجس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘‘۔نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’کوئی باپ اپنے بیٹے کو اچھا اخلاق سکھانے سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دے سکتا‘‘۔
اس ذمہ داری کے بابت آخرت میں جواب دہی کرنی ہوگی۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اچھے اخلاق سکھائیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: اَكْرِمُوْا اَوْلَادَكُمْ وَ اَحْسِنُوْا أَدَبَهُمْ(ابن ماجہ ) ’’تم اپنی اولاد کی عزت کرو اور انھیں ادب سکھاؤ‘‘۔
سرپرستوں کی میٹنگ میں عام طور سے یہ ہوتا ہے کہ معلّمین سرپرستوں سے بچوں کے سامنے بچوں کی کمزویوں کا ذکر کرتے ہیں اور بعض والدین بچوں کو وہیں تنبیہ شروع کر دیتے ہیں۔ معلّمین کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ والدین سے بچوں کی خوبیوں اور دلچسپیوں کا ذکر کر کے ان کی رہنمائی کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں ان کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اوراگر بچے میں تعلیمی یا کوئی کمزوری ہے تو بچوںکے سامنے اس کا ذکر نہ کیا جائے بلکہ علیحدہ سے بتائی جائے۔اس طر ح کا رویہ اپنانے سے سرپرستوں اور طلبہ کے والدین میں روابط اچھے ہوجائیں گے۔