جموں و کشمیر کا تنازعہ، جموں و کشمیر کے لوگوں کی اُمنگوں پر مبنی سیاسی حل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی دو قراردادوں۱۳؍ اگست ۱۹۴۸ء اور ۵ جنوری ۱۹۴۹ء میں واضح طور پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو حقِ خودارادیت اور ریاست میں رائے شماری کے انعقاد کا حق دیا گیا ہے۔ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر میں انسان کے بنیادی حق کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ ہر قوم اور برادری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ بغیر کسی تفریق، پابندی اور رکاوٹ کے اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق کرے۔ اگر یہ حق پوری عالمی برادری پر لاگو ہوتا ہے تو کشمیریوں کو، انڈیا اور پاکستان کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بعد اس سے مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا اور نہ انھیں غیر معینہ مدت تک غیر ملکی قبضے کے ذریعے محکوم بناکر رکھا جاسکتا ہے۔ بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم تو کیا ہے، لیکن سات عشروں سے اس پر عمل درآمد سے انکار ی ہے۔
تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل سے مسلسل بھارتی انکار نے جموں و کشمیر کے لوگوں میں مایوسی اور بے چینی پیدا کی۔ کشمیریوں کی مایوسی برسوں کے بھارتی قبضے، اپنی ہی ریاست میں کشمیریوں کے ساتھ امتیازی اور ناروا سلوک اور ریاست کی داخلی خودمختاری سے انکار کا نتیجہ تھا۔ نتیجتاً، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے ۱۹۹۰ء میں غیر قانونی انڈین حکمرانی اور اس کی مسلسل استحصالی پالیسیوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس تحریک کا مقبول نعرہ ’آزادی اور حقِ خودارادیت‘ کشمیری عوام کا واحد مطالبہ تھا۔
بھارت نے وحشیانہ ردعمل کے ذریعے پورے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کردی اور مختلف غیر انسانی حکمت عملیوں کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم و ستم شروع کر دیا۔ ۱۹۹۰ء کے آغاز سے ہی پُرامن کشمیریوں کے مظاہروں پر بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، حراستی مراکز میں تشدد، زیرحراست قتل اور اندھا دھند فائرنگ روز کا معمول بن گیا۔ ۱۹۹۰ء کی اس تحریک میں مختلف غیرجانب دار ذرائع کے مطابق، بھارتی سفاک سیکورٹی فورسز نے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ کشمیری قیادت کو اکثر یا تو براہ راست حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے، یا پھر بھارتی سکیورٹی فورسز کے زیر حراست اور گھر میں نظربند رہتے ہوئے مارا گیا ہے۔ عظیم کشمیری رہنما سیّد علی شاہ گیلانی، کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کے بانی، یکم ستمبر ۲۰۲۱ءمیں پانچ سال سے زائد عرصے تک گھر میں نظر بند رہنے کے دوران انتقال کر گئے۔
مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق۱۲ہزار سے زیادہ کشمیری خواتین کو ہراساں کیا گیا، عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا، جن میں اجتماعی عصمت دری اور عصمت دری کے بعد قتل کرنا بھی شامل ہے۔ ہندوستانی ریاست نے مختلف قوانین جیسے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA)، پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے ذریعے ان غیر انسانی کارروائیوں کو قانونی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ ان امتیازی قوانین نے بھارتی فوج اور اس کے نیم فوجی دستوں کو کشمیریوں کی گرفتاری، غیر قانونی حراست، تشدد اور قتل کے لیے خصوصی دفعات فراہم کیں۔ اس طرح کے قوانین اور وحشیانہ طاقت کے استعمال کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ ناروا سلوک بین الاقوامی قوانین، انسانی قوانین، معاہدوں اور درجنوں بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، جسے عالمی سطح پر چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
دوسری طرف بھارت نے اپنی ۹لاکھ سے زیادہ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جاری رکھا۔ اس نے ۵؍ اگست ۲۰۱۹ءکو اس کے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو منسوخ کرکے غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا۔ اس کے علاوہ، اس نے ہندوستانی یونین کے تحت دو مرکز کے زیر انتظام علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ) بنا کر ریاست کی ریاستی حیثیت کو بھی ختم کردیا۔ ریاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے، نئی دہلی نے اپریل ۲۰۲۰ء میں جموں و کشمیر کے لیے نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروائے۔
ان قوانین کے تحت انڈین حکومت نے بھارت کے مختلف حصوں سے غیر کشمیری ہندوؤں کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جو چوتھے جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس کنونشن کا آرٹیکل ۴۹ (۶)قابض طاقتوں کو اپنی آبادی کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنے سے منع کرتا ہے۔ درحقیقت یہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
۱۸ جنوری ۲۰۲۲ء کو، برطانیہ کی ایک قانونی فرم نے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کو اس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل منوج اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شا کی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گرفتار کرنے کے لیے اپیل دائر کی۔ ہندوستانی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں کی گرفتاری کے لیے یہ قانونی اپیل ’عالمی دائرہ اختیار‘ کے تحت درج کی گئی تھی۔
۹ لاکھ سے زیادہ ہندوستانی افواج کی تعیناتی کے ساتھ، مقبوضہ کشمیر ایک جنگی علاقہ بن گیا ہے۔ لہٰذا، تنازعہ کے سیاسی حل کے علاوہ، بین الاقوامی انسانی قانون (IHL)تنازعہ کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ٹھوس بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ IHL درحقیقت قوانین کا ایک مجموعہ ہے جو مقبوضہ کشمیر جیسے جنگی علاقے میں مسلح تصادم کے اثرات کو محدود کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے علاوہ، ’بین الاقوامی انسانی قانون‘ مقامی آبادی کو تمام جہتوں سے بچانے کے لیے ریاستوں کی ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے: ان کے بنیادی شہری حقوق، ان کی آزادی اور تحفظ اور سب سے بڑھ کر ان کا حقِ خود ارادیت۔ مسئلہ کشمیر کو قانون کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو روکنے پر مجبور کرنے کے لیے اہل دانش اور سفارت کاروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ آبادی کے تناسب میں جبری تبدیلیوں کو روکنا اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو بھی نمایاں کرنا چاہیے، جن کے نتیجے میں انسانی المیہ ایک دہکتے الائو کی طرف بڑھتا نظر آرہا ہے۔
تحریک صہیونیت اصل میں اشکنازی یہودیوں نے شروع کی تھی، جو سرخ و سفید رنگت رکھتے ہیں اور مذہب سے جن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کابانی تھیو ڈور ہرزل تھاجس کے انتقال کےبعد چیم ویزمین تحریک صہیونیت کا چیرمین بنا اور قیامِ اسرائیل کے بعد وہی ملک کاپہلا صدربھی بنا تھا۔ یہ لوگ یروشلم کے صہیون پہاڑ پر تخت ِداؤد لانا چاہتے ہیں ۔ یاد رہےکہ لادینی اور مذہبی دونوں ہی قسم کے یہودی مل کر ایک ہی مقصد پر کام کر رہے ہیں کہ تخت داؤد کو لایا جائے اور صہیون پہاڑ پر رکھا جائے۔ یہ دونوں گروہ گریٹر اسرائیل کی بھی بات کرتے ہیں اور اس نکتے پر متفق ہیں کہ گریٹر اسرائیل بنانا ان کا خدائی حق ہے ۔ ان کی پارلیمنٹ اور کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ’’اسرائیل تیری سرحدیں فرات سے لے کر نیل تک ہیں‘‘۔ بلکہ وہ تو خیبر مدینے تک پر اپنا حق جتاتے ہیں،جہاں کبھی یہودی رہے بسے تھے ۔ اسرائیل نے ۱۹۸۸ء میں ایک سکہ جاری کیاتھا، جس میں دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ دکھایا گیا تھا ۔لیکن وہاںکے اسٹیٹ بینک نے اس کی یہ کہہ کر تردید کی تھی کہ نقشےکی غلط تشریح کی جارہی ہے۔اسرائیلی پرچم پر بھی اوپر نیچے نیلی دو سیدھی لکیریں اسی نظرئیے کی تائید کرتی ہیں۔
ان کے پروٹوکولز میں لکھا ہوا ہےکہ’’ہماری حکومت قائم ہونےکے وقت ہمارے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کا باقی رہنا مناسب نہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ہر قسم کے اعتقادات (ایمانیات) کا خاتمہ کردیں‘‘۔ (دستاویز نمبر ۱۴-۱۷)۔ان کا مذہبی عقیدہ ہے کہ ہم اعلیٰ ترین نسل اور خدا کے چنے ہوئے بندے ہیں۔ ہم تبلیغ بھی اسی لیے نہیں کرتے کہ ہماری نسل سب سے اعلیٰ ہے ۔ اس لیے دوسری قوموں کو ہم اپنے اندر کیسے ملا لیں؟ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعداد آج کل بھی دو یا سوا دو کروڑ سے کبھی زیادہ نہیں ہو سکی ہے ۔ پروٹوکولز کے مطابق: ’’ہم یہ چاہتے ہیں کہ دُنیا کی تمام مملکتوں میںہمارے علاوہ صرف مزدوراور محنت کش طبقہ ہو‘‘۔ جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو ہم سب سے پہلے یونی ورسٹیوں کی تعلیم کی از سرنو تنظیم کریںگے‘‘ (دستاویز نمبر بالترتیب ۷،۹،۱۶)
صہیونی یہودی دعویٰ کرتےہیں کہ ساری دنیا ہمارے کنٹرول میں ہوگی اور اسے ہم اپنے ماتحت رکھیں گے۔ ہمارا ایک میگا کمپیوٹر ہوگا، جس میں ایک ایک شہری کا ڈیٹا رکھیں گے ۔اور جو ہماری خلاف ورزی کرے گا اسے سزائیں سنائیں گے ۔ انھوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ دنیا کی ہر لڑکی ہماری لڑکی ہوگی۔
پروٹوکولز زوردیتے ہیںکہ ’’ہم قتل عام کرائیںگے اور اپنے کسی مخالف کومعاف نہیں کریں گے‘‘(نمبر ۹)۔دنیا میں بے حیائی پھیلانے کے ان کے جو طریقے ہیں، ان کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ امریکا میں انھوں نے ہالی وُڈ اسی مقصد کے تحت قائم کیا تھا۔ ہالی وڈ جب پہلی دفعہ آیا تھا تو انھوں نے کچھ بے شرمی کی باتیں شروع کی تھیں، جس پر سنجیدہ عیسائی چیخ اُٹھے تھے کہ ایسی فلمیں بند کرو جن کے نتیجے میںہماری اخلاقی قدریں کمزور ہورہی ہیں۔ نتیجے میں صہیونی کچھ پیچھے ہٹے تھے۔ مگر پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی حِس کو سُن کرکے مطلوبہ درجے پر پہنچ گئے۔
چنانچہ اگر ہم اسرائیلیوں کی باتیں تسلیم کر لیں گے تو ہمارے پاس بچے گا کیا؟پھر مسلمانوں ہی میں سے نعوذ باللہ حج اور عمرے کو برا بھلا کہا جائے گا۔لوگ کہیں گے کہ ’’یہ سب عیاشی ہے‘‘۔ اور دبے لفظوں میں یہ کہا جانے بھی لگا ہے۔ پھر کہا جائے گا: ’’ قربانی کی ضرورت ہی کیا ہے ؟‘‘ ۔ پھر ہماری زبان بدل جائے گی ، پھرہماری نظریں بدل جائیں گی۔ یوں رفتہ رفتہ وہ ثقافتی، تعلیمی اور مذہبی و اخلاقی حوالے سے بھی آگے بڑھتے جائیں گے، بلکہ بڑھ رہے ہیں۔
قیامِ اسرائیل سے اب ۷۵ برسوں تک دہشت گردی اور نسل انسانی کے مٹانے کے رویے میں وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جو بھی وزیراعظم آتا ہے، (اِس طبقے کا یا اُس طبقے کا)، اس نے اسرائیل کی توسیع ہی کی ہے۔ شروع میں جب اسرائیل کوبرطانیہ کی جانب سے بسانے کی اجازت دی گئی تھی تو نتیجے میں انھیںسات ،آٹھ ،یادس فی صد زمین دی گئی تھی۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ کیوں یہ ریاست آج ا س حد سے بھی آگے بڑھ گئی ہے؟مقامی فلسطینی آبادی گھٹ گئی اور یہودی آبادی بڑھ گئی ہے ۔ تو یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا ؟ جیسا کہ پہلے بتایاگیا کہ اسرائیل کی کوئی حدود ہی متعین نہیں ہیں۔ دنیا کا یہ واحد ملک ہے جس کی کوئی حدود نہیں ہیں ۔یہودی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ’’اے اسرائیل تیری سرحدیں دریائے نیل سے دریائے فرات تک ہیں‘‘۔
امریکی کار کمپنی فورڈکے بانی ہنری فورڈنے یہودیوں کے خلاف اپنی معروف کتاب The International Jews ترجمہ عالمی یہودی فتنہ گر از میاں عبدالرشید میں صہیونیوںکی کئی خفیہ سازشوںکو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں فورڈ لکھتاہے کہ ’’کالجوں میں بھی یہودیوں نے وہی طریقہ اختیارکیا ہے، جس سے وہ ہمارے گرجوں کو تباہ کرچکے ہیں۔ نوجوانوںکو یہ تاثر دیا جاتاہے کہ وہ ایک نئی عظیم تحریک میںحصہ لے رہے ہیںجو انسانوں کی فلاح کے لیے ہے ‘‘۔ وہ سوال کرتاہے کہ پھرا س کا علاج کیا ہو؟ کہتاہے کہ ’’علاج بالکل آسان ہے۔ طلبہ کو بتایا جائے کہ ان تمام افکار کی پشت پر یہودی ہیں، جوہمیں اپنے ماضی سے منقطع کرکے آئندہ کے لیے مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔انھیں بتایا جائے کہ وہ (عیسائی طلبہ) ا ن لوگوںکی اولاد ہیں جو یورپ سے تہذیب لے کر آئے ۔تہذیب ان کی گھٹی میںپڑی ہوئی تھی۔ اور اب یہ یہودی ہمارے اند ر گھس آئے ہیں۔ ان کی نہ کوئی تہذیب ہے نہ مذہب ‘‘۔وہ مزید آگاہ کرتا ہے کہ’’ یہودیوں کی مطبوعات، کتابوں، پمفلٹوں، اعلانوں، اوران کے اداروں کے دستوروں سے ثابت ہےکہ ان کے اندر غیریہودیوں کے لیے سخت نفرت پائی جاتی ہے‘‘ (ص ۱۴، ۵۱)۔آگے زور دیتے ہوئے وہ کہتاہے: ’’اب ہرحکومت کو یہودی مسئلے کانوٹس لینا پڑے گا کیونکہ اس وقت یہ مسئلہ دنیاکے تمام مسائل سے عظیم تر ہوچکاہے۔اور ساری دنیا کےچھوٹے بڑے قومی یا بین الاقوامی مسائل،اسی کی کوکھ سے جنم لے رہے ہیں ‘‘(ص ۵۷)۔ ہنری فورڈکا زمانہ ۳۴،۱۹۳۳ء کا تھا، جب جرمنی میں ہٹلر برسرِاقتدار تھا۔ ہٹلر نے اس کتاب پر فورڈ کو مبارک باد بھی دی تھی ۔کیونکہ اس نے ہٹلر کےکام کو علمی لحاظ سےمزید آسان کیا تھا۔
ایک اور اہم شخصیت نے بھی یہودیوں کی خباثت اور گہری سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ امریکی سی آئی اے کا ایک سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر جان کولمین تھا، جواپنی تحقیقی کتاب The Conspirators Hierarchy, the Committee of 300 میں ،جو اس کے بقول صہیونیوں کی ’نادیدہ عالمی تنظیم‘ ہے، انکشاف کرتاہے کہ یہ لوگ دنیا بھر میں ایسی جنسیاتی و ہذیانی کیفیت پیداکرنا چاہتے ہیں، جس میں کسی قسم کاکوئی خوف ، جھجک ،اور شرم نہ ہو ۔ڈاکٹرکولمین نےاس مقصد کے لیے ایک نئی اصطلاح استعمال کی ہے: Mindless Sex۔ یعنی ایسی شہوت اور بدکاری جس میںکوئی بھی ،کسی سے بھی ، کہیں بھی، اور کسی طرح بھی، باہمی مصروف ہوجائے۔ (ص ۵۴)
یہ سوچنا چاہیے کہ ان کی ایک خفیہ تنظیم فری میسینری ہے۔ عظیم ملک ترکی کو انھوں نے اسی فری میسنری تنظیم کے سائے میں کاٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کیا تھا۔ اور اب وہ پاکستان کے وجود کےدرپے ہیں۔ان کی نظریں ایٹم بم اور پاکستان کی سلامتی پر ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں ۷۰ء کےعشرے میں ایک کامیاب مہم کے نتیجے میں صہیونیوں کی ’فری میسنری تنظیم‘ پر پہلے ہی پابندی لگائی جاچکی ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ زمین پر وہ پابندی غیرمؤثر ہوچکی ہے۔ اس ’سافٹ دہشت گرد تحریک‘ کے بارے میں پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کو حساس اور خبردار ہونا چاہیے۔
غرض یہ تو اپنے مقاصد کو لے کے چل ہی رہے ہیں ۔ان کے پروٹوکولز کے کل۲۴ باب ہیں جنھیں ہمیں ضرور ہی پڑھنا چاہیے۔ مطالعہ کرنا چاہیے کہ دنیا پران یہودیوں نے کس طرح قبضہ کیا تھا؟ انقلاب انگلینڈ اور انقلاب اسپین انھی کی سازشوں کی وجہ سے آیا تھا ۔ انقلاب اسپین میں ملکہ اور بادشاہ کے سروں کو اُڑایا گیا تھا ، وہ عمل بھی انھی صہیونیوںنے انجام دیا تھا۔ یہ کہیں بھی ہوں، فساد کرتے ہیں۔اور یہ وہ قوم ہے جس کے دل میں رائی کے برابر بھی رحم نہیںہے ۔
یہودی ، اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر بڑے عہدے پر موجود ہیں اور وہی مسلم ممالک کی معاشی و سیاسی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے شکنجے میں کسے جانے والے تمام بجٹوں کے مشیر اصل میں یہی بڑے یہودی عہدیدار ہوتے ہیں۔
خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی کے مظہر واقعات صرف امریکا اور ایران ہی میں نہیں ہوئے بلکہ ایسے واقعات بہت سے ممالک میں سامنے آتے رہتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی واقعات کی پیشگی اطلاعات بھی ہوتی ہیں، مگر ان کو وقوع پذیر ہونے دیا گیا۔ جس کی توجیہہ ابھی تک سامنے نہیں آرہی ہے۔
مثال کے طور پر ۲۶ جنوری ۱۹۹۵ء کو انڈیا کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیم میں منعقد ہو رہی تھیں۔جموں و کشمیر کے اس وقت کے گورنر ، سابق آرمی چیف جنرل کے وی کرشنا راؤ نے پرچم لہرایا اور اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے خطے میں سیکورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا اور انگریزی میں کہا کہ We have broken the backs of..... (’ہم نے کمر توڑ دی ہے‘....) ان کا یہ جملہ ادھورا ہی رہ گیا کہ گیٹ کے پاس اسٹیڈیم کی پارکنگ کی جگہ سے دھماکے کی آواز سے دھواں اُٹھا۔ سامعین کھڑے ہوگئے اور معلوم کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ کیا ہوا؟ کرشنا راؤ اسٹیج پر کھڑے رہے، اورلوگوں کو پُرسکون رہنے کی تلقین کی کہ’’کسی نے پٹا خہ چھوڑا ہے‘‘۔ اسی دوران ان کے دائیں جانب کے اسٹینڈ میں ، جس میں زیادہ تر اطلاعات اور دیگر محکموں کا عملہ بیٹھا ہوا تھا، دوسرا دھماکہ ہوا۔ انسانی اجسام کے چیتھڑے ہوا میں اُڑتے اور خون کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے اسٹیڈیم کے گراؤنڈ کو سرخ بناگئے!
اس دوران نیشنل سیکورٹی گارڈ کے کمانڈوز، گورنر کو ایک گاڑی میں دھکیل کر بڑی برق رفتاری سے اسٹیڈیم سے باہر نکل گئے۔ وہ ابھی شاید گیٹ تک بھی نہ پہنچے ہوں گے، کہ تیسرا بم اسٹیج کے نیچے پھٹ گیا۔ وہ اسٹیج ، جس پر چند لمحے قبل گورنر تقریر کر رہے تھے، اس کے پُرزے اُڑ گئے۔ نفسا نفسی کے عالم میں اسٹیڈیم خالی ہوگیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ۱۸؍ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
برسوں بعد، دہلی میں ایک سیمینار میںخفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ‘ (RAW) کے سربراہ سی ڈی سہائے نے، جو اس وقت جموں و کشمیر میں ایجنسی کے کمشنر تھے، انکشاف کیا کہ اس حملے کے بارے میں ان کو علم تھا اور گورنر کو بھی اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ ۲۵ جنوری ۱۹۹۵ء کی شام کوگورنر کرشنا راؤ نے سرحد پر تعمیر و ترقی و انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے سیکورٹی اداروں کی ایک میٹنگ بلائی تھی۔ وہ ایک روز قبل کرشنا گھاٹی کے دورے سے واپس آئے تھے۔وہ اسی طرح کا اسٹرکچر اپنی سائڈ میں بھی بنانے کے خواہش مند تھے۔ سہائے کا کہنا تھا کہ اس میٹنگ میں جانے سے قبل انھوں نے جموں میں اپنے دفتر کے اہلکاروں سے پوچھا کہ کوئی اطلاع یا کوئی ایسا ایشو تو نہیں ہے، جس کو گورنر کے ساتھ میٹنگ میں اُٹھایا جائے؟ لیکن انھوں نے جواب دیا: ’’سر! بس معمول کی انفارمیشن ہے‘‘۔
چونکہ وہ فارغ ہی تھے، اس لیے انھوں نے اہلکاروں سے کہا کہ گورنر کے ساتھ پچھلی میٹنگ کے بعد کی جو فائلیں آئی ہیں، وہ ان کوپیش کی جائیں۔ یہ تقریباً ۱۳ فائلیں تھیں۔ جن میں چھ میں ۲۶جنوری کو مولانا آزاد اسٹیڈیم میں دھماکے اور گورنر کو ہلاک کرنے کی واضح اور تفصیلی اطلاعات موجود تھیں۔ حیرت کی بات یہ تھی، یہ سبھی فائلیں خود سہائے کے دستخطوں سے الماریوں کی نذر کی گئیں تھی۔ سہائے کا کہنا تھا کہ ’’جب میں نے یہ اطلاع گورنر کے ساتھ میٹنگ میں دی، تو وہاں سانپ سونگھ گیا۔ کسی نے تجویز دی کہ تقریب کی جگہ کو تبدیل کیا جائے۔ مگر گورنر نے پہلے خود اور پھر نئی دہلی میں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان نے اس کو مسترد کیا اور دلیل یہ دی کہ اس سے ان کے اطلاع کے سورس کا قلع قمع ہو جائے گا۔ یوں طے ہوا کہ تقریب تو اسٹیڈیم میں ہی ہوگی، مگر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو دوبارہ بلایا گیا کہ وہ باریک بینی کے ساتھ تلاشی لیں۔وہ رات بھر تلاشی لیتے رہے اور صبح سویرے انھوں نے اسٹیڈیم کو محفوظ قرار دیا۔سہائے کے مطابق: ’’یہ بم پریڈ گراؤنڈ میں دو فٹ نیچے دبائے گئے تھے اور جاپانی پلاسٹک کے ٹائمر میں لپٹے ہوئے تھے۔ جس کو پولیس کے کتے سونگھ سکتے تھے اور نہ ایکسرے ان کا پتا لگا سکتا تھا‘‘۔ ریموٹ ٹرگر کو بعد میں برآمد کیا گیا۔معلوم ہو اکہ ریموٹ دبانے والے کوپہلے گورنر کے اسٹیج کے نیچے والا بٹن دبانا تھا، مگر اس نے پہلے تین نمبردبایا ، جس سے پارکنگ کا بم پھٹ گیا۔ یعنی اگر گورنر اسٹیج سے بچ جاتا، تو ریسکیو ہوتے ہوئے اسٹیڈیم کے اسٹینڈ کے بم نمبر دو کی ز د میں آجاتا اور اگر اس سے بھی بچ جاتا، تو گیٹ کے پاس والا بم کا م کردیتا۔
اسی طرح ممبئی میں ۲۶ نومبر ۲۰۰۸ء کی خوفناک رات کو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، اگر تاج محل پیلس ہوٹل انتظامیہ ٹاور لابی کے باہر پکیٹ پر کھڑے سکیورٹی گارڈز کو کھانا فراہم کرنے پر راضی ہوجاتی۔برطانوی تحقیقاتی صحافیوں ایڈرین لیوی اور کیتھی سکاٹ کلارک کے مطابق ۲۶؍ انٹیلی جنس الرٹ تھے۔ انتباہ اس قدر درست اور مخصوص تھے کہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس وشواس نانگرے پاٹل نے اکتوبر ۲۰۰۸ء میں تاج محل پیلس ہوٹل کے عملے کے ساتھ ایک حفاظتی مشق کی تھی۔ تاہم، ان کے چھٹی پر جاتے ہی حفاظتی اقدامات کو ختم کر دیا گیا تھا۔ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھیں رات ۱۰ بجے غیرسرکاری طور پر متحرک کیا گیا تھا، ۲۶نومبر کو، ممبئی میں پہلی گولیاں چلنے کے صرف ۲۲ منٹ بعد۔لیکن ۷۰منٹ بعد، انھیں کابینہ سکریٹری کے ایم چندر شیکھر اور بعد میں ایک جوائنٹ سکریٹری (داخلی سلامتی) نے بغیر احکامات کے متحرک ہونے کے خلاف خبردار کیا مگر واقعہ ہوگیا۔
اسی طرح، ۱۴ فروری ۲۰۱۹ء کو پلوامہ حملے کے بارے میں فرنٹ لائن کی طرف سے ایک سال تک جاری رہنے والی تحقیقات کے مطابق حملے کی پیش گوئی کرنے والی کم از کم گیارہ انٹیلی جنس اطلاعات تھیں۔ کشمیر کے گورنر، ستیہ پال ملک نے بعد میں انکشاف کیا کہ ’’مجھے کسی بھی حفاظتی ناکامی کے بارے میں خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی ہے‘‘۔بڑا سوال یہ ہے کہ مکمل انٹیلی جنس ہونے کے باوجود ایسے حملوں کو کیوں نہیں روکا گیا؟ ان سوالات کے کوئی واضح جوابات نہیں ہیں۔
اسی طرح مجھے یا دہے کہ شاید یکم اکتوبر ۱۹۹۶ء کی صبح سرینگر سے حریت لیڈر سید علی گیلانی کے دفتر سے فون آیا اور انھوں نے کہا: ’’کیا آپ مجھے ایئرپورٹ تک چھوڑ سکتے ہیں؟ وہ ان دنوں علاج کی غرض سے دہلی میں تھے اور انھی دنوںجموںو کشمیر میں نو سال بعد اسمبلی کے انتخابات ہورہے تھے، جن کے بائیکاٹ کی انھوں نے اپیل کی تھی۔ اگلے روز شاید حریت کانفرنس کی کوئی میٹنگ ہونے والی تھی، جس کے لیے ان کو سرینگر بلایا گیا تھا۔ خیر میں نے ان کو ایئرپورٹ پر رخصت کردیا۔ جب وہ دہلی میں ہوتے تھے، تو دارلحکومت میں جموں و کشمیر کے خفیہ محکمے کے اہلکار ان کے ساتھ سائے کی طرح پیچھا کرتے رہتے تھے۔ یوں ان سے اب جان پہچان بھی ہوجاتی تھی۔ مگر ایئر پورٹ پر ایک اور شخص میرے پاس آکر بار بار ان کی فلائٹ کا نمبر ، وقت وغیر ہ پوچھ رہا تھا۔ میں نے خفیہ پولیس والوں سے پوچھا کہ ’’یہ شخص کس محکمے کا ہے؟‘‘ معلوم ہوا کہ وہ ان کے لیے بھی اجنبی تھا۔ ابھی موبائل فون کا زمانہ نہیں تھا۔ رات کو میری اہلیہ کو پتہ چلا کہ گیلانی صاحب تو سرینگر پہنچے ہی نہیں ہیں، کیونکہ سرینگر میں اس دن پرواز نہیں اُتر سکی۔ جہاز امرتسر میں اُتر گیا ہے اور مسافروں کو کسی ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے۔
اسی رات حیدر پور میں سیّد علی گیلانی صاحب کے گھر پر دو راکٹ داغے گئے۔ نشانہ اتنا زبردست تھا کہ یہ راکٹ دوسری منزل پر گیلانی صاحب کے بیڈ روم کی دیوار میں شگاف کرتے ہوئے، سیدھے اُن کے بیڈ کو، اڑا کر باتھ روم کو تباہ کرتے ہوئے دوسری دیوار سے نکل گئے۔ یعنی اسی بیڈ کو ان راکٹوں نے نشانہ بنایا، جس پر ان کو اس رات سونا تھا۔ مگر دہلی والے اس نامعلوم شخص کو شاید پتہ نہیں چل سکا تھاکہ جہاز سرینگر کے بجائے امرتسر میں اُتر گیا ہے۔ (یہ بالکل اسی طرح کی کارروائی تھی، جس طرح تہران میں اسماعیل ہنیہ کے کمرے کو تباہ کرکے ہلاک کیا گیا ۔ یعنی دیگر کمروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا)۔
اس دن حیدر پورہ کے مکان میں نیچے جو افراد سو رہے تھے، انھوں نے دھماکوں کی آوازیں تو ضرور سنیں ، مگر ان کو بھی پتا نہیں چل سکا کہ ان کی اُوپر والی منزل کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان دنوں رات بھر کشمیر میں دھماکوں کی آوازیں آنا معمول کی بات تھی۔
جب تصویروں میں اس بلڈنگ کو جس میں اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنایا گیا، دیکھ رہا تھا، تو مجھے یہ واقعہ یاد آگیا۔ اس لیے نیویارک ٹائمز کی یہ کہانی کہ اس کمرے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے بم رکھا تھا، مجھے ہضم نہیں ہوئی۔ بم تو پورے کمرے کو ہی اُڑا دیتا۔ یہ میزائل یا راکٹ کا حملہ تھا، جو بالکل ٹارگٹ پر لگا، اور فلسطین کا عظیم مزاحمتی قائد شہید ہوگیا۔
سوال : (مجلس میں ایک صاحب کہنے لگے) مولانا! اسلام کے پاس بے شک ایک ’تھیوری‘ (نظریہ) تو موجود ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس پر Practice (عمل درآمد) بھی ہوسکتی ہے؟
جواب :جناب، آپ مطالعہ فرمایئے تو آپ کی نظر سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں رہے گی کہ اسلام کے پاس جو Theory(نظریۂ حیات) ہے، اس سے زیادہ قابلِ عمل نظریہ آج تک دنیا نے نہیں دیکھا۔ جو نظریہ Practicable (قابلِ عمل) نہ ہو وہ تو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے قابل ہوتا ہے۔ کروڑوں انسان اسے چودہ سو سال تک سینوں سے لگائے نہیں رکھ سکتے۔ اگر اسلام کو کوئی قابلِ عمل نہیں سمجھتا تو یہ اس کی آنکھوں کا قصور ہے، جو بصیرت کے نُور سے خالی ہیں۔ فرد کی اس کمزوری سے اس نظریئے کی ابدی صداقتوں پر کوئی حرف نہیں آتا۔
’قرآن و سنت کا مطالعہ ڈوب کر کیجیے۔ اس مطالعے اور غوروفکر سے آپ کو اسلام کی روح دکھائی دینے لگے گی۔ قرآن کی آیات پہ غور کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مطہرہ کا مطالعہ فرمایئے اور اسلام کے اوّلین معاشرے میں صحابہ کرامؓ کی پاک باز زندگیوں کا مطالعہ کیجیے۔ آپ خود بخود اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ اسلام کے پاس اس کا اپنا ضابطۂ اخلاق ہے، جو بے مثال ہے۔ ایک بے نظیر سیاسی نظام ہے اور ایک لاجواب معاشی نظام ہے۔ اس کے دامن میں ہرزمانے کے ہرمسئلے کا بہترین حل موجود ہے۔ اسلام نے جو کچھ پیش کیا، حضور علیہ السلام نے سب سے پہلے خود اس پر عمل فرمایا۔ پھر آپؐ نے ایک بہترین اور مثالی معاشرہ انھی نظریات پر تعمیر فرماکر اس بات کا عملی ثبوت مہیا فرما دیا کہ اسلام محض نظریاتی نہیں بلکہ انتہائی درجے کا عملی دین ہے۔
اسلام کی عالم گیر اور ابدی صداقتوں کی مثال سمجھنا چاہیں تو اس کے لیے جب باجماعت نماز ادا کی جارہی ہو، اسے دیکھیے۔ اخوت، اتحاد اور یگانگت کا کیسا شان دار مظاہرہ ہوتا ہے۔ خدا آپ کو حج پر جانے کی توفیق بخشے تو وہاں پہ دیکھیے، جہاں مسلمانوں کی ’کل عالمی برادری‘ کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ کتنے مختلف ملکوں کے انسان وہاں یکجا ہوتے ہیں۔ کتنے مختلف رنگ ہیں، کتنی مختلف زبانیں ہیں مگر نہ زبان و نسل کا کوئی تنازعہ ہے، نہ قامت و رنگ کا کوئی امتیاز…سب ایک ہی جذبۂ توحید سے سرشار ہیں۔ شاہ و گدا ایک ہی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں۔ کیا نسلی امتیاز کے خلاف اس سے بہتر ضابطہ دُنیا کا کوئی اور نظام پیش کرسکتا ہے؟
سوال : مسلم ممالک میں لیڈرشپ کو تیار کرنے کے لیے کس شعبے میں اصلاح درکار ہے؟
جواب :لیڈرشپ کسی ایک شعبے میں نہیں اُبھرا کرتی، اس کو زندگی کے ہرشعبے میں ظاہر اور نمایاں ہونا چاہیے۔ اگر مسلم ممالک میں جمہوری نظام کو نشوونما پانے کا موقع مل جائے تو اس طرح فطری ارتقا کے نتیجے میں مسلم ممالک میں اسلامی لیڈرشپ اُبھر آئے گی۔ مغرب زدہ طبقہ ہرمسلم ملک میں ایک بڑی ہی محدود اقلیت رکھتا ہے۔ لیکن مغربی استعماری قوتوں کی پشت پناہی اور مسلسل سرپرستی کی بدولت، یہ اقلیت اقتدار کی وارث بن گئی ہے۔ یہ قابض طبقہ اس بات کو جانتا ہے کہ اگر ان ملکوں میں جمہوریت کو کام کرنے کا موقع ملا تو آخرکار اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ اس لیے یہ طبقہ سازشوں کے ذریعے ہرملک میں آمریت قائم کر رہا ہے اور جمہوریت کو اُبھرنے کا موقع نہیں دے رہا ہے۔ (ہفت روزہ آئین، اور ایشیا
اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے دُعامانگنا بالکل ایسا ہے، جیسے کوئی شخص درخواست لکھ کر ایوانِ حکومت کی طرف جائے، مگر اصل حاکم ذی اختیار کو چھوڑ کر وہاں جو دوسرے سائلین اپنی حاجتیں لیے بیٹھے ہوں،اُنھی میں سے کسی ایک کے آگے اپنی درخواست پیش کردے اور پھر ہاتھ جوڑ جوڑ کر اس سے التجائیں کرتا چلا جائے کہ ’’حضور ہی سب کچھ ہیں، آپ ہی کا یہاں حکم چلتا ہے، میری مراد آپ ہی بَر لائیں گے تو بَر آئے گی‘‘۔
یہ حرکت اوّل تو بجائے خود سخت حماقت و جہالت ہے، لیکن ایسی حالت میں یہ انتہائی گستاخی بھی بن جاتی ہے، جب کہ اصل حاکم ذی اختیار سامنے موجود ہو، اور عین اس کی موجودگی میں اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے کے سامنے درخواستیں اور التجائیں پیش کی جارہی ہوں۔
پھر یہ جہالت اپنے کمال پر اُس وقت پہنچ جاتی ہے، جب وہ شخص جس کے سامنے درخواست پیش کی جارہی ہو، خود بار بار اُس کو سمجھائے کہ مَیں تو خود تیری ہی طرح کا ایک سائل ہوں، میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، اصل حاکم سامنے موجود ہیں، تو اُن کی سرکار میں اپنی درخواست پیش کر، مگر اس کے سمجھانے اور منع کرنے کے باوجو د یہ احمق کہتا ہی چلا جائے کہ ’’میرے سرکار تو آپ ہیں، میرا کام آپ ہی بنائیں گے تو بنے گا‘‘۔
اس بات کو ذہن میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کے اِس ارشاد کو سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ ’’مجھے پکارو، تمھاری دُعائوں کا جواب دینے والا میں ہوں، انھیں قبول کرنا میرا کام ہے‘‘۔(’تفہیم القرآن ‘، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۲، عدد۱، ستمبر ۱۹۶۴ء، ص۲۹، ۳۰)