فلسطین کے ممتاز مزاحمتی شاعر محمود درویش [۱۹۴۱ء- ۲۰۰۸ء] نے اپنے اردگرد پھیلے رنج و اَلم کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا:
جنگ ختم ہو جائے گی اور رہنما ہاتھ ملائیں گے، لیکن وہ بوڑھی عورت اپنے شہید بیٹے کا انتظار کرتی رہے گی، وہ لڑکی اپنے محبوب شوہر کا انتظار کرے گی، اور وہ بچے اپنے بہادر باپ کا انتظار کرتے رہیں گے۔ مجھے نہیں معلوم کس نے وطن بیچا، لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ قیمت کس نے چکائی۔
غزہ میں جنگ ر ک سکتی ہے، لیکن اس کے چھوڑے گئے زخم نسلوں تک رستے رہیں گے۔ جنگ بندی، ایک ایسا لفظ ہے جو زخموں کے لیے مرہم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ان گہرے زخموں کو بھرنے کے لیے ناکافی ہے جن کا تصور بھی مشکل ہے۔ یہ جنگ بندی رحم کا عمل نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے عالمی غصے کے دباؤ کو کم کرنے کی ایک مجبوری ہے۔ مہینوں کی بے رحمانہ بمباری کے بعد، جب غزہ کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہزاروں افراد، بشمول بچوں کا خون اس کی ریت اور منوں وزنی عمارتی ملبے میں شامل ہوگیا، سوال یہ ہے: اس درندگی کا حساب کون دے گا؟
نیتن یاہو، وہ شخص جس کا نام تاریخ میں ایک ہولناک جنگی مجرم کے طور پر لکھا جائے گا، اسرائیل کی جنگی مشین کا سرغنہ ہے۔ یہ کوئی بے بس جنگی مجرم نہیں، بلکہ ایک ایسا شخص ہے جس نے جنگ کو سیاسی آلے اور اپنی ڈگمگاتی قیادت اور کرپشن اسکینڈلز سے توجہ ہٹانے کے لیے ہنرمندی سے استعمال کیا ہے۔ اس نے اپنے عوام کے خوف اور دنیا کی بے حسی کو ہتھیار بنا کر جدید دور کی سب سے سفاکانہ فوجی مہمات میں سے ایک کو انجام دیا۔
غزہ کی تباہی محض ’ضمنی نقصان‘ نہیں تھی بلکہ یہ جان بوجھ کر کی گئی تھی۔ خاص طور پر ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، پناہ گزین کیمپوں کو مٹی میں ملا دیا گیا، اور پورے خاندانوں کو موت کی نیند سُلا دیا گیا۔ اسرائیل نے ’درست نشانے‘ کا دعویٰ کیا، لیکن پیچھے بے انتہا تباہی چھوڑی۔ شہریوں کو نشانہ بنانا، بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا، اور محاصرہ، جس نے غزہ کو کھلی جیل میں تبدیل کر دیا، یہ سب منظم جنگی جرائم ہیں۔ نیتن یاہو کی حکومت، اپنے انتہا پسندانہ نظریات کو بین الاقوامی قوانین کی بے حُرمتی کے ساتھ، واضح کر چکی ہے کہ کوئی فلسطینی زندگی محفوظ نہیں، چاہے وہ کتنی ہی کم عمر یا معصوم کیوں نہ ہو۔
لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ نیتن یاہو نے اکیلے یہ سب نہیں کیا۔ اس کے بموں پر Made in USA کی مہر تھی۔ وہ ایف-۱۶طیارے جو غزہ کے محلوں کو زمین بوس کر گئے، امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے فراہم کیے گئے۔ امریکا، جو سفارت کاری کا بہانہ کرتا ہے، عشروں سے اسرائیل کو سزا سے بچانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ امریکی حکومت نے غزہ میں ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند کر لیں، اور بار بار اسرائیل کے ’دفاع کے حق‘ کا راگ الاپتی رہی۔
غزہ کے زندہ رہنے کے حق کو چھین لیا گیا۔ ان ہزاروں فلسطینی بچوں کا کیا جرم ہے کہ جو کبھی بڑے نہیں ہو سکیں گے، جن کے خاندانوں کی زندگیاں امریکی بموں نے ختم کر دیں؟ اسرائیل کے لیے امریکا کی خفیہ اور علانیہ حمایت ایک زبردست اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کو جواب دہی سے بچانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرنے کے ذریعے، امریکا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انصاف اور انسانیت سے اسے کچھ علاقہ نہیں۔
یہ جنگ صرف اسرائیل کی بے رحمی یا امریکا کی شراکت داری کو ظاہر نہیں کرتی، بلکہ اس نے پورے عالمی نظام کے دیوالیہ پن کو بھی بے نقاب کیا۔ نام نہاد بین الاقوامی ادارے، جو انصاف کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، غزہ کے راکھ میں تبدیل ہونے پر محض تماشائی بنے رہے۔ اقوام متحدہ، جو امن کی محافظ ہونے پر فخر کرتی ہے، ’تشویش‘ کے بیانات جاری کرنے تک محدود رہی۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت، جو بظاہر جواب دہی کی علامت ہے، فیصلہ کن کارروائی نہ کرسکی۔
اور پھر وہ ممالک جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کے علم بردار کے طور پر پیش کرتے ہیں، غزہ کی تکالیف دیکھ کر خاموش رہے، یا دوسرے لفظوں میں بدتر، شریکِ جرم بنے۔ ان کی منافقت تاریخ اور انسانیت کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہے۔
لیکن شاید سب سے بڑی غداری مسلم حکمران طبقوں کی جانب سے ہوئی۔ وہ جو اپنے آپ کو اسلام کا محافظ سمجھتے ہیں اور امت کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، سب سے بڑے منافق ثابت ہوئے۔ خلیجی راجواڑوں سے لے کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی دوڑ میں ہلکان حکمرانوں تک، جو خانگی اقتدار کی بھیک کے لیے غزہ پر حملے کو خاموشی سے سراہتے رہے۔ ان کے اقدامات فلسطینیوں ہی نہیں بلکہ ان تمام اصولوں سے سنگین بے وفائی ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کی منافقانہ خاموشی، ان کی مجرمانہ شراکت، ان کی بزدلی کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
اس سب کچھ کے باوجود آج غزہ کے کھنڈرات میں اُمید کی چمک موجود ہے۔ یہ فلسطینی عوام کے عزم اور ان کے ناقابلِ یقین حوصلے میں ہے، جسے انھوں نے بدترین اور انسانیت سوز مظالم کے باوجود برقرار رکھا ہے۔ یہ ان عام لوگوں کی آوازوں میں ایک طاقت ور ترین آواز ہے جنھوں نے دنیا بھر میں رنگ و نسل اور مذہب و طبقہ کی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یک جہتی کے لیے مارچ کیا اور غزہ کی تکالیف کو بھلانے سے انکار کیا۔
جب ہتھیار خاموش ہو جائیں، تو ہماری اُمید کا مرکز یہ ہدف ہے کہ جنگ بندی مزید تباہی سے پہلے کا ایک وقفہ نہیں، بلکہ ایک طویل عرصے سے واجب احتساب کا آغاز ہو۔ احتساب جنگی مجرموں جیسے نیتن یاہو کا، سہولت کاروں جیسے بائیڈن کا، اور ہر اس ادارے اور رہنما کا، جنھوں نے غزہ سے منہ موڑ لیا۔
ہم اس خطے میں دائمی امن کے لیے دُعاگو ہیں، لیکن امن قبروں اور راکھ پر تعمیر نہیں ہوسکتا۔ یہ انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان لوگوں کی عزت بحال کرنی چاہیے جنھیں طویل عرصے سے محروم رکھا گیا، اور ان لوگوں کو جواب دہ ٹھیرانا چاہیے جنھوں نے اس ڈراؤنے خواب کو تقویت دی۔ غزہ کے قبرستان اس قیمت کی خوفناک یاد دہانی کے لیے پکارتے، جھنجوڑتے رہیں گے، جو دُنیا میں دھن، دھونس اور اقتدار کے بھوکوں نے فلسطین کو چکانے دی۔
جب غزہ کی محصور فلسطینی سرزمین پر برستی گولیاں عارضی طور پر خاموش ہوئیں، ماہرین اور میڈیا ماہرین نے ترکیہ کے شہر استنبول میں جمع ہو کر فلسطینی موقف اور مقدمے کو تشکیل دینے کے لیے ایک واضح اپیل کی۔ چوتھے فلسطینی انٹرنیشنل میڈیا اینڈ کمیونیکیشن فورم یعنی ’تواصُل‘ نے اُمید اور عزم کی علامت کے طور پر کام کیا، جس کا مقصد یہ امر یقینی بنانا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے ہونے والی تباہی عالمی سطح پر گفتگو کا اَٹوٹ حصہ بنی رہے۔
اس فورم نے دنیا بھر سے آوازوں کو اکٹھا کیا تاکہ فلسطینی موقف کو اُجاگر کیا جا سکے اور ان غلط معلومات کا مقابلہ کیا جا سکے، جو ان کی جدوجہد کی حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ ۱۸-۱۹ جنوری کو ’فلسطینی موقف: ایک نیا دور‘ کے موضوع کے تحت منعقدہ اس کانفرنس میں ۵۰ سے زائد ممالک سے ۷۵۰ سے زیادہ شرکاء نے شرکت کی، جن میں صحافی، مصنّفین، مدیران، نشریاتی ماہرین، فوٹوگرافر، فن کار اور ماہرینِ تعلیم شامل تھے۔ غزہ میں تباہی اور انسانی بحران کے پس منظر میں اس کانفرنس نے روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا دونوں کا استعمال کرتے ہوئے، فلسطینی موقف فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
افتتاحی تقریب کے دوران، ’تواصُل‘ کے سیکریٹری جنرل احمد الشیخ نے فلسطینیوں کی حالت زار کی درست نمائندگی کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے فلسطینیوں کو درپیش خوفناک حالات، – عشروں کے منظم جبر سے لے کر خوراک کی قلت، مسلسل بمباری اور نقل مکانی کی فوری ہولناکیوں تک – کی وضاحت کی۔ انھوں نے ان مظالم کو ’اسرائیلی نسل کشی‘ قرار دینے سے گریز نہیں کیا اور میڈیا ماہرین پر زور دیا کہ وہ سچائی کو اُجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں‘‘۔
الشیخ نے کہا:’’ہمیں فلسطینی مقصد کو روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے حمایت فراہم کرنی چاہیے۔ یہ ایک نئے دور میں انتہائی اہم ہے‘‘۔ انھوں نے فلسطینیوں کے عزم و استقلال کو سراہا، جو شدید مشکلات کے باوجود اپنے حقوق اور شناخت کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ کانفرنس کا ایک سنجیدہ لمحہ ان صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تھا، جو اس خونیں جنگ کی رپورٹنگ کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یاد رہے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے اب تک غزہ میں ۲۲۰ سے زائد میڈیا پروفیشنلز اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو ان خطرات کی خوفناک یاد دہانی ہے، جن کا سامنا ان افراد کو ہوتا ہے جو مظالم کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ کانفرنس میں ان صحافیوں کی تصاویر کی ایک جذباتی نمائش شامل تھی، جن میں سے کئی کو آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ذریعے متحرک کیا گیا، تاکہ ان کی آوازیں اور کہانیاں طاقت ور انداز میں گونج سکیں۔
کانفرنس مباحث کے دوران ۱۲ خصوصی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، جن میں فلسطینی بیانیے کے نئے دور کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ ایک خاص طور پر مفید ورکشاپ بعنوان ’فلسطینی بیانیے کی ترقی میں جدید ڈیجیٹل ٹکنالوجیز کا استعمال‘ تمام صحافیوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔ ایک اور سیشن میں ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکا اور لاطینی امریکا میں غزہ کی کوریج پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس میں فلسطینی صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو درپیش چیلنجوں، ان کے حقوق اور اسرائیلی قبضے کے تحت درپیش رکاوٹوں کو بھی اُجاگر کیا گیا۔
تنظیم کے چیلنجوں اور کامیابیوں پر ’تواصُل‘ کے ڈائرکٹر بلال خلیل نے روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا:’’گذشتہ گیارہ برسوں سے ہم صحافیوں اور اداروں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ فلسطینی مسئلے کو درست طور پر اُجاگر کریں‘‘۔انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ: دنیا بھر کے میڈیا آؤٹ لیٹس، بشمول بھارت، فلسطین کے بارے میں سچائی کی رپورٹنگ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے۔ انھوں نے غزہ اور فلسطینی مسئلے پر مستقل اور درست رپورٹنگ کرنے والے آئوٹ لیٹس کی تعریف کی۔ فلسطینی جدوجہد کے تسلسل کے بارے میں انھوں نے کہا کہ فلسطین پر قبضہ ۷۷ سال سے جاری ہے، اور فلسطینی عوام کی جدوجہد آج بھی جاری ہے، جو ایک صدی سے زائد عرصے کی مزاحمت کا مظہر ہے۔ انھوں نے خاص طور پرکہا:’’فلسطینی مسئلہ صرف ایک انسانی بحران نہیں، جہاں ایک قوم کو زبردستی بے گھر کیا گیا اور وہ مدد کی محتاج ہے، بلکہ یہ ان لوگوں کی جدوجہد ہے جو اپنی زمین پر آزادی اور عزّت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں‘‘۔
انھوں نے مزید کہا: ’’جب وہ اپنی آزادی حاصل کر لیں گے، تو وہ دنیا بھر میں ضرورت مندوں کی مدد کریں گے۔ لہٰذا، میں بین الاقوامی میڈیا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والی نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، اور اُن بین الاقوامی انصاف اور انسانی حقوق کے فریم ورک کی حمایت کریں، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں‘‘۔
جو لوگ اس روح پرور اور انسانیت دوست کانفرنس میں شریک ہوئے، ان کے لیے یہ صرف ایک کانفرنس نہیں تھی، بلکہ یک جہتی کی طاقت اور انسانی روح کی پائیداری کا ایک عالمی ثبوت تھی۔ شرکا کے انہماک اور شوق و جذبے کو دیکھ کر ایک صحافی نے برملا کہا: ’’ہم صرف کہانیاں نہیں سنا رہے؛ ہم ایک ایسی تاریخ کو محفوظ کر رہے ہیں جو کبھی فراموش نہیں ہونی چاہیے‘‘۔
حال ہی میں امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو اور ٹرمپ کے سیاسی معاون ایلون مسک کے بیانات اور اقدامات نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سامراجی قوم پرستی پر مبنی ان کے بیانات اور سامراجی عزائم نے نہ صرف عالمی جغرافیائی و سیاسی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی تعاون اور امن کے لیے خطرہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی خاص طور پر خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں پیدا ہوئی ہے، جس نے دنیا بھر میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ٹرمپ کے اختیار کیے گئے رویے اور ایلون مسک کے ایسے متنازعہ بیانات سے پیدا ہونے والی تشویش کو بہت سے لوگوں نے شدت سے محسوس کیا ہے۔
اپنی صدارت (۲۰۱۶ء-۲۰۲۰ء) کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ پر اکثر الزام لگایا جاتا رہا کہ انھوں نے قوم پرستی کے ایک ایسے انداز کو فروغ دیا، جو امریکی عوام کے ایک خاص طبقے میں مقبول تو ہوا، لیکن سفارتی نزاکتوں کو قتل کرنے کی قیمت پر۔ ان کا نعرہ ’سب سے پہلے امریکا‘، جو بظاہر قومی مفادات کو ترجیح دینے کے لیے تھا، اکثر تنقید کی زد میں رہا کہ اس سے دُنیا کی اقوام میں امریکا کو تنہا کرنے کی تلخی ملی اور قائم شدہ بین الاقوامی اتحادوں کو نقصان پہنچا۔
مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ اجنبیت بلکہ گاہے دشمنی پر مبنی اور عالمی سطح پر زیادہ جارحانہ پالیسیوں کے مطالبات یا دھونس ہیں۔ گرین لینڈ کی حیثیت، نہر پاناما سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، اور کبھی کے بھولے بسرے علاقائی دعوؤں کی بحالی جیسے مسائل پر ٹرمپ کا جارحانہ موقف عالمی برادری کے لیے دھچکے کا باعث بنے ہیں۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کی خودمختاری کے تحت آتا ہے، پر قبضے کی دھمکیاں اور پاناما نہر ، جو ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، پر غلبہ جتانے (dominance) ،اپنی برتری اور دعوے نے نوسامراجی (Neo-Imperialist) طرز ِ بیان کو ایک نئی نعرے بازی کا عکاس بنایا ہے، اور مذموم نوآبادیاتی دور کی تلخ یادوں کو تازہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے مسلسل امریکا کے روایتی اتحادیوں، مثلاً کینیڈا، برطانیہ، جرمنی اور ڈنمارک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ اتحادی، جو کبھی امریکی خارجہ پالیسی کے مضبوط ستون سمجھے جاتے تھے، آج غیردوستانہ بیانات اور غیر معمولی مطالبات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ٹرمپ کا یہ دورِاقتدار بین الاقوامی تعلقات میں اپنے اتحادیوں کے لیے ہمدردی کے فقدان سے داغ دار ہوگا۔
ان کی حکومت کا بین الاقوامی تنازعات، جیسے یوکرین اور امریکا-روس کشیدگی کے بارے میں موقف ایک غیرسنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو بین الاقوامی سفارت کاری کی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ وہ تجزیہ کار جو امید کر رہے تھے کہ ٹرمپ کی صدارت کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی مسائل سے دستبرداری کا باعث بنے گی، وہ اس طرزِعمل اور طرزِ فکر سے غلط ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
ایلون مسک، جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک اربوں ڈالر کے اجارہ دار سرمایہ دار ہیں، وہ بھی تنازعے کا ذریعہ بنے ہیں۔ مسک کے اشتعال انگیز بیانات نے، جن میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اسلاموفوبک ہیں، دُنیا بھر میں مسلم معاشروں اور برادریوں کے لیے شدید پریشانی پیدا کی ہے۔ ان کے تبصروں نے جو بعض اوقات تضحیک پر مبنی ہوتے ہیں، انھوں نے سماجی سطح پر نشانہ بننے والے مسلمانوں میں ردعمل پیدا کیا ہے۔
ایلون مسک کی شخصیت، جسے ان کے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا اثر و رسوخ نے مزید مضبوط بنایا ہے، موجودہ تلخیوں کو بڑھاوا دیتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، ایلون مسک نے برطانوی سیاست میں مداخلت کی ہے، اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کو استعمال کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم اور ان کی حکومت کے دیگر اراکین کے بارے میں غیر مصدقہ افواہیں پھیلائیں۔ ۲۱کروڑ ۱۰لاکھ فالورز میں پھیلائے گئے، ان کے اشتعال انگیز بیانات میں، مسک نے وزیراعظم اور لیبر پارٹی کے دیگر قانون سازوں پر برطانیہ کے نام نہاد ’گرومنگ گینگز‘ کو معاونت فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ اصطلاح ایک اسکینڈل کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں کئی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز شامل تھے، جہاں مختلف شہروں میں لڑکیوں کو مردوں کے گروہوں نے نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ زیادتی کی۔ ان مجرموں کی اکثریت مبینہ طور پر برٹش نسل سے تعلق رکھتی تھی۔ ایلون مسک کی پوسٹوں میں بے شمار غلطیاں موجود ہیں، جنھوں نے ایک انتہائی مشہور مسئلے کو ایسے پیش کیا ہے جیسے یہ حال ہی میں دریافت ہوا ہو۔ ان تبصروں نے برطانیہ میں نسل پرستی، امیگریشن، اور استحصال سے متعلق شدید مباحثے کو دوبارہ جنم دیا ہے اور اُس تکلیف دہ اسکینڈل پر توجہ مرکوز کی ہے، جو پہلے ہی معاشرتی تقسیم، تضاد اور گاہے تصادم کا باعث بن چکا ہے۔
عالمی اہمیت کے مسائل، جیسے غزہ کی جنگ اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایلون مسک کے موقف کو خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان کی بیان بازی نے امریکا اور مسلم دنیا کے درمیان پولرائزیشن اور کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے سفارت کاری اور بین الثقافتی ہم آہنگی کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ایسے وقت میں جب دنیا کو ثقافتی اور قومی سرحدوں سے بالاتر ہو کر تعاون کی اشد ضرورت ہے، مسک کے متنازعہ بیانات اور اقدامات امریکا اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان تقسیم کو مزید پھیلا بھی رہے ہیں اور گہرا بھی کر رہے ہیں۔ ’فلسطین-اسرائیل تنازع‘ جیسے حساس مسئلے پر ان کا غیرسنجیدہ رویہ اور خطے کی پیچیدہ تاریخ کو نظر انداز کرنے کی بظاہر لاپروائی نے صورتِ حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ان بیانات نے نہ صرف موجودہ دشمنیوں کو بڑھایا ہے بلکہ مسلم دُنیا کے ساتھ معاملات میں امریکا کی ساکھ کو بُری طرح کمزور کیا ہے۔
ٹرمپ اور مسک دونوں کے اقدامات ییل یونی ورسٹی کے تاریخ دان پال کینیڈی کی مشہور کتاب The Rise and Fall of the Great Powers میں پیش کیے گئے نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔ کینیڈی کا ’امپیریل اوور اسٹریچ‘ کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ ’’تاریخ میں عظیم طاقتیں اکثر اپنی فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں کو قابلِ برداشت حد سے زیادہ بڑھا دیتی ہیں۔ یہ عمل ان کے عالمی اثر و رسوخ میں کمی کا باعث بنتا ہے کیونکہ وہ تنازعات میں اُلجھ کر عالمی غلبے کی ضروریات اور اندرونی استحکام کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام رہتی ہیں‘‘۔
ٹرمپ کی قوم پرستی اور علاقائی دعوؤں کو جتانا، ساتھ ہی دیگر ممالک کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے کا اعلان کرنا، اس تصور کی جدید شکل ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے امریکی اثر و رسوخ کو جارحانہ اقدامات کے ذریعے بڑھانے کی کوشش، چاہے وہ ’گرین لینڈ‘ یا ’پاناما نہر‘ جیسے علاقائی تنازعات ہوں یا ان کی عمومی خارجہ پالیسی، امریکا کو طاقت کے حد سے تجاوز کرنے کے ایک خطرناک مقام پر لے آئے ہیں۔ ان اقدامات نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، خاص طور پر امریکی اتحادیوں میں، جو اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ ’امریکی سلطنت‘ اپنی طاقت کو بدمست ہاتھی کی طرح بروئے کار لانے کی راہ پر چلنا چاہتی ہے۔
جان میرشائمر، ایک ممتاز سیاسی سائنس دان، اور جیفری ساکس، ایک مشہور ماہرِ اقتصادیات، نے ایسی تشریحات پیش کی ہیں، جو ٹرمپ اور مسک جیسے لیڈروں کی پالیسیوں میں اصلاحی نقطۂ نظر فراہم کرتی ہیں۔ میرشائمر کے بین الاقوامی تعلقات پر کام میں بے قابو طاقت کے اظہار کے خطرات اور عظیم طاقتوں کی عالمی معاملات کو قابو کرنے کی صلاحیت کو سمجھنے کے رجحان پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق: ’’امریکی خارجہ پالیسی کو طاقت کے توازن پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو منظم کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ غلبے کی خواہش میں خود کو حد سے زیادہ بڑھائے‘‘۔
دوسری طرف، جیفری ساکس نے اس بات کو مسلسل اُجاگر کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، اقتصادی عدم مساوات، اور تنازعات کے حل جیسے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت ہے۔ان کا موقف سفارت کاری اور بین الاقوامی شراکت داریوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو اکثر ٹرمپ کی بیان بازی اور مسک کے بیانات میں نظرانداز کی جاتی ہے۔ ساکس نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے کہ یک طرفہ اور جارحانہ خارجہ پالیسیاں طویل مدتی امن یا استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔
یہ اسکالرز ٹرمپ اور مسک کی ’جارحانہ نو سامراجیت‘ کے مقابلے میں ایک متوازن نقطۂ نظر کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ عالمی معاملات کے لیے ایک زیادہ معتدل اور تعاون پر مبنی طریقۂ کار کی حمایت کرتے ہیں، جو طاقت کی حدود کو تسلیم کرتا ہے اور شراکت داریوں کو دشمنیوں پر ترجیح دیتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے فروغ دیے گئے قوم پرستانہ اور سامراجی عزائم، جنھیں ایلون مسک نے مزید تقویت دی ہے، عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔
اطلاع ہے کہ ’پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ‘ نے نہم جماعت کے لیے سات کتابوں کا نیا نصاب تیار کر لیا ہے، اب طلبہ اپنی مرضی سے اردو یا انگریزی میں نصاب پڑھ سکیں گے۔ خبر کے مطابق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے تمام تعلیمی اداروں اور بورڈز کو کتابوں کی تبدیلی کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔جولائی۲۰۱۹ء میں حکومت پنجاب نے ذریعۂ تعلیم کو انگریزی سے تبدیل کر کے اردو بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے پنجاب کے محکمۂ تعلیم نے بائیس اضلاع میں اساتذہ، طلبہ اور والدین کا سروے کروایا تھا، جس کے مطابق ہر طبقے سے ۸۵ فی صد افراد نے اردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے حق میں رائے دی۔ اس کے باجود ذریعۂ تعلیم میں زبان کی دورنگی جاری رہی۔ یہ خبر اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حیرت ہے کہ جو بات ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کو ۱۸۳۷ء میں معلوم ہو گئی تھی، جب انھوں نے اردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا تھا وہ بات ہمارے منصوبہ سازوں کو اب تک کیوں معلوم نہیں ہو سکی ہے؟ برطانوی دورِ حکومت میں ہندستان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک ہی بڑی یونی ورسٹی، کلکتہ یونی ورسٹی تھی، جس کا ذریعۂ تعلیم انگریزی تھا۔ انگریزی کو یہ منصب فارسی سے چھین کر دیا گیا تھا، جس نے سات سو سال تک ہندستان کے نظام تعلیم پر حکمرانی کی تھی۔ خطے کی تہذیبی اور تعلیمی زبان سے اس کا منصب چھین کر ایک اجنبی زبان کو دیے جانے کے نتائج اسی دورمیں آنا شروع ہو گئے تھے۔
حیرت ہے کہ ہمارے اربابِ حل و عقد آج تک ان نتائج سے بے خبر ہیں۔ ہم کوئی تبصرہ کیے بغیر انگریزوں ہی کے قائم کردہ دہلی کالج کے ایک پرنسپل ای ولموٹ کی ۱۳دسمبر ۱۸۶۷ء کی رپورٹ کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ یہ رپورٹ آج بھی ’محکمہ پنجاب آرکائیوز‘ میں موجودہے۔ ای ولموٹ، کیمبرج یونی ورسٹی کے ممتاز ماہر تعلیم تھے۔ انھوں نے انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانے والی کلکتہ یونی ورسٹی کے حاصل کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا:’’ہمارے فاضلین کی اکثریت نہایت سطحی علم کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتی، خواہ وہ انگریزی ہو یا اس زبان میں حاصل کیے جانے والے دوسرے علوم۔ اس لیے عمومی طور پر اس سے جو ذہنی تربیت ہو رہی ہے، وہ خالص نقالی کے سوا کچھ نہیں‘‘۔
سطحیت ،نقالی اور تحصیلِ علوم میں زبان کی اجنبیت کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹ جیسے عوامل کواسی عہد میں جس اعلیٰ ترین سطح تک محسوس کیا گیا اس کا بڑا ثبوت اورینٹل کالج، پنجاب یونی ورسٹی اور گورنمنٹ کالج لاہور کے بانی ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر کے خیالات ہیں، جو انھوں نے ہندستان آنے اور یہاں اعلیٰ ترین تعلیمی عہدوں پر فائز ہونے کے بعد ظاہر کیے۔ یہی احساس تھا، جس نے ۱۸۶۵ء میں انجمن پنجاب کی تشکیل کی اور ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر نے اس نیم علمی، ادبی، سماجی انجمن کے مقاصد میں یہ بات شامل کروائی کہ ’’اس انجمن کے ذریعے قدیم مشرقی علوم کا احیا کیا جائے گا اور اس ملک کے باشندوں کو مقامی زبانوں کے ذریعے تعلیم دے کر ان میں مفید علوم کی اشاعت کی جائے گی‘‘۔ اس کے نتیجے میں جہاں لاہور سے اردو اخبارات ورسائل جاری ہوئے، وہاں اورینٹل اسکول بھی قائم ہوا۔ ’انجمن پنجاب‘ کی رپورٹوں کے مطابق قیام انجمن کے پہلے ہی سال ۱۱ستمبر ۱۸۶۵ء کو منعقد ہونے والے اجلاس میں ڈاکٹر لائٹنر نے اورینٹل یونی ورسٹی کے قیام کا تخیل بھی پیش کیا، جس کے نتیجے میں بعد ازاں ۱۸۸۲ء میں پنجاب یونی ورسٹی کا قیامِ عمل میں آیا۔
تاریخ کے طالب علم کے لیے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تہذیبی تفاوت کے جس المیے کا رونا آج رویا جاتا ہے، اسے سب سے پہلے ان لوگوں نے محسوس کر لیا تھا جنھیں ہماری تہذیب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ آج ہم مسٹر میکلوڈ کا نام صرف لاہور کی ایک سڑک کی نسبت سے جانتے ہیں۔بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ سر ڈونلڈ فریل میکلوڈ ۱۸۶۵ء سے ۱۸۷۰ء تک پنجاب کے گورنر رہے۔ جب اہلِ پنجاب کی جانب سے مشرقی علوم کی ایک یونی ورسٹی کے قیام کے مطالبے پر مشتمل ایک محضر نامہ انھیں پیش کیا گیا، تو انھوں نے اس حوالے سے لکھا تھا کہ غیر ملک کی زبان میں تعلیم دینے سے تعلیم کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ مسئلے کو تاریخی تناظر میں دیکھتے ہوئے مسٹرمیکلوڈ نے یہ بھی لکھا کہ خود انگلستان میں جہاں شائستگی کے حصول کے لیے لاطینی اور یونانی زبانوں کی تحصیل ضروری سمجھی جاتی ہے، عام تعلیم کے لیے دیسی زبان یعنی انگریز ی ہی کو موزوں سمجھا جاتا ہے‘‘۔
مسٹر میکلوڈ کی یہ تحریر اپنے اندر بصیرت کا خاصا سامان رکھتی ہے۔ اس تحریر میں اعتراف کیا گیا کہ نئے نظامِ تعلیم نے اردو اور ہندی کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ صرف یہی نہیں اس نظام سے کوئی اچھا انگریزی دان بھی نہیں نکلا بلکہ اس نظام کا حاصل فقط وہ لوگ ہیں جو سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے محض انگریزی بول چال سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے طلبہ کا فقدان ہے، جو تعلیمی اداروں سے حصولِ علم کی خاطر منسلک ہوتے ہوں۔ گورنر نے اس طریقۂ تعلیم کو ناقص او ر افسوس ناک قرار دیا۔ سر ڈونلڈ میکلوڈ نے اورینٹل یونی ورسٹی کی اس تجویز پر کلکتہ کالج کے پرنسپل میجر ناسائو لیز\سے بھی مشورہ کیا۔ ناسائولیز نے یہ کہتے ہوئے کہ ’’اس نظامِ تعلیم نے صرف کلرک پیدا کیے ہیں، علمی خوبیوں کا حامل کوئی فرد پیدا نہیں کیا‘‘، گورنر پنجاب کے خیالات کی تائید کی۔
اجنبی زبان میں تعلیم کے ان نتائج سے آگاہ ہو جانے پر انگریز حکام نے مقامی باشندوں کو مقامی زبانوں ہی میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں پنجاب یونی ورسٹی قائم ہوئی۔ پنجاب یونی ورسٹی کے ایک کانووکیشن میں جب وائس چانسلر نے خطبۂ استقبالیہ انگریزی میں پیش کیا تو وائسرائے ہند نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کو اردو میں خطاب کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وہ بنیادی اور اصولی بات جس سے انگریز واقف تھے، ہم نجانے کیوں اب تک اس سے واقف نہیں ہو سکے؟ ذریعۂ تعلیم کی بار بار تبدیلی سے نئی نسلوں کا جو نقصان ہوتاہے اور معاشرتی تفاوت کی جو راہیں کھلتی ہیں، ہم اس سے بے خبرہیں یا بے نیاز؟ پچھلے دنوں ایک دوست نےیہ بتا کر حیران کر دیا کہ اب ہمارے سرکاری دفاتر اور ٹیلی فون کمپنیوں میں اردو پیغام رسانی کے لیے رومن حروف استعمال کیے جاتے ہیں۔ توجہ دلانے پر کہا جاتا ہے: ’’پالیسی یہی ہے‘‘! یاللعجب؟ زبان کے بعد رسم الخط بھی ہاتھ سے جاتا رہا۔ دکانوں کے بورڈ ہوں یا گاڑیوں کے نمبر ہمارے ہاں انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، حالانکہ ملک میں انگریزی جاننے والے عوام کی تعدادآٹے میں نمک کے برابر ہے۔ پھرکیا یہ طریق کار ابلاغ کے اصولوں پر بھی پورا اترتا ہے؟ آپ جن لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں، کم از کم درجے میں زبان اور حروف تو وہ استعمال کیجیے، جوان کی سماعتوں اور نگاہوں کے لیے مانوس ہوں۔
معقول حد کے اندر اپنی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد آدمی کے پاس اس کی حلال طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کا جو حصہ بچے اسے خود اِن کاموں پر صرف کرنا چاہیے:
اس خرچ کو قرآن نہ صرف یہ کہ ایک بنیادی نیکی کہتا ہے بلکہ تاکیداًوہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ایسا نہ کرنے میں معاشرے کی مجموعی ہلاکت ہے:
(سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۲،عدد۶، فروری ۱۹۶۵ء، ص۳۹-۴۱)