وطن عزیز میں ’طاقت اور اختیار کا کھیل‘ اپنی تمام کثافتوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ دیکھنے میں چلاآرہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی غالباً ہرآن یہی سوچتے ہیں کہ ’طاقت و اختیار‘ کا کب کتنا مزید حصہ حاصل کرنا ہے۔ باقی رہی قوم اور قوم کے روزمرہ اُمور، یا مستقبل کے معاملات، تو اُن کے بارے میں جب فرصت ملی تو سوچ لیا جائے گا۔
قوم کے اعصابی مراکز پر فائز قوتیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا عسکری، عدالتی ہوں یا سول، اپنے کردار سے کم و بیش اسی کھیل میں کبھی تیزگامی اور کبھی سُست رفتاری اختیار کرنے کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ مقتدر طبقوں کی یہی وہ لَت تھی جس نے قیامِ پاکستان کے بعد دستور بنانے میں قوم کے نوسال ضائع کردیئے، اور انھی ۹برسوں میں ایسے ایسے امراض قومی وجود کو لاحق ہوگئے کہ پہلے انھوں نے دسمبر۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ دکھایا، اور پھر باقی پاکستان کو بھی مسلسل خطرات کے گرداب میں رکھا ہے۔ یہ پریشان کن تبصرہ بے وجہ نہیں۔ اس لیے کہ سیاسی قوتوں کی آمریت پسندی اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کبھی عسکری قوتوں سے گٹھ جوڑ اور کبھی اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ سازباز کا چلن سب کے سامنے ہے۔ یہ سب ’بے زبان‘ قوم کی تاریخ کے سیاہ باب ہیں۔
اس تمہید کا ایک تلخ پہلو فروری۲۰۲۴ء کے وہ انتخابات بھی ہیں، جن میں عدالت عظمیٰ کے ذریعے ایک پارٹی کا نشان سلب کرکے قبل اَز انتخابات دھاندلی کا ظلم شامل کیا گیا، اور پھر من پسند لوگوں کو ’فارم ۴۷‘کے کٹھولے میں بٹھا کر پارلیمنٹ میں پہنچایا گیا۔ مشہور کہاوت ہے کہ ’غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی، وہ نئی غلطی کو جنم دیتی ہے‘۔ یہی کام یہاں بھی ہوا کہ سالِ انتخابات ۲۰۲۴ء ختم ہونے سے پہلے ہی ۲۶ویں ترمیم کا ایسا ڈول ڈالا گیا کہ جس نے خود آئینی ترمیم کے طریق کار کو ہی مشکوک نہیں بنایا، بلکہ اُس کے متعدد منفی نتائج بھی سیاسی و قانونی کلچر کی خرابی کی بنیاد بنے، اور اس کی ضربِ کاری کا اصل نشانہ اعلیٰ عدلیہ ہی بنی۔ چونکہ اس ترمیم میں بدنیتی کے کئی عوامل موجود تھے، اس لیے ’ھل من مزید‘ کی پیاس نے ۲۰۲۵ء کے خاتمے تک ۲۷ویں آئینی ترمیم کی یلغار کرادی۔ یہ ترمیم کیا ہے؟جزوی چیزوں کو چھوڑ کر درحقیقت عدل و انصاف پر ایک غیراسلامی، غیراخلاقی اور غیر جمہوری خودکش حملہ ہے۔
اس ترمیم میں عدلیہ کو مقتدرہ کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور مسلسل دہشت زدہ رکھنے کا بارود رکھا گیا ہے، اور مقتدرہ کے کچھ مناصب پر فائز افراد کو ’تاحیات استثناء‘ دے کر، اسلام اور انصاف کے اصولوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ پھر اس ترمیم کے ذریعے ’قراردادِ مقاصد‘ کی روح کچل کر رکھ دی گئی ہے۔’قراردادِ مقاصد‘ تحریک پاکستان کے لیے مسلمانانِ برصغیر کے عمرانی معاہدے کی غماز اور آئینِ پاکستان کی بنیاد ہے۔جو واضح طور پر متعین کرتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے، اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے۔اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اللہ کی امانت کے طور پر استعمال کریں گے، اور متفقہ قومی دستور نے کہا ہےکہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا، اور اگر کوئی ایسا متصادم قانون ہوگا تو چیلنج کرکے تبدیل کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ قائم کیے گئے ہیں۔
حالیہ ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے دستور میں صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری اور دیوانی مقدمات سے دیا گیا تاحیات استثناء سراسر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ قرآن و سنت میں تویہ استثناء رسولِ معصوم عن الخطاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدینؓ کو بھی حاصل نہیں۔یہ غیر اسلامی اور غیر عادلانہ دفعہ مسلّمہ جمہوری و مہذب اصولوں یعنی مساوات، عدل کی گردن اُڑانے کا اعلان بھی ہے اور اختیار بھی۔ یہ دفعہ اسلام کے ان اصولوں، جن میں سماجی انصاف اور برابری کے اصولوں کو مرکزیت حاصل ہے، پامال کرنے کی جسارت بھی ہے۔
مزید ملاحظہ فرمایئے کہ ۲۷ویں ترمیم بھی اسی طرح اناڑی پن، عجلت پسندی اور اَدھوری ڈرافٹنگ کی بھونڈی تصویر پیش کر رہی ہے، جس انداز سے ۲۶ویں ترمیم کی گئی تھی (غلطیوں اور اَدھورے پن کے اسی تسلسل میں اب ۲۸ویں ترمیم لانے کے لیے ذہن سازی کی جارہی ہے)۔ اس ترمیم کے مطابق ایک ’وفاقی آئینی عدالت‘ (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جسے ۲۶ویں ترمیم میں چند حلیفوں کو غچہ دینے کے لیے واپس لیا گیا تھا، مگر ’زخم مندمل‘ ہونے اور اس دوران مزید پارلیمانی نمبر حاصل کرلینے کے بعد اب اس بلّی کو تھیلے سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ اس نومولود عدالت کے جج حضرات کو اب انتظامیہ اور مقننہ مل کر چُنے گی اور ظاہر ہے چناؤ کے فیصلے کا وزن مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ایسی عدالت سے بھلا کوئی شہری، ریاست کی جابرقوت کے خلاف عدل کی اُمید کیسے باندھ سکتا ہے؟ جب کہ اس نومولود عدالت کو مقرر کرنے والی قوت وہی ہو، جس کے جبر یا ناانصافی کے خلاف اسے ایوانِ عدل میں دستک دینے کی ضرورت محسوس ہو؟ اسی طرح یہ عدالت ہو یا اعلیٰ عدلیہ، اس کے ججوں کی دوسری جگہوں پر منتقلی، تقرر یا برطرفی کے لیے کوئی واضح معیار مقرر نہیں کیا گیا، مگر بازو مروڑنے کا راستہ رکھا گیا ہے۔ ایسے فیصلوں کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے، جس میں انتظامیہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔
یاد رہے، دستور کی دفعہ ۲۰۰ میں درج تھا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری جگہ تبدیل کرنے کے لیے، متعلقہ جج صاحب کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ ۲۷ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جج صاحب کی مرضی کے بغیر بھی انھیں تبدیل کیا جاسکے گا، اور اگر وہ یہ حکم یا ہدایت ماننے سے انکار کریں تو اُن کے خلاف ۳۰ روز کے اندر ’اعلیٰ عدالتی کونسل‘ (SJC) میں تادیبی کارروائی ہوگی، اور انھیں کام کرنے سے منع کردیا جائے گا۔
اس ’آئینی عدالت‘ کو غیرآئینی کام کرنے کے لیے یہ کہہ کر پوری سہولت بہم پہنچا دی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں سابقہ عدالتی نظائر (فیصلوں) کی پابند نہ ہوگی، ان کے سامنے سابقہ فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس طرح انسانی سماج کے تجربات سے حاصل شدہ راہ نمائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایسی صاف سلیٹ پر من پسند آئینی عدالت کو اختیارات کا ڈنڈا پکڑا کر، دراصل یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ وہ پرانے ’ناپسندیدہ‘ تجربات کو نظرانداز کرنے کی ’شرمندگی‘ سے بچ سکیں۔
۲۶ویں ترمیم میں اس کج روی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ۹مئی ۲۰۲۵ء کو دس رکنی ’آئینی بنچ‘ نے سپریم کورٹ کے جولائی ۲۰۲۴ء کے اس فیصلے کو پلٹ کر کالعدم کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمے چلانا دستور کی دفعہ ۱۰-الف (منصفانہ مقدمے اور قانونی حق) کی خلاف ورزی ہوگی۔درحقیقت نئی ’آئینی عدالت‘ کا یہ وجود عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، پارلیمانی قانون سازی کے اسلامی اور عدالتی ریویو اور جائزے کے اختیار کو بھی سلب کرنے کا اعلان ہے۔
نومبر ۱۹۸۵ء میں ’آٹھویں ترمیم‘ اور دسمبر۲۰۰۳ء میں ’سترھویں آئینی ترمیم‘ میں شامل ۵۸(۲-الف) کا غیرجمہوری حق، مقتدر قوتوں نے مارشل لا کے فیصلوں کو تحفظ دینے کی دھونس برت کر حاصل کیا تھا کہ اس کے بغیر ان کے سابق دور کے فیصلے بے وجود ہوجاتے۔ لیکن اب ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے فیصلوں کے لیے تو کوئی دبائو بھی موجود نہیں ہے، تو پھر پارلیمنٹ نے یہ غیرآئینی اور غیر جمہوری اور غیر عادلانہ اقدام کیوں کیے ہیں؟
ان ترامیم نے فی الحقیقت مستقبل کے معاشی اُمور کو بھی داغدار کر دیا ہے، اور قومی زندگی میں سیاسی ساکھ اور اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ ان ترامیم سے انتظامی اور عسکری غلبے کو آئینی تحفظ ملنے سے طاقت وروں کے اختیارات اور قوت میں مزید اضافہ ہواہے، جب کہ جمہور کی طاقت میں بڑی کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس کے تقرر کے لیے میرٹ یا معیار کے بجائے انتظامیہ کی پسند و ناپسند کو راہ دی گئی ہے، جس سے عدل کے ایوان گروہ بندی اور سیاسی جھکائو کے اندھے گڑھے میں گرائے جاسکتے ہیں۔ آئینی بنچوں کی تشکیل میں سیاسی مداخلت کا سامان فراہم کرکے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو سوالیہ نشان بنا ڈالا گیا ہے۔
وطنِ عزیز میں جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب معاشرے کو توازن سے روشناس کرانا ہے۔ لیکن اگر عدل کے حصول کا راستہ کھوٹا ہوگا اور رکاوٹ زدہ ہوگا تواس سے مایوسی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے تمام طبقوں کو درست بات حکامِ بالا اور عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔تمام سیاسی اور دینی قوتوں کے ساتھ وکلا اور صحافیوں کو غیرجذباتی انداز سے اس ضمن میں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔
ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے دسمبر ۲۰۲۵ء کے شمارے میں ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کا المناک انجام‘ کے عنوان سے معروف نو مسلم فاضل علامہ محمد اسد (۱۹۰۰ء تا ۱۹۹۲ء) کا ایک مضمون (مترجم و مرتب: جناب اوریا مقبول جان) شائع ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان کے ڈیڑھ ماہ بعد حکومت مغربی پنجاب (نواب افتخار حسین ممدوٹ کی سربراہی میں قائم) کی طرف سے ’محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ‘ (Department of Islamic Reconstruction) اکتوبر ۱۹۴۷ء میں قائم ہوا تھا۔ محمداسد اس کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ علامہ محمد اسد کی یہ تحریر دراصل ایک ’محضرنامہ‘ (یادداشت) ہے، جو انھوں نے ۱۸؍ اگست ۱۹۴۸ء کو مرکزی حکومت کو پیش کیا تھا، جس میں ’محکمۂ احیائے ملتِ اسلامیہ‘ کے قیام کی غرض و غایت، اہداف و مقاصد اور سرگرمیوں کے بارے میں بعض مقتدر حلقوں کے ہاں پائے جانے والے شکوک و شبہات اور بدگمانیوں کے ازالے کی سعی کی گئی تھی۔ یہاں پر اس محکمے کے اہداف و مقاصد اور کارگزاری پر بحث مقصود نہیں ہے بلکہ ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن میں شائع شدہ اس مضمون کے آغاز میں جناب اوریا مقبول جان کے تعارفی شذرے میں موجود بعض تاریخی وواقعاتی غلط فہمیوں کی نشان دہی کرنا پیش نظر ہے۔
فاضل مترجم و مرتب نے اپنے تعارفی و تمہیدی شذرے میں لکھا ہے:
۱- علامہ محمد اسد، علامہ محمد اقبال کی شخصیت سے متاثر ہو کر ہندستان آگئے اور علامہ اقبال نے اپنے دوست کو ہندستان کے موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے، چودھری نیاز علی خان سے کہا شملہ میں ان کی رہائش کا بندوبست کیاجائے۔ وہاں رہائش کے دوران انھوں نے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ترجمے کا آغاز کیا ہی تھا کہ [۱۹۳۹ء میں] جنگِ عظیم دوم شروع ہوگئی اور انھیں جرمن جاسوس سمجھ کر انگریز حکومت نے گرفتار کر لیا۔(ص ۸۷ تا ۸۸)
۲- جب انھیں رہائی نصیب ہوئی تو انھوں نے اپنا مشہور رسالہ عرفات نکالا۔ اس ضمن میں ان کی خط کتابت اسلامی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ قائد اعظم سے بھی رہی، جو ان کے رسالے کے قاری تھے۔(ص ۸۸)
۳- رسالے میں علامہ محمد اسد نےWhat Pakistan Means? [کذا ،What Do We Mean by Pakistan?] کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا، یعنی ’پاکستان کا مطلب کیا؟ اور ان مضامین میں اس کا جواب ہوتا ’لاالٰہ الا اللہ‘ یعنی تحریری طور پر یہ نعرہ پہلی دفعہ علامہ اسد نے قیام پاکستان سے دوسال قبل ہی بلند کردیا تھا۔ (ص ۸۸)
۴- اگست ۱۹۴۷ء کے آخری ہفتے میں ہی ’ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن‘ [’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘] کے اغراض و مقاصد کا کتابچہ شائع ہوا۔ جس میں محکمے کی ذمہ داریوں میں اسلام کے تعزیراتی قوانین کی تدوین سے لے کر تعلیمی، معاشی اور معاشرتی نظام کے نفاذ پر سفارشات مرتب کرنا شامل تھا۔ (ص۸۸)
۵- یہ محکمہ حکومتِ مغربی پنجاب کے تحت قائم ہوا تھا، لیکن فوراً ہی منظوری کے لیے اس کو مرکزی حکومت کے پاس بھیجا گیا(کذا)۔ اس موضوع پر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں طویل بحثیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ آخر کار جنوری ۱۹۴۸ میں منظوری کے بعد علامہ محمد اسد کو ریڈیو پاکستان سے اپنے اغراض و مقاصد اور اہداف بیان کرنے اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے محکمے کے کام کا تعارف کروانے کی اجازت دی گئی۔ ریڈیو پاکستان سے علامہ اسد کی سات ولولہ انگیز اور فکر سے بھر پور تقریریں نشر ہوئیں۔ بعد ازاں ریڈیو پاکستان کی اجازت سے رسالہ عرفات کے ستمبر ۱۹۴۸ء کے شمارے میں شائع ہوئیں ۔(ص۸۸)
۶-محکمہ میں علامہ اسد کے ساتھ کام کرنے والوں میں مفکرین، ڈاکٹر حسین الہمدانی، سیّدنذیر نیازی، محمد جعفرشاہ پھلواری (کذا، پھلواروی)، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا ابو یحییٰ امام خان نوشہروی، رشید اختر ندوی، مولانا شفیق الرحمٰن اور افتخار احمد چشتی شامل تھے۔ (ص ۸۸ تا ۸۹)
۷- ادارے نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں اسلامی قوانین کی تدوین کے لیے علما کی ایک کمیٹی بھی قائم کی۔ صرف چند ماہ کی محنت سے محکمے نے اپنی سفارشات مرتب کرلیں۔ جب یہ سفارشات مرکزی حکومت کو موصول ہوئیں تو حکومت پر قابض انگریز کی تیار کردہ بیوروکریسی نے اس ادارے کے راستے میں روڑے اٹکانے شروع کردیے۔ آخر کار ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے، علامہ اسد سے کہا گیا کہ وہ عالم اسلام میں پاکستان کی شناخت کروانے میں مدد کریں۔ یوں انھیں سفیر بناکر مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا گیا۔ ان کے جانے کے صرف ایک ماہ کے اندر ہی ادارے کا وہ مرکزی دفتر جو پنجاب سیکرٹیریٹ کے ساتھ پیپلز ہاؤس میں قائم تھا، وہاں پُراسرار آتش زدگی کے ذریعے سارا ریکارڈ جلادیا گیا۔ (ص ۸۹)
محمد اسد اور محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کے بارے میں فاضل مترجم کے ان ملاحظات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہ خیالات ٹھوس اور مستند تاریخی و دستاویزی شہادتوں پرنہیں بلکہ ادھورے مطالعے اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ بعض واقعات کی تاریخی و زمانی ترتیب میں بھی اُلٹ پھیر ہوگیا ہے۔ بعض باتیں حقائق کے منافی ہیں۔ ذیل میں ترتیب سے، ان نکات کاجائزہ پیش کیا جاتا ہے:
۱- محمد اسد سرزمین حجاز (جہاں وہ ۱۹۲۷ء کے اوائل سے مقیم تھے، اور شاہ ابن سعود کے مصاحبین و مقربین میں شامل ہو چکے تھے) سے ہندستان علامہ محمد اقبال کی شخصیت سے متاثر ہو کر نہیں آئے تھے۔ محمد اسد ایک متجسّس اور سیلانی مزاج کے حامل انسان تھے۔ صحرا نوردی و جہاں گردی اور مہم جوئی تو گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ وہ سچ مچ ایک جہاں گشت تھے۔ وہ نوعمری میں ہی بعض مغربی اخبارات کے مراسلہ نگار کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک، طرابلس و البرقہ (لیبیا) اور ایران و افغانستان کی سیاحت کر چکے تھے۔محمد اسد کا یہی شوق سیاحت و جہاں گردی انھیں کشاں کشاں ہندستان لے آیا تھا۔ البتہ ہندستان کی سیاحت کا ایک محرک حجاز میں قیام کے دوران میں ان کی بعض ممتاز ہندی مسلمانوں،جن میں ڈاکٹر عبدالغنی جلالپوری پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور، پرنسپل حبیبیہ کالج کابل اور ناظم تعلیماتِ عامّہ افغانستان رہے ۔(سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے رسالہ دینیات کے اوّلیں انگریزی مترجم)، مولانا عبدالقادر قصوری، مولوی محمد اسماعیل غزنوی (موصوف امرتسر کے معروف اہل حدیث غزنوی خاندان کے چشم و چراغ اور شاہ ابن سعود کے منظورِنظر افراد میں سے تھے) سے میل ملاقات اور ان سے اسلامیانِ ہند کی تاریخ و سیاست اور تہذیب و معاشرت کے بارے میں بحث و گفتگو بھی تھی۔ چنانچہ محمد اسد ۱۹۳۲ء کے وسط میں ہندستان کے لیے روانہ ہوئے۔ محمد اسد کے بارے میں یہ بات تو یقینا وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ علامہ محمداقبال کے بڑے قدر دان تھے اور اس امر کا اظہار انھوں نے اپنی متعدد تحریروں میں واشگاف الفاظ میں کیا بھی ہے۔ پھر ہندستان آمد کے بعد جس شخصیت سے ان کا سب سے قریبی تعلق رہا وہ علامہ محمد اقبال کی ذات گرامی ہی تھی، لیکن یہ تاثر دینا درست نہیں کہ وہ سرزمینِ حجاز سے محض ان کی شخصیت و فکر سے متاثر ہوکر ہندستان آئے تھے۔
اسی طرح محمد اسد کی ہندستان آمد پر علامہ محمد اقبال کی فرمائش پر چودھری نیاز علی خان کا اس نووارد کے لیے شملہ میں رہائش کا انتظام کرنا بھی درست نہیں ہے۔ محمد اسد ہندستان آمد (ستمبر ۱۹۳۲ء) کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک مختلف شہروں، امرتسر، لاہور، دہلی، بھوپال، حیدرآباد دکن اور کشمیر کی سیاحت میں مشغول رہے۔ ۱۹۳۴ء کے موسم بہار میں وہ کچھ عرصے کے لیے دہلی (قرول باغ) میں مقیم ہوئے۔ چنانچہ یہیں سے اپریل (۱۹۳۴ء) میں فکراسلامی پر ان کی پہلی شہرۂ آفاق تصنیف Islam at The Crossroad شائع ہوئی۔ دو ماہ بعد اس کا دوسرا اور ستمبر میں اس کا تیسرا ایڈیشن نکلا۔ اسی سال انھوں نے صحیح بخاری کے انگریزی ترجمہ و شرح کا آغاز کیا اور اس کی اشاعت کے انتظامات میں مشغول ہوگئے۔ ۱۹۳۵ میں انھوں نےاس کی طباعت و اشاعت کے لیے سری نگر میں عرفات پبلی کیشنز کے نام سے اپنا ذاتی مطبع اور دارالاشاعت قائم کیا۔ اسی سال کے اواخر میں صحیح بخاری کے ترجمے کی پہلی قسط (مشتمل بر کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ وکتاب الایمان) چھپ کر منظر عام پر آئی۔ مجلہIslamic Culture کے بانی ایڈیٹر علامہ محمد مارماڈیوک پکتھال کی وفات (۱۹ مئی ۱۹۳۶ء) کے بعد دولت آصفیہ حیدر آباد دکن کی طرف سے محمداسد اس مجلے کے ایڈیٹر مقرر کیے جانے پر لاہور منتقل ہوگئے۔ چنانچہ جنگ عظیم دوم کے آغاز تک وہ لاہور ہی سے اس مجلے کی ادارت اور اس کی اشاعت کا انتظام کرتے رہے۔ جنگ کے آغاز پر ہندستان کے برطانوی حکام نے انھیں ’دشمن قوم کا شہری‘ قرار دیتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ جنگ کے اختتام (۱۹۴۵ء)پر رہائی ملنے کے بعد کم و بیش ایک سال دارالاسلام، پٹھانکوٹ اور لاہور میں گزارا، اور پھر محمد اسد ڈلہوزی میں مقیم ہوئے تھے۔ یہیں سے انھوں نے ستمبر ۱۹۴۶ء میں مجلہ عرفات کا اجرا کیا۔محمد اسد برصغیر ہند میں اپنے کم و بیش بیس سالہ قیام (ستمبر ۱۹۳۲ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۵۱ء) کے دوران میں، ما سوائے چند ر روزہ سیر و سیاحت کے، کبھی شملہ میں مقیم نہیں رہے۔
۲- یہ کہنا کہ شملہ سے مجلہ عرفات کے اجرا (جلد اول، شمارہ اول، ستمبر ۱۹۴۶ء )کے بعد محمداسد کی اس مجلے کے بارے میں اسلامی مفکرین، سیاسی شخصیات اور بالخصوص قائد اعظم محمد علی جناح سے خط کتابت رہی، ایک قیاس آرائی ہے۔ اس میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مجلہ عرفات کے افتتاحی شمارے کی طباعت کے بعد محمد اسد نے اس کے اعزازی نسخے ملک کی ممتاز سیاسی، اور علمی و فکری شخصیات کو ارسال کیے تھے اور اُن کے نام خطوط میں مجلے کی اشاعت کی غایت و مقصد کی وضاحت کی تھی۔چنانچہ اس کا ایک نسخہ مع ایک عریضےکے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی ارسال کیا گیا تھا۔ جواب میں قائد اعظم کی طرف سے ایک مختصر خط لکھا گیا، جس میں محمد اسد کے اس کام کی تحسین کی گئی۔ اس کے علاوہ محمد اسد کی قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ خط کتابت کےشواہد نہیں ملتے۔ محمد اسد کے قائد اعظم محمد علی جناح سے کبھی قریبی روابط قائم نہیں رہے۔محمد اسد نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا برملا طور پر اظہار کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر محمد اقبال کی شخصیت و فکر سے ضرور متاثر تھے، البتہ قائداعظم محمد علی جناح سے کچھ زیادہ متاثر نہ تھے۔
۳- اسی طرح یہ دعویٰ بھی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے کہ ’پاکستان کا مطلب کیا؟___ لاالٰہ الا اللہ‘ کا نعرہ پہلی دفعہ (یعنی سب سے پہلے) محمد اسد نے قیام پاکستان سے دوسال قبل ہی مجلہ عرفات میںشائع ہونے والے اپنے مضامین میں بلند کر دیا تھا۔ محمد اسد کا ایک مفصل مضمون What Do We Mean by Pakistan? کے عنوان سے مجلہ عرفات کے شمارہ بابت مئی ۱۹۴۷ء (جلد اول، شمارہ ۸مئی ۱۹۴۷ء) میں شائع ہوا تھا، جس میں انھوں نے واشگاف لفظوں میں ’پاکستان کا مطلب کیا؟___لا الٰہ الا اللہ‘ کا نعرہ ضرور بلند کیا تھا۔ تاہم، اس باب میں معروف شاعر پروفیسر اصغر سودائی (۱۹۲۶ء تا ۲۰۰۸ء)کو سبقت حاصل ہے۔ انھوں نے ۱۹۴۴ء میں،جب کہ وہ مرے کالج سیالکوٹ کے طالب علم تھے، ’پاکستان کا مطلب کیا؟‘ کے عنوان سے ایک شہرۂ آفاق نظم کہی تھی۔ یوں اس نعرے کے خالق محمد اسد نہیں بلکہ پروفیسر اصغر سودائی ہیں۔
۴- ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کتابچے کی ماہِ اگست ۱۹۴۷ء کے اواخر میں اشاعت کا قصہ درست معلوم نہیں ہوتا۔ محمد اسد۱۴ ؍اگست کو قیام پاکستان کے بعد ڈلہوزی سے لاہور پہنچے تھے۔لاہور آمد کے بعد وہ مہاجرین کی آبادکاری کے کاموں میں مشغول ہوگئے تھے۔ انھی دنوں ریڈیو سے ان کی تقریریں نشر ہوئیں۔ اکتوبر میں ’محکمۂ احیائے ملّت‘ کا قیام عمل میں آیا۔اس محکمے کے قیام سے قبل اس کی طرف سے اپنے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کسی کتابچے کی اشاعت امرِواقعہ نہیں ہے۔ محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کتابچے، جو ایک محتاط اندازے کے مطابق اکتوبر نومبر میں شائع ہوا، کی رُو سے اس محکمے کی اوّلین ذمہ داری ’اسلام کے تعزیری قانون‘ کی تدوین نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی قانونِ اسلامی کی تدوین اور تعلیمی، معاشی اور معاشرتی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں سفارشات مرتب کرنا تھا۔ محمداسد کی متعدد تحریروں سے یہ امر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مسلم معاشرے میں اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے کا آغاز حدود و تعزیرات کے نفاذ سے کرنے کے طرف دار نہیں تھے۔ اس کے مقابلے میں وہ اس امر کے داعی و علَم بردار تھے کہ ’ملک و معاشرے کی اسلامی تشکیل کا آغاز تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ اور سماجی عدل و انصاف کے قیام سے کیا جائے‘۔
۵- ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کا قیام دراصل حکومت مغربی پنجاب کی طرف سے عمل میں آیا تھا۔ یہ نواب افتخار حسین ممدوٹ (۱۹۰۶ء تا ۱۹۶۹ء) کے اقدام کا نتیجہ تھا، اور اس ادارے کے قیام میں مرکزی حکومت کا کوئی حصہ نہ تھا اور نہ اس بات کی کوئی دستاویزی شہادت موجود ہے۔ اگر اس منصوبے کو ’مرکزی حکومت کی بھر پور تائید و حمایت‘ حاصل ہوتی تو نواب افتخار حسین ممدو ٹ کی حکومت کے خاتمے (۲۵ جنوری ۱۹۴۹ء) کے بعد اس کی بساط نہ لپیٹ دی جاتی۔وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان(۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء تا ۱۶؍اکتوبر۱۹۵۱ء) اپنے جیتے جی اس کا خاتمہ نہ ہونے دیتے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت کے خاتمے کے چند ماہ بعد ہی محمد اسد کا تقرر دفتر خارجہ میں ’مڈل ایسٹ ڈویژن‘ (قسمت مشرقِ وسطیٰ) میں کردیا گیا، جس کے ساتھ ہی اس محکمے کا عملاً قصہ تمام ہوگیا۔
یہ بات بھی درست نہیں کہ جنوری ۱۹۴۸ء میں مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد محمد اسد کو اس محکمے کے اغراض و مقاصد اور نفاذ شریعت کی سرگرمیوں اور منصوبوں کے تعارف کے سلسلے میں ریڈیوپاکستان پر تقریروں کی اجازت دی گئی۔ نیز یہ کہ محمد اسد کی نشری تقریریں ’محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کے ترجمان مجلے عرفات کے ستمبر ۱۹۴۸ء کے شمارے میں شائع ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد اسد کی یہ تقریریں اگست اور ستمبر ۱۹۴۷ء کے مہینوں میں نشر ہوئی تھیں ۔ ان تقریروں کا موضوع محکمہ احیائے ملّت کے اغراض و مقاصد کی تشریح اور پاکستان میں نفاذشریعت کے سلسلے میں اس محکمے کے کام کا تعارف و تذکرہ ہرگز نہ تھا۔ ان تقریروں کا موضوع مملکت خداداد پاکستان کو درپیش مسائل و مشکلات (مہاجرین کی آمد و آبادکاری، نیز انتظامی، اقتصادی اور سیاسی مسائل) اور اس مملکت کی اسلامیانِ ہند کی نظریاتی اُمنگوں کے مطابق تعمیر و تشکیل سے متعلق امور و مسائل سے تھا۔ محمد اسد نے اپنی ان تقریروں میں دو قومی نظریے اور مملکت پاکستان کی تعمیر وتشکیل میں اسلام کو مرکزی حیثیت دینے کی مؤثر طور پر وضاحت کی تھی۔ محمد اسد کی یہ نشری تقریریں مجلّہ عرفات کے افتتاحی اور آخری شمارے (مارچ ۱۹۴۸ء) میں شائع ہوئیں، نہ کہ ستمبر۱۹۴۸ء کے شمارے میں۔
۶- زیر نظر تعارفی شذرے میں محکمہ سے وابستہ جن اہل علم کا ذکر کیا گیا ہے، ان سب کو ’مفکر‘ قرار دیا گیا ہے۔ برصغیر کی سنجیدہ علمی و فکری روایت میں ’مفکر‘ کا خطاب جس پائے کے اہل علم و فکر کے لیے استعمال ہوتا ہے ، وہ ان اشخاص خصوصاً مؤخرالذکر چار حضرات ،پر صادق نہیں آتا۔
۷- جناب مرتب نے لکھا ہے کہ اسلامی قوانین کی تدوین کے لیے محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کی طرف سے تحریک پاکستان کے مقتدر رہنما اور ممتاز عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی (م:۱۳دسمبر ۱۹۴۹ء) کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ محمداسد نے مرکزی حکومت کے نام اپنے ’محضرنامے‘ (محررہ و مرسلہ ۱۸؍ اگست ۱۹۴۸ء) میں مولانا شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں قائم کی گئی جس کمیٹی کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق قانون اسلامی کی تدوین سے نہیں بلکہ ایک جدید دارالعلوم کے قیام سے تھا۔ دراصل محمد اسد نےاسلامی علوم اور فقہ و قانون کے ماہرین کی تیاری اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک جدید دارالعلوم کے قیام کے لیے ایک پلاننگ کمیٹی کی تشکیل کے لیے حکومت پنجاب (نواب افتخار حسین ممدوٹ، وزیر اعلیٰ پنجاب) سے منظوری حاصل کی تھی۔ روایتی مذہبی طبقوں کی مخالفت سے بچنے کے لیے محمداسد نے اس کمیٹی کی سربراہی کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی سے درخواست کی ، جو انھوں نے منظور کر لی تھی۔ اس کمیٹی میں محمد اسد نے مختلف دینی مکاتب سے متعدد علما بھی شامل کیے، مگر اس بات کا بطور خاص اہتمام کیا کہ کمیٹی کے ارکان میں روشن خیال جدید تعلیم یافتہ ارکان کی حیثیت غالب رہے۔ (دیکھیے: محمد اسد، ’میمورنڈم‘ در مجلہ اقبال، جولائی ۱۹۹۸، ص ۱۰)
جناب مرتب کا یہ بیان بھی کسی حد تک محلِ نظر ہے کہ برطانوی سامراج کی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے نفاذ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے محمد اسد کو محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کی سربراہی سے ہٹا کر دفتر خارجہ میں تعینات کرایا تھا، اور بعدازاں انھیں عرب ممالک میں پاکستان کی شناخت کرانے کے لیے سفیر مقرر کر کے مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ محمداسد کو وزیراعظم لیاقت علی خان کے ایما پر ۱۹۴۹ء میں ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ سے ہٹا کر وزارتِ خارجہ کے مڈل ایسٹ ڈویژن میں تعینات کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ میں تعیناتی کے دوران ہی میں دسمبر ۱۹۵۱ء کے اواخر میں انھیں اقوام متحدہ میں پاکستانی ناظم الامور مقرر کیا گیا۔ چنانچہ، جنوری ۱۹۵۲ء کے اوائل میں محمد اسد نے نیویارک میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ سے محمد اسد کی علیحدگی اور دفتر خارجہ میں ان کی تعیناتی کے پیچھے محض مرکزی حکومت پر مسلط ’برطانوی تربیت یافتہ بیوروکریسی‘ ہی نہیں بلکہ کچھ دیگر طاقت ورعوامل بھی کارفرما تھے۔اس سلسلے میں متعدد علما کا کردار بھی بڑا اہم تھا، جو محمد اسد کے خلاف محض اس لیے سرگرم عمل تھے کہ ان کی نظر میں وہ ’حنفیت کو جڑ سے اُکھاڑنے‘ کے درپے تھے اور اسی تسلسل میں بریلوی علما پر مشتمل ’جمعیت علمائے پاکستان‘ کی طرف سے نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت اعلیٰ کے منصب سے علیحدگی کے بعد حکومت پنجاب (نواب ممدوٹ کے بعد ۱۹۵۱ء میں ممتاز دولتانہ کے اس منصب پر فائز ہونے تک پنجاب میں گورنر راج قائم رہا) سے محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ اور اس کے ڈائریکٹر (محمداسد)کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑے زوردار انداز سے کیا گیاتھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک سے مضبوط و مستحکم تعلقات کی استواری کی غرض سے محمداسد کا انتخاب خود کیا تھا۔ (دیکھیے: محمد اکرام چغتائی، محمداسد: بندۂ صحرائی، ص ۱۲۳ تا ۱۲۴)
سوال : ایک شخص کسی پر بڑے ظلم ڈھاتا ہے، اس کی حق تلفی کرتا ہے، اسے ہر طریقے سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے باوجود جب یہ ظالم مرجاتا ہے تو مظلوم اس کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، نمازِ جنازہ پڑھتا ہے اور دُعائے مغفرت کرتا ہے۔ کیا یہ صحیح طرزِعمل ہے؟ کیا اس طرح ظالم کے گناہ بخش دیئے جائیں گے؟
جواب :اس کے گناہ بخشے جائیں یا نہ بخشے جائیں، مظلوم کو اپنے طرزِعمل کا اجر ضرور ملے گا کہ اس نے اس حد تک درگزر سے کام لیا ہے۔
سوال : اگر میں کسی مرنے والے کو اپنا حق معاف کردوں تو کیا اسے معاف نہیں کردیا جائے گا اور بخش نہیں دیا جائے گا؟
جواب : اگر کوئی شخص آپ سے قرض لیتا ہے اور واپس کرنے کی خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے حالات کے باعث واپس نہیں کرسکتا اور اس حالت میں وہ مرجاتا ہے اور آپ اس کے ذمے اپنا قرض معاف کر دیتے ہیں، تو خدا بھی اسے معاف کر دے گا۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ وہ واپس کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس کے باوجود جان بوجھ کر واپس نہ کرے اور قرض دبا کر خوش ہو، تو آپ چاہیں معاف کر دیں، خدا کے ہاں وہ اپنے اس طرزِعمل اور ظلم و بددیانتی کی سزا پائے گا۔
سوال :ہمارے قصبے میں ایک صاحب کہتے ہیں کہ سزا اور تعذیب کی یہ سب باتیں محض ڈرانے کے لیے ہیں، خدا سب کو معاف کردے گا، چاہے گناہ کی کوئی شکل بھی ہو؟
جواب :شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا نے صرف جنّت بنائی ہے، دوزخ کا کوئی وجود نہیں ہے؟
سوال :کیا نیند لانے والی گولیاں ’نشے ‘کی تعریف میں نہیں آتیں؟
جواب :’نشہ‘ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آدمی کی عقل ماؤف ہوجائے، بھلے بُرے کی تمیز ختم ہوجائے اور آدمی کو کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے۔ اِس لحاظ سے خواب آور گولیاں ’نشے‘ کی ذیل میں نہیں آتیں۔
سوال :لیکن اگر کسی کو خواب آور گولیاں کھانے کی باقاعدہ عادت ہوجائے؟
جواب : محض عادت، ’نشے‘ کا نام نہیں، اور نہ ایسی عادت بھلے بُرے کی تمیز یا بھلائی بُرائی کے احساس کو ختم کرسکتی ہے۔
سوال : ہمیں تاریخ کا مطالعہ کس طرح کرنا چاہیے؟ کس مقام پر پہنچ کر اسلام کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے اور صرف مسلمانوں کی تاریخ رہ جاتی ہے؟
جواب : اسلام تاریخ کے ہر دور میں موجود رہا ہے اور جب تک دُنیا قائم ہے اس کی تاریخ جاری رہے گی۔ مختلف اَدوار میں فرق ہوسکتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اسلامی تاریخ ختم ہوگئی۔ عہد نبوتؐ و خلافت ِ راشدہؓ کی تاریخ، اسلام کی مکمل ترین شکل کی تاریخ ہے۔ اس وقت دستور بھی اسلام کا تھا، قانون بھی اسلام کے مطابق تھا اور قیادت بھی اسلامی تھی۔ بعد میں دستور کی شکل بدل گئی، لیکن قانون بحیثیت مجموعی اسلام کا ہی جاری رہا۔ قیادت کے باب میں بھی یہ اسلام ہی کا اعجاز ہے کہ دورِ ملوکیت میں مختلف مواقع پر جتنے خداترس اور حق پرست حکمران ہماری تاریخ میں ملتے ہیں، اتنے کسی اور جگہ دکھائی نہیں دیتے۔ پھر بعد کے اَدوار میں بھی اسلام اس صورت میں جلوہ گر رہا ہے کہ اُمّت نے اپنی دینی رہنمائی کے لیے بادشاہوں کی طرف نہیں دیکھا بلکہ ائمۂ کرام کی طرف رجوع کیا ہے، جنھوں نے اِقتدار کی سختیوں اور ناراضیوں کے باوجود اُمّت کے سامنے وہی چیز پیش کی جس کو انھوں نے حق سمجھا ، اور اسی چیز کو قبولِ عام حاصل ہوا۔(۵-اے ذیلدار پارک، اوّل)
دُعا کے بارے میں بھی یہ سمجھ لیجیے کہ دُعا ایک درخواست ہی ہے، جو مالک ِ کائنات سے کی جاتی ہے۔ مالک ہر دُعا کو قبول کرنے کا پابند نہیں ہے، اور نہ وہ اس شرط کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ مالک لازماً اس کو قبول ہی کرے۔
ہمارا کام صرف اس سے التجا کرنا ہے۔ یہ اس کے مالک ہونے اور ہمارے بندہ ہونے کا عین تقاضا ہے۔ وہ قبول کرے تو اس کا کرم ، نہ قبول کرے تو اس کو اختیارہے۔ اگر معمولی انسانی حکومتیں بھی ہرسائل کی ہر درخواست کو قبول نہیں کرتیں اور ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ بہت سی ایسی مصلحتیں ہوتی ہیں، جنھیں سائلین نہیں جانتے، تو آخر کائنات کی حکومت کیسے ہماری ہر درخواست کو قبول کرلینے کی پابند ہوسکتی ہے، اور کائنات کا یہ نظام کیسے چل سکتا ہے اگر ہر دُعا مانگنے والے کی ہر ایک دُعا جُوںکی توں قبول کرلی جائے۔(’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، جنوری ۱۹۶۶ء، جلد۶۴، عدد۵، ص۶۱-۶۲)