جب اقوام متحدہ کی ’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ (CED) نے ۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جنیوا میں اپنا تیسواں اجلاس شروع کیا تو اس نے ایک طاقتور اور فوری نعرے کا جائزہ لینے کے لیے کارروائی شروع کی: ’پہلے متاثرین، فوری کارروائی‘۔ یہ موضوع بہت سا وقت گزرنے کے بعد زیربحث لایا جارہا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں، جبری گمشدگیاں اب بھی خاندانوں کو تباہ اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہیں۔ تاہم، کشمیر کے ہزاروں خاندانوں کے لیے، یہ الفاظ خاص طور پر گہرا مفہوم رکھتے ہیں — کیونکہ ان کے لیے سچائی کی تلاش برسوں نہیں بلکہ عشروں سے جاری ہے۔
’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ آزاد ماہرین کا وہ ادارہ ہے، جو تمام افراد کو جبری گمشدگی سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی کنونشن کے نفاذ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بیس سال قبل منظور کیا تھا۔ دس آزاد ماہرین پر مشتمل یہ کمیٹی، جو اپنی ذاتی حیثیت میں خدمات انجام دیتی ہے، بین الاقوامی برادری کے اس اعتراف کی نمائندگی کرتی ہے کہ جبری گمشدگی، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک گھناؤنا جرم ہے۔
موجودہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے، کمیٹی کے چیئرپرسن پروفیسر جوآن پابلو البان الینکاسٹرو اور ایکواڈور کے ماہر قانون نے دنیا کو یاد دلایا کہ کنونشن پہلے کیوں اور کن حالات میں منظور کیا گیا تھا۔ بیس سال قبل، بین الاقوامی برادری نے غیر مبہم طور پر اس بات کی توثیق کی تھی کہ کسی بھی شخص کو قانون کے تحفظ سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ جبری گمشدگی انسانی حقوق کی سب سے سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کنونشن، متاثرین کے وقار کے انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ و احترام کے لیے اور ایسے جرائم کے دوبارہ وقوع کو روکنے کے لیے ایک ضمانت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
تاہم، چیئرپرسن نے یہ بھی خبردار کیا کہ عالمی منظرنامہ جس میں کنونشن اب کام کر رہا ہے، تیزی سے پریشان کن صورتِ حال پیش کر رہا ہے۔ تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، دنیا کے کئی حصوں میں آمرانہ رجحانات مضبوط ہوئے ہیں، اور انسانی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے حکومتی جابرانہ اقدامات اور موقف زور پکڑ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں، کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں جیسے بین الاقوامی میکانزم ان چند آلات میں سے ہیں جو متاثرین کے لیے انصاف اور احتساب کے حصول کے لیے دستیاب ہیں۔
ہیومن رائٹس ٹریٹیز برانچ، آفس آف دی ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس کے سربراہ پروفیسر اینٹی کورکیاکیوی نے اپنے افتتاحی کلمات میں بتایا کہ کنونشن واحد عالمگیر معاہدہ ہے جو خاص طور پر جبری گمشدگیوں کو روکنے اور اس ظالمانہ عمل کوختم کرنے کے لیے وقف ہے۔ انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ انسانی حقوق کا نظام خود بہت سی ادارہ جاتی اور مالی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جب کہ خلاف ورزیاں دنیا بھر میں جاری ہیں۔
کمیٹی کا فوری کارروائی کا طریقۂ کار متاثرین کے لیے دستیاب ہے۔ اس ’نظامِ کار‘ (Mechanism)کے ذریعے، خاندان اس وقت براہ راست اقوام متحدہ میں مقدمات لا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص لاپتہ ہو جائے، جس سے کمیٹی حکومتوں سے فوری وضاحت کی درخواست کرتی ہے اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیتی ہے۔ ایسے ’نظامِ کار‘ کا وجود یہ ظاہر کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں ماضی کی باقیات نہیں ہیں —، بلکہ وہ دنیا کے کئی خطوں میں روزمرہ کی حقیقت بنی ہوئی ہیں۔
بدقسمتی سے، کشمیر ان خطوں میں شامل ہے جہاں گمشدگی کا درد ہزاروں خاندانوں کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق،۱۹۸۹ء اور ۲۰۱۲ء کے درمیان کشمیر میں کم از کم۸ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ ریاستہائے متحدہ کے محکمہ خارجہ کی’کنٹری رپورٹس آن ہیومن رائٹس پریکٹسز‘ نے بھی اسے نوٹ کیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ۱۹۸۹ء اور ۲۰۰۶ء کے درمیان جموں و کشمیر میں۸ ہزار سے ۱۰ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ پیچھے رہ جانے والے خاندانوں، — ماؤں، باپوں، شریکِ حیات اور بچوں — کے لیے غیر یقینی صورتِ حال زندگی بھر کا عذاب بن گئی ہے۔
جبری گمشدگی کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک یہی غیر یقینی صورتِ حال ہے۔ اقوام متحدہ کے ’ورکنگ گروپ آن انفورسڈ یا انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ نے بارہا زور دیا ہے کہ گمشدگی اس وقت تک انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہے جب تک کہ لاپتہ شخص کی قسمت یا ٹھکانہ نامعلوم رہے۔ دوسرے لفظوں میں، مصیبت خود گمشدگی کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، یہ روز بروز اور سال بہ سال جاری رہتی ہے۔
کشمیر میں، لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اکثر جوابات کی تلاش میں زبردست قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ’ (AFSPA) جیسے قوانین سکیورٹی فورسز کو وسیع استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس سے نئی دہلی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر سویلین عدالتوں میں مقدمہ چلانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے دلیل دی ہے کہ ایسی دفعات استثنیٰ کی فضا پیدا کرتی ہیں جو بامعنی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔
سول سوسائٹی گروپس اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں نے بارہا خطے میں من مانی حراست، تشدد، اور گمشدگیوں کے بارے میں خدشات اٹھائے ہیں۔ ’جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی‘ (JKCCS) اور ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (APDP) کی ایک مشترکہ رپورٹ نے کئی عشروں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد اور بدسلوکی کو بیان کرنے والی سیکڑوں شہادتوں کو دستاویزی شکل دی۔ دیگر تحقیقات نے غیر نشان زدہ اور اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا ہے، جن میں سے کچھ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں لاپتہ ہونے والوں کی باقیات موجود ہیں۔
’آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس‘ (او ایچ سی ایچ آر) نے بھی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے قابل اعتماد معلومات اور کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی فوری ضرورت کو نوٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ احتساب کا فقدان انصاف کی راہ میں سب سے سنگین رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
کشمیر میں مقامی انسانی حقوق کے محافظوں کا کام ان زیادتیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مرکزی رہا ہے۔ سب سے نمایاں شخصیات میں خرّم پرویز شامل ہیں، جو کشمیری انسانی حقوق کے ایک کارکن، جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر اور فلپائن میں قائم ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ کے چیئرمین ہیں۔ پرویز اور ان کے ساتھیوں نے The Structure of Voilence کے عنوان سے ۷۹۹صفحات کی ایک تاریخی رپورٹ تیار کرنے میں مدد کی، جس میں خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوتوں کو دستاویزی شکل دی گئی۔ رپورٹ کی ہارڈ کاپیاں متعدد بین الاقوامی اداروں کو فراہم کیں، بشمول آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس اور آفس آف دی یو این سیکرٹری جنرل۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ خرم پرویز خود بعد میں بین الاقوامی تشویش کا موضوع بن گئے۔ نومبر ۲۰۲۱ء میں، انھیں انڈیا کے غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جو افراد کو بغیر رسمی الزامات کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کی گرفتاری کو انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی قانون سازی کے غلط استعمال کی ایک اور مثال قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کے محافظین، پروفیسر میری لولر نے کہا، خرم پرویز کسی بھی حوالے سے دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے رضاکار اور محافظ ہیں۔ خرم کو ۲۰۲۲ء میں امریکا میں قائم ٹائم میگزین کی جانب سے دنیا کے۱۰۰ بااثر ترین افراد میں سے ایک قرار دیا گیا۔
پروینہ آہنگر، کشمیر میں قائم ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (اے پی ڈی پی) کی بانی، جنھیں کشمیر میں ’آئرن لیڈی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو کشمیر میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کے کام، بشمول ان کے بیٹے کو بین الاقوامی شناخت کے لیے ناروے کا رافٹو پرائز دیا گیا۔
جیسا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے، ضرورت سے زیادہ حفاظتی اقدامات جو انسانی وقار کی خلاف ورزی کرتے ہیں، بالآخر نفرت اور تقسیم کو گہرا کرتے ہیں بجائے اس کے کہ انھیں حل کریں۔
یہی وجہ ہے کہ اس سال کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں کی طرف سے اختیار کردہ موضوع — ’پہلے متاثرین ،فوری کارروائی‘ — بہت اہم ہے۔
کشمیر میں لاپتہ افراد کی ماؤں کے لیے جو عشروں سے اپنے لاپتہ بیٹوں کی تصاویر تھامے خاموشی سے مارچ کر رہی ہیں، ان کا مطالبہ دردناک حد تک سادہ ہے: ’سچائی‘۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ کیا ہوا؟ وہ مستقل شک کے ساتھ جینے کے بجائے یقین کے ساتھ سوگ منانے کا حق چاہتی ہیں۔
بین الاقوامی برادری جبری گمشدگی کے خلاف کنونشن کا احترام کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی،جب کہ ان حل طلب مقدمات کو نظر انداز کر رہی ہے جو کشمیر کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ آزادانہ تحقیقات، شفافیت، اور احتساب کسی بھی ریاست کے خلاف دشمنی کے اقدامات نہیں ہیں، وہ انصاف اور مفاہمت کی طرف ضروری اقدامات ہیں۔
کشمیر میں اب بھی انتظار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے، پیغام واضح ہونا چاہیے: ان کی آوازیں اہمیت رکھتی ہیں، ان کے دُکھ کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، اور سچائی کی تلاش کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ (ترجمہ: س م خ)
_______________
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد، کے پندرہ سالہ دَورِ حکومت میںبنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی معاشرے کی جو درگت بنی، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کسی نے اُس دَور کی حکومتی سرگرمی ملاحظہ کرنی ہو تو آج کی بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے معروف رکن، بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، کی شائع ہونے والی تازہ کتاب اندھیری جیل کا قیدی کا مطالعہ کرلے، سب چانن ہو جائے گا۔
حسینہ واجد کے متنوع مظالم، استحصالی قوانین اور انڈیا کی جانب بے تحاشہ جھکاؤ سے بغاوت کرتے ہُوئے بنگلہ دیشی طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے نے ’عوامی لیگ‘ اور حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ یہ غیر معمولی واقعہ ۵؍اگست۲۰۲۴ء کو وقوع پذیر ہُوا۔ تختہ اُلٹنے کی تحریک میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ۱۴۰۰ سے زیادہ بنگلہ دیشی نوجوان قتل کر دیے گئے۔ اِن سانحات کی تمام ذمہ داری شیخ حسینہ واجد اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی گئی۔
حکومت کے خاتمے پر حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر اپنے محسن ملک، انڈیا، میں پناہ گزیں ہو گئیں اور اب تک وہیں ہیں۔ متنوع اور سنگین الزامات کے تحت بنگلہ دیشی عدالت حسینہ واجد کو سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔بنگلہ دیش میں پروفیسر محمد یونس کی سابقہ عبوری حکومت نے متعدد بار انڈیا سے مطالبہ کیا تھا کہ حسینہ واجد کو ہمارے حوالے کیا جائے، مگر مودی حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد نوبیل انعام یافتہ معروف بنگلہ دیشی راہ نما پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت قائم کی گئی۔ اُن کی۱۸ماہ پر پھیلی حکومت کے دوران میں انڈیا و بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات انتہائی نچلے درجے پر دیکھے گئے۔ دوسری طرف اِسی عرصے میں پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات نئی بلندیوں پر پائے گئے۔ اِسی دوران کئی بنگلہ دیشی عسکری شخصیات نے بھی پاکستان کے دَورے کیے۔ پاک، بنگلہ دیش سفارتی، تجارتی، تعلیمی، صحافتی اور ثقافتی تعلقات میں خاصا اضافہ ہُوا۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ مناظر خاصے تکلیف دِہ تھے، مگر اُس نے خاموش رہ کر بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات کو بالکل ہی منقطع نہ ہونے دیا۔
کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے انڈین وزیر خارجہ، جے شنکر، ڈھاکہ میں اُس وقت پُر جوش انداز میں دیکھے گئے، جب سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیاء کا ۳۱دسمبر ۲۰۲۵ء کو جنازہ اُٹھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جے شنکر کی مذکورہ شرکت اِس امر کا اظہار تھا کہ انڈیا کسی بھی طور بنگلہ دیش کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہے کہ وہ پکے ہُوئے پھل کی طرح پاکستان کی جھولی میں جا گرے، جب کہ پاکستان کے عوامی حلقوں کا خیال تھا کہ پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران پاک، بنگلہ دیش تعلقات میں جو شان دار اُبھار آیا ہے، یہ برقرار رہے گا۔ ایسا مگر ہو نہیں سکا ہے۔
فروری۲۰۲۶ء کو بنگلہ دیش میں منعقد عام انتخابات کے بعد جیسے ہی ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (BNP) کی حکومت برسرِاقتدار آئی اور جناب طارق رحمٰن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم منتخب ہُوئے، تو انڈیا اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں پہلے کی طرح، بلکہ تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔
یاد رہے یہ انڈین وزیر اعظم، نریندر مودی، ہی تھے جنھوں نے طارق رحمٰن کی پارٹی کی کامیابی پر پاکستان سے پہلے انھیں فتح کی مبارکباد دی تھی، اور طارق رحمٰن نے فوری طور پر شکریے کا خط لکھا تھا۔ طارق رحمٰن کی حکومت بنتے ہی بنگلہ دیش کے نئے وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن نے سب سے پہلے انڈیا کادو روزہ دَورہ کیا ہے۔ یہ دَورہ ۸؍اپریل ۲۰۲۶ء کو عمل میں آیا۔ انھوں نے اِس دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور مودی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، اُجیت ڈووَل (جو پاکستان دشمنی میں خاصا معروف و مشہور نام ہے)، سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
انڈین میڈیا بڑی خوشی اور مسرت سے اعتراف کررہا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیشی و انڈین حکومت میں عدم اعتماد کے جو بحران دَر آئے تھے، اب طارق حکومت کے آتے ہی اِن بحرانوں کا خاتمہ ہورہا ہے اور تعلقات میں مضبوطی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن، نے اسی دورے میں انڈین وزیر پٹرولیم سے جو تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں، اُن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مارچ میں انڈیا نے طارق حکومت کو، دو اقساط میں، ۱۵ہزار ٹن پٹرول و ڈیزل فراہم کیا، اور اپریل۲۰۲۶ء میں انڈیا نے مزید ۴۰ہزار ٹن ڈیزل بنگلہ دیش کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کے دوران پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش نے انڈین اعانت کا سہارا لیا۔
ڈھاکہ سے شائع ہونے والے معروف انگریزی اخبار دی ڈیلی اسٹار نے (۹؍اپریل ۲۰۲۶ء) خبر دی ہے کہ ’’بنگلہ دیش ریلویز ۲۰۰ کی تعداد میں انڈیا سے بنے بنائے ریل ڈبے خرید رہی ہے‘‘۔ بنگلہ دیش کے وزیر ریلوے، شیخ ربیع العالم نے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میںاِس کا باقاعدہ اعلان کیا۔ انڈیا یہ آرڈر دسمبر۲۰۲۷ء تک مکمل کرے گا۔اِس بھاری سودے کے اخراجات ’یورپین انویسٹمنٹ بینک‘ برداشت کرے گا، اور مذکورہ بینک نے یہ رقم بنگلہ دیش کو قرض میں دی ہے۔
یوں بھاری مالی فائدہ انڈیا کو پہنچے گا۔ اِسی طرح کرکٹ کے میدان میں انڈیا و بنگلہ دیش سے تعلقات میں جو دراڑ پڑ گئی تھی، اُسے بھی درست کیا جارہا ہے۔ اِس کے لیے بھی طارق حکومت نے ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ تعلقات کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے انڈین کرکٹ بورڈ کو خط لکھ دیا ہے۔ اِس خط میںبی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشنز، نظم العابدین فہیم، نے اِس خواہش کا اظہار کیا ہے: ’’ستمبر۲۰۲۶ء میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم شیڈول کے مطابق انڈیا میں کھیلنے کے لیے آنا چاہتی ہے‘‘۔ یوں قربتوں کا ایک اور موقع پیدا ہوا ہے۔
مراد یہ کہ بنگلہ دیش چاہتے ہُوئے بھی انڈیا سے کامل نجات حاصل نہیں کر سکتا کہ متعدد شعبوں میں بنگلہ دیش ہر پہلو سے انڈیا پر انحصار کرتا ہے۔ دریائے ’ٹیسٹا‘ کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر بنگلہ دیش کی انڈیا سے ناراضی نمایاں ہے۔ اسی طرح انڈیا میں بنگلہ دیشی شہریوں اور بنگالی زبان بولنے والوں سے جو غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے، اِس نسبت سے بھی بنگلہ دیشی عوام نئی دہلی سے خاصے ناخوش ہیں۔
انڈین ’بارڈر سکیورٹی فورسز ‘(BSF)کے مسلح اہل کار آئے روز بنگلہ دیش اورانڈیا کی مشترکہ سرحد پر بنگلہ دیشی شہریوں کو بے جا طور پر قتل کر ڈالتے ہیں اور بنگلہ دیش محض احتجاج ہی کرتا رہ جاتا ہے۔
۱۱؍اپریل۲۰۲۶ء کو تقریباً تمام انڈین اخبارات نے یہ خوفناک خبر شائع کی: ’’انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل نے انڈیا، بنگلہ دیش سرحد پر تعینات اپنے جملہ ماتحتوں کو حکم دیا ہے کہ اِس امر کا جائزہ لیں کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی مشترکہ سرحد کے درمیان بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں اگر زہریلے سانپ اور خونخوار مگر مچھ چھوڑ دیے جائیں، تو کیا اِس اقدام سے بنگلہ دیشیوں کو انڈیا میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے؟‘‘اِس پر ایک انڈین صحافی سنجیو کرشن سُوڈ نے لکھا کہ ’’سوال یہ ہے کہ اِس مہلک زہریلی مخلوق کو انڈین شہریوں کو کاٹنے سے کیسے منع کیا جائے گا؟‘‘
تیونس کی ایک عدالت نے ۱۴؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو النہضہ تحریک تیونس کے سربراہ ۸۴سالہ راشد الغنوشی کو ’رمضان سازش‘ کے نام سے مشہور مقدمہ میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نجی ریڈیو اسٹیشن ’موزائیک‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے کرمنل چیمبر نے نہضہ کے رہنماؤں یوسف النوری اور احمد المشرقی، جو تمام زیرحراست ہیں، کو بھی ۲۰، ۲۰سال قید کی سزا کا فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے اسی مقدمے میں آزادانہ حیثیت سے مقدمہ لڑنے والے ملزمان کو تین سال قید کی سزا بھی سنائی ہے، جن میں تحریک کے رہنما محمد القومانی، بلقاسم حسن اور دیگر ملزمان شامل ہیں۔
راشد غنوشی سمیت درجنوں افراد کو ’سازش ۲‘ مقدمے میں بھی سخت سزائیں دی گئی ہیں۔ جہاں تک ملک سے باہر موجود ملزمان کا تعلق ہے، ان میں سابق وزیر خارجہ رفیق بوشلاکہ اور اپوزیشن رکن پارلیمنٹ ماہر زید شامل ہیں۔۱۲ ملزمان پر ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ریاست کی ہیئت کو بدلنے کی غرض سے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
’رمضان سازش کیس‘ کی کہانی فروری ۲۰۲۳ء سے جوڑی جاتی ہے، جب کئی سیاسی مخالفین، وکلا، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور کاروباری شخصیات کو ’امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے اور ریاست کی سلامتی کو کمزور کرنے‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔۱۷؍اپریل ۲۰۲۳ء کو سکیورٹی فورسز نے سابق اسپیکر راشد الغنوشی کے گھر پر چھاپہ مارا اور انھیں گرفتار کر لیا اور ابتدائی عدالت نے ’افراتفری پھیلانے‘کے الزام میں انھیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ میڈیا میں اس مقدمے کو ’رمضان سازش‘ کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ راشد الغنوشی نے ۲۰۲۳ء میں رمضان کے دوران ’نیشنل سالویشن فرنٹ‘ کی جانب سے سیاسی قیدیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ ایک تقریب میں بیان دیا تھا۔
راشد الغنوشی کی دفاعی ٹیم نے واضح کیا کہ تحریکِ نہضۃ کے سربراہ نے اپنی گرفتاری کے بعد سے عدالت کی تمام کارروائیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ انھوں نے عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ’سیاسی انتقام‘ قرار دیا، جس کا مقصد اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کے حق کو نشانہ بنانا ہے۔ دفاعی ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان کے اس احتجاج میں جو کچھ کہا گیا وہ ’مشترکہ بقائے باہمی اور تفرقہ بازی کے خاتمے کی دعوت‘ تھی، جس میں راشد الغنوشی نے مطالبہ کیا تھا کہ ’’تیونس تمام تیونسیوں کے لیے ہونا چاہیے‘‘۔
اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سرتاپا ’سیاسی نوعیت‘ کے ہیں اور سیاسی مخالفین کو ختم کرنے اور صدر قیس سعید کے ناقدین کی آواز دبانے کے لیے ٹھونسے گئے ہیں۔
سابقہ فیصلے اور سزائیں
راشد الغنوشی کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی کئی فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جن میں ’جاسوسی‘ کے مقدمے میں ۲۲ سال قید، ’غیر ملکی فنڈنگ‘ کے مقدمے میں تین سال، اور ’ریاستی سلامتی کے خلاف سازش‘ (کیس ۲) میں ۱۴ سال قید شامل ہے۔ اس طرح ان کے خلاف اب تک سنائی گئی کُل سزائوں کی مدت ۷۰ سال سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس سے قبل تحریکِ نہضہ کے سربراہ راشد غنوشی کو ۱۴ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مگر تیونس کی اپیل کورٹ نے حکومت کی اپیل پر سزا ۱۴ سال سے بڑھا کر ۲۰ سال کر دی ہے۔
صدر قیس سعید کے دفتر کی سابق ڈائریکٹر نادیہ عکاشہ، راشد غنوشی کے داماد اور سابق وزیرخارجہ رفیق عبدالسلام کو غیر حاضری میں ۳۵ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر ’ریاست کی اندرونی سلامتی پر حملہ کرنے کی سازش‘ اور ’ایک تنظیم اور اتحاد بنانے‘ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یاد رہے ۲۷فروری ۲۰۲۶ء کو راشد غنوشی کو ایک اور مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح مالی بدعنوانی کی ایک خصوصی عدالت نے تین سال قید اور تحریک پر ۱۵ ہزار ڈالر جرمانے کا فیصلہ بھی سنا رکھا ہے۔
تحریکِ نہضت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خانہ زاد مقدمات منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور عدلیہ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انھیں روکا جائے جو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو مجروح کرتے ہیں۔
اس سے قبل، ابتدائی عدالت نے ۵فروری کو اس مقدمے میں ملوث ۴۱ سیاست دانوں، صحافیوں، بلاگرز اور کاروباری شخصیات کو ۵ سے ۵۴ سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان میں بھی راشد الغنوشی شامل ہیں۔ملزمان نے اپنے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔
۲۵ جولائی ۲۰۲۱ء کو قیس سعید نے غیر معمولی اقدامات کا آغاز کیا، جس میں پارلیمنٹ کی تحلیل، صدارتی احکامات کے ذریعے قانون سازی، نئے آئین کی منظوری کے لیے ریفرنڈم، اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا انعقاد شامل تھا۔
صدرقیس سعید کا کہنا ہے کہ میرے اقدامات ’ریاست کو لاحق خطرے سے بچائو کے لیے ہیں۔ تاہم ۲۰۱۱ء کا انقلاب درست تھا‘‘۔ جس میں صدر زین العابدین بن علی کا تختہ اُلٹا گیا تھا۔
صدر کی جانب سے تیونس میں غیر معمولی اقدامات کو تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود تیونسی حلقوں میں تقسیم برقرار ہے۔ صدر کے مخالفین کا خیال ہے کہ ملک استبداد اور آزادیوں پر پابندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں، شہری آزادیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے، جس میں جیلوں کا تمام سیاسی مکاتب فکر کے سیاسی قیدیوں سے بھر جانا بھی شامل ہے۔ دوسری طرف قیس سعید کے حامی ان کو قومی خودمختاری کی علامت اور قومی فیصلوں کی بحالی کا علَم بردار سمجھتے ہیں۔
عدالتی فیصلوں کے اثرات
راشد الغنوشی کو سنائی جانے والی سزائوں پر مبنی فیصلے ان کی زندگی میں قید و بند اور جلاوطنی کے اس طویل سلسلے کا تسلسل ہیں، جو صدر حبیب بورقیبہ کے دور سے شروع ہوا اور پھر معزول صدر زین العابدین بن علی کے دور میں بھی جاری رہا۔تیونسی عدلیہ کے یہ احکامات اب صرف النہضہ تحریک تک محدود نہیں رہے، بلکہ ۱۴؍ اپریل کو ایک جج نے انسدادِ بدعنوانی اتھارٹی کے سابق سربراہ شوقی طبیب اور وکلا کی یونین کے سابق صدر کو بھی حراستی مرکز بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح’الحوار التونسی‘ چینل کے مالک سامی الفہری کو مالیاتی مقدمات میں پانچ سال قید، اور وکیل و میڈیا پرسن سنیہ الدہمانی کو میڈیا بیانات کی وجہ سے ۱۸ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
تیونس کے صحافیوں کی قومی یونین نے کہا: ’’یہ فیصلہ آزادیِ اظہار کے معاملات سے نمٹنے میں ایک خطرناک عدالتی انحراف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قسم کے مقدمات اس حکم نامے کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں جو صدر قیس سعید نے ۲۰۲۲ء میں مواصلاتی نظام اور معلومات سے متعلق جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے جاری کیا تھا، جو کئی صحافیوں، کارکنوں اور وکلا کی گرفتاری کا سبب بنا ہے۔یاد رہے گذشتہ ماہ ایک اور عدالت نے صحافی غسان بن خلیفہ کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جو آزادیِ اظہار پر منظم ریاستی حملہ ہے‘‘۔
یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب ۲۰۲۴ء سے زیرِ حراست معروف میڈیا شخصیات مراد الزغیدی اوربرہان بسیس کے وکلا نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کو نقصان پہنچانے والے فرامین کے ’سیاسی استعمال سے گریز‘ کیا جائے، جن کے تحت سیکڑوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین نے تیونس میں عدالتی عمل کے طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ عدل کے منافی ہے۔اسی طرح ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی عالمی تنظیموں نے بھی آزادیوں میں کمی اور ناقدین کے خلاف عدلیہ کے استعمال پر بات کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک فیصلے نے تیونس کے منظرنامے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے، جس میں راشد غنوشی کو ایک ’ملزم‘ سے بین الاقوامی سطح پر ’مظلوم‘ قرار دیا گیا ہے۔ آمرمطلق صدر قیس سعید اب سوالات کی زد میں ہیں۔
_______________
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
میرے پیارے والد شیخ راشد الغنوشی کے نام!
جبر کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ان کی گرفتاری کی تیسری برسی کے موقعے پر اُس شخصیت کے نام جس نے مجھے سکھایا کہ آزادی صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے ایک عزم، قربانی، نظم و ضبط، فکر کی بنیاد اور سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔
والد ِمحترم، آج آپ کی گرفتاری کو تین سال گزر چکے ہیں___ جدائی، درد اور انتظار کے تین سال___!
اور ساتھ ہی استقامت، ایمان، اُمید اور اللہ کے عدل و حکمت پر پختہ یقین کے بھی تین سال۔
ہم ہر روز آپ کو یاد کرتے ہیں..... ہم آپ کی بلند آواز کو یاد کرتے ہیں۔ جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے تھے یا ہمیں نماز کی جماعت کراتے تھے۔ ہمیں نماز کے بعد آپ کی نصیحتوں اور ذکر و اذکار کی وہ محفلیں یاد آتی ہیں جن کو آپ تھکاوٹ کے باوجود بڑی توانائی سے جاری رکھتے تھے..... ہمیں ناشتے کی میز پر آپ کا بیٹھنا یاد ہے جب آپ اخبار پڑھتے تھے اور پھر اپنے طے شدہ پروگراموں اور مصروفیات کے لیے تیزی سے نکل جاتے تھے..... میری مراد تمام اہل وطن کے لیے آزادی کے پروگرام ہیں..... ہمیں آپ کے اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ کھیل کود اور ان کے پیچھے بھاگنا اور بچوں کے قہقہوں کی آوازیں یاد ہیں جو پورے گھر کے ماحول کو خوشی سے بھردیتی تھیں۔ لیکن اب زندگی کی بہت سی یومیہ تفصیلات آپ کی غیر موجودگی میں تکلیف دہ یاد بن گئی ہیں۔
والد محترم، آپ نے جیل سے باہر اپنی زندگی ایک مُربی، والد، لیڈر اور ایک ایسے انسان کے طور پر گزاری جو اپنے اور اپنےاصولوں کے ساتھ مخلص رہا۔ آپ نے کبھی اپنی سوچ یا رائے ہم پر مسلط نہیں کی، بلکہ آپ نے دلیل اور منطق کے ذریعے قائل کرنے پر ہمیشہ عمل کیا، اور یہی بتایا کہ نرمی، مہربانی اور حُسنِ اخلاق ہی کسی فکر کے بہترین سفیر ہوتے ہیں، چاہے وہ اولاد کے لیے ہو یا اہل وطن کے لیے۔
آپ نے ہمیں سکھایا کہ سیاست اور اقتدار سے پہلےمرکزیت ’اخلاق‘ کو حاصل ہے، اورجمہوریت محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، اور یہ ذمہ داری تمام اہل وطن کے لیے ہے،کسی ایک گروہ کے لیے نہیں۔
آج آپ اپنی کال کوٹھڑی میں ہیں، لیکن اس جبری دُوری کے باوجود آج بھی آپ ہمیں سکھا رہے ہیں..... پہلے سے کہیں زیادہ۔ آپ ہمیشہ سب کو یہی دعوت دیتے رہے کہ اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے کشادہ کریں اور کبھی کسی سے انتقام لینے کی کوشش نہ کریں۔ آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ وطن کی کشتی سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے بشرطیکہ سب اس کی حفاظت کریں۔
تاہم، اس کے باوجود، انھوں نے آپ کو جھوٹ اور بہتان کی بنیاد پر اور حقائق کو تلپٹ کرتے ہوئے گرفتار کر لیا،اور حکومت نے یہ مضحکہ خیز الزام لگایا کہ آپ تفرقہ بازی اور بغاوت پر لوگوں کو اُکسا رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین، بدترین اور حقائق کے منافی الزام ہے۔
فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ۰ۭ اِنَّمَا تَقْضِيْ ہٰذِہِ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۷۲ۭ (طٰـہٰ۲۰:۷۲) تُو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے، تو صرف اسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
یہ مبارک آیت آپ پر ظلم کرنے والے حاکم کے لیے آپ کا جواب ہے۔ ظلم کتنا ہی بڑھ جائے اور سرکشی کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو جائے، اللہ کا عدل مہلت تو دیتا ہے مگر بھولتا نہیں، اور اس کی رحمت زیادہ وسیع اور غالب ہے۔
میرے پیارے والد محترم، انھوں نے آپ کو اس لیے قید کیا کیونکہ آپ نے ظلم کو مسترد کیا، اور آپ نے ظلم اور بغاوت کے خلاف اس وقت ’نہیں‘ کہا جب بہت سے لوگ خاموشی کا راستہ منتخب کرکے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ لیکن اب آپ تنہا نہیں ہیں۔ ہماری ریاست آج واقعی ’انصاف پسند‘ ثابت ہوئی ہے، کیونکہ آج بغاوت کے الزام میں آپ کے ساتھ تیونس کی تمام جماعتوں کے سربراہان قید ہیں۔ واہ، کیا کارنامہ ہے! اور کیسی کامیابی ہے ! مگر افسوس کہ آج اہلِ تیونس تنہا ہوکر رہ گئے ہیں، ان کے مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
والد ِ محترم، آپ عمر کے نویں عشرے میں ہیں، مگر سزائوں کی مدت آپ کی مجموعی زندگی سے زیادہ ہے۔ ان ظالمانہ فیصلوں میں عشروں کی قید کا اعلان کیا جارہا ہے۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے، آپ کی روح اب بھی زندگی اور توانائی سے بھرپور ہے، کیونکہ آپ کے پاس وہ کچھ ہے جو ان کے پاس نہیں۔ آپ کے پاس ایمان ہے، آپ کے پاس مقصد ہے، اور آپ کے پاس یقین ہے۔
وہ جیلوں کے مالک ہیں.....اور آپ اپنے الفاظ، حکمت اور اللہ اور اس کے قوانین پر اپنے پختہ یقین کے مالک ہیں۔وہ ایک لمحے کے مالک ہیں جو تاریخ میں مختصر ہو گا، اور آپ تاریخ، شعور اور ایک ایسی یاد کے مالک ہیں جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔
میرے پیارے ابّا جان!ہم جانتے ہیں اور پوری دنیا بھی جانتی ہے کہ یہ مقدمات سیاسی ہیں، اور وہ عدلیہ جسے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ عدلیہ نہیں رہی..... بلکہ وہ ظلم اور گمراہی کا ہتھیار اور درندگی کی مشین بن چکی ہے۔
آج تیونس میں جو کچھ ہو رہا ہے..... وہ صرف لوگوں پر ظلم نہیں ہے..... بلکہ یہ اس خواب کو چکنا چور کرنے کی کوشش ہے کہ ہم ایک ایسے وطن تیونس میں رہیں جس میں ہر شہری جبرو استبداد کے بغیر آزادی و عزّت کے ساتھ جی سکے۔
محترم ابّا جان، خواب مرتے نہیں ہیں، آپ اس بات کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اور آپ یقیناً یہ بھی جانتے ہیں کہ جھوٹ کی رسی، جس کے ذریعے آزاد لوگوں پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں، بہت کمزور ہوتی ہے۔اور یہ کہ ظلم اندھیرا ہے، لیکن اس کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کے بعد سورج ہمیشہ طلوع ہوکر رہتا ہے۔
اِنَّ مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ۰ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ۸۱ (هود۱۱:۸۱)
بے شک ان کے (عذاب کا) وعدہ صبح کا ہے___ کیا صبح قریب نہیں ہے؟
آپ کے لیے سلامتی کی دعا اور ظالمانہ قید میں موجود تمام آزاد لوگوں کے لیے بھی !
آپ کی بیٹی تسنیم
_______________
برسوں پر محیط ظالم ڈکٹیٹر حسینہ واجد کے آمرانہ دور میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکانے، ہزاروں نوجوانوں کی گم شدگی، ہزاروں کارکنوں کو برسوں جیل میں رکھنے اور ان پر شدید ترین مظالم ڈھانے کے باوجود آج کل جماعت اسلامی اپنی تاریخ میں مقبولیت کی بلندترین سطح پر ہے۔ اس کے لیڈروں اور کارکنوں کی ان قربانیوں اور صبر و استقامت کے نتائج اب ملک بھر میں جماعت کی ہر سطح پر پذیرائی اور مقبولیت کی صورت میں نکل رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش میں اس مقام پر لانے میں یوں تو وہاں کی مجموعی قیادت کی سوچ اور پالیسیوں کا دخل ہے، لیکن اگر کسی ایک قائد اور راہ نما کا نام لیا جائے تو وہ پروفیسر غلام اعظم ہیں، جو ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر تھے۔ یہ انھی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس جماعت کو بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ۱۹۷۱ء کے دوران پاکستان کو انڈیا کی سازش سے بچانے اور ملک کو دو ٹکڑے ہونے سے بچانے کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی وجہ سے غداری کے الزام سے خود کو بری کریں اور اس کو قومی دھارے کی سیاست میں دوبارہ فعال کریں۔ انھوں نے چند سال جلاوطن رہ کر اور پھر واپس جا کر اپنی دور اندیشی اور تدبر سے جماعت اور جمعیت کو ایک جدید اور قابل عمل نظام دیا، جس نے نہ صرف جماعت کو مضبوط نظریاتی بنیادوں پر کھڑا کردیا بلکہ ان دونوں کو نظم کے ایک بندھن میں پرو دیا۔ اس طرح جماعت کو نوجوانوں خاص طور پر تعلیمی اداروں ( یونی ورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں اور دینی مدارس ) کے طلبہ اور طالبات کی افرادی قوت بھی میسر آ گئی۔
یہ نظام کیا ہے؟ اور اس کو کس طرح پروفیسر غلام اعظم نے رائج کیا؟ اس کا جائزہ پیش ہے:
مغربی پاکستانی اشرافیہ ( سیاسی، خاکی اور نوکر شاہی) کی اپنی سیاسی بے بصیرتی اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس کی وجہ سے ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہوگیا اور سقوطِ ڈھاکہ ہوگیا۔اس وقت پروفیسر غلام اعظم اور سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان مولانا عبد الرحیم جماعت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کےلیے لاہور میں موجود تھے اور انھوں نے لاہور میں ملک کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔وہ اس سے قبل ۲۱نومبر ۱۹۷۱ء کو مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) جارہے تھے کہ ان کا طیارہ کولمبو سے واپس مغربی پاکستان بھیج دیاگیا۔ اس کے بعد وہ ۱۹۷۴ء تک پاکستان میں رہے۔ یہ دونوں رہنما کچھ دنوں بعد کراچی آگئے۔
پروفیسر غلام اعظم اور مولانا عبد الرحیم کو پاکستان سے الگ ہونے کا بڑا رنج و ملال تھا اور وہ اکثر اس سانحہ کے اسباب و علل پر بھی اظہار خیال کرتے اور پاکستان کی حکومت کی غلط پالیسیوں کو بھی زیر بحث لاتے تھے۔تھوڑے عرصے بعد یہ دونوں بزرگ کراچی سے دوبئی چلے گئے۔
اس کے بعد پروفیسر صاحب دوبئی اور لندن میں قیام پذیر رہے۔ پھر ۱۸؍اپریل ۱۹۷۳ء کو مجیب حکومت نے اُن کی شہریت منسوخ کردی۔ اس کے باوجود لاہور، کراچی ، دوبئی اور لندن میں جلا وطنی کا کچھ عرصہ گزارا۔ پھر خبر ملی کہ وہ اگست ۱۹۷۸ء کے دوسرے ہفتے واپس ڈھاکہ چلے گئے ہیں اور اپنی شہریت کی بحالی کےلیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔لیکن تحریک اسلامی کی غیر علانیہ قیادت سنبھال لی۔وہ جماعت کے رہبر تھے۔ اس طرح پہلے مولانا عباس خاں اور پھر مطیع الرحمٰن نظامی امیر جماعت بنے۔
ہماری ان سے ۱۹۸۴ء کو اس وقت ملاقات ہوئی جب روزنامہ جنگ کی طرف سے ہمیں اور اخبار جہاں کے ایڈیٹر نثار احمد زبیری کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ( Organization of Islamic Countries) کے وزرائے خارجہ کے تین روزہ اجلاس کی کوریج کےلیے ڈھاکہ بھیجا گیا۔اس وقت بنگلہ دیش کے قیام کو صرف ۱۲ سال ہی گزرے تھے۔کانفرنس تو تین دن میں ختم ہوگئی اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک سے آئے ہوئے صحافی واپس چلے گے لیکن ہم تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے تین صحافی ،راقم ، نثار زبیری اور لندن سے نکلنے والے انگریزی ماہ نامہ Arabia کے نمائندہ خصوصی اسلم عبداللہ ( اب لاس اینجلس، امریکا کے ایک بڑے دینی اسکالر و امام) مزید ایک ہفتے کےلیے وہیں رُک گئے۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب سے آخری بار ملاقات ۲۰۰۳ء میں کراچی میں ہوئی، جب وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد پہلی بار پاکستان آئے اور انھوں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کے بعد کراچی کا بھی دورہ کیا، اور ایک بڑے استقبالیہ سے خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر ان سے کراچی کے قیام اور ڈھاکہ میں ملاقاتوں کا تذکرہ رہا۔
ہماری ان سے بھر پور، متاثر کن اور یاد گار ملاقات ۱۹۸۴ء کی ہے، جس میں ان کو قریب سے دیکھنے، ان کے تحریک اسلامی کے بارے میں وژن اور اس کی نئے ملک بنگلہ دیش کے حالات کے مطابق تنظیم نو کی حکمت عملی اور ان کی دور اندیشانہ سوچ کو سمجھنے کا موقع ملا۔
یہاں اختصار کے ساتھ ان اقدامات کا ذکر کریں گے، جو پروفیسر غلام اعظم صاحب نے جماعت اور جمعیت کی قیادت کے باہمی مشورے کے بعد جماعت کے نظم میں کیے تھے اور جن کی وجہ سے جماعت اسلامی ایک بدترین آمرانہ دور دیکھنے اور اپنے قائدین کی پھانسیوں اور ہزاروں لیڈروں اور کارکنوں کی قید وبند کی صعوبتوں کے باوجود اس وقت بنگلہ دیش کی ایک بڑی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔
پروفیسر غلام اعظم اپنے جھونپڑے نما گھر کے ایک چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اپنے سیاسی اور تحریکی سفر کی یہ داستان سنارہے تھے۔اس رُوداد میں وہ مرحلے سامنے آئے، جن کے تحت انھوں نے اپنی دوراندیشی اور مستقبل بینی سے جماعت اسلامی اور جمعیت کے بالکل درہم برہم تنظیمی ڈھانچے کے تنکے تنکے کو جمع کیا اور نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کو ایک نئی شکل میں منظم کیا۔
بنگلہ دیش واپس جاتے ہی سب سے پہلے انھوں نے غداری کے اس الزام کا دفاع کیا کہ جب علاحدگی کی تحریک چل رہی تھی، اس وقت یہ صوبہ مشرقی پاکستان ہمارا وطن تھا جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا۔ اس کا دفاع کرنا عین حب الوطنی اور اسلامی نظریے کے تحفظ کا تقاضا تھا۔ لیکن جب وہ پاکستان سے الگ ہوگیا ، تو اب بنگلہ دیش ہی ہمارا وطن ہے اور اس کا دفاع، اس کی ترقی اور اس سے محبت ہم ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے بنگلہ دیش کی سیاست میں خود کو نہ صرف شامل کیا بلکہ اپنی قدآور سیاسی شخصیت، علم و حکمت، بزرگی اور تدبر کی وجہ سے سیاست دانوں میں اپنے لیے امتیازی مقام بھی پیدا کرلیا۔
اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے جماعت کے نظام کو بدلنے کا ارادہ کیا۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ جماعت کے نظام اور تنظیمی ڈھانچے کو بدلے بغیر ہم ملک کے نظام کو نہیں بدل سکتے۔ چنانچہ جماعت اور جمعیت کی قیادت سے طویل مشوروں کے بعد بنیادی فیصلے کیے گئے جو بڑے مفید ثابت ہوئے۔
اس کا طریقۂ کار کے تحت پورے بنگلہ دیش کے کالجوں اور یونیورسٹیو ں میں جمعیت سے وابستہ کارکنوں کی ان کے آخری سال یا امتحان سے چند (تین یا چھ) ماہ قبل فہرستیں بنائی جائیں اور ان کو مرکز میں رہنماؤں کے مقررہ پینل کے پاس بھیج دیا جائے۔ وہ مختلف مواقع پر باری باری انٹرویو کرکے فیصلہ کرے کہ ان طلبہ کو تعلیمی نتیجے، صلاحیت، رجحان اور تقریری اور تحریری صلاحیتوں کے اعتبار سے سرکاری یا نجی شعبوں میں سے کس شعبے میں بھیجا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں تو اس کو اس کے آبائی علاقے یا شہر کی جماعت کے حوالے کیا جائے اور اس کی اسی لحاظ سے تربیت کا عمل شروع کیا جائے۔
ان نتائج اور جماعت کی خستہ مالی حالت کے باوجود سیاست سمیت ہر شعبے میں شاندار کامیابیاں دیکھ کر دل خوش ہوگیا کہ یہاں پر جماعت نے نوجوان خون کو اپنا حصہ بنانے کے لیے کیا شان دار حکمت عملی اپنائی ہے۔لیکن اس کے برعکس جب جماعت اور جمعیت کا نظریاتی طور پر ایک ہی فکر اور نظریے سے وابستگی کا دعویٰ رہا، اور علی الاعلان دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں، جو قانونی طور پر بالکل درست کہتے تھے، لیکن اس طرح کارکنوں کے ذہنوں میں قانونی چیز کا روحانی طور پر ذہنوں میں راسخ ہوجانا کہ ہم دو علاحدہ علاحدہ جماعتیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ جب وہ طالب علم جمعیت سے فارغ ہوتے تو عام معاشرے میں کہیں گم ہوجاتے اور ان کی بہت ہی تھوڑی تعداد جمعیت سے جماعت میں آتی ہے۔
پروفیسر صاحب کی اس بات میں کتنی سچائی تھی کہ ’’ہمیں نئی حکمت عملی بنانے اور اپنانے کا راستہ ملا‘‘۔
_______________
سوال : ایک شخص کسی پر بڑے ظلم ڈھاتا ہے، اس کی حق تلفی کرتا ہے، اسے ہر طریقے سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے باوجود جب یہ ظالم مرجاتا ہے تو مظلوم اس کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، نمازِ جنازہ پڑھتا ہے اور دُعائے مغفرت کرتا ہے۔ کیا یہ صحیح طرزِعمل ہے؟ کیا اس طرح ظالم کے گناہ بخش دیئے جائیں گے؟
جواب :اس کے گناہ بخشے جائیں یا نہ بخشے جائیں، مظلوم کو اپنے طرزِعمل کا اجر ضرور ملے گا کہ اس نے اس حد تک درگزر سے کام لیا ہے۔
سوال : اگر میں کسی مرنے والے کو اپنا حق معاف کردوں تو کیا اسے معاف نہیں کردیا جائے گا اور بخش نہیں دیا جائے گا؟
جواب : اگر کوئی شخص آپ سے قرض لیتا ہے اور واپس کرنے کی خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے حالات کے باعث واپس نہیں کرسکتا اور اس حالت میں وہ مرجاتا ہے اور آپ اس کے ذمے اپنا قرض معاف کر دیتے ہیں، تو خدا بھی اسے معاف کر دے گا۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ وہ واپس کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس کے باوجود جان بوجھ کر واپس نہ کرے اور قرض دبا کر خوش ہو، تو آپ چاہیں معاف کر دیں، خدا کے ہاں وہ اپنے اس طرزِعمل اور ظلم و بددیانتی کی سزا پائے گا۔
سوال :ہمارے قصبے میں ایک صاحب کہتے ہیں کہ سزا اور تعذیب کی یہ سب باتیں محض ڈرانے کے لیے ہیں، خدا سب کو معاف کردے گا، چاہے گناہ کی کوئی شکل بھی ہو؟
جواب :شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا نے صرف جنّت بنائی ہے، دوزخ کا کوئی وجود نہیں ہے؟
سوال :کیا نیند لانے والی گولیاں ’نشے ‘کی تعریف میں نہیں آتیں؟
جواب :’نشہ‘ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آدمی کی عقل ماؤف ہوجائے، بھلے بُرے کی تمیز ختم ہوجائے اور آدمی کو کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے۔ اِس لحاظ سے خواب آور گولیاں ’نشے‘ کی ذیل میں نہیں آتیں۔
سوال :لیکن اگر کسی کو خواب آور گولیاں کھانے کی باقاعدہ عادت ہوجائے؟
جواب : محض عادت، ’نشے‘ کا نام نہیں، اور نہ ایسی عادت بھلے بُرے کی تمیز یا بھلائی بُرائی کے احساس کو ختم کرسکتی ہے۔
سوال : ہمیں تاریخ کا مطالعہ کس طرح کرنا چاہیے؟ کس مقام پر پہنچ کر اسلام کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے اور صرف مسلمانوں کی تاریخ رہ جاتی ہے؟
جواب : اسلام تاریخ کے ہر دور میں موجود رہا ہے اور جب تک دُنیا قائم ہے اس کی تاریخ جاری رہے گی۔ مختلف اَدوار میں فرق ہوسکتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اسلامی تاریخ ختم ہوگئی۔ عہد نبوتؐ و خلافت ِ راشدہؓکی تاریخ، اسلام کی مکمل ترین شکل کی تاریخ ہے۔ اس وقت دستور بھی اسلام کا تھا، قانون بھی اسلام کے مطابق تھا اور قیادت بھی اسلامی تھی۔ بعد میں دستور کی شکل بدل گئی، لیکن قانون بحیثیت مجموعی اسلام کا ہی جاری رہا۔ قیادت کے باب میں بھی یہ اسلام ہی کا اعجاز ہے کہ دورِ ملوکیت میں مختلف مواقع پر جتنے خداترس اور حق پرست حکمران ہماری تاریخ میں ملتے ہیں، اتنے کسی اور جگہ دکھائی نہیں دیتے۔ پھر بعد کے اَدوار میں بھی اسلام اس صورت میں جلوہ گر رہا ہے کہ اُمّت نے اپنی دینی رہنمائی کے لیے بادشاہوں کی طرف نہیں دیکھا بلکہ ائمۂ کرام کی طرف رجوع کیا ہے، جنھوں نے اِقتدار کی سختیوں اور ناراضیوں کے باوجود اُمّت کے سامنے وہی چیز پیش کی جس کو انھوں نے حق سمجھا ، اور اسی چیز کو قبولِ عام حاصل ہوا۔(۵-اے ذیلدار پارک، اوّل)
_______________