تیونس سے شروع ہونے والی بہار نے کئی عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مصر، لیبیا اور یمن میں بھی آمریت کا جنازہ نکل گیا۔ اب دیریا سویر شام کی باری ہے۔ اس بہارِ جاں فزا سے افریقہ کے دیگر ممالک بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ مغربی افریقہ کا ملک سینیگال اس کی بہترین مثال ہے جہاں دارالحکومت ڈاکار اور دیگر شہروں میں عوام صدر عبد اللہ واد کے خلاف سر سے کفن باندھ کر میدان میں نکل آئے ہیں۔ سینیگال مغربی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کا کُل رقبہ ایک لاکھ ۹۶ہزار ۷سو۲۳ مربع کلومیٹر، یعنی پاکستان کے رقبے کا ایک چوتھائی ہے، جب کہ آبادی ایک کروڑ ۲۳ لاکھ ہے، یعنی پاکستان کی آبادی کا پندرھواں حصہ۔ ملک معاشی لحاظ سے پاکستان سے بھی غریب ہے۔ فی کس آمدنی۱۶۰۰ ڈالر فی کس سالانہ ہے، جب کہ پاکستان کی تقریباً۲۱۰۰ڈالر فی کس سالانہ ہے۔ سینیگال کی آبادی ۹۶ فی صد مسلمان ہے البتہ قدیم مذہبی رسومات اور روایاتِ بت پرستی بیش تر آبادی میں اسی طرح پائی جاتی ہیں، جس طرح ہمارے ہاں ہندوانہ تہذیب اور رسوم و رواج کا چلن ہے۔
سینیگال نے ہم سے ۱۳ برس بعد، یعنی ۱۹۶۰ ء میں فرانسیسی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ پانچ مقامی قبائلی زبانوں کے علاوہ فرانسیسی یہاں کی سرکاری زبان رہی ہے۔ اب عربی کی طرف بھی بہت زیادہ رجحان ہے۔ افریقہ کا یہ ملک اس لحاظ سے دیگر بیش تر افریقی، لاطینی امریکی اور ایشیائی و عرب ممالک سے ممتاز و ممیز ہے کہ یہاں فوجی انقلابات کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ یہاں کی فوج ہے بھی نہایت مختصر۔ سینیگال کے بحیثیت مجموعی اپنے ہمسایوں سے تعلقات اچھے ہی رہے ہیں البتہ اپنے پڑوسی ملک مالی کے ساتھ اس وقت کچھ تلخیاں پیدا ہوئی تھیں جب دونوں ممالک نے آزادی کے بعد آپس میں ایک وفاق قائم کیا، مگر چار ہی ماہ بعد یہ وفاق بکھر گیا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس علیحدگی میں بھی نہ کوئی گولی چلی، نہ فسادات ہوئے۔ یوں ان افریقی ممالک نے مہذب ہونے کا ثبوت دیا۔ سینیگال کے پڑوس میں سبھی ممالک چھوٹے چھوٹے ہیں۔ ان میں گامبیا، ماریتانیہ، مالی، گِنی اور گِنی بسائو شامل ہیں۔ یہاں اسلام کی روشنی تقریباً اُسی دور میں پہنچی جب مسلمان شمال مغربی افریقہ سے ہسپانیہ کی طرف منتقل ہوئے۔
سینیگال میں صحیح اسلامی تعلیم کا فقدان رہا ہے۔ اس کے باوجود شمال مغربی افریقہ کے عرب ممالک الجزائر، لیبیا، تیونس اور مراکش کے اسلامی جہاد کی وجہ سے یہاں بھی ایک محدود طبقے میں جہادی جذبات پروان چڑھے۔ سنوسی تحریک، عبدالقادر الجزائری اور عمرمختار سے محبت کرنے والا ایک مختصر حلقہ ڈاکار اور دیگر بڑے شہروں میں موجود ہے۔ تحریک ِآزادی میں بھی یہ لوگ پیش پیش تھے، مگر فرانسیسی استعمار نے ان کو ہمیشہ زیرعتاب رکھا۔ بدقسمتی سے عیسائی مشنری اور قادیانی بھی یہاں اپنی سرگرمیاں فرانسیسی دور ہی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور بے پناہ وسائل رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ بات باعث ِ اطمینان ہے کہ سینیگال کی آبادی نے عیسائیت یا قادیانیت کو قبول نہیں کیا۔
سینیگال میں اسلامی تحریک بالکل نئی اور قوت کے لحاظ سے ابھی بہت محدود ہے۔ تاہم، مصر اور سعودی عرب کی جامعات سے فارغ ہوکر آنے والے نوجوان عقائد و افکار کے لحاظ سے درست اسلامی سوچ کے حامل ہیں۔ انھوں نے اخوان المسلمون کی فکر سے متاثر ہوکر ۱۹۹۹ء میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام ’جماعت عبادالرحمن‘ ہے۔ اس کے سربراہ ایک ذہین اور تعلیم یافتہ مسلمان استاد احمد جاں ہیں۔ وہ مولانا مودودی کے مداح ہونے کے ساتھ تحریکِ اسلامی پاکستان سے بھی متعارف ہیں۔ والی سعودی عرب نے بھی اس ملک میں کافی کام کیا ہے اور ان کے موجودہ نمایندے استاد رجب مصری ہیں۔ اسلامی تحریک کے لیے ایسے قابل نوجوانوں کا وجود بساغنیمت ہے۔ ان کا کام محدود تھا مگر گذشتہ سال کی عرب بہار نے جب اسلامی بہار کا روپ دھارا تو ان کی جماعت کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ ابھی وہ انتخابی معرکے میں اُترنے کے قابل نہیں مگر ان کے منظم کام کی وجہ سے تمام اپوزیشن پارٹیاں ان کی حمایت کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام کی برتری اور جمہوریت کی حقیقی بحالی و تحفظ کی یقین دہانی کرانے والے صدارتی اُمیدوار کی حمایت کریں گے۔ طلبا میں ’طلبا عبادالرحمن‘ کے نام سے ان کی ملک گیر تنظیم موجود ہے جو فعال ہے اور مستقبل میں قوت میں اضافے کا باعث ہوگی۔ پاکستان سے اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر انتظاربٹ اور دیگر ماہرین امراضِ چشم اطبا کی نگرانی میں گذشتہ چند برسوں سے افریقہ کے جن ممالک میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں ان میں سینیگال بھی قابلِ ذکر ہے۔ ان کیمپوں کی وجہ سے بھی عباد الرحمن تنظیم کو اخلاقی و عمومی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ یہاں فرانس اور بھارت نے سونے کی کانوں اور کھاد کی فیکٹریوں کے ذریعے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ پاکستان کا اس ملک کے ساتھ محض سفارت خانے کی حد تک تعلق ہے۔
سینیگال پر مختلف اوقات میں پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے اپنے استعماری پنجے گاڑے مگر آخر میں ۱۸۴۰ء سے ۱۹۶۰ء تک یہ سرزمین فرانسیسی کالونی ہی رہی۔ یورپ اور امریکا میں افریقی آبادی کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا تو اس کا سب سے بڑا اڈا بھی اسی ملک میں تھا۔ فرانس نے سینیگال کو آزادی دینے سے قبل اپنا ایک سدھایا ہوا شاگرد لیوپولڈ سیدار سینغور، کمال چابک دستی سے اس ملک پر مسلط کر دیا۔ موصوف خاندانی لحاظ سے مسلمان تھے مگر فرانسیسی تہذیب و ثقافت کے دل دادہ، فرنچ زبان کے شاعر اور آزاد ملک کی حکمرانی کے باوجود اس بات کے خواہش مند کہ انھیں فرانسیسی شہریت مل جائے۔ انھیں اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔ ہاں، فرانس کی سرپرستی میں اس ملک پر ایک جماعتی نظام کے تحت اس نے ۲۰سال حکمرانی کی۔ اس عرصے میں اس نے جو قانون، جب چاہا اور جیسے چاہا بنایا اور پھر جب چاہا اسے تبدیل کر دیا۔ وہ سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ سیکولرازم اور سوشلزم کا دل دادہ صدر سینغور ہر روز معاشی پالیسیاں بدلتا تھا۔ ملک کی معیشت تباہ ہو رہی تھی۔ اس دوران میں اس نے ایک مفید اور انقلابی کام بھی کر دکھایا۔ ۱۹۷۳ء میں اس نے دیگر چھے پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر ’مغربی افریقی معاشی کمیونٹی‘ کی بنیاد رکھی جس سے ان سب کو کم و بیش تجارتی فوائد حاصل ہوئے۔ سینیگال اقوام متحدہ ،او آئی سی اور افریقن یونین کا ممبر ہے۔
سینیگالی عوام بھی اپنے صدر سے تنگ آچکے تھے۔ عوامی پریشانی نے ابھی کوئی احتجاجی رنگ یا انقلابی لہر کا روپ نہیں اختیار کیا تھا کہ اپنے خلاف عوامی نفرت کا احساس کرتے ہوئے صدر سینغور نے اقتدار سے استعفا دے دیا۔ تیسری دنیا کے ممالک اور وہ بھی پس ماندہ افریقہ میں یہ مثال یکتا ہے۔ دراصل سینغور کے اقتدار سے ہاتھ اٹھانے کی وجہ اس کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی اقتصادی ابتری اور عوام الناس کی شدید پریشانی اور غم و غصہ تھا۔ اس نے یہ شاطرانہ چال بھی چلی کہ اپنے نائب عبدہٗ ضیوف کو اقتدار سونپ دیا۔ ضیوف نے کسی حد تک عوام کے لیے سیاسی آزادی کا راستہ ہموار کیا مگر ہنوز ملکی سیاست یک جماعتی سیاسی پارٹی کے گرد ہی گھومتی رہی۔ نئے صدر نے معاشی صورتِ حال کو سنبھالا دینے کے لیے اپنے پیش رو کی قومیائی ہوئی بیش تر کمپنیوں اور اداروں کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کر دیا۔ ملک کے اندر خام لوہا اور فاسفیٹ کی اچھی خاصی مقدار موجود ہے، اسے ترقی دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد ضیوف نے کثیرالجماعتی سیاست کی اجازت دی۔ حکومت کے مخالفین نے اپنی سیاسی جماعت بنالی جس کے بعد کئی نئی جماعتیں بھی وجود میں آنے لگیں۔
ضیوف کے ۲۰سالہ دورِا قتدار کے بعد مارچ ۲۰۰۰ء میں صدارتی الیکشن ہوئے تو اپوزیشن کے نمایندے عبد اللہ واد نے ۶۰ فی صد ووٹ حاصل کرکے صدارتی الیکشن جیت لیا۔ ۲۰سال صدارتی منصب پر فائز رہنے کے بعد اپنی عبرت ناک شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ضیوف نے بڑی خوش اسلوبی سے اقتدار نو منتخب صدر کے حوالے کر دیا۔ اب ملک کے اندر سیاسی آزاد یاں بھی تھیں اور مختلف پارٹیاں اپنے اپنے پروگرام کے تحت اپنے منشور بھی پیش کر رہی تھیں۔ عبد اللہ واد اگرچہ انتخاب کے ذریعے برسر اقتدار آیا مگر وہ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے جنون میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے جو اصلاحات کیں، اس کے نتیجے میں ملک بھر میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ ان اصلاحات میں سے ایک یہ تھی کہ عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا نیز انھیں جایداد اور وراثت کا حق بھی قانون میں دے دیا گیا۔ اس عرصے میں عبد اللہ واد نے اپوزیشن کے دبائو پر دستور میں ایک ترمیم کی، جس کے تحت کوئی بھی صدر دو میقات سے زیادہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا۔
عبد اللہ واد ۲۰۰۱ء میں منتخب ہوا تھا، پھر ۲۰۰۷ء میں، اور اب ۲۰۱۲ء کے انتخابات کے لیے دوبارہ اُمیدوار بن گیا ہے۔ اپوزیشن نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دستور میں ترمیم کے بعد دستور کی دفعہ ۲۷ اور ۱۰۴ واضح طور پر کسی بھی منتخب صدر کے لیے دو سے زیادہ مرتبہ صدارتی انتخاب لڑنا ممنوع قرار دیتی ہیں۔ عبد اللہ واد نے یہ مکرو حیلہ اختیار کیا ہے کہ اس کا پہلا انتخاب دستوری ترمیم سے قبل ہوگیا تھا، اس لیے اسے اس مرتبہ بھی انتخاب میں حصہ لینے پر کوئی دستوری قدغن نہیں ہے۔ حزبِ مخالف کی تمام پارٹیاں صدر کے خلاف میدان میں نکل آئی ہیں۔ دارالحکومت ڈاکار اور دیگر بڑے شہروں میں بڑے بڑے مظاہرے ہورہے ہیں اور کئی جگہ سرکاری عمارتوں کو توڑ پھوڑ کے ذریعے نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عرب دنیا میں اٹھنے والی تحریکوں کے اثرات سینیگال میں بھی پہنچ گئے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی ’’سوشلسٹ پارٹی آف سینیگال‘‘ کے صدارتی امیدوار عثمان تنور دیانگ نے ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد اللہ واد صدارت پر غاصبانہ اور غیر دستوری قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ دستور کی خلاف ورزی کرکے اس نے خود کو مجرم ثابت کر دیا ہے۔ اب عوامی غیظ و غضب سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ دستور کی پابندی کرے۔
اس دوران میں عبد اللہ واد نے دستوری مجلس کے پانچ ارکان سے تصدیق کروالی ہے کہ اس کا یہ الیکشن تیسرا نہیں، دوسرا شمار ہوگا۔ اپوزیشن صدارتی امیدوار نے کہا کہ یہ ہزاروں کا مجمع جو فیصلہ دے رہا ہے، وہ درست ہے یا پانچ افراد کا فیصلہ درست تسلیم کیا جائے۔ اس موقع پر مجمع عام میں صدر عبد اللہ واد کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔ ایک دوسرے صدارتی امیدوار ابراہیم فال نے کہا: ’’صدر واد کے اس خود غرضانہ موقف کے نتیجے میں پورا ملک مستقل طور پر تشدد اور بدامنی کا شکار ہوجائے گا۔ اگر صدر نے اپنی حکومتی مشینری کے ذریعے پرتشدد راستہ اختیار کیا تو عوام اس سے زیادہ قوت کے ساتھ اس کا جواب دیں گے‘‘۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے تمام طبقے بھی صدر کی راے سے اختلاف کر رہے ہیں۔ ایک نوجوان سینیگالی آرٹسٹ یوسف اندور نے کہا کہ سینیگال کا ہر شخص آج سڑکوں پر نکل آیا ہے اور لوگوں کے چہروں سے واضح طور پر پڑھا جاسکتا ہے کہ وہ موجودہ صدر کی رخصتی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ایک معروف سیاسی تجزیہ نگار اور ماہرِ امور سینیگال مختار ولد سیداتی نے کہا: ’’سینیگال میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہی جذبات پروان چڑھ رہے ہیں جو عالم عرب میں دیکھے گئے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے عرب میڈیا بہت مقبول ہو رہا ہے۔ یہ بات ہر گز بعید نہیں کہ عرب دنیا میں رونما ہونے والا انقلاب ان تمام افریقی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے جو عربی ثقافت سے متاثر ہیں اور اس لحاظ سے سینیگال بہت نمایاں ہے ‘‘۔
گذشتہ ۲۰۰ برس سے عالمِ اسلام محکومی و زوال کا شکار ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک ایک دو ملکوں کے سوا، باقی تمام مسلمان ممالک مغربی استعماری طاقتوں کے غلام بن چکے تھے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں عالمِ اسلام میں احیاے اسلام کی تحریکیں بھی کام کرنے لگی تھیں، جن کے سربراہوں کے سامنے اوّلین مسئلہ مغربی ممالک کی غلامی سے نجات کا حصول تھا۔ ان تحریکوں کے آٹھ درخشندہ ستاروں کے متعلق، ان کی سوانح اور افکار پر مشتمل کتاب ایک شیعہ اہلِ علم علی رہنما نے Pioneers of Islamic Revivalism کے عنوان سے شائع کی جس کا دوسرا اڈیشن ۲۰۰۵ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اسی اڈیشن کا تنقیدی اضافوں کے ساتھ ترجمہ ہے۔
کتاب کے آغاز میں ۴۰صفحات کا ’پیش لفظ‘ مترجم و مؤلف کی ژرف نگاہی، تاریخ فہمی اور عالمی حالات پر محکم گرفت کے علاوہ ان کی تنقیدی بصیرت اور احیاے اسلام کے لیے ان کے سوزوگداز سے معمور جذبات کا آئینہ دار ہے۔ انھوں نے زوالِ اُمت کے اسباب و علل پر بحث کرتے ہوئے ہندستان کے حالات کا معروضی جائزہ پیش کرتے ہوئے سیدابوالاعلیٰ مودودی کی تحریک احیاے اسلام کا تعارف بھی کرایا ہے۔
کتاب میں پانچ غیرمسلم اہلِ علم کی نگارشات ہیں جن کا تعلق مغربی جامعات کے ان شعبوں سے ہے جو مسلم ممالک کے حالات کے خصوصی مطالعے کے لیے قائم ہیں۔ مصری رہنما محمدعبدہٗ پر مضمون لبنانی عیسائی خاتون یونی حداد نے لکھا ہے۔ محترمہ امریکی جارج ٹائون یونی ورسٹی کے شعبہ ’ہسٹری آف اسلام‘ اور ’عیسائی مسلم تعلقات‘ میں پروفسیر ہیں۔ حسن البنا شہید پر مضمون امریکی دانش ور ڈیوڈ کامنز کے قلم سے ہے جو ڈکنسن کالج میں ہسٹری کے پروفیسر ہیں۔ سید قطب شہید پر تحقیقی مقالہ مغربی اسکالر چارلس ٹرپ کے قلم کا مرہونِ منت ہے۔ لبنانی رہنما موسیٰ الصدر کے متعلق مضمون بوسٹن یونی ورسٹی کے پروفیسر آگسٹس رچرڈ نورٹن کے قلم سے ہے۔ سید جمال الدین افغانی پر تحقیقی مقالہ نکی آر کیڈیا کی محققانہ نظر کا رہینِ منت ہے۔ سیدابوالاعلیٰ مودودی پر سوانحی اور ان کی فکرونظر پر تحقیقی مضمون سید ولی رضانصر کے بصیرت افروز تنقیدی نقطۂ نظر کا حامل ہے جس میں ۷۰ سے زائد حوالہ جات ہیں۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی انقلاب انگیز شخصیت پر باقرمعین نے قلم اُٹھایا ہے۔
مترجم نے ان غیرمسلم مضمون نگاروں کے نقطۂ نظر سے اختلاف بھی کیا ہے اور اپنی اختلافی آرا بھی درج کی ہیں۔ ان مضامین کا مرکز و محور وہ شخصیتیں ہیں جو دنیا میں احیاے اسلام کے لیے متحرک رہیں اور ان کی فکرواستدلال نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحرک کیا ہے۔ اس کتاب سے غیرمسلم اہلِ علم کے نقطۂ نظر کا علم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی تحریکوں کو کس زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں اور کس قسم کے تاثرات پھیلا رہے ہیں۔ آج مسلم ممالک میں احیاے اسلام کی تحریکوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ایک صدی کی حق و باطل کی کش مکش نتیجہ خیز ہوتی نظرآرہی ہے۔ ترکی، مصر، ایران، تیونس، لیبیا اور شام کے حالات نہایت حوصلہ افزا ہیں۔
مسلمانوں کو مغربی استعمار کی غلامی سے نجات دلانے اور احیاے اسلام کے لیے کام کرنے والی ان تحریکوں کے بانیوں کے متعلق متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان انقلابی شخصیتوں کی فکر اور لائحہ عمل کے بارے میں حق اور مخالفت میں ان کی زندگی میں بھی بہت کچھ لکھا گیا اور اب بھی لکھا جا رہا ہے۔ کتاب کے مندرجات کے بارے میں قارئین کو اختلاف بھی ہوسکتا ہے۔ اسلوبِ بیان عام فہم ہے، ترجمے کے فنی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ احیاے اسلام کی تحریکوں سے دل چسپی رکھنے والوں اور عام قارئین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہوگا۔ (ظفرحجازی)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے معاشرے کا قیام عمل میں لائے تھے جو ہرلحاظ سے مثالی تھا۔ اخوت، محبت ، امدادِ باہمی اور ایثار اس معاشرے کا طرئہ امتیاز تھا۔ یہی زیرنظر کتاب کا موضوع ہے۔ کتاب میں ۱۰ صحابہ کرامؓ کے جودو سخا کے روح پرور واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں انفرادی امداد، غریبوں، یتیموں، بیوائوں، ناداروں، بے کسوں کے ساتھ تعاون کی مثالیں بھی ہیں، اور اجتماعی فلاحی منصوبوں: نہروں کی کھدائی، سڑکوں، پُلوں، مہمان خانوں، مساجد کی تعمیر، راستوں پر پانی کا انتظام اور چراگاہوں کے بندوبست پر رقم خرچ کرنے کے واقعات بھی۔ ان واقعات کو پڑھ کر آج کے مادہ پرست ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سا محرک تھا جس کی بدولت صحابہ کرامؓ نے انفاق و ایثار کے ایسے لازوال نمونے پیش کیے ؟مصنف نے کتاب کے ابتدا میں ’صحابہ کرامؓ میں انفاق کے اسباب و عوامل‘کے عنوان کے تحت اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ حُبِ الٰہی، فکرِآخرت اور دنیا کے مال و اسباب سے بے رغبتی، وہ عوامل ہیں جن کی بدولت صحابہ کرامؓ فقروتنگ دستی سے بے نیاز ہوکر انفاق فی سبیل اللہ کرتے تھے۔
کتاب میں صحابہ کرامؓ کی آمدنی کے ذرائع و وسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جس سے یہ درس ملتا ہے کہ فلاحی و رفاہی معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اس معاشرے کے ارکان جائز ذرائع سے اپنی آمدن بڑھانے کے لیے تگ و دو بھی کریں۔ بحیثیت مجموعی یہ ایک مفید اور فکرانگیز کاوش ہے، جس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گوناگوں خوبیوں کے حامل آسمان نبوت کے یہ ستارے اپنی اپنی جگہ پر ایک مکمل سماجی اور رفاہی ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ آج بھی بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور نفسانفسی کا علاج اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ (حمیداللّٰہ خٹک)
محمد ریاض اچھروی ۳۰،۳۲ برس سے برلن، جرمنی میں مقیم ہیں۔ اُردو ، جرمن میں دستک نامی رسالہ نکالتے ہیں۔ مسجد بلال، برلن میں فہم قرآن کلاس کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے طریقۂ تدریس سے بھی استفادہ کرچکے ہیں۔ تذکیر بالقرآن کی غرض و غایت کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: ’’قرآن کا پیغام اس کی اصل روح کے ساتھ آدمی کے دل و دماغ میں گہرا اُتر جائے تاکہ آدمی کا عمل اس کی روشنی میں بہتر سے بہتر ہو۔ یہ قرآن مجید کی تفسیرکم اور تذکیر زیادہ ہے‘‘۔ ’تقریظ‘ میں حافظ محمد ادریس تحریر کرتے ہیں کہ ’’ایک عام قاری کے لیے یہ ایک بہت اچھی اور مفید تذکیر ہے۔ ہر آیت کے ترجمے اور تشریح کے بعد مؤلف نے قاری کے دل و دماغ کو جھنجھوڑا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ خود کس مقام پر کھڑا ہے، اور دین پر عمل پیرا ہونے کی تذکیر و تنبیہ کی ہے۔ تشریح کے دوران احادیث کی معروف کتب اور مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے بھی بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔تذکیر بالقرآن میں مولانا فتح محمد جالندھری کے ترجمے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ طباعت معیاری ہے۔ امید ہے سورۃ الفاتحہ سے سورۃ التوبہ کے بعد دیگر حصے بھی جلدمنظرعام پر آئیں گے۔ (محمد ایوب منیر)
روزنامہ زمیندار اُردو کا ایک قدیم اخبار ہے جسے مولانا ظفر علی خاں کے والد محترم مولانا سراج الدین احمد خاں نے ۱۹۰۳ء میں لاہور سے جاری کیا۔ حق گوئی و بے باکی کی پاداش میں انگریزی حکومت نے اسے کئی بار بند کیا مگر کسی نہ کسی طرح نکلتا ہی رہا۔اقبالیاتی لوازمے پر مشتمل متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں، مثلاً: حیاتِ اقبال کے چند مخفی گوشے، سفرنامۂ اقبال، اقبال کا سیاسی سفر ، افکار و حوادث اور گفتارِ اقبال وغیرہ۔ زیرنظر کتاب کی مرتب ڈاکٹر اخترالنساء کو گفتارِ اقبال پر تحقیق کے دوران میں احساس ہوا کہ اگرچہ گفتارِ اقبالمیں روزنامہ زمیندار کا کچھ اقبالیاتی لوازمہ موجود ہے۔ اس کے باوجود، اس سلسلے کی بہت سی تحریریں اور متفرق لوازمہ ہنوز منظرعام پر نہیں آیا۔ انھوں نے نہایت عرق ریزی سے یہ لوازمہ تلاش کیا اور اسے مختلف عنوانات کے تحت ابواب بندی کرکے کتابی صورت میں پیش کیا ہے۔
روزنامہ زمیندار سے اخذ کردہ لوازمے میں، علمی و سیاسی سرگرمیوں کی خبریں، اقبال کی تقاریر، بیانات، تبصرۂ کتب، مکاتیب اور تار وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں تصانیفِ اقبال پر مضامین اور تبصرے، ان کی اشاعت کے متعلق اشتہارات، اطلاعات، رپورٹیں، تجزیے، تبصرے، تار وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اقبال کی چند نظمیں، سوانحی مواد، معاصرین اور احباب سے تعلّقِ خاطر، انجمنیں، ادارے اور افکار و حوادث میں ذکرِاقبال بھی اس کتاب میں موجود ہے۔ الغرض روزنامہ زمیندار سے اقبال و اقبالیات سے متعلق ہرطرح کی تحریریں اور لوازمہ تلاش و اخذ کرکے کتاب میں شامل کردیا گیا ہے۔ سارے لوازمے کو بڑے سلیقے کے ساتھ زمانی اعتبار سے چھے ابواب میں تقسیم کرکے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس پر حواشی و تعلیقات مستزاد ہیں جو محترمہ اخترالنساء کے محنتِ شاقہ پر دال ہیں۔ ۱۳صفحات کا مفصل دیباچہ بھی لائق مطالعہ ہے۔ یہ کتاب اقبالیاتی ذخیرے میں عمدہ اضافہ ہے اور اس کی اشاعت سے اقبال کی تفہیم اور اقبالیات کی تحقیق میں بہت مدد ملے گی۔ (قاسم محمود احمد)
انبیا و رسل کی سرزمین فلسطین، مکۃ المکّرمہ اور مدینہ منورہ کی طرح مقدس مقامات میں شمار ہوتی ہے مگر امریکا و مغرب کی آشیرباد سے قائم ہونے والی اسرائیلی ریاست اور اس کے غاصبانہ قبضے کے باعث مسلمانوں کا یہاں آناجانا کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے فلسطین و اسرائیل کے حالات و واقعات کے بارے کسی مسلمان کا سفرنامہ کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے محمد اظہر علی اور ان کی اہلیہ طویل عرصے سے ناروے میں مقیم ہیں۔ ان کا بیٹا چونکہ اسرائیل میں یونیسکو کے دفتر میں ملازم تھا، اس بنا پر انھیں فلسطین و اسرائیل دیکھنے کا موقع ملا۔ اپنے اس ۱۰روزہ سفر کے دوران انھوں نے جو دیکھا اُسے رقم کردیا۔ سفرنامہ عمدہ اسلوب اور معیاری واقعات نگاری، اعداد و شمار، معلومات اور واقعات عبرت کا مرقع ہے۔ اپنے نام پسِ آئینہ کوئی اور ہے سے شاعری کی کتاب معلوم ہوتی ہے مگر پڑھنے سے پتاچلتا ہے کہ یہ سفرنامہ فلسطین و اسرائیل ہے۔ مسجد اقصیٰ اور فلسطین و اسرائیل کے تاریخی مقامات اور ۵۰سے زائد عنوانات کے تحت معلومات جمع کی گئی ہیں، جب کہ آخر میں چند یادگاری تصاویر کتاب کا حُسن دوچند کرتی ہیں۔ آغازِ کتاب میں مصنف نے اس معرکے کو سر کرنے کی داستان بیان کی ہے۔ یہ سفرنامہ فلسطین کی حقیقی اور سچی تصویر پیش کرتا ہے اور اسرائیل کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ سفری ادب میں یہ ایک قابلِ قدر ، دل چسپ اور مفید اضافہ ہے۔ اسرائیل و فلسطین سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے براہِ راست حاصل شدہ معلومات اور واقعاتِ عبرت پر مبنی ایک خوب صورت سفرنامہ۔(عمران ظہور غازی)
جہاں زیب کالج سیدوشریف (سوات) میں سالِ اوّل کا طالب علم اپنے کزن کے قتل میں دھر لیا گیا۔ بے گناہ ملزم کے والد نے تھانے دار کو ۲ لاکھ روپے کی رشوت دینے سے انکار کیا تو ملزم پر بے پناہ تشدد ہوا، مقدمہ چلا اور آخر سزاے موت سنائی گئی۔ اس عرصے میں سہیل فدا نے اپنے دادا اور والدہ کی دعائوں، مطالعے کی طرف طبعی رغبت اور (سب سے بڑھ کر) والد کی حوصلہ افزائی کے سہارے بفضلہ تعالیٰ پے درپے تعلیمی امتحانات پاس کیے۔’بین الاقوامی تعلقات‘ میں ایم اے کیا۔ ایک اپیل کے نتیجے میں وفاقی شریعت کورٹ نے سزاے موت عمرقید میں بدل دی۔ بی کلاس کی سہولت ملی، ایم اے تاریخ میں کیا۔ انگریزی ادب میں ایم اے کا نتیجہ مارچ ۲۰۱۲ء میں آنے والا ہے اور سہیل فدا کی رہائی بھی اسی سال متوقع ہے۔
کہنے کو تو یہ ایک نوعمر طالب علم کی آپ بیتی ہے مگر اس سے ہمارے عدالتی نظام، جیلوں، حوالات، پولیس کے طور طریقوں خصوصاً ’تفتیش‘ کے نام پر انسانیت سوز مظالم اور حربوں کے مثبت اور منفی پہلو سامنے آتے ہیں (زیادہ تر منفی)۔ مثبت یہ کہ اگر کوئی ملزم یا مجرم اپنی تعلیمی استعداد بڑھانا چاہے تو برطانوی عہد سے جاری قانون اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور مختلف تعلیمی امتحانات پاس کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سزا میں کمی ہوتی جاتی ہے جیساکہ سہیل فدا کے ساتھ ہوا۔
یہ مختصر آپ بیتی ملزموں، مجرموں اور خود حاکموں کے لیے بھی سبق آموز ہے۔ حاکم تو کیا سبق لیں گے، ہاں کوئی نرم دل اور دردمند شخص جیلوں اور پولیس تفتیشی طریقوں کی اصلاح کا بیڑا اُٹھائے تو اس داستان سے مدد ملے گی۔سہیل فدا قابلِ تعریف ہیں کہ انھوں نے رشوت طلب کرنے والے تھانے دار ، تشدد کرنے والے پولیس اہل کاروں، جیل میں امتحان لینے کے لیے آنے والے پروفیسر ممتحنوں اور تشدد سے اَدھ موے ملزم کو مزید ریمانڈ کے لائق (فٹ) اور تشدد کی علامات و نشانات کے باوجود اسے ہٹّا کٹّا قرار دینے والے جیل کے ڈاکٹروں کے خلاف کسی طرح کے انتقامی جذبات کا اظہار نہیں کیا (زندگی میں کامیابی کے لیے صبروتحمل کا یہ وصف غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے)۔
پانچ برس تک سزاے موت کی تلوار سہیل فدا کے سر پر لٹکتی رہی، مگر نماز اور ’’اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع‘‘ (ص ۱۰۳) کرنے سے ان کی گھبراہٹ کافور ہوجاتی۔ انھی پانچ سالوں میں سہیل نے ایم اے تک کی تعلیم مکمل کی اور بہت کچھ غیرنصابی عمومی مطالعہ بھی کیا۔ ایک جگہ بتایا ہے: معروف کمیونسٹ سبطِ حسن کی تحریروں نے میرے مذہبی معتقدات کو کچھ عرصے کے لیے ہلاکر رکھ دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے ڈر اور کال کوٹھڑی میں اس کی مدد کی شدید ضرورت بالآخر سبطِ حسن کے کچھ نظریات کی بہ نسبت کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوئی۔ (ص ۱۱۴)
۲۰۱۲ء میں متوقع رہائی کے بعد وہ تعلیمی شعبے میں خدمات انجام دینے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ کتاب کا حُسنِ اشاعت و اہتمام لائقِ داد ہے، مگر قیمت افسوس ناک طور پر زیادہ، بہت ہی زیادہ ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
’خلفاے راشدینؓ نے جس طرح اپنا دورِ حکومت گزارا (مارچ ۲۰۱۲ئ)، اگر ہمارے ملک کے حکمران ان کی تقلید کریں، تو عوام ان کے لیے دعا ے خیر کریں گے، اور اگر انحراف کریں گے تو پھر ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ کاش! ہمارے حکمران اپنا رویہ درست کریں تو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔
’مزید کامیابیاں اور سازشیں‘ (مارچ ۲۰۱۲ئ) کے مطالعے سے جہاں عالمِ عرب کے مسائل کا علم ہوا، وہاں اخوان المسلمون کی طویل جدوجہد اور کامیابیوں کو جان کر ایک نیا عزم اور ولولہ بھی ملتا ہے۔
’منصب کی طلب‘ (فروری ۲۰۱۲ئ) تحریک اسلامی سے وابستگان کے لیے ایک بنیادی اہمیت کا حامل، یاد دہانی اور سبق کی حیثیت رکھنے والااہم مضمون ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کی انتخابی کامیابی کے تناظر میں ڈاکٹر انیس احمد نے تحریکِ اسلامی پاکستان کے لیے جو غورطلب نکات پیش کیے ہیں،چشم کشا ہیں۔
دادا جان مرحوم و مغفور کی وساطت سے ترجمان القرآن سے رابطہ تو زندگی کے اس دور سے ہی ہوگیا جب اس کے مضامین سمجھ سے بالاتر تھے۔ نور اور پھر بتول کو پڑھنا دل چسپ لگتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ماہنامے کی اہمیت واضح ہونے لگی۔ پھر تو ہرتحریر علم و عمل کے لیے مہمیز ثابت ہوئی، اور ہرماہ ترجمان کا شدت سے انتظار رہنے لگا۔ اللہ تعالیٰ اس بہترین رہنمائی پر اجرعظیم سے نوازے، آمین!
’عورتوں کی باجماعت نماز‘ (فروری ۲۰۱۲ئ) پر ڈاکٹر عبدالحی ابڑو کا مضمون پڑھا۔ مدلل انداز میں فقہ حنفی کی رُو سے اس مسئلے کو واضح کیا گیا ہے۔ حقیقتاً ایک طویل عرصے سے اس موضوع پر فقہ حنفی کا دوسری فقہوں سے اختلاف سننے میں آتا رہتا تھا اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کیا جائے۔ الحمدللہ مسئلہ سمجھ میں آگیا اور واضح رہنمائی ملی۔
وضاحت: ’رسائل و مسائل‘ (مارچ ۲۰۱۲ئ) میں جادو کے علاج کے لیے جن قرآنی آیات کو پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے وہ یہ ہیں: سورئہ اعراف ۷:۱۱۷ تا۱۲۰، سورئہ یونس ۱۰:۸۱ تا۸۲، اور سورئہ طٰہٰ: ۲۰: ۶۸ تا۶۹
اِس کا علاج بجز اِس کے اور کچھ نہیں کہ جس طرح ۴۸ء -۴۹ء میں نظامِ اسلامی کے لیے ایک پاکستان گیر مطالبہ پوری قوت کے ساتھ اُٹھا تھا اور اسی کی بدولت یہ لوگ قرارداد مقاصد پاس کرنے پر مجبور ہوئے تھے، اسی طرح اب پھر تمام ملک سے دستورِ جدید کے لیے ایک متفقہ مطالبہ اُٹھے....
۱- ملک کا قانون اسلامی شریعت ہوگی۔
۲- کوئی ایسی قانون سازی نہ کی جاسکے گی جو شریعت کے احکام یا اصولوں کے خلاف ہو۔
۳- تمام ایسے قوانین کو منسوخ کیا جائے گا (خواہ بتدریج ہی سہی) جو شریعت کے احکام اور اصولوں سے متصادم ہوتے ہوں۔
۴- حکومت کا یہ فرض ہوگا کہ اُن برائیوں کو مٹائے جنھیں اسلام مٹانا چاہتا ہے، اور اُن بھلائیوں کو فروغ دے جنھیں اسلام فروغ دینا چاہتا ہے۔
۵- لوگوں کے شہری حقوق (تحفظِ جان و مال و آبرو، آزادی تحریر و تقریر، آزادیِ اجتماع اور آزادیِ نقل و حرکت) کو اُن کا جرم کھلی عدالت میں ثابت کیے بغیر، اور انھیں صفائی کا موقع دیے بغیر سلب نہ کیا جاسکے گا۔
۶- لوگوں کو حق ہوگا کہ انتظامیہ یا مقننہ اگر اپنے حدود سے تجاوز کرے تو وہ ملک کی عدالتوں سے چارہ جوئی کرسکیں۔
۷- عدلیہ انتظامی حکومت کی مداخلت سے آزاد ہوگی۔
۸- حکومت اس بات کی ضامن ہوگی کہ ملک میں کوئی شخص بنیادی ضروریاتِ زندگی (غذا، لباس، مکان، علاج اور تعلیم) سے محروم نہ رہے۔
اِن اُمور کی صراحت کے بغیر اگر کوئی دستور بنابھی دیا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ اہلِ ملک کے کسی کام کا نہ ہوگا۔(’اشارات‘،سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۳۸، عدد ۱-۲، رجب، شعبان ۱۳۷۱ھ، اپریل، مئی ۱۹۵۲ئ، ص ۷)