سوال: نماز پڑھنے کے دوران کئی قسم کے خیالات دل میں آجاتے ہیں اور بعض اوقات نماز میں بھول بھی ہوجاتی ہے۔ براہِ مہربانی اس کا علاج تجویز فرمایئے۔
جواب: خیالات اور وساوس کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں ہے کہ آپ کی توجہ اللہ کی طرف بڑھتی چلی جائے۔ اللہ کی طرف توجہ بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی توجہ اور تفقہ سے قرآن پڑھے، صحبت صالح اختیار کرے اور دین کے کاموں میں اپنا دل لگائے۔
یہ وہ ذرائع ہیں جن سے اللہ کی طرف توجہ بڑھتی ہے۔ نتیجتاً اس کا اثر نماز میں بھی محسوس ہوتا ہے اور وساوس کا ہجوم رفتہ رفتہ کم ہونے لگتا ہے۔ یاد رکھیے نماز انسان کی وہ حالت ہے جو شیطان کو سب سے زیادہ ناگوار ہے۔ یہی سبب ہے کہ آدمی کی اس حالت میں اس کاحملہ سب سے زیادہ زوردار ہوتا ہے۔ وہ آدمی کی توجہ ہٹانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اب آدمی کا فرض ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کرے اور توجہ کو اللہ کی طرف قائم رکھنے کی پوری کوشش کرے، اور یہ کوشش نیم دلانہ یا وقتی نہیں ہونی چاہیے بلکہ جہدِمسلسل ہونی چاہیے۔ آدمی کے لیے دنیا میں ہر وقت جدوجہد ہے اور نماز اس سے مستثنیٰ نہیں۔ یہاں بھی ویسی ہی کوشش کی ضرورت ہے جیسی کہ زندگی کے دیگر میدانوں میں ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں اگر کچھ خیال بے ارادہ آجاتے ہیں تو وہ معاف ہیں۔ لیکن انھیں قصداً نہیں لانا چاہیے، اور نہ ان سے کھیلنے لگ جانا چاہیے۔ آپ کی تمام تر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اگر وہ آئیں تو ان کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ وساوس سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کامیاب صورت یہ ہے کہ آپ معانیِ نماز پر توجہ مبذول رکھیں۔ یہ کہ میں زبان سے کیا کہہ رہا ہوں اور کیا پڑھ رہا ہوں۔ (سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، استفسارات، جلد اوّل، ص ۲۰۲-۲۰۳)
س: آپ نے ترتیل کا مفہوم بیان فرماتے ہوئے بتایا ہے کہ قرآن کو ٹھیرٹھیر کر اور سوچ سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ ہم لوگ جو خلافِ ترتیل پڑھنے کے عادی ہوگئے ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے، اس کا کچھ گناہ تو نہیں ہے؟
ج: میرا خیال یہ ہے کہ خلافِ ترتیل پڑھنے کی وجہ بے سمجھے قرآن پڑھنا ہے۔ اگر آدمی قرآن سمجھ کر پڑھے تو مارا مار پڑھ ہی نہیں سکتا۔ جب وہ بے سمجھے پڑھتا ہے تو پھر رواں دواں پڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کی توجہ اس طرف ہوتی ہی نہیں کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ اس طرح کے پڑھنے والے کی علامت یہ ہوتی ہے کہ مثلاً قرآن مجید میں کسی جگہ جملہ استفہامیہ آیا ہے اور وہ اسے اس طرح سے پڑھ رہا ہے کہ گویا اس میں کوئی استفہام نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کے ذہن میں یہ بات ہی نہیں آئی ہے کہ وہ کیا چیز پڑھ رہا ہے۔ حالانکہ اگر وہ عبارت کو سمجھ کر پڑھ رہا ہوتا تواستفہامیہ جملے کو استفہام کے انداز میں پڑھتا۔ اس طرح سے بعض مواقع پر آپ دیکھیں گے کہ ذکر عذاب کا ہوتا ہے اور وہ اسے اس طرح سے پڑھ رہا ہوتا ہے کہ گویا بشارتیں ہورہی ہیں۔ اس پر کوئی رعب اور خوف طاری نہیں ہوتا تو دراصل یہ سب کچھ بے سمجھے پڑھنے کے نتیجے ہیں۔ ورنہ ایک آدمی بہت تیز اور رواں دواں نہیں پڑھ سکتا اور نہ کبھی اس طرح سے پڑھ سکتا ہے کہ جیسے اس کا دل اس کلام سے سرے سے متاثر ہی نہیں رہا۔
پھر ایک چیز مصنوعی ترتیل بھی ہے کہ آدمی پڑھ تو رہا ہے بے سمجھے لیکن اسے گاگا کر پڑھتا ہے۔ ایک فقرہ کہتا ہے اور پھر منٹوں سانس لیتا رہتاہے۔ اس چیز کا نام بھی ترتیل نہیں ہے۔ ترتیل اس چیز کا نام ہے کہ ایک ایک لفظ کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہوئے پڑھا جائے نہ یہ کہ آدمی ایک جملہ پڑھ کر کئی کئی منٹ تک سانس لیتا رہے۔ اس سے غنا کا لطف تو باقی رہ جاتا ہے لیکن کلام کی تاثیر ختم ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک آیت میں ایک بڑا اہم مضمون بیان ہو رہا ہے۔ لیکن طویل وقفے کی وجہ سے آگے کا مضمون آنہیں رہا۔ اب آگے کے مضمون سے جب تک اس کاتعلق جڑے گا نہیں، اس وقت تک اس کی معنویت اور تاثیر اُجاگر نہیں ہوتی۔ یہ چیز بھی ترتیل کے آداب کے خلاف ہے۔ (ا-م، ایضاً، ص ۱۱۲-۱۱۳)
س: ایک حدیث میں قرآن پڑھ کر بھول جانے پر یہ وعید آئی ہے کہ ایسا شخص قیامت کے روز کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ اُٹھے گا۔ کیا اس وعید کا اطلاق چند آیتوں یا ایک سورت بھول جانے پر بھی ہوتا ہے؟
ج: جس حدیث میں یہ بات آئی ہے وہاں اس سے وہ بھولنا مراد نہیں ہے جو نسیان کی وجہ سے ہو، بلکہ اس سے وہ بھولنا مراد ہے جو غفلت اور بے پروائی کی وجہ سے ہو۔ مثلاً ایک شخص کوقرآنِ مجید کی کچھ سورتیں اور نماز یاد کرائی گئی۔ بعد میں اس نے نماز بھی چھوڑ دی اور قرآن بھی چھوڑ دیا۔ پھر اُسے کبھی اس بات کا خیال تک نہ آیا کہ قرآن پڑھے۔ رفتہ رفتہ سب کچھ بھول گیا۔ یہاں تک کہ قُلْ ھُوَ اللّٰہ بھی یاد نہ رہا۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ کو متعدد ایسے لوگ ملیں گے کہ اگر انھیں فی الواقع نماز پڑھنے کے لیے کھڑا کر دیا جائے تو بچارے گرفتارِ بلا ہوجاتے ہیں۔ نہ تو انھیں سورئہ فاتحہ یاد ہوتی ہے اور نہ سورئہ اخلاص۔ یہاں تک کہ انھیں یہ بھی یاد نہیں ہوتا کہ نماز کی ترتیب کیا ہوتی ہے اور اس میں کیا کچھ پڑھا جاتا ہے۔ دراصل یہ وہ بھولنا ہے جس پر مذکورہ حدیث میں وعید بیان ہوئی ہے۔(ا-م،ایضاً، ص۹۹)
س: یک سوئی کس طرح حاصل ہوسکتی ہے؟ میں نماز پڑھتا ہوں یا مطالعہ کرتا ہوں تو ذہن کو یکسوئی سے محروم پاتا ہوں۔ یہ مقصد کس طرح حاصل کروں؟
ج: اس مقصد کے لیے اپنی قوتِ ارادی سے کام لیجیے۔ بار بار شکست ہو تو بار بار کوشش کیجیے لیکن ہمت نہ ہاریئے اور نہ جدوجہد کو ترک کیجیے۔ نماز پڑھیں تو یہ سمجھ کر پڑھیں کہ آپ محض چند رَٹے ہوئے الفاظ نہیں دُہرا رہے ہیں بلکہ اپنے خالق کے حضور کھڑے ہیں اور اس سے کچھ کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح آپ مطالعہ کریں تو وہ متفرق موضوعات کا اور متفرق قسم کا مطالعہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ systematic مطالعہ کریں اور اپنے مقصدحیات کو متعین کر کے مطالعہ کریں۔ ان شاء اللہ آپ یکسوئی کی نعمت حاصل کرلیں گے۔ (ا-م،ایضاً، ص۱۶۰)
اسلامی نظامِ تعلیم میں قرآن مجید کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید کو ہرسطح پر لازمی نصاب کے طور پر پڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ و طالبات جب تعلیمی مراحل سے فارغ ہوں تو انھیں قرآن کا فہم و شعور اور اس کی بنیادی تعلیمات سے مناسب آگاہی حاصل ہوچکی ہو۔ اسی ضرورت کے تحت زیرنظر کتاب مرتب کی گئی ہے۔
شیخ عرض محمد بنیادی طور پر انجینیر ہیں لیکن دل دردمند رکھتے ہیں۔ انھوں نے قرآن مجید کی تعلیمات پر مبنی اس درسی کتاب کی تیاری کے لیے کم و بیش ۱۸ سال تحقیق کی۔ ڈاکٹر زبیری نے اسے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اس کی تدریس کا طریق کار بھی سہل اور عام فہم ہے۔ ہررکوع کی تلاوت اور ترجمے کے بعد صرف دو سوالوں کے ذریعے طلبہ و طالبات کو قرآنی تعلیمات کا فہم دیا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے قرآن پاک کے نصاب کی آؤٹ لائن ہے۔ اس میں گریڈ I سے گریڈ III تک کے طلبہ کے لیے اساتذہ اور والدین کو کچھ ہدایات دی گئی ہیں، جب کہ دیگر جماعتوں اور سائنس گریجویٹس کے لیے قرآن پاک کی سورتوں کو نظام الاوقات دے کر تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر رکوع کے آخر میں جائزے اور فیڈبیک کے لیے دو سوالات دیے گئے ہیں۔ مرتب کے خیال میں قرآن فہمی کے لیے طلبہ کو مادری زبان ہی میں تعلیم دینی چاہیے اور بہتر ہے کہ تلاوتِ قرآن کے لیے کیسٹ یا سی ڈی استعمال کی جائے۔ اگر گھروں میں اس کتاب کا ایک تسلسل سے اجتماعی مطالعہ کیا جائے تو قرآن فہمی اور قرآنی تعلیمات کا شعور ایک بڑے دائرے میں بآسانی عام کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت ترجیح کے تعین اور سنجیدگی سے اس کے لیے کوشش کرنے کی ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
معروف شاعر، ادیب، محقق اور صحیفہ نگار ابوالامتیاز عبدالستار مسلم صاحب کی متعدد تصنیفاتِ منظوم و منثور پر ان صفحات میں تبصرہ کیا جاچکا ہے۔ دو جِلدوں پر مشتمل ان کی زیرنظر نئی تالیف ان کے زرخیز ذہن، غیرمعمولی شعری صلاحیتوں اور ان کے ذخیرۂ شعرونعت کے حیرت انگیز تنوع پر مہرتصدیق ثبت کرتی ہے۔ مسلم صاحب کے چار نعتیہ مجموعوں (زبور نعت، زمزمۂ سلام، زمزمۂ درود، کاروانِ حرم) میں جتنے کچھ شعر موجود ہیں، ان سب کو یا بیش تر کو اسماء النبیؐ کے حوالے سے الف بائی ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔ اسماء النبیؐ میں فقط آں حضوؐر کے معروف ۹۹ ذاتی یا صفاتی نام ہی نہیں بلکہ آپؐ کے لیے مستعمل گوناگوں تراکیب بھی شعروں میں استعمال کی گئی ہیں، جیسے: آرامِ جاں، آسرا ہمارا، پیشواے دوجہاں، صیقلِ فکروشعور، متاعِ دین و ایماں، نورِ بصر وغیرہ۔
پہلی جِلد میں مذکورہ بالا چار مجموعوں سے ۴۵۶۵ شعر منتخب کیے گئے جن میں اسماء النبیؐ کی تعداد ساڑھے تین تا چار ہزار ہے۔ اسماء اور صفات کے علاوہ ’اشعار کی ایک بہت بڑی تعداد میں آپؐ کا ذکر یا آپؐ سے استغاثہ اسماے ضمائر (مثلاً: اس، ان، انھیں، وہ، وہی، تو، تم، تیرا، تمھیں) جیسے الفاظ میں ہوا ہے (جلد اوّل، ص ۱۷)۔ ان کے حوالے سے دوسری جِلد صدفِ ضمائر میں کے عنوان سے مرتب کی گئی ہے۔ قدیم و جدید شاعری میں اور خاص طور پر نعتیہ شاعری میں اسم ضمیر کے استعمال کی بہت عمدہ اور بامعنی مثالیں ملتی ہیں۔ چنانچہ اس جِلد میں بقول ریاض مجید: ’’مسلم صاحب نے اپنی نعتیہ کتابوں میں سے ان ضمیروں کے محلِ استعمال کے نمونوں کی جمع آوری کی ہے جو مطالعاتِ نعت میں ایک منفرد اور معتبر کام ہے‘‘ (ص ۲۹، جلددوم)۔ اس جِلد میں ۳۷۰۵، اشعار یک جا کیے گئے ہیں۔ ضمائر کی تعداد ۴۵ ہے۔
دونوں جِلدوں پر مصنف کے علاوہ پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم، پروفیسر ریاض مجید، بشیرحسین ناظم اور ڈاکٹر عاصی کرنالی کے دیباچے اور تقاریظ شامل ہیں۔ یہ تحریریں موضوع کی وضاحت بڑی عمدگی سے کرتی ہیں اور ان سب نے ابوالامتیاز صاحب کو ان کی فن کارانہ اور فن شعر میں ان کی استادانہ مہارت پر خراجِ عقیدت بھی پیش کیا ہے۔
مصنف کی سابقہ کتابوں کی طرح یہ دونوں جِلدیں بھی کتابت، طباعت اور ترتیب وتدوین کے لحاظ سے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں، البتہ قیمتیں زیادہ معلوم ہوتی ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)
بڑے، بچوں کے لیے چیزیں تلاش کرتے ہیں اور جب کوئی بہت اچھی چیز مل جاتی ہے تو بچوں کی طرح خوش ہوجاتے ہیں۔ یہی کیفیت تبصرہ نگار کی ہے۔
جھل مل، جگمگ اور رم جھم کچھ ایسی ہی چیزیں ہیں (ایک نہیں، تین تین، یعنی خوشی دوبالا نہیں بلکہ سہ بالا) جن کے لیے خوب صورت کا رسمی لفظ کفایت نہیں کرتا، حسین! نہیں، چندے آفتاب، چندے ماہتاب۔ ہر صفحہ ایک سینری ہے، کیا خوب ہے کہ بس، نظر بددور! دبیز آرٹ پیپر پر خوش نما رنگین طباعت۔ طباعت کی باریکی ملاحظہ کریں کہ پیلا، لال، ہرا، سفید، کاسنی، نارنجی، سرمئی، الفاظ اسی رنگ میں لکھے گئے ہیں، یعنی پیلا پیلے رنگ میں… (ص ۷۸، جھلمل)۔ اسی طرح دھنک لفظ کئی رنگوں میں (ص ۷۶، جھلمل)۔ یہ تو ہوا ظاہر، باطن کی طرف آئیں تو ناعمہ صہیب نے کیا خوب کام کیا ہے کہ بس واہ واہ، اللہ ان کے لیے جنت میں اپنے قریب محل بنائے! اور ڈیزائنر فرحان حنیف، مہ جبیں قرشی اور صبا نقوی کی کتنی تحسین کی جائے کہ انھوں نے ہرصفحے پر زندگی بکھیر دی ہے۔
ان تینوں کتابوں کو محض کہانیوں کی کتابیں کہنا زیادتی ہوگا۔ سب سے اہم بات اور خوشی کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ شعوری طور پر مرتب کی گئی تعلیم و تربیت کی کتابیں ہیں جن میں نہایت مہارت سے، دلنشین اسلوب میں، آسان زبان میں مخاطب کی عمر اور معیارِ فہم کا لحاظ رکھتے ہوئے اسلامی عقائد، اقدار، اخلاق اور معاشرت کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ پہلی، چھے سے آٹھ سال، دوسری سات سے نوسال اور تیسری ۱۰ سے ۱۲سال تک کے بچے اور بچیوں کے لیے ہے۔
جھلمل میں ۱۱؍ ابواب میں ۳۱، جگمگ میں ۱۲؍ابواب میں ۲۸، اور رم جھم میں ۱۰؍ابواب میں ۲۸ کہانیاں یا سبق ہیں۔ اسماے حسنیٰ کے عنوان سے آٹھ مضامین ہیں لیکن اس طرح کہ’کوئی دیکھ رہا ہے‘ کے عنوان سے ’السمیع البصیر‘ کے تعارف کے لیے حضرت عمرفاروقؓ کے زمانے میں دودھ میں پانی ملانے سے انکار کرنے والی بچی کا قصہ ہے جسے حضرت عمرؓ نے اپنی بہو بنایا، جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کی نانی بنیں۔ انبیا کے ۱۲ قصص میں دل چسپ انداز میں کشتی کا سفر، خطرناک آندھی، عجیب اُونٹنی اور بے ایمان تاجر کے عنوان سے حضرت نوحؑ، قومِ عاد،حضرت صالحؑ اور حضرت شعیب ؑ کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ سیرتِ پاکؐ کے واقعات ہر کتاب میں مختلف عنوانات سے آگئے ہیں۔ آخری نبیؐ (ص ۲۹-۴۳، رم جھم) میں زندگی بھر کے مختصر حالات ہیں۔
ان کتابوں میں نظمیں بھی ہیں، حمدو نعت بھی۔ ’یہ گھر وہ گھر‘ (ص۱۲۸-۱۳۳، جگمگ) میں زاہد کے گھر میں سخت بدانتظامی ہے، اور عمار کے گھر میں سلیقہ ہی سلیقہ۔’پھلوں کا مشاعرہ‘ صوفی غلام مصطفی کی پہیلی سے ماخوذ ہے (ص ۷۴-۷۵، جگمگ)۔ علامہ اقبال کی پرندے کی فریاد اور ہمدردی بھی شامل ہیں اور خواجہ عابد نظامی کی ’محنت میں برکت‘۔ (ص ۶۴،۱۰۴،۱۱۵، رم جھم)
آداب کے حوالے سے کھانے کے آداب، سونے کے آداب (جھلمل) نماز کے آداب (جگمگ)، گفتگو کے آداب (رم جھم) تو عنوان کے تحت بیان ہوئے ہیں لیکن آداب تو ہر سبق میں رچے بسے ہیں۔ استاد کے عالی مقام کی خاطر ایک علیحدہ ’استاد کا ادب‘ ہے۔
گھر میں مُنّا ہوا اور امی ہر وقت اس کے کام کرنے لگیں تو ’بڑے‘ بھائی کو امی سے ہمدردی ہوگئی۔ خالہ آئیں تو بتایا کہ امی نے اپنا کیا حال بنا لیا ہے۔ خالہ نے بتایا کہ جب تم تشریف لائے تھے تو تم نے بھی تین ماہ امی کو ایسے ہی تکلیفیں دی تھیں۔ اب انھیں اس طرح آرام پہنچائو اور دس طریقے گنا دیے مثلاً تولیہ پکڑا دو وغیرہ (ص ۱۲۸-۱۳۲، جھلمل)۔ ’عجیب سفر‘ کے عنوان سے اسکول کے گندے واش روم کا استاد اور طالب علموں کے مل جل کر دھونے کا بیان ہے۔ ساتھ ہی آداب کا بھی بیان ہوگیا (ص ۹۰-۹۴، جھلمل)۔ جانوروں کے چوپال (ص ۴۶-۶۱، جھلمل) میں کہانی کہانی میں علمِ حیوانیات کی بنیادی معلومات دے دی گئی ہیں۔ ’سوال ہی سوال‘ میں بنیادی سوال: ’ہماری دنیا کہاں سے آئی‘ کائنات، کہکشاں، نظامِ شمسی، ستارے، سورج، سیارے سب کا ذکر ہے اور مناسب انداز سے قرآنی آیات بھی دی ہیں(ص۳۶، جگمگ)۔ ’خطرہ‘ کے عنوان سے ایک سبق میں ایسی ۱۵ ہدایات دے دی گئی ہیں جو خطرے سے بچائیں مثلاً چھری سے نہ کھیلیں، گرم استری نہ چھوئیں وغیرہ۔ (ص ۱۰۳، جگمگ)
رم جھم دیکھیں تو ابواب کے عنوانات سے ایک اندازہ ہوجاتا ہے۔ ۱-اسماے حسنیٰ ۲-انبیاے کرام ۳- فرائض ۴- حقوق ۵- آداب ۶- اجتماعیت ۷-سائنس کی دنیا ۸- تہذیب و تمدن ۹-ماحولیات ۱۰- اخلاقیات۔ ’ہمیشہ دیر کردیتے ہو‘ (ص ۴۴-۴۷، رم جھم) میں جو بچہ امی کے کہنے کے باوجود بھی آخر وقت میں نماز پڑھتا ہے، خواب میں یوم الحساب میں پکڑے جانے کا پورا نقشہ اور کیفیات کا بیان ہوتا ہے اور بالکل آخری وقت میں بچا لیا جاتا ہے۔ ’شیطی کون تھا‘ میں شیطان کس طرح گمراہ کرتا ہے، اس سے مقابلے کا بیان ہے۔ (ص ۱۰-۱۴، جگمگ)
وطن کا قرض (ص ۵۸-۶۲، رم جھم) میں مشکور حسین یاد کی ’آزادی کے چراغ‘ سے ہمیں پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ عبدالغنی فاروق کی کتاب ہم کیوں مسلمان ہوئے؟ سے وہ واقعہ لیا گیا ہے جس میں ایک برطانوی فوجی افسر مسلمان سپاہی کے رمضان میں دوڑائے جانے کے باوجود پانی نہ پینے سے متاثر ہوکر بالآخر مسلمان ہوجاتا ہے۔ ’عظیم شہر باکمال لوگ‘ (ص ۷۲-۷۶، رم جھم) میں بغداد اور اندلس کے حوالے سے ہارون الرشید کے دارالحکمت اور الزہراوی کا ذکر ہے۔ ’کیسے کیسے لوگ‘ (ص ۷۷-۸۴، رم جھم) میں آئزک، نیوٹن، لوئی پاسچر، تھامس ایڈی سن کی خدمات کا تذکرہ ہے۔کائنات اور سائنس سے متعلق سبق ہارون یحییٰ کے حوالے سے لیے گئے ہیں، مثلاً ’اندھی مخلوق‘ (ص ۷۰، رم جھم) میں دیمک کی کہانی۔ مسعود احمد برکاتی کے سفرنامے ’دومسافر، دو ملک‘ سے بچے لندن اور پیرس کی سیر کر آتے ہیں لیکن ساتھ ہی اتنا کچھ سیکھتے ہیں کہ بس! (ص ۸۵، رم جھم)
تبصرے میں تفصیل ہوتی جارہی ہے، دل چاہتا ہے کہ قارئین کو مکمل جھلک دکھادی جائے، لیکن شاید یہ ممکن نہیں۔
اگر تعلیم یافتہ والدین ان کتابوں کی ورک بک استعمال کروائیں تو یہ سارے سبق بچے کی شخصیت پر نقش ہوجائیں گے۔ جو اسکول اسے نصاب یا اضافی نصاب کے طور پر پڑھائیں اور ورک بک بھی استعمال کریں، یقینا ان طلبہ کے والدین بچوں کو اچھا شہری، اچھا پاکستانی، اچھا مسلمان بنانے پر، جس کی برکتیں بچے دنیا اور آخرت میں سمیٹیں گے، ان کے احسان مند ہوں گے۔
بڑے بھی طالب علم بن کر پڑھیں تو بہت کچھ سیکھیں گے، یہ ’کہانیاں‘ آپ کو عالم (جاننے والا) قابل اور بااخلاق اچھا مسلمان بناتی ہیں۔
جو بڑے بڑے اسکول یا دسیوں اسکولوں کے نیٹ ورک چلا رہے ہیں، ان کی ذمہ داری بلکہ فرض ہے کہ اپنے زیرتعلیم اس عمر کے بچوں کو ان کتابوں کے فیض سے محروم نہ رکھیں۔
یہ کتابیں نہایت سستی ہیں۔ مارکیٹ کے لحاظ سے ان کی قیمت ۷۰۰، ۷۰۰ روپے بھی ہوتی تو زیادہ نہ ہوتی۔ ۶۵۰ روپے میں بچوں کے لیے تین خوب صورت سواکلو وزنی کتابیں ہرلحاظ سے اچھا تحفہ ہے۔ تحفۂ رمضان بنا لیں یا تحفۂ عید۔ (مسلم سجاد)
علم و فضل اللہ تعالیٰ کا عظیم عطیہ ہے لیکن ان لوگوں پر تو یہ نعمت نور بن کر اُترتی ہے جو اس امانت کو رضاے الٰہی کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں، دین اسلام کے داعی بنتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنیٰ غلام بن کر زندگی کے لمحات صَرف کرتے ہیں۔ محبی و محترمی ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم (۱۹۵۰ء-۲۰۱۰ء) بھی ایسے ہی خوش نصیب لوگوں میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے سعادت کی راہوں میں عظمت و دانش کے پھول چُنے۔
محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر نصف صد مضامین، اور ان کے افادات کا یہ گلدستہ خوش رنگ بھی ہے اور ایمان افروز بھی۔ دین و دانش اور تفقہ فی الدین کی اس قوسِ قزح میں، زیرنظر مجموعے کا قاری زیربحث قابلِ رشک زندگی سے والہانہ وابستگی محسوس کرتا ہے۔
ان تحریروں میں مرحوم کی حیرت انگیز علمی جاں فشانی، ہر دم جواں غیرتِ ایمانی، سراپا جرأت بیان اور بعض مقامات پر محکم اجتہادی سوچ کا پرتو نظر آتا ہے۔ یہ مختصر تعارفی تحریر نہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے خدوخال کا خاکہ پیش کرسکتی ہے اور نہ الشریعۃ کی اس اشاعتِ خاص کے دامن میں موجود نقوش کا احاطہ کرسکتی ہے۔ یہ مجموعہ تین حصوں پر مشتمل ہے: پہلا حصہ (۲۷۰ صفحات) تاثرات، مشاہدات اور شخصی تعلقات کی بنیاد پر معلومات سے آگاہ کرتا ہے۔ دوسرا حصہ ۱۸۰صفحات پر مشتمل ہے، جن میں ۱۰ مضامین کے ذریعے غازی صاحب کے علمی کارنامے کا تعارف پیش کیا گیا ہے، تاہم یہ فکری تعارف تشنگی کا احساس چھوڑتا ہے، جس کے لیے زیادہ محنت سے تحلیل و تجزیے کی ضرورت ہے، اور آخری حصے میں ان کے منتخب افادات شامل ہیں۔ ادارہ الشریعۃ نے صرف تین ماہ کی قلیل مدت میں کمالِ محنت اور لگن سے یہ اشاعت پیش کرکے ایک قابلِ رشک مثال قائم کی ہے۔ جس پر پرچے کی مجلس ادارت تحسین کی مستحق ہے۔(سلیم منصور خالد)
ایمان و حکمت کے سدابہار پھول دنیا کے گوشے گوشے میں اپنی مہکار بکھیر رہے ہیں۔ اگرچہ بعض بڑے شہروں کو تہذیب و دانش کا مرکز قرار دیا جاتا ہے، تاہم مضافاتی قصبوں اور شہروں میں جب یہ پودے برگ و بار لاتے ہیں تو ان کی تاثیر اور تاثر دوچند ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے ایسے صدقاتِ جاریہ میں ایک مرکز جھنگ میں خدمتِ قرآن کا کارِعظیم انجام دے رہا ہے، جہاں سے زیرمطالعہ ماہ نامہ شائع ہوتا ہے۔
آج، جب کہ پاکستان کی سرحدوں کو ہدف بنانے کے پہلو بہ پہلو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ کرنے کا مغربی حملہ زوروںپر ہے، تو یہ دیکھ کر سخت صدمہ ہوتا ہے کہ عموماً ہمارے اہلِ دانش اور مقتدر حلقے اس یلغار سے بے خبر یا لاتعلق ہیں۔اس بے حسی کی فضا میں حکمتِ بالغہ کی یہ اشاعت خاص ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہے۔ چھے حصوں پر مشتمل اس اشاعت میں پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے کی تفہیم اور پس منظر کی بخوبی وضاحت کی گئی ہے۔ ازاں بعد دو قومی نظریے کے فروغ، تحریکِ پاکستان میں نظریۂ پاکستان کے خدوخال کی تشریح، پاکستان کی بطور اسلامی ریاست شناخت اور اس حوالے سے بے حس مقتدرہ کے ہاتھوں تعلیمی المیے کے ظہور اور بہتری کی راہوں کی نشان دہی کو موضوعِ بحث بنایاگیا ہے۔ بالفاظِ دیگر دو قومی نظریہ، نظریۂ پاکستان اور نظامِ تعلیم ایک ہی وجود کے تین پہلو ہیں۔ اگر ان تینوں میں سے کسی ایک پہلو کو نظرانداز کردیا جائے تو پاکستان کا مطلوبہ نظامِ تعلیم تشکیل نہیں پاسکتا۔ (س- م - خ)
کسی اسلامی تحقیقاتی ادارے سے مجلے کی اشاعت کا آغاز یقینا ایک اچھی خبر ہے۔ مجلہ ادارے کے مشن کا علَم بردار ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ادارے کی اپنی تحقیقاتی کاوشیں اور دوسرے مقالے ششماہی رسالے میں شامل ہونے چاہییں۔ تفسیرالمنار: تحلیل و تجزیہ ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی کا قیمتی ’مقالہ خصوصی‘ (۲۱ صفحات) ہے جس سے عالمِ عرب کی اس عصری تفسیر کا بخوبی تعارف ہوجاتا ہے۔ ہندستان میں عسکری انقلابی تحریک، انگریزوں کے خلاف جدوجہد کا ایک باب سامنے لاتاہے۔ حدیث استخارہ اور استنباط مسائل پر حافظ عنایت اللہ کا مقالہ استخارے کے تمام مباحث اور پہلوئوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر مقالے بھی معیاری ہیں۔ تعارف و تبصرہ کے تحت چارکتابوں پر تبصرہ ہے۔ انگریزی حصے میں بھی چار مختصر مضمون ہیں جس میں سے ایک میں تشدد و دہشت گردی کے تریاق کے طور پر صوفی ازم پر گفتگو کی گئی ہے۔ امریکا بے ضرر غیرجہادی اسلام کو تصوف کے پردے میں صوفی ازم کے نام سے متعارف کروا رہا ہے۔دوسرے میں قرآن میں داعی کے ہم معنی الفاظ اور ان کے مختلف پہلو زیربحث آئے ہیں۔ اُمید ہے کہ علمی حلقوں میں اس کی پذیرائی کی جائے گی۔ (م- س)
الحافظات ٹرسٹ پاکستان کے زیراہتمام کراچی میں گذشتہ ۱۲ سال سے کام کرنے والے گوشہ عافیت کا یہ نیوزلیٹر اس کی سرگرمیوں کا ایک عکس ہے اور اس کے مقاصد بھی واضح کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں خواتین جن مسائل سے دوچار ہوتی ہیں اور پھر جس طرح بے بس و لاچار ہوجاتی ہیں (کہ رشتے دار بھی دشمن بن جاتے ہیں)، اس پس منظر میں اصحابِ خیر کے بنائے ہوئے گوشہ عافیت جیسے ادارے ایک نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں۔ یہ باعزت پناہ گاہ ہزاروں خواتین کے لیے ایک سہارا ہے۔ یہاں نہ صرف ضروریاتِ زندگی فراہم کی جاتی ہیں بلکہ زندگی کا مقصد واضح کیا جاتا ہے اور ہنر سکھا کر خوداعتمادی دی جاتی ہے۔ اب تک ۱۹۰۰ خواتین یہاں آکر جاچکی ہیں۔ بہت سی ورثا کے سپرد ہوئیں، لاوارثوں کی شادیاں بھی کروائی گئیں۔ کئی خواتین کی آپ بیتیاں بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ انڈسٹریل ہوم بھی اس عمارت میں قائم ہے۔ یہ ٹرسٹ کی اپنی عمارت ہے۔
امیرجماعت اسلامی سیدمنور حسن کے مطابق: ’’گوشہ عافیت بے سہارا خواتین و بچوں کو تحفظ، ان کی کفالت اور ان کو فنی تعلیم میں برکت دے کر اپنے پائوں پر کھڑا کرکے معاشرے کا مفید شہری بنانے میں مصروف ہے‘‘۔ (م- س)
’مسلم دنیا میں انقلابی لہر: چند زاویے‘ (جولائی ۲۰۱۱ء) چشم کشا ہے۔ عہدحاضر کی تیزرفتار زندگی کے مسائل سے عہدہ برا ہونے کے لیے ایک متحرک سوچ کی ضرورت ہے اور اہمیت و افادیت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ تحریکِ اسلامی کو درپیش چیلنجوں سے نپٹنے کے لیے جواں سوچ رکھنے والے تھنک ٹینک کی ضرورت ہے جو بزرگوں کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ہر آن بدلتے ہوئے حالات میں نئی راہوں کی نشان دہی کرتا رہے۔
’اسلام اور جدید تجارت و معیشت‘ (جولائی ۲۰۱۱ء) ڈاکٹر محموداحمد غازی مرحوم کی ہمارے عہد کو درپیش علمی چیلنجوں کی نشان دہی پر مبنی فکرانگیز تحریر ہے۔ فی الواقع جدید دور کی زبان و محاورے اور اسلوب میں قرآن و حدیث پیش کرنا اہم چیلنج ہے۔ ایک تصحیح بھی کرلیجیے کہ جامعہ ملّیہ دہلی میں قائم کی گئی تھی نہ کہ علی گڑھ میں۔
’میں نے فطرت کو پالیا‘ (جون ۲۰۱۱ء)اسلام کے دین فطرت ہونے پر کھلی حقیقت ہے۔ نومسلموں کو کچھ ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نومسلموں کے قبولِ اسلام کے واقعات کے مطالعے سے ایمان کو مہمیز اور عمل کے لیے تحریک ملتی ہے، نیز نسلی مسلمانوں کو خود احتسابی کا موقع بھی ملتا ہے۔
’معاشی بحران‘ (جولائی ۲۰۱۱ء) کا ایک حل یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ٹیکس بڑھا دیں اور زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے جال میں لائیں۔ لیکن کیا یہ پاکستانی قوم اس لیے ٹیکس دے کہ اس کا صدر نجی اور سرکاری دورے پر ۱۱روز کے لیے برطانیہ جائے تو ہفت ستارہ حیات ریجنسی کے رائل سیوٹ کا ایک دن کا کرایہ ۱۰لاکھ روپے سے زائد دے۔ اس کے ساتھیوں کے لیے ۳۰کمرے ۵۰ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے روز کے حساب سے لیے جائیں۔ درجنوں گاڑیوں کے ایک ایک روز کا کرایہ ۱۰ سے ۱۵ لاکھ روپے تک ادا کیا جائے۔ اپنی صاحب زادی کی گریجویشن تقریب کے لیے صدرصاحب ایڈنبرا گئے تو ہوائی جہاز کے چند گھنٹوں کے ۵۰ لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ یہ معلومات پاکستان کے ہائی کمیشن کے ذریعے سے ملی ہیں (ایکسپریس، لاہور، ۲۰جولائی ۲۰۱۱ء)۔ وہ مسلمان حکمران کہاں ہیں جن کا ذکر ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں۔ کیا مملکت خدادادِ پاکستان ان جیسے صاحبانِ اقتدار کے لیے حاصل کی گئی تھی؟
ہم خوش قسمتی سے ایک ایسا نظامِ حیات رکھتے ہیں جو ہمیں اس [طبقاتی کش مکش]خطرے سے بچاسکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر سے اُن لوگوں کو اُبھاریں جو اسلام کی روح کو پوری طرح سمجھتے ہوں اور طبقاتی تعصبات سے بالاتر ہوکر اسلام کے قوانین کی بے لاگ تعبیر کرسکتے ہوں۔ پھر یہ لوگ بالاتفاق، یا اکثریت کے ساتھ، جوتعبیر ہمارے سامنے پیش کریں اسے ہم سب مان لیں اور ہم میں سے کوئی طبقہ اپنے ہی مطلب کی تعبیر لینے پر اصرار نہ کرے۔ ایسے لوگوں کی پشت پناہی پوری قوم کو بحیثیت مجموعی کرنی چاہیے نہ کہ کسی ایک طبقے یا چند طبقوں کو۔ ہمیں اُن کے انتخاب میں صرف اس معیار کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ وہ بھروسے کے قابل سیرت رکھتے ہوں، اور اسلام کی صحیح تعبیر کرنے کے اہل ہوں....
آپ اقلیت کو محض اس ریاکاری سے مطمئن نہیں کرسکتے کہ دیکھو ہم نے تمھاری خاطر اپنے مذہب تک کو چھوڑ دیا اور ایک غیرمذہبی ریاست بنا لی۔ اقلیت تو یہ دیکھے گی کہ آپ اس کے ساتھ انصاف کرتے ہیں یا نہیں؟ آپ کا برتائو تعصب اور تنگ دلی پر مبنی ہے یا رواداری اور فیاضی پر؟ یہی تجربہ دراصل فیصلہ کرے گا کہ اقلیت کو اِس ریاست میں وفادار بن کر رہنا ہے یا بیزار بن کر....
ایک ملک کا سیاسی نظام اُس کے باشندوں کی اخلاقی اور ذہنی حالت کا پرتو ہواکرتا ہے۔ اب پاکستان کے باشندے اسلام کی طرف ایک پُرزور میلان رکھتے ہیں اور اُن کے اندر اسلام کے راستے پر آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے تو کیوں نہ اُن کی قومی ریاست اُن کے اِس میلان اور اِس خواہش کا پرتو ہو؟ آپ کا یہ ارشاد بھی بالکل درست ہے کہ اگر ہم پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے باشندوں میں اسلامی شعور، اسلامی ذہنیت اور اسلامی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مگر میں نہیں سمجھا کہ اس کوشش میں حصہ لینے سے آپ خود ریاست کو کیوں مستثنیٰ رکھنا چاہتے ہیں.... اس وقت چونکہ پاکستان کا آیندہ نظام زیرتشکیل ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایسی ریاست بن جائے جو اسلامی زندگی کی معمار بن سکے۔ ہماری یہ خواہش اگر پوری ہوگئی توریاست کے وسیع ذرائع اور طاقتوں کو استعمال کرکے پاکستان کے باشندوں میں ذہنی اور اخلاقی انقلاب برپا کرنا بہت زیادہ آسان ہوجائے گا۔ پھر جس نسبت سے ہمارامعاشرہ بدلتا جائے گا اُسی نسبت سے ہماری ریاست بھی ایک مکمل اسلامی ریاست بنتی چلی جائے گی۔(’پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ریڈیو انٹرویو: وجیہ الدین، ترجمان القرآن، جلد۳۶، عدد ۴، شوال ۱۳۷۰ھ، اگست ۱۹۵۱ء، ص۶۴-۷۰)