مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۱۱

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی قیادت کے ایک گلِ سرسبد اور عالمی اسلامی معاشی تحریک کے سرگرم رہنما برادر محترم ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی طویل علالت کے بعد ۲۵ جولائی ۲۰۱۱ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئے___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔

ڈاکٹر فریدی ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اسلام کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور پورے خلوص، دیانت اور مکمل سپردگی کے ساتھ اپنی تمام صلاحیتیں اسی مشن کی تکمیل کے لیے وقف کر دیں   اور پھر آخری لمحے تک وفاداری کے اس رشتے کو نبھایا۔ اس میں ان کے پیشِ نظر صرف اپنے رب کی خوشنودی تھی۔ ان شاء اللہ ان کا شمار ان سعید روحوں میں ہوگا جن کے بارے میں خود زمین و آسمان کے مالک نے فرمایا ہے:

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْـلًا o (الاحزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور انھیں جنت کے بہترین مقامات و انعامات سے نوازے___ انھوں نے ہم سب کے لیے ایک اچھی مثال چھوڑی ہے اور جو چراغ ان کے قلم اور تحریکی مساعی نے روشن کیے ہیں، وہ ان کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی ضوفشاں رہیں گے___  ان شاء اللہ تعالیٰ!

برادرم فضل الرحمن فریدی ۴؍اپریل ۱۹۳۲ء کو مچھلی شہر جون پور، یوپی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جون پور میں اور اعلیٰ تعلیم الٰہ آباد یونی ورسٹی اور علی گڑھ یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ لیکن ان کی علمی زندگی اور تحریکی جدوجہد کا رُخ متعین کرنے میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کے افکار اور جماعت اسلامی ہند کے نظم سے وابستگی نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ثانوی درس گاہ رام پور میں شرکت نے اس وابستگی کو اور پختہ کردیا۔ اس زمانے میں اصحابِ کہف کی طرح جن چند نوجوانوں نے باہر کی دنیا سے منہ موڑ کر ثانوی درس گاہ کو اپنی آماج گاہ بنایا، ان میں فضل الرحمن فریدی بھی شامل تھے۔ ان سب نے اپنے اپنے انداز میں اسلام اور تحریکِ اسلامی کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور ان کے اثرات صدقۂ جاریہ کی شکل میں تادیر جاری و ساری رہیں گے۔

فریدی صاحب سے میری پہلی ملاقات ۱۹۵۶ء میں دہلی میں ہوئی۔ میں خرم [خرم مراد] بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے بھوپال گیا تھا۔ وہاں ہم دونوں نے دہلی اور آگرے کا سفر کیا اور فریدی صاحب، برادرم نجات اللہ صدیقی اور برادرم عرفان احمد خاں دہلی تشریف لائے اور وہاں ان سے ملاقات ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ان سے زندگی بھر کے لیے تعلقات استوار ہوگئے۔ فریدی صاحب اور نجات اللہ صاحب نے میری طرح معاشیات کے میدان کو اختیار کیا اور اس طرح ان دونوں بھائیوں کے ساتھ مجھے بھی گذشتہ نصف صدی میں علمی اور دعوتی میدانوں میں تھوڑی بہت خدمت کی سعادت حاصل ہوئی۔ فریدی صاحب سے دوسری ملاقات ۱۹۷۶ء میں پہلی عالمی کانفرنس براے اسلامی معاشیات کے موقعے پر مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ بعدازاں اُن کے سعودی عرب کے قیام کے دوران میں، ان سے مسلسل ملنے اور گھنٹوں تحریکی امور اور اسلامی معاشیات کے مختلف پہلوئوں پر تبادلۂ خیال کا موقع ملتا رہا۔ آخری ملاقات بحرین میں اسلامی معاشیات پر منعقد ہونے والی پانچویں کانفرنس میں ہوئی۔ اس کے بعد فقط ٹیلی فون پر رابطہ رہا۔ ۲۰۰۵ء میں دہلی میں اسلامک فنانس پر ایک کانفرنس منعقد ہونے والی تھی۔ فریدی صاحب کا بے حد اصرار تھا کہ میں اس میں کلیدی خطاب کروں لیکن ویزا نہ ملنے کے باعث مَیں دہلی نہ جاسکا اور ملاقات سے محروم رہا۔ زندگیِ نو کے وہ مدیر تھے اور اس رشتے سے ترجمان القرآن اور زندگیِ نو میں بڑا قریبی علمی تعاون رہا اور ہم ایک دوسرے کے علمی کام سے برابر استفادہ کرتے رہے۔

برادرم فضل الرحمن فریدی اُردو اور انگریزی میں ۳۰ سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کے سارے کام کا محور دو ہی موضوعات رہے___ اوّل: اسلامی معاشیات، دوم: تحریکِ اسلامی کی دعوت کے فکری اور عملی پہلو۔ ان کی نگاہ قدیم اور جدید دونوں علوم پر تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو تجزیے اور تعبیر کی بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ معاشی تجزیے اور خصوصیت سے زری معاشیات (fiscal economics) میں ان کی خدمات بڑی گراں قدر ہیں۔ وہ اسلامی معاشیات کے اصل تصور کو نکھارنے والے لوگوں میں سے ہیں۔

میری اور نجات اللہ صدیقی بھائی کی طرح وہ ہرلمحے اس پہلو سے متفکر رہتے تھے کہ اسلامی معاشیات اپنے اصل وِژن کے ساتھ، جو اقامت ِدین کا ایک حصہ ہے، ترقی اور تنفیذ کے مراحل سے گزرے اور محض روایتی معاشیات کا ایک حصہ بن کر نہ رہ جائے۔ اسی طرح تحریکِ اسلامی اور فکرِ اسلامی کی تعبیر کا ہر وہ پہلو ان کی دل چسپی کا موضوع رہا جس کا تعلق اُمت ِمسلمہ کے اس کردار سے ہے جو اسے خصوصیت سے مسلم اقلیت والے ممالک میں ادا کرنا ہے، اور اصل مقصد سے وفاداری کے ساتھ اپنے مخصوص حالات میں اسلام کے کردار کو واضح اور متعین کرنا ہے۔

ان کی زندگی بڑی سادہ اور صاف ستھری تھی۔ فکری اعتبار سے میں نے ان کو فہم دین اور عصری مسائل کی تعبیر کے سلسلے میں بڑا بالغ نظر اور محتاط پایا۔ وہ اپنے فکری تجزیوں میں، اصل مقاصدِ شریعت سے مکمل وفاداری کے ساتھ جدید علوم سے استفادہ کرتے تھے اور اس نازک ذمہ داری کو میرے علم کی حد تک انھوں نے بڑی خوش اسلوبی سے ادا کیا۔

اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور نئی نسل کے اہلِ علم و تحقیق کو    اس راستے پر چلنے کی توفیق دے جس کے نقوش علمی دنیا کے فضل الرحمن فریدی ایسے سچے خادموں نے روشن کیے ہیں، آمین ثم آمین!

 

سابق سوویت یونین کی ۱۵ سوویت جمہوری ریاستوں میں چھے آزاد اور خودمختار ملک اقوامِ متحدہ کے ممبر بن چکے ہیں۔ ۱۹۹۱ء میں جب سوویت یونین باقاعدہ ٹوٹا تو اُس وقت دنیا کا یہ سب سے بڑا خطہ چار بڑے علاقوں (regions) پر مشتمل تھا جن میں سب سے بڑا ’سلاد‘ (Slavian) علاقہ تھا جس میں موجودہ روسی فیڈریشن کے علاوہ یوکرائن، بلارس اور مالددوا شامل ہیں۔ سابق سوویت یونین کا دوسرا علاقہ قفقاز یا Trans Caucausia کہلاتا ہے، جس میں آرمینیا، جارجیا شامل ہیں۔ ان ممالک میں مسلمانوں کی ریاستیں موجود ہیں، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان دونوں ممالک میں مسلمانوں کی تعداد ۴ء۴ ملین ہے۔ اس خطے کا تیسرا ملک آذربائیجان ہے، جس کی کُل آبادی ایک سروے کے مطابق ۵ء۹ملین ہے۔ اس کا ۸۰ فی صد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

سابق سوویت یونین کا چوتھا علاقہ وسط ایشیائی ممالک اور قازقستان پر مشتمل ہے جس میں مجموعی مسلمان آبادی ۸۰ فی صد کے لگ بھگ ہے۔ یہ تمام مسلمان ممالک ہیں جن میں ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان، قازقستان، اور تاجکستان شامل ہیں۔ یہ تمام علاقے ترکی النسل کے لوگوں سے آباد ہیں۔ یہاں زبانیں مختلف لہجوں اور الفاظ کے ساتھ ایک جیسی بولی جاتی ہیں جو رابطے کا ذریعہ بھی ہیں۔ روسی تسلط کے زمانے میں یہاں کی سرکاری زبان روسی تھی جو اب بھی ان علاقوں میں تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ وسطی ایشیا کا یہ علاقہ دنیا کے خوب صورت ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کے پہاڑوں اور وادیوں کا قدرتی حُسن یہاں کے باسیوں کی  مہمان نوازی اوررواداری کی اعلیٰ ترین روایات سے اور زیادہ دل کش بن جاتا ہے۔ وسطی ایشیا میں اسلامی تہذیب کا آغاز خلافتِ راشدہ کے ادوار ہی سے ہوچکا تھا اور کئی سو برس تک یہ علاقہ علم وفضل کا گہوارہ رہا۔ اب بھی وسطی ایشیا کے تاریخی مقامات اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ انھی وسط ایشیائی ممالک میں سے ایک تاجکستان ہے۔

تاجکستان دنیا کی خوب صورت ترین ریاستوں میں سے ایک وسط ایشیائی ریاست ہے جس کا رقبہ ایک لاکھ ۴۳ہزار ایک سو مربع کلومیٹر ہے، جس کا تقریباً ۹۳ فی صد علاقہ پہاڑی ہے جس میں یامیرکے پہاڑ اپنی منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ اس اسلامی ملک کا دارالخلافہ دوشنبے ہے جو اپنی عظیم تاریخی ورثے کے ساتھ ساتھ ایک جدید شہر ہے۔ تاجکستان جسے تاجک لوگ دیس کہتے ہیں، وسط ایشیا کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کی سرحدیں شمال مغرب میں ازبکستان، مشرق میں کرغیزستان، جنوب میں افغانستان اور مشرقی سرحد کا کچھ حصہ چین سے بھی ملتا ہے، جب کہ پاکستانی گلگت بلتستان کا علاقہ واخان کی پٹی کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ۲۰۰۳ء کے اعدادوشمار کے مطابق اس ملک کی آبادی ۲ء۶ ملین تھی، جب کہ ۲۰۱۰ء میں تاجکستان کی آبادی ۹۷ء۷ ملین ہوچکی ہے۔ یہاں پر بسنے والی غیرمسلم قومیتوں، مثلاً روسی اور جرمن نسل کے لوگوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاجکستان کی کُل آبادی کے ۸۸ فی صد مسلمان ہیں۔ غیرمسلم آبادی میں زیادہ تر روسی، جرمن، یوکرائنی اور یہودی دوسری جگہوں سے آکر یہاں آباد ہوئے، جب کہ روس، ازبکستان، قازقستان، کرغیزستان، ایران اور افغانستان میں تقریباً ۵۱ لاکھ سے زائد تاجک آباد ہیں جو مختلف ادوار میں یہاں سے گئے۔ (انسائیکلوپیڈیا ماسکو، ۱۹۹۴ء، ص۳۱۹-۳۲۰)

تاجکستان وسطی ایشیا کی کم آمدنی والا خطہ ہے لیکن یہاں کے پہاڑ اور علاقے قدرتی وسائل اور نایاب دھاتوں سے مالامال ہیں۔ عام لوگوں کی اوسط عمر ۶۴سال ہے، جب کہ فی کس آمدنی ۷۰۰ امریکی ڈالر ہے۔

تعلیمی لحاظ سے تاجکستان وسطی ایشیا اور روس کے ہم پلّہ رہا ہے، اگرچہ تعلیم پر حکومتی اخراجات دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں۔ اس وقت مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا صرف ۵ء۳ فی صدتعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ۱۹۹۱ء میں تاجکستان میں تعلیم کا تناسب ۱۰۰ فی صد تھا، جو اَب گر کر۹۵ فی صد ہوگیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دیہاتوں میں ۲۰ فی صد بچیاں ضروری پرائمری تعلیم مکمل نہیں کرپارہی ہیں۔ تاجکستان کے ذرائعِ آمدن محدود ہیں۔ کُل رقبے کا بہت کم حصہ زیرکاشت ہے اور گذشتہ عشرے میں یہاں پر زراعت و صنعت میں قابلِ ذکر اضافہ نہیں ہوا۔

تاریخی اعتبار سے لفظ تاجک مشرقی ایرانیوں کے لیے بولا جاتا ہے، جب کہ بیسویں صدی کے آخری عشرے میں فارسی بولنے والی قوم تاجک کہلانے لگی ہے۔ جنوبی تاجکستان بظاہر امیربخارا کے زیرتسلط رہا، جب کہ شمالی تاجکستان ۱۸۶۸ء سے ہی روسی تسلط کا شکار ہوچکا تھا۔ ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب کے بعد تاجکوں کی بڑی آبادی قریبی ملک افغانستان ہجرت کر گئی اور پھر ۱۹۲۴ء میں یہ ریاست وسطی ایشیا کی دوسری ریاستوں کی طرح ایک خودمختار سوویت ریاست بن گئی۔ تاجکستان نسبتاً تاخیر سے سوویت یونین کا حصہ بنا اور باضابطہ سوویت ریاست ۱۹۲۹ء میںبنا۔

  •  آزادی و خودمختاری: ایک طویل جدوجہد اور ۱۰۰ دنوں کے مسلسل احتجاج کے نتیجے میں یہ ریاست دوسری وسطی ایشیائی ریاستوں سے بہت پہلے داخلی خودمختاری حاصل کرچکی تھی، جب کہ ۱۹۹۱ء میں یہ باقاعدہ آزاد ملک کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس دوران میں اسلامی نہضۃ پارٹی نے دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی، جب کہ کمیونسٹ پارٹی نے روسی افواج کی مددسے خانہ جنگی شروع کردی جس کے نتیجے میں لاکھوں تاجک ایک بار پھر ہجرت پر مجبور ہوئے اور پڑوسی ممالک افغانستان، ازبکستان، کرغیزستان اور روس میں منتقل ہوگئے۔ تقریباً ۸۰ہزار سے  زائد لوگ لقمۂ اجل بن گئے اور ملک شدید افراتفری کا شکار ہوگیا۔ دوسالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں امام علی رحمانوف ۱۹۹۳ء میں تاجکستان کی کرسیِ صدارت پر قابض ہوگئے اور اگلے چند برسوں میں داخلی خانہ جنگی میں کمی واقع ہوگئی، جب کہ بیش تر مسلمان مجاہدین پہاڑوں میں منتقل ہوگئے یا قریبی ریاستوں میں روپوش ہوگئے۔ اسلامی پارٹی (نہضۃ اسلامی) کو شریکِ اقتدار کیا گیا اور محدود انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں اسلامی پارٹی کی واضح اکثریت کو کم کرکے امام علی رحمانوف کو بظاہر تقویت دی گئی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے ۱۹۹۶ء اور پھر ۱۹۹۸ء میں نہضۃ پارٹی کے ساتھ مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں اسلامی پارٹی کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں نہ صرف شریکِ اقتدار کیا گیا بلکہ عام مسلمانوں کو مذہبی رسومات کو ادا کرنے کی آزادی بھی دی گئی۔   تاہم، مسلم جدوجہد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا جو گوریلا جنگ کی صورت میں ہمسایہ ریاستوں کے لیے بھی مسلسل تشویش کا باعث رہا۔

تاجکستان بقیہ وسط ایشیائی ریاستوں کے مقابلے میں کم آمدنی اور کم وسائل کا حامل ہے لیکن مغربی قوتوں کی ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے۔ چنانچہ وسط ایشیائی ریاستوں میں امریکی و برطانوی سفارت خانے سب سے پہلے کسی امیرریاست مثلاً ازبکستان یا قازقستان میں نہیں بلکہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں کھولے گئے۔

تاجک مسلمان وسطی ایشیا کے راسخ العقیدہ مسلمان سمجھے جاتے ہیں اور کہا جاتا تھا کہ اگر کسی کو اسلام کو اصل حالت میں دیکھنا ہے تو وہ ’کرگان توبے‘ چلا جائے۔ ۱۹۷۹ء میں مسلمانوں کی انتہائی مضبوط تنظیم کا باقاعدہ قیام خفیہ طور پر تاجکستان کے چھوٹے سے قصبے دوشنبے میں ہوا۔ اس میں دوسری ریاستوں سے بھی لوگ شامل ہوئے۔ اس طرح تنظیمی احیا کے نتیجے میں اسلامی پارٹی کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس کو کوئی نام نہ دیا گیا اور اس جماعت کے اُس وقت کے سربراہ جناب رحمت اللہ (ازبک) کو ایک ٹریفک حادثے میں سوویت یونین کے خفیہ ادارے ’کے جی بی‘ نے شہید کر دیا، جس کے بعد اس کی قیادت کرگان توبے میں منتقل ہوگئی۔

تاجکستان بدترین روسی تسلط و جبر کے زمانے میں بھی اسلامی شعائر اور اقدار کی پاس داری کرنے والی ریاستوں میں سے ایک رہا۔ یہاں کا زیرزمین اسلامی تعلیمات کا نظام نہ صرف اردگرد کی اسلامی ریاستوں کے لیے باعثِ تقویت اور اسلام کو حقیقی طور پر عوام الناس میں اُس کی اصلی حالت میں زندہ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ رہا ہے، بلکہ سوویت یونین کے دوسرے علاقوں، مثلاً داغستان، روسی تاتارستان اور سائبیریا کے مسلمان بھی تاجکی علما سے مستفید ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ تاجکستان کے پہاڑی سلسلوں میں اسلامی تعلیمی ادارے جو انتہائی خفیہ مقامات پر قائم کیے گئے تھے، قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیمات کے علاوہ اسلامی تاریخ اور اسلامی دنیا کے حالات سے باخبر رہنے کا ذریعہ بھی رہے۔

تاجکستان کے بیش تر علما کو عربی زبان، صرف و نحو وغیرہ پر عبور حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے ۱۹۹۱ء کی آزادی کے بعد اچانک یہاں ہزاروں عربی بولنے والے نوجوان موجود تھے اور ہزاروں مساجد کے قیام کے بعد ائمہ حضرات کی ایسی ٹیم موجود تھی جو وسطی ایشیا کی دوسری ریاستوں کی مساجد کی ضروریات بھی پوری کر رہی تھی۔ نوجوانوں میں بالخصوص دینی علم کی طلب بڑھتی ہی رہی اور اس کے نتیجے میں تاجکستان کے مسلمانوں کا علمی ورثہ پورے علاقے میں معتبر سمجھا جانے لگا۔ تاجکستان کی روحانی اور علمی شخصیت عبداللہ نوری پورے وسطی ایشیا اور سابق سوویت یونین کے مسلمانوں میں انتہائی مقبول ہیں۔

صدر امام علی رحمانوف نے روسی سامراج کے ساتھ مل کر اسلامی تحریک کو پورے وسطی ایشیا سے بالعموم اور تاجکستان سے بالخصوص ختم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جن میں ابتدائی کش مکش  (۹۳-۱۹۹۰ء)، پھر مفاہمت (۹۸-۱۹۹۴ء) جس کے دوران میں سازشوں کا جال بچھایا گیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۹ء کے بعد سرد جنگ باقاعدہ چپقلش اور کھلے عام صدر اور اسلام پسندوں کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کرگئی اور بظاہر تحریکِ اسلامی کے لیے تاجکستان میں کام کرنا ناممکن بنادیا گیا۔

  •  موجودہ صورتِ حال اور کش مکش: تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر وغیرہ میں داڑھی اور اسکارف ممنوع ہیں۔ یہاں تک کہ گذشتہ دنوں نوجوانوں کی مساجد میں ادایگیِ نماز اور اسلامی تعلیمات کے حصول کے لیے مساجد میں آنے والوں پر پابندی کا بل پارلیمنٹ سے پاس کروایاگیا۔ اس طرح بہت ساری مساجد کو بند کر دیا گیا۔ یہ ایک نیا قانون ہے جو صدر امام علی رحمانوف کی اسلام دشمنی کی واضح مثال ہے جس میں انھوں نے اُن تمام مساجد پر پابندی لگا دی ہے جو  ۱۹۹۱ء کے بعد قائم کی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ ۱۹۹۱ء سے قبل سرکاری مساجد کی تعداد بہت کم تھی۔ دیہاتوں اور قصبوں میں غیرقانونی مساجد بھی موجود تھیں، جب کہ شہروں میں خفیہ مقامات پر گھروں کے اندر مساجد موجود تھیں۔ اسلامی پارٹی کے بیش تر ارکان یا تو خاموش کردیے گئے ہیں یا روپوش ہوگئے ہیں، یا تاجکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

تاجکستان کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے۔ یہاں پر اسلامی ثقافت کے گہرے اثرات ہیں، اور اسلامی تعلیمات عام ہیں۔ تاجک علما اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے اردگرد کے ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلامی تحریک بظاہر کمزور ہوتی نظر آتی ہے، لیکن فی الواقع اسلامی تحریک  دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے۔ افغانستان میں حالیہ امریکی مداخلت نے صدر امام علی رحمانوف کو تقویت دی ہے اور اسلامی جماعت (IRP) کو نقصان پہنچایا ہے۔ وہ آئے دن اپنے احکامات اور صدارتی فرمانوں کے ذریعے اسلامی شعائر پر پابندیاں عائد کرتے رہتے ہیں۔ اسلامی جماعت نے آزادی کے آغاز میں صدر امام علی رحمانوف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے مطابق ۲۵ تا ۳۰فی صد اقتدار میں حصہ آئی آر پی کے لیے مختص کیا گیا جس پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا ۔ پھر صدرجمہوریہ نے  نہ صرف فراڈ انتخابات کے ذریعے ۹۸ فی صد ووٹ حاصل کیے (جسے بین الاقوامی ایجنسیوں نے فراڈ انتخابات قرار دیا) بلکہ تحریک اسلامی کو کمزور کرنے کے لیے قریبی ممالک کے رہنمائوں کی مدد حاصل کی اور اسلامی جماعت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہاں انسانی حقوق کی کھلی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کی عالمی اور علاقائی تنظیموں کا تاجکستان میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر بالکل خاموش رہنا بھی معنی خیز ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کی مذہبی لگائو کی بنیاد پر گرفتاریاں اور سزائیں بھی عالمی انسانی حقوق کی انجمنوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ تاجکستان میں صرف ریاستی میڈیا ہی قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی کھلے عام پامالی اور اسلامی شعائر پر پابندیوں کے علاوہ عام لوگوں کو اپنے عقائد پر عمل کرنے سے قانوناً روکنا اور پھر ایسے قوانین کے تحت سزائیں دینا عالمی امن اور انسانی حقوق کے علَم برداروں کے نزدیک کوئی جرم نہیں ہے۔

تاجکستان کا عام نوجوان جدوجہد سے بھرپور پُراُمید زندگی کا خواہش مند ہے۔ ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کے حالیہ سروے کے مطابق مسجدوں میں نوجوانوں کے داخلے کی پابندی کو ۹۶ فی صد نوجوانوں نے مسترد کر دیا ہے اور ۶۵ فی صد نوجوان اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ۷۸ فی صد نوجوان اسے صدر امام علی رحمانوف کی حکومت کے خاتمے کا سبب بھی سمجھتے ہیں۔

 

êمضمون نگار رفاہ یونی ورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر آف سرجری ہیں-

ماہ نامہ تعمیر افکار (قرآن کریم نمبر اوّل و دوم)، مدیر: سید عزیز الرحمن۔ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، ۴/۱۷- اے، ناظم آباد نمبر۴، کراچی-۷۴۶۰۰۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔ صفحات اوّل:۷۱۴، دوم:۷۴۶۔ قیمت: ۵۹۵ روپے فی جلد۔

اُردو زبان اس اعتبار سے بھی دنیا کی ایک بڑی زبان ہے کہ قرآنِ حکیم، سیرتِ رسولؐ اور علومِ اسلامیہ سے متعلق جتنا بڑا، متنوع اور مختلف الجہات ذخیرۂ مطبوعات اُردو زبان میں موجود ہے (باستثناے عربی) کسی اور زبان میں موجود نہیں ہوگا۔ قرآن حکیم کے تعلق سے اُردو مطبوعات میں رسائل و جرائد کے ایک سو سے زائد قرآن نمبر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی دو جِلدوں پر مشتمل تعمیرافکار کا زیرنظر خصوصی شمارہ ہے۔

اسے دیکھتے ہوئے ہمیں ۴۱ سال قبل کا سیارہ ڈائجسٹ کاقرآن نمبر یاد آگیا جو ۱۹۷۰ء میں تین خوب صورت جِلدوں میں غیرمعمولی اہتمام سے شائع کیا گیا تھا جس میں کثیرتعداد میں علمی اور تحقیقی مضامین کے ساتھ، متعدد مشاہیر کے مصاحبے (انٹرویو)، سچی کہانیاں اور لکھنے والوں کے ذاتی مشاہدات بھی شامل تھے۔ بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ ویسی تحقیق، محنت، اہتمام، تیاری اور دل چسپ لوازمے کے اعتبار سے شاید ہی کوئی اور قرآن نمبر اس سے لگا کھاتا ہو۔ اسے کراچی سے پروفیسر خورشید احمد کی نگرانی و کاوش سے اور لاہور سے جناب نعیم صدیقی کی زرخیز ذہنی و قلبی آبیاری سے مرتّب کیا گیا تھا۔ [پروفیسر اقبال جاوید صاحب نے خورشیدعالم کو اس کا ’مدیر‘ لکھا ہے (زیرتبصرہ تعمیرافکار کا قرآن نمبر، ص ۶۸۴) مگر مذکورہ بالا قرآن نمبر کی تیاری میں خورشیدعالم کی کسی کاوش کا دخل نہ تھا، وہ فقط سیّارہ ڈائجسٹ کے عام شماروں کے مدیر تھے ]

تعمیرافکار کے زیرتبصرہ قرآن نمبر کی مجلسِ ادارت نے بھی خاصی محنت اور کوشش سے نئے پرانے مطبوعہ اور غیرمطبوعہ، طبع زاد اور ترجمہ شدہ ہر نوع کے مضامین جمع کیے ہیں۔ بلاشبہہ بقول مدیر: ’’قرآن کریم کے موضوعات، مضامین و مباحث اور اس کے علمی نکات کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ‘‘ ہے۔ چنانچہ زیرنظر اشاعت کو مدیرمحترم نے ’’ایک عاجزانہ کاوش کے طور پر پیش کیا ہے‘‘۔ لکھنے والوں میں نام ور علماے کرام کے ساتھ واجب الاحترام اور معروف مفسرین عظام،  اُردو ادب اور علومِ اسلامیہ کے بلندپایہ محقق، نقاد، اور بعض نسبتاً نئے لکھنے والے اہلِ قلم شامل ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ قرآنی موضوعات کے علاوہ اس ضمن میں بعض اکابر کی خدماتِ قرآنی کا تجزیہ اور مختلف زبانوں (ہندی، فارسی، انگریزی، سندھی اور پشتو) میں قرآن حکیم کے تراجم و تفاسیر کا جائزہ بھی پیش کیا جائے۔ بعض مستشرقین کے تراجم قرآن پر نقد کرتے ہوئے، ان کی دانستہ تحریفات اور نادانستہ کوتاہیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔

آخر میں ایک تو پروفیسر اقبال جاوید صاحب کا مرتّبہ اشاریہ شامل ہے، اوّل: رسائل و جرائد کے ۹۹ قرآن نمبروں کا (بہ ترتیبِ زمانی) اشاریہ، جو ایک قابلِ قدر تحقیق ہے۔ دوسرا ادارے کا تیار کردہ اشاریہ: ’مضامینِ اشاریہ قرآن‘ ہے، مگر یہ مضامینِ قرآن کا اشاریہ نہیں ہے بلکہ قرآن کے تعلق سے مختلف رسائل میں مطبوعہ مقالات، مضامین، تفاسیر اور تبصروں وغیرہ کی مصنف وار فہارس ہیں اور وہ بھی ناتمام اور اس اعتبار سے ناقص ہے کہ خود مرتّبین کے بقول: ’’اس میں بھی بعض رسائل کو شامل نہیں کیا جاسکا‘‘ (ص ۶۸۹)۔ (رفیع الدین ہاشمی)


عہد نبویؐ کا نظامِ تعلیم، غلام عابد خان۔ ناشر: زاویہ پبلشرز، داتا دربارمارکیٹ، لاہور۔ صفحات: ۲۷۲۔ قیمت: درج نہیں۔

کتاب میں عہدنبویؐ کے مبارک دور میں تعلیم سے متعلق مختلف پہلوئوں کااحاطہ کیا گیا ہے۔ نصابِ تعلیم کا باب بہت دل چسپ ہے۔ اس میں سورئہ بقرہ کی آیات ۱۱-۱۵ سے نصاب اخذ کیا گیا ہے۔یہ نصاب قراء ت قرآن، تزکیہ، تعلیمِ کتاب، تعلیمِحکمت، علومِ نو کی تعلیم، عسکری تربیت پر مشتمل تھا۔علومِ نو کے حوالے سے عبرانی اور دوسری غیرملکی زبانیں سیکھنا، خوش نویسی، تقسیمِ ترکہ کی ریاضی، بیماری و طب، علمِ ہیئت، علم الانساب وغیرہ شامل تھے اور عسکری تربیت میں تیراندازی، گھڑسواری، اُونٹ سواری، تیراکی وغیرہ شامل تھی۔

انسان کے مختلف نظام ہاے زندگی، مثلاً اخلاقی، معاشرتی، معاشی، سیاسی، تعلیمی وغیرہ   اس وقت تک اسلامی نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ اسلامی عقائد، یعنی توحید، رسالت اور آخرت کے تصورات پر استوار نہ ہوں۔ یہ بات بڑی وضاحت سے باب دوم میں اسلامی نظام تعلیم کے تحت بیان کی گئی ہے۔ بعض بوجھ بجھکڑوں کا خیال ہے کہ تعلیم کے ساتھ صرف دینیات کا دم چھلّا لگادینے سے تعلیمی نظام اسلامی بن جاتاہے، اور اب تو صورت یہ ہے کہ اگر جہاد کی قرآنی آیات اور    ارشاداتِ نبویؐ کو نصابی کتب سے نکال دیاجائے اور توحید، آخرت اور رسالت کو نظرانداز کردیا جائے تو پھر بھی تعلیم اسلامی ہی رہتی ہے۔

رسول کریمؐ نے یقینا ایک ایسے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی تھی جس کی بنیاد پر ایک تعلیمی انقلاب برپا ہوا۔ مصنف کے بقول: رسول کریمؐ نے جس تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی وہ بتدریج ارتقا پذیر تھا۔ ۲۳سال کی قلیل مدت میں ان باتوں کی اساس رکھ دینا کیا کچھ کم تھا؟ جس کے دُور رس نتائج سے ساری دنیانے رہنمائی لی اور آج کا ترقی یافتہ دور اسی کا مرہونِ منت ہے۔ (ص ۱۲۳)

رسول کریمؐ کو ربِ رحیم نے اقراء کی تعلیم سے نوازا۔ پھر دو سال بعد حکم دیا کہ عوام النّاس کو اس تعلیم سے بہرہ ور کیا جائے، لہٰذا آپؐ ہر ہرشخص کے پاس خود تشریف لے گئے، مجمعِ عام میں تعلیم پہنچائی، بااثر لوگوں کی مجالس میں تعلیم کا انتظام کیا۔ اس طرح آپؐ نے ایک سفری تعلیمی ادارے کی ذمہ داری بڑی خوبی سے نبھائی اور اس میںمنہمک رہے۔ آپؐ کی تعلیمی پالیسی کا یہ ایک اہم نکتہ ہے۔

اس کتاب میں طول طویل اقتباسات بہت زیادہ ہیں جو گراں گزرتے ہیں۔ پھر کئی مقامات پر قرآنی آیات میں اغلاط ہیں، جب کہ انگریزی ہندسے طبیعت پر شاق گزرتے ہیں۔ تاہم، کتاب ایک اچھی، سلجھی ہوئی تحریر، قابلِ اعتماد، علمی معلومات کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ (شہزادالحسن چشتی)


Medical Education and Professional Ethics: Islamic Insight  [میڈیکل تعلیم اور پروفیشنل اخلاقیات: اسلامی نقطۂ نظر]، مرتب:  ڈاکٹر حسّام فاضل۔ اہتمام: فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشنز۔ ناشر: جورڈن سوسائٹی فار اسلامک میڈیکل سائنسز، عمان، اُردن[fimaweb.net]۔ صفحات: ۱۷۴۔ قیمت: درج نہیں۔

علاج معالجہ انسانی زندگی کی ناگزیر ضرورت ہے۔ مریض معالج کے پاس آتا ہے، تو گویا اپنی زندگی اس کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس لیے معالج کو ایک مونس، بے لوث، ہمدرد اور امین شخص کا کردار ادا کرنا چاہیے، مگر بے رحم مادہ پرستی کی فضا نے بیش تر معالجین کو دولت پرستی اور سنگ دلی کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک مسلمان معالج کا اس صورت حال پر رنجیدہ اور حالات کی بہتری کے لیے فکرمند ہونا فطری امر ہے، مگر اس اُلجھی ڈور کا سرا پکڑنے والے خال خال نظر آتے ہیں۔

اس پس منظر میں امام حسن البنا، علامہ محمد اقبال، سیدابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب شہید کی دینی و ملّی فکر سے فیض یافتہ ڈاکٹروں نے اپنے اپنے خطۂ زمین میں، یا جہاں جہاں وہ پہنچے، اس افسوس ناک صورت حال کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اجتماعی جدوجہد کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی تنظیمیں اور انجمنیں بنائیں، جن کا مطمحِ نظر گریڈوں کی دوڑ اور تنخواہوں کے فراز کے پیچھے لپکنا نہیں، بلکہ اسلام کے مطلوب معالج کی فکری، دینی اور عملی تربیت ہے۔ انھی تنظیموں نے مل کر دسمبر ۱۹۸۱ء میں اورلینڈ، فلوریڈا (امریکا) میں فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشنز (FIMA) قائم کی جس نے دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلی راست فکر اسلامی میڈیکل تنظیمات کو ایک لڑی میں پرو دیا۔

زیرنظر کتاب درحقیقت اسی قابلِ قدر تنظیم کی تعمیری سوچ اور علمی رہبری کا مظہر ہے۔ اگرچہ کتاب کے عنوان سے نفسِ مضمون کی وضاحت ہوجاتی ہے، تاہم مندرجات کے تعارف کے لیے مختلف ابواب کے موضوعات اس طرح ہیں: lجنوب مشرقی ایشیا کے میڈیکل نصاب میں اسلامی اقدار کو سمونے کا تجربہ lعلاج معالجے سے قبل بنیادی میڈیکل تدریس اور میڈیکل نصاب میں اسلامی فکر کی ترویج lمیڈیکل نصاب کی تدریس میں مسائل و مشکلات کا اسلامی تناظر میں حل lمیڈیکل کی پیشہ ورانہ تدریس، اسلامی نقطۂ نظر سے lاسلامی یونی ورسٹی ملایشیا میں میڈیکل کی تدریس پر آموزگار lاسلامی تصورِ طبی تعلیم اور حیاتی اخلاقیات lاسلامی اصولوں کی روشنی میں میڈیکل تعلیم سے متعلق اخلاقی امور lمسلمانوں کا تحقیق میں حصہ: ماضی، حال اور مستقبل lمعالجین بطور مؤثر تحقیق کار lکلینیکل تحقیق اسلامی تناظر میں lمیڈیکل تعلیم میں معیار کا مسئلہ ، اسلامی مناسبت سے۔

سائنس دان لفظوں کے استعمال میں خاصے کفایت شعار اور ہدف کی براہِ راست وضاحت پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ چنانچہ اتنے اہم اور وسیع موضوعات کو ڈاکٹر صاحبان نے کم سے کم الفاظ میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ مقصدیت، خدمت اور دین و دنیا میں کامیابی کے لیے فکرمندی پر مبنی، پیشہ ورانہ رہنمائی سے موسوم یہ کتاب تقاضا کرتی ہے کہ میڈیکل کی تعلیم و تدریس سے وابستہ ہراستاد کے زیرمطالعہ آئے۔ اگر اسے اُردو میں ترجمہ کرلیا جائے تو اس خطۂ ارضی میں استفادے کا دائرہ زیادہ وسیع ہوجاتا ہے۔ کتاب کی جاذبِ نظر پیش کش پر ’فیما‘ اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (PIMA) تحسین کے مستحق ہیں۔ (سلیم منصور خالد)


حرفِ تمنا، عبدالرحمن بزمی مرحوم (مرتب: حفیظ الرحمن احسن)۔ ملنے کا پتا: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور-۵۴۷۹۰۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت: ۲۶۰ روپے۔

کتاب کا نام عبدالرحمن بزمی (۱۹۳۰ء-۲۰۰۵ء) کے ایک شعر    ؎

نہیں ہے انتہاے شوق بزمی
مگر حرفِ تمنا مختصر ہے

سے ماخوذ ہے۔ یہ مجموعہ شاعر کی وفات کے چھے برس بعد ان کے احباب (رفیع الدین ہاشمی،  جاوید اقبال خواجہ، حفیظ الرحمن احسن) کی کوششوں سے منظرعام پر آیا ہے۔ برنی صاحب کی ولادت کینیا میں ہوئی اور عمر کا بیش تر حصہ انگلستان میں گزرا مگر وہ اُردو زبان اور پاکستان و پاکستانیوں سے  بے حد انس رکھتے تھے۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے بھی بزمی صاحب کے تعلقات اُردو دان طبقے اور پاکستانی احباب سے استوار رہے۔ اس کی ایک مثال حفیظ جالندھری سے ان کے دوستانہ مراسم کی استواری ہے۔ اسی طرح وہ ماہرالقادری، حفیظ تائب، جعفر بلوچ، پروفیسر محمد منور، ڈاکٹر وحید قریشی، ضمیرجعفری، مشفق خواجہ اور صلاح الدین شہید سے بھی ذاتی مراسم رکھتے تھے۔

حرفِ تمنّا بزمی صاحب کی قادرالکلامی کا بھرپور اظہار ہے۔ بیش تر اصنافِ شاعری (نعت، سلام، غزل، نظم، قطعہ، مرثیہ) حرفِ تمنّا کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں معروف دینی، علمی، سیاسی و ادبی شخصیات کی نذر کی گئی منظومات بھی اس مجموعے میں شامل ہیں۔ متفرق موضوعات اور مختلف تہنیتی مواقع پر کہی جانے والی شعری تخلیقات، اساتذہ کی زمینوں میں غزلیات بھی اس مجموعے میں موجود ہیں۔ بیش تر منظومات و غزلیات کے بعد تاریخِ تخلیق بھی درج ہے، اور وہ موقع محل بھی بیان کیا گیا ہے جہاں یہ تخلیق پیش کی گئی۔ غرض اس شعری مجموعے میں ہرصاحب ِ ذوق کے لیے شعر کے مذاق کا کچھ نہ کچھ سامان موجود ہے۔ بزمی صاحب کی شاعری پر سب سے زیادہ اثر علامہ اقبال کا نظر آتا ہے۔ وہ اقبال کے فکری قافلے میں شامل تھے۔ اس تعلق سے حرفِ تمنّا میں ۱۰، ۱۲ نظمیں موجود ہیں۔

کتاب کے آغاز میں جاوید اقبال خواجہ کا ایک مضمون ’بزمی صاحب: باتیں اور یادیں‘ شامل ہے۔ حفیظ الرحمن احسن نے دیباچے میں ان کی شاعری کا بھرپور تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے۔ دونوں مضمون صاحب ِ مجموعہ کی شخصیت اور شاعری کی تفہیم میں معاون ہیں۔ کتاب کے آخر میں رفیع الدین ہاشمی کا مختصر اختتامیہ بھی شامل ہے۔ (ساجد صدیق نظامی)


سفرِآخرت ، نجیب کیلانی، ترجمہ: عبدالحمیداختر ندوی۔ ناشر: مکتبہ المصباح، ۱-اے، ذیلدار پارک، اچھرہ، لاہور۔ فون: ۳۷۵۸۶۸۴۶-۰۴۲۔ صفحات: ۳۳۶۔ قیمت: درج نہیں۔

مصری ادیب نجیب کیلانی کے بارے میں پڑھا تو تھا کہ عرب دنیا کے ممتاز ناول نگار ہیں لیکن ان کی اخوان المسلمون سے وابستگی کا اندازہ اس ناول کو پڑھ کر ہی ہوا۔ ناول کا موضوع کچھ بھی ہو، اس کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لے اور شروع کرے تو ختم کیے بغیر نہ رہے۔ یہ خوبی اس میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔

ناول کا عنوان رحلت الی اللّٰہ (ترجمہ: سفرِآخرت) میںکوئی گہری معنویت ضرور ہوگی لیکن کوئی ناول کاشوقین اس جیسے عنوان کی کتاب کو کیوں ہاتھ میں لے! یہ ناول مصر میں جمال عبدالناصر کے عہدصدارت میں اخوان المسلمون پر کیے گئے ظلم و ستم کی داستان ہے۔ عطوہ ملوانی مصر کی جیل کا سربراہ ہے، ۳۵ سال کا ہے، اس کی شادی نبیلہ سے طے ہے۔ عطوہ چاہتا ہے کہ نبیلہ شادی سے پہلے ہی اپنے کو اس کے حوالے کر دے۔ پورے ناول کی کہانی یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے کو اس سے بچاتی ہے۔ اور اس کے دوران ہی جیل کے بے قصوروں کی پکڑدھکڑ، نت نئے ٹارچر کے مناظر اور وہ سب کچھ جو انسان دیکھ سکتا ہے اور سن سکتا ہے بیان کیے گئے ہیں۔

قیدیوں کے ساتھ جو غیرانسانی سلوک ہوتا ہے،اخوان کس صبروتوکل سے اسے سہتے ہیں، عجب عجب مناظر ہیں۔ عطوہ کا محبوب کتا بیمار ہوجاتا ہے تو اخوان ڈاکٹر اس کا علاج کرتا ہے اور قیدیوں میں کسی شاعر کو اس کتے کا قصیدہ لکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو سب کو کورس میں گانا پڑتا ہے___ نجیب کیلانی نے کہانی تو بیان کر دی ہے لیکن تبصرہ نگار اس کی جھلک بھی نہیں دکھا سکتا۔

۶۳برس کے بعد اخوان کو مصر میں آزادی سے سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ نجیب کیلانی نے مختلف ممالک کے دورے کیے اور مختلف تہذیبوں اور معاشرتوں کا مطالعہ کیا۔ نائیجیریا کے انقلاب کے بعد اور ایتھوپیا کے دورے کے بعد فلسطین کے قیام کے دوران خصوصی ناول لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اُن کی بہت سی تصانیف ہیں اور کئی ادبی انعامات بھی ان کو ملے ہیں۔ یقینا وہ اسلامی ادب کے میدان کی منفرد شخصیت ہیں۔ نجیب کیلانی کے دوسرے ناولوں کے ترجمے بھی پیش کرنے چاہییں۔ اس وقت جب کہ ’عرب بہار‘ کے بعد اخوان المسلمون توجہ کا مرکز ہے، اس ناول کو ہرپڑھے لکھے فرد تک پہنچاناچاہیے۔(مسلم سجاد)


سیّد مودودیؒ، ایک مشاہدہ، ایک موازنہ، ڈاکٹر مالک بدری۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، اکیڈمی بُک سنٹر، ڈی-۲۵، بلاک ۸، فیڈرل بی ایریا، کراچی- ۷۵۹۵۰۔ صفحات: ۴۸۔ قیمت: ۴۰ روپے۔

سوڈان کے عالم ڈاکٹر مالک بدری نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے اپنے تعلق کے آغاز و ارتقا پر کئی سال پہلے انگریزی میں ایک مضمون لکھا تھا۔ سید مودودیؒ کی کرشماتی شخصیت اور ان کی پُرتاثیر کلامی نگارشات پر یہ ایک عمدہ تحریر ہے۔ اس کا اُردو ترجمہ ماہنامہ ترجمان القرآن کی سیدمودودیؒ پر اشاعتِ خاص میں شائع ہوا (مئی ۲۰۰۴ء)۔ اب ادارہ معارف اسلامی کراچی نے کسی اظہارِ تشکر کے بغیر زیرنظر کتابچے کی شکل میں شائع کیا ہے۔

مصنف پہلے پہل ۵۰ کے عشرے میں امریکن یونی ورسٹی بیروت کے زمانۂ طالب علمی میں سید مودودی سے آشنا ہوئے تھے۔ ان دنوں وہ اخوان المسلمون سے متاثر تھے مگر اخوان کی بعض پالیسیوں کے بارے میں شدید بے اطمینانی کا شکار تھے۔ اتفاقاً رسالہ دینیات (کا انگریزی ترجمہ) ان کے ہاتھ لگا، بس اسی تحریر نے انھیں سید مودودیؒ کا گرویدہ بنا دیا۔ کہتے ہیں: ’’سید مودودیؒ نے میرے اس تمام ذہنی اور روحانی خلجان کو دُور کر دیا جس کا شکار میں امریکی یونی ورسٹی کے نام نہاد اسلامی فلسفہ کورس پڑھنے کے دوران ہوچکا تھا‘‘۔

مالک بدری نے مولانا مودودی سے خط کتابت کی اور پھر اُن سے ملاقات کے لیے، اپنے ایک دوست کے ساتھ کویت سے بذریعہ پاکستان کا مشقت بھرا سفر کیا ۔ یہاں کچھ عرصہ رہ کر مولانا کے شب و روز اور اس کے ساتھ جماعت اسلامی کے طریقۂ کار کا مطالعہ کیا۔ مولانا سے ملاقاتیں رہیں۔ اس مضمون میں وہ ہر جگہ ان کا ذکر اپنے ایک محسن اور اپنی محبوب شخصیت کے طور پر کرتے ہیں۔ مالک بدری نے سید مودودی کو ایک نابغۂ روزگار شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کی  بعض خوبیوں کا ذکر کیا۔ مضمون پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ برعظیم پاک و ہندکی اُمتِ مسلمہ نے   سید مودودیؒ کی قدر نہیں پہچانی۔ (ر- ہ )

تعارف کتب

  •  حرمین شریفین ، فضائل و آداب ،مولانا محمد عابد ندوی۔ ناشر: زم زم پبلشرز، شاہ زیب سنٹر نزد مقدس مسجد، اُردوبازار، کراچی۔ صفحات:۳۶۴۔قیمت: ۵۰۰ روپے۔[ندوۃ العلما لکھنؤ کے ناظم مولانا رابع حسنی ندوی کے مطابق مصنف عرصے سے جدہ میں مقیم ہیں اور پاک و ہند کے اُردو دان حضرات خصوصاً حجاج کی دینی اور    فقہی مسائل میں رہنمائی کا بڑا عالمانہ کام کررہے ہیں۔ یہ کتاب مکہ اور مدینہ (بشمول حرمین) کی تاریخ ہے۔  نیز اس میں حرمین کے فضائل و برکات اور جملہ متعلقات کے بارے میں احادیث و تاریخ کی مدد سے مفید لوازمہ جمع کیا گیا ہے۔ آخر میں قرآن، حدیث، فقہ، فتاویٰ، سیرت،مناسک وغیرہ جیسے موضوعات پر ۱۰۰ سے زائد مآخذ کی فہرست شامل ہے۔ کاغذ عمدہ اور طباعت معیاری ہے۔]
  •  تقریر ختم صحیح بخاری، مولانا محمد رمضان پھلپوٹو۔ ناشر: مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم حمادیہ، کھوڑا، ضلع خیرپور میرس، سندھ۔ فون: ۳۶۰۴۰۶۱-۰۳۰۷۔ صفحات:۱۱۹۔ قیمت: ۶۰ روپے۔ [امام بخاریؒ کے اوصاف و خدمات،  صحیح بخاری کے اہم مضامین کے ساتھ ساتھ کتاب کی انفرادیت سندھی علماے کرام کی دینی خدمات کا تذکرہ ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ امام بخاریؒ کے اساتذہ میں دو جلیل القدر سندھی محدثین کرام بھی شامل ہیں۔ ایک امام عبدبن حمید بن نصرالکشی اوردوسرے وکیع بن الجراح ہیں (ص ۳۰)۔ اس کے علاوہ ممتاز سندھی محدثین کا مختصر تعارف بھی دیا گیا ہے۔ کتاب کا نام حسب موضوع نہیں۔]

 

اقامت ِ دین کی دعوت کے علَم برداروں کو اس کا خوب اچھی طرح اندازہ ہوگا کہ اس دعوت کے راستے میں فلسفۂ جبریت بعض اوقات بُری طرح روک بنتا ہے اور یہ خواص سے لے کر عامیوں تک یکساں سرایت کیے ہوئے ہے۔ آپ لوگوں سے کہیے کہ غلبۂ دین کے لیے کچھ کرو تو جواب ملے گا کہ یہ سب کچھ تو اللہ کے بس میں ہے۔ جب تک اس نے دین کی مخالف طاقتوں کو سرفرازی دے رکھی ہے، کون ہے جو اس سرفرازی کو پستی سے بدل سکے.... یہ عجیب بات ہے کہ اس طرح کی باتیں ہمیشہ اُونچے درجے کی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں کی دعوت کے جواب میں تو کہی جاتی ہیں، لیکن اپنی دن رات کی زندگی میں کوئی بھی جبریت کے فلسفے پر تکیہ نہیں کرتا۔

ہمارے ایک دوست، اس دعوت کے جواب میں کہ اپنی زندگی بدلیے، فرمانے لگے کہ اس میں ہمارا کیا اختیار، یہ تو خدا کی طرف سے ازل کے دن لکھا گیا تھا۔ اس پر اُن سے عرض کیا گیا کہ آپ کا بچہ جب بیمار ہوجاتا ہے تو آپ رات کو سردی میں گرم بستر چھوڑ کر نکل کھڑے ہوتے ہیں، بہتر سے بہتر ڈاکٹر کو تلاش کر کے لاتے ہیں اور بہتر سے بہتر دوائیں اپنا مال خرچ کرکے حاصل کرتے ہیں، پھر تیمارداری میں اپنا آرام قربان کرتے ہیں۔ اس سارے سلسلے میں تو آپ کو کبھی فلسفۂ جبریت یاد نہیں آتا اور کبھی آپ یوں نہیں سوچتے کہ بیماری اور صحت تو خدا نے پہلے ہی لکھ دی ہے۔ پھر ہم کیوں علاج کے چکّر میں پڑیں، مگر بس جہاں خدا کے دین کا کوئی مطالبہ سامنے آیا تو آپ نے جبریت کے فلسفہ کو عذر میں پیش کردیا۔ اگر آپ بے روزگار ہوجائیں تو دَر دَر جاکر روزگار تلاش کریں، سفارشیں لے کے دفتروں میں گھومیں، ایک ایک کی منت سماجت کریں....کوئی آپ کی عزتِ نفس پر حملہ کردے تو دماغ اور زبان اور ہاتھ پائوں کی ساری قوتیں انتقام میں لگا دیں۔ کوئی آپ کا مال مار کھائے تو اس کے خلاف مقدمہ لڑنے کے لیے اپنی سی جو کچھ کرسکتے ہوں کرگزریں۔ ان معاملات میں تو کبھی تقدیر کا سوال پیدا نہ ہو۔لیکن بات جب خدا و رسولؐ کے احکام کی اطاعت کی آئے اور حمایتِ دین کے لیے آپ کو پکارا جائے تو آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ روزِاوّل سے یہ معاملات طے ہوچکے، اب سوچنا کیسا اور کوشش کیسی؟ یا دونوں طرف جبریت کے آگے سرجھکایئے، یا دونوں طرف سعی کا حق ادا کیجیے۔ یہ کیا کہ اپنی خواہشات ہوں تو آپ ہمہ تن اختیار بن جائیں، اور خدا و رسولؐ کا حکم سامنے آئے تو جبریت کی پناہ گاہ میں جاچھپیں! براہِ کرم ا فریبِ نفس سے نکلیے!(’مسئلہ تقدیر کا اُلٹا استعمال‘،    نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد ۳۶، عدد ۵-۶، ذی القعدہ، ذی الحجہ ۱۳۷۰ھ، ستمبر ۱۹۵۱ء، ص ۹۴-۹۶)