اخذو ترجمہ: امجد عباسی
امریکا میں اسلامی فکر کے احیا، اخلاقی اقدار کے فروغ، سماجی و فلاحی سرگرمیوں اور مسلمانوں کو منظم کرنے کے لیے مسلمانوں کی دو بڑی نمایندہ تنظیمیں اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (ICNA) اور اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا (ISNA) ہیں۔ ICNA بیش تر پاکستانی مسلمانوں پر مشتمل ہے، جب کہ ISNA عرب مسلمانوں پر۔ دونوں تنظیمیں گذشتہ ۴۰ برس سے مصروف عمل ہیں۔ ان تنظیموں کی نمایاں سرگرمیوں میں سے ایک سالانہ کنونشن کا انعقاد ہے جس میں ہزاروںکی تعداد میں مسلمان امریکا بھر سے شریک ہوتے ہیں۔
گذشتہ دنوںاسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا کا ۴۸ ویں سالانہ کنونشن شکاگو میں یکم تا چار جولائی ۲۰۱۱ء منعقد ہوا۔ کنونشن کا موضوع ’کثیرجہتی یا تکثیری معاشرے کا چیلنج‘ تھا۔ رو سمنٹ کنونشن سنٹر میں اس کنونشن کا آغاز امام محمد مجید، صدر اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا کی اس دعوت سے ہوا کہ امریکی مسلمانوں کو امن کا سفیر ہونا چاہیے۔ ۱۰ ہزار سے زائد مردوں اور خواتین کو خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے انھوں نے نصیحت کی کہ انھیں اسلام کا مجسم نمونہ بننا چاہیے جو اچھے اخلاق، مضبوط خاندانی روابط اور معاشرے کے دوسرے افراد سے محبت، ہمدردی اور باہمی تعاون پر مبنی برادرانہ تعلقات کی دعوت دیتا ہے۔ وہ مذہب جو مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ان کے ہمسایے بھوکے سوئیں، اس کا تشدد اور نفرت سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔
کنونشن کے مرکزی خیال کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر سید ایم سعید، سابق سیکرٹری جنرل ’اسنا‘ نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا خاندان ہمارے لیے ہمدردی، اخوت و محبت اورایک دوسرے کے لیے احترام کے حوالے سے خاندانی روابط کی تعمیر کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ انھوں نے کہاکہ جب رسول ؐ اللہ نے فرمایا کہ عورت کو اونٹ چلانے کی تربیت دی جا سکتی ہے، تو پھر اس پر گاڑی چلانے کی پابندی بھی نہیں لگائی جا سکتی۔انھوں نے کہا کہ امریکی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ قوم کی تعمیر کے عمل کے دوران بہت زیادہ تشدد اور خوں ریزی دیکھنے میں آئی اور خانہ جنگی کے دوران ۶لاکھ امریکی مارے گئے۔
پروفیسر امینا جندالی نے اس حدیث کا تذکرہ کیا کہ ایک مسلمان عورت جہنم میں اس لیے ڈال دی گئی کہ وہ اسلامی عبادات کی تو پابند تھی لیکن اس کے اخلاق اور رویے سے اس کے ہمسایے ناخوش تھے۔ ہمیں کثیرجہتی معاشروں میں’غیر مسلم‘ کی اصطلاح کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، اس لیے کہ یہ منفی تاثر دیتی ہے۔ اس کے بجاے ہمیں ’’دوسرے مذاہب کے بہن بھائی‘‘ متبادل کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر جان ایسپوزیٹو نے بحث کا رخ اس سوال سے متعین کیا کہ مسلمانوں کو نہ صرف امریکی معاشرے میں تکثریت کا سامنا ہے، بلکہ خود مسلم معاشروں میں بھی اس مسئلے کومحسوس کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلام فوبیا (اسلام کو ہوّا بنا کر پیش کرنے کا کلچر) مغرب کو اپنی گرفت میں لیتا جا رہا ہے۔ اس عمل کے اثرات کو صرف اسی صورت میںمثبت رخ دیا جا سکتا ہے کہ کثیر جہتی معاشرے کو قبول کیا جائے۔ مسلم معاشرے میں شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی شافعی کی تقسیم سے بالاتر ہو کر مسلمان ایک دوسرے کو قبول کریں۔اسلامی معاشرے میں ذمیوں کا تصور بھی ایک حقیقت ہے۔ کثیر جہتی معاشرے کی پرکھ کے لیے تمام مذاہب کو دوسرے مذاہب کا حق تسلیم کرنا ہوگا اور اس بات پر بھی لازماً یقین رکھنا ہوگا کہ مسئلے کا حل صرف اس بات میں نہیں ہے کہ ہم ایک مخصوص عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ صحیح رویہ کیاہے۔ آج حقائق پیچیدہ شکل اختیار کرچکے ہیں، جب کہ ہم کثیر جہتی معاشروں میں رہتے ہیں۔ ہمیں روایات کا آج کے تناظر میں ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔
ڈاکٹر مہر ہاتھوٹ نے کہا کہ تکثیریت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کے مذہب کے احترام میں کسی کمی کے بغیراپنے مذہب پر ایمان رکھیں۔ سورۂ مائدہ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس وقت جنگ کریں جب انھیں ان کی سرزمین سے بے دخل کیا جائے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اگران کو بے دخل نہ کیا جائے تو انھیں امن کے ساتھ رہنا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ نیکی کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ مسلمانوں کوا س وژن کو بڑھانا ہوگا، قیادت کو پروان چڑھانا ہوگا، ایک حکمت عملی وضع کرنا ہوگی اوراپنے آپ کو ان رہنما خطوط کی بنیاد پر منظم کرنا ہوگا۔
پروفیسر ان گرڈ میٹسون، ’اسنا‘ کی پہلی نومسلم خاتون سربراہ نے کہا کہ مذہبی تنوع اللہ کوپسند ہے اور قومیں دنیا میں نیکی میں مسابقت سے عروج پاتی ہیں۔ مسلمانوں کو ان خصوصیات کو اپنے ذہنوں میں نقش کرنے کے لیے دوسروں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔ اگر کسی قومیت کے تشخص کی بنیاد اس مفروضے پر رکھ لی جائے کہ ’’ہم دوسروں سے برتر ہیں‘‘ تو یہ سوچ مسائل کا باعث ہوگی۔ لبنان میں عرب تشخص کے باوجود عیسائیت کا غلبہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام مذاہب میں تنوع کو برداشت کرتا ہے۔ عراق اسلام میں تکثیریت کی مثال ہے، اس لیے کہ ملک میں ہمیشہ شیعہ سنی کی واضح تقسیم رہی ہے۔ انھوں نے اس تاثر کو دور کیا کہ اسلام میں مرتد کی سزاموت ہے۔ غداری اور کسی دوسرے مذہب کے قبول کرنے میں امتیاز برتا جانا چاہیے۔
کانگریس کے رکن کیتھ الیوژن نے کہا کہ مسلمان امریکا میں مساجد پر تو بڑی سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن انھیں اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ نوجوانوں کی عملی و اخلاقی تربیت کریں اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشیں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ بات کر سکیں۔ رسول پاکؐ نے جن افراد کو تیار کیا اور تربیت دی وہ باکردار اور باصلاحیت انسان تھے۔
روز منٹ کنونش سنٹر کے نزدیک ہوٹل ہیسٹی میںایک دوسرے اجلاس سے معروف مسلمان اسکالر طارق رمضان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں اسلام فوبیا کو منظم انداز میں پروان چڑھایا گیا ہے۔ ’عرب انقلاب‘ میں مغربی میڈیا آمریت اور مسلمان انتہا پسندوں کے درمیان منظرکشی اپنی خواہشات کے مطابق کر رہا تھا، جب کہ عربوں نے خود مسلمان انتہا پسندوں کے ساتھ کسی وابستگی کا اظہار نہیںکیا تھا۔ تاہم، مسلمان نوجوان خبردار رہیں اور اپنے اندر منفی ذہنیت کو پنپنے نہ دیں۔ وہ معاشی مقام و مرتبے کے لیے صلاحیتوں کو جھونک دینے، تن آسانی اور سٹیٹس کی دوڑ کو ترک کریں۔ اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟ اس کام کا نقطۂ آغاز اللہ سے پیار اور لوگوں سے پیار سے ہو سکتا ہے۔ نبی کریمؐ جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو ان کی پہلی ہدایت یہی تھی کہ ایک دوسرے سے محبت کو فروغ دو۔
’اسنا‘ کا سالانہ کنونشن ہمیشہ ہی سے امریکا میں گہری دل چسپی کا باعث رہا ہے۔ اس میں مختلف تنظیموں کو تبادلۂ خیال کرنے اور باہمی تجربات سے استفادے کا موقع ملتا ہے۔ کاروباری حضرات کاروباری مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ مختلف کمپنیاں اور انشورنس کمپنیاں سرمایہ کاروں اور گاہکوں کی تلاش میں ہوتی ہیں، والدین اپنے بچوں اور بچیوں کے مناسب رشتوں کی تلاش میں مختلف خاندانوں سے رابطے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں، کتب فروش اور اسلامی موضوعات پر فلم ساز اور علاقائی ملبوسات کی شائق خواتین بڑی تعداد میں ’اسنا‘ کے ممبران کے ساتھ شرکت کرکے ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔۲۰۰ دکانوں پر مشتمل اسلامی بازار وسیع کنونشن سنٹر میں پروگرام کے مختلف وقفوں کے دوران اپنے عروج پر ہوتا ہے۔
یہ اجتماع مختلف رنگ و نسل کے ___گورے، بھورے، سیاہ اور زرد ___انسانوں کا ایک ایسا نظارہ پیش کرتا ہے جو چٹ پٹے کھانے، پیزا، برگر، بریانی، سموسے اور شوارما ڈائننگ ہال میں کھاتے پیتے نظر آتے ہیں۔ بڑی تعداد میں جین پہنے بچیاں، اسکارف اوڑھے ہوئے نوجوان لڑکیاں، جب کہ برقعہ اور چادر میں ملبوس خواتین فخر کے ساتھ بازاروں میں، اخوت و محبت کا مظاہرہ کرتی چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔’اسنا‘ کا اقامتی کلچر ان سب کو یکجا کر دیتا ہے تاکہ وہ اسلام کے آفاقی تصور سے آشنا ہو سکیں۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کے ساتھ سالانہ کنونشن میں شرکت کرتے ہیں تاکہ انھیں اسلام کے وسیع سماجی تصور سے روشناس کروا سکیں۔( ریڈینس ویوز ویکلی، دہلی، ۱۷۔ ۲۳ جولائی ۲۰۱۱ء)
سوال: ہم آسٹریلیا میں پاکستانی مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ہمارے چاروں طرف گورے آسٹریلین یا یورپین رہتے ہیں۔ یہاں ہر سال کرسمس اور نیا سال بڑی دھوم سے منایا جاتا ہے۔ آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آیا کرسمس یا ایسٹر یا نئے سال کے موقعے پر ہم مسلمان اپنے ہمسایوں (جن میں عیسائی، یہودی اور لادین وغیرہ قسم کے سب لوگ شامل ہیں) کو کرسمس مبارک یا نیاسال مبارک کہہ سکتے ہیں؟ کیا اُن کی خوشی کے موقعے پر ہم اُن کے گھرجا سکتے ہیں اور مبارک باد دے سکتے ہیں اور حلال اور حرام کا لحاظ رکھتے ہوئے اُن کو تحفہ تحائف دے سکتے ہیں؟یاد رہے کہ آسٹریلین گورے (صرف نام کے عیسائی ) ہمارے ساتھ تو بہت اچھی طرح پیش آتے ہیں اور اچھے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ ہر شہر میں ہماری مساجد موجود ہیں اور اسلام پر عمل کرنے ، اسے پھیلانے اور تبلیغ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہماری تبلیغی کاوش کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
حضور اکرمؐ اور صحابہ کرامؓ کا غیر مسلموں کے ہاں آنا جانا اور حلال و حرام کا لحاظ رکھتے ہوئے اُن کے ہاں کھانا کھانا ہماری اسلامی تاریخ کا حصہ ہے۔ ہمارے ہاں کچھ مسلم علما نے غیر مسلم کو سلام کرنے، عیدمبارک کہنے یا اُن کے ہاں آنے جانے کے معاملے میں سخت رویہ اختیار کیا ہے، اور سلام کرنے، عید مبارک یا تحفہ تحائف کے لین دین کو ناجائز ٹھیرایا ہے۔آپ بتائیے کہ ہم لوگ اسلام کو ایک بین الاقوامی مذہب کے طور پر اور ایک روا دار آئیڈیالوجی کے طور پر کیسے پھیلا سکتے ہیں، جب کہ ہم اُن کی خوشی کے موقعے پر تنگ دلی کا مظاہرہ کریں اور اپنے گھروں میں چھپ کر بیٹھے رہیں؟اگر ہم اسلامی حدود میں رہتے ہوئے اُن کو مبارک باد کہہ دیں، گھروں میں جائیں اور تحفہ تحائف کا تبادلہ کرلیں تو اس سے اسلام کے مقصد کو کون سا صدمہ پہنچے گا؟
جواب: آسٹریلیا اور دیگر ممالک جہاںمسلمان تعلیم یا ملازمت کی غرض سے مقیم ہوں، اسلام کی دعوت کے لیے وسیع میدان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور باشعور اہل ایمان جنھیں قرآن کریم شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ (الحج۲۲:۷۸) سے تعبیر کرتا ہے جہاں کہیں بھی ہوں ان کا دینی فریضہ ہے کہ وہ حالات کی مناسبت سے دعوت کی توسیع کے لیے کوشاں ہوں۔
مغربی ممالک میں سفید فام حضرات کا گذشتہ دو تین صدیوں میں عیسائیت سے تعلق کم ہوا ہے اور لادینیت میںاضافہ ہوا ہے۔ گو، روایتی طور پر یورپ ، امریکا اور آسٹریلیا کی سفید فام نسل یا افریقی النسل آبادی میں ایسے بہت سے تہوار بڑے اہتمام سے منائے جاتے ہیں جن کی ماضی میں ان کے مذہب کے ساتھ نسبت رہی ہو۔ آج کرسمس ہو یا ایسٹر، ان کی حیثیت ایک دنیوی تہوار بلکہ ایک معاشی سرگرمی کی ہوگئی ہے۔ عموماً ان دونوں مواقع پر خاندان کے افراد کا دور دراز سے سفر کرکے یک جا ہونے اور ایک ساتھ کھانے میں شرکت کی روایت بن گئی ہے۔ گویا یہ معاشرتی اورسماجی تہوار بن گئے ہیں اور ان کی مذہبیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اس کے باوجود کرسمس اور ایسٹر کے موقع پر کیتھولک فرقے کا سربراہ اپنے ماننے والوں کو روحانی پیغام دیتا ہے اور چرچوں میں خصوصی تقریبات اور دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔
اہل ایمان کا کسی ایسی تقریب میں کہ جہاں اسلامی شعار کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، اہل اسلام کے خلاف منصوبہ بندی کی جا رہی ہو، یا مشرکانہ عبادات کی جارہی ہوں، ان میں شرکت کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ قرآن کریم نے ان سے اجتناب کرنے اور ایسے مواقع سے تیزی سے گزر جانے کی ہدایت کی ہے: ’’(اور رحمن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغوچیز پر ان کا گزر ہو جائے توشریف انسانوں کی طرح گزر جاتے ہیں‘‘ (الفرقان۳۵:۷۲)۔ چنانچہ اگر یہ معلوم ہو کہ کسی دعوت میں شراب اور اس کے لوازمات کا اہتمام ہونا یقینی ہے تو اس میں شرکت سے لازمی طور پر اجتناب کرنا چاہیے، یا یہ معلوم ہو کہ کہیں محفل رقص منعقد کی جا رہی ہے اور کسی غیر مسلم پڑوسی نے دعوت دی ہے تو ہمسایگی کے حق کے باوجود اس میں شرکت سے معذرت کرنی ہوگی۔
کرسمس اور ایسٹر بظاہر معاشرتی اور سماجی نوعیت کے تہوار بن گئے ہیں، اور جو لوگ مسلم ممالک سے باہر مقیم ہیں، ان کے لیے ان تہواروں سے اپنے آپ کو بچانا ایک معاشرتی اور سماجی مشکل بن گیا ہے۔ اس حقیقت واقعہ کے پیش نظر، اگر خالصتاً دعوتی نقطۂ نظر سے کسی پڑوسی کو کرسمس یا ایسٹر کے موقعے پر کوئی تحفہ ، زبانی مبارک باد یا کارڈ بھیجا جائے اور اس طرح وہ اسلام کی دعوت سے قریب آ سکے تو اس حد تک ایسے کام کا کرنا حرام نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ حرام و حلال کو قرآن و سنت نے متعین کر دیا ہے اور مشتبہات سے احتیاط کا حکم دیا ہے۔
آپ کا خیال درست ہے کہ اہل کتاب خصوصاً یہود و نصاریٰ کے ساتھ معاشرتی اور معاشی تعلقات پر تو کوئی پابندی نہیں ہے لیکن انھیں راز دار بنا کر،نیز ان پر وہ اعتماد کرنا جس کا ایک صاحبِ ایمان مسحق ہے، قرآن و سنت کے منافی ہے۔ حضور نبی کریم ؐ نے ایک یہودی کے بھیجے ہوئے کھانے کو قبول فرمایا(یہ الگ بات ہے کہ آپؐ اور اسلام سے بغض کی بنا پر اس کھانے کو زہر آلود کر دیا گیا تھا)۔ ایسے ہی غیر مسلموں کی تیمارداری بھی سنت سے ثابت ہے۔ غیر مسلموں کی طرف سے اگرسلام میں پہل کی جائے تو جواب میں صرف ’وعلیکم ‘کہنا بھی اسلامی آداب میں شامل ہے۔ اصل مسئلہ فقہی باریکیوں کا نہیں ہے بلکہ فقہ الدعوۃ کا ہے، اور دعوت اسلام کو حکمت، موعظہ حسنہ اورعملِ صالح کے ساتھ دینے کا ہے۔ اس بنا پر غیر مسلموں کو شروع کے مطابق خوش آمدید کہنا، انھیں صبح بخیر یا شب بخیر کہنایا کرسمس یا ایسٹر پر مبارک باد دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی دفترمیں کام کرنے والے ایک عیسائی یا یہودی کی ترقی ہو اور آپ اسے ایک سماجی روایت کے طور پر مبارک باد دیں۔
اسلام ایک دعوتی دین ہے اور ہر مسلمان مرد اور عورت پر اجتماعی اور انفرادی حیثیت میں دین کی دعوت دینا فرض ہے۔ اس غرض کے لیے مخاطب کی زبان، ثقافت اور رہن سہن سے واقفیت حاصل کرنا دعوتی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہے۔ یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ مسلمان، جو مغربی دنیا میں مقیم ہیں، وہاں بسنے والے افراد کے ساتھ روابط قائم کریں، اور ایسے تمام کاموں سے مکمل طور پر بچتے ہوئے جن میں شرک اورممنوعات کا ارتکاب ہوتا ہو، حکمت کے ساتھ غیر مسلموں تک اپنی بات کو پہنچائیں۔
ایک ضمنی لیکن اہم پہلو یہ بھی سامنے رہے کہ غیر مسلموں کو دعوتی نقطۂ نظر سے اسلام سے قریب لانے کے لیے کرسمس یا ایسٹر پر مبارک باد دینے کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب میں مقیم مسلمان اپنے بچوں کی خوشی کے لیے اپنے گھر میں کرسمس کا درخت مع تزئینی روشنیوں کے لگائیں، اور اس عمل کے ذریعے وہ یہ سمجھیں کہ ’وسعت نظر‘ کا اظہار ہوگا۔ ایساکرنا دین کی واضح تعلیمات کے منافی ہے۔ اللہ کے رسولؐنے غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے کی مکمل ممانعت کی ہے۔ اس لیے ان کے تہواروں کا منانا اسلامی طور پر جائز نہیں ہو سکتا۔ نہ صرف یہ بلکہ جو لوگ باہر مقیم ہیں ان کا فرض ہے، اپنے بچوں کو ان تہواروں کے نہ منانے پر عقلی دلائل دے کر مطمئن کریں۔ اسلامی تہواروں ، دونوں عیدوں کے موقع پر گھر میں خصوصی اہتمام کریں اور بچوں کو تحائف، اچھے کھانے اور اچھے لباس کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر کھیلوں اور مقابلوں میں شرکت کروائیں تاکہ ایک صحت مند متبادل سرگرمی ان کے سامنے آئے۔
اسلام لازمی طور پر دیگر مذاہب کے متوازی وجود پر اعتراض نہیں کرتا، لیکن وہ ثقافتی اورمذہبی تکثیریت کو گوارا کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت اور دیگر مذاہب کی گمراہی کا اظہار کھل کر کرتا ہے۔برداشت اور رواداری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مذہب کو سچا اور حق مان لیاجائے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ الہامی مذاہب اصلاً ایک ہی مأخذ سے نکلے ہیں،لیکن بعد میں ان میں وہ چیزیں شامل کر لی گئیں جن کا کوئی ثبوت اور دلیل الہامی ہدایت میں نہیں تھی، جب کہ اسلام قرآن وسنت کی بنا پر جیسا نازل ہوا، ویسا ہی اپنی اصل صورت اور غیر منحرف شکل میں محفوظ ہے۔ اور انسانیت کے تمام مسائل کا عقلی اور نقلی حل پیش کرتا ہے۔
مغرب میں دعوت دین دینے والے افراد کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ مقامی افراد کے مذہب، روایات تہواروں اور زبان سے پوری واقفیت حاصل کریں، تاکہ وہ اپنے غیر مسلم پڑوسیوں سے حقائق پر مبنی باحکمت مکالمہ کر سکیں۔(ڈاکٹر انیس احمد)
ایک سو چالیس سال پہلے ۱۸۷۱ء میں لندن سے سفرِحج اور انگلستان کے احوال پر مشتمل انگریزی کتاب Pilgrimage to The CAABA and Charing Cross شائع ہوئی تھی۔ اس کا اُردو ترجمہ غلام مصطفی خان مارہروی نے ماہنامہ العلم ، کراچی میں قسط وار کیا تھا۔ عبدالسلام سلامی صاحب نے اسی ترجمے کو معروف ادیب اور نونہال کے ایڈیٹر جناب مسعود احمد برکاتی کے مختصر دیباچے کے ساتھ شائع کیا ہے۔ ۱۸۷۰ء میں ریاست ٹونک کے امیر نواب محمد علی خان حج کے ارادے سے چلے تو ان کے ایک وزیر حافظ احمد حسن بھی ان کے ہمراہیوں میں شامل تھے۔ حافظ صاحب نے رودادِ سفرِحج انگریزی میں قلم بند کی، اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے سفرِلندن کا احوال بھی کتاب میں شامل کر دیا۔
مسعود احمد برکاتی کے بقول: ’’یہ کتاب ہمیں ڈیڑھ صدی پہلے لے جاتی ہے اور مشرق و مغرب کی طرزِ زندگی، معاشرت اور تمدن سے روشناس کراتی ہے‘‘۔ حافظ احمد حسن نے رودادِ حج سے پہلے انگریزوں کے ہاتھوں نواب محمد خاں کی بلاجواز اور ظالمانہ برطرفی کا ذکر کیا ہے۔ نواب موصوف ایک صاحب ِ تدبیر اور بلند کردار حکمران تھے مگر ان کی ریاست ہندو راجائوں کے علاقے میں واقع تھی جنھوں نے باقاعدہ ایک سازش کر کے انگریزوں سے انھیں برطرف کرا دیا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریز حکمرانوں، افسروں اور اہل کاروں میں بھی پرلے درجے کے متعصب، مسلم دشمن اور لارڈ کلائیو اور وارن ہیس ٹنگز جیسے بددیانت اور رشوت خور لوگ موجود تھے۔
مصنف بتاتے ہیں کہ جدہ میں ایک تو چُنگی کے افسروں نے حجاج سے بُرا سلوک کیا، دوسرے وہاں کا پانی بھی کڑوا اور بدذائقہ تھا۔ جدہ سے مکہ تک کا مشقت بھرا سفر اُونٹوں پر کیا۔ پھرمکّے سے مدینے تک کا سفر تو اور بھی خطرناک اور تکلیف دہ تھا۔ نیم وحشی بدوئوں اور لٹیروں کے گروہوں سے بچنا مسافروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ لوگ گروہ در گروہ، مسلح محافظوں کے جلو میں سفر کرتے تھے، ورنہ جو لوگ قافلے سے ذرا پیچھے رہ جاتے تھے، وہ اکثر اوقات جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔
سفرنامہ پڑھتے ہوئے خیال آتا ہے، آج کے زائرین ہزار درجہ زیادہ امن و سکون، راحت و آرام اور سہولتوں کے ساتھ عمرہ و حج ادا کرتے ہیں۔ آخری باب میں مؤلف نے جدہ سے انگلستان تک کے سفر کا حال قلم بند کیا ہے۔بہت خوب صورت مشینی کتابت، عمدہ، مضبوط مگر وزن میں ہلکا کاغذ، بے داغ طباعت اور نفیس جلدبندی، یہ سب کچھ، کتاب تیار اور پیش کرنے والے (سلامی صاحب) کے اعلیٰ ذوق اور سلیقے کی شاہد ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
حدیثِ رسولؐ وہ سرمایہ علم ہے جس کی بنیاد پر دین کی تفصیلات کو جاننا امت کے لیے ممکن ہوا۔ سنتِ رسولؐ مصدرِ شریعت ہے اور حدیثِ رسولؐ اس مصدر تک پہنچنے کا ذریعہ۔ خود حدیث بھی بہت سے امور میں مصدر اور ماخذِ دین بن جاتی ہے۔ فقہاے اُمت نے حدیث نبویؐ سے مسائل کا استنباط کیا، محدثین نے احادیث کو روایت بھی کیا اور ان سے مسائل بھی اخذ کیے۔ فقہا اور محدثین کی تعبیرات اور اخذِ مسائل میں اختلاف کیوں واقع ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو دینی امور میں غور وفکر کرنے والے ہر فرد کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ عموماً اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔ شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کے ایک شاگرد محمد عوّامہ نے اس نکتے پر توجہ مرکوز کرکے اختلافِ ائمہ فقہا کے اسباب بیان کرنے کی ایک قیمتی سعی کی ہے۔ جنوبی افریقہ میں حدیث کے استاد علاء الدین جمال نے ان کی عربی تالیف اثر الحدیثِ الشریف فی اختلاف الائمۃ الفقہاءؒ کااردو ترجمہ پیش کیا ہے۔مصنف نے ان بہت سی وجوہ کو چار اسباب کے تحت بیان کیا ہے جوحدیثِ رسولؐ کے حوالے سے ائمۂ فقہا کی تعبیرات میں اختلاف کی بنیاد بنے ہیں۔
شیخ محمد عوّامہ نے حدیث و فقہ کے وسیع ذخیرے سے مختصراً چند اسباب کو ذکر کرکے حدیث و فقہ کے طلبہ واساتذہ کے لیے ایک معتدل راستے کی طرف نشان دہی کی ہے۔ ان کے زاویۂ نگاہ سے جزوی طور پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم موضوع کی اہمیت اور ان کی مخلصانہ کوشش کی قدر وقیمت سے انکار نہیں۔ اگرچہ اس موضوع پر قدیم علما کی تحریریںبھی موجود ہیں، تاہم اسے مزید پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اُن احادیثِ رسولؐ کو نشان زد کرکے بیان کرنے کی ضرورت ہے جن کی اساس پر فقہا کی آرا سامنے آئی ہیں۔ بالفاظِ دیگر جو احادیث فقہ کا ماخذ ہیں اُن کو یکجا کیا جائے۔ فقہا کی آرا، قرآن و سنت اور حدیث رسولؐ سے الگ ہو کر مصدر دین کی حیثیت نہیںرکھتیں۔ یہ آرا استنباط ہیں جن کی بنیادیں اور مآخذ تلاش کرکے متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً احادیث پر کام کی اشدضروت ہے۔ (ارشاد الرحمن)
ناموس رسالتؐ پر مغرب کے حملوں اور پھر اس پر امت کے رد عمل نے اسے ایک جیتا جاگتا مستقل زندہ مسئلہ بنا دیا ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے جن میں سے ۱۳ تحریریں اس مجموعے میں جمع کی گئی ہیں۔ لکھنے والوں میں خود مولّفہ کے علاوہ، خرم مرادؒ پروفیسر خورشید احمد، اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ، شاہ نواز فاروقی،پروفیسر ساجد میر، مظفر اعجاز، شوکت علی، حافظ حسن مدنی، ڈاکٹر انیس احمد اورڈاکٹر عادل باناعمہ شامل ہیں۔ تحریروں میں اس مسئلے پر بحث کے ہر پہلو کو سمیٹ لیا گیا ہے۔ آخر میں اقبال کا فارسی زبان میں منظوم نذرانۂ عقیدت اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا گیاہے۔ اس بے حدقیمتی لوازمے کو ایک مناسب مربع سائز کے آرٹ پیپر پر دل کش انداز میں اور خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ویمن اینڈ فیملی کمیشن کے ذمہ داروں نے ایک اہم مسئلے پر یہ کتاب بروقت شائع کی ہے۔ اس سے ناموس رسالتؐ کا مسئلہ نکھر کر واضح ہو گیا ہے۔ (مسلم سجاد)
بھارت میں قبولِ اسلام کے اکثر واقعات میں وہاں مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب کا نام آتا ہے۔ اس کتاب میں ۱۸ نومسلم افراد کے بیش تر واقعات میں بھی وہی مرکزی شخصیت ہیں۔ ان میں ہندو بھی ہیں، عیسائی بھی، مرد بھی اور عورتیں بھی۔ بھارت سے باہر کے بھی ہیں، مثلاً مائیکل جیکسن کے بھائی جرمن جیکسن۔ ہمارے کرکٹر محمد یوسف کی اور مشہور و معروف کملا ثریا کی داستان بھی شامل ہے۔ ہرکہانی پڑھنے کے لائق ہے۔ ہم پیدایشی مسلمانوں پر یہ عجب اثر کرتی ہیں، دل گداز ہوتا ہے اور آنسو قابو میں نہیں رہتے۔ یہ دین کی قدر کرنے والے ہیں اور ہم ناقدرے ہیں۔ پھلت مظفر نگر یوپی (بھارت) سے ایک رسالہ ارمغان نکلتا ہے جس میں یہ کہانیاں آتی ہیں۔ اس کتاب کی پہلی تین جلدیں نظر سے نہیں گزریں۔ اس کتاب کا ہر واقعہ اپنے اندر بڑے سبق لیے ہوئے ہے۔ ہدایت کے یہ سفر ایمان کو تازہ کرتے ہیں۔ اس طرح کی کتابیں بہت عام ہوجائیں، ہر پڑھنے والا پڑھے تو اُمید ہے کہ پیدایشی/ خاندانی مسلمانوں کا ایمان بیدا رہوگا اور معاشرے پر خوش گوار اثرات پڑیں گے۔ (م- س)
دنیا میں ذہنی دبائو اور افسردگی (ڈیپریشن) کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خدشہ ہے کہ ۲۰۲۰ء میں ہر پانچواں شخص اس مرض کا شکار ہو گا، مگر پاکستان میں ابھی سے ۴۴ فی صد لوگ اس مرض کی گرفت میں ہیں۔ یہ مرض آگے بڑھ کر جرم یا خودکشی پر منتج ہوتا ہے۔ زیرنظر کتاب میں ڈیپریشن کا اہم محرک مادہ پرستی، حسد اور دولت و شہرت کے حصول میں ناکامی کو قرار دیا گیا ہے۔ اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ڈیپریشن یا نفسیاتی امراض کا سبب صرف غربت نہیں ہے، اس لیے کہ مغربی ممالک میں خوش حالی کے باوجود ذہنی امراض اور خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ صرف امریکا میں ہرسال ۴۰ لاکھ افراد ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور امریکا میں دنیا میں سب سے زیادہ سکون آور ادویات تیار کی جاتی ہیں (ص ۳۲)۔ دراصل تمام تر ترقی کے باوجود انسان کا اضطراب اور بے چینی، زندگی کا مقصد واضح نہ ہونے اور خدا سے دُوری کا نتیجہ ہے۔ مصنف،مغربی ماہرینِ نفسیات کی آرا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ڈیپریشن کا علاج بتاتے اورعمل کی راہیں سجھاتے ہیں۔ قرآنی آیات اور احادیث کا برمحل استعمال کتاب کی خوبی ہے۔ اسلام کس طرح سے رہنمائی اور سکون کا باعث بنتا ہے، اس حوالے سے نومسلموں کے ایمان افروز واقعات بھی درج ہیں۔(امجد عباسی)
ماہر نفسیات ارشد جاوید کے بقول ان کی ’زندگی بدلنے والی‘ یہ دسویں کتاب (نویں: روزمرہ آداب) اللہ اور اس کے رسولؐ کی پسند وناپسند کی روشنی میں اچھے اور بُرے مسلمان کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ہر عنوان کے تحت پسندوناپسند کے حوالے سے آیات اور احادیث پیش کی گئی ہیں۔ پہلے دو ابواب جہنم اور جنت کے بعد ایمانیات، عبادات اور زندگی کے ہر دائرے سے متعلق متفرق موضوعات ہیں۔ اخلاقیات کے (نمبر۴۹) بعد ۲۲ذیلی عنوانات کے تحت جھوٹ، غیبت، فضول خرچی، قول و فعل میں تضاد وغیرہ بیان ہوئے ہیں۔ علم دینے کے لیے اچھی کتاب ہے، لیکن ہمارا مسئلہ نہ جاننے کا نہیں، نہ کرنے کا ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے (لیکن طبیعت اِدھر نہیں آتی) لیکن لوگ، یعنی مسلمان، بُرے مسلمان رہنے پر خوش اور مطمئن ہیں بلکہ اچھے مسلمانوں کو احمق سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل کیا کتابوں سے ہوجائے گا؟ عنوان بہت بُرا لگا، بھلا مسلمان بھی بُرا ہوتا ہے؟ (م - س)
یہ کتاب شیخ فتح اللہ گولن کی عربی تصنیف القدر فی ضوء الکتاب والسنۃ کا ترجمہ ہے۔ شیخ فتح اللہ نے عربی میں کئی کتب تصنیف کی ہیں جن میں سے اکثر کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں کیا جاچکا ہے۔ تقدیر کے مسئلے پر یہ کتاب مساجد میں دیے گئے مواعظ اور طلبہ اور مریدین کے لیے منعقد کی گئی خصوصی مجالس میں سوالات و جوابات کا مجموعہ ہے۔ تقدیر پر ایمان لانا ایمان کے چھے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور بعث بعد الموت پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ تقدیر کے مسئلے کا تعلق انسان کے جزئی ارادے سے ہے۔ اس کتاب میں قرآن و حدیث کی روشنی اور فطری تقاضوں کے حوالے سے عام فہم انداز میں بحث کی گئی ہے اور تقدیر سے متعلق سوالات اوران کے جوابات کی صورت میں بھی گفتگو ہے۔ تقدیر کے مسئلے کو سمجھنے میں یہ کتاب مفید ہوگی۔ مولانا مودودیؒ کی تصنیف مسئلہ جبروقدر کا مطالعہ مسئلے کے تمام پہلوئوں کوواضح کر دے گا، ان شاء اللہ! (شہزاد الحسن چشتی)
معاصر ایرانی فارسی ادب کے بارے میں یہ ایک نصابی فارسی کتاب کا اُردو ترجمہ ہے۔ مصنف نے اسے مدرسوں اور یونی ورسٹیوں کے فارسی زبان و ادب کے طلبہ کی ضرورت کے تحت ایک ’معاون‘ (help book) کی صورت میںتیار کیا ہے۔ زیادہ تر حصہ قریبی زمانے کے فارسی ادبی جائزے پر مشتمل ہے، جس میں فارسی داستان نویسی، زمانہ انقلاب کی نثر، ڈراما نگاری، ادبیات اور نظری علوم میں تحقیق، فارسی میں صحافت کے ارتقا اور بچوں اور نوجوانوں کے ادب کا احاطہ کیا گیا ہے، لیکن مقدمے میں کلاسیکی ادوار کا تعارف بھی شامل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مصنف نے تاریخ ادب فارسی کے دریا کو ساڑھے تین صفحات کے کوزے میں بند کر دیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ مصنف (پ: ۱۹۳۶ء) تہران کی بعض جامعات و کلیات میں مختلف تدریسی، تحقیقی اور انتظامی مناصب پر فائز رہے۔ آج کل مرکزِ مطالعاتِ اسلامی، مک گل یونی ورسٹی کینیڈا میں پروفیسر ہیں۔ اگرچہ زیرنظر پانچویں اڈیشن کے دیباچے میں خاصے کسر و انکسار کا اظہار کیا گیاہے مگر مترجم کے بقول یہ ان کی سب سے زیادہ مقبول، کثیرالاشاعت اور اپنے موضوع پر کلیدی اور معتبر کتابوں میں سے ہے جو مدرسوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ ساتھ فارسی ادب کے اساتذہ اور عام قارئین کے لیے بھی ایک معلومات افزا اور چشم کشا کتاب ہے۔ مترجم فارسی زبان وادب کے فاضل قادر الکلام شاعر اور معروف استاد ہیں۔ ان حوالوں سے ان کی دیگر خدماتِ علمی و ادبی کی طرح یہ خدمت بھی قابلِ تحسین ہے۔ (ر- ہ)
طبیعیات کی یہ نصابی کتب بی، ایس، سی(آنرز) اور ایم ایس سی نصاب کے مطابق اردو میں تحریر کی گئی ہیں۔ ادارہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے اور یہ قابلِ قدر بات ہے کہ سائنسی علوم میں سے اکثر پر پہلے ہی قومی زبان اردومیں کتب شائع کی جا چکی ہیں۔ اب یہ تین کتب طبیعیات پر شائع کی گئی ہیں۔ اردو یونی ورسٹی اور ان کتب کے مؤلفین اساتذہ قابلِ مبارک باد ہیں۔ طبیعیات کی زیر تبصرہ کتب عمدہ اور سلیس اردو میں تحریر کی گئی ہیں اور دقیق عنوانات کی تشریح آسان اور قابل فہم انداز میں اس طرح کی گئی ہے کہ نہ صرف طلبہ کو سمجھنے میں آسانی ہو بلکہ جو لوگ بھی طبیعیات سے دل چسپی رکھتے ہیں وہ بھی بآسانی سمجھ سکیں۔ ان کتب میں مساوات اور ریاضی کی حسابی تفصیلات، جو اس طرح کی کتب کے لیے ضروری ہیں، واضح طور پر مناسب مقامات پر موضوع کے سمجھنے کے لیے دی گئی ہیں۔ انگریزی اصطلاحات کے اردو مترادفات جامعہ کراچی اور مقتدرہ قومی زبان کے وضع کردہ استعمال کیے گئے ہیں۔
ان سائنسی کتب میں اسلامی طرز فکر کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ الحادی تہذیب نے مقبول نقطۂ نظر یہ بنا دیا ہے کہ جیسے اس کائنات میں سب کچھ خدا جیسی کسی ہستی کے بغیر اپنے آپ ہورہاہے۔ مسلمان اہل علم اور سائنس دان بھی ذاتی عقیدہ درست رکھتے ہوں، صاحب ایمان ہوں، لیکن اس نوعیت کی سائنسی کتب لکھتے ہوئے مغربی، یعنی الحادی انداز ہی اختیار کرتے ہیں حالانکہ جو کچھ بیان کرتے ہیں دراصل اللہ تعالیٰ کے قوانین ہیں۔ سائنس تو ہے ہی آیاتِ الٰہی کا بیان۔ مسلمان اہل قلم کو ان کتب کی تصنیف اس طرح اور اس انداز سے کرنا چاہیے کہ طالب علم کائنات کی اصل حقیقت سے آشنا ہو، اور سائنس کا مطالعہ اس کا ایمان مضبوط کرے۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدین نے اس نوعیت کی ایک فزکس کی نمونے کی کتاب لکھی تو انھی قوانین کو God's Lawکہہ کر بیان کیا۔ اتنی سی بات سے پورا منظر نامہ بدل گیا۔سائنس الحاد کے بجاے ایمان کی پیغام بر بن گئی۔ مسلم اُمہ کو مستقبل میں جو چیلنج درپیش ہیںنئی نسل کو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی نقطۂ نظر سے لکھی گئی کتابوں کی ضرورت ہے ہمارے اساتذہ کو سائنسی و وفنی درسی اور غیر درسی کتب میں بلکہ درس و تدریس کے دوران میں بھی اسلامی نقطۂ نظر اختیار کرنا چاہیے۔ (ش-ح- چ)
آپ کے تمام مضامین اعلیٰ پائے کے ہوتے ہیں، جو تعلیم و تربیت کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ڈاکٹر انیس احمد کا مضمون ’نظامِ عدل کا قیام اور حکمت عملی‘(ستمبر۲۰۱۱ء) بلاشبہہ ایک شاہکار ہے۔ اگرتحریک سے وابستہ افراد اس پر عمل کریں اور اپنی شب و روز کی زندگی ان رہنما خطوط کے مطابق گزاریں تو تبدیلی کی اُمید کی جا سکتی ہے۔
’تربیت اولاد میں حیا کا عنصر‘ (ستمبر۲۰۱۱ء) میں بچوں کی تربیت کے لیے جدید تقاضوں کی روشنی میں اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ایک طرف حیا کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں تو دوسری طرف بے حیائی کے محرکات کی نشان دہی کے ساتھ ان کے تدارک کے لیے عملی رہنمائی بھی دی گئی ہے۔
اس ماہ پروفیسر محمد اقبال خاں کی تحریر ’تاجکستان: پس منظر اور جدوجہد‘ (ستمبر۲۰۱۱ء) نے تو دل کو موہ لیا۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ روس کی گرفت سے آزاد ہونے والی ریاستوں سے متعلق معلومات خاصی بکھری اور نامکمل ہیں۔ تاجک باشندوں کا ذکر اکثر اخبارات میں نظر آیا، زیادہ تر بدترین حالات کا شکار اور کبھی مختلف نوعیت کے حملوں کا شکار۔ اس علاقے کے متعلق زیادہ معلومات کی خواہش تھی۔ یہ خواہش اس مضمون سے کافی حدتک پوری ہوئی۔ دکھی کر دینے والے حالات تو اس وقت پوری مسلم دنیا کا ہی المیہ ہیں لیکن تاجک عوام کا عزم یہ حوصلہ دے رہا ہے کہ ان شاء اللہ مستقبل اسلام کا ہی ہوگا، اور آزمایش کے یہ دن گزر جائیں گے!
’آج کی بدلتی دنیا اور درپیش چیلنج ‘(ستمبر۲۰۱۱ء) میںمصنف نے نہایت چابک دستی سے چند صفحات میں دنیا کے اتار چڑھائو، ان کے اسباب وعوامل اور مستقبل کے امکانات و خدشات، کیا نہیں، بیان کر دیا ہے، مگر ہم تو یہ بھی پڑھنا چاہتے ہیں کہ اس پریشان حال دنیا کے دکھوں کا مداوا وہ آب حیات ہے جو مسلمانوں کے پاس ہے۔
توجہ:’روزے کی جسمانی و نفسیاتی افادیت‘ (اگست۲۰۱۱ء) از ڈاکٹر محمد سلطان میں مضمون نگار کا تعلق ہمدرد یونی ورسٹی، دہلی سے بتایا گیا تھا جو درست نہیں۔ وہ جی سی یونی ورسٹی لاہور میں شعبہ عربی و علوم اسلامیہ کے صدرہیں۔
فاسد ماحول میں کسی مرد کی حیاداری اور کسی خاتون کی عصمت پسندی کو ساری عمر چومکھی لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔ بے حیائی ہرسمت سے نئے نئے اسلحے کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے اور بار بار حملہ آور ہوتی ہے۔ وہ بنائوسنگھار کرکے نکلتی ہے، وہ نمایش اور مظاہرے کی اسپرٹ کے ساتھ آگے بڑھتی ہے،وہ شعر کا لباس پہنتی ہے، وہ افسانے کا بہروپ بھرتی ہے، وہ صحافت اور ادب کے ایوان میں مسند آرا ہوتی ہے، وہ اشتہاروں میں نمایاں ہوتی ہے، وہ تصویر کا کاغذی پیرہن زیبِ بدن کرتی ہے، وہ رقص گاہوں میں ناچتی ہے،وہ مینابازار لگاتی ہے،و ہ کیمروں کے سامنے پریڈیں کرتی ہے،وہ ضیافتوں اور دعوتوں اور تقریبوں میں پیش پیش رہتی ہے، وہ سینمائوں میں ہنگامے مچاتی ہے اور وہ ریڈیو سے طوفانِ صوت بن کر بہتی ہے۔
اس کے مقابلے میں آپ اپنی فطرت کی پاکیزگی کے زور پر ’غضِ بصر‘ کرتے ہیں لیکن بے حیائی خود آگے بڑھ کر آپ کی آنکھوں میں گھستی ہے۔ آپ اس کے لیے گوش برآواز نہیں ہوتے، لیکن وہ خود اپنا پیغام آپ کے کانوں میں ڈالتی ہے۔ آپ کو اس کی بو سے نفرت ہے لیکن وہ عطر کی لپٹوں میں تحلیل ہوکر آپ کے مشام پر حملہ کرتی ہے۔
یہ فاسد ماحول کا جادو ہے کہ حیاداروں اور عصمت پسندوں کا مذاق اُڑایا جاتا ہے، ان کو کور ذوق شمار کیا جاتا ہے، لیکن بے حیائی اور بے عصمتی ترقی پسندی اور تہذب اور کلچر کی علامت قرار دی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ماحول عصمت و حیا کو پیچھے دھکیلتا ہے اور بے عصمتی و بے حیائی کو اگلی صفوں میں جگہ دیتاہے۔ ایسے حالات میں کون حساب لگا سکتا ہے کہ کتنی ہی سعید روحیں ہیں کہ جو بے حیائی کے اس طوفان کے ریلوں سے لڑتے لڑتے آخرکار دم توڑ دیتی ہیں۔ اور کون اس بات کا اندازہ کرسکتا ہے کہ کتنے افراد کی عصمت پسندی کے مظاہرے کے پس پردہ ان کے تحت ِ شعور میں ماحول کے فاسد اثرات گھس کر ڈیرے ڈال چکے ہیں اور وہ برابر ان کی سیرتوں کو دیمک بن کر چاٹ رہے ہیں…
ایسے فاسد ماحول میں گھرے ہوئے مومن سے اس کا ایمان دو مطالبے کرتا ہے:ایک یہ کہ وہ ماحول کے اثرات اور گندگیوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اور اپنے اندر زیادہ سے زیادہ پاکیزگیِ اخلاق اور طہارتِ نفس پیدا کرنے کے لیے عملاً جو کچھ کرسکتا ہے اس کو آخری حد تک کرے۔دوسرے یہ کہ فاسد ماحول کا تسلط ختم کرنے اور اس کی جگہ ایک صالح ماحول کو برپا کرنے کے لیے جدوجہد اور سرگرمی کا حق جتنا وہ ادا کرسکتا ہو اسے پوری عزیمت سے ادا کرے۔ خوب سمجھ لیجیے کہ کسی فاسد ماحول میں ایمان، تقویٰ اور احسان کی راہ صرف یہی ہے۔(’اشارات ‘، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد ۳۷، عدد ۱، محرم ۱۳۷۱ھ، اکتوبر ۱۹۵۱ء، ص ۳-۴،۷-۸)