مضامین کی فہرست


۲۰۱۰ فروری

امریکا اور مغرب یا ان کے چہیتے حکمرانوں کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کتنی حقیقی ہے اور کتنی خودساختہ، ان مفروضوں پر بحث سے قطع نظر ایک اور سخت اذیت ناک چیلنج درپیش ہے۔ اس چیلنج کو ’مغرب کی عریاں دہشت گردی‘ کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے!

ایک زمانہ تھا کہ مسلم خواتین مکمل حجاب کااہتمام کرتیں، اور اس مقصد کے لیے برقعہ پہنتیں۔ مگر آج کا ’مہذب مغرب‘ ان باحیا و پاک باز خواتین سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ برقعہ اتاریں، حجاب کو نوچ کر پرے پھینکیں، بلکہ ’دہشت گردی‘ کی نام نہاد جنگ میں مغرب کا خوف دُور کرنے کے لیے خود کو بے لباس کرکے تصویریں بنوائیں۔ جدید تعلیم اور ابلاغی یلغار کے زیراثر برقعہ و حجاب پر نرم رویہ اختیار کرنے کے لیے وہ بڑی حد تک تیار دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس تیسرے حملے کو برداشت کرنے کے لیے ہرگز ہرگز تیار نہیں ہوسکتیں، بلکہ اس کاتصور کرکے زندہ رہنے سے زیادہ وہ موت کے انتخاب کوترجیح دینے سے بھی گریز نہ کریں گی۔ یہ فیصلہ تو مسلم خواتین کا ہے___ مگر امریکا یہ کہتا ہے: ’’تم اپنی جگہ غیرت کو محفوظ رکھو، مگر ہم مشینوں کے ذریعے تمھیں بے لباس کرکے تصویریں بنائیں گے‘‘۔ صاحبو، آج امریکی فضائی اڈوں پر ایسی مشینوں (naked body scanners)کی تنصیب کر دی گئی ہے (اور تیزی سے اس تنصیباتی عمل کو وسعت دی جارہی ہے) تاکہ خوف زدہ مغربیوں کے ہاتھوں حیا کا پردہ تار تار ہوتا رہے، اور پھر دنیا کے مظلوم اور مسلم اُمہ کے مجبور عوام اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرلیں۔

اپنی سرزمین پر یہ بیہودہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ خودمسلم ممالک سے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں سے امریکا جانے والے مسافروں کو ’مکمل جسمانی سکین‘ کر کے طیاروں میں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ آخرکار منصوبہ یہ ہے کہ تمام ہوائی اڈوں پر فضائی مسافروں کی عریاں اسکیننگ کی مشینیں لگا دی جائیں۔ لوگ حیران و پریشان ہیں کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟

جواب میں امریکی حکام کہتے ہیں کہ: دسمبر ۲۰۰۹ء کے کرسمس کے موقع پر نائیجیریا کے ۲۳سالہ افریقی مسلمان عمرفاروق عبدالمطلب کو مبینہ طور پر آتش گیر پائوڈر کمر سے باندھے ہوئے ڈیٹرایٹ (مشی گن) کے ہوائی اڈے سے گرفتار کرنے کا واقعہ ہی اس جبر کا باعث بنا ہے۔ (یاد رہے یہ مسافر ایمسٹرڈم کے ہوائی اڈے سے طیارے (فلائٹ ۲۵۳) پر سوار ہوا تھا، اور سیکورٹی کی ذمہ داری اسی ہوائی اڈے کے حکام پر تھی)۔ جواب میں مسلم رہنما کہتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ڈراما تھا، جسے اسٹیج کر کے ایک بہانہ تراشا گیا تاکہ مذکورہ پروگرام کے نفاذ کا جواز پیدا کیاجاسکے اور اس شک کی بنیاد بڑی مضبوط ہے۔

مبینہ طور پر یہ واقعہ تو دسمبر ۲۰۰۹ء میں ہوتا ہے، مگر سی این این نے اب سے سات ماہ   پیش تر ہی یہ خبر دے دی تھی کہ: ’’مسافروں کی عریاں تصویرکشی (naked pictures) کی جاری ہے‘‘ (۱۸ مئی ۲۰۰۹ء، cnn.com)۔ اسٹاف رپورٹر جرمی حسو نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا: ’’جسم کی مکمل تصویرکشی کی مشینوں سے، فرد کے کپڑوں کے نیچے سے ہر دھاتی اور غیردھاتی چیز دیکھی جاسکتی ہے بلکہ زیرجامہ نقوش تک نظر کے سامنے آجاتے ہیں اور یہ ۳ ڈی عکس بندی چند سیکنڈ میں کرلی جاتی ہے‘‘ (یکم اپریل ۲۰۰۹ء، livescience.com)۔ آگے چلیے، معروف صحافی جیفری لایب نے تو اس سے بھی ایک سال پہلے دی ڈینورپوسٹ میں بتایا تھا: ’’ڈینور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ امریکا کے دیگر پانچ ہوائی اڈوں پر مکمل جسمانی عریاں تصویر سازی کی مشینیں لگادی گئی ہیں‘‘۔(۲۹ مئی ۲۰۰۹ء، denverpost.com)

اسی طرح تھامس فرینک نے اب سے ڈیڑھ سال قبل ۶جون ۲۰۰۸ء کو امریکا کے مشہور جریدے یو ایس ٹوڈے میں رپورٹ دی تھی کہ: ’’انسانی بدن کو اسکین کرنے والی وہ مشینیں، جو لوگوں کے کپڑوں سے بھی نیچے کی تصویریں بنا سکتی ہیں، معروف ترین ہوائی اڈوں پر نصب کر دی گئی ہیں‘‘ (۶ جون ۲۰۰۸ء- USA Today)۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مغربی اور امریکی حکمرانوں کی بدنیتی اور قانون شکنی تو کب سے اپنا رنگ دکھا رہی تھی، مگر اس شیطانی سلسلے کو    بڑے پیمانے پر روبہ عمل لانے کے لیے ’کرسمس ڈراما ۲۰۰۹ء‘ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہاں پر مسلم دنیا سے نہیں بلکہ خود امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ ہی سے چند تجزیاتی رپورٹوں کے اقتباسات اور بیانات پیش کیے جاتے ہیں:

  • پال ایڈورڈ پاکر کے مطابق: ’’یہ اسکینر مشینیں، کپڑے پہننے کے باوجود، مسافروں کی کپڑوں سے بے نیاز تصویر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘‘(۳۱دسمبر ۲۰۰۹ء، progo.com)۔ اس ضمن میں ٹیلی ویژن ایسی رپورٹیں پیش کر کے، کہ جن میں اسکینر سے گزرنے والے لوگوں کے چہروں اور تناسلی اعضا (genitals) کو دھندلا کردکھایا جا رہا ہے، عام ناظرین کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ پیچھے کمرے میں بیٹھ کر دیکھنے والے عملے کے لوگ، اس عکس کو ایک معمولی سے اُلٹ پلٹ (inversion) کے عمل سے بالکل اس طرح دیکھ سکتے ہیں، جیسے وہ بالکل عریاں کیفیت میں، اپنے حقیقی خدوخال اور رنگ و حالت میں ان کے سامنے ہوں۔ اور ان کی یہ تصویریں، اسی حالت میں ہوبہو ریکارڈ کا مستقل حصہ بھی بن جاتی ہیں‘‘۔ (۸ جنوری ۲۰۱۰ء، پال جوزف واٹسن، prisionplanet.com)
  • ’’مکمل انسانی جسم کی اس خفیہ تصویرکشی کا ایک خوفناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہوائی اڈے سے سفر شروع کرنے یا سفر مکمل کر کے باہر نکلنے والا مسافر خطرناک ریڈیائی لہروں میں غسل کرکے نکلتا ہے۔ افسوس کہ اس انتہائی نقصان دہ عمل کے باوجود امریکی انتہاپسند (نیوکونز) اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ ایسی مشینیں بڑے پیمانے پر نصب کی جائیں‘‘۔ (۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء، infowars.com)
  • خود امریکا میں ’ٹکنالوجی اور آزادی‘کے عنوان سے شائع شدہ ایک فکرانگیز مضمون بتاتا ہے کہ:’’یہ ٹکنالوجی، انسان کی آزادی، خلوت اور پوشیدہ وجود پر براہِ راست حملہ ہے۔ جس کے ذریعے خواتین و حضرات کو ان کی مرضی کے بغیر اور ان کی سفری مجبوریوں سے ناجائز طور پر    فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان کی شرم گاہوں تک کی تصویرکشی کی جاتی ہے۔ عملی شکل یہ ہے کہ سفر کے   دوران میں ایئرپورٹ کی چیک پوسٹ سے گزرتی سواری کو یہ مشینیں عریاں حالت میں چلتا دکھاتی ہیں۔ یہ انسانوں کی نجی زندگی اور وقار پر ایک بدترین جارحیت ہے۔ مانا کہ کچھ افراد دوسروں کے سامنے عریاں ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے، مگر انسانوں کی عظیم ترین اکثریت، اس بے حیائی کو   نفرت سے دیکھتی ہے۔ اس طرح یہ سارا قصہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ ایسے  توہین آمیز عمل کو کوئی بھی مہذب انسان برداشت نہیں کرسکتا۔ یاد رہے کہ سفری حفاظت کے ادارے میں ۴۳ہزار افسران اور لاتعداد خفیہ ایجنٹ، صرف امریکا کے ۴۵۰ ہوائی اڈوں پر روزانہ ڈیوٹی دیتے ہیں، جب کہ امریکا ہوائی اڈوں پر روزانہ ۲۰ لاکھ مسافر، سفر کی غرض سے آتے ہیں‘‘۔ (۸جنوری ۲۰۱۰ء، aclu.org)
  • ’’مانچسٹر ایئرپورٹ (برطانیہ) پر ایک سال سے تجرباتی طور پر عریاں تصویرکشی کرنے والی ان مشینوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی ایسی تصویریں نہ بنائیں، کیونکہ اس طرح ’بچوں کی عریاں کشی کے قانون‘ کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘‘ (mailonsunday.co.uk)۔ اسی خبر کو اخبار دی گارڈین، لندن (۴ جنوری ۲۰۱۰ء) نے زیادہ تفصیل سے پیش کیا۔
  • ’’سفری حفاظت کی انتظامیہ (TSA) یہ بھی کہتی ہے کہ اس تصویری مواد میں دیگر جسمانی تفصیلات پر زور نہیں دیا جاتا، بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کسی فرد نے جسم کے ساتھ اسلحہ تو نہیں باندھ رکھا، حالانکہ یہ بہانہ گمراہ کن ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ وہ یہ تصویریں سامنے سے اور عقب سے بناتے ہیں اور ان تصویروں کو جتنا چاہیں بڑا کر کے دیکھا جاسکتا ہے‘‘۔ (۸؍اپریل ۲۰۰۹ء، ولیم سیلٹن، slate.com)
  • جینی میسریو اور مائیک اہلرز کی رپورٹ کے مطابق: ’’سفری حفاظتی انتظامیہ (TSA) لوگوں کو جتنا چاہے دھوکا دے لے، لیکن امرواقعہ یہی ہے کہ انسانی شرف اور احترام کی تذلیل کا یہ پورا بندوبست ہے۔ خود ٹی ایس اے کی دستاویزات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان اسکینر مشینوں میں یہ بھرپور صلاحیت ہے کہ وہ مسافروں کی [عریاں] تصویریں بناکر محفوظ رکھیں اور دوسری جگہ منتقل کریں۔ ایسی تصویریں جو زیب تن کپڑوں کے نیچے کی عکس بندی کرلیتی ہیں۔ کمپیوٹر ہیکروں یا دوسرے کارکنوں کے ہاتھوں ان تصویروں کے غلط طور پر استعمال ہونے کا ہرآن خدشہ موجود رہے گا‘‘۔ (۱۱ جنوری ۲۰۱۰ء، cnn.com)
  • یہ امرواقعہ ہے کہ انتظامیہ اپنے شہریوں کے ساتھ دھوکا دہی کا ثبوت دیتے ہوئے دوسری بات کہہ رہی ہے، حالانکہ یہ بات ایک معلوم حقیقت کا درجہ رکھتی ہے کہ ’جسمانی جائزے‘ کے ان اسکینروں سے بنے ہوئے عکس آپ کی عریاں حالت میں تصویر بناکر، آپ کے تناسلی اعضا تک کی باریک سے باریک تفصیل کو ریکارڈ کرلیتے ہیں۔ (godlikeproductions.com)
  • ’’ایسے بہت سے منصوبوں کے طرف دار یہودی تک اس صورتِ واقعہ پر تڑپ   اُٹھے ہیں۔ مثلاً صہیونی اخبار دی یروشلم پوسٹ کے نمایندہ میتھیو ویگز نے رپورٹ کیا: ’’یہودی مذہبی رہنمائوں کے مطابق مکمل جسمانی اسکیننگ سے عورتوں کی حیا اور احترام پر بہت منفی اثر پڑے گا‘‘ (۷جنوری ۲۰۱۰ء، jpost.com)۔ اسی طرح جرمنی کی ’پائی ریٹ پارٹی‘ نے بھی عریاں اسکینروں کے خلاف مظاہرہ کیا‘‘۔ (۱۱ جنوری ۲۰۱۰ء، thelocal.de)
  • ’’ہالینڈ میں سلامتی کے مشیر نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ جلد از جلد فنڈز جاری کرے تاکہ ’عریاں جسمانی‘ تصویرکشی کے ایسے سفری (موبائل) اسکینرز استعمال میں لائے جائیں کہ جن کے ذریعے بازاروں میں چلنے، فٹ بال کھیلنے اور اسٹیڈیم وغیرہ میں کھیلوں سے لطف اندوز ہونے والے تماشائیوں وغیرہ تک کو عریاں حالت میں دیکھا، پرکھا اور ریکارڈ کیا جاسکے۔ (۲۰جنوری ۲۰۱۰ء، dutchnews.nl)
  • ایک اسکینر جو ایک لاکھ ۳۰ ہزار ڈالر سے ایک لاکھ ۷۰ ہزار ڈالر کی قیمت رکھتا ہے، امریکا کے ۱۹ ہوائی اڈوں پر ۴۰ کی تعداد میں نصب اور زیراستعمال ہیں۔ ۱۵۰ مزید نصب کیے جارہے ہیں، جب کہ امریکا کے ۴۵۰ ہوائی اڈے ہیں (۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء، progo.com)۔ اسی طرح سی این این نے ان تفصیلات کی تائید کرنے کے ساتھ یہ خبر دی ہے: ’’۲۰۱۱ء تک پورے امریکا میں یہ مشین لگا دی جائیں گی۔ (۱۱ جنوری ۲۰۱۰ء، cnn.com)
  • ایک جانب ’سفری حفاظت کی انتظامیہ‘ کے ترجمان کرسٹن لی نے یہ کہا ہے: ’’ہم یہ اقدامات سلامتی کی غرض سے کر رہے ہیں، ہمیں کسی مذہب یا قومیت سے کچھ نہیں لینا دینا‘‘ (۴جنوری ۲۰۱۰ء،cnn.com)۔ دوسری طرف دنیا کی معروف اخباری ایجنسی اے ایف پی  کے مطابق: ’’جن ممالک کے باشندوں کو خاص طور پر ان مشینوں کے ذریعے دیکھا، پرکھا اور ریکارڈ کیا جارہا ہے، ان میں شامل ہیں: سعودی عرب، پاکستان، ایران، سوڈان، شام، افغانستان، الجزائر، عراق، لبنان، لیبیا، صومالیہ، یمن، نائیجیریا اور کیوبا‘‘ (france24.com)۔ امریکی ٹیلی ویژن سی این این نے ۴ جنوری ۲۰۱۰ء کو انھی ممالک کے نام ایک اعلیٰ امریکی افسر کے حوالے سے دہراے ہیں۔ [یاد رہے کہ ان میں۱۳ مسلم ممالک کی کل آبادی ۷۰ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے]
  • امریکی مسلمانوں کی تنظیم ’کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز‘ (CAIR) کے نیشنل ایگزیکٹو نہاد عواد (Nihad Awad) نے اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی این این کو بتایا: ’’ان اسکینروں کی تنصیب کے تحت مسلم اکثریتی آبادی رکھنے والے ۱۳ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پھر ان میں سے بھی خصوصی ہدف وہ لوگ ہیں، جو اَب امریکی قومیت اختیار کرچکے ہیں، مگر ان کی پیدایشی اور نسلی شناخت ان ۱۳ ملکوں سے منسوب ہے۔ یوں نسلی اور اعتقادی سطح پر وہ بجاطور پر مسلم دنیا سے فطری اور روحانی وابستگی رکھتے ہیں۔ اس بندوبست کے بعد یہ امریکی مسلمان جب کبھی کبھار اپنے پیدایشی ملک میں عزیزوں سے ملنے جائیں گے تو ایسی تضحیک کا ہدف بنیں گے، اور وہ بھی خودبخود مذکورہ تذلیل کا نشانہ بنیں گے جو حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب کا سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچیں گے‘‘ (۴جنوری ۲۰۱۰ء، cnn.com)

مغرب کے خوف زدہ حکمرانوں نے دنیا بھر میں ایک ہسٹیریائی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ اسی کیفیت میں وہ اپنے مذموم سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ کرتے اور اعلیٰ انسانی اور تہذیبی اقدار کو کچلے جارہے ہیں۔ اُوپر مذکورہ اسکیننگ مشینوں کے اس استعمال کا مطلب یہ ہے کہ:

                ۱-            اہلِ مغرب کے خیال میں حیا اور انسانی حق خلوت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

                ۲-            خاص علاقے اور نشان زدہ مذہب کے لوگ اہلِ مغرب کی نظر میں ملزم کا درجہ رکھتے ہیں۔

                ۳-            مغربی حکمرانوں کو بلاروک ٹوک یہ حق حاصل ہے کہ وہ اقتدار اور قوت پر قابض ہونے کی بنیاد پر، جب، جس طرح اور جس پیمانے پر چاہیں___ انسانی جان، مال اور آبرو پر حملہ کرسکتے ہیں۔

                ۴-            اپنے اقتدار کی بھیک مانگنے والے مسلم حکمران، مغرب کی ظالم حکومتوں کے اندھے، بہرے اور وحشی قوانین کے نفاذ ہی کو ’روشن خیالی‘ تصور کرتے ہیں۔

کیاانسانی تاریخ نے کبھی پہلے بھی یہ منظر دیکھا تھا؟ کیا جنگل میں درندوں نے بھی کبھی ایسے ظالمانہ اختیار کو استعمال کیا تھا؟ کیا اکیسویں صدی کا انسان اتنا بے بس، مجبور اور مقہور ہے کہ چند انسان، چند ادارے اور چند مشینیں انھیں مَسل کر رکھ دیں۔ اور اگروہ اُف بھی کریں تو انھیں وحشی، غیرمہذب، تہذیب دشمن، تنگ نظر اور دہشت گرد کہہ کر، ان کا منہ بند کردیں؟ کیا ایسے  توہین آمیز اقدامات کے نتیجے میں دنیا کو امن کی فضا مل جائے گی؟ معمولی سی بھی عقل رکھنے والے انسان کا جواب ہوگا: ’نہیں‘___ یہ انسانی تاریخ کا سبق ہے کہ ذلت، جبر اور ظلم کرنے والے    اگر ایک دروازہ بند کرتے ہیں توردعمل کے لیے مظلوم دس مزید دروازے کھول لیتے ہیں۔ اس لیے اگراصلاح اور انسانیت کی فلاح مطلوب ہے تو پھر قوموں کے حق حکمرانی کا احترام کیا جائے، ان پر جارحیت و استعماریت ختم کی جائے تو خود بخود ’خوف‘ کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔

اندریں حالات بے حیائی، تذلیل اور ظلم کے اس بندوبست کو مسلم دنیا کا شدید ترین احتجاج ہی روک سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ مسلم دنیا میں اس حوالے سے لاتعلقی،بے بسی، یا چشم پوشی کا رویہ ایک عذاب کی صورت مسلط ہے۔ ہاں، البتہ امریکا کے بالکل قریب ایک چھوٹے سے کمیونسٹ ملک کیوبا نے ۶جنوری ۲۰۱۰ء کو ضرور امریکا سے احتجاج کیا ہے، یا پھر ایک بے بس عراقی مسلمان خاتون نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اس تقابلی صورت حال کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا میں مذکورہ مسئلے پر باخبر کرنے کی مہم چلائی جائے۔ احتجاج منظم کیا جائے اور علمی وفکری سطح پر شرفِ انسانیت کے بھولے سبق کو یاد دلایا جائے، کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، جانور نہیں!

یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی جھڑپ سے آغاز ہونے والی لڑائی اب جنگ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ عراق اور افغانستان میں جاری امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا اگلا ہدف یمن ہوگا۔ مسئلے میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب نائیجیریا کے ایک مسلمان نوجوان نے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم سے امریکا جاتے ہوئے ایک جہاز کو فضا میں تباہ کرنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نوجوان کا تعلق القاعدہ سے ہے اور اس نے یمن میں تربیت حاصل کی تھی۔ امریکا نے یمن پر یہ الزام بھی لگایا کہ القاعدہ افغانستان سے پسپائی اختیار کرکے یمن کو اپنا مرکز بنارہی ہے اور یمن القاعدہ کی محفوظ جنت ہے۔ اس واقعے کے فوری ردعمل کے طور پر امریکا نے جہاں سکیورٹی اقدامات میں اضافے کے نام پر یمن، پاکستان، سعودی عرب اور ایران سمیت ۱۴ ممالک کے مسافروں کی اسکیننگ  کا اعلان کیا، جو بے لباس کرنے اور انتہائی تذلیل کے مترادف ہے، وہاں یمن میں القاعدہ کے خاتمے کے لیے اپنی افواج بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔ بعدازاں عوامی ردعمل اور دبائو کی بناپر اس موقف میں تبدیلی کے بعد فوج بھیجنے کے بجاے ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔
یمن دنیا کے قدیم ترین تہذیبی مراکز میں سے ایک ہے اور اس خطے کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ محلِ وقوع کے اعتبار سے یمن مشرق وسطیٰ میں جزیرہ نماے عرب کے جنوب مغربی کونے میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں بحیرۂ عرب، شمال مشرق میں سلطنت عمان، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرۂ احمر اور جنوب مغرب میں خلیج عدن واقع ہے۔ ملک کا سرکاری نام جمہوریہ یمن ہے اور کُل رقبہ ۵ لاکھ ۲۷ ہزار ۹ سو ۷۰ مربع کلومیٹر ہے، جب کہ دارالحکومت صنعا ہے۔ ملک میں معدنیات، گیس اور تیل کے وافر ذخائر پائے جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے مسلم ممالک کے حکمرانوں کی طرح یمن کے حکمران صدر علی عبداللہ صالح کی آمرانہ حکومت کو امریکا کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہے۔ علی عبداللہ صالح پچھلے ۳۱سال سے یمن پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ۱۹۷۸ء سے ۱۹۹۰ء تک شمالی یمن کے سربراہ رہے اور ۱۹۹۰ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد سے وہ یمن کے صدر ہیں۔ یہی وہ پہلے مسلمان سربراہ ہیں جنھوں نے نائن الیون کے سانحے کے بعد ’دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ‘ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
عملاً صورت حال یہ ہے کہ یمن اسامہ بن لادن کا مسکن رہا ہے اور آج بھی یمن کے غریب اور بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اسامہ بن لادن کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ موجودہ صدر اور حکومت کی کرپشن اور امریکا کی بے جا حمایت کی بناپر عوام میں نفرت کی لہر پائی جاتی ہے۔ ماضی میں امریکی سفارت خانے پر حملہ بھی ہوچکا ہے، جب کہ بدنامِ زمانہ جیل گوانتانامو میں ۹۰ سے زائد قیدیوں کا تعلق یمن سے ہے۔ جنوبی یمن میں سوشلسٹ عناصر کے اثرات گہرے ہیں اور شمالی یمن کے مقابلے میں احساسِ محرومی بھی پایا جاتا ہے۔ شمال میں زیدی شیعہ سعودی عرب کی سرحد کے قریب رہتے ہیں جہاں ایران کے اثرات زیادہ ہیں اور اسی علاقے میں سرحدی جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ صدرصالح اگرچہ امریکا کی حمایت پر ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ملک کی اندرونی صورت حال کی بنا پر ان کے لیے امریکا کی حمایت میں  کوئی بڑا قدم اٹھانا آسان نہیں۔ امریکا کو خود بھی بہت سے خدشات لاحق ہیں۔ خدشہ ہے کہ   اس کے کسی بڑے اقدام کے نتیجے میں القاعدہ کے اثرات یمن سے افریقہ تک نہ پھیل جائیں۔ صومالیہ کے بارے میں امریکا کو تشویش ہے اور ۱۹۹۳ء میں جس ذلت کے ساتھ اس کو یہاں سے نکلنا پڑا تھا اس کا بھی اسے تلخ تجربہ ہے۔ امریکا کے خلاف ردعمل کے نتیجے میں یمن میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے جو صدرصالح کی حکومت کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف یمن جہاں علما کا اثرورسوخ ہے، ان کی طرف سے بھی بھرپور ردعمل سامنے آیا ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں یمن کی علما کونسل کا ایک اجلاس ہوا جس میں ۱۵۰علما نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد علما کونسل نے اعلان کیاہے کہ ملک میں القاعدہ کے خلاف آپریشن میں کسی غیرملکی فوج کے داخل ہونے کی صورت میں جہاد کریں گے۔ اسلامی احکامات کے مطابق کسی غیرملکی فوج کے ملک میں داخل ہونے کی صورت میں جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی غیرملکی حملے کی صورت میں جہاد کا اعلان کیا جائے گا۔
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے بھی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں اجارہ داری چاہتا ہے اور یمن کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے۔ وہ اپنے اسلحے کے زور پر اس خطے میں مسلمانوں کی خون ریزی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران سمیت خطے کے تمام ممالک امریکی عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ صدر احمدی نژاد نے سعودی عرب پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ خطے میں امریکی اجارہ داری کے خلاف اپنا کردار ادا کرے۔
یمن میں عوامی ردعمل کے پیش نظر یمنی وزیرخارجہ نے بی بی سی ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو میں اس بات کی وضاحت کی کہ یمن القاعدہ کی محفوظ جنت نہیں ہے اور یہاں امریکیوں کی آمد مسئلے کے حل کے بجاے نئے مسائل پیدا کرے گی۔ امریکا یمن کو ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے کے لیے صرف امداد فراہم کرے۔ امریکا کے لیے بھی عراق اور افغانستان کی جنگوں میں ۳ئ۱ ٹرلین ڈالر کے اخراجات اُٹھانے اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد، جب کہ اس کی معیشت بھی زبوں حالی کا شکار ہے، یمن میں فوج بھیج کر ایک نیا محاذ کھولنا بظاہر آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے یمن میں فوج بھیجنے کے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے مسلم عسکریت پسندوں کے خلاف یمن کو دفاعی امداد دینے کا اعلان کیا ہے جس میں ماہرین کا تعاون، اسلحے اور دیگر جنگی سازوسامان کی فراہمی شامل ہے۔ اس ضمن میں امریکا کے چیف آف سنٹرل کمانڈ ملٹری فورسز جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے صدر صالح سے ملاقات کے بعد امریکی امداد کو فوری طور پر دگنا، یعنی ۶۷ملین ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غالباً امریکا کے پیش نظر سردست براہِ راست فوجی مداخلت کرنے کے بجاے امریکی امداد اور ڈرون حملوں کے ذریعے ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کی حکمت عملی ہے۔
امریکا اور برطانیہ یمن میں فوجی کارروائی کو فی الحال مسترد کررہے ہیں لیکن مستقبل میں ان سے کسی مہم جوئی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی سطح پر استعماری طاقتوں کی کوشش ہے کہ عالمِ اسلام میں فساد پھیلاکر اسلامی ممالک میں برسرِاقتدار طبقے کو ان اسلام پسند قوتوں سے ٹکرا دیں جو ان کے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اُمت مسلمہ کے لیے بھی چیلنج ہے کہ وہ باہمی اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سامراجی عزائم کو ناکام بنا دے۔ خاص طور پر یمن کی  اسلام پسند قوتوں کو ان حالات میں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عالمِ عرب میں سعودی عرب کو نمایاں مقام حاصل ہے، لہٰذا اسے بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم، یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر امریکا یمن میں نیا محاذ کھولتا ہے اور افغانستان میں جس طرح اسے پسپائی کا سامنا ہے، ’دہشت گردی‘ کے خلاف جاری اس نام نہاد جنگ کی دلدل میں وہ مزید دھنستا چلا جائے گا۔
بنگلہ دیش: اسلامی پارٹیوں کے نام پر پابندی؟
سلیم منصور خالد
مسلم دنیا کی سیکولر قوتوں کا عجب معاملہ ہے۔ دنیا بھر کے وسائل، بڑی طاقتوں کی سرپرستی اور ذرائع ابلاغ کی معاونت کے باوجود، میدان میں کھلے اور پُرامن مقابلے سے جی چرانا ان قوتوں کا کلچر ہے۔ ریاستی مشینری پر قبضہ جماکر مدمقابل قوتوں کو باندھ کر اُکھاڑے میں اُترنا،ان سورمائوں کا طرزِ حکمرانی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا ہے۔
وہ عوامی لیگ جو پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کی فوجی امداد کے ساتھ میدان میں اُتری، اب اسی عوامی لیگ نے مقامی ہندو آبادی کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک اور   اوچھا ہتھکنڈا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایک جانب مغربی ملک سویزرلینڈ میں اینٹوں سے بنے چند فٹ بلند میناروں سے یورپی سیکولرزم لرزہ براندام ہے تو دوسری جانب بنگلہ دیش جیسے مشرقی اور مسلم اکثریتی ملک میں لفظ اسلام کی پہچان سے کام کرنے والی سیاسی یا دینی پارٹیوں کا وجود ناقابلِ قبول ہے۔ کیا یہ اتفاقِ زمانہ ہے یا شرارِ بولہبی کی نفرت بھری آگ؟
عوامی لیگ نے اگرچہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لیے ہندوئوں، کمیونسٹوں اور بھارت کی مدد لی تھی، مگر اس پارٹی کے دل میں یہ خوف گہری جڑیں پیوست کرچکا ہے کہ اس نے اسلامیانِ بنگال سے بے وفائی کرکے اسے بھارت کا طفیلی ملک بنایا ہے، سو اس کے خلاف ردعمل بہرحال اسلامی قوتوں ہی کی جانب سے اُٹھے گا۔ اس لیے ان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کرنے کے بعد اگست ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش کی منظم ترین اسلامی پارٹی: جماعت اسلامی کے کارکنوں پر ۳۷ سال پہلے سقوطِ مشرقی پاکستان کے دنوں میں پاکستان کا ساتھ دینے کے اقدام کے خلاف مقدمے چلائے گی۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد بدترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والی عوامی لیگ سے کچھ اور بن نہ پایا تو اس نے اعلان کر دیا: بنگلہ دیش میں کوئی پارٹی، مذہبی پہچان کا نام نہیں    رکھ سکے گی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ۴؍جنوری ۲۰۱۰ء کو عوامی لیگ حکومت کے وزیرقانون شفیق احمد نے کہا: ’’سپریم کورٹ نے ۵ویں ترمیم کو غیر قانونی قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانون سے ماورا قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں جو پارٹی بھی مذہبی پہچان کا نام رکھے گی، اس پر پابندی عائد کردی جائے گی‘‘۔ اس اعلان پر بنگلہ دیش کے عام شہری ششدر رہ گئے۔
وہ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی بنیاد دوقومی نظریے پر وجود پانے والی تقسیم بنگال کے فیصلے پر رکھی گئی ہے۔ دو قومی نظریے کا مرکزی نکتہ ہی یہ ہے کہ مسلم اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ۱۹۰۶ء میں خود ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ گویا کہ اس آزادی کو وجود بخشنے والی پارٹی کا نام ہی مذہبی پہچان، یعنی ’مسلم‘ کے لفظ سے موسوم ہے۔ پہلے پہل، یعنی قیامِ پاکستان کے بعد انھی بنگالی قوم پرستوں کا ایک دھڑا جب مسلم لیگ سے الگ ہوا تو اس نے اپنا نام ’عوامی مسلم لیگ‘ رکھا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہندوئوں کے زیراثر لفظ ’مسلم‘ کو اُڑا کر اسے عوامی لیگ بنا دیا۔
خود عوامی لیگ بھی یہ جانتی ہے کہ ۹۱ فی صد مسلم آبادی کے اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے کسی مذہب کے حوالے سے کوئی سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے، اور بجاطور پر مسلمان وطن عزیز کی بنیاد اور پہچان کی مناسبت سے اپنی پارٹیوں کے ناموں میں ’اسلام‘، ’مسلم‘، ’اسلامی‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جو ان کا آئینی اور دنیابھر میں مانا ہوا مسلّمہ حق ہے۔ اس خانہ زاد فیصلے کی روشنی میں، جو بہرحال سیاسی دبائو میں کیا گیا ہے، عوامی لیگ چاہتی ہے کہ دنیا میں آبادی کے   لحاظ سے تیسرے سب سے بڑے مسلم ملک میں مذکورہ پارٹیوں پر پابندی عائد کرے۔
’اسلام‘ نہ عوامی لیگ کا وضع کردہ ہے اور نہ لفظ ’مسلمان‘عوامی لیگ کی ٹکسال میں گھڑا گیا ہے۔ یہ لفظ اللہ، اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن عظیم نے عطا کیا ہے اور انھی   کے احکام کی اِتباع میں دنیا کے گوشے گوشے میں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اسلام اپنا ایک مکمل نظامِ عبادات، بھرپور نظامِ فکر، قابلِ عمل نظام زندگی رکھتا ہے۔ جس کے نفاذ کی کوشش کرنے اور  ان کی تنظیم و رہنمائی کے لیے اجتماعی کوششوں کی پہچان بہرحال اسلام،اسلامی اور مسلم وغیرہ الفاظ ہی سے متعین ہوگی۔ اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ چند سیاسی طالع آزما اپنے دل کے چور کی تسکین کے لیے اسلامیانِ عالم اور اسلامیانِ بنگلہ دیش اپنے حقِ شناخت سے دست بردار ہوجائیں؟
دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیرقانون کے اسی بیان میں یہ حصہ متضاد حوالہ رکھتا ہے کہ: ’’دستور کے آغاز میں ’بسم اللہ‘ اور ریاست کے مذہب کا ’اسلام‘ ہونا برقرار رکھا جائے گا‘‘۔ ایک جانب اسلامی پہچان کے ناموں سے پارٹیوں پر پابندی اور دوسری جانب ان دو چیزوں کو برقرار رکھنے کی بات، اسلامیانِ بنگلہ دیش کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ دراصل وزیرموصوف کے  اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی لیگ، اسلامی افکار و اقدار کی علَم بردار جماعتوں کو قومی زندگی اور سیاست سے باہر نکال دینے کے شیطانی منصوبے پر عمل کرنا چاہتی ہے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’اگر بہت سے نظریات پر مشتمل سیاسی پارٹیاں کام کرسکتی ہیں تو صرف اسلام کے مقاصد حیات اور طرزِ زندگی کو پیش کرنے والی پارٹیوں پر کیوں پابندی لگائی جائے گی؟ خود بنگلہ دیش کے ہمسایے میں بھارت اور یورپ کے کتنے ممالک میں، برطانیہ و جرمنی میں مذہب کی شناخت سے پارٹیاں برسرِکار ہیں۔ اس لیے ایسی کوئی بھی حکومت، جو جمہوریت اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہو، بنگلہ دیش میں اسلامی پارٹیوں پر پابندی عائد نہیں کرسکتی، جہاں متعدد پارٹیاں سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ یہ ایسا ملک ہے جس کے شہریوں نے جمہوریت کے پودے کو سینچنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس لیے یہاں کے شہری ایسے کسی غیرجمہوری فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے‘‘۔
_______________

مسلم دنیا کی سیکولر قوتوں کا عجب معاملہ ہے۔ دنیا بھر کے وسائل، بڑی طاقتوں کی سرپرستی اور ذرائع ابلاغ کی معاونت کے باوجود، میدان میں کھلے اور پُرامن مقابلے سے جی چرانا ان قوتوں کا کلچر ہے۔ ریاستی مشینری پر قبضہ جماکر مدمقابل قوتوں کو باندھ کر اُکھاڑے میں اُترنا،ان سورمائوں کا طرزِ حکمرانی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا ہے۔

وہ عوامی لیگ جو پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کی فوجی امداد کے ساتھ میدان میں اُتری، اب اسی عوامی لیگ نے مقامی ہندو آبادی کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک اور   اوچھا ہتھکنڈا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایک جانب مغربی ملک سویزرلینڈ میں اینٹوں سے بنے چند فٹ بلند میناروں سے یورپی سیکولرزم لرزہ براندام ہے تو دوسری جانب بنگلہ دیش جیسے مشرقی اور مسلم اکثریتی ملک میں لفظ اسلام کی پہچان سے کام کرنے والی سیاسی یا دینی پارٹیوں کا وجود ناقابلِ قبول ہے۔ کیا یہ اتفاقِ زمانہ ہے یا شرارِ بولہبی کی نفرت بھری آگ؟

عوامی لیگ نے اگرچہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لیے ہندوئوں، کمیونسٹوں اور بھارت کی مدد لی تھی، مگر اس پارٹی کے دل میں یہ خوف گہری جڑیں پیوست کرچکا ہے کہ اس نے اسلامیانِ بنگال سے بے وفائی کرکے اسے بھارت کا طفیلی ملک بنایا ہے، سو اس کے خلاف ردعمل بہرحال اسلامی قوتوں ہی کی جانب سے اُٹھے گا۔ اس لیے ان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کرنے کے بعد اگست ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش کی منظم ترین اسلامی پارٹی: جماعت اسلامی کے کارکنوں پر ۳۷ سال پہلے سقوطِ مشرقی پاکستان کے دنوں میں پاکستان کا ساتھ دینے کے اقدام کے خلاف مقدمے چلائے گی۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد بدترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والی عوامی لیگ سے کچھ اور بن نہ پایا تو اس نے اعلان کر دیا: بنگلہ دیش میں کوئی پارٹی، مذہبی پہچان کا نام نہیں    رکھ سکے گی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ۴؍جنوری ۲۰۱۰ء کو عوامی لیگ حکومت کے وزیرقانون شفیق احمد نے کہا: ’’سپریم کورٹ نے ۵ویں ترمیم کو غیر قانونی قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانون سے ماورا قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں جو پارٹی بھی مذہبی پہچان کا نام رکھے گی، اس پر پابندی عائد کردی جائے گی‘‘۔ اس اعلان پر بنگلہ دیش کے عام شہری ششدر رہ گئے۔

وہ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی بنیاد دوقومی نظریے پر وجود پانے والی تقسیم بنگال کے فیصلے پر رکھی گئی ہے۔ دو قومی نظریے کا مرکزی نکتہ ہی یہ ہے کہ مسلم اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ۱۹۰۶ء میں خود ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ گویا کہ اس آزادی کو وجود بخشنے والی پارٹی کا نام ہی مذہبی پہچان، یعنی ’مسلم‘ کے لفظ سے موسوم ہے۔ پہلے پہل، یعنی قیامِ پاکستان کے بعد انھی بنگالی قوم پرستوں کا ایک دھڑا جب مسلم لیگ سے الگ ہوا تو اس نے اپنا نام ’عوامی مسلم لیگ‘ رکھا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہندوئوں کے زیراثر لفظ ’مسلم‘ کو اُڑا کر اسے عوامی لیگ بنا دیا۔

خود عوامی لیگ بھی یہ جانتی ہے کہ ۹۱ فی صد مسلم آبادی کے اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے کسی مذہب کے حوالے سے کوئی سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے، اور بجاطور پر مسلمان وطن عزیز کی بنیاد اور پہچان کی مناسبت سے اپنی پارٹیوں کے ناموں میں ’اسلام‘، ’مسلم‘، ’اسلامی‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جو ان کا آئینی اور دنیابھر میں مانا ہوا مسلّمہ حق ہے۔ اس خانہ زاد فیصلے کی روشنی میں، جو بہرحال سیاسی دبائو میں کیا گیا ہے، عوامی لیگ چاہتی ہے کہ دنیا میں آبادی کے   لحاظ سے تیسرے سب سے بڑے مسلم ملک میں مذکورہ پارٹیوں پر پابندی عائد کرے۔

’اسلام‘ نہ عوامی لیگ کا وضع کردہ ہے اور نہ لفظ ’مسلمان‘عوامی لیگ کی ٹکسال میں گھڑا گیا ہے۔ یہ لفظ اللہ، اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن عظیم نے عطا کیا ہے اور انھی   کے احکام کی اِتباع میں دنیا کے گوشے گوشے میں لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اسلام اپنا ایک مکمل نظامِ عبادات، بھرپور نظامِ فکر، قابلِ عمل نظام زندگی رکھتا ہے۔ جس کے نفاذ کی کوشش کرنے اور  ان کی تنظیم و رہنمائی کے لیے اجتماعی کوششوں کی پہچان بہرحال اسلام،اسلامی اور مسلم وغیرہ الفاظ ہی سے متعین ہوگی۔ اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ چند سیاسی طالع آزما اپنے دل کے چور کی تسکین کے لیے اسلامیانِ عالم اور اسلامیانِ بنگلہ دیش اپنے حقِ شناخت سے دست بردار ہوجائیں؟

دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیرقانون کے اسی بیان میں یہ حصہ متضاد حوالہ رکھتا ہے کہ: ’’دستور کے آغاز میں ’بسم اللہ‘ اور ریاست کے مذہب کا ’اسلام‘ ہونا برقرار رکھا جائے گا‘‘۔ ایک جانب اسلامی پہچان کے ناموں سے پارٹیوں پر پابندی اور دوسری جانب ان دو چیزوں کو برقرار رکھنے کی بات، اسلامیانِ بنگلہ دیش کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ دراصل وزیرموصوف کے  اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی لیگ، اسلامی افکار و اقدار کی علَم بردار جماعتوں کو قومی زندگی اور سیاست سے باہر نکال دینے کے شیطانی منصوبے پر عمل کرنا چاہتی ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے اس اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’اگر بہت سے نظریات پر مشتمل سیاسی پارٹیاں کام کرسکتی ہیں تو صرف اسلام کے مقاصد حیات اور طرزِ زندگی کو پیش کرنے والی پارٹیوں پر کیوں پابندی لگائی جائے گی؟ خود بنگلہ دیش کے ہمسایے میں بھارت اور یورپ کے کتنے ممالک میں، برطانیہ و جرمنی میں مذہب کی شناخت سے پارٹیاں برسرِکار ہیں۔ اس لیے ایسی کوئی بھی حکومت، جو جمہوریت اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہو، بنگلہ دیش میں اسلامی پارٹیوں پر پابندی عائد نہیں کرسکتی، جہاں متعدد پارٹیاں سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ یہ ایسا ملک ہے جس کے شہریوں نے جمہوریت کے پودے کو سینچنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس لیے یہاں کے شہری ایسے کسی غیرجمہوری فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے‘‘۔

تفسیر مطالب الفرقان کا علمی و تحقیقی جائزہ، ڈاکٹر محمد دین قاسمی۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۴۳۲۴۷۶-۰۴۲۔ صفحات (جلداوّل): ۶۳۲، جلد دوم ۷۴۴۔ قیمت (علی الترتیب): ۶۰۰+۷۰۰= ۱۳۰۰ روپے

مطالب الفرقان جناب غلام احمد پرویز کی تالیف ہے، جنھوںنے فتنۂ انکارِ حدیث کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے صاحب ِ قرآن کی قولی وعملی تفسیر سے آنکھیں بند کرلیں۔ زیرتبصرہ کتاب اسی فکر کے محاکمے پر مشتمل ہے۔

قاسمی صاحب نے پرویز صاحب کے اس قول کو پیش نظر رکھ کر ان کی فکر کا جائزہ لیا ہے کہ ’’جو کچھ میں نے لکھا ہے اس پر آپ قرآن کی روشنی میں غور کریں اور آپ کو جہاں سقم نظر آئے، اسے مجھ پر ہی قرآن ہی کی تائید سے واضح کریں‘‘ (نظامِ ربوبیت، ص ۲۳)۔ چنانچہ مؤلف لکھتے ہیں: ’’اس مقالے میں ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ پرویز صاحب کے جملہ افکار و نظریات کا جائزہ صرف اور صرف قرآن ہی کی بنیاد پر لیا جائے۔ لیکن چونکہ قرآن عربی زبان میں ہے اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ کتب لغات سے بھی صرفِ نظر نہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی پرویز صاحب کی جملہ کتب سے استفادے کو بھی اس جائزے میں شامل رکھا جائے‘‘۔ (ج ۱، ص ۲۶)

پرویز صاحب اپنے ناقدین کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اپنی طرف سے ایک غلط بات وضع کرکے ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔ اسی طرح پرویز صاحب کو یہ بھی شکایت ہے کہ لوگ اس بات کی تحقیق نہیں کرتے کہ جو کچھ ہماری طرف منسوب کیا جاتا ہے، وہ ہم نے کہا بھی ہے یا نہیں۔ مؤلف پرویز صاحب کی ان شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ہم نے امکان بھر اس امر کی کوشش کی ہے کہ طلوعِ اسلام یا جناب پرویز کے موقف کو خود انھی کے الفاظ میں پیش کرکے اس کا جائزہ لیا جائے‘‘۔ (ج۱، ص ۲۷)

فکرِ پرویز پر مؤلف گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے ابتدا سے لے کر پرویز صاحب کی وفات تک طلوعِ اسلام کے تمام شمارے اور ان کی تمام کتب لفظ بہ لفظ پڑھی ہیں اور ان کا ایک تفصیلی اشاریہ بھی ترتیب دیا ہے۔ تفسیرمطالب الفرقان کا زیرنظر تحقیقی جائزہ دوجلدوں میں ۱۳ ابواب پر مشتمل ہے۔ مضامین کے عنوانات سے کتاب کے پھیلائو کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پہلی جلد میں مذکورہ تفسیر کے علمی محاکمے کے ساتھ ساتھ اصولی مباحث زیربحث آئے ہیں، جب کہ دوسری جلد میں قصص الانبیا، معجزات انبیا، معاشی نظریات اور عائلی قوانین وغیرہ کا جائزہ لیاگیا ہے۔ آخر میں مقالہ کے ماحصل کے علاوہ ’علما کے ہاں پرویز کی قدروقیمت‘، ’علماے عرب کی طرف سے فتاویٰ‘ اور ’مغربی اسکالروں کی تحسینِ پرویز‘ کے عنوانات سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس تحریک کی اصل بنیاد کیا ہے اور یہ کس کے فائدے یا کس کے نقصان کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ کتاب فکرِ پرویز کی تردید وابطال پر ایک تحقیقی و تجزیاتی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ (گل زادہ شیرپاؤ)


سیرتؐ سیدالمرسلین، ڈاکٹر محمد الطیب النجار، ترجمہ: رخسانہ جبیں۔ ناشر: مکتبہ تعمیرانسانیت، اُردوبازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۷۵۰۰-۰۴۲۔ صفحات: ۴۱۳۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

سیرتؐ سیدالمرسلین عظیم مفکر و ادیب جامعۃ الازہر کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد الطیب النجار کی معرکہ آرا تصنیف القول المبین فی سیرت سیدالمرسلین کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب کی بنیاد اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول: کَانَ خُلُقْہٗ الْقُراٰن ہے، یعنی  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآنِ مجید ہے۔ اس لیے کتاب میں قرآنِ مجید کی آیات کے ساتھ سیرت سیدالمرسلینؐ کو بیان کر کے قاری میں فہم قرآن کا ذوق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  ڈاکٹر محمد الطیب دورِحاضر کے چیلنجوں سے بخوبی واقف ہیں اور مغربی مستشرقین کی جانب سے ذاتِ مصطفیؐ پر اٹھائے جانے والے اعتراضات سے بھی مکمل آگہی رکھتے ہیں، اس لیے سیرت کا   یہ بیان کتاب کو سیرت کی قدیم کتب سے ممتاز کرتا ہے۔

تاریخِ سیرت کے علمی موضوعات پر مصنف نے استدلال و حوالہ جات کے ذریعے روشنی ڈالی ہے۔ خانۂ کعبہ کی تعمیر، اصحابِ فیل پر پتھر برسنا، حجراسود کی تاریخ، واقعۂ معراج، واقعۂ شق قمر، جہاد کے اغراض و مقاصد، بنی اسرائیل کی بدعہدیاں، تعددِ ازواج کی حکمت سمیت غزوات پر گراں قدر تفصیلات بھی کتاب میں موجود ہیں۔ آج نہ صرف اُمت مسلمہ یہودی سازش کی لپیٹ میں ہے بلکہ پوری دنیا ان کے چنگل میں پھنسی نظرآتی ہے۔ ایک باب میں یہودیوں کے اس کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہودیوں نے توریت کی ربانی ہدایات سے منہ موڑ کر تلمود وضع کی اور اس کو اللہ کے احکامات پر ترجیح دی۔ تلمود کی تعلیمات کا تفصیلی تذکرہ کرنے کے بعد بیان کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہودیوں نے کس طرح مکر، سازش اور دشمنی کا نشانہ بنایا، پھر اللہ کے رسولؐ نے بالآخر مدینہ منورہ کو یہودیوں سے پاک کیا۔

بقول ڈاکٹر خالد علوی: ’’یہ سہل، شُستہ اور آسان ترجمہ ہے بلکہ ترجمہ نگار نے نصوص کی تخریج بھی کی ہے اور جملہ معلومات اصل مصادر سے اخذ کی ہیں۔ حدیث، سیرت اور تاریخ کے بنیادی مصادر سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ ادبِ سیرت میں یہ کتاب شان دار اضافہ ہے‘‘۔

کتاب کا حرف حرف محبت کی مٹھاس سے لبریز ہے اور تحریر میں وارفتگی و سپردگی کی وہ چاشنی ہے جو پڑھنے والے کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری سکھاتی ہے اور چراغِ مصطفویؐ کا پروانہ بننے پر تیار کرتی ہے۔ پاکستان نیشنل سیرت کانفرنس میں کتاب کو خصوصی انعام کا حق دار ٹھیرایا گیا ہے۔ (معراج الھدیٰ صدیقی)


راہِ عمل ، مولانا خالدسیف اللہ رحمانی۔ ناشر: زم زم پبلشرز، شاہ زیب سنٹر، نزد مقدس مسجد، اُردوبازار، کراچی۔ صفحات جلداوّل: ۳۶۶+۲۱۲+۲۷۰۔ جلد دوم: ۲۲۴+۲۵۰۔ قیمت (مکمل سیٹ): ۶۰۰ روپے

زیرنظر کتاب مختلف اور متنوع مسائل و موضوعات پر فاضل مؤلف کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ موصوف علومِ اسلامیہ میں مہارت، جدید علوم سے واقفیت اور دورِ جدید کی سیاسی و تہذیبی کشاکش کا اِدراک رکھتے ہیں۔ بظاہر ان شذرات یا مختصر مضامین میں وقتی مسائل سے بحث کی گئی ہے لیکن بیش تر تحریروں کی مستقل قدروقیمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

جلداول تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے ’نقوشِ موعظت‘ کے موضوعات دینی اور اسلامی ہیں۔ اسلامی تہوار، شب قدر، انٹرنیٹ کے ذریعے تحریفِ قرآن کی سازش، ہجری کیلنڈر، خشک سالی، نسل پرستی، تہذیبی ارتداد وغیرہ کے حوالے سے افرادِ اُمت کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے حصے بہ عنوان: ’حقائق اور غلط فہمیاں‘ میں اسلام اور شریعت ِ اسلام سے متعلق     غلط فہمیوںاور پروپیگنڈوں (مسلم پرسنل لا، یونیفارم سول کوڈ، عورت اور اسلام، مجسمے کا انہدام،   کم عمری کی شادی، طلاق، پردہ، زنا کی سزا، تعدد ازواج وغیرہ) کا سنجیدہ جائزہ لیتے ہوئے عقل و فطرت اور حکمت و مصلحت سے اسلام کی ہم آہنگی کو واضح کیا گیا ہے۔ تیسرے حصے میں نئے مسائل (نیوکلیر اسلحہ، ماحولیاتی آلودگی، ہڑتال، ایڈز، ووٹ، کلوننگ، تمباکونوشی، سرمایہ کاری، میچ فکسنگ وغیرہ) پر اسلامی نقطۂ نظر سے اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔

چوتھے حصے میں مغربی ثقافت کے غلبے سے پیدا ہونے والے سماجی مسائل (اہانتِ رسولؐ، وندے ماترم، جرائم، گداگری، رشوت، منشیات، خودکشی، سِتی، جہیز وغیرہ) پر تبصرہ کرتے ہوئے مناسب رہنمائی دی گئی ہے۔ پانچویں حصے کا موضوع دینی تعلیم اور درس گاہیں ہے۔ یہ مباحث  دینی مدارس کی ضرورت و اہمیت، ان کے نصابِ تعلیم، اسلام کی حفاظت و اشاعت اور ملک و قوم کی تعمیر میں ان کا حصہ، تعلیم نسواں، مخلوط تعلیم، مادری زبان میں تعلیم، اساتذہ کے مقام اور ان کی    ذمہ داریوں سے متعلق ہیں۔

مجموعی حیثیت سے اس ضخیم مجموعۂ مضامین کی افادیت میں کلام نہیں۔ مصنف کا نقطۂ نظر مثبت، تعمیری اور اسلامی ہے۔ سوچ کی سمت بھی صحیح ہے۔ مولانا رحمانی کو اپنی بات مؤثر اسلوب میں پیش کرنے کا ڈھنگ بھی آتا ہے۔ زیادہ تر مضامین بھارتی معاشرے کے پس منظر میں  لکھے گئے ہیں، اس لیے مثالیں بھی اسی معاشرے اور نظمِ حکومت سے دی گئی ہیں لیکن بیش تر صورتوں میں پاکستان اور بھارت کی صورت حال یکساں ہے، اس لیے پاکستانی قارئین بھی ان مضامین کو دل چسپ پائیں گے۔ امید ہے بقول مصنف: ’’یہ کم سواد تحریریں [بلاشبہہ] سوئے ہوئے دلوں کو جگانے اور غافل اذہان میں فکر کی چنگاری سلگانے میں کچھ کامیابی حاصل کرسکیں گی‘‘۔ (رفیع الدین ہاشمی)


ابلاغِ حق (الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں عرب و عجم کے جید علما کے فتاویٰ اورآرا)،    مؤلف: مولانا عبدالرشید انصاری۔ ناشر: نور علیٰ نور اکیڈمی، فیصل آباد۔فون: ۲۱۶۲۸۸۳-۰۳۰۶۔ صفحات: ۲۰۸۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

عصرِجدید میں نئی نئی ایجادات اور جدید مسائل کی بنا پر دین کے احکامات جاننے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ ایسے میں علما کے بعض حلقوں کی طرف سے انتہاپسندانہ رویہ بھی سامنے آتاہے۔ اس کی ایک مثال ٹیلی وژن سیٹ کو توڑ دینا بھی ہے۔ زیرنظر کتاب میں ٹیلی وژن پر آنے والی تصویر، وڈیو، ڈیجیٹل تصویر، ٹی وی چینلوں کے قیام کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک نقطۂ نظر تو یہ ہے کہ ٹی وی کی تصویر بھی تصویر کی طرح ہے، لہٰذا حرام ہے۔ ٹیلی ویژن چینل چونکہ گمراہی اور خرافات پھیلانے کا ذریعہ ہیں، لہٰذا ان سے بھی اجتناب کیا جائے۔ مؤلف کتاب نے علماے دیوبند، عرب ممالک کے علما اور پاکستان کے مختلف مکاتب ِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کی آرا اور فتاویٰ کو جمع کر کے اس نقطۂ نظر کو بہ استدلال ثابت کیا ہے کہ ٹیلی ویژن کی تصویر چونکہ عکس ہے، لہٰذا جائز ہے۔ اسی طرح وِڈیو اور ڈیجیٹل تصویر کا معاملہ بھی ہے۔ یہ عکس ہے جو شعاعوں اور لہروں کے ذریعے جدید تکنیک سے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ اشباہ بالعکس ہیں (یعنی ان مناظر کی شباہت عکس سے زیادہ ہے)۔ (ص ۱۹۲)

مفتی رفیع عثمانی، مفتی تقی عثمانی اور دیگر مفتیانِ کرام کے تفصیلی فتاویٰ میں جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں جس طرح سے موضوع پر بحث کی گئی ہے وہ بذاتِ خود بہت جامع اور قیمتی بحث ہے، نیز علما کے بارے میں اس تاثر کی بھی نفی کرتی ہے کہ جدید علوم پر ان کی نگاہ نہیں ہوتی۔ آخر میں مختلف شبہات کا تذکرہ اور ان کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔ کتاب کے مطالعے سے عصری مسائل پر شرعی استدلال اور علمی بحث کا عمدہ اسلوب بھی سامنے آتا ہے۔ یقینا اپنے موضوع پر یہ ایک جامع کتاب ہے۔ (امجد عباسی)


شام کی صبح، لبنان کی شام (سفرنامہ)، ڈاکٹر زاہد منیر عامر۔ ناشر: تناظر مطبوعات، ۵۹-نیلم بلاک، علامہ اقبال ٹائون، لاہور۔ صفحات: ۱۶۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا تعلق پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج لاہور کے شعبۂ اُردو سے ہے۔ اِن دنوں جامعہ الازہر قاہرہ کے شعبۂ اُردو میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میٹرک کے زمانے میں مولانا ظفر علی خاں پر تالیفی کام کا آغاز کیا اور آج متعدد کتابیں اور سیکڑوں مقالات  ضبطِ تحریر میں لاچکے ہیں۔ مصر جانے کا فائدہ یہ ہواکہ انھیں شام و لبنان کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا جس کے نتیجے میں زیرنظر سفرنامہ وجود میں آیا۔

آج کل سفرنامے بہ کثرت لکھے جا رہے ہیں اور سب ایک جیسے نظر آتے ہیں مگر زیرنظر سفرنامے کی نوعیت قدرے مختلف ہے۔ دمشق اور بیروت کے اسفار کی یہ روداد آٹھ خطوط پر مشتمل ہے جن میں ’برقی لاسلکی تکلم‘ کے ذریعے مصنف کا رابطہ ڈاکٹر معین نظامی سے قائم ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا یہ سفر اگرچہ ایک علمی کانفرنس کے سلسلے میں تھا لیکن انھوں نے دمشق میں اپنی مصروفیات اور سرگرمیوں کو محض کانفرنس تک محدود نہیں رکھا بلکہ قدیم دمشق کے آثار و مقابر وغیرہ کی زیارت کی اور اپنے مشاہدات قلم بند کرکے قارئین تک پہنچائے ہیں۔ امام ابن تیمیہ اور ابن کثیر جیسے عظیم مفسر اسی شہر میں آسودۂ خاک ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کے مزارات پر حاضری دی اور ان کے علمی کارناموں سے بھی اجمالاً تعارف کرایا ہے۔ دمشق کانفرنس میں انھوں نے Religious Tolerance and Muhammad Iqbal's Philosophyکے عنوان سے جو انگریزی مقالہ پڑھا، اس کا متن بھی سفرنامے میں شامل ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ شام و لبنان کی سرزمین پر انبیا و صلحا کے بے شمار آثار موجود ہیں لیکن ان پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، البتہ جدید زندگی اور اس کے مظاہر جگہ جگہ دیکھنے میں آتے ہیں۔ میکڈونلڈ وغیرہ ان ممالک میں بھی افراط سے موجود ہیں اور ان میں حرام و حلال کی تمیز نہیں ہے۔

علامہ اقبال ۱۹۳۲ء میں یورپ سے واپسی پر مولانا غلام رسول مہر کے ہمراہ اسکندریہ پہنچے تو غلط فہمی کی بنا پر بعض اخبارات مولانا مہر کی تصویر کو اقبال کے نام کے ساتھ شائع کرتے رہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ لبنان سے شائع شدہ ایک کتاب علامہ اقبال کے بارے میں ہے مگر اس پر تصویر قائداعظم کی بنی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیرونِ ملک ہمارے سفیر ملک کی نمایندگی کا فرض احسن طریقے سے پورا نہیں کرتے۔ طباعت و اشاعت عمدہ، سرورق جاذبِ نظر ہے۔ کتاب بہت سی تصاویر سے مزین ہے۔ (محمدایوب لِلّٰہ)


Afghans in Pakistan[افغان پاکستان میں]، مرتبین: خالد رحمن، عرفان شہزاد۔ ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسڈیز، مرکز ایف سیون، اسلام آباد۔ فون: ۲۶۵۰۹۷۱-۵۱۔ صفحات:۹۲۔ قیمت: درج نہیں۔

پاکستان میں مسئلۂ افغان مہاجرین کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کتاب میں اِس امر کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔سابق سفیر پاکستان رستم شاہ مُہمند کا کہنا ہے کہ ۲۰۰۱ء میں امریکا اور ناٹو کی افواج کے قبضے کے باوجود افغانستان میں قیامِ امن کا خواب   شرمندئہ تعبیر نہ ہوسکا۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی عدم دستیاب ہیں۔

اعظم شاہ سواتی نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی انتظامیہ افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کی تیاری کرر ہی ہے (۳۰ ہزار نئے فوجیوں کا باقاعدہ اعلان ہوچکا ہے)۔ پیپلزپارٹی کے راہنما رضا ربانی کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین، ضیاء الحق کی افغانستان میں مداخلت پالیسی کا  تسلسل ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ محمد اکرم ذکی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اُس وقت ختم ہوگی جب دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کرنے والے ممالک عقل کے ناخن لیں گے۔ پروفیسر خورشیداحمد کے مطابق پاکستان کی سلامتی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اِس وقت جو افغان مہاجرین ہیں، ان کی نصف تعداد پاکستان ہی میں پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ تمام کے تمام مہاجرین واپس چلے جائیںگے۔ خصوصاً ایسی صورت حال میں کہ جب جارج بش سینیر و جونیئر کے بعد اب اوباما افغانستان میں مزید فوج کشی کی تیاری کرر ہے ہیں، جو حقیقتاً تباہی و بربادی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ (محمد ایوب منیر)


تعارف کتب

  • اب کس کا انتظار ہے؟ (علاماتِ قیامت قرآن و حدیث کی روشنی میں)، مولانا محمد ابراہیم حنیف۔ ناشر: نیو امیج پبلی کیشنز، ملنے کا پتا: ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ فون: ۳۶۸۰۹۲۰۱-۰۲۱۔ صفحات: ۲۱۶۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [قیامت کے قریب پیش آنے والے فتنوں کا تذکرہ، اُمت مسلمہ کی حالت زار کا جائزہ اور دورِ فتن میں نجات اور سلامتی کی راہ کی طرف رہنمائی۔ توجہ دلائی گئی ہے کہ نبی کریمؐ کے ارشادات کے مطابق بہت سے فتنوں کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں لیکن خدا کی بندگی، آخرت کی فکر اور اپنی حالت کو بدلنے کی ہمیں فکر نہیں۔کتاب کا عنوان بھی یہی ہے کہ قیامت سے پہلے، اب کس کا انتظار ہے!]
  • فطرتِ انسانی اور دعوت و تربیت ، ڈاکٹر اختر حسین عزمی۔ ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔  صفحات: ۸۴۔ قیمت: ۵۰ روپے۔ [مؤثر دعوت کے لیے انسانی نفسیات کا جاننا ضروری ہے۔ انسانی فطرت، مزاجِ انسانی کی ترکیب، انسان کی فطری کمزوریاں، دعوتی جدوجہد میں مایوسی کا عنصر، عملی جدوجہد سے کنارہ کش افراد کے مسائل، مایوس کن حالات میں اسوئہ رسولؐ، تعلیم و تربیت کا قرآنی اسلوب جیسے موضوعات پر مفید تحریریں___ انسانی نفسیات کی روشنی میںحکمت ِ دعوت کے ایک منفرد پہلو کا مطالعہ۔]
  • حج کا عالم گیر پیغام ، ڈاکٹر رخسانہ جبیں۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۶۴۔ قیمت: ۴۵ روپے۔ [سفرِ حج کی ایمان پرور اور تزکیہ و تربیت کا زادِ راہ لیے منفرد انداز کی رودادِ سفر۔ اس شعور کو اُجاگر کرنے کی خاص طور پر کوشش کی گئی ہے کہ حج سے وہ تربیت کیسے ملے کہ حقیقی ایمان بیدار اور اُمت کے لیے  عالم گیر پیغام عام ہو، نیز ِحج کے نتیجے میں اُمت کی سربلندی کی وہ تحریک جاری ہوجائے جو حج کا اصل مقصود ہے۔]

ڈاکٹر توقیر احمد بٹ ، ملتان

’سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) کے ذریعے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ملی بھگت کو    بے نقاب کیا گیا۔ رشوت و بدعنوانی پر قائداعظم کے فرمان برمحل تھے، مگر قوم سمجھے بھی۔ ’فہم قرآن‘ میں     مولانا مودودی کے مزید دروس کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ ایک مفید سلسلہ ہے۔ قرآن فہمی کے ساتھ ساتھ   درسِ قرآن دینے والوں کی عمدہ رہنمائی بھی ہے۔ ’ذاتُ السلاسل کا معرکہ‘ میں موجودہ حکمران طبقے کے لیے سبق ہے کہ جنگ اپنی زمین پر گھسیٹ لانا غلط ہے اور کارکنان تحریک کے لیے تزکیہ و تربیت کا بہت سا سامان بھی۔


حافظ محمد حسین ،تونسہ شریف

سید مودودیؒ کی حکمت سے بھرپور تحریر ’نفاق سے پاک اور غیرمشتبہ اخلاص‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) پڑھ کر دلی سکون نصیب ہوتا ہے۔ انھوں نے جس طرح بنی اسرائیل کی منافقتوں کا پردہ چاک کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاص کو پیش کیا، یہ بار بار پڑھنے کی چیز ہے۔ داعی الی اللہ کے مقابلے میں کھڑے ہونے والوں نے ہمیشہ جھوٹ اور منافقت کا سہارا لیا مگر جھوٹ کے مقابلے میں ابدی فتح ہمیشہ اخلاص کو حاصل ہوتی ہے۔ داعی کا کام بھی یہی ہے کہ وہ پورے اخلاص کے ساتھ دعوتِ دین کے کام کو جاری رکھے۔ ’ذاتُ السلاسل کا معرکہ‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) تحریکی کارکنوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔


غلام احمد قادر ، مظفرگڑھ

مولانا مودودیؒ کا سورئہ صف کا درس (جنوری ۲۰۱۰ء) شائع کر کے بہت ہی اچھا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اسے جاری رہنا چاہیے۔ ’ذاتُ السلاسل کا معرکہ‘ میں جو نکات بیان کیے گئے ہیں وہ ہم سب، یعنی ایک ادنیٰ کارکن سے لے کر امیرجماعت تک کے لیے بہت ہی معنی خیز ہیں۔


ڈاکٹر طاہر احمد چودھری ، لودھراں

’ذاتُ السلاسل کا معرکہ‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) بھی معرکے کا مضمون ہے جس کے مطالعے سے بہت سی معلومات اور پہلو سامنے آئے۔ فقہی مسائل اور ان کے متعلق صحابہ کا طرزِعمل معلوم ہوا۔ آنحضوؐر کا       طریق تربیت، مختلف حالات میں فیصلوں کی منطقی بنیادیں، اور صحابہ کرامؓ کے جذبۂ سمع و طاعت سے آگاہی ہوئی، نیز ذمہ داریوں اور مناصب کی تقسیم کا معیار سامنے آیا۔


حامد محمود ، منچن آباد، بہاول نگر

خوب صورت اور دیدہ زیب نیا سرورق دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ’رسائل و مسائل‘ میں ’انقلابی تبدیلی     کے لیے فرد کا کردار‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) میں ڈاکٹر انیس احمد نے تبدیلی کے لیے جس انداز میں فرد اور تحریک کے مطلوبہ کردار پر روشنی ڈالی ہے، اگر صرف تحریک سے وابستہ افراد ہی اس پر پوری طرح عمل پیرا ہوجائیں تو تبدیلی زیادہ دُور نہیں دکھائی دیتی۔ سری لنکا کے مسلمانوں کے حالات پڑھ کر تشویش ہوئی۔


احمد علی محمودی ، حاصل پور

امام حسن البنا کی تحریر ’نیا سال: ماضی کا جائزہ، مستقبل پر نظر‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) تذکیر اور دعوت کا  حسین اسلوب ہے۔اس مختصر مگر جامع تحریر سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ داعیِ انقلاب کی نظر ہمیشہ اپنی دعوت پر مرتکز رہتی ہے اور وہ اپنی دعوت اور فکر کو پیش کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتا۔


نسیم احمد ، اسلام آباد

’سیکولرزم، لبرلزم اور اسلام‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) وقت کی ایک بڑی ضروت کو پورا کرتا ہے۔ پاکستان میں سیکولرزم کا داعی ایک حلقہ موجود ہے جو اس کا مقدمہ پیش کرتا رہتا ہے۔ اس مضمون کو ان تک پہنچنا چاہیے۔


پروفیسر نذیراحمد بھٹی ، بہاولپور

’۶۰ سال پہلے‘ کے تحت نعیم صدیقی صاحب نے ’راہِ حق کی آزمایشیں‘ کے حوالے سے جنوری ۱۹۵۰ء میں جو تحریر فرمایا بالکل آج بھی وہی صورت حال ہے۔ ’رسائل و مسائل‘ میں فرد کے کردار کے حوالے سے ڈاکٹرانیس احمد صاحب نے بجا توجہ دلائی کہ عام شہری تبدیلیِ اقتدار میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔


حافظ مجتبٰی ، جدہ

حافظ محمد ادریس صاحب کا مضمون ’اخوان المسلمون اور شام‘ (دسمبر ۲۰۰۹ء) مفید تحریر تھی۔ اگر   اُمت مسلمہ کے اہم ممالک کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تومفید سلسلہ ہوگا، مثلاً عالمی معاشی بحران کے    عرب امارات پر اثرات، عراق کی موجودہ صورتِ حال، صومالیہ کا مستقبل وغیرہ۔


دانش یار ، لاہور

’ذاتُ السلاسل‘ کا معرکہ‘ تاریخ کا یہ مطالعہ فکری و ذہنی تربیت کا ہمہ جہت رُخ واضح کرتا ہے۔


حامد علی فاروق ، لاہور

’ذاتُ السلاسل کا معرکہ‘ (جنوری ۲۰۱۰ء) مضمون میں ص ۴۹ پر غزوئہ موتہ کے حوالے سے تین  جلیل القدر صحابہ کی فہرست میں پہلا نام حضرت زید بن ثابتؓ لکھا ہوا ہے جو دراصل حضرت زید بن حارثہؓ ہے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کی تاریخ وفات ۴۵ ہجری ہے۔

٭ حضرت زید بن حارثہؓ کا نام سہواً غلط لکھا گیا۔ قارئین تصحیح فرما لیں۔

اصل مختارِ کار

انسانی تاریخ کے سارے انقلابات کی باگ ڈور خود اللہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپنے قوانین کے مطابق اِدھر سے سلطنت چھینتا ہے، اُدھر سونپتا ہے، ایک طرف عزت و غلبہ عطا کر رہا ہوتا ہے، دوسری طرف سے عزت و غلبہ کے عطیے واپس لے رہا ہوتا ہے، ابھی رات میں سے دن کو نکال دِکھاتا ہے، ابھی دن میں سے رات کو برآمد کر لیتا ہے، وہ اپنی حکمت کے تحت زندہ طاقتوں کو موت بھی دیتا ہے اور مُردہ قوتوں کا احیا بھی کرتا ہے___ وہ اپنے خزائنِ رزق میں سے فرد یا گروہ پر بے حساب بارانِ رحمت کرتاہے اور جس کا حصہ چاہتا ہے سکیڑ دیتا ہے۔

یہ آیت [قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ… اٰل عمرٰن ۳:۲۶]نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقا کو مشکل ترین مراحل میں سے گزرتے ہوئے بشارت دینے آئی تھی اور اِس میں درحقیقت آنے والے انقلاب کی صبح کے ظہور کا مژدہ پنہاں تھا۔ اس نے اہلِ ایمان کو یہ اشارہ دیا کہ اللہ تعالیٰ مقررہ وقت کے آتے ہی جب سلطنت کی باگ ڈور نااہلوں سے چھین کر تم کو دینے پر آئے گا تو ان لوگوں کی طاقتیں اس کے فیصلے میں حائل نہ ہوسکیں گی، وہ جب تمھارے غلبے کے لیے اور تمھارے مخالفین کی ذلت کے لیے حکم صادر کرے گا تو اس حکم کو تلواروں اور نیزوں کی کثرت نہ ٹال سکے گی، اور جب زندہ اقتداروں کے لیے موت کا پیغام دے گا اور تم کو نئی زندگی کا سربراہ کار بنانے کا آخری فرمان نافذ کر دے گا تو کسی کی دولت و امارت اس کے آڑے نہ آسکے گی، وہ جب تمھارے حصے میں کامرانی کی صبح مقدر کر دے گا اور تمھاری مزاحمت کرنے والوں کی جھولی میں نومیدی کی رات ڈال دے گا تو اس انقلاب احوال کو ٹالنا کسی کے بس میں نہ ہوگا___ یہ سارے اختیارات خود اللہ ہی کے قبضے میں ہیں!..... پس بندوں کے عارضی اقتدار کے ٹھاٹھ بھاٹھ سے مرعوب ہونے والوں کو اپنی توجہ اس اصل مختارِکار کی طرف منعطف کرنی چاہیے جس نے تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ کا دعویٰ کیا ہے، اس سے معاملہ درست کرنا چاہیے اور اس کے قوانین کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے، پھر بندوں کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو دین حق کی تحریک کا راستہ روکنے کے لیے تمھارے آڑے آسکے.....

پس لوگوں کو چاہیے کہ وہ اگر واقعی اسلام کے نظام کو قائم کرنے کے حق میں ہیں تو تُھڑدلے پن کو ختم کر دیں اور جھوٹے اقتداروں کی مرعوبیت سے باہر نکلیں اور مایوس ہوکر بیٹھنے کے بجاے اللہ کے ان کم سے کم مطالبات کو پورا کریں جو ایک انقلابِ حق کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں!(’ہمارا معاشرہ‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد ۳۳، عدد ۱-۳، محرم، صفر، ربیع الاول ۱۳۶۹ھ، دسمبر ۱۹۴۹ء- جنوری ۱۹۵۰ء، ص ۸۲-۸۵)