سلیم منصور خالد
|
۲۰۱۰ فروری
|
مغرب اور اسلام، انسانی حقوق، سماجی و اخلاقی مسائل، بین الاقوامی تعلقات، اسلامی نقطہ نظر، سلامتی و نگرانی
امریکا اور مغرب یا ان کے چہیتے حکمرانوں کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کتنی حقیقی ہے اور کتنی خودساختہ، ان مفروضوں پر بحث سے قطع نظر ایک اور سخت اذیت ناک چیلنج درپیش ہے۔ اس چیلنج کو ’مغرب کی عریاں دہشت گردی‘ کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے!
ایک زمانہ تھا کہ مسلم خواتین مکمل حجاب کااہتمام کرتیں، اور اس مقصد کے لیے برقعہ پہنتیں۔ مگر آج کا ’مہذب مغرب‘ ان باحیا و پاک باز خواتین سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ برقعہ اتاریں، حجاب کو نوچ کر پرے پھینکیں، بلکہ ’دہشت گردی‘ کی نام نہاد جنگ میں مغرب کا خوف دُور کرنے کے لیے خود کو بے لباس کرکے تصویریں بنوائیں۔ جدید تعلیم اور ابلاغی یلغار کے زیراثر برقعہ و حجاب پر نرم رویہ اختیار کرنے کے لیے وہ بڑی حد تک تیار دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس تیسرے حملے کو برداشت کرنے کے لیے ہرگز ہرگز تیار نہیں ہوسکتیں، بلکہ اس کاتصور کرکے زندہ رہنے سے زیادہ وہ موت کے انتخاب کوترجیح دینے سے بھی گریز نہ کریں گی۔ یہ فیصلہ تو مسلم خواتین کا ہے___ مگر امریکا یہ کہتا ہے: ’’تم اپنی جگہ غیرت کو محفوظ رکھو، مگر ہم مشینوں کے ذریعے تمھیں بے لباس کرکے تصویریں بنائیں گے‘‘۔ صاحبو، آج امریکی فضائی اڈوں پر ایسی مشینوں (naked body scanners)کی تنصیب کر دی گئی ہے (اور تیزی سے اس تنصیباتی عمل کو وسعت دی جارہی ہے) تاکہ خوف زدہ مغربیوں کے ہاتھوں حیا کا پردہ تار تار ہوتا رہے، اور پھر دنیا کے مظلوم اور مسلم اُمہ کے مجبور عوام اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرلیں۔
اپنی سرزمین پر یہ بیہودہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ خودمسلم ممالک سے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں سے امریکا جانے والے مسافروں کو ’مکمل جسمانی سکین‘ کر کے طیاروں میں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ آخرکار منصوبہ یہ ہے کہ تمام ہوائی اڈوں پر فضائی مسافروں کی عریاں اسکیننگ کی مشینیں لگا دی جائیں۔ لوگ حیران و پریشان ہیں کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟
جواب میں امریکی حکام کہتے ہیں کہ: دسمبر ۲۰۰۹ء کے کرسمس کے موقع پر نائیجیریا کے ۲۳سالہ افریقی مسلمان عمرفاروق عبدالمطلب کو مبینہ طور پر آتش گیر پائوڈر کمر سے باندھے ہوئے ڈیٹرایٹ (مشی گن) کے ہوائی اڈے سے گرفتار کرنے کا واقعہ ہی اس جبر کا باعث بنا ہے۔ (یاد رہے یہ مسافر ایمسٹرڈم کے ہوائی اڈے سے طیارے (فلائٹ ۲۵۳) پر سوار ہوا تھا، اور سیکورٹی کی ذمہ داری اسی ہوائی اڈے کے حکام پر تھی)۔ جواب میں مسلم رہنما کہتے ہیں کہ یہ واقعہ محض ایک ڈراما تھا، جسے اسٹیج کر کے ایک بہانہ تراشا گیا تاکہ مذکورہ پروگرام کے نفاذ کا جواز پیدا کیاجاسکے اور اس شک کی بنیاد بڑی مضبوط ہے۔
مبینہ طور پر یہ واقعہ تو دسمبر ۲۰۰۹ء میں ہوتا ہے، مگر سی این این نے اب سے سات ماہ پیش تر ہی یہ خبر دے دی تھی کہ: ’’مسافروں کی عریاں تصویرکشی (naked pictures) کی جاری ہے‘‘ (۱۸ مئی ۲۰۰۹ء، cnn.com)۔ اسٹاف رپورٹر جرمی حسو نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا: ’’جسم کی مکمل تصویرکشی کی مشینوں سے، فرد کے کپڑوں کے نیچے سے ہر دھاتی اور غیردھاتی چیز دیکھی جاسکتی ہے بلکہ زیرجامہ نقوش تک نظر کے سامنے آجاتے ہیں اور یہ ۳ ڈی عکس بندی چند سیکنڈ میں کرلی جاتی ہے‘‘ (یکم اپریل ۲۰۰۹ء، livescience.com)۔ آگے چلیے، معروف صحافی جیفری لایب نے تو اس سے بھی ایک سال پہلے دی ڈینورپوسٹ میں بتایا تھا: ’’ڈینور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ امریکا کے دیگر پانچ ہوائی اڈوں پر مکمل جسمانی عریاں تصویر سازی کی مشینیں لگادی گئی ہیں‘‘۔(۲۹ مئی ۲۰۰۹ء، denverpost.com)
اسی طرح تھامس فرینک نے اب سے ڈیڑھ سال قبل ۶جون ۲۰۰۸ء کو امریکا کے مشہور جریدے یو ایس ٹوڈے میں رپورٹ دی تھی کہ: ’’انسانی بدن کو اسکین کرنے والی وہ مشینیں، جو لوگوں کے کپڑوں سے بھی نیچے کی تصویریں بنا سکتی ہیں، معروف ترین ہوائی اڈوں پر نصب کر دی گئی ہیں‘‘ (۶ جون ۲۰۰۸ء- USA Today)۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مغربی اور امریکی حکمرانوں کی بدنیتی اور قانون شکنی تو کب سے اپنا رنگ دکھا رہی تھی، مگر اس شیطانی سلسلے کو بڑے پیمانے پر روبہ عمل لانے کے لیے ’کرسمس ڈراما ۲۰۰۹ء‘ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
مغرب کے خوف زدہ حکمرانوں نے دنیا بھر میں ایک ہسٹیریائی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ اسی کیفیت میں وہ اپنے مذموم سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ کرتے اور اعلیٰ انسانی اور تہذیبی اقدار کو کچلے جارہے ہیں۔ اُوپر مذکورہ اسکیننگ مشینوں کے اس استعمال کا مطلب یہ ہے کہ:
۱- اہلِ مغرب کے خیال میں حیا اور انسانی حق خلوت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
۲- خاص علاقے اور نشان زدہ مذہب کے لوگ اہلِ مغرب کی نظر میں ملزم کا درجہ رکھتے ہیں۔
۳- مغربی حکمرانوں کو بلاروک ٹوک یہ حق حاصل ہے کہ وہ اقتدار اور قوت پر قابض ہونے کی بنیاد پر، جب، جس طرح اور جس پیمانے پر چاہیں___ انسانی جان، مال اور آبرو پر حملہ کرسکتے ہیں۔
۴- اپنے اقتدار کی بھیک مانگنے والے مسلم حکمران، مغرب کی ظالم حکومتوں کے اندھے، بہرے اور وحشی قوانین کے نفاذ ہی کو ’روشن خیالی‘ تصور کرتے ہیں۔
کیاانسانی تاریخ نے کبھی پہلے بھی یہ منظر دیکھا تھا؟ کیا جنگل میں درندوں نے بھی کبھی ایسے ظالمانہ اختیار کو استعمال کیا تھا؟ کیا اکیسویں صدی کا انسان اتنا بے بس، مجبور اور مقہور ہے کہ چند انسان، چند ادارے اور چند مشینیں انھیں مَسل کر رکھ دیں۔ اور اگروہ اُف بھی کریں تو انھیں وحشی، غیرمہذب، تہذیب دشمن، تنگ نظر اور دہشت گرد کہہ کر، ان کا منہ بند کردیں؟ کیا ایسے توہین آمیز اقدامات کے نتیجے میں دنیا کو امن کی فضا مل جائے گی؟ معمولی سی بھی عقل رکھنے والے انسان کا جواب ہوگا: ’نہیں‘___ یہ انسانی تاریخ کا سبق ہے کہ ذلت، جبر اور ظلم کرنے والے اگر ایک دروازہ بند کرتے ہیں توردعمل کے لیے مظلوم دس مزید دروازے کھول لیتے ہیں۔ اس لیے اگراصلاح اور انسانیت کی فلاح مطلوب ہے تو پھر قوموں کے حق حکمرانی کا احترام کیا جائے، ان پر جارحیت و استعماریت ختم کی جائے تو خود بخود ’خوف‘ کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔
اندریں حالات بے حیائی، تذلیل اور ظلم کے اس بندوبست کو مسلم دنیا کا شدید ترین احتجاج ہی روک سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ مسلم دنیا میں اس حوالے سے لاتعلقی،بے بسی، یا چشم پوشی کا رویہ ایک عذاب کی صورت مسلط ہے۔ ہاں، البتہ امریکا کے بالکل قریب ایک چھوٹے سے کمیونسٹ ملک کیوبا نے ۶جنوری ۲۰۱۰ء کو ضرور امریکا سے احتجاج کیا ہے، یا پھر ایک بے بس عراقی مسلمان خاتون نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اس تقابلی صورت حال کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا میں مذکورہ مسئلے پر باخبر کرنے کی مہم چلائی جائے۔ احتجاج منظم کیا جائے اور علمی وفکری سطح پر شرفِ انسانیت کے بھولے سبق کو یاد دلایا جائے، کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، جانور نہیں!