مضامین کی فہرست


جون ۲۰۱۰

مہمان داری

سوال: میں اور میرے چند دوست اس بات کے قائل ہیں کہ مہمان کے لیے گھر میں جو کچھ حاضر ہو،لے آنا چاہیے۔ اس سے مہمان داری آسان ہوجاتی ہے (اگر میں خود کہیں مہمان بنوں تو بھی میزبان سے یہی توقع رکھتا ہوں)۔ لیکن احادیث میں تین دن تک مہمان کی خصوصی میزبانی کی تاکید آئی ہے۔ کیا ان احادیث کی روشنی میں ہمارے رویّے کو درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ اگرچہ معقول آمدنی بھی ہو لیکن مہنگائی کا مسئلہ بھی اپنی جگہ ہے اور وقت کی کمی بھی آڑے آتی ہو؟

جواب: مہمان داری کی حدود کیا ہیں اور قرآن وسنت اس سلسلے میں کیا رہنمائی فراہم کرتے ہیں، ایک تفصیل طلب سوال ہے۔ جو نکات آپ نے اپنے سوال میں اٹھائے ہیں ان پر اختصار کے ساتھ یوں غور کیا جاسکتا ہے:

اوّلاً: مہمان یا سفر کر کے آنے والے مہمان کے لیے کھانے پینے کا معقول بندوبست کرنا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس جب دو مہمان آئے تو ان کے لیے دُنبے کا ذبح کرنا اور ان کے سامنے وافر مقدار میں کھانا پیش کرنا سنت ِ ابراہیمی ؑاور ان کی اُمت کے لیے ایک عملی مثال ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گو حضرت ابراہیم ؑ ہماری طرح گھر میں جو دال دلیہ موجودہوتا پیش کرسکتے تھے لیکن انھوں نے مہمانوں کے اکرام اور تواضع کے لیے خصوصی طور پر دُنبے ذبح کروا کے کھانا تیار کرایا۔ گویا عام روزمرہ کے کھانے کے مقابلے میں زیادہ اہتمام کیا گیا۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ موجودہ دور میں جب وقت میں برکت نہیں رہی، اور معاشی مسائل نے افراد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، ایسے میں روز مہمانوں کے لیے بڑے پیمانے پر تواضع کا اہتمام کرنا مشکل ہے، تاہم یہاں اس پہلو سے بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وقت اور مال کی برکت میں کمی کیوں آئی ہے؟ کیا اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہیں کرتے جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اپنی ضروریات کا معاملہ ہو تو دل کھول کر خرچ کریں لیکن اگر کوئی مہمان آئے تو سادگی کی دلیل کے سہارے کم سے کم اہتمام کیا جائے۔ بلاشبہہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اسراف کو پسند نہیں فرماتے اور کھانے پینے کے حوالے سے یہ اصول بیان کردیا گیا کہ کھائو پیو لیکن اسراف نہ کرو (الاعراف ۷:۳۱)۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات پھر بھی ثابت نہیں ہوتی کہ مہمان کو صرف دال دلیہ پر ٹرخا دیا جائے اور خود لذیذ کھانے کھائے جائیں۔ ہمارے ہاں تو مہمان نوازی کرتے ہوئے خود بھوکا رہنے، بچوں کو بھوکا سُلانے کی روایت بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سراہا ہے۔

تین دن تک مہمان داری کا مفہوم بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس عرصے میں مقابلتاً زیادہ اہتمام کیا جائے، اور پھر مہمان کو گھر کے افراد کی طرح سے عزت و احترام کے ساتھ اکل و شرب میں شریک کیا جائے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تین دن بعد مہمان کو چلے جانے کے لیے کہا جائے۔

عملی طور پر اگر دیکھا جائے تو رزق کا وعدہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے نہ صرف انسانوں بلکہ پرندوں سے بھی کیا ہوا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ وہ اپنا کھانا ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے اور گو صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں لیکن شام کو بھرے پیٹ کے ساتھ اپنے مسکن پر واپس آتے ہیں۔ گویا ہر مہمان جو آتا ہے وہ اپنا رزق اللہ کی طرف سے لے کر آتا ہے اور اس کی آمد کی بنا پر گھروالوں کو بھی روز مرہ کے کھانے سے مقابلتاً بہتر کھانا مہمان کے بہانے کھانے کو مل جاتا ہے۔

مہمان داری کے لیے بنیادی شرط خلوصِ نیت ہے۔ اگر مہمان کا استقبال یہ کہہ کر کیا جاتاہے کہ اھلًا وسھلًا تو پھر اسے اپنے گھر والوں کی طرح معقول غذا اور آرام پہنچانا میزبان پر فرض ہوجاتا ہے۔ بجٹ لازمی طور پر ایک حقیقت ہے لیکن خلوصِ نیت سے مہمان داری برکت و سعادت کا باعث ہوتی ہے۔ تاہم، بے جا تکلف اور اِسراف سے بچنے کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے مہمان کی تواضع اور خاطرداری، اسلامی آداب میں سے شامل ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


روزمرہ استعمال کی چیزیں عاریتاً دینے میں قباحت

س: روزمرہ استعمال کی اشیا دوسروں کو نہ دینا کوئی اچھی بات نہیں اور اسلام نے اس کی ممانعت بھی کی ہے۔ وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ (الماعون ۱۰۷:۷) ’’اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔ یہ اچھا بھی نہیں لگتا کہ استعمال کی کوئی چیز ہمارے گھر میں پڑی رہے اور کسی کے کام نہ آئے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں لوگ چیزوں کو عموماً صحیح استعمال نہیں کرتے بلکہ خراب کردیتے ہیں۔ ہماری اپنی گاڑی، اسکوٹر سے لے کر بیلچا اور کدال تک عموماً دوسروں کے ہاں سے خراب ہوکر واپس آتے ہیں، یا بروقت واپس نہیں آتے اور یوں پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔  پھر آج کل چیزیں خریدنا بھی مشکل ہے۔ ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟

ج: عام استعمال کی اشیا دوسروں کو عاریتاً دینا اخوت، اتحاد اور ایثار کے جذبے کو تقویت دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ عموماً لوگ عاریتاً لی ہوئی چیز کو احتیاط سے استعمال نہیں کرتے۔ نتیجتاً چیز دینے والے کو تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن کیا ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر ہوتی ہیں؟ اگر افراد طبائع کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوسکتے تو ہمارا یہ تصور کرنا کہ ہروہ شخص جو کوئی چیز عاریتاً لے گا، اسے خراب کرکے ہی لائے گا، درست خیال نہیں کہا جاسکتا۔

اصل مسئلہ افراد کی تعلیم و تربیت اور ان میں احساسِ ذمہ داری کے پیدا کرنے کا ہے۔ ہمارے نظامِ تعلیم اور گھر کے ماحول میں اس پہلو سے سخت کمی پائی جاتی ہے۔ عاریتاً کوئی چیز دینے سے انکار کرنے کے بجاے ہمیں دوسروں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہیے کہ جس حال میں ایک چیز دی جارہی ہے اسی میں واپس آئے۔ بتدریج افراد کی اصلاح ہوگی اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہوگا۔ تاہم، اگر بار بار توجہ دلانے پر بھی کسی کی اصلاح نہ ہو تو معذرت کی جاسکتی ہے۔(ا-ا)


الوداعی پارٹی یا استقبالیہ کا جواز

س: فوجی و سرکاری ملازمین ایک دوسرے کو الوداعی پارٹی یا استقبالیہ دیتے ہیں۔ الوداعی پارٹی دینے والے حضرات جو اس کے اخراجات برداشت کرتے ہیں وہ بعد میں آنے والے لوگوں سے پارٹی اور تحفہ رخصت ہوتے ہوئے لیں گے۔ گویا جانے والوں نے جو کچھ کھایا یا جو بصورت تحفہ وصول کیا اس کا خرچ موجود لوگ دیتے ہیں اور موجودہ لوگ جب جائیں گے تو بعد میں آنے والے اس کے اخراجات برداشت کریں گے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ کیا ایسی پارٹی یا تحفہ وصول کرنے کا شرعی جواز ہے؟

ج: فوجی یا سرکاری ملازمین کا اپنے بھائیوں کو الوداعی یا استقبالیہ پارٹی دینا ایک اچھی روایت ہے۔ اس میں ممانعت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اس میں صرف اس قدر احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ یہ اسراف و تبذیر اور فخر و مباہات سے خالی ہو۔ اس میں ادلے کا بدلہ والی بات نہیں ہے۔ اس لیے کہ جانے والے کو جنھوں نے کھانا دیا ہے، جب کھانا دینے والوں کی باری آئے گی تو انھیں جانے والا نہیں بلکہ اسی پوسٹ اور منصب کے دوسرے احباب کھانا دیں گے اور وہ بھی اس نیت سے کھانا نہیں دیں گے کہ جانے والے انھیں کھانے کے بدلے میں کھانا دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تو یہ تھا کہ کسی نے آپ کو ہدیہ دیا تو آپ اسے موقع ملنے پر ہدیہ پیش کیا کرتے تھے۔ ہدیے اور ہبہ کا بدلہ دیا کرتے تھے۔ یہ ایک اخلاقی طریقہ ہے جس کی رہنمائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)


کاروبار میں والد کے ساتھ اولاد کی شرکت

اسلامی فقہ اکیڈمی کا انیسواں سیمی نار صوبہ گجرات کے ضلع بھروچ کے معروف علمی ادارہ ’جامع مظہر سعادت ہانسوٹ‘ میں ۲۷ تا ۳۰ صفرالمظفر ۱۴۳۱ھ، مطابق ۱۲ تا ۱۵ فروری ۲۰۱۰ء بروز جمعہ تا دوشنبہ منعقد ہوا۔ سیمی نار کے اختتام پر کئی اہم فقہی مسائل پر سفارشات پیش کی گئیں۔ کاروبار میںوالد کے ساتھ اولاد کی شرکت کے مسئلے پر کئی عملی مسائل پیش آتے ہیں۔ اس حوالے سے فقہی رہنمائی پیش ہے۔ (ادارہ)

شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو معاملات صاف رکھنے کی طرف خاص توجہ دلائی ہے، اس لیے مسلمان اپنی معاشرت میں معاملات صاف رکھنے کا خاص اہتمام کریں، خصوصاً تجارت اور کاروبار میں اس کی اہمیت بہت ہی زیادہ ہے۔ ایک شخص تجارت کر رہا ہے، اور اس کی اولاد بھی اس کاروبار میں شریک ہے تو جو بیٹے باپ کے ساتھ کاروبار میں شریک ہورہے ہیں، ان کی حیثیت (شریک، اجیر یا معاون کے طور پر) شروع سے متعین ہوجائے تو خاندانوں میں ملکیت کے اعتبار سے جو نزاعات پیدا ہوتے ہیں ان کا بڑی حد تک سدباب ہوجائے گا۔ اس لیے اس طرح کے معاملات میں پہلے سے حیثیت متعین کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

اگر والد نے اپنے سرمایے سے کاروبار شروع کیا، بعد میں اس کے لڑکوں میں سے بعض شریک کار ہوگئے، مگر الگ سے انھوں نے اپنا کوئی سرمایہ نہیں لگایا اور والد نے ایسے لڑکوں کی کوئی حیثیت متعین نہیں کی، تو اگر وہ لڑکے باپ کی کفالت میں ہیں تو اس صورت میں وہ لڑکے والد کے معاون شمار کیے جائیں گے اور اگر باپ کی زیرکفالت نہیں ہیں تو عرفاً جو اُجرتِ عمل ہوسکتی ہے، وہ ان کو دی جائے۔

اگر والد کے ساتھ بیٹوں نے بھی کاروبار میں سرمایہ لگایا ہو اور سب کا سرمایہ معلوم ہو کہ کس نے کتنا لگایا ہے تو ایسے بیٹوں کی حیثیت باپ کے شریک کی ہوگی، اور سرمایے کی مقدار کے تناسب سے شرکت مانی جائے گی، سواے اس کے کہ سرمایہ لگانے والے بیٹے کی نیت والد کے یا مشترکہ کاروبار کے تعاون کی ہو شرکت کی نہ ہو۔

اگر کاروبار کسی لڑکے نے اپنے ہی سرمایے سے شروع کیا ہو لیکن بہ طور احترام دکان پر والد کو بٹھایا ہو یا اپنے والد کے نام پر دکان کا نام رکھا ہو، تو اس صورت میں کاروبار کا مالک لڑکا ہوگا۔ والد کو دکان پر بٹھانے یا ان کے نام پر دکان کا نام رکھنے سے کاروبار میں والد کی ملکیت و شرکت ثابت نہ ہوگی۔

باپ کی موجودگی میں اگر بیٹوں نے اپنے طور پر مختلف ذرائع کسب اختیار کیے اور اپنی کمائی کا ایک حصہ والد کے حوالے کرتے رہے تو اس صورت میں باپ کو ادا کردہ سرمایہ باپ کی ملکیت شمار کی جائے گی۔

اگر کسی وجہ سے والد کا کاروبار ختم ہوگیا لیکن کاروبار کی جگہ باقی ہو، خواہ وہ جگہ مملوکہ ہو یا کرائے پر حاصل کی گئی ہو، اور اولاد میں سے کسی نے اپنا سرمایہ لگاکر اسی جگہ اور اسی نام سے دوبارہ کاروبار شروع کیا، تو اس صورت میں جس نے سرمایہ لگاکر کاروبار شروع کیا، کاروبار اس کی ملکیت ہوگا، والد کی نہیں۔ لیکن وہ جگہ (خواہ مملوکہ ہو یا کرایے پر لی گئی ہو) دوبارہ کاروبار شروع کرنے والے کی نہیں بلکہ اس کے والد کی ہوگی۔ والد کی وفات کی صورت میں اس میں تمام ورثا کا حق ہوگا، اور اسی طرح کاروبار کی گڈوِل بھی باپ کا حق ہے اور اس کی وفات کے بعد تمام ورثا کا حق ہوگا۔

اس موضوع سے متعلق سماج میں پیش آنے والے مختلف مسائل ہیں جن کو واضح کرنے اور عام مسلمانوں کو ان سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ اجتماع اکیڈمی سے اپیل کرتا ہے  کہ وہ اس سلسلے میں ایک مفصل رہنما تحریر تیار کرے اور ان میں جو مسائل قابلِ تحقیق ہوں    حسب ِ گنجایش آیندہ منعقد ہونے والے سیمی ناروں میں انھیں اجتماعی غوروفکر کے ذریعے طے کرے۔

ائمہ و خطبا اور علماے کرام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں معاملات کی بہتری کے سلسلے میں ذہن سازی کریں، اور شرکت و میراث وغیرہ کے جو شرعی اصول و احکام ہیں ان سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ خاص طور پر والدین ، اولاد، بھائیوں اور میاں بیوی کے درمیان شرکت کے مسائل سے واقفیت ضروری ہے۔

Muhammad The Prophet Par Excellence & The Divine Origin of The Quran [نبی اکرمؐ اور قرآن کلامِ الٰہی]،  پروفیسر محمد اسلم۔ ناشر: دعوہ اکیڈمی،فیصل مسجد، اسلام آباد۔ صفحات: ۵۰۲۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

مستشرقین نے ایک طرف تو قرآن کو (نعوذ باللہ) کلامِ الٰہی کے بجاے نبی کریمؐ کی خودساختہ کتاب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اور دوسری طرف نبیِ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر طرح طرح کے اعتراضات عائد کیے ہیں۔ زیرنظر کتاب کے مصنف نے طویل مطالعے کے بعد مغربی اہلِ قلم کی تحریروں سے ان اعتراضات کے جواب پیش کیے ہیں۔ اہلِ مغرب خصوصاً عیسائی اور یہودی مستشرقین نے دین اسلام، پیغمبرؐاسلام اور قرآن مجید کو ہدفِ تنقید بنایا ہے، اُس کے رد میں سادہ اور آسان زبان میں مرتبہ یہ کتاب ایک معقول جواب کی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنف نے درجنوں عیسائی مصنّفین کی تحریروں سے ضروری اور متعلقہ حوالہ جات یک جا کردیے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ کی امانت و دیانت، خاندانی، زندگی اور بطور سربراہ مملکت کردار کو ہر دور کے نام وَر اہلِ علم و دانش نے ہر قسم کی آلایشوں سے پاک قرار دیا ہے۔

’اسلام کے خلاف یہود و نصاریٰ کے ردعمل کا پس منظر‘ میں، مصنف بتاتے ہیں کہ سائنسی میدان میں ہمہ پہلو ترقی کے باوجود، یورپ کا ذہن ’روایت پرست‘ ہے۔ اس لیے دین اسلام کے خلاف گھسے پٹے الزامات کو نئے الفاظ کے ساتھ دُہرایا جا رہا ہے۔مصنف نے برنارڈشا،       بوس ورتھ سمتھ، پروفیسر کل ورلے، ینز، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے متعدد دانش وروں کی گواہی یک جا کردی ہے جس کے مطابق اسلام کے خلاف نفرت اور نبی علیہ السلام کے خلاف الزامات کے ذریعے عالمِ انسانیت کو دین اسلام سے دُور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ خصوصاً کیتھولک اور پروٹسٹنٹ اُن گمراہیوں کی طرف رُخ ہی نہ کریں جو انبیا ؑکے دین میں، خرافات کی صورت میں اکٹھی کردی گئی ہیں۔

مصنف نے بتایا ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کے برعکس خداے واحد کا تصور تثلیث کی صورت میں تبدیل کردیا گیا، پھر اسلام کے خلاف نفرت کی آگ کو برس ہا برس ہوا دی جاتی رہی۔ بطور ثبوت مؤلف نے سوزینی، جان ملٹن، جان لاک، تھامس ایملن، جوزف پریسٹلے، تھیوفی لس لینڈے، وغیرہ کی تحریروں سے اقتباس پیش کیے ہیں۔

اس اہم تحقیقی تصنیف کا دوسرا حصہ نبی علیہ السلام کی ذاتِ گرامی کا تاریخ کی روشنی میں جائزے پر مشتمل ہے۔یہ تفصیلی باب نبی اکرمؐ کی پیدایش سے لے کر زمانۂ قبل نبوت کے ۴۰سال، مکّی زندگی کے ۱۳سال اور مدنی زندگی کے ۱۰برسوں کا احاطہ کرتا ہے۔

کتاب کے تیسرے حصے میں قرآن کے اسلوب وابلاغ کو زیربحث لایا گیا ہے۔ اس باب میں انجیل کے اُن حصوں میں سے کچھ مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں کہ جو توحیدِ خالص کے پیغام کی علَم بردار ہیں۔ انجیل اور قرآن کے جن واقعات میں مماثلت ہے اُن کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ آثارِ کائنات سے مثالیں پیش کی گئی ہیں کہ کس طرح کائنات کی ایک ایک چیز خداے واحد کی ہستی اور اُس کی حکمت کی عکاس ہے۔

مستشرقین کے اعتراضات کی حقیقت اور علمی بددیانتی اور اسلام اور مغرب کے درمیان موجودہ کش مکش کو سمجھنے میں دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک نادر ونایاب تحفہ ہے۔ (محمد ایوب منیر)


قرآن کریم میں رسول اکرمؐ کا عالی مقام، مولانا عبدالرحمن کوثر مدنی۔ ناشر: زم زم پبلی کیشنز، نزد مقدس مسجد، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۳۲۷۶۰۳۷۴-۰۲۱۔ صفحات: ۲۷۲۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

قرآن مجید کی جن آیات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل، آپؐ کو ملنے والے معجزات اور آپؐ کی سیرتِ کاملہ کا تذکرہ ہے، زیرنظر کتاب ان آیات کے مطالعے اور تفسیر پر مبنی ہے۔ سیرتِ مصطفیؐ پر ہزاروں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور آیندہ بھی لکھی جائیں گی لیکن زیرتبصرہ کتاب ایک نئے انداز میں عشق مصطفیؐ پیدا کرتی ہے: ’’میں نے قرآن کی تفسیر میں سیرت کو پڑھا‘‘ کے مصداق سیرتِ رسولؐ پر حق کی گواہی ہے۔

غلو سے بچتے ہوئے سیرت کو بیان کرنا انتہائی مشکل کام ہے مولانا مفتی عبدالرحمن کوثر مدنی نے اس مشکل کو انگیز کرتے ہوئے ایک خوب صورت کتاب پیش کی ہے جو عاشقانِ مصطفیؐ کی نگاہ انتخاب میں مقام حاصل کرے گی اور سیرت کے مطابق عمل کو مہمیز دے گی۔ اگر ذاتِ مصطفیؐ پر دورِحاضر میں ہونے والے اعتراضات اور حملوں کا بھی احاطہ کرلیا جاتا تو کتاب کی افادیت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔(معراج الھدٰی صدیقی)


سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، علامہ محمد ناصرالدین الالبانی، تہذیب و اختصار: ابوعبیدہ مشہور بن حسن آلِ سلمان، مترجم: عبدالحمید سندھی۔ ناشر: فضلی بک،سپرمارکیٹ، ۳/۵۰۷، ٹمپل روڈ، اُردو بازار، کراچی۔ صفحات: ۸۹۰۔ قیمت: ۷۰۰ روپے

علامہ ناصرالدین الالبانی (۱۹۱۴ئ-۱۹۹۹ئ) کو علمِ حدیث میں ممتاز مقام حاصل تھا۔ یوں تو اُن کے سبھی تصنیفی کام وقیع ہیں مگر سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ کو نسبتاً زیادہ شہرت ملی۔ متعدد جلدوں پر محیط یہ سلسلے باہمت علماے حدیث کی کاوشوں سے اُردو قارئین تک بھی پہنچ گئے ہیں۔

علامہ البانی کی سلسلۂ احادیث صحیحہ کا زیرنظر اختصار اُن کے شاگرد کا مرتب کردہ ہے۔ ۳ہزار سے زائد صحیح احادیث کو ۲۸ عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اخلاق و آداب، عقیدہ و ایمان، عبادت و تجارت، حکومت و امارت، طہارت و نظافت اور سفروجہاد کے موضوعات سے متعلق احادیث کا رواں ترجمہ کیا گیا ہے۔ مرتب نے اصل کتب کی احادیث میں سے انتخاب کرکے احادیث کی پوری اسناد کے بجاے سند کا اختصار درج کیا ہے۔ اس مجموعے میں شامل احادیث کا نمبرشمار نیا ہے، اصل کتاب کے مطابق نہیں، تاہم حواشی میں سلسلۂ صحیحہ کا حدیث نمبر درج کردیاگیا ہے۔

علامہ الالبانی کے اس مجموعۂ احادیث میں صحاحِ ستہ کے علاوہ حدیث کے معروف اور بنیادی مجموعوں سے احادیث لی گئی ہیں۔ ایک ہی جِلد میں ان تمام مباحث کو سمیٹ دیا گیا ہے۔ ناشر (اور مترجم) نے اس ضخیم مجموعے کو اِعراب (زیر، زبر، پیش) سے آراستہ کرنے میں غیرمعمولی محنت سے کام لیا ہے۔ اس بنا پر متن احادیث کو صحت کے ساتھ پڑھنا آسان ہوگیا ہے۔ تخریجِ احادیث کو مناسب حد تک مختصر رکھا گیا ہے۔ تخریج کا متن کے اندر نمبر اُردو کے بجاے عربی عبارت پر دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ احادیث کی تخریج میں درجنوں کتب کے نام آئے ہیں، کتاب کے آخر میں کتابیات دینی چاہیے تھی۔ مترجم نے اتنے بڑے مجموعے کو اُردو قالب میں ڈھالنے کی صبرآزما مشقت اٹھائی۔یہ مجموعہ اپنی جامعیت اور صحت کی بنا پر بہت مفید ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)


Who Killed Karkare? [کرکرے کا قاتل کون؟]، ایس ایم مشرف، ناشر: فیرس میڈیا اینڈ پبلشنگ لمیٹڈ،۸۴- ڈی، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر نئی دہلی- صفحات: ۳۳۵، مع اشاریہ۔ قیمت: ۱۵ ڈالر۔

ہمسایہ ملک بھارت کی دنیا الگ ہے اور چہرہ بھی وہ نہیں، جو ظاہر میں دکھائی دیتا ہے۔ اس بات کی تصدیق زیرنظر کتاب کرتی ہے۔ اگرچہ اس کا عنوان یہ ہے کہ ’’کرکرے کا قاتل کون؟‘‘  مگر سچی بات ہے کہ اس بے گناہ، فرض شناس اور پیشہ ورانہ دیانت کے حامل افسر کے قتل نے، اُن خوف ناک مناظر سے پردہ ہٹایا ہے، جنھیں ’سیکولرزم‘ ، ’جمہوریت‘ اور ’روشن خیالی‘ کے نام پر بھارتی نیتائوں نے چھپا رکھا تھا۔

مصنف بھارتی صوبہ مہاراشٹر کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ فرض شناسی کے باعث اُن کی حب الوطنی بھارت میں کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہیمنت کرکرے جیسے دیانت دار افسر نے مذہبی یا نسلی تعصب سے بالاترہوکر، ممبئی ریل بم دھماکے (۱۱ جولائی ۲۰۰۶ئ)، مالیگائوں بم دھماکے (۸ستمبر ۲۰۰۶ئ)، سمجھوتا ایکسپریس بم دھماکے (۱۹فروری ۲۰۰۷ئ)، اجمیردرگاہ دھماکے (۱۱؍اکتوبر ۲۰۰۷ئ)، سلسلہ وار دھماکے (۲۳ نومبر ۲۰۰۷ئ)، جے پور دھماکے (۱۳ مئی ۲۰۰۸ئ)، احمدآباد بم دھماکے (۲۶جولائی ۲۰۰۸ئ)، دہلی بم دھماکے (۱۳ستمبر ۲۰۰۸ئ) وغیرہ کی تحقیقات میں عجیب و غریب مماثلت دیکھتے اور ایک ہی نوعیت کا تال میل پاتے ہوئے یہ متعین کیا:’’ان دھماکوں کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ نہیں ہے‘‘، بلکہ کرکرے نے واضح طور پر اشارہ بھی کیا کہ اس بہیمانہ قتل و غارت کے ذمہ دار کون ہیں، تو انھوں نے اس حقیقت کو   بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی نشان دہی نے ہندو قوم پرستوں کے ہاتھوں ہیمنت کرکرے کو  ممبئی میں قتل کرا دیا، تاکہ سچائی کو دیکھنے والی آنکھ اور اسے بیان کرنے والی زبان ہمیشہ کے لیے بندکردی جائے۔

مشرف نے اپنی اس تحقیقی کتاب میں بڑی جاں سوزی سے اس فسطائی ذہنیت کا کھوج لگایا ہے، جس نے انیسویں صدی سے لے کر آج تک ہندستان میں ہندو مسلم فسادات کی آگ دہکا رکھی ہے۔ انھوں نے اپنے طویل محکمانہ تجربے، گہرے مشاہدے، وسیع سماجی مطالعے اور بے شمار فسادات پر لکھی جانے والی تحقیقاتی رپورٹوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بھارت میں ہندو قوم پرستی، اصل میں برہمنیت کا دوسرا روپ ہے، اور یہی اس فساد کی جڑ ہے، اور اس نے بھارت کے امن و سکون کو برباد کر رکھا ہے۔ ان واقعات کے پیچھے سازش، سنگ دلی، سرکاری محکموں خصوصاً انٹیلی جنس بیورو میں موجود ’ہندوتا‘ کے علَم برداروں کا اتحاد کام کر رہا ہے اور ہندستان کے ۲۰کروڑ مسلمانوں کو ہر آن دہشت کے دبائو میں رکھ کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔

بھارت میں یہ کتاب ایک سال کے اندر تین بار شائع ہوچکی ہے۔ ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے لیے دو قومی نظریہ کوئی پایدار اصول یا مستقل نظریہ نہیں، فقط ایک وقتی ردعمل کا نام ہے، وہ اگر اس کتاب کو پڑھیں گے تو ان پر چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ وہ لوگ جن کی نظر کو بھارتی فلموں کی چکاچوند نے چندھیا دیا ہے، اگر اس کا مطالعہ کریں گے تو جان لیں گے کہ ’دوستی‘ اور ’ایک ہی کلچر‘ کی باتیں فقط سُراب ہیں، اور ان پر بھارت کے نام نہاد جمہوری سیکولرزم کی قلعی کھل جائے گی۔ یہ کتاب اگرچہ ایک پولیس افسر کے قتل سے منسوب ہے، مگر اس میں بھارتی تعصب اور مسلم دشمنی کی تاریخ کی زندہ تصویر اُبھر کر سامنے آجاتی ہے۔ (سلیم منصور خالد)


۵-اے ذیلدار پارک، حصہ اول و دوم۔ مرتبین: مظفربیگ،حفیظ الرحمن احسن۔ ناشر: البدر پبلی کیشنز، راحت مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات (علی الترتیب): ۳۲۳، ۴۶۱۔ قیمت : ۲۲۰ ، ۲۵۰ روپے۔

لاہور کی نواحی بستی اچھرہ میں واقع ۵-اے ذیلدار پارک، نہ صرف مولانا مودودی مرحوم کی رہایش گاہ تھی بلکہ اسی عمارت میں ۲۷برس تک جماعت اسلامی پاکستان کا مرکز بھی قائم رہا۔ اس مناسبت سے نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر سے متلاشیانِ حق مولانا سے رہنمائی کی غرض سے ۵-اے، ذیلدار پارک کا رُخ کیا کرتے تھے۔

مولانا مودودیؒ کا مدتوں یہ معمول رہا کہ نمازِ عصر کے بعد اپنے گھر (۵-اے، ذیلدارپارک) کے سبزہ زار میں ملاقاتیوں کے درمیان آکر بیٹھ جاتے اور لوگوں کے سوالات اور اِشکالات کے جواب دیتے۔ سوال جواب کی اس محفل میں بڑے قیمتی نکات سامنے آتے مگر ابتدائی زمانے میں میں انھیں محفوظ کرنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ مظفربیگ (مرحوم)، مدیر آئین نے اپنے قارئین کو بھی صاحبِ تفہیم القرآن کی اس مجلس سے مستفید کرنے کا عزم کیا۔ پہلے پہل ان کے ایما پر    رفیع الدین ہاشمی ان نشستوں میں ہونے والی گفتگو کو مرتب کرنے لگے۔ پہلا کالم ۲۷ جون ۱۹۶۵ء کو آئین میں شائع ہوا۔ بعدازاں جناب حفیظ الرحمن احسن اور پھر خود مظفربیگ مرحوم نے بھی وقتاً فوقتاً یہ ذمہ داری ادا کی۔آئین کا یہ سلسلہ بہت مقبول ہوا اور لوگ اس کے منتظر رہتے۔

اس مجلس میں دینی حقائق، فقہی مسائل اور سائنس و فلسفے جیسے موضوعات بھی چھڑجاتے اور کچھ عام قسم کی سرسری باتیں بھی ہوتیں، نیز ملکی حالات بھی زیربحث آتے: ایوب خان کے    زمانۂ اقتدار کے آخری ایام، جنرل یحییٰ خان کے ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات، دستور سازی کے مسائل، جماعت اسلامی کی انتخابی پالیسی اور جدوجہد، شیخ مجیب الرحمن کے چھے نکات کا ہنگامہ،  سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ، ذوالفقارعلی بھٹو کا دورِ حکومت اور اسلامی سوشلزم، بھٹو کے خلاف عوامی احتجاج اور تحریک نظامِ مصطفیؐ، مولانا مودودی سے بھٹو کی ملاقات اور ان کی تجاویز وغیرہ۔ اس طرح کتاب ہذا میں ہماری تاریخ کے بڑے نازک اور ہنگامہ خیز دور کی عکاسی ہوتی ہے۔

مولانا مودودیؒ کے سوال و جواب پر مبنی تین مجموعے ۵-اے ذیلدار پارک کے زیرعنوان تین حصوں میں شائع کیے گئے تھے۔ زیرتبصرہ کتاب ہلکے پھلکے انداز میں علمی نکات اور عملی معاملات پر ایک قیمتی مجموعہ ہے۔ اس سے مولانا مودودی کی شخصیت کے منفرد پہلو، نیز تحریکی جدوجہد کے مختلف مراحل کی روداد بھی سامنے آتی ہے۔ تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب سالہا سال سے چھپتی چلی آرہی ہے۔ اب ناشر نے کتاب کے پہلے اورتیسرے حصے کو شائع کیا ہے، مگر دوسرا حصہ کسی وجہ سے شائع نہیں کیا جاسکا تو انھوں نے تیسرے حصے پر ’دوم‘ لکھ دیا ہے۔ یہ ایک نامناسب بات ہے، اور اس سے قارئین اُلجھن کا شکار ہوں گے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وضاحت کی ضرورت تھی۔ (عمران ظہور غازی)


گوانتانامو میں پانچ سال، مراد کرناز، اُردو ترجمہ: ریاض محمود انجم۔ ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون:۳۵۴۳۴۹۰۹-۰۴۲۔ صفحات: ۲۸۸۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

مُراد کرناز، کی یہ روداد صرف ترک نژاد جرمن نوجوان کی آپ بیتی ہی نہیں بلکہ گوانتانامو جیل میں بدترین تشدد کا نشانہ بننے والے ہزاروں افراد کی رودادِ زندگی بھی ہے۔ تہذیب و تمدن کی دعوے دار عالمی طاقتوں نے افغانستان سے سیکڑوں افراد کو صرف شبہے میں گرفتار کیا اور مجرموں تک پہنچنے کی کوشش میں معصوم شہریوں پر جس قسم کے مظالم توڑے گئے اُس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے قلم کانپ اُٹھتا ہے۔ مُراد کرناز کو ۳ ہزار ڈالر کے عوض فروخت کیا گیا تھا۔ اُس نے ۱۶۰۰ دن اس طرح کاٹے کہ اُسے جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، قیدتنہائی میں رکھا گیا، سونے نہ دیا گیا، انتہائی گرم اور انتہائی ٹھنڈے کمروں میں رہنے پر مجبور کیا گیا، لیکن اُس کا عزم و ارادہ کمزور نہ ہوا۔ وہ  کس جرم کوقبول کرنے کا اعلان کرتا، جب کہ اُس نے کوئی جرم کیا ہی نہیں تھا! گوانتانامو جیل میں قیدیوں پر اس قدر ظلم و تشدد کیا گیا کہ ان میں سے درجنوں قیدی ہلاک ہوگئے اور سیکڑوں کی یہ حالت ہوگئی کہ وہ اپنے آپ کو موت کے شکنجے میں جکڑا ہوا پاتے۔

ریڈکراس کی کوششوں سے پانچ برس بعد مُراد کرناز، اپنے گھر والوں کے درمیان لوٹ آیا۔ مُراد کرناز سے تفتیش کس طرح کی جاتی تھی، اُس کا ایک انداز یہ تھا: ’’اُنھوں نے برقی سلاخ میرے پیروں کے تلووں کے نیچے رکھ دی، بیٹھے رہنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے میرا بدن خود بخود اُچھل رہا ہو۔ میں نے برقی رَو اپنے پورے بدن میں سرایت کرتے ہوئے محسوس کی۔ میں سخت اذیت اور تکلیف میں مبتلا تھا۔ مجھے اپنے بدن میں گرمایش، جھٹکے اور اینٹھن محسوس ہوتی۔ میرا خیال تھا کہ میں اس اذیت میں مر جائوں گا‘‘.... ایک اور قیدخانے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’یہ ایک ایسا قیدخانہ تھا جہاں کسی قسم کی خلوت کا تصور نہ تھا۔ہماری گفتگو پر بھی پابندی تھی اور پھر ایک مضحکہ خیز قانون یہ تھا کہ پہرے داروں سے گفتگو تو درکنار، ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ مزید ستم یہ کہ ہم ریت میں اپنی اُنگلیوں سے کوئی خیالی تصور یا تحریر بھی نقش نہیں کرسکتے تھے بلکہ مسکرانا بھی قوانین کی خلاف ورزی میں شامل تھا‘‘۔ مترجم ریاض محمود انجم کے ترجمے میں طبع زاد تحریر جیسی روانی ہے۔ (محمد ایوب منیر)


تعارف کتب

  • محسن نسواں ، شگفتہ عمر۔ ناشر: دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد۔ صفحات: ۴۰۔ قیمت: ۳۲ روپے۔ [معاشرے میں عورت کا کردار اور اس کے حقوق کا تعین ہمیشہ افراط و تفریط کا شکار رہا ہے۔ فی الواقع محسنِ نسواں اگر کوئی ہستی ہے تو نبی کریمؐ کی ہستی ہے جس نے خواتین کے لیے ہر دائرے میں حقوق و فرائض کی ادایگی میں وہ توازن قائم کیا جس کی نظیر تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ زیرنظر کتابچے میں سرورِعالمؐ کے خواتین پر احسانات کے واقعات کو ۳۷ عنوانات کے تحت دل نشین اور دل کش اسلوبِ بیان میں پیش کیا گیا ہے۔]
  • عباد الرحمن ، پروفیسر الطاف طاہر اعوان۔ ناشر: اذانِ سحر پبلی کیشنز، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ ص ۳۲۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔ [اللہ کے محبوب بندوں کی صفات، عبادات، ذمہ داریوں اور بشارتوں کا بیان۔ اس غرض کے لیے پورے قرآن مجید کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر ایک جامع مطالعہ اپنے جائزے اور عمل کے لیے عباد الرحمن کی صفات کا آئینہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ بقول مؤلف: اس کا مقصد مطالعہ کرنے والے کے دل میں ارتعاش پیدا کرنا اور انقلاب کے لیے تحریک بیدار کرنا ہے۔]

سیّاف محمود ،گوجرانوالہ

اٹھارھویں ترمیم پر ’اشارات‘ (مئی ۲۰۱۰ئ)بہ یک وقت دو قسم کا رنگ لیے ہوئے تھے: پہلا یہ کہ متوازن، جامع، منصفانہ نقطۂ نظر کے حامل، جن پر گروہی تعصب کی پرچھائیں تک نہیں بلکہ توازن کے ساتھ حقائق کو پیش کیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ منتخب اداروں کی کتنی زبردست اہمیت ہے، اگر وہاں پر نمایندگی نہ ہو یا نمایندگی  کم ہو تو ملک و ملّت کے مستقبل کے لیے کیسے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ ایک یادگار تحریر تھی۔


احمد علی محمودی ،حاصل پور

’اٹھارھویں ترمیم- خوش آیند پیش رفت‘ (مئی ۲۰۱۰ئ) اپنے موضوع پر جامع اور مفصل تجزیہ ہے۔ تاہم، اس تحریر کے آخر میں ایک عنوان کے تحت ’جماعت اسلامی کا نقطۂ نظر‘ بھی پیش کیاگیا ہے۔ اس کے مطالعہ اور تحریر کے عنوان کو اگر ہم مدنظر رکھیں تو اٹھارھویں ترمیم کو خوش آیند پیش رفت کا عنوان دینا مناسب نہیں۔  بہت سے اہم نکات کمیٹی کی تائید حاصل نہ کرسکے۔


عائشہ خانم ، ملتان

ترجمان القرآن میں الحمدللہ ، دین کے فہم کے ساتھ معاش اور سماج کے مطالعے کے لیے مفید تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ شمارہ مئی میں خصوصاً ’بھارت اور عالمِ اسلام‘ تو آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ کیا عرب دنیا اس صورتِ حال سے بے خبر ہی رہے گی؟ اسی طرح لوڈشیڈنگ پر بھی اچھا معلوماتی مضمون شائع کیا گیا ہے۔


صفدر حسین ، مری

’اصلاح کا کام کب تک؟‘ (اپریل ۲۰۱۰ئ) ۶۰ سال پہلے کی یہ تحریر مایوسی کی جڑیں کاٹ دینے والی ہے، اور نعیم صدیقی مرحوم کی یاد بھی تازہ ہوگئی۔ ’اسلام اور ماحولیات‘ (اپریل ۲۰۱۰ئ) اپنے موضوع پر ایک  جامع تحریر ہے۔ مضمون پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ماحولیات کا موضوع محض انسانی حقوق کی تنظیموں کا ہی نہیں ہے بلکہ ماحول کا تحفظ اللہ کا نائب ہونے کے ناطے ہرمسلمان کا فرض ہے۔ اُمت مسلمہ کو اس کے لیے اپنا کردار اداکرناچاہیے۔ ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ اسی مضمون میں ترجمہ سورئہ احزاب کا لکھا گیا ہے لیکن حوالہ سورئہ جن کا دیا گیا ہے (ص ۶۵)۔ اسی طرح سورئہ حجرات کی آیت کے ترجمے کے سامنے سورۃ البقرہ لکھا گیا ہے   (ص ۷۴)۔ اگرچہ ایسا سہواً ہوا ہے، تاہم اس حوالے سے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔


حافظ محمد ایوب ، اسلام آباد

مولانا معین الدین خٹک سے ایک بار پوچھا کہ تحریک کے ابتدائی کارکنان کے بارے میں کچھ بتائیں۔ کچھ سوچ کر بولے۔ ۱۹۵۲ء کراچی میں جماعت ِ اسلامی کا اجتماعِ عام منعقد ہوا۔ رفقا کے قافلے بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے جوق در جوق کراچی کی طرف چل پڑے۔ موضع شیخ سلطان ٹانک (سرحد) کے تین ساتھیوں نے جو بے انتہا غریب تھے، اجتماع میں شرکت کا ارادہ کرلیا۔ کسی دوسرے ساتھی سے نہ مالی تعاون لیا اور نہ جماعت کے بیت المال ہی پر بوجھ بنے۔ یہ مذکورہ تینوں ساتھی کراچی کی جانب پیدل چل پڑے۔ ایک آنہ کی دو روٹیاں اور جی ٹی روڈ پر ایسے ہوٹل بھی ہوا کرتے تھے جہاں آنہ روٹی دال مفت بھی مل جایا کرتی تھی۔ دن بھر سفر کرتے، رات کسی مسجد میں نمازِ عشاء کے بعد آرام کرتے اور نماز فجر پڑھ کر سفر جاری رکھتے۔ استقبالیہ کیمپ سہراب گوٹھ لبِ سڑک تھا۔ ناظم استقبالیہ نے آمدہ قافلہ سے دریافت کیا کہ جناب آپ کہاں سے اور کیسے پہنچے؟ جواب سن کر کیمپ میں موجود کارکنان حیران رہ گئے۔ اجتماع گاہ میں قائد تحریک سیدمودودیؒ کو اطلاع  دی گئی۔ مولانا استقبالیہ میں تشریف لائے اور اس قافلے کا خود استقبال کیا۔ اِس قافلے کو قافلۂ سخت جان کا نام سیدصاحب نے دیا۔ ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھ گئے۔ سب کی آنکھوں سے موتی چھلک پڑے: ’’یااللہ! یہ تیرے بندے صرف تیری رضا اور تیرے دین کی بقا کے لیے جوتکالیف اُٹھا رہے ہیں ان کی قربانیوں کو قبول فرما، آمین!

صحیح تصورِ دعوت

جن اصحاب پر دعوت کا یہ تصور اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ واضح نہیں ہے، اُن کو جماعت اسلامی کی بہت سی سرگرمیاں دعوت کے ماورا بلکہ دعوت سے متضاد معلوم ہوتی ہیں، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دعوتِ دین کو  پسِ پشت ڈال کر اسے ایک گونہ کمزور کر کے کچھ دوسرے سیاسی کام کیے جا رہے ہیں۔ اس قسم کے حضرات جماعت اسلامی کی دعوت کے کسی نئے مرحلے میں داخل ہونے پر بہت اُپراتے ہیں کہ یہ کیا ہونے لگا۔ چنانچہ جب جماعت ’مطالبۂ نظامِ اسلامی‘ کی ابتدائی تحریک لے کر آگے چلی تو بھی ان کو کھٹک ہوئی، پھر جب انقلابِ قیادت کی صدا بلند کی گئی تو اُس وقت بھی ان کو الجھن ہوئی، پھر جب شرکتِ انتخاب کا فیصلہ کیا گیا تو بھی ان کو شکایت ہوئی کہ جماعت دین سے سیاست کی طرف لڑھک گئی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس، اب جب ’احتجاجی مظاہرے‘ کا نیا مرحلہ سامنے آیا تو اس پر اِن حضرات کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ کجا دعوتِ اسلامی اور کجا احتجاجی مظاہرے، حالانکہ یہ سب کچھ عین جائز اور حق ہے، اور یہ سب کچھ دعوتِ دین سے الگ نہیں۔

یہ دعوتِ دین کا تصور جب تک درست ہوکر اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ ذہنوں میں جاگزیں نہ ہوگا، ہمارے بہت سے معترضین اور خیرخواہ جماعت اسلامی کے بارے میں صحیح راے قائم کرنے پر قادر نہ ہوسکیں گے۔ خدا جانے کہاں سے یہ عجیب و غریب تخیل بھی دلوں میں آگھسا ہے کہ جو دین کی دعوت دے، وہ بس دعوت ہی دے، کچھ اور نہ کرے۔ ایک داعی جماعت کے لیے یہ جائز نہیں سمجھا جاتا کہ وہ اقتدار پر تنقید کرے یا اُس سے کسی اجتماعی حق کا مطالبہ کرے، یا اُس کے مظالم کے خلاف احتجاج کرے۔ اس نظریے کے لیے خود دین میں کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ درحقیقت یہ بھی ایک نتیجہ ہے، جامد مذہبیت سے متاثر چلے آنے کا...

درحقیقت یہ بات پلّے باندھ لینے کی ہے کہ دعوتِ دین کے معنی یہ ہیں کہ اسلام کے نظام کو برپا کرنے کے لیے جتنے لوازم درکار ہوں ان کو فراہم کیا جائے اور جتنی رکاوٹیں حائل ہوں اُن کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ ان دونوں مقاصد کے لیے جائز حدود میں جو جو کچھ بھی اقدام کیے جائیں گے وہ سب دعوتِ دین کی تعریف میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ اقدام دعوت کو پسِ پشت ڈالنے والا ہے۔ یہ ہے صحیح تصورِ دعوت، اور اس تصورِ دعوت کے ساتھ کام کرنے والی جماعتوں اور تحریکوں کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ (’اشارات‘، ادارہ، ترجمان القرآن، جلد۳۴، عدد ۱،رجب ۱۳۶۹ھ، جون۱۹۵۰ئ، ص ۶-۸)