سوال: شریعت کے مختلف ستون ہیں، مثلاً عبادات، اخلاقیات اور معاملات۔ ان میں ترجیح کس طرح متعین ہوگی؟ مثال کے طور پر ایک شخص عبادات میں بہت اچھا ہے لیکن معاملات اور اخلاقیات بالکل ادا نہیں کرتا تو کیا ایسی صورت میں وہ عبادات کے اجر کا مستحق ہوگا؟ اسی طرح اگر معاملات اور اخلاقیات میں بہت اچھا ہو لیکن عبادات میں کمزور ہو تو کیا اللہ کے نزدیک اس کا رتبہ بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگا؟
جواب: آپ نے اپنے سوال میں عبادات، اخلاقیات اور معاملات کے حوالے سے یہ جاننا چاہا ہے کہ ان میں ترجیح کیا ہوگی، یعنی اگر ایک شخص یہ سمجھتا ہو کہ وہ انسانوں کی خدمت کے خیال سے سیلاب زدگان یا زلزلہ کے متاثرین کا کسی کچی آبادی کے رہنے والوں کی طبی امداد میں لگا ہوا ہے، ان میں کھانا تقسیم کر رہا ہے، اس لیے اذان ہورہی ہے تو ہوتی رہے، وہ بعد میں جب فرصت ہوگی نماز پڑھ لے گا تو کیا اس کا ایسا کرنا شریعت کے اصولوں کی روشنی میں درست ہے؟
یہ بات ہمارے ذہن میں واضح ہونی چاہیے کہ اسلام دو چیزوں سے عبارت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرمشروط اطاعت، اور جس طرح اللہ اور رسولؐ چاہتے ہوں اللہ کے بندوں اور دیگر موجودات کے حقوق کی ادایگی، ان میں نہ کوئی تضاد ہے اور نہ کوئی ابہام۔ فرائض کی اوّلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالت ِ جہاد میں بھی نماز کی پابندی کا حکم ہے۔ گو اس کی شکل بدل جاتی ہے اور بجاے مکمل نماز بیک وقت پڑھنے کے ایک ایک رکعت کی شکل میں اسے ادا کیا جاتا ہے۔ اس طرح کہ پہلے فوج کا ایک حصہ امام کے پیچھے ایک رکعت نماز ادا کرتا ہے، جب کہ دوسرا حصہ دشمن کے مدمقابل حفاظت کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک رکعت ادا کرنے کے بعد سپاہی دشمن کے مدمقابل حفاظت کے لیے چلے جاتے ہیں، جب کہ پہلے سے حفاظت پر مامور سپاہی امام کے پیچھے کھڑے ہوکر ایک رکعت ادا کرتے ہیں۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد دونوں باری باری اپنی بقیہ رکعت ادا کرلیتے ہیں۔ اگر صرف عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوتا تو جان کی حفاظت اور دفاعی ضرورت کے پیش نظر عقل یہی فیصلہ کرتی کہ پہلے اپنی اور دوسروں کی جان بچانے کے لیے میدانِ جہاد میں فتح حاصل کرو۔ اس کے بعد یکسوئی اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا۔ لیکن شریعت کی بنیاد ادلہ (دلیل)، مقصد اور حکمت تینوں پر ہے۔ دلیل قرآن و سنت سے، مقصد شریعت کے اصولوں سے، اور حکمت دین کے فہم کی بنیاد پر تلاش کی جاتی ہے۔ چنانچہ حالتِ جہاد میں نماز کی ایک رکعت کا اس طرح ادا کرنا کہ اسلحہ رکھ دیا ہے اور بقیہ اہلِ ایمان جنگ میں مصروف ہیں اور نمازیوں کی حفاظت بھی کر رہے ہیں عین شریعت، مقاصد اور عقل کے مطابق ہے۔
اخلاق اور معاملات میں کوئی تفریق کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ اسلام میں معاملات کی بنیاد اخلاق پر ہے۔ اخلاق چند نظریاتی باتوں اور اصولوں کا نام نہیں ہے بلکہ عمل کا نام ہے۔ اس بنا پر اُم المومنین سیدہ عائشہؓ نے فرمایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق دیکھنا ہو تو قرآن میں دیکھ لو۔ جو کچھ قرآن نے کہا، آپؐ نے اسے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ڈھال دیا۔ گویا جس طرح اداراتی علوم کے ماہرین تجارتی اخلاقیات پر کتب لکھتے ہیں، جامعات میں پڑھاتے ہیں اور اچھی خاصی فیس لے کر ورکشاپ میں مشق کراتے ہیں، اسی طرح نہ صرف تجارت بلکہ اسلامی نقطۂ نظر سے ہرکام کا ایک اخلاق ہے۔ نماز کا اخلاق خشیت ہے۔ زکوٰۃ کا اخلاق اخفا اور اظہار کے ساتھ دینا ہے۔ لیکن اس طرح کہ وہ کسی پر احسان ہے نہ خیرات بلکہ مستحق کو اس کا حق پہنچانا ہے۔ ایسے ہی جہاد کا اخلاق یہ ہے کہ اسے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس میں نہ نمایش مقصود ہے نہ کسی تمغے کا حصول۔ والدین کے ساتھ اخلاق، ان کے حقوق کی ادایگی ہے۔ ایسے ہی ہمسایہ کے ساتھ اخلاق، اس کے حقوق کی ادایگی ہے۔ گویا اسلام میں تمام معاملات اخلاق کے تابع ہیں۔
ان دو گزارشات کے بعد اگر آپ کے سوال پر غور کیا جائے تو اوّلاً معاملات اور اخلاقیات میں کوئی فرق نہیں ہوسکتا۔ ثانیاً، عبادت اللہ کا بندے پر حق ہے۔ اسی طرح حقوق العباد کا ادا کرنا نہ صرف معاملات بلکہ عبادت کے دائرے میں بھی شامل ہے۔ والدین کے حقوق ہوں یا ہمسایے اور اقربا یا احباب اور دیگر مستحقین کے، ان کی ادایگی کا سبب صرف ایک ہی تو ہے، یعنی رب کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم۔ اس لیے حقوق العباد کی ادایگی عبادت کی طرح اجر کا باعث ہے۔ لیکن عبادات میں بعض فرض ہیں، بعض سنت، بعض سنت مؤکدہ اور بعض نفل۔ ایسے ہی حقوق العباد ادا کرتے وقت یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر نماز کا وقت ہے اور جماعت ۱۵:۶ پر ہے، جب کہ ایک سرجن کو ۵بجے سے سرجری کا آغاز کرتا ہے جو تین گھنٹے جاری رہے گی تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ سرجری کا وقت ۲۵:۶ سے رکھے تاکہ نماز ادا کرنے کے بعد حقوق العباد کی طرف متوجہ ہو یا وہ ایک جان بچانے کے بدلے قضا نماز ادا کرے۔
عام حالاتِ زندگی میں صورت حال، اس کے مقابلے میں بہت آسان ہوگی۔ مندرجہ بالا مثال کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے ایسے کام جو حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں، بہ آسانی اس طرح ادا کیے جاسکتے ہیں کہ فرائض کی ادایگی بھی متاثر نہ ہو اور اللہ کے حقوق کے ساتھ انسانوں کے حقوق بھی ادا کیے جاسکیں۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
س: آج کل خواتین میں ویکسنگ، تھریڈنگ وغیرہ کا رواج عام ہوگیا ہے۔ اس کے بارے میں اسلامی احکامات کیا ہیں؟ کس حد تک جسم کے بالوں کی صفائی کا حکم ہے اور شرعاً اس کے لیے کون سے ذرائع جائز ہیں؟ حوالوں کے ساتھ تفصیل سے بتایئے تاکہ میں لڑکیوں اور عورتوں کو آگاہ کرسکوں۔
ج: اسلام ایسی زیب و زینت جو محض مصنوعی اور جھوٹی ہو، جس میں مرد یا عورت کا اصلی چہرہ اور ساخت تبدیل ہوجائے، کی اجازت نہیں دیتا۔ مرد اور خواتین کا جسم کے غیرضروری بالوں کو صاف کرنا تو فطرتِ انسانی اور انبیاء علیہم السلام کی سنت میں داخل ہے۔ عورت کے سر کے بال چھوٹے ہوں تو انھیں بڑا اور زیادہ دکھلانے کی خاطر، اس کے ساتھ انسانوں، مردوں یا خواتین کے بالوں کو جوڑنا ممنوع ہے، ایسا کرنے والی اور ایسا کرانے والی عورت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایسے جان داروں کے بال جو حلال اور پاک ہوں (مُردار نہ ہوں) جن کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہو کہ یہ عورت کے اپنے بال نہیں ہیں، یا اُون اور دھاگوں کے بنے ہوئے بال پیوند کیے جاسکتے ہیں۔
بھووں کے بڑھے ہوئے بالوں کو بقدرِ ضرورت قینچی سے کاٹا جاسکتا ہے۔ چہرے یا جسم کے کسی حصہ میں سوئی سے گود کر رنگ بھرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ چہرے پر قدرتی چھوٹے چھوٹے بال جو دیکھنے والے کو نظر بھی نہیں آتے ان کو نوچنے اور ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جسم کے باقی حصوں، ہاتھوں، بازووں، سینے اور ٹانگوں اور پیٹھ کے بالوں کو مشین یا کسی دوسری چیز سے صاف کردینے کی اجازت نہیں ہے۔ زینت کی یہ تمام صورتیں جھوٹے میک اپ کا درجہ رکھتی ہیں۔ عورت کے چہرے پر غیرقدرتی اور غیرطبعی بال نکل آئیں، مثلاً بعض خواتین کے چہرے پر ڈاڑھی کی طرح کے کچھ بال ایک جگہ یا مختلف جگہوں پر نکل آئیں تو ان کو نوچنے کی اجازت ہے کیونکہ ان کو نوچنا حسن کی جھوٹی نمایش میں نہیں آتا بلکہ عیب کی اصلاح ہے۔
ویکسنگ اور تھریڈنگ کی وہ تمام شکلیں جو مندرجہ بالا اصولوں کی حدود میں نہ ہوں، مکروہ ہیں اور زیب و زینت کی جھوٹی نمایش اور بناوٹ کے زمرہ میں آتی ہیں۔ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات درج ذیل ہیں:
۱- اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میری ایک لڑکی دلہن بنی ہے اور اسے چیچک نکل آئی ہے، جس کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں۔ کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ بال ملا کر پیوند کردوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بال جوڑنے اور جڑوانے والی پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ (مسلم، کتاب اللباس والزینۃ)
۲- ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے اور جڑوانے والی اور گودنے اور گودوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (مسلم)
۳- عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گودنے والی اور گدوانے والیوں، بالوں کو نوچنے والیوں، نچوانے والیوں اور خوبصورتی کی خاطر دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں، اللہ کی خلقت میں تبدیلی کرنے والیوںپر لعنت کی ہے۔ (مسلم)
۴- بالوں کو بنانے، ویکسنگ اور تھریڈنگ غیرمحرم مردوں یا آزاد منش عورتوں سے کرانا بھی مکروہ فعل ہے۔ زیب و زینت کی معروف صورتیں سرخی، سرمہ مہندی، جب کہ حُسن کا گھر کی چار دیواری سے باہر بے پردگی کے ساتھ مظاہرہ نہ ہو، جائز ہیں۔
امید ہے آپ بچیوں کو تعلیم و تربیت دے کر اسلامی تہذیب کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گی اور زیب و زینت کے لیے نیک اور پابند صوم و صلوٰۃ اور اسلامی حجاب سے مستور خواتین کے ادارے قائم کریں گی۔(مولانا عبدالمالک)
س: ’رسائل و مسائل‘ میں ’سود پر قرض کے لیے تصدیق کرنا‘ (اکتوبر ۲۰۱۰ئ) کے تحت جواب سے ایک اُلجھن پیدا ہوگئی ہے۔ اگر سنار یا فرد تقسیم فراہم کرنے والا شخص محض تصدیق کرتے ہیں اور سود پر قرض لینے والے کو تنبیہہ کرتے ہیں تو وہ گناہ گار نہ ہوں گے، لیکن جب یہ واضح ہو کہ سونے کے زیور یا فرد تقسیم کی تصدیق سود پر قرض لینے کے لیے کروائی جارہی ہے اور اس غرض کے لیے بنک نے ان کا تقرر کیا ہو تو اس موقع پر محض تنبیہہ کرنے کا کیا فائدہ؟ کیا یہ سود کے عمل میں شرکت نہیں ہے؟
ج: ایک صورت تو یہ ہے کہ جب ایک آدمی پٹواری سے زمین کی فرد نکلوائے اور تصدیق کروائے، اسی طرح سونے کے کھرا کھوٹا ہونے کی تصدیق کسی سنار سے کروائے، اس کے بعد بنک کو قرض کی درخواست دے۔ اس صورت میں سودی قرض لینے کا آغاز مذکورہ کارروائی کے مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ لہٰذا تصدیق کنندگان گناہ گار نہیں ہوں گے۔ اس کے بجاے اگر کوئی شخص درخواست پہلے دے اور پھر بنک اسے ہدایت کرے کہ تصدیقات کروا کر لے آئے، تو ایسی صورت میں سودی سلسلے کا آغاز تصدیقات سے پہلے شروع ہوگیا اور تصدیقات سودی قرض کے معاملے کے آغاز اور انتہا کے درمیان میں واقع ہوگئیں۔ اس صورتِ حال میں جواب یہ ہے کہ جب تصدیقات کرنے والوں کو علم ہے کہ یہ تصدیقات سودی قرض لینے کے لیے ہیں بلکہ ان کا تقرر ہی بنک کی طرف سے اس غرض کے لیے کیا گیا ہے تو ان کا تصدیق کرنا اور اس غرض کے لیے بنک کا دلال اور مددگار بننا سودی کاروبار میں شرکت ہے۔ ہمارے پہلے جواب کا تعلق پہلی صورت سے ہے۔ واللّٰہ اعلم! (ع - م )
س: ’رسائل و مسائل‘ (اگست ۲۰۱۰ئ) کے ضمن میں صلوٰۃ التسبیح کی باجماعت ادایگی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر نمازِ تہجد اتفاقاً بغیر کسی پروگرام کے باجماعت ادا کی جائے تو بلاکراہت جائز ہوگی۔
ہم مشرق وسطیٰ میں قیام پذیر ہیں اور یہاں پر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں باقاعدہ پروگرام کے تحت قیام اللیل (تہجد) کا باجماعت اہتمام ہوتا ہے، نیز تحریکی حلقوں میں بھی شب بیداری کے پروگرام کے آخر پر قیام اللیل باجماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کیا یہ قیامِ لیل درست ہے؟ مزید یہ کہ یہ راے کسی ایک مسلک کی ہے یا ائمہ اربعہ کا اس پر کوئی فتویٰ ہے؟
ج: امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا معروف مسلک یہ ہے کہ نوافل کی جماعت، جب کہ اس کے لیے باقاعدہ پروگرام ترتیب دے کر لوگوں کو جمع کیا گیا ہو، مکروہ تنزیہی ہے۔ یہ حکم دونوں قسم کی جماعتوں کو شامل ہے، یعنی مردوں کی نوافل میں جماعت اور خواتین کی نوافل میں جماعت دونوں مکروہ تنزیہی ہیں۔ مکروہ تنزیہی خلاف اوّل کے قریب ہے۔ لیکن امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور فقہا احناف میں سے بعض فقہا کے نزدیک نوافل کی جماعتیں بلاکراہت جائز ہیں، جب کہ ان کو معمول نہ بنایا جائے بلکہ کبھی کبھار پڑھی جائیں۔
اس قول کے مطابق شب بیداری اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں قیام اللیل کی خاطر جماعت بلاکراہت جائز ہے۔ البتہ صلوٰۃ التسبیح میں قراء ت کے ساتھ تسبیحات بھی جہراً پڑھنا یہ نمازوں کے آداب اور طریقے کے خلاف ہے۔ نماز میں رات کے وقت صرف قراء ت اُونچی آواز سے پڑھی جاسکتی ہے اور دن میں قراء ت بھی سراً پڑھی جاتی ہے اور تسبیحات تو بہرحال سراً پڑھی جاتی ہیں۔
صلوٰۃ التسبیح کی ادایگی کے ضمن میں گذشتہ جواب (رسائل و مسائل، اگست ۲۰۱۰ئ) میں اختصار کے سبب جو اشکال پیدا ہوتا ہے مندرجہ بالا وضاحت سے ان شاء اللہ رفع ہوجائے گا۔ واللّٰہ اعلم! (ع - م )
قرآنِ حکیم شریعت ِ اسلامیہ کا مصدر اوّل ہونے کے اعتبار سے اُمت مسلمہ کے لیے ایک اٹل قانون ہے۔ اس الٰہی قانون کی حُرمت کو دانستہ یا نادانستہ توڑنا اُمت کے لیے باعث ِ ہلاکت ہے اور اس کو حرزِجاں بنالینا عروج و نجات کا مژدئہ جاں فزا۔ علامہ یوسف القرضاوی کی عربی تالیف کیف نتعامل مع القرآن الکریم (ہم قرآن پر عمل کیسے کریں؟) اسی حقیقت کا بیان ہے۔ انھوں نے قرآن حکیم کی عظمت و حفاظت، جمع و تدوین، اس کی تلاوت و تعلیم کے آداب و فضیلت، قرآن حکیم کے اعجاز و تفوق سے اپنی بات کو شروع کر کے عقیدہ و عمل کے بیان کے ساتھ ساتھ حقوق و فرائض اور معاملاتِ انسانی کے لیے قرآنی ہدایت کو پیش کیا ہے۔ تلاوتِ قرآن مجید کے انسانی زندگی پر اثرات کو خصوصاً بیان کیا گیا ہے۔ انسانی زندگی کے دستور و منشور کے طور پر قرآنِ مجید کی فرد اور معاشرے کے لیے ہدایات بھی بیان کی گئی ہیں۔ انفرادی و اجتماعی معاملات کے ساتھ حکومت و سیاست اور دعوت و ارشاد کے نکات بھی زیربحث آئے ہیں۔
پروفیسر خورشیداحمد صاحب ’پیش لفظ‘ میں لکھتے ہیں: یہ اُردوخواں طبقے کے لیے ایک بڑا قیمتی علمی تحفہ ہی نہیں زندگی کو قرآن کے سایے تلے گزارنے کے لیے نسخۂ عمل بھی ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے قرآن کے پیغام کو بڑے مؤثر انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ پوری زندگی کا نقشۂ کار قاری کے سامنے آجاتا ہے۔ (ص ۱۸)
ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب نے اس کتاب کو اپنی تحقیق و تعلیق اور تلخیص و تجزیہ کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کتاب بہت مفید اور اہم ہے لیکن یہ کمی رہ گئی ہے کہ ۲۷۸ صفحات کی کتاب میں ابواب بندی واضح نہیں جس سے قاری کو مطالعے کے دوران دقت پیش آتی ہے۔اسی طرح مصنف کے متن اور مترجمہ کی تحقیق و تعلیق کے درمیان بھی کوئی امتیاز نہیں ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)
امام محمد بن اسماعیل بخاری (۱۹۴ھ-۲۵۶ھ) نے لاکھوں احادیث میں سے چند ہزار احادیث کو اپنی قائم کردہ شرائط پر پرکھ کر فقہی ترتیب کے مطابق یک جا کیا ہے۔ بخاری کی الجامع الصحیح میں بار بار آنے والی احادیث کے بغیر احادیث کی تعداد تقریباً ۴ہزار ہے۔ امام بخاری کا یہ تکرارِ حدیث ایک حدیث سے متعدد مسائل اخذ کرنے کی بنا پر ہے۔ عنواناتِ ابواب سے امام بخاری کی فقہی بصیرت اور وسیع نظری کا اظہار ہوتا ہے۔
زیرنظر کتاب میں بخاری کی مکرر احادیث کو چھوڑ کر احادیث کا مفہومی ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ ترتیب اصل کتاب کے مطابق ہے، البتہ احادیث کی اسناد اور ابواب کے عنوانات حذف کردیے گئے ہیں۔ طویل اور مفصل احادیث کے مضامین کو مختصر کیا گیا ہے۔ مؤلف نے اتنی بڑی فنی کتاب کے مفہوم کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے بڑی محنت کی ہے اور اپنی حد تک کتاب کو عام فہم بنانے کی پوری سعی کی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بخاری کی اصل اہمیت اس کی ’صحت‘ کے ساتھ ساتھ اس کے اخذِ مسائل کے پہلو سے بھی ہے، لہٰذا امام کے اخذِ مسائل کو نظرانداز کرکے اس سے بہتر عنوانات قائم کرنا کارے دارد ہے۔ حذفِ تکرار کی بنا پر بعض ضروری باتیں بھی شامل ہونے سے رہ گئی ہیں۔ عنوانات کی تبدیلی نے بھی بہت سے ابہامات پیدا کردیے ہیں۔ عنواناتِ ابواب کی تبدیلی سے بعض احادیث سے اخذ کردہ امام کے بہت اہم مسائل نظرانداز ہوکر رہ گئے ہیں۔ باریک خط اور اغلاط کی کثرت سے بھی کتاب کی ساکھ متاثر دکھائی دیتی ہے۔ بخاری پر ہونے والا کوئی بھی کام امام بخاری کے ذاتی حزم و احتیاط کے پیش نظر پوری دقت نظر سے انجام دیا جانا چاہیے۔ (ا- ر)
احیاے اسلام کے لیے تحریکیں بھی اُٹھیں اور انفرادی مساعی بھی کی گئیں۔ بیسویں صدی میں تو یہ موضوع یونی ورسٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کا نصاب بن گیا۔ بہت سے علما و اساتذہ نے اس پر قلم اٹھایا۔ ان میں سے ایک کاوش بغداد یونی ورسٹی کے شعبۂ اسلامیت کے سابق صدر ڈاکٹر عبدالکریم زیدان کی اصول الدعوۃ (اصولِ دعوت) کے نام سے سامنے آئی۔ مصنف نے دعوتِ اسلام پر اظہارِ خیال سے پہلے اسلام کا ایک جامع تعارف پیش کر کے دعوت کے جواز بلکہ فرضیت کو ثابت کیا ہے۔ کتاب کا نصف سے زیادہ حصہ اسلام کے معنی و مفہوم، مدعا و مقصود اور طریق و نظام کی وضاحت پر مشتمل ہے۔ اسلام کی تعریف، خصوصیات، اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے اسلام کی تعلیمات (اخلاق، معاشرت، اِفتا و احتساب، حکومت، معیشت، جہاد اور عدالت) پہلے باب کا موضوع ہے، جو قریباً ۴۸۰ صفحات پر محیط ہے۔ اس کے بعد دعوت کا موضوع چار ابواب قریباً ۳۰۰صفحات میں سمیٹا گیا ہے۔ داعی کا مفہوم، صفات، معاونات، اخلاق، دعوت کے مخاطبوں کی اقسام اور ان کی نفسیات پر دوسرے اور تیسرے باب میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ چوتھے اور پانچویں باب میں دعوت کے اسالیب، طریقوں اور وسائل کا بیان ہے۔ ان ابواب میں مرض کی تشخیص و علاج اور مخاطبینِ دعوت کے شبہات اور ان کے ردّ اور ازالے کا طریقِ کار بتایا گیا ہے۔
کتاب کی جامعیت، افادیت اور اہمیت کا اندازہ پہلے باب کے مطالعے ہی سے ہوجاتا ہے کہ مصنف نے اختصار مگر ٹھوس دلائل اور ضروری تفاصیل کے ساتھ اسلام کا تعارف کرایا ہے۔ اختصار کے باوجود ہرپہلو اور موضوع کی جزئیات تک کا احاطہ مصنف کی وسیع نظر اور موضوع پر دسترس کا اظہار ہے۔ کارکنان کے ساتھ ساتھ مربی حضرات بالخصوص قائدین تحریک کے لیے اس کتاب کا مطالعہ غوروفکر کے کئی گوشے وا کرے گا۔ مترجم نے بڑی محنت سے مباحث کو آسان بناکر پیش کیا ہے۔(ا- ر)
اُردو ادب میں خاکہ نگاری ایک مستقل صنفِ نثر کی حیثیت رکھتی ہے مگر بہت سی دوسری اصناف (ناول، ڈراما، آپ بیتی، نظم وغیرہ) کی طرح خاکہ نگاری کی حتمی تعریف بھی متعین نہیں ہے، تاہم جو مضمون کسی معروف یا غیر معروف شخصیت پر لکھا جائے، اور وہ شخصیت خواہ کسی بھی شعبۂ حیات سے متعلق ہو اور مضمون طویل ہو یا مختصر___ وہ خاکہ کہلاتا ہے۔
زیرنظر کتاب کے ۴۰ خاکوں میں سے بعض (اخترشیرانی: ۱۲ص۔ سیدابوالاعلیٰ مودودی: ۱۷ص)، تو مائل بہ طوالت نظر آتے ہیں مگر بحیثیت مجموعی مصنف اختصارپسند ہیں (حسین احمد مدنی: ۲/۱ ۲ص۔ مولانا احمد سعید دہلوی: ۴/۱ ۲ص۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ۴/۱ ۲ص) ۔تین تین یا چارچار صفحات میں پیش کردہ جھلکیاں بھی قاری پر بعض شخصیات کا دیرپا نقش مرتسم کرتی ہیں۔ اس میں حکیم محمود احمد برکاتی کی سادہ اور بامحاورہ زبان اور دل کش اسلوب کو دخل ہے۔ کسی شخص سے ان کا جتنا واسطہ رہا، یا کسی شخصیت میں انھیں کوئی خاص بات نظر آئی، یا انھوں نے کسی کو جتنا کچھ دیکھا___ ان کا بیان اسی کے بقدر اکتفا کرتا ہے۔ برکاتی صاحب کے ان خاکوں کو دل چسپ واقعات، طرزِ بیان کی سادگی، جامعیت اور اثرانگیزی کے اعتبار سے ’گُہرپارے‘ کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔ یادوں کی اس بازیافت میں (سرورق پر عنوانِ کتاب کے ساتھ ’بھولتی یادیں‘ کی وضاحت درج ہے۔) چار شہروں (ٹونک، اجمیر، دہلی، کراچی) کی معروف اور غیرمعروف معاصر شخصیات سے ملاقاتوں اور باتوں کا ذکر ملتا ہے۔
برکاتی صاحب کی منصف مزاجی نے افراد و شخصیات کی شخصی خوبیوں کے ساتھ، اُن کی بعض خامیوں کا بھی مختصراً ذکر کر دیا ہے مگر ایسے مہذب لب و لہجے میں کہ کسی خامی کے ذکر سے متعلقہ شخصیت مجروح نہیں ہوتی۔ اس کتاب کے مرتب ڈاکٹر مظہرمحمود شیرانی کے بقول: یہ چند ’’یادگار زمانہ لوگوں کی قلمی تصویریں ہیں‘‘ (ص ۵)۔ مصنف نے ان قلمی تصویروں میں بعض باکمال لوگوں کو گوشۂ گم نامی سے نکال کر (صفحۂ قرطاس پر ہی سہی) زندگی بخش دی ہے۔
مولانا حکیم محمود احمد برکاتی، ایک جیّد عالمِ دین، اور بلندپایہ محقق ہیں مگر شگفتہ بیانی ان کے دل کش اسلوب کا نمایاں وصف ہے جو قاری کو مجبورکرتی ہے کہ ان خاکوں کو مسلسل پڑھتا جائے۔
محمود احمد عباسی کا خاکہ عبرت انگیز ہے۔ خلاصہ یہ کہ عباسی عربی جانتے تھے نہ فارسی۔ انھیں کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ وہ دل سے یزید دوست اور شیعہ دشمن نہیں تھے۔ دانستہ یا نادانستہ کسی اسلام دشمن تحریک یا طاقت کا آلۂ کار تھے اور افتراق بین المسلمین کی مہم میں سرگرم تھے۔ اسی طرح یہ کہ نیاز فتح پوری کی دین دشمنی کی مہم میں، ان کی حوصلہ افزائی اور مدد کیا کرتے تھے (ص۱۶۳)۔ برکاتی صاحب، مولانا حسین احمد مدنی کے کانگریسی نقطۂ نظر کے مخالف مگر ان کے حُسنِ اخلاق کے مدّاح ہیں۔ کہتے ہیں مولانا مدنی نے تحریکِ پاکستان کی مخالفت کی لیکن جب پاکستان بن گیا تو پھر اس کی ترقی کے لیے پُرخلوص طور پر خواہش مند رہے (ص۹۳)۔ بحیثیت مجموعی کتاب بہت دل چسپ، نہایت معلومات افزا اور سبق آموز ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
اسلامی نظامت تعلیم، پاکستان میں نظامِ تعلیم کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کی داعی ہے اور زیرنظر کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ کتاب پہلی جماعت سے انٹرمیڈیٹ سطح تک کے طلبہ کے لیے کلامِ اقبال سے ایک انتخاب ہے۔ اس کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ ۱۲ سال کی عمر تک کے طلبہ، دوسرا حصہ ایلیمنٹری جماعتوں کے طلبہ اور تیسرا حصہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح کے طلبہ کے لیے ہے۔ مرتبین نے کلامِ اقبال کے انتخاب میں طلبہ کی ذہنی سطح کا خیال رکھا ہے۔ ہر نظم کے متن کے ساتھ اس کا مختصر تعارف اور مشکل الفاظ کے معانی بھی دیے گئے ہیں جس سے کلامِ اقبال کی تفہیم کسی قدر آسان ہوگئی ہے۔ کلامِ اقبال اساتذہ کے لیے ایک معاون کتاب ہے۔ ابھی مزید مشکل الفاظ و معانی شامل کرنے اور شعروں کی تشریح کرکے، تفہیم کو سہل بنانا ضروری ہے۔
ابتدائی جماعتوں اور انٹر کے طلبہ کی ذہنی سطح میں خاصا فاصلہ ہوتا ہے۔ اس لیے مناسب ہوتا کہ یہ انتخاب الگ الگ شائع کیا جاتا۔ الفاظ و معانی کے ساتھ تراکیب کی توضیحات اور بعض تلمیحات کا پس منظر بھی واضح کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مضامین کے اختتام پر حیاتِ اقبال کے اہم اور دل چسپ واقعات کے اقتباسات دینے کی گنجایش تھی جس سے کتاب کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
دعوتِ دین، درسِ قرآن اور ایک مربی کی حیثیت سے تحریکی حلقوں میں ڈاکٹر فرحت علی برنی (م: اگست ۲۰۰۹ئ) ایک معروف نام ہے۔ سعودی عرب، خلیجی ممالک، یورپ اور امریکا میں آپ کے دروس قرآن سے بذریعہ کیسٹ ہزاروں لوگوں نے استفادہ کیا ہے۔ مرحوم انڈسٹریل انجینیرنگ میں پی ایچ ڈی تھے۔ کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی، جدہ سے وابستہ رہے۔ اور ۲۰۰۳ء میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد امریکا چلے گئے مگر زندگی کے آخری ایام اسلام آباد میں گزارے۔ آپ نے تمام عمر قرآن کے پیغام کو عام کرنے اور احیاے اسلام کی جدوجہد میں گزاری۔یوں وہ ان سعید روحوں میں سے تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔
ڈاکٹر فرحت علی برنی بہترین مقرر تھے اور مؤثر درسِ قرآن دیتے تھے۔ زیرنظر کتاب سورئہ حم السجدہ کی سات آیات (۳۰-۳۶) پر مبنی ایک درسِ قرآن ہے۔ آیاتِ قرآنی کا پس منظر، اہم نکات، قرآن و حدیث سے استدلال کے ساتھ آیات کا فہم واقعاتی انداز میں پیش کرتے ہوئے حالاتِ حاضرہ پر آیات کا انطباق اور درپیش مسائل پر رہنمائی دی گئی ہے، نیز تحریکی تقاضوں کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔ اسلوبِ بیان عمدہ ہے اور قدیم و جدید علوم کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ استقامت کی مثالوں میں امام مالکؒ اور امام حنبلؒ کے ساتھ ساتھ مولانا مودودیؒ اور سید قطب شہیدؒ کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ مرتب نے ڈاکٹر صاحب کے علمی ورثے کو افادۂ عام کے لیے وضاحتی حاشیوں اور حوالوں کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا ہے اور دیگر کیسٹوں کو کتابی صورت میں لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ تحریکی لٹریچر میں یہ ایک مفید اضافہ ہے۔ (امجد عباسی)
کالجوں اور یونی ورسٹیوں سے عام طور پر دو طرح کے مجلات شائع ہورہے ہیں۔ کالجوں کے رسالوں میں بالعموم طلبہ اور طالبات کی نگارشات (افسانے، ڈرامے، مزاحیہ مضمون، نظمیں، غزلیں، ادبی سرگرمیاں، کھیلوں وغیرہ کی رودادیں) شائع ہوتی ہیں۔ یونی ورسٹی کے مجلات کا مزاج تحقیقی اور تنقیدی ہوتا ہے اور انھیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے معیار پر شائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دارارقم ماڈل کالج راولاکوٹ آزاد کشمیر کے ضخیم مجلے ارقم میں متذکرہ بالا دونوں نوعیتوں کی تحریروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر، ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اور ڈاکٹر ظفرحسین ظفر کے مضامین ہائر ایجوکیشن کمیشن کے معیار پر پورے اُترتے ہیں۔ البتہ مجموعی طور پر اور مقداری اعتبار سے بھی رسالے میں طلبہ و طالبات کی نگارشات کا پلّہ بھاری ہے۔ طالب علمانہ معیار کے لحاظ سے یہ تحریریں اچھی ہیں اور لکھنے والوں کے روشن مستقبل کی غماز ہیں۔ انگریزی رسالے میں طلبہ و طالبات کی خاصی بڑی تعداد کی انگریزی نظمیں، انگریزی کے روزافزوں اثرات (تسلط) کا ایک نتیجہ ہے۔ ایک گوشہ کلامِ اقبال فارسی کے مترجم عبدالعلیم صدیقی مرحوم کے لیے اور ایک گوشہ کشمیری مزاح نگار کبیرخان کے لیے مختص ہے۔ کتابوں پر تبصرے بھی شامل ہیں اور کالج کے اساتذہ اور رسالے کے مدیران کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں کی تصویریں بھی شامل ہیں۔ (قاسم محمود احمد)
’اسلامی تحریکات کے لیے طریق کار‘ (اکتوبر ۲۰۱۰ئ) میں مولانا مودودیؒ کے قلم سے مسلمان ممالک اور اُمت مسلمہ کا جو تجزیہ کیا گیا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی صاحب فکرونظر نے ۲۱ویں صدی کے مسلم ممالک کا حال لکھ دیا ہے۔ بعدازاں اسلامی تحریکوں اور ان کے کارکنوں کے لیے مولاناؒ نے جو لائحہ عمل تجویز کیا ہے، وہ بھی سنہرے حروف سے لکھنے جانے کے قابل ہے۔ آج نصف صدی سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد اسلامی تحریکوں کو ان معیارات پر اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم نے عوام کے ایک بڑے طبقے کو اسلامی نظام کی ضرورت اور اہمیت کا قائل کر کے اس کے لیے عملی جدوجہد پر تیار کرلیا ہے؟ کیا ایسا تو نہیں کہ آج اسلامی نظام، نظام کی تبدیلی کی جدوجہد میں زیربحث ہی نہ رہا ہو؟ آج بھی نظام کی تبدیلی کے نعرے اور دعوے تو کیے جارہے ہیں، لیکن اسلامی نظام ہی ملک اور عوام کے مسائل کا اصل حل ہے___ اس پر جس شدت سے زور دیا جانا چاہیے، اس کی کمی محسوس ہورہی ہے۔
’زائر حج___ حرمین میں‘(اکتوبر ۲۰۱۰ئ) حج کے مختلف سفرناموں سے حج کے مراحل___ خانہ کعبہ پر پہلی نظر سے لے کر روضۂ رسولؐ پر حاضری تک کی کیفیات اور آخر میں خدا کی حقیقی بندگی کی دعوت جو کہ حج کی اصل غرض و غایت ہے، کی طرف توجہ کا اس عمدگی سے تذکرہ کیا گیا ہے کہ قاری اپنے آپ کو حرمین میں موجود پاتا ہے۔ ’استحکامِ پاکستان اور قوم کی ذمہ داری‘، پروفیسرمحمد منور مرزا کی تحریروں میں سے اچھا انتخاب ہے اور ملکی استحکام کے لیے قوم کے کردار کو بخوبی اُجاگر کیا گیا ہے۔ ’اسلام سے انحراف کا اختیار‘ میں سیکولر اور لادین طبقے کی علمی بدیانتی اور ذہنیت پر بروقت گرفت کی گئی ہے۔
ہمارا ملک جس انتشار سے دوچار ہے اس کا تقاضا ہے کہ داعیانِ اسلام باہمی اختلافات اور تعصبات کو نظرانداز کرتے ہوئے قوم کو چند منکرات کے خاتمے اور چند معروف کے قیام کے لیے متحد کرنے کا بیڑا اُٹھائیں۔
’مجالسِ حرم‘ (اکتوبر ۲۰۱۰ئ) میں ترکی کے حالات سے آگہی ہوئی۔ یہ امرخوش آیند ہے کہ اسلامی تحریک کے حامی لوگوں کے دورِ اقتدار میں ملک نے مروجہ پیمانوں پر ترقی کا سفر بھی جاری رکھا ہے (ص ۸۲)، اور اپنے آپ کو عوام کی نظروں میں اقتدار اور اُس کی ذمہ داریوں کا اہل ثابت کیا ہے۔ اسی طرح ریفرنڈم میں ۵۸ فی صد ووٹوں کا حصول بھی جمہوری انقلاب کی بڑی واضح مثال ہے۔ مقصد کے حصول کے لیے جو جدوجہد ۱۹۷۰ء میں شروع ہوئی اور آج ۲۰۱۰ء میں کئی ناموں اور قائدین کی تبدیلی اور مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اہم اہداف کے حصول پر منتج ہوئی ہے۔ یقینا ترکی کے مخصوص پس منظر میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس تناظر میں ہمارے ملک کی اسلامی تحریک کے لیے بھی سبق ہے۔ کیا ہم بھی اپنے آپ کو عوام کے اعتماد کا حق دار ٹھیرا چکے ہیں، یا کسی مرحلے پر عوام میں ہم بھی زیربحث ہیں کہ اس ملک میں ترقی اور تبدیلی کا سفر اسلامی تحریکوں کے ساتھ چل کر ہی طے ہوسکتا ہے؟
امریکی سامراج کی اُمت مسلمہ کے خلاف سازشوں کے مختلف حربوں میں سے ایک حربہ فرقہ واریت کو ہوا دینا اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ گذشتہ دنوں صوفیاے کرام کے مزاروں پر حملے اسی سازش کا شاخسانہ ہیں۔ امریکا کی اس سازش کو قومی یک جہتی سے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی قیادت چند بنیادی نکات پر اتفاق راے اور ملّی یک جہتی کا مظاہرہ کرے۔
مولانا معین الدین خٹک سے ایک بار پوچھا کہ تحریک کے ابتدائی کارکنان کے بارے میں کچھ بتائیں۔ کچھ سوچ کر بولے۔ ۱۹۵۲ء کراچی میں جماعت ِ اسلامی کا اجتماعِ عام منعقد ہوا۔ رفقا کے قافلے بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے جوق در جوق کراچی کی طرف چل پڑے۔ موضع شیخ سلطان ٹانک (سرحد) کے تین ساتھیوں نے جو بے انتہا غریب تھے، اجتماع میں شرکت کا ارادہ کرلیا۔ کسی دوسرے ساتھی سے نہ مالی تعاون لیا اور نہ جماعت کے بیت المال ہی پر بوجھ بنے۔ یہ مذکورہ تینوں ساتھی کراچی کی جانب پیدل چل پڑے۔ ایک آنہ کی دو روٹیاں اور جی ٹی روڈ پر ایسے ہوٹل بھی ہوا کرتے تھے جہاں آنہ روٹی دال مفت بھی مل جایا کرتی تھی۔ دن بھر سفر کرتے، رات کسی مسجد میں نمازِ عشاء کے بعد آرام کرتے اور نماز فجر پڑھ کر سفر جاری رکھتے۔ استقبالیہ کیمپ سہراب گوٹھ لبِ سڑک تھا۔ ناظم استقبالیہ نے آمدہ قافلہ سے دریافت کیا کہ جناب آپ کہاں سے اور کیسے پہنچے؟ جواب سن کر کیمپ میں موجود کارکنان حیران رہ گئے۔ اجتماع گاہ میں قائد تحریک سیدمودودیؒ کو اطلاع دی گئی۔ مولانا استقبالیہ میں تشریف لائے اور اس قافلے کا خود استقبال کیا۔ اِس قافلے کو قافلۂ سخت جان کا نام سیدصاحب نے دیا۔ ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھ گئے۔ سب کی آنکھوں سے موتی چھلک پڑے: ’’یااللہ! یہ تیرے بندے صرف تیری رضا اور تیرے دین کی بقا کے لیے جوتکالیف اُٹھا رہے ہیں ان کی قربانیوں کو قبول فرما، آمین!
اب یہ صاف نظر آرہا تھا کہ ہندستان کی تاریخ کا وہ عارضی دور عن قریب ختم ہونے والا ہے جس میں ایک بیرونی قوم کے مٹھی بھر افراد یہاں حکومت کر رہے تھے اور وہ مستقل دور شروع ہونے والا ہے جس میں واحد قومیت، جمہوریت اور لادینی کے اصولوں پر اسی ملک کی اکثریت یہاں حکومت کرے گی۔ اس موقع پر ہمارے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ اس آنے والے دور کے خطرات مسلمانوں کے سامنے صاف صاف کھول کر پیش کردیں، کیونکہ ہمارے سامنے یہ بات بالکل واضح تھی کہ اس نظام میں کوئی آئینی تحفظ مسلمانوں کو اور ان کی تہذیب کو اکثریت اور اس کی تہذیب میں گم ہونے سے نہ بچا سکے گا۔ اس صورت میں ہمارے لیے اپنے نصب العین کا حصول اگر ناممکن نہیں تو نہایت دشوار ضرور ہوجائے گا۔ چنانچہ اسی خطرے کو محسوس کر کے ۱۹۳۷ء سے ۱۹۳۹ء تک مسلسل تین سال ان صفحات میں وہ مضامین لکھے جاتے رہے جو مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش حصہ اوّل و حصہ دوم اور ’مسئلہ قومیت‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان مضامین میں ہم نے مسلمانوں کو یہ احساس دلایا کہ اگر انھوں نے واحد قومیت کا اصول تسلیم کرکے ایک جمہوری لادینی نظام کے قیام کو قبول کرلیا تو یہ ان کے لیے خودکشی کا ہم معنی ہوگا۔
ہمیں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ان تین سالوں کے دوران میں مسلمانوں کے اندر کانگریسی نظریے کا زوال اور اپنی جداگانہ قومیت کے احساس کا نشوونما جو کچھ بھی ہو ا، وہ ہماری ان کوششوں کا نتیجہ تھا، مگر اس بات سے شاید ہمارا کوئی مخالف بھی سچائی کے ساتھ انکار نہیں کرسکتا کہ نتیجے کے ظہور میں کچھ ہماری کوششوں کا دخل بھی تھا۔ (’اشارات‘ سید ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۳۵، عدد۱، محرم ۱۳۷۰ھ، نومبر ۱۹۵۰ئ، ص۶-۷)