سوال: آج کل خلیجی ممالک اور پاکستان سے بہت سے لوگ آسٹریلیا اور کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ نقل مکانی کی بنیادی وجہ روزگار کے بہتر مواقع، تعلیم اور صحت کی بہتر سہولتیں ہیں۔ اس ضمن میں چند باتیں وضاحت طلب ہیں:
۱- پاکستان یا سعودی عرب سے آسٹریلیا یا کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے جانا اسلامی نقطۂ نظر سے کیسا ہے؟ کیا یہ دارالاسلام سے دارالکفر کی طرف جانا ہے؟ شرعی اعتبار سے اِس نقل مکانی کی کیا حیثیت ہے؟
۲- کوئی شخص جو آسٹریلیا یا کینیڈا کی شہریت حاصل کرنا چاہتا ہے، اُس کا مقصد وہ سب دنیاوی فوائد حاصل کرنا ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے ،لیکن ساتھ ساتھ اُس کے دل میں یہ مصمم ارادہ ہے کہ وہ وہاں جاکر غیرمسلم معاشرے میں دعوتِ دین کا کام بھی کرے گا، تو کیا اُسے وہاں جانا چاہیے؟
۳-کیا ان ممالک میں جا کر رہایش اختیار کرلینا، یا اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنا تحریکِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مناسب ہے یا نہیں؟
۴- ایسی انٹرنیشنل کمپنیوں میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی ہیں، ملازمت کرنا کیسا ہے؟
جواب: رزق حلال کی تلاش میں ملک کے اندر یا ملک سے باہر جاکر ملازمت کرنا میری ناقص معلومات کی حد تک نہ کبھی حرام تھا نہ حرام ہونا چاہیے، لیکن جو سوال آپ نے اٹھائے ہیں وہ اس لحاظ سے اہم ہیں کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے سیاق میں ایک ایسے مسلمان کے لیے جو تحریکِ اسلامی سے وابستہ ہو، کیا یہ عمل عزیمت کا ہوگا؟ پہلے تو یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ کیا دارالکفر سے ہرقسم کا معاشی تعلق حرام ہے یا دورِ خلافت ِ راشدہ میں غیرمسلم علاقوں میں مسلمان تاجر جاتے تھے، قیام کرتے تھے اور اپنا سامان فروخت کرتے اور وہاں کا سامان لاکر دارالاسلام میں تجارت کے لیے استعمال کرتے تھے؟
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے تجارتی تعلقات دنیا کے بہت سے مقامات پر تھے۔ جزائر مالدیپ جہاں سے مسلمان عورتوں اور یتیم بچوں کی واپسی کے موقع پر سندھ کے فرماں روا کی زیادتی اس خطے میں باقاعدہ اسلام کی آمد کا سبب بنی، وہاں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ دارالکفر میں یہ تاجر عرصے تک مقیم رہے حتیٰ کہ وہیں پر ان کا انتقال ہوا۔ گویا کسی حکمِ صریح کی عدم موجودگی میں ایسے عمل کو حرام قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی حکمت کی بنا پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ کوئی مسلمان دیارِ غیر میں آٹھ سال سے زیادہ نہ رہے، کیونکہ زیادہ عرصہ قیام کے نتیجے میں وہ یا اس کی اولاد وہاں کے غیرمسلم معاشرے سے متاثر ہوسکتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا فیصلہ لازمی طور پر دینی حکمت پر مبنی تھا لیکن اگر ایک شخص نے غیرمسلم ممالک میں اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اخلاقی تعلیم کا صحیح بندوبست کرلیا ہو، اور وہ اپنا وقت دین کی دعوت میں صرف کر رہا ہو تو ایسا کرنا دین کی حکمت کے عین مطابق ہوگا۔
اصل مسئلہ لفظی بحث کا نہیں ہے۔ اگر ایک تحریکی یا غیر تحریکی شخص ملازمت کے لیے جا رہا ہے یا محض دعوتِ دین کے لیے ، دونوں مقاصد ایک ساتھ اختیار کیے جاسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جسے نیت کا علم سب سے زیادہ ہے اس کی نیت کی بناپر اسے اعلیٰ اجر سے نواز سکتا ہے۔ ہاں، اگر انتخاب کا معاملہ ہو کہ ایک طرف پاکستان میں یا کسی مسلم ملک میں ملازمت موجود ہے مگر تنخواہ کم ہے، جب کہ غیرمسلم ملک میں ملازمت میں زیادہ تنخواہ مل رہی ہے لیکن نہ وہاں بچوں کی صحیح تربیت ہوگی نہ دعوتِ دین کا موقع ملے گا تو لازماً کم تنخواہ پر پاکستان یا کسی دیگر مسلم ملک میں ملازمت کرنا ہی زیادہ مناسب ہوگا۔ اگر یہ بات تحقیق سے معلوم ہو کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی براہِ راست مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کام کر رہی ہے، مثلاً وہ اسرائیل کو امداد دیتی ہے تو ایسے ادارے میں کام کرنے سے لازماً بچنا چاہیے۔ لیکن اگر کسی ملٹی نیشنل ادارے میں یہودی یا عیسائی کام کر رہے ہوں تو محض اس بنا پر اس کی ملازمت اختیار نہ کرنے کی کوئی دلیل بہ ظاہر نظر نہیں آتی۔
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اگر ہم پاکستان یا کسی مسلم ملک میں اقامت پذیر ہوں لیکن بچوں کی تربیت کی طرف سے لاپروا ہوں اور یہ قیاس کرلیں کہ چونکہ بچے پاکستان یا کسی اور مسلم ملک میں ہیں تو خود بخود ان کی تربیت اچھی ہوجائے گی، یہ محض خوش گمانی کی بات ہے۔ بچوں کی تربیت ایک انتہائی اہم اور مشکل کام ہے۔ اگر ایک شخص کی نگاہ میں اس کی صحیح اہمیت ہو تو وہ جہاں بھی ہو بچوں کی تربیت کرسکتا ہے۔
جہاں تک دارالاسلام اور دارالکفر میں انتخاب کا سوال ہے، اس میں دو آرا نہیںہوسکتیں کہ دارالاسلام کو چھوڑ کر دارالکفر میں جانے کو کسی بھی طرح مطلوب و مرغوب نہیں کہاجاسکتا۔ البتہ اگر ایک شخص متعین عرصے کے لیے دعوتی مقاصد کے پیشِ نظر دارالکفر جاتا ہے تو ایسا کرنا دین کے کسی اصول سے نہیں ٹکراتا۔ تاہم، مستقل طور پر دارالاسلام کو ترک کر کے دارالکفر ہجرت کرنا شریعت کے منافی ہوگا۔
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض صورتوں میں دارالکفر اور دارالاسلام کے حوالے سے حقیقت واقعہ کی حیثیت قابلِ غور بھی ہوسکتی ہے، مثلاً ایک خاندان تعلیم یا روزی کی تلاش میں غیرمسلم اکثریتی علاقے میں گیا اور وہاں پر ان کی اولاد پیدا ہوئی جس نے دینی تعلیم پائی اور شادی بیاہ کا تعلق مسلمانوں کے ساتھ قائم کیا، تو کیا ایسے افراد کا ایک غیراسلامی ملک میں قیام دارالکفر میں قیام کہلائے گا، جب کہ یہ افراد اُس غیر مسلم معاشرے میں شعوری طور پر اسلامی تعلیمات کے فروغ اور خود اپنے گھر میں اسلامی ماحول پیدا کرنے کی کوشش میں لگے ہوں۔
یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ آج جب خود مسلم ممالک میں ان کی دستوری حیثیت سے قطع نظر وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو دارالکفر کے حوالے سے فقہی کتب میں ملتی ہیں، تو دونوں کے درمیان محض اصولی فرق کی بناپر ایک ہی حکم ہوگا یا تبدیلیِ حالت کی بنا پر حکم کی نوعیت میں فرق پڑے گا۔ میرے خیال میں ان معاملات پر مزید غوروفکر کی ضرورت ہے اور اس طرح کے معاملات میں محض سیاہ یا سفید پر حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ دین کے مطالبات ومقاصد کے پیشِ نظر بہت سے تحریکی اور غیرتحریکی مسلم داعیانِ دین کو ایسے مقامات پر جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں یا بالکل نہ پائے جاتے ہوں دعوتی نقطۂ نظر سے جاکر مختصر یا طویل قیام کر کے دین کی دعوت کو دارالکفر میں متعارف کرانا ہوگا۔
اگر اسلام ایک علاقائی دین ہوتا تو اسے ایک ایسے خطے میں محدود و مقید رہنا چاہیے تھا جہاں اسے دارالامن اور دارالاسلام میسر ہوتا۔ لیکن اس ترجیح کے باوجود کہ ایک فرد اور اس کا خاندان اسلامی ماحول میں رہے، دعوتی ضرورت اور دینی تقاضے کے پیشِ نظر بہت سے افراد کو غیرمسلم اکثریت کے علاقوں میں جاکر دعوتِ دین کا کام کرنے کے لیے قیام کرنا ہوگا۔ جیساکہ آغاز میں عرض کیا گیا اس کا بڑا انحصار نیت، سعی اور کوشش پر ہے اور اس اندازے پر ہے کہ ایک شخص دارالکفر میں رہتے ہوئے خود دین پر کتنی آزادی کے ساتھ عمل کرسکتا ہے اور اُس کے سامنے منصوبۂ عمل کیا ہے۔
توسیعِ دعوت کے لیے ممالکِ غیر میں جاکر اپنے قول و عمل سے دین کی دعوت دینا ایک فریضہ ہے، اور یہ اسی طرح فرض ہے جیساکہ خود ایک مسلم ملک میں جہاں دستوری طور پر تو اسلام حاکم ہو لیکن عملاً وہ دارالکفر کی طرح معاشی، سیاسی اور معاشرتی معاملات میں غیراسلامی تعلیمات پر عمل کر رہا ہو۔ ایسے مسلمان ملک میں بھی توسیعِ دعوت کے لیے جدوجہد کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔ گویا دعوتی نقطۂ نظر سے واضح اہداف کے ساتھ کسی ملک میں جانا اور اپنی تمام صلاحیتیں بروے کار لاتے ہوئے، دعوتِ دین کے ساتھ ساتھ حصولِ رزق کی کوشش کرنا بھی دین کے مطالبات سے مطابقت رکھتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہییں جو اس مقصد کے لیے اپنی زندگی کے لمحات کو اس کام میں لگائیں۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
قرآن کریم اور علوم القرآن سے اُمت مسلمہ کا تعلق یوں تو ہر دور میں نمایاں نظر آتا ہے جس کی ایک دلیل تفسیری ادب میں شاہکار تصانیف کا پایا جانا ہے۔ چنانچہ اسلام کے دورِ احیا میں صرف ۲۰ویں صدی میں ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی، یوسف علی، سیدابوالاعلیٰ مودودی، مفتی محمد شفیع، سید قطب شہید اور محمداسد کی تفاسیر نہ صرف وجود میں آئیں بلکہ قبولیت عام حاصل کرنے کے بعد اُمت مسلمہ پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا ذریعہ بنیں۔ شاہکار انسائی کلوپیڈیا قرآنیات خود مدیراعلیٰ کے الفاظ میں تفسیر نہیں ہے، گو مضامین کی تیاری میں معتبر و مستند تفاسیر سے مدد لی گئی ہے۔ اس کی اصل خوبی سلیس اُردو میں اُردو اصطلاحات کی بنیاد پر قرآنیات سے متعلق مضامین پر مقالات کا یک جا کر دینا ہے۔ بعض مقالات معروف مسلمان مفکرین کی تحریرات سے اخذ کیے گئے ہیں اور اکثر اس مجموعے کے لیے لکھوائے گئے ہیں۔ ہر ماہ ایک قسط کی اشاعت کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور اب تک چار اقساط شائع ہوچکی ہیں۔ پہلی قسط جنوری ۲۰۰۹ء میں شائع ہوئی تھی۔
مضامین میں خصوصی طور پر یہ خیال رکھا گیا ہے کہ مسلکی رنگ نہ آنے پائے۔ بعض مقالات مثلاً ’آثارِ قدیمہ‘ (ج ۱، ص ۱۹-۳۹)، ’آدم‘ (ص ۵۳ تا ۶۹)، ’آیات‘ (ج ۳، ص ۱۷۴ تا ۲۰۷)، ’ابراہیم‘ (ج ۳، ص ۲۱۵ تا ۲۳۲)، ’آفرینش‘ (ج ۳، ص ۱۲۹ تا ۱۳۹) دیگر مقالات کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی ہیں، جب کہ دیگر مضامین میں مواد کی تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ بعض مضامین میں غیرضروری معلومات شامل کر دی گئی ہیں، مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد پر دوسری جلد میں قرآنیات کے حوالے سے ان کی خدمات پر معلومات کے ساتھ ساتھ بہت سی غیر ضروری تفصیلات کا لانا مناسب نہ تھا۔ اسی طرح بعض ایسے مضامین جن کا براہِ راست تعلق قرآنیات سے نہیں بنتا، ان کی شمولیت پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، مثلاً آستر (Esther) پر مقالہ یا آسٹریلیا کے اصلی باشندوں پر مقالہ (ص ۱۱۲ تا ۱۱۶، ج ۲) براہِ راست موضوع سے مناسبت نہیں رکھتے۔ اسی طرح جلداول میں آچاریہ شنکر پر مقالہ (ص۴۱ )، پر آخش پر مختصر نوٹ (ص ۴۸) غیرضروری محسوس ہوتا ہے۔ گو یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ قرآنیات کی اس انسائی کلوپیڈیا میں قوسین میں (عالمی مذاہب) کو بھی شامل کیا گیا ہے، اس بنا پر یہ معلومات درج کر دی گئی ہیں، مثلاً جلد اول میں آریہ مذہب پر (ص ۷۷ تا ۸۰) ایک مقالہ شامل کیا گیا ہے۔ کتاب کا بنیادی موضوع چونکہ قرآنیات ہے اس لیے بہتر ہوتا کہ مدیراعلیٰ عالمی مذاہب پر ایک الگ انسائی کلوپیڈیا مرتب فرماتے اور قرآنیات کو قرآن کریم سے متعلق مضامین تک ہی محدود رکھا جاتا۔ اس طرح قرآنیات پر زیادہ مقالات کی گنجایش نکل آتی، اور بعض مختصر نوٹ بڑھ کر باقاعدہ مقالات کی شکل میں آجاتے۔
قرآنیات پر یہ تعارفی سلسلہ اُردو خواں حضرات کے لیے بہت مفید ہے لیکن گذشتہ پانچ دہائیوں میں جس تیزی کے ساتھ اُردو فہمی میں پاکستان میں زوال پیدا ہوا ہے، اس کے پیش نظر یہ معلومات اگر سادہ انگریزی میں بھی آجاتیں تو ہمارے نوجوان طلبہ کے لیے بہت مفید ہوتیں۔
محترم سید قاسم محمود اپنی ذات میں ایک ادارہ ہیں اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت شاہکار انسائی کلوپیڈیا اسلام اور شاہکارانسائی کلوپیڈیا پاکستان جیسی وقیع کتب ہیں۔ گو شاہکار انسائی کلوپیڈیا فلکیات اور سیرت النبیؐ ابھی منظرعام پر نہیں آسکیں لیکن اب تک جو کام تنہا سیدصاحب نے کیا ہے، وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس سلسلے کو مکمل کرنے کی توفیق دے۔(ڈاکٹر انیس احمد)
ہجرت کی اصطلاح اپنے گھربار، وطن، ملک، علاقے اور شہر کو اللہ کے راستے میں چھوڑ دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاہم اس کا لغوی مفہوم کسی جگہ یا مقام سے دوسری جگہ نقل مکانی ہے۔ قرآن و حدیث نبویؐ کی رُو سے ہجرت کا تقاضا ہے کہ انسان نفس کی بے جا خواہشات ناپسندیدہ اور بُرے اخلاق اور عاداتِ بد سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ نبیؐ مہرباں کا فرمان ہے: مہاجر وہ ہے جو شریعت کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے۔
زیرنظر کتاب کو اپنی نوعیت کی منفرد کتاب کی حیثیت حاصل ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے حمیدنسیم رفیع آبادی مولانا جلال الدین عمری کے تلمیذ رشید اور شعبۂ فلسفہ مسلم یونی ورسٹی کے ریسرچ فیلو رہے۔ ہجرت کا اسلامی تصور میں قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی تصورِہجرت کے مختلف پہلوئوں (ہجرت کے مختلف معانی و مفاہیم، مراحل، مقاصد، وجوب اور فلسفے) کو خوب صورت اسلوب اور پیرایۂ بیان میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے ہجرت کے مختلف پہلوئوں کے ساتھ ساتھ غنیمت، خمس، وراثت اور دیگر مسائل وضاحت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔
ڈاکٹر حیات عامر نے اپنے مدلل و مفصل اور وقیع مقدمے میں موضوع کا بھرپور احاطہ کیا ہے جس نے کتاب کی افادیت دوچند کر دی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر سیدمطلوب حسین کا فکرانگیز مضمون ’واقعۂ ہجرت کی عالم گیر اہمیت‘ اور مولانا عبدالرحمن پرداز اصلاحی کا ’ہجرت کے بارے میں مستشرقین کا موقف‘ کے عنوان سے مستشرقین کے رکیک جملوں کے جواب پر مبنی مشتمل مضمون بھی شاملِ کتاب ہے۔ آخر میں مآخذ بھی درج ہیں۔ ہجرت کے موضوع پر اتنا وقیع اور مفصل مواد یک جا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ پروف خوانی احتیاط سے کی گئی ہے۔ معیارِ طباعت بھی اطمینان بخش ہے۔ اس طرح کتاب حسن صوری و معنوی کا عمدہ نمونہ ہے۔ (عمران ظہورغازی)
مجلسِ ترقیِ ادب لاہور کے تحقیقی و تنقیدی صحیفہ کی تازہ اشاعت جنگ ِ آزادی ۱۸۵۷ء سے متعلق ہے۔ یہ شمارہ جنگ ِ آزادی کے ایک سو پچاس سال مکمل ہونے پر قدرے تاخیر سے شائع ہوا ہے۔ اس میں ۱۸۵۷ء کا پس منظر و پیش منظر، حالات و واقعات، شخصیات، فکرونظر، تاریخی و ادبی مآخذ، نوادر کے علاوہ موضوعات پر معروف اہلِ علم کے مضامین جمع کیے گئے ہیں۔ معین الدین عقیل نے ’جنگ ِ آزادی، اسباب و نتائج‘ کے عنوان سے ۱۸۵۷ء سے قبل اور مابعد پیش آمدہ واقعات کا تجزیہ کیا ہے اور اُن محرکات کی نشان دہی ہے جو اس صورت حال کا موجب بنے۔ عقیل صاحب کا ایک اور مضمون ’سوانح افسری‘ کے تعارف پر مبنی ہے۔ ’سوانحِ افسری‘ ۱۸۵۷ء کا ایک غیرمعروف مآخذ پر آپ بیتی حیدرآباد دکن کی فوج کے ایک مسلمان افسر کی ہے جو ۱۸۵۷ء اور بعدازاں انگریزی افواج کی اعانت کا مرتکب ہوتا رہا۔
ڈاکٹر محمدسلیم اختر نے مختلف تواریخ اور انگریز افسروں کی یادداشتوں کی مدد سے ’موجودہ پاکستان علاقوں کا جنگ ِ آزادی میں کردار‘ کے موضوع پر مضمون لکھا ہے جو ۱۸۵۷ء کے دوران اِن علاقوں کی صورتِ احوال پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسی طرح غلام شبیر رانا کے مضمون بعنوان ’تاجر سے تاج ور تک‘ ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کے تناظر میں، میں انگریز تاجروں کے اُن حیلے بہانوں، جارحانہ ہتھکنڈوں اور ظالمانہ حربوں کا جائزہ لیا گیا ہے جو انھوں نے اپنے قیام ہندستان کے دوران اہلِ ہندستان سے روا رکھے۔
نوادرات کے گوشے میں مرہٹوں کے اُس وقت کے پیشوا نانا فرنویس کا ایک اُردو اشتہار خاصے کی چیز ہے جس میں ہندوستان کے باشندوں کو غاصب انگریزوں کے خلاف بغاوت پر اُکسایا گیا ہے۔ یہ اشتہار ۶؍جولائی ۱۸۵۷ء کو شائع کیا گیا تھا۔ اسی گوشے میں اختر حسین راے پوری کی ایک ہندی تحریر کا ترجمہ (از خالد ندیم) شامل ہے جس میں بہادرشاہ ظفر اور اُن کے بچے کھچے خاندان کی اُس حالت کا نقشہ بعداز تحقیق کھینچا گیا ہے جو انقلاب ۱۸۵۷ء کے نتیجے پر اس گھرانے کے رنگون آنے کے بعد رہی۔ اسی حصے میں ڈاکٹر مظہرمحمود شیرانی نے مدرسہ عبدالرب، دہلی کی ایک اپیل کو (جو ۱۸۵۷ء کے پس منظر میں ہے) مع عکس پہلی مرتبہ پیش کیا ہے۔
۱۸۵۷ء اور شخصیات کے گوشے میں ’غالب، تحریکِ مجاہدین اور ۱۸۵۷ء‘ کے موضوع پر خالد امین کا مضمون نئی معلومات فراہم کرتا ہے اگرچہ اس کے کچھ مندرجات سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ’محمدحسین آزاد اور ۱۸۵۷ء‘ از رفاقت علی شاہد بھی اُس عہد کے ایک بڑے ادیب اور ہنگامِ انقلاب کے اُن پر اثر کو واضح کرتا ہے۔
ایک گوشے میں معروف محقق خلیل الرحمن دائودی کی ۱۸۵۷ء سے متعلق تحریروں کو یک جا کیا گیا ہے۔ یہ تحریریں اُس دور کے حالات و واقعات اور مختلف اشخاص پر اجمالی نظر ڈالتی نظر آتی ہیں۔ ’رفتارِ ادب‘ صحیفہ کا مستقل سلسلہ ہے۔ اس میں جنگ ِ آزادی سے متعلق شائع شدہ کتب پر تبصرے کیے گئے ہیں۔ آخر میں ۱۸۵۷ء پر مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور کی مطبوعات سے جو اقتباسات پیش کیے گئے ہیں، وہ اپنے اپنے موضوعات پر مکمل مضامین ہیں، مثلاً: ’ جنگ ِ آزادی اور ادب‘، ’جنگ ِ آزادی اور پُرشکوہ آبادی‘ اور ’دہلی میں اٹھارہ سوستاون‘ وغیرہ۔
اپنے مشمولات کے اعتبار سے صحیفہ کا یہ خاص شمارہ تاریخِ برعظیم کے ایک نہایت اہم ترین واقعے کی اہم دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ (ساجد صدیق نظامی)
نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود، پاکستان جیسی نظریاتی مملکت میں وہ نظامِ تعلیم نافذ نہ ہوسکا جو ایک طرف ہمارے نظریاتی تقاضے پورے کرتا، نئی نسل میں اسلامی فکروشعور کی آبیاری کرتا اور دوسری طرف یہاں کے باشندوں کو ذمہ دار اور بااصول شہری بناتا۔ ایسا کیوں نہ ہوا؟ زیرتبصرہ کتاب میں اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تعلیم سے متعلق اہم مباحث کو زیربحث لایا گیا ہے۔ ذریعۂ تعلیم کے بارے میں مختلف دانش وروں کی آرا دی گئی ہیں اور قدیم و جدید ماہرینِ تعلیم کے افکار سے جگہ جگہ استدلال کیا گیا ہے۔ اسلامی نظامِ تعلیم، اس کی بنیادیں اور عملی خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ مغربی نظامِ تعلیم کا پس منظر، اہداف اور اس کے معاشرے پر مضر اثرات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مغربی نظامِ تعلیم اور اسلامی نظامِ تعلیم کا تقابل بھی کیا گیا ہے۔ تعلیمِ نسواں کو الگ سے موضوع بنایا گیا ہے اور خواتین کے لیے مردوں سے الگ نصاب کی سفارش کی گئی ہے۔ ایک باب میں دینی مدارس کے بارے میں پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات کو دُور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، نیز علماے کرام اور مدارس کے حقیقی کردار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ تجویز کیا گیا ہے کہ نصابِ تعلیم دینی اور سائنسی تعلیم کا امتزاج ہونا چاہیے اور غوروفکر اور تدبر کی دعوت پر مبنی ہونا چاہیے۔ جدید افکارونظریات، جدید ٹکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کے مضر اثرات کے جائزے کے بعد انھیں اپناتے ہوئے محتاط رویے کی ضرورت ہے۔
مصنف نے خلوصِ دل سے توجہ دلائی ہے کہ تعلیمی انقلاب رجوع الی اللہ اور فوری جدوجہد کا متقاضی ہے، اور جب تک نظامِ تعلیم صحیح خطوط پر استوار نہیں ہوتا انتظارِ انقلاب، کارِ عبث ہے۔ فہرست مآخذ سے کتاب کی وقعت اور جامعیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (امجدعباسی)
دنیاے فانی سے رخصت ہونے والوں کو یاد کرنا، خصوصاً ان کی نیکیوں کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار اور ان کی خدمات کو بطور مثال پیش کرنا ایک مستحسن روایت ہے۔
زیرنظر کتاب، تحریک اسلامی سے وابستہ ایک ایسی خاتون کے سوانح اور خدمات کا تذکرہ ہے جو اپنی دینی اور اسلامی خدمات کی بنا پر مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔ کتاب میں شامل ان کے والدین، بہن بھائیوں، زوجِ محترم، سسرالی رشتہ داروں، اساتذہ کرام، سہیلیوں اور جملہ احباب، واقفانِ حال بلکہ ملازمین سبھی کی تحریریں اس امر کی شاہد ہیں کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں۔ ان کا ہر ایک سے بھرپور تعلق تھا۔ وہ حقوق و فرائض کی انجام دہی میں ایک توازن کے ساتھ عہدہ برآ ہوتی رہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو تحریک کے کام کو ’اپنا کام‘ جان کر پوری تن دہی اور لگن سے مصروفِ عمل رہتے ہیں اور صحت کی خرابی یا دیگر عذرات کی بنا پر اپنی راہیں کھوٹی نہیں کرتے۔
حلقہ ہاے درس کو چلانے کا معاملہ ہو، بیرونی روابط کا مسئلہ ہو، گھریلو امور، مہمان نوازی اور رشتہ داریاں نبھانے کی ذمہ داری ہو، ساجدہ زبیری ہر کام کو اعلیٰ معیار پر انجام دینے کی قائل تھیں۔ ان کا کوئی بھی کام سرسری اور رسمی یا خانہ پُری کی خاطر نہ ہوتا تھا۔ ان کی اس خوبی پر بہت سوں نے اس کتاب میں گواہی دی ہے۔ ساجدہ نے بیماری کا ایک طویل عرصہ جس صبر واستقلال سے گزارا، وہ بھی مثالی ہے۔
کتاب میں شامل ساجدہ زبیری کے نو نثرپارے ان کے ادبی ذوق کے غماز ہیں۔ عنوانات مختلف ہیں، مگر ہر ایک میں نظریاتی رچائو موجود ہے، اور ان کے حسِ مزاح کی جھلک بھی کہیں کہیں نظر آتی ہے۔
اس کتاب کی مرتب اور ساجدہ زبیری کی خواہر عابدہ عبدالخالق لکھتی ہیں: ’’اس کتاب کی اشاعت کا مقصد شخصیت پرستی کے کسی جذبے کی تسکین نہیں، اس کاوش کا مقصد اپنے اردگرد کے ماحول میں کمزور ہوتے ہوئے خاندانی نظام اور معدوم ہوتی ہوئی اعلیٰ انسانی قدروں کو پھر سے تقویت دینا ہے۔ انسانیت کے گم گشتہ سچے جذبوں کو پھر سے پا لینے کی کوشش کرنا ہے‘‘۔ (ص۶-۷)
اس اعتبار سے یہ کتاب اپنے مقصد کو پورا کرتی ہے اور قارئین بالخصوص خواتین کے لیے ایک گراں بہا تحفہ ہے۔ معیارِ طباعت نہایت عمدہ ہے۔ سرورق سادہ اور جاذبِ نظر ہے۔ (زبیدہ جبیں)
علامہ ابن جوزی (۵۰۸ھ-۵۹۷ھ) کی کتاب کتاب البر والصِّلۃ کا ترجمہ ہے۔ ابن جوزی مقدمے میں لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے زمانے کے نوعمروں کو دیکھا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی جانب متوجہ نہیں ہوتے، نیز اعزہ و اقربا سے تعلقات کو توڑتے ہیں جن کو اللہ پاک نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے مال سے غریبوں اور فقیروں کی مدد اور ان کے ساتھ غم خواری سے اِعراض کرتے ہیں۔
یہی اس کتاب کے موضوعات ہیں۔ اس میں والدین کی خدمت، رشتہ داروں کے ساتھ روابط، لوگوں کے ساتھ باہمی تعاون اور معاشرتی نیکی و بھلائی اور خیرخواہی کا مفصل بیان ہوا ہے اور ان امور سے غفلت پر دونوں جہاں کی خسارے کی وعید سنائی گئی ہے۔ کُل۵۴ ابواب میں سے ۱۸باب صرف والدین کے موضوع پر ہیں۔ ہر موضوع سے متعلق احادیث بیان کر کے حکم نکالا گیا ہے۔
ہم مسلمانوں کا مسئلہ آج کل علم کی کمی کا نہیںہے بلکہ سب کچھ جانتے ہوئے عمل نہ کرنے کا اور اس کے لیے جواز اور بہانے تلاش کرنے کا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک جامع تصنیف ہے۔ ابن جوزی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ کچھ نہ کچھ لکھتے تھے اور اس طرح انھوں نے ۲ہزار کتابیں لکھی ہیں۔ کتاب میں ان کے مفصل حالات بھی ملتے ہیں۔ (مسلم سجاد)
’۶۰ سال پہلے‘ کے تحت ’نااہل قیادت‘ (جولائی ۲۰۰۹ء) مولانا مودودیؒ کی تازہ تحریر محسوس ہوتی ہے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ۶۰سال بعد بھی ایک ’بدترین،نااہل اور اخلاق باختہ قیادت‘ ہمارے اُوپر ہنوز مسلط ہے۔ ’امریکا اور اسلام‘ دل کی آواز محسوس ہوئی۔ ’اوباما کی قاہرہ میں تقریر کے خوش کُن آہنگ کو نیا نہ سمجھا جائے‘، نپولین اور ووڈرو ولسن کی تقاریر کے تاریخی تناظر میں، یہ جملہ میری نظر میں ’اشارات‘ کا حاصل ہے۔ ’انسان کا قرآنی تصور‘ حضرت انسان کا ایک بھرپور خاکہ، قرآنی آیات کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے، بین السطور بڑی خوب صورتی سے قاری کو اس کے اصل فرضِ منصبی کی طرف متوجہ یا گیا ہے۔
’اسلامی بنکاری کا بڑھتا ہوا عالمی رجحان‘ میں موجودہ عالمی معاشی بحران کے تناظر میں ایک اہم پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ماضی میں غیرسودی نظام کو ناقابلِ عمل گردانتے ہوئے کھلے بندوں مذاق کا موضوع بنایا جاتا تھا مگر آج یہ ایک حقیقت ہے اور پوری دنیا میں اُسے معاشی بحران سے نجات کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جانے لگاہے۔ ’ایران کا اصل بحران‘ ایک چشم کشا تحریر ہے، لیکن اس بات کی تشنگی محسوس ہوتی ہے کہ ایرانی قیادت کے آپس کے ان شدید اختلافات کے اصل محرکات کیا ہیں؟ کیا وہ مستقبل میں اپنی یک جہتی برقرار رکھ پائیں گے؟
’امریکا اور عالمِ اسلام‘ (جولائی ۲۰۰۹ء) میں امریکی حکمرانوں کو ان کے قول و عمل کے تناظر میں مسکت انداز میں آئینہ دکھایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں محترم میاں طفیل محمد مرحوم و مغفور پر تعزیتی شذرہ اختصار و جامعیت کا مرقع اور دل پر اثرانداز ہونے والی تحریر ہے۔
’اسلامی بنکاری کا بڑھتا ہوا عالمی رجحان‘ (جولائی ۲۰۰۹ء) کے مطالعے سے اسلامی بنکاری کی پیش رفت کا اندازہ ہوا، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع سے متعلق دیگر امور بھی زیربحث لائے جائیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں سود کی ممانعت ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مرکز اور صوبوں میں افہام و تفہیم کی ضرورت ہے، اس مسئلے کو بھی زیربحث لایا جانا چاہیے۔ ملک میں جاری اسلامی بنکاری پر علما میں پایا جانے والا اختلافِ راے بھی اعلیٰ سطح پر علمی بحث اور افہام و تفہیم کا متقاضی ہے۔ سود کی ممانعت کا مقدمہ جو التوا کا شکار ہے۔ اسے بھی ازسرِنو اٹھانے کی ضرورت ہے مگر اس پر دینی و سیاسی جماعتیں اور پارلیمان خاموش ہیں۔
حال ہی میں سپریم کورٹ نے پٹرول کی قیمت میں کمی کے لیے اقدام اٹھایا لیکن جس طرح سے آرڈی ننس کے ذریعے اسے غیرمؤثر کردیا گیا یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عدالتی اقدام کی حیثیت محض ایک کاغذی فیصلے کی ہے اور اسمبلی خاموش تماشائی ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل قیمتوں کی شرح (پرائس لیول) پر سود، جو بعض امور میں ۴۵ فی صد تک پہنچ چکا ہے، کے خاتمے کے لیے کوشش کا آغاز ہے۔ یہ وہ ریلیف ہوگا جسے کسی آرڈی ننس کے ذریعے سے ختم نہ کیا جاسکے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت اسلامی جو سود کے خاتمے کے نظام کی علَم بردار ہے، اس مسئلے کو آگے بڑھ کر عوامی سطح پر اٹھائے اور علمی حلقوں میں مؤثر آواز بلند کرے۔
’رسائل و مسائل‘ کے تحت ’بیوٹی پارلر کی تعلیم اور کاروبار‘ (جولائی ۲۰۰۹ء) کا جواز دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کو کس طرح جائز قرار دیا جاسکتا ہے، جب کہ اس میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہیں جن سے احادیث میں منع کیا گیا ہے، مثلاً بھوئیں بنوانا، چہرے کے بال صاف کروانا۔ ایک حدیث میں تو چہرے پر غازہ (مصنوعی رنگ) لگانے کی بھی ممانعت ہے اور اسے بنی اسرائیل کی ہلاکت کے اسباب میں سے ایک سبب شمار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد چہرے اور ہاتھ پائوں کی خوب صورتی اور نکھار (فیشل پیڈیکیئر ، مینیکیئر) ہی رہ جاتے ہیں جو کہ کروایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بیوٹی پارلر کے کورس کی تربیت کے دوران میں ایک خاتون ان تمام غیرشرعی کاموں سے کیسے بچ سکتی ہے؟ اس پہلو کی وضاحت کی بھی ضرورت تھی۔
سوات، دیر، مالاکنڈ، فاٹا اور بلوچستان میں شورش اور فوجی آپریشن کے متعلق (جون ۲۰۰۹ء) جس عرق ریزی سے سیرحاصل گفتگو اور اس خطرناک شورش کے پس پردہ محرکات سے پردہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ مسئلے کے پُرامن حل کے لیے ہمارے حکمرانوں کے سامنے جو دور رس تجاویز رکھی گئی ہیں، کاش! ہمارے حکمران ان پر کان دھرتے۔ اچھا ہوتا کہ پروفیسر صاحب و دیگر صاحب ِ بصیرت و دُور اندیش ارکانِ پارلیمنٹ ان چشم کشا انکشافات کو قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کریں۔
’اسلام اپنی نگاہ میں‘ از ڈاکٹر ساجیکو مراتا ولیم سی چٹیک پر مکرمی ڈاکٹر انیس احمد نے (جون ۲۰۰۹ء) تبصرہ کیا جس پر میں ان کا ممنون ہوں۔ تاہم ایک دو نکات وضاحت طلب نظر آئے۔ آیاتِ قرآنی کے اُردو ترجمے کی ذمہ داری سراسر مترجم کی ہے اور اس کے لیے میں نے تقریباً ہرجگہ شاہ عبدالقادر صاحبؒ (بسااوقات بہ ترامیم خفیفہ) کا ترجمہ استعمال کیا ہے اور معاصر تراجم استعمال کرنے سے شعوراً گریز کیا ہے۔ بعض جگہ جو تراکیب/اسلوب میں کہنگی اور نامانوس ہونے کی کیفیت ہے وہ اسی فیصلے کی دین ہے۔
دوسری بات یہ عرض کرناہے کہ مصنف ڈاکٹر شمس الدین چیٹک اور ان کی اہلیہ زینہ شمس الدین دونوں اُردو بالکل نہیں جانتے، لہٰذا مولانا مودودی کی کتاب مذکور (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں) کے استعمال کا قطعاً سوال پیدا نہیں ہوتا۔ مصنفین تو شاید اس کتاب کے وجود سے بھی باخبر نہ ہوں گے۔ حوالے سے گریز کو عمداً یا سہواً پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔ اسماعیل الفاروقی الراجی کی سب چیزیں میری دیکھی ہوئی ہیں۔ مجھے یہ قبول کرنے میں تامل ہے کہ وہ اس سطح کی بحث میں کوئی وقیع حوالہ بن سکتے ہیں خصوصاً جب مآخذ، حوالے، فکری فضا اور سطح کلام کلاسیکی مسلم علما کی تحریروں سے براہِ راست مستفاد ہو!
قریباً سبھی مصنفین ابھی تک اُردو کی تحریروں میں فارسی کے محاورے، الفاظ یا اشعار استعمال کرتے ہیں، پھر اس کا ترجمہ بھی موجود نہیں ہوتا اور قارئین کو فارسی دان سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر فروری کے شمارے میں مولانا مودودی کا یہ مقالہ ’پس چہ باید کرد‘ (ص ۳۹) موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مولانا صاحب آج موجود ہوتے تو حالات اور معاشرے کو جانتے ہوئے خود بھی ضرور ترجمہ کرتے۔
لوگ تو صحیح اُردو ہی بھول چکے ہیں کجا کہ انھیں فارسی سمجھ آئے۔ آج کل تو انگریزی کا راج ہے اور اب تو ہندی بھی گھر کرنے لگی ہے۔ یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے۔ میڈیا اور ٹی وی چینل اس کا بڑا ثبوت ہیں، اور پھر ان میں کس قدر غلط تلفظ کے ساتھ اُردو بولی جاتی ہے۔ کیا رپورٹر، کیا خبریں پڑھنے والے/والیاں یا بحث و مباحثہ کرنے والے، سب ہی تو عیاں ہیں۔ اپنی تہذیب و ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی زبان کا تحفظ ضروری ہے جس کے لیے ترجمہ ضروری ہے ورنہ اپنے ماضی اور آباو اجداد کی اقدار نسلوں تک پہنچانا بڑا دشوار ہوگا۔ سب قصۂ پارینہ بن جائے گا۔
بہ حیثیت مسلمان ہمارا تصورِ آزادی ساری اقوام سے نرالا ہے۔ ہم اپنے آپ کو اُس وقت تک آزاد نہیں سمجھ سکتے جب تک ہم اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت و اطاعت کے لیے انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں غیرالٰہی ضابطہ و قانون سے آزاد نہ ہوجائیں___ چاہے وہ ضابطہ قانون سمندر پار سے آیا ہو یا اپنے دیس کے لوگوں کا ایجاد کردہ ہو۔
جب تک ہمارے اُوپر غیر اسلامی دستور، غیر اسلامی قانون، غیر اسلامی نظامِ تعلیم، غیر اسلامی سیاست و معیشت اور غیر اسلامی تہذیب و تمدن مسلط رہے، اُس وقت تک ہماری غلامی کی زنجیریں نہیں کٹتیں۔ ہمارے لیے صبحِ آزادی اُس وقت طلوع ہوتی ہے، جب ہم اپنی پوری ملّی زندگی کو کتاب و سنت کے سانچے میں ڈھالنے پر قادر ہوجائیں اور اس مدّعا کو حاصل کرنے میں نہ غیروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ باقی رہے، نہ اپنوں کی طرف سے کوئی مزاحمت!
یہی تصورِ آزادی تھا جو برعظیم ہند کے غیرمسلموں کے ساتھ مل کر ایک متحدہ قومیت بنانے اور ایک مشترکہ جمہوری ریاست کی بنیاد ڈالنے میں مانع ہوا اور اسی کی وجہ سے ہم مجبور ہوگئے کہ اپنے لیے ایک جداگانہ خطۂ زمین حاصل کریں۔ یہ خطۂ زمین گراں بہا قربانیوں کے عوض میں ہمیں حاصل ہوا، درآں حالیکہ دوسری قربانیوں کے ساتھ ہمیں تقسیم کی مہلک ناانصافیاں بھی گوارا کرنی پڑیں۔ لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس خطۂ ارضی کی آزادی کی ساری دولت انگریز ایسے جانشینوں کے سپرد کرکے گیا ہے جو اس کو نظامِ اسلامی کی تعمیر پر صرف کرنے میں برابر لیت و لعل کر رہے ہیں۔ کل یہی لوگ تھے کہ اسلامی نظام تمدن و سیاست کے نام پر آزادی کی جنگ میں مسلمان عوام کا تعاون حاصل کر رہے تھے لیکن آج یہی لوگ ہیں کہ عوام کی طرف سے اسلامی نظام کے مطالبے پر ان کے چہرے غضب آلود ہوجاتے ہیں۔ (’اشارات‘، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۳۲، عدد۳، رمضان ۱۳۶۸ھ، اگست ۱۹۴۹ء، ص ۳-۴)