مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۰۸

عراق میں امریکی جارحیت کے پانچ سال مکمل ہونے پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ امریکی حکومت کو خود امریکی عوام اور دانش وروں اور کانگرس کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ عملاً امریکا کو اس جنگ کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے اور روز بروز امریکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب صدام حسین کی حکومت کا تختہ ۲۰۰۳ء میں اُلٹا گیا تو امریکا کے سامنے بظاہر دو اہداف تھے: اجتماعی تباہ کاری کے ہتھیاروں کی بازیابی اور مشرق وسطیٰ میں بتدریج جمہوریت کا قیام۔ یہ اہداف تو حاصل نہ ہوسکے اور امریکا اب ایران میں ’موت کا رقص‘ شروع کرنے کے لیے تمام ممکنہ تیاریاں کر رہا ہے۔ صدام حسین کے بعد عبوری حکمران کونسل اور اُس کے بعد دستوری حکومت، امریکی انتظامیہ کے اشارے پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں تھیں جن کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوورقہ پڑھ کر سنا دینے کے سوا کوئی کردار نہیں۔ نوری کامل المالکی یہ کام بخیروخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ ہر روز مختلف لسانی اور مذہبی گروہوں میں تصادم ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ ’’افواج کا قیام بے انتہا ضروری ہے‘‘۔ شیعہ، سُنّی اور کُرد سیکڑوں برس سے عراق میں رہ رہے ہیں۔ مگر یہ امریکی پالیسی سازوں کا کمال ہے کہ وہ تینوں گروہوں کو وافر مقدار میں اسلحہ بھی فراہم کرتے ہیں، ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ بھی کرتے ہیں، اور بعدازاں تینوں گروپوں کے گرفتار شدہ مجاہدین، اور ہلاک شدہ ’جہادیوں‘ کی تصاویر بھی عالمی نشریاتی اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

کُردوں کی قوم پرست تحریک نے بھی اِس عرصے میں شدت اختیار کرلی ہے۔ شام، ایران اور عراق میں پھیلے ہوئے کُرد آزاد ریاست کی منزل تک نہ پہنچ سکیں گے اگرچہ ’نیوکونز‘ کے پالیسی سازوں کے سامنے ایک یہ حل بھی موجود ہے کہ عراق کو سُنّی، شیعہ اور کُرد عراق ریاستوں میں تبدیل کردیا جائے جو خودمختار ہوں لیکن امریکا کی باج گزار ہوں اور امریکی اشارے پر کسی بھی ہمسایہ عرب ریاست کے خلاف فوجی کارروائی کرسکیں یا امریکی کارروائی کے لیے’ محفوظ پناہ گاہ‘ فراہم کرسکیں۔ تین شمالی صوبوں میں کُردوں کی علاقائی حکومت ہے۔ اُن کی مسلّح افواج، قومی نشان اور جھنڈا ہے، لیکن داخلی بدامنی اور قومی انتشار نے اُن کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ جنگ اور فوجی کارروائی کا منظر ہی اُنھیں نجات کا منظر نظر آتا ہے۔ ایک ہزار سے زائد قبائل اور گروہ عراق میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اُن کے باہمی لسانی، قبائلی اور تہذیبی اختلافات بھی ہیں، تاہم اس پر اُن کا اتفاق ہے کہ غیرملکی حملہ آوروں کا نہ سازوسامان واپس جائے اور نہ وہ خود زندہ واپس لوٹیں۔ امریکا کی جانب سے مسلط جنگ اور باہمی خوں ریزی سے عراق میں ۱۰ لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ تباہی و بربادی کے جو مناظر تشکیل پائے ہیں، عالمِ انسانیت اس پر ہمیشہ نوحہ کناں رہے گی۔

امریکی انتظامیہ ۵۰۰ ارب ڈالر خرچ کرنے کے بعد اور تو کچھ حاصل نہ کرسکی، تاہم سرکاری اعلان کے مطابق ۴ ہزار امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ چکی ہیں، ۲۳ ہزار اپاہج اور زخمی فوجی، مختلف امریکی ریاستوں میں زیرعلاج ہیں (www.antiwar.com)۔ امریکا عراق میں جنگ جاری رکھنے کے لیے ۷۲ کروڑ (۷۲۰ ملین) ڈالر روزانہ خرچ کر رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا مجبورہے کہ ہر ایک منٹ میں ۵ لاکھ ڈالر جنگی اخراجات کی صورت میں خرچ کرے۔ معروف تحقیقی مجلے فارن پالیسی نے ناکام ریاستوں کا گوشوارہ ۲۰۰۷ء میں عراق کو دنیا کی ناکام ترین ریاستوں میں دوسرا نمبر دیا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال ریاست کو اس مقام تک پہنچانے کا سہرا واشنگٹن کے سر بندھتا ہے۔

امریکا کے سرکاری ترجمان اور پالیسی ساز ادارے جو اعلان بھی کریں، عراق سے امریکی افواج کو بالآخر نکلنا پڑے گا۔ پانچ برس قبل عراق پر مکمل امریکی تسلط تھا، اب اقتدار براے نام سہی عراقی انتظامیہ کے پاس ہے۔ امریکی بحری، بّری اور فضائی افواج کی نوعیت بھی ماضی والی نہیں رہی۔ امکان ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے فوجی دستے بتدریج عراق سے نکال لے، لیکن اس کی  فوجی چھائونیاں اور دستے یہاں موجود رہیںگے، چاہے وہ دنیا کے دکھاوے کے لیے عراقی حکومت سے معاہدے کے بعد یہاں رہیں۔ ایسے معاہدے امریکی حکومت ’جنوبی کوریا‘ کی حکومت سے بھی کرچکی ہے اور بہ سہولت وہاں براجمان ہے۔

امریکا کو عراق میں قیام کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور مزید ادا کرنا پڑرہی ہے۔ عراق پرقبضے کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے، خود امریکی عوام نے اس سے نفرت کا اظہار کیا۔ عراقیوں کی صدام حسین سے ناراضی ڈھکی چھپی بات نہ تھی، تاہم امریکی فوجیوں سے نفرت اُس سے کئی ہزار گنا زیادہ ہے۔ عراق کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں امریکا کے خلاف مظاہرے نہ ہوئے ہوں، یا امریکی فوجیوں کو نقصان نہ پہنچایا گیا ہو۔ امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد دارالحکومت بغداد میں ہے اور یہیں سب سے زیادہ پُرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ بم مارنے  اور فوجی گاڑیاں اڑا دینے کے واقعات عام ہیں۔ عراق میں بم مارنے اور باہمی کُشت و خون کے  کُل واقعات کا ایک چوتھائی بغداد میں رونما ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا: عراق میں جنگ غیرقانونی ہے، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر پورا نہیں اُترتی۔

واشنگٹن کے پالیسی ساز کانگرس کے دبائو اور عوامی ردعمل کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگر فوری طور پر افواج، عراق سے واپس بلا لی گئیں تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ امریکی افواج عراق میں ناکام ہوگئیں،نیز یہ کہ امریکی افواج کے عراق چھوڑ دینے سے دنیا بھر کے ’دہشت گرد‘ عراق میں اکٹھے ہوجائیں گے۔ امنِ عالم، جمہوریت، روشن خیالی اور مہذب دنیا کو ناکام کرنے کے لیے نائن الیون، سیون سیون اور سیون الیون جیسے واقعات بار بار رونما ہوں گے۔ اس لیے  کُلی طور پر نہیں، جزوی طور پر امریکی افواج اور بحری و فضائی بیڑے کی موجودگی ضروری ہے اور مشرق وسطیٰ میں ’جمہوریت کی ترویج‘ کی منزل بھی تو حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

اگلے صدارتی انتخابات جیتنے والا امریکی صدر مجبور ہوگا کہ سال ۲۰۰۸ء میں امریکی افواج کی تعداد میں واضح طور پر کمی کا اعلان کردے۔ سول سوسائٹی کے اراکین اور کانگرس مشترکہ طور پر مطالبہ کرچکے ہیں کہ فوج واپس بلائی جائے۔

امریکا نے بغداد میں جو حکومت قائم کی ہے، وہ بھی مجبور ہوجاتی ہے کہ امریکا کے غیرقانونی، غیراخلاقی تسلط کے خلاف لب کشائی کرے۔ جولائی ۲۰۰۶ء میں عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے عراق پر امریکی حملے اور اس کے نتائج کو ’ذبح کرنے والوں کی کارروائی ‘ قرار دیا۔ عالمی پیمانے پر بھی امریکا کو تنہائی کا سامنا ہے۔ کئی ممالک نے واشنگٹن کے اتباع میں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے فوجی عراق بھیجے تھے، مگر اب اُن میں سے اکثر نے اپنی فوجیں عراق سے نکالی ہیں۔ برطانیہ بھی اپنی فوجیں عراق سے نکال رہا ہے جو کہ امریکا کا جاںنثار ’شریکِ کار‘ رہا ہے۔ اُس کے بعد امریکا کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عراق میں اپنی افواج کو ’کثیر المُلکی فوج‘ قرار دے۔

چین کی سوشل سائنس اکیڈمی میں انسٹی ٹیوٹ براے مطالعہ مغربی ایشیا و افریقہ قائم ہے۔ اس کے مطالعہ مشرقِ وسطیٰ کے ڈائرکٹر وانگ جنگ لی کا کہنا ہے:

گذشتہ پانچ برسوں میں سیاسی تعمیرنو کے دوران، عراق کو انتہائی ناہموار حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وفاقی نظام اور سیاسی انتشار نے عراق کی شناخت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عراق کو ایسی سیاسی قوت کی ضرورت ہے کہ جو لسانی، مذہبی اور قبائلی تعصب سے بالاتر ہوکر تعمیرنو کا مقامی عمل شروع کرے۔ یہ قوت عراق ہی سے اُبھرنی چاہیے، باہر سے آنے والی قوت یہ کام نہ کرسکے گی، نہ امن وامان اور سرحدوں کی حفاظت کا کام ہی، بیرونی ایجنٹ سرانجام دے سکیں گے۔

روسی افواج ۱۹۷۹ء میں افغانستان میں داخل ہوئیں اور ۱۹۹۲ء تک واپس جا چکی تھیں لیکن اس عرصے میں روس کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ سوویت یونین کے زوال پذیر ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔ امریکا کو ویت نام، کوریا اور اب عراق کے تجربے سے یہ سیکھ لینا چاہیے کہ ’عالمی داداگیری‘کے دورانیے کو طول دیتے ہوئے اُس کو داخلی محاذ پر شکست در شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی اراکینِ کانگرس، اراکینِ سینیٹ، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی کے ارکان اور انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والے امریکی عوام یقینا اپنی حکومت پر دبائو ڈالیں گے کہ عراق سے اپنی افواج واپس بلالیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اُن کی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، اور امریکا سے بڑھتی ہوئی نفرت انتقامی جذبے کو ہوا دینے کا باعث بنے گی جس سے عالمی امن تباہ ہوسکتا ہے اور اس کی ذمہ داری امریکا کے سر ہوگی۔ کاش! امریکی حکمران عقل کے ناخن لیں۔

اس پُرآشوب دور میں ، جب کہ انسانیت تیزی سے جاہلیت کی کھائی میں گرتی چلی جارہی ہے، گنتی کے چند لوگ ایسے ہیں جو اپنا تن من دھن اللہ کی خاطر لگاکر دنیا و آخرت میں سرخ رُو ہوتے ہیں اور اُمت مسلمہ کے لیے امید کی کرن بن کر پھوٹتے ہیں۔ انھی قابلِ قدر ہستیوں میں سے ایک میری شفیق استاد ڈاکٹر فوزیہ ناہید گذشتہ ماہ (۱۳؍ مارچ ۲۰۰۸ئ) نفسِ مطمئنہ کی طرح راضی برضا، اپنے رب سے جاملیں، اناللّٰہ وانا الیہ رٰجعون!

ڈاکٹر فوزیہ ناہید ۷ فروری ۱۹۶۱ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ابھی آٹھ برس کی تھیں کہ  والدہ کا انتقال ہوگیا۔ زمانۂ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طالبات سے وابستہ ہوئیں اور مختلف  ذمہ داریوں پر فائز رہنے کے بعد ناظمۂ اعلیٰ منتخب ہوئیں۔ بعدازاں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (خواتین، PIMA) اور جماعت اسلامی حلقۂ خواتین میں مختلف ذمہ داریاں بھرپور انداز سے ادا کیں۔ وہ پچھلے ۱۲ برس سے امریکا میں مقیم تھیں۔ امریکا میں اسلامی تحریک اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (ICNA) کے حلقۂ خواتین کی چار سال تک ناظمۂ اعلیٰ رہیں اور آخری دم تک تحریک کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا، اور بہت سے لوگوں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ان کی یہی نیکیاں ان شاء اللہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں گی۔

l سراپا تحریک: ان کی پوری زندگی سراپا تحریک تھی۔ ہر رول میں، ہر جگہ،        ہر دائرۂ کار میں جہاں انھوں نے کام کیا، ایک تحریک برپا کی اور دعوت، تنظیم و تربیت کا بیک وقت کام کیا۔ طالبہ علم کی حیثیت سے کالج و یونی ورسٹی میں، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے اپنے گھر والوں میں، ڈاکٹر کی حیثیت سے پروفیشنل خواتین میں، بہو کی حیثیت سے اپنے سسرال میں، بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے ساتھ، ماں کی حیثیت سے اپنے بچوں میں اور پھر جس جس حلقے میں ان کی رہایش رہی، ہر جگہ انھوں نے مستحکم بنیادوں پر کام کیا جس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ بلاشبہہ بہت سے لوگ اخلاص و ایثار سے خدمت کرتے ہیں، قرآن و حدیث کا علم پھیلاتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ سب کام کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو تحریک سے جوڑتے ہیں، ان کا تزکیہ و تربیت کرتے ہیں اور انھیں اپنی صلاحیتوں کو تحریک میں کھپانا سکھاتے ہیں، اور باہم اخلاص کے رشتے میں پرو دیتے ہیں۔ آخری برسوں میں بھی فوزیہ باجی کو تنظیم جس بھی ٹیم کے ساتھ کردیتی وہ ٹیم خود بخود سب سے زیادہ متحرک ہوجاتی۔ وہ ان سے صرف کام نہیں لیتی تھیں، بلکہ ان سے محبت کرتی تھیں، ان کا تزکیہ و تربیت کرتی تھیں، ان کو دعوت کے عملی طریقے سکھاتی تھیں، نظمِ بالا سے جوڑتی تھیں، اور ان کے اندر قائدانہ اوصاف کو اُجاگر کرتی تھیں۔ شورائیت، بصیرت، قوتِ فیصلہ اور حکمت، ہر لحاظ سے ہمہ پہلو محنت کرتی تھیں۔

  • دعوت الی اللّٰہ کی تڑپ: ان میں اللہ کی طرف بلانے کی بے پناہ تڑپ تھی۔ جس نے بھی ان کے ساتھ چند گھنٹے گزارے اس نے اس چیز کو محسوس کیا۔ امریکا میں ان کے کام کو دیکھنے کا مجھے زیادہ قریب سے موقع ملا۔ نیویارک کے مختلف علاقوں اور پھر ریاست کینٹکی میں انھوں نے خواتین میں صفر سے کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے پہلے خواتین سے انفرادی روابط استوار کیے، پھر دعوتی حلقے قائم کیے، قرآنی کلاسز اور دورۂ تفسیر وغیرہ کے ذریعے لوگوں کو اپنے مقصد زندگی پر سوچنے کی دعوت دی۔

پہلے سال جب فلوریڈا پہنچی تھیں، تو ان کے جاے قیام کے قریب مسلمانوں کی کوئی بہت بڑی آبادی نہ تھی مگر اس کے باوجود انھوں نے صرف ایک ملایشین خاتون کے ساتھ بیٹھ کر دورۂ قرآن مکمل کیا۔ اس زمانے میں وہ پہلی بار انگریزی میں قرآن کا مطالعہ کر رہی تھیں۔ اپنے اس تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ میں ڈکشنری ساتھ رکھتی تھی اور ترجمے کے دوران جو لفظ بہت مشکل سا آجاتا تو اس کو دیکھتی جاتی تاکہ ملایشی بہن کو سمجھانے میں آسانی ہو۔ اس کے بعد نیویارک میں کثیرتعداد کے حلقوں میں دعوتی کام کیا۔ پاکستانی ، امریکی، عرب ہر زبان بولنے والی خواتین پر اثر ڈالا۔

میں حیران ہوتی تھی کہ فوزیہ باجی کے نہ صرف پاکستانی بلکہ دوسرے ممالک کی خواتین سے بھی اتنے اچھے اور مؤثر تعلقات کیسے قائم ہیں۔ پاکستان سے آنے والے پڑھے لکھے طبقے کی انگریزی ویسے تو بہت اچھی ہوتی ہے لیکن یہ بولنے میں گھبراتے ہیں اور بوجھل لہجے کی وجہ سے امریکیوں کو ان کی بات سمجھنے میں دقت بھی ہوتی ہے۔ ایک دفعہ میں نے ان سے کہا کہ آپ ان سب لوگوں سے کیسے اتنی دوستی کرلیتی ہیں؟ ان کے مزاجوں کو کیسے سمجھ لیتی ہیں؟ آپ تو یہاں امریکا میں پلی بڑھی نہیں ہیں۔ پھر یہاں کے ماحول میں بسنے والوں کے ذہنوں کو کیسے پڑھ لیتی ہیں؟ اس پر وہ اپنے روایتی انداز سے کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور بولیں: ’’دیکھو! اللہ تعالیٰ کیسے کیسے لوگوں سے اپنا کام لے لیتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک داعی کی تڑپ اور خلوص ان تمام ظاہری کمیوں پر بھاری ہوتا ہے۔

کسی نے تھوڑا عرصہ ساتھ گزارا ہو یا زیادہ، فوزیہ باجی ایک مثالی کارکن کی طرح اسے کسی نہ کسی طریقے سے دعوت ضرور دیتی تھیں۔ ایک بار وہ اپنی بیٹی کے علاج کے لیے امریکا ہی کی کسی دوسری ریاست کے ہسپتال میں کچھ روز کے لیے ٹھیری ہوئی تھیں۔ وہاں بیٹھے ہوئے وہ اپنا وقت ضائع نہ کرتیں۔ اپنی بیٹی کو کتابیں پڑھ کر سناتیں یا پھر فراغت ملتے ہی اپنے زیرتربیت دو تین خواتین کو ہسپتال کا نمبر دے دیا تاکہ رابطہ رہے اور نظم کے کام نہ رکیں۔ کچھ دیر کاموں کی ہدایات دینے کے بعد انھیں کہنے لگیں: ’’دیکھو، میں یہاں نیم پرائیویٹ کمرے میں ہوں۔ یہاں پر ایک اور امریکن عورت بھی ہے جو اپنے بچے کو لائی ہے۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا ہے کہ اس کو میرا فون پر زیادہ دیر تک باتیں کرنا، ناگوار گزرتا ہے۔ میں تھوڑی دیر اس سے باتیں کر کے کچھ گنجایش پیدا کرتی ہوں۔ ان شاء اللہ تم سے بعد میں بات کروں گی‘‘۔ اگلے روز میں نے پوچھا: ’’کیا ہوا، اس عورت سے بات کیسی رہی؟‘‘ تھوڑا سا ہنستے ہوئے بتانے لگیں کہ: ’’پہلے تو وہ خفا خفا ہی رہی، مگر پھرمیں نے کچھ اس کی خدمت کی، ہاتھ بٹایا، بچے کے حوالے سے بات چھیڑی۔ اس کی مشکلات دریافت کیں اور پھر ان کے حل بتائے۔ اس طرح وہ ذرا مائل ہوئی۔ آخر میں خود ہی میرے بارے میں، اسلام کے بارے میں میم صاحبہ نے اتنے سوالات کیے کہ خودبخود میرا کام ہوگیا۔ اس کو قرآن کا ترجمہ اور کچھ کتابچے میں نے تحفے میں دیے اور بہت سی ویب سائٹس سے تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا۔

یہ تین سال پہلے کی بات ہے جب انھیں کینسر ہوگیا، تو شروع میں انھوں نے ہر ذمے داری سے فوراً استعفا دے دیا تھا، اور صرف زیرتربیت افراد اور مرکزی نظم کے تربیتی کاموں میں ہاتھ بٹانے کی ہامی بھر لی تھی۔ جب ان کی پہلی کیموتھراپی اختتام کو پہنچی تو ہم سب سمجھ رہے تھے کہ وہ    فہم قرآن کلاسز میں ٹیچر کی حیثیت سے واپس آکر ہمارے ارکان و امیدواران کی تربیت میں حصہ ڈالیں گی، لیکن انھوں نے اس ذمے داری کو لینے سے انکار کردیا۔ میں نے اپنے طور پر ان کو راضی کرنے کی کوشش کی تو کہنے لگیں: ’’اب کلاس کو اور تربیت کے اہم کام کو نئی ٹیم کے ساتھ باقاعدگی سے چلنے دو۔ میری طبیعت کا کچھ پتا نہیں ہے۔ آج ٹیسٹ صحیح آئے ہیں، کل نہ جانے کیا ہو۔ تم فکر نہیں کرو، اس کے باوجود میں ’غیرفعال‘ ہوکر نہیں بیٹھوں گی، ان شاء اللہ۔ پھر وہ ’اکنا‘ کے     دعوتی پراجیکٹ Why Islam? (اسلام ہی کیوں؟) میں مرکزی سطح پر بھی شامل ہوگئیں، اور   اس کام میں خواتین کے نظم کا بھرپور منصوبہ تیار کرایا۔ مقامی آبادی میں تیزی سے کام کرنے کے حوالے سے کارکنان کے اندر جذبہ بیدار کیا۔ مردانہ نظم سے ان تمام چیزوں پر تفصیلی مکالمہ کیا، اور ’اسلام ہی کیوں؟‘ پراجیکٹ کے لیے مرکزی ٹیم تیار کی۔

  • تعداد اور معیار میں توازن : دعوتی اور تربیتی کاموں میں فوزیہ باجی کی توجہ اس بات پر ضرور ہوتی کہ تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ معیار کو ذرہ برابر بھی گرنے نہ دیں، یعنی صرف افراد جمع کرلینے ہی پر ان کی توجہ مرکوز نہ ہوتی، بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی کو وہ اپنا  اصل ہدف بناتیں۔ بیک وقت یہ سارے کام کرنا اگرچہ مشکل ہے، لیکن بقول ڈاکٹر فوزیہ: ’’تحریک تو پھر اسی چیز کا نام ہے‘‘۔

’اکنا‘ کا کام ایک عرصے تک صرف پاکستانی طبقے اور اُردو زبان بولنے والے مسلمانوں ہی تک محدود تھا۔ پھر ۹۰ کے عشرے میں انگریزی میں کام کی طرف پیش رفت ہوئی۔ ڈاکٹر فوزیہ کی نظامت کے دوران کچھ ارکان کی طرف سے نظام کو یک سر تبدیل کرکے ہر چیز کو فوراً انگریزی میں لانے کامطالبہ بہت زور و شور سے کیا گیا۔ انھوں نے اس پر بہت حکمت اور سلیقے سے کام کیا۔ وہ کہاکرتی تھیں کہ ہمیں بہت اہم کام کرنا ہے۔ امریکا میں اسلامی تحریک و دعوت کا کام کوئی اتنا آسان نہیں ہے کہ ہر کاغذی کارروائی کا انگریزی میں ترجمہ کر دو اور یہ کام ہوگیا۔ اس کے لیے دیرپا کام کرنا ہوگا۔ پہلے ہم میں سے ایسے افراد تیار ہوں جو مقامی آبادی کو سمجھ کر ان میں دعوتی کام کرسکیں۔ پھر جو لوگ مقامی آبادی میں سے تحریک سے وابستہ ہوں، ان کی تنظیم و تربیت کا معقول انتظام انھی کی زبان میں کیا جائے۔ اس کے لیے ویسا ہی نظام ہو جیسا مولانا مودودی نے تحریک کے شروع میں کیا تھا۔ انھی کی زبان میں لٹریچر تیار ہو، ان کی تربیت گاہیں ہوں، وہ تنظیمی اجتماعات کریں، تاکہ پہلی مقامی ٹیم کو تحریک کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ اس کا طریقۂ کار، دعوت و تنظیم اور تربیت کا ربط، دوسری تنظیموں اور اس میں فرق اچھی طرح ان پر واضح ہوجائے۔ ان کی بنیادی عبادات، اخلاقیات سب پر سیرحاصل کام ہو اور پھر یہ لوگ نکل کر اس ملک میں بھرپور کام کریں۔ ساتھ ہی اُردو زبان بولنے والے، تارکین وطن کو بھی لے کر چلیں۔ اس طرح دوسری آبادیوں، ہسپانوی، بنگالی، عرب وغیرہ سب کے اندر دعوت پھیلائیں۔

  • افراد کی تیاری : اسلامی اقدار کی سینہ بہ سینہ منتقلی، محبت اور خلوص کے ساتھ افرادِ کار کی تربیت کا کام وہ بہت عمدگی سے کرتی تھیں۔ لوگوں کے مزاجوں کو سمجھنے میں انھیں زیادہ دیر نہیں لگتی تھی۔ افراد کو ان کے مزاج اور صلاحیتوں کے لحاظ سے صحیح ذمہ داری پر لگاتیں۔ ہمیشہ بنیادی چیزوں کی تربیت پر سب سے پہلے توجہ دیتیں اور بعد میں بھی اکثر انھیں بنیادی چیزوں کے بارے میں پوچھتی رہتی تھیں۔ نماز، اس کی پابندی، اس میں خشوع، روزانہ کا باقاعدہ مطالعہ، قرآن سے ربط وتعلق، اس پر تدبر، حدیث و سیرت کا مطالعہ، اس سے سبق اخذ کرنا،تحریکی لٹریچر کا مطالعہ، حلقے میں دعوتی کام، وغیرہ ان چیزوں کو سب سے پہلے صحیح کرواتی تھیں۔ مگر اس میں ان کا انداز ایک ٹیچر کا نہیں بلکہ ایک پُرخلوص بہن اور ساتھی کا سا ہوتا۔ اپنے زیرتربیت روابط سے کہتیں: ’’چلو، ہم دونوں یوں کرتے ہیں کہ روزانہ فجر کے بعد ایک دوسرے کو فون کریں گے اور ساتھ ساتھ فون پر ہی مطالعہ کریں گے تاکہ میں مطالعہ کرتے ہوئے سو نہ جائوں‘‘۔ کسی کو یہ محسوس نہ ہونے دیتیں کہ وہ تو ان چیزوں کی پہلے ہی سے پابند ہیں۔ کہتی تھیں کہ ہمارا کام اتنا کھوکھلا نہیں کہ بس چند وعظ و تقریریں ہوں اور بہت واہ واہ ہو۔ ہمیں تو دلوں کے دروازے کھٹکھٹانے ہیں، دلوں کو بدلنا ہے جیساکہ پیارے نبیؐ نے کیا تھا۔ دل کے اوپر بہت سے لبادے اور تالے ہوتے ہیں۔ اپنے ہی دل کو جھانک کر دیکھ لیں۔ پیارے نبیؐ کا فرمان ہے: تقویٰ یہاں (دل میں) ہے۔

سیرت و اخلاق کے حوالے سے تربیت کے لیے بہت سے افراد کو آپس میں جوڑ دیتی تھیں۔ مختلف مزاج کے افراد کی جوڑی بنا دیتی تھیں۔ اگر نئے اور پرانے افراد میں کھچائو محسوس ہوتا تو ایک نئے اور ایک پرانے فرد کو آپس میں کام کرنے کو دے دیتیں۔ نوجوان اور بزرگ افراد کو ساتھ کر دیتیں۔ اسی طرح شوریٰ میں بہت زیادہ بولنے والے شخص اور بہت خاموش رہنے والے کی جوڑی بنا دیتیں اور ساتھ بتا بھی دیتی تھیں کہ فلاں سے تم بات کی تہہ تک پہنچنا اور راے بنانا اور فیصلہ کرنا سیکھو، اور تم فلاں سے فورم پر صحیح انداز میں سلیقے کے ساتھ بات کو پیش کرنا سیکھو۔ ’اکنا‘ میں اخوہ نظام کی بنیاد انھوں نے ہی ڈالی۔ یہ اخوان کے نظام اسرہ کی طرح آپس میں کارکنان کے گروپس اور جوڑے ہیں۔ پہلے صرف ارکان میں پھر تمام کارکنان میںاس کو رائج کیا گیا۔ پھر افراد سے بڑھ کر ٹیموں اور شورائوں میں، پھر اس سے بڑھ کر شہروں کا نظام بنا دیا گیا، تاکہ شہروں کے نظم اور شورائیں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھیں اور سیکھیں۔

  • شخصیت پرستی کا توڑ: اس دور میں، جب کہ اُمت مسلمہ میں اور خاص طور پر امریکا میں دینی حلقوں میں خصوصاً شخصیت پرستی کا رواج عام ہے۔ افراد مقرر کے نام کی وجہ سے اس کو سننے آتے ہیں، خوب واہ واہ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، یا پھر تبدیلی آتی ہے تو صرف ایک فرد سے جڑتے ہیں، پوری تنظیم و تحریک سے وابستہ نہیں ہوتے، اور جب وہ فرد وہاں سے ہٹتا ہے تو پھر غیرفعال ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے کبھی بھی اپنی ذات کو دعوت کا مرکز بننے نہیں دیا۔ ہمیشہ ٹیم کی تیاری کی اور پھر اس کو نظم سے جوڑا، آپس میں جوڑا، دعوتی تڑپ اور تزکیے کی پیاس دی،   اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرنے کے ڈھنگ سکھائے، خوداعتمادی دی اور پھر عملی میدان میں مغفرت کی طرف دوڑنے کے لیے چھوڑ دیا۔

قرآن فہمی کے تین سالہ کورس میں ہم نے انھیں ’’میں ایسی ہوں‘‘ یا پھر ’’میں ایسا کیا کرتی ہوں‘‘ کہتے نہیں سنا۔ وہ آج کے دور کی بہت سی مثالیں دیتیں، لیکن دوسروں کی۔ اس میں بھی انھوں نے توازن کی تلقین کی۔ نظم کے افراد کا، مقررین کا، نمایاں کام کرنے والے تحریک کے ارکان و کارکنان کا تعارف اور ان کے کام کے تذکرے کو بالکل درست سمجھتی تھیں۔ شعبہ تربیت کے تحت ’’میں نے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ کیسے پایا؟‘‘ کے عنوان سے یہاں پر مضمون نویسی کا ایک مقابلہ ہوا تھا۔ نظم نے اس مقابلے کے مضامین کو بغیر ناموں کے ایک کتاب میں چھپوانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے وقت وہ پاکستان گئی ہوئی تھیں۔ واپس آکر انھوں نے نظم کو قائل کر کے اور اس کی اجازت سے اپنی کتاب میں تمام افراد کے نام لکھوائے۔

ہر اجتماع میں ضرور کسی نہ کسی ساتھی کا تعارف یا اس کی تعریف ضرور کرتیں، آپس میں ان میں محبت پیدا کرتیں اور پھر نظم کے ساتھ جوڑ کر خود ان افراد کو چھوڑ دیتیں۔ بعض اوقات اگر ان ساتھیوں کے بہت فون آتے تو ارادہ کر کے انھیں نہ سنتیں اور کہتیں کہ اب آپ اپنے متعلقہ نظم سے تعلق رکھیں۔

  • درس و تدریس اور عملی تربیت: قرآن و حدیث پڑھانے کے دوران میں وہ صرف نظریاتی باتیں نہیں کرتی تھیں، بلکہ پوری طرح علمی و تحقیقی بات رکھنے کے بعد عملی مثالیں ضرور دیتیں اور آخر میں عمل کے لیے کرنے کو کام بھی دیتی تھیں، جن کے بارے میں کلاس میں پوچھا جاتا تھا۔ اس طرح وہ علم اور تربیت کا کام ساتھ ساتھ کرتیں۔ شروع کے قرآنی پاروں کو پڑھانے کے بعد پوچھتی تھیں کہ اب لوگ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شروع میں نماز اور انفاق وغیرہ کے لحاظ سے کام دیے۔ نمازوں اور مطالعے کی پابندی کے لیے پانچویں پارے کے ساتھ ہی انفرادی جائزہ رپورٹ فارم کا تعارف دیا اور پارے کے ٹیسٹ میں اس کو روزانہ پُر کرنے کے بونس نمبر رکھ دیے۔ شروع ہی کے سپاروں میں اجتماعیت کا تعارف اور اس میں شامل ہوکر نصاب، تربیت گاہیں، کلاسز وغیرہ سے فائدہ اٹھانے کی رغبت دلائی۔ پھر جب پندرھویں پارے پر پہنچے تو پچھلی کلاس کے حوالے سے انبیاے کرام ؑ کے دعوتی انداز وغیرہ کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہنے لگیں: ’’اب مجھے یہ جواب نہیں چاہیے کہ یوں کرنا چاہیے اور یوں ہونا چاہیے، بلکہ اب یہ بتائیں کہ ہم نے حلقے میں یہ کیا اور یہ نہ کیا، اگر آدھے قرآن کے تفصیلی مطالعے کے بعد بھی عملاً دعوت شروع نہ کی تو پھر یہ قرآن ہمارے خلاف کہیں حجت نہ بن جائے‘‘۔

قرآن پاک کو خود انھوں نے کئی علما سے پڑھا ہوا تھا لیکن پھر بھی بہت محنت سے متعدد تفاسیر، اور بے شمار احادیث و سیرت کی کتب اور اسلامی لٹریچر سے تیاری کرتی تھیں۔ ہرہرفرد کو فون کرتیں، ان سے روابط رکھتیں، فاصلوں کے باوجود کسی نہ کسی طرح ضرور ملنے کی کوشش کرتیں۔ اپنے روابط اور زیر تربیت افراد سے یوں نہ پوچھتیں کہ ٹیسٹ کیوں نہیں دیا، بلکہ فون کر کے کہتیں: بہت دنوں سے آپ کی پوزیشن نہیں آئی، مجھے اس بات کا بہت رنج ہے۔ جون جولائی کی چھٹیوں میں اپنی فیملی کے اصرار پر فوزیہ باجی بچوں کے ساتھ پاکستان گئیں۔ واپس آئیں تو کلاس کی حاضری کافی متاثر ہوچکی تھی۔ پھر سے مہماتی انداز میں تمام افراد کو جمع کیا اور ماحول بنایا تاکہ محنت سمیٹی جاسکے۔ قرآن کی اس کلاس کے ساتھ ساتھ لٹریچر کا مختصر کورس بھی کروا دیا، افراد کو متعلقہ نظم سے جوڑا، ان کی ناظمات سے رابطے رکھے۔ کلاس کے اختتام تک بہت سی بہنیں ’اکنا‘ کی رکنیت کے لیے بالکل تیار تھیں صرف اس لیے نہیں کہ انھوں نے قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کیا تھا، گرامر پڑھ لی تھی، بلکہ اس لیے کہ انھوں نے قرآن کی برپا کردہ تحریک کو قرآن ہی کی روشنی میں سمجھا اور اس میں عملی قدم رکھا۔ اپنے اپنے نظم کے تحت عملی اور دعوتی و تربیتی میدان میں سرگرم عمل ہوگئیں۔

  • ھمہ پھلو قائدانہ کردار: جمعیت کی ناظمۂ اعلیٰ کی حیثیت سے انھوں نے بھرپور محنت کی اور اسی وقت سے ان کی قائدانہ صلاحیتیں اُجاگر ہوچکی تھیں۔ ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۱ء تک وہ ’اکنا‘ کے خواتین ونگ کی ناظمۂ اعلیٰ رہیں۔ اس دوران انھوں نے ایک پوری ٹیم کی تیاری کی۔ مرکز، شہر، حلقہ ہر سطح پر افراد تیار کیے۔ شعبہ جات کو منظم کیا، تنظیم کو اسلامی شورائی نظام میں ڈھالا۔ ہرہرشعبے کے مقاصد پر ڈسکشن کی تاکہ مقصد کو سمجھتے ہوئے ہرہر ٹیم تحریک کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرے۔

دعوت کے شعبے کے تحت انھوں نے ایک ہی ساتھ تمام امریکا میں ’اکنا‘ کے تحت دعوت بذریعہ قرآن کے نئے نئے انداز سمجھائے۔ پہلے ہی سال سے دعوتی اجتماعات میں مختلف تقریریں اور ڈسکشنز کے بجاے قرآنی کلاسیں، خاص ترتیب کے ساتھ دروسِ قرآن اور دورۂ تفاسیر کروانے پر توجہ مرکوز کر دی۔ اس مقصد کے لیے مدرسین کی تیاری بھی تمام حلقہ جات میں بھرپور انداز سے کی۔ مرکزی سطح سے فون، دوروں اور تربیت گاہوں کے ذریعے تفصیلی ہدایات، ورکشاپس، مشقی سیشن رکھوائے۔ وہ کہتی تھیں: ’اِدھر اُدھر جاکر درس دے کر آجانے والے نہیں، بلکہ ان کے خیال میں تحریک کو ایک جگہ جم کر کام کرنے والے درس کے ساتھ تربیت کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ انھوں نے دعوتی مہمات رکھوائیں جو کہ ’اکنا‘ کی خواتین کے لیے کافی نیا تصور تھا۔ ان کے ذریعے کارکن کے دعوتی مزاج کو بیدار کرنے اور اس کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

شعبۂ تربیت کی ازسرنو تشکیل و تنظیم کی۔ نصاب، جائزہ فارم، تربیت گاہیں، کلاسز، اخوہ نظام، قائدین کی تیاری، ان سب چیزوں کے مقاصد زیربحث لاتے ہوئے ازسرنو رائج کیا۔ ’اکنا‘ اور ایم اے ایس کے شعبۂ تربیت کی ٹیموں نے مل کر جو ہدایات مرتب کی تھیں ان کو خواتین میں عملی طور پر قائم کیا۔

نائن الیون کے بعد افراد کو سمیٹتے ہوئے ’آن لائن‘ (online) پروگرام کرنے کا طریقہ استعمال کیا۔ اس وقت اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ کارکن کا عزم اور حوصلے کو بلند رکھا جائے۔ بزدلی اور منافقت کے بہت سے رویوں سے بھی بچنا سکھایا اور آزمایش کی صورت میں حفاظتی تدابیر کا شعور بیدار کیا۔ مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لیے وہ کافی مشکل مرحلہ تھا۔ بہت سے عام مغرب زدہ مسلمانوں نے تو اپنے رنگ ڈھنگ اور نام تک بدل کر غیرمسلموں جیسے کرلیے۔ بہت سے لوگ انتظامیہ کے آلۂ کار بن گئے۔ ایسے وقت میں کارکن کو اور عام افراد کو ایمان مضبوط رکھنا اور سکھانا   یہ کام فوزیہ باجی اور ان کی مرکزی ٹیم نے آن لائن اور سرکلرز کے ذریعے کیا۔ آن لائن میٹنگز میں انھوں نے رخصت و عزیمت کے موضوع پر مکالمے اور تبادلۂ خیالات کا اہتمام کیا اور کہا کہ اپنی ذات کی حفاظت کے لیے ہرگز ایمان کا سودا نہ کرلینا۔ ایمان کی حفاظت پہلے کرنا، خواہ اس کے لیے اصحابِ کہف کی طرح اپنے آپ کو غار میں محصور ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

ان کے دورِ نظامت ہی میں میڈیا کے حوالے سے کام شروع ہوا۔ ویب سائٹ، ای میل وغیرہ اور دیگر ذرائع بہتر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ قیادت کی تیاری اور فکری و تحقیقی کام کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز کا انعقاد کیا___ غرضیکہ تھوڑی سی مدت میں انھوں نے ہرسطح پر، ہر سمت میں تحریک کو پھیلایا اور اس کو استحکام دیا۔

  • بیت المال کے بارے میں حساسیت: بیت المال کے حوالے سے وہ بہت زیادہ حساس تھیں۔ اس کی جواب دہی سے بہت خوف کھاتی تھیں۔ اس سے بھی ڈرتی تھیں کہ حساب کتاب میں کوئی نقص ہو اور اس سے بھی کہ اس آنے والی رقم کا صحیح استعمال نہ ہو۔ زیادہ فضول خرچی اور زیادہ تنگ نظری، یا بخل دونوں ہی سے ڈرتی تھیں۔ کہتی تھیں کہ اس کا بھی سوال ہوگا کہ ایک ایک پیسہ کہاں استعمال ہوا، اور اس کا بھی کہ جو آیا تھا، اس کا بہتراستعمال کرنے کے بجاے جمع کر کے کیوں رکھا؟ تربیت اور بیت المال ان کے خیال میں ناظم کی دو اہم ترین ذمے داریاں ہیں، جن کے بارے میں ہر سطح کے نظم کو سب سے زیادہ فکرمند ہونا چاہیے۔ اسی لیے وہ بیت المال کی رپورٹ وقت پر اور پابندی سے پیش کیے جانے کا خاص اہتمام کرتی تھیں۔
  • اسلامک فیمنزم کا چیلنج: آج کل دنیا میں feminism (تحریکِ نسواں) کے نظریات پورے زور و شور کے ساتھ پھیلائے جارہے ہیں۔ عام خواتین، خواہ وہ سیکولر ہوں یا   دین دار گھرانوں سے تعلق رکھنے والی، پڑھی لکھی ہوں یا اَن پڑھ، شہری ہوں یا دیہاتی___ سب اس سے کچھ حد تک متاثر ضرور ہیں۔ امریکا میں تو ’جدید دین دار‘ خواتین کا ایک ایسا گروہ بھی سامنے آگیا ہے جو خواتین کا جمعے کا خطبہ دینا، نماز میں مردوں کی امامت کرنے اور سب کے ساتھ    شانہ بشانہ نماز ادا کرنے کو بالکل جائز سمجھتا ہے۔ سواے ’اکنا‘ کے تمام اسلامی تنظیمیں مرد و زن کی تفریق کو غلط سمجھتی ہیں۔ بہت سے مسلم اسکالر عورت کی حکمرانی کے ْخلاف دلائل کو تسلیم نہیں کرتے اور اسی وجہ سے بہت سی بڑی بڑی اسلامی تنظیموں کی صدر خواتین بھی منتخب ہوتی ہیں۔ دوسرا گروہ ایسے افراد کا ہے جو دین کے فروغ کی ذمے داری صرف مرد ہی کی سمجھتے ہیں۔ عورتوں کی باقاعدہ تنظیم ہی کے خلاف ہوتے ہیں۔ حالانکہ سب ہی عورتیں اپنی گھریلو ضرورتوں سے، دوست احباب سے ملنے یا دوسری وجوہات سے گھر سے باہر جاتی رہتی ہیں۔ سفر بھی کرتی ہیں، اکیلے پاکستان بھی چلی جاتی ہیں لیکن جب دین کے کام کے لیے گروپس میں نکلنے کو کہا جائے تو یہ انھیں شریعت کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔

’اکنا‘ پر اس بات کا بہت دبائو ہوتا ہے کہ ہم بھی دوسری تنظیموں کے سے رنگ ڈھنگ اختیار کریں۔ عورتوں اور مردوں کے اندر تفریق ختم کرکے تمام کو ایک ہی حلقے کی طرح یک جا لے کر چلیں۔ مسجدوں کو ’ویمن فرینڈلی‘ (women friendly) بنانے کے لیے اور مسجدوں کی شورائوں کو مخلوط بنوانے کے لیے جدوجہد کریں۔

ایسے حالات میں انھوں نے تحریک کو دونوں انتہائوں سے بچاتے ہوئے ایک متوازن راستے پر رکھنے کی بھرپور کوشش کی کہ عورتیں اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے بھرپور تحریک چلائیں۔ ایسا نہ ہو کہ جن کی گودوں میں مسلمانوں کی اگلی نسلیں پل رہی ہیں، وہی اس تحریک، اس کے عملی اتارچڑھائو اور مقصدِ زندگی سے ناآشنا رہ جائیں۔ بقدرِ ضرورت تمام اسلامی حدود پر عمل کرتے ہوئے مردانہ نظم سے رابطہ بھی رکھیں۔ تمام فیصلوں میں، اِلا.ّ یہ کہ معصیت کا اندیشہ ہو، امیر کی اطاعت اور اتباع کو اپنے اُوپر لازم سمجھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ عورت کو اللہ تعالیٰ نے جو عظیم مقام دیا ہے، اس سے گرنے یا اس پر شکوہ کناں ہونے کے بجاے، اس پر شکرگزاری کا رویہ اختیار کریں۔ اس سلسلے میں ان کی یہ بھی کوشش رہی کہ اسلامی عمومی اجتماعات کے موقعوں پر عام افراد کو بھی   ضابطۂ اخلاق دیا جائے، اس کو سمجھایا جائے تاکہ اختلاطِ مرد و زن سے بچا جاسکے۔

  • حلقۂ اثر اور گہر میں تحریک: وہ اکثر یہ کہا کرتی تھیں کہ اپنے قریب کے حلقے اور گھر والوں میں ہر کارکن کا کام اشد ضروری ہے۔ یہ نہ کرنا اپنے ہی پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ انسان کی نیکی کی جڑ اسی سے مضبوط ہوتی ہے کہ اس کے قریب کے لوگ اندر سے تبدیل ہوجائیں اور ان کے دلوں میں اسلامی انقلاب آجائے۔

ہمارے پوچھنے پر بتاتی تھیں کہ انھوں نے تربیتی نظام کے تمام جزوجو تحریک میں قائم کیے وہ اپنے بچوں اور گھر والوں میں بھی قائم کیے۔ ان کا بھی اخوۃ نظام قائم کیا اور جوڑے بنائے، ان کا بھی رپورٹ فارم اور جائزہ سسٹم رکھا، ان سے قرآن کا مطالعہ ڈسکس کیا، شوریٰ کا نظام رکھا۔ شروع میں اخراجات کی وجہ سے تربیت گاہوں میں اپنی بیٹیوں کو نہیں لاپاتی تھیں لیکن پھر جب انگریزی میں خواتین کی تربیت گاہوں کا انعقاد شروع ہوا، تمام بیٹیوں کے ساتھ اپنی شدید علالت کے باوجود، ہنستی مسکراتی موجود ہوتی تھیں۔

اپنے بچوں کی نیکیوں پر بہت خوش ہوتیں۔ جب بڑی بیٹی چھوٹی سی عمر میں تہجد پر اٹھنے کی خود سے کوشش کرنے لگی تو دلی مسرت کے ساتھ ہمیں بتانے لگیں۔ میں جب بھی اپنے نانا نانی یا  امی ابو کا ذکر کرتی کہ ان سے ہم نے یہ سیکھا تو کہتیں: ’’میں تم کو بتا نہیں سکتی کہ اولاد کی نیکی کو دیکھ کر ماں باپ کو اور بزرگوں کو کیسی راحت ملتی ہے۔ جب میرے بچے فلاں نیکی کا کام کرتے ہیں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ہی میں جنت مل رہی ہے‘‘۔حتیٰ کہ وہ گھروالوں سے تنظیمی ڈسکشن تک کرتی تھیں۔ تحریک کے تقابلی جائزے، سالانہ رپورٹ پر تبصرے، ’اکنا‘ کے دعوتی کام پر باتیں کرتی تھیں۔ واقعی اپنے گھر والوں کو نیکی کے سفر میں ساتھ ساتھ لے کر چلنا ایک مشکل کام ہے، لیکن اس کے اثرات بہت دُوررس ہیں۔

  • وقت کا استعمال: ان کی ایک بڑی خوبی وقت کا صحیح استعمال کرنا تھا۔ ہم سب حیران رہ جاتے تھے کہ وہ ۲۴ گھنٹوں میں کیا کیا کچھ کر ڈالتی ہیں۔ جب ان سے وقت کے بارے پوچھا تو بتایا کہ جب تھوڑا وقت ملے، کتابیں پڑھنا میرا مشغلہ ہے، بس مطالعے کے دوران پنسل سے اپنے تاثرات، اصول وغیرہ ضرور نوٹ کرتی جاتی ہوں۔ لیکن تفصیلی مطالعہ اور مطالعۂ قرآن و حدیث صبح فجر کے بعد کرتی ہوں۔ پھر ناشتے سے فارغ ہوکر تنظیمی کام، میٹنگز وغیرہ۔ کھانا پکانے کا کام تیزی سے کرنے کی مجھے عادت ہے۔ نظامتِ اعلیٰ کے دوران ہفتہ وار چھٹی کے روز ہفتے بھر کے لیے پیاز تل لیتیں، گوشت تیار کرلیتیں یا بہت سے کھانے تیار کر کے ریفریجریٹر میں محفوظ کر لیتی تھیں۔ ایک دفعہ فون پر بات ہوئی تو مزے سے حلیم کھا رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: آپ کو نظامت کے بھاری کاموں، کلاسز کی تیاری، بچوں کے کام، پورے دن کے فونوں کے ساتھ حلیم بنانے کی فرصت کیسے ملی؟ کہنے لگیں: ’’یہ جو فریزر ہے نا، یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ میں اللہ کا   شکر ادا کرتے ہوئے، اس کا خوب استعمال کرتی ہوں، اور پھر یہ کارڈلیس فون اور ہیڈسیٹ بھی اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ ان کے بہت سے سیٹ رکھتی ہوں۔ گھر کے کام ہاتھوں سے جاری رہتے ہیں اور روابط ان کے ساتھ ساتھ۔

ہر روز رات میں اپنا جائزہ لیتیں، اور اگلے دن کے کاموں کی فہرست بنا لیتیں تاکہ سوچنے اور یاد کرنے میں وقت صرف نہ ہو۔ دورے اور تربیت گاہوں وغیرہ میں شرکت کے لیے سفر بھی بہت کرنا پڑتا۔ اس کے لیے بھی پورے دنوں کا کھانا تیار کر کے فریز کر کے جاتیں۔ گھر بھی ہروقت سادہ اور صاف ستھرا رکھتی تھیں۔

عام خواتین کی طرح ہر روز سودا لانے یا بازار شاپنگ میں وقت ضائع نہ کرتی تھیں۔ پورے ہفتے کی ایک فہرست بناکر ہفتے بھر کا سارا سامان ایک ساتھ ہی لاتیں۔ بازار کی دعا بہت پڑھتیں اور ہم سب کو بھی یہ دعا نصاب کے ذریعے یاد کروائی تاکہ اس مادہ پرستی کے فریب سے بچ سکیں۔

گھر آنے والے مہمانوں کی تواضع بھی خوب کرتی تھیں۔ نہ جانے کیسے اس کے لیے وقت نکل آتا تھا کہ کوئی آنے والا ہو تو جھٹ سے کئی کئی کھانے تیار کرلیتیں۔ عام طور پر کوئی زیرتربیت فرد ہو تو تمام کام پہلے سے کرلیتیں، تاکہ تمام وقت اس فرد سے ضروری باتیں کرسکیں۔

  • پیکرِ خلوص: یہ بات لکھتے ہوئے میرا دل افسردہ اور آنکھیں اَشک بار ہیں کہ فوزیہ باجی کے بارے میں ہم سب کا یہی گمان ہوتا تھا کہ جیسے وہ سب سے زیادہ محبت ہم ہی سے کرتی تھیں۔ ایسی سیرت و کردار والے لوگ آج کل بہت ہی نادر و نایاب ہیں۔ اپنے تمام رشتے دار، عزیز واقارب اور تحریکی ساتھی چھوڑ کر میں جب امریکا منتقل ہوئی تو مجھے سب سے پہلے، سب سے آگے بڑھ کر محبت اور شفقت دینے والی ہستی وہی تھیں۔ میں اپنے والدین سے کہتی تھی کہ امریکا  میں میری امی ’فوزیہ باجی‘ ہیں۔ مجھے یقین ہے سیکڑوں بہنوں کے یہی جذبات ہوں گے۔   تربیت گاہوں میں اگر رات کے تین چار بجے بھی میری روانگی ہو تو وہ میرے ساتھ جاگتی رہتیں کہ جتنا وقت ہے ساتھ گزار لیں۔ پھر زور سے گلے ملتیں اور سر پر ہاتھ رکھ کر نبیؐ کی الوداعی دعائیں پڑھتیں۔ اس طرح رخصت کرتیں کہ جیسے بیٹی کو رخصت کر رہی ہوں۔

اگر کوئی فون کرے تو محبت سے بات کرنا، خلوص سے مشورے اور مسائل کا حل دینا، کتنی ہی مصروفیت ہو، ضرور وقت ملنے پر کال بیک کرنا، کم و بیش ہر دفعہ تحفے دینا___ یہ چیزیں ان کی شخصیت کا لازمی حصہ تھیں۔ ’اکنا‘ کی بزرگ خواتین ان کو اپنی بیٹیوں کی طرح چاہتی ہیں اور نوجوان خواتین ان کی گرویدہ! نئے پرانے سبھی لوگوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔

  • باعمل شخصیت : وہ جو کہتیں وہی کرتی تھیں، قول و عمل میں تضاد نہیں تھا۔ صرف دوسروں کو نصیحت نہیں کرتی تھیں، بلکہ خود عملی مثال پیش کرتی تھیں۔ انگلش میں چیزوں کو منتقل کرنے، ’اسلام ہی کیوں؟‘ پراجیکٹ میں، اور حلقے کے کاموں میں دیوانہ وار آگے بڑھ کر کام کرنا شروع کیا۔ کہتی تھیں: ’’مجھے کیا حق ہے کہ میں کسی کو یہ سب کام کرنے کا حکم بس سالانہ پلاننگ کے ذریعے دوں اور پہلے سے خود اس میدان میں موجود نہ ہوں۔ ایک اچھا لیڈر تو خود میدان میں پہلے اُترتا ہے اور پھر آواز لگاتا ہے کہ آئو میرے ساتھیو، چلو میرا ساتھ دو‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کام میں، ان کی بات میں، اس عمل کی تاثیر رکھ دی تھی۔
  • آخری لمحات: علالت و بیماری کے ساتھ بھی بہت محنت کرتی رہیں، حتیٰ کہ ’اکنا‘ کی موجودہ سال کی منصوبہ بندی تک میں بھرپور انداز سے اپنے مشورے دیے۔ فروری میں ہسپتال میں داخل ہوئیں۔ کافی دن ہسپتال میں رہنے کے بعد معلوم ہوا کہ کینسر پورے پیٹ میں پھیل چکا ہے اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ آخری دس بارہ روز گھر پر گزارے۔ کچھ کھانہیں سکتی تھیں۔ ڈرپ کے ذریعے تمام غذائیت ان کو دی جارہی تھیں۔بہت سے لوگ محبت میں ایک نظر دیکھنے کے لیے آرہے تھے۔ فوزیہ باجی سب سے ملتیں، باتیں کرتیں اور جب بولنا ممکن نہ ہوتا، محبت بھری نظروں سے آنے والی بہنوں سے باتیں کرلیتیں۔

دل یہی گواہی دیتا ہے کہ ایسی نفسِ مطمئنہ ! یقینا جنت میں جگہ پائیں گی۔ نیویارک، شکاگو، ہیوسٹن، کیلے فورنیا اور بہت سی جگہوں سے، بہت سے لوگ ملنے آئے اور سب کا یہی کہنا تھا کہ فوزیہ باجی کے آخری ایام تو ایسے تھے جیسے گل ہونے سے پہلے چراغ بھڑک اُٹھتا ہے۔ اسی طرح ایمان افروز اور دینی حرارت سے بھرپور دن تھے۔ سب کو اپنی طبیعت کے بارے میں بتانا، آیندہ کے لیے مشورے دینا، حوصلہ دینا اور یہ کہنا کہ میں تو تیار ہوں اپنے رب کے پاس جانے کو، بس مجھے جنت چاہیے، اپنی دعائوں میں مجھے یاد رکھنا، اور دین کے کاموں میںکوتاہی نہ برتنا۔ لمحہ بہ لمحہ موت کو سامنے آتا دیکھ کر بھی یہ حوصلہ، یہ پختگیِ عزم!

واقعی وہ ایک مثالی خاتون رہنما تھیں۔ عورت کی نیکی یا گمراہی دونوں ہی پوری قوم کے مستقبل پر اثرانداز ہوتی ہے۔ عورت ہی کی گود میں اگلی نسل کے رہنما نشوونما پاتے ہیں___ اگرچہ ۴۷ سال کی کم عمر میں اللہ تعالیٰ نے فوزیہ باجی کو (۱۳ مارچ ۲۰۰۸ئ) اٹھا لیا مگر انھوں نے زندگی جس جدوجہد میں گزاری، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کو دنیا میں پروان چڑھائیں گے اور ان شاء اللہ یہ سب ان کے لیے صدقۂ جاریہ کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائیں، ان کو صدیقین، صالحین اور شہدا کے ساتھ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں، جس تحریک میں انھوں نے اپنا حصہ ڈالا، اس کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے نوازے۔ آمین!

معتدل اسلامی فکر،مصطفی محمدالطحان، مترجم: مولانا گل زادہ شیرپائو۔ مکتبہ المصباح، لاہور۔ صفحات: ۵۰۸۔ قیمت: درج نہیں۔

نام ور عرب محقق پروفیسر مصطفی محمد الطحان کتاب الفکرالاسلامی الوسط کی اصل فکر امام حسن البنا شہید (التعالیم) کی ہے۔ حسن البنا شہید ’اخوان المسلمون‘ کے بانی تھے اور اُمتِ مسلمہ کے لیے دلِ دردمند رکھتے تھے۔ انھوں نے اخوان المسلمون میں بیعت کے لیے ۱۰ ارکان (فہم، اخلاص، عمل، جہاد، قربانی، اطاعت، ثابت قدمی، یکسوئی، اخوت اور اعتماد) بیان کیے ہیں۔  پروفیسر الطحان نے ان ۱۰ ارکان کو شرح و بسط کے ساتھ اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اور ان تمام مباحث میں قرآن و حدیث کو بنیاد بنایا ہے اور جہاں ضرورت محسوس کی ہے وہاں سیرت النبیؐ     اور سوانح صحابہؓ سے بھی مثالیں پیش کی ہیں۔ دورِحاضر کے مسلمان اپنی زندگی کے دروبست کی   درستی و اصلاح کے لیے اس کتاب سے ایک متوازن فکر اپنا سکتے ہیں۔

مولانا گل زادہ شیرپائو نے کتاب مذکور کا ترجمہ شُستہ اور رواں انداز میں کیا ہے، نیز جہاں ضرورت محسوس کی ہے وہاں پاورق میں بعض ضروری امور کی وضاحت اور اضافے بھی کیے ہیں۔ اس اہم کتاب کے ترجمے سے نہ صرف اخوان المسلمون کی تحریک اور اس کے بانی کی فکر سے آگاہی ہوتی ہے بلکہ اس نہج پر چلنے والوں کی فکری رہنمائی بھی ہوتی ہے، نیز خالص اسلامی فکر کی نمایندہ تحریکوں کے درمیان ربط و ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت اور اہمیت و افادیت کا احساس ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دورِحاضر کی منتشر خیالی کے سیلاب کو روکنے کے لیے ایک متوازن اور معتدل فکر اپنانے میں یہ کتاب صحیح سمت میں رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ (محمد ایوب لِلّٰہ)


دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے معصوم شکار، ڈاکٹر ایم اے سلومی، ترجمہ: محمد یحییٰ خان۔ ناشر: نگارشات پبلشرز، ۲۴-مزنگ روڈ، لاہور۔ فون: ۷۳۲۲۸۹۲۔ صفحات: ۴۱۶۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔

ظلم اور مظلومیت، آفت اور بے سروسامانی، جنگ اور تباہی انسانی زندگی کے وہ کرب ناک پہلو ہیں، جن سے بظاہر فرار ممکن نہیں ہے۔ مگر ان تمام صورتوں میں متاثرین کی دست گیری اور سہارے کے لیے بعض افراد اور ادارے ایسی بے لوث خدمت انجام دیتے ہیں کہ انھیں بے ساختہ محسن کہا جاتا ہے۔ سرکاری انتظام سے ہٹ کر جو ادارے یہ کارہاے نمایاں انجام دیتے ہیں، انھیں غیر سرکاری تنظیمیں، رضاکار تنظیمیں یا نان گورمنٹل آرگنائزیشنز (NGO's) کہا جاتا ہے۔

ان این جی اوز میں سے بعض تو فی الواقع انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار، خیر النّاس من ینتفع الناس پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن بعض این جی اوز خدمت کے نام پر ہمہ وقت عالمی سامراجی طاقتوں کے تزویراتی مفادات کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایسی تنظیموں کو نہ صرف سامراجی چھتری میسر ہے بلکہ بے حد و حساب مالی وسائل اور دیگر سہولتیں بھی ان کے لیے مختص ہیں۔ یہ تنظیمیں مسلم دنیا میں لادینی تہذیبی یلغار کے ہراول دستوں کا کام کررہی ہیں۔

مگر اسی جہان رنگ و بو میں دوسرا منظر یہ ہے کہ مسلمانوں کی رفاہی رضاکار تنظیموں پر مغربی اور مشرقی سامراجیوں نے نہ صرف عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے، بلکہ ان کے فنڈ منجمد کرنے، ان کے رضاکاروں کو ہراساں کرنے اور انھیں قید اور جلاوطن کرنے کے ساتھ، عطیات دینے والے افراد تک کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں، بلکہ ان خدمت گار  تنظیموں کو نام نہاد دہشت گردی کا مددگار بھی کہا جا رہا ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس گھٹیا مقصد کے لیے خود اقوام متحدہ کو آلۂ کار بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا جا رہا۔

زیرتبصرہ کتاب میں ڈاکٹر سلومی نے بڑی محنت کے ساتھ مغربی دنیا کے دہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے اور مسلم دنیا کی رفاہی رضاکار تنظیموں کی سرگرمیوں اور ان سرگرمیوں کے خلاف مغربی ریاستی پابندیوں کے استحصال اور ظالمانہ اقدامات پر مبنی رویوں کو گہرے تحقیقی مطالعے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بوسنیا، کوسووا، افریقہ، ایشیا اور خاص طور پر فلسطین میں متحرک اسلامی رفاہی تنظیموں کی قربانیوں اور اَن تھک جدوجہد کا بہترین ریکارڈ پیش کیا ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہ کس وجہ سے فاضل مصنف نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے والوں کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ یہ اس کتاب کی ایک بڑی خامی ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر مصنف کے نقطۂ نظر میں اختلاف کی گنجایش موجود ہے۔ یہ کتاب مسلم رضاکار تنظیموں پر اعتماد کوپختہ کرتی ہے اور حالات کی سنگینی کا احساس بیدار کرتی ہے، تاہم معروف صحافی محمدیحییٰ خاں نے اسے انگریزی سے اُردو کے رواں اور عام فہم قالب میں ڈھالا ہے۔ انسانی خدمت کے کسی بھی دائرے میں متحرک فرد کے لیے یہ مفید مطالعہ ہے۔ (سلیم منصور خالد)


سرود سحر آفریں (فکروفنِ اقبال کے چند گوشے)، غلام رسول ملک۔ ناشر: اقبال اکادمی پاکستان، چھٹی منزل، ایوانِ اقبال، لاہور۔ صفحات: ۱۶۴۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

علامہ محمد اقبال فکروفن پر ۱۱ مقالات کا یہ مجموعہ اقبال اکادمی نے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی ’تقدیم‘ کے ساتھ شائع کیا ہے۔ پروفیسر ملک انگریزی زبان و ادب کے استاد اور کشمیر یونی ورسٹی  سری نگر میں شعبۂ انگریزی کے صدر ہیں۔ وہ عربی اورفارسی زبانوں پر بھی بہت اچھی دسترس رکھتے ہیں۔ ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ Iqbal and English Romantics  بھی اقبالیات پر ہے۔

زیرنظر کتاب میں اقبال کی شاعری اور فکر کا مطالعہ مختلف جہتوں اور زاویوں سے پیش کیا گیا ہے: اقبال کی عظمت کا راز، اقبال کے مذہبی افکار کی معنویت، اقبال اور ملتِ اسلامیہ کا احیاے نواور اقبال کا قرآنی انداز فکراقبال کے چند نہایت اہم موضوعات ہیں۔ بعض مضامین میں شخصیات کے حوالے سے تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے: اقبال اور شاہِ ہمدان، اقبال اور ورڈز ورتھ۔ بعض مضامین غزلوں اور نظموں کے تجزیے پر مشتمل ہیں (ذوق و شوق، بزم انجم، محاورہ مابین    خدا و انسان)۔ دو مضامین (اقبال کے پسندیدہ اصنافِ شعر، بانگِ درا کی غزلیں)سے اقبال کے شعری فن کی بوقلمونی کا اندازہ ہوتا ہے۔

مصنف نقد و انتقاد میں اسلامی اور مشرقی فکروادب کے ساتھ ساتھ مغربی علوم کی صالح روایات کو بھی بروے کار لائے ہیں۔ ان کی آنکھ سرمۂ افرنگ کی بجاے خاکِ مدینہ سے روشن ہے۔ مصنف نے اقبال کے ان معترضین کا مدلل اور مُسکت جواب دیا ہے جنھیں اقبال کی اسلامیت پر اعتراض ہے۔ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ اقبال ایک ایسا مفکر ہے جو دین فطرت کی بنیادوں پر عالمِ انسانیت کا ہمہ گیر ارتقا چاہتا ہے۔ متوازن اور عالمانہ افکار کا یہ مجموعہ ذخیرئہ اقبالیات میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے۔(حمیداللّٰہ خٹک)


Pakistan: A Proud Nation, But Failing State، اقبال ایس حسین۔ ملنے کا پتا: ۱۶-کرشن نگر، گوجرانوالہ۔ صفحات: ۳۶۶۔ قیمت: ۵۰۰ روپے/۲۰ ڈالر۔

پاکستان کی سلامتی کا راز انصاف کی بالادستی میں ہے، یہی رب تعالیٰ کا حکم ہے اور یہی پاکستانی قوم کی اُمنگ ہے۔ زیرنظر کتاب میں اقبال ایس حسین نے حالیہ برسوں میں درپیش    اُن چیلنجوں کاجائزہ لیا ہے جن کی بدولت پوری قوم ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوچکی ہے اور آزمایشوں کا ایک سلسلہ ہے جو مسلسل منظرعام پر آتا رہتا ہے۔

اگرچہ مصنف کی نصف درجن سے زائد کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں اور پاکستان و بیرون پاکستان میں مقبولیت حاصل کرچکی ہیں، تاہم زیرتبصرہ کتاب میں خالصتاً پاکستان، پاکستانی عوام، لال مسجد، سپریم کورٹ، عوامی سیاست، مذہبی جکڑبندی اور حکمرانوں کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حکمرانوں کو ان اقدامات کے نقصان کا صحیح اندازہ نہیں ہے، ورنہ وہ سپریم کورٹ کے ججوں، عدالتوں کے وکلا، قبائلی علاقوں کے زُعما اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو یک قلم منظر سے ہٹانے کی جسارت نہ کرتے۔

جنرل ایوب خان کے خلافِ آئین اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد جنرل پرویز مشرف کے غیرقانونی اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اگر صدر پاکستان نے امریکی اشارے پر اپنے ہی عوام پر گولیاں نہ برسائی ہوتیں اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ساتھ، پنجہ آزمائی نہ کی ہوتی تو اُس خلفشار سے بچ سکتے، جس نے اُنھیں عوام الناس میں یکسر غیرمقبول بنا دیا۔

اس کتاب کا ایک خاص پہلو قانون دانوں اور طبقۂ وکلا سے متعلق ہے، جس میں انتہائی جان دار انداز میں وکلا کی تحریک کا جائزہ لیا گیا ہے اور اُن قانونی نکات کی وضاحت کی گئی ہے جو شہریوں کو، عدالتوں کو اور ججوں کو بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ مصنف کا موقف ہے کہ اخلاقی گراوٹ کا سب سے بڑا مظاہرہ ججوں کو برطرف کرکے کیا گیا، اس کتاب کے کئی نکات سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے، تاہم مجموعی طور پر پاکستانی سیاست کے پیچ و خم سمجھنے میں اس سے غیرمعمولی مدد لی جاسکتی ہے۔ (محمد ایوب منیر)


مغربی فلسفۂ تعلیم ، ایک تنقیدی مطالعہ ، سیدمحمدسلیم۔ ناشر: زوّار اکیڈمی پبلی کیشنز، ۱ے-۴/۱۷، ناظم آباد نمبر۴، کراچی ۷۴۶۰۰۔ فون: ۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

پروفیسر سید محمد سلیم (۱۹۲۳ئ-۲۰۰۰ئ) اپنی ذات میں ایک جہانِ علم ودانش تھے۔ ان کی حیات ہمہ پہلو کمالات کا مجموعہ تھی۔ ان کی زندگی تعلیم و تعلم کے میدان میں گزری۔ تعلیم پر انھوں نے بڑا وقیع تحریری سرمایہ چھوڑا ہے جس میں زیرتبصرہ کتاب ایک ایسی کتاب ہے جس کا اُردو میں کوئی ثانی نہیں۔ نو ابواب پر مشتمل اس کتاب میں مغربی فلسفۂ تعلیم کا عمیق مطالعہ اور اس کے اثرات کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یورپ کا کلیسائی معاشرہ، مسلکِ لادینیت کا آغاز، لادینی نظریات کی فتوحات، لادینیت کا فکری نظام، لادینی نظریات میں تزلزل، لادینی تحریک تعلیم گاہ میں، مغربی نظام تعلیم کی اقدار مقاصدِتعلیم اور دورِ جدید اسلام کی برکت ہے۔ پاکستان کے بے ثمر تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہ اڈیشن پروفیسر سید محمدسلیم اکیڈمی کے زیراہتمام شائع کیا گیا ہے۔ (ملک نواز احمد اعوان)


Granny Nam Tells Me Story، نصرت محمود۔ ناشر: ۱۹۱-جے، ڈی ایچ اے، ای ایم ای سیکٹر، ایسٹ کینال بنک، لاہور۔ صفحات، اول: ۴۰، دوم: ۴۳، سوم: ۳۵۔ قیمت: درج نہیں۔

کہانیاں معصوم ذہنوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ والدین، دادی اور نانی سے سنی ہوئی کہانیاں ذہن پر گہرا نقش چھوڑتی ہیں۔ اسکول کے ابتدائی برسوں میں بچہ سب سے زیادہ کہانیوں پر توجہ دیتا ہے۔ مسلم گھرانوں میں اس پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے کہ شہزادوں، شہزادیوں کی کہانیاں بھی اخلاقی پیغام رکھتی ہوں۔

محترمہ نصرت محمود نے آسان انگریزی میں ابتدائی جماعتوں کے بچوں کے لیے مختصر کہانیاں تحریر کی ہیں۔ ان کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ قرآن کریم میں جن جانوروں کا ذکر آیا ہے، اُن کے حوالے سے کہانی تشکیل پاتی ہے۔ اخی اور سارہ نامی بچے ان سے ملتے ہیں۔ وہ جانور، اپنے الفاظ میں اپنی کہانی سناتے ہیں اور یہ کہانی کسی نبی ؑکی زندگی کے حالات سے جڑ جاتی ہے۔ مچھلی  اپنی کہانی سناتی ہے تواسی دوران میں حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ تفصیلاً بیان کردیا جاتا ہے۔ مصنفہ نے کوشش کی ہے کہ قرآنی تفصیلات تک ہی محدود رہیں، مثلاً دائود علیہ السلام کے بارے میں عہدنامۂ قدیم و جدید میں جو تفصیلات ملتی ہیں، اُن کو کہانی میں شامل نہیں کیا گیا۔

تین حصوں پر مشتمل اس سیریز کے ذریعے ۳۰ جانوروں اور حشرات کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے گویا دادی اماں، چھوٹے بچوں کو کہانی سنا رہی ہوں۔ طباعت کا معیار عمدہ ہے اور حسبِ موقع جانوروں کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔ بچوں کے لیے یہ انگریزی باتصویر کہانیاں ایک خوب صورت تحفہ ہیں۔ (م - ا - م)


سنہری کرنیں، عبدالمالک مجاہد، ناشر: دارالسلام، ۳۶- لوئرمال، لاہور- فون: ۷۲۴۰۰۲۴۔ صفحات (آرٹ پیپر): ۳۹۰۔ قیمت: ۴۰۰ روپے

مغرب نے ہماری تہذیب کے قلعے، ہمارے گھر پر نقب لگائی بالخصوص خواتین کو اسلام سے بدظن کرنا ہدف بنایا مگر عجب اتفاق ہے کہ آج مغرب میں قبولیت اسلام کا زیادہ رجحان خواتین میں پایا جاتا ہے، اور ہمارے ہاں بھی خواتین اسلام میں جذبۂ اسلام کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ضرورت ہے کہ خواتین میں تعلیماتِ اسلام کو عام کرنے کے لیے عام فہم، دل چسپ اور ایمان افروز لٹریچر تیار کیا جائے۔ اشاعت کی دنیا میں دارالسلام آج ایک معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ادارے کی ایسی ہی ایک کاوش ہے۔ مسلم خواتین کے بارے میں احادیث اور تاریخ و سیر میں آئے واقعات، نیز آج کل کے ایمان افروز واقعات کو، جن میں خواتین کی پرہیزگاری، ذہانت اور بہادری ظاہر ہوتی ہے، جمع کر کے دل کش پیرایے میں فراہم کیا گیاہے۔ کُل ۱۰۲ واقعات ہیں۔ مطالعہ کرنے والے کو کچھ عربی بھی آتی ہو تو وہ صحیح معنوں میں لطف اندوز ہوگا۔ واقعات کی پیش کش میں موضوعاتی ترتیب ملحوظ رکھی جاتی تو زیادہ مناسب ہوتا۔ طباعت کا اعلیٰ معیار، ہر صفحہ آرٹ پیپر، ہر صفحہ رنگین پھول دار حاشیوں سے مرصع، یہ کتاب ۴۰۰ روپے میں بھی سستی لگتی ہے۔ سنہرے اوراق کے بعد سنہری کرنیں، امید ہے کہ یہ سنہری سلسلہ جاری رہے گا۔ (مسلم سجاد)


تعارف کتب

  • ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، شخصیت اور فن۔ ناشر: اکادمی ادبیات پاکستان، ایچ-۸، پطرس بخاری روڈ،  اسلام آباد۔ صفحات: ۱۶۴۔ قیمت مجلد: ۱۶۵ روپے، پیپربیک: ۱۵۵ روپے۔ [علمی و ادبی شخصیات کے تعارفی سلسلے کی ایک کتاب۔ نام ور محقق اور اسکالر ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے سوانح، شخصیت کے اوصاف۔ اُردو، عربی، فارسی اور سندھی زبانوں سے متعلق ان کے وسیع الاطراف علمی کام کا تعارف۔ مصنف نے ایک وسیع موضوع کو عمدگی سے سمیٹا ہے۔]
  • انٹیلی جنس اور اسلام ، ملک عطا محمد۔ ناشر: ۸۵-رحمت پارک، یونی ورسٹی روڈ، سرگودھا۔ صفحات: ۱۲۴۔ قیمت: ۶۰روپے۔ [انٹیلی جنس کے موضوع پر اُردو زبان میں بہت کم مواد کتابی صورت میں دستیاب ہے۔ اگرچہ دنیا کی بعض اہم خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں بعض کتب کے اُردو تراجم دستیاب ہیں، مگر ان سب میں اسلام کے حوالے سے تذکرہ نہیں ہے۔ اس لحاظ سے زیرنظر کتاب عمدہ کاوش ہے۔ انٹیلی جنس اور جاسوسی پر قریباً ایک سو عنوانات کے ذریعے عام فہم انداز میں قرآن و حدیث سے استدلال کے ساتھ یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔ کتابیات سے کتاب کی وقعت میں اضافے کے ساتھ اس موضوع پر مزید تحقیق کے لیے رہنمائی بھی ملتی ہے۔]
  • جادو اور مذہب ،ترجمہ: ڈاکٹر محمد صدیق ہاشمی۔ناشر: مشتاق بک کارنر، الکریم مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۷۴۴، قیمت: ۳۰۰ روپے۔ [زمانہ قبل از تاریخ کے مختلف ادوار سے مابعد کے ادوار تک جادو اور    مذہبی عقائد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اقتدار کے حصول اور اسے قائم رکھنے کے لیے بادشاہ کیا کچھ کرتے رہے۔جادو ٹونے کے اثرات، جادوگروں اور مذہبی اجارہ داروں کی کارستانیاں اور مختلف اقوام کی عجیب و غریب رسوم و رواج کا تذکرہ ہے۔ مغرب کے انسان کے اعتقادات اور تہذیب پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ افریقی ممالک کی رسوم کا ذکر ملتا ہے۔ انگریزی سے ترجمہ ہے لیکن مصنف اور کتاب کے اصل نام کا پتا نہیں چلتا۔]
  • والدین کی قدر کیجیے ، محمدحنیف عبدالمجید۔ ناشر: دارالہدیٰ ، دفترنمبر۸، پہلی منزل، شاہ زیب ٹیرس، اُردو بازار، کراچی۔ صفحات: ۵۱۹، قیمت: درج نہیں۔ [مادیت ہماری معاشرتی اقدار کو بتدریج متاثر کرر ہی ہے۔ بوڑھے والدین اب بوجھ سمجھے جانے لگے ہیں ۔اس کتاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ۱۰۰ سے زائد واقعات بھی درج ہیں جو والدین کی خدمت کرنے اور اخلاق و عمل کے لیے  محرک کا کام کرتے ہیں۔ آیات، احادیث اور دعائوں کے علاوہ اقوال اور ضرب الامثال کا عربی متن اور ترجمہ بھی درج ہے۔ اختصار سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔]

حمیداللّٰہ خٹک ‘کرک

پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر محب وطن نہتے عوام کا خون بہایا اور فوج اور عوام کو آپس میں لڑا کر نفرت کی دیواریں کھڑی کیں، اور اس ذلت آمیز غلامی پر ندامت کے بجاے   ببانگ دہل کہا کہ ’’امریکا ہماری خدمات کا معاوضہ ادا کرتا ہے‘‘۔ گویا پاکستان اور اس کی فوج بھاڑے کے ٹٹو ہیں کہ جو چاہے پیسے دے کر اس سے اپنے کام کرا لے۔ یہ معاوضہ بھی کیا ہے؟ دی پوسٹ (۲ مارچ ۲۰۰۸ئ) کے مطابق : امریکی کانگرس کمیٹی کے سامنے جو اعداد و شمار آئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ پاکستانی فوج کے ہرسپاہی پر جو اس نام نہاد جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ۶۵۰ ڈالر ماہانہ خرچ آرہا ہے، جب کہ امریکا اپنے ہرفوجی پر افغانستان میں ۸۰ ہزار ڈالر اور عراق میں ایک لاکھ ڈالر فی سپاہی خرچ کر رہا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں:  ع قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند۔ کیا ایسے لوگ قابلِ مواخذہ نہیں؟


صابر حسین ‘ہری پور

’توہین آمیزخاکوں کی مکرر اشاعت‘ (اپریل ۲۰۰۸ئ) کے حوالے سے عرض ہے کہ اصل ضرورت  اس بات کی ہے کہ ممکنہ عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات کی گئی ہے، مناسب ہوگا کہ ان کی مصنوعات کی فہرست جاری کی جائے تاکہ بھرپور بائیکاٹ کیا جاسکے۔  ایک مؤثر صورت  یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ڈنمارک کے سفارت خانے کو اتنے خطوط لکھے جائیں کہ ان کے سفارت کار اپنی حکومت کو  توجہ دلانے پر مجبور ہوجائیں۔ ایک احتجاجی خط/ ای میل/ ایس ایم ایس تو ہر محب رسولؐ ضرور بھیج سکتا ہے۔


بلال احمد ‘کوئٹہ

’اسلام کی روشنی تک!‘ (اپریل ۲۰۰۸ئ) سے یہ احساس تازہ ہوا کہ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کس پر کیا چیز اثر کرے اور وہ ہدایت کی روشنی میں آجائے۔ محمد سعید قلیوں کو نماز باجماعت پڑھتے دیکھ کر اسلام کی طرف آگئے۔ صاحبِ علم اور دانش ور تھے اس لیے اسلام کی اتنی خدمت کی اور اتنے مبلّغ تیار کیے۔ ساری دنیا میں ہرطرف قبولِ اسلام کی ایک لہر ہے۔ اس کا سائنسی مطالعہ ہونا چاہیے۔


ظہیراحمد ‘کراچی

’اسلام اینڈ سیکولر مائنڈ‘ (اپریل ۲۰۰۸ئ) پر لکھتے ہوئے تبصرہ نگار نے مولانا مودودی علیہ الرحمہ کے ساتھ مغرب کا مطالعہ کرنے والے جن افراد کے سلسلۃ الذھب کا ذکر کیا ہے، یعنی عبدالحمیدصدیقی، خرم مراد اور پروفیسر خورشیداحمد، اس میں غالباً ایک نام سہواً رہ گیا ہے، یعنی نعیم صدیقی۔

تہذیب کا فرق

اسلامی حکومت میں عورت کو محض گڑیا بنا کر نہیں رکھا جائے گا جیساکہ بعض نادانوں کا گمان ہے، بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ ترقی کا موقع دیا جائے گا۔ ہم عورت کو عورت ہی رکھ کر عزت کا مقام دینا چاہتے ہیں، اسے مرد بنانا نہیں چاہتے۔ ہماری تہذیب اور مغربی تہذیب میں فرق یہی ہے کہ مغربی تہذیب عورت کو اس وقت تک کوئی عزت اور کسی قسم کے حقوق نہیں دیتی جب تک کہ وہ ایک مصنوعی مرد بن کر مردوں کی ذمہ داریاں اُٹھانے کے لیے تیار نہ ہوجائے۔ مگر ہماری تہذیب  عورت کو ساری عزتیں اور تمام حقوق عورت ہی رکھ کر دیتی ہے، اور تمدن کی انھی ذمہ داریوں کا بار  اس پر ڈالتی ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کی ہیں۔ اس معاملے میں ہم اپنی تہذیب کو موجودہ  مغربی تہذیب سے بدرجہا زیادہ افضل اور اشرف سمجھتے ہیں اور نہایت مضبوط دلائل کی بنا پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہماری ہی تہذیب کے اصول صحیح اور معقول ہیں۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ صحیح اور پاکیزہ چیز کو چھوڑ کر ہم غلط اور گندی چیز کو قبول کریں۔

موجودہ زمانے کی مخلوط سوسائٹی سے ہمارا اختلاف کسی تعصب یا اندھی مخالفت کا نتیجہ نہیں ہے۔ ہم پوری بصیرت کے ساتھ اپنی، آپ کی، اور پوری انسانیت اور انسانی تہذیب و تمدن کی فلاح اسی میں دیکھتے ہیں کہ اس تباہ کن طرزِ معاشرت سے اجتناب کیا جائے۔ ہمیں صرف عقلی دلائل ہی سے اس کے غلط ہونے کا یقین نہیں ہے، بلکہ تجربے سے اس کے جونتائج ظاہر ہوچکے ہیں، اور دنیا کی دوسری قوموں کے اخلاق و تمدن پر اس کے جو اثرات مرتب ہوچکے ہیں، ان کو ہم جانتے ہیں۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ہماری قوم اس تباہی کے گڑھے میں گرے جس کی طرف ہمارے فرنگیت زدہ اُونچے طبقے اسے دھکیلنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اخلاق کھو چکے ہیں، اور اب ساری قوم کے اخلاق برباد کرنے کے درپے ہیں۔ اس کے برعکس ہماری کوشش یہ ہے کہ ہماری قوم اور ہمارا ملک  جو کچھ بھی ترقی کرے، اسلامی اخلاق کے دائرے میں رہ کر کرے۔(’اسلام اور اس کے تقاضے‘،      سید ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد ۳۱، عدد۳، رمضان ۱۳۶۷ھ، جولائی ۱۹۴۸ئ، ص ۲۸-۲۹)