مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۰۸

ہستیِ باری تعالیٰ سے متعلق چند سوال

سوال: ذہن میں چند سوالات اٹھتے ہیں، ان کی وضاحت فرما دیجیے:

۱- شیطان اللہ کا مقرب تھا اور اللہ کی مخلوق بھی۔ شیطان کو اللہ کے آگے انکار کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟

۲- اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو چھے دنوں میں کیوں بنایا، اس کی کیا حکمت ہے؟     وہ ایک دن میں بھی تو بنا سکتا تھا، جب کہ وہ کُن فیکون سے کام کرسکتا ہے۔

۳- جنتیوں کو جنت میں رکھنے اور جہنمیوں کو جہنم میں رکھنے کا اللہ کو کیا فائدہ ہوگا؟ کیا وہ غفور و رحیم اور ستارالعیوب نہیں ہے؟

۴- اے اللہ! درود و سلام ہو محمدؐ اور اس کی آل پر جس طرح تو نے درود و سلام بھیجا ہے ابراہیم ؑ اور اس کی آل پر۔ وہ کون سے انعامات ہیں جو اللہ نے ابراہیم ؑ اور ان کی آل پر بھیجے جو ہم بھی ہر نماز کے وقت اللہ سے طلب کرتے ہیں؟

جواب: ۱- شیطان کو اللہ تعالیٰ کے آگے انکار کرنے کی جرأت اس لیے ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دیا ہوا تھا کہ چاہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول کرے اور چاہے تو انکار کردے۔   اس نے اختیار کا غلط استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ کے مدمقابل کھڑا ہوگیا، تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل کا استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کو غلط جانا، آدم کو سجدہ کرنا، اس کی تعظیم کرنا، اس کی خلافت کو تسلیم کرنا، اس کے نزدیک صحیح نہ تھا۔ اس کے نزدیک اللہ کا فرمان غلط تھا۔ اسے اس بات کا علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے، مالک ہے، وہ اختیار کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود اس نے اللہ کے حقِ حاکمیت کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ط قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ (اعراف۷:۱۲) ’’جب میں نے تجھے سجدے کا حکم دیا تو پھر کس چیز نے تجھے سجدے سے منع کردیا۔ اس نے جواب میں کہا: میں آدم سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے‘‘۔ شیطان اس جسارت اور بے باکی کے سبب راندۂ درگاہ ہوگیا اور شیطان کی طرح جنوں اور انسانوں میں سے اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے بھی اس کی طرح مردود اور ملعون ہوگئے۔

آپ نے جو سوال اٹھایا ہے اس کا تعلق صرف شیطان سے نہیں ہے، بلکہ جنوں اور انسانوں میں سے ہر اس گروہ سے ہے جس نے اللہ کی مخلوق ہونے اور اللہ کی نعمتوں سے مالامال ہونے کے بعد کفر کیا۔ کفر اور شرک اور اللہ کی ہدایات اور اس کے احکام اور اس کی حاکمیت کے انکار کا کسی کے پاس کیا جواز ہے؟ جو بھی ایسا کرے گا، وہ بلاجواز کرے گا اور دنیا جو ’دارالابتلا‘ آزمایش و امتحان گاہ ہے، اس سے چلے جانے کے بعد کافر کے لیے دوزخ کا عذاب تیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (البقرہ ۲:۲۸) ’’تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کس بنیاد پر کفر کرتے ہو، حالانکہ تم     بے جان تھے تو اسی نے تم کو زندہ کیا، پھر تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے‘‘۔

شیطان کو ان ساری باتوں کا علم تھا، اس لیے اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت طلب کی تو اسے مہلت دے دی گئی۔ سورۂ اعراف میں ہے: قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ o قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ o قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ o ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْم بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِھِمْ وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَo قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْئُ وْمًا مَّدْحُوْرًا لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِیْنَo (۱۵ تا ۱۸) ’’شیطان نے کہا: مجھے مہلت دے دیجیے اس دن تک جب لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھے مہلت دیے جانے والوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اس سبب سے کہ تو نے مجھے گمراہ کردیا ہے، میں انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے تیرے سیدھے راستے پر رکاوٹ بن کر بیٹھ جائوں گا، پھر ان کے سامنے سے، ان کے دائیں سے، ان کے بائیں سے ان کو روکوں گا۔ پھر ان میں سے اکثر کو تو شکرگزار نہ پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نکل جا تو اس جنت سے ملعون و مذموم ہوکر، ان میں سے جس نے تیری پیروی کی، میں جہنم کو تم سب سے بھر دوں گا‘‘۔

شیطان کفر، تکبر، غرور و جہالت کا ایک ماڈل ہے۔ اس ماڈل کو تمام کفار و مشرکین اور حاکمیت ِالٰہی کے منکرین نے اپنے سامنے رکھا ہوا ہے۔ یہ آیات کفر و شرک کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ شیطان اور اس کی ذُریت سب نے اللہ کی ہدایت اور فیصلوں کے مقابلے میں اپنی عقل اور نفسانیت کی پیروی کی اور اسی لیے سب کا انجام بھی وہی ہے جو شیطان کا انجام ہے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو شیطان کے نقش قدم پر چلنے سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ یہ تمھارا ایسا دشمن ہے کہ اس نے اپنی دشمنی کو چھپایا نہیں،بلکہ کھول کر بیان بھی کردیا ہے۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَـآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌo (البقرہ ۲: ۲۰۸) ’’اے ایمان والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمھارا  کھلا دشمن ہے‘‘۔ شیطان کے مقابلے میں دوسرا ماڈل اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی اور خلیفہ حضرت آدم ؑ اور دوسرے انبیاے کرام ؑ کا ہے۔ یہ تمام ماڈل جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ میں جمع ہیں۔

پس ایک طرف ابلیس کا ماڈل ہے اور دوسری طرف نبی اکرمؐ اور آپؐ کی جماعت   اُمت مسلمہ کا ماڈل ہے جسے قرآن پاک میں شروع سے لے کر آخر تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ  (الاحزاب ۳۳:۲۱)’’تمھارے لیے رسولؐ اللہ میں بہترین نمونہ ہے‘‘ جس کی پیروی کی جانی چاہیے۔ اہلِ ایمان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکرگزار اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے سر جھکانے والے اور بلاکم و کاست ماننے والے ہیں،جب کہ کفار اور ان کے پیروکار منافقین اللہ تعالیٰ کی حکمرانی پر مطمئن نہیں ہیں۔ وہ اللہ کے احکام میں کمی بیشی کرنا چاہتے ہیں، ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے احکام میں نقص ہے، اس لیے   ان کے نزدیک یہ احکام بلاچون و چرا قابلِ قبول نہیں ہیں۔ یہ کش مکش جو ابلیس نے اللہ تعالیٰ   سے شروع کی، آج بھی جاری ہے۔ کفار و مشرکین و منافقین ابلیس کا کردار ادا کر رہے ہیں اور  اہلِ ایمان حضرت آدم ؑاور حضراتِ انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کے کردار کی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ کش مکش تاقیامت جاری رہے گی۔ ان شاء اللہ اس دنیا میں بھی اہلِ ایمان کو ابلیس اور اس کی ذُریت پر غلبہ حاصل ہوگا اور آخرت میں بھی اہلِ ایمان جنت میں داخل ہوکر سرخ رُو اور کامیاب و کامران ہوں گے، اور ابلیس اور اس کے پیروکار دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔

۲- اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اپنے علم، قدرت اور حکم سے بنایا ہے۔ اپنے کام کی حکمتیں وہی بہتر جانتا ہے۔ نظر یہ آتا ہے کہ کائنات کے مزاج میں اس نے تدریج رکھی ہے۔ یہاں ہر کام تدریجاً ہوتا ہے، دفعتاً نہیں۔ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح چھے دن رات میں پیدا کیا، اس طرح اسے ایک دن میں بھی پیدا کرسکتا تھا، لیکن اُس نے اپنی مرضی سے ایسا نہیں کیا۔ ایک انسان ماں کے پیٹ میں چھے دن رات نہیں، بلکہ نو مہینے گزارتا ہے۔ اس طرح فصل، پھل اور دیگر زمینی پیداوار بھی پانچ یا چھے مہینے میں تیار ہوتی ہے۔ بچہ دو سال دودھ پیتا ہے، اس کے بعد آہستہ آہستہ نشوونما پاتا ہے اور ۱۵ سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچتا ہے۔ تعلیم بھی ایک دن اور ایک سال میں نہیں بلکہ عمر کے طویل عرصے میں حاصل کرتا ہے۔ اس طرح کائنات کے باقی تمام معاملات کو     آپ دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ کوئی کام بھی آناً فاناً نہیں ہوتا، اس میں وقت لگتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک ۲۳ برس میں نازل اور نافذ ہوا اور اتنے ہی عرصے میں سرزمینِ عرب   اسلام کے لیے مسخر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہ کام اس سے کم عرصے میں بھی کرا سکتے تھے، اور پیچھے جائیں تو حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ساڑھے نو سو سال دعوت کا کام کیا۔ تب جاکر     اللہ تعالیٰ نے زمین کو کفر اور کفار سے پاک کیا۔ حضرت نوحؑ اور آپ ؑ کے پیروکاروں کے لیے  زمین کفار سے خالی فرما دی۔ حضرت نوحؑ روے زمین پر حکمران بن گئے۔ ان کے پیروکار ان کی اُمت کی حیثیت سے سرخ رُو ہوگئے۔

۳- جنتیوں کو جنت میں اور دوزخیوں کو دوزخ میں رکھنے کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ سارے فائدے انسانوں کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے میرے بندو! اگر تمھارے اگلے تمھارے پچھلے، تمھارے انسان، تمھارے جِن سب کے دل سب سے زیادہ متقی اور پاکیزہ بندے کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میرے اقتدار میں ذرہ برابر اضافہ نہ ہوگا۔  اے میرے بندو! اگر تمھارے اگلے تمھارے پچھلے، تمھارے انسان، تمھارے جِنّ، سب کے دل اس آدمی کی طرح ہوجائیں جو سب سے زیادہ بدکردار اور فاجر آدمی ہے، تو اس سے میرے اقتدار میں کوئی کمی نہیں آئے گی‘‘۔(حدیث قدسی، بخاری، مسلم)

دنیا میں جِن اور انسان آزمایش کے طور پر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جسم و جان اور زمین کے خزانوں اور آسمان کی نعمتوں سے نوازا ہے ۔ انسان اور جِن میں سے کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنی خواہشِ نفس کی حکمرانی قائم کرے یا دوسرے انسانوں کی خواہشِ نفس اور عقلی بے راہ روی کی حکمرانی قائم کر کے شیطان کے پیچھے چلے اور اللہ کے مقابلے میں شیطان کی حکومت قائم کرے۔ اگر ایسا کرتا ہے تو ظلم کا مرتکب ہوتا ہے اور ظالم کو پھر سزا     ملنی چاہیے، جو اس کے ظلم کے برابر ہو۔ شیطان کی پیروی اس کی حکمرانی قائم کرنا، سب سے بڑا ظلم ہے اور ظلم کے برابر وہ سزا ہے جو دائمی ہو، اور وہ سزا دوزخ کا عذاب ہے۔ اور اللہ کی حکمرانی قائم کرنا سب سے بڑا عدل ہے اور اس کی جزا بھی سب سے بڑی جزا ہونی چاہیے جوکہ جنت ہے۔

۴- حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی آل پر اللہ کی یہ رحمتیں ہوئیں کہ ہدایت کا ذریعہ انھیں اور ان کی اولاد کو بنادیا۔ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے ہیں، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی دعائوں کا مظہر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اپنے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا اور حضرت عیسٰی ؑ کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ کی فضیلت اظہرمن الشمس ہے، یہ مقام اور مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر درود و سلام کا نتیجہ ہے۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تاقیامت ہدایت آپؐ کے دامن سے وابستہ ہے۔ اب اللہ کی طرف سب راستے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دربار سے ہوکر جاتے ہیں۔ آپؐ کی حیثیت اور شان فرق کرنے والے کی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں فرق کرنے والے ہیں، جو آپؐ  کے دامن سے وابستہ ہوگیا وہ جنتی ہے، اور جو آپؐ  کے دامن سے برگشتہ ہوا وہ دوزخی ہے۔ اب روے زمین پر ہدایت اور اللہ تعالیٰ کے دین کا غلبہ آپؐ  سے وابستہ ہے۔ روے زمین پر جتنی عبادات اللہ تعالیٰ کی آپؐ کے ذریعے سے ہوئیں اتنی کسی اور کے ذریعے سے نہ ہوسکیں۔ آپؐ اور آپؐ کی اُمت کے ذریعے پوری زمین سے کفر   مٹ جائے گا۔ آپؐ  نے فرمایا: ’’میں ہوں مٹانے والا، میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا‘‘۔ روے زمین سے کفر مٹ جائے گا اور ساری دنیا دارالاسلام بن جائے گی۔ دنیا میں آپ کی امامت، نبوت و رسالت کا سورج طلوع ہوگا اور آپ پر نازل کردہ نظامِ کتاب و سنت نافذ ہوگا۔

یہ اسی طرح کی رحمت اور صلوٰۃ و سلام کا مظہر ہے جس کا ظہور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں ہوا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ابراہیم ؑ کی امامت چونکہ مسلّم اور مشہور ہے، اس لیے آپؐ کی امامت کے ساتھ تشبیہہ دی گئی۔ ان کی امامت بھی اپنی اولاد کے واسطے سے اپنے دور میں تمام روے زمین کے لیے ہے اور آپؐ  کی امامت بھی تمام روے زمین کے لیے ہے۔ آپؐ تمام انبیاے علیہم السلام سے افضل اور سیداولادِ آدم ؑہیں اور آپؐ  نے تمام انبیاؑ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جو مقام آپؐ کو دیا، کسی اور کو نہیں دیا۔ آپؐ کو شفاعت کبریٰ اور مقامِ محمود پر فائز کیا گیا۔ آپؐ  قیامت میں تمام انبیاؑ کی قیادت فرمائیں گے۔ سب سے پہلے   جنت میں آپؐ داخل ہوںگے۔ یہ تمام فضائل و مناقب آپؐ پر صلوٰۃ و سلام کا مصداق ہیں، اور صلوٰۃ و سلام کا فائدہ پڑھنے والے کو ہوتا ہے۔ آپؐ کو تو یہ فضائل اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیے ہیں، فرمایا: وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی (الضحٰی۹۳:۵) ’’اور عنقریب تمھارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجائو گے‘‘۔ درود شریف پڑھ کر حضرت ابراہیم ؑ اور جنابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فضائل و مناقب کو اہلِ ایمان اپنے ذہن میں تازہ کرتے رہتے ہیں تاکہ آپؐ  کی محبت اور اطاعت میں اضافہ ہوجائے۔ اس لیے کہ ہدایت پانے کے لیے منارۂ نورِ ہدایت سامنے ہو تو پھر انسان راستے سے اِدھر اُدھر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی،اپنے محبوبوں اور اپنے محبوب دین اور اپنے محبوب نبیؐ کی محبت و اطاعت عطا فرمائے۔ آمین! (مولانا عبدالمالک)


مختلف دن منانے کا رجحان

س: آج کل مختلف ایام منانے کا رجحان سامنے آیا ہے، مثلاً مدرز ڈے، ٹیچرز ڈے، سینیرسٹیزن ڈے، ویلنٹائن ڈے وغیرہ۔ یہ رجحان بنیادی طور پر مغرب ہی سے    آیا ہے۔ دن منانے کی اس نئی روایت کے بارے میں ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟   کیا سرے سے اسے غیرمسلموں کا کام سمجھیں، یا موقع کے لحاظ سے فیصلہ کریں،     نہ منائیں یا اپنا رنگ دیں؟

ج: مخصوص دن، وقت یا مواقع پر تقریبات اور مجالس و محافل کے انعقاد کا تعلق نہ کسی خاص مذہب سے ہے نہ کسی خطے سے۔ اگر دیکھا جائے تو دنیا میں جہاں کہیں بھی تہذیب کے آثار پائے جاتے ہیں بعض مخصوص دن مذہبی یا غیرمذہبی رسموں کے لیے اجتماعی اور انفرادی طور پر  منائے جاتے ہیں۔ پھولوں کا تبادلہ، مٹھائی تقسیم کرنا یا اپنی خوشی کے اظہار کے لیے چراغاں کرنا اور بعض تہذیبوں میں ناچ گانے اور مشروبات کا استعمال بھی مخصوص دنوں اور اوقات کے ساتھ  وابستہ ہے۔

قرآن کریم نے تمام دنوں کو اللہ کے لیے یکساں قرار دیا، قدیم تہذیبوں کے اوہام و اساطیر پر مبنی تقدس کا رد کیا اور سال میں صرف دو دن ایسے قرار دیے جب باوقار انداز میں اللہ کے بندے اپنے رب کا شکر ادا کریں اور خالق کائنات کے نام کو بلند کرنے کے لیے اس کے حضور سجدہ ریز ہوکر اور بآواز بلند، اس کی عظمت و کبریائی اور اپنے عجز و عبدیت کو ظاہر کریں۔ چنانچہ رمضان المبارک کی ایک ماہ کی عبادت کی تکمیل پر اور حج مبرور کی ادایگی پر عالمی طور پر اپنی خوشی، خوش قسمتی اور  بندگیِ رب کے اظہار کے لیے دو دن مقررکردیے گئے۔ ان دو دنوں کے دوران میں اپنے اہلِ خانہ، اعزہ و اقربا و احباب حتیٰ کہ اجنبی افراد کے ساتھ بھی اخوت و محبت و احترام کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ان کی خاطر تواضع اور مہمان داری کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

قرآن و سنت پر نظر ڈالی جائے تو جمعہ کا دن بھی وہ مقام نہیں رکھتا جو یہودیوںنے سبت کو یا عیسائیوں نے یومِ احد یا اتوار کو دے کر آرام یا صرف عبادت کا دن قرار دے کر اختیار کرلیا۔ بلاشبہہ احادیث میں جمعہ کے دن کی فضیلت ہے لیکن نہ اس دن کام کی ممانعت ہے، نہ یہ آرام کرنے کا دن ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر، یاد، تسبیح، تعظیم اور اس کے حضور نماز کی شکل میں شکر ادا کرنے کے بعد کاروبارِ حیات میں، اللہ کے ذکر کوتازہ رکھتے ہوئے، مصروف ہوجانے والا دن ہے۔

اگر دنوں کا کوئی تقدس ہوتا تو انبیاے کرام کے یومِ ولادت کو یہ مقام ضرور دیا جاتا اور سال کے ۱۲ مہینوں اور ۳۶۵ دنوں میں سے ناممکن طور پر ایک لاکھ ۲۴ ہزار سے زیادہ دن     مقدس دنوں کے طور پر منائے جاتے۔ بالفرض تمام انبیاے کرام ؑکے ایامِ ولادت منانے مشکل ہوتے تو کم از کم انبیاے بنی اسرائیل جن کا ذکر سابقہ صحیفوں میں اور خود قرآن کریم میں پایا جاتا ہے ان کے حوالے سے ضرور کچھ دن مخصوص کردیے جاتے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا حتیٰ کہ ولادت باسعادت کو بھی صحابہ کرامؓ، تابعین اور تبع تابعین نے نہ چھٹی کا دن قرار دیا، نہ اسے مقدس دن سمجھا۔     اس لیے کہ وہ قرآن کریم کے اس اصول سے آگاہ تھے کہ سب دن اللہ کے لیے ہیں کیونکہ وہی خالق اور مالکِ حقیقی ہے۔ لہٰذا ہمارے ہاں دن منانے کے اہتمام کی روایت نہیں ہے۔ البتہ اگر موقع کے لحاظ سے والدین یا استاد کو کوئی تحفہ دے دیا جائے تو اس کی کوئی ایسی ممانعت بھی نہیں۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹیچرز ڈے ہو یا سینیرسٹیزن ڈے، مدرز ڈے ہو یا فادرز ڈے، مغربی تہذیب میں ان کی معاشرتی اہمیت کے پیش نظر سال میں ایک مرتبہ انھیں پھولوں کا تحفہ دے کر یا ایک کارڈ بھیج کر اظہارِ تشکر اور ان کی اہمیت کا اظہار کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ یہ اس سے تو بہتر ہے کہ پورے سال میں ایک مرتبہ بھی ان میں سے کسی کو یاد نہ رکھا جائے لیکن اگر واقعی ان کے احسانات کے پیش نظر ایسا کرنا مقصود ہے تو یہ سراسر تکلف ہے۔ والدین ہوں یا استاد، ان کا شکر تو اپنے اچھے اخلاق اور طرزِعمل سے ہی ادا ہوسکتا ہے، جسے قرآن کریم عملِ صالح کہتاہے۔ والدین اپنی محبت کے سایے میں ایسے وقت، جب اولاد قرآن کی زبان میں کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں ہوتی، اپنی توجہ اور تمام وسائل کو اس کی نشوونما اور تربیت پر لگا دیتے ہیں تو سال میں ایک دن تو کیا سال کے ہر دن، ان کا شکر و احترام کرنے کے بعد بھی کیا ان کا حق اور ان کا شکریہ ادا ہوسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے والدین سے احسان کے رویے کی تلقین کی ہے اور ان کے ساتھ بے رُخی یا گستاخی پر سرزنش کی ہے۔

رہا ویلنٹائن ڈے یا اس قسم کے دیگر بے معنی دن تو حقیقت یہ ہے کہ ایسے دنوں کا تعلق جاہلیت اور جاہلی تہذیب سے تو ہوسکتا ہے، اسلامی تہذیب و ثقافت میں ان کے لیے کوئی گنجایش نہیں۔ ایسے دنوں کا منانا دیگر اقوام کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا اور ان کی جاہلیت پر مبنی روایات کو اپنانا ہے۔ بسنت بھی اسی قسم کا تہوار ہے جس کا کوئی تعلق مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت سے نہیں۔ یہ خالصتاً غیرمسلم طریقہ ہے اور اس کا اختیار کرنا گمراہی کا باعث ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)

Muhammad, The Messenger of God and The Law of Blasphamy in Islam and The West،[محمدؐ: پیغمبرخدا اور اسلام اور مغرب میں قانون توہینِ رسالتؐ] محمداسماعیل قریشی۔ ناشر: نقوش، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۲۴۴۔ قیمت: ۷۰۰ روپے

محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ عرصۂ دراز سے دفاعِ توہینِ رسالتؐ کا فریضہ عدالت کے ایوانوں میں سرانجام دے رہے ہیں۔ ۱۹۹۱ء میں اُن کی درخواست پر عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ ’قانون توہینِ رسالتؐ، کو عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ مصنف کی آٹھ کتابیں اسی موضوع پر شائع ہوچکی ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت انگریزی میں اب ہوئی ہے، تاہم اسی موضوع پر   ۱۹۹۴ء میں اُردو میں کتاب: ناموسِ رسولؐ بھی شائع ہوچکی ہے۔

زیرتبصرہ کتاب ۱۳ ابواب اور سات ضمیموں پر مشتمل ہے۔ کتاب کے ابتدائی ابواب میں عہدنامۂ قدیم کے علاوہ جدید مغربی مفکرین، مثلاً کارلائل، مائیکل ہارٹ، کیون آرمسٹرانگ، شہزادہ چارلس،لین پول کی جنابِ رسالت مآبؐ اور اسلام کی آفاقی تعلیمات کے بارے میں آرا درج کی گئی ہیں۔ مصنف کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مغرب اسلام سے خوف زدہ بھی ہے اور ناواقف بھی۔ اُن کا یہ بھی خیال ہے کہ ۱۰۹۵ء سے اسلام کے خلاف مسیحیت نے جو جنگ جاری کی تھی، اُس میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔ ۲۰ویں اور ۲۱ویں صدی میں حملے کے انداز تبدیل ہوئے ہیں ورنہ قرآن، رسالت مآب کی ذات اور اسلامی تعلیم جہاد کو ہر دور میں ہدفِ تنقید بنایا جاتا رہا ہے۔

مصنف نے صحابہ کرامؓ کے دور سے لے کر صلاح الدین ایوبی اور دورِ اندلس کے علما کے حوالے سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قانونِ توہینِ رسالتؐ کے مرتکب افراد کو      ہر دور میں سزا کا مستحق گردانا گیا۔ وہ سلمان رُشدی کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث کرتے ہیں اور مغرب نے جس قسم کا تعصب روا رکھا اُس کو زیربحث لائے ہیں۔ یاد رہے پاکستان میں     قانونِ توہینِ رسالتؐ کی سزا میں اب تک کسی کو عدالتی سزا نہیں ملی ہے۔ امریکا، برطانیہ کے اہم قانونی تعلیمی اداروں اور مغرب کے انصاف پسند حلقوں نے قانون توہینِ رسالتؐ کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ہے اُس کا تذکرہ اس کتاب میں تفصیل سے شامل ہے۔

عالمِ عرب کے علما کی راے درج کرنے کے بعد وہ بھارت کے عالمِ دین وحید الدین خان کی راے پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی بھی فرد کو ’مصالح‘ کے پیش نظر شانِ رسالتؐ کے مسئلے پر کمزوری دکھانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ دنیا کے مختلف دساتیر میں آزادیِ راے کی حیثیت، نیز پاکستان کے نمایاں علما کے خیالات کو بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ عامر عبدالرحمن چیمہ شہید، نیز ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بارے میں بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس کتاب کے مطالعے سے یہ احساس اُبھرتا ہے گویا کہ اس کے مخاطب مسلمان ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مغربی ممالک اور مغرب کا پروردہ ذہن جن دلائل کو قبول کرتا ہے انھیں اہمیت دی جائے۔ قانونِ توہین رسالتؐ، جہاد، دہشت گردی جیسے موضوعات پر بحث مباحثہ ختم ہونے والا نہیں ہے، اس بارے میں جس قدر جامع تحریریں، منظرعام پر آسکیں، مفید ہیں۔ (محمد ایوب منیر)


Managing Finances: A Shariah Compliant Way [انضباطِ مالیات، شریعت کے مطابق]، محمدمصطفی انصاری۔ ناشر: ٹائم مینجمنٹ کلب، اُردو بازار،  ریڈیو پاکستان، کراچی۔ صفحات: ۲۶۹۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔ منشورات سے دستیاب ہے۔

پوری دنیا میں عموماً اور دنیاے اسلام میں خصوصاً غیراسلامی تجارتی اصولوں سے بے زاری اور اسلامی تجارتی طریقوں کی آگاہی اور اس میں تیز پیش رفت اسلامی بنکاری میں انقلاب برپا کرچکی ہے۔ اسلامی مالی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور روایتی بنکوں میں اسلامی بنکاری کی خصوصی سہولتوں کا قیام عام لوگوں کی اسلامی بنکاری کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دوران ایک بنکار کو اسلامی بنکاری سے مناسب آگاہی نہ صرف بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ اسلامی بنکاری کی تیزترین ترقی کا انحصار بھی اسی پر ہے۔

زیرتبصرہ کتاب میں اسلامی معاشی نظام اور اس کے مختلف اداروں کے تعارف کے ساتھ ساتھ ۱۹۸۰ء میں شروع ہونے والی اسلامی بنکاری اور آج ہونے والی اسلامی بنکاری کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اسلامی بنکاری کی اصل بنیاد اور سود کی اصل متبادل اساس، یعنی مشارکہ اور مضاربہ کے تصور، شرائط اور عملی طور پر استفادہ کے حوالے سے تفصیلات، ڈائیگرام کے ذریعے پیش کی گئی ہیں۔ یہ کتاب کی انفرادیت ہے۔

مشارکہ اور مضاربہ کے علاوہ دیگر ذرائع میں اجارہ، مرابحہ، توارق سلم، استصناع وغیرہ کی تفصیلات اور عملی شکلوں پر بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے اور صارفین کے لیے وسائل کی فراہمی کے ذرائع کا جائزہ لیتے ہوئے گھرفنانس، کار فنانس، بدلہ کا کاروبار، کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، چارج کارڈ اور ATM کے تصورات کا شرعی تقاضوں کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔

مزید برآں کاروباری معاملات میں ملازمین و آجرین کے حقوق و فرائض، عام کاروباری معاملات، طویل المدت اور قلیل المدت بچتوں اور ان کے استعمال، ٹیکس کاری اور اس کے مسائل، انشورنس، بنک گارنٹی، مارکیٹنگ، تکافل، فنانشل رپورٹنگ اور زکوٰۃ کے مختلف مسائل کا جائزہ پیش  کیا گیا ہے اور ان کی شرعی حیثیت کا تعین کیا گیا ہے۔

اس کتاب کی خاص بات ان موضوعات پر سہل اور تفصیلی بحث ہے جو نہ صرف اسلامک بنکاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ آنے والے دور میں جدید اسلامی بنکاری کی بنیاد ہوسکتے ہیں اور جن کا جاننا ایک اچھے بنکار کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کتاب کی ایک اور خاص بات اس کے عنوانات کا ترتیب وار سلسلہ ہے جو قاری کو آسان سے پیچیدہ اسلامی تصورات کی طرف  کسی رکاوٹ کے بغیر بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ یہ کتاب جدید اسلامی بنکاری کے تقاضوں پر نہ صرف پورا اُترتی ہے بلکہ علومِ اسلامی بنکاری میں مفید اضافہ ہے۔ مصنف اسلامی بنکاری کے میدان میں اس عظیم کاوش پر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ (محمد محمود شاہ خان)


عصرحاضر میں اجتہاد ، مولانا ابوعمار زاہد الراشدی۔ ناشر: الشریعہ اکادمی، کنگنی والا، گوجرانوالہ۔ صفحات: ۳۲۸۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

لغت کا ایک لفظ ہے ’یلغار‘۔ اس لفظ کے ساتھ فوری طور پر یہ تصویر ذہن میں بنتی ہے کہ ایک گروہ یا لشکر اپنی قوت کے بل بوتے پر دوسرے کو پچھاڑنے، بے بس کرنے یا اپنی مرضی کا تابع بنانے کے لیے اُمڈا چلا آرہا ہے۔ گذشتہ سو ڈیڑھ سو برس سے دین اسلام کے کچھ ’ہمدردوں‘ نے تو واقعی اس لفظ کے پردے میں خود اسلام کی ’تشکیل نو‘ کے لیے یلغار کر رکھی ہے۔ وہ جو دین کی ابجد سے بھی واقف نہیں اور وہ جو اس لفظ کے دائرۂ اثر کی نزاکتوں اور عملی سطح پر اس کی وسعتوں تک سے بے خبر ہیں وہ بھی اس لفظ کو اس زعم میں گھما پھرا کر اسلامی فکریات کے ایوان پر دے مارتے ہیں کہ گویا اہلِ دین تو دین اور دنیا سے بے خبر بیٹھے ہیں اور عقل و دانش کی دولت بس اس یلغاری گروہ کی ملکیت ہے۔ یہ ایک عجیب منظر ہے۔ مولانا زاہدالراشدی اس کتاب میں مذکورہ صورت حال پر نظر دوڑانے کے ساتھ علماے کرام کو دین، ایمان اور عقل کی بنیاد پر وسعت نظر، منصبی ذمہ داری اور قوتِ عمل کی دعوت دیتے ہیں: ’’ایک طرف سرے سے اجتہاد کی ضرورت سے انکار کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف اجتہاد کے نام پر اُمت کے چودہ سو سالہ علمی مسلمات اور اجتماعی اصولوں کا دائرہ توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، جب کہ حق ان دونوں انتہائوں کے درمیان ہے‘‘۔ (ص ۲۸۷)

زیرنظر کتاب اجتہاد کے حوالے سے اس بحث کے پس منظر، عملی جہتوں، اس کے مقدمات، نظائر، امکانات اور مضمرات کو اس طرح پیش کرتی ہے کہ قاری بڑی حد تک معاملے کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھ لیتا ہے۔ چونکہ یہ کتاب مولانا راشدی کے ان بیش تر اخباری کالموں پر مشتمل ہے، جو انھوں نے اکتوبر ۱۹۹۰ء سے تاحال سپردِ قلم کیے (مگر اخباری کالم ہونے کے باوجود ان میں گہرائی اور تازگی ہے)، چنانچہ اس عرصے کے دوران میں زیربحث موضوع کے بارے میں اُٹھنے والے مناقشوں کا ایک ریکارڈ بھی سامنے آجاتا ہے۔ مصنف نے استدلال کے لیے عام فہم نظائر اورمثالوں کو خوبی سے چن چن کر فکروخیال کا دیوان سجایا ہے۔ چند در چند ناہمواریوں کے باوجود اہلِ دین ان کی اس کاوش کو یقینا خوش آمدید کہیں گے۔

مصنف کو علمی حلقے ایک معتدل شخصیت کے طور پر جانتے ہیں، تاہم زیرتبصرہ کتاب میں  یہ نثرپارہ ان کی مذکورہ حیثیت کو متاثر کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’مولانا [عبیداللہ] سندھیؒ اور ابوالکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انھیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی، جو خود مولانا مودودی اور ان کے رفقا نے ان کی تحریروں پر علما کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات پر اپنا لی تھی۔ چنانچہ اس روش کے نتیجے میں وہ جمہور علما [؟] کے مدمقابل ایک فریق کی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے‘‘ (ص ۳۱۷)۔ اس ٹکڑے میں الزام تراشی اور مبالغہ آمیزی کا وہ لحن کارفرما ہے جو گذشتہ صدی کے پانچویں اور چھٹے عشرے میں منظر پر چھایا ہوا تھا [موصوف نے یہ عجب دعویٰ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی نے اس غوغا آرائی کا جواب نہ ہونے کے برابر دیا، اور ان کے رفقا نے گنتی کی چند چیزوں کے سوا کوئی جواب نہیں دیا، جب کہ دوسری جانب سے تنقید کا ایک طوفان اٹھایا جاتا رہا]۔ سبحان اللہ، ان ’جمہور علما‘ میں سے واقعی کتنے حضرات نے خدا ترسی اور علمی مناسبت سے تنقید کی اور کتنے حضرات نے عصبیت کی چوکھٹ پر سچائی، اخلاق، علم اور شائستگی کا خون کیا؟ مذکورہ بالا فردِ جرم کا جائزہ اور ’جمہورعلما‘ کے اسلوبِ نگارش کا گل دستہ اس مختصر تبصرے میں پیش کرنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ’کرم فرمائوں‘ کو خوش رکھے۔ (سلیم منصور خالد)


لمعاتِ زنداں، خرم مراد، مرتبہ: لمعت النور۔ ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور-    فون: ۵۴۳۴۹۰۹۔ صفحات: ۱۰۶۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

۲۳ سال بعد، یہ اس کتاب کی طبع نو ہے۔ یہ محترم خرم مراد کے اپنی اہلیہ کے نام خطوط کے آئینے میں ایوب خاں کے اس دور کی تصویر ہے جب حکومت اپنی دانست میں جماعت اسلامی کا نام و نشان مٹانے کے درپے تھی اور اس پر پابندی لگا کر تمام رہنمائوںکو پابندِسلاسل کردیا تھا۔   خرم مراد اس وقت جماعت اسلامی ڈھاکا کے امیر تھے۔ ڈھاکا جیل کے شب و روز سے زیادہ، یہ خطوط آزمایش کے اس مرحلے میں ، ایک مومن کے جو جذبات و کیفیات ہونا چاہییں اس کے آئینہ دار ہیں۔ اپنے رب سے تعلق، قرآن سے تعلق، تحریک کے اس مرحلے پر ایمان افروز تبصرے، کامیابی کا یقین، ساتھ ہی اپنی رفیقۂ حیات کو صبروحوصلے کی تلقین، قاری ایمان و یقین کی ایک کیفیت سے گزرتا ہے۔

یہ تحریک کے ہر کارکن کے لیے ذاتی تربیت و تزکیہ کی کتاب ہے۔ خرم مراد سے جو واقف ہیں، ان کے لیے اس میں مزید لطف ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ لمعت النور نے ان خطوط کو خود مرتب کیا ہے، اور ’اسلامی جمعیت طلبہ کی نوخیز زندگیوں‘ کو ہدیہ کیا ہے۔ (محمد اسماعیل)


وقت کا بہتر استعمال، مرتبہ: محمد بشیر جمعہ۔ ناشر: ٹائم مینجمنٹ کلب، پوسٹ بکس ۱۲۳۵۶، کراچی۔ ۷۵۵۰۰۔صفحات: ۲۷۰۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ منشورات لاہور سے دستیاب ہے۔

وقت ہی زندگی ہے۔ انسان کے لیے مہلت عمل ہے۔ اسی وقت کے صحیح یا غلط استعمال پر آخرت کی ابدی تکلیف یا راحت کا انحصار ہے۔ انتظامیات اور کیریر کے حوالے سے آج یہ   مغربی دنیا کا مقبول موضوع ہے جس پر بہت مفید چیزیں لکھی جارہی ہیں۔ محمد بشیر جمعہ نے، جنھیں اُردو میں ان موضوعات پر لکھنے کا پہل کار (pioneer) قرار دیا جاسکتا ہے، زیرتبصرہ کتاب میں سلف و حال کے ۲۰رجال کی ۲۶ تحریریں چھے عنوانات کے تحت جمع کردی ہیں۔ ان کے مطالعے سے وقت کے بارے میں صحیح دینی تصور اُبھر کر سامنے آتا ہے اور انسان کو ذاتی زندگی کے لیے   قیمتی عملی رہنمائی، نہ صرف دنیاوی کیریر کے لیے بلکہ اخروی کیریر کے لیے بھی ملتی ہے۔ حافظ    ابن رجب، امام غزالی، حسن البنا، شیخ عبدالرحمن السدیس، مولانا اشرف علی تھانوی، حفظ الرحمن سیوہاری، مولانا عبدالمالک، ڈاکٹر حسن صہیب مراد، خالد رحمن، ڈاکٹر منصور علی اور خود بشیرجمعہ لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ ان سب کو جو زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں (تاکہ آخرت میں کامیاب ہوں) خصوصاً اداروں میں کام کرنے والوں اور نوجوان طلبہ و طالبات کو اس کا خصوصی مطالعہ کرنا چاہیے۔ دعوتِ دین کے کارکن بھی اس کی روشنی میں اپنے کو منظم کریں تو اپنی سرگرمیوں کو کئی گنا زیادہ مؤثر کرسکتے ہیں۔ (مسلم سجاد)


قافلے دل کے چلے (سفرنامہ حج)، جاوید اقبال راجا۔ ناشر: ایف آئی پرنٹرز، کشمیر روڈ،    صدر راولپنڈی۔ صفحات: ۱۳۶۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

زیرنظر کتاب ایک زائر حرم کی طلب صادق اور وارداتِ قلبی کا نام ہے۔ مختصر مگر دل کی تاریں ہلانے اور آنکھیں نمناک کر دینے والایہ سفرنامہ خوب صورت الفاظ ، اردو، پنجابی اور انگریزی اشعار، برجستہ جملوں اور سیدھے سادے انداز کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ تصنع ہے نہ بناوٹ، ذاتی واردات اور تاریخی روایات و حکایات کا مجموعہ ہے۔ یہ سفرنامہ طبعی بذلہ سنجی، شوخی اور جدت کی تلاش و جستجو کا مرقع ہے۔ عزیزوں، دوستوں سے ملنے کا تذکرہ جابجا نظر آتا ہے مگر قاری کی دل چسپی قائم رہتی ہے۔ اس کتاب کو سفرحج پر جانے والوں کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں لکھی جانے والی  ایک راہنما کتاب قرار دیا جاسکتا ہے۔ سعود عثمانی کے پیش لفظ نے کتاب کے حسن میں مزید اضافہ کیا ہے۔ (عمران ظہورغازی)


جلال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، عبدالحمید ڈار۔ ناشر: منشورات، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۱۰۹۔ قیمت:۳۹ روپے

زیرنظر کتاب میں پروفیسر عبدالحمید ڈار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کو جمع کیا ہے جن میں آپؐ نے ناپسندیدہ امور کی نشان دہی کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی، وعید اور عتاب، سرزنش و ممانعت اور اظہار براء ت کا اعلان فرمایا ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں ان احادیث کی وضاحت کے ساتھ ساتھ ہماری روزمرہ روش پر تبصرہ بھی کیا گیا ہے۔ اس طرح نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ کا وہ پہلو بھی نمایاں ہوکر سامنے آجاتا ہے جس میں آپؐ نے عقائد، عبادات اور معاملات میں ایک مومن کی شخصیت کے ناپسندیدہ عناصر کی نشان دہی فرمائی ہے۔ چند موضوعات: نمازباجماعت بلاعذر ترک کرنا، زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے وعید، جاہلیت کی پکار پر اظہار ناراضی، اموردین میں تشدد، احکاماتِ شریعت کو کھیل بنانا، پڑوسی کو دین کی تعلیم دینے میں کوتاہی پر سرزنش، عیب چینی پر گرفت، مصنوعی افزایش حُسن پر لعنت، زرپرستی کی مذمت، لین دین میں بددیانتی پر زجر، غاصب کے لیے شدید وعید، مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت، حکمرانوں کے جھوٹ کو سچ کہنے اور ظلم میں مدد پر وعید وغیرہ۔ گویا ایک آئینہ فراہم کردیا گیا ہے کہ اپنا احتساب کیا جائے اور خدا کے غضب سے بچا جائے۔(امجدعباسی)


الحکمۃ، مرتب: شیخ عمرفاروق۔ ناشر: جامعہ تدبر القرآن، ۱۵-بی، وحدت کالونی، لاہور۔ فون: ۷۵۸۵۹۶۰۔ صفحات: (بڑی تقطیع) ۱۰۰۰۔ ہدیہ: طلبِ صادق۔

احادیث مبارکہ کا یہ دل نشیں مجموعہ دوسری دفعہ کئی موضوعات اور ۲۵۰ صفحات کے اضافوں کے ساتھ شائع ہواہے۔ عبادات، معاملات، فضائل و رذائل اخلاق اور نظامِ حکومت سے متعلق احادیث کی تشریح شیخ عمرفاروق صاحب نے خود بھی کی ہے لیکن بیش تر یہ اہتمام ہے کہ کسی مستند اور مقبول کتاب سے متعلقہ حصہ اخذ کر کے پیش کردیں۔ اس طرح مطالعہ کرنے والوں اور درس و تدریس کرنے والوں کے لیے ایک حسین گلدستہ تیار ہوگیا ہے (مزید تعارف کے لیے دیکھیے: تبصرہ    پہلا اڈیشن ستمبر ۲۰۰۴ئ)۔ شائقین بلامعاوضہ حاصل کرسکتے ہیں لیکن کڑی شرط یہی ہے کہ آکر    لی جائے، ترسیل کا انتظام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ عمر فاروق کو جزاے خیر دے کہ ایسی ہی دوسری کتابوں کے ذریعے خیر کے چشمے جاری کر رکھے ہیں۔ (م - س)


تعارف کتب

  • اسلام کیا ہے؟ محمد ایوب خاں۔ ناشر: ادارہ اشاعت القرآن، ۲۹۴- ایکسٹینشن، کیولری گرائونڈ،     لاہور کینٹ۔ فون: ۶۶۵۰۱۲۰۔ صفحات:۱۳۵۔ قیمت: ۶۰ روپے۔ [کسی غیرمسلم معاشرے کے افراد کے لیے جو اسلام کو جاننا چاہتے ہیں یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ اختصار سے مکمل تعارف پیش کیا گیا ہے۔ ہر بات کی دلیل قرآن سے لائی گئی ہے۔ عقائد، عبادات کے ساتھ نظامِ معیشت، نظامِ حکومت، جہاد، اُمت مسلمہ، ہرپہلو کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔]
  • آئینۂ حدیث ، محمد جاویداقبال۔ ملنے کا پتا: ڈی-۱۰، کریم پلازا، گلشن اقبال، بلاک ۱۴، کراچی۔ فون: ۴۹۴۸۲۴۶۔ صفحات:۶۴۔ قیمت: ۴۰ روپے۔ [اس مختصر کتاب میں ۷۱ عنوانات کے تحت ایسی احادیث جمع کردی گئی ہیں کہ مرتب کے بقول آج ہمیں جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل ارشادات رسولؐ کی روشنی میں ڈھونڈ سکیں، نیز غربت، مہنگائی، مایوسی، خودکشی، کاروکاری، فحاشی، فرقہ پرستی، بدعنوانی، عورتوں پرمظالم، بڑھتے جرائم جیسے مسائل کا سدباب کرسکیں۔]
  • فانی زندگی کے چند ایام ، اہتمام: مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، نوشہرہ۔ فون: ۶۳۰۲۳۷-۰۹۲۳ صفحات: ۱۵۴۔ قیمت: درج نہیں۔[کتاب دراصل شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہید کی خودنوشت سوانح حیات ہے۔ بنیادی طور پر یہ دورِ طالب علمی کی یادداشتیں ہیں۔ سفرِحج کا دل کش بیان ہے۔ دیگر اسفار بھی قاری کو دنیا کے مختلف حصوں میں لے جاتے ہیں، مثلاً بنگلہ دیش، ازبکستان، عرب امارات، جنوبی افریقہ، کینیا اور سمرقند و بخارا۔]
  • ہمدرد نونہال ،خاص نمبر۔ مدیراعلیٰ: مسعود احمد برکاتی۔ دفتر: ہمدرد ڈاک خانہ، ناظم آباد، کراچی-۷۴۶۰۰۔ صفحات: ۲۸۸۔ قیمت: ۳۵ روپے۔[یہ رسالے کا ۳۲ واں، ۲۱ ویں صدی کا آٹھواں خاص نمبر ہے۔ ہر تحریر تعمیری، بچوں کے لیے دل چسپ، ساتھ ساتھ معلومات اور ذہنی ترقی بھی۔ رچی بسی مشرقیت اور اسلامی اقدار۔ بچوں کے لیے بہترین تحفہ۔ ترتیب دینے میں محنت کرنے والوں کا بچوں کی جانب سے بہت شکریہ۔]

  • آسان میراث ،مولانا محمد عثمان نووی والا۔ ناشر: بیت العلم ٹرسٹ،9E-ST ، بلاک ۸، گلشن اقبال، کراچی-۷۵۳۰۰۔ صفحات: ۱۲۲۔ قیمت: ۷۰ روپے۔[میراث کے مشکل مسائل موصوف نے اپنی دانست میں آسان کر کے بیان کردیے ہیں، تاہم عام آدمی کے لیے پھر بھی مشکل ہیں۔ دینی مدارس کے طلبہ کے لیے ضرور ’نایاب تحفہ‘ ہے۔]
  • خصائل نبویؐ کا دلآویز منظر ، تالیف: مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، ضلع نوشہرہ۔ صفحات: ۱۶۶۔ قیمت: درج نہیں۔ [شمائل ترمذی مشہور کتاب ہے جس میں حضوؐر کی روزمرہ کی زندگی کی تمام جزئیات اور تفصیلات کا بیان ہے۔ مصنف اس کو سلسلے وار شائع کر رہے ہیں۔ یہ اس سلسلے کی ساتویں جلد ہے۔ اس جلد میں ۳۷ احادیث عام فہم تشریح کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ آپ کے اخلاق و عادات اور انکسار جیسے موضوعات زیربحث آئے ہیں۔]

مولانا ایاز احمد ‘چارسدہ

’دہشت گردی کے خلاف ___کس کی جنگ؟‘ (جون ۲۰۰۸ئ) میں آپ نے امریکی حکومت کے ناپاک عزائم کو بہت تفصیل سے واضح فرمایا ہے۔ موجودہ حکومت کو قوم نے ووٹ اس لیے دیا تھا کہ ہمیں امریکی حملوں سے نجات ملے گی لیکن افسوس کہ امریکا نے ایک بار پھر مہمند ایجنسی پر حملہ کیا اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ بے گناہ اور نہتے لوگوں پر بھی بم باری کی جس میں کئی لوگ شہید اور زخمی ہوگئے۔ یہ سلسلہ پتا نہیں کب تک رہے گا۔ ایک ایٹمی طاقت کے عوام کتنے غیرمحفوظ اور بے آسرا ہیں۔ موجودہ حکمران بھی صدر مشرف اور اُن کے رفقا کے طریقے پر عمل پیرا ہیں۔ ملک میں بدامنی اور مہنگائی ہے، لوگ نانِ جویں کے لیے ترس رہے ہیں اور حکمران ہیں کہ خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کی حفاظت فرمائے۔ ضرورت ہے کہ پوری قوم اجتماعی توبہ کرے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی نافرمانی اور سرکشی کی روش ترک کر کے مکمل بندگی و اطاعت اختیار کرے۔


عبدالمتین اخوندزادہ ‘کوئٹہ

جون کا ترجمان القرآن ظاہری حُسن کے ساتھ باطنی حُسن و مقصدیت بھی لیے ہوئے ہے۔ ’اشارات‘ اور ’شذرات‘ کے ساتھ ساتھ’قرآن کی دعوت کا مخاطب، قلب‘ اچھی تذکیر ہے۔ انسانی خدمت کے وسیع تصور میں نبی اکرمؐ کے اسوئہ حسنہ کے ساتھ اسلامی اداروں کے خدمت کے مستحکم نیٹ ورک کا تعارف و جائزہ بھی آنا چاہیے، خاص کر حماس، حزب اللہ اور ترکی کا تذکرہ۔ مختصر لباسی پر ڈاکٹر لیونڈ کیتالیف کا مضمون مختصر ہونے کے باوجود اس شمارے کی جان ہے۔ یہ مغرب کے گھر کی گواہی ہے۔ سلیم منصور خالد کی اچھی کاوش ہے۔


شمس الرحمٰن عثمانی ‘ہزارہ

ارض فلسطین، لبنان، شام، اسرائیل اور عرب دنیا کی تازہ ترین صورت حال اور مستقبل کے امکانات پر محترم عبدالغفار عزیز نے چشم کشا تجزیہ پیش کیا (جون ۲۰۰۸ئ)۔ میں ان کے لیے دعاگو ہوں کہ وہ اُمت کو بصائر و عبر سے آگاہ کرتے رہیں۔


عرفان منور گیلانی ‘ڈنمارک

’مختصر لباسی کی تباہ کاری‘ (جون ۲۰۰۸ئ) اگرچہ ایک مغربی محقق کا مضمون ہے، غوروفکر کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود مغرب اپنی عریانی سے باز نہیں آتا۔دوسری طرف مسلم معاشرے، جن کی اسی روسی محقق نے تعریف کی ہے، جانتے بوجھتے اسی عریانی کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ عریانی دراصل جھوٹی آزادی کا عنوان ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں عورت کو اس کا حقیقی مقام دیا جائے جو قرآن وسنت نے اسے دیا ہے۔ وہ رسوم و رواج کے بندھنوں سے آزاد ہو۔ تب اس کے لیے مغرب کی دی ہوئی آزادی (یعنی عریانی) میں کوئی کشش نہ رہے گی، بلکہ مغرب بھی اس طرف آئے گا۔


سمیع اللّٰہ بٹ ‘لاہور

’مختصر لباسی کی تباہ کاری‘ (جون ۲۰۰۸ئ) روسی محقق و دانش ور کا دل چسپ اور چشم کشا مضمون ہے۔ مغرب کی ملحدانہ اور زوال پذیر معاشرت کے قابلِ عبرت پہلو پر ایک گھر کا بھیدی مہرتصدیق ثبت کررہا ہے۔ مسلمان معاشروں کے روشن خیال اور جدیدیت کے علَم بردار طبقے جو ’مُلاازم اور طالبان کے اسلام‘ کی آڑ میں اسلامی معاشرت، لباس اور طرزِ زندگی پر آئے روز طنز کرتے یا اس سے وحشت محسوس کرتے ہیں، انھیں اس طرح کی تحقیقات اور اعترافات سے سبق اور عبرت حاصل کرنا چاہیے۔


سیمیں نذیر ‘کراچی

’حکمت مودودی‘ کے تحت ’طاغوت‘ (مئی ۲۰۰۸ئ) میں مولانا مودودیؒ نے آنکھیں کھول کر رکھ دیں، اور ضمیر پر کاری ضرب لگی کہ کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتاجب تک کہ طاغوت کا منکر نہ ہو۔ اللہ کرے کہ پاکستان میں بھی سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون نافذ ہوجائے۔ ڈاکٹر فوزیہ ناہید مرحومہ کی زندگی  قابلِ رشک ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کو اللہ نے زندگی کے ہر میدان اورشعبۂ زندگی میں خاص صلاحیتوں و جدوجہد سے ہمکنار کیا۔ تحریر پڑھ کر لگا کہ سمندر کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے۔ محترمہ قانتہ ذکی بھی داد کی مستحق ہیں کہ انھوں نے مرحومہ کا دل نشیں پیرایے میں نقشہ کھینچا۔اگر وہ امریکا میں اسلامی تحریک پر مزید لکھیں تو بہت اچھا ہو۔


عبداللّٰہ خضر‘ کراچی

مغربی میڈیا کے بارے میں اب بھی یہ تاثر ہے کہ وہ معروضی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔ ہم یہ گمان بھی نہیں کرسکتے کہ وہ کس حد تک سفید جھوٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ عراق پر امریکی حملے سے پہلے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں ایک کویتی لڑکی نیّرہ نے امریکی کانگریسی کمیٹی کے سامنے روتے ہوئے یہ بیان دیا کہ عراقی فوجیوں نے کویتی ہسپتالوں میں معتدلہ (incubators)  میں پڑے ہوئے بچوں کو نکال کر باہر پھینک دیا تاکہ وہ مرجائیں۔ یہ چشم دید بیان ایک تعلقات عامہ کی فرم Hill and Knowlton نے خوب اُچھالا اور بڑے بش نے اس کی مدد سے صدام کی ہٹلر سے بھی بدتر تصویر کھینچی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عراقی قبضے کے دوران نیّرہ کویت گئی ہی نہیں اور نہ کمیٹی کے سامنے یہ حقیقت آئی کہ وہ امریکا میں کویت کے سفیر کی بیٹی ہے۔ جنگ کے بعد کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اس جھوٹ کا پول کھولا جب اس نے برٹش کولمبیا کے ایک پروفیسر کا یہ بیان نقل کیا کہ وہ دورانِ جنگ کویت کے ہسپتالوں میں گیا ہے۔ وہاں کبھی کسی نے incubators کے اس واقعے کے بارے میں سنا ہی نہیں (کریسنٹ انٹرنیشنل، جون ۲۰۰۸ئ)۔ اگر کوئی محنت کرے تو اس طرح کے     بے شمار مصدقہ جھوٹوں اور غلط بیانیوں پر پوری کتاب تیار ہوسکتی ہے جن کے سہارے امریکی پالیسی چلتی ہے۔


فیضان احمد‘سیکرٹری جنرل اسلامی سنگھ نیپال

یہ اطلاع دیتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ الحمدللہ نیپالی ترجمۂ قرآن کے رسم اجرا کا پروگرام نہایت کامیاب رہا۔ یہ ترجمہ تحریک اسلامی نیپال، اسلامی سنگھ نیپال کی پانچ سالہ محنتوں کا ثمرہ ہے۔ مولانا علائوالدین فلاحی، فارغ التحصیل جامع الفلاح اور سابق طالب علم بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کو ترجمے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مختلف علماے کرام کی نظرثانی کے ساتھ ساتھ تین ماہر لسانیات سے بھی اس کی زبان کی  تصحیح کروائی گئی ہے۔ یہ عربی متن کی نیپالی زبان میں ترجمانی ہے۔ اس کی تیاری میں قرآن مجید کے مشہور   اُردو تراجم: تفہیم القرآن، تدبر القرآن، احسن البیان، معارف القرآن اور انگریزی زبانوں میں موجود تراجم کے ساتھ ساتھ متداول عربی تفاسیر سے بھی مدد لی گئی ہے۔رسمِ اجرا کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں سیاسی و سماجی کارکنان، مختلف مسالک کے نمایندے، ہندو، بودھ، عیسائی اور جین مذاہب کے           اعلیٰ عہدے داروں سمیت بڑی تعداد میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے شرکت کی۔

اختلاف راے

ایک حرام و حلال تو وہ ہے جو نصِ صریح میں حلال یا حرام قرار دیا گیا ہو، اور وہ اصولی چیز ہے جس میں رد و بدل کرنا موجب کفر ہوجاتا ہے۔ دوسرا حلال و حرام وہ ہے جو نصوص کی دلالتوں یا اشارات یا اقتضاء ات سے استنباط کیا جائے، یہ فروعی چیز ہے اور اس میں ہمیشہ سے علما و فقہاے اُمت حتیٰ کہ صحابہؓ اور تابعینؒ کے درمیان بھی اختلافات رہے ہیں۔ ایک ہی چیز کو کسی نے حلال قرار دیا ہے اور کسی نے حرام، اور کبھی ایسا نہیں ہواکہ اس نوع کی استنباطی تحلیل و تحریم پر مباحثہ و محاجّہ سے آگے بڑھ کر کسی نے دوسرے کو یہ الزام دیا ہو کہ تمھارا دین بدل گیا ہے یا تم خدا کے حرام کیے ہوئے کو حلال کررہے ہو۔ افسوس یہ ہے کہ ہندستان میں بلکہ عام مسلمانوں میں ایک مدت سے شرعی مسائل کی آزادانہ تحقیق کا سلسلہ بند ہے اور ہر گروہ کسی ایک مذہب ِفقہی کی پابندی میں اس قدر جامد ہوگیا ہے کہ اپنے ہی مذہب ِخاص کو اصل شریعت سمجھنے لگا ہے۔ اس لیے جب لوگوں کے سامنے ان کے مانوس مسلک سے ہٹ کر کوئی تحقیق آتی ہے تو وہ اس پر اس طرح ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ گویا دین میں کوئی تحریف کی گئی ہے، حالانکہ سلف میں، جب کہ آزادانہ تحقیق کا دروازہ کھلا ہوا تھا، علما کے درمیان حلال و حرام اور فرض و غیرفرض تک کے اختلافات ہوجاتے تھے، اور ان کو نہ صرف برداشت کیا جاتا تھا بلکہ ہر گروہ اپنے نزدیک جو حکمِ شرعی سمجھتا تھا، اس کی خود پابندی کرنے کے ساتھ دوسروں کو بھی یہ حق دیتا تھا کہ اُن کے نزدیک جو حکم شرعی ہو، اُس کی وہ پابندی کریں۔(’رسائل و مسائل‘ ، ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد ۲۸، عدد۳، ربیع الاول ۱۳۶۵ھ، فروری ۱۹۴۶ئ، ص ۵۲-۵۳)
________________