مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۰۸

بنک کو کرایے پر جگہ دینا

سوال: ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس کا معاشی نظام سودی بنیادوں پر چلتا ہے۔ کوئی ملازم ہو یا کاروبار کرے کسی نہ کسی طور بنک سے اس کا واسطہ پڑتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس سودی نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ کیا اس طرح ہم سودی نظام میں تعاون کے مرتکب تو نہیں ہوتے؟

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ بے روزگاری اور ہوش ربا مہنگائی کے ہاتھوں لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ اگر ایسے میں کسی کو بھرپور کوشش کے باوجود ملازمت نہ ملے اور بہ امر مجبوری اسے کسی بنک میں ملازمت کرنا پڑے تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

ایک سوال یہ ہے کہ بنک کو کرایے پر جگہ دینا کیسا ہے کہ جگہ دینے والے کا اس کرایے پر ہی انحصار ہواور مجبور بھی ہو۔ کیا وہ بنک میں نوکری کرنے والوں کی طرح جگہ کرایے پر دے سکتا ہے؟

جواب : اسلام اپنے ہر ماننے والے سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حلال اور طیب روزگار حاصل کرے اور حرام اور خبیث سے اجتناب کرے۔ اس بنا پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نے  سود کے بارے میں بغیر کسی اشتباہ کے واضح احکام دیے کہ سود حرام ہے اور جس طرح ایک حرام شے کا استعمال کرنے والا، خریدنے والا، فروخت کرنے والا یا کسی کو پیش کرنے والا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، اسی طرح سودی کاروبار میں شرکت کرنے والا بھی یکساں طور پر گناہ گار تصورکیا جائے گا۔ اس اصولی وضاحت کے ساتھ یہ بات بھی جان لینا ضروری ہے کہ ایک حرام شے صرف اُس صورت میں ایک فرد کے لیے وقتی طور پر جائز ہوجاتی ہے جب اس کی جان کو خطرہ ہو، مثلاً حرام کیے ہوئے کھانے کا استعمال جان بچانے کی حد تک تو جائز ہوگا لیکن اس کا عادتاً استعمال مطلقاً حرام رہے گا۔

اگر ایک شخص کو اپنی مقدور بھر کوشش کے باوجود بنک کے علاوہ کوئی اورملازمت دستیاب نہیں ہے تو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان بچانے کے لیے جب تک اسے کوئی حلال ملازمت نہ مل جائے، وہ ایسا کرسکتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں جب مغربی سرمایہ دار ممالک کے بنک بھی مسلمان گاہکوں کے حصول کے لیے اپنے ہاں غیرسودی کھڑکیاں کھول رہے ہیں اور پاکستان میں خصوصاً اسلامی بنکوں کی شاخیں تیزی کے ساتھ ملک گیر پیمانے پر کھل رہی ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ اسلامی بنک میں ملازمت تلاش کی جائے اور اس طرح اپنی تعلیم و تربیت کا استعمال بھی ہو اور حرام سے بھی بچا جاسکے۔ اس لیے آپ کوشش کریں کہ کسی اسلامی بنک میں آپ کو ملازمت مل سکے۔

جہاں تک سوال ایک مکان یا دکان بنک کو کرایے پر دینے کا ہے، اس میں اصولی طور پر   یہ بات سمجھ لیں کہ شریعت کا حکم ظاہر پر لگتا ہے۔ اگر آغاز سے یہ بات آپ کے علم میں ہے کہ ایک شخص جو جگہ کرایے پر لے رہا ہے وہاں بنک قائم کیا جائے گا تو اس سے حاصل کردہ کرایہ گو مکان کا کرایہ ہے لیکن معصیت اور گناہ میں شرکت سے خالی نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ ایک شخص کسی سے مکان یا دکان حاصل کرتا ہے اور مالک مکان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس جگہ پر کیا کاروبار کرے گا، پھل فروش کی دکان بنائے گا یا بنک کی برانچ کھولے گا تو اسے کرایے پر مکان دینے میں کوئی قباحت نہیں۔  اگر یہ بات ظاہر اور واضح ہو کہ اس مکان میں حرام کام کیا جائے گا تو اس سے حاصل شدہ کرایہ مباح تصور نہیں کیا جائے گا۔ واللّٰہ اعلم بالصواب (ڈاکٹر انیس احمد)


پراپرٹی کی خرید و فروخت کا ایک مسئلہ

س: ہماری اسٹیٹ ایجنسی ہے۔ ہمارا کام اپنے کلائنٹس کی پراپرٹی فروخت کرنا یا ان کو کوئی پراپرٹی دلانا ہے۔ ہم خود بھی پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ گاہک سے ہمیں اس خریدوفروخت کروانے کے عوض کمیشن ملتی ہے۔ ایک نئے پروجیکٹ کے حوالے سے درج ذیل سوال کی وضاحت فرما دیں:

دبئی میں کئی نئے پروجیکٹ بن رہے ہیں جن کی بکنگ مکمل ہوچکی ہے اور ان پروجیکٹ پر کام بھی شروع ہوگیا ہے۔ عملاً صورت حال یہ ہے کہ ان کی بنیاد نہیں ڈالی ہے، لہٰذا پروجیکٹ کا ڈھانچا (structure) نہیں بن سکا ہے۔ ہمیں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ایسی صورت میں ان پروجیکٹ میں بکنگ کی ہوئی کسی بھی پراپرٹی کو دوبارہ بیچنا، یعنی جس شخص نے یہ پراپرٹی بک کروائی تھی اسے دورانِ تعمیر ہی اچھی پیش کش آجاتی ہے اور وہ اس پراپرٹی کو نئے خریدار کو بیچ دیتا ہے تو کیا اس پر ہم منافع لے سکتے ہیں؟

ج: آپ کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں خریدوفروخت اگر خالی زمین کی ہے تو وہ موجود ہے، اس کی خریدوفروخت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر خریدوفروخت زمین پر تعمیرشدہ مکانات کی ہے، تو وہ ابھی بنے نہیں۔ بعض کی بنیادیں بھی نہیں رکھی گئیں اور بعض کے ڈھانچے بن گئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو چیز فروخت کی جارہی ہے اور جس کی خریداری کرلی گئی ہے، وہ ابھی معدوم ہے۔ ابھی تو پہلا شخص جس نے خریداری کی ہے، اس نے مکان حاصل نہیں کیا۔ وہ صرف کاغذی نقشے کی شکل میں کاغذ اور ذہن میں موجود ہے۔ اگر اسے بیع سلم قرار دیا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ پہلے شخص کے لیے یہ بیع صحیح ہوسکتی ہے۔ جب تک تعمیر کیے جانے والے مکان کی تمام صفات، قبضے کی تاریخ اور وقت متعین نہ ہو اس وقت تک بیع صحیح نہیں ہوسکتی۔ دوسری بیع تو اس وقت صحیح ہوسکتی ہے جب پہلے دونوں فریق میں تنازعہ پیدا نہ ہو اور خریدار مکان کا قبضہ حاصل کرلے۔ جن مکانات کی بنیاد رکھ دی گئی ہو یا نہ رکھی گئی ہو، دونوں کا ایک حکم ہے۔ خریدار نے جو رقم دی ہے اس کے عوض میں اسے بائع کو صفات کے لحاظ سے متعین رقبہ، متعین نقشہ اور متعین شدہ میٹریل سے تعمیرشدہ مکان دینا ہوگا۔ مجہول اور معدوم کی بیع حنفیہ اور مالکیہ دونوں کے نزدیک صحیح نہیں، البتہ  بیع سلم دونوں کے نزدیک صحیح ہے، لیکن وہ پہلے کے حق میں ہوسکتی ہے دوسرے کے حق میں نہیں۔ دوسرے کے حق میں بیع اس وقت صحیح ہوگی جب پہلا قبضہ کرلے۔ ھدایہ میں ہے: ’’حیوانات میں سلم جائز نہیں ہے، لیکن کپڑوں کی سلم جائز ہے کیونکہ وہ انسان کا بنایا ہوا ہے اور کپڑاصفات کے لحاظ سے متعین ہوسکتا ہے۔ یہی حکم مکان کا بھی ہے۔ یہ عدم جواز اس لیے ہے کہ فریقین میں تنازع کا خطرہ ہے، اگر دوسرے آدمی نے پہلے سے، چیز تعمیر سے پہلے خریدی ہو اور تنازع پیش نہ آیا ہو، اس نے قبضہ کرلیا ہو تو دوسری بیع بھی صحیح ہوجائے گی۔واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)


سابقہ زکوٰۃ کی ادایگی

س: ۱- تین سال ہوئے ایک ساتھی نے ایک کاروبار شروع کیا اور تین سال کے بعد احساس ہوا کہ نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ بھی فرض ہے۔ اب وہ پوچھتے ہیں کہ کیا پچھلے دو سالوں کی بھی زکوٰۃ ادا کروں یا صرف اس سال کی؟

۲- ایک صاحب نے ہائی ایس گاڑی ساڑھے سات لاکھ روپے میں خریدی اور اسے روڈ پر چلا دیا اور تین سال بعد زکوٰۃ کا خیال آیا۔ اب وہ پوچھتے ہیں کہ گاڑی کی سالانہ بچت پر زکوٰۃ دینا چاہیے یا گاڑی کی مالیت پر بھی زکوٰۃ ہے، نیز زکوٰۃ ایک سال ہی کی ہوگی یا تین سال کی؟

۳- ایک شخص نے گھر کے استعمال کے لیے کار خریدی۔ کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟

۴- اگر کار کو سواری لے جانے اور لانے کے لیے کرایہ پر چلایا جائے جیساکہ نمبردو میں عرض کیا ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہوگی یا صرف اس کے سالانہ منافع پر۔

ج :  جب سے آدمی صاحب ِ نصاب ہوجائے تب سے زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ اگر آپ کے دوست ۲۰۰۷ء کو صاحب ِ نصاب ہوئے تو ۲۰۰۷ء سے اور اگر پہلے سے صاحب ِ نصاب ہیں تو جب سے صاحب ِ نصاب ہیں اسی وقت سے زکوٰۃ دینا شروع کریں گے۔

۲- گاڑی کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ گاڑی کی آمدن اور پس انداز کی ہوئی رقم سب  مل کر مقدار نصاب کو پہنچیں تو زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔ وسائل آمدن پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ گاڑی آمدن کا وسیلہ ہے۔ اگر گاڑی ساڑھے سات لاکھ روپے کی زکوٰۃ ادا کر کے خریدی تھی تو جب سے چلائی جارہی ہے اس کی سالانہ آمدن پر زکوٰۃ عائد ہوگی، اس کی مالیت پر نہیں۔ اگر زکوٰۃ ادا نہیں  کی تھی تو ایک مرتبہ اس کی زکوٰۃ ساڑھے سات لاکھ روپے سے اداکردی جائے تو پھر سال بہ سال اس کی آمدن پر زکوٰۃ دی جائے۔

۳- اسی طرح گھر کے استعمال کے لیے خرید کردہ گاڑی پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان پر اس کے گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس سے مراد استعمال کا گھوڑا ہے۔

۴- کار اگر کاروبار کے لیے چلائی جائے تو پھر اس کی آمدنی پر زکوٰۃ عائد ہوگی جب کہ وہ اکیلے یا پس انداز کی ہوئی رقم کے ساتھ مقدار نصاب کو پہنچتی ہو۔ واللّٰہ اعلم! (ع - م)


علاقائی رسم و رواج کی حیثیت

س: اسلام میں علاقائی رسم و رواج کی کیا حیثیت ہے اور اُن کو کرنے یا نہ کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے، بالخصوص شادی کے موقع پر کی جانے والی مہندی کی رسم؟

میرے خیال میں یہ رسم غیراسلامی یا نامناسب اس لیے ہے کہ اس میں ناچ گانا، مووی یا تصویریں بنانا اور مخلوط تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے اور بے جا اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔ اس رسم کو اسٹیٹس سمبل کے طور پر بھی ادا کیا جاتا ہے، نیز اس میں وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔اگر مندرجہ بالا وجوہات میں سے کوئی بات نہ ہو، صرف خاندان کی خواتین اور سہیلیاں اکٹھی ہوں، گھریلو قسم کے گانے ڈھولکی یا دف پر گائے جائیں، اور پردے کا خیال رکھا جائے، یعنی یہ رسم صرف مل بیٹھنے کا بہانہ ہو تو کیا پھر بھی اس رسم کا ادا کرنا ناجائز یا غیراسلامی ہوگا؟

ج: علاقائی رسمیں خصوصاً شادی بیاہ کے رواج میں سے جو شریعت سے متصادم نہ ہوں، ان کی اجازت ہے۔ آپ نے خود ہی وضاحت کی ہے کہ مہندی کی رسم میں غیرشرعی کام، ناچ گانے، مووی، تصویریںبنانا، مخلوط تقریبات، بے جا اسراف، اسٹیٹس سمبل کا مظاہرہ اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ اگر یہ رسم ان بے جا اُمور سے پاک ہو، محض بچی کو دلہن بنانا ہوتو سادہ طریقے سے ایسا کیا جاسکتا ہے، جس طرح انصار کی خواتین نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو نہلادھلا کر، بناسنوار کر دلہن بناکر نبی کریمؐ کے گھر رخصت کیا تھا۔ شادی کے موقع پر بڑی خواتین کا دف کے ساتھ گانے گانا اگرچہ اپنے گھر کے محدود دائرہ میں ہو، صحیح نہیں ہے۔ صرف چھوٹی بچیاں ایسے گیت گاسکتی ہیں،  جن میں فحش نہ ہو۔واللّٰہ اعلم! (ع - م)

اَربعین، امام نو.َ  .َ  وِی۔ ترجمہ و اضافات: ارشاد الرحمن۔ ناشر: دارالتذکیر، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار،لاہور-۵۴۰۰۰، فون: ۷۲۳۱۱۱۹۔ صفحات: ۳۹۹۔قیمت:پیپربیک: ۳۵۰ روپے،مجلد: ۴۰۰ روپے۔

تدوین ِحدیث کی تاریخ میں چالیس حدیثوں (اَربعین) کو جمع کرنے کی دیرینہ روایت موجود ہے۔ اس روایت کی آبیاری میں ہمارے اہلِ علم کی کثیر تعداد نے حصہ لیا۔ سب سے زیادہ مقبولیت ساتویں صدی ہجری کے محدث امام یحییٰ بن شرف نو.َ  .َ  وِی کی مرتبہ اَربعین کو حاصل ہوئی۔

امام نووی ایک بلندپایہ عالم اور عابد و زاہد شخص تھے۔ ان کی زندگی حصولِ علم کے لیے غیرمعمولی محنت و کاوش اور حددرجہ قناعت اور فقرودرویشی کے رویوں سے عبارت ہے۔ ان کے خلوص اور حسنِ نیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اَربعین کی بیسیوں شرحیں شائع ہوئیں، پھر اُنھی کی تقلید میں مختلف شائقین نے اپنی اپنی اَربعین (چالیس حدیثوں کے مجموعے) شائع کیے۔

امام نو.َ  .َ  وِی کی منتخب چالیس احادیث موضوعات کے اعتبار سے اس قدر جامع اور ہمہ گیر ہیں کہ ان میں ایک مسلمان کے لیے قرآن وسنت کی اہمیت، حلال و حرام، حقوق و فرائض، تجارت و کاروبار، عبادات و عقائد، معاشرت و معیشت، توبہ واستغفار اور اخلاقیات و معاملات کے بارے میں پوری ہدایات موجود ہیں۔

پیشِ نظر مجموعہ اس اعتبار سے ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ اس کے مرتب اور مترجم نے خود امام نووی سے منسوب شرح کا ترجمہ کیا اور ہرحدیث کے موضوع سے متعلق دوسری احادیث، انبیا، علما، صلحا اور بزرگانِ اُمت کے اقوال، نصائح اور اہم نکات بھی یک جا کردیے ہیں۔ مزیدبرآں مرتب نے وطنِ عزیز کے موجودہ حالات و مسائل کے تناظر میںاپنی جانب سے موضوع کی مناسبت سے ضروری تبصرے بھی شامل کردیے ہیں۔ اس طرح ہرحدیث کا مرکزی موضوع ایک جامع اور مستقل مضمون کی شکل اختیار کرگیا ہے، جس میں متذکرہ بالا اضافوں کے علاوہ متنِ حدیث کا اُردو ترجمہ اور لفظی معانی بھی موجود ہیں۔ ہرمضمون کے آخر میں ’فقہ الحدیث‘ کے عنوان سے خلاصۂ کلام کے طور پر ایک ہدایت نامہ بھی مرتب کردیا ہے جس کی حیثیت ’پس چہ باید کرد…‘ کی ہے۔

بحیثیت مجموعی یہ احادیثِ نبویؐ کا ایک نہایت عمدہ مجموعہ ہے۔ نہ صرف انفرادی مطالعے میں، بلکہ اجتماعی مطالعے کے طور پر بھی (اجتماعات یا اسٹڈی سرکل میں) اس کا ایک ایک جزو پڑھا جائے تو قارئین و سامعین پر اُس کے مفید اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، ان شاء اللہ۔ کتابت اور پیش کاری ناشر کے صاحبِ ذوق ہونے کی علامت ہے۔ امام کا نام اِعراب کے ساتھ (نَوَوِی) لکھنے کا اہتمام ضروری تھا۔ (رفیع الدین ہاشمی)


درسِ حدیث، مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، ادارہ القاسم، پہلی منزل، زبیدہ سنٹر، ۴۰- اُردوبازار، لاہور۔ صفحات: ۷۰۴۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی صاحب محتاجِ تعارف نہیں۔ جامعہ اشرفیہ ان کی پہچان ہے۔ اب جامعہ نے اپنا گرلز کالج بھی قائم کیا ہے۔ ماہنامہ الحسن لاہور میں ان کا درسِ حدیث ۲۰سال سے شائع ہوتا رہا ہے۔ ان دروس میں سے ۱۶۶ احادیث کے درس منتخب کر کے اس کتاب میں جمع کردیے گئے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو بھی اہم ضروری مسائل ہیں ان سب کے بارے میں بہت اچھے انداز سے رہنمائی ملتی ہے۔ مثال کے طور پر زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اس ذیل میں ۶صفحے پر ٹیلی فون کو باعثِ رحمت بنانے پر ایک جامع تحریر مل جاتی ہے۔ اسی طرح قرض کے بارے میں جو حدیث ہے اس کی تشریح میں قرض کے بارے میں تمام ضروری باتیں مل جاتی ہیں۔ قنوتِ نازلہ پر چار صفحے کے درس میں ضروری امور بیان کرکے آخر میں مزید مطالعے کے لیے چار کتابوں کے حوالے مع صفحات نمبر دیے ہیں۔ اسی طرح گھریلو زندگی میں مغربی تہذیب کی نقالی کا موضوع اس حدیث (ص ۶۵۲) پر قائم کیا ہے جو چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت نہ کرنے کے بارے میں ہے۔

احادیث کا گہرا مطالعہ ہے، مرکزِ شہر میں بیٹھے ہیں اس لیے ایک شہر اور معاشرہ نظر میں ہے۔ ان کی تحریر مسئلے کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہے لیکن زور نظری بحثوں پر نہیں، عملی رہنمائی پر ہے۔ اندازِ تحریر شُستہ اور سلیس ہے (عالمانہ نہیں)۔ بے حد مفید کتاب ہے۔ اس کے درس اخبارات و رسائل میں نقل کیے جاسکتے ہیں اور کتاب سب کو خاص طور پر طلبہ و طالبات کو پڑھنا چاہیے۔ کتاب میں کوئی ترتیب نہیں، آپ فہرست سے موضوع تلاش کرسکتے ہیں۔ (مسلم سجاد)


ماثورات، اذکار ، اوراد، وظائف، (جیبی سائز)، مرتبہ: حسن البنا شہید، ناشر: منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۵۴۳۴۹۰۹۔ صفحات:۹۱۔قیمت: ۵۰ روپے۔

اخوان المسلمون کے نظام تربیت کی ایک منفرد خصوصیت تعلق باللہ، ذکرالٰہی اور مسنون دعائوں کا اہتمام ہے۔ بانیِ تحریک امام حسن البنا شہیدؒ نے اس غرض کے لیے ایک نصاب مرتب کیا تھا جو قرآنی اوراد، روزانہ وظائف اور مسنون دعائوں اور اذکار پر مشتمل ہے۔ ان کی ہدایت تھی کہ ہراخوان شب و روز کے کسی بھی حصے میں اس کا اہتمام کرے اور اس کو اپنا معمول بنالے، اور کوئی دن تلاوتِ قرآن سے خالی نہ جائے۔ اخوان المسلمون نے راہِ خدا میں استقامت اور قربانیوں کی جو لازوال تاریخ رقم کی ہے، یہ اسی ہدایت، اخلاص اور تربیت کا فیضان ہے۔ اس کے خوش گوار اثرات اس کے سیرت و کردار اور تحریکی کام پر مشاہدہ کیے جاسکتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم قاضی حسین احمد اس مجموعے کی اسی اہمیت کے پیش نظر رقم طراز ہیں: ’’اگر ہم امام حسن البنا شہیدؒ جیسے متقی، عابد، شب زندہ دار اور مجاہد فی سبیل اللہ مرشد کی ہدایات کے مطابق ان کو صبح و شام کا ورد بنا لیں، تو یقینا ہمیں للہیت اور اخلاص کی وہ دولت نصیب ہوگی جو اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کے لیے حقیقی ’زادِ راہ‘ ہے‘‘۔ (تقریظ، ص ۱۱)

محترم آبادشاہ پوری مرحوم کے ترجمے کے ساتھ اسے ۱۹۷۱ء میں شائع کیا گیا تھا۔ اب منشورات نے اس ترجمے کو محترم عبدالغفار عزیز کی نظرثانی کے بعد شائع کیا ہے۔ یہ جیبی سائز پر  اس کا نیا اڈیشن ہے۔(امجدعباسی)


آیات، مجلہ، مدیر: ڈاکٹرمحمد ذکی کرمانی۔ ناشر: مسلم ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانس منٹ آف سائنس، دارالفکر،اقرا کالونی، نیوسیدنگر، علی گڑھ، بھارت۔ صفحات: ۲۶۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے بھارتی۔

علی گڑھ میں اسلامی تہذیبی فکر کے حامل دانش وروں نے اب سے تقریباً ۱۲ برس قبل اُردو میں ایک علمی مجلے آیات کا آغاز کیا تھا۔ ان ماہرین میں بیش تر سائنسی علوم کے حاملین تھے اور انھیں سماجی و اسلامی علوم کے ثقہ ماہرین کا تعاون حاصل تھا۔ مضامین کے تنوع اور تحقیقی وتجزیاتی آہنگ نے اس مجلے سے بہت سی اُمیدیں وابستہ کردی تھیں، لیکن ۱۹۹۸ء کے بعد اس کی اشاعت معطل ہوگئی۔ اب تقریباً ۱۰ برس بعد اس کا پہلا شمارہ زیرتبصرہ ہے۔ مثبت سوچ رکھنے اور زندگی کے معاملات کو مغرب کی نگاہ سے نہ دیکھنے والے اصحابِ علم اس تحقیقی مجلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

۱۰ مقالات، ایک رپورٹ اور مؤثر اداریے پر مشتمل یہ شمارہ اسلام، سائنس اور عالمِ اسلام کو درپیش علمی چیلنج کو زیربحث لایا ہے۔ کم و بیش ہر مقالہ تعارف تبصرے کا تقاضا کرتا ہے۔ تاہم یہ توجہ دلانا ضروری ہے کہ اس معیاری مجلے میں تمام احادیث باقاعدہ حوالے کے ساتھ درج کی جائیں اور اگر کوئی ضعیف حدیث ہو تو کم از کم پاورق میں ادارے کی جانب سے اس کی نشان دہی ضرور کردی جائے۔ مثال کے طور پر ص ۵۷ پر ایک حدیث: ’’عالم کی روشنائی، شہید کے خون سے زیادہ وزنی ہے‘‘ امام غزالی کے حوالے سے درج کی گئی ہے۔ اس روایت پر بڑی جان دار بحثیں، روایت و درایت کے باب میں سامنے آئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی کمزور بات دی نہ جائے کہ قرآن و سنت کے مجموعی مزاج سے مناسبت نہیں رکھتی اور اگر درج کی جائے تو اس پر دوسرا   نقطۂ نظر بھی دے دیا جائے، اور حدیث کا عربی متن تو ضرور درج ہو، مکمل حوالے کے ساتھ۔

مدیرمحترم کے فکرانگیز خطبے میں یہ حوالے کہ: ’’نواب واحد علی شاہ کے خاندان کی سائنسی خدمات اٹھارھویں صدی سے شروع ہوکر انیسویں صدی کے نصف تک پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ خود ۱۰۰کتابوں کے مصنف تھے،اور انھوں نے جدید سائنس کی درجنوں کتابوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کرایا تھا۔ افسوس کہ ان کی مفروضہ داستان تعیش سے بچہ بچہ واقف ہے، لیکن علمی خدمات سے لوگ واقف نہیں‘‘ (ص ۱۸۶) واقعی قابلِ توجہ ہے۔ اس پہلو پر ایک جامع تحریر پڑھنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔

مناسب ہو تو اس تحقیقی مجلے کو اُردو کا بین الاقوامی جرنل بنا دیا جائے، اور اس کی مشاورت و ادارت میں دیگر ممالک، یعنی پاکستان، عرب دنیا اور مغرب میں معروف دانش وروں کا تعاون حاصل کیا جائے۔ (سلیم منصور خالد)


Israel: Final Chapter of The Jews ،[اسرائیل: یہود کا آخری باب]، مرتبہ: شفیق الاسلام فاروقی۔ ملنے کا پتا: ۴۶-ایم، ماڈل ٹائون ایکسٹینشن، لاہور- فون:۵۱۶۷۸۵۷۔ صفحات: ۳۳۳۔ قیمت: ۲۵۰ روپے (مع ڈاک خرچ)

شفیق الاسلام فاروقی صاحب نہ صرف پاکستانی قارئین بلکہ امریکی جیلوں کے مسلمان قیدیوں اور دنیا کی ان عظیم شخصیات کے لیے جن کو وہ خطوط لکھتے ہیں، (مثلاً کلنٹن، ٹونی بلیئر، آرچ بشپ آف کنٹربری، مسلم ممالک کے سربراہان اور دشمن ممالک کے سفرا) محتاجِ تعارف نہیں۔ اُمت کا درد انھیں اس ’جواں عمری‘ (پ: جنوری ۱۹۲۲ئ) میں بھی تڑپائے رکھتا ہے۔ ۳۳۳صفحات کی اس کتاب میں ۵۸صفحے کا ان کا مقدمہ ہے اور ۸صفحات میں انھوں نے اپنے حالاتِ زندگی لکھے ہیں۔ صہیونیت کی کامیابیوں کا بیان بہت زیادہ کرنے سے ایک رعب سا طاری ہوجاتا ہے اور مقابلے کا حوصلہ ٹوٹنے لگتا ہے لیکن مقابلے کے لیے دشمن سے آگاہی ضروری ہے۔ اس کام کا آغاز ۴۰،۵۰ سال پہلے مصباح الاسلام فاروقی صاحب نے Jewish Conspiracy سے کیا اور ہم لوگ لفظ پروٹوکول سے آشنا ہوئے۔ اب بھی کئی خیرخواہانِ اُمت اس کام میں مشغول ہیں۔ اس میں فاروقی صاحب بھی شامل ہیں۔

یہ کتاب پہلی نظر میں ایک تصنیف لگتی ہے۔ جس میں مصنف کے ۳۷ مضامین جمع کردیے گئے ہیں لیکن آگے انکشاف ہوتا ہے کہ یہ برطانیہ کے اخبارات کے ان مضامین اور کالموں پر مشتمل ہیں جن کے تراشے فاروقی صاحب کو ان کے احباب نے ارسال کیے ہیں۔ان کا عرصہ ۱۹۹۴ء سے ۲۰۰۷ء تک ہے۔ اس دوران برطانوی پریس میں یہودیوں کو خلاف جو کالم شائع ہوئے ہیں وہ آپ کو بڑی حد تک اِس میں مل جائیں گے۔ جیساکہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے، مرکزی نکتہ  یہ ہے کہ صہیونیت اپنے آخری دم پر ہے اور آخری باب لکھا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ فاروقی صاحب جلد ہی ان خطوط کا مجموعہ شائع کردیں گے جو انھوں نے قیدیوں اور اہم شخصیات کے نام لکھے ہیں  یا ان سے وصول کیے ہیں۔ یہ ان کا سلیقہ ہے کہ ہر چیز فائلوں میں محفوظ ہے، شائع کرنے کے اسباب فراہم ہونے میں وقت لگتا ہے۔ (م- س)


جنٹل مین استغفراللہ (سانحۂ کارگل کے اصل حقائق) کرنل (ر) اشفاق حسین۔ ناشر: ادارہ مطبوعات سلیمانی، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۷۲۳۲۷۸۸۔ صفحات: ۲۲۲۔ قیمت (مجلد): ۳۰۰ روپے۔

سانحۂ کارگل پر تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ دوسرے ایسے ہی قومی حادثوں پر تحقیقات کے مطالبے کی طرح شاید ہی پورا ہو (حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ خفیہ رکھی گئی اور اس پر عمل بھی نہ ہوا)۔ جنٹل مین سیریز کی اس پانچویں کتاب میں جسے غالباً استغفراللہ کا نام رمضان کے ماہِ اشاعت کے حوالے سے دیا گیا ہے، سانحۂ کارگل کے اصل حقائق آشکار کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب انگریزی میں Witness to Blunder کے نام سے ساتھ ہی شائع ہوئی ہے۔ یہ ایک اچھی روایت ہے۔ عموماً اتنا صبر نہیں کیاجاتا اور ترجمے کا ارادہ رہ جاتا ہے۔

سانحۂ کارگل کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ جنرل مشرف کی کتاب بھی آچکی ہے۔ نواز شریف کا موقف بھی کچھ دوسری کتب میں سامنے آچکا ہے۔ اس کتاب نے اصل ذرائع تک پہنچ کر یہ ثابت کیا ہے کہ فوج میں چار کے ٹولے نے سول حکومت کو بے خبر رکھ کر اتنا بڑا اقدام کرڈالا۔ منصوبہ بندی کا یہ عالم تھا کہ فضائیہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ کیونکہ فتح یقینی سمجھی گئی تھی اور یہ فرض کرلیا تھا کہ بھارت جواب نہیں دے گا، اس لیے واپسی کا کوئی انتظام نہیں سوچا گیا تھا (ہم کشتیاں جلانے والے لوگ ہیں)۔ اس مشق سے پاکستانی فوج کی جو جگ ہنسائی ہونی تھی وہ تو ہوئی لیکن فوج کے جوانوں کی قیمتی جانوں کا بڑے پیمانے پر ضیاع ہوا۔ کتاب ان افراد کی گفتگوؤں اور تبصروں پر مشتمل ہے جنھوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔

کارگل کے حقائق کے ساتھ ہی اس کتاب میں بڑی خوبی سے مسئلہ کشمیر کی پوری تاریخ بیان کردی گئی ہے اور کارگل سے پہلے کے قریبی حالات بھی تفصیل سے آگئے ہیں۔ ساتھ ہی   فوج کے افسروں اور جوانوںنے استقامت اور قربانی کی جو مثال پیش کی وہ بھی ریکارڈ پر آگئی ہے۔ کیا مصنف سے یہ توقع بے جا ہوگی کہ وہ سانحہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر بھی ایسی ہی ایک حقائق کُشا کتاب مرتب کردیں۔ قوم اس حادثے کو انجام دینے والے کرداروں کی اپنی زبان سے یہ جاننا چاہتی ہے کہ ’حبِ وطن‘ کے کن جذبات سے یہ انجام دیا گیا اور ’v‘ کا نشان بناکر دکھایا گیا۔ یہ کہانی تو طویل ہوتی جارہی ہے۔ قبائلی علاقوں میں جو آپریشن کیے جا رہے ہیں ان کے ’سرجنوں‘ کی طرف سے بھی کچھ حقائق آنے چاہییں تاکہ صاحب ِ کتاب ’جنٹل مین اناللہ‘ لکھ سکیں۔ (م - س)


گھر سے واپس گھر تک کے مسائل و فضائلِ حج،قاری محمد اکرم داد اعوان۔ ناشر:ماڈرن پیپر پروڈکٹس، الکریم مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔صفحات: ۳۲۹۔ قیمت: بلامعاوضہ (۳۰روپے ڈاک خرچ)۔

۱۹۷۴ء سے حج و عمرہ کی مسلسل سعادت حاصل کرنے کے بعد، سفرِحج و عمرہ کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل و مشکلات کا عام فہم تذکرہ ہے اور مسائل کے حل کے لیے عملی راہ نمائی بھی دی گئی ہے۔ عموماً اہلِ پاکستان حجِ تمتع (عمرہ اور حج) کرتے ہیں، اس لیے مکہ پہنچ کر پہلے   عمرہ کی ادایگی کرنا ہوتی ہے، لہٰذا عمرہ کا طریقہ بھی تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔ حج کی کتابوں میں عام طور پر مدینہ منورہ سے متعلق زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ مذکورہ کتاب میں مدینہ منورہ کی تاریخ، وہاں کی مساجد وغیرہ کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ کتاب کا ایک اہم پہلو حاجی صاحبان کو حج کے بعد خوداحتسابی کی دعوت دینا ہے کہ حج کرنے کے بعد آپ نے اپنے میں کیا تبدیلی محسوس کی، اور میرا شمار کن لوگوں میں ہوا، نیز حج سے واپسی پر مجھے کن باتوں کو اپنانا چاہیے۔(پروفیسر میاں محمد اکرم)


تعارف کتب

  • شرطِ وفا ، انتظار نعیم ،ناشر: ادارہ ادب اسلامی ہند، ۲۷۰۳، بارہ دری، بلی ماراں، دہلی-۱۱۰۰۰۶۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [شاعری کی کتاب۔ اُمت مسلمہ خاص طور پر برعظیم کے مسلمانوں کا دکھ درد،   اتحاد ملت، پاک بھارت تعلقات، اسلامی نظام، انصاف وغیرہ ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔     ولولہ انگیز انقلابی لب و لہجہ، ۵۰ غزلیں بھی شامل ہیں۔ کتاب کا حسنِ صوری بھی خوب ہے۔]

ابوالامتیاز ع س مسلم، شخصیت اور شاعری ، ڈاکٹر غزالہ یونس، ناشر: علامہ قتیل اورینٹل لائبریری و مرکز تحقیق، پٹنہ بہار ۳۔ صفحات: ۳۱۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔ [نام ور ادیب، شاعر اور صحافی، ابوالامتیاز ع س مسلم کی سوانح اور فن پر ایک تحقیقی مقالہ، جس پر ونوبا بھاوے یونی ورسٹی ہزاری باغ نے مصنفہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطاکی۔ یہ کتاب ان کی شخصیت اور شعری اور نثری فن کے تقریباً تمام پہلوئوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔]

  • محسن اسلام ،سیدعلی اکبر رضوی ۔ ناشر: ادارہ ترویج علوم اسلامیہ، ۸۱-بی، کے ڈی اے اسکیم نمبر۱-اے، کارساز روڈ، کراچی۔ صفحات: ۱۹۸۔ قیمت: درج نہیں۔ [سیرت کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالب کے بارے میں متفرق روایات ملتی ہیں، سیدعلی اکبر رضوی نے ان تمام روایات کو جمع کرکے ایک بہت اچھی کتاب تیار کردی ہے۔ کئی کتابوں کے مصنف رضوی صاحب کی سوانح نگاری کی مہارت مسلّمہ ہے۔ مزید کتابوں کا انتظار ہے۔ ناشر نے اعلیٰ معیار پر شائع کی ہے۔]
  • ایک مثالی اسلامی معاشرہ ،منیراحمد خلیلی۔ ادارہ مطبوعات سلیمانی، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردوبازار، لاہور۔ صفحات: ۸۰، قیمت: ۶۰ روپے۔[ہر مسجد میں جمعے کے روز پڑھی جانے والی آیت جس میں عدل و انصاف اور صلۂ رحمی کا حکم دیا گیا ہے اور بُغض، فحش اور منکر سے منع کیا گیا ہے اس کی جامع تفسیر ہے۔  تفہیم القرآن میں بھی اس پر نہایت عمدہ نوٹ موجود ہے۔]

مجلہ تحقیق معاشرتی علوم ،مدیر: ڈاکٹر محمد اسحاق۔ اگست ۲۰۰۴ء سے جولائی ۲۰۰۶ئ۔ پاکستان مجلس تحقیق براے معاشرتی علوم، شعبہ عربی جامعہ، کراچی- ۷۵۲۷۰۔ [تنظیم اساتذہ کی مجلس تحقیق براے معاشرتی علوم کی چوتھی پیش کش ہے۔ اس کے روح رواں جامعہ کراچی کے شعبۂ عربی کے صدر ڈاکٹر محمداسحاق ہیں۔ ۹ مقالات جن میں بہت تنوع ہے، مثلاً تبیین قرآن میں سنت کی حیثیت اور فکرفراہی، سلطنت عثمانیہ کے گوہرآب دار۔ ۹مقالات اور ۵ کتب پر تبصرہ شاملِ اشاعت ہے۔ مدیر کے قلم سے اداریہ قرآن مجید اور پاکستان میں    نصابِ تعلیم کی پالیسی بنانے والوں کے لیے نہایت مفید عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے، اگر ایک پوائنٹ سائز بڑھا دیا جائے تو ایک مقالہ شاید کم ہوجائے لیکن پھر سب پڑھے جائیں گے۔]

۳۶۵ کہانیاں ،حصہ سوم، مؤلف: محمد ناصر درویش۔ ناشر: بیت العلم ٹرسٹ، ST-9E، بلاک ۸،گلشن اقبال، کراچی۔ صفحات: ۲۴۱ (بڑی تقطیع)۔ قیمت (مجلد): درج نہیں۔ [بیت العلم ٹرسٹ کراچی کی دیگر علمی و دینی خدمات کے ساتھ ساتھ بچوں کے معیاری ادب کی تخلیق کے لیے کہانیوں کا سلسلہ۔ ۳۶۵ کہانیاں، حصہ سوم، کل چار حصے ہیں۔کہانیاں جدید دور کے مکالماتی اور دل چسپ انداز میں لکھی گئی ہیں۔ نبی کریمؐ اور صحابہ کرامؓ کی سیرت اور دیگر اخلاقی و سبق آموز کہانیوں کے ساتھ ساتھ اسلاف کی زندگی کے روشن پہلوئوں کا بالخصوص تذکرہ۔]

قاسم ہاشمی ‘سرگودھا

’فریضۂ زکوٰۃ کی ادایگی‘ (ستمبر ۲۰۰۸ئ) برمحل اور اہم تحریر ہے، تاہم مقدارِ نصاب کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کی مدات کا تذکرہ ہوتا تو تحریر زیادہ مفید ہوجاتی اس لیے کہ زکوٰۃ دیتے ہوئے لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کہاں زکوٰۃ لگتی ہے اور کہاں نہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ صرف رمضان میں دینے کا رجحان بھی توجہ طلب ہے۔ اس کی وجہ سے ضرورت مندوں کو سارا سال دقت پیش آتی ہے اور بہت سے مفید کام اور خدمتِ خلق کے منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔


ڈاکٹر رشید احمد ‘ملتان

’امریکی حملے کا اندیشہ‘ (اگست ۲۰۰۸ئ) ایک بروقت تحریر تھی۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان وہ علاقہ ہے جہاں حاجی صاحب تُرنگ زئی اور فقیر ایپی نے برطانوی استعمار کے خلاف زبردست مزاحمت کی تھی۔ مذکورہ مضمون میں فقیر ایپی کو ’فقیر آف اے پی‘ (ص ۲۷) لکھا گیا ہے جو درست نہیں۔ اس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ اے پی (A.P) کسی انگریزی لفظ کا مخفف ہے۔ حالانکہ درحقیقت ایپی ایک مقام کا نام ہے جو فقیر ایپی حاجی میرزلی خان کا مسکن تھا۔

’مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام‘ (جولائی، اگست ۲۰۰۸ئ) میں اسلامی فکر کے احیا کے لیے جن مثبت مواقع کی نشان دہی اور جس چیلنج کا اظہار کیا گیا ہے وہ مابعد جدیدیت سے پیدا ہونے والے خلا کا فوری جواب مانگتا ہے۔ کیا دنیاے اسلام کی اسلامی تحریکیں اس چیلنج کا جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہیں یا بات صرف نعروں تک ہی محدود ہے؟ خاص طور پر پاکستان کی تحریکِ اسلامی___ہم سب کے لیے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے!


محمد زمان بٹ ‘فیصل آباد

’پیپلزپارٹی کی حکومت کے ۱۰۰ دن‘ (اگست ۲۰۰۸ئ) میں پروفیسر خورشیدصاحب نے حکومت کا پوسٹ مارٹم کرنے میں کوئی پہلو تشنہ نہیں رکھا۔ مغرب کی آنکھوں کے خار ترکی اور سوڈان کے متعلق ’اب سوڈان اور ترکی میں حکمران جماعت پر پابندی‘ میں موجودہ صورت حال پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ’دشمن کا نام ہونا چاہیے‘ سے امریکا کے دانش وروں کی اسلام کے بارے میں اپنی مکروہ خواہشات کا برملا اعلان مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ میری استدعا ہے کہ ایسے چشم کشا مضامین کثیرالاشاعت اخبارات میں ضرور شائع ہونے چاہییں تاکہ وسیع تر حلقے کو اسلامی ممالک خصوصاً امریکا کے ٹارگٹ ممالک کے حالات سے کچھ شناسائی ہو اور وہ جان سکیں کہ کس طرح امریکا مغرب کی مدد سے ہمارے گرد ایک جال پھیلاکر ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں ’مابعد جدیت کا چیلنج اور اسلام‘ علمی لحاظ سے اسلامی تحریکوں اور مسلمان دانش وروں کے لیے ایک فکرانگیز لائحہ عمل اختیار کرنے کی ایسی دعوت ہے جس پر اسلامی تحریکات کو ضرور غور کرنا چاہیے۔


ڈاکٹر رحمت الٰہی ‘اسلام آباد

اخبارات میں آئے روزبھوک، افلاس اور فاقوں کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی کرنے کی خبریں شائع ہوتی ہیں۔ لوگ اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کے گلے گھونٹ رہے ہیں، قتل کر رہے ہیں۔ دل لرز کر رہ جاتا ہے کہ لوگ مسلمان معاشرے میں بھی خودکشی جیسی حرام موت کے مرتکب ہونے لگے ہیں اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں۔ یہ معاشرتی انتشار کی بھی علامت ہے اور ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں آگے بڑھ کر اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی سے عملی اقدامات اٹھانے چاہییں۔ عام لوگوں کے دکھ درد کا مداوا کرنے کی فکر کرنی چاہیے اور مصیبت جھیلنے کے لیے انھیں بے دست و پا، لاچار و بے بس اور تنہا نہ چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ مایوس ہوکر   زندگی ہی ہار جائیں۔ میرے نزدیک جہاں کہیں بھی خودکشی کا کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے اس کی ایک طرح سے ذمہ داری اردگرد کے جماعت اسلامی کے کارکنان پر بھی آتی ہے۔ الخدمت کمیٹی کے ممبران کو اپنے محلے اور گردونواح میں عوام کے مسائل سے آگاہ ہونا چاہیے۔ یہ ان کی اخلاقی اور منصبی ذمہ داری کا اہم ترین تقاضا ہے۔ عوامی تائید کے بغیر انقلاب ممکن نہیں۔ پرسانِ حال لوگوں کی حالت بدلنے پر زیادہ وسائل لگائے جائیں تو انقلاب کی منزل جلد قریب آسکتی ہے۔


عائشہ احمد ‘لاہور

’او- لیول کی اسلامیات میں فرقہ واریت‘ (جولائی ۲۰۰۸ئ) میں فاضل مضمون نگار سلیم منصورخالد نے کچھ زیادہ ہی حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایک ۱۵سال کا بچہ جو اولیول میں قدم رکھتا ہے وہ اس بات سے واقف ہے کہ وہ کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے، وہ سُنّی ہے یا شیعہ۔ ۱۵ سال کا بچہ نہ تو کم سن ہے اور نہ کم فہم۔ میڈیا نے آج کے بچوں کو پہلے سے ہی بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ فرقہ واریت ایک نہایت عام موضوع ہے۔

رمضان میں افطار کے اوقات میں باقاعدہ فقہ جعفریہ اور حنفیہ کے اوقات بتانا بھی فرقہ واریت کی مثال ہے۔ وہ بچہ جو پہلی بار روزہ رکھتا ہے، اُسے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنا روزہ کس فقہ کے مطابق افطار کرنا ہے۔ جیو پر نشر کیے جانے والے مشہور پروگرام ’عالم آن لائن‘ اور ’الف‘ فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ کے علیحدہ علیحدہ علما آکر اپنے فقہ کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ کام والدین کا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اپنے فقہ کے مطابق تعلیم دیں۔ اور یہ بات تو مانی ہوئی ہے کہ یہ دو الگ الگ فرقے ہیں جن کی دینی تعلیم ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہے۔ پھر اگر فرخندہ نور صاحبہ کیمبرج بورڈ کے نصاب کے مطابق دو الگ فرقوں کی تعلیمات کا ذکر کرتی ہیںتو اس پر اتنا شدید ردعمل کیوں ہے۔

یاد آتا ہے کہ دو تین سال قبل اُردو ڈائجسٹ میں اولیول کے اُردو نصاب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس پر کافی بحث ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اُردو کا یہ نصاب تبدیل ہوچکا ہے۔ تعریف کی بات یہ ہے کہ کیمبرج     یونی ورسٹی نے اس پر غور کیا اور اسے حل کیا۔

یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ دوسروں کی ٹانگ کھینچنے سے باز نہیں آتے۔ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ خود کس قدر گہرے گڑھے میں گرے پڑے ہیں، کس دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ اپنے نظام کو خراب قرار دے کر بڑے آرام سے سرخرو ہوجانا ہمارا مشغلہ بن گیا ہے۔ پھر جو اس نظام کا حصہ نہیں بنتا اسے مصنف کے مطابق ’کالا انگریز‘ بنا دیا جاتا ہے۔ دراصل ہم یہ تسلیم کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ انگریزوں کا نظامِ تعلیم ہمارے نظام سے کئی گنا بہتر ہے۔ GCE کو وہاں کون گھاس ڈالتا ہے، کون نہیں___ اس سے ہماری کیا غرض؟ ہمارے لیے تو یہی کافی ہے کہ اس نظام کے تحت بچوں کی بہتر طریقے سے نشوونما ہوسکتی ہے۔ پڑھائی صرف رٹا لگانے یا صفحات بھرنے سے نہیں ہوتی۔ بچپن میں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ علم مومن کی گم شدہ میراث ہے جہاں سے ملے حاصل کرلے۔ اور تو اور، علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے۔ اب اگر ہم ایک بہتر نظام کو اپناتے ہیں تو ہم خود اپنے ہی بڑوں کے مذاق/طعنے کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک دوسرے پر مخصوص چھاپ لگانے سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے ہم اس مسئلے کا حل کھلے دل سے نکالیں۔

رسموں کی بیڑیاں

شادی بیاہ وغیرہ تقریبات کی رسوم کی پوری پوری اصلاح اس وقت تک ہو ہی نہیں سکتی جب تک کہ دینی زندگی اپنی صحیح بنیادوں پر تعمیر ہوتی ہوئی اس مرحلے پر نہ پہنچ جائے جہاں ان چیزوں کی اصلاح ممکن ہو۔ اس وقت تک [ہم سے وابستہ افراد] کو زیادہ تر صرف ان چیزوں سے اجتناب پر اصرار کرنا چاہیے جن کو صریحاً خلافِ شریعت کہا جاسکتا ہو۔ رہیں وہ چیزیں جو معاشرتِ اسلامی کی روح کے تو خلاف ہیں مگر مسلمانوں کی موجودہ معاشرت میں قانون و شریعت بنی ہوئی ہیں تو وہ ہمارے ذوقِ اسلامی پر خواہ کتنی ہی گراں ہوں، لیکن سردست ہمیں ان کو اس امید پر گوارا کرلینا چاہیے کہ بتدریج ان کی اصلاح ہوسکے گی۔ مگریہ گوارا کرنا رضامندی کے ساتھ نہ ہو، بلکہ احتجاج اور فہمایش کے ساتھ ہو یعنی ہر ایسے موقع پر یہ واضح کردیا جائے کہ شریعت تو اُس طرح کے نکاح چاہتی ہے جیسے ازواجِ مطہرات اور دوسرے صحابہ کرامؓ کے ہوئے تھے، لیکن اگر تم لوگ یہ تکلفات کیے بغیر نہیں مانتے تو مجبوراً ہم اس کو گوارا کرتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ وقت آرہے کہ جب تم نبیؐ اور اصحابِ نبیؐ کی طرح کے سادہ نکاح کرنے کو اپنی شان سے فروتر نہ سمجھو!

ہمارا یہ رویہ تو اپنے حلقہ سے باہر کے لوگوں کے لیے ہے جن سے ہم مختلف قسم کے روابط پیدا کرنے اور جن کے ساتھ کئی طرح کے دنیوی امور میں معاملہ کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن خود اپنے حلقہ کے اندر ایسے جتنے روابط اور معاملات رونما ہوں،انھیں رسوم کی آلودگیوں سے پاک کر کے سادگی کی اس سطح پر لے آناچاہیے جس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ نے انھیں پہنچایا تھا۔ ہمارے معاملات میں مباحات کو، مباحات ہی کی حد تک رہنا چاہیے اور ان میں کسی چیز کو قانون اور شریعت کے درجہ تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ رواج کی رَو میں بہنے والے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو بغاوت کرنا بھی چاہتے ہیں مگر پہل کی جسارت نہیں کرسکتے۔ رسموں کی بیڑیوں سے نجات حاصل تو کرنا چاہتے ہیں مگر دوسروں سے پہلے انھیں کاٹنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ اپنی پیٹھوں پر لدے ہوئے رواجوں کے بوجھوں سے ان کی کمریں ٹوٹ رہی ہوتی ہیں مگر ان کو پٹخ دینے میں پیش قدمی نہیں کرسکتے۔ یہ پہل اور پیش قدمی اب ہم لوگوں کو کرنی ہے۔ ہمارے ہر ساتھی کا یہ فرض ہے کہ پوری بے باکی سے پہل کرے۔ اور لوگوں کی ’ناک‘ بچانے کے لیے خود  نکو بن کر معاشرتی زندگی میں انقلاب برپا کرے۔ خالص اسلامی انداز میں تقریبات اور معاملات کو سرانجام دینے کی مثالیں اگر جگہ جگہ ایک دفعہ قائم کردی جائیں تو سوسائٹی کا کچھ نہ کچھ عنصر ان کی پیروی کرنے کے لیے آمادہ ہوجائے گا اور اس طرح رفتہ رفتہ احوال بدل سکیں گے۔ (رسائل و مسائل، ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، ج ۲۹، عدد ۵، ذی القعدہ ۱۳۶۵ھ، اکتوبر ۱۹۴۶ئ، ص ۵۵-۵۶)