سوال : میرا بچہ چار سال کا ہے اور اسے اسکول میں داخل کرانا ہے۔ بظاہر یہ کوئی مسئلہ نہیں لیکن میں سوچ سوچ کر پریشان ہوگئی ہوں۔ آپ مجھے کسی ایسے اسکول کا نام بتا دیجیے جہاں بچے کو داخل کرانے سے اس میں آخرت کا تصور دنیا کے تصور پر حاوی ہوجائے۔
میں نے حال ہی میں اسلام کا مطالعہ شروع کیا ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں نے ساری زندگی ضائع کی ہے۔ اگر ایک شخص پہلے کوئی چیزسیکھ کر اپنے اُوپر نافذ کرے اور پھر بچے کو سکھائے تو اس طرح تو بہت وقت لگ جائے گا اور پھر بھی معلوم نہیں کہ بچے کی صحیح تربیت ہو یا نہ ہو۔ ایک بات مجھے اور پوچھنا ہے وہ یہ کہ جیساکہ اسلام د ین .ِ فطرت ہے تو اسلامی نقطۂ نظر سے کس عمر میں بچے کو ماں سے الگ کر کے اسکول بھجوانا چاہیے؟
جواب: آپ نے دو بڑے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک کا تعلق تربیت اولاد سے ہے اور دوسرے کا خود اپنی تعلیم اور تزکیہ سے۔ دین کے علم کے حصول کے لیے نہ عمر کی کوئی قید ہے نہ وقت کی۔ ایک ۷۰سالہ شخص اگر چاہتا ہو کہ قرآن کریم کو صحیح طور پر پڑھنے اور سمجھنے کے لیے ایک طالب علم کی حیثیت سے حصول علم کرے تو اسلام اس کے اس عمل کو عبادت میں شمار کرتا ہے۔ دین کے علم کو صرف قرآن کریم کی تلاوت یا ترجمہ و تفسیر کی مدد سے پڑھ لینے یا حدیث کی کسی کتاب کا مطالعہ کرلینے یا فقہ کی کسی مستند تحریر کو پڑھ لینے تک محدود کردینا بھی مناسب نہیں۔ اس لیے کہ قرآن کریم خود اپنے ماننے والوںکو نہ صرف کتابِ عظیم کے معانی پر غور کرنے اور اس کی تعلیمات کی تطبیق کرنے کا حکم دیتا ہے‘ بلکہ کتابِ کائنات کے مطالعے اور اس پر غوروفکر کرنے کے بعد ان علوم کی تدوین اور حصول کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے جواللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ کائنات کے تنوع‘ نظم و ضبط اور خوب صورتی میں پوشیدہ اسرار و رموز کہلاتے ہیں۔
آپ کا دین اسلام کا مطالعہ کرنا اور اسلام کو بحیثیت نظامِ حیات سمجھنے کے لیے کوشش کرنا ایک انتہائی قابلِ تعریف اقدام ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید توفیق دے کہ آپ قرآن و سنت کے دیے ہوئے نظامِ حیات کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔ اس کام کا آغاز کردینا سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم ہم پر صرف اسی بات کی جواب دہی عائد کرتا ہے جو ہمارے علم میں ہو۔ اگر آپ نے محض قرآن کریم کی ایک آیت پر غور کیا اور اس کا مفہوم سمجھا تو آپ کی جواب دہی جو کچھ آپ کے علم میں ہے اسی کی ہے۔ اگر آپ اس علم کو آگے نہیں پہنچاتیں تو گرفت ہوگی۔ اس لیے خود حصولِ علم اور تزکیہ کرتے وقت اس انتظار میں قطعاً نہ رہیں کہ جب تک سفر علم کو مکمل نہ کرلیا جائے اس وقت تک آپ اپنے بچے کی تعلیم کسی اور کے سپرد کردیں بلکہ جتنا علم ہو اُسے اولاد تک پہنچانے میں تاخیر نہ کریں۔ اس طرح خود آپ کو مزید غور کرنے اور اپنی معلومات کو وسیع کرنے کا موقع ملے گا۔
دوسری اہم بات جو آپ نے اپنے خط میں ذکر کی ہے وہ آپ کی یہ خواہش کہ آپ کا بچہ دنیا کے بجاے آخرت کی طرف متوجہ ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم صحیح معنوں میں آخرت پر ایمان لے آئیں تو دنیا میں برپا ہونے والے بے شمار فتنوں اور فساد سے نجات حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آخرت بنانے کے لیے دنیا کو شیطان پر چھوڑ دیا جائے۔ آخرت کا راستہ دنیا ہی سے گزر کر جاتا ہے اور اگر ہم صراطِ مستقیم کو اختیار کرلیں اور دنیا میں اس پر قائم ہوجائیں تو ان شاء اللہ آخرت کی منزل خودبخود آسان ہوجاتی ہے۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ بچے کو قرآن کریم حفظ کرا دینا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ آخرت کی طرف خود بخود مائل ہوجائے گا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ صحت اچھی کرنے کے اصولوں کی ایک کتاب جو فارسی یا ترکی میں لکھی گئی ہو پوری حفظ کرلیں تو کیا اس کا یہ حفظ کرنا آپ کی صحت کو بہتر بنا دے گا؟ ہاں‘ قرآن کریم چونکہ رب کریم کا کلام ہے‘ اس لیے اس کے ہرہرحرف کا مفہوم سمجھے بغیر بھی وہ کلام الٰہی ہی رہتا ہے اور اس بنا پر ان کا اجر ہمیں ملتا ہے۔ لیکن جب الکتاب خود بار بار یہ کہہ رہی ہو کہ اس کے کلمات بعض عربی سمجھنے والے بدوؤں کے حلق سے نیچے نہیں اُترتے‘ وہ اسے سنتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں‘ ان کے دل پر تالے پڑے ہوئے ہیں جو اس کلیدِ حیات سے بھی نہیں کھلتے تو اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ بچے کو نہ صرف روایتی دینی علوم بلکہ ان دینی علوم کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لیے وہ علوم بھی سکھانے چاہییں جنھیں بعض سادہ لوح دنیاوی علوم کہتے ہیں۔
آخرت کی کامیابی کے لیے نہ صرف عقیدے کا درست ہونا بلکہ اس کے ساتھ عملِ صالح کا اختیار کرنا بھی شرط ہے اور عمل صالح کا مطلب رزق حلال‘ حلال معاشرت‘ حلال سیاست‘ حلال ثقافت اور حلال تفریح ہے۔ گویا زندگی کے تمام معاملات کو اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کا تابع بنانا۔ یہ کام اسی وقت ہوگا جب آپ کا بچہ تمام علوم سیکھے لیکن اس کا مقصد محض حصولِ ملازمت نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا کا حصول ہو۔ اس کام کے لیے آپ کو ہرلمحے بچے کے ساتھ گفتگو کرکے یہ بات ذہن نشین کرانی ہوگی کہ وہ سچ‘ امانت اور بلاخوف حق پر عمل کرنے میں فخر محسوس کرے۔ اس طرح اس کی دنیا ان شاء اللہ آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن سکے گی۔(ڈاکٹر انیس احمد)
س: میرا کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ کامیابی کا یقین نہیں آتا۔ کیا کروں؟
ج: پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تم ان شاء اللہ سب کچھ بہت اچھا کرو گے۔ بس ایک دفعہ پختہ ارادہ کرلو کہ تم اپنے کام میں لگے رہو گے۔ یہی اصل بات ہے۔ کامیابی اور مسرت کے حصول کی دو شرائط ہیں: اوّل، تمھاری سعی/کوشش/شرکت/ موجودگی۔ دوم، اللہ تعالیٰ کی مدد اور رضامندی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ تمھاری سعی کُل کا صرف ایک فی صد ہے‘ جب کہ اللہ کا حصہ ۹۹ فی صد ہے۔ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حصہ لازماً مل کر رہتا ہے‘ اُس نے اس کی ضمانت دی ہے۔ (فاروق مراد)
الاشباہ والنظائر قرآنی الفاظ کے مختلف معانی پر مشتمل ایک مفید لغت ہے۔ اسی نام سے حنفی فقہ کی بھی ایک مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک ہی لفظ کے مختلف معانی اور اُن کے قرآنِ مجید میں مختلف استعمالات بتاتی ہے‘ بلکہ مترادفات کی بھی وضاحت کرتی ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے مقاتل بن سلیمان (م: ۱۵۰ھ) کے بارے میں لکھا ہے کہ انھیں تجسیم سے متہم کیا گیا ہے‘ چنانچہ یہ متروک الحدیث تھے۔ علمِ تفسیر میں البتہ ان کا بہت بلند رتبہ تھا۔
حیدرآباد دکن کے مشہور عالمِ دین ابوالنصر ڈاکٹر محمدخالدی نے‘ جو خود عربی ادب کے رمزشناس تھے اور جنھوں نے بدنامِ زمانہ مختار ابن ابی عبیدہ الثقفی پر مقالہ لکھ کر مصر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی‘ اس کتاب کا ترجمہ کیا اور تحقیق سے کام لیا۔ مولانا عطاالرحمن قاسمی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ڈاکٹر محمد خالدی (مرحوم) کے مسودے کا جائزہ لیا‘ تصحیح کی اور تعلیقات کے ساتھ اسے کتابی شکل میں شائع کردیا۔
قرآنی لغات کے جو مختلف معانی مقاتل بن سلیمان نے بیان کیے تھے‘ اُن کے شواہد قرآن مجید کے اُردو مترجمین کے کلام سے ڈھونڈے گئے ہیں۔ قاسمی صاحب نے ’توضیح‘ کے عنوان سے مزید قرآنی مثالوں کا اضافہ بھی کیا اور بعض اہم تفسیری نکات کی وضاحت ’انتباہ‘ کے عنوان کے تحت کی۔ قرآنی لغات پر بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ امام راغب کی مفردات‘ مولانا عبدالرحمن کیلانی کی مترادفات القرآن اور مولانا عبدالرشید نعمانی کی لغات القرآن زیادہ مشہور و معروف ہیں۔ زیرنظر کتاب ان میں ایک خوب صورت اضافہ ہے اور اُردو دان افراد کے لیے ایک نعمت ِ غیرمترقبہ۔ پیش کش کے لحاظ سے کئی جزوی امور توجہ چاہتے ہیں۔ کسی نئی طباعت کے موقع پر ان کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ (خلیل الرحمٰن چشتی)
ریگ زارِ عرب میں خاتم الانبیا والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ایک ایسی بارانِ رحمت تھی جس نے خزاں رسیدہ بے برگ و بار شجرِانسانیت کو سرسبز اور شاداب کردیا۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ نے بنی نوعِ انسان کی رہنمائی نہ کی ہو۔ حضوؐر کی سیرت طیبہ پر مجموعی طور پر بھی اور اس کے ہر پہلو پر بھی الگ الگ اب تک بے شمار کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔
زیرنظر کتاب بھی سیرت نبوی ہی کے ایک پہلو پر ہے جسے محترمہ نجمہ راجا یٰسین نے ’عہدنبویؐ کا بلدیاتی نظم و نسق‘ کے زیرعنوان اپنا موضوعِ تحریر بنایا ہے۔ محترمہ تصنیف و تالیف کے میدان میں نووارد ہیں لیکن انھوں نے تاریخ و سیر کی ۳۶مستند کتابوں سے کتاب کا لوازمہ اخذ کرنے میں جو کاوش کی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ اُن کا اسلوبِ نگارش عام فہم اور دل نشیں ہے۔ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں تمدنِ عرب کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ظہورِ اسلام سے قبل عرب معاشرے کی حالت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے باب میں عرب معاشرے میں بلدیاتی اداروں کے تصور کی تفصیل دی گئی ہے۔ کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنفہ نے جس نظم و نسق کو بلدیاتی کہا ہے‘ وہ عہدرسالت میں اسلامی حکومت کی تاسیس کے بعد اسلام کے سیاسی اور تمدنی نظام کا جزو لازم تھا۔ مصنفہ نے اپنے موضوع کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی‘ تاہم صحابہ کرامؓ کے ناموں کی صحت کے خصوصی اہتمام کی ضرورت ہے۔ (طالب ہاشمی)
۴۵ مربع میل پر پھیلا ہوا گوانتاناموبے نامی جزیرہ دنیا کا بدترین عقوبت خانہ ہے جس میں ۴۳ ممالک کے ۶۶۰ باشندے جدید سائنسی تشدد کاشکار ہو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی قیادت بہت سے قیدیوں پر تشدد میں برابر کی ذمہ دار ہے۔
زیرنظر کتاب پاکستان میں سابق افغان سفیر مُلا عبدالسلام ضعیف کی پشتو خودنوشت کا اُردو ترجمہ ہے جس میں امریکی حکومت اور پاکستان کے بعض کارپردازان کے بھیانک چہرے نظرآتے ہیں۔ پہلے حصے میں مُلا عبدالسلام اور گوانتاناموبے کے تعارف کے ساتھ مُلا عبدالسلام کے ساتھ ذرائع ابلاغ کی ۲۰۰۱ء کی گفتگو (جب وہ پاکستان میں سفیر تھے) اور پھر ۲۰۰۶ء کی وہ گفتگو شامل ہے جو ان کی رہائی کے بعد ہوئی۔ ایک حصہ ان اخباری مضامین پر مشتمل ہے جو مُلا عبدالسلام کی کتاب کے حوالے سے پاکستان کے مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے ہیں جن میں عطاء الحق قاسمی‘ عرفان صدیقی‘ پروفیسر خورشیداحمد‘ عبدالقادرحسن‘ عباس اطہر‘ ایازامیر‘ اوریا مقبول جان‘ حسن عباسی اور شبیراحمد میواتی کی تحریریں شامل ہیں مگر حوالے نہیں دیے گئے۔ آخر میں مُلا عبدالسلام کی آپ بیتی کا تلخیص و ترجمہ ہے جسے پڑھ کر ایک پاکستانی مسلمان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ ایک مسلمان سفیر کو ایک مسلمان ملک کی سرزمین سے پکڑ کر چند مسلمانوں کے ہاتھوں امریکی حکام کو فروخت کر دیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بردہ فروشی کی تفصیل بھی بیان کر دی ہے کہ پاکستانی حکام نے فی کس ۵ ہزار ڈالر کے عوض بے گناہوں کو امریکیوں کے ہاتھوں فروخت کیا۔ گردپوش خوب صورت ہے ‘کتاب دل چسپ ہے۔ (محمدالیاس انصاری)
یہ کتاب احمد خلیل نامی ایک فلسطینی عرب مہاجر کی سوانح حیات ہے۔ واضح رہے کہ ’احمدخلیل‘ حقیقی نہیں بلکہ ایک افسانوی کردار ہے۔ احمد خلیل کا وطن فلسطین ہے۔ بچپن ہی سے وہ ہم وطنوں کی بے بسی‘ یہودیوں کی چیرہ دستیوں اور بڑھتے ہوئے صہیونی اثرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا آیا ہے۔ جوانی کے دور تک پہنچتے پہنچتے حالات اسے ہجرت پر مجبور کردیتے ہیں۔ چھوٹے بھائی اورچند عزیزوں کے ساتھ وہ مصر کے راستے سعودی عرب پہنچتا ہے اور فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد مدینے ہی کو اپنا مسکن بنالیتا ہے۔ اس کی زندگی کے باقی ایام یہیں گزرتے ہیں۔
احمدخلیل کا اکلوتا بیٹا اسماعیل آرامکو (سعودی عرب) میں امریکی کمپنی میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔ وہ ایک مغرب زدہ عیسائی لڑکی سے شادی کرکے‘ بری طرح مغربیت کا اسیر ہوجاتا ہے۔ ایک روز وہ اپنے گھرآتا ہے اور والدین کی ’دقیانوسیت‘ پر ناک بھوں چڑھاتا ہے۔ احمدخلیل اس کی مغرب زدگی پر سخت تنقید کرتا ہے۔ اس کا والد احمدخلیل کئی ماہ سے تپ دق میں مبتلا ہے۔ اب اسماعیل کی باغیانہ روش اسے بالکل ہی نڈھال کردیتی ہے۔ کہانی معنی خیز ہونے کے علاوہ معلومات افزا بھی ہے۔ مصنفہ نے انگریزی میں یہ ناول قبولِ اسلام سے پہلے لکھا تھا‘ بعد میں اس میں حذف و اضافہ کرکے کئی برس پہلے شائع کیا تھا۔ اب پروفیسر اعوان نے اُردو ترجمہ پیش کیا ہے۔
ناول نگاری کی روایت کے مطابق کسی نہ کسی رومانس کو کہانی میں ایک ضروری عنصر کی حیثیت سے شامل کیا جاتا ہے مگر مصنفہ نے اس سے احتراز کیا ہے۔ ان کے کردار انحطاط پذیر عرب معاشرے کے مسلمان کردار ہیں‘ مگر اپنی تمام تر جاہلیت اور اخلاقی انحطاط کے باوجود‘ مذہبی اور دینی فرائض ادا کرنے میں مستعد اور پُرجوش ہیں۔ احمدخلیل کا کردار‘ مثالی مسلمان کا کردار تو نہیں ہے مگر اس کے اقوال و افعال سے اس کی دین پسندی اور ملّی حمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ احمدخلیل بعض مواقع پر قرآن اور احادیث کے حوالے دیتا ہے۔ ناول کا فنی پہلو البتہ کمزور ہے۔ ناول کی حیثیت سے اس کی پہلی خامی اس کا محدود کینوس ہے۔ اس وجہ سے ناول صرف یک کرداری (احمدخلیل) کہانی بن گیا ہے۔ اُسی کے حالات‘ اُسی کے واقعات‘ بلکہ اُسی کے اردگرد کی دنیا اور معاشرہ ___فلسطین سے احمدخلیل کی ہجرت کے بعد ہم وہاں کے حالات سے بالکل بے خبر رہے ہیں۔ بعد میں صرف چند سطری خط کے ذریعے ایک مجمل سی خبرملتی ہے۔ (آخری حصے میں اس روش میں تبدیلی آگئی ہے)۔ ناول کی یہ صورت ہمیں بار بار‘ اس کتاب کو ’ناول‘ کہنے سے روکتی ہے۔ دراصل ’احمدخلیل‘ نہ تو بیاگرافی ہے اور نہ ایک ناول___بس درمیان میں کوئی چیز ہے۔ مگر جو کچھ بھی ہو‘ یہ ایک دل چسپ کتاب کی حیثیت سے پڑھی جائے گی۔(رفیع الدین ہاشمی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو‘ یعنی رمضان کا آغاز بھی چاند دیکھ کر اور چاند دیکھ کر ہی عید کرو۔ اُمت مسلمہ ۱۴۰۰ سال سے زیادہ عرصے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی پر عمل پیرا رہی ہے۔ رمضان اور عیدین کے نظام کو درست اور ٹھیک رکھنے کے لیے چاند کا دیکھنا ضروری قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس کے باوجود رئویت ہلال کے کچھ پہلوئوں اور تفصیلات پر فقہاے اُمت کے درمیان اختلاف راے پایا جاتا رہا ہے۔ اب دورجدید میں ذرائع ابلاغ کی بے پناہ سہولت اور آسانی نے رئویت ہلال کے فقہی اور فنی پہلوئوں کو بہت نمایاں اور اُجاگر کردیا ہے۔
اہلِ علم حضرات نے رئویت ہلال کے اختلافی پہلوئوں کو کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ اتفاق کی فضا پیدا کرنے اور علمی مباحث کو کسی مفید نتیجے تک پہنچانے کی انتہائی کوشش کی ہے۔
جناب خالد اعجاز مفتی صاحب کی تحقیقی اور علمی سعی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس مسئلے کے ہر پہلو پر مفتی صاحب نے بڑی عرق ریزی‘ جاں فشانی اور محنت سے تحقیق کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ مسئلہ رئویت ہلال کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دور جدید کے علماے کرام کاجدید فلکیاتی علوم سے بہت حد تک ناواقف اور نابلد ہونا ہے۔ اختلاف مطالع اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اعلان رئویت ہلال پر فتویٰ دینے کے مجاز وہی ہوسکتے ہیں جودینی علوم پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ جدید فلکیاتی علوم سے بھی آگاہ ہوں۔
دینی علوم اور فلکیاتی علوم کے ماہرین کو مل کر اس کا قابلِ عمل حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (عبدالوکیل علوی)
قصہ کہانی ادب کی وہ قسم ہے جس میں انسان کی دل چسپی بالکل فطری ہے۔ اس طرح بات سمجھانا اور ذہن نشین کرانا آسان ہوتا ہے۔ انسانی فطرت اور کہانی کی اثرآفرینی کے پیش نظر اسلام نے اس کو تفہیم و تربیت کا ذریعہ بنایا ہے۔
زیرنظر کتاب معروف مسلم اسکالر مصطفی محمد طحان کی کتاب التربیۃ بالقصۃ کااُردو ترجمہ ہے۔ فاضل مؤلف نے بڑی عرق ریزی سے احادیث مبارکہ میں بیان کیے جانے والے سبق آموز واقعات اور آسمان نبوت کے درخشاں ستاروں (صحابہ کرامؓ) کی ایمان افروز داستانوں سے انتخاب پیش کیا ہے۔ ہرقصے کے آخر میں اہم علمی مباحث اور عملی رہنمائی بھی دی گئی ہے۔ یوں یہ کتاب قرآن و سنت کے حوالوں سے مزین ۴۰ دروس کا خوب صورت گل دستہ ہے۔ دل چسپ اور منفرد انداز بیان کے یہ واقعات ذہن کو متاثر‘ روح کو معطر اور انسان کو آمادہ بہ عمل کرتے ہیں۔ بچوں اور بڑوں کے تزکیہ و تربیت کے لیے یکساں مفید ہے۔ ترجمہ رواں اور سہل۔ (حمید اللّٰہ خٹک)
صدارتی ایوارڈ یافتہ اس کتاب میں علامہ اقبال سے نئی نسل کو کہانی ہی کہانی میں روشناس کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اقبال کی شخصیت‘ خدمات اور اُمت کے لیے تڑپ کو ان کی زندگی کے مختلف واقعات سے اُجاگر کیا گیا ہے۔
علامہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں: شاہین کا تصور اور نوجوانوں سے اقبال کی توقعات‘ دین سے لگائو اور عشقِ رسولؐ، رزقِ حلال‘ فیاضی و خودداری‘ شگفتہ مزاجی اور مزاح کا دل چسپ پیراے اور واقعاتی انداز میںتذکرہ کیا گیا ہے۔ اقبال کے حوالے سے عام تصور سے ہٹ کر کئی اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ بسااوقات مکالماتی انداز کی وجہ سے کہانی میں بوجھل پن بھی محسوس ہوتا ہے۔ چند واقعات کا انتخاب بھی غورطلب ہے۔ مصنف نے بجاطور پر توجہ دلائی کہ نئی نسل کو اقبال سے روشناس کرانے کے لیے اقبالیات کو بطور مضمون نصاب میں شامل کیا جائے‘ اور نجی تعلیمی اداروں کو اس سلسلے میں پہل کرنا چاہیے۔ کتابیات سے کتاب کی جامعیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ مطالعے کے لیے بھی تحریک ملتی ہے۔ مصنف اس سے قبل قائدکہانی بھی لکھ چکے ہیں۔(امجدعباسی)
’مسئلہ کشمیر کے چار حل‘ (مارچ ۲۰۰۷ء) سید مودودی علیہ الرحمہ کا تاریخی تجزیہ آج بھی زندہ حقیقت ہے اور دعوتِ عمل دیتا ہے۔
’قائداعظم اور سیکولرزم‘ (مارچ ۲۰۰۷ء) کے مطالعے سے ایک تاریخی حقیقت بے نقاب ہوئی‘ اور سیکولر حلقوں کی نام نہاد معروضیت بالخصوص جسٹس منیر کی علمی دیانت کا پول کھل کر رہ گیا۔
’شرق اوسط میں امریکی حکمت عملی خانہ جنگی‘ (فروری ۲۰۰۷ء) اور اسی موضوع پر امریکی نقطۂ نظر (مارچ ۲۰۰۷ء) چشم کشا تحریریں ہیں۔ امریکا مسلمانوں کی تباہی و بربادی اور مسلم ممالک پر اپنا تسلط جمانے کے لیے کون کون سے منصوبے بنا رہا ہے‘ جب کہ مسلم دنیا کے سیاہ و سفید کے مالک امریکا نوازی اور خودسپردگی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ انتشار و افتراق‘ عدم اتحاد و اتفاق‘ ٹکڑوں میں بٹ جانے اور میرجعفروں و میرصادقوں کی وجہ سے مار کھائی ہے۔ اہلِ پاکستان اور اہلِ ایران کے لیے اس میں بڑاسبق ہے۔
سیدابوالاعلیٰ مودودی کی تحریر ’مسئلہ کشمیر کے چار حل‘ (مارچ ۲۰۰۷ء) سے موجودہ حکومت نے جو کنفیوژن پیدا کردیا ہے اس کی تصویر واضح ہوگئی ہے۔ مدیر کی جانب سے وضاحتی نوٹ نے اس کی افادیت میں مزید اضافہ کردیا۔ ’عصرحاضرکا بحران اور آیندہ لائحہ عمل (مارچ ۲۰۰۷ء) خاصے کی چیز ہے۔ اس میں قرآنی اصولوں کی روشنی میں بڑی خوبی سے عملی رہنمائی دی گئی ہے۔
’غیرمنظم نیکی بمقابلہ منظم برائی‘ (مارچ ۲۰۰۷ء) میں معاشرے کی ابتر صورت حال کا صحیح تجزیہ کیا گیا ہے‘ اور منظم جدوجہد کے لیے عملی راہ دکھائی گئی ہے۔ ’حقیقی بنیاد پرستی کے خدوخال‘ میں ڈاکٹر انیس احمد نے بجا فرمایا کہ عوام تو دین کے لیے مرمٹنے کا جذبہ رکھتے ہیں‘ اصل مسئلہ مغرب کے آلۂ کار مسلم حکمران ہیں۔
شذرہ نگار نے ہر روز مغرب کے بعد مسجد سے باہر آکر تین چار نعرے لگاکر احتجاج کو زبان دینے کی ایک قابلِ عمل تجویز پیش کی ہے (مارچ ۲۰۰۷ء)۔ اس میں ترمیم کر کے نمازِعصر کے بعد کرلیا جائے‘ اس لیے کہ اس نماز کے بعد سب لوگ ایک ہی وقت مسجد سے باہر نکلتے ہیں۔ ایرانی انقلاب کے زمانے میں شہروں میںوقت مقررہ پر ہارن بجا کر احتجاج کیاجاتا تھا۔ اسے بھی آزمایا جاسکتا ہے۔ حکمرانوں کا اصل ہدف مساجد‘ مدارس اور علماے دین ہیں۔ اس لیے ردعمل بھی انھی کی طرف سے زیادہ ہونا چاہیے۔ اگر ایک پروگرام کے تحت رات کے تین بجے پورے ملک میں ہرطرف اذانیں دی جائیں تو یہ احتجاج اور حصولِ نجات کا شرعی طریقہ ہے۔ احتجاج کے طریقۂ کار میں جدت کی ضرورت ہے۔ ریلیوں کے نام پر جلسے اور ان میں طویل تقریریں پہلے سے مسئلہ جاننے کی وجہ سے دل چسپی نہیں رکھتیں۔
’ترکی میں چند روز‘ (فروری‘ مارچ ۲۰۰۷ء) دل چسپ اور معلومات افزا‘ رُودادِ سفر ہے۔ ترک عوام اور ان کے ہر دلعزیز قائدین کی دین اسلام سے وابستگی‘ پوری دنیا کے مسلمانوں خصوصاً اسلامیانِ پاکستان سے محبت‘ سیدمودودیؒ اور علامہ اقبالؒ سے عقیدت‘ دینی اور سیکولر حلقوں میں تفہیم القرآن کی پذیرائی‘ دُوررس نتائج کے حامل ہیں۔ کاش! پاکستان کے حکمران نفاذِ دین کے عہد کی پاس داری کرتے تو آج پاکستان پوری اسلامی دنیا کا رہنما اور غیرمسلم دنیا کے لیے بھی مینارئہ نور ثابت ہوتا۔
’اسلامی نظریاتی کونسل اور قانونِ تحفظ نسواں‘ (جنوری ۲۰۰۷ء) جان دار تحریر تھی۔ ڈاکٹر خالد مسعود اسلامی نظریاتی کونسل کی بجاے حکومت کا دفاع کرتے نظر آئے‘ لیکن پروفیسر خورشیداحمد نے ان کے استدلال کا تاروپود بکھیرکر رکھ دیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سابقہ رپورٹیں توثیق کے بغیر من و عن شائع کرنے سے کترا رہی ہے۔ یوں لگتاہے کہ وہ پہلے اسے روشن خیال نظریات کی پالش سے چمک دار بنانا چاہتی ہو۔ ان میں علمی مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں۔
’عزیمت و استقامت کی ایمان افروز داستان‘ (فروری ۲۰۰۷ء) پڑھ کر ایمان تازہ ہوگیا۔ ایسی تحریریں پڑھنے سے انسان کا ایمان مضبوط اور اس کے اندر تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسان ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات انسان کے لیے آسانیاں پیدا کردیتی ہے۔
تعداد اور سروسامان کی انتہائی کمی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے دشمنوں پر غلبہ دیا ہے‘ اور تاریخ میں کوئی ایک دو مثالیں اس کی موجود نہیں ہیں بلکہ ایسی فتح مندیوں کا ایک پورا سلسلہ ہے جس سے مسلمان واقف ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ آخروہ خود غور کریں کہ وہ کیا چیز تھی جس نے تعداد اور سروسامان دونوں چیزوں کی کمی کے باوجود ان کے دشمنوں پر ان کو غالب اور فتح مند کیا… اس سوال کا ایک ہی جواب ان کو ملے گا‘ اور وہ یہ کہ اس وقت ان کے پاس دنیا کے لیے ایک پیغام تھا جس کی دل کشی کا یہ حال تھا کہ ہرشخص کا دل اس کی طرف آپ سے آپ کھنچتا تھا اور اس پیغام کی حامل ایک جماعت تھی جو اگرچہ تعداد کے لحاظ سے کچھ ایسی بڑی نہیں تھی لیکن اپنی سیرت کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ تھی۔ بس یہ پیغام اور یہ سیرت___ دو چیزیں تھیں جس کی وجہ سے بڑی بڑی جماعتوں کے مقابل میں اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو غالب کیا۔…
آج بھی اگر مسلمان اس دنیا میں عزت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخ روئی چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ ایک ہی ہے کہ اس پیغام کو لے کر اُٹھیں جسے لے کر وہ اس دنیا میں آئے تھے‘ اور اپنی سیرت اس طرح کی بنائیں جیسی کہ اس پیغام کے حاملین کی ہونی چاہیے۔ وہ دفعتاً محسوس کرنے لگیں گے کہ ان کی قوت دس گنی بڑھ گئی ہے۔ آج جو مزاحمتیں ان کی راہ میں ہیں وہ آہستہ آہستہ سب دُور ہوجائیں گی۔ ان سارے خطرات کا آپ سے آپ علاج ہوجائے گا جن کو دفع کرنے کے لیے وہ نہ جانے کیا کیا تدبیریں کر رہے ہیں لیکن کوئی تدبیرکارگر نہیں ہورہی ہے۔ ان کے اندر نفوذ کرنے کی ایسی قوت پیدا ہوجائے گی کہ ان کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہ ہوگی‘ دوسرے ان سے خود ڈریں گے۔ ان کے اندر ایسی کشش اور محبوبیت پیدا ہوجائے گی کہ جو لوگ ان سے نفرت کرنا چاہیں گے وہ بھی ان کا احترام کریں گے‘اور جو لوگ ان کو گالیاں دینا چاہیں گے ان کے دل بھی ان کی عظمت سے لبریز ہوں گے۔ وہ ہرمذہب و ملّت والوں کے نزدیک بہترین پڑوسی سمجھے جائیں گے‘ بہترین شریکِ کار خیال کیے جائیں گے اور بہترین ساتھی گنے جائیں گے۔ لوگ اپنوں سے بدگمان ہوں گے اور ان پر اعتماد کریں گے۔ اپنے ہم مذہبوں کو شک و شبہہ کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ان کے پاس اپنی امانتیں رکھوائیں گے۔ ان کے پڑوس میں اپنے جان و مال اور عزت و آبرو کو اس سے زیادہ محفوظ خیال کریں گے جتنا کہ وہ اپنے سگے بھائیوں کے پڑوس میں سمجھ سکتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ کاروبار کرنے میں ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں‘ ان کے ساتھ دوستی کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت کریں گے اور جو کامیاب ہوجائے گا وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھے گا۔(’اشارات‘، مولانا امین احسن اصلاحی، ترجمان القرآن‘ جلد ۳۰‘ عدد ۵‘ جمادی الاول ۱۳۶۶ھ‘ اپریل ۱۹۴۷ء‘ ص ۲۶۳-۲۶۴)