ابھی کعبے کے سایے میں طے پانے والے ’معاہدۂ مکہ‘ کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ اس کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ۱۹۴۸ء میں آدھے سے زائد فلسطین کو اسرائیل قرار دے دیے جانے اور ۱۹۶۷ء میں پورے فلسطین‘وادیِ سینا اور جولان کی پہاڑیوں پر قابض ہوتے ہوئے عرب افواج کو شکست فاش دینے کے علاوہ بھی فلسطینی قوم کو بہت بڑے بڑے صدمے‘ سانحے اور قیامتیں دیکھنا پڑی ہیں لیکن حالیہ سانحہ ۱۹۴۸ء اور ۱۹۶۷ء کے بعد سب سے تکلیف دہ گھائو ہے۔ دشمن کے وار سہنا اور اس کی طرف سے ظلم‘ زیادتی اور سازشوں کی توقع رکھنا تو سمجھ میں آتا ہے کہ درندے درندگی نہ دکھائیں تو اور کیا کریں، لیکن ’اپنے‘ بھی ان کی صف میں جاکھڑے ہوں تو صدمہ و اذیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
۲۵ جنوری ۲۰۰۶ء کو بھاری اکثریت سے جیتنے کے باوجود حماس نے حیرت انگیز اصرار کیا کہ تنہا ہم حکومت نہیں بنائیں گے۔ انتخاب میں ہمارے مقابل شکست کھانے والی الفتح بھی آئے‘ ہم سب کے ساتھ مل کر قومی حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ الفتح سے پہلے امریکا اور اسرائیل کی طرف سے جواب آیا: خبردارکسی صورت حماس سے اشتراک نہ کیا جائے‘ ہم ایسی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انتخاب کے بعد حکومت سازی کے لیے دی گئی مدت ختم ہونے لگی تو حماس نے مجبوراً تنہا حکومت بنانے کا اعلان کردیا۔ الفتح کے سابق وزرا نے نئی تشکیل شدہ حکومت سے ’بھرپور تعاون‘ کیا، اور وہ یوں کہ دفاتر چھوڑتے ہوئے وہاں سے سارا فرنیچر‘ اسٹیشنری کا سامان‘ گاڑیاں حتیٰ کہ چائے کے برتن تک اپنے ساتھ لے گئے۔ ساتھ ہی امریکا‘ یورپ اور اسرائیل نے ہر طرح کی مالی امداد بند کردی۔ اسرائیل اپنے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی سامان رسد پر ماہانہ ۵۵ملین ڈالر کے ٹیکس جمع کرتا ہے جو اس کے پاس فلسطینی اتھارٹی کی امانت قرار دی گئی ہے‘ اس نے وہ بھی اداکرنے سے انکار کردیا۔ حکومت کے پاس کسی چپڑاسی تک کو تنخواہ دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ اس سارے کھیل کا اصل ہدف یہ تھا کہ فلسطینی عوام‘ حماس کو اپنے سارے دکھوں کا سبب قرار دیتے ہوئے بھوکے مریں گے تو ازخود بغاوت کردیں گے‘ حماس کی ناکامی درودیوار پر ثبت ہوجائے گی‘ لیکن صہیونی لومڑی دن رات ناچتے رہنے کے باوجود ’کھٹے انگوروں‘ تک نہ پہنچ سکی۔ فلسطینی عوام نے پہلے سے بھی بڑھ کر حماس پر اعتماد کیا۔ حماس کے وزیراعظم سمیت تمام ذمہ داروں نے بھی اپنا چولھا بجھا کر اپنے عوام کی خدمت کا بیڑا اُٹھا لیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب بلدیہ کے جمعداروں کو بھی تنخواہ دینا ممکن نہ رہا تھا تب وزیراعظم خود ان کے ساتھ مل کر غزہ کی سڑکوں پر صفائی کرنے کے لیے اُتر آیا۔
عین انھی لمحات میں امریکا نے صدر محمود عباس (ابومازن) کی ذاتی حفاظت کے لیے آٹھ کروڑ ۶۰ لاکھ (۸۶ ملین) ڈالر کی امداد فراہم کی۔ صدر کے مشیرخاص اور خود الفتح کی صفوں میں بھی بدنام اورمتنازع ترین شخصیت محمد دحلان کو اسلحے اور سرمایے کے ڈھیر فراہم کرنا شروع کردیے گئے تاکہ فلسطینی حکومت کی تابع سیکورٹی فورسز کے مقابل صدارتی فوج تیار کی جائے۔ تقریباً ۳۳ہزار افراد پرمشتمل متوازی سیکورٹی کھڑی کردی گئی‘ حماس کے ذمہ داران کے علاوہ ان کی حمایت کرنے والے عوام کے خلاف بھی کارروائیاں شروع کردی گئیں اور بالآخر فلسطینی صہیونی کے بجاے الفتح حماس جھڑپیں ہونے لگیں۔ اس موقع پر مختلف اطراف و اکناف سے مصالحت کی کوششیں ہوئیں اور گذشتہ مارچ میں طرفین نے سعودی فرماںروا شاہ عبداللہ کی دعوت پر مکہ آکر مذاکرات کیے‘ جن کے نتیجے میں ایک سال سے زائد عرصے کے بعد حماس کی یہ خواہش پوری ہوئی کہ فلسطین میں متفق علیہ قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ حماس نے اس ضمن میں کئی کڑوے گھونٹ پیے‘ واضح اکثریت رکھنے کے باوجود خزانہ‘ خارجہ اور داخلہ سمیت کئی اہم وزارتوں سے دست برداری قبول کرلی اور حکومت میں امریکا کے منظورنظر کئی نام بھی قبول کرلیے جیسے خزانہ کے لیے سلام فیاض۔
معاہدۂ مکہ اور قومی حکومت کی تشکیل فلسطینی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا تھا لیکن بدقسمتی سے دحلان گروپ نے اس پر ایک روز کے لیے بھی عمل درآمد نہیں ہونے دیا۔ وزیرداخلہ (جس کا تعلق حماس سے نہیں تھا) نے وزارت سنبھالنے کے چند ہفتے بعد ہی استعفا دے دیا کہ فلسطینی پولیس کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘ دحلان سیکورٹی فورس ہرطرف غالب ہے اور خود کو ہرحکومت سے بالاتر سمجھتی ہے۔ حماس کے مختلف مراکز‘ اس کی سرپرستی میں چلنے والے رفاہی اداروں‘ اسکولوں اور یتیم خانوں پر ہلے بولے جانے لگے اور عملاً خانہ جنگی کی شروعات کردی گئیں۔ عین انھی دنوں میں مصری اور اُردنی سرحدوں سے صدر کی حفاظت کے نام پر جدید اسلحے کی بڑی کھیپ محمود عباس اور ان کے مشیر سیکورٹی دحلان کو پہنچائی گئی۔ یہ سیکورٹی فورس مسجدوں اور تعلیمی اداروں میں گھس گھس کر حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے لگی۔ صہیونی حکومت نے بھی ۶۰ افراد پر مشتمل مطلوبہ افراد کی ایک ہٹ لسٹ جاری کردی جس میں وزیراعظم اسماعیل ھنیہ اور حماس کے سیاسی امور کے سربراہ خالدالمشعل سمیت تمام سرکردہ قائدین کے نام شامل تھے۔ پھر گلیوں اور بازاروں میں باقاعدہ لڑائیاں ہونے لگیں۔ الفتح کے نام پر دحلان سیکورٹی اور حماس کے افراد باقاعدہ مورچہ بند ہوکر لڑنے لگے۔ حماس نے اس موقع پر بھی حالات کا رخ موڑنے کی ایک اور کوشش کی۔ اس نے مقابل فلسطینی دھڑے کے حملے تو روکے‘ لیکن خود اپنے حملوں کا رخ اسرائیلی یہودی بستیوں کی طرف موڑ دیا۔ ان پر خودساختہ راکٹوں کے سیکڑوں حملے کیے اور فلسطینی عوام کو یاد دلایا کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے؟
یہ ایک سانحہ ہے کہ الفتح کے دحلان دھڑے نے صدر محمود عباس کی سرپرستی میں حماس کے پائوں تلے سے بساط کھینچنے کی کوششیں عروج پر پہنچا دیں اور وزیراعظم کے دفتر پر بھی ہلہ بول دیا گیا۔ اس موقع پر حماس کے مسلح بازو نے بھی دحلان سیکورٹی سے نجات کا آپریشن شروع کردیا اور حیرت انگیز طور پر ۴۸ گھنٹے کے اندر اندر ان کے اہم ترین جاسوسی قلعے سمیت ان کے تمام مراکز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ حماس کے اس آپریشن کے بارے میں خود الفتح کے دحلان مخالف دھڑے اور دیگر فلسطینی تنظیموں کے ذمہ داران نے بیانات دیے ہیں کہ اگر حماس یہ کارروائی نہ کرتی تو الفتح غزہ پر ایک مہیب خانہ جنگی مسلط کردیتی۔ غزہ میں موجود الفتح کے اعلیٰ عہدے دار احمد حلس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس ساری خوں ریزی اور حماس سے الفتح کی شکست کی ذمہ داری محمود عباس اور دحلان کے سرعائد ہوتی ہے۔ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ دحلان پر انقلابی عدالت میں بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے اور محمود عباس جیسے کمزور صدر کو جس کے اعصاب پر دحلان سوار تھا‘ ہٹا کر الفتح کے گرفتار لیڈر مروان البرغوثی کو اپنا سربراہ بنایا جائے۔
حماس کی یہ کارروائی اور الفتح کی سیکورٹی فورسز کا غزہ سے انخلا ۱۴ جون کو ہوا۔ اسی شام محمودعباس کے ساتھیوں کی طرف سے بیان آگیا کہ یہ کارروائی حماس کی طرف سے کھلی بغاوت ہے‘ اس کی حکومت فوراً ختم کی جائے اور جلد دوبارہ انتخاب کروائے جائیں۔ کچھ ہی دیر بعد محمودعباس کا فرمان جاری ہوا کہ ھنیہ حکومت ختم کردی گئی ہے‘ جلد ایمرجنسی حکومت قائم کی جائے گی اور پھر ۱۵ جون کو وزیرخزانہ سلام فیاض سے وزیراعظم کا حلف پڑھوا کر ہنگامی حکومت قائم کردی گئی۔
اس موقع پر ایک انوکھی لیکن پوری طرح سمجھ میں آنے والی پیش رفت یہ ہوئی کہ اس عبوری حکومت کو سب سے پہلی مبارک باد اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ اور امریکی صدر جارج واکر بش کی طرف سے موصول ہوئی۔ فوراً ہی ان اعلانات کا تانتا بندھ گیا کہ محمود عباس اور ہنگامی حکومت کو مالی امداد دی جائے گی‘ ان پر سے تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی‘ غزہ پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ تیل‘ بجلی اور غذائی سامان بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔ ساتھ ہی اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے گردونواح میں گھیرا ڈالنا شروع کردیا ہے اور چھے فلسطینی نوجوان شہید کردیے ہیں۔
اب مقبوضہ فلسطین دوہری آگ میں جل رہا ہے۔ ایک طرف صہیونی تسلط اور مظالم اور دوسری طرف خود فلسطینی عوام کی دو علیحدہ علیحدہ حکومتیں۔ غزہ میں اسماعیل ھنیہ نے اعلان کیا ہے کہ ہم کسی سے انتقام نہیں لیں گے‘ الفتح کے جو کارکنان و ذمہ داران یہاں رہنا چاہیں‘ رہیں یہ ان کا گھر ہے اور جو مغربی کنارے جانا چاہیں ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن دوسری جانب مغربی کنارے میں حماس سے تعلق رکھنے والوں کو چن چن کر پکڑا جارہا ہے۔ کئی ماہ سے اسرائیلی جیلوں میں پڑے فلسطینی منتخب اسپیکر عبدالعزیز الدویک کا گھر نذرِآتش کردیا گیا ہے۔ایک بحث ھنیہ کی منتخب حکومت کے مقابلے میں بنائی جانے والی ہنگامی حکومت کی دستوری حیثیت کی بھی ہے‘ کیونکہ فلسطینی دستور کے مطابق اگر صدر کو ہنگامی حکومت بنانا بھی پڑے تو اسے ۳۰دن کے اندر اندر پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے‘ اور حماس کی اکثریت کے باعث پارلیمنٹ کو یہ زحمت نہیں دی جارہی۔ پارلیمنٹ کی منظوری سے بھی ایسی حکومت صرف۳۰ روز کے لیے ہی بنائی جاسکتی ہے۔ اور اگر پارلیمنٹ توثیق کرے تو مزید ۳۰دن کے لیے اس کی عمر بڑھائی جاسکتی ہے۔ لیکن اس بحث سے قطع نظر‘ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ۲۰لاکھ آبادی پر مشتمل مغربی کنارے اور پندرہ لاکھ کی آبادی پر مشتمل غزہ کی پٹی کو دو الگ الگ کنٹونمنٹس میں تقسیم و مقید کیا جاسکتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ عوام کو عوام سے اس طور لڑا دیا جائے کہ لاکھوں لوگ اپنے لاکھوں بھائیوں کو بھوک اور ہلاکت کی نذر ہونے دیں اور امداد کے وعدوں اور تسلیم کرلیے جانے کی صحرا نوردی کو اپنی گم شدہ جنت قرار دے لیں۔ اس سوال کا جواب غزہ سے واپس آنے والے مصری وفد میں شامل ایک اعلیٰ سیکورٹی افسر نے اپنا نام خفیہ رکھے جانے کے وعدے پر مصری اخبار ’المصری الیوم‘ کو دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی فلسطینیوں کی فلسطینیوں سے نہیں بلکہ ۷۰ فی صد فلسطینی عوام کی دحلان سے ہے۔فلسطینی عوام کی بھاری اکثریت دحلان اور اس کے ساتھیوں سے نجات چاہتی ہے۔
دوسری طرف غزہ کے لاکھوں لوگ ایک اور معمے پر حیرت زدہ ہیں اور وہ یہ کہ غزہ کی فضائوں میں مسلسل ۲۴ گھنٹے بغیر پائلٹ کے جاسوسی صہیونی طیارے محوپرواز رہتے تھے۔ بعض اتنے قریب ہوتے تھے کہ فضا میں ہر وقت ان کی آواز سنائی دیتی رہتی تھی۔ جب سے غزہ سے الفتح کا انخلا ہوا ہے یہ جاسوسی طیارے غائب ہوگئے ہیں۔ ۱۸جون کو معروف عربی اخبار الحیاہ میں فکری عابدین نے ایک مضمون میں اسرائیلی جاسوسی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ غزہ سے الفتح کے جاسوسی مراکز سے معلومات کا بے حد قیمتی خزانہ ہاتھ لگا ہے۔ اس میں صرف حساس معلومات ہی نہیں‘ جدید ترین آلات اور حساس اسلحے کی بڑی مقدار بھی ان کے ہاتھ چلی گئی ہے۔ حماس حکومت کے وزیرخارجہ محمود الزھار نے‘ جنھیں اصرار کرکے متفق علیہ قومی حکومت سے باہر رکھا گیا‘ اپنے ایک انٹرویو میں ۱۴ جون کے بعد غزہ کی صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ غزہ کے عوام کو ۱۴ سال بعد سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ اب انھیں کسی سیکورٹی فورس کی دہشت گردی کا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہے۔
فلسطینی سیکورٹی فورسز کی حد تک تو شاید یہ درست ہو لیکن اب ایک بڑا خطرہ اور خدشہ یہ ہے کہ حماس سے نجات پانے کے لیے اسرائیلی افواج غزہ پر خوفناک چڑھائی کردے۔ بن گوریون یونی ورسٹی کے پروفیسر ڈرور زئیفی نے اس موقع کو اسرائیل کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے ۱۸جون کو اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’ہم اگر کسی اعلیٰ پایے کی لیبارٹری میں بھی کوئی ایسا فارمولا تیار کرنے کی کوشش کرتے تو ناکام رہتے۔ اب حالات نے خود یہ فارمولا فراہم کردیا ہے کہ ہمارے سامنے دو فلسطینی دھڑے واضح تقسیم میں بٹے ہوئے ہیں جو جغرافیائی لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے دُور ہیں۔ ہمیں کسی صورت یہ سنہری موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ ۱۸جون ہی کو عبرانی روزنامے ھآرٹز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’’محمود عباس کے اس دلیرانہ اقدام سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور اسرائیل کو اس سے بھرپور استفادہ کرنا ہے‘‘۔ لیکن اسی روز کے روزنامہ معاریف میں اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ شلومو گازیٹ کی راے اس سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے بقول: ’’الفتح اور ابومازن اب تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن چکے ہیں اور ہمیں کسی ایسی فلسطینی قیادت یا تحریک پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے جسے مستقبل بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے‘‘۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ: ’’اسرائیل نے پہلے بھی تباہ کن غلطی کی تھی کہ فلسطینی عوام کو فوجی اور اقتصادی دبائو کی نذر کیا۔ اب اگر ہم نے دوبارہ یہ غلطی دہرائی تو اس کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کہ فلسطینی عوام حماس کی جانب مزید یکسوئی سے لپکیں گے۔ ہمیں خود کو اس وہم کا شکار نہیں کرنا چاہیے کہ ہم گھڑی کی سوئیاں ۴۰ سال پیچھے گھما سکتے ہیں‘‘۔
ان دونوں متضاد آرا پر مشتمل دسیوں تحریریں عبرانی صحافت اور ذرائع ابلاغ میں بکھری ہوئی ہیں لیکن ایک بات پر تقریباً سب اسرائیلی تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ اسرائیل کو اب اپنے پڑوسی عرب ممالک کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے‘ خاص طور پر اُردن اور مصر کی۔ اس بحران کے فوراً بعد عرب لیگ کے وزراے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس کے اختتام پر فریقین سے تحمل اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ عرب لیگ دونوں میں سے کسی کی طرف داری نہیں کرے گی ساتھ ہی مصر‘ اُردن‘ سعودی عرب‘ تیونس اورعرب لیگ سیکرٹریٹ پر مشتمل ایک پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے۔ حماس نے اس وفد کا خیرمقدم کیا ہے لیکن غیر جانب داری کا اعلان کرنے کے باوجود مصر نے سب سے پہلے غزہ میں قائم اپنا سفارت خانہ مغربی کنارے منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ان تمام بیانات اور اقدامات کاتجزیہ اپنی جگہ بہت اہم ہے لیکن گذشتہ ۵۹سالہ صہیونی دہشت گردی‘ جہاد کو کچلنے کی کوششوں اور فلسطینی قوم میں سے کچھ غداروں کے ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے باوجود ہم برسرِزمین عملی نتیجہ کیا دیکھتے ہیں؟ کیا یہی نہیں کہ فلسطینی جہاد اور اس کی سرخیل تحریک حماس اب پہلے سے کہیں زیادہ توانا‘ کہیں زیادہ فعال اور کہیں زیادہ مؤثر ہے۔ کیا ربانی ہستی شیخ احمد یاسین کی یہ پیش گوئی تکمیل کی جانب بڑھ رہی ہے کہ ۲۱ویں صدی کی پہلی چوتھائی میں ہماراجہادی سفر نصرت الٰہی کی منزل پالے گا۔
سوال: ہم چند دوست احباب نے ایک ٹرسٹ قائم کیا ہے‘ جس کا بنیادی مقصد غریب عوام کو علاج معالجے اور طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔ اس ٹرسٹ کا ذریعہ آمدن زکوٰۃ اور صدقات ہیں۔ اسی سے ٹرسٹ کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ درج ذیل امور میں ہماری رہنمائی کریں:
۱- کیا ہم اس رقم سے ٹرسٹ کے جائز اور ضروری اخراجات‘ مثلاً دوائیں‘ ڈاکٹر اور سٹاف کی تنخواہیں پورا کرسکتے ہیں؟
۲- کیا عوام کے لیے مختلف امراض کے بارے میں معلوماتی پمفلٹ اس رقم سے شائع کر سکتے ہیں؟
۳- فری میڈیکل کیمپ اور امورِ صحت سے متعلق پروگرام کے انعقاد کے لیے اخراجات اس سے پورے کرسکتے ہیں؟
۴- کیا اس زکوٰۃ کی رقم کو ٹرسٹ کے مفاد میں اس کی آمدن بڑھانے کے لیے وقتی طور پر زمین کے کاروبار میں لگا سکتے ہیں؟
۵- کیا اس رقم کو ٹرسٹ کا ہسپتال یا ڈسپنسری بنانے کے لیے زمین اور اس کی عمارت کے لیے خرچ کیا جا سکتا ہے؟
جواب: زکوٰۃ کے مصارف قرآن پاک میں مقرر کردیے گئے ہیں‘ اس لیے ان میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی‘ اور نہ کسی کو اس میں کمی بیشی کا اختیار ہے۔ زکوٰۃ سے جو ٹرسٹ قائم کیا جائے اس کا پروگرام ایسا ہو کہ صرف فقرا و مساکین پر اسے صَرف کیا جائے۔ زکوٰۃ کی رقم کو تعمیرات پر نہیں لگایا جاسکتا‘ نہ ہسپتال کے لیے دیگر سامان اس سے خریدا جا سکتا ہے۔
اگر آپ کوئی ایسا ٹرسٹ قائم کرتے ہیں جس میں زکوٰۃ کی رقم صرف کی جائے‘ تو صرف ایسی صورت میں قائم کیا جاسکتا ہے‘ جب کہ آپ ٹرسٹ کی ایک مد میں زکوٰۃ جمع کریں اور دوسری مد میں عطیات‘ عمارت‘ ہسپتال کا سازوسامان‘ ڈاکٹروں کی تنخواہیں عطیات سے پورا کریں‘اور فقرا و مساکین کے لیے دوائیں اور علاج کے اخراجات‘ ایکسرے اور آپریشنز وغیرہ کی فیس زکوٰۃ کی مد سے ادا کریں تاکہ زکوٰۃ کی رقم صرف مستحقین پر صَرف ہو۔ عمارت‘ ہسپتال کا سازوسامان اگر آپ زکوٰۃ سے خریدیں گے تو یہ اس لیے صحیح نہ ہوگا کہ اس سازوسامان سے غریب کے ساتھ امیر بھی استفادہ کرے گا۔ زکوٰۃ کی رقم سے خرید کردہ سازوسامان کا استعمال امیرکے لیے درست نہیں ہے‘ الا یہ کہ اس سازوسامان کے استعمال کا عوض امیر سے لے کرزکوٰۃ فنڈ میں جمع کیا جائے اور اس کو فقرا و مساکین پر صَرف کیا جائے۔ البتہ ڈاکٹر کی فیس اور جو خرچ غریب کے علاج کی مد میں آئے‘ اسے زکوٰۃ کی رقم سے ادا کیا جا سکتا ہے۔
آپ اپنے ٹرسٹ کو مذکورہ اصولوں کے مطابق قائم کریں۔ موجودہ صورت حال میں آپ کا ٹرسٹ اس معیار پر پورا نہیں اُترتا جو زکوٰۃ کی رقم جمع کرنے اور صَرف کرنے کے لیے ضروری ہے۔ واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)
س : اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کی خاطر ہم نے ایک فنڈ قائم کیا ہے تاکہ صدقۂ جاریہ کا ایک نظام بنا سکیں۔ اس فنڈ کا طریقۂ کار یہ ہے کہ ہم چند رشتہ داروں نے مل کر ایک اسلامی بنک میں جوائنٹ اکائونٹ کھولا ہے۔ اس اکائونٹ میں صدقہ‘ خیرات‘ عطیات اور چندے کی نیت سے نکالی جانے والی رقم جمع کی جاتی ہے۔ یہ رقم یا سرمایہ ہم خود‘ اپنے خاندان اور اپنے اعزہ و اقربا سے مندرجہ بالا اکائونٹ میں جمع کرتے ہیں۔ یہ اکائونٹ چند حضرات کے مشترکہ کنٹرول میں ہے اور جمع شدہ سرمایہ کسی کی بھی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ بطورِ امانت اُن کے پاس ہے۔ ہم اس سرمائے کو اسلامی بنکوں کے ذریعے سود سے پاک سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں‘ اور جو منافع حاصل ہوتا ہے‘ وہ کسی فلاحی مقصد میں بہ نیت ایصالِ ثواب استعمال کرلیتے ہیں۔
اس ضمن میں پہلا سوال یہ ہے کہ اس اکائونٹ میں مندرجہ بالا مقصد کے لیے ہم کن کن مدات کی رقم وصول کرسکتے ہیں؟ اگر ہم اس سرمائے اور اس کے نفع کو محض ایک مقصد‘ یعنی امراضِ جگر و گردہ میں مبتلا مستحق مریضوں اور اس کام سے منسلک ہسپتالوں کے لیے استعمال کریں تو کیا زکوٰۃ کی رقم سے بھی اس فنڈ کی اعانت کی جاسکتی ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا طریقۂ کار سے جو سرمایہ حاصل ہوتا ہے اُسے ہم پانچ سالوں کے دورانیے کے لیے مختلف حلال منافع بخش اسکیموں میں لگا رہے ہیں۔ کیا اس سرمائے پر زکوٰۃ واجب ہے؟
ج: آپ نے فقرا ومساکین اور نادار لوگوں کی خدمت کے لیے جو اسکیم بنائی ہے وہ قابلِ قدر اور قابلِ تقلید ہے۔ تمام صاحب ِ حیثیت لوگ حاجت مندوں کو روٹی کپڑا‘ رہایش‘ علاج اور تعلیم کے وسائل فراہم کرنے کے لیے اس طرح کی اسکیمیں بنائیں تو اسلامی تہذیب و ثقافت کا احیا ہوگا۔
اصلاً یہ کام تو حکومت کا ہے۔ گذشتہ ادوار میں اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کی سفارشات کی روشنی میں زکوٰۃ و عشر اور بیت المال کا جو نظام ترتیب دیا گیا‘ ان سفارشات کو اصل شکل میں نافذ کرنے کے بجاے ترمیم کرکے ناقص شکل میں نافذ کیا گیا۔جس کے نتیجے میںزکوٰۃ و عشر اور بیت المال کا نظام غریبوں کی ضروریات کا کفیل بننے میں ناکام رہا ہے۔
آپ اپنی اس اسکیم کو مستحقینِ زکوٰۃ‘ غربا اور نادار لوگوں کی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے تک محدود رکھیں تو اس اسکیم میں زکوٰۃ بھی جمع کرسکتے ہیں۔ اگر امراضِ جگر و معدہ وغیرہ کے لیے مختص رکھنا چاہیں تو ایسا بھی کرسکتے ہیں‘ لیکن اس سلسلے میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ رقم کسی ہسپتال کو دینے کے بجاے براہِ راست مریض جو زیرعلاج ہے اس کو نقد یا اس شکل میں دیں کہ اخراجات کے بل جو آپ کو دیے جائیں ان کی ادایگی ہسپتال میں کردیں۔ مریض کو ہسپتال میں داخل کرتے وقت ہسپتال کے ساتھ طے ہوجائے کہ بلوں کی ادایگی ہمارے ذمہ ہوگی‘ اس لیے بل ہمیں دیے جائیں اور اگر مریض کو علاج کے علاوہ ضروری اخراجات کے لیے رقم کی ضرورت ہو تو آپ اس کی ادایگی براہِ راست مریض کو کردیں۔
یہ رقم چونکہ فقرا کو دینے کی نیت سے مشترکہ اکائونٹ میں جمع ہے‘ مالکوں کی ملکیت سے نکل چکی ہے لیکن کسی فقیر کی ملکیت میں بھی نہیں آئی‘ اس لیے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ جو بھی نفع ہوگا وہ سب کا سب فقرا و مساکین کو مل جائے گا۔
البتہ اس رقم کو اکائونٹ اور کاروبار میں لگاکر منجمد نہ رکھا جائے‘ بلکہ جس مقصد کے لیے جمع کیا ہے اس پر خرچ بھی کیا جائے اور اتنا خرچ کیا جائے جس سے ایک آدمی کی وہ ضرورت جس کو پورا کرنے کے لیے آپ رقم صرف کر رہے ہیں‘ پوری ہوجائے اور وہ کسی دوسرے کا محتاج نہ رہے۔ تھوڑے افراد کی پوری خدمت‘ زیادہ کی ناقص خدمت سے بہتر ہے۔ آپ جگر و گردے کے علاوہ کسی دوسری بیماری یا دوسری ضروریات کو پورا کرنے کا منصوبہ بھی بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے یہی اصول پیشِ نظر رہے کہ ضرورت مند کو براہِ راست نقد یا فیس کی شکل میں ادایگی کی جائے‘ یا اتنی رقم دے دی جائے جس سے وہ معقول کاروبار کرسکے۔
اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے خاندان کو خدمتِ خلق کی برکت دنیا میں عزت و وجاہت اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے بچائو کی صورت میں عطا فرمائے۔ آمین!(ع-م)
س: میں پیدایشی طور پر بصارت سے محروم ہوں لیکن میں نے اپنی معذوری کو رکاوٹ نہ بننے دیا اور پی ایچ ڈی کرنے میںکامیاب ہوگیا اور اچھی ملازمت بھی مل گئی۔ میری والدہ میری تعلیم کے حق میں نہیں تھیں کہ اس سے دماغ پر زور پڑے گا اور اس پر وہ کچھ ناراض سی ہیں۔ والدصاحب کا تعلق بھی تحریک سے تھا اور والدہ بھی تحریک سے وابستہ ہیں۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد والدہ کا رویہ میرے مقابلے میں دوسرے بھائیوں سے زیادہ ہمدردانہ ہوگیا اور میری اہلیہ سے بھی ناراض رہنے لگیں۔ میں نے والدہ کی خوشی کے لیے طرح طرح سے کوشش کی‘ جس کا دوسرے لوگ بھی اعتراف کرتے ہیں لیکن والدہ کی ناراضی دُور نہ ہوئی۔
دیگر اہلِ خانہ سے میرا رویہ ہمیشہ جانثارانہ اور ایثار پر مبنی رہا۔ بہت سے مواقع پر میں نے بڑھ چڑھ کر معاونت بھی کی۔ اس سب کے باوجود ایک موقع پر والدہ کی ناراضی مجھے مشتعل کرگئی اور کچھ تلخی ہوگئی۔ چھوٹے بھائی نے مجھے گھر سے چلے جانے کا حکم دیا‘ جب کہ والدہ اور دیگر بہن بھائی خاموش رہے۔ مجھے مجبوراً گھر چھوڑنا پڑا۔ ان حالات میں‘ میں نے بنک سے سود پر قرض لے کر ایک چھوٹا سا مکان لیا۔ اب میں مزید قرض تلے دبا جا رہا ہوں۔ سخت ذہنی دبائو میں ہوں‘ رہنمائی فرمایئے۔
ج: آپ کے خط سے جہاں آپ کی ذہنی کوفت اور پریشانی کا اظہار ہوتا ہے وہاں اس سے کہیں زیادہ آپ کے پُرعزم ہونے‘ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد‘ صلہ رحمی اور قطع رحمی سے اجتناب اور والدہ صاحبہ اور اپنے بھائی بہنوں کے لیے ایثار و قربانی کے جذبے کا پتا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہترین اجر اس دنیا میں اور آخرت میں دے۔
مسئلہ میری نگاہ میں‘ آپ کی اہلیہ اور آپ کے بھائیوں کی بیویوں کے طرزِعمل میں اختلاف کا نہیں ہے بلکہ دعوتِ اسلامی‘ نظمِ جماعت اور حقوق العباد میں باہمی تعلق کا ہے۔ جماعت اسلامی کے قیام سے لے کر آج تک تحریک اسلامی نے جن بنیادی امور پر زور دیا ہے‘ ان میں اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ساتھ ساتھ‘ خاندان میں دعوت و اصلاح کو بھی یکساں اہمیت دی ہے۔ فرد کی اصلاح کے ساتھ خاندان اور معاشرے کی اصلاح آخرکار تبدیلیِ قیادت کی طرف لے کر جاتی ہے۔ لیکن عملاً ہوا یہ ہے کہ شاید تحریک کے نظامِ تربیت میں توسیع دعوت‘ تبدیلیِ معاشرہ اور تبدیلیِ اقتدار زیادہ مرکزیت اختیار کرگئے اور خاندان کے ادارے کی اصلاح کو کارکنوں کی صواب دید پر چھوڑ دیا گیا۔چنانچہ ایک جانب ایک کارکن خلوصِ نیت اور اپنی تمام تر قوت کے ساتھ تحریک کی دعوت پھیلانے اور نظم کی اطاعت میں مطلوبہ سرگرمیوں میں تو مصروف ہوگیا لیکن وہ اپنے گھر میں مروجہ روایات‘ برادری اور خاندان کے رواج سے اپنے آپ کو آزاد نہ کرسکا۔
یہی وجہ ہے کہ آپ نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں آپ کے والد آپ کی پیدایش سے قبل جماعت کے رکن بن چکے تھے اور بعد میں آپ کی والدہ بھی رکن بن گئیں‘ یعنی انھوں نے مطلوبہ نصابِ کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد شعوری طور پر تحریکِ اسلامی کی دعوت پر لبیک کہا‘ اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اجتماعات میں شرکت‘ دعوتی سرگرمیوںمیں حصہ اور دیگر فرائض کی ادایگی کا عہد کیا لیکن دعوت کے ایک بنیادی اور اہم نکتے‘ یعنی معاملات کو وہ ترجیح نہ دی جاسکی جس کا وہ مستحق ہے۔
ترجمان القرآن کے قاری اکثر اپنے سوالات کے ذریعے جو مسائل اٹھاتے ہیں وہ معاملات کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ مثلاً خصوصاً شوہر کا بیوی کے ساتھ سلوک‘ یا والدین کے ساتھ اولاد کا معاملہ‘ یا شادی کے بعد ایک شادی شدہ جوڑے اور سسرالی رشتے داروں کے ساتھ ان کے تعلقات۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلق باللہ اور تبدیلیِ زمام کار میں اپنی کوشش اور کاوش میں ہم اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ معاملات سے متعلق بہت سی باتیں نظر سے محو ہوجاتی ہیں۔
اس طویل تمہید کے بعد جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں ان کے حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ والدہ کی زیادتی کے باوجود اب‘ جب کہ آپ الگ گھر میں رہ رہے ہیں‘ ان سے تعلق اور ان کے احترام میں کمی نہ آنے دیں۔
دوسری بات یہ کہ جو کچھ آپ کے چھوٹے بھائی بہنوں نے آپ کے ساتھ کیا‘ وہ سراسر ناانصافی اور ظلم ہے‘ لیکن اس کے باوجود آپ ان کی اس زیادتی کو اللہ کی خوشی کے لیے معاف کرتے ہوئے‘ ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں‘ کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع تعلقی کرنے والے رشتے دار سے جڑنے کا حکم دیا ہے۔
تیسری بات یہ کہ جن حالات میں آپ نے بنک سے سود پر قرض لے کر مکان لیا ہے وہ بظاہر اضطرار‘ کی تعریف میں آتے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ آپ جلد اس حالتِ اضطرار سے نکل سکیں۔ تحریکی ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ اس قرض سے نکالنے کے لیے آپ کے ساتھ تعاون کریں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ محترمہ کو اپنی غلطی کا احساس دلائے اور وہ کشادگیِ قلب کے ساتھ آپ سے شفقت و محبت سے پیش آسکیں۔(ڈاکٹر انیس احمد)
س : میرے والد اور سسر کی بہت اچھی دوستی تھی جس کی وجہ سے والدصاحب نے ہم دونوں بہنوں کی منگنیاں چھوٹی عمر میں ہی ان کے دو بیٹوں سے کردیں۔ میری شادی منگنی کے چار سال بعد ہوگئی۔ منگنی کے وقت میری امی چھوٹی بہن کے لیے راضی نہ تھیں۔ ایک تو اُس کی عمر کی وجہ سے‘ دوسرا یہ کہ ہماری طرف خاندان سے باہر رشتہ کم دیا جاتا ہے۔ لیکن والدصاحب اور سسر کے اصرار پر یہ رشتے طے ہوگئے۔
شادی کے کچھ عرصے بعد میرے والد صاحب بیمار ہوئے اور اسی بیماری کے دوران انھوں نے چھوٹی بہن کے رشتے سے انکار کردیا جس پر میرے سسر ناراض ہوگئے اور مجھے بھی واپس بھیجنے کا کہا۔ مگر میں نے جانے سے انکار کردیا۔ اس پر انھوںنے کہا کہ تم اُن سے کوئی تعلق نہیں رکھو گی۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ اسی دوران میرے والدصاحب بہت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ ان کی وفات پر بھی مجھے جانے کی اجازت نہیں ملی۔
آج اس واقعے کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے‘ میرے سسر الحمدللہ میرے ساتھ بہت اچھے ہیں مگر ان کے دل میں اُن سب کے لیے نرمی نہیں آتی۔ وہ بظاہر مجھے کہتے ہیں کہ تم پر کوئی پابندی نہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ بچیاں نہیں جائیں گی۔ میں اُن کو چھوڑ کر بھی نہیں جانا چاہتی اور سسر کی اجازت کے بغیر بھی جانا ٹھیک نہیں لگتا۔ اگرچہ میرے شوہر کی طرف سے مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں لیکن عملاً یہ مشکلات کا باعث ہوگا۔ میری والدہ اب کافی پریشان رہتی ہیں۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
ج: آپ کے سسرصاحب نے ‘ گو وہ عموماً اچھا طرزعمل رکھتے ہیں اور آپ نے بھی ان کے لیے تعریفی کلمات لکھے ہیں‘ عصبیت جاہلیہ کی بنا پر آپ کو آپ کے والد صاحب کی بیماری کے دوران ان کی عیادت اور وفات پر دعاے مغفرت میں شرکت سے محروم رکھ کر اپنے آپ پر اور آپ پر ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرے۔ اسی بات کو صاحب قرآن نے قطع رحمی کہہ کر پکارا ہے۔ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے‘ خواہ کسی قسم کی رنجش کیوں نہ ہو‘ تین دن سے زائد اپنے آپ کو کاٹ رکھنے کا حق نہیں ہے۔ انھیںچاہیے کہ وہ استغفار کریں اور آپ کو اپنی والدہ سے ملنے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔ یہ بھی ظلم ہی کی ایک شکل ہے کہ بچیوں کو لے کر نہ جائو۔
آپ کے شوہر کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگروہ اپنے والد کی اطاعت اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کریں گے تو یہ اللہ اور رسولؐ سے بغاوت کے مترادف ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے والد کو اس ظلم سے روکیں اور خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہ کریں۔ آپ کے والد کی وفات پر آپ کو روک کر آپ کے سسر اور شوہر دونوں نے آپ پر اور اپنے اُوپر بہت سخت زیادتی کی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اللہ کی راہ میں صدقات اور اللہ سے توبہ و استغفار کے ذریعے اپنی غلطی کی تلافی کی کوشش کریں۔(ا-ا)
س: میرے شوہر حافظ قرآن ہیں۔ میری چار بیٹیاں ہیں۔ بچیوں کو حفظ کرانے کا ارادہ اور خواہش اُن کی پیدایش سے ہی میرے دل میں تھی۔ مگر اکثر لوگ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ بچیوں کے حفظ کے معاملے میں احتیاط کرو‘ وہ سنبھال نہیں پائیں گی۔ اس خواہش کی وجہ سے اُن کے لیے ایسے اسکول کا انتخاب کیا تھا جہاں حفظ کا اہتمام تھا اور ساتھ میں تھوڑا سا ماحول بھی نظر آیالیکن اطمینان نہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔
ج: والدین پر اولاد کا یہ حق ہے کہ وہ ان کی صحیح اسلامی تربیت کریں کیونکہ حدیث کی روشنی میں وہ اولاد پر راعی بنائے گئے ہیں اور انھیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا۔ اس لیے بچیوں کی صحیح اسلامی تربیت آپ پر اور آپ کے شوہر پر فرض ہے۔ یہ بات بے بنیاد ہے کہ لڑکیاں قرآن کریم کے حفظ کا حق صحیح ادا نہیں کرسکتیں۔ قرآن وسنت کی تمام تعلیمات بغیر کسی جنسی تفریق کے مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ اہتمام ضرور کریں کہ کسی ایسی قاریہ سے حفظ کرائیں جو اپنے طرزِعمل سے انھیں قرآن کے قریب لاسکے‘ کیونکہ بعض معلمین اپنے طرزِعمل کی وجہ سے بچوں کو قرآن کے مطلوبہ طرزِعمل سے دُور کردیتے ہیں۔(ا-ا)
نزولِ قرآن کے بعد کوئی صدی ایسی نہیں گزری جس میں قرآن کے اعجاز بیان کے موضوع پر علمی مباحث کی گرم بازاری نہ رہی ہو۔زیرنظر کتاب عالمِ اسلام کی ایک محقق استاذہ ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن کی عربی تالیف الاعجاز البیانی للقرآن الکریم کا اُردو ترجمہ ہے۔مصنفہ متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمی ناروں میں قرآنی موضوعات پر مقالات پیش کرچکی ہیں اور ان کے زیرنگرانی متعدد پی ایچ ڈی اسکالر قرآنی موضوعات پر ریسرچ کرچکے ہیں۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ منکرین‘ قرآن کے ہر چیلنج کے سامنے عاجز آگئے۔ وہ عرب قوم جو اپنی فصاحت و بلاغت اور خطابت و زبان آوری پر فخر کرتی تھی‘ اس کے شاعر و خطیب اس قرآن کی معجزبیانی کے سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے۔ آخر وہ قرآن کی مثل ایک سورت بھی لاسکنے سے کیوں عاجز رہے؟ جب کہ عربی ان کی مادری زبان تھی اور وہ زبان و بیان پر پوری طرح قادر تھے‘ اس سوال کا جواب مصنفہ نے کتاب میں دینے کی بڑی اچھی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک اہلِ عرب نے قرآن کے اعجاز بیان کا ادراک کرلیا تھا جس نے انھیں کسی بھی ایسی کوشش سے مایوس کردیا کہ وہ قرآن کے کسی بھی لفظ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ لاسکیں یا کسی آیت کو دوسرے انداز میں پیش کرسکیں۔ (ص ۱۵)
قرآن کا اعجاز کیا تھا؟ اس سوال کا احاطہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے دلائل اور تذکروں سے تاریخ ادب کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ کتاب کے مقدمے میں مصنفہ نے بڑی عرق ریزی سے علماے سلف کی عبارات کے حوالے سے یہ دل چسپ حقیقت بیان کی ہے کہ ہرزمانے کے محققین نے یہ دعویٰ کیا کہ اعجاز قرآن پر جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں‘ وہ حرف آخر ہے۔ حافظ ابن قتیبہ سے ابوبکرالسجستانی تک‘ رمّانی و قاضی عبدالجبار سے باقلانی تک‘ یحییٰ علوی وابن رشد سے ابن سراقہ و برہان الدین بقاعی تک‘ جرجانی سے رافعی تک‘ انھی دعووں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ لیکن ایک صدی بھی نہ گزر پاتی تھی کہ ان کے دعوے پر خط تنسیخ کھینچنے والا نیا دعوے دار اُٹھ کھڑا ہوتا اور قرآن کے اعجازِ بیان کو اپنی عقل و فکر کی محدودیتوں کا پابند کرنے کی کوشش کرتا حالانکہ قرآن کا اعجازبیان ان کی قائم کردہ حدبندیوں سے بالاتر تھا۔
اعجاز اور تحدی (چیلنج) میں فرق کیاہے؟ اس پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ ماہرین بلاغت کی عبارات و اقتباسات کے ذریعے اعجاز قرآن کی بابت ان کا نظریہ بیان کیا ہے۔ مصنفہ نے اپنی تحقیقات کو تین فصول ’’اعجاز قرآن (۱) حروف میں (۲) الفاظ میں (۳) اسالیب میں‘‘ تقسیم کرکے ہر ایک کی وضاحت کے لیے آیات و سورتوں سے مثالیں دی ہیں اور یہ ثابت کرنے کی بہترین کوشش کی ہے کہ قرآن کا ہر لفظ‘ ہر حرف اور ہر اسلوب اپنی جگہ بھرپور بلاغت رکھتا ہے اور یہی اعجازِ قرآن ہے۔ کسی بھی قرآنی لفظ کے معانی کا تعین یا حرف کی وضاحت ’’تفسیر القرآن بالقرآن‘‘ کے اصول پر کی گئی ہے۔ کتاب اپنے موضوع کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔ موضوع کے اعتبار سے ثقیل ہونے کے باوجود مترجم نے جملوں کو بوجھل نہیں ہونے دیا۔ ترجمہ سلیس اور رواں ہے۔ (ڈاکٹر اختر حسین عزمی)
قائداعظم محمدعلی جناح کو اپنی زندگی میں متحدہ ہندی قومیت کے علَم برداروں کی تنقید کا سامنا تھا‘اور انتقال کے بعد پاکستان کے کانگرسی عناصر اور بالخصوص ’روشن خیال اور ماڈریٹ‘ دانش وروں کی مخالفت بلکہ کردار کشی کی مہم کا نشانہ بننا پڑا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دوسری قسم کے لکھنے والوں کے جارحانہ رویے میں وسعت آئی‘ جب کہ قائداعظم کے بارے میں حقیقت پسندی اور ہمدردی سے لکھنے والے اہلِ قلم میں ویسا عزم اور ویسی قوت سے نظر نہیں آتی۔ اس فضا میں پاکستان کے معروف صحافی اور دانش ور شریف فاروق کی زیرنظر کتاب متعدد حوالوں سے ایک گراں قدر کاوش ہے۔
مؤلف نے قائداعظم پر ولی خاں کی الزام تراشی کا مسکت جواب دیا ہے (ص ۲۳‘ ۲۸۵)۔ انھوں نے بجاطور پر یہ گلہ کیا ہے کہ: ’’پاکستانی مصنفین نے قائداعظم کے برطانوی سامراج کے خلاف انقلابی رول [کو نمایاں کرنے] کی طرف کوئی توجہ نہیں دی‘‘ (ص ۲۰۵)‘جب کہ اس کتاب میں اس موضوع پر بہت سے چشم کشا حوالے درج ہیں۔ بھارتی اسکالر ڈاکٹر اجیت جاوید کی کتاب سے اس ضمن میں نہایت دل چسپ حقائق پیش کیے ہیں (ص ۳۳۹-۳۷۹)۔ قائداعظم کی اسلامی یا سیکولر سوچ کے موضوع پر بڑی سیرحاصل بحث پیش کی گئی ہے۔ اسی طرح سٹینلے ولپرٹ کی جانب سے قائد کی سوانح پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے۔
اسلوبِ بیان کسی خشک تحقیقی کتاب کا سا نہیں ہے‘ بلکہ صحافتی اسلوبِ نگارش میں تحقیقی حقائق کو عام فہم انداز میں ’جوشِ پاکستانی‘ (بروزن جوشِ ایمانی) کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ پروفیسر پریشان خٹک‘ شریف الدین پیرزادہ اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی تقاریظ نے کتاب کے داخلی حسن کو نمایاں کیا ہے۔ کتاب مختلف اوقات میں مذکورہ بالا موضوع پر لکھے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے۔ ہماری نئی نسل کو اس طرح کی کتابیں پڑھنا چاہییں۔ (سلیم منصور خالد)
یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ مذہب و سیاست کی حدود کیا ہیں؟ کیا انھیں ایک دوسرے کے ساتھ متحرک ہونا چاہیے یا دونوں کے اہداف و دائرہ کار مختلف ہیں‘ اس لیے ایک کو دوسرے کے امور میں دخل نہ دینا چاہیے۔ جدید تہذیب کی تو بنیاد ہی یہ ہے کہ مذہب کو کاروبارِ زندگی سے بالکل الگ تھلگ رکھنا چاہیے۔ اس موضوع پر بحث جاری ہے۔
انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی‘کوالالمپور‘ ملایشیا میں شعبہ اقتصادیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد عارف ذکاء اللہ کی کتاب Religion and Politics in America: The Rise of Christian Evangaelists and Their Impact فروری ۲۰۰۷ء میں منظرعام پر آئی ہے۔ کتاب کا بنیادی خیال امریکا میں مذہب اور سیاست کا باہمی تعامل اور اس کی جہات کا تعین ہے۔ اس کتاب میں مسیحی ایوینجیلیکل (بنیاد پرست) مذہب کے تاریخی پس منظر اور نشوونما کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مصنف نے دلائل اوراعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں لیکن اس تحقیق کا مقصد کسی ملک یا اس کے عوام کو موردالزام ٹھیرانا نہیں ہے بلکہ بین التہذیبی مکالمے کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔
کتاب کا آغاز مسلم دنیا اور امریکا کے درمیان پائے جانے والے موجودہ حالات کے جائزے سے کیا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ۲۰ویں صدی کے پہلے ۱۰برسوں میں دونوں اطراف کے انتہاپسندوں نے کچھ ایسے اقدامات کیے جن کی بدولت غلط فہمی اور بداعتمادی کی خلیج زیادہ گہری ہوگئی۔ مغربی ممالک اور عالمِ اسلام دونوں کی اکثریت امن سے محبت کرنے والی ہے۔ مغرب کے شاطروں نے تہذیبی کش مکش اور اسلامی فوبیا جیسے نظریات پیش کرکے سارا الزام مسلمانوں اور اسلام کے سرمنڈھ دیا ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا کا یہ عالم ہے کہ مسائل کے حل کے لیے جو ماڈل پیش کیے گئے ہیں ان سب میں ہر الزام مغرب پر جاتا ہے یا اسرائیل پر۔ مصنف کا خیال ہے کہ ایک مختلف اپروچ کی شدید ضرورت ہے۔
مسلم دنیا کو اس بات کی قدر کرنا چاہیے کہ مغربی معاشروں میں عوامی راے کو غیرمعمولی قدروقیمت حاصل ہے۔ وہاں صدر‘ وزیراعظم اور کابینہ کی خواہشات کو راے عامہ پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ کتاب میں امریکا میں مسیحیت کے پس منظر کو بیان کیا گیا ہے۔ ذکاء اللہ نے ان اقتصادی و معاشرتی اسباب کا جائزہ بھی لیا ہے جن کی بدولت امریکی معاشرہ ’موجودہ مسیحی بنیاد پرستی‘ کی طرف راغب ہوا اور قدامت پسند اقلیت بن گئے۔یہ ’بنیاد پرست مسیحیت‘ فکری، تعلیمی اور تنظیمی میدانوںمیں سرگرم ہوگئی۔ اس کا زیادہ انحصار ذرائع ابلاغ پر رہا‘ تاہم اس نے ’سیاست میں عدم شرکت‘ کی پالیسی پر بھرپور عمل کیا‘یہاں تک کہ ۱۹۷۶ء کے صدارتی انتخابات نے مسیحی بنیاد پرستی کا راستہ ہموار کیا اور اسے سیاسی قوت کا راستہ مل گیا۔
آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے تعلیمی و فکری حلقوں میں نئی تہذیبی اپروچ اور بیداری کی ضرورت ہے۔ مسلمان دانش وروں‘ ذرائع ابلاغ اور پالیسی سازوں کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنا چاہیے کہ مغرب میں معاشرہ کس طرح کام کرتا ہے۔ انھیں مغرب کی راے عامہ سے تعمیری انداز میں معاملہ کرنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں تہذیبوں کے درمیان ایک حقیقی‘ بامعنی اور بین التہذیبی مکالمے کا آغازہوسکتا ہے۔ اس کے ذریعے کئی مسائل کے حل کے لیے پرامن اور باہمی طور پر فائدہ مند فضا پیدا ہوسکتی ہے۔ کتاب کا عربی میں ترجمہ بھی دستیاب ہے۔ (محمد ایوب منیر)
محمودعالم (م: ۲۴ مارچ ۲۰۰۷ء) ایک حساس دل کے مالک تھے۔ ان کے زیرنظر مجموعے میں شامل ۱۶کہانیوں کے موضوعات بالکل منفرد ہیں۔ ادگھڑ‘ خواجہ سراڈائسٹی‘ تماشا میرے آگے‘ اب کوئی گلشن نہ اُجڑے‘ صاحب کا کتا‘ برمردار‘ ایک دوست کا مرثیہ‘ سونامی اور اصیل مرغ۔ بعض افسانوں میں کہانی پن تو بہت کم ہے لیکن احساسات و جذبات کا ایک سیلِ رواں ہے۔ ان کے ہاں اُمت مسلمہ کی حالتِ زار اور اس کی وجوہ کی بنیادیں تلاش کرنے کی کامیاب کوشش دکھائی دیتی ہے۔ سپرطاقتوں کے ہاتھ میں بنے کٹھ پتلی مسلم حکمرانوں نے ذاتی مفادات کی خاطر کس طرح وحدت ملّی کو پارہ پارہ کردیا‘ اپنے پرائے کی پہچان ختم ہوگئی اور یہود و نصاریٰ کے اشاروں پر اپنے ہی بھائی بندوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
محمودعالم کی ان کہانیوں میں قرآن و حدیث کے حوالے بکثرت ملتے ہیں۔’انوکھا تجربہ‘ میں اخلاق کی تبلیغ خاص طور پر بوڑھوں کے ساتھ برتائو کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خدا کے ہاں اس عمل کا کیا درجہ ہے۔ ’خوشبو‘ اور ’طائران حرم‘ میں سچے اور پاک جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔ ’دیدۂ تر‘ ایک معصوم خوب صورت لڑکی کی کہانی ہے جو محبت کے پاکیزہ جذبات رکھتی ہے اور فطرت کی طرح نہایت ہی سادہ و معصوم اور مادیت پرستی سے بے گانہ ہے۔ ’سفید جھوٹ‘ اور ایک ’دل ناصبور‘ میں بھی محبت کے پاکیزہ جذبات کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی کہانی ’پشیمانی‘ کے نام سے ہے جو اگرچہ بچوں کے لیے ہے لیکن اس میں ایک بھائی کی محبت کا قصہ ہے خاص طور پر جب انسان کسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے تو عمربھر اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔
محمودعالم کی یہ کہانیاں تصنع اور بناوٹ سے پاک ہیں‘ بلکہ ایک ایسے شخص کی آواز ہیں جو اپنے گھر کو جلتا ہوا دیکھتا ہے اور بے اختیار چلّاتا ہے۔چلّانے کے اس عمل میں اگرچہ فنی تقاضوں کا خیال رکھنا مشکل ہوتا ہے لیکن اس کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ ’ازدل خیز دبر دل ریزد‘ یعنی دل سے یہ جذبات اُٹھتے ہیں اور دل پر اثر کرتے ہیں۔(محمد ایوب لِلّٰہ)
ماہ نامہ بتول گذشتہ ۶۰ سال سے شائع ہو رہا ہے۔ ’اشاعتِ خاص‘ بتول کی روایت رہی ہے۔ زیرنظر ’افسانہ نمبر‘ اسی کا تسلسل ہے۔ اس میں افسانوں اور کہانیوں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ادب کی ماہیت و مقاصد اور اسلامی ادب کی بنیادی اقدار کی وضاحت پر سیدامجدالطاف‘ عمادالدین صدیقی اور ماہرالقادری کے خاص مضامین‘ بتول کی قلم کاروں کے بارے میں فرزانہ چیمہ کا سروے‘ شاہدہ ناز قاضی سے ایک ملاقات‘ سلمیٰ اعوان کے سفرِاستنبول کی ایک جھلک‘طویل اور مختصر افسانے۔ کلاسیکی ادب سے پریم چند کا معروف اضافہ ’حج اکبر‘ اور امریکی افسانہ نگار کیٹ چوپن کا شاہ کار افسانہ ’پچھتاوا‘ جسے خاص نمبر کی بہترین تحریر کہا جاسکتاہے۔
بتولکے نئے پرانے لکھنے والوں کے یہ افسانے‘ اس خاص ذوق اور ذائقے کے آئینہ دار ہیں جو بتولکا نصب العین اور اس کی پہچان ہیں‘ یعنی حسنِ معاشرت کا وہ اسلوب اور وہ طریقہ جس میں حضرت فاطمۃ الزہراؓ ، اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان افسانوں میں ایک پاکیزہ اور صالح زندگی کے نمونے ملتے ہیں اور یوں یہ افسانے ایک مثبت اور تعمیری فکر کی نمایندگی کرتے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)
اشاعت خاص حسن البنا کا دوسرا حصہ جیسا کہ اعلان کیا گیا ہے کتاب ہوگی۔ اشاعت کے بارے میں آیندہ شمارے میں اطلاع ملاحظہ فرمایئے۔ (ادارہ)
امام حسن البنا شہیدنمبر میں ماشاء اللہ کافی اچھے مضامین ہیں‘ خاص طور پر وہ انٹرویو جو عبدالغفار عزیز صاحب نے لیے ‘ اور ان میں بھی عبدالمعز عبدالستار سے انٹرویو بہت معلومات آفریں ہے۔ شمارے میں تین باتوں کی کمی محسوس ہوئی‘ ایک تو ضروری تھا کہ ایک خاص صفحے پر شہید امام کا سوانحی خاکہ دیا جاتا‘ بچپن سے شہادت تک کے واقعات سال بہ سال۔ دوسرے یہ کہ ان پر لکھی جانے والی تصنیفات ایک مضمون میں جمع کر دی جاتیں‘ خاص طور پر جو عربی‘ اُردو اور انگریزی میں خاص ہیں۔ تیسرے یہ کہ عالمِ عرب میں‘ شہید اور ان کی تحریک کے اثرات‘ جو آپ سے پوشیدہ نہیں ہیں ان کا تذکرہ کیا جاتا۔ ڈاکٹر انیس احمد صاحب کے مضمون میں پروفیسر کینٹ ویل اسمتھ کا ایک اقتباس اس کی کتاب Islam in Modern History سے دیا گیا ہے‘ جس میں اخوان کی یک گونہ تعریف ہے۔ لیکن اسی مصنف نے اپنی اسی کتاب میں سید قطب اور مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے خلاف بہت زہر اگلا ہے۔ پروفیسر اسمتھ نے میک گل یونی ورسٹی‘ کینیڈا کے ادارہ تحقیقات اسلامی سے وظائف دلوا کر متعدد پاکستانیوں کو وہاں تعلیم و تحقیق کے لیے بلایا‘ جن میں سے متعدد ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ کی تصویر ثابت ہوئے ہیں۔[ترجمان: ڈاکٹر صاحب کی بیان کردہ پہلی دونوں چیزیں‘ آنے والے مجموعہ مضامین کے خاکے میں شامل ہیں‘ البتہ تیسرے نکتے پر کوئی جامع تحریر حاصل نہیں کرسکے۔]
اشاعتِ خاص خوب صورت ‘ دل آویز اور مؤثر تحریروں پر مشتمل ہے۔ بیش تر قدیم تحریریں‘ جن کے ترجمے شاملِ اشاعت ہیں پہلی مرتبہ نظر سے گزری ہیں۔ جہاں تک یہ کہا گیا ہے کہ: ’’یہ [تحریریں] ابھی تک اُردو میں شائع نہیں ہوئیں‘‘ (ص ۴) عرض ہے کہ ان میں سے ’قرآن کی تفسیر کا اسلوب‘ (ص ۲۰۹) اور’اُمت کا معمار (ص ۸۵) بالترتیب سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی علی گڑھ جنوری ۱۹۹۰ء میں اور مکتبہ اسلامی دہلی ۱۹۹۶ء سے شائع ہوچکی ہیں۔ترجمے کی سعادت راقم کو حاصل ہوئی۔ ایک جگہ طٰہ حسین کی بے دینی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ’’لوگوں نے بجاطور پر گرفت کی‘اور وہ بعدازاں یہ کہنے پر مجبور ہوئے: لیکن میں قرآن مجید پر ایمان رکھنے کے باعث دونوں [ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام] کے تاریخی وجود کا اقرارکرتا ہوں‘‘ (ص ۲۲۲)۔ یہ بات درست نہیں ہے‘ انھوں نے اپنی بات سے رجوع نہیں کیا تھا‘ دیکھیے: فی الادب الجاہلی۔پروف کی چند دیگر غلطیوں کے باوجود ترجمان کی اشاعتِ خاص کی اہمیت مسلّم ہے۔ اتنا معیاری‘ خوب صورت اور وقیع نمبر شائع کرنے پر ‘ پُرخلوص مبارک باد قبول فرمائیں۔
خصوصی شمارہ پڑھ کر دل میں جذبہ اور تڑپ پیدا ہوئی۔ اس طرح کی دستاویزات کے مطالعے سے اسلام سے عقیدت اور تحریک کی خدمت کا جذبہ سِوا ہوجاتا ہے۔ پروفیسر خورشیداحمد کے دل کش اور معلومات افزا مضمون نے گویا کہ رسالے میں جان ڈال دی ہے۔ میاں طفیل محمدصاحب کے پُرسوز انٹرویو نے دل کو موم کردیا۔ حسن البنا اور قائداعظم کے خطوط پر مشتمل مضمون سے حسن البنا کی پاکستان سے محبت اور عالمِ اسلام کے تعلق کا لازوال پہلو اُبھر کر سامنے آیا۔ ہمارے مرشدین اور قائدین کس طرح زمینی فاصلوں کی دُوری کو ایمان کی تڑپ سے اتنا قریب کردیتے تھے کہ مصر میں بیٹھا فرد پاکستان کے بارے میں اس طرح سوچتا نظر آتا ہے جیسے وہ یہاں پر سب کچھ دیکھ کراپنے جذبات بیان کر رہا ہے۔ افسوس کہ مشکل اور مصیبت کے لمحات میں پاکستانی حکام نے اخوان کی مدد کے لیے کچھ نہ کیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ شمارہ پاکستان کے ہرکالج‘ اسکول اور یونی ورسٹی کو بھیجا جاسکے۔[ترجمان: کیوں نہیں‘ کوئی صاحب ِ دل (و جیب )اسپانسر کرے۔]
سرورق اخوان المسلمون کی دعوت کا خلاصہ ہے۔ سلیم منصورخالد نے جس سلیقے سے‘ بانیِ اخوان اور بانیِ پاکستان کی ملاقات‘ ان کے باہمی تعلقات‘ مسلمانانِ ہندوپاک سے اخوان اور بانیِ اخوان کے خالص اخوتِ اسلام پر مبنی تعلقات جن کی کڑیاں تقسیم کے جان لیوا اور خون چکاں فسادات اور حیدرآباد دکن پر فوج کشی سے جاملتی ہیں‘ پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں وثائق کو برسرِعام لائے ہیں‘ وہ بجاے خود تاریخ کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں طرف کے سیکولر ذہن کے علَم برداروں نے کس طرح اس اُمت کو بحرانوں کا شکار کیا ہے۔ ان سازشوں کا سلسلہ آج بھی ہر جگہ جاری ہے۔ دیگر مقالات ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ علامہ یوسف القرضاوی کی تحریر کا نہ ہونا باعثِ حیرت ہے۔ سیف الاسلام حسن البنا نے اگرچہ نادر وثائق فراہم کرکے ایک بڑی خدمت انجام دی‘ تاہم ان کی تحریر کی کمی محسوس ہوئی۔
حسن البنا شہید نمبر کے جن مضامین نے بالخصوص متاثر کیا‘ اور حسن البنا کی شخصیت سے آگاہی ملی ہے‘ ان میں احمد عبدالرحمن‘ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی‘ ڈاکٹر رضوان علی ندوی‘ میاں طفیل محمد‘ جنرل عزیز مصری‘ عبدالحلیم وشاحی اور ڈاکٹر صلاح الدین شامل ہیں‘ جزاکم اللّٰہ!
حسن البنا شہید نمبر ہراعتبار سے شان دار‘ پُروقار ‘ مکمل اور وقیع دستاویز ہے۔ ہرمضمون دل چسپ‘ توجہ کھینچنے والا اور اس عظیم شخصیت سے آگاہ کرنے والا ہے۔ ’حسن البنا اور قائداعظم‘ خاصا معلوماتی مضمون ہے۔ میری طرح اکثر پاکستانیوں کو بھی اس سے قبل یہ معلوم نہیں تھا کہ امام شہید کی قائداعظم مرحوم سے کبھی کوئی ملاقات بھی ہوئی تھی۔ امام شہیدکے قلم سے سورہ الحجرات کی تفسیر پڑھ کر روحانی مسرت ہوئی۔
اشاعتِ خاص کی خصوصی کاوش پر ہدیہ تبریک پیش خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو امام شہید کی طرح زندگی کا ایک ایک لمحہ‘ دین اسلام کی خدمات اور اس کی سربلندی کے لیے وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جناب میاں طفیل محمد کا انٹرویو بہت پُراثر اور ایک اعلیٰ کردار اور وسیع الظرف شخصیت کا مظہر ہے۔
ایمان اور دین اسلام سے وابستگی کے جذبوں سے لبریز اور معلومات و دل چسپی سے بھرپور ترجمان کی اشاعتِ خاص کواوّل سے آخر تک میں نے اس انہماک سے پڑھا کہ جب آخری صفحے پر پہنچا تو اس دعوت‘ اس تحریک اور اس شخصیت کے بارے میں پڑھنے کی پیاس اور زیادہ بڑھ گئی۔ کیا آپ کے بس میں یہ ہے کہ اس کا دوسرا حصہ جلد از جلد لائیں‘ اور اس سے زیادہ اہم یہ بات کہ اشاعتِ خاص تحریک کے ہرکارکن تک پہنچ جائے‘ اور اس سے بھی زیادہ اہم تر یہ امر کہ کارکن اس کو پڑھ بھی لیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دستاویز‘ کارکنوں کو ایک نئی قوت اور ایمان کی نہ ختم ہونے والی لذت دے سکتی ہے۔
اشاعتِ خاص حسن البنا بہت سے قیمتی ہیروں سے آراستہ دستاویز ہے‘ جنھوں نے اخوان المسلمون کی تاریخ اور داخلی خوبیوں کو آشکارا کیا ہے۔ ان تحریروں میں خصوصی دل چسپی کا حامل وہ حصہ ہے‘ جس میں حسن البنا کے محمدعلی جناح کے نام خطوط ہیں‘ اور ان دونوں عظیم شخصیتوں کی ملاقات کا تذکرہ ہے‘ جب کہ سب سے زیادہ حیرت زدہ کردینے والی وہ تصویر ہے‘ جس میں حسن البنا کی جانب سے جناح مرحوم کو پیش کیا جانے کا نسخہ قرآن ہے اور جو آج بھی قائداعظم کے مزار کے گوشہ نوادرات میں موجود ہے۔
اشاعتِ خاص بلاشبہہ ایک اہم تاریخی دستاویز ہے۔اگر فکری سطح پر دیکھیں تو سیدمودودی‘ حسن البنا اور علامہ اقبال ایک ہی فکری دھارے کی عظیم شخصیات ہیں۔ اس لیے مستقبل قریب میں علامہ اقبال پر ایک اشاعتِ خاص کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔
اشاعت ِ خاص کے مطالعے سے معلومات میں وہ گراں قدر اضافہ ہوا جو شاید بہت سے متفرق لوازمے یا کتب کے مطالعے سے حاصل نہ ہوپاتا۔ شرق اوسط میں شہید حسن البنا اور برعظیم پاک و ہند میں مولانا سیدابوالاعلیٰ کی کاوش و جدوجہد بلاشبہہ بڑی عزیمت کی مثالیں ہیں‘ لیکن اس دوران میں ایران میں آیت اللہ روح اللہ خمینی مرحوم کی قیادت میں‘ وہاں کے عوام نے طاغوت کی غلامی سے نجات پاکر اسلامی جمہوریہ قائم کی۔ وہاں پر لادینی اور مغربی سامراج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اس تجربے کا بھی مطالعہ پیش کیا جانا چاہیے۔
یہ ایک جامع اشاعت ہے جس میں معلومات افزا اور امام حسن البنا کی حیات و خدمات کے متنوع گوشوں کی وضاحت پر مبنی مقالات شامل ہیں۔ امام البنا کے قائداعظم کے نام خطوط‘ ان کی مسلمانوں سے محبت‘ اوردردمند دل کا ثبوت ہیں۔ اس اشاعتِ خاص سے مسلمانانِ عالم میں باہمی تعلق اور فکری آگہی کی ترقی ہوگی۔ رسالہ دوچار بار کھولنے سے ہی اوراق علیحدہ ہوکر باہرآجاتے ہیں‘ افسوس کہ اتنی قیمتی اشاعت کی جلدبندی ناقص ہے۔
’علامہ اقبال کی وابستگیِ رسولؐ: چند پہلو‘ (اپریل ۲۰۰۷ء) سے ایک طرف تو اقبال کے حبِ رسولؐ سے بے قرار دل کے احوال کا علم ہوتا ہے اور کلامِ اقبال کے بعض نکات کی وضاحت ہوتی ہے‘ دوسری طرف قاری کے دل میں عشقِ رسولؐ کی شمع جگمگا اُٹھتی ہے۔
’کون مہذب ہے؟ کون غیرمہذب؟‘ (اپریل ۲۰۰۷ء) ’وُون رِڈلے‘ کی تحریر ہے۔ ان کے نام کا صحیح تلفظ اِی وان رِڈلے ہے۔یہ خاتون برطانیہ میں ایک ٹی وی چینل (اسلام چینل) میں کمپیئرنگ بھی کرتی ہیں۔ ان کے نام کا تلفظ سب لوگوں سے وہاں ’اِی وان‘ ہی سنا ہے۔
’قائداعظم اور سیکولرزم‘ (مارچ ۲۰۰۷ء) میں اگر قائداعظم کی ۱۱؍اگست کی تقریر کے متنازع حصے کو بہ مقابلہ ان حصوں کے جو غلط نقل کیے گئے ہیں یا کیے جاتے ہیں‘نقل کردیا جاتا تو قاری کے لیے اس بددیانتی کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی‘ اور یہ breaking news ہوتی۔
مولانا مودودیؒ کا لٹریچر جیلوں کی مسجدوں سے اٹھایا جا رہا ہے۔ سرعام مولانا کو ’منحرف‘ (deviant) کہا جا رہا ہے۔ تکفیر کے فتوے انگلش میں چھاپے جارہے ہیں۔ سیدقطب‘ حسن البنا‘ مولانا اشرف تھانوی کو بھی حقارت آمیز لہجے میں یاد کیا جارہا ہے۔امام مسجد بھی بدل گیا ہے۔ مسجد میں سے سب کتابیں اٹھا لی گئی ہیں۔ بہت پریشان ہوں۔ اپنی کم علمی پر شدیدرونا آتا ہے۔ میرے لیے بہت ساری دعا فرمائیں۔
حیرت ہے کہ آپ سوشلزم‘ کمیونزم‘ نازی ازم اور فاشزم اور دنیا کی ہرتحریک کا کھلے دل سے مطالعہ کرتے اور اس کے حسن و قبح کی بنا پر اس پر غور کرتے ہیں لیکن اسلام کے معاملے میں تعصب کی عینک چڑھا لیتے ہیں‘ اور یہ صرف اس لیے کہ جن لوگوں سے آپ کی ایک مدت سے سیاسی کش مکش ہے وہ اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ’اسلام‘ خدا کا دین ہے اور اس کے بندوں کے لیے اسی طرح نعمت ہے جس طرح اس کی ہوا‘ پانی‘ اناج‘ پھل پھول‘ بارش اور خدا کی پیدا کردہ زمین و آسمان کی باقی ساری چیزیں۔ جب آپ ان نعمتوں کے استعمال سے اس لیے ہاتھ نہیں کھینچتے کہ مسلمان بھی ان کو استعمال کرتے ہیں تو آخر اس نعمت سے محض مسلمانوں کی ضد میں کیوں بھاگتے ہیں۔
میرے عزیز بھائیو! یہ شیطان کا بہت بڑا فریب ہے۔ وہ انسان کو حق سے روکنے کے لیے مختلف قسم کی رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ آپ اس کے اس فریب میں مبتلا ہوکر اپنی دنیا اور آخرت خراب کررہے ہیں۔ ہم خدا کے دین کو آپ کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے جو ہمارے اور آپ کے رب نے ہمارے ذمے لگایا ہے۔ خدا نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ نیکی اور بھلائی کی ہربات جو انھیں معلوم ہو‘ اسے اپنے دوسرے بھائیوں تک پہنچائیں تاکہ وہ بھی ان سے مستفید ہوں اور دنیا سے برائی ختم ہو۔ جب مرنے کے بعد آپ خدا کے روبرو پیش ہوںگے تو آپ سے پوچھا جائے گا کہ میرے کچھ بندوں نے میرا دین آپ کے روبرو پیش کیا‘ آپ کو اس پر غور کرنے کی دعوت دی‘ لیکن آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔ فرمایئے اس کا آپ کیا جواب دیں گے؟ یہ دن آنے والا ہے اور اس کے آنے میں قلب کی ایک حرکت کے سوا کوئی شے حائل نہیں۔(روداد اجتماع عام حلقہ جنوبی ہند، مدراس، میاں طفیل محمد، ترجمان القرآن‘ جلد ۳۱‘ عدد ۱‘ رجب ۱۳۶۶ھ‘ جون ۱۹۴۷ء‘ ص ۹)