مضامین کی فہرست


ستمبر۲۰۰۷

بلوغت اور معاشرتی مسائل

سوال: ہمارے معاشرے میں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ بلوغت کے بعد بیٹے کی معاشی کفالت والد کے ذمے نہیں‘ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ جب اولاد بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کردیا جائے‘ نیز جس میں نکاح کی استطاعت نہ ہو‘ وہ روزے رکھے۔ اس ضمن میں چند پہلو وضاحت طلب ہیں۔

معاشی کفالت کے حوالے سے شریعت کا کیا حکم ہے؟ہمارے معاشرے میں والد ۲۵‘۳۰ سال کی عمرتک اولادکابوجھ اٹھاتا ہے اور اس کا مقصد سواے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ اولاد تعلیم یافتہ ہوکر اچھا روزگار حاصل کرلے اور بقیہ خاندان کو معاشی تحفظ فراہم کرے۔ کیا یہ روش غلط ہے؟ اس ضمن میںجو فرد اولاد میں سب سے بڑا ہوتا ہے‘ وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ اس پر یہ دبائو ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اچھے عہدے پر فائز ہو‘ اور اس کے نکاح پر بھی توجہ نہیں دی جاتی اور یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ اس کی تعلیم مکمل ہوجائے پھر نکاح کیا جائے۔ کیا تعلیم حقیقتاً گھر بسانے کی راہ میں رکاوٹ ہے اورشادی کے بعد تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے؟

بلوغت پر نکاح سے کتنی عمر مراد ہے؟ پاکستان میں لڑکے/لڑکی کی بلوغت کی عمر بالترتیب ۱۲ تا ۱۴ سال اور ۱۱ سے ۱۳ سال ہے۔ اگر اس سے مرادیہی عمر ہے تو ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اس عمر میں شادی کے بعد فرد اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کرسکے۔ اگر نکاح کے لیے استطاعت سے مراد معاشی استطاعت ہے تواس کی کوئی حد شریعت میں موجود ہے؟

یہاں وہ حدیث بھی پیش نظر رہے جس میں حضوؐر نے معاشی تنگی پر ایک سے زائد شادی کی ہدایت کی تھی۔ آج ہمارے معاشرے میں میڈیا کے ذریعے فحاشی و عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ جگہ جگہ گناہ کے مواقع موجود ہیں۔ ان حالات میں نفس کو دبانے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ ایک صورت روزہ رکھنا ہے۔ اگر طالب علموں اور ملازمت پیشہ افراد کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہ ہو تو کیا کریں‘ اور روزہ تو دن میں ہوتا ہے‘ رات کو کیاکرناچاہیے؟ایک جوان آدمی جو معاشرتی روایات کے باعث نکاح نہیں کرسکتا‘ وہ اگر ان مخصوص حالات میں صوتی یا بصری طریقوں (موسیقی یا فلم)سے کبھی کبھار خواہش کی تکمیل کرلیتا ہو اور اس طرح ایک بڑے گناہ سے بچ جاتا ہو اور دل میں یہ احساس بھی موجود ہو کہ وہ غلط کر رہا ہے تو کیا اس صورت میں وہ گناہ کا مرتکب ہوگا؟

جواب: آپ نے اپنے خط میں تین اہم معاشرتی مسائل کی طرف متوجہ کیا ہے۔ پہلا مسئلہ والدین پر اولاد کے حقوق سے متعلق ہے۔ قرآن کریم نے والدین اور اعزہ کے جو حقوق متعین کردیے ہیں وہ بالکل واضح ہیں۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ ’’اپنے والدین پر خرچ کرو اور    ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا‘‘(الاحقاف ۴۶:۱۵)۔ اسی طرح سورۂ بنی اسرائیل میں اعلیٰ سلوک و احترام کا حکم دیا گیا(۱۷:۲۳-۲۴)۔ پوری دنیا کی مساجد میں ہرصلوٰۃ الجمعہ میں خطیب قرآن کریم کی سورۂ نحل کی آیت نمبر۹۰ بطور جزوِ خطبہ تلاوت کرتا ہے جس کا مفہوم ہے: اللہ تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ وغیرہ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ سورۂ نور میں رشتہ داروں کو ان کا حق نہ دینے سے روکاگیا ہے (النور ۲۴:۲۲)۔ قرآن وسنت میں موجود عمومی اور خصوصی ہدایات پر غور کیا جائے تو جس طرح اولاد پر والدین کے حقوق ہیں‘ اسی طرح والدین پر بھی اولاد کے حقوق ہیں جن میں ان کی اسلامی تربیت‘ غذا‘ لباس‘ مکان اور دیگر ضروریات کی فراہمی شامل ہے۔

بلاشبہہ عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ بلوغ طبعی کے بعد ایک اولاد اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے اور اولاد کو اس کی حاجت نہ رہے توپھر والد کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ اگر والد ضرورت کی صورت میں یا بلاضرورت بآسانی اپنی اولاد پر بلوغ کے بعد ان کی تعلیم یا دیگر ضروریات پر خرچ کرتا ہے تو شریعت اس کی تحسین کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اولاد بلوغ تک پہنچنے پر اس قابل ہوجاتی ہے کہ اپنے پائوں پر کھڑی ہوسکے اور نہ صرف اپنے اخراجات بلکہ والدین پر بھی خرچ کرسکے تو یہ اس کے لیے سعادت ہے۔

اسلامی معاشرت میں خاندان ایک سرمایہ دارانہ معاشی یونٹ نہیں ہے بلکہ وسائل‘ احساسات‘ حقوق و فرائض اور احسان کی یک جائی پر مبنی ایک ادارہ ہے۔اولاد کی پرورش کا بنیادی مقصدمعاشی کارکن پیدا کرنا نہیں بلکہ انھیں معاشرے کے لیے فعال‘ متقی‘ مومن اور متحرک کارکن بنانا ہے۔ صلۂ رحمی کا مطلب محض معاشی ضروریات پورا کرنانہیں بلکہ فکر‘ تعلق‘ محبت‘ رشتہ اور نصیحت پر مبنی خاندان کاقیام ہے۔ یہاں کوئی ایسی واضح لکیر نہیں کھینچی جاسکتی کہ ۱۶ یا ۱۸ سال کے بعد والدین پر کسی قسم کی ذمہ دری نہیں رہی اور نہ اس کی ضد کو درست سمجھا جاسکتا ہے کہ ۱۸سال تک والدین سے استفادے کے بعد اب ہر کمایا جانے والا روپیہ اولاد کی ’ذاتی ملکیت‘ ہے۔ اسلامی اجتماعیت نہ سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھتی ہے اور نہ اشتراکیت زدہ ہے۔ اس کا اپنا مزاج اور اپنی اقدار ہیں۔

ہمارے معاشرے میں لازماً بڑی اولاد سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ پورے گھر کا بوجھ اٹھائے جو درست نہیں ہے۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ پہلے اعلیٰ تعلیم حاصل کرے ‘ پھر اعلیٰ ملازمت اختیار کرے اور اس کے بعد کہیں نکاح پر غور کیا جائے۔ اسلامی معاشرت کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے اور قرآن نے صاف کہا ہے کہ تم میں جو مجرد ہوں ان کے نکاح کردو۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے لیے وسائل پیدا کر دے گا۔یہی بات اُس حدیث میں فرمائی گئی ہے جو آپ نے نقل کی ہے کہ اگر ایک نکاح کے بعد ایک شخص کو کشادگی حاصل نہیں ہوتی تو وہ مزید نکاح کرسکتا ہے۔

تکمیلِ تعلیم کو کبھی بھی نکاح کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوناچاہیے۔ عصمت و کردار کا تحفظ ہرچیز پر بھاری ہے۔ اس لیے بلوغ کے بعد‘ یعنی اپنے اچھے برے کی عقل آنے پر نکاح کر دینا انتظار کرتے رہنے سے لازماً افضل ہے۔

بلوغ میں جسمانی اور ذہنی دونوں پہلو شامل ہیں اور اس کے لیے کسی عمر کی قید لگانا ایک غیرفطری عمل ہے۔ بعض خِطوں میں لڑکے اور لڑکیاں جلد جسمانی اور ذہنی طور پر بالغ ہوجاتے ہیں  بعض میں تاخیر سے۔ آج کے معلوماتی اور انقلابی دور میں ذہنی بلوغ جسمانی بلوغ سے بہت پہلے آجاتا ہے۔ اس لیے جسمانی بلوغ کے بعد نکاح کی فکر ہونی چاہیے۔

اس سلسلے میں کوئی لگابندھا ضابطہ نہیں بن سکتا کہ جس کا نکاح ہوجائے وہ لازماً معاشی طور پر خودکفیل بھی ہو۔ اگر والدین ایک وسیع خاندان میں رہتے ہیں تو گھر میں ایک فرد کے اضافے سے کوئی قیامت نہیں آجاتی۔ اس کے ساتھ اولاد پر بھی یہ غور کرنا فرض ہے کہ وہ کب تک بغیر کوئی کام کیے اپنے والدین کے سہارے رہے۔ گویا یہ ایک باہمی غوروفکر اور باہمی محبت و تعلق کا معاملہ ہے۔ اسے خالص قانونی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ پاکستان کے قانون میں ۱۸سال کی عمر لڑکے کے لیے اور ۱۶ سال کی عمر لڑکی کے لیے جو متعین کی گئی ہے یہ غیرعقلی‘ غیر عملی اور غیرشرعی ہے۔ بلوغت کے لیے عمر کی اس حد کو اس وقت دیکھا جاتا ہے جب بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوں۔

استطاعت کی کوئی حد متعین نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ اضافی ہوگی اور ایک خاندان اور فرد کے معیارِ زندگی‘ ضروریات و مطالبات کے لحاظ سے کم یا زیادہ ہوگی۔ ہاں‘ اسے عدل‘ توازن‘ قسط اور میانہ روی کے تابع ہوناچاہیے۔ جوشخص استطاعت نہ رکھتا ہو اس کے لیے اسلامی ریاست کو    (وہ جب بھی قائم ہو) پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس کے نکاح اور متعلقہ ضروریات کا بندوبست کرے۔ ان شاء اللہ اسلامی ریاست کے قیام کے بعد نوجوانوں کو محض اس بنا پر روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ البتہ روزہ رکھنے کا مقصد نفس کو لگام دینا ہے اور یہ لگام دن میں روزے اور رات کو نوافل سے ہی دی جاسکتی ہے۔ خیال رہے کہ اسلام نے نکاح کو بہت آسان بنایا ہے۔ چند گواہوں کی موجودگی میں حسب ِ استطاعت حق مہر اور ولیمہ سے یہ فریضہ بآسانی اداکیا جاسکتا ہے۔ ہم نے معاشرتی رسوم و رواج کے پیش نظر خود اس کو بوجھل اور مشکل بنایا ہے۔

تیسری بات آپ نے یہ اٹھائی ہے کہ آج کے معاشرے میں جہاںفحاشی و عریانی ایک نوجوان کے جذبات کو متاثر کرتی ہے‘ اگر کوئی ناجائز جنسی عمل سے بچنے کے لیے موسیقی یا فلموں سے شوق کرلے تو کیا گناہ کا مرتکب ہوگا؟یہ سوال بہت معصومانہ ہے۔ موسیقی اور فلم‘ وڈیو یا نیٹ پر موجود بے شمار تفریحی پروگرام جنسی بے راہ روی کی طرف لے جانے کا غیرمعمولی مؤثر ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعے آپ کس طرح بڑی برائی سے بچ سکتے ہیں۔ یہ تو اس کی ترغیب دینے والے عوامل ہیں۔

اس بات کو بھی پیش نظر رکھیے کہ زندگی کسی اعلیٰ مقصد کے تحت گزاری جانی چاہیے۔ لوگ محض دنیوی کیریئر بنانے کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دیتے ہیں‘ خواہشات کا خون کرتے ہیںاور کتنی محنت اورجدوجہد کرتے ہیں۔ ایک مسلمان کے سامنے آخرت میں سرخروئی ‘ نبی کریمؐ کا مشن‘    غلبۂ دین‘ نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا اور اسلامی انقلاب جیسے عظیم مقاصد ہوتے ہیں۔ اگر  ان اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی جائے‘ اپنے آپ کو سرگرم رکھا جائے تو بھی انسان نفسانی خواہشات کے غلبے اور شیطانی وساوس سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کاذکر‘ اس کی یاد‘ اس کی محبت اور اس کی ناراضی کا خوف ہی وہ ڈھال ہے جو ایک نوجوان کو بے راہ روی سے بچاسکتی ہے۔ اس بنا پر صادق الامین علیہ السلام نے صوم کی تلقین فرمائی کہ اس میں انسان اپنے رب سے بہت قریب ہوجاتا ہے اور اپنے تمام جسم کو بشمول ذہن و روح کو اپنے رب کی بندگی میں دے دیتا ہے اور اس طرح ایک مثبت عمل کے نتیجے میں شیطان کے حملوں کو ناکام بنادیتا ہے۔ وساوس‘ جنسی ترغیبات‘ خیالی بے راہ روی‘ غرض وہ سب اعمال جو برائی کی طرف لے جانے والے ہیں‘ صوم کی وجہ سے انسان ان سب سے بچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانا خود برائی سے بچ جانے کی ضمانت ہے‘ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ (ڈاکٹر انیس احمد)

ایک سے زائد حج

معاشرے میں نفلی حج کا رواج فیشن اور دکھاوے کے طور پر بھی بڑھ رہا ہے‘ اس حوالے سے  علامہ یوسف قرضاوی کی ایک تحریر پیش کی جارہی ہے۔ (ادارہ)

وہ شخص جو اسلام کی ترجیحات سے واقف ہو اور ہرچیز کے درست مقام کا علم رکھتا ہو‘ کبھی ان ترجیحات کے سلسلے میں شک و شبہے کا شکار نہیں ہوگا جن کا لحاظ کرنا ناگزیر ہے۔ میں کئی برسوں سے اسی کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔ اسے میں نے ’فقہ ترجیحی‘ کا نام دیاہے۔

ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام نے ہمیں جن چیزوں کا مکلف بنایا ہے‘ وہ ایک درجے کی نہیں ہیں‘ بلکہ ہر عمل کا الگ الگ درجہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ایمان کے ۷۰ سے زائد شعبے ہیں جن میں سب سے بلند مرتبہ لا الٰہ الا اللہ کا ہے اور سب سے کم درجے کا عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ہے‘‘۔ اس سے پتا چلا کہ سب سے کمتر اور سب سے بلند درجے کے علاوہ بیچ کے بھی درجات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ ’’کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ کوئی شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور خدایا کی راہ میں جہاد کیا؟ یہ دونوں اللہ کے یہاں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے‘‘۔(التوبہ ۹:۱۹)

اس سے معلوم ہوا کہ تمام اعمال آپس میں برابر نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو  اس فقہ سے واقف کرائیں۔ میں ایک مدت سے ایسے لوگوں کو دیکھتا آرہا ہوں جو اپنے مزدوروں پر ظلم ڈھاتے ہیں اور اپنی زمینوں میں اُجرت پر کام کرنے والوں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔ میں نے اپنے گائوں کے ان کسانوں کو بھی دیکھا ہے جو دوسروں کی زمینوں میں اُجرت پر کام کرتے ہیں‘ ان کے مالکوں کا حال یہ ہے کہ ان کی زمینیں برباد ہوجاتی ہیں‘ لیکن وہ ان غریبوں کو ایک پیسہ دینا گوارا نہیں کرتے۔ دوسری طرف وہ تین تین بار یہاں تک کہ دس دس بار حج کے لیے جاتے ہیں۔ اگر یہ لوگ ان غریبوں کے حقوق ادا کرتے توان کا یہ عمل بار بار حج کرنے سے افضل ہوتا۔

علما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرض کی ادایگی سے قبل نوافل کو قبول نہیں کرتا اور جو شخص فرض کی ادایگی کے بعد نفل کی فرصت نہ پائے تو وہ معذور ہے‘ لیکن جس شخص کی نفل میں مشغولیت اسے فرض سے محروم کردے وہ مغرور ہے۔ ہمیں اس وقت اس نکتے کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے فرمایا: آخری زمانے میں لوگ بلاوجہ کثرت سے حج کریں گے۔ ان کے لیے سفر انتہائی آسان ہوگا اور مال و دولت کی فراوانی ہوگی۔ ان میں سے ایک شخص ریگستان اور بے آب و گیاہ زمین میں اپنا اُونٹ دوڑائے گا اور حج کا سفر کرے گا‘ حالانکہ اس کا پڑوسی بدحال ہوگا اور وہ اس کی غم خواری نہ کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حج کے ارادے سے ریگستانوں اور بے آب و گیاہ زمینوں میں سفر کرے گا اور اپنے پڑوسی کو  اس حال میں چھوڑ دے گا کہ وہ بھوک‘ فقر اور ضرورت سے بدحال ہوگا اور کوئی اس کا پرسانِ حال نہ ہوگا۔ یہی آج کل ہو رہا ہے۔

بشر بن حارثؒ جو کہ متصوفین و زہّاد میں شہرت کے حامل ہیں اور جن کا شمار اُمت کے معروف زاہدوں اور اللہ والوں میں ہوتا ہے‘ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اے ابونصر! میں نے حج کا ارادہ کیا ہے اور آپ کے پاس کچھ نصیحت کی باتیں سننے آیا ہوں‘ تو کیا آپ مجھے کچھ نصیحت کریں گے؟ آپ نے اس سے پوچھا: تم نے حج کے لیے کتنا سفر خرچ اکٹھا کیا ہے؟ اس نے کہا: ۲ہزار درہم (ہزار درہم اس وقت کے لیے ایک بڑی رقم تھی اور اس کی قوت خرید بہت زیادہ تھی)۔ انھوں نے اس سے پھر دریافت کیا: تم اس حج کے ذریعے زہد و تقویٰ حاصل کرنا چاہتے ہو‘ یا   بیت اللہ کا اشتیاق تمھیں وہاں لیے جا رہا ہے‘ یا تم رضاے الٰہی کے حصول کے خواہش مند ہو؟ اس نے کہا: خدا کی قسم‘ رضاے الٰہی کا حصول میرا مقصد ہے۔ انھوں نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسا راستہ بتائوں جس سے تمھیں اپنے شہر ہی میں گھر بیٹھے خدا کی خوش نودی حاصل ہوجائے‘ اور اگر میں تمھیں یہ طریقہ بتائوں تو کیا تم اس کے مطابق عمل کرو گے؟ اس نے کہا: ضرور کروں گا۔ فرمایا: جائو اور یہ رقم ۱۰ لوگوں کو دے دو‘ کسی فقیر کو جس سے تم اس کی تنگ دستی دُور کردو‘ یتیم کو جس کی ضرورتیں پوری کردو‘ قرض دار جس کا قرض ادا کردو اور کسی کثیرالعیال شخص کو جس سے کہ تم اس کے اہل و عیال کا بوجھ ہلکا کردو… اس طرح انھوں نے ۱۰ لوگوں کا ذکر کیا اور کہا: اگر تم ان میں سے کسی ایک کو یہ رقم دے دو جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہوجائیں تویہ عمل افضل ہے۔ یہ سن کر اس شخص نے کہا:  اے ابونصر! میں سفر کا پختہ ارادہ کرچکا ہوں۔ فرمایا کہ جب مال گندی تجارت اور مشکوک ذرائع سے اکٹھا کیا جاتا ہے تو انسان کا نفس اسے اپنی خواہشات کے مطابق خرچ کرنا چاہتا ہے‘ یعنی ایسا شخص مسلمانوں کے لیے نفع بخش اور افضل چیزوں کو چھوڑ کر حج کی خوشیاں لوٹنا زیادہ پسند کرتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ بلاوجہ بار بار حج کرنا اور اس طرح سے ترجیحات کو ترک کر دینا بے بصیرتی کا نتیجہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ایک مسلمان یہ سمجھے کہ بھوکے کو کھلانا‘ مریض کا علاج کرانا‘ بے سہارا کو پناہ دینا‘ یتیم کی کفالت کرنا‘ بیوہ عورت کی ضروریات پوری کرنا‘ ایشیا یا افریقہ یا کہیں کی بھی   اسلامی برادری کے لیے مدرسہ یا مسجد بنانا اور خیر کے کسی بھی کام میں شریک ہونا اللہ کی نظر میں زیادہ بہتر ہے۔

ایک مسلمان پر فرض ہے کہ اس طرح کے ثواب والے کاموں میں بے پناہ سرور اور لذت محسوس کرے۔ اس کا یہ سرور اور لطف اس لذت سے بھی بڑھ کر ہو جس کا احساس اسے دو بار اور تین بار حج کرتے وقت ہوتا ہے‘ جب کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہوتا ہے اور لبیک اللّٰھم لبیک کی صدا بلند کرتا ہے۔ ان عظیم کارہاے خیر کے بجاے دوسری یا تیسری بار کے حج میں کیف و سرور محسوس کرنا یقینا افسوس ناک ہے‘ دین میں بے بصیرت ہونے کی دلیل ہے اور فقہ ترجیحی سے نابلد ہونے کی علامت ہے۔

اگر مسلمانوں کو اس کا شعور ہوجائے تو ہم ہر سال اربوں روپے سے صحیح فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی تنظیم اس کام کو منظم طریقے پر انجام دے اور ایک فنڈ بنائے جس کا نام حج کا متبادل فنڈ ہو اور وہ لوگ جو نفلی حج کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ اور وہ بھائی جو فائیواسٹار حج کرتے ہیں‘ وہ حج کا خرچ ’حج کے متبادل فنڈ‘ میں جمع کریں تاکہ اس رقم کو ساری دنیا کے مسلمانوں کے مصالح میں خرچ کیا جائے تو ایک بڑی ضرورت پوری ہوگی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک بڑا خلا پُر ہوجائے گا۔ اسی لیے میں کہا کرتا ہوں کہ کاش! اُمت میں   یہ بیداری پیدا ہوجائے۔(بہ شکریہ دارالعلوم‘ دیوبند‘ مارچ ۲۰۰۷ء)

 

تفسیر ابن عباسؓ، مترجم: حافظ سعیداحمد عاطف۔ ناشر: مکی دارالکتب‘ چوک اے جی آفس‘ لاہور۔ صفحات (۳جلد) ۱۵۰۲۔ کل قیمت: ۱۱۰۰ روپے۔

تفسیر قرآن میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے تفسیری اقوال کو جو مقام حاصل ہے‘ خلفاے راشدین کے بعد کسی اور صحابیؓ کے اقوال کو وہ مقام حاصل نہیں۔ آپ کو بارگاہِ نبوت سے ’ترجمان القرآن‘ ، ’حبرالامّہ‘ کے خطاب اور تاویلِ آیات کے علم اور تفقہ فی الدین کی دعا سے نوازا گیا۔ کوئی بھی مفسر خواہ وہ قرآن کی فقہی تفسیر لکھنا چاہے یا لغوی و ادبی‘ تفسیر القرآن بالقرآن کا دعویٰ رکھے یا روایات کی روشنی میں تفسیر بالماثور کااہتمام کرے‘ ابن عباسؓ کے تفسیری اقوال سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ ان کا علم تفسیر جامع اور تفسیری آرا ہمہ جہت ہیں۔ وہ ادب جاہلی پر گہری نظر اور عربوں کے محاورے و لہجے کا ادراک رکھتے تھے۔ تفسیری روایات انھیں ازبر تھیں اور عہدخلفاے راشدین میں اسلامی تمدن کی وسعت پذیری کے باعث پیش آمدہ نت نئے مسائل کی گتھیوں کو اپنے ذوقِ قرآنی اور فقہی و اجتہادی بصیرت سے سلجھانے میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔

حضرت ابن عباسؓ کے تفسیری اقوال صحاح ستہ کے علاوہ مسانید و کتبِ سنن میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور تفسیری مجموعے بھی ان سے مروی ہیں جن میں سے ایک مجموعہ تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس ہے جسے صاحب القاموس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادی (۷۴۹ھ- ۸۱۷ھ) نے مرتب کیا‘ اور بقول مترجم اس تفسیر کا ایک قلمی نسخہ پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں موجود ہے (ص۷)۔ اگرچہ اس مجموعے میں موضوع و الحاقی روایات بھی ہیں (ص۷)‘اور تفسیری روایات اور شانِ نزول کا موضوع ہردور کے محدثین و مفسرین کے ہاں مختلف فیہ رہا ہے لیکن حضرت ابن عباسؓ جیسے عظیم مفسر کی تفسیری آرا جاننے کے لیے ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی مجموعہ نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ علم ابن عباسؓ سے منسوب تفسیری اقوال و آرا کی پرکھ‘ روایت و درایت کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں کریں۔

قرآنی الفاظ اور آیات کی طویل تشریحات اور مفسر کی ذاتی آرا قرآنی مفاہیم کو قاری پر کھولنے کے بجاے قاری اور قرآن کے درمیان حجاب بن جاتی ہیں۔ اس تفسیر کی یہ خاصیت ہے کہ مفہوم کی سادگی‘ مضمون کے اختصار اور متنِ قرآن سے قریب تر ہونے کے باعث یہ مرادِ الٰہی کے سمجھنے میں معاون ہے۔ تفسیر کا موضوع ذاتی آرا و رجحانات کی دخل اندازی کے حوالے سے جس احتیاط کا متقاضی ہے‘ اس تفسیر میں اس کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔

قرآنی مطالب کی تفہیم میں سہولت پیدا کرنے کے لیے عبارات کا تسلسل ضروری ہے اور عربی تفسیر کے ترجمے میں یہ چیز عربی محذوفات کو کھولے بغیر ممکن نہ تھی‘ اس لیے مترجم نے ترجمے کے بجاے ترجمانی کا اسلوب اختیار کیا ہے۔ اصل تفسیر میں موجود نامکمل واقعات کو مکمل کردیا ہے۔ حسب ضرورت ذیلی عنوانات کے قیام اور پیرابندی کے ذریعے مضامین کی تفہیم میںآسانی پیدا کردی ہے۔ اس طرح قدیم کتابوں کے پڑھنے اور سمجھنے میں عصرِحاضر کے قاری کو جو پیچیدگی اور یبوست محسوس ہوتی ہے اس کا ازالہ احسن طریقے سے کردیا گیا ہے۔

اس تفسیر کی ایک نمایاں خصوصیت آیات اور سورتوں کے شانِ نزول کا بیان ہے۔  اسبابِ نزول سے متعلق امام سیوطی کا ایک رسالہ بھی شاملِ مجموعہ ہے جس سے اسبابِ نزول کے موضوع پر مفسرین کے مختلف نقطۂ ہاے نظر سامنے آگئے ہیں۔ پہلی جلد میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حالات وعلمی مقام‘ علامہ جلال الدین سیوطی اور مؤلف تفسیر محمدبن یعقوب الفیروز آبادی کے تعارف کے باعث تفسیر کی افادیت میںاضافہ ہواہے۔(اختر حسین عزمی)


رسم عثمانی اور اس کی شرعی حیثیت، حافظ محمد سمیع اللہ فراز۔ ناشر: شیخ زاید اسلامک سنٹر‘ قائداعظم کیمپس‘ جامعہ پنجاب‘ لاہور۔ صفحات:۴۳۶۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔

اگرچہ عہدصدیقیؓ میں بھی جمع و تدوین قرآن کی کوشش کی گئی لیکن قرآن مجید کی حتمی اور کامل ترین تدوین عہدِعثمانیؓ میں ہوئی۔ یوں کسی ایک نسخے اور اندازِ قرأت پر اجماعِ اُمت ہوگیا اور اس کا سہراجناب ذوالنورینؓ کے سر ہے۔ زیرنظر کتاب میں عہدعثمانیؓ میں جمع و تدوین قرآن کی کاوش اور خاص طور پر قرآنی رسم الخط کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس وقت تین عربی رسم الخط رائج تھے۔ قرآنی رسم الخط میں تینوں رسوم کی املا موجود ہے‘ تاہم اختلاف کے سبب صحابہ کرامؓ کے مشورے سے ایک نیا رسم الخط ایجاد کرلیا گیا جسے رسمِ عثمانیؓ کا نام دیا گیا۔

رسمِ عثمانی کیا ہے؟ کس طرح لکھا جاتاتھا اور صحابہ کو اس پر کیا اور کیوں اعتراض تھا؟ زیربحث کتاب میں ان سوالات پر مفصل اور مدلل بحث کی گئی ہے۔ بعض صحابہؓ کو اس سے اختلاف تھا لیکن بعد میں انھوں نے بھی اتفاق کرلیا۔ اسی لیے اس کتاب میں اس کی شرعی حیثیت کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عثمانی نسخہ‘ مدینہ سے تاشقند کیسے پہنچا؟

یہ کتاب ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے جو بڑی محنت اور تحقیق سے لکھا گیا ہے۔ کتاب حوالوں سے مزین ہے۔ آخر میں اشخاص اور اماکن کا اشاریہ شامل ہے۔ اس پر نفیس الحسینی شاہ کی تقریظ کتاب کی جامعیت میں مزید اضافے کا باعث ہے۔ کتاب کے نام سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حضرت عثمانؓ کے دور کی کسی رسم کی شرعی حیثیت متعین کی جارہی ہے۔ عنوان ’عثمانی رسم الخط اور اس کی شرعی حیثیت‘ زیادہ موزوں تھا۔ مجموعی طور پر یہ ایک حوالے کی کتاب ہے جس سے تحقیق کے طلبہ بہت استفادہ کرسکتے ہیں۔ یہ کتاب دینی و علمی ذخیرے میں ایک عمدہ اور اہم اضافہ ہے جس میں قرآن مجید پر مستشرقین کے اعتراضات کے مدلل جوابات بھی موجود ہیں۔(قاسم محمود وینس)


اشاریۂ معارف‘ مرتب: محمد سہیل شفیق۔ ناشر: قرطاس‘ کراچی یونی ورسٹی‘ کراچی۔ صفحات:   (بڑی تقطیع) ۶۴۲۔ قیمت: ۵۵۰ روپے۔

اشاریہ سازی کا کام بلاشبہہ دقت طلب‘ صبر آزما اور عرق ریزی کا کام ہے مگر اشاریے محققین کے لیے تازہ ہوا اور صاف پانی کی مانند ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سفیراختر کے نزدیک کتابیات‘ اشاریہ سازی اور ان سے ملتے جلتے کام ’سبیل‘ کی مانند ہیں۔ تپتی دھوپ میں   راہ گیر راستے پر سبیل سے پیاس بجھاتا‘ تازہ دم ہوتا اور دعا دیتا آگے بڑھ جاتا ہے۔

مرتب نے اشاریہ سازی کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہوئے اعظم گڑھ سے شائع ہونے والے علمی‘ تحقیقی اور ادبی مجلے معارف کا ایک عمدہ اشاریہ تیار کیا ہے۔معارف کے علمی و تحقیقی مقام و مرتبے کے پیش نظر یہ ایک قابلِ قدر کاوش ہے۔ زیرمطالعہ اشاریے سے پہلے بھی معارف کے چار جزوی اشاریے مرتب کیے جاچکے ہیں۔ یہ اشاریہ محمد سہیل شفیق نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر مرتب کیا ہے۔ مرتب نے اس اشاریے کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں فقط زمانی اعتبارسے مقالات کی فہرست دی گئی ہے‘ دوسرے حصے میں مقالات کو ۳۶ مختلف موضوعات کے تحت تقسیم کرکے دیاگیاہے۔ موضوعات میں قرآن اور علومِ قرآن‘ حدیث و سنت‘ سیرت نبویؐ‘ فقہ اسلام‘ عقائد و عباداتِ اسلامی‘ اسلام‘ تاریخ‘ مذاہبِ عالم ‘ تہذیب و تمدن‘ اخلاقیات‘ تصوف‘  فلسفہ‘ تعلیم و تربیت‘طب و سائنس‘ سیاسیات‘ خلافت‘ اقتصادیات‘ لسانیات‘ زبان و ادب‘ اقبالیات‘ آثار و مقامات‘ شخصیات‘ آرٹ اور آرکیٹکچر‘ استشراق اور مستشرقین‘ علوم و فنون‘ عالمِ اسلام‘ عرب‘ مسلم اقلیتیں‘ہندستان‘کتب خانے‘ جامعات/تعلیمی ادارے‘ خطبات/ا نجمنیں/ ادارے ‘ تحریکیں‘  قلمی نسخے/مخطوطات‘ کتابیں اور متفرق موضوعات شامل ہیں۔ تیسراحصہ الف بائی ترتیب سے مصنفین کے اشاریے پر مشتمل ہے۔ پھر تبصرہ شدہ کتب کی فہرست دی گئی ہے۔ چھٹے حصے میں وفیات کا الف بائی اندراج ہے۔ساتویں باب میں معارف کے بعض پرچوں میں جلد نمبر‘ مہینہ‘ ہجری سال وغیرہ کے حوالے سے پائے جانے والے چند ایک تسامحات کی تصحیح کی گئی ہے۔ آخری حصے میں اُن کتب خانوں کی فہرست دی گئی ہے جہاں یہ پرچے موجود ہیں‘ پھر مخففات کی وضاحت ہے۔

معارف کے مذکورہ اشاریے کے مطالعے کے بعد مرتب کے علمی اخلاص اور محنت و کاوش کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ یقینا یہ اشاریہ اپنی علمی وسعت اور حسنِ ترتیب کی بدولت مسافرانِ علم وادب کو ہرمرحلے پر اپنی اہمیت و افادیت کا احساس دلاتا رہے گا اور محققین و ناقدین مرتب کے لیے جزاے خیر کی دعا کرتے رہیں گے۔(خالد ندیم)


اقبال اور دعوتِ دین ، حیران خٹک۔ ناشر: دعوہ اکیڈمی‘ فیصل مسجد‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۳۰۲۔ قیمت: ۱۸۰ روپے

مصنف نے اپنے مقالے کو ’دین، دعوتِ دین اور اقبال‘، ’قرآن اور اقبال‘، ’دعوتی ادب کی تخلیق و ترویج میں اقبال کا کردار‘، ’دعوتی، دینی، تحقیقی انجمنوں اور اداروں کے ساتھ علامہ اقبال کے روابط‘، ’علامہ اقبال کے معاصر علما‘ مشائخ اور اہلِ قلم کے ساتھ دعوتی مقاصد کے لیے روابط‘ اور ’علامہ اقبال کی غیرمسلموں کو دین کی دعوت‘ کے نام سے چھے ابواب میںتقسیم کیا ہے۔ محقق نے جہاں اپنے مقالے کو تحقیقی اعتبار سے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے‘ وہیں اس نے اس کے اسلوب کو تحقیقی سے زیادہ تخلیقی بنانے پر توجہ صرف کی ہے ‘چنانچہ قاری مطالعے کے دوران ایک خوش گوار تاثر کے ساتھ آگے بڑھتا چلاجاتاہے۔ محقق کی صحیح نظر کا اندازہ مقالے کے تیسرے باب سے ہوتا ہے‘ جس میں انھوں نے ’قوموں کی زندگی میں ادب کی اہمیت‘، ’عہداقبال کا ادبی منظرنامہ‘، ’معاصر ادب اور تصوف پر علامہ اقبال کی تنقید‘، ’علامہ اقبال کانظریۂ ادب‘، ’اہلِ قلم کو دعوتی ادب تخلیق کرنے کی براہِ راست دعوت‘اور ’علامہ اقبال کاادبی مقام اور ان کے تخلیق کردہ دعوتی ادب کے اثرات‘ کے تحت خوب دادِتحقیق دی ہے۔ اس باب کو حاصلِ مطالعہ کہا جائے توبے جا نہ ہوگا۔

یہ مقالہ بہت سے نئے موضوعات کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔ حیران خٹک نے اس اچھوتے موضوع پر قلم اٹھاکر اقبالیات کی سرحدوں کو مزید توسیع عطا کردی ہے۔ امید ہے کہ یہ مقالہ اقبالیاتی ادب میں تازہ ہوا کاجھونکا ثابت ہوگا۔(خ - ن)


نماز‘ ایک ادارہ‘ ایک تربیت، سکواڈرن لیڈر (ر)ملک عطا محمد۔ناشر اور ملنے کا پتا: ۸۵-رحمت پارک‘ یونی ورسٹی روڈ‘ سرگودھا۔ صفحات (بڑی تقطیع) ۴۸۷۔ قیمت: ۱۶۰ روپے۔

نماز پر ایسی جامع عملی کتاب اس سے پہلے نظر سے نہیں گزری۔ اس میں نماز سے متعلق صرف معلومات ہی نہیں دی گئی ہیں‘ بلکہ ایک جذبے کے ساتھ تذکیر کرتے ہوئے استاد اور مربی کے انداز سے رہبری کی گئی ہے۔ نظری بحث بھی ہے‘ اور عملی ہدایات بھی۔ اُمت کے عروج اور فرد کی سیرت کی تعمیر میں اقامت صلوٰۃ کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ نماز اور توحید و آخرت‘ نمازاور ارکانِ اسلام کے تعلق پر مفید گفتگو ہے۔ آخری ۱۶ سورتیں مع ترجمہ دی ہیں۔ دعا کے باب میں تمام قرآنی اور مسنون دعائیں جمع کی گئی ہیں۔ ضروری مسائل کا بیان بھی آگیا ہے۔ ریٹائرڈ اسکواڈرن لیڈر کی تصنیف ہے‘ اس لیے ڈسپلن اور پابندی کا عنصر کچھ زیادہ ہے۔ آخر میں جائزے کے لیے چارٹ اور روزمرہ کے ماڈل نظام الاوقات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ توجہ سے مطالعہ کیا جائے تو ذاتی اصلاح کے لیے نہایت مفید ہے۔ (مسلم سجاد)


چنار کہانی ،محمد صغیر قمر۔ ناشر: منشورات‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات: ۳۲۳۔ قیمت: ۱۴۰ روپے۔

چنار کہانی ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہزاروں کہانیوں سے اخذکردہ وہ منتخب کہانیاں ہیں جنھیں صغیرقمر نے بڑی توجہ کے ساتھ الفاظ کے پیکر میںڈھالا ہے۔ وہ قارئین کی نفسیات کو سامنے رکھ کر لکھتے ہیںاورایسے الفاظ اور جملے استعمال کرتے ہیں جو براہِ راست قاری کے دل پر اثر کرتے ہیں بلکہ دلوں کے تار اس طرح چھیڑتے ہیں کہ آنکھیں باربار نم ہوجاتی ہیں اور بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔

مصنف کی اوّل و آخر شناخت کشمیر اور جہادکشمیر ہے جس کی وہ آبیاری ایک طویل عرصے سے اپنے قلم سے کر رہے ہیں۔ چنارکہانی میں کشمیر‘ افغانستان‘ فلسطین‘ اور دیگر حوالوں سے جسدِ ملّت کے زخموں اور جدوجہد کا تذکرہ ہے۔ یہ تحریریں اس سے قبل جہادکشمیر اور روزنامہ خبریں میں شائع ہوچکی ہیں۔ یہ کالم دراصل اپنے دین‘ وطن اور اقدار و رویات کے ساتھ وابستگی کا رنگ گہرا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایسے میں جب الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا روشن خیالی کے نام پر دین و مذہب سے بے زاری اور نفرت پیدا کر رہا ہے‘ زیرنظر کتاب نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ہرطبقۂ فکر کے لیے سوچ بچار اور غوروفکر کی نئی راہیں متعین کرتی ہے۔ (عمران ظہور غازی )

تعارف کتب

  •  تاریخ مسجدالحرام، عبدالرؤف فاروقی۔ ناشر: ادارہ انوارالحرمین‘ سمن آباد لاہور۔ صفحات: ۳۰۴۔ قیمت: ۱۹۰ روپے۔ [فاضل مصنف نے مکہ مکرمہ‘ مسجدِحرام‘ بیت اللہ اور اس کے متعلقات پر خاصی کاوش کے بعد ایسی معلومات جمع کی ہیں‘ جو اُن کے بقول ’مستند‘ ہیں اوراُردو زبان میں پہلی دفعہ منتقل ہورہی ہیں۔ ابواب کے عنوانات (بیت اللہ اور اس کے متعلقات‘ بیت اللہ کی تعمیر کی تاریخ‘ مسجدحرام میں توسیعات‘ مسجدِحرام فتنوں کی زد میں‘ مسائلِ حج) سے کتاب کی جامعیت اور وسعتِ موضوع کا اندازہ کیاجاسکتا ہے۔ ایک مفید اور لائق مطالعہ کتاب۔]
  •  حکمتِ اقبال، محمد رفیع الدین۔ ناشر: ادارہ تحقیقات اسلامی‘ بین الاقوامی یونی ورسٹی‘ اسلام آباد‘ بہ اشتراک: آل پاکستان اسلامک ایجوکیشن کانگریس‘ لاہور۔ صفحات: ۵۲۴۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔[مصنف مرحوم فلسفے کے استاد‘خود ایک فلسفی اور بہت فاضل شخصیت تھے۔ اقبال اکادمی پاکستان کے پہلے ڈائرکٹر رہے۔ اقبالیات اور علومِ عمرانیات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اس کتاب میں اقبال کے تصورِ خودی‘ ان کے دوسرے تصورات سے علمی اور عقلی ربط قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ ’پیش لفظ‘ نگار ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری کے بقول: مصنف پاکستان کے اُن مایہ ناز علما میںسے تھے جنھوں نے دورِجدید میں اسلام کی تعبیروتشریح کے میدان میں     حکیم الامت علامہ اقبال کی فکر کو آگے بڑھایا ہے۔ کتاب ۳۵برس پہلے چھپی تھی‘ اب تیسری بار شائع ہوئی ہے۔]
  •  مکاتیب الکریم، مولانا عبدالقیوم حقانی۔ماہنامہ القاسم‘ جامعہ ابوہریرہ‘ برانچ پوسٹ آفس‘ خالق آباد‘ نوشہرہ‘ صوبہ سرحد۔ صفحات: ۳۱۱۔ قیمت: ندارد۔[مرتب کے استاد شیخ التفسیر مولانا قاضی عبدالکریم کلاچوی کے اس مجموعہ مکاتیب میں موضوعات کا حیرت انگیز تنوع ملتا ہے۔ دینی‘ شرعی اور فقہی مسائل‘ بزرگان دین کا مقام اور مرتبہ‘ روزمرہ مسائل‘ دینی مدارس کے معاملات‘ دل چسپ واقعات‘ پندونصائح وغیرہ۔]
  •  برصغیر میں بچہ مسلم لیگ، ڈاکٹر انعام الحق کوثر۔ ناشر: ادارہ تحقیق و تصنیف‘ بلوچستان۔ ۲۷۲-اے ‘      او بلاک ۳‘ سیٹلائیٹ ٹائون‘ کوئٹہ۔ صفحات: ۹۹۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔ [تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں بزرگوں اور نوجوانوں کے ساتھ بچوں نے بھی کام کیااور’بچہ مسلم لیگ‘ بھی قائم ہوئی۔ اس کتاب میں اس کی کچھ تفصیلات اور تصاویر شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بچہ مسلم لیگ کن کن شہروں میں اور کس طرح قائم ہوئی اور کن کن لوگوں نے کس طرح حصہ لیا وغیرہ۔]
  • مولانا اشرف علی تھانوی کی تعلیمی خدمات‘ ہومیوڈاکٹر رانا محمد اشرف۔ ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ‘ جامع مسجد تھانے والی ہارون آباد‘ ضلع بہاول نگر۔ صفحات: ۷۷۔ قیمت: درج نہیں۔ [مولانا اشرف علی تھانوی (اللہ ان کی قبر کو نور سے بھردے) کی بے پایاں خدمات کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ صرف ان کی تعلیمی خدمات پر  پی ایچ ڈی ہوسکتی ہے۔ اس کتابچے میں تعلیم کے موضوع پر ان کے چند مفید ارشادات جمع کیے گئے ہیں۔]
  • آنحضرتؐ کی تعلیمی پالیسی، پروفیسرڈاکٹر محمدگجر خان غزل کاشمیری۔ ناشر: شعبہ نشرواشاعت‘ اقراء تدریب الاطفال (ٹرسٹ) لاہور۔ ملنے کا پتا: کتاب سراے‘ الحمدمارکیٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۸۰۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [اس پی ایچ ڈی مقالے میں ایک خاص ترتیب سے تعلیم کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور سیرت پاکؐ میں ان کے عملی اظہار کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تعلیمی پالیسی کو تعلیمِ بالغاں‘ تعلیمِ نسواں اور ابتدائی تعلیم کے عنوانات دیے گئے ہیں۔]
  •  مختصر ہدایۃ المستفید‘ ابومحمد بدیع الدین شاہ‘ ترجمہ: عطاء للہ ثاقب۔ ناشر: دائرہ نور القرآن‘ دکان نمبر۸‘ وقاص سنٹر‘ محمد بن قاسم روڈ‘ نزد اُردو بازار‘ کراچی۔ صفحات: ۳۵۵۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔[عقیدے اور عمل کی توحید سے مطابقت اور شرک کے شائبے سے پاک کرنے کے لیے ایک مفید کتاب۔ مکمل کتاب (۲ حصے‘ صفحات ۱۶۸۶‘ ۱۹۷۴ء)‘ شاہ فیصل شہیدؒ نے اُردودان طبقے میں تقسیم کروائی تھی۔ اب تلخیص شائع کی گئی ہے مگر یہ بھی موضوع کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔]
  • تحفہ حرم‘ مولانا مرغوب احمد لاجپوری۔ ناشر: بیت العلم ٹرسٹ‘ ایس ٹی/۹-ای ‘ بلاک ۸‘ گلشن اقبال‘ کراچی۔ صفحات: ۲۸۲۔ مجلدقیمت: ۱۴۰ روپے۔[یہ کتاب آٹھ مقالات کا مجموعہ ہے۔ پہلا آبِ زم زم ۱۰۰ صفحات اور آخری عجوہ کھجور ۱۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ دوسرے موضوعات حجراسود‘ رکن یمانی‘ مقامِ ابراہیم اور ملتزم ہیں۔ ان موضوعات پر ضروری اور دل چسپ معلومات سلیقے سے جمع کردی گئی ہیں۔]
  •  نماز کی کتاب، حافظ عمران ایوب لاہوری‘ تحقیق و افادات: علامہ ناصرالدین البانی، ملنے کا پتا: نعمانی کتب خانہ‘ حافظ سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۳۶۔ قیمت: ۱۳۵ روپے۔ [مفصل اور جامع کتاب۔ نماز سے متعلق بیش تر مسائل (مثلاً ٹیپ ریکارڈر سے اذان) کے بارے میں احادیث کی روشنی میں رہنمائی۔ حدیث کی سند اور تخریج کا اہتمام۔ خواتین کے مسائل بھی زیربحث آئے ہیں۔ معیاری کتابت و طباعت۔]
  •   زلزلہ ، زخم اور زندگی، ڈاکٹر آصف محمود جاہ۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴-اُردو بازار‘ لاہور۔ص ۱۴۴۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [دو سال قبل شمالی علاقوں میں زلزلے نے تباہی مچائی۔کسٹم ویلفیئر کلینک کے ڈاکٹر آصف محمود جاہ ایک جذبے سے اپنے ساتھ ہسپتال لے کر علاقے میں پہنچ گئے۔ اس ڈائری میں وہاں کے حالات ہیں اور ڈاکٹر موصوف کی غیرمعمولی خدمات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں متعدد کالم‘ آرا اور ان کے تین انٹرویو مع تصاویر بھی شاملِ اشاعت ہیں۔]
  •  ماہنامہ الاحیاء‘ لاہور‘ مدیر: جواد حیدر‘ زیرنگرانی: حافظ حمزہ مدنی۔ الاحیاء ریسرچ فائونڈیشن‘ ۴۹- جمشید سنٹر‘ ۱۰۰-فیروز پورروڈ‘ لاہور۔ زرسالانہ: ۲۰۰ روپے۔[نئے رسالے کا پہلا شمارہ ہے۔ ’ترقی جدت کومحلِ کراہت میں رکھنا‘یا شوق تجدد میں انبیا کی تعلیمات سے انحراف کو بھی روا رکھنا‘ ان دو انتہائوں کے درمیان آج کی انسانیت کے لیے حقیقی عقیدہ و ایمان کا احیا اس رسالے کا نصب العین ہے۔ کئی اہم موضوعات پر معیاری تحریریں۔ قابلِ ذکر نکاح میسار پر ۳۰ صفحات کی سیرحاصل بحث۔]

 

ڈاکٹر طارق محمود ‘بدین

ویسے تو جنرل پرویزی دور کے ترجمان القرآن میں لکھے گئے تمام اشارات اہم ہیں مگر ’پاکستان فیصلہ کن دوراہے پر‘ نے نہ جانے کیوں البدر، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، سوناربنگلہ، چہرے جیسی (کتابیں نہیں بلکہ) تاریخی دستاویزات کی یاد دلا دی۔ مجھے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے آپ کے ’اشارات‘ بروقت نہیں بلکہ وقت سے پہلے ایک تاریخی دستاویز بنتے نظر آرہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں مزید وسعت اور قلم کو مزید بااثر بنائے۔اس دوراہے سے پوری قوم متحدہوکر ہی نکل سکتی ہے۔

پہلے سندھ کے لوگوں کو فوج سے نفرت یا ناپسند کرنے والا سمجھتا جاتا تھا۔ میرا تعلق سندھ سے ہے لیکن میں نے پاکستان کے ہرصوبے اور علاقے میں کئی کئی برس گزارے اور حالات و مزاج دیکھے ہیں۔ کاش! سندھ کے اس وقت کے جذبات کو حقیقی آئینے میں دیکھ کر فوج کو ان کی حدود تک محدود کرنے کا بندوبست کردیا جاتا تو آج سرحد‘ بلوچستان اور پنجاب کے علاقوں میں اس قدر شدید نفرت نہ دیکھی جاتی جو سندھ کے مقابلے میں  کئی گنا زیادہ اور خطرناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے اور قوم کو زندہ قوم کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین!

ملک عبدالرشید عراقی‘گوجرنوالہ

’پاکستان ، فیصلہ کن دوراہے پر‘ (اگست ۲۰۰۷ء) میں جن تین اہم واقعات (لال مسجد‘ جامعہ حفصہ اور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی بحالی کا فیصلہ) پر دلائل و براہین کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے‘ اس سے   صورت حال پوری طرح واضح ہوگئی اور حکومت کے غلط اقدامات پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ ان تینوں واقعات کے بارے میں حکومت نے جورویہ اختیار کیا وہ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں تھا۔

محمد شکیل‘ٹوبہ ٹیک سنگھ

’اسلامی ریاست میں دعوت و جہاد کا منہج‘ (اگست ۲۰۰۷ء) تحریکِ شریعت محمدی‘جامعہ حفصہ اور دیگر اسلام کے غلبے کی خواہش مند تحریکوں کے پس منظر میں نہایت برمحل اور فکرانگیز ہے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ اسلام کے غلبے کے خواہش مند دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ ابھی تک ’طریق انقلاب‘ پر بھی متفق نہیں ہوسکے۔ تحریکِ اسلامی کی جدوجہد کو محض سیاسی کہہ کر استخفاف کیا جاتا ہے۔ مؤلف نے اپنی بات کو کتاب و سنت کے حوالوں سے مستند و مزین کیا ہے۔

’شیعہ سُنی مکالمہ‘ (جولائی ۲۰۰۷ء) بلکہ مفاہمت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مشترکہ ایمانیات‘ اسلامی اقدارِ حیات‘ صحابہ و اہلِ بیت کا اکرام‘ اکثریتی آبادی کے علاقوں میں اکثریت کے مسلک کی فقہ اور اقلیتی مسلک کو پرسنل لا کا تحفظ اتحاد اور بقاے باہمی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

صفدر حسین ‘مری

 ’دورِ جدید میں بین المذاہب اتحاد کا تصور‘ (اگست ۲۰۰۷ء)‘ میںعہدِحاضر کے اہم مسائل میں سے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور غوروفکر اور عمل کے لیے رہنمائی دی گئی ہے۔

شمع سلیم‘سعودی عرب

’شیعہ سُنی مکالمے‘ (جولائی ۲۰۰۷ء) کو اُمت مسلمہ کی ضرورت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایسی ضرورت جو اس اُمت کو ہمیشہ رہی۔ اُمت مسلمہ کو ہمیشہ ہی ان دو بنیادی فرقوں کے باہمی اختلافات سے جس قدر نقصان پہنچا اور پہنچایا گیا وہ ڈھکا چھپا نہیں۔ اہلِ علم‘ مفکرین اور اُمت کے علما کااحسان ہوگا جو وقت کے تقاضوں کے لوازمے کا اس طرح انتخاب کریں کہ عام آدمی تک شریعت کی درست تعلیمات پہنچ سکیں‘ اور پڑھنے والا ہرقاری اس فکروخیال کو آگے بڑھائے۔

امام حسن البناشہیدؒ نمبر (مئی ، جون ۲۰۰۷ء) سرورق سے اختتام تک معلومات کا گراں قدر شاہکار ہے جس کا مطالعہ ایمان کی نئی حرارت دے گیا۔ محنت کرنے والوں کو اللہ جزاے خیر دے۔ آمین

ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم‘سرگودھا

’حسن البناشہیدؒ نمبرسے پرتیں کھلیں‘کئی در وا ہوئے۔ اللہ رب العزت کی رضا کے حصول اور اس کے رنگ میں انفرادی و اجتماعی طور پر رنگ جانے کا علم بلند کرنے والے‘ قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست ربط و تعلق اور آپؐ سے پُرخلوص عشق و محبت اور وابستگی و اطاعت کی مہکار میں ڈھلے ہوئے عالمِ اسلام کے قائد حسن البنا شہید کے بارے میں اتنا ضخیم اور وقیع شمارہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایسے  بے مثل کردار کے حامل لوگوں کو یاد رکھنا اور اپنے خانۂ دل سے نہ بھلانا اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اچھی روایت ہے۔

ماہ رمضان المبارک کی مناسبت سے دو کتابچے: ھم نے آج تراویح میں کیا پڑہا؟ تراویح کے دوران روزانہ پڑھے جانے والے قرآن کریم کے حصے کا خلاصہ اور قــرآنی و مسنون دعائیں مع آسان ترجمہ بلامعاوضہ دستیاب ہیں۔خواہش مند خواتین و حضرات 6 روپے کے ڈاکٹ ٹکٹ بنام ڈاکٹرممتاز عمر‘ T-445 ‘ کورنگی نمبر2‘ کراچی -74900 کے پتے پر روانہ کرکے کتابچے حاصل کرسکتے ہیں۔

ہم کبھی اس طرح کی ٹھوکریں کھانے اور چوٹیں سہنے سے نہیں بچ سکیں گے جب تک کہ خود اپنی اُن غلطیوں کو محسوس نہ کریں جن کی بدولت یہ پے درپے زکیں ہمیں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔ ہم حقائق سے منہ موڑ کر آرزوؤں اور تمناؤں کے پیچھے چلتے ہیں۔ ہم عقل کی بات بتانے والوں کودشمن اور خوش کُن باتیں بنانے والوں کو دوست سمجھتے ہیں۔ ہم ٹھوس عمل کی کمی کو خیالی ہوائوں سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نصیحت سے نفور اور کذب وفریب کے قدرداں ہیں۔ ہم کسی کو اپنے آگے لگاتے وقت اس کے اخلاقی و ذہنی اوصاف نہیں دیکھتے بلکہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ نعرہ کتنے زور کا لگاتا ہے اور زبان کے استعمال میں کس قدر مطلق العنان ہے۔ ہم اپنے رہبروں اور سربراہ کاروں کے انتخاب میں پیہم غلطیاں کرتے رہے ہیں اوراندھی پیروی کے اتنے خوگر ہوچکے ہیں کہ تباہ کن حوادث میں مبتلا ہونے سے پہلے کبھی آنکھیں کھول کر نہیں دیکھتے کہ ہمارے رہبر ہمیں کدھر لیے جارہے ہیں۔

ہماری یہی کمزوریاں دراصل ہماری سب سے بڑی دشمن ہیں۔ کسی باہر والے کی دشمنی اورکسی گھر والے کی غداری ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکتی اگر ہماری اپنی یہ کمزوریاں اس کی مدد نہ کرتیں۔ اب بھی ہم انھیں سمجھ لیںاور ان کی اصلاح پر آمادہ ہوجائیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حیدرآباد کا خون رائیگاں نہ گیا۔ لیکن افسوس کہ سقوطِ حیدرآباد کے بعد فوراً ہی ہم نے اس کی ایسی توجیہات شروع کردیں جن سے اپنی کمزوریوں کے سوا ہر دوسری ممکن التصور چیز پر اس حادثۂ عظیم کی ذمہ داری ڈالی جاسکے۔ گویا ہم اپنے نفس کو یہ اطمینان دلانا چاہتے ہیں کہ ہم خود تو سب کچھ ٹھیک ہی کر رہے تھے‘ صرف فلاں کی غداری اور فلاں کی بے وفائی نے ہم کو اس حادثے سے دوچار کردیا___ درحقیقت یہ وہ افیون کی گولیاں ہیں جو ہر چوٹ کے بعد ہم اس لیے کھایا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی خامیوں کا تلخ احساس نہ ہونے پائے۔ (’اشارات‘ ، ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن‘ جلد۳۱‘ عدد۵‘ ذی القعدہ ۱۳۶۷ھ‘ ستمبر ۱۹۴۸ء‘ ص ۱۰-۱۱)