مضامین کی فہرست


اپریل۲۰۰۶

اتحاد بین المذاہب کی شرعی حیثیت

سوال: اتحاد بین المذاہب کی تحریک متحدہ ہندستان کے زمانے سے جاری ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو مذاہب باطلہ کی تردید سے روکنا ہے اور اسلام کے ناجی ہونے میں شک ڈالنا ہے کہ سب مذاہب اپنی اپنی جگہ سچے ہیں ‘ نہ معلوم کس نے نجات پانی ہے۔

اس تحریک کو مسلمانوں نے نہیں اپنایا اور اس کے اثرات مسلمانوں میں نہیں پھیلے۔ پاکستان میں دینی مدارس کے تحفظ کے سلسلے میں جب تنظیمات مدارس دینیہ کو سربراہی حیثیت حاصل ہوگئی تو ناروے جو اس تحریک کا بانی مبانی ہے‘ اس نے اس موقعے کو غنیمت سمجھا کہ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے سربراہ امن پسند ہیں ان کی قیادت سے اتحاد بین المذاہب کی تحریک کو موثر بنانا چاہیے۔ چنانچہ ناروے حکومت نے ان کو دعوت دی اور ایک معاہدہ کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ:

۱- ہم جنگ جوئی اور دہشت گردی دونوں پر نفرین کرتے ہیں اور تشدد کے اسباب کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔

۲- قومی سطح پر اپنا فرض جانتے ہیں کہ مختلف مذہبی طبقات کے درمیان امن و سکون کا ماحول سب کے لیے پیدا کیا جائے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہرفرد کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ پوری آزادی سے اپنے عقیدے‘ اپنے مذہب اور اپنے مذہبی احکامات کے مطابق عمل کرسکے اور دوسرے عقائد اور مذاہب کی دل شکنی نہ ہو۔

۳- باہمی معاشرتی تعلقاتِ کار کے پروگرام بنائیں گے جن میں تمام مذہبی طبقات کو کام کرنے کا موقع ملے تاکہ برداشت اور باہمی پیار کا کلچر پیدا ہو۔

۴- ہم تمام مذاہب اور عقائد سے پرُزور اپیل کرتے ہیں کہ آیئے ہم سب  مل کر مذہبی برداشت‘ باہمی عزت اور امن وسکون کی فضا پیدا کریں۔

اس معاہدے کے بعد حکومت پاکستان نے اتحاد بین المذاہب کانفرنس کا انتظام کیا جس میں کہا گیا کہ یہودیت‘ عیسائیت اسلام ایک مجموعے کے تین اجزا ہیں: جس پر دنیاے اسلام خاموش رہی۔ اقوام متحدہ کی سطح پر اسلام اور مغرب کے درمیان فاصلے کم کرنے کے عنوان سے کوشش کی گئی اور اس کے لیے رجالِ کار متعین کیے گئے لیکن اُمت مسلمہ میں شاید ہی کسی نے اس کو غلط قرار دیا ہو۔ اس تسلسل سے ناروے حکومت نے اندازہ لگایا کہ اب مسلمان اسلامی پختگی چھوڑ چکے ہیں وہ عیسائیت سے اتحاد کرلیں گے۔ اس اتحاد کو بروے کار لانے کی خاطر سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے۔ ناروے حکومت نے معاہدہ توڑ کر مسلمانوں کے عقائد اور مذہب کی دل شکنی کی ہے اس لیے تنظیمات مدارس کے اکابر کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اعلان کریں کہ اسلام کا کسی باطل مذہب سے اتحاد نہیں ہوسکتا‘اور اعلان کریں کہ ناروے حکومت معاہدہ توڑچکی ہے اس لیے آیندہ اس عنوان سے بلائی گئی کسی دعوت میں شریک نہ ہوں گے‘ نیز توہینِ رسالتؐ کے مرتکبین کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔

جواب: اسلام اور اُمت مسلمہ کے لیے فکرمندی قابلِ قدر ہے اور علما کا فریضہ ہے۔ آپ کو اس فرض کی ادایگی پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جہاں تک اس معاہدے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو خلافِ شرع ہو۔ جب جنگ برپا نہ ہو تو اس وقت کفار کے جان و مال پر ان کی آبادیوں میں پہنچ کر حملہ کرنا جائز نہیں ہے‘ بلکہ جنگ کے دوران میں بھی بلااضطرار ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس وقت ہندستان‘ یورپ اور امریکا کے ساتھ ہم برسرجنگ نہیں ہیں‘ اس لیے ان ممالک کے باشندوں اور ان کی املاک پر حملے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کشمیر‘ فلسطین‘ افغانستان اور عراق اسلامی ممالک ہیں جن پر کفار نے غاصبانہ قبضہ کیا ہے۔ ان ممالک کی آزادی کے لیے کفار کی فوجوں پر حملے کرنا جائز ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر استشہادی حملے بھی جائز ہیں‘ جیساکہ فلسطین‘ افغانستان‘ عراق اور کشمیر میں یہ سلسلہ جاری ہے۔

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنے فتاویٰ میں اس شرعی مسئلے کی اچھی طرح وضاحت فرمائی ہے۔ ان کے ارشاد کے مطابق: ’’جب لوگ ایک ملک میں رہتے ہوں اور اس ملک کو اپنے طرزعمل سے اطمینان دلاتے ہوں کہ ہم یہاں کے شہری ہیں اور امن وامان کے ملکی قوانین کو مانتے ہیں‘ اور لوگوں میں معروف ہو کہ ان کی جان و مال مسلمانوں سے محفوظ ہے اور مسلم اورغیرمسلم دونوں سے انھیں کوئی خطرہ نہیں تو اس عرف کی حیثیت باہمی معاہدے کی ہوتی ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنا معاہدے کی خلاف ورزی کرنا ہے‘‘۔ اس لیے تحریکِ آزادی میں انگریزوں کے گھروں‘ دفاتر اور ہندوئوں کے مکانات اور دکانات پر حملے روا نہیں سمجھے گئے۔ اب بھی یورپ‘ امریکا اور بھارت میں مسلمانوں‘ علما اور عوام کا اتفاق اسی پر ہے۔ حتیٰ کہ قادیانیوں کے خلاف ۹۰سالہ تحریک کے دوران میں قادیانیوں پر حملوں کا فتویٰ کسی عالم نے نہیں دیا۔ زیرگفتگو معاہدہ اسی قسم کے عرفی معاہدے کا اعلان ہے۔ آپ کو اس کی بعض شقوں سے عیسائیت اور یہودیت کی تعظیم کا جو خدشہ پیدا ہوا ہے وہ درست نہیں ہے۔ معاہدے میں عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کی دل شکنی نہ کرنے کی شق قرآن پاک کے حکم کے عین مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًام بِغَیْرِ عِلْمٍط (الانعام ۶:۱۰۸) اور (اے مسلمانو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انھیںگالیاں نہ دو‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بناپر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔

اس سارے معاہدے کی روح یہی آیت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ صحابہ کرامؓ کی سیرت اور سلف صالحین کے اخلاقِ حسنہ سے یہی رہنمائی ملتی ہے۔ کفار اور مسلمانوں کے گمراہ فرقوں کے ساتھ رواداری اور مدارات پر تعامل رہا ہے۔ البتہ موالات جائز نہیں ہے۔ اوسلو معاہدہ مدارات اور رواداری پر مشتمل معاہدہ ہے‘ موالات پر مشتمل نہیں ہے۔ غیرمحارب کفار کو سبّ و شتم کرنا‘ ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کو حلال سمجھنا کسی بھی دور میں صحیح نہیں سمجھا گیا۔

آپ کا یہ خیال کہ اس معاہدے کی وجہ سے ناروے حکومت کو توہین رسالتؐ کی جرأت ہوئی‘ درست نہیں ہے۔ ’توہین رسالتؐ، تو بش کے اسلام اور مسلمانوں پر کروسیڈ حملے کی ایک کڑی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے۔ ناروے کی حکومت نے تو اس توہین کی مذمت کی ہے اور اس کے صحافی اور حکومت نے معافی بھی مانگی ہے لیکن ہم نے کہا ہے کہ اس صحافی کی یہ معافی اس کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ اس کو تعزیری سزا دینا بھی ضروری ہے‘ نیز ناروے کا صحافی اصل مجرم نہیںہے۔ اصل مجرم ڈنمارک کا صحافی ہے‘ باقی تمام یورپین اس کے نقال ہیں۔ البتہ ناروے حکومت پر اس شق کی بنیاد پر جس کو آپ نے نشان زد کیا ہے‘ دبائو بڑھایا جاسکتا ہے اور کہاجاسکتا ہے کہ اس کے صحافی نے   مسلمانوں کی دل شکنی کی ہے‘ دیگر بین الاقوامی قوانین اور ناروے کے ملکی قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی ہے‘ لہٰذا اسے ان سب کی خلاف ورزی کی بنیاد پر تعزیری سزا دی جائے۔(مولاناعبدالمالک)


گھریلو رویے اور تربیت

س:میرے سسرال والوں کا تعلق تحریک اسلامی سے ہے۔ میں خود بھی تحریک سے وابستہ ہوں مگر ناروا گھریلو رویوں کی بنا پر میں ذہنی اذیت سے دوچار ہوں۔

میری ساس سخت مزاج ہیں۔ وہ مجھے طنز کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ انھوں نے میری بیٹی کو مجھ سے بعض غلط فہمیاں پیدا کر کے دُور کردیا ہے‘ جو مزید باعثِ اذیت ہے۔ کیا ایک ساس کا ایسا رویہ درست ہے؟

کچھ عرصہ پہلے ایک معمولی واقعے سے میری ساس بری طرح ناراض ہوگئیں‘ جب کہ زیادتی بھی ان کی تھی۔ میں نے ان کی غلط روش پر توجہ دلائی تھی کہ آپ کا رویہ درست نہیں‘ کچھ تلخی بھی ہوگئی۔ مگر میرے خاوند نے مجھے ہی مجبور کیا کہ تم معذرت کرو۔ میرے پس و پیش پر انھوں نے مجھے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی ۔ کیا بیوی کی کوئی عزتِ نفس نہیں ہے؟ کیا اسلام اسے کوئی حق نہیں دیتا؟ کیا تحریک کے ذمے داران کا فریضہ نہیں کہ اپنے رفقا کے رویے کی اصلاح کریں اور ان کو توجہ دلائیں؟

ج: آپ کی ذہنی پریشانی اور تکلیف کے احساس سے بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید صبرواستقامت کی توفیق دے اور آپ کے شوہر اور سسرال والوں کو ہدایت سے نوازے۔

تحریکِ اسلامی جو ذہن بنانا چاہتی ہے‘ سادہ لوحی میں ہم اسے رکنیت‘ نظامت‘ امارت وغیرہ سے منسلک کردیتے ہیں۔ بلاشبہہ تحریک اسلامی کی رکنیت ایک اعزاز ہے لیکن اس سے زیادہ‘ ایک امتحان بھی ہے کہ جس ربّ کریم کی اطاعت اور حق کی پیروی اور حق کی اشاعت و اظہار کا عہد کیا گیا ہے اسے کہاں تک اپنی ذاتی زندگی خصوصاً اہلِ خانہ کے ساتھ تعلقات میں اختیار کیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ بعض اوقات یہ شکایات بھی سننے میں آتی ہیں کہ تحریک سے وابستہ فلاں صاحب نے تجارتی شریک کے ساتھ وہ رویہ نہیں رکھا جو متوقع تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں معیارِ مطلوب اور حقیقت واقعہ میں فرق ہمیشہ ملحوظ رکھنا ہوگا اور کوشش کرنی ہوگی کہ حقیقتِ واقعہ کم سے کم عرصے میں معیارمطلوب کے مطابق ہوجائے۔ مذکورہ سوال کے ضمن میں چند باتیں عرض ہیں:

پہلی بات یہ کہ کیا ایک دادی یا نانی کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی اولاد کو اس کی حقیقی ماں یا باپ سے متنفر کرنے کا حق ہے؟ قرآن کریم کا اور سنت کا واضح حکم ہے کہ صلہ رحمی کی جائے اور قطع رحمی نہ کی جائے‘ حسنِ ظن کو اختیار کیا جائے اور سوئِ ظن سے اجتناب کیا جائے۔ ایک فرد کو کم ترکرکے نہ دکھایا جائے کہ یہ غیبت کی تعریف میں آتاہے۔ اس غلطی کا ارتکاب ایک دادی یا نانی کرے‘ یا ایک بہو یا داماد کرے‘ فرق واقع نہیں ہوتا۔ اس میں نہ جنس کی قید ہے نہ عمر کی نہ رشتے کی۔ اس لیے اگر ایک دادی صاحبہ اپنے بیٹے کی اولاد کو اس کی حقیقی ماں سے متنفر کرتی ہیں تو وہ قرآن و حدیث کے واضح احکام کی خلاف ورزی کرتی ہیں‘ چاہے وہ اور ان کا پورا خاندان تحریکِ اسلامی کے کیسے ہی منصب پر کیوں نہ فائز ہو۔ یہ اپنی جگہ پر غلطی ہے اور اس کی اصلاح کرنا ان کا تحریکی فریضہ ہے۔ لیکن وہ ا یسا کیوں کرتی ہیں؟ کیا اس کا سبب ان کا احساسِ عدمِ تحفظ ہے کہ ان کی لائی ہوئی بہو ان کے بیٹے پر ’قابض‘ ہوجائے گی یا گھر میں اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے ایسا کرتی ہیں‘ یا بہو کی کسی بات کو دل میں رکھ کر اس کے ردّعمل کے طور پر ایسا کرتی ہیں؟ ان سوالات کا جواب میرے پاس تو نہیں ہے‘ شاید آپ کے پاس بھی نہ ہو‘ لہٰذا اس حوالے سے ظن و گمان سے بچنا ہی بہتر ہوگا۔

دوسری بات آپ نے یہ دریافت کی ہے کہ کیا شوہر اپنی والدہ کے کہنے میں آکر بیوی کو  گھر سے نکال سکتا ہے ؟ قرآن و سنت کی تعلیمات تحریکِ اسلامی کے لٹریچر میں وضاحت سے ملتی ہیں‘ کہ ایک شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو اپنا لباس سمجھے اور لباس کو جسم سے الگ کر کے نہ خود عریاں ہو نہ بیوی کو اس آزمایش سے گزارے۔ قرآن متوجہ کرتا ہے کہ اگر بعض فطری رجحانات کی بناپر بیوی کی کوئی ایک بات ناپسند بھی ہو تو یہ سوچے کہ اس کی دوسری خوبیاں کتنی قیمتی ہیں اور ان کی بناپر اس سے علیحدگی یا اسے دُور کرنے کا قصد نہ کرے۔ اسلام کی نگاہ میں یہ رشتہ اتنا اہم ہے کہ اسے برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے لیے اور غلط فہمی دُور کرنے کے لیے ایک دوست غلط بیانی بھی کرسکتا ہے‘ جو عام حالات میں شدّت سے منع ہے۔ اس رشتے کو کمزور کرنے اور بگاڑنے کے لیے شیطان اپنی ذرّیت کو ’نشانِ امتیاز‘ دینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

عام طور پر ساس بننے کے بعد ایک خاتون کا طرزِعمل کچھ نہ کچھ بدلتا ہے۔ اس کی اصلاح صرف دعا‘ اپنی جانب سے بھلائی‘ احسان کے رویے اور اللہ سے صبرواستقامت کی مسلسل دعا کے ذریعے سے ہی کی جاسکتی ہے۔

ایسے افراد کے لیے جو تحریکِ اسلامی سے وابستہ ہوںاصلاح و احتساب کا نظام تحریک کے اندر بھی اور خاندانوں کے معاملات کے حوالے سے بھی باقاعدہ ہونا چاہیے۔ ایک تحریکی کارکن کا اپنی رپورٹ میں یہ بیان کر دینا کہ اس نے کتنے افراد تک دعوت پہنچائی‘ کتنے اجتماعات میں شرکت کی‘ کیا مالی اعانت کی‘ کافی نہیں ہے۔ وہ کہاں تک اپنے خاندان میں محبت‘ عدل‘ نرمی اور بھلائی سے پیش آرہا ہے اور کہاں تک ماں باپ کی حمایت یا بیوی کی حمایت کی جگہ حق کی بات پر عمل کررہا ہے‘ رپورٹ کا حصہ ہونا چاہیے۔

ہم جس معاشرتی‘ معاشی اور سیاسی تبدیلی و انقلاب کا علَم لے کر نکلے ہیں اس میں گھر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب تک گھر کے محاذ پر ایک مجاہد اپنی سیرت کے کھرے ہونے کا مظاہرہ نہیں کرتا وہ بڑے محاذوں پر بحسن وخوبی اپنا کردار ادا نہیں کرسکے گا۔

ایسے مواقع پر بھی جب آپ کو اپنی ساس کے غلط ہونے کا یقین ہو‘ اگر آپ براہِ راست انھیں جواب نہ دیں تو آپ کے اجر میں زیادہ اضافہ ہوگا کہ آپ نے رشتے کے احترام میں ایسا کیا۔ ہاں‘ اپنے شوہر کو ضرور مطلع رکھیے کہ آپ کو کیا کچھ کہا گیا لیکن آپ نے کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ شوہر کی یہ اہم ترین ذمہ داری ہے کہ معاملات کو احسن انداز سے لے کر چلے کہ والدین کو ان کا مقام ملے اور اہلِ خانہ کے حقوق بھی مجروح نہ ہوں‘ بالخصوص اہلیہ تنہائی کے احساس کا شکار نہ ہوں۔

جہاں تک ماں کو ناراض کرنے کا تعلق ہے‘ بلاشبہہ قرآن و حدیث میں ماں کی اطاعت و فرماں برداری اور خوشنودی کا بار بار ذکر ہے لیکن وہی قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اگر والدین شرک کا حکم دیں تو کوئی اطاعت نہیں۔ حدیث بھی یہی بات کہتی ہے کہ’ ’خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں‘‘۔ اس لیے اگر ماں یا باپ ایک ایسی بات کا حکم دیتے ہیں جو حق کے منافی ہے تو اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ اسلام کے اصول واضح ہیں‘ ان میں کوئی ایچ پیچ اور مصلحتیں نہیں ہیں۔ تاہم معاملات کو حکمت‘ معاملہ فہمی‘ وضع داری‘ حسنِ سلوک‘ غیرجذباتیت اور صبروتحمل کے ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ آخرت پر نظر رہنی چاہیے اوراللہ تعالیٰ سے آسانی اور اس کی راہ میں استقامت کے لیے خصوصی دعا بھی کرنا چاہیے۔(ڈاکٹر انیس احمد)

علامہ شبلی نعمانی کی قرآن فہمی ‘ ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی۔ ناشر: کتاب سراے ‘ الحمدمارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۳۵۔ قیمت: ۷۵ روپے۔

برعظیم کی علمی و ادبی تاریخ میں علامہ شبلی نعمانی ؒکو اہم مقام حاصل ہے۔ علوم القرآن پر اگرچہ انھوں نے باقاعدہ کوئی کتاب تو نہیں لکھی لیکن سیرت النبیؐ سے لے کر علمِ کلام تک‘ ہر بحث میں انھوںنے اپنے مؤقف کو قرآنی استدلال سے مزین کیا۔ علامہ شبلی کی قرآنی خدمات کے جائزے کی جو کمی پائی جاتی تھی‘ ڈاکٹر سعودعالم قاسمی نے نہایت خوب صورتی سے اس کا ازالہ کیا ہے۔ چار ابواب پر مشتمل اس کتاب میں علامہ شبلی کی تدریس قرآن‘ علوم القرآن پر ان کی تحریروں کا تجزیہ‘ اسباب نزول سے متعلق ان کی تحقیقات پر تبصرہ اور قرآنی آیات سے ان کے استدلال پر بحث کی گئی ہے۔

مصنف کے مطابق علامہ شبلی اگرچہ ماثور تفاسیر سے استفادہ کرتے تھے لیکن ان کی نظر میں زیادہ اہمیت ان تفاسیر کو حاصل تھی جن میں قرآن کی تفسیر عقلی اور منطقی طریقے پر کی گئی ہو۔ شاید اسی وجہ سے ان پر اعتزال کا الزام بھی لگایا گیا‘ اگرچہ وہ عقیدے اور مسلک دونوں اعتبار سے حنفی تھے (ص۱۸)۔ ان کے نزدیک قرآن کا اصلی اعجاز فصاحت و بلاغت نہیں بلکہ اس کی ہدایت و حکمت ہے (ص ۲۹)۔ علامہ شبلی نظمِ قرآن کے قائل نہ تھے البتہ قرآن کے کسی واقعے کی تشریح و تفسیر میں آیات کے سیاق و سباق کا لحاظ رکھنے کو وہ ضروری سمجھتے تھے (ص ۱۲۲)۔ انھوں نے آیات و احادیث اور تاریخی شہادتوں سے ثابت کیا کہ آیات و سورہ کی ترتیب و تدوین عہدنبویؐ میں ہوچکی تھی۔ (ص ۳۸)

علوم القرآن پر لکھی گئی مختلف مصنفین کی کتابوں کی افادیت ان کی نظر میں تفسیر سے بھی زیادہ ہے۔ انھوں نے ان تصانیف کو چھے قسموں: فقہی‘ ادبی‘ تاریخی‘ نحوی‘ لغوی اور کلامی میں تقسیم کرتے ہوئے ان میں سب سے زیادہ قرآن کے فقہی احکام اور ادبی فصاحت و بلاغت پر لکھی گئی کتابوں کی تحسین کی‘ اور سب سے زیادہ ناقص ‘قرآنی قصص پر لکھی گئیں چیزوں کو قرار دیا۔

علامہ شبلی نے علم کلام کو یونانی فلسفے سے آزادی کا ذریعہ اور مسلمانوں کا عظیم کارنامہ قرار دیا۔ البتہ ان کے نزدیک متکلمین نے قرآن کے منفرد استدلال اور اسلوب سے خاطرخواہ فائدہ اٹھانے کے بجاے علمِ کلام کی عمارت منطق و فلسفے پر اٹھائی۔ (ص ۴۷-۴۸)

مولانا شبلی نے غزوئہ بدر کے اسباب‘ اسیرانِ بدر سے فدیہ لینے پر عتاب‘ ماہِ حرام میں  دفاعی جنگ‘ حرمتِ شراب کے زمانۂ نزول‘ ایلاء تخییر‘ مظاہرازدواج سے متعلق اسباب و زمانۂ نزول کی روشنی میں جو بحث کی گئی ہے‘ اسے خوب صورت تحقیقی اسلوب میں پیش کیا ہے۔  نیز سنت اللہ کی تفسیر‘ عالم کے قدیم ہونے‘ چہرے کے پردے‘ حضرت ابراہیم کے خواب کے عینی یا تمثیلی ہونے‘ جہاد و نماز میں مشابہت‘ تعدد ازدواج اور غرانیق العلٰی سے متعلق علامہ شبلی نے جو قرآنی استدلال کیا ہے‘ اسے بھی اختصار کے ساتھ کتاب میں سمو دیا گیا ہے۔

آخری حصے میں دارالمصنفین کے ایک رفیق کلیم صفات اصلاحی کے ایک تحقیقی مقالے اور اشاریۂ شخصیات کے اضافے نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ اپنے تحقیقی انداز‘ زبان و بیان کے خوب صورت اسلوب اور مضامین کی منطقی ترتیب کے باعث یہ مختصر کتاب    علامہ شبلی نعمانی کی فکرقرآنی کی تفہیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ (ڈاکٹر اخترحسین عزمی)


ناموس رسولؐ اور قانونِ توہینِ رسالتؐ، محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ۔ ناشر: الفیصل‘ اُردوبازار‘ لاہور۔ صفحات: ۴۲۱۔ قیمت (مجلد): ۳۰۰ روپے۔

زیرنظر کتاب میں توہینِ رسالتؐ کے مرتکب بدباطن افراد کے لیے سزاے موت کے قانون کو نصوص قرآن و سنت‘ اجماع اُمت‘ تعامل صحابہ کرامؓ اور اقوال و آرا فقہا و ائمہ مجتہدین کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب جمالِ رسولؐ کا دل کش تذکرہ بھی ہے اور قانونِ توہینِ رسالتؐ کا دائرۃ المعارف بھی۔ اس کا اندازہ کتاب کے ابواب سے بخوبی ہوتا ہے: ۱-نام و ناموس    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘ ۲-قانونِ توہینِ رسالتؐ، ۳-توہین رسالت:جرم وسزا‘ ۴-قانونِ توہینِ رسالتؐ عالمی اور ملکی تناظر میں‘ ۵-مسلم اسپین میں قانونِ توہینِ رسالتؐ اور حقوقِ انسانی‘ ۷-پاک و ہند کے چند شیدایانِ ناموس رسالتؐ،۸- قانون‘ مقدمات اور نظائر(عدالتی فیصلے)۔

قانونِ توہینِ رسالتؐ پر ائمۂ متقدمین میں سے ابوالفضل قاضی عیاض اندلسی کی کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی الصارم المسلول علی شاتم الرسول کے اہم مباحث کا خلاصہ پیش کرنے کے علاوہ عصرِجدید کے ممتاز      علما و مفکرین و محققین مولانا ابوالکلام آزاد‘ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ مفتی اعظم سعودی عرب عبدالعزیز عبداللہ بن باز‘ آیت اللہ خمینی‘ علامہ محمد اقبال‘ سیدابوالحسن علی ندوی اور دیگر بہت سے علما کی       آرا و فتاویٰ کے علاوہ معروف سیرت نگار ڈاکٹر محمدحمیداللہ کی اس موضوع پر تحقیقات کا خلاصہ بھی پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بھارت کے ایک نام نہاد‘ روشن خیال عالم دین مولانا وحیدالدین خان کی تصنیف شتم رسولؐ کا مسئلہ کا بھرپور تنقیدی محاکمہ بھی کیا گیا ہے اور ان کی فکر کی غلطی کو واضح کیا گیا ہے۔

بقول نعیم صدیقی: پاکستان میں ناموس رسولؐ کے تحفظ اور توہینِ رسالتؐ کے لیے  سزاے موت کا قانون پاس کرانے میں [آپ نے ] جو کاوش اور تگ و تاز کی ہے ‘ آپ کا اسم گرامی قلمِ مشیت نے تاریخ میں سنہری حروف سے لکھ دیا ہے… توقع ہے عدالتِ محشر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی (ص ۱۷)۔بلاشبہہ کتاب اپنے موضوع پر قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ بہت اہم اور بہت نازک مسئلے پر قرآن و سنت‘ تاریخِ قانون‘ عدالتی فیصلوں کے آئینے میں موضوع کا حق ادا کیا گیا ہے۔ اہل علم کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ ایمان کی روحوں میں سوزعشقِ مصطفیؐ کی تپش تیزکرنے کا ذریعہ بھی بنے گی۔ موضوعاتی اشاریہ کتاب کی جامعیت و افادیت میں مزید اضافے کا باعث ہے۔ (محمد ارشد)


مدنی معاشرہ (عہد رسالتؐ میں) ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری۔ ترجمہ: عذرا نسیم فاروقی۔ ناشر: ادارہ تحقیقات اسلامی‘ بین الاقوامی یونی ورسٹی‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۵۶۹۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔

سیرت نگاروں کی طویل فہرست میں ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کا نام ایک منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر العمری ۱۹۴۲ء میں موصل (عراق) میں پیدا ہوئے۔ جامعہ بغداد سے تاریخِ اسلام میں ایم اے (۱۹۶۶ئ) اور جامعہ عین الشمس قاہرہ سے ڈاکٹریٹ (۱۹۷۴ئ) کی اسناد حاصل کرنے کے بعد جامعہ بغداد اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں تاریخ اسلام اور سیرت کے استادرہے۔ اس دوران میں انھوں نے اپنے طلبہ کو حدیث اور تاریخ کے واقعات میں تطبیق کا ایک ایسا اسلوب سکھایا جس کے باعث سیرت نگاری کے فن کو مغرب کے اصولِ تاریخ کے تقاضوں کے ہم پلّہ کردیا۔

یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں مدینۃ النبی میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے مراحل سے بحث ہے اور اس سلسلے میں یہود کے قبائل کی ریشہ دوانیوں اور ان کے فتنے سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کا ذکر ہے۔ دوسرے حصے میں اس اسلامی معاشرے کو درپیش بیرونی اور خارجی خطرات سے نبٹنے کی تفصیلات ہیں۔ اس ضمن میں تمام اہم جہادی معرکوں کی مستند تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ مدنی معاشرے اور ریاست کے بہت سے اہم سیاسی اور دستوری مسائل بھی زیربحث آئے ہیں۔ آخری پانچ ابواب میں عام الوفود‘ صدیق اکبرؓ کی قیادت میں حج کی ادایگی‘ حجۃ الوداع‘ لشکرِاسامہؓ کی تیاری اور آپؐ کی وفات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ان تمام واقعات کی پیش کش میں مصنف نے سیرت نگاری کا ایک ایسا منہج وضع کیا ہے جو محدثین کے کڑے اصولوں کے قریب تر ہے اور جدید مغربی مؤرخین کے اصولِ تاریخ کے تقاضوں پر بھی پورا اترتا ہے۔

ہمیں مصنف کی اس راے سے کامل اتفاق ہے کہ مغربی دنیا کے مستشرقین اور عالمِ اسلام میں ان کے ہم نوا مصنفین نے جو تاریخی معیار متعین کیا ہے‘ وہ اسلامی تاریخ کے اس اوّلین دور کو  صحیح تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ مغربی مؤرخین کا یہ تحقیقی کام مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے متعارض اور علمی معیار کے لحاظ سے غیرمستند ہے۔ ان کے نزدیک غزوات نبویؐ کا محرک تجارتی اور اقتصادی مفادات ہیں‘ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ جہادی کوششیں اسلامی معاشرے کی تقویت اور اسلامی ریاست میں اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے لیے تھیں۔ اس کے مابعد زمانوں میں بھی اسلامی سپاہ کے پیش نظر یہی مقاصد رہے ہیں۔

ڈاکٹر عمری کا یہ مطالعہ سیرت نگاری کے ایک سائنٹی فک اسلوب کو پیش کرتا ہے جس کی روشنی میں ہم سیرت کے واقعات کی تکمیل میں احادیث سے کماحقہٗ استفادہ کرسکتے ہیں۔ مصنف تاریخ کے وقائع کو بھی محدثانہ جرح و تعدیل کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے صحیح اور حسن احادیث کے ساتھ ضعیف احادیث سے بھی استفادے کی راہ نکالی ہے۔ اس حصے کے دوسرے ابواب میں مواخات‘ مسجد نبویؐ کے انتظام‘ اصحابِ صفہ اور میثاقِ مدینہ کی مفید معلومات ہیں۔ یہود کے تینوں معروف قبائل کی پے درپے عہدشکنی کے ضمن میں بہت سی مفید معلومات سامنے آئی ہیں۔ یہود اور غیریہود کے ساتھ طے پانے والے معاہدات کی تفصیل بھی لائق داد ہے۔

سیرت اور اصولِ سیرت پر اس اہم کتاب کے اُردو ترجمے میں جس مہارت‘ ادبیت اور علمیت کو برقرار رکھا گیا ہے وہ مترجمہ عذرا نسیم فاروقی مرحومہ کی بلندپایہ علمی استعداد‘ اخذِمطالب کی اعلیٰ استعداد اور ابلاغ کے وسائل سے بھرپور استفادے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ادارے نے کتاب کی فنی تدوین کے ضمن میں جس شعور‘ سلیقے اور اہتمام کا اظہار کیا ہے‘ وہ لائق تحسین ہے۔(عبدالجبار شاکر)


متاثرین زلزلہ کی نفسیاتی بحالی: مسائل اور حل‘ پروفیسر ارشد جاوید/ ڈاکٹر محمدصدیق۔ ناشر: کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف سائیکالوجی پبلی کیشنز‘ ۶۸۱-شادمان I‘ لاہور۔صفحات: ۱۱۲۔ قیمت: بلامعاوضہ۔

اکتوبر ۲۰۰۵ء میں کشمیر و دیگر علاقوں میں ہولناک زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاکر‘ عبرت کا ساماں پیدا کیا وہاں غوروفکر کے بہت سے پہلو بھی سامنے آئے۔ متاثرین زلزلہ جس بڑے پیمانے پر نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوئے اس کا مطالعہ و رہنمائی بھی ایک اہم موضوع ہے۔ زیرنظر کتاب اس موضوع پر منفرد کاوش ہے۔ مصنفین خود متاثرہ علاقوں میں گئے۔    صورت حال کا جائزہ لیا۔ عملی مسائل کا اندازہ کیا اور علاج معالجے کے ساتھ ساتھ جس بڑے پیمانے پر نفسیاتی بحالی کی ضرورت تھی‘ اس کے ازالے اور نفسیاتی رہنمائی کے لیے لٹریچر بھی تیار کیا اور پھیلایا۔ یہ کتاب اسی کا تسلسل ہے۔

زلزلے سے سب سے زیادہ خواتین‘ بچے اور بزرگ متاثر ہوئے ہیں۔ لوگ شدید خوف‘ اضطراب اور بے چینی کا شکار ہیں‘ زلزلے کو دوبارہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ متاثرہ جگہوں پر واپس جانے سے خائف ہیں‘ شہدا کی چیخ و پکار ابھی تک ان کے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔ مالی نقصانات اور مستقبل کے مسائل سے پریشانی نے اُن کو بے چینی‘ اضطراب اور شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا۔ نیند نہ آنا‘ بھوک نہ لگنا اور مختلف ذہنی و جسمانی عوارض عام ہیں۔ ’’اگر ان لاکھوں ذہنی دبائو کے شکار لوگوں کی ضروری مدد نہ کی گئی تو ان میں اکثر دیوانگی اور دوسرے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوجائیں گے‘‘ (ص ۳۴)۔ ایسی صورت میں عوام کی اکثریت خدا پر ایمان کی وجہ سے اس کی رضا پر راضی اور صبروشکر پر قانع ہے۔ اگر یہ حادثہ کسی غیرمسلم آبادی میں رونما ہوتا تو نفسیاتی امراض بہت بڑے پیمانے پر ہوتے۔

زیرتبصرہ کتاب کے مطالعے سے اتنی نفسیاتی مہارت حاصل ہوجاتی ہے کہ ہنگامی سطح پر نفسیاتی مسائل کو حل کیا جا سکے‘ نیز بنیادی تربیت ایک ہفتے میں دی جاسکتی ہے۔ مصنفین نے توجہ دلائی ہے کہ حکومت آزاد کشمیر‘ سرحدحکومت‘ ماہرین نفسیات کی تنظیم (PPA) اور دیگر سماجی و سیاسی تنظیمیں اس پہلو پر توجہ دیں اور تربیت کا اہتمام کریں۔کتاب سے قدرتی آفات کے متاثرین کے علاوہ کسی بھی حادثے یا صدمے (trauma) اور ڈپریشن وغیرہ کے متاثرین کے لیے رہنمائی ملتی ہے۔ ابتدائی طبی امداد (first aid) اور عمومی نفسیاتی امراض سے متعلق بنیادی معلومات اور علاج کے اضافے سے کتاب کی جامعیت اور افادیت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ سرورق بامعنی اور جاذب نظر۔(امجد عباسی)


رشوت (ایک معاشرتی ناسور)، عبداللہ بن عبدالمحسن‘ ترجمہ: مولانا نصیراحمد ملّی۔ ناشر: محمد سرور عاصم۔ مکتبہ اسلامیہ لاہور ‘رحمن مارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۷۰۔ قیمت: درج نہیں۔

زیرتبصرہ کتاب سعودی عرب کے لاکالج کا ایم اے کی ڈگری کا تحقیقی مقالہ ہے۔ رشوت معاشرے کی بنیادی خرابیوں میں سے ایک ہے لیکن فقہ اسلامی کی کتابوں میں جرم’’رشوت‘‘ پر مستقل عنوان کے تحت بحث نہیں کی گئی۔ مؤلف نے پہلی دفعہ اس موضوع پر فقہ اسلامی میں بکھرے ہوئے مواد کو یک جا کیا ہے اور بڑی خوبی سے پراگندا مسائل کی شیرازہ بندی کی ہے۔

فاضل مؤلف نے مقدمے میں دینی تربیت کے ذریعے جرائم کو روکنے اور اُمت کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ جرم کی تعریف‘ سزا اور شریعتِ اسلامیہ میں سزائوں کی اقسام (تعزیر اور اس کی مقدار) کے تحت تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔

باب اول میں رشوت کی تعریف‘ رشوت کی اقسام اور جرمِ رشوت سے متعلقہ امور‘     باب دوم میں رشوت کی حرمت‘ اس جرم کو ثابت کرنے کے طریقے‘ راشی اور مرتشی اور درمیانی شخص کے لیے تعزیریں‘ اور باب سوم میں جرم رشوت کے اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔   باب چہارم میںمؤلف نے حکومتِ سعودیہ عربیہ میں نظامِ انسداد رشوت ستانی کا محاکمہ کیا ہے اور اس نظام کو قرآن و سنت کے مطابق مؤثر بنانے کے لیے تجاویز دی ہیں۔

زیرنظر کتاب میں رشوت بصورتِ ہدیہ و تحفہ پر طویل بحث کی گئی ہے جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ سعودی سرزمین پر رشوت کے انداز مختلف ہیں اور ہمارے ہاں کی طرح کی اوپن مارکیٹ نہیں ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ مؤلف نے رشوت کے متعلق قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ تمام مذاہبِ فقہ کے وسیع علمی ذخیرے سے بھی استفادہ کیا ہے اور گروہی عصبیت سے بالاتر ہو کر راجح فیصلے کو دلیل کے ساتھ درج کیا ہے۔ علاوہ ازیں مشکل اور پیچیدہ فقہی مباحث کو آسان اور عام فہم بنانے کی اپنی حد تک کوشش کی ہے۔

کتاب میں عنوانات کے تعین اور ضمنی‘ ذیلی سرخیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ مجموعی لحاظ سے قابلِ قدر کاوش ہے۔ قانون کے طلبہ‘ وکلا‘ علما اور نظامِ حِسبہ کے ذمہ داران اور اہل کاروں کے لیے چراغِ راہ ہے۔ (حمیداللّٰہ خٹک)


تعارف کتب

  • احکامِ دعا اور زادِمسلم،ترجمہ و تفہیم: پروفیسر محمد یوسف ضیائ۔ ناشر: الفلاح قرآن اکیڈمی‘ عزیزآباد‘    صادق آباد۔ صفحات:۳۱۱۔ قیمت: ۱۶۰ روپے۔[دعا کی ضرورت و اہمیت اور دعا سے متعلق تمام امور پر ایک اہم اور جامع کتاب۔ چند موضوعات: لفظ دعا کے معانی‘ دعا کی شرائط‘ آدابِ دعا‘ فضیلت کے اوقات‘ دعا میں ناپسندیدہ کام‘ وسیلہ پکڑنا‘ دعا کی بدعات۔ جہاں ضروری ہوا اختلافی نقطۂ نظر بھی دیا گیا ہے۔ آخر میں زادمسلم (دعائوں کا مجموعہ) شاملِ اشاعت ہے۔نیز ’مناجاتِ مکّہ‘ اور ’مناجاتِ مدینہ‘ کے تحت تراویح میں اختتام کے موقع پر عبدالرحمن السدیس اور امام مسجد نبویؐ احمد بن علی العجمی کی دعائیں بھی شامل ہیں۔]
  • آج نہیں‘ تو کبھی نہیں، محمدبشیر جمعہ۔ملنے کا پتا: فضلی بک‘ سپرمارکیٹ‘ اُردوبازار‘ کراچی۔ صفحات ۷۸۔ قیمت: ۴۰ روپے۔[’اگر آپ منصوبہ سازی نہیں کرسکتے، تو آپ ناکامی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں‘___ تعمیرشخصیت‘ اعلیٰ کارکردگی اور وقت کے بہترین استعمال پر ایک مختصر اور اہم کتاب۔ بالخصوص سستی و کاہلی اور تن آسانی (procrastination)کی وجوہات اور اس کے سدباب کا جائزہ۔ جدید معلومات‘ قرآن و حدیث اور اسلام کے قدیم علمی ورثے کا خوب صورت امتزاج۔ سائنٹی فک انداز میں چارٹ‘ گراف اور گوشواروں کے ذریعے عملی مشقیں۔ ہر فرد کی ضرورت بالخصوص تحریک اسلامی کے کارکنوں اور قائدین کے لیے مفید۔ عمدہ طباعت۔]
  • SALAH ‘ انعام اللہ خواجہ۔ ناشر: الفوز اکیڈمی‘ گلی ۱۵‘ گولڑہ‘ ۴/۱۱-ای‘ اسلام آباد۔ صفحات:۱۵۵۔ قیمت: ۱۰۰روپے۔[انگریزی زبان میں نماز پر ایک جامع‘ عام فہم مگر مختصر کتاب۔ انگریزی داں طبقے بالخصوص یورپی ممالک کے مسلمانوں کی تربیت اور دینی شعور کی آبیاری کے ایک اہم تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش۔ نماز کی دیگر شرائط و فقہی پہلو‘ جب کہ اختلافی نقطۂ نظر کو اعتدال سے پیش کیا گیا ہے۔ نماز میں عام طور پر تلاوت کی جانے والی سورتوں کا ترجمہ اور مختصر تشریح۔ فرض نمازوں کے علاوہ نفل نمازیں اور نماز جنازہ کاتذکرہ۔ آخر میں کتابیات (اُردو‘ انگریزی) رہنمائی کا اہم ذریعہ اور کتاب کی جامعیت و افادیت میں اضافے کا باعث۔]
  • خوش گوار گھریلو زندگی‘ مؤلف: حافظ مبشرحسین۔ ملنے کا پتا: کتاب سراے‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۱۸۳۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔[خوش گوار ازدواجی اور گھریلو زندگی کے لیے قرآن و سنت‘ واقعاتی حقائق‘ روزمرہ تجربات اور جدید نفسیاتی اصولوں کی روشنی میں عملی رہنمائی اور اہم تدابیر۔ چند نکتے: m زندگی ایک امتحان ہے mپُرسکون ازدواجی زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ ہے جو کہ خدا کے حق میں سے ایک حق ہے mمثبت سوچ اپنایئے‘ غلط فہمی کا شکار نہ ہوں mگھریلو مسائل ۹۹ فی صد محض نفسیاتی ہوتے ہیں۔ mآپ دانش مندی سے مشکلات گھٹا سکتے ہیں۔ جذبات کے مقابلے میں وضع داری اور انصاف سے کام لیجیے mوالدین کو اپنا ازدواجی مشیر بنالیں۔
  • محمد علی کلے کا قبولِ اسلام، مولف: ڈاکٹر عبدالغنی فاروق۔ ملنے کا پتا: کتاب سراے‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۵۔ قیمت: ۱۵ روپے۔[باکسنگ کی دنیا کے ناقابلِ تسخیر کردار محمدعلی کلے (سابق کاسیس مارسیلس کلے) کے قبولِ اسلام کی ایمان پرور داستان۔ فروری ۱۹۶۴ء میں عالمی ہیوی ویٹ چیمپین بننے کے بعد قبولِ اسلام کا اعلان کرتے ہی امریکی قوم کے ہیرو کو تعصب‘ تنگ نظری‘ بے اصولی اور بے انصافی کا سامنا کرنا پڑا۔ محمدعلی نے ویت نام کی جنگ میں معصوم انسانوں کے قتل اور سفیدفام آقائوں کے غلبے کے لیے شرکت سے انکار کردیا اور قید قبول کرلی‘ آج بھی امریکی قوم اور فوجیوں کو اپنے ضمیر کی آواز پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔]

احمد علی محمودی ‘ حاصل پور

’شیطانی کارٹون‘ ___تہذیبی کروسیڈ کا زہریلا ہتھیار‘ (مارچ ۲۰۰۶ئ) میں جہاں عیسائیوں اور یہود کے عزائم کھل کر سامنے آئے‘ وہاں اس تحریک کے اوّلین اور فکری رہنما قادیانیوں کو بھی بے نقاب کیا جاتا تو تشنگی رفع ہوجاتی۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں انگریز کا خودکاشتہ یہ پودا پیش پیش ہے۔ ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنا تحریک اسلامی‘ وقت اور حالات کی اہم ضرورت ہے۔


حمیداللّٰہ ‘پشاور

’حماس کی کامیابی ‘(مارچ ۲۰۰۶ئ) کے مطالعے سے حماس کی دو ٹوک پالیسی سامنے آئی: جب تک اسرائیل القدس خالی نہیں کرے گا‘ ۱۹۶۷ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس نہیں چلا جائے گا‘ فلسطینیوںکا قتلِ عام بند نہیں کرے گا‘ اور تمام قیدیوں کو آزاد نہیں کرے گا‘ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حماس کے اس ایمان افروز اعلان میں ’روشن خیالوں‘، ’اعتدال پسندوں‘ اور ’جمہوریت پسندوں‘ کے لیے  بڑی نشانیاں ہیں۔ مشروط امریکی امداد کو لات مار کر جس بے نیازی کا مظاہرہ کیا گیا اس نے تو گویا علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا مفہوم سمجھا دیا     ؎

مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیرِتربیت ہیں

وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسمِ کجکلاہی


نورالہدیٰ نور ‘چترال

اشارات ’کشمیر خطرناک سیاسی زلزلوں کی زد میں‘ (جنوری ۲۰۰۶ئ) میں نہایت عرق ریزی سے کشمیرکاز کے خلاف عالمی سازش سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ کاش! ہمارے حکمرانوں میں بصیرت اور بصارت ہوتی۔


کرم اللّٰہ منگریہ ‘ ڈیرہ مراد جمالی

’عصرحاضر میں اسلامی معاشرے کی تشکیل‘(جنوری ۲۰۰۶ئ) اچھی کاوش ہے اور عصرحاضر میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے عملی رہنمائی دی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مضمون میں جن نکات کی طرف اختصار کے پیش نظر محض اشارہ کیا گیا ہے‘ ان پر الگ مضامین بھی شائع کیے جائیں۔


محمد اقبال ہاشمی ‘ڈیرہ غازی خان

’اخوان المسلمون کی شان دار کامیابی‘ (جنوری ۲۰۰۶ئ) پڑھا۔ اس فکرانگیز مضمون میں یہ نکتہ        بڑا غورطلب ہے کہ مغربی دنیا کی کوشش ہوگی کہ اسلامی تحریکوں کو سسٹم میں جذب کرکے اُن کی نظریاتی جہت کو دھندلا دیا جائے اور انھیں اسلامی تحریکوں کے عظیم مقام سے ہٹاکر صرف سیاسی جماعت بناکر کھڑا کردے۔ جو کام اسلامی تحریکیں کرسکتی ہیں وہ سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں نظام میں اصلاح کرسکتی ہیں مگر اُسے بدل نہیں سکتیں۔ مسلم دنیا کو انقلاب کی ضرورت ہے اور انقلاب صرف تحریکیں لاسکتی ہیں۔


امریکی جیل سے ایک خط

آج کل تو بش صاحب ایسے ایسے احکام جاری کر رہے ہیں کہ امریکی بھی حیران ہوکر سوچتے ہیں کہ یہ شخص امریکا کا ہی صدر ہے یا کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہے! ایک خبر کے مطابق ورمائونٹ کے سینیٹر نے ٹی وی پر آکر احتجاج کیا ہے کہ پچھلے سال ورمائونٹ کے ۲۰ بوڑھے لوگوں نے عراق جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا تھا‘ پینٹاگون اور سی آئی اے نے اُن ۲۰ امریکی بوڑھوں کے خلاف تفتیش کی تھی اوراُن کی فائلیں بنائی گئی تھیں۔ اُن میں سے ۱۲بوڑھے افراد ایسے ہیں جو ویت نام کی جنگ لڑچکے ہیں اور اُن کی پانچویں اور چھٹی نسل امریکا میں پیدا ہوئی ہے۔ بش صاحب تو اب امریکیوں پر بھی اعتبار نہیں کر رہے۔ یہ مت ماری جانے کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔

پستی کی حد

بجاے اس کے کہ آپ کی بستی کے لوگ اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتے کہ ان کے درمیان ایک نیک بندہ ایسا ہے جو خود حلال کی کمائی کھاتا ہے اور دوسروں کو بھی نیکی کی تلقین کرتا ہے اور اگر دوسرے لوگ حرام رزق یا مشتبہ رزق کھانے والے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اس ناپاکی سے بچانے کی کوشش کرتا ہے‘ نیز بجاے اس کے کہ لوگ اس کی زندگی سے سبق لیتے اور خود اس کے ماں باپ اور رشتہ دار شکر بجا لاتے کہ ان کے گھر میں ایسا ایک پرہیزگار مردِخدا پیدا ہوا ہے‘ بستی کے لوگ اور ماں باپ اور اقربا اُلٹے اس سے بگڑتے ہیں اور اس کے متعلق پوچھ رہے ہیں کہ اس کی یہ پرہیزگاری کیسی ہے۔ وہ اگر اعتدال سے زیادہ سختی بھی کر رہا ہے تو اس کی زیادتی نیکی کی طرف ہے نہ کہ برائی کی طرف۔ آپ لوگوں کو اس کی پرہیزگاری کے متعلق پوچھنے کے بجاے یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ جو لوگ تجارت جیسے پاک ذریعۂ رزق کوبھی جھوٹ سے ناپاک کرلیتے ہیںاور جو لوگ رشوت اور ظلم اور ایسے ہی دوسرے حرام ذرائع سے روزی حاصل کرتے ہیں ان کی یہ ناپرہیزگاری کیسی ہے! قصوروار کون زیادہ ہے؟ وہ جو ان گندگیوں سے خود بچتا ہے اور دوسروں کو بچانا چاہتا ہے یا وہ جو ان گندگیوں میں خود مبتلا ہوتے ہیں اور بچنے والے کواُلٹی ملامت کرتے ہیں۔

مجھے یہ دیکھ کر بڑا رنج ہوتا ہے کہ اب مسلمانوں کی اخلاقی پستی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ان کی بستیوں میں خدا کا قانون توڑنے والے مزے سے دندناتے پھرتے ہیں‘ اور رب العالمین کے قانون کی پابندی کرنے والے اور اس کی اطاعت کی تلقین کرنے والے اُلٹے نکو بن جاتے ہیں۔

متعفن فضا میں اگر کہیںسے خوشبو کی ایک ذرا سی لپٹ آرہی ہو تو تندرست دماغ اس کی طرف لپکتے ہیں اور ان کا جی چاہتا ہے کہ ساری فضا ہی ایسی ہوجائے۔ لیکن ماتم کے قابل ہے ان بیمار دماغوں کا حال جو خوشبو کی اس لپٹ پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فضا میں اتنی سی خوشبو بھی باقی نہ رہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ فضا کی عفونت نے ان دماغوں کو اندر تک سڑادیا ہے‘ حتیٰ کہ اب ان کے لیے بدبو گوارا ہوگئی ہے اور خوشبو ناگوار۔ (’رسائل و مسائل‘، سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد۲۸‘ عدد ۵‘ جمادی الاول‘ ۱۳۶۵ھ‘ اپریل ۱۹۴۶ئ‘ ص ۶۲)