سوال: روزے میں اِن ہیلر (inhaler) کے استعمال کے بارے میں دو طرح کی آرا سامنے آتی ہیں۔ کچھ علما بالخصوص برعظیم پاک و ہند کے علما کی راے یہ ہے کہ دوران روزہ اِن ہیلر کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے‘ جب کہ سعودی عرب کے علما کی راے میں اس کا استعمال جائز ہے اور روزہ نہیں ٹوٹتا (ترجمان القرآن‘ جنوری ۲۰۰۱ئ)۔ ڈاکٹر صاحبان کی راے بھی یہی ہے کہ اس کے استعمال سے صرف پھیپھڑوں میں کشادگی پیدا ہوتی ہے اور سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے جس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس اختلاف راے سے میں ذہنی الجھن کا شکار ہوگیا ہوں۔ کیا کسی ایک متفقہ موقف پر ہم نہیں پہنچ سکتے‘ رہنمائی فرمایئے۔
جواب: آپ نے سعودی عرب کے علما کی راے اور فتویٰ کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ وہ روزہ کے دوران اِن ہیلر (inhaler) کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہیں‘ جب کہ پاکستان کے بعض علما اسے ناجائز قرار دیتے ہیں اور اس بنا پر آپ ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔ صورت واقعہ یوں ہے کہ اِن ہیلر جیسے بہت سے معاملات میں نہ صرف علما بلکہ خود صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلاف پایا جاتا تھا لیکن ان میں سے کسی نے یہ اصرار نہیں کیا کہ صرف اور صرف ان کی راے درست ہے اور باقی سب کی راے غلط ہے۔
دین اسلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ فقہی معاملات میں اپنے اندر ایک سے زائد تعبیرات کی گنجایش رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کا پورا احترام کرتے ہوئے امام مالکؒ نے ان کی بعض آرا سے اختلاف کیا‘ اور ان دونوں کا احترام کرتے ہوئے امام شافعیؒ نے دونوں کی رائے سے الگ راے قائم کی‘ جب کہ ان سب کی بنیاد قرآن و سنت کے واضح احکامات ہی تھے۔
اجتہادی اور قیاسی مسائل میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ جہاں تک اِن ہیلر کا تعلق ہے آپ نے خود یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ اس میں نہ کوئی غذا جسم میں داخل ہورہی ہے‘ نہ کوئی چیز نگلی یا پی جارہی ہے‘ جب کہ اس غبار سے جو مثل بھاپ ایک غبار ہے ایک مریض کے پھیپھڑے اسے سانس لینے میں سہولت فراہم کردیتے ہیں تو اس میں کون سا پہلو حرام کا نکلتا ہے۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے اِن ہیلر کے غبار میں کسی بے مزہ کیمیکل کی منتقلی ہوتی ہے‘ تو کیا روزے کے دوران وضو کرتے وقت جب کلی کی جاتی ہے تو زبان کے مسام اس سے تر نہیں ہوتے۔ چونکہ اس کا مقصد اور نیت زبان کو تر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے چوری کرنا نہیں ہے اس لیے ان چند قطروں کے زبان پر لگنے سے روزہ متاثر نہیں ہوتا۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اگر آپ سعودی عرب کے علم و تقویٰ پر اعتبار کرکے ایک عمل اختیار کررہے ہیں تو آپ صرف جس بات پر یقین رکھتے ہیں اور تحقیق کرنے کے بعد مطمئن ہیں اسی کے لیے جواب دہ ہیں۔
قرآن نے صاف حکم دیا ہے کہ مشورہ کرو اور جس پر مطمئن ہوجائو تو عزم کرنے کے بعد گومگو میں مبتلا نہ ہو۔ اگر آپ سعودی علما کی راے سے مطمئن نہیں ہیں تو جس کی بات پر یقین ہو‘ اور آپ نے تحقیق کر کے اس بات کو اختیار کیا ہو اسی پر قائم ہوجایئے۔ بال کی کھال اُتارنے میں نہ پڑیں‘ حدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ کس کی راے زیادہ بہتر ہے‘ کوشش کریں کہ قرآن و حدیث کا براہ راست مطالعہ کریں اور فقہا جن بنیادوں پر غور کرنے کے بعد ایک راے قائم کرتے ہیں ان کے بارے میں ابتدائی معلومات ضرور حاصل کرلیں تاکہ اختلاف راے کو برداشت کرنے کی تربیت ہوسکے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
س: میرے شوہر کا کپڑوں کی سلائی کا یونٹ ہے جہاں پر وہ برآمد کے لیے مال تیار کرتے ہیں‘ مثلاً جیکٹ‘ ٹی شرٹ‘ ٹرائوزر وغیرہ۔ بعض اوقات لیڈیز آئٹم کا بھی آرڈر آجاتا ہے۔ میراسوال یہ ہے کہ کیا خواتین کے مختصر لباس سینا گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟ میرے شوہر کا کام صرف سلائی کی حد تک ہے‘ آگے فروخت کرنے کا کام نہیں ہے۔ کیا یہ کاروبارجائز ہے؟
ج: اکلِ حلال دین کے بنیادی مطالبات میں سے ایک مطالبہ ہے اور ایمان کے تحفظ و ترقی کے لیے شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے سوال سے یہ جان کر بہت اطمینان ہوا کہ الحمدللہ اس دورِ انحطاط میں بھی ہمارے معاشرے میں اللہ کے ایسے بندے موجود ہیں جو اپنے ہاتھ کی محنت کی کمائی کو حلال ذرائع سے حاصل کر کے دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہش مند ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے شوہر کو ہمیشہ اکلِ حلال کے حصول کی توفیق دے اور رزق میں برکت دے۔ آمین!
جہاں تک کپڑوں کے سینے کے حوالے سے جواب دہی کا تعلق ہے‘ اگر ایک شخص ملازمت کے حصول یا کسی کاروباری معاہدے سے پہلے شرائط میں یہ بات شامل کرلے کہ وہ کس قسم کے کام کرے گا اور کس قسم کے کام سے معذور سمجھا جائے‘ تو یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ایک عمل ہوگا۔ لیکن اگر ملازمت اختیار کرتے وقت یا کاروباری معاملہ طے کرتے ہوئے ایسی کوئی شرط نہیں طے کی گئی اور کپڑوں کی سلائی کا مدت یا تعداد کے لحاظ سے ایک معاوضہ طے کرلیا گیا کہ اتنے دن کام کرنے پر‘ یا اتنی تعداد میں کپڑے سینے پر یہ ادایگی ہوگی تو اس شکل میں ایک کارکن کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں رہتا کہ وہ کپڑوں کے سینے میں اپنے انتخاب کی بنیاد پر کپڑے سیئے۔ اسے معاوضہ سینے کا مل رہا ہے‘ تراشنے یا کپڑوں کو کسی خاص طور پر ڈیزائن کرنے کا نہیں‘ اور نہ ان کپڑوں کے سلنے کے بعد استعمال میںاس کا کوئی دخل یا اختیار ہے۔
اگر ایک درزی ایک چست کپڑا سیتا ہے کیونکہ اسے تراشنے کے بعد جو کپڑا سینے کو دیا گیا اس کی شکل وغیرہ اس کے مشورے اور علم و نیت کے بغیر کسی اور نے کی ہے‘ اسے صرف اس کپڑے کو مشین کے ذریعے سینا ہے‘ تو گو وہ ایک چست قمیص سیتا ہے لیکن چست کپڑا پہننے کی معصیت میں اسے شریک تصور نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اس بات کا پورا امکان ہے کہ ایک فرد چست لباس پہننے کے باوجود اُوپر سے ایسا لباس پہن لے جس سے جسم کی نمایش نہ ہو۔ تاہم‘ یہ بہتر ہوگا کہ کوئی کاروباری معاہدہ کرتے ہوئے یا شرائط ملازمت کا تعین کرتے ہوئے پہلے سے یہ طے کرلیا جائے کہ کوئی نازیبا لباس نہ سیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان شاء اللہ آپ کے کام یا کاروبار میں اللہ اتنی برکت دے گا کہ آپ کو کمی محسوس نہ ہوگی۔
خیال رہے کہ جو شخص خواتین کے لیے ایسے لباس ڈیزائن کرتا ہے جس سے عریانیت کا فروغ ہو‘ وہ لازمی طور پر معصیت میں شریک تصور کیا جائے گا۔ عالمی شہرت کے بہت سے فیشن ایجاد کرنے والے ادارے اور افراد جو عریاں لباس ڈیزائن کرتے ہیں‘ یا جو اخبارات اور ٹی وی نیٹ ورک پر ایسے لباسوں کی نمایش کرتے ہیں‘ یا جو ماہرین ایسے لباسوں کی مارکیٹنگ کرتے ہیں‘ وہ سب معصیت میں برابرکے شریک تصور کیے جائیں گے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب (ا-ا)
مذہب‘ انسانی علم و عمل کے لیے ایک ماورائی طریق ہے‘ جب کہ تجربی علم اور سائنس کی بنیاد‘ مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ مذہب‘ انسان کو اس کی اپنی ذات اور کائنات کے بارے میں جو علم دیتا ہے‘ اور اس کے لیے جو راہِ عمل بتاتا ہے‘ ضروری نہیں کہ انسان کی اپنی فکر اور محسوسات و مشاہدے سے ہم آہنگ ہو۔ مذہب اور عقل‘ مذہب اور سائنس میں ہم آہنگی تلاش کرنے کی کوششیں بہت سے اہلِ مذہب اور سائنس دانوں نے کی ہیں۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے اس طرح کی کوششیں معتزلہ نے کی۔ آج کل قرآن اور سائنس‘ اسلام اور نظریۂ ارتقا اور کائنات کی سائنسی تشریح اور اسلام جیسے موضوعات پر بے شمار مضامین اور کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب اس سلسلے کی ایک منفرد تصنیف ہے۔ انھوں نے الہامی دعوؤں اور مشاہداتی علم کو خلط ملط کرنے سے اجتناب کیا ہے۔
مصنف نے پہلے تو اسلامی نقطۂ نظر سے علم کے بنیادی مصدر ’وحی‘ کی تشریح کی ہے۔ اُن کے نزدیک وحی کی دو قسمیں ہیں: وحیِ الٰہی اور جناتی وحی۔ وحی کے حاملین میں ارض و سما‘ حیوانات‘ فرشتے‘ جِن اور انسان شامل ہیں۔ گویا یہ وحی کے وصول کنندہ ہیں۔ تاہم حصولِ علم میں وحیِ الٰہی ہی ایک یقینی ذریعہ علم ہے اور انسان چونکہ اس زمین پر اللہ کا خلیفہ/نائب ہے‘ اس لیے اُس کی ہدایت کے لیے رسولوں کے ایک سلسلے کے ذریعے ہدایت و رہنمائی کا سامان پیدا کیا گیا ہے‘ جس کی آخری‘ حتمی اور غیرمشکوک صورت قرآن مجید ہے جو اللہ کے آخری پیغام بر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تمام انسانوں کو عطا کیا گیا۔
وحی کی دوسری صورتیں‘ ان کے خیال میں وجدان‘ ضمیر اور جبلّت ہیں‘ جو پیغمبر اور عام لوگوں‘ سب کو حاصل ہیں۔ اس طرح الہام بھی صالحین اور غیرصالحین سب کو ہوسکتا ہے۔یہ جنوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے‘ اوراس صورت میں اِسے وسوسہ کہہ سکتے ہیں۔ وجدان‘ ضمیر‘ جبلّت‘ الہام‘ اِلقا اور وسوسے سے جو علم حاصل ہوتا ہے‘وہ صحیح بھی ہوسکتاہے اور غلط بھی۔ لیکن وحیِ رسالت سے جو علم حاصل ہوتا ہے‘ وہ قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔ یہ علم صرف پیغمبر کا نصیب ہے۔
مصنف کہتے ہیں کہ احادیث کے مضامین میں وحیِ رسالت بھی شامل ہوتی ہے‘ اور اس کے علاوہ ان میں پیغمبر کے اپنے مشاہدات‘ تجربات اور غوروفکر کے نتائج اور ظنیات بھی شامل ہوتے ہیں۔ وحیِ رسالت اور اِن مشاہدات و تجربات کے نتائج میں فرق کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں: ’’احادیث کے مضمون پر کسی بھی علمی یا سائنسی تجزیے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مضمونِ حدیث کی نوعیت طے کرلی جائے کہ وہ وحیِ رسالت ہے یا… صرف تجربے اور غوروفکر کا نتیجہ‘‘۔ چونکہ کلام اللہ (قرآن مجید) کے بعد کلامِ رسولؐ (حدیث) ہی سب سے زیادہ یقینی اور اہم ذریعۂ علم ہے‘ اس لیے حدیث کی نوعیت کا تعین نہایت ضروری ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اگر وحی کا استعمال بغیر تجربے کے کیا جائے تو ہمیشہ ناقص معاشرہ وجود میں آئے گا‘ اور اگر تجربے ہی پر بھروسا کیا جائے تو معاشرے میں دوسرے قسم کے نقائص پیدا ہوں گے۔ اس لیے اسلامی معاشرے میں اعمال کا تعین وحی اور تجربے‘ دونوں کی روشنی میں ہونا چاہیے‘‘۔
قرآن اور سائنسی علم کے بارے میں مصنف بجاطور پر کہتے ہیں کہ قرآن کے ’خبریہ جملوں‘ کی صحت جانچنے کے لیے سائنس کو کسوٹی نہیں بنایا جا سکتا۔ مصنف کے نزدیک اسلام اور سائنس کے درمیان ربط کی پانچ بنیادیں ہیں: قرآن‘ محسوسات اور معقولات کو ایک ذریعۂ علم کی حیثیت سے پیش کرتا ہے‘ وہ وحی کو ایک اچھا ذریعۂ علم قرار دیتا ہے‘ وحی کے بہت سے پیغامات کو محسوسات اور معقولات کی مدد سے مدلل کرتا ہے‘ قرآن اوہام سے پاک ہے‘ چنانچہ علمی عقائد سے اس کا ٹکرائو نہیں‘ اور جہاں قرآن اور سائنس میں ٹکرائو نظر آتا ہے‘ وہ اصل میں سائنس دانوں کے توہمات اور ظنّیات پر جمے رہنے کی ضد کی بنا پر ہے۔
کتاب میں ’نیچری طرزِفکر‘ سے اجتناب برتا گیا ہے۔ ہمارے بعض علما اور مصنفین کی عادت ہے کہ جہاں کوئی نیا سائنسی انکشاف سامنے آیا‘ جھٹ قرآن مجید ے استشہاد کر کے یہ دکھا دیتے ہیں کہ یہ تو ہمارے ہاں بھی موجود ہے۔ ایٹم کا تصور‘ اجرامِ سماوی کی گردش‘ دن رات کی پیدایش وغیرہ۔ یہ کتاب اس معذرت خواہانہ رویّے سے پاک ہے۔ مصنف اس رویّے کو بجا طور پر ’سائنس زدگی‘ قرار دیتے ہیں اور اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ لیکن اس کوشش میں کہیں کہیں وہ علماے قدیم سے اس طرح اتفاق کرتے ہیں کہ اس کا دفاع مشکل ہے‘ مثال کے طور پر ’رتق‘ کی تفسیر میں۔ قرآن مجید کے مطابق پہلے آسمان اور زمین ’رتق‘ تھے۔ پھر انھیں ’فتق‘ کیا گیا (الانبیاء ۲۱:۳۰)۔ ابن عباس‘ ابن عمر اور بعض دوسرے اس سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ آسمان سے بارش نہ ہوتی تھی‘ اور زمین‘ روئیدگی نہ دیتی تھی۔ پھر اللہ نے انھیں کھول دیا‘ بارش ہونے لگی اور جان دار چیزیں پیدا ہونے لگیں۔ جدید کونیات کہتی ہے کہ یہ وسیع کائنات جو ہرلمحے وسیع تر ہوتی جارہی ہے‘ ابتداً ایک چھوٹے سے ’مادہ توانائی مرکزے‘ پر مشتمل تھی جو ایک بڑے انفجار (big bang) کے نتیجے میں کائنات کے وجود میں آنے کا باعث ہوا (فتق)۔ اگر قرآن مجید کی یہ تفہیم‘ جدید نظریاتِ کائنات سے قریب تر ہے‘ تو اِسے قبول کرنے میں کیا حرج ہے؟ بہرحال وحیِ الٰہی کی تفسیر وتشریح اور مشاہداتی علم میں توافق تلاش کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
مصنف بنیادی طور پر سائنس دان ہیں۔ وہ نباتیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ کتاب کا مطالعہ عام لوگوں کے علاوہ ہمارے علما کے لیے بھی مفیدہوگا۔ (پروفیسر عبدالقدیرسلیم)
یہ قرآن حکیم کی آخری ۱۲ سورتوں (العصر تا الناس) کے ان دروس پر مشتمل ہے جو خرم مراد مرحوم نے مسجد بلال‘ گارڈن ٹائون لاہور کے خطاب جمعہ میں ایک تواتر سے دیے تھے۔ انھیں کیسٹ سے اتار کر تدوین کے بعد کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ مدرس کے نزدیک ان سورتوں کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ: ان سورتوں میں اس کائنات میں انسان کے مقام کو واضح کیا گیا ہے‘ دین کی بنیادی تعلیمات اجمالاً بیان کی گئی ہیں‘ نیز اللہ اور انسان کے مابین تعلق جو قرآن کا مرکزی موضوع ہے‘ زیربحث آیا ہے۔ حضوؐر بھی ان سورتوں کو اکثر تلاوت فرماتے تھے اور صحابہؓ کو بھی اس کی تاکید فرماتے۔اگر ان سورتوں کا مفہوم ذہن میںرکھ کر نماز میں پڑھا جائے تو مختصر بولوں میں دین کی بنیادی تعلیمات تازہ ہوتی رہتی ہیں اور ذہن نشین بھی ہوجاتی ہیں۔
دروس کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملے اور فقرے‘ سمجھانے کا انداز‘ آیات کے اسباق کا عصری حالات پر انطباق اور آیات و الفاظ کے سیاق و سباق اور سورتوں کے مجموعی نظم کے حوالے سے توضیح‘ ان کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ سورہ کے آغاز میں اس کا مختصر تعارف اور پھر اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد ایک ایک آیت کی الگ الگ وضاحت‘ اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں اہم الفاظ کی تشریح بھی کی گئی ہے۔ مختلف مفسرین کی آرا بھی بیان کی گئی ہیں۔ آیت کا ماسبق آیت سے اور سورہ کا ماسبق سورہ سے بالعموم ربط بیان کیا گیا ہے۔
مرحوم نے چونکہ مشرق و مغرب کی تہذیبی اقدار کا گہرا مشاہدہ کیا تھا اور قرآن فہمی میں بھی ان کو خصوصی دل چسپی تھی‘ اس لیے ان کے درس قرآن کا انداز جدید تعلیم یافتہ طبقے کی ذہنی اپروچ سے ہم آہنگ ہے۔ قرآن فہمی کے سامان کے ساتھ ساتھ مدرسینِ قرآن کے غوروفکر کے لیے اہم نکات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس کے حصہ اوّل کا انتظار ہے۔ (ڈاکٹر اختر حسین عزمی)
بلوچستان آج توجہ کا مرکز ہے۔ اس موقع پر معروف کالم نگار نصرت مرزا نے بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر‘ ایک ہمہ جہتی جامع مطالعہ ’بلوچستان میں شورش، چھاپہ مار جنگ، سرداری نظام‘ کے عنوان سے نہایت بروقت پیش کیا ہے۔ کتاب کیا ہے‘ بلوچستان کے قدیم و جدید حالات پر جامع انسائی کلوپیڈیا‘ جس میں مختلف مواقع پرطبع ہونے والے کالموں کا انتخاب‘ نواب اکبر بگٹی کے انٹرویو سے لے کر ان کی تحریر: ’بلوچوں کا فسانۂ زندگی‘ سردار اسلم رئیسانی‘ مولانا حسین احمد شرودی‘ سردار یعقوب ناصر‘ میر نصیرمینگل اور ڈاکٹر شعیب سڈل کے انٹرویو شامل ہیں۔ کتاب میں قوم پرستوں کے موقف کے ساتھ ساتھ پاکستان اور حکومت پاکستان کا موقف بھی شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان‘ بلوچستان اور گوادر کے بارے میں بنیادی معلومات کتاب کا حصہ ہیں‘ جب کہ بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ‘ بلوچستان میں انسانی حقوق اور صوبائی حقوق‘ ڈاکٹر شازیہ کیس کی تحقیقاتی رپورٹ سے کتاب کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔
بحیثیت مجموعی اس کتاب سے بلوچستان کی صورت حال کی صحیح تصویرکشی ہوتی ہے۔ مختلف نقشہ جات‘ تصاویر اور معلومات پر مبنی چارٹس سے کتاب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان کے تازہ ترین حالات تاریخی پس منظر کے ساتھ جاننے کے خواہش مندوں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عمران ظہور غازی)
۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو پاکستان میں آنے والا زلزلہ بلاشبہہ جانی و مالی نقصان کے اعتبار سے معلوم انسانی تاریخ کے عظیم زلزلوں میں سے ایک تھا۔ اہلِ پاکستان و کشمیر کبھی بھی اس زلزلے کی تباہ کاریوں کو شاید فراموش نہ کرپائیں۔ بشیر سومرو نے کمال یہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں ازخود جاکر حالات کا بچشم خود نہ صرف مشاہدہ کیا بلکہ متاثرین سے ملاقاتیں کر کے اَن گنت واقعات میں سے بہت سے واقعات کو مروجہ رپورٹنگ کے بے جان انداز کے بجاے وہ انداز اختیار کیا جس میں یوں لگتا ہے کہ گویا واقعات قارئین کی نظروں کے بالکل سامنے ہیں۔ روزنامہ اُمت کراچی کے رپورٹر کی حیثیت سے انھوں نے متاثرہ علاقوں سے یہ دل گداز اور پُرسوز داستانیں رقم کیں جسے کتابی صورت میں پیش کر کے ایک اہم فریضہ سرانجام دیا ہے۔ کتاب میں بہت سی رنگین تصاویر بھی شامل ہیں جن سے قاری کے ذہن پر ان افراد کے چہرے بھی نقش ہوجاتے ہیںجن کی کہانیاں اس کتاب میں درج ہیں۔ یوں ایک مؤثر زلزلہ داستان ہمارے سامنے ہے۔ بشیر سومرو نے الفاظ کا صحیح استعمال کیا ہے‘ مثلاً ’’شہر جس کا نام بالاکوٹ تھا اور وہ اب تہہ و بالا ہوکر بکھرا پڑا تھا‘‘ (ص ۱۹)۔ ’’پہلے والا مظفرآباد نہ تھا بلکہ یہ تو ’مظفربرباد‘ لگتا تھا‘‘۔ (ص ۲۱)
پھر نہایت جامعیت کے ساتھ لفظوں میں تصویرکشی قاری کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے‘ مثلاً: ’’بالاکوٹ ہو یا مظفرآباد‘ ان شہروں اور قصبوں میں ہر شخص کہانی ہوچکا ہے۔ جس کو کھولو‘ اس کا کلیجہ چھلنی دکھائی دیتا ہے۔ یہ لوگ اپنے اتنے پیاروں کے صدمے اُٹھا چکے ہیں کہ اب ان کے دل دکھوں کی ہر سرحد سے گزر چکے ہیں‘‘۔ (ص ۵۰)
مظفرآباد کے حوالے سے فاضل مصنف ص ۵۳ پر رقمطراز ہیںکہ ’’زمین نے اپنی چھاتی کھول کر اس شہر کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے‘‘۔ ’’یہاں زخمی عورتوں پر دہری ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے زخموں اور صدموں کا خیال بھی رکھتی ہیں اور بچوں کو بھی سنبھالتی ہیں‘‘۔ (ص ۵۸)
حکومتی پروپیگنڈا‘ کراچی کی ایک لسانی تنظیم جسے پروپیگنڈے میں کمال حاصل ہے کا کچا چٹھا اور دینی تنظیموں کا زبردست اور قابلِ تعریف جذبہ و کام‘ سبھی کچھ قاری کو اس کتاب میں ساتھ ساتھ مل جاتا ہے اور یوں یہ کتاب ایک قاری پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ ایک تاریخ ہے جسے محفوظ رکھنا اور اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے آیندہ کے لیے کسی ایسے ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری رکھنا ضروری ہے۔(محمد الیاس انصاری)
معرکۂ لبنان نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے زعم کو باطل کرکے رکھ دیا‘ اور ایسا اس وجہ سے ممکن ہوا کہ لبنانی عوام دینی جذبے سے سرشار تحریک کے پرچم تلے متحد ہوگئے اور یہ ثابت کردیا کہ قیادت مخلص ہو تو عام لوگ اب بھی دینی قیادت کے پیچھے چلنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اُمت مسلمہ کے دشمنوں نے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہمارے درمیان نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنے کے لیے استعمال کیا اور ہمارے اجتماعی ماحول کو بڑی حد تک خراب کرکے رکھ دیا‘ تاہم لبنان پر اسرائیل کے حملے اور حزب اللہ کی قیادت میں بھرپور مزاحمت نے دشمنوں کی سازشوں کو دفن کردیا۔ آپ نے اپنے قلم کو اُمت کی صفوں میں وحدت کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ اس جذبے کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
’معرکۂ لبنان- تاریکیوں میں روشنی کی کرن‘ (ستمبر ۲۰۰۶ئ) فکر انگیز اور حوصلہ افزاہے۔ کاش کہ دنیا بھر کے مسلمان اسی راستے پر چلیں خصوصاً مسلم ممالک کے حکمران دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر معاملات کریں کیونکہ یہی عزت اور سرخروئی کا راستہ ہے۔ ’فکری یلغار،ماہیت اور اثرات‘ تقریباً ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے جو مغربی فکری یلغار کی زد میں ہیں۔ مصنف نے بجا طور پر کہا ہے کہ نام نہاد لبرل اور پروگریسیو مسلمانوں کے ساتھ اب مؤقر دینی جامعات کے فارغین بھی اس یلغار سے متاثر ہوکر میدان میں اتر آئے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ بعض دین دار اور تحریکی گھرانوں کے اندر تک یہ یلغار نفوذ کرگئی ہے۔
’فکری یلغار ، ماہیت اور اثرات‘ موجودہ دور کا سلگتا ہوا موضوع ہے۔ مصنف نے جامع انداز میں دشمنانِ اسلام کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فکری یلغار اور ان کے اثرات کا تجزیہ پیش کیاہے۔ احیاے اسلام کے لیے سرگرم اسلامی تحریکوںکو ان نکات کی روشنی میں ترجیحات کا تعین اور لائحہ عمل وضع کرنا چاہیے۔
ستمبر کا شمارہ متنوع موضوعات پر مبنی ایک متوازن شمارہ تھا۔ مولانا صدرالدین اصلاحی کی تفسیر تیسیرالقرآن کے مطالعے سے روایتی نقطۂ نظر سے ہٹتے ہوئے بعض اہم نکات پہلی بار سامنے آئے۔
’حقیقی اور مصنوعی تقویٰ‘ (ستمبر ۲۰۰۶ئ) کے مطالعے سے حقیقت ِ تقویٰ بخوبی سامنے آجاتی ہے۔ ’داعی کی اہم صفت‘ ہر داعی کے لیے ایک مشعلِ راہ تحریر ہے۔ فاضل مصنف نے مختلف تفاسیر سے استفادہ کیاہے جس سے موضوع کے تمام پہلو یکجا سامنے آجاتے ہیں۔
’تیسیرالقرآن کے کچھ قابلِ ذکر پہلو‘ (ستمبر ۲۰۰۶ئ) میں ص ۳۰ اور۳۱ پر آیات میں اغلاط پریشان کن ہیں۔ ترجمان القرآن میں تو ایسا نہ ہونا چاہیے۔
’روشن خیال اعتدال پسندی‘ (ستمبر ۲۰۰۶ئ) پڑھ کر دل لرز کر رہ گیا۔ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا ہمارا کام بس اتنا ہی رہ گیا ہے کہ اس قسم کے دین کُش اور قوم کُش حالات و تجزیے پڑھیں‘ دیکھیںاور بے بسی کے ساتھ اپنی روحوں پر داغ لگاکر بیٹھ جائیں؟
’پاکستان میں انصاف اور عدلیہ‘ (ستمبر ۲۰۰۶ئ) اور ’روشن خیال اعتدال پسندی‘ قابلِ تحسین اور عرق ریزی پر مبنی تحریریں ہیں۔راقم پیشہ وکالت سے وابستہ ہے۔ حصولِ انصاف میں جن رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ وہ واقعتا عملی دشواریاں ہیں اور ان کے حل کے لیے صحیح سمت میں رہنمائی دی گئی ہے۔ اصل ضرورت تو اقدام کی ہے۔ میں نے یہ مضامین بار ایسوسی ایشن کے چند دیگر وکلا کوسنا کر حق کی دعوت ادا کرنے کافریضہ بھی ادا کیا ہے۔
بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ ایک مہذب طریقہ نہ تھا ‘ بلکہ اس میں بہت سارے بے گناہ لوگ بھی شہید ہوئے۔ یہ سب کچھ قابلِ مذمت تھا لیکن جو شخص شرافت کی زبان ہی نہ سمجھے اور خود اتنا بڑا ظالم ہو کہ نہ تو اس کے فہمسائے اس کے شر سے محفوظ ہوں نہ رشتہ دار‘ اور اس کا ظلم و جبرکوئی ڈھکا چھپا بھی نہ ہو‘ صرف اور صرف اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر حکومت کو بلیک میل کرے‘ قومی تنصیبات کو نقصان پہنچائے اور انسانیت پر اتنے ظلم ڈھائے کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ ایسے شخص کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرنا‘ اور اتنی زیادہ ہمدردی اور بیان بازی کرنا‘ ایک ظالم کو مظلوم بنا دینا‘ پوری شدومد سے اس کی تشہیر کرکے نمازِ جنازہ (غائبانہ) ہرشہر میں ادا کرنا‘ آخر کس لیے؟
ضعف ایمان کے باوجود مسلمانوں پر روز بروز الحاد و زندقہ کا بڑھتا ہوا طوفان زیادہ واضح ہوتا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بلاجرم ضعیفی کی پاداش میں ان پر نازل ہوئی تھی لیکن جب وہ آئی تو جن کے سینے میں حَبِّ خَرْدَل [رائی کے دانے] کے برابر بھی ایمان تھا‘ اس کا آخری دم تک مقابلہ کرتے رہے۔ بخارا کی نئی حکومت کا بننا تھا کہ علما نے زور وشور سے اپنی تبلیغ جاری کردی۔ انھوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ لیں اور بخارا کے اردگرد گوریلا جنگ جاری کردی۔ انھوں نے نواحی علاقوں کے تمام قبائل میں بے چینی اور تڑپ پیدا کردی۔ تمام قبائل نے متحد ہوکر بالشوزم کے مقابلے کی ٹھان لی۔ ابراہیم بک جو ایک مشہور دلیر اور جری جوان تھا‘ ان کا رہنما بن گیا۔ اب آئے دن بخارا اور اس کے قریبی علاقوں پر حملے ہونے لگے۔ ان ترکتازیوں نے ان کی ایسی دھاک بٹھا دی کہ وسطی ایشیا کے تمام وہ قبیلے جو ابھی تک بڑھتی ہوئی بالشویکی قوت کو سہمی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے‘ دلیر ہوگئے‘ اور ان علما اور مسلمان گوریلا گروہوں کی مدد پر کمربستہ ہوگئے۔
امیرعالم خاں بخارا سے سیدھا افغانستان پہنچا جہاں اس نے مسلمانوں کی حالت کا پورا نقشہ ان کے سامنے پیش کرکے وہاں کے لوگوں سے ان بے یارومددگار مسلمانوں کی مدد کے لیے اپیل کی اور زندقہ کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب سے آگاہ کیا۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ جونہی افغان عوام پر اصل حالات کھلے وہ گوریلا گروہوں کی یلغاروں میں شامل ہونے کے لیے پہنچنے لگے یہاں تک کہ سرخ فوج سے ان لوگوں نے دو ایک شہر بھی واپس لے لیے۔ (’صبح سمرقند‘، جیلانی بی اے‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۹‘ عدد ۵‘ ذی القعدہ ۱۳۶۵ھ‘ اکتوبر ۱۹۴۶ئ‘ ص ۴۶-۴۷)