سوال : مجھے حصولِ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانے کا موقع ملا ہے۔ یہاں غیرمسلموں سے بھی ملاقات رہتی ہے اور اسلام کی دعوت دینے کا موقع بھی میسرآتا ہے۔ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) سے تو مشترک بنیاد‘ یعنی توحید‘ رسالت اور آخرت پر بات ہو سکتی ہے لیکن دیگر مذاہب‘ مثلاً کسی ہندو کو دعوت دینا ہو جو اس کے قائل نہیں ہیںتو کیا حکمت پیش نظر رکھی جائے؟ قرآن و سنت سے رہنمائی فرما دیں۔
جواب: اس سوال کا تعلق بنیادی طور پر دعوت کی حکمت سے ہے۔ قرآن کریم نے سورۂ نحل (۱۶:۱۲۵) میں اس اصول کا تعین کر دیا کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت‘ یعنی اسلام کی دعوت حکمۃ اور موعظہ حسنہ سے دی جائے گی اور اگر نوبت بحث و تکرار کی آجائے‘ یعنی بات شدت اختیار کرجائے تو جدال بھی احسن طریقے سے ہوگا۔ گویا بھونڈے انداز میں مخاطب کو للکارنا‘ غیرضروری مباحث میں الجھنا‘ اس کی تضحیک کرنا‘طنز یا ذلت آمیز رویہ اختیار کرنا دعوت کا طریق نہیں ہے بلکہ عقلی اور سوچے سمجھے انداز میں بات کرنا ہوگی۔
دوسرا اصول سورۂ آل عمران(۳:۶۴) میں یہ بیان کر دیا گیا کہ اہلِ کتاب ہوں یا دیگر افراد‘ آغاز قدر مشترک سے کیا جائے گا‘ یعنی ان موضوعات پر بات کی جائے جن میں بظاہر بنیادی اختلاف نہ پایا جاتا ہو۔ اسلام کے قرنِ اول میں یہ مشترک بنیاد توحید‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کو خالق‘ مالک اور رب ماننا اور ساتھ ہی اخلاقی طرزعمل کو اختیار کرنا تاکہ آخرت میں حساب کتاب میں آسانی ہو‘ قرار دی گئی۔ ان دو بنیادوں کو بیان کرنے سے قرآن کریم کا مدعا یہ نظر آتا ہے کہ رسالت جو دین کے تین بنیادی عقائد میں سے ہے‘ ممکن ہے مختلف فیہ ہو کیونکہ عموماً ایک عیسائی حضرت عیسٰی ؑکو‘ ایک یہودی حضرت موسٰی ؑ کو یا حضرت دائود ؑ اور حضرت یعقوب ؑکو اپنا قائد مانے گا لیکن خالق کائنات اور انسانی اعمال کی جواب دہی کا منکر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ان دو موضوعات کو دعوت دین کی حکمت سمجھانے کے لیے بطور مثال بیان کر دیا گیا۔
آج کے دور میں ان کے علاوہ اور بہت سے مسائل (issues) ایسے ہیں جن سے بات کا آغاز ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر انسانی جان کی حرمت‘ خواتین پر جبروتشدد‘ معاشی اور اخلاقی زوال کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات اور جس مذہب سے مخاطب کا تعلق ہو اس کے مذہب میں ان مسائل کے بارے میں موقف۔
ایک مرتبہ جب گفتگو کا آغاز ہو جائے تو زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ مخاطب کو پڑھنے کے لیے اسلام کے بعض پہلوئوں پر لکھے گئے آسان اور مدلل کتابچے دیے جائیں۔ موٹی موٹی کتابوں کے دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر مخاطب دل چسپی کا اظہار کرے تو قرآن کریم کا کوئی آسان ترجمہ‘ مثلاً انگریزی میں محمد اسد کا ترجمہ‘ عبداللہ یوسف علی کا ترجمہ‘ یا مولانا عبدالماجد دریابادی کا ترجمہ دیا جائے۔ ایسے ہی اسلامک فائونڈیشن کی طبع کردہ Our'an Basic Teachings جس میں بعض عنوانات پر قرآن کریم کی آیات مع ترجمہ مرتب کی گئی ہیں‘ دی جاسکتی ہے۔ اس طرح مخاطب کو قرآن کریم کو پڑھنے کا موقع ملے گا۔ اس پورے عمل میں کوشش کیجیے کہ مخاطب مطالعہ کے دوران سوالات اٹھائے جن پر آپ بھی بطور طالب علم غور کریں اور اُس سے یہی بات کہیں کہ ہم مل کر ان سوالات کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ کسی بھی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ قرآن کریم کے مطالعہ میں اٹھنے والے ہر سوال کا جواب اس کے پاس پہلے سے تیار ہو لیکن مجھے یقین ہے جب آپ اس طرح مطالعہ کریں گے اور کرائیںگے تو اللہ تعالیٰ اپنے کلام کی حکمتیں آپ پر خود کھولنی شروع کر دے گا۔
کسی ہندو یا عیسائی یا کسی بھی فرد کو مسلمان کرنا ایک ایسے دور میں جب مسلمان خود اسلام پرکم عمل کرتے ہیں‘ آسان نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے اخلاصِ نیت کی قدر کرتے ہوئے ایسے بہت سے کام آسان کر دیتا ہے۔ اس لیے اگر آپ خلوصِ نیت سے کوشش کریں گے تویہ کام بہت آسانی سے ہوجائے گا۔ ہاں ‘آپ کا اپنا طرزِعمل ہمدردانہ ہو۔ مخاطب سے باعزت طور پر پیش آیئے۔ اس کے ساتھ اپنے معاملات کو صاف رکھیے اور ساتھ ہی رب کریم سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کو اس نیک کام میں اپنی نصرت سے نوازے۔ اس کی مدد کے بغیر تو انبیا بھی یہ کام نہیں کرسکتے تھے‘ ہم کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات آغاز سے واضح کر دیجیے کہ آپ بھی اسلام کے طالب علم ہیں اور اسی کی طرح قدم بقدم اسلام کا مطالعہ اور اس پر عمل کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران ہندوازم کا مطالعہ بھی کیجیے تاکہ ہندو ازم کی بنیادی تعلیمات آپ کے علم میں آجائیں۔
ایک ہندو عالم Sen کی چھوٹی سی کتاب Hindus کے عنوان سے پینگوین سیریز میں طبع ہوئی ہے‘ اسے پڑھ لیجیے تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ ہندو ازم کیا ہے اور کس طرح اس کا تقابل اسلام سے کیا جا سکتا ہے۔ اسلام سے متعارف کرانے کے لیے Towards Understanding Islamاور Let us be Muslimsیہ دو کتابیں ان شاء اللہ بہت مددگار ہوں گی۔ انھیں آپ خود بھی پڑھیں اپنے دوست کو بھی پڑھنے کو دیں۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
س : میں متوسط گھرانے کی لڑکی ہوں۔ میٹرک کے بعد اسلامی جمعیت طالبات میں آئی۔ دو سال تک میں نے قریبی کالج میں نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔ اس کے بعد میں زون کی ناظمہ بھی رہی اور جتنا مجھ سے کام ہوتا تھا میں کرتی تھی۔ بی اے کے بعد یونی ورسٹی میں حصولِ تعلیم کی اجازت نہیں ملی۔ اب گھر کے کام اور ٹیوشن پڑھانا میرے ذمے ہیں اور اس صورت میں میرے لیے کام کرنا بہت مشکل ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں؟ حتیٰ کہ نظم کی اطاعت کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ والدہ محترمہ اِس حق میں نہیں ہیں کہ جمعیت کا کام کیا جائے۔
میرے ابا جان تحریک سے تعلق رکھتے ہیں اور گھرانہ پڑھا لکھا ہے لیکن والدہ اس بات کو پسند نہیں کرتی ہیں۔ ان حالات میں کہاںجائوں اور کیا کروں؟ ہفتہ وار درسِ قرآن گھرمیں ہی کرواتی ہوں۔ اس کے علاوہ بچوں کو قرآن پڑھاتی ہوں اور جہاں بھی کوشش ہو دین کی دعوت پھیلانے سے دریغ نہیں کرتی۔ براہ مہربانی آپ مجھے ضرور بتائیں کہ اس سلسلے میں عورتوں کو کس حد تک چھوٹ دی گئی ہے؟
ج: قرآن کریم نے دعوتِ دین کا فریضہ ہر مسلمان مرد و عورت پر عائد کیا ہے۔ چنانچہ امربالمعروف ونہی عن المنکر میں عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کی رفیق و ساتھی قرار دے کر اس غلط فہمی کو دُور کر دیا گیا ہے کہ عورتیں دعوتِ دین سے مستثنیٰ ہیں۔ لیکن قرآن و سنت نے نہ صرف دعوتِ دین بلکہ دین کے تمام معاملات میں جواب دہی کو استطاعت کے ساتھ وابستہ کردیا ہے۔ اگر ایک شخص کے ہاتھ پائوں رسیوں سے باندھ کر اسے بے بس کر دیا گیا ہے یا مرض کے غلبے سے وہ یہ قوت نہ رکھتا ہو کہ اٹھ کر نماز پڑھ سکے تو وہ اشاروں سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ گویا ایک کام کے کرنے کا تعلق صلاحیت و استطاعت کے ساتھ ہے۔ اگر حالات ایسے ہیں کہ باوجود خواہش اور تڑپ کے ایک شخص ایک کام نہیں کرپاتا تو وہ اس کے لیے جواب دہ نہیں ہے۔ لیکن یہ فیصلہ کرتے وقت صدقِ دل سے جائزہ لے لیا جائے کہ کیا واقعی ممکنہ ذرائع کا جائزہ لینے کے بعد ایک شخص اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے۔ اور کیا جن حالات میں وہ شخص ہے کسی اور طریقے سے دعوت نہیں دی جاسکتی۔
خصوصی طور پر جو بات آپ نے دریافت فرمائی ہے اس میں اس بات کی کوشش کیجیے کہ اپنی والدہ اور والد کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان سے اپنی تعلیم کے حوالے سے بات کیجیے تاکہ آپ یونی ورسٹی میں تعلیم مکمل کرسکیں۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے فاصلاتی نظام کے ذریعے ایم اے کی کوشش کیجیے۔ یونی ورسٹی لکھ کر معلوم کیجیے کہ آپ جس مضمون میں ایم اے کرنا چاہتی ہیں اس کے لیے کیا کرنا ہوگا۔
بچوں کو قرآن کریم پڑھانا خود دعوت ہی کی ایک اہم شکل ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو خود قرآن کا علم حاصل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے وہ سب سے اچھا انسان ہے۔ اس لیے آپ اس کام کی عظمت کو محسوس کرتے ہوئے بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کے ساتھ اس کے معنی و مفہوم سے بھی آگاہ کیجیے تاکہ ان میں اسلامی فکر پیدا ہوسکے۔ یہی بچے آیندہ چل کر تحریکِ اسلامی میں شامل ہوں گے اور جب تک وہ دعوتی کام کریں گے آپ کا اجر مسلسل بڑھتا جائے گا۔
ہفتہ وار درس قرآن باقاعدگی سے کرایئے لیکن اس میں بھی کوشش کیجیے کہ شرکا محض سامع نہ ہوں بلکہ انھیں آپ اس حد تک قرآن کریم کے الفاظ و معانی سے آگاہ کر دیں کہ وہ خود اپنے اپنے گھروں میں اس طرح کے اجتماعات کر سکیں گویا آپ trainersکو تیار کریں۔ اس غرض کے لیے انھیں خود تیاری کروا کے درس دینے پر آمادہ کریں۔ ان کے لیے ہر درس کے بعد ایک سوال نامہ مرتب کریں جس میں قرآن کے جس حصے کا مطالعہ کیا گیا ہے اس پر سوالات ہوں۔ ان سوالات کے جوابات کا جائزہ لینے کے بعد اگلے درس میں آپ انھیں اصلاح شدہ پرچے واپس کر دیں تاکہ وہ اپنی اغلاط سے آگاہ ہوں اور اپنی اصلاح کرلیں۔اس طرح آپ جو کام کررہی ہیں وہ خود دعوت کا بہترین نمونہ بن جائے گا۔
دین کی حکمت کا مطلب یہی ہے کہ آپ جہاں بھی ہوں اور جس حالت میں ہوں‘ اس کا بہترین استعمال اللہ کے راستے کی طرف بلانے کے لیے کیا جائے۔ اگر آپ اپنے وقت کا استعمال اس طرح کریں گی تو پھر کسی کالج یا محلے میں جاکر دعوتی کام نہ کرسکنے کا افسوس آپ کو نہیں ہوگا اور نتائج کے لحاظ سے ان شاء اللہ آپ کو مکمل اطمینان اورسکون ہوگا۔ (ا-ا)
س : مساجد میں بڑوں کے ساتھ بچے بھی نماز کے لیے آتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بچوں کو نماز کی عادت ڈالنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپؐ کی امامت میں جب خواتین نماز ادا کرتی تھیں توآپؐ کسی بچے کے رونے پر نماز مختصر فرما دیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ مسجد میں کیا رویہ ہونا چاہیے؟ عام طور پر نمازی حضرات بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں‘ جھڑکتے ہیں اور بسااوقات مارنے سے بھی نہیں چوکتے جس کا بچوں پر اچھا اثر نہیں پڑتا۔ دوسری طرف بچے بھی ہنسی مذاق اور شرارتوں سے نماز میں خلل کا باعث بنتے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
ج : مساجد کو اللہ تعالیٰ کے گھر سے تعبیر کیا جاتا ہے اور قرآن و حدیث نے کہیں یہ بات نہیں کہی کہ اللہ کا گھر بچوں یا عورتوں کے لیے بند ہے۔ لیکن کسی بھی گھر کے آداب کی طرح مسجد کے بھی آداب ہیں۔ مسجد کے آداب میں خشوع و خضوع اور خاموشی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ صفوں کے سلسلے میں نمازیوں کے مراتب کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ احادیث میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ امام کے فوری پیچھے وہ افراد ہوں جو قرآن کا علم زیادہ رکھتے ہوں تاکہ اگر امام سے سہو ہو تو وہ فوراً اس کی اصلاح کر دیں۔ صف بندی میں آغاز امام کے پیچھے سے کیا جائے اور پھر پہلے داہنی پھر بائیں جانب بالترتیب افراد صف بناتے جائیں۔ اس حوالے سے یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ بچوں کو بعد کی صف میں رکھا جائے اور آخر میں خواتین تاکہ وہ مردوں سے دُور رہیں۔ نیز احادیث میں اس بات کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ عورت کی نماز گھر میں‘ مسجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلے میں افضل ہے۔ اس لیے عام حالات میں خواتین کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنا چاہیے۔ مسجد میں نماز کے لیے اسی وقت آئیں جب ان کے لیے مسجد میں آنا ضروری ہے‘ مثلاً خطبہ جمعہ‘ درس قرآن‘ درس حدیث وغیرہ سے استفادہ کرنا۔ ایسی صورت میں مسجد میں حاضری دیں‘ نماز بھی باجماعت پڑھیں اور وعظ و درس سے بھی استفادہ کریں۔
آپ نے بالکل صحیح نشان دہی کی ہے کہ بچوں کے حوالے سے ہمارا رویہ افسوس ناک ہے۔ اگر بچوں کے مساجد میں آنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تو آیندہ نسلوں کا اسلام سے تعلق بھی کمزور ہوگا۔ اس لیے بچوں کو مساجد میں آنے پر ابھارنے اور ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ مساجد میں ان کے لیے ان کے ہم عمر بچوں کے تعاون سے ایسے پروگرام ہونے چاہییں جن سے وہ نہ صرف نماز میں پابندی کے عادی ہوں بلکہ دینی معلومات بھی حاصل کر سکیں۔
بچوں کو شرارت سے روکنے کا ایک انتہائی آسان طریقہ یہ ہے کہ مردوں کی صف میں اگر دومردوں کے درمیان ایک بچہ کھڑا کر دیا جائے تو بچے نہ شورغل کر پائیں گے ‘ نہ ایک دوسرے کو کہنی ماریں گے اور نہ کسی دینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی‘ نیز بچوں کو آخر سے پہلی صف میں رکھنے کا جومقصد ہے اس کے لیے انھیں تیار کیا جائے۔ جب وہ اس قابل ہو جائیں تو پھر تربیت یافتہ بچوں کی صفیں مردوں کی صفوں کے بعد بنائی جائیں۔(ا - ا)
موجودہ دور میں اسلامی معاشروں میں رجوع الی القرآن کا روز افزوں رجحان عام مشاہدے میں آتا ہے۔ اس کا ایک اظہار قرآن کے حوالے سے مختلف نوعیت کی کتب کی تحریر و اشاعت میں اضافہ ہے۔ اب لکھنے والوں کا دائرہ علماے دین تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ جدید تعلیم یافتہ افراد بھی علم حاصل کر کے اس میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مصنف نے اسی حوالے سے زیرتبصرہ کتاب‘ مفتی محمد نوراللہ فاضل دیوبند اور محمد حنیف (سی‘ اے) کے تعاون سے مرتب کی ہے۔ اس کتاب کا دوسرا انگریزی چہرہ بائیں طرف ہے جہاں سرورق پر اس کا عنوان Quranic Commandments درج ہے۔
قرآن کے حوالے سے احکام القرآن ایک الگ مبحث ہے۔ اس پر متعدد کتابیں ملتی ہیں‘یہاں مصنف کا مقصد احکامات کی حکمت یا ان پر بحث نہیں ہے بلکہ اس کی ایک فہرست مرتب کرنا اور قاری کے لیے متعلقہ آیت تک رسائی کو سہل بنانا ہے۔ تبصرہ نگار کی رائے میں مصنف اس میں کامیاب ہے۔ مصنف کی سکیم کو سمجھ لیا جائے تو پھر اس سے فائدہ اٹھانا مضمون نگاروں‘ مقرروں اور مطالعہ کرنے والوں کے لیے بہت آسان ہے۔ مصنف کے اپنے الفاظ میں یہ کتاب صرف اور صرف احکاماتِ الٰہی پر مشتمل آیاتِ قرآنی کا مجموعہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جو صاحبان مکمل قرآن کریم کے مطالعے کے لیے وقت نہ نکال سکیں تو وہ کم از کم اس کتاب کو پڑھ کر احکاماتِ الٰہی سے واقف ہوجائیں‘ خواہ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔
کتاب کے پہلے حصے میں ’’مضامین احکاماتِ الٰہی‘‘ کے عنوان سے آٹھ موضوعات (ایمانیات‘ اخلاقیات‘ عبادات‘ معاملات حدود و تعزیرات‘ حلال و حرام‘ آداب‘ متفرقات) کی فہرست دی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ہر حکم جہاں جہاں قرآن میں آیا ہے‘ اس کا سورہ نمبر اور آیت نمبر درج ہے۔ دوسرے حصے میں ’’فہرست قرآنی احکاماتِ الٰہی‘‘ کے عنوان سے سورۃ فاتحہ سے سورۃ والناس تک ان ۵۵۴ احکامات کو ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس کے آگے سورۃ اور آیت نمبر‘ اور تیسرے حصے میں جس صفحے پر متعلقہ آیت ہے‘ اسے درج کیا گیا ہے۔ پہلے دونوں حصے اردو اور انگریزی میں اپنی اپنی طرف سے دیے گئے ہیں۔ تیسرے حصے (ص ۹۷ تا ۳۲۰) میں آیات کا متن اور اردو انگریزی ترجمہ تین علیحدہ کالموں میں دیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایمانیات کے تحت ۱۹ نمبر پر حکم ہے: طاغوت سے اجتناب کرو جو سورہ نمبر۲ اور آیت نمبر۲۵۶-۲۵۷ ہے۔ دوسرے حصے میں اسی کا صفحہ نمبر ۱۲۸ ملتا ہے۔ تیسرے حصے میں صفحہ ۱۲۸ پر متعلقہ آیت مل جاتی ہے۔ یہ ایک مفید خدمت ہے جسے ہر لائبریری میں ضرور ہونا چاہیے۔ لکھنے پڑھنے والوں کی میز کے لیے بھی ناگزیر ہے۔(مسلم سجاد)
پروفیسر علی محسن صدیقی طویل عرصے تک کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ معارفِ اسلامی و تاریخ اسلام سے وابستہ رہے اور اس حیثیت میں انھوں نے بیش بہا علمی خدمات انجام دی ہیں۔ زیرنظر مجموعہ‘ اسلامی علوم و تاریخ کے موضوع پر ان کے پندرہ گراں قدر تحقیقی مقالات پر مشتمل ہے۔ یہ مقالات قبل ازیں مختلف رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اب انھیں یک جا پیش کیا جارہا ہے۔ یہ مقالات مصنف کی نصف صدی کی تحقیق و ریاضت کا نتیجہ ہیں۔
ان مقالات میں خاصا تنوّع ہے۔ (قرآن میں غیر عربی الفاظ کی حقیقت۔ لفظ ’مولیٰ‘ کی اصطلاحی اور لغوی تشریح۔ عرب جاہلیت میں موالی کی حیثیت۔ اسلام کا نظام احتساب وغیرہ) بعض مقالات شخصیات پر ہیں (نظام الملک طوسی کے سیاسی نظریات۔ فاتح صقلیہ قاضی اسد بن فرات۔ امام ابوالفرج ابن الجوزی)۔ دو مقالات بغداد کے تعلیمی اداروں (جامعہ نظامیہ۔ جامعہ مستنصریہ) پر ہیں۔ اس مجموعے کی خاص خوبی یہ ہے کہ مصنف نے حواشی تحریر کرکے مقالات کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔ کتاب میں اگرچہ حوالہ جات اور کتابت پر خاص توجہ دی گئی ہے‘ اس کے باوجود چند غلطیوں کی طرف توجہ مبذول کرانا بے جا نہ ہوگا۔ ص ۱۵ پر سورہ النّباء کی آیت درج کی گئی ہے: اِلاَّ جَھِیْمًا وَّغَسَّاقًا، اصل میں اِلاَّ حَمِیْمًا وَّغَسَّاقًاہے۔ ص ۴۱ پر مولی کا مادہ ’دل ی‘ نہیں بلکہ ’ول ی‘ ہے۔ اسی طرح ص ۵۴ پر مشہور عرب شاعر کا نام ’فرزوق‘ نہیں، ’فرزدق‘ ہے‘ وغیرہ۔
علی محسن صدیقی کی تحقیق میں دِقّت نظری اور باریک بینی نمایاں ہے۔ وہ تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اُن کے مقالات خالصتاً علمی تحقیق (اکیڈمک ریسرچ) کا نمونہ ہیں۔ یہ مجموعہ ہماری علمی دنیا میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ (محمد ایوب لِلَّہ)
نسلی صفائی سے ذہن بوسنیا کی طرف جاتا ہے لیکن کتاب اٹھا کر دیکھیں تو یہ قصص القرآن کی کتاب ہے۔ حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ،قومِ عاد و ثمود‘قومِ لوطؑ، حضرت شعیبؑ، حضرت یوسف ؑ، حضرت موسٰی ؑاور بنی اسرائیل کے دیگر انبیا کے حالات ملتے ہیں۔ آغاز میں اللہ کے تصور پر بحث ہے‘ بدھ تصور‘ ہندو تصور وغیرہ‘ ۹۹اسماے حسنہ پر اس کو ختم کیا گیا ہے۔ کتاب میں دوسری آسمانی کتب میں رسولؐ اللہ کا جو ذکر آیا ہے آخر میں اس کا حوالہ ہے۔ قصص کا بیان قرآن پر مبنی ہے اور بیشتر تفہیم القرآن سے لیا گیا ہے ‘مصنف نے اس کا حوالہ بھی دیا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ اور عیسائی عقائد پر تفصیل ملتی ہے۔ (م - س)
ڈاکٹر رحیم بخش شاہین (۱۹۴۲ئ-۱۹۹۸ئ) اردو زبان و ادب کے معروف معلّم‘ ادیب‘ محقّق اور اقبالیات کے متخصص تھے۔ شخصی اعتبار سے وہ ایک خوددار‘ درویش منش اور قناعت پسند انسان تھے۔ اوائل میں انھوں نے حصولِ علم کے لیے بہت محنت کی‘ پھر وہ وقت آیا جب علمی حلقوں میں وہ ایک مسلّمہ اقبال شناس‘ دانش ور اور ممتاز ادیب تسلیم کیے گئے۔ صدر شعبۂ اقبالیات جامعہ مفتوحہ (اوپن یونی ورسٹی) کے منصب پر فائز ہوئے‘ مگر ان کا عالمانہ انکسار برقرار رہا۔ ان کے اٹھ جانے سے قحط الرّجال کا احساس مزید گہرا ہوا ہے۔
زیرنظر کتاب میں ان کے فکروفن اور شخصیت پر مضامین‘ ان کے مجموعۂ کلام پر آرا و تاثرات‘ منظوم خراج تحسین اور متفرق تاثرات و مکالمات اور دیگر مفید معلومات کو یکجا کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطالعے سے ان کی شخصیت کا ایک مجموعی مثبت تاثر سامنے آتا ہے۔ یہ نفسانفسی کا دور ہے۔ لوگ قربت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں‘ مگر جانے والوں کو جلد بھلا دیتے ہیں‘ آج مرے کل دوسرا دن۔ لیکن ڈاکٹر شاہین‘ خوش بخت ہیں کہ ان کے ہونہار شاگرد وسیم انجم نے اپنے استاد سے بے لوث محبت کا ثبوت دیتے ہوئے‘ پہلے تو ان کا شعری مجموعہ چھاپا اور اب یہ دوسرا مجموعہ لائے ہیں۔
کتاب کی تدوین اور گٹ اَپ میں بہتری کی کافی گنجایش کے باوجود‘ وسیم انجم کی یہ کاوش قابلِ داد اور لائقِ ستایش ہے۔ اس سے ڈاکٹر شاہین کے احوال و آثار کی جامع تصویر سامنے آتی ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
اس تحقیقی اور تجزیاتی کتاب میں انکارِ حدیث کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ‘ اگرچہ بظاہر موضوع بحث تو چودھری غلام احمد پرویز کے فکروفن کو بنایا گیا ہے‘ لیکن مصنف نے مختلف پہلوئوں سے بحث کی وسعت اور موضوع کے پھیلائو میں ‘مختلف مذہبی تصورات پر بھی ایک جان دار محاکمہ پیش کر دیا ہے۔
پرویز صاحب کے ہاں مسلمہ دینی شعائر سے فرار‘ استدلال کی کمزوری‘ موقف میں تبدیلی‘ یکسوئی کے فقدان اور تضاد فکری کو جس پیرائے اور ربط کے ساتھ پیش کیا گیا ہے‘ وہ خود پرویز صاحب کے مریدوں کے لیے ایک چشم کشا آئینہ ہے۔
جدیدیت کی لہر اور امریکا کی زیرنگرانی تحریف فی الدین کی تحریک کا ہراول دستہ منکرین حدیث یا ان کے آس پاس کے خود ساختہ ’’ماہرین علوم اسلامیہ‘‘ ہیں۔ ان عناصر کے استدلال کی داخلی کمزوری کو سمجھنے میں بھی یہ کتاب مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر کتاب کے اسلوبِ بیان میں آسان نویسی پر توجہ دی جاتی تو اس کا دائرۂ تفہیم وسیع تر ہوجاتا۔ تاہم‘ اب بھی اہلِ شوق اس سے دلیل کی قوت حاصل کر کے معرکۂ حق وباطل میں ایک کمک حاصل کرسکتے ہیں۔ (سلیم منصور خالد)
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے اردو میں مختلف موضوعاتی مجلّوں کے بعد‘ ادارے کے ایک جامع تحقیقی مجلے کا آغاز‘ زیرنظر وقیع پیش کش سے کیا ہے۔ موضوعات کے تنوع اور معیار کے ہر لحاظ سے یہ تحقیقی مجلوں میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ عالمی‘ملّی اور قومی مسائل کے حوالے سے پروفیسر خورشید احمد (عالمی سرمایہ دارانہ نظام)‘ ڈاکٹر انیس احمد (عالمی امن اور انصاف)‘ خالد رحمن (امریکا کی مزاحم قوتیں) اور نواب حیدر نقوی (پاکستانی معیشت) کے مقالات کے علاوہ خارجہ امور میں چین سے تعلقات اور داخلی امور میں شمالی علاقوں نیز خاندان کے ادارے پر انسٹی ٹیوٹ کی مطالعاتی رپورٹیں بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ انگریزی کی وجہ سے اسے پاکستان کے عالی مقام حلقوں میں اور بین الاقوامی تحقیقی دنیا میں بھی جائز مقام ملنا چاہیے‘ یقینا اس طرح مسائل پر درست نقطۂ نظر کے ابلاغ کا راستہ کھلے گا۔ (م - س)
قائداعظم محمد علی جناح کی خواہر محترمہ فاطمہ جناح کا ذکر قائداعظم کی سیاسی سرگرمیوں اور سماجی مصروفیات کے ساتھ ناگزیر ہے۔ وطن عزیز کے قومی حلقوں نے ۲۰۰۳ء کو ’’مادرِ ملت کا سال‘‘ قرار دیتے ہوئے مختلف تقریبات‘ بچوں کے تقریری مقابلوں‘ مطبوعات کی اشاعت‘ مضامین اور کتب نویسی کے انعامی مقابلوں کے ذریعے مرحومہ کی یاد تازہ کرنے کی کوشش کی کہ ممکن ہے اس طرح اس بااصول اور جرأت مند خاتون کی زندگی سے ہم کچھ سبق سیکھ سکیں۔
زیرنظر کتاب فاطمہ جناح کی توضیحی کتابیات ہے۔ پہلے حصے میں اُن کے بارے میں لکھی جانے والی ۹۳ کتابوں کا تفصیلی تعارف ہے۔ دوسرے حصے میں ۲۰۰۳ء کے دوران میں اخبارات و رسائل میں مطبوعہ مضامین کے حوالے یکجا کیے گئے ہیں۔تیسرے حصے میں مختلف شخصیات‘ طلبہ و طالبات اور بعض ایسی عام خواتین و حضرات کے تاثرات ہیں جنھیں محترمہ فاطمہ جناح کو دیکھنے اور ان سے ملنے کا موقع ملا۔ آخری حصے میں کچھ تصاویر اور فاطمہ جناح کے مضامین کی فہرست اور انگریزی کتابیات وغیرہ شامل ہیں۔
اپنے موضوع پر یہ ایک اچھی کتاب ہے جو فاطمہ جناح کا بخوبی تعارف کراتی اور مزید مطالعے کے لیے رہنمائی کرتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی محنت لائق ستایش ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ علمی و ادبی لحاظ سے بلوچستان کے سنگلاخ ماحول میں وہ بڑے استقلال اور لگن سے تصنیف و تالیف کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)
محترم عبدالرشید ارشد کی تقریباً ۵۰ تصنیفات و تالیفات کی ایک مشترکہ خوبی یہ ہے کہ ان سب میں اسلام سے گہری جذباتی وابستگی اور مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں ایک سنجیدہ فکرمندی نظر آتی ہے۔
زیرنظر کتاب میں اسلام اور دیگر ادیان کا مطالعہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسلام بنی نوع انسان کی‘ بلارنگ و نسل بھلائی چاہتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایک طرف تو یہود و نصاریٰ اسے ختم کرنے کے درپے ہیں اور دوسری طرف خود مسلمان بھی اسلامی تعلیمات کو پسِ پشت ڈالے ہوئے ہیں۔ کتاب میں یہود کے عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہود کا مقصد محض ایک ملک حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے دیرینہ خواب (عظیم تر اسرائیل) کی تعبیر کے بعد ساری دنیا کی معیشت پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہودی تعلیمات کو فروغ دینے کے ساتھ وہ دیگر تمام مذاہب کے پیروکاروں خصوصاً مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس طرح فحاشی و بدکاری اور جنسی بے راہ روی کے ذریعے بھی وہ معاشروں میںانتشار پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مصنف نے بتایا ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے ذریعے یہود کے عزائم پورے ہوئے‘ کلنٹن کو جنسی اسیکنڈل کے ذریعے پیچھے ہٹاکر جارج بش کی پشت پناہی کی گئی اور عراق و افغانستان میں مسلمانوں کے خلاف صلیبیوں کو صف آرا کیا گیا۔ کتاب میں خاص طور پر پاکستان کے بارے میں اسرائیلی عزائم کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہماری قیادت کس طرح پکے ہوئے پھل کی طرح یہود و نصاریٰ کی جھولی میں گرپڑی ہے۔ مصنف نے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں کو بھی طشت ازبام کیا ہے۔ ہربات کے دلائل و شواہد اور حوالے پیش کیے گئے ہیں۔ (محمد ایوب لِلَّہ)
ڈاکٹر سفرالحوالی (پ: ۱۹۵۰ئ) نے خلیج کی جنگ کے زمانے ہی سے تحریر و تقریر کے ذریعے عالمِ اسلام کو خبردار کرتے رہے کہ امریکی افواج کی آمد‘ یہود کی برسوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ الحوالی کی فیتہ بند تقریریں عربوں میں خوب خوب مقبول ہوئیں مگر ۱۹۹۴ء میں حق گوئی کی پاداش میں انھیں قیدوبند کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ اور ان کی کیسٹیں بھی ممنوع قرار پائیں۔
سفرالحوالی نے زیرنظر خطبہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو اسپین میں منعقدہ مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کے پس منظر میں دیا تھا۔ مذکورہ کانفرنس میں امریکا اور روس کے صدور اور اسرائیل کے وزیراعظم بھی شریک ہوئے تھے اور یہ اسرائیل کو عربوں کے لیے قابلِ قبول بنانے (فلسطینیوں کے بقول ’قدس کی فروخت‘)کی مہم کا نقطۂ آغاز تھا۔
مصنف کے نزدیک مسئلہ فلسطین سیاسی اور نسلی نہیں بلکہ اس کا بنیادی تعلق قبلۂ اول سے ہے اور یہ ایمان کامسئلہ ہے۔ زیرنظرخطبے میں انھوں نے مسلمانوں اور اہلِ کتاب کی عداوت اور نصاریٰ پر یہودی عقائد کے غلبے کی وجوہ پر روشنی ڈالی ہے اور وضاحت کی ہے کہ عیسائی‘ بشمول ریگن و بش عقیدہ ہرمجدون (Armageddon) کے قائل ہیں۔ پوری عیسائی دنیا حضرت مسیحؑ کی آمد کی منتظر ہے جس کے بعد ان کے عقیدے اور توقعات کے مطابق‘ عیسائی ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کرتے رہیں گے۔
سفرالحوالی نے امریکا میں سرگرم بہت سی یہود نواز شخصیات اور تنظیموں‘ صہیونی منصوبوں اور اس پس منظر میں عالمِ اسلام کے بارے میں مغرب کے اہداف اور مذموم مقاصد کا ذکر کیا ہے‘ مثلاً: فلسطین میں جہاد کا خاتمہ‘ دعوت الی اللہ سے روکنا‘ عربوں کی فوجی قوت کا خاتمہ‘ عسکری لحاظ سے عربوں کو یہودیوں کے تابع کرنا‘ ابلاغ عامہ اور تعلیمی نصاب میں تبدیلی‘ معیشت پر یہودیوں کی پوری گرفت‘ خلیج کے تیل اور پانیوں پر ڈاکازنی‘ اخلاقی پستی اور گراوٹ کا فروغ‘ ارضِ حجازکو یہودیوں کا خطہ بنانا وغیرہ۔ الحوالی نے اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے اور درپیش معرکے کی تیاری کے لیے تجاویز بھی دی ہیں۔
مبشرات (ناظم: محمد صہیب قرنی) نے اپنی پہلی کتاب‘ اہتمام سے شائع کی ہے۔ (ر-ہ)
سید اسعد گیلانی مرحوم کا ’’ایک مکتوب‘ دوست کے نام‘‘ (دسمبر ۲۰۰۴ئ) انتہائی موثر‘ایمان افروز اور تحریکیت سے بھرپور ایک شاہکار مضمون تھا۔ میں نے دو بار پڑھا جیسے یہ نامہ میرے ہی نام تھا۔ مضمون کا ایک پیرا ہمارای موجودہ صورت حال پر کس قدر لفظ بہ لفظ منطبق ہوتا ہے۔ قوسین کے تصرف کے ساتھ:
دشمنِ حق (بش) نے آخر تم ہی کو نرم چارہ سمجھ کر‘ کیوں مقصدِحیات سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ پھر وہ اتنا جری کیوں ہوگیا ہے کہ علی الاعلان (ایک فون کے ذریعے) تمھیں احساسِ شکست دلا رہا ہے کہ میں نے تم (عالمِ اسلام) پر قابو پا لیا ہے۔ یہ تو بڑی شرم کی بات ہے بلکہ یہ بات حمیتِ مومن کے خلاف اور اُس کی مردانگی (کمانڈو صفت) کو کھلا کھلا چیلنج ہے۔ اُس (بش) نے اگر تمھیں یہ احساس دلایا ہے کہ وہ تم پر قابو پاگیا ہے تو تم بھی اُسے خم ٹھونک کر جواب دو کہ بندئہ مومن کو مفتوح کرنا کوئی کھیل نہیں ہے۔ فرعون و نمرود بھی جس مومن کی سطوت سے پناہ مانگیں اُس پر چند اندیشہ ہاے دُور دراز کا جال پھیلا کر قابو پانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔(ص ۵۲)
سید مودودیؒ کی ۵۰‘ ۶۰ سال پہلے کی تحریریں آج بھی بالکل حسب حال محسوس ہوتی ہیں۔ صدی نئی آگئی ہے لیکن غالباً ابھی دور تبدیل نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کیا خوب کہا ہے‘ شیر کا منصب ادا کرنے کے لیے بس شیر کا دل درکار ہے۔ وہ شیر نہیں جو بکریوں کی کثرتِ تعداد یا بھیڑیوں کی چیرہ دستی دیکھ کر اپنی شیریّت بھول جائے۔(دسمبر۲۰۰۴ئ)
مغرب میں آزادی راے کے دعوے دار کیا کسی مسلمان ملک میں عیسائیت اور انجیل کی کسی فلمی اداکارہ کی طرف سے اس طرح توہین برداشت کریں گے جس طرح فلم Submission میں اسلام‘ قرآن مجید‘ اسلام کے عائلی نظام اور پردہ کی کی گئی ہے۔ اُلٹا الزام بھی ہم پر ہے۔ (مسلمان عورت پر اشتعال انگیز فلم‘ دسمبر ۲۰۰۴ئ)
رفیع الدین ہاشمی صاحب نے علامہ اقبال کی زبان سے ہمیں جو پیغام دیا ہے (دسمبر ۲۰۰۴ئ) وہ آج اُمت مسلمہ کے ہر نوجوان کی ضرورت ہے۔ اقبال کے نام پر قائم اداروں کو چاہیے کہ ۱۱؍۹ کے بعد کے حالات کے تناظر میں ان کے کلام سے ایک بیداری کا پیغام منتخب کر کے دنیا کی ۱۵‘ ۲۰ زبانوں میں ترجمہ کر کے عام کریں۔
’’کشمیر پر کمانڈو صدر کی اُلٹی زقند‘‘ (دسمبر ۲۰۰۴ئ) کا پوسٹ مارٹم وقت کی ضرورت اور چشم کشا حقائق سے آگاہی کا مکمل سامان رکھتا ہے۔سنابل العلم کا سلسلہ انتہائی مفید ہے۔ ہرماہ اپنا محاسبہ کرنے اور اپنے آپ کو مضبوط کرنے اور اپنی خفی اور تحریکی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا موقع عطا کرتا ہے۔ میری تجویزہے کہ اب تک چھپنے والا سارا لوازمہ کتابی شکل میں آجائے تو محفوظ ہوجائے گا اور استفادے کی صورت بھی بہتر ہو جائے گی۔
ایک آخری دلیل یہ تصنیف کی گئی کہ مسلمانوں کی ترقی و فلاح‘اور بعض حالات میں ان کی زندگی کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ نظامِ کفر کے عدالتی‘ تشریعی‘ انتظامی‘ فوجی‘ صنعتی‘ غرض تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں ورنہ اُمت کے وفات پاجانے یا کم از کم ترقی کی دوڑ میں غیرمسلموں سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے… دین میں یہی وہ عظیم الشان ترمیم تھی جس کی بدولت بڑے بڑے متقی و دین دار حضرات تسبیحوں کو گردش دیتے ہوئے وکالت اور منصفی کے پیشوں میں داخل ہوئے تاکہ جس قانون پر وہ ایمان نہیں رکھتے اس کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں اور کرائیں‘ اور جس قانون پر ایمان رکھتے ہیں اس کی تلاوت صرف اپنے گھروں میں کرتے رہیں۔ اسی ترمیم کی بدولت بڑے بڑے صلحا و اتقیا کے بچے نئی درس گاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے بے دینی و مادہ پرستی اور بداخلاقی کے سبق لے لے کر نکلے اور پھر اس نظامِ کفر کے صرف عملی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ اکثر حالات میں اخلاقی و اعتقادی حیثیت سے بھی خدمت گزار بن گئے‘ جو ان کے اسلاف کی غفلتوں اور کمزوریوں کی بدولت ان پر ابتداء ً محض اوپر سے مسلط ہوا تھا۔ پھر اسی ترمیم نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ مردوں سے گزر کر جاہلیت اور ضلالت اور بداخلاقی کا طوفان عورتوں تک پہنچا۔ وہی فرض کفایہ جسے ادا کرنے کے لیے پہلے مرد اٹھے تھے‘ عورتوں پر بھی عائد ہوگیا اوران بیچاریوں کو بھی آخر اس ’’دینی خدمت‘‘ کی بجاآوری کے لیے نکلنا پڑا۔ نہ نکلتیں تو خطرہ تھا کہ کہیں غیرمسلم ان سے بازی نہ لے جائیں…
جس حقیقی فارمولے پر فی الواقع یہ لوگ کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ ’’جب ہم نے اس دین پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کو اپنے ایمان سے سرفراز کیا تو اس کے بدلے میں کم سے کم جو فرض اس دین پر عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آگے چلنے کے بجاے ہمارے پیچھے چلنا شروع کردے‘ یعنی اب ہمارا اور اس کا تعلق یہ نہ ہو کہ ہم اسے اپنے اوپر اور خدا کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کریں اور اس سعی کے سلسلے میں جو جو ضرورتیں ہم کو پیش آتی جائیں یہ انھیں پورا کرنے کی ضمانت لیتا جائے‘ بلکہ تعلق کی صورت اب یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس کی اقامت کا کام حتیٰ کہ اس کا خیال تک چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی میں جس جس وادی کی خاک چھانتے پھریں اُس میں یہ ہمارے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہے اور جن جن ادیانِ باطلہ کے ہم تابع فرمان بنتے جائیں ان کے ماتحت ساری غلامانہ حیثیتیں یہ بھی اختیار کرتا چلا جائے…‘‘ (’’حضرت یوسف ؑ اور غیر اسلامی نظامِ حکومت کی رکنیت‘‘، نواب محمد ذکاء اللہ خان‘ حاشیہ مولانا مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۶‘ عدد ۱-۲‘ محرم و صفر ۱۳۶۴ھ‘ جنوری و فروری ۱۹۴۵ئ‘ ص ۶۸-۶۹)