سوال: میں ایک دواساز کمپنی میں میڈیکل نمایندہ ہوں۔ ہماری دوا ساز کمپنیاں ڈاکٹروں سے اپنی ادویات لکھوانے کے لیے ان کو نقد رقوم یا قیمتی اشیا تحائف کے طور پر مہیا کرتی ہیں جس کے بدلے ڈاکٹر ان کمپنیوں کی ادویات لکھتے ہیں جس سے مارکیٹ میں ان ادویات کی طلب بڑھتی ہے اور کمپنیوں کو بہت سا منافع حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان کمپنیوں کی حالت ہے جو چھوٹی نیشنل کمپنیاں سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جو بڑی نیشنل یا ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں اگرچہ وہ ڈاکٹر صاحبان کو رقم مہیا نہیں کرتی ہیں لیکن اکثر اوقات ڈاکٹروں کو تحائف‘ پنج ستارہ ہوٹلوں میں کھانے اور اپنے خرچ پر ان کو بیرون ملک کے دورے کراتی ہیں جس سے ان کا کام ہوتا رہتا ہے۔ نمایندے کو کمپنی پالیسی کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے اور وہ اس سارے عمل میں شریک ہوتا ہے۔
۱- ڈاکٹروں سے اپنی کمپنی کی ادویات لکھوانے کے لیے نقد رقوم یا بڑے تحائف دینا جائز ہے یا یہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے؟
۲- بعض ڈاکٹر صاحبان ان رقوم یا تحائف کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ کیایہ واقعی ان کا حق ہے؟
۳- اگر یہ طریقۂ کار ناجائز ہے تو کیا میڈیکل نمایندہ اور کمپنی دونوں برابر کے شریک اور گناہ گار ہیں۔
۴- کیا بڑی نیشنل یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کا طریقہ کار جائز ہے؟
۵- اگر متبادل روزگار نہ ہو‘ اور اگر ہو بھی تو اس سے گھریلو اخراجات پورے نہ ہوتے ہوں تو کیا اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
جواب: اسلامی نظامِ حیات کا ایک امتیاز زندگی کے مختلف شعبوں میں پیش آنے والے جدید مسائل کا اخلاقی حل فراہم کرنا ہے۔ طبی اخلاقیات اس حیثیت سے اسلامی نظام حیات کا ایک اہم شعبہ ہے۔ جس طرح عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے‘ عیادت اس کے بندوں کا حق ہے۔ ایک فرد کی جان بچانا تمام انسانوں کی جان بچانے کی طرح ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ وہ واحد ہستی ہے جو بندوں کو امراض سے شفا دیتی ہے‘ اس نیک کام میں معاونت بہترین اجر کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔
طبی امداد‘ مریضوں کی دیکھ بھال‘ مرض کی تشخیص کرنا اور اس کا علاج تجویز کرنا ایک طرح کی خدمت خلق اور اسلامی اخلاقیات کی عملی تطبیق ہے۔ ایک طبیب ہو یا جراح‘ اس کا بنیادی اخلاقی فریضہ مریض کو ہمدردانہ‘ مخلصانہ اور مصلحانہ مشورہ دینا اور اگر ضرورت پڑے تو جراحت کے ذریعے صحت یاب ہونے میں امداد فراہم کرنا ہے۔ اس لیے مناسب دوا کا تجویز کرنا اور مناسب دوا کا ایجاد کرنا اور فراہم کرنا اگر خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے اجر کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی عمل دوسروں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی دنیا بنانے اور ان کی تکلیف کے سہارے اپنے لیے عیش و آرام کے سامان پیدا کرنے کا سبب ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور سخت جواب دہی کا باعث بن سکتا ہے۔
ایک طبیب سے اخلاقی طور پر یہ امید کی جاتی ہے کہ دوا تشخیص کرتے وقت نہ صرف دوا کی اثرانگیزی بلکہ مریض کی مالی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے جو دوا کم قیمت ہو لیکن ضروری اجزا اس میں پائے جاتے ہوں‘ تجویز کرے۔ اگر ایک ڈاکٹر محض اس بنا پر ایک مہنگی دوا تجویز کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے کسی دوا ساز کمپنی کو فائدہ ہوگا‘ جب کہ انھی اجزا کی اتنی ہی مؤثر دوا مقابلتاً کم قیمت پر بازار میں موجود ہو تو یہ ایک حیثیت سے جھوٹی شہادت کی تعریف میں آئے گا۔ہاں‘ اگر ایک زیادہ قیمت والی دوا میں کیمیاوی اجزا زیادہ بہتر معیار کے ہوں اور دوسری دوا جو چاہے اُس سے ملتی جلتی ہو لیکن اس کے اجزا میں جلد اثر کرنے کی صلاحیت کم پائی جاتی ہو تو ایک ڈاکٹراپنی فنی رائے کی بنا پر مہنگی دوا بھی تجویزکرسکتا ہے۔
دراصل ان تمام معاملات کا انحصار ڈاکٹر کے ایمان و خلوص کے ساتھ ہے۔ اگر وہ صاحبِ ایمان ہے اور مریض کے لیے اخلاص رکھتا ہے تو بعض اوقات مہنگی اور بعض اوقات سستی قیمت کی دوا تجویز کرے گا جس کی بنیاد مریض کا مفاد ہوگا‘ نہ کہ دواساز کمپنی کا مفاد نہیں۔ اگر صرف دواساز کمپنی کے مفاد کے لیے کوئی دوا تجویز کی جائے گی تو یہ نہ صرف طبی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی ہوگی بلکہ جیسا کہ عرض کیا گیا شہادت زور‘ یعنی جھوٹی شہادت شمار ہوگی۔
بالعموم دوا ساز کمپنیاںاپنے تعارف یا اپنی دوا کے تعارف کے لیے بعض چیزیں بطور promotional کے دیتی ہیں‘ مثلاً بال پن‘ نسخہ لکھنے کے لیے لیٹرپیڈ‘ دیوار پر لٹکانے کے لیے صحت مند غذا وغیرہ کے حوالے سے چارٹ۔ اگر ان چیزوں کی بنا پر بھی کوئی صرف ایک کمپنی کی ادویات تجویز کرتا ہے تو یہ بھی ایک غیراخلاقی حرکت شمار ہوگی۔ لیکن اگر قلم یا کاغذ کا استعمال کرنے کے باوجود ایک ڈاکٹر دوا تجویز کرتے وقت ان تحائف کو مدنظر نہیں رکھتا اور جو دوا وہ زیادہ مفید سمجھتا ہے تجویز کرتا ہے تو ان اشیا کے استعمال میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ہاں‘ اگر بعض دوا ساز کمپنیاں اس نیت سے کسی ڈاکٹر کو بیرون ملک یا اندرون ملک سیروتفریح کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ دیتی ہیں کہ اس احسان کے نتیجے میں وہ ڈاکٹر ان کی مہنگی ادویات مریض کو تجویز کرتا ہے تو یہ ایک غیر اسلامی اقدام ہوگا۔
اس سے ایک صورت استثنا معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ہر تجارتی ادارے کے مستقبل کا تعلق تحقیق کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر کوئی دواساز کمپنی کسی مرض کا علاج دریافت کرنے کے لیے جس کا فائدہ عام انسانوں کو پہنچے گا‘ اپنے سالانہ بجٹ میں سے ۵ فی صد اس غرض سے رکھتی ہے کہ طبی تحقیقاتی کانفرنسوں‘ طب کے طلبہ کے وظائف یا ایسے طبی اداروں کی امداد کی جائے جو اس کے مرض پر تحقیق کر رہے ہوں تو چونکہ اس کا مقصد علمی اور سائنسی تحقیق کے نتیجے میں مصلحت عامہ یا عمومی انسانی فلاح و فائدہ ہے‘ لہٰذا اسے ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔
اگر کسی ڈاکٹر کو انفرادی حیثیت میں کار‘ ریفریجریٹر‘ سفر کرنے کے لیے ٹکٹ یا کوئی اور favour اس لیے کی جائے کہ وہ ڈاکٹر صرف اُس کمپنی کی تیار کردہ ادویہ تجویز کرے تو یہ اسلامی اصول عدل کی صریح خلاف ورزی بھی ہوگی۔
کسی دوا سازکمپنی میں جو اپنی شہرت کے لیے اشتہارات طبع کرتی ہو ‘ ڈاکٹروں کو promotional اشیا فراہم کرتی ہو‘ ملازمت کرنا محض اس کے اس فعل کی بنا پر حرام نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ جو شخص وہاں ملازمت اختیار کرتا ہے وہ محض اپنی فنی خدمت کا معاوضہ لیتا ہے‘اُس کا کوئی دخل کمپنی کی promotional پالیسی میں نہیں ہوتا۔ دوا ساز کمپنیوں کا ڈاکٹروں کے فیصلے پر اثرانداز ہونا ایک غیر اسلامی فعل ہے اور اس کی اصلاح کے لیے طبی اخلاقی ضابطے کی سختی سے پابندی کروانے کے لیے صارفین اور طبی اداروں کی طرف سے ان پر دبائو ڈال کر اس غلط روایت کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
اگر ایک کمپنی کے نمایندے کو یہ بات تحقیق سے معلوم ہو کہ دوا کے بارے میں کمپنی کے دعوے غلط اور سائنسی تحقیق کی بنا پر وہ نہیں ہیں جو وہ کرتی ہے تو ایسی ادویہ کی فروخت یا اس کے ساتھ تعاون ایک غلط کام میں تعاون ہے۔ اس کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ خود کو ایسے کام سے بچائے جس میں جھوٹ‘ دھوکادہی اور دیانت کے منافی کام کیا جا رہا ہو۔ برائی میں شرکت اور برائی کے کرنے میں کوئی فرق نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن اگر علمی تحقیق سے ثابت ہو کہ جو دوا وہ فروخت کر رہا ہے وہ وہی صفات رکھتی ہے جس کا دعویٰ کیا گیا ہے تو یہ ایک بھلائی کا کام شمار ہوگا کیونکہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مرض سے شفا ملتی ہے۔
جہاں تک متبادل روزگار ملنے تک کسی ایسے ادارے میں کام کرنے کا سوال ہے‘ قرآن وسنت نے صرف ضرورت کی حد تک‘ یعنی کم سے کم وقت میں پوری جدوجہد کے ساتھ متبادل روزگار ملنے تک‘ کسی ایسے کام کی اجازت دی ہے جو عام حالات میں مناسب نہ ہو‘ مثلاً بنک کی ملازمت جو ظاہری طور پر سودی کاروبار کا حصہ ہے لیکن اگر بنک سودی کاروبار نہ کر رہے ہوں اور اسلامی اصولوں پر کام کر یں تو وہاں ملازمت کرنا جائز ہوگا۔ واللّٰہ اعلم بالصواب(ڈاکٹر انیس احمد)
سہ ماہی اسلامائزیشن مدیراعلیٰ ظفراقبال خاں اور مدیرمعاون محمد طارق نعیم اسدی کی کاوشوں سے شائع ہونے والا اپنی نوعیت کا ایک منفرد جریدہ ہے‘ جس کا ہر شمارہ اپنی جگہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ مرتبین کے نزدیک: ’’عصرِحاضر میں ملّت اسلامیہ کا کوئی ایسا گوشہ باقی نہیں رہا‘ جسے عجمیت نے متاثر نہ کیا ہو‘‘ (۱:۲)۔ کلمۂ طیبہ لا الٰہ الا اللہ کے اصل مفہوم میں عجمی تشریحات اور تاویلات سے اسلام کے چشمۂ صافی میں طرح طرح کے شرک شامل ہوگئے ہیں‘ جنھیں اس سے علیحدہ کرنا توحید کے اثبات کے لیے ضروری ہے۔ یہ چاروں شمارے‘ اسی سعی کا ایک بھرپور اور پُرجوش اظہار ہیں۔
پہلے شمارے میں ظفراقبال خاں نے ’’مقامِ توحید کی اسلامی تعبیر‘‘ کے عنوان سے گویا اس پورے منصوبے کا تعارف کرایا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خاکوانی نے ’’کلمۂ طیبہ میں لفظ ’اِلٰہ‘ کا عام فہم معنی‘‘ کے عنوان کے تحت قرآن وحدیث میں ’اِلٰہ‘ کی اصطلاح کی تشریح کی ہے: وہ ذات‘ جس کا حکم مانا جائے‘ حکومت میں‘ عدالتی معاملات میں‘ حصولِ رزق اور معاشی اُمور‘ نیز تمام معاشرتی اور سماجی دائروں میں۔ محمد سعود کا مضمون اسلام میں توحید اور عبادت کے تصور پر ہے۔
مجلے کی دوسری جلد کا عنوان ہی ’’مقامِ توحید کی عجمی تعبیر‘‘ ہے۔ یہ پورا شمارہ ہی ظفراقبال خاں کا تحریر کردہ ہے جس میں انھوں نے بنیادی طور پر صوفیا وجودیہ کے قافلہ سالار‘ ہسپانوی مفکر ابن عربی پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد کے سارے مسلم فلاسفر اور صوفیا نے ’’وحدۃ الوجود‘‘ ہی کو توحید کی اصل تشریح سمجھا ہے‘ لیکن یہ نظریہ ابن عربی سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ انھوں نے بڑی تفصیل سے قدیم ہندومت‘ بدھ مت‘ جین مت‘ سکھ مت‘ نیز یہودیت اور عیسائیت میں ’’توحید‘‘ (بمعنی شرک) کے شواہد پیش کیے ہیں۔ ان کے خیال میں مسلم فلاسفہ میں یہ ’’توحید‘‘ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کی اصطلاحوں کے ذریعے داخل ہوئی۔ اور سبھی صوفیا اس کمند کے اسیرہوگئے۔ ان میں دیوبندی‘ بریلوی اور اہل حدیث کے مسالک کی کوئی قید نہیں۔ مجدد الف ثانی نے اگرچہ ابن عربی کی اس ’’توحید‘‘ (وحدت الوجود) پر سخت تنقید کی مگر ’’وحدۃ الوجود‘‘ اور وحدۃ الشہود کے درمیان صرف لفظی فرق ہے (۲:۱۱)۔ وہ سرسید‘ محمد اقبال اور دوسرے روایتی عصری علما کو بھی اسی فکری مرض میں مبتلا پاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’’خطباتِ مدارس میں اقبال نے واشگاف انداز میں سریان [اللہ تعالیٰ کی ذات ساری کائنات میں جاری و ساری ہے] کی حمایت کی ہے… اقبال اور ابن عربی کی الٰہیات میں کسی قسم کا فرق نہیں‘‘۔ (۲:۲۱۷)
یوں محسوس ہوتا ہے کہ فاضل مصنف اپنے نقطۂ نظر کو ثابت کرنے کے جوش میں یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ ہر صاحبِ فکر اپنی سوچ میں مختلف ادوار سے گزرتا ہے۔ شیخ مجدد خود اعتراف کرتے ہیں کہ اُن کا مسلک ابتدا میں ’’وجودی‘‘ تھا مگر وہ جلد ہی اس تنگ کوچے سے نکل آئے۔ ایک مخصوص مرحلے پر مسالک کو یہ ’’محسوس‘‘ ہوتاہے گویا سارا وجود ایک ہی ہے ‘اور خالق و مخلوق میں کوئی دُوئی نہیں‘ مگر یہ حقیقت نہیں ہے‘ محض ایک ’’شہود‘‘ ہے۔ دراصل خالق‘ خالق ہے اور مخلوق‘ مخلوق۔ دونوں میں اس کے علاوہ کوئی اور رشتہ نہیں۔ اقبال کی فکر کے بھی کئی درجات اور مرحلے ہیں۔ کبھی وہ ہندستان کو ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘ اور خود کو اس گلستان کی بلبلوں میں شمار کرتے تھے اور پھر وہ ’’مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا‘‘ کے مدعی ہوئے۔ اگر ان کی ابتدائی نظموں میں ’’وحدت الوجود‘‘ کی جھلک نظر آتی ہے‘ تو دیانت کا تقاضا ہے کہ اُن کی بعد کی فکر کے نمونے بھی دیکھے جاتے۔ سرسیداحمد اور محمد اقبال کی فکر کو بایزید بسطامی کی سطحیات اور فلاطینوس کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں۔
اسلامائزیشن کے تیسرے شمارے کا عنوان ہے: ’’فلسفۂ توحید اور ذرائعِ علم کی عجمی تشکیل‘‘۔ اس میں فکر کے منہاج‘ استخراج‘ استقرا‘ وجدان و سریت‘ علمِ وحی‘ اللہ کی موجودگی کا اثبات جیسے عنوانات سے طویل بحثیں ہیں‘ جہاں کہیں کہیں تضادات بھی محسوس ہوتے ہیں‘ مثلاً شاہ ولی اللہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی علمی تحقیق سے ’’وحدۃ الوجود‘‘ کی پوری عمارت منہدم ہوجاتی ہے (ص ۱۷۹)۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صوفیا کے خاندان سے وابستگی کی بنا پر وہ اس نظریے کا کلیتاً رد نہ کرسکے۔(ص ۲۲۵)
’’فلسفۂ توحید اور وحدۃ الوجود کا تحقیقی مطالعہ‘‘ یہ عنوان ہے اس مجلے کے چوتھے شمارے کا۔ پہلے طویل باب میں فلسفۂ وحدۃ الوجود کی مختصر تشریح کے بعد فاضل مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلمانوں کے اکثر مکاتبِ فکر میں توحید کے بنیادی عقیدے کا ماخذ ’’حقیقتِ محمدیہ‘‘ ہے‘ جو وحدۃ الوجود کی بنیادی اینٹ ہے (ص ۲)۔ مجدد اور ابن عربی کا اختلاف محض ’’نزاعِ لفظی‘‘ ہے (ص ۳۷)۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی‘ امداد اللہ مہاجر مکی‘ عبدالحی لکھنوی‘ علامہ سعید احمد کاظمی‘ ڈاکٹر طاہرالقادری‘ اشرف علی تھانوی‘ میرولی الدین‘ ثنا اللہ امرتسری‘ وحیدالزماں خان‘ صدیق حسن خاں‘ محدث عبداللہ روپڑی‘ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی‘ سید سلیمان ندوی‘ حفظ الرحمن سیوہاروی‘ ڈاکٹر برنیئیر‘ ڈاکٹر تاراچند‘ عبدالحمید سواتی‘ حسرت موہانی‘ علی عباس جلالپوری‘ خواجہ غلام فرید‘ فریدالدین گنج شکر‘ شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی‘ سلطان باہو‘ مرزا غلام احمد قادیانی اور یونس خان کے خیالات دربارئہ وحدت الوجود (اسی ترتیب سے) کسی کو جاننے کا شوق ہو تو محترم ظفراقبال خاں نے بڑی محنت سے اس کے لیے آسانی پیداکردی ہے۔
اگرچہ اسلامائزیشن کے ان چار شماروں میں اکثر مقامات پر مباحث کی تکرار نظرآتی ہے‘ لوازمے اپنی مقدار کی فراوانی کے باوصف‘ بعض دفعہ محسوس ہوتا ہے کہ ترتیب کے ساتھ پیش نہیں کیے گئے‘ زبان کی طرف بھی بعض جگہ احتیاط کی جاتی تو اچھا تھا کہ سلف سے اختلاف کے باوجود ان کا ادب بہرحال مستحسن ہے‘ تاہم اُردو زبان میں وحدت الوجود کے مسئلے پر اس فراوانی کے ساتھ گفتگو یقینا ظفراقبال خاں اور محمد طارق نعیم اسدی کا منفرد کارنامہ ہے اور اس عرق ریزی کے لیے وہ یقینا مبارک باد کے مستحق ہیں۔ (پروفیسر عبدالقدیر سلیم)
برعظیم ہند میں جب تک مسلمانوں کی حکومت رہی یہاں شرعی قوانین نافذالعمل رہے۔ مسلمان حکمرانوں کی عیش پرستی اور نااہلی کے سبب جب برطانوی سامراج نے ہندستان میں قدم جمائے تو اس کے باوجود ۱۸۶۰ء تک یہاں اسلامی قانون ہی کی عمل داری رہی۔ لارڈ میکالے کمیشن کی رپورٹ پر غیرملکی حکمرانوں کے قوانین نافذ ہونے کے بعد بھی مسلمان اسلام ہی کے قانون کو جو صدیوں سے ان کے دل و دماغ پر نقش تھا اور ہے‘ لائق اطاعت سمجھتے رہے ہیں۔ انھوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کر کے ہندوئوں سے علیحدہ اسلامی مملکت اسی لیے قائم کی کہ یہاں اسلام کے عادلانہ قانون کی حکمرانی ہو۔
قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد اس نوزائیدہ اسلامی ملک کی بیوروکریسی اور فوجی آمریت کی خوے غلامی قوانین شرعیہ کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔ اس کے خلاف پاکستان کے عوام کا مسلسل مطالبہ‘ اسلامی مکاتب فکر کی تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کی جدوجہد اور وکلا کی قانونی جنگ اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں نے حکمرانوں کو مجبور کیا کہ وہ اسلامی دستورسازی اور اسلامی قانون سازی کریں۔ چنانچہ ۱۹۷۳ء کے آخری آئین کی تشکیل کے بعد ۱۰فروری ۱۹۷۹ء میں قوانین حدود کا نفاذ ہوا جس کی رو سے زنا‘ قذف‘ چوری اور شراب کے جرائم کے ارتکاب پر حد کی مقرر کردہ سزائیں لاگو کردی گئیں۔ ان تمام قوانین کا میاں مسعود احمد بھٹہ ایڈوکیٹ نے زیرتبصرہ تالیف میں بڑی محنت اور کاوش سے احاطہ کیا ہے۔ میں نے کتاب سے متعلقہ متعدد مقامات کو دیکھا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مؤلف موصوف نے قرآن اور سنت کو اس کتاب قوانین الحدود کی بنیاد بنایا ہے۔ قانون کی تعبیر اور تشریح کے لیے بلاتفریق مسلک فقہاے اُمت کی مستند کتابوں میں انھیں جہاں بھی مواد ملا ہے اس کا جابجا حوالہ دیا ہے۔ عصرِحاضر کے ممتاز علما کے متعلقہ قوانین کے بارے میں ریسرچ سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے حوالے نہایت ضروری تھے جو انھوں نے کتاب کے حاشیوں میں صحیح طریقے سے درج کیے ہیں۔ جس کی وجہ سے کتاب کی افادیت میں قابلِ قدر اضافہ ہوا ہے۔
اس کتاب کو اُردو میں لکھ کر فاضل مؤلف نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہماری قومی زبان میں نہ صرف قانون بلکہ اس کے مفہوم اور تشریحات کو بہتر طور پر ادا کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ اردو کو سرکاری اور عدالتی زبان بنانے کے لیے آئین کی دفعہ ۲۵۱ کو نظرانداز کرنے میں حکومت کی سہل انگاری اور عدلیہ کا تغافل شامل ہے جس کی الگ دل خراش داستان ہے جس پر مصنف نے بجاطور پر ماتم کیا ہے۔
نقدونظر کا تقاضا ہے کہ چند ان امور کی بھی نشان دہی کی جائے جو ہمارے خیال میں اصلاح طلب ہیں۔ مولف نے حدسرقہ ساقط ہونے کے بارے میں لکھا ہے: ’’ہمارا نظریہ تو یہ ہے کہ نالش کے ’’فیصلہ‘‘ سے قبل تک مال مسروقہ کی واپسی حد کو باطل قرار دیتی ہے‘‘۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے حدیث صفوانؓ بیان کی ہے جس کی نالش پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرقہ کے لیے ’’قطع ید‘‘ کا حکم دیا تھا۔ جس پر حضرت صفوانؓ نے کہا کہ وہ مسروقہ چادر سارق کو بطور خیرات دیے دیتے ہیں‘‘۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ معاملہ میرے پاس ’’فیصلہ‘‘ آنے سے پہلے کیوں نہ کیا تھا‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بعد اسے اپنے نظریے کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ حکم واجب التعمیل فیصلہ بن جاتا ہے۔ یہ سنن نسائی کی حدیث ہے۔ اس کے فن کا پوری طرح جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوانؓ سے یہ فرمایا کہ انھوں نے خیرات یا معافی کا معاملہ عدالت میں مقدمہ پیش ہونے سے قبل کیوں نہ کرلیا تھا۔ اس کا مطلب ایسا معاملہ فیصلہ کرنے سے قبل کا نہیں بلکہ عدالت کی نوٹس میں لانے سے قبل ہونا چاہیے۔ اصول قانون (science of jurisprodence) سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں امام شافعیؒ کا الرسالہ مستند تحقیقی کام ہے۔ اس علم کا آغاز یورپ میں اٹھارھویں صدی میں ہوا ہے۔
فاضل مؤلف نے شریعت ایکٹ سال ۱۹۹۰ء کا جو حوالہ دیا ہے وہ دراصل غیرشرعی ایکٹ تھا جسے راقم نے فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کر کے سال ۱۹۹۲ء میں قرآن و سنت سے ہم آہنگ کرایا ہے۔
نفاذِحد کا جائزہ لیتے ہوئے مؤلف موصوف نے سال ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۲ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس میں اسلام کے ساتھ لفظ ’’مذہب‘‘ استعمال کرنے سے اسلام کی دینی حیثیت متروک ہوگئی ہے۔ دفعہ (۲) سال ۱۹۷۳ء کے آئین سے پہلے دساتیر میں موجود نہیں تھی۔ سال ۱۹۷۲ء میں راقم نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی آئینی کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے آئین ساز اسمبلی کو اور بطور خاص علما حضرات کو اپنی آئینی سفارشات میں یہ تجویز پیش کی تھی جن میں سے یہ ایک ایسی تجویز کو آئین کی دفعہ (۲) بنا دیا گیا ہے۔ Islam shall be the state religion of Pakistan انگریزی میں لفظ "religion"دین کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (ملاحظہ ہو المورد قاموس انکلیزی)۔ لغوی معنی سے قطع نظر اصطلاحی طور پر دین اور مذہب ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ریاست جو عدلیہ‘ مقننہ اور انتظامیہ پر مشتمل ہے ان تینوں کا ’’دین‘‘ یا ’’مذہب‘‘ اسلام ہوگا۔ اس لیے یہ تینوں اسلام کے احکام اور قوانین کے پابند ہیں۔
کتاب کے بعض الفاظ سہوِ کتابت معلوم ہوتے ہیں جیسے مستشرقین (Orientalists) کو ’’مستشرکین‘‘ لکھا گیا ہے۔ ثقہ کے لیے سقاہت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ موضوعی کتابیات حروفِ تہجی کے حساب سے ہوتی تو وکلا اور عدلیہ کے لیے باعث سہولت ہوتا۔ (محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ)
فاضل مصنف نے مقدمے میں کہا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں میں اسلامی تعلیمات کی سچی پیروی کا جذبہ پایا جاتا ہے‘ مگر غفلت‘ بے توجہی اور لاپروائی کی بناپر بہت سے لوگ متعدد کمزوریوں اور تناقضات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ پتا نہیں‘ انھیں اس کا احساس بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ (ص ۱۴)
زیرنظر کتاب میں اس ’’احساس‘‘ کو اُجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ مصنف نے عمل کے خواہاں لوگوں کے لیے قرآن و سنت سے اخذ کردہ اس مکمل اور جامع مطالعے کو نو ابواب میں پیش کیا ہے: ۱- مسلمانوں کا تعلق اپنے رب سے‘ ۲- اپنے نفس سے‘ ۳- اپنے والدین سے‘ ۴- اپنی بیوی سے‘ ۵- اپنی اولاد سے‘ ۶- اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے‘ ۷- اپنے پڑوسیوں سے‘ ۸- اپنے بھائیوں اور دوستوں سے‘ ۹- اپنے معاشرے سے۔
مصنف نے اخلاقیات‘ عبادات و معاملات‘ حقوق و فرائض اور تہذیب و تمدن کے متعلق اسلامی تعلیمات کو تفصیل سے یک جا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کے ’’چنگیز سے تاریک تر‘‘ اندروں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
کتاب کا عربی سے اردو ترجمہ ایسے رواں انداز میں کیا گیا ہے کہ اس پر ترجمے کا گماں نہیں ہوتا۔ اپنے موضوع پر یہ منفرد مجموعہ‘ ہر مسلمان کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ بالخصوص داعیانِ دین کی بنیادی ضرورت ہے۔(حمید اللّٰہ خٹک)
آسان طریقے سے عربی سکھانے کا دعویٰ کرنے والی بہت سی کتابیں موجود ہیں لیکن ہر ایک کا اسلوب جداگانہ ہے۔ زیرتبصرہ کتاب اس لحاظ سے نہایت قابلِ قدر ہے کہ اس کے مؤلفین میں مولانا مسعود عالم ندویؒ شامل ہیں۔ مسعود عالم ندویؒ کی عربی زبان و ادب کے لیے خدمات نہایت ہی قابلِ قدر ہیں۔ انھی کے شاگردوں: محمد عاصم الحدادؒ اور مولانا خلیل احمد حامدیؒ نے مولانا مودودیؒ کی فکر کو عربی زبان میں منتقل کیا۔ طویل مدت کے بعد‘ اب دونوں حصوں کو ملا کر خوب صورت اور دیدہ زیب انداز میں شائع کیا گیا ہے۔ کتاب کے مقدمے میں مولانا مسعود عالم ندویؒ نے ’’عربی زبان اور اس کی تعلیم کا صحیح طریقہ‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ کسی زبان کو سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے مقدور بھر کسی دوسری زبان کا سہارا نہ لیا جائے‘ اور اہلِ ایمان کی مرتب کردہ ریڈروں سے مدد لی جائے‘‘۔
مقدمے میں مولانا نے عربی ڈکشنری کے حوالے سے لکھی گئی ڈکشنریوں کابے لاگ تجزیہ کر کے بتایا ہے کہ کون سی کتب پر انحصار کیاجاسکتا ہے اور کون سی کتب قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔
کتاب میں اس بات کا اہتمام کیا گیا ہے جو قاعدہ بیان کیا جائے‘ اسی کی مشق کروائی جائے اور اس سے پہلی مشقوں میں اس سے متعلقہ کوئی جملہ شامل نہ کیا جائے۔ ہر باب میں متعلقہ موضوع کے حوالے سے تمرنیات (مشقیں) شامل کی گئی ہیں جن میں طالب علم اردو میں ترجمہ کرے اور الفاظ و جملوں پر اعراب لگائے تاکہ الفاظ کی صحیح ادایگی ہو اور معانی و مفہوم واضح ہوسکے۔ اسی طرح اُردو سے عربی ترجمہ کرنے کے قابل ہوسکے۔
گویا مولانا مسعود عالم ندویؒ نے عربی زبان کی تدریس کو جدید اور عملی انداز میں پیش کرکے طالب علم اور عربی سیکھنے والے افراد کے لیے نہایت مؤثر‘ عام فہم اورآسان بنا دیا ہے۔ وہ ادارے جو عربی زبان سکھانے کا اہتمام کرتے ہیں‘ یا عربی زبان کی ترویج کرنا چاہتے ہیں بالخصوص مدارس دینیہ اور عربی زبان و ادب کے طلبہ کے لیے یہ کتاب ان شاء اللہ العزیز بہترین زادِ راہ ثابت ہوگی۔ (میاں محمد اکرم)
’’استغفار کو اپنا شعار بنا لیجیے‘‘ (جولائی ۲۰۰۵ئ) مختصر مگر انتہائی جامع ہے۔ قرآنی آیات کے ترجمے نے اس مضمون کو چارچاند لگا دیے ہیں۔ انفرادی و اجتماعی مسائل کے حل کے لیے یہ ایک بہت ہی عمدہ نسخہ ہے۔ استغفار ہی ہمارے تمام دکھوں کا مداوا ہے۔ ملک میں دین کے لیے کام کرنے والی تمام جماعتوں کو اس طرف کھلی دعوت دینا چاہیے بلکہ دینی و سیاسی جماعتوں کو استغفار کو اپنے پروگرام میں شامل کرنا چاہیے۔
’’کشمیر کا مستقل حل‘‘ (جون ۲۰۰۵ئ) میں بنیادی نکتہ، ’’استعماری چالیں‘‘ ہیں۔ ’’شذرات‘‘ میں بھی امریکی استعمار اور اس کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔ عنوان ہی ’’امریکا سے نفرت‘‘ ہے۔ پانچواں مضمون ’’مہذب قوموں کے کارنامے‘‘ کا مرکزی نکتہ بھی امریکی و برطانوی استعمار کے کارناموں کو طشت ازبام کرنا ہے۔ درمیان میں ایک عنوان ’’امنِ عالم…‘‘ کے حوالے سے ہے جس کا آخری پیراگراف بھی امریکی دہشت گردی کو اپنا نشانہ بنا رہا ہے۔ پھر آخری دو عنوان: ’’روشن خیال تعلیم‘‘ اور ’’عراق: امریکا کے لیے دلدل‘‘ تو ظاہر ہے ‘ ہیں ہی استعماری سازشوں کو بے نقاب کرنے اور تعلیم اور عراق کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی کو سب کے سامنے لانے کے لیے۔ لہٰذا ان کا مرکزی خیال بھی استعمار ہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ استعمار دشمنی‘ ہمارے ایجنڈے کا اوّلین نکتہ ہے اور وقت کا اہم ترین تقاضا بھی ہے۔ لیکن کیا ہماری ساری دعوت صرف اسی نکتے کے گرد گھومتی ہے؟ کیا دیگر اہم موضوعات و عنوانات کو یکسر نظرانداز کر کے‘ پورے شمارے کا ۸۰ یا ۹۰ فی صد حصہ صرف ایک نکتے (جو کہ یقینا اہم ہے) پر مرکوز کر دینا‘ درست طرزِ عمل ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
آخری بات یہ کہ بے شک ترجمان القرآن ایک علمی رسالہ ہے لیکن اسے پڑھنے والے تمام لوگ دانش ور نہیں ہیں۔ ایسے مضامین ضرور شاملِ اشاعت کیے جائیں‘ جن کی وجہ سے عام آدمی ترجمان کو پڑھنے میں آسانی محسوس کرے‘ مباداکہ یہ صرف پالیسی ساز لوگوں یا اداروں کا رسالہ بن جائے۔ (میں پالیسی سازی کی نفی نہیں کر رہا)۔
یہاں کے حالات بظاہر دن بدن خراب ہو رہے ہیں‘ مساجد کے ارد گرد دائرہ تنگ کیاجا رہا ہے۔ مستقبل قریب میں مساجد میں کھل کر اسلام کے بارے میں بات کرنا شاید مشکل ہوجائے گا۔ مساجد کے ذمہ داران کے ٹیلی فون‘ فیکس‘ ای میل وغیرہ سب چیک کیے جاتے ہیں کہ کہیں کسی دہشت گرد تنظیم سے رابطہ تو نہیں۔ حسابات بھی چیک کیے جارہے ہیں۔
ایک مسجد کے ترک امام جو بڑے معتدل ہیں‘ انھوں نے اپنی تقریر میں عراق اور فلسطین میں مارے جانے والے مسلمانوں کو انجانے میں شہید کہہ دیا اور اس کے ساتھ ایک دوسرے وعظ میں غیرمسلموں کے جہنم میں جانے کا کہہ دیا۔ اس پر پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ شخص اس معاشرے میں نفرت پھیلا رہا ہے‘ اس لیے اس کو باہر نکال دیا جائے۔ عدالت میں اپیل کا حق دیا گیا لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ امام صاحب ۳۰سال سے برلن میں ہیں۔
رسائل و مسائل (جولائی ۲۰۰۵ئ) میں غزالی اسکولز اور زکوٰۃ فنڈ کے حوالے سے ایک استفسار کے سلسلے میں گزارش ہے کہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ میں گذشتہ کئی سالوں سے زکوٰۃ کا علیحدہ حساب کتاب رکھاجارہا ہے۔ زکوٰۃ کی یہ رقم اُن چھے ہزار نادار و مستحق طلبہ و طالبات کو وظائف اور تعلیمی سہولیات کی صورت میں دی جاتی ہے جو یہاں زیرتعلیم ہیں۔ معاون حضرات کو ان کے عطیہ زکوٰۃ کے جواب میںاسپانسرڈ بچوں کے کوائف سے مطلع بھی کیاجاتا ہے البتہ یہ اور بات ہے کہ کچھ معاونین ہمیں زکوٰۃ کی تخصیص کے بغیر رقوم ارسال کردیتے ہیں جنھیں ٹرسٹ اپنے جنرل اکائونٹ میں استعمال کرتا ہے۔ کسی خاص مقام پر مخصوص فرد کے ذاتی رویے یا غیرمناسب حکمت عملی کے لیے ادارے کو جواب دہ ٹھیرانا درست نہیں۔
’’رزق حلال کا کلچر‘‘ (جولائی ۲۰۰۵ئ) پڑھا تو خیال آیا ہمیں خود اپنے دامن کو بھی دیکھنا چاہیے کہ اجتماعی امانتوں پر تصرف کرتے ہوئے کوئی دھبہ نہ لگے۔ کیا ہم اپنے اپنے دائرے میں اس میں محتاط ہیں؟
’’بلوچستان ‘ سلگتے مسائل‘ غافل قیادت‘‘ (جولائی ۲۰۰۵ئ) مختصر‘ جامع اور بروقت ہیں۔ لیکن بلوچستان کے مسئلے کا حل دوسرے بہت سے مسائل کی طرح‘ تدابیر اور کاغذ پر لکھی رہ جانے والی سفارشات سے زیادہ رویے اور فکر میں تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ کاش ہم سب پاکستانی کی طرح سوچیں اور عمل کریں۔
ہمارے ہاں جو شعبۂ استفسارات قائم ہے اس کا مقصد دراصل یہ ہے کہ جو لوگ تحریکِ اسلامی کو سمجھنے اور اس کے نصب العین اور طریق کار کے متعلق اپنے شبہات دُور کرانے کے لیے مرکز سے خط و کتابت کریں‘ ان کے خطوط کے جوابات دیے جاتے رہیں‘ نیز اسلامی نظامِ حیات کے ان اہم اصولی مسائل کے متعلق لوگوں کو صحیح واقفیت بہم پہنچائی جائے جنھیں بالعموم غلط طریق سے سمجھا سمجھایا جاتا رہا ہے۔ رہے چھوٹے چھوٹے فقہی مسائل تو ان میں سے صرف ایسے مسائل کا جواب یہاں سے دیا جاسکتا ہے جنھیں صحیح اسلامی نظریے سے عام طور پر حل نہ کیا جا رہا ہو۔
لیکن قارئین ترجمان القرآن اور جماعت اسلامی کے متاثرین کی طرف سے جو خطوط روزانہ ڈاک میں موصول ہوتے ہیں ان کے مطالعہ سے یہ شبہہ ہوتا ہے کہ شاید شعبۂ استفسارات کو کوئی ’’دارالافتا‘‘ سمجھ لیا گیا ہے۔ بس ایک تسلسل سے استفتا پر استفتا چلے آرہے ہیں جن میں ادنیٰ سے ادنیٰ جزئیات پر سوال کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ مسائل مقامی علما‘ بلکہ معمولی ائمۂ مساجد سے بھی حل کرائے جاسکتے ہیں۔ پھر بعض لوگوں کو سوال کرنے کا جنون ہوگیا ہے کہ ایک ایک خط میں بیس بیس اور تیس تیس سوالات لکھ بھیجتے ہیں‘ حالانکہ شریعت میں کثرتِ سوال کو ناپسند کیا گیا ہے‘ کیونکہ یہ پریشان دماغی کی علامت ہے۔
۱- سوالات لکھنے سے پہلے یہ بات ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ ہمارے یہاں کوئی اصطلاحی دارالافتا نہیں ہے۔
۲- پوچھنے کے قابل صرف وہ سوالات ہوتے ہیں جو عملی زندگی میں یا دین حق کی دعوت و تبلیغ کے دوران میں واقعتا پیش آئیں۔ تصنیف کردہ سوالات لکھ بھیجنا ایک فضول حرکت ہے۔
۳- سرسری سوالات مقامی اہلِ علم سے‘ کسی دارالافتا سے‘ یا کسی علمی ادارے سے پوچھ لیجیے۔ اس کے بعد اگر کوئی اہم اور اصولی مسئلہ یا کوئی پیچیدہ فقہی جزئیہ حل طلب رہ جائے تو اس کا جواب اوّل تو جماعت کے لٹریچر اور ترجمان القرآن کے فائل سے دریافت کیجیے‘ لیکن اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو ہمیں لکھیے۔ ایسے ہی سوالات کا جواب دینے کے لیے شعبۂ استفسارات قائم کیا گیا ہے۔ (ترجمان القرآن‘ جلد ۲۷‘ عدد ۱-۲‘ رجب‘ شعبان ۱۳۶۴ھ‘ جولائی‘ اگست ۱۹۴۵ئ‘ ص ۱۳)