مضامین کی فہرست


دسمبر۲۰۰۵

مشترکہ خاندانی نظام: چند عملی مسائل

سوال: میری شادی حال ہی میں ہوئی ہے۔ ہم مشترکہ خاندانی نظام میںرہتے ہیں۔ میرے ساس سسر‘ جیٹھ جٹھانی اور دیور ساتھ ہی رہایش پذیر ہیں۔ میں چند مسائل کی وجہ سے ذہنی کش مکش سے دوچار ہوں۔

مجھے مطالعے کا شوق ہے اور فارغ وقت میں اپنے ذوق کی تسکین کا سامان کرتی ہوں۔ میری ساس چلنے پھرنے سے معذور ہیں‘ چھڑی کی مدد سے تھوڑا بہت چل سکتی ہیں۔ مگر وہ چاہتی ہیں کہ میں فارغ نہ بیٹھوں اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کام میں لگی رہوں۔ ان کا انداز گفتگو بھی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ گھر کا کام تو مجھے کرنا ہی تھا مگر اس رویے سے ذہنی کوفت ہوتی ہے۔

گھر کے سربراہ سسر ہیں۔ ان کی اجازت سے ہی اپنے امی ابو سے ملنے جاسکتی ہوں بلکہ ساس کی خواہش ہوتی ہے کہ میں ہی گھر کا کام کاج کروں۔ پھر صبح جاکر شام کو لازماً واپس آنا ہوتا ہے۔ والدین کے گھر ٹھیرنے کی اجازت نہیں‘ جب کہ گھر ایک ہی شہر میں ہے۔ اگر کبھی میرے شوہر خریداری یا سیر کے لیے اپنے ہمراہ لے جائیں تو اس پر بھی اعتراض ہوتا ہے۔ اس بات سے مجھے شدید ذہنی کوفت ہوتی ہے کہ میں شوہر کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ سسرال والوں کی خدمت کے لیے لائی گئی ہوں۔ گویا بیوی نہ ہوئی‘ گھر میں موجودہ سسرالی رشتہ داروں کی زرخرید لونڈی ہوئی۔

میری خواہش ہے کہ میں اپنے خاوند کی خدمت کروں‘ ان کی پسند کے مطابق خود کھانا بنائوں‘ ان کے لیے آزادی سے تیار ہو سکوں‘ مجھے اتنی آزادی تو میسر ہو جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ایک شادی شدہ جوڑے کو دی ہے‘ اور جو ایک عورت کا حق ہے۔ لیکن ساتھ رہتے ہوئے اور جیٹھ اور دیور کی موجودگی میں تو ایسا کرنا عملاً ممکن نہیں۔ پھر اگر گھر الگ لینے کی بات کی جائے تو ساس سسر ناراض ہوتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ تمام بچوں کو اپنے ساتھ ہی رکھیں۔ کیا ایک بیٹا جس کے لیے ممکن بھی ہو‘ الگ گھر میں نہیں رہ سکتا‘ جب کہ دوسرے بھائی والدین کے ساتھ رہ رہے ہوں؟

شادی تو گھر کے سکون اور میاں بیوی کی خوشی و مسرت کے لیے کی جاتی ہے۔ ایسے مشترکہ خاندانی نظام کا کیا فائدہ جو دلوں میں رنجشیں پالنے اورہمہ وقت ذہنی تنائو کا سبب بنے اور انسان کو ذہنی مریض بناکر رکھ دے۔ اسلام میں تو اس کا کوئی تصور نہیں۔ میرے مسئلے کو حقیر نہ جانیے گا‘ بہت سے گھرانے اس سے دوچار ہیں۔

جواب :آپ نے اپنے سسر اور ساس صاحبہ کے حوالے سے مشترکہ خاندان کے نظام کی بعض مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ہمارے بیش تر معاشرتی مسائل کا سبب بزرگوں اور نوجوانوں کا دینی تعلیمات سے کم آگاہ ہونا یا بالکل لاعلم ہونا ہے۔ ہمارا معاشرہ تاریخی طور پر جن ادوار سے گزرا ہے ان کے نتیجے میں بہت سی مقامی روایات معاشرتی تحت الشعور سے چسپاں ہوکر رہ گئی ہیں اور نام نہاد مشرقیت کے پرستار اپنے ان تعصبات سے قطعاً لاعلم نظر آتے ہیں۔

ایک بنیادی بات یہ بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ شادی کے نتیجے میں دو مختلف گھرانے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ مختلف ماحول‘ مختلف مزاج‘ رہن سہن اور معاشرت کے فرق کی بنا پر ایڈجسٹمنٹ میں مشکلات کا سامنا ہونا فطری امر ہے۔ بہو کو اس نفسیاتی پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ والدہ کے لیے بیٹا ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ بہو کے آنے سے بیٹے کی توجہ بٹتی ہے۔ اگرچہ والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بیٹے سے وہ پہلے والی توجہ ملنا عملاً محال ہے‘ تاہم بہو کو اس نفسیاتی امر کے پیش نظر حکمت‘ صبروتحمل اور وسعت قلبی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر یہ پہلو ابتدا ہی سے پیش نظر رہے اور مشکلات کا کچھ اندازہ ہو تو بتدریج مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر شادی کے ابتدائی ایام یا چند ماہ کے بعد ہی توقعات کے پورا نہ ہونے یا ہم آہنگی نہ ہونے کی بناپر بہت زیادہ پریشان ہوجانا یا بہتری کے حوالے سے مایوس ہوجانا بھی مناسب نہیں۔ ہمت و حوصلے‘ تدریج اور حکمت سے یہ مسائل کافی حد تک حل ہوسکتے ہیں۔

آپ نے جو نکات اٹھائے ہیں ان کے حوالے سے جواب اختصار کے ساتھ عرض ہیں:

  • ساس اور سسر کی بزرگی اور ان کے بمنزلہ والدین ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ محبت و شفقت کا مظاہرہ کریں‘ نئی نویلی دلھن کو بھرپور محبت دیں‘ اس کی پسند وناپسند کا خیال رکھیں تاکہ اسے ایڈجسٹ ہونے میں آسانی ہو‘ نہ کہ وہ اپنے اس استحقاق کی بنا پر اپنی عاقل بالغ اولاد کو ان کے معاشرتی حقوق سے محروم کر دیں۔ بلاشبہہ ایک بیٹے اور بہو سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ گھر کے بزرگوں کا احترام کریں‘ محبت و الفت کے ساتھ ان سے پیش آئیں‘ اور جس حد تک ممکن ہو ان کی خدمت اور ان کی خوشی کو مقدم رکھیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ نہ اپنے احباب کے ہاں جاکر کھانا کھا سکیں اور نہ گھر کی دلھن اپنے والدین کے ہاں رات گزار سکے۔ ساس اور سسر کا اپنی بہو کو ان حقوق سے محروم کرنا زیادتی ہے‘ خلافِ حکمت ہے اور دُوری کا سبب بنتا ہے۔
  • عموماً والدین کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کے بیٹے اور ان کی بہو ان کے ساتھ رہیں۔ یہ کوئی ناجائز خواہش نہیں ہے بالکل فطری بات ہے۔ لیکن اسلام جو دین فطرت ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ اس فطری خواہش کی تکمیل کے لیے ایک فطری ماحول پیدا کیا جائے‘ یعنی اپنے بیٹے اور بہو کو ایک دوسرے کے لیے لباس کی مانند ہونے کی بنا پر [جو قرآن کریم کا فرمان ہے] تنہائی اور آزادی فراہم کی جائے۔ اگرچہ الگ کمرے کی گنجایش تو موجود ہے مگر انھیں محض ایک کمرے میں بند کر دینا اسلامی تصور معاشرت کے منافی ہے‘ جب کہ الگ گھر بھی لیا جا سکتا ہو۔

والدین کو عام طور پر گھروں میں ایک سے زائد لڑکے اپنی بیویوں کے ساتھ رکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اگر وہ واقعی ایسی خواہش رکھتے ہیں تو پھر ایک شادی شدہ جوڑے کو اپنے گھر میں اتنی مکانیت فراہم کریں کہ ان کا بیٹا اور بہو آزادی کے ساتھ محض سونے کے کمرے میں نہیں گھر کے دوسرے حصوں میں بھی بے تکلف مل جل سکیں‘ اپنی پسند کا لباس اور غذا استعمال کرسکیں۔ یہ اسلام کے اصولوں کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ گھر میں دیور اور جیٹھ بھی موجود ہوں اور بہو سے کہا جائے کہ وہ پورے سنگھار کے ساتھ مشترکہ مجلس میں کھانا کھائے‘ چائے پیے وغیرہ‘ یا یہ کہا جائے کہ وہ ہر وقت عام لباس کے اوپر لبادہ پہن کر اور سوائے چہرے کے اپنے تمام جسم کو ڈھانک کر گھر میں چلے پھرے۔ اسلام کے دیے ہوئے بنیادی حقوق میں جو قرآن و سنت نے دیے ہیں اس قسم کا مطالبہ کرنا دین میں مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ چند لمحات کے لیے کسی مخصوص صورت حال میں اگر ایسا کرلیا جائے تو اسے گوارا کیا جا سکتا ہے لیکن اگر یہ معمول بنا لیا جائے کہ اپنے دیور اور جیٹھ کے ایک ہی مکان میں رہنے کے سبب ایک لڑکی کو مسلسل لبادے میں رہنا پڑے تو یہ اس کے ساتھ بہرحال زیادتی ہے۔ اگر ساس اور سسر اپنے گھر میں ایسی فضا پیدا نہیں کرسکتے تو پھر انھیں اپنے بیٹے اور بہو کے الگ گھر میں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ خود اس پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے۔ سنت سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ سیدہ فاطمہؓ اور حضرت علیؓ اپنے الگ مکان میں رہے۔

  • اگر آپ کے شوہر کو کوئی ملازمت ایسی مل جاتی ہے جس کے بعد آپ الگ مکان میں رہ سکیں لیکن وقتاً فوقتاً اپنی ساس اور سسر سے ملاقت کر سکتی ہوں تو سب سے بہتر ہے۔ اگر ان کا بڑا بیٹا ان کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے تو انھیں آپ کے الگ رہنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
  • یہ خیال بھی بے بنیاد ہے کہ ایک بیوی کا بنیادی مقصد اور فائدہ یہ ہے کہ اس طرح لذیذ کھانے اور تازہ اور گرم روٹی یا حسبِ خواہش عمدہ قسم کی چائے مل جاتی ہے۔ ایسے ہی یہ خیال بھی غلط ہے کہ اس کا مصرف گھر کے برتن دھونا یا کپڑوں پر استری کرنا یا کمروں میں صفائی ستھرائی کے ساتھ اندرونی زیبایش کرنا ہے۔ یہ سارے کام ایک بہت کم تنخواہ پر رکھے ہوئے باورچی یا ملازمہ سے بھی کرائے جا سکتے ہیں۔ شادی تو ایک ایسا مقدس بندھن ہے‘ قول و قرار اور پایدار رشتہ ہے جو الفت و محبت‘ ایک دوسرے کی خیرخواہی‘ خوشی و مسرت اور سکون کا باعث ہے نہ کہ توہین اور تضحیک و تذلیل کا ذریعہ۔ لہٰذا اگر کوئی بہو یہ سارے کام اپنی خوشی سے کرتی ہے تو یہ اس کا اپنے شوہر کے ساتھ ایک حسنِ سلوک ہے۔ شریعت نے اُس سے صرف ایک مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے ناموس کی حفاظت کرے اور اس کے لیے سکون کا باعث ہو۔ اسے یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے شوہر کے وسائل کی مناسبت سے مختلف کاموں کے لیے وہ خدمت گار کا مطالبہ کرسکے۔ ہاں‘ اگر باہمی رضامندی اور بلا کسی دبائو کے وہ گھر کا کوئی کام کرتی ہے تو اس کی اس خدمت کو تسلیم کرنا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔
  • اپنے شوہر کے ساتھ ایک بیوی اگر دو منٹ نہیں کئی دن کے لیے بھی کہیں جاتی ہے تو یہ اس کا اسلامی بنیادی حق ہے۔ ہاں‘ اگر وہ ایسا کرتے ہوئے اپنے ساس سسر کو بے یارومددگار چھوڑتی ہے‘ جب کہ ضعیفی کی بنا پر انھیں امداد کی ضرورت ہو تو ایسا کرنا درست نہیں ہوگا کیوں کہ ان کا حق اولاد پر یہ ہے کہ جب وہ ضعیف ہوں تو وہ انھیں تقویت دے۔
  • ساس سسر کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ بجاے اپنی بزرگی کے ڈنڈے کو استعمال کرنے کے محبت کے ساتھ اپنی بہو سے پیش آئیں تاکہ گھر میں اتحاد و تعاون کی فضا میں اضافہ ہو۔ بہو جو کام کرے‘ اس پر جائز تعریف میں بخل سے کام نہ لیں۔ اسی طرح بہو کو بھی ساس سسر کے بزرگی کا احترام کرتے ہوئے معاملات کو افہام و تفہیم سے سلجھانا چاہیے۔ سب سے اہم ذمہ داری بیٹے یا شوہر کی ہے کہ وہ دونوں طرف توازن رکھنے کی کوشش کرے اور اس کی بیوی کو یہ احساس نہ ہونے پائے کہ وہ تنہا ہے۔ اگر کہیں مسائل حل نہ ہوپائیں تو خاندان کے ایسے بزرگوں سے مشورہ کرنا چاہیے جن کی بات سنی جاتی ہو اور جو مسئلے کو سلجھا سکیں۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے حقوق و فرائض کا تعین کرکے معاملات و مسائل کو احسن انداز میں حل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔ ضرورت خوفِ خدا اور آخرت کی جواب دہی کے احساس‘ صبروتحمل‘ سوجھ بوجھ‘ حکمت اور  ہمدردی و خیرخواہی اور احسان کے جذبے سے معاملات کو لے کر چلنے کی ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)

اسلام‘ پیغمبر اسلامؐ اور مستشرقین مغرب کا اندازِ فکر، ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی۔ مرتب: آصف اکبر۔ ناشر: کتاب سرائے‘ فرسٹ فلور‘ الحمدمارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۹۱۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

جب دنیا مغرب کی اسیر ہوئی تو ہر فن میں مغرب کی سند تسلیم کی جانے لگی۔ اسلام کے بارے میں بھی مستشرقین کی رائے کو عالمی سطح پر اہمیت دی گئی۔ جس کے باعث عیسائی دنیا بدستور تعصب میں مبتلا رہی۔ غیر جانب دار دنیا نے بھی اسلام کو مغرب کی عینک سے دیکھا‘ اسی لیے وہ   نہ صرف اسلام کے صحیح خدوخال سے ناآشنا رہی بلکہ بڑی حد تک ان کی غیر جانب داری مغرب کی  ہم نوائی میں تبدیل ہونے لگی۔ اسلامی معاشرے میں بھی ایک طبقہ ایسا پیدا ہوگیا جس نے اسلام کو مستشرقین کی عینک سے دیکھنا اور پرکھنا شروع کر دیا۔ جس کے زیراثر مغربی تعلیم یافتہ طبقہ اسلام سے بیگانہ ہوتا چلا گیا۔ اس تحقیقی مقالے میں مستشرقین کے اسی طرزعمل کو موضوع بنایا گیا ہے تاکہ شکوک میں مبتلا اہلِ مغرب‘ مرعوبیت کے مارے تعلیم یافتہ مسلمان اور بیچارگی کے شکار مسلمان علما پر مستشرقین کی سوچ‘ ان کے مقصد اور طریق کار کو واضح کیا جا سکے‘ اور یہ بات کھل کر سامنے آئے کہ مستشرقین کی تحریروں میں علم کی پیاس‘ حق کی تلاش اور پیشہ ورانہ دیانت داری کس حد تک عنقا ہے اور ان کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کی اصلیت کیا ہے۔

اعلیٰ پائے کی اس تحقیق کی حامل یہ کتاب بنیادی طور پر پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ہے جسے ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی نے نومبر ۱۹۸۰ء میں تحریر کیا تھا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے انجینیرتھے۔کتاب‘ کتابیات اور اشاریے سے مزین ہے۔

مصنف نے عیسائیت کی اپنی ’شکل و صورت‘ کو بہت سلیقے سے پیش کیا ہے۔ ایسا مذہب جسے دوسرے مذاہب بالخصوص اسلام پر تابڑ توڑ حملے کرنے اور الزام تراشی کے ساتھ بددیانتی کرنے میں عار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے حوالے سے مغرب کی تاریخ‘ تعصب اور بددیانتی سے بھری پڑی ہے‘ مثلاً دوراوّل میں مغربی علما نے عربی سے تراجم کرکے مسلم تصانیف کو اپنے ناموں سے منسوب کیا۔ بددیانتی‘ جھوٹ اور فریب کی ایک اور مثال یہ ہے کہ مغربی چرچ میں یہ امر تسلیم کیا جاتا تھا کہ مسلمان بت پرست تھے اور اسلام بت پرستی کا مذہب تھا۔ عوامی سطح پر مسلمان بڑے جادوگر سمجھے جاتے تھے۔ اسلام مذہب نہیں‘ اسلام جنگی ٹولے کا مذہب ہے۔ اسلام انفرادی مذہب ہے‘ اسلام عرب جاہلیہ کے ’مروۃ‘ کا بدلہ ہوا نام ہے یا اسلام لُوٹ ہے۔ مصنف نے ان بے اصل اور بے بنیاد اعتراضات کا بھرپور جواب اس کتاب میں فراہم کیا ہے۔

دنیا کی کسی اور عظیم شخصیت کو اس قدر متہم نہیں کیا گیا جتنا مغرب نے سرکارِ دوعالمؐ کو کیا۔ اس صدی میں بھی ایسی تحریروں کی کمی نہیں جن میں اخلاقی الزامات دہرائے گئے ہیں۔ مغرب نے بہروپ یا جعل (imposture) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ انیسویں صدی تک یہ الزام تواتر کے ساتھ ملتا ہے۔ اب اسی پرانے نظریئے کو نئے الفاظ عطا کر کے کہا کہ یہ وحی کوئی بیرونی القا نہیں تھی‘ بلکہ لاشعور کی پیداوار تھی جسے غلط فہمی کی بنا پر ملکوتی پیغام تصور کیا گیا۔ (ص ۳۲۰)

کردار نبویؐ پر ایک اور الزام خوں ریزی کا ہے۔ اس لفظ کو ایسے عامیانہ انداز میں استعمال کیا جاتا ہے جو خونِ ناحق اور خونِ برحق کی تمیز مٹا ڈالتا ہے۔ اس الزام کے ضمن میں معاہدہ شکنی‘ دھوکادہی اور سفاکی جیسی گھنائونی تہمتیں بھی لگائی جاتی ہیں۔ (ص ۳۲۳)

مصنف نے نہایت عرق ریزی اور شدید محنت سے اس کتاب میں مغربی مصنفین کی کتابوں کے جو اقتباسات دیے ہیں اگرچہ انھیں پڑھتے ہوئے کوفت ہوتی ہے مگر موضوع کا تقاضا  یہی تھا۔ لہٰذا مصنف نے نہ صرف انھیں جمع کیا بلکہ ان کا مدلل جواب بھی دیا ہے۔ مغرب کی موجودہ سوچ کو جاننے کے لیے اور اسلام کے خلاف جاری جنگ کا صحیح ادراک کرنے میں یہ کتاب نہایت مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم مصنف کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اس اعلیٰ پایہ کوشش کو قبول فرمائے۔ آمین! (الیاس انصاری)


جنت کا سفر، خرم مراد۔ ناشر: منشورات‘ منصورہ‘ ملتان روڈ‘ لاہور۔صفحات: ۴۰۳۔ قیمت: ۱۶۰ روپے۔

زیرنظر کتاب ۲۱ دروس حدیث کا ایک نادر مجموعہ ہے۔ یہ ایمانیات‘ عبادات‘ معاملات‘ اخلاقیات اور اُمت مسلمہ کے مسائل پر دیے گئے اُن خطبات کی ایک سیریز ہے‘ جو محترم خرم مراد نے مارچ ۱۹۹۱ء سے دسمبر ۱۹۹۵ء تک کے عرصے میں گارڈن ٹائون‘ لاہور کی مسجدبلال میں نمازِ جمعہ کے مواقع پر پیش کیے تھے۔ موضوعات کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:

اللہ کی قدرت‘ شرک سے پاک اللہ کی بندگی‘ قرآن کے عجائب‘ نیت اور عمل‘ نیکی اور بدی‘ دنیا کی زندگی کی حقیقت‘ حقیقتِ زہد‘ نماز کیسے بہتر کریں؟ حج اور قربانی‘ حبِ دنیا‘ حسد اور بغض‘دل کی زندگی‘ رزقِ حلال‘ شکر اور صبر‘ امانت داری‘وعدے کی پابندی‘ عدل و انصاف کا قیام‘ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا‘ غلطیوں کو معاف کرنا‘ توبہ کا دروازہ کھلا ہے‘ دین آسان ہے۔

ہر درس میں اسلام کے نظامِ زندگی کا ایک جامع اور مختصر نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ ان تمام دروس میں ایک معنوی ربط اور قدر مشترک یہ ہے کہ یہ سب شخصی تربیت و تزکیہ‘ اجتماعی اصلاح وانقلاب‘ اُخروی فلاح اور جنت کے حصول کے لیے فکرمند اور مضبوط کرنے والے ہیں۔

درس قرآن ہو یا درسِ حدیث‘ تقریر ہو یا تحریر‘ خرم مراد مرحوم کے اسلوب بیان میں ایک منفرد شیرینی اور ایمان و یقین کی بے پناہ دل آویزی پائی جاتی ہے۔ مصنف کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ قرآن و سنت کی روح لوگوں کی زندگی میں رچ بس جائے اور اُن کا منشا و مقصود اللہ کی رضا بن جائے۔ یہی تڑپ‘ اضطراب اور بے تابی زیرنظر دروس میں کارفرما نظر آتی ہے۔ کتاب کے مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ حدیث کی تشریح اس انداز میں ہے کہ دلوں کے تار چھیڑتی ہے (ص۸)۔ اس میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں۔ بقول اقبال  ع  دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔

ان ۲۱ دروس کو‘ دعوت و تبلیغ میں آسانی کے لیے‘ الگ الگ کتابچوں کی شکل میں بھی پیش کیا گیاہے۔ کتاب کے معنوی حُسن کے عین مطابق‘ درست املا‘ عمدہ کاغذ‘ خوب صورت  چھپائی اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ مناسب قیمت منشورات ہی کا طرئہ امتیاز ہے۔ (حمیداللّٰہ خٹک)


حرفِ راز ، اوریا مقبول جان۔ ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز‘ لاہور۔ صفحات: ۳۱۲۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

ہمارے قومی شاعر علامہ محمد اقبال نے کہا تھا    ؎

ہزار خوف ہو لیکن زباںہو دل کی رفیق

یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

مصنف کی تحریروں سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ وہ ایک بیوروکریٹ ہیں‘ لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ وہ قلندر بھی ہیں‘ تاہم زیرنظر کتاب کے ۹۹مختصر ’مضامین‘ پر مشتمل ’حرفِ راز‘ سے اُن کی ’قلندرانہ فکر‘ کا ضرور پتا چلتا ہے۔

موضوعات کا تنوع ۹۹ کے عدد کو کہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ بیرونی امداد (خیرات) کے نتائج‘ ججوں کے (بدنام) مجبوری کے فیصلے‘ عالمِ طبیعیات‘ سائنس دان فرینک ٹیلر کی Omega Point کی تھیوری جو نہ صرف قیامت‘ بلکہ برزخ اور جنت و جہنم کا اثبات کرتی ہے‘ قوت و اقتدار کے نشے میں مدہوش چارلس اوّل (برطانیہ) اور دوسروں کا انجام‘ (’سرِّدلبراں‘کو دوسروں کی حکایت میں بیان کرنااچھا ہوتا ہے!)‘ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو پرواز کرتے ہوئے دو تابوت(کیوں کہ پائلٹ‘ جہازوں کا عملہ اور مسافر تو پہلے ہی مرچکے تھے) کس کے حکم پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون سے ٹکرائے‘ یورپ میں اسلحے کا اور مشرقی ایشیا میں بچوں اور عورتوں کا کاروبار‘ نیا امریکی ثقافتی اور سیاسی استعمار‘ دو قومی نظریے سے یک قومی نظریے کی طرف پسپائی‘ کنٹینر میں موت (افغانستان میں حقوقِ انسانی کے علم برداروں کے ہاتھوں مجاہدین پر کیا گزری)‘ عورت اور انڈسٹری‘ (بھیڑیے جنس اور فحاشی کے کاروبار میں عورتوں اور بچوں پر کس طرح پَل رہے ہیں)‘ امریکا چلو کے نتائج‘ پاکستان کے مقتدر حاکمین کی حفاظت (سیکورٹی) کے لیے ’بلیوبک‘، پاک امریکا تعلقات، ’امریکی سنڈی‘ کس طرح پاکستان کو برباد کر رہی ہے! ماڈریٹ اسلام‘ برطانوی صحافی خاتون رونی ریڈلی: طالبان کی قید میں اسلام کی طرف کیوں راغب ہوئی؟دواساز کمپنیوں کے روپ میں ’موت کے سوداگر‘ کس طرح غریبوں کا خون چوس رہے ہیں___ موضوعات کی وسعت حیران کن ہے ___ وہ سب کچھ جو آج ہمیں جاننا چاہیے‘ ایک مخصوص‘ اخلاقی اور اسلامی زاویے کے ساتھ موجود ہے۔

ایک باخبر‘ مخلص‘ محب وطن‘ دردآشنا‘ تیکھی تحریر کے قلم سے مسلّح شخص جو اعتراف کرتا ہے کہ مالک نے ’مجھے پس ماندگی‘ محرومی اور بے یقینی سے نکال کر ان راہداریوں میں لاکھڑا کیا‘ جہاں طاقت‘ اقتدار اور مذاقِ عاجزی گلے مل کر مسکراتے ہیں… مجھے مشورہ دینے والے بہت ہیں‘ میرے خیرخواہ… میرا دامن روز تھام لیتے ہیں… ان کی نظر میں زندگی کی سانسیں‘ عزت‘ احترام‘ سہولتیں‘ سب اس نوکری اور سرکار کی مرہونِ منت ہیں‘ لیکن جب مَیں رات کی تنہائی میں اپنے رب کے سامنے سربسجود ہوتا ہوں‘ تو اس واحد اور رحیم اور کریم کی چوکھٹ کے آگے یہ سارے مشورے‘ یہ ساری خیرخواہیاں ہیچ لگنے لگتی ہیں…‘‘ اوریا مقبول جان کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ’’ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں ہے!‘‘ بیوروکریسی اور مقتدرہ کی کانِ نمک جس میں اچھے اچھے انقلابی تحلیل ہوجاتے ہیں‘ خدا کرے اوریا بچ جائیں۔

علم و آگاہی کی فراوانی کے ساتھ خلوص‘ کرب و درد میں ڈوبی ہوئی یہ چیخیں کاش‘ اُن لوگوں تک پہنچیں اور انھیں ہوش میں لے آئیں‘ جو اختیار اور اقتدار کی راہ داریوں پر قابض ہیں۔(پروفیسر عبدالقدیر سلیم)


مسلمان عورت اور یورپی سازش، ڈاکٹر امیرفیاض۔ ملنے کا پتا: محمد شعیب ہومیوکلینک اینڈ اسٹور‘ منظورمارکیٹ‘ لنڈیکس‘منگورہ‘ سوات۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت: ۶۵ روپے۔

عورت آج ہمارے ملک ہی کا نہیں پوری دنیا کا اہم موضوع ہے۔ عورت کے حوالے سے آزادی اور حقوق کی جنگ کے مغربی تصور کو رائج کرنے کے لیے مختلف این جی اوز اور کچھ خفیہ طاقتیں ایک تسلسل کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔ اس کتاب میں یورپی ممالک کی مسلمان خواتین کے خلاف ایک باقاعدہ اور منظم سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے بہت سے تلخ حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ مسلمان خواتین کو مغربی تہذیب کے اثرات سے بچانے کے حوالے سے یہ ایک قابلِ قدر کاوش ہے۔ ابتدا میں خواتین کے حقوق کے نام پر ہونے والی کانفرنسوں کے اصل مقاصد کو     بے نقاب کرنے کے علاوہ مغربی تہذیب و معاشرت کے تلخ حقائق اعداد و شمار کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی اس سارے ایجنڈے کے خلاف مسلم ممالک کی خواتین کے احتجاج اور مظاہروں کی تفصیلات تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتی ہیں۔ مصنف نے اس ساری صورت حال کا  ذمہ دار کسی حد تک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ٹھیرایا ہے جو مغرب سے متاثر ہے اور دوسرا نقطۂ نظر پیش کرنے میں جانب داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مغرب کا نظریہ مساواتِ مرد و زن‘ اس کے ہولناک نتائج اور مغربی معاشرے میں عورت کی حالت زار کا نہایت حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ اسلام اور مغربی معاشرے میں رشتوں کے حوالے سے عورت کے مقام کا موازنے کے ساتھ ساتھ اسلام میں عورت کا اعلیٰ و ارفع مقام اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کے تفویض کردہ حقوق نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نومسلم خاتون کا انٹرویو‘ اسلام کی چند نمایاں خواتین کا ایمان افروز تذکرہ‘ جلیل القدر صحابیات کے اخلاقی شہ پارے اور دیگر متفرق تحریریں کتاب کے تنوع میں اضافے کا باعث ہیں۔

کتاب کا لب لباب ’’گزارشات‘‘ کے عنوان سے ہے۔ یہ نکات دعوتِ عمل کے ساتھ ذاتی محاسبے کے لیے بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔ اندازِ بیان جذباتی اور دردمندانہ ہے جو قاری کے قلب و ذہن کو جھنجھوڑتا ہے۔ کہیں کہیں غیرضروری تفصیل یا اعداد و شمار کی زیادتی تحریر کو بوجھل بناتی ہے۔خواتین کی ذاتی لائبریری کے لیے ایک عمدہ اضافہ ہے‘ قیمت بھی مناسب ہے۔ (ربیعہ رحمٰن)


اذکار سیرت ، پروفیسر سیدمحمد سلیمؒ، مرتب: عزیز الرحمن۔ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز‘ اے-۴/۷‘ ناظم آباد نمبر۴‘ کراچی-۷۴۶۰۰۔ صفحات: ۲۴۰۔ قیمت: درج نہیں۔

پروفیسر سید محمد سلیم مرحوم کے علم کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک انسائیکلوپیڈیا تھے۔ علم کی کوئی شاخ نہ تھی جو ان کے لیے آسان نہ ہو۔ ان کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں لیکن اب کراچی میں پروفیسر سیدمحمدسلیم اکیڈمی قائم کر دی گئی ہے جو ان کے تحقیقی کام کی اشاعت کر رہی ہے۔ سیرت پر اس کتاب میں یہ خوش خبری موجود ہے کہ ان کے تعلیمی مقالات جلد پیش کیے جائیں گے۔

اذکار سیرت‘ سیرت نبویؐ کے متنوع پہلوئوں پر ان کے ۱۴ مقالات کا مجموعہ ہے۔ ہر مقالہ اپنی جگہ خاصے کی چیز ہے۔ اقوامِ عالم کی تشکیل میں عرب کا حصہ‘ صلح حدیبیہ‘ سیاست نبوی کا شاہکار‘ داعی اعظم اور کثرتِ ازواج‘ سیرت طیبہ اور فنون لطیفہ سے موضوعات کے تنوع کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ آخری باب میں غازی علم الدین شہیدؒ جیسے چھے افراد کا تذکرہ ہے جنھوں نے ناموس رسولؐ پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ کتاب کے مرتب نے یہ اہتمام کیا ہے کہ آیات و احادیث کے مکمل حوالہ جات دیے ہیں‘ اگر مصنف نے آیت کا ترجمہ دیا تھا تو مرتب نے متن کا اضافہ کر دیا ہے۔

سیرت پاکؐ کے مختلف پہلوئوں کے مطالعے کے لیے ایک مفید کتاب۔ (مسلم سجاد)


لمعاتِ نظر ، عبدالحمید صدیقی نظر لکھنوی۔ ملنے کا پتا: محمد تابش صدیقی‘ فلیٹ نمبر1-8/1‘ بلاک B-1‘ سٹریٹ ۸‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۶۷۹۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

اُردو فارسی شاعری میں نعت گوئی ایک مستقل اور صدیوں پرانی روایت ہے۔جناب نظرلکھنوی کا یہ مجموعۂ نعت کئی حوالوں سے انفرادیت کا حامل ہے۔ پہلی خصوصیت ان کی کہی ہوئی نعتوں کی تعداد ہے کہ میرے مطالعے کی حد تک کسی اور کے ہاں نہیں ملتی۔ عموماً لوگوں نے تبرک کے طور پر ایک آدھ نظم اپنے مجموعہ ہاے کلام میں شامل کر دی ہے۔ یا پھر نیر کاکوردی کی طرح نعتیہ قصیدوں سے کام لیا ہے لیکن جناب نظر نے غزل نما‘ چھوٹی بڑی نعتوں سے کام چلایا ہے۔ اس کے باوجود اُن کا یہ مجموعہ ایسی سیکڑوں نعتوں پر مشتمل ہے‘ جس سے شاعر کا نعت گوئی سے شغف اور غیرمعمولی لگائو کا اندازہ ہوتا ہے۔ دوسری انفرادیت شاعر کا نعت گوئی میں مبالغہ آرائی سے گریز ہے۔ جناب نظر اس دشوار راستے پر بہت سنبھل سنبھل کر چلتے ہیں‘ اور جتنا کچھ قرآن و حدیث سے خدا کے آخری نبیؐ کے اوصاف‘ اختیارات اور اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے اس سے آگے یہ نہیں بڑھتے۔ تیسری انفرادیت‘ جس سے نعت گو صاحبان عموماً تہی دامن ہوتے ہیں‘ یہ ہے کہ آنحضوؐر کی حیاتِ طیبہ کے چھوٹے موٹے کاموں سے لے کر بڑے سے بڑے کارناموں تک کا ان نظموں میں ذکر آتا ہے‘ اور اس کے باوجود شعریت کی خوب صورتی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔چند اشعار بطور نمونہ:

بندھا تھا تارِ نبوت جو‘ اُس پہ ختم ہوا

یہ سلسلہ نہ پھر‘ آگے‘ شہِ شہاں سے چلا

نقوشِ پا سے اُجاگر ہے رہ گزارِ حیات

دیے جلا کے چلا‘ وہ جہاں جہاں سے چلا

کوئی بشر بھی پا نہ سکے گا رہِ حیات

حلقہ بگوشِ سرورؐ عالم ہوئے بغیر

وہ ہے ناراضگیِ رب سے ہمیشہ ترساں

وہ ہمہ وقت ہے خوشنودیِ رب کا خواہاں

لمعاتِ نظر میں ایک خوب صورت جدت یہ بھی ہے کہ ’حصۂ مناقب‘ کے نام سے ایک مستقل عنوان قائم کیا گیا ہے‘ یعنی خلفاے راشدینؓ کی شان میں بھی ایک پوری نظم علیحدہ علیحدہ کہی گئی ہے‘ اور اس طرح ضمناً یہ بتایا گیا ہے کہ ان غیرمعمولی ہستیوں کو بھی درحقیقت رسولِ رحمتؐ ہی کی بدولت وہ اعزاز اور بلند مرتبت عطا ہوئی ہے جو انھیں عالم میں نمایاں کرنے کا موجب ہوئی۔ اور یہ بھی گویا نعت ہی کا حصہ ہے۔ اس کے بعد سانحۂ کربلا کا ذکر بھی‘ گویا‘ ناگزیر تھا۔ اس طرح  اس نعتیہ کلام کا خوب صورت خاتمہ کر کے نظم گوئی کے محاسن میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

آخر میں اتنا کہہ دینا نامناسب نہ ہوگا کہ پُرگوئی اور کثرتِ کلام کے باعث جابجا اسقام بھی نظر سے گزرے‘ تاہم وہ اتنے معمولی ہیں کہ ان کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ (آسی ضیائی)


ہمارا تعلیمی بحران اور اس کا حل، چند نظریاتی مباحث، ڈاکٹر محمد امین۔ ملنے کا پتا: کتاب سرائے‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۵۴۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آزادی سے اب تک حکومتی تعلیمی پالیسیوں میں نظریۂ حیات کے اساسی کردار کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہی ہمارے تعلیمی بحران کی بڑی اور بنیادی وجہ ہے۔ اس کتاب میں اسے اجاگر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد امین ایک عرصے سے تعلیم کے موضوع پر قلمی جہاد میں مصروف ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’پاکستان میں تعلیم کی ثنویت اور نظریاتی کش مکش کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اس کے پس منظر اور دیرینہ بیماری کا علاج تجویز کرتی ہے‘‘ (ص ۱۵)

کتاب چھوٹے بڑے ۳۲ سے زائد مضامین و مقالات پر مشتمل ہے جن میں ہمارا تعلیمی بحران اور اس کا حل‘ تعلیمی ثنویت کے خاتمے کا طریق کار‘ ایک ماڈل اسلامی اسکول کا خاکہ‘ ایک ماڈل اسلامی یونی ورسٹی کا خاکہ‘ ایک ماڈل اسلامی نظامِ تعلیم و تربیت کا خاکہ اور پاکستان میں تعلیم کی اسلامی تشکیل نو جیسے اہم موضوعات بھی شامل ہیں۔ کچھ مختصر مضامین تعلیم کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ایک مضمون ’’دریا بہ حباب اندر‘‘ میں جملہ مضامین کی تلخیص فراہم کی گئی ہے تاکہ اختصار پسند اور مصروف ماہرین کو ایک نظر میں مندرجات کا اندازہ ہوسکے۔ یہ کتاب پالیسی ساز اداروں‘ ماہرین تعلیم اور طلبہ کے لیے مفید ہے۔(عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)

طلحہ داؤد ‘ لاہور

’’بچوں کی تربیت: بزرگ والدین کا کردار‘‘ (نومبر ۲۰۰۵ئ) اپنی نوعیت کی منفرد تحریر لگی۔ دادا دادی اور نانا نانی نئی نسل کی تربیت میں کیسے مؤثر کردار ادا کریں‘ بہت سے عملی نکات سامنے آئے۔ ابتدا میں اقبال کا ایک شعر بھی دیا گیا ہے جس میں حضرت موسٰی ؑاور حضرت شعیب ؑکا تذکرہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ بات غلط مشہور ہوگئی ہے کہ حضرت موسٰی ؑ نے جس خاتون سے شادی کی‘ وہ حضرت شعیب ؑکی بیٹی تھیں۔ قرآن مجید میں کوئی ایسی بات نہیں کہی گئی۔ (ملاحظہ فرمایئے: تفہیم القرآن‘ ج ۳‘ ص ۶۲۷-۶۲۸)


عمیر ہاشمی‘  سرگودھا

’’امریکی قیادت اور عالمی ضمیر‘‘ (نومبر ۲۰۰۵ئ) میں ایک پرانی کہاوت کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھنا چاہیے اور جسے زمانہ برا کہے اسے برا سمجھنا چاہیے۔ یہ دوسری بات کچھ محل نظر ہے۔


حفیظ الرحمٰن احسن‘لاہور

مولانا مودودیؒ کے درس قرآن سورئہ مزمل (اکتوبر ۲۰۰۵ئ) پر آپ کا ادارتی نوٹ نظر سے گزرا جس میں دروس قرآن کو مرتب کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ مولانا مودودیؒ کے   دروس قرآن و حدیث مرتب کرنے کا کام باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت جاری ہے۔ اب تک کتاب الصوم اور فضائل قرآن جو کہ درس حدیث ہیں ‘مرتب کرکے شائع کیے جاچکے ہیں۔

دروس قرآن کو کاغذ پر محفوظ کرنے کا کام بحمداللہ جاری ہے۔ یہ درس مرتب ہوچکے ہیں اور اشاعت  کے لیے تیار ہیں:  ا: الفاتحہ، قٓ، الرحمٰن، الواقعہ، الحدید۔ ان میں سے الفاتحہ ادارہ   ترجمان القرآن کی طرف سے شائع کی جاچکی ہے باقی درس بھی ادارہ ترجمان ہی شائع کرے گا۔ ب: النبائ، النازعات، عبس‘ التکویر‘الانفطار‘ المطففین اور الانشقاق، یہ درس بھی طباعت کے لیے تیار ہیں۔ ج: جو درس مرتب ہوچکے ہیں‘ تاہم ابھی طباعت کا مرحلہ نہیں آیا: الصف، الجمعۃ، المنافقون، التغابن، الطلاق، التحریم اور الملک۔ د: ان کے بعد القلم سے المرسلٰت تک کے دروس کا کام  پیش نظر ہے (مزمل بھی انھی میں شامل ہے)۔ ھ: ان کے علاوہ بھی بہت سے دروس موجود ہیں اور ان پر کام   پیش نظر ہے۔


پروفیسر عبدالماجد ‘مانسہرہ

حالیہ زلزلہ رب العالمین کی طرف سے اہل پاکستان خصوصاً ہزارہ اور آزاد جموں و کشمیرکے لیے ایک آزمایش اور تنبیہہ سے کم نہیں۔ ہزاروں لوگ اس میں جاں بحق ہوئے اور بے شمار زخمی ہوئے۔ لیکن اُن لوگوں نے بظاہر کوئی سبق حاصل نہیں کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت سے محفوظ رکھا‘ حالاں کہ ہم سب کے لیے جو اس میں زندہ سلامت رہے‘ بڑا سبق ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنی سابقہ باغیانہ روش سے باز آجائیں‘ خدا اور رسولؐ کے احکامات و فرامین کی پابندی کریں۔ سود‘ جھوٹ‘ دھوکا دہی‘ عہدشکنی‘ خیانت‘ چوری‘ ملاوٹ اور ناقص تعمیر وغیرہ قسم کی برائیوں سے کنارہ کشی اختیار کریںاور سچے دل سے اپنے رب کے حضور توبہ کریں۔

توبہ کا مطلب ہے کہ ہم اپنی غلط اور باغیانہ طرزِزندگی سے واپس پلٹیں اور اپنے رب سے سچا تعلق استوار کریں‘ اس کے دین سے چمٹ جائیں اور آیندہ ہر قسم کی برائی سے بچنے کا ارادہ کریں۔ صرف زبان سے وقتی توبہ توبہ کہنا حقیقی توبہ نہیں جب تک ہم عملی طور پر توبہ کا اظہار نہیں کریں گے۔ اصل ضرورت اجتماعی توبہ کی ہے‘ نیز دعوت و تبلیغ اور نصیحت کا فریضہ ضرور انجام دیا جانا چاہیے (کیونکہ روزانہ اس دنیا سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد چلے جاتے ہیں‘ اور ہم میں سے ایک کو بھی معلوم نہیں کہ آیندہ ۲۴ گھنٹوں میں میرا نام ان مرنے والے ڈیڑھ لاکھ افراد کی لسٹ میں ہے کہ نہیں)۔

قمرحسین چغتائی ‘مریدکے

’’۸ اکتوبر ___ گرفت‘ آزمایش اور انتباہ‘‘ (نومبر ۲۰۰۵ئ) میں آپ نے جس مسئلے کو موضوعِ نگارش بنایا وہ وقت کی آواز ہے۔ اس موضوع پر مزید لکھا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں بہت سے لوگ گوناگوں مغالطوں کا شکار ہیں۔ آپ نے موضوع کے مختلف پہلوئوں پر خوب روشنی ڈالی ہے۔ ایک توجہ مبذول کرانا بھی مقصود ہے۔ ص ۶ اور ۷ پر تین روایات پیش کی گئی ہیں۔ ان کی سندضعیف ہے۔ جس طرح دوسرے قومی و سماجی امور کے متعلق مباحث میں ترجمان القرآن اپنی استنادی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے‘ اُسی طریقے سے اِس اہم پہلو میں بھی اُسے اپنی استنادی حیثیت اور اپنے مقام و مرتبے کا احساس ہونا چاہیے اور وہی بات لکھنی چاہیے جس کے ثبوت اور صحت میں ادنیٰ سا تامل بھی نہ ہو۔


سردار ظفر حسین ‘فیصل آباد

سرکاری تجزیہ نگار اور خود جناب مشرف امریکی اور مغربی ممالک کی امداد کو بڑھاچڑھا کر بیان کرتے ہیں اور مسلم ممالک کی امداد کو خاص حیثیت نہیں دیتے۔ اسرائیل اور بھارت کے لیے نرم گوشہ چھپائے نہیںچھپتا۔ ڈونرزکانفرنس میں سعودی عرب‘ ایران‘ امارات‘ کویت اور ترکی کے اعلانات ۹۹کروڑ ڈالر‘ جب کہ امریکا‘ برطانیہ‘ یورپی یونین‘ جرمنی‘ فرانس کے کل ۹۳ کروڑ ڈالر ہیں!

عہد فراموشی کا نتیجہ

…… یہ جدوجہد ۱۳ برس تک مکہ میں جاری رہی‘ پھر وہ وقت آیا جب دشمنانِ حق کے لیے اس دعوتِ توحید کی مقبولیت اور روز افزوں ترقی ناقابلِ برداشت ہوگئی اور انھوں نے آنحضرتؐ کے قتل کا انتظام کرکے اس دعوت کو فنا کر دینا چاہا تو داعی حق اور اس کے پیروان صفاکیش نے مکہ کو خیرباد کہہ کر مدینہ کو اپنے مشن کا مرکز بنایا اور وہاں سے اس نصب العین کی خاطر جدوجہد شروع کر دی جس کو وہ اپنا مقصد زندگی بناچکے تھے‘ اور جب کفار نے وہاں بھی چین نہ لینے دیا اور ادھر اہلِ ایمان کی ایک منظم جمعیت بھی فراہم ہوچکی تھی تو بدی کے استیصال اور حق و عدل کی بقا کے لیے تلوار اٹھائی گئی۔ ایک مدت تک تو طاغوتی طاقتیں خود بڑھ کر مدینہ پر حملہ آور ہوتی رہیں اور مسلمان صرف مدافعت کرتے رہے۔ اس دوران میں وہ خوف‘ دہشت‘ بے اطمینانی اور طرح طرح کے خطرات برداشت کرتے رہے اور جان و مال کی ہر ممکن قربانی کر کے حق کی شہادت دیتے رہے‘ یہاں تک کہ حدود عرب میں کفر کی شوکت ٹوٹ گئی اور طاغوت کا علم سرنگوں ہوگیا۔

اس وقت مسلمانوں کا قلب اس تائید و نصرت الٰہی پر شکرو امتنان کے جذبات سے بھر تو گیا مگر ان کی سواریوں کے کجاوے اسی طرح بندھے کے بندھے رہے اور ان کی تلواریں اسی طرح کھنچی رہیں۔ ان کے ہاتھ‘ جو اب تک دفاع کے لیے اٹھ رہے تھے‘ اب جارحانہ اقدام کے لیے سرگرم کار ہوگئے کیونکہ‘ گو عرب میں بدی نے ہتھیار ڈال دیے تھے‘ مگر اس کے باہر ہر چہار طرف اس کی حکمرانی پوری شان کے ساتھ قائم تھی اور مسلمان اپنے اس مشن کو بھول نہیں سکتا تھا کہ منکرات کو مٹا دینا چاہیے‘ جہاں کہیں بھی ہوں‘اور ہرغیراللہ کی آقائی پامال ہوجانی چاہیے‘ خواہ وہ کسی گوشۂ ارض پر ہو‘ یہ زمین خدا کی پیدا کی ہوئی ہے‘ اس پر اسی کا حکم چلنا چاہیے‘ اسی کے قانون کا اتباع ہونا چاہیے‘ اسی کی مرضی پوری ہونی چاہیے‘ اور اس ’’چاہیے‘‘ کی کل ذمہ داری میرے سر پر ہے۔ چنانچہ یہ ذمہ داری انھوں نے پورے احساس فرض کے ساتھ ادا کی‘ اور جب تک وہ ایسا کرتے رہے‘ اللہ تعالیٰ کی موعودہ تائید و نصرت ان کے ہمرکاب رہی‘ یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ سے باندھا ہوا عہد اقامت دین فراموش ہونا شروع ہوا اور دین حق کا چڑھتا ہوا سورج مسلمانوں کی قسمت کا ماتم کرتا ہوا زوال پذیر ہونے لگا۔ اور اب دوبارہ بامِ عروج پر آنے کے لیے اس مبارک صبح کا منتظر ہے جس میں حاملین قرآن عہدفراموشی کے خواب گراں سے بیدار ہو کر اپنے فرضِ منصبی کو ازسرنو سنبھال لیں گے۔ (’فریضۂ اقامت دین‘ ، مولانا صدرالدین اصلاحی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۷‘ عدد ۵-۶‘ ذی القعدہ و ذی الحجہ ۱۳۶۴ھ‘ نومبر و دسمبر ۱۹۴۵ئ‘ ص ۸۱)