مضامین کی فہرست


جنوری ۲۰۰۴

سقوطِ بغداد (۹ اپریل ۲۰۰۳ئ)کے بعد صدام کی گرفتاری یا موت کی خبر کسی وقت بھی متوقع تھی اور یہ امریکہ کے لیے باعثِ خفت ہے کہ ’’فتح‘‘کے آٹھ مہینے کے بعد اسے یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ "We got him" (ہم نے اسے پکڑلیا!)۔

بظاہر معلوم یہی ہوتا ہے کہ مخبری یا صدام کے اپنے محافظوں کی بے وفائی کے سبب امریکہ اس تک پہنچ سکا اور اسے پہلے نشہ زدہ کیا گیا اور پھر گرفتاری کے ڈرامے کو ٹیلی وژن کے اسکرین پر دکھایا گیا۔ یہ بھی معنی خیز ہے کہ ۱۴ دسمبر۲۰۰۳ء کو گرفتاری کے اعلان سے ایک ہفتہ پہلے جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کے لیے عراقی ججوں پر مشتمل عدالت کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ گویا یہ سب اسی ڈرامے کی مختلف کڑیاں ہیں اور ہرمنظر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دکھایا جا رہا ہے۔

امریکہ نے صدام کو ’جنگی قیدی‘ (prisoner of war) قرار دیا ہے اور وہ قابض فوجوں کی تحویل میں ہے۔ ہمیں صدام کی ذات سے کوئی دل چسپی نہیں اور اس نے جو کچھ کیا‘ اس کی سزا وہ اللہ کے قانونِ مکافات کے مطابق یہاں اور آخرت میں ضرور بھگتے گا--- جس میں وہ ذلت بھی شامل ہے جو اس کا مقدر ہوگئی ہے۔ لیکن یہ گرفتاری اور جس طرح اس کی تشہیر کی گئی ہے وہ امریکہ کے کردار کو سمجھنے کے لیے ایک کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر امریکہ ایک مہذب ملک ہے تو وہ بھی بین الاقوامی قانون کا اسی طرح پابند ہے جس طرح دنیا کے دوسرے ممالک۔ لیکن امریکہ خود کو ہر قانون اور ضابطے سے بالا سمجھتا ہے اور ان تمام قوانین اور معاہدات بشمول جنیوا کنونشنز کو پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتا جو اسے جنگ اور جنگی قیدیوں کے باب میں کسی درجے میں بھی پابند کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران جب عراق نے امریکہ کے جنگی قیدیوں کو ٹی وی پر دکھایا تھا تو امریکہ چیخ اُٹھا تھا کہ یہ جنیوا کنونشنز کے خلاف ہے۔ لیکن خود امریکہ نے جس طرح سے صدام کے بیٹوں کی لاشوں کی نمایش کی اور اب جس حقارت کے ساتھ صدام کو بہ ایں ریش دراز دکھایا‘شیوکیے جانے اور دانتوں سے ڈی این اے حاصل کرنے کے مناظرکو پیش کیا اور چوہے کے بل کی داستانیں نشر کیں‘ انھیں بھلا کون سے قانون یا ضابطے کے تحت جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

قیدیوں کی تحقیرایک مذموم حرکت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے لیکن امریکہ کے لیے یہ سب روا ہے۔ اس نے تو اقوامِ متحدہ کے قائم کردہ جنگی جرائم کی کورٹ کو تسلیم کرنے تک سے انکار کر دیا ہے اور دنیا کے دوسرے ممالک سے دو طرفہ معاہدات کر رہا ہے کہ امریکہ کے فوجی بین الاقوامی کریمنل کورٹ کی دسترس سے باہر رہیں گے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ ایک مہذب ریاست کا نہیں بلکہ ایک غنڈا ریاست (Rogue State) کا کردار ادا کر رہا ہے اور طاقت کے نشے میں چور‘ خود کو ہر قانون سے بالا رکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح وہ  ایک عالمی لیڈر کا نہیں ایک Master اور Bully کا کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا کی نگاہ میں اب امریکہ کی یہی پہچان ہے۔ پھر اگر دنیا کے لوگ امریکہ کو امن کے لیے خطرہ اور خود اپنے لیے ایک ناپسندیدہ کردار تصور کرتے ہیں تو اس میں ان کا کیا قصور؟ اس کے بعد بھی اگر صدربش یہی پوچھتے ہیں اہل دنیا ہم سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ تو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ  ع

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

دوسرا پہلو‘ جس میں عرب اور مسلمان ممالک اور ان کی قیادتوں کے لیے بھی بڑا   سامانِ عبرت ہے اور خود امریکہ کے لیے بھی‘ یہ ہے کہ اب اس پر بحث ہو رہی ہے کہ صدام پر مقدمہ کیسے چلایا جائے؟ اس لیے کہ اگر یہ کھلا مقدمہ ہو اور صدام سارا کچا چٹھا عدالت کے سامنے رکھ دے تو صدام کے جرائم سے کہیں زیادہ خود امریکہ کے جرائم اور گھنائونے کردار کا نقشہ دنیا کے سامنے آئے گا اور معلوم ہوگا کہ امریکہ عرب‘ مسلم اور تیسری دنیا کے ممالک میں کیا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ صدام نے ۱۲ ہزار صفحات پر مشتمل جو دستاویز عام تباہی کے ہتھیاروں کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی تھی امریکہ نے اس میں سے ۹ ہزار صفحات پر masking tape لگا دیا تھا کہ اس میں اس کے اپنے کردار کا ذکر تھا۔اب یہ سب چیزیں کھل کر دنیا کے سامنے آئیں گی۔

اس کے علاوہ صدام کو صدام بنانے میں امریکہ نے کیا کردار ادا کیا ہے یہ بھی دنیا کے سامنے آرہا ہے۔ رچرڈسیل (Richard Sale)کی ایک تحقیقی رپورٹ کے بموجب جو اس سال اپریل میں یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل نے شائع کی ہے کہ امریکی سی آئی اے کا پہلا رابطہ نوجوان صدام حسین سے ۱۹۵۹ء میں قائم ہوا جو عراق کے مقبول عوام حکمراں جنرل عبدالکریم قاسم کو قتل کرنے کے منصوبے کے سلسلے میں تھا۔ جنرل عبدالکریم قاسم وہ شخص تھا جس نے عراق کی مغرب نواز شہنشاہیت کا تختہ الٹا تھا اور عراقی قوم پرستی اور اشتراکیت کے نظریے پر استوار بعث پارٹی کے ذریعے امریکہ نے اس کا کام تمام کر دیا۔ عرب محقق اور تجزیہ نگار عادل درویش کی کتاب UNHOLY BABYLON: The Secret History of Saddam's War میں پوری دستاویزی شہادتوں کے ساتھ صدام اور بعث پارٹی کے گھنائونے کردار اور ان کے   سی آئی اے سے تعلقات کی تفصیلات آچکی ہیں اور خود بعث پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے اعتراف کیا تھا کہ "We came to  power on CIA train" (ہم امریکی گاڑی پر سوار ہوکر اقتدار میں آئے تھے)۔ اس گاڑی میں صدام حسین کا ایک خاص مقام تھا‘ یعنی پارٹی کی خفیہ جاسوسی تنظیم کی سربراہی۔ پارٹی کا یہی وہ عنصر تھا جو Iraqi National Guardsmen کے    عنوان تلے سیاسی مخالفین اورسی آئی اے کی فراہم کردہ فہرست کے مطابق لوگوں کو چن چن کر قتل کر رہا تھا۔

صدام سی آئی اے ہی کے تعاون سے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا بالآخر عراق کا مطلق العنان فرمانروا بنا اور اس حیثیت سے ہی وہ امریکہ کا منظورِ نظر تھا خاص طور پر جب امریکہ نے اسے ایران کے خلاف استعمال کیا۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد سے عراق پر بھی دوسرے عرب ممالک کی طرح پابندیاں لگی ہوئی تھیں۔ ایران کے خلاف جنگی خدمات کے عوض ۱۹۸۲ء میں صدر ریگن نے وہ پابندیاں اٹھائیں اور صدام کو صرف معلومات ہی نہیں بلکہ اسلحہ‘ کیمیاوی اور گیس کے ہتھیار اور ایک ارب ۲۰ کروڑ ڈالر کی مالی امداد بھی دی۔ اور وہ امداد اس کے علاوہ ہے جو سعودی عرب اور کویت سے دلوائی گئی۔ موجودہ سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ جو اُس وقت ریگن کے نمایندے کے طور پر ۲۰ دسمبر ۱۹۸۳ء کو صدام سے ملے اور اسے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ پھر ۱۹۸۴ء میں بغداد کا دورہ کیا اور جس وقت صدام کردوں کے خلاف زہریلی گیس استعمال کررہا تھا جو امریکہ‘ برطانیہ اور جرمنی سے فراہم کی گئی تھی‘ تب کھلے عام امریکہ اس کی پیٹھ تھپک رہا تھا۔ یہ اور سارے حقائق ویسے تو اب کسی نہ کسی طرح سامنے آچکے ہیں لیکن امریکہ خائف ہے کہ صدام کے مقدمے کے ذریعے سے یہ ساری کالک اس کے منہ پر مَلی جائے گی۔ اس لیے وہ   بین الاقوامی مقدمے سے کنی کترا رہا ہے اور صدام کی سرپرستی کے اپنے گھنائونے کردار کے اس طرح طشت ازبام ہونے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدام کی گرفتار ی سے امریکہ کی مشکلات کا خاتمہ نہیں ہوابلکہ اس میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ عراق میںامریکی قبضے کے خلاف جو تحریک برپا ہے اس میں کمی کا امکان نہیں اور صدام کی گرفتاری سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ اس کی پشت پر صدام نہیں (وہ تو ایک    تہہ خانے میں پناہ لیے ہوئے تھا اور منشیات کے ذریعے اپنے غم غلط کرنے میں مصروف تھا)‘ بلکہ پوری قوم ہے اور محض صدام یا القاعدہ کی دہائی دے کر اس کی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔

عالمِ اسلام کے لیے بھی اس میں عبرت کا مقام ہے کہ کس طرح وہ قائدین جو اس پر مسلط ہیں‘ وہ دوسروں کے آلہ کار رہے ہیں اور ہیں‘ اور وہ جو اپنے عوام پر ظلم ڈھانے کے لیے بڑے جری ہیں جب آزمایش آتی ہے تو کس طرح چوہوں کی طرح بلوں میں گھستے اور اپنی جان بچاتے نظر آتے ہیں۔ اس میں یہ سبق بھی ہے کہ وہ نظام جس میں باگ ڈور ایسے آمروں کے ہاتھ میں ہو‘ کتنا کمزور اور بودا ہوتا ہے اور کس طرح تاش کے پتوں کے گھروندے کی طرح  زمین بوس ہو جاتا ہے۔ استحکام‘ دستور اور قانون کی حکمرانی‘ اصولوں کی بالادستی اور اداروں کے استحکام سے حاصل ہوتا ہے۔ آج ہماری کمزوری کی اصل وجہ ہی اجتماعی نظام کا یہ بگاڑ اور اجتماعی احتساب کا فقدان ہے۔ خود اپنے گھر کی اصلاح وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ بات صرف عراق اور صدام کی نہیں‘ ہر مسلمان ملک اور وہاں پر مسلط ہر آمر کا مسئلہ ایک ہی ہے۔   نام اور جگہ مختلف ہے۔ اگر مسلم عوام یہ سبق سیکھ لیں اور اپنے معاملات ان باہر سے مسلط کیے جانے والے نام نہاد مسیحائوں کے ہاتھوں سے لے کر خود اپنے ہاتھوں میں لے لیں تو چند سالوں میں زندگی کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ فاعتبروا یااولی الابصار!

فتنہ انکارِ حدیث کا منظر و پس منظر‘ پروفیسر افتخار احمد بلخی۔ ناشر: کفایت اکیڈمی‘  شاہراہِ لیاقت‘ نزد فریر مارکیٹ‘ کراچی۔ صفحات: حصہ اول: ۲۰۸ ‘ حصہ دوم: ۴۰۳‘حصہ سوم: ۵۸۶ قیمت: اول:۱۲۵ روپے‘  دوم: ۲۱۰ روپے‘سوم: ۲۶۵ روپے۔

فتنہ انکارِ حدیث پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ بظاہر خردمندی کے علم بردار یہ حضرات اپنے باطن میں رسالت ِمحمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے انکار کا ناسور پالے ہوئے ہیں۔

اب سے تقریباً پچاس برس پہلے ‘نوتشکیل شدہ ریاست پاکستان میں منکرین حدیث نے باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ ان کا اصل مقصد تحریک احیاے اسلام کا راستہ روکنا تھا۔اگرچہ اس فتنے کی تاریخ قدیم ہے‘ لیکن عصرِحاضر میں اس کا بڑا سبب مطالبہ نظامِ اسلامی ہی بنا۔ شعبہ معارف اسلامیہ‘ کراچی یونی ورسٹی کے سابق صدر پروفیسر افتخاراحمد بلخی ]م:۱۹۷۴ئ[‘ بلند پایہ عالم دین‘ معروف استاد‘ انفرادیت کے حامل محقق اور علومِ اسلامیہ بالخصوص ذخیرئہ حدیث پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انھوں نے منکرین حدیث کا ہر قابلِ ذکر اقدام نوٹ کیا‘ ہرگھات پر نظر رکھی اور ہر اعتراض کو اصل مآخذ کی بنیاد پر مدلل انداز سے رد کیا۔

بلخی مرحوم نے غلام احمد پرویز] م: ۱۹۸۵ئ[ کے ہاں ترجمے کی غلطیوں‘ عربی سے ناواقفیت اور فہم دین و منصب ِ رسالتؐ سے بے خبری کوبے نقاب کرنے کے ساتھ مولانا مودودی کے دفاع کا بھی حق ادا کیا ہے۔ دفاع ان معنوں میں کہ منکرینِ حدیث نے دین اسلام کا حلیہ بگاڑنے کے لیے حدیث کے استہزا اور مولانا مودودی کے رد کے لیے بیک وقت اور بیک زبان جو مہم چلائی تھی‘ یہ کتاب اس دو طرفہ حملے کا بھرپور جواب ہے۔ یہ کتاب نہ صرف حجیتِ حدیث کے استدلالی سرمائے سے مالا مال ہے بلکہ مولانا مودودی کے دفاع کا فریضہ بھی ادا کرتی ہے۔ اس طرح مصنف نے دفاعِ دین کے جذبے سے اور اپنے وسیع مطالعے کی مدد سے انکارِ حدیث کی معاصر سرگرمیوں کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ (سلیم منصورخالد)


اقبال کی شخصیت پر اعتراضات کا جائزہ ‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب صابر۔ اہتمام: انسٹی ٹیوٹ آف اقبال اسٹڈیز‘ ناشر: کتاب سرائے‘ الحمدمارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور (مجلد مع اشاریہ)۔ صفحات: ۳۸۷۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

بعض افراد اپنے کام اور پیغام کے حوالے سے اپنے شخصی وجود سے نکل کر ایک تحریک‘ عہد یا رویے کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ تاہم تاریخ میں ایسی شخصیات خال خال ہی ہوتی ہیں۔ علامہ محمد اقبال ایسی ہی ایک باکمال شخصیت تھے۔ شہرت‘ دولت اور قوت کی حامل شخصیات سے بعض اوقات افسانوی حکایتیں منسوب کر دی جاتی ہیں یا پھر اُن کو حاسدانہ اور رقیبانہ الزام تراشی کی آگ میں جلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ افسوس کہ اقبال کے ساتھ بھی بہت سے  ’دانش وروں‘ نے یہی معاملہ کیا۔

اقبال نہ معصوم عن الخطا تھے اور نہ کوئی فوق البشر۔ غلطی اور کوتاہی کا صدور ہر کسی سے ممکن ہے لیکن اقبال شکنی کی گذشتہ ایک سو سالہ روایت میں اُن کے کرم فرمائوں نے اتہام و الزام کی جو گولہ باری ان پر کی‘ اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے دشمن اور حاسد‘ بڑے ہی چھوٹے لوگ تھے۔ مختلف اوقات میں وضع کیے جانے والے ایسے سترہ الزامات کی فہرست پروفیسرموصوف نے اس کتاب میں پیش کی ہے۔ مثال کے طور پر: طوائف کا قتل‘ شراب نوشی‘ معاشقے‘ سر کا خطاب‘ مسلم سامراجیت‘ بداعمالی‘ تضاد فکر‘ وغیرہ وغیرہ۔

مصنف نے اس نوعیت کے الزامات کا پس منظر پیش کرتے ہوئے داخلی و خارجی شواہد کی بنیاد پر ہر الزام کا جواب پیش کیا ہے اور اپنی اس کاوش کو دستاویزی حوالوں سے مرصع کیا ہے۔ یہ ایک مشکل اور صبرآزما کام تھا‘ جسے پیش کرنے کے لیے صبر ایوب کی صفت سے نسبت ضروری تھی۔ کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے الزامات ’’سنا تھا‘‘، ’’کیا ہوگا‘‘ اور ’’مشہور تھا‘‘ جیسے اسلوبِ بیان کے رہینِ منت ہیں‘ جب کہ بعض چیزوں کو زندگی کے ارتقائی جواز سے یکسر کاٹ کر اقبال کے مجموعی سراپے پر تھوپ دیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر الزام کا باریک بینی سے مطالعہ کرکے الزام لگانے والے کا کمال تعاقب کیا ہے اور اس الزامی مہم کا جائزہ لیتے ہوئے اقبال کو ایک انسان‘ ایک شاعر اور ایک مسلمان کی حیثیت سے جانچا اور پرکھا ہے۔

احمد ندیم قاسمی کو اپنے ’’انقلابی‘‘شعور کے باوجود علامہ اقبال کا ’شاہین‘ ناپسند ہے کہ وہ  بے چارے کبوتر کو شکار کرتا ہے۔ اس ’معصومانہ اعتراض‘ کے پس پردہ محرکات پر بھی بحث کی جاتی تو اچھا تھا۔ اس ضمن میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ بعض لوگوں نے علامہ سے تمام تر عقیدت کے باوجود‘ بعض پہلوئوں سے اقبال سے علمی اختلاف کیا ہے‘ کیا ایسے حضرات (مثلاً سلیم احمد وغیرہ) کو اقبال مخالفین کے کیمپ میں دھکیل دینا مناسب ہے۔

سہیل عمر نے تقریظ میں بجا طور پر متوجہ کیا ہے کہ ]ایوب صابر[ اقبال دشمنی کے اس  مخفی رویے کا بھی محاکمہ کریں جو علامہ کے چند نادان دوستوں کے ہاں نظرآتا ہے مثلاً:اقبال مجدد مطلق ہیں‘ اقبال تاریخِ انسانی کے عظیم ترین شاعر ہیں‘ اقبال دنیا کے سب سے بڑے مفکر ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تہمتیں زیادہ خطرناک ہیں جو امین زبیری ایسے لوگوں نے اقبال پر لگائی ہیں۔ (ص ۹)۔ مجموعی طور پر یہ کتاب اقبالیاتی ادب میں ایک فکرانگیز اضافہ ہے۔ (س- م- خ)


Our First Book of Science‘ ] سائنس کی پہلی کتاب[ ڈاکٹرعبدالوحید چودھری۔ ناشر: دعوہ اکیڈمی‘ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی‘ اسلام آباد۔ صفحات:۱۰۷۔ قیمت:۵۰روپے۔

سائنسی معلومات پر مبنی اس کتاب کو اسلامی نقطۂ نظر سے ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے‘ یعنی سائنس کو ‘ جسے ایک لادینی علم سمجھا جاتا ہے‘ اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کا خالق و مالکِ کائنات ہونا ثابت ہو۔ اگرچہ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ایک انتہائی اہم اور ضروری کام ہے‘ لیکن سیکڑوں برس کی غفلت اور علمی تحقیق سے دُوری کے سبب آج ہمیں اسلامی تعلیمات سے جدید علوم کی مطابقت پیدا کرنے کا کام ایک کوہِ گراں معلوم ہوتا ہے۔  تاہم اس مقصد کے لیے ابتدائی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

زیرِنظرکتاب بھی ایک ایسی ہی کوشش ہے لیکن شاید اتنی کامیاب نہیں ہے۔ کتاب میں اگرچہ آیاتِ قرآنی کے حوالے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں حمدیہ کلمات جابجا دیے گئے ہیں‘ تاہم مصنف سائنسی معلومات کوایک جامع اور باضابطہ طریقے سے پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ غالباً انھیں سائنس پر مناسب عبور حاصل نہیں ہے جس کے سبب انھوں نے کئی باتیں خلافِ حقیقت بھی لکھ دی ہیں‘ مثلاً: یہ کہ ’’خلا میں (بے وزنی کی کیفیت کے سبب) ہم ایک پورے خلائی جہاز (اور کسی بھی بڑی سے بڑی چیز) کو اپنی انگلی کے ذریعے اٹھا سکتے ہیں‘‘۔ (ص۱۹)۔ اسی طرح سائنس میں power (اردو: طاقت) ایک اصطلاح ہے جس کا ایک مخصوص اور معین مفہوم ہے مگر زیرنظر کتاب کے مصنف نے اس لفظ کو عمومی انداز میں جابجا اس طرح استعمال کیا ہے کہ اس کے معنی بالکل مبہم ہوجاتے ہیں‘ مثلاً:  Power of Gravity‘ Power of Heat ‘ Air Power‘  Power of Water‘اور (water's) Power to Dissolve وغیرہ۔ پھر اسی لفظ کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرنا (He has power over every thing) سائنسی ہی نہیں‘ دینی نقطۂ نظر سے بھی نامناسب ہے‘ کیونکہ سائنسی اصطلاح power کااطلاق محض مادی اجسام پر کیا جا سکتا ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے کوئی نسبت نہیں ہے جس کے لیے ’’قدرت‘‘ (Authority)کا لفظ زیادہ موزوں ہے۔

کتاب میں پروف ریڈنگ کی غلطیاں بکثرت ہیں۔ اس کی پیش کش (layout) میں بھی نہ صرف خوب صورتی اور کشش نہیں ہے بلکہ اس معاملے میں خاصی غفلت اور تساہل سے کام لیا گیا ہے۔ خصوصاً صفحہ ۵۱ پر متن اور لے آئوٹ کی اغلاط کی بھرمارہے۔

اگر یہ کتاب آزمایشی اور تجرباتی بنیادوں پر شائع کی گئی ہے تو ہماری درخواست ہے کہ اسے دوبارہ شائع کرنے سے پہلے اس پر بھرپور اور ہمہ گیر نظرثانی کی جائے اور درج بالا گزارشات کو ملحوظ رکھا جائے۔ (فیضان اللّٰہ خان)


مادرِ ملّت اور بلوچستان‘ ڈاکٹر انعام الحق کوثر۔ناشر: سیرت اکادمی بلوچستان (رجسٹرڈ)‘ سیٹلائٹ ٹائون‘ کوئٹہ۔ صفحات: ۱۲۷۔ قیمت: ۱۸۰ روپے۔

۲۰۰۳ء کو محترمہ فاطمہ جناح کے سال کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا تو ان کی حیات و خدمات کے حوالے سے متعدد کتابیں منظرِعام پر آئیں۔ زیرِنظرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کتاب کا موضوع صوبۂ بلوچستان کے حوالے سے محترمہ فاطمہ جناح کی یادوں اور خدمات کا احاطہ ہے۔ ایک حصے میں محترمہ کی اُن سرگرمیوں (مختلف علاقوں کے دوروں‘ عوامی و سیاسی اجتماعات میں شرکت اور عوام سے خطاب) کی تفصیل فراہم کی گئی ہے جن کا تعلق صوبۂ بلوچستان سے ہے۔ دوسرے حصے میں محترمہ فاطمہ جناح سے متعلق بلوچستان کے اہلِ قلم کے مضامین و منظومات شامل ہیں۔ اس کتاب کے خاص مشمولات درج ذیل ہیں:

۱-  جولائی ۱۹۴۳ء میں کوئٹہ میں خواتینِ بلوچستان مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی روداد اور تقریریں۔ اس اجلاس میں محترمہ فاطمہ جناح بھی شریک تھیں۔ مولف نے یہ تفصیلات ہفتہ وار الاسلام (کوئٹہ‘ خواتین نمبر) بابت ۷؍رجب ۱۱ جولائی ۱۹۴۳ء سے حاصل کی ہیں۔

۲-  ’’مادرِ ملت بلوچستان میں --- قدم بہ قدم‘‘ کی توقیت بھی اہم ہے۔

۳-  بیرسٹر یحییٰ بختیار اور قاضی محمد عیسیٰ سے محترمہ فاطمہ جناح کی مراسلت ۔

کتاب کے مولف کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے۔ وہ اس سے قبل کئی علمی و ادبی تصنیفات و تالیفات اُردو دنیا کو دے چکے ہیں۔ تازہ کتاب بھی ان کے معیارِ قلم کی روایت کا حصہ سمجھی جانی چاہیے۔ (رفاقت علی شاہد)


اسلام‘ انٹرنیٹ پر‘ محمد متین خالد۔ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴- اُردو بازار لاہور۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

انٹرنیٹ دورِ جدید کی انتہائی اہم دریافت و ایجاد ہے۔ اس نے فاصلے ختم کر دیے ہیں اور رابطوں کے اخراجات میں بھی غیرمعمولی کمی کر دی ہے۔ مذکورہ کتاب میں انٹرنیٹ کے بارے میں تعارفی مضامین کے علاوہ درجنوں سائٹس کا سرسری تعارف بھی شامل ہے جو اسلام‘ اسلامی تعلیمات‘ قرآن‘ حدیث‘ فقہ‘ تاریخ‘ مسلم دنیا اور مسلمانوں کے وسائل وغیرہ کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔

ایک طرف تو انٹرنیٹ کے ذریعے انارکی‘ خلفشار اور فحاشی کو پھیلانے کا کام وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسی سائٹس کا قیام خوش آیند ہے جو اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے قائم ہوئی ہیں‘ متین خالدنے محنت شاقہ کے بعد اہم سائٹس کے کوائف اس کتاب میںجمع کر دیے ہیں۔ ایسی سائٹس بھی موجود ہیں جہاں سے آپ قرآن پاک اٹھارہ زبانوں میں حاصل (ڈائون لوڈ)کر سکتے ہیں‘ اسی طرح اسلامی تاریخ کے تمام واقعات کی تفصیلات جان سکتے ہیں‘ روز مرہ مسائل کا شرعی حل جان سکتے ہیں اور کعبۃ اللہ اور مسجد نبویؐ کی اذان سن سکتے ہیں وغیرہ۔

اس کتاب کا ایک اور قابلِ تعریف پہلو یہ بھی ہے کہ مصنف نے اپنی حد تک قادیانیوں کی اور یہودیوں کی سائٹس کے پتے بھی دیے ہیں تاکہ ایسی اسلام دشمن طاقتوں سے آگاہی ہوسکے۔ موجودہ دور کی ضروریات کے اعتبار سے یہ ایک قابلِ قدر کتاب ہے۔ (محمد ایوب منیر)


ربا کیس: حکومتی وکلا کے دلائل کا جواب‘ سید معروف شاہ شیرازی۔ ناشر: منشورات اسلامی بالمقابل منصورہ‘ لاہور۔صفحات: ۱۶۰۔ قیمت: ۶۰ روپے۔

آئینِ پاکستان میں متفقہ طور پر قرآن و سنت کو سپریم لا قرار دیا گیا ہے لیکن اقتدار کی راہداریوں میں براجمان بیوروکریسی‘ اس آئین کی جس طرح بے حُرمتی کرتی چلی آ رہی ہے اس کی ایک جھلک فاضل مصنف نے زیرنظر کتاب میں دکھائی ہے۔

جون ۲۰۰۲ء میں سپریم کورٹ نے ربا کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر سودی نظام کے حق میں حکومتی وکیل کاظم رضا اور یونائٹیڈ بنک کے وکیل راجا اکرم نے دلائل دیے۔ مصنف نے ان دلائل پر بحث کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ قرآن وسنت سے متصادم ہیں اور اس معاملے میں حکومتی بدنیتی واضح ہوتی ہے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ دنیابھر میں سود سے نجات کے لیے کوشش اور تجربے ہو رہے ہیں‘ مثلاً: جاپان نے سود زیرو کے قریب کر دیا ہے اور دوسرے ممالک کو صنعت کے لیے ایک فی صد یا اعشاریہ ۵ فی صد پر قرض دے رہا ہے (ص ۷۳)۔ سوڈان میں جاری اسلامی بنک کاری‘ پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹوں اور پاکستان کے تجویز کردہ ماڈل پر مبنی ہے (ص ۸۱)۔ اس طرح بعض دیگر اسلامی ممالک (بنگلہ دیش وغیرہ) میں بھی کامیابی کے ساتھ بلاسود بنک کاری ہو رہی ہے۔

مذکورہ کتاب کے باب ششم میں فاضل مصنف نے ترقی پذیر ممالک پر امریکہ‘ ورلڈ بنک‘ آئی ایم ایف‘ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مار دھاڑ اور نام نہاد مسلمان حکمرانوں کی بے حمیتی کے نمونے جمع کیے ہیں۔

مختصر یہ کہ اس موضوع پر یہ ایک عمدہ اور مفید و معاون کتاب ہے۔ البتہ پروف خوانی مزید توجہ سے ہونی چاہیے۔ (عبدالجبار بھٹی)


نیل کا مسافر (ناول) اختر حسین عزمی۔ ناشر: اذانِ سحرپبلی کیشنز‘ ۴۲- چیمبرلین روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۵۹۔ قیمت: ۸۰ روپے۔

اخوان المسلمون کے بانی اور مرشدعام سید حسن البناؒشہید کی داستانِ عزیمت کو ناول کے دل چسپ پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے اپنی اس کاوش میں ادبی اور تحریکی دونوں تقاضوں کو نبھانے کی کوشش کی ہے۔

اس ناول سے سید حسن البناؒ کی ابتدائی زندگی‘ تعلیمی کارناموں‘ سماجی خدمات‘ دعوتی سرگرمیوں‘ اس دور میں مصر کے سیاسی حالات‘ اخوان المسلمون کے قیام‘ اسے درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات اور قیدخانوں میں ڈھائی جانے والی صعوبتوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ حسن البنا شہید کو کس طرح شہید کیا گیا۔اسی طرح اصلاحِ احوال اور غلبۂ دین کے لیے اخوان المسلمون کے قائد کی فکرمندی‘ فرقہ بندی کے خلاف چارہ جوئی‘ تزکیہ نفس پر زور‘ حکیمانہ دعوتی اسلوب‘ لذتِ تقریر اور مدلل اندازِگفتگو سمیت ان کی شخصیت کے کئی پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مصنف کا اصلاحی اسلوب پورے ناول پر محیط ہے۔ ناول سادہ اور بیانیہ نثرمیں لکھا گیا ہے۔ ناول کی فنّی باریکیوں سے قطع نظر‘مصنف نئی نسل کے سامنے حسن البنا شہیدؒ کی شخصیت کو ایک آئیڈیل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں اور اس میں وہ کامیاب ہیں۔ (سلیم اللّٰہ شاہ)


ڈاکٹر محمد حمیدؒاللہ کی بہترین تحریریں‘ مرتب: سید قاسم محمود۔ ناشر: بیکن بکس‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۹۲۔ قیمت مجلد: ۲۷۵ روپے۔

ڈاکٹر حمیدؒاللہ کے انتقال کے بعد اہلِ علم نے ان کی یاد کا حق ادا کر دیا ہے۔ یقینا یہ معاشرے کی زندگی کی علامت ہے۔ ایک طرف یادگاری مضامین کا سلسلہ شروع ہوا تو دوسری طرف کتب آناشروع ہوگئیں۔ اس سلسلے کی زیرِنظر کتاب حسنِ ترتیب اور حسنِ طباعت کے لحاظ سے بڑی دل کش ہے۔ حسنِ تدوین کے لیے سید قاسم محمود کا نام ضمانت ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ کے چند اہم مضامین سلیقے سے ترتیب دے کر جمع کر دیے گئے۔

کتاب میں ۱۲ خطبات بہاولپور کی تلخیص و تسہیل اور ۴۰ استفسارات کے جواب شامل ہیں۔ پہلے حصے میں حمیداللہ مرحوم کی شخصیت پر چند مطبوعہ مضامین (محمود احمد غازی‘ صلاح الدین شہید‘ شاہ بلیغ الدین) ہیں۔ آخر میں ایک ہی صاحب کے نام ان کے مکتوبات ہیں جن پر وضاحتی نوٹ بھی دیے گئے ہیں۔ ان تین طرح کے آئینوں میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ کی شخصیت چلتی پھرتی دیکھی جاسکتی ہے اور ان کی وسعتِ نظر اور تبحرعلمی کا اندازہ ہوتا ہے۔

غرض یہ کتاب ڈاکٹرمحمد حمیداللہ کے لیے نہایت موزوں اور قرار واقعی خراجِ عقیدت و تحسین ہے جس کا مطالعہ قاری کو ان کی زندگی اور کام کے ہر پہلو سے بلاواسطہ آگاہی دیتا ہے۔ کتاب کے نام میں ’’بہترین‘‘ کے بجاے ’’منتخب‘‘ زیادہ بہتر ہوتا۔ (مسلم سجاد)


تعارفِ کتب

  • نونہال‘ خاص نمبر‘ مدیر: مسعود احمد برکاتی‘ ناشر: دفتر ہمدرد نونہال‘ ڈاک خانہ ناظم آباد‘ کراچی-۷۵۶۰۰۔ صفحات: ۱۸۴۔ قیمت: ۲۰ روپے۔] نونہال‘ پچاس سال سے بچوں کا معیاری ادب پیش کر رہا ہے۔ یہ اس کا خاص نمبر ہے۔ دل چسپ اور سبق آموز مضامین‘ کہانیاں‘ نظمیں وغیرہ۔ بچوں کی ذہنی استعداد بڑھانے اور ان میں مثبت‘ تعمیری جذبات پیدا کرنے کی قابلِ قدر کاوش۔[
  • مسائل حج و عمرہ‘ مولاناغلام محمد منصوری۔ پتا: مکتبہ برہان‘ اُردو بازار‘ کراچی۔ صفحات:۴۱۴۔ قیمت: درج نہیں۔] اپنے موضوع پر مفید کتاب‘ مگر کتابت زیادہ جلی اور صفحات زیادہ ہیں۔ قدرے مختصر‘ کم ضخامت ہو تو افادیت کا دائرہ وسیع ہوگا۔[

اعجاز علی ندیم   ‘  لاہور

ماہنامہ ترجمان القرآن کی ’’اشاعتِ خاص‘‘ کا سرِورق دیکھا تو عجیب لگا کیونکہ معمول سے   ہٹ کر تھا۔ مضامین کا مطالعہ کیا تو اندازہ ہوا کہ علم کے موتی ایک گلدستے کی صورت میں جمع ہوگئے ہیں ‘ان سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ خلیل الرحمن چشتی نے ’’تحریک احیاے دین کے قافلہ سالار‘‘ میں کمال اندازِ بیاں سے تاریخ کے پس منظر کے ساتھ مولانا کی خدمات کا ذکر بہت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔ ایک عام قاری کے لیے جو مولانا کی شخصیت کے بارے میں لاعلم ہو تصویر کا پورا رخ پیش کرتا ہے۔ یہ مضمون جہاں مولانا مودودیؒ کی علمی خدمات کا احاطہ کرتا ہے وہاں جماعت کی جدوجہد کو بھی تاریخی تناظر میں پیش کرتا ہے۔’’یاد ہے مجھ کو ترا حرفِ بلند‘‘پڑھ کر اندازہ ہوا کہ مولانا بہت بڑے پائے کے  قانون دان بھی تھے۔ ’’مودودی نمبر‘‘سے ہمیں ایک صدی پر محیط مسلمانوں کی دینی‘ علمی و سیاسی خدمات اور احیاے اسلام کی جدوجہد سے آگہی ہوئی۔ مولاناؒ پر اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے کہ انھوں نے اس صدی میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کر کے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔


اعظم بیگ  ‘  گجرات

’’اشاعتِ خاص‘‘ کے مضامین کو اعلیٰ معیار کا پایا‘ تاہم ڈاکٹر جاوید اقبال کے خیالات‘ تجزیے اور اجماع امت سے متعلق مشورے سے دل آزاری ہوئی۔ سرورق سے کئی سوالات ذہن میں اٹھے۔ہزاروں سالوں پر محیط فکرمودودیؒ سے شخصیت پرستی کا سوال بھی ذہن میں اٹھا اگرچہ پروفیسر خورشید احمد کے بقول یہ ’’احسان مندی اور محسن شناسی‘‘ ہے۔


سید شاہد ہاشمی‘ کراچی

’’اشاعتِ خاص‘‘ کے مطالعے سے قبل میں مولانا مودودیؒ کو بڑاآدمی سمجھتا تھا لیکن اسے پڑھ کر یقین ہوگیا کہ میں تو کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا۔ سید صاحب تو اس سے کہیں زیادہ‘ بہت زیادہ بڑے انسان تھے۔ انھیں قریب سے دیکھنے والوں کی تحریریں بتا رہی ہیں کہ وہ ’’عظمتِ کردار‘ وسعتِ ظرف‘ علوے ہمت‘ درویش مزاجی‘ اِتقا‘ توکل‘ تحمل‘ صداقت شعاری‘ ایثار‘ تدبر‘ دردمندی‘ ذہانت‘ فراست اور شگفتہ مزاجی‘‘ جیسی عمدہ‘ مسنون اور اب ناپید ہوتی ہوئی خصوصیات کے حامل رہنما تھے۔بیرونی تحریکی شخصیات کے مزید مضامین ہونے چاہییں۔ اگلے شمارے میں یہ کمی دُور ہو جائے تو بات بن جائے گی۔مولانا محترم کی زندگی کے آخری چند ماہ‘ چند ہفتے‘ چند روز‘ روزِ وداع اور سفرِوداع پر بھی معلومات اس تاریخی سلسلے کا حصہ بنایئے۔ اب تحریک کے ہم سفروں کی بڑی تعداد مولانا مرحوم سے زمانی طور پر بُعد کے سبب یہ جاننا چاہے گی۔ یہ معلومات بھی اِن شاء اللہ مفید ہوں گی۔


غازی الدین‘ کراچی

’’اشاعتِ خاص‘‘ کے سرورق پر ایک صدی سے دوسری صدی اور پھر صدیوں سے ہوتے ہوئے ایک ہزاریے سے دوسرے ہزاریے کی طرف پیش رفت کی جس طرح مؤثر جدول بندی کی گئی ہے وہ مجھے بہت پسند آئی‘ اور واقعی قابلِ ستایش ہے یہ منظرنامہ! اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ مولاناؒ کی فکروعمل جو ان کی تحریروں و تقریروں سے لے کر تشکیلِ جماعت اسلامی تک اور پھر ان کی منظم تحریک کا ربط عالمی اسلامی تحریکوں اور شخصیتوں و دیگر بین الاقوامی اداروں اور افراد سے عبارت ہے‘ اس کے اثرات وثمرات صرف ایک صدی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بے کنار ہوکر ہزاریوں میں منتقل ہوتے رہیں گے۔


احمد علی محمودی‘  حاصل پور

غزالیِ عصر مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ بلاشبہہ اس صدی کے عظیم انسان تھے۔ ان سے عقیدت و محبت تو پہلے بھی تھی مگر اس اشاعتِ خاص نے مجھے اپنے مرشد کا مزید گرویدہ بنا دیا ہے۔


ناصر قریشی  ‘  لاہور

’’راوانڈا: ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی‘‘(دسمبر ۲۰۰۳ئ) پڑھ کر دلی مسرت ہوئی کہ کس طرح راونڈا کے مظلوم مسلمان صبروضبط کا دامن تھامے‘ حالات کا جائزہ لیتے رہے‘ خانہ جنگی میں مبتلا دونوں دھڑوں کو بلاامتیاز مذہب و ملت‘ پناہ اور تحفظ دیتے رہے اور اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار سے دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ اس کے اثر سے ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ کیا عالمِ اسلام بالخصوص پاکستان کو مسلمان کرنے اور مسلمان ہونے والوں کے لیے اپنے فرائض کا احساس ہے!


  • سربکف‘ سربلند پر تبصرے (دسمبر ۲۰۰۳ئ) میں کتاب کی قیمت ۱۷۰ روپے لکھ دی گئی‘ جب کہ اصل قیمت ۷۰روپے ہے۔

خسارے کی تجارت

…مگر واقعہ کیا ہے؟ یہاں جو تعلیم اورتربیت آپ کو ملتی ہے‘ جو ذہنیت آپ کے اندر پیدا ہوتی ہے‘ جو خیالات‘ جذبات اور داعیات آپ کے اندر پرورش پاتے ہیں‘ جو عادات‘ اطوار اور خصائل آپ میں راسخ ہوتے ہیں‘ اور جس طرزِفکر‘ رنگِ طبیعت اور طریق زندگی کے سانچے میں آپ ڈھالے جاتے ہیں‘ کیا وہ سب مل جل کر اِس زمین‘ اِس آب و ہوا اور اس موسم سے کوئی مناسبت بھی آپ کے اندر باقی رہنے دیتے ہیں؟…

جو تعلیم افراد کو اپنی سوسائٹی اور اس کی حقیقی زندگی سے اجنبی بنا دے اس کے حق میں اس کے سوا آپ اور کیا فتویٰ دے سکتے ہیں کہ وہ افراد کو بناتی نہیں بلکہ ضائع کرتی ہے؟ ہر قوم کے بچے دراصل اس کے مستقبل کا محضر ]نوشتہ[ہوتے ہیں۔ قدرت کی طرف سے یہ محضر ایک لوحِ سادہ کی شکل میں آتا ہے‘ اور قوم کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خود اس پر اپنے مستقبل کا فیصلہ لکھے۔ ہم وہ دیوالیہ قوم ہیں جو اس محضر پر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لکھنے کے بجاے اسے دوسروں کے حوالے کردیتی ہے کہ وہ اس پر جو چاہیں ثبت کر دیں‘خواہ وہ ہماری اپنی موت کا فتویٰ ہی کیوں نہ ہو۔

آپ غور تو کیجیے‘ کس قدر سخت خسارے میں ہے وہ قوم جو اپنی بہترین انسانی متاع دوسروں کے ہاتھ بیچتی ہے؟ ہم وہ ہیں جو انسان دے کر جوتی اور کپڑا اور روٹی حاصل کرتے ہیں۔ قدرت نے جو انسانی طاقت (man power)اور دماغی طاقت(brain power) ہم کو خود ہمارے اپنے کام کے لیے دی تھی وہ دوسروں کے کام آتی ہے…اِن ہٹّے کٹّے جسموں میں جو قوت بھری ہوئی ہے ‘ اِن بڑے بڑے سروں میں جو قابلیتیں بھری ہوئی ہیں‘ اِن چوڑے چکلے سینوں میں جو دل طرح طرح کی طاقتیں رکھتے ہیں‘ جنھیں خدا نے ہمارے لیے عطا کیا تھا‘اِن میں سے بمشکل ایک دو فی صدی ہمارے کام آتے ہیں‘ باقی سب کو دوسرے خرید لے جاتے ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ اس خسارے کی تجارت کو ہم بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا اصل سرمایۂ زندگی تو یہی انسانی طاقت ہے۔ اسے بیچنا نفع کا سودا نہیں بلکہ سراسر ٹوٹا ہے۔ (’’خطبہ تقسیمِ اسناد‘‘، ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن‘جلد ۲۴‘ عدد۱-۲‘ محرم و صفر ۱۴۶۳ھ‘ جنوری فروری ۱۹۴۴ئ‘ ص ۶۴-۶۶)