سوال: میںیہ جاننا چاہتا ہوں کہ نکاح سے قبل اگر حق مہر کا تعین نہ کیا جائے اور نکاح کے وقت عین آخری لمحے پر دلہن کے گھر والے ایک نامناسب مطالبہ کر دیں اور دولہا کے لیے قبول کرنے یا رد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو‘ جب کہ بھاری حق مہر کی ادایگی اس کی استطاعت سے باہر ہو‘ تو وہ کیا کرے؟ اگر شادی سے چند روز قبل اس طرح کا مطالبہ کیا جاتا اور لڑکے والوں کی طرف سے انکار کر دیا جاتا تودلہن کے گھر والے قدموں میں گر جاتے اور مسئلے کے حل کے لیے کوئی نہ کوئی صورت نکالنے کی کوشش کرتے۔ لیکن عین نکاح کے موقع پر جب بھاری حق مہر کا مطالبہ کیا جائے اور انکار کی صورت میں بدمزگی ہو‘ نکاح نہ ہونے کا خدشہ ہو‘ جب کہ اس کی ادایگی دولہا کی استطاعت سے باہر ہو لیکن وہ وقتی طور پر جھوٹ بولے اور مہر کی ادایگی کا اقرار کرلے تو کیا اس مجبوری کی حالت میں ایسا کرنا مناسب ہوگا؟ اگر نہیں تو پھر اس مسئلے کا حل کیا ہوگا‘ نیز اگر وہ حق مہر ادا کیے بغیر مر جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
جواب: آپ کے سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ اگر دلہن کے گھر والے عین آخری لمحے پر نکاح کے وقت نامناسب مطالبہ کریں تو اسے رد کر دینا چاہیے۔ اگر رد نہ کیا جائے تو پھر انسان اس بات کا پابند ہو جائے گا۔ محض یہ کہ عین نکاح کے وقت مطالبہ کیا گیا‘ ایسی چیز نہیں ہے کہ اسے مجبوری قرار دیا جائے۔ اسلام میں مجبوری اور زبردستی یہ ہے کہ چھری‘ چاقو یا گولی سے ڈرا کر بات منوائی جائے۔ ظاہر ہے کہ ایساتو نہیں ہوا۔ ایسی صورت میں جو مہر طے ہوا ہو‘ وہ دینا پڑے گا۔ بعد میں بیوی سے پورا مہر یا اس کا کچھ حصہ معاف کرا لیا جائے۔اسے کہہ دیا جائے کہ موقع پر تو میں نے اتنا مہر دینا قبول کر لیا تھا تاکہ تقریب نکاح میں بدمزگی پیدانہ ہو لیکن اس قدر مہر دینا میری استطاعت سے باہر ہے۔ اس لیے آپ پورا مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دیں۔ شادی سے قبل یا شادی کے بعددونوں صورتوں میں آپ لڑکی سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ نکاح کے وقت مہر مقرر کر دینے کے بعد مہر کی معافی یا کمی کا اختیار لڑکی کا ہوتا ہے۔ اس سے لڑکی کے والدین یا خاندان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ اس لیے آپ یہ مطالبہ لڑکی سے کریں کسی اور سے نہیں۔
اگر مہر ادا کیے یا معاف کرائے بغیر آدمی فوت ہو جائے تو بیوی آخرت میں اپنے حق کا مطالبہ کرے گی اور اس کا یہ حق دینا پڑے گا۔ آخرت میں ادایگی بہت مشکل اور انتہائی کٹھن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مہر جو مقرر کیا گیا ہو‘ ادا کیا جائے‘ یا پھر اسے اپنی زندگی میں بیوی سے معاف کرا لیا جائے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ (مولانا عبدالمالک)
س : میں میڈیکل کی طالبہ ہوں۔ ہم سفید کوٹ کے اوپر سے اسکارف سے نقاب کرلیتی ہیں اور گائون کے طور پر علیحدہ سے لباس کے اوپر کچھ نہیں پہنا جاتا۔ سفیدکوٹ کی لمبائی تقریباً قمیص یا اس سے بھی کچھ کم ہوتی ہے۔ اس طرح سے سارے کپڑے نہیں چھپتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟ حال ہی میں میرے علم میں یہ اعتراض آیا ہے کہ چونکہ کپڑے زینت ہیں‘ اس لیے ان کا پورا چھپانا ضروری ہے۔ سفیدکوٹ تو ہمیں ہر صورت میں پہننا ہوتا ہے‘ چاہے اسے کپڑوں کے اوپر پہنا جائے یا گائون کے اوپرسے۔ دوسرے طریقے میں خاص طور پر گرمی میں بہت مشکل ہے لیکن اگر صرف سفیدکوٹ پہن لینا کافی نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ ہمیں اس طریقے کو چھوڑنا ہوگا۔ اس سلسلے میں آپ کی رائے درکار ہے کیونکہ میں الجھن میں مبتلا ہوں۔ کالج اور ہسپتال کے علاوہ ہم لوگ عام برقع کا ہی پورا استعمال کرتے ہیں۔
ج : دورِ جدید کی باشعور نوجوان نسل نے جس طرح اپنے دینی اور ثقافتی تشخص کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں‘ وہ قابلِ قدر ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین سے وابستہ رہ کر دورِحاضر کی وسعتوں سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ اس پس منظر میں آپ کا سوال اسلام کے تصورِ لباس و زینت سے تعلق رکھتا ہے۔
لباس زینت کو چھپاتا بھی ہے اور زینت دیتا بھی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے سورۂ نور کی آیت ۳۱ میں یوں فرمایا ہے: ’’اور اے نبیؐ،مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں‘ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں‘ اور اپنی زینت (بنائوسنگھار) نہ دکھائیں بجزاُس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بنائوسنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر‘ باپ‘ شوہروں کے باپ‘ اپنے بیٹے‘ شوہروں کے بیٹے‘ بھائی‘ بھائیوں کے بیٹے‘ بہنوں کے بیٹے‘ اپنے میل جول کی عورتیں‘ اپنے لونڈی غلام‘ وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں…(۲۴:۳۱)
یہاں زینت جس کا ترجمہ صاحب ِتفہیم القرآن نے بنائوسنگھارکیا ہے‘ اگر غور کیا جائے تو جہاں زینت کا مفہوم وہ زینت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں رکھ دی ہے ‘یعنی جسم کے خدوخال وغیرہ‘ وہاں اس سے مراد وہ زینت بھی ہے جو زیور یا غازہ وغیرہ کی شکل میں اختیار کی جاتی ہے۔ چنانچہ سینوں پر اوڑھنیوںکے آنچل ڈالنے کا تعلق اللہ کی بنائی ہوئی اور زیورات والی زینت سے نظرآتا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی سمجھا دی گئی کہ اگر لباس شوخ اور چمکدار یا متوجہ کرنے والا ہو‘ یا گلے کانوں میں زیور پہنا ہو تو اوپر سے چادر کو یوں گرا لیا جائے کہ خوب صورتی چھپ جائے۔ قرآن کریم نے زینت کے حوالے سے جو تعلیمات دی ہیں وہ نہ صرف متوازن ہیں بلکہ انسان کی ان خواہشات کے پیشِ نظر دی گئی ہیں جو وہ عام حالات میں پوری کرنا چاہتا ہے۔ اگر ایک خاتون زیورات کا استعمال کرنا چاہتی ہے تو وہ انھیں استعمال کرے لیکن نمودونمایش اور دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ نہ بننے دے۔ اسی لیے آیت کے آخری حصے میں یہ نہیں کہا گیا کہ پائوں میں پازیب کا استعمال منع ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ پائوں کو اس طرح مار کر چلنا کہ وہ اس پازیب کو ظاہر کر دے‘ ممنوع ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے پائوں کو اس طرح جنبش دینا کہ گویا پازیب تو نہ پہنی ہو لیکن فیشن پریڈ میں چلنے کا تاثر بن جائے تویہ بھی غلط قرار پائے گا۔
بعض زینتوں کو اسلام نے جائز بلکہ مستحسن قرار دیا ہے‘ جیسے شوہر کے لیے زینت کا اختیار کرنا‘ یا مسجد جاتے ہوئے مردوں کا اچھا لباس اور وضع قطع اختیار کرنا (الاعراف ۷:۳۱)۔ پھر یہ بات بھی اسی سیاق میں فرما دی گئی کہ ’’اے نبیؐ، ان سے کہو ‘ کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے اللہ کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں؟‘‘(۷:۳۲)
جہاں تک سوال لباس کے اوپر گائون کے استعمال کا ہے اگر آپ غور کریں توسادہ لباس خود جسم کی زینت کو چھپانے کے لیے ہوتا ہے۔ اگر اس پر گائون استعمال کرلیا جائے تو پھر زینت کے چھپانے کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ چاہے گائون کی پیمایش قمیص کے لگ بھگ ہی ہو۔ لباس اگر ساتر ہے‘ یعنی شلوار قمیص جسم پر چست نہیں ہے‘ کپڑا اتنا باریک نہیں ہے کہ جسم نظر آئے تو صرف ایسی چادر جو جسم کے اوپر کے حصے کو پوری طرح ڈھانپ لے اور جس سے سر کے بال اور گردن یا سینہ نظر نہ آئے ‘جلباب کی تعریف میں آتی ہے جسے خود قرآن کریم نے متعین کردیا ہے۔ آپ کے حوالے سے گائون اور اسکارف وہی کام کرتا ہے جو جلباب کا ہے۔ اس سے برقع کا مقصد بڑی حد تک حاصل ہو جاتا ہے۔ گائون سفید ہو یا برائون یا گرے‘ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کالج اور ہسپتال کے علاوہ بھی اسکارف کے ساتھ گائون نما کوٹ کا استعمال پردے میں شمار کیا جائے گا۔ کیونکہ گائون بڑی حد تک برقع کا قائم مقام ہے اور خود زینت نہیں بلکہ زینت کو چھپانے کا ذریعہ ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔(ڈاکٹر انیس احمد)
س: ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے اور مالی وسائل کے حصول کے لیے حکومتی سطح پر اسٹیٹ بنک کے توسط سے ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ‘ خاص ڈیپازٹ اسکیم‘ نیشنل پرائز بانڈ وغیرہ‘ اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا اجرا کیا جاتا ہے۔ میرا سوال انعامی بانڈ (پرائز بانڈ) کے بارے میں ہے۔
انعامی بانڈ منسٹری آف فنانس کے تحت اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے جاری ہوتے ہیں جو مختلف مالیت کے ہوتے ہیں۔ یہ بانڈ خریدنے کے بعد کسی بھی وقت دوبارہ بھنائے جاسکتے ہیں اور بغیر کسی کٹوتی کے پوری رقم واپس مل جاتی ہے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے انعام دیا جاتا ہے اور حکومتی سرپرستی کی وجہ سے دھوکا دہی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ انعام نہ نکلنے کی صورت میں اصل زر بھی محفوظ رہتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ انعامی بانڈوں کے بارے میں ہمارے علما میں ذہنی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ کچھ اسے سود اور قماربازی اور جوا کہتے ہیں۔ کچھ اس اسکیم کو جائز کہتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک یہ لاٹری اور جوے کی مانند ہے‘ اور انعامی رقم جائز نہیں ہے۔ آپ وضاحت فرما دیجیے کہ انعامی بانڈ کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
ج: کسبِ مال کے ضمن میں قرآن پاک یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ دولت صرف حلال طریقوں سے حاصل کی جائے اور حرام طریقوں سے اجتناب کیا جائے۔ اکتسابِ مال کے ضمن میں سود کو حرام کیا گیا ہے (البقرہ ۲: ۲۷۵-۲۷۹)‘ خواہ اس کی شرح کم ہو یا زیادہ اور خواہ وہ شخصی ضروریات کے قرضوں پر ہو یا تجارتی وصنعتی اور زراعتی ضروریات کے قرضوں پر۔ اسی طرح جوا (قمار) اور تمام وہ طریقے جن سے کچھ لوگوں کا مال کچھ دوسرے لوگوں کی طرف منتقل ہونا‘ محض بخت و اتفاق پر مبنی ہو‘ بھی حرام ہے۔ (المائدہ ۵:۹۰)
انعامی بانڈ (پرائز بانڈ) کی صورت کچھ یوں ہے کہ حکومتِ پاکستان مختلف حوالوں سے قرض لیتی ہے۔ اس قرض کی مختلف صورتیں ہیں جن میں بیرونی ادارے اور ممالک‘ مثلاً آئی ایم ایف‘ ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک وغیرہ شامل ہیں‘ اور ملکی سطح پر حکومت کمرشل بنکوں کے علاوہ عوام سے بالواسطہ طور پر قرض حاصل کرتی ہے۔ یہ قرض ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ‘ اسپیشل سیونگ سرٹیفیکیٹ اور انعامی بانڈ کی صورت میں لیا جاتا ہے۔ حکومت اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے لیے گئے ان قرضوں پر سود ادا کرتی ہے اور پاکستان کے بجٹ کی سب سے بڑی مد یہی سود اور قرضوں کی ادایگی (debt servicing)ہی ہوتی ہے۔
انعامی بانڈ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بانڈ بھی اسی نوعیت کے قرضے ہیں جو حکومت اپنے مختلف کاموں میں لگانے کے لیے لوگوں سے لیتی ہے اور ان پر سود ادا کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہروثیقہ دار (انعامی بانڈ خریدنے والے) کو اس کی دی ہوئی رقم پرفرداً فرداً سود دیا جاتا تھا‘ مگر اب جملہ رقم کا سود جمع کر کے اسے چند وثیقہ داروں کو بڑے بڑے انعامات کی شکل میں دیا جاتا ہے اور اس امر کا فیصلہ کہ یہ انعامات کن کو دیے جائیں گے‘ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جاتا ہے… یہ صورت واقعہ صاف بتاتی ہے کہ اس میں سود بھی ہے اور روحِ قمار بھی۔ جمع شدہ سود کی وہ رقم جو بہ صورتِ انعام دی جاتی ہے اس کا کسی وثیقہ دار کو ملنا اسی طریقے پر ہوتا ہے جس طرح لاٹری میں لوگوں کے نام انعامات نکلا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ لاٹری میں انعام پانے والے کے سوا تمام باقی لوگوں کے ٹکٹوں کی رقم ماری جاتی ہے اور سب کے ٹکٹوں کا روپیہ ایک انعام دار کو مل جاتا ہے‘ لیکن یہاں انعام پانے والوں کے سوا باقی سب وثیقہ داروں کی اصل رقمِ قرض نہیں ماری جاتی۔ (ترجمان القرآن‘ جنوری ۱۹۶۳ئ‘ بہ حوالہ رسائل و مسائل، حصہ سوم‘ ص ۲۳۹)
مولانا سیدابوالاعلیٰ موودیؒ نے یہ جواب ۱۹۶۳ء میں دیا‘ اس کے بعد ۱۹۶۹ء میںربا کے مسئلے پر غورکے دوران پاکستان کی اسلامی مشاورتی کونسل نے انعامی بانڈ پر ملنے والی رقم کے بارے میں یہ رائے دی: ’’انعامی بانڈ پر جو انعام دیا جاتا ہے وہ ربا (سود) میں شامل ہے‘‘۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے جو کہ حکومت ِ پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے انعامی بانڈ کے ضمن میں اپنی سفارش بذریعہ مراسلہ نمبر۷ (۴۴) ۸۳-آر سی آئی آئی‘ ۲۲ فروری ۱۹۸۴ء کو وزارتِ مذہبی امور کو اور وزارتِ خزانہ کو بتاریخ ۶مارچ ۱۹۸۴ء ارسال کی جس میں حکومت سے کہا گیا: ’’لہٰذا اسلامی نظریاتی کونسل وجوہاتِ مندرجہ ذیل کی بنا پر حکومت سے پرزور سفارش کرتی ہے کہ حکومت سابقہ کونسل کی سفارش کو فوری طور پر نافذ کر کے اس پر سختی سے عمل کرائے۔ چونکہ انعامی بانڈاسکیم کی لعنت روز بروز فروغ پا رہی ہے۔ انعامی رقم سود ہے جوازروے شریعت ممنوع و حرام ہے۔ چونکہ انعامی بانڈ کی رقم پر ٹیکس نہیں ہوتا اس لیے لوگ اپنے کالے دھن کو چھپانے کے لیے انعامی بانڈ اسکیم کا سہارا لے رہے ہیں۔ سرمایہ کاروبار سے نکال کر اس اسکیم میں لگایا جا رہا ہے جس سے کاروبار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ انعامی رقم بغیر محنت کے حاصل ہوتی ہے جو کہ میسر ہے جو ازروے قرآن حرام ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل حکومت پر زور دیتی ہے کہ انعامی بانڈ اسکیم اور دیگر اسی قسم کے کاروبار کا جو میسر کے زمرے میں آتے ہیں‘ مکمل طور پر قلع قمع کیا جائے۔ (اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ‘ براے سال ۸۴-۱۹۸۳ئ)
لہٰذا انعامی بانڈ کی نوعیت ِ معاملہ‘ مولانا مودودیؒ کی تفصیلی رائے‘ اسلامی مشاورتی کونسل (۱۹۶۹ئ) اور اسلامی نظریاتی کونسل (۱۹۸۴ئ) کی دو ٹوک رائے کی روشنی میں‘ انعامی بانڈ پر ملنے والی انعامی رقم سود ہے اور جس انداز اور قرعہ اندازی کے ذریعے انعام کا تعین کیا جاتا ہے وہ قمار کی صورت ہے۔ مزیدبرآں انعام پانے والوں کے بارے میں لوگوں کی یہ رائے کہ وہ شخص بہت خوش قسمت ہے اور اس پر ’’اللہ کا خاص فضل و کرم‘‘ ہے، جب کہ انعام سے رہ جانے والے لوگ کبھی تو اپنی قسمت کا رونا روتے ہیں اور اپنے مقدر کو کوستے ہیں‘ اور کبھی براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں عجیب و غریب باتیں سننے میں آتی ہیں جو منافی اسلام ہیں۔
مندرجہ بالا آرا اور دلائل کی بنا پر اور اپنے مال کو پاکیزہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انعامی بانڈ اور اسی طرح کے دوسرے سودی اور قمار پر مبنی کاروبار یا لین دین سے پرہیز کیا جائے اور اپنے دین کی حفاظت کی جائے اور دنیا کے فوری اور قلیل فائدے کے لیے اپنی آخرت کو خراب نہ کیا جائے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ (پروفیسر میاں محمداکرم)
ڈاکٹر سید عبدالباری ]شبنم سبحانی[ بھارت کے معروف اُردو ادیب‘ نقاد اور شاعر ہیں۔ ان کی مرتبہ یہ کتاب بیسویں صدی کی حسب ذیل ممتاز شخصیات سے مصاحبوں کا مجموعہ ہے:
بقول مولف: ’’یہ وہ افراد ہیں جنھوں نے گذشتہ صدی میں ملک و ملت کی تعمیروترقی اور اسے تباہی و انتشار سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس صدی کی برصغیر کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی‘‘۔
ڈاکٹر سید عبدالباری کا انداز‘ روایتی انٹرویو نگاروں سے قدرے مختلف ہے۔ مصاحبے کا آغاز وہ براہِ راست سوال جواب سے نہیں کرتے‘ بلکہ انٹرویو سے پہلے باقاعدہ ایک تمہید باندھتے ہیں اور اس تمہید میں‘ وہ ماحول کا پورا نقشہ کھینچتے اور گردوپیش پر تبصرہ بھی کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ کس شخصیت تک وہ کب اور کیسے پہنچے؟ اس سفر کی مختصر روداد بھی بیان کردیتے ہیں۔ اُن کے دل کش اور افسانوی اسلوب کی وجہ سے‘ اس طرح کی تمہیدات کہیں کہیں تو ایک شگفتہ سفرنامے کا ٹکڑا معلوم ہوتی ہیں۔ پھر متعلقہ شخصیت سے قاری کو متعارف کروانے کے لیے اُس کا سراپا بیان کرتے ہیں اور اس کی سیرت و کردار کے تابناک گوشوں کو نمایاں کرتے ہوئے‘ پوری ایک فضا بناتے ہیں۔ سوال و جواب شروع ہوتے ہیں تو ان کے درمیان وہ اپنی سوچ اور اپنے تبصروں کے ذریعے اور ماحول کی نقشہ کشی کرتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔بسااوقات وہ اپنی سوچ یا محسوسات کو کسی شعر (زیادہ تر علامہ اقبال اور اکبرکے اشعار) کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ اشعار کے نقل میں کئی جگہ انھوں نے (نادانستہ) تصرف کر دیا ہے (یہ حافظے کی کارفرمائی ہے) مثلا: ص ۷۰‘ ۱۱۷‘ ۱۲۹‘ ۱۷۴‘ ۲۳۰ وغیرہ۔
ان مصاحبوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ مسلم رہنما‘ مسلمانوں کے زوال و انحطاط‘ ان کی پس ماندگی خصوصاً ان میں تعلیم کی کمی پر پریشان اور فکرمند ہیں۔ یہ سب حضرات اپنی اپنی سمجھ‘ فہم و بصیرت اور صلاحیتوں کے مطابق تعلیمی‘ علمی‘ سماجی اور سیاسی میدان میں بھارتی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور اُن کی ترقی اور ان کے مستقبل کے لیے اپنی سی کاوش اور جدوجہد کرتے رہے۔ مایوس کن حالات میں بھی وہ کبھی بددل نہیں ہوئے۔ ان سب حضرات کے نزدیک اسلام کا مستقبل بہت روشن ہے۔
ان مصاحبوں سے بعض اہم اور دل چسپ باتیں سامنے آتی ہیں‘ مثلاً ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے والد یوپی میں جج (منصف) تھے۔ گورنر میلکم ہیلے چاہتے تھے کہ وہ ایک مقدمے میں فیصلہ‘ حکومت کی حمایت میں کریں‘ مگر فریدی صاحب نہیں مانے۔ گویا بڑے ذمہ دارانہ مناصب پر فائز نام ور۔ انگریز بھی بددیانتی اور سازش کیا کرتے تھے--- مفتی فخرالاسلام عثمانی اس بات کو یوپی کے مسلمانوں پر ایک ’’بہت بڑا سنگین الزام‘‘ قرار دیتے ہیں کہ یوپی کے مسلمان‘ قیامِ پاکستان کی تائید میں تھے۔
دارالعلوم دیوبندبھارت میں مسلمانوں کا بہت بڑا تعلیمی مرکز ہے۔ سید عبدالباری صاحب نے بتایا ہے کہ وہاں ہر سال صرف ایک طالب علم کو ریسرچ پر لگایا جاتا تھا اور اسے ۵۰ روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ وہاں انگریزی زبان کی تدریس کا انتظام تو تھا مگر اسے تعلیم کا لازمی جزو نہیں بنایا گیا اور نہ انگریزی کو باقاعدہ ایک مضمون ہی قرار دیا گیا (ص ۱۵۸)۔ قاری محمد طیب صاحب نے اس بدقسمتی کا بھی اعتراف کیا کہ ’’ذہنی اعتبار سے پست اور فروترطبقہ ہمارے یہاں آتا ہے‘‘۔ (ص ۱۶۳)
مجموعی طور پر ملاقاتیں ایک دل چسپ‘ معلومات افزا اور ذہن و فکر کو روشن کرنے والی کتاب اور برعظیم کے مسلمانوں کی سبق آموز داستان ہے۔ قاری محمد طیب صاحب نے پتے کی بات کہی ہے کہ قوم وہی زندہ رہ سکتی ہے جو اقدام کرے۔ اگر وہ دفاعی صورت اختیار کرے گی تو ختم ہو جائے گی۔ اسلام جب بھی بڑھا ہے اعلاے کلمۃ الحق اور شہادتِ حق کے راستے سے آگے بڑھا ہے۔ اُسے تو اِس بات پر جم جانا چاہیے کہ چاہے ہم فنا ہو جائیں لیکن خدا کے کلمے کو نیچا نہ ہونے دیں گے۔ (ص ۱۷۱)
کتاب میں شیخ الہند کا نام ہر جگہ ’’محمودالحسن‘‘ لکھا گیا ہے (ص ۶۲‘ ۱۴۴‘ ۱۵۴‘ ۱۷۹ وغیرہ) ’’محمود حسن‘‘صحیح ہے۔ اسی طرح لاپرواہی (ص ۲۰۵) نہیں ’’لاپروائی‘‘ لکھنا چاہیے تھا۔ برعظیم کی سیاست و تاریخ اور بھارتی مسلمانوں کے مستقبل سے دل چسپی رکھنے والے اصحاب کے لیے ملاقاتیں میں قیمتی لوازمہ موجود ہے۔ کتاب کی طباعت و اشاعت معیاری ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
فاضل مصنف نے پہلے باب بہ عنوان: ’’پاکستان میں عربی زبان ورسم الخط‘‘ میں بتایا ہے کہ ۶۴۴ء سے ۱۹۴۷ء تک برعظیم کے مختلف علاقوں میں سرکاری‘ دفتری اور عمومی زبان کی حیثیت سے عربی کی صورتِ حال کیا رہی ہے۔
مصنف بتاتے ہیں کہ غزنوی خاندان کے زمانۂ آغاز تک علمی اور دینی زبان تو عربی تھی ہی‘ مختلف حکومتوں کی دفتری زبان بھی بالعموم عربی رہی۔ عربوں کی دو ریاستیں‘ منصورہ اور ملتان میں قائم تھیں۔ ان کے چارسو سالہ دورِ حکمرانی میں یہاں عربی کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ فاضل مصنف نے ان دونوں ریاستوں کے تذکرے کے بجاے سندھ پر اکتفا کیا ہے۔ انھوں نے صرف سندھی زبان پر عربی کے اثرات کا جائزہ لیا ہے اور اس سلسلے میں چند الفاظ کی فہرست بھی دی ہے۔ عرب دور میں سندھ نے کئی مقامی عرب شعرا پیدا کیے اور بہت سے سندھی علما نے سیرت‘ حدیث‘ فقہ اور علم کلام پر متعدد کتابیں لکھیں۔ ان میں ابوحشرسندھی اور ابوالعطا ملتانی کے نام معروف ہیں‘ مگر دونوں اصحاب کا نام کتاب میں نہیں ملتا۔
درحقیقت بلوچستان‘ سندھ اور جنوبی پنجاب کی زبانوں (بلوچی‘ سندھی اور سرائیکی) پر بھی عربی کے گہرے اثرات ہیں۔ یہاں بعض الفاظ (مثلاً ق اور ض) کا لہجہ خالص عربی کا ہے۔ ان زبانوں میں آج بھی کثیرتعداد میں عربی الفاظ ملتے ہیں جنھیں صرف ایک عربی دان ہی چھانٹ کر سمجھ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ان زبانوں میں فارسی الفاظ بھی کثرت سے ملتے ہیں۔
دوسرے باب میں مصنف نے بتایا ہے کہ ہمارے موجودہ نظامِ تعلیم (قدیم طرز کے دینی مدرسوں اور جدید تعلیم کے اداروں) میں عربی زبان کے نصاب اور تدریس وغیرہ کی کیا صورت ہے۔ باب ۳ میں پاکستان میں عربی زبان کی ترویج اور توسیع و ترقی کے لیے کی گئی کاوشوں کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں ضروری دستاویزات اور عربی مجلات کی فہرست بھی شاملِ کتاب ہے۔
پروفیسر مظہرمعین جامعہ پنجاب میں شعبہ عربی کے صدر اور اورینٹل کالج کے پرنسپل ہیں۔جسٹس محبوب احمد کے بقول انھوں نے پاکستان میں عربی زبان کی تنفیذ کا مربوط مقدمہ‘ اہلِ علم اور اربابِ بست و کشاد کی دہلیز انصاف تک پہنچانے کی دل سوز کوشش کی ہے۔ (ص ۱۴)۔
اگرچہ کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں نظرآتی ہیں تاہم کتاب کی طباعت و اشاعت کا معیار اطمینان بخش ہے۔ (فیض احمد شھابی)
وطن عزیز کے پائوں میں مارشل لاوں اور فوجی حکومتوں کی زنجیروں کا بدنما داغ نہ ہوتا تو نجانے یہ تعمیروترقی کی کتنی منزلیں طے کرچکا ہوتا۔ دنیا بھر کی عدالتیں فراہمیِ انصاف کا فریضہ انجام دیتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں عدالتوں نے بعض اوقات (مجبوراً ہی سہی) فوجی آمریت کو سندِجواز فراہم کی ہے۔ تاریخ میں عدلیہ کے ایسے فیصلوں کو کس نظر سے دیکھا جائے گا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
عتیق الرحمن ایڈووکیٹ نے ایک دوسرے انداز سے‘ موجودہ عسکری حکومت اور اس کے احتساب کے وعدوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ اُنھوں نے دلائل فراہم کیے ہیں کہ عدلیہ نے ملک‘ قوم اور آنے والی نسلوں کے مفاد کو نظریۂ ضرورت پر قربان کر دیا۔ بے نظیربھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے اپنے اپنے دورِ اقتدار میں (دو دو بار) عدلیہ کوجس طرح استعمال کیا۔ اس کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
موجودہ حکومت احتساب پر مکمل طور پر عمل درآمد کیوں نہ کرسکی؟ کروڑوں روپے لوٹنے والوں کو کیفرکردار تک کیوں نہ پہنچا سکی اور عدلیہ کی مجموعی کارکردگی کیوں نہ بہتر بن سکی؟ یہ تمام مباحث کتاب کے پچیس ابواب میں سمیٹ دیے گئے ہیں بقول مصنف:’’یہ کتاب مشرف دورِ حکومت کے عدالتی فیصلوں کی تاریخ ہے‘‘ (ص ۵)۔
پاکستان‘ قانون اور حالاتِ حاضرہ سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے۔ (محمد ایوب منیر)
خوش کن پیش کاری کے ساتھ اس کتاب میں وحی‘ تعبیر‘فقہ‘ تصوف اور خود اہلِ فقہ و تصوف کے مابین پیداکردہ مناقشوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ تاہم اس مجموعے کو ایک ایسی سوچ کی صداے بازگشت قراردینا غلط نہ ہوگا جو فی الحقیقت مرعوبیت اور تجدد پسندی ہی کا تسلسل ہے۔ مصنف کی فکرمندی سے انکار نہیں‘ اور محنت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘ مگر صحت پانے کی خواہش میں اگر کوئی خودکشی کے راستے پر چل نکلے تو اسے ’روشن خیالی‘ اور ’خردمندی‘ کے برعکس کسی لفظ ہی سے منسوب کیا جائے گا۔
مصنف نے لکھا ہے: ’’اسلام کی ابتدائی صدیوں میں کس طرح رفتہ رفتہ وحی کے بجاے متعلقاتِ وحی کو اس قدر اہمیت ملتی گئی کہ مُسلم حنیف ہونا بڑی حد تک ایک تہذیبی شناخت بن کر رہ گیا‘‘ (ص ۱۴)۔ کتاب کی بنیادیں اس ’معصومانہ جملے‘ میں پنہاں ہیں۔ اگر صرف حروفِ الٰہی سے ہدایت کا دائرہ مکمل ہونا مطلوب ہوتا تو انبیا و رسل ؑ کے ادارے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
آگے چل کر کتاب میں جس طرح حدیث‘ فقہ اور تعامل کو یک رخے پن سے نشانۂ تنقیص و استہزا بنایا گیا ہے‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کے دفاع سے زیادہ انہدام سرمایۂ حدیث و فقہ پیش نظر ہے۔ لکھتے ہیں: ’’سنت کے حوالے سے اسوۂ رسولؐ کا ایک ماوراے قرآن ماخذ وجود میں آجانے سے‘ عملاً ہوا یہ کہ مسلمانوں کے یہاں بھی تاریخ‘ اسی تقدیس کی حامل ہوگئی جس کا شکار پچھلی قومیں ہوچکی تھیں‘‘ (ص ۲۱۷)۔ ’’ائمہ اربعہ ایک ایسی جبری تاریخ ]ہے[ جو بجا طور پر مسلمانوں کے عہدِ زوال سے عبارت ہے‘‘(ص ۳۰۵)۔ اسی نوعیت کے ’’استدلال‘‘ سے یہ کتاب عبارت ہے۔ (سلیم منصور خالد)
اسلامی جمعیت طالبات پاکستان‘ معاصر مسلم دنیا میں طالبات کا ایک قابلِ قدر قافلۂ دعوتِ حق ہے جس نے مغرب اور خود مسلم دنیا کی سیکولر یلغارسے مسلم طالبات کو بچانے کے لیے عظیم جدوجہد کی ہے۔ ستمبر ۱۹۶۹ء میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے مسلم خواتین کے مستقبل کو ایسی سعید روحوں سے مربوط کیا ہے کہ آج ہر میدان میں جدید پڑھی لکھی خواتین‘ اسلام کی حقیقی رضا و منشا کے مطابق دعوت‘ تربیت اور تعمیر کی کوششوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔
یہ کتاب دراصل‘ اسلامی جمعیت طالبات کی تاریخ پیش کرتی ہے‘ جسے تنظیم کی سابق پانچ ناظماتِ اعلیٰ (ڈاکٹر اخترحیات‘ ڈاکٹر کوثر فردوس‘ ڈاکٹر فوزیہ ناہید‘ نگہت ودود‘ عابدہ فرحین) کے مصاحبوں (انٹرویوز) کی مدد سے ترتیب دیا گیاہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ اُن کے زمانۂ نظامت (۱۹۸۰ئ-۱۹۸۷ئ) میں مختلف النوع تجربات‘ مشکلات‘ واقعات اور اہم معلومات کو اس طرح پیش کیا جائے کہ قافلۂ راہِ حق میں شامل ہونے والی نئی طالبات اس حقیقت کو جان سکیں کہ یہ قافلۂ عزیمت کن راہوں سے گزر کر آج ہمیں سعادت و عزیمت کی شمعیں عطا کر رہا ہے۔ (س- م- خ )
مستقبل میں قسمت کا حال جاننے کی آرزو اور تجسس ہمیشہ سے انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔ انسان بہتر زندگی کے لیے منصوبہ بندی اور تگ و دو کرتا ہے لیکن خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہوئے‘ غیبی اور تخمینی علوم کا سہارا لیتا ہے اور اکثروبیشتر صراطِ مستقیم سے بھٹک جاتا ہے۔ اسی لیے اہلِ علم ایسے لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ ہر دور میں انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ زیرنظرکتاب میں قرآن و سنت کی روشنی میں نام نہاد عاملوں‘ کاہنوں‘ جادوگروں اور ایذا دینے والے جنات کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔
علمِ وحی نے صحیح سمت میں ہماری رہنمائی کی ہے۔ علم وحی سے ہٹ کر دیگر علوم کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے اور وہ سبھی باطل بھی نہیں‘ لیکن ان علوم کی حقیقت کیا ہے؟ شریعت کی روشنی میں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ علمِ ہیئت اور علمِ نجوم کی حقیقت‘ علمِ کہانت و عرافت کی مختلف صورتوں ‘قیافہ شناسی اور دست شناسی کی شرعی حیثیت‘ فال‘ استخارہ‘ جفر‘ علم الاعداد‘رمل اور جادو ٹونے کی مختلف نوعیتوں پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے لیکن کتاب کا سب سے دل چسپ حصہ جنوں کے بارے میں ہے۔ جنات کی اقسام‘ خوراک و رہایش‘ شادی بیاہ‘ انسانوں سے ان کا تعلق‘ ایذا رسانی اور جن نکالنے کے عام اور ائمہ سلف کے طریقوں کی تفصیل اور لائقِ مطالعہ ہے۔
کتاب میں‘ دم‘ تعویذ اور شیطانی وساوس دُور کرنے کے طریقے اور اس ضمن میں متفرق مباحث شامل ہیں۔ مصنف نے ان امور پر بحث کرتے ہوئے اعتدال سے کام لیا ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب قارئین کے تجسس کے لیے باعث تشفی ہوگی۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
اگر بچوں کو کوئی بہت اہم مسئلہ سمجھانا ہو لیکن سمجھانے والا سمجھانے کی اہلیت ہی نہ رکھتا ہو تو نتیجہ خاطرخواہ نہیں نکلے گا۔ پھٹا ہوا دودھ کے مصنف کو‘ خدا نے اس صلاحیت سے بخوبی نوازا ہے۔ یہ پرتاثیر‘ دل گداز اور ایک خاص کیفیت والی کہانیاں ہیں۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہم بچوں کو کھانے پینے ‘اوڑھنے اور تعلیم وغیرہ جیسی تمام ضروریات تو مہیا کر دیتے ہیں‘ مگر ان کی جذباتی دنیا کی دیکھ بھال کرنا بھول جاتے ہیں۔ ان کہانیوں کو پڑھتے ہوئے شدت سے اِس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اگر ہم بچوں کے جذبات و احساسات کی پروا اور قدر کریں اور ان کے مثبت جذبات کو نشوونما دیں تو معاشرہ بہت خوب صورت دکھائی دے گا۔ ’’آلنے سے گری‘‘ کہانی اسی نکتے کو اجاگر کرتی ہے۔
ان کہانیوں میں افسانہ نگار‘ باتوں ہی باتوں میں ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ وہ سیدھی دل میں جا اترتی ہے اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔دراصل یہ ہمارے ہی معاشرے کے جیتے جاگتے انسانوں کی کہانیاں ہیں۔ مصنف نے ان کا اصل کردار دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے‘ مثلاً ہم اپنے اردگرد لاکھوں بچوں کو کام کرتا دیکھتے ہیں‘ ’’پھرکی‘‘ اسی طرح کے ایک بچے کی کہانی ہے۔
اختر عباس کو ’’ایڈیٹربھیا‘‘ کے طور پر کہانی لکھنے اور اُسے پُراثر بنانے کا فن آتا ہے۔ چنانچہ ان کے مخصوص اسلوب میں لکھی گئی یہ کہانیاں ایسی ہیں کہ بقول طارق اسماعیل ساگر: ’’آپ ایک بار انھیں پڑھنے بیٹھ گئے تو پھر اُن کے سحر سے بچ نہیں پائیں گے‘‘۔ (قدسیہ بتول)
تبصرے کے لیے دو کتابوں کا آنا ضروری ہے۔ (ادارہ)
’’قائدانہ کردار‘‘ (فروری ۲۰۰۴ئ) بہت موثر اور مفید مضمون ہے۔ پڑھ کر جذبات کو مہمیز ملی‘ اپنے کو مزید منظم کرنے کی طرف توجہ ہوئی ‘ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کی سوچ پیدا ہوئی۔اس میں تجاویز پر عمل کرکے انفرادی اور اجتماعی اصلاح میں مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
’’بوسنیا: چند مشاہدات‘‘ (فروری ۲۰۰۴ئ) بصیرت افروز مضمون ہے۔ بوسنیا کے مسلمان اس وقت جن مشکلات کا شکار ہیں‘ اس کا تقاضا ہے کہ مسلمان اور عالم اسلام بوسنیا کی بحالی اور تعمیرنو میں بھرپور طریقے سے تعاون کرکے ملّی یک جہتی کا ثبوت دیں۔
’’انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے‘‘ (جنوری ۲۰۰۴ئ) ایک اچھی کاوش ہے۔ پڑھ کر لطف آیا‘ تقابلی مطالعے کے شوق کو کچھ غذا ملی۔ یہ سلسلہ اگر مستقل ہو تو کتنا اچھا ہے!
فہم حدیث کے تحت ’’کلام نبویؐ کی کرنیں ‘‘ ترجمان کے اہم سلسلوں میں سے ایک ہے۔ مولانا عبدالمالک کا شرحِ حدیث کا اسلوب بہت عمدہ ہے‘ ماشا ء اللہ! اس کے صفحات بڑھانے کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
’’تصوف: اسلامی نقطۂ نظر‘‘ (جنوری ۲۰۰۴ئ) نظر سے گزرا۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ قرآن مجید اور احادیث کے مطالعے سے ہم جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جہاد سب سے زیادہ پسند ہے‘ جب کہ تصوف کی اصطلاح میں جہاد خارج از بحث ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ: اعمال کی چوٹی جہاد ہے۔ قرآن مجید میں جہاد کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔جہاد ایک مسلمان کو خانقاہ سے نکال کر میدانِ عمل میں لاکر کھڑا کر دیتا ہے‘ طاغوت سے ٹکرانے اور غلبۂ دین کے لیے انتہائی جدوجہد کا حکم دیتا ہے‘ جب کہ تصوف صرف پوجاپاٹ کی حدتک عبادت کا تصور دیتا ہے۔ تصوف تو جوگیوں‘ بھکشووں‘ درویشوں‘ سنیاسیوں‘ پادریوں‘ برہمنوں اورپجاریوں کی سی ایک قسم ہے جو صرف پوجاپاٹ کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ ذکر بھی تصوف میں ایک محدود عمل ہے‘ لہٰذا اسلام کا مطلوب تصوف نہیں جہاد ہے۔
ڈاکٹر انیس احمد ’’رسائل و مسائل‘‘ (دسمبر ۲۰۰۳ئ) میں لکھتے ہیں: ’’اسلام نے لباس کے حوالے سے قرآن و سنت میں جو اصول ہمیں دیے ہیں‘ ان میں جسم کا تحفظ‘ زینت اور سادگی کے ساتھ یہ بات بھی شامل ہے کہ نہ تو اس سے تکبر کا اظہار ہو اور نہ جان بوجھ کر لاپروائی اور غربت کا اظہار کیا جائے‘‘۔ اسلام کا انتہائی اہم اصول یہ ہے کہ ایسا لباس نہ پہنا جائے جس سے جسم کے اعضا نظرآئیں اور نمایاں ہوں۔اگر یہ اصول بھی بیان کر دیا جاتا تو اسلام کی مکمل ترجمانی ہوتی۔
جزئیات سے میری مراد آمین بالجہر اور رفع یدین وغیرہ کی قسم کے مسائل نہیں ہیں۔ ان مسائلِ اجتہادیہ میں تو ہمیشہ ہمیں رواداری ہی کا مسلک اختیار کرنا پڑے گا‘ اس لیے کہ ان کے دونوں پہلوئوں کے لیے دین میں گنجایش ہے۔ میں یہاں ان جزئیاتِ امور سے غض بصر کا مشورہ دے رہا ہوں جن کے لیے دین میں کوئی گنجایش نہیں ہے لیکن خدمت دین کی مصلحت مقتضی ہے کہ اپنی دعوت کے اس مرحلے میں ہم ان سے بھی چشم پوشی کریں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم شاخوں کے تراشنے میں اپنا سارا وقت برباد کردیں گے اور فتنوں کی جڑوں کی طرف توجہ کرنے کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ ہمارا کام صحیح طور پر جب ہی ہو سکتا ہے کہ توحید اور رسالت اور معاد ] آخرت[ کے پورے پورے متعلقات اچھی طرح عوام کو سمجھا دیے جائیں۔ یہ لمبا راستہ طے کرلینے کے بعد لوگ جزیِ امورمیں راہِ حق کو پاسکتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ خود محسوس کرنے لگیں گے کہ فلاں کام جو ہم کرتے ہیں وہ ہمارے عقیدئہ توحید کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا‘ فلاں رسم جو رائج ہے ہمارے تصورِ رسالت کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی‘ اور فلاں عادت جو فروغ پائے ہوئے ہے ہمارے تصورِمعاد کے مطابق نہیں ہے۔ بہرحال ان جزیِ امور میں کسی گروہ کو سخت سست کہنا یا کسی سے مقاطعہ کرنا ہمارے کام کے لیے قطعاً مضرہے۔ حتی الوسع ان معاملات میں چشم پوشی کیجیے...
اصلاح کے کام میں ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ پہلے کسی اصل کے قریب ترین مقتضیات پیش کیے جائیں‘ پھراس سے بعید‘ پھر اس سے بعید تر۔ مثلاً توحید کے متعلقات میں سے سب سے پہلے وہ چیزیں لینی چاہییں جن پر عموماً سب مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ پھر آگے چل کر ان خفی ] پیچیدہ[ امور کی وضاحت کیجیے جو اوّلیاتِ توحید سے مستنبط ہوتی ہیں۔ پھر اور آگے چلیے اور ان آخری مقتضیاتِ توحید کی طرف رہبری کیجیے جن سے عوام کی توجہ تو بالکل ہی ہٹ چکی ہے اور علما بھی کسی نہ کسی حد تک ان کے عملی مقتضیات سے غافل ہیں۔ (’’روداد‘ اجتماع دارالاسلام‘‘، امین احسن اصلاحی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۴‘ عدد ۳-۴‘ ربیع الاول و ربیع الآخر ۱۳۶۳ھ‘ مارچ‘اپریل ۱۹۴۴ئ‘ ص ۴۰-۴۱)