۲۰۰۴ء کو انتخابات کا سال کہا جا رہا ہے‘ اس لیے کہ اس سال ۸۰ ممالک میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس فہرست میں بہت سے مسلم ممالک بھی ہیں۔ انتخابات تو بھارت میں بھی ہوئے ہیں جن میں بڑے بڑے مسلم ممالک سے زیادہ مسلمان ووٹروں نے حق ووٹ استعمال کیا ہے۔ مسلم ممالک پر عموماً الزام یہ ہے کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے اور انتخابات بھی ۹۹ فی صد کامیابی والے ہوتے ہیں۔ اسلام اور جمہوریت کی بحث اپنی جگہ‘ جمہوریت اور انتخابات کی بحث بھی کافی وزن رکھتی ہے۔ انتخابات کو جمہوریت کی علامت کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسے انتخابات بھی ہوتے ہیں کہ جمہوری اقدار کو نشوونما دینے کے بجاے ان کا کریا کرم ہی ہوجائے۔ گذشتہ عرصے میں تین مسلم ممالک انتخابات سے گزرے‘ ان کا ایک مختصر جائزہ پیش ہے۔
انڈونیشیا کو دنیا کے سب سے بڑے مجمع الجزائر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ۱۸ہزار جزائر میں ۲۲ کروڑ انسان بستے ہیں‘ جب کہ ۸۸ فی صد مسلمان‘ ۹ فی صد عیسائی‘ اور ۲ فی صد ہندو یہاں آباد ہیں۔ شرحِ تعلیم ۸۳ فی صد ہے۔ جنرل سوہارتو کے اقتدار کے ۳۲ سال نہ ہوتے تو انڈونیشیا کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ آج کے انڈونیشیا میں ۲۱ کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘ جب کہ ایک کروڑ افراد ملازمت سے محروم ہیں اور ۳ کروڑ افراد کو صرف جُزوقتی روزگارمہیا ہے۔ ان حالات میں ریاستی بدعنوانی‘ حکومتی نااہلی اور اقتصادی مسائل کے موضوعات ہی تمام انتخابات پر چھائے رہے کیونکہ ان مسائل کے حل کے لیے نہ گولکر پارٹی کچھ کرسکی نہ جمہوری پارٹی۔
سابق صدر سوہارتو کی گولکر پارٹی نے ۵۵۰ کے ایوان میں ۱۲۸ نشستیں حاصل کرلی ہیں اور آیندہ صدارتی انتخابات میں جنرل ورانٹو گولکر پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ اُن کے بارے میں گمان ہے کہ انڈونیشیا کے لیے وہ ایک مربوط اقتصادی پروگرام ترتیب دے سکیں گے۔ اُن کے مخالفین اُن پر الزام لگاتے ہیں کہ سوہارتو اور اُس کے اہلِ خانہ‘ نیز اُن کے اعزہ و اقربا ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے تین عشروں تک لُوٹتے رہے ہیں اور ورانٹو ان کے دستِ راست بنے رہے۔ اُن پر دوسرا بڑا الزام یہ ہے کہ مشرقی تیمور میں جب علیحدگی کی تحریک چل رہی تھی تو مشرقی تیمور کے عیسائیوںکے ساتھ فوج نے ظلم و زیادتی کی اور اُس وقت اُس علاقے میں فوج کے کمانڈر جنرل ورانٹو تھے۔ ڈھائی برس قبل چینی متمول آبادی کے خلاف عوامی ردعمل میں فوج کچھ نہ کرسکی۔ جب کئی شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور لُوٹ مار کا بازار گرم تھا اور اس لُوٹ مار میں فوجی بھی مالِ غنیمت حاصل کر رہے تھے۔
آزادی کے ۵۵ برسوں میں ہونے والے دوسرے قومی انتخابات میں برسرِاقتدار جمہوری جدوجہد پارٹی نے اندازے سے بہت کم ۱۰۸ نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ انتخابی نتائج نسبتاً چونکا دینے والے ہیں۔ جمہوری پارٹی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ غریبوں کی پارٹی ہے‘ اور مزدور کسان دوست پارٹی ہے۔ یہ اسلام پسند یا تعصب پھیلانے والی پارٹی نہیں۔ لیکن انتخابی نتائج میں راے دہندگان نے میگاوتی کی کارکردگی پر عدمِ اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اگر میگاوتی دوسری چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ بھی ملا لے‘ تب بھی اُس کی جماعت کے لیے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونا مشکل ہے۔ اسی لیے پارٹی نے ایک سابق جرنیل کو صدارتی اکھاڑے میں اُتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ یہ پارٹی معروف دانش ور اور اسلامی رہنما امین رئیس کو نائب صدارت کا عہدہ دے دے گی۔ انڈونیشیا کے صحافتی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ سابق صدر عبدالرحمن واحد کو کچھ نظر نہیں آتا تھا لیکن میگاوتی کو کچھ سنائی نہیں دیتا اور کئی اہم سیاسی مسائل حل طلب پڑے رہتے ہیں۔
حالیہ انتخابات میں ۲۴ پارٹیوں نے حصہ لیا۔ کئی فٹ چوڑے بیلٹ پیپر کی خبریں پریس میں آچکی ہیں۔ ان انتخابات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سابق صدر عبدالرحمن واحد کی پارٹی کو ۷فی صد ووٹ ملے ہیں اگرچہ اُن کا دعویٰ ہے کہ اُن کے ۳ کروڑ حامی ہیں۔ اسی طرح دائیں بازو کی بیداری پارٹی PANکو بھی ۶ فی صد ووٹ ملے جس کی سربراہی امین رئیس کر رہے ہیں اور اُن کو سابقہ انتخابات میں بھی اتنے ہی ووٹ ملے تھے۔ امین رئیس آیندہ انتخابات میں صدارتی امیدوار بننے کے لیے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ اُن کی شناخت مسلم دانش ور کی ہے۔
انڈونیشیا کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت انصاف و خوش حالی پارٹی (PKS)کے ووٹ بنک میں اضافہ ہے۔ اس پارٹی میں تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت ہے اور یہ قومی و عالمی معاملات پر راے عامہ کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ۱۹۹۹ء میں ہونے والے انتخابات میں اس پارٹی نے ۵.۱ فی صد ووٹ حاصل کیے تھے‘ جب کہ اس بار اس نے ۴.۷ فی صد ووٹ اور ۴۵ نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس جماعت نے صاف ستھرا معاشرہ‘ نیز بدعنوانی‘ سازش‘ اقربا پروری نامنظور کے نعرے پر انتخابی مہم چلائی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آیندہ پانچ برسوں میں اس جماعت نے تنظیمی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو آیندہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔ عراق پر ۲۰ مارچ ۲۰۰۳ء کو امریکا نے حملہ کیا تو اس جماعت نے احتجاجی مظاہروں میں ۳ لاکھ افراد کو سڑکوں پر لاکھڑا کیا تھا۔ ربڑ‘ قدرتی وسائل اور افرادی قوت سے مالا مال اس ملک کو ایک باصلاحیت قیادت ہی تعمیروترقی کے راستے پر ڈال سکتی ہے‘ ورنہ بدعنوانی اور کھربوں کے غبن نے اس کی اقتصادیات کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اسلامی فکر کی حامل جماعتوں اور جہادی گروہوں پر حکومت ہاتھ ڈال چکی ہے اور ابوبکر بشیر ان کا مشقِ ستم بنے ہوئے ہیں‘ نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف مہم‘‘ کا خاتمہ بھی اہلِ انڈونیشیا کے دل کی آواز ہے۔
۱۹۵۷ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد یہاں پارلیمان کے انتخابات باقاعدگی سے ہورہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے گیارھویں انتخابات ۲۱ مارچ ۲۰۰۴ء کو منعقد ہوئے۔ ۱۹۷۸ء سے یونائیٹڈ مَلے نیشنل آرگنائزیشن (UMNO) یہاں برسرِاقتدار ہے۔ اُس کے قائدین کا اعلان ہے کہ ہماری جماعت قدامت پرست نہیں‘ بلکہ روشن خیال اسلام پر یقین رکھتی ہے اور ڈاکٹر مہاتیرمحمد اس کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔مہاتیر کی اقتدار سے برضا و رغبت دست برداری کو انتہائی مثبت اقدام کے طور پر دنیا بھر میں سراہا گیا اور نائب وزیراعظم عبداللہ بداوی نے وزیراعظم کے طور پر اقتدار سنبھالا۔ بطور وزیراعظم بداوی اور کابینہ کے لیے یہ انتخابات سب سے بڑا امتحان تھے۔ وزارتِ عظمیٰ کا تمام دور اُنھوں نے حزبِ اختلاف کو کمزور کرنے اور ’امنو‘ کی جڑیں گہری کرنے میں گزارا جس میں وہ بے انتہا کامیاب رہے۔ پارلیمان کی ۲۱۹میں سے ۱۹۰نشستیں ’امنو‘ نے جیت لی ہیں۔ آیندہ پانچ برس ’امنو‘ کو کسی مضبوط حزبِ اختلاف کا سامنا نہیں رہے گا۔ اگر جمہوری روایات کے اتباع میں حزبِ اختلاف کو نشوونما پانے کا حق دیا گیا تو یہ خوش آیند اقدام تصور کیا جائے گا۔
اسلامی نظریات کی حامل اسلامی پارٹی ملایشیا (پاس) نے خلافِ معمول قابلِ قدر کامیابی حاصل نہ کی۔ کلنتان کے صوبے میں ’پاس‘ تین بارپہلے بھی حکومت بنا چکی ہے اور ان انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں اس بار اتنی نشستیں بمشکل حاصل کی ہیں کہ آیندہ حکومت بناسکے۔ لیکن ترنگانو کے صوبے میں اس جماعت کو واضح شکست ہوئی ہے۔ ’پاس‘ کے مرشدعام نک عبدالعزیز اور اس کے مرکزی صدر عبدالہادی آوانگ صوبائی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں‘ جب کہ وفاقی اسمبلی میں ’پاس‘ نے صرف سات نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ نتائج اُن کے لیے بھی مایوس کن ہیں۔ وہ انتظامیہ کی ملی بھگت کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے ہیں۔
ملایشیا کے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بداوی کی مہم کی نگرانی براہِ راست مہاتیرمحمد نے کی اور ۱۱ستمبر کے واقعات اور جدید اسلام کے نعرے پر انتخابی مہم چلائی گئی۔ ’پاس‘ کے بارے میں مشہور کیا گیا کہ یہ دو رکعت کے امام‘ ملّا لوگ ہیں‘انھیں جدید چیلنجوں کا علم نہیں ہے۔ یہ عورتوں کے حقوق کے مخالف ہیں اور غیرمسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین رکھتے ہیں۔ طالبان نما اسلام اس دور میں نہیں چلے گا‘ شریعت کی باتیں کرنا حالات سے ناواقفیت اور قوم کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ظاہر ہے ملایشیا کے عوام ۱۹۹۸ء کے اقتصادی بحران کے بعد کوئی نیا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھے۔ امریکا بہادر کی دہشت گردی مخالف مہم نے بھی اس میں کردار ادا کیا۔ کلنتان اور ترنگانو میں ’پاس‘ کی صوبائی حکومتیں جو مثبت اقدامات کرتی رہی ہیں اُن کو بھرپور انداز میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے متعارف نہ کرایا گیا۔
ممکن ہے کہ ’امنو‘ کو دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد بداوی کی حکومت ایسے قوانین پاس کروا لے جس سے ملک کے وقار کو دھچکا پہنچے۔ ’روشن اسلام‘ کی پیروی کرتے ہوئے مغربی ثقافت کے لیے راہیں ہموار کر دے اور عوام کے لیے نظریاتی و اخلاقی مشکلات پیدا ہوجائیں‘ کیونکہ بے انتہا طاقت اندھا کر دیتی ہے۔ داخلی سلامتی کے ایک قانون پر تو پہلے ہی عمل درآمد ہو رہا ہے کہ کسی بھی شخص کو وجہ بتائے اور مقدمہ چلائے بغیر جیل میں غیرمعینہ مدت تک رکھا جاسکتا ہے۔ سابقہ نائب وزیراعظم انور ابراہیم کا مقدمہ بھی سب کے علم میں ہے۔ انھیں سیاسی مخالفت کی بنا پر عمرقید کی سزا سنائی گئی۔ انور ابراہیم کی بیگم نے انصاف پارٹی قائم کی اور صرف ایک نشست حاصل کر سکیں۔ اقتصادی میدان میں حکومت کو ایسی متوازن پالیسیوں کی تشکیل کی شدید ضرورت ہوگی جس سے درمیانہ طبقہ اور غریب طبقہ بھی خوش حالی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکے اور ملک کی اکثریت سیاسی انتقام اور قانونی بندشوں سے نجات حاصل کرسکے۔ امید ہے مہاتیرمحمدجوغلطیاں باصرار دُہراتے رہے ہیں‘ بداوی اُن سے پرہیز کریں گے۔
پانچ برس قبل بھی صدارتی انتخابات ہوئے تھے اور حکومت نے سرکاری مشینری کو بے دریغ اور کھلے عام اس طرح استعمال کیا کہ انتخابات سے عین ایک روز قبل تمام صدارتی امیدواروں نے انتخابات کا مقاطعہ کر دیا تھا۔ موجودہ انتخابات اس لحاظ سے دل چسپ تھے کہ اسلامی نجات محاذ پر حسب معمول پابندی عاید ہے۔ ۶لاکھ حاضر فوج سے ووٹ ڈلوائے گئے اور یہ سہولت بھی تھی کہ چاہیں تو اپنے افسران کے سامنے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ دیگر صدارتی امیدواروں کو جلسے منعقد کرنے اور ریلیاں نکالنے کی محدوداجازت دی گئی۔ ۳کروڑ ۴۰ لاکھ آبادی کے اس ملک میں ایک کروڑ ۸۰ لاکھ راے دہندگان ہیں۔ اُن کی ۵۸ فی صد تعداد نے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالے اور ظاہر ہے استبداد پسند صدر نے واضح اکثریت حاصل کرنا ہی تھی‘ سوکرلی۔ صدر عبدالعزیز بوتفلیکا نے من پسند نتائج کے لیے دھڑلے سے نوکرشاہی کو استعمال کیا۔ صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات جمع کرانے والوں کی اکثریت کو بے بنیاد الزامات کی بنا پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ نے بوتفلیکا کی گراں قدر قومی خدمات اور ملکی استحکام میں تابناک کردار کے فسانے شب و روز عوام کو سنائے۔
ان نام نہاد انتخابات میں اسلام پرستوں کے نمایندے کے طور پر عبداللہ جاب اللہ‘ الاصلاح پارٹی کی طرف سے حصہ لے رہے تھے‘ نتائج کا تو علم ہی تھا‘ تاہم تمام تر پابندیوں کے باوجود وہ اسلام پسند اور حکومت مخالف ووٹروں کو کسی نہ کسی طرح پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب رہے اور کُل ڈالے گئے ووٹوں کا ۵فی صد حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے۔ ان کی شکست پر اُن سے تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ: جو کچھ عالمِ عرب میں اور جو کچھ الجزائر میں ہوتا چلا آ رہا ہے‘ اس لحاظ سے یہ جمہوریت بھی غنیمت ہے۔
عبدالعزیز بوتفلیکا کے صدارتی انتخابات اہلِ پاکستان کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ پاکستان کے دو سابقہ فوجی حکمران یہ کام احسن طریقے سے ریفرنڈم کے نام پر انجام دے چکے ہیں۔ عبدالعزیز بوتفلیکا ۸۵ فی صد ووٹ حاصل کر کے صدارت کے منصب پر دوبارہ فائز ہوچکے ہیں۔ سیکڑوں بربر مخالفین جو پہاڑوں میں روپوش ہیں اور ان کے استبداد سے تنگ ہیں‘ آیندہ کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں‘اس کا تعین آنے والا وقت ہی کرے گا۔
سوال: کچھ عرصہ قبل میری ایک عزیزہ کی شادی ہوئی۔ ایک سال تو بخیروخوبی گزر گیا لیکن پھر لڑائی جھگڑوں کا ایک طوفان بپا ہوگیا۔ لڑکے والوں کا خیال ہے کہ لڑکی والے ان پر تعویذ گنڈے اور جادو ٹونا کروا رہے ہیں۔ اسی دوران لڑکی کے سسر کا انتقال ہوگیا اور یہ موت اچانک نہیں ہوئی۔ مرحوم برسوں سے ہائی بلڈپریشر کے مریض تھے۔ اس پر لڑکے والوں کا شک یقین میں بدل گیا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔ لڑکی والوں نے شک دُور کرنے کے لیے قرآن پر قسم اٹھا لی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بہ ظاہر وہ مان گئے مگر ان کے دل مطمئن نہ ہوئے۔ چنانچہ کچھ عرصے بعد لڑکے نے کہا کہ وہ خود عامل ہے اور اس نے استخارہ کیا ہے اور اسے اپنے سسرال والوں کی شبیہہ نظرآئی ہے کہ وہ جادو کرتے ہیں۔ اس دوران لڑکی کا بھائی حادثے کا شکار ہوا اور ساتھ ہی اس کی دادی پر فالج کا حملہ ہوگیا تولڑکے نے کہا کہ یہ اس نے کروایا ہے۔
اب ایک طرف لڑکی والے قرآن پر قَسم اٹھا کریقین دہانی کروا چکے ہیں کہ وہ جادو وغیرہ نہیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف لڑکا استخارے کی بنیاد پر انھیں ہی موردالزام ٹھیراتا ہے اور مؤخر الذکر واقعات کو اپنا کارنامہ سمجھتا ہے۔ ان حالات میں قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ:
جواب: یہ معلوم کر کے انتہائی دکھ ہوا کہ آپ کی عزیزہ کے شوہر جو آپ کے عزیز بھی ہیں‘ اپنی اہلیہ کے بارے میں بلاجواز وہم و گمان کا شکار ہیں۔ آپ کی عزیزہ اوراس کے والدین نے قرآن پاک پر حلف بھی اٹھایا لیکن ان کا وہم و گمان پھر بھی دُور نہیں ہوا۔ ایسے لوگوں کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اِناللّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھا جائے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے ہدایت کی دعا کی جائے۔
ایک مسلمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ قرآن و سنت ہیں‘ جن میں بلاجواز وہم و گمان سے سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّز اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (الحجرات۴۹:۱۲) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو‘ بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘‘۔
جب کوئی شخص حلف اٹھا لے تو اس کے بعد بدگمانی ختم ہوجانی چاہیے‘ نیزبدگمانی کے اسباب و آثار سامنے نہ آئیں تو پھر بدگمانی بھی بلاوجہ ہونے کے سبب گناہ شمار ہوگی۔ کیا آپ کی عزیزہ اور خاندان کی طرف سے تعویذ گنڈے اور جادو کے ایسے نشان ملے ہیںکہ جس کی بنا پر شوہر اور ان کے خاندان والے بدگمانی میں مبتلا ہوئے؟ ظاہر بات ہے کہ ایسے کوئی نشان نہیں ملے۔ جہاں تک بلڈپریشر اور دوسری بیماریوں کا تعلق ہے۔ وہ اس بات کی علامت قطعاً نہیں ہیں کہ مریض پر جادو کیا گیا ہے اور فلاں شخص جادو کا مرتکب ہوا ہے۔
استخارہ ایک جائز کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں دعاے خیر کی مخصوص صورت کا نام ہے۔ اس کا کسی الزام یا بدگمانی کی تحقیق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ استخارے یا خواب کے ذریعے سے کسی پر جادو کے الزام کو ثابت نہیں کیاجاسکتا۔ شریعت میں خواب کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کسی نے کسی پر جادو کیا ہے۔ یہ خواب سے ثابت ہونے والی چیز نہیں کہ کسی کی شبیہہ کے نظرآنے سے سمجھا جائے کہ صاحبِ شبیہہ نے جادو کیا ہے۔
جادو ظاہری اسباب کا نہیں‘ بلکہ مخفی اسباب کے ذریعے عمل کا نام ہے۔ بلڈپریشر‘ ایکسیڈنٹ تو ظاہری اسباب ہیں‘ ان کا جادو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جادو تو ایسا عمل ہے جس کے ذریعے کوئی شخص کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوکر کمزور ہو جاتا ہے کہ حکیم اور ڈاکٹر اس کا سبب معلوم نہ کر سکیں۔ لیکن جس شخص کو ایسی بیماریاں لاحق ہوں جو ڈاکٹروں اور اطبا کو معلوم ہوں‘ یا موت کے ایسے اسباب ہوں جو لوگوں میں معروف ہوں‘ جیسے ایکسیڈنٹ وغیرہ‘ تو اس کو جادو کا نتیجہ نہیں کہا جائے گا۔ آپ کی عزیزہ کے شوہر جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے بذاتِ خود جادو کیا ہے اور ان کے جادو کے سبب فلاں فلاں واقعات ہوئے ہیں‘ یہ بھی ان کا وہم ہے۔ وہ اپنے آپ کو گنہگار کر رہے ہیں اور لوگوں کی تکلیف اور حادثات کو اپنے جادو کا نتیجہ قرار دے کر گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ فی الحقیقت ان حادثات کا تعلق ان کے عمل سے نہیں ہے۔ اس لیے آپ کسی قسم کی پریشانی کا شکار نہ ہوں۔ آپ کا اور آپ کی عزیزہ اور خاندان کا رویہ اسلام کے مطابق ہے اور شوہر اور ان کے خاندان کا رویہ شریعت سے ہٹا ہوا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ وہم کے دبائو سے اپنے آپ کو آزاد کریں۔ شرعی ثبوت کے بغیر کسی پر جادو اور کسی دوسرے جرم کا الزام عاید نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعویذ گنڈوں اور جادو کے وہم سے نکالے۔ بہت سے گھر اس وہم اور بدگمانی کی وجہ سے اجڑ گئے ہیں۔ آپ کی عزیزہ کے شوہر کی بدگمانی کو اللہ دُور کرے۔ اس کو اور اس کے بچوں کو ظلم سے محفوظ فرمائے۔ آمین! (مولانا عبدالمالک)
س : مجاہدین کی صفوں میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو یا تو جہاد فی سبیل اللہ کے مقصد اور فلسفے سے ناواقف ہوتے ہیں یا اپنے کسی مفاد کی خاطر جہادی تنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے بعض اوقات مجاہدین کو عوامی سطح پر بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی روک تھام کیسے ہو؟ ان سے کیسا سلوک کیا جائے اور کیا حکمت عملی اختیار کی جائے کہ دشمن ایسے افراد کو ہماری صفوں میں بھیج کر انتشار نہ پیدا کر سکے؟
ج: آپ کے سوال میں تین اہم پہلو ہیں۔ ایک کا تعلق جہاد فی سبیل اللہ کے مقصد اور ایسے افراد سے ہے جو اس مقصد سے صحیح طور پر آگاہ نہ ہوں۔ دوسرا پہلو ایسے افراد کی پہچان سے ہے جو محض دکھاوے اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ساتھ شامل ہوجائیں۔ ایسے افراد سے ہمارا طرزعمل کیا ہو۔ اور آخری بات جو آپ نے اٹھائی ہے کہ اگر ایسے افراد کو پہچان لیا جائے تو آیندہ پیش بندی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیجیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشی اور رضامندی کے لیے مجبور‘محکوم و مظلوم انسانوں کو ظلم سے نجات دلانا اور ان کے حقوق بحال کرنے کے لیے اپنی جان اور مال کے ساتھ جدوجہد کرنا ہے۔ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے اور جب بھی اُمت مسلمہ کے کسی گروہ کو محکوم بنالیا جائے‘ اس پر ظلم کیا جائے تو صاحب ِ استطاعت افراد پر ان کی امداد کرنا اور انھیں نجات دلانے کے لیے جدوجہد کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ سورۂ نساء میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اور تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں‘ عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب‘ ہمیں اس ظالم باشندوں کی بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس ہمدرد پیدا کر اور ہمارے لیے اپنے پاس سے مددگار کھڑے کر‘‘۔(النساء ۴:۴۹)
جہاد کے آغاز کے بعد مجاہدین کی صفوں میں اگر ایسے افراد بھی شامل ہوجائیں جو بظاہر تو جہاد کی غرض سے آئے ہوں‘ لیکن ان کا اصل مقصد مجاہدین کی صفوں میں انتشار پیدا کرنا یا اپنے مفادات کا حصول ہو‘ تو عام حالات میں کسی کے لیے یہ کھوج لگانا آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ دلوں کے حال سے تو صرف اللہ ہی واقف ہوسکتا ہے۔ البتہ اگر ان کا طرزِعمل مشتبہ ہو تو ان پر نگرانی رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ شریعت کے احکام کا نفاذ ظاہر پر ہے باطن پر نہیں۔ اگر ان کی نقل و حرکت سے ثابت ہوجائے کہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور دشمنِ اسلام قوتوں کے اشارے پر تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں تو پھر باقاعدہ تحقیق کے بعد‘ ثبوت ملنے پر اور ان کو صفائی کا موقع دے کر انھیں جماعت سے علیحدہ کیا جائے۔ محض شبہے کی بنا پر کسی کے خلاف کارروائی کرنے کی کوئی گنجایش اسلام میں نہیں ہے‘ بلکہ قرآن کریم واضح طور پر اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ کسی فاسق کی اطلاع پر وہ کوئی ایسا اقدام نہ کر بیٹھیں جس کے بعد انھیں شرمندگی ہو۔
جو لوگ درپردہ مخالفینِ اسلام کے ساتھ ہوں‘ لیکن ان کے ظاہری اعمال ایسے ہوں جو ایک مومن سے متوقع ہیں‘ ایسے افراد کے بارے میں قرآن و سنت سے جو ہدایات ملتی ہیں ہم عموماً ان کی پابندی نہیں کرتے۔ کسی کے بارے میں اُڑتی ہوئی اطلاع پر اعتماد کر کے اس کے نشرمیں مصروف ہوجانا ایک منافق کا کام ہے۔ عبداللہ ابن ابی جو نماز‘ روزے اور دیگر اسلامی عبادات کا پابند اور صحابہؓ کی جماعت میں شامل تھا۔قرآن و سنت سے یہ ہدایت نہیں ملتی کہ اسے ماروپیٹو یا قتل کر دو کہ وہ منافق ہے‘ بلکہ انھی کے صاحبزادے اور آنحضورؐ کے جاں نثار صحابیؓ نے آپؐ سے اپنے منافق باپ کے قتل کی اجازت طلب کی تو رحمۃ للعالمینؐ نے اس سے منع فرما دیا۔
اتنی واضح اور مستند سنت کے باوجود آج کسی حافظ قرآن یا داعی کے بارے میں کہیں صرف یہ افواہ اڑا دی جائے کہ اس نے کسی صحابی کے بارے میں نازیبا کلمات استعمال کیے ہیں‘ یا وہ کسی جماعت مجاہدین کے سربراہ کے بارے میں یہ بات کہتا ہے‘ تو بغیر کسی تحقیق کے ہم وہ کچھ کربیٹھتے ہیں جس کی اجازت ایک منافق بلکہ مشرک کے بارے میں بھی نہیں ہے۔
اس لیے جماعت مجاہدین ہویا کوئی دوسری تنظیم جو اسلام کے اصولوں پر قائم ہوئی ہو‘ اس میں افواہوں‘ نجویٰ‘ غیبت اور بلاتحقیق الزامات لگانے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ یہ بات سمجھ لیجیے کہ دین کا مدعا اصلاً‘ تربیت و فلاح ہے۔ وہ زبردستی کسی نہ کسی عذر سے خواہ مخواہ افراد کو تعذیب‘ تکلیف اور تعزیر دینے کا قائل نہیں ہے۔ ہاں‘ جہاں بربناے تحقیق ایک جرم ثابت ہوجائے اور بات محض الزام کی نہ ہو‘ وہاں اسلام سخت سے سخت سزا دیتا ہے۔ اسی لیے ایسے جرائم کی سزا مخفی نہیں‘ بلکہ سرعام دی جاتی ہے‘ تاکہ وہ محض سزا کا کام نہ کرے بلکہ معاشرے میں برائی کو روکنے اور کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکے۔
عوامی سطح پر جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ خلوص‘ قربانی اور دینی ہدایات پر حتی المقدور عمل ہے۔ بلاشبہہ پبلسٹی کی مہم بعض اوقات اچھے خاصے بھلے افراد کی تصویر کو مسخ کردیتی ہے۔ لیکن حق بہرحال آخرکار غالب آتاہے‘ مثلاً مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے حوالے سے یہ بات پھیلا دی گئی کہ وہ جہاد کشمیر کو درست نہیں سمجھتے‘ جب کہ ان کی تحریریں نہ صرف جہاد کی سب سے زیادہ پُرزور حمایت کرنے والی ہیں‘بلکہ بیسویں صدی میں جرأت اور بغیر کسی مدافعانہ ذہنیت کے قرآن و سنت کی بنیاد پر‘جہاد کو ایک اصلاحی عمل اور فریضہ قرار دیتے ہوئے‘ اس کی اشاعت کرنے والی ہیں۔ خود ان کی برپا کردہ جماعت نے جہاد کشمیر کو مقبوضہ اور آزاد کشمیر ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں متعارف کرایا اور اس کے لیے عالمی مہم چلائی۔
ایسے افراد پر بھی‘ جو کسی جماعت کی صفوں میں انتشار پھیلانے کے لیے داخل ہوں‘ دعوتی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا قوی امکان رہتا ہے کہ وہ تربیت و اصلاح کے عمل سے گزرتے ہوئے اپنی غلط روش سے تائب ہوکر خلوصِ دل کے ساتھ اہلِ حق کی جماعت میں شامل ہوجائیں اور وہ اپنے ذاتی مفاد کے بجاے اُمت کے مفاد کے لیے اپنی جانیں اور اپنا مال بطور نذرانہ پیش کردیں۔ اس لیے ان کو بھی مسلسل خلوصِ دل کے ساتھ دعوت ِدین دیتے رہنا چاہیے۔(ا-ا)
قرآن پاک کے ترجمے‘ تشریح‘ تفسیر اور توضیح کا سلسلہ دیگر زبانوں کی طرح اُردو میں بھی سیکڑوں برس سے جاری ہے۔ خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُراٰنَ وَعَلَّمَہٗ (تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے)۔ زیرنظر کتاب کے مرتب و مؤلف شیخ عمرفاروق صاحب نے بھی اسی جذبے کے تحت چند برس پہلے ہفت روزہ ایشیا میںتشریحِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا جسے بعدازاں خوب صورت انداز میں طبع کرکے تقسیم کیا گیا۔ وہ جلد پارہ اول پر مشتمل تھی‘ زیرنظرجلد سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کو محیط ہے۔
شیخ صاحب نے تفہیم و تشریح میں عربی اور اردو کی قدیم و جدید اور معروف تفسیروں‘ کتب ِ لغت اور عربی قواعد سے مدد لی ہے۔ ہرآیت کا ترجمہ‘ مختلف الفاظ کے معانی‘ افعال کی نوعیت‘ صیغے‘ مادہ اور اجزاے کلام کی وضاحت پھر مختلف مفسرین کی آرا بصورتِ اقتباسات‘ بعدازاں آیاتِ مبارکہ کی حکمت و بصیرت کو واضح کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ مختلف نکات کی توضیح اور آیاتِ مبارکہ کے مطالب کا حالاتِ حاضرہ خصوصاً عالمِ اسلام اور پاکستان کے حالات سے ربط قائم کرکے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ قرآنی ہدایت سے روگردانی کا نتیجہ عبرت انگیز ہوتا ہے۔
شیخ عمرفاروق ایک گہرے دلی جذبے اور دردمندی کے ساتھ قرآنی دعوت اور پیغام کو عام لوگوں تک پہنچانے کی تدبیر میں لگے ہوئے ہیں۔پارہ اول کا ایڈیشن اُنھوں نے بطورِ تحفہ تقسیم کیا تھا اور زیرنظرجلد بھی بلامعاوضہ ہے جسے ان سے (بذریعہ ڈاک نہیں) دستی وصول کیا جاسکتا ہے۔ فون نمبر ۷۵۸۵۹۶۰-۰۴۲۔
کتابت ‘ طباعت اور اشاعت‘ ہر اعتبار سے حسین و جمیل اور معیاری۔ (رفیع الدین ہاشمی)
فہم القرآن اس لحاظ سے ایک منفرد کتاب ہے کہ اس میں روایتی عربی تدریس اور صرف ونحو سے ہٹ کر علامات کے ذریعے قرآن مجید کا ترجمہ سکھایا گیا ہے۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ یہ عطیۂ خداوندی ہے اور انھیں پہلی بار اس طریقے کو متعارف کروانے کا شرف حاصل ہوا ہے‘ کیسے؟۔ مصنف لکھتے ہیں: جنوری ۱۹۷۹ء کی ایک شام‘ امام سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی نظرعنایت نے فقیر کو مالا مال کر دیا جب انھوں نے فرمایا کہ اب آپ سائنس نہیں بلکہ دین پڑھیں گے۔ میں آپ کو سعودی عرب کی کسی اچھی یونی ورسٹی سے دین کی تعلیم دلوانا چاہتا ہوں… میں اس جواب کی تلاش میں رہا کہ آخر میرا ہی انتخاب کیوں؟ …آخرکار اللہ علیم وخبیر نے اپنی کتاب عظیم اور بقول امام مودودیؒکی ’شاہ کلید‘ کو سمجھانے کے لیے علامات کا علم عنایت فرما کر فقیر کی جھولی بھر دی۔(پیش لفظ)۔
مصنف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ قرآن مجید کے ۹۸ فی صد الفاظ اردو میں مستعمل ہیں۔ صرف ۵ئ۱ فی صد الفاظ خالص عربی کے ہیں جن کے لیے لغت کی ضرورت پیش آتی ہے‘ جب کہ ۵ئ۰ فی صد الفاظ وہ ہیں جو بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ صرف ۴۰ گھنٹے (یعنی ایک دن اور ۱۶ گھنٹے) کی مشق کے بعد ایک شخص خود قرآن مجید کا ترجمہ کر سکتا ہے اور اس کا مفہوم سمجھ سکتا ہے۔ صاحب ِ کتاب سعودی عرب کی چار مایہ ناز جامعات سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ۱۹۹۱ء سے ۴۰ روزہ فہم قرآن کورس کے ذریعے مرد و خواتین اور نوجوانوں کو قرآن کا فہم ایک مشن کے انداز میں پہنچا رہے ہیں۔
زیرتبصرہ کتاب اسی علامتی طریقے اور طریق تدریس پر مبنی ہے۔ بات کو واضح کرنے کے لیے کمپیوٹر کے استعمال سے جدید انداز میں تیر کے نشان اور اسکرین وغیرہ کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ ایک باب ’’علامات‘ ایک نظر میں‘‘ تمام علامتوں کو جمع کیا گیا ہے اور مثالوں سے وضاحت کی گئی ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی رہے۔ مزیدبرآں ان الفاظ کی فہرست کے ساتھ (جو بار بار دہرائے جاتے ہیں) آخر میں ان الفاظ کی فہرست بھی دی گئی ہے جن کا مادہ معلوم کرنے میں عموماً غلطی ہوجاتی ہے۔
خوب صورت سرورق اور سفید کاغذ پر مجموعی طور پر پیش کش عمدہ ہے‘ تاہم پروف ریڈنگ مزید توجہ چاہتی ہے۔ پیرابنانے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ فونٹ کا استعمال بھی یکساں نہیں۔ قطع نظر اس پہلو کے فہم قرآن کے حوالے سے یہ منفرد کاوش نہایت قابلِ قدر ہے۔ (امجد عباسی)
۱- Taking The Qur'an As a Guide‘صفحات: ۹۷۔
۲-Some Secrets of the Qur'an‘ صفحات: ۱۵۱۔
۳-Miracles of the Qur'an‘ صفحات:۱۰۰۔
۴- Signs of the Last Day‘ صفحات: ۱۳۶۔
۵-Why Darwinism is Incompatible with The Qur'an‘ صفحات:۱۳۶۔ مصنف: ہارون یحییٰ۔ ناشر: گلوبل پبلشنگ‘ استنبول‘ ترکی۔ ملنے کا پتا: پیراڈائز بک سنٹر‘ پی او بکس ۷۱۴۷‘ صدر ‘ کراچی۔ قیمتیں: درج نہیں۔
نظر کو اپنی گرفت میں لے لینی والی یہ انتہائی دل کش اور خوب صورت پانچ کتابیں ۴۸سالہ ترک مصنف ہارون یحییٰ (یہ قلمی نام ہے) کی بے شمار کتابوں میں سے چند ہیں جو دنیا کی ۱۵سے زائد زبانوں (روسی‘ ترکی‘ فرانسیسی‘ جرمن‘ اُردو‘ عربی‘ انڈونیشی‘ اسپینی‘ اُردو وغیرہ) میں قبول عام حاصل کر رہی ہیں۔ اشاعت کتب کا آغاز ۱۹۸۰ء میں ہوا اور سلیقے اور جذبے سے کام کی بدولت سائنس کے حوالے سے قرآن فہمی کی بنیاد پر تجدید ایمان اور شک و ریب دور کرنے کی یہ دعوت آج بھارت سے امریکہ‘ انگلینڈ سے انڈونیشیا‘ پولینڈ سے بوسنیا اور اسپین سے برازیل تک‘ ہر جگہ پھیل رہی ہے۔ آڈیو ویڈیو کیسٹ اور سی ڈی بھی دستیاب ہیں اور ویب سائٹ (www.harunyahya.com)پر بھی جایا جا سکتا ہے۔
ہارون یحییٰ کا موقف یہ ہے کہ بے عقیدگی غالب نظریہ ہوگیا ہے۔ جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ وہ بھی اس کا شکار ہیں۔ مادی اور بے خدا تہذیب کی بنیاد نظریۂ ارتقا ہے جس کے مطابق انسان کسی پیدا کرنے والے کے بغیر پیدا ہوگیا ہے۔ ان کا اصل سائنسی اور مدلل حملہ نظریۂ ارتقا پر ہے جس پر علاحدہ کتاب بھی ہے‘ لیکن وہ اسے اتنا بنیادی سمجھتے ہیں کہ دوسری کتابوں کے آخر میں بھی اس کی تلخیص ایک باب کے طور پر شامل کرنا ضروری سمجھا ہے۔
ہارون یحییٰ کی تحریروں کا سرچشمہ قرآن کریم کی آیات ہیں۔ جن آیات سے ایک عام قاری گزر جاتا ہے‘ انھوں نے وہاں ٹھیر کر سائنسی حوالے سے غوروفکر کیا ہے اور ہدایت کا راستہ کھول کر بیان کیا ہے۔ تفہیم القرآن کے اُردودان قارئین کے لیے شاید کوئی بہت نئی بات نہ ہو‘ لیکن مختصر مضامین میں‘ ایک خاص ربط کے ساتھ‘ خوب صورت کئی رنگی تصویروں کے ساتھ‘ انسان اور کائنات کے صحیح تصور کو پیش کرنا اور کسی تنظیمی پشت پناہی کے بغیر تجارتی بنیادوں پر پھیلانا یقینا ان کا کارنامہ ہے۔
پانچوں کتابوں کے عنوانات سے ان کے مشمولات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یومِ قیامت کی نشانیوں میں احادیث سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ہمارے کالجوں کے میگزین میں یہ مضامین شائع ہوں اور ہر طالب تک پہنچیں۔ نظریہ ارتقا والی کتاب ان اساتذہ حیوانیات کو ضرور پڑھنی چاہیے جو نصاب کے اتباع میں ارتقا کے ’سائنسی فراڈ‘ کو ایک امرواقعہ کے طور پر بلاتکلف پڑھاتے ہیں۔ پوری پوری کتابیں آرٹ پیپر پر شائع کی گئی ہیں۔ سرورق دیدہ زیب اور فن کا شاہکار ہیں۔ (مسلم سجاد)
ڈاکٹر سہیل حسن نے علمِ حدیث کی بے لوث خدمت انجام دی ہے اور تدریس و تصنیف کے میدان میں بھی وہ اپنا ایک علمی مقام پیدا کرچکے ہیں۔ زیرنظر معجم اصطلاحات حدیث اردو میں ان کی پہلی مبسوط علمی کاوش ہے۔ اس میں انھوں نے اصطلاحاتِ حدیث کو خوبی اور خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا ہے اور اپنے موضوع پر یہ ایک سنجیدہ اور معقول کاوش ہے۔ مرتب کے بقول مصطلحات حدیث کی زیرنظر معجم میں انتہائی کوشش کی گئی ہے کہ اس فن سے متعلق تمام اصطلاحات جمع کر دی جائیں‘ چنانچہ مصنف نے بساط بھر ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس معجم میں بعض ایسے مباحث بھی شامل کیے ہیں جو شاید کسی اور کتاب میں یکجا نہ مل سکیں‘ مثلاً تحویل کی صورت میں اسناد پڑھنے کا طریقہ‘ مختلف صحابہ کرامؓ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد‘ محدثین عظام اور ان کی مؤلفات کا تعارف وغیرہ۔ کتاب کی ترتیب حروفِ تہجی کے اعتبار سے کی گئی ہے۔ جو لوگ علمِ حدیث کو اعلیٰ سطح پر سمجھنا چاہتے ہیں‘ ان کے لیے یہ کتاب نہایت مفید اور کارآمد ہے۔ کمپوزنگ اچھی اور جلد عمدہ ہے۔ (عبدالوکیل علوی)
یہ کتاب جدید ترکی اور جنگِ عظیم اول سے لے کر بیسویں صدی کے اختتام تک ترکی کی سیاسی تاریخ کا ایک خوب صورت مرقع ہے۔ مصنفہ نے خلافتِ عثمانیہ کے بارے میں مغربی مؤرخین کے غیرحقیقت پسندانہ اور متعصبانہ رویے اور جدید ترکی اور مصطفیٰ کمال سے متعلق جانب دارانہ اندازِ فکر کا پردہ چاک کرتے ہوئے ترکوں کی گذشتہ صدی کی سیاسی تاریخ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
مصنفہ نے سلطنت ِعثمانیہ کی مختصر تاریخ‘ ترکی میں مغربی ممالک کے عمل دخل‘ ترکی پر جنگِ عظیم اول کے اثرات‘ ترکوں کی جدوجہدآزادی اور جمہوریہ ترکی کی تشکیل کا تفصیل سے جائزہ پیش کیا ہے۔ پھر عصمت انونو کے دورِ حکومت‘ جنگِ عظیم دوم اور ترکی میں ۱۹۶۰ء کے فوجی انقلاب‘ ترکی میں اسلامی تحریکوں کی تخم کاری اور اسلامی نظریات کی آبیاری کی کوششوں پر نظر ڈالی ہے۔ ترکی میں گذشتہ ربع میںہونے والے انتخابات اور ان میں پارٹی پوزیشن کے گوشوارے بھی دیے گئے ہیں۔ آخر میں جدید ترکی کی فکری زندگی میں اہم کردار ادا کرنے والی چند اہم ادبی شخصیات کے سوانحی خاکے موضوع کی تفہیم میں بڑی مدد کرتے ہیں۔ مصنفہ نے ترکی سے متعلق تاریخی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور وہ موضوع پر پوری گرفت رکھتی ہیں۔ ترکی کے قومی رنگ میں اپنے خوب صورت سرورق کے ساتھ کتاب بہت دلآویز نظرآتی ہے اور اپنے مندرجات کے اعتبار سے تاریخ کے طلبہ کے لیے یہ کتاب ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔(سعید اکرم)
قیامِ پاکستان کے بعد قومی زندگی کے بعض دوسرے شعبوں کی طرح اردو زبان بھی زوال و انحطاط کا شکار ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے کہ بظاہر تو اُردو زبان میں مختلف موضوعات پر کتابوں اور رسالوں کا ایک عظیم الشان ذخیرہ وجودمیں آیا ہے لیکن صحت زبان و املا اور تلفظ کا معاملہ ہماری سہل انگاری‘ لاپروائی اور ایک بے نیازانہ روش کی بدولت مسلسل ابتری اور غلط روی کی زد میں رہا ہے۔ ہماری غلامانہ ذہنیت نے ہمارے لسانی احساس یا عصبیت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ چنانچہ اردو زبان اس وقت املا‘تلفظ اور بیان و انشا کے اعتبار سے ایک افسوس ناک آلودگی اور توڑ پھوڑ کی زد میں ہے۔
جناب طالب الہاشمی ہمارے دور کے ایک معروف فاضل ادیب اور اسکالر ہیں اور بیسیوں کتابوں کے مصنف۔ وہ لغت و زبان سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ قومی زبان کی صحت کی طرف سے برتی جانے والی عمومی غفلت نے انھیں زیرنظر کتاب مرتب کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس کے بعض مباحث یہ ہیں: صحت تلفظ‘ املا کے اہم اصول اور قواعد‘ بہت سے ہم شکل الفاظ‘ امالہ‘ اُردو کے بعض مسلّمہ تصرفات‘ بعض تاریخی شخصیتوں کے ناموں کا تلفظ‘ زبان و بیان کی بعض عام غلطیاں (برا منانا‘ براے کرم‘ انکساری تقرری جو‘ ناراضگی‘ بمعہ‘ پرواہ---یہ سب غلط ہیں)۔
مصنف کی زیرنظر کاوش بہت اہم‘ بروقت اور بہ ہراعتبار مستحسن ہے۔ قطع نظر اس کے کہ نقارخانے میں طوطی کی آواز کوئی سنتا ہے یا نہیں‘ صاحبانِ احساس و عرفان کو اپنی بات کہتے رہنا چاہیے۔ کبھی تو اثر ہوگا‘ سب نہیں‘ چند لوگ تو سیکھیں گے‘کچھ تو اصلاح ہوگی۔ ممکن ہے زبان و لغت اور تلفظ سے دل چسپی رکھنے والے بعض اصحاب کہیں کہیں فاضل مؤلف سے اختلاف کریں لیکن اس سے کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔
ہمارے خیال میں نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ‘ اہل قلم‘ ابلاغیات اور صحافت سے وابستگان‘ اور عام قارئین کو اس کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کرنا چاہیے بلکہ کتابِ حوالہ کی طرح اسے مستقلاً زیرمطالعہ رکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے اپنے مختصر مقدمے میں مؤلف کی کاوش کو سراہا ہے۔ اس اہم کتاب کا اشاعتی معیار اور سرورق زیادہ بہتر اور خوب صورت ہونا چاہیے تھا۔(ر-ہ)
زیرنظر کتاب کا موضوع پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع ۲۸ ہزار مربع میل پر مشتمل گلگت اور بلتستان کا وہ علاقہ ہے جسے بالعموم ’شمالی علاقہ جات‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ مارچ ۱۹۴۹ء میں ایک معاہدے کے تحت یہ علاقہ براہِ راست حکومت پاکستان کے زیرانتظام دے دیا گیا تھا۔ تب سے اس علاقے کے معاملات کی نگرانی وزارت امور کشمیر کے ذمے ہے اور عملی طور پر ایک ریذیڈنٹ وہاں کا حاکم ہے۔
زیرنظر کتاب مصنف کا ایک تحقیقی مقالہ ہے جس میں شمالی علاقہ جات کی تاریخ اور جغرافیے کے ساتھ وہاں کی سیاسی اور معاشرتی صورت حال اور شمالی علاقہ جات کے عوام کے مسائل اور احساسات کا ذکر کیا گیا ہے۔
مصنف کی تحقیق یہ ہے کہ گلگت اور بلتستان قانونی و آئینی طور پر ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ اس لیے اسے آزاد کشمیر میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ یہ آئینِ آزاد کشمیر کے دائرے میں آئے۔ عوام کا بھی یہی مطالبہ ہے۔ موجودہ صورت حال میں یہاں کے لوگوں کو پاکستان یا آزاد کشمیر کے جمہوری اداروں میں کوئی نمایندگی حاصل نہیں ہے۔ نہ یہ علاقے اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں‘ اور یہ بہت نامناسب اور نامنصفانہ صورت حال ہے۔
شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی تجویز بھی سامنے آتی رہی ہے‘ مصنف کے خیال میں یہ قطعی عاقبت نااندیشانہ اقدام ہوگا۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچے گا اور بھارت اس سے فائدہ اٹھائے گا۔
موضوع سے متعلق بعض اہم دستاویزات اور معاہدوں وغیرہ کا متن بھی شامل کتاب ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک قابلِ قدر علمی کاوش ہے۔ (ر - ہ)
سیرتِ رسولؐ اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک بحرِذخّار ہے۔اس ذخیرے کی وسعتوں سے کماحقہ استفادہ کرنے میں‘ خود انسان کی اپنی کم مایگی رکاوٹ بنتی رہی ہے۔ دو سال قبل مسلم اہل علم و دانش کی ایک عالمی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی تھی‘ اس قاموسی کام کا محرک وہی کانفرنس بنی۔
سیرت و حدیث کے ذخیرے میں رسولؐ رحمت کے فیصلوں اور ان فیصلوں کی حکمتوں پر بہت سے افراد نے مختلف اوقات میں کام کیا ہے۔ یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کتاب دیکھیں تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس میں ایک ہی فیصلے سے متعلق مختلف کتب سے ایک ایک ارشاد نبویؐ کو چن کر مربوط پیراگراف بنانے کے لیے مولف نے بہت محنت کی ہے۔ شاید اسی لیے کتاب اس دعوے کے ساتھ پیش کی گئی ہے: ’’اسلامی عدالتوں کے فیصلوں پر مبنی انسائی کلوپیڈیا‘‘ --- کتاب میں سب سے پہلے ایک ایک موضوع پر عدالتی فیصلوں کے بنیادی نکات درج کیے گئے ہیں اور پھر ان نکات کو متعلقہ احادیث (مع حوالہ جات) سے مرصع کیا گیا ہے۔
آیندہ ایڈیشن لانے سے قبل کتاب کے پورے متن‘ خصوصاً بنیادی نکات کو مزید باریک بینی سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ کتاب میں ترجمے اور پروف کی غلطیاں وافر تعداد میں موجود ہیں۔ تعجب ہے کہ ترجمہ اور نظرثانی‘ نیز پروف خواں اصحاب نے اس باب میں مطلوبہ احتیاط کیوں نہیں کی؟
بعض جگہ محسوس ہوتا ہے کہ رسولؐ اللہ کے کسی مشورے یا بیان کو بھی ’’عدالتی فیصلہ‘‘بنا دیا گیا ہے‘ لیکن ایسی مثالیں خال خال ہیں۔ بعض احادیث کی استنادی حیثیت پربھی نظر ڈالنا ضروری تھا۔ پھر بھی یہ کتاب کئی حوالوں سے اپنے موضوع پر سابقہ کتب سے اچھی محسوس ہوتی ہے۔
کتاب کے موضوعات کی وسعت اور پیش کاری کا اسلوب خوش آیند ہے جسے طبقہ وکلا اور تمام سطحوں کے جج صاحبان کے زیرمطالعہ آنا چاہیے۔ (سلیم منصور خالد)
ڈاکٹر محمدحمیداللہ کی وفات ان کی شخصیت‘ علمی و فکری کارناموں اور قرآنی و دینی خدمات پر مضامین‘ کتابوں اور رسالوں کے خصوصی نمبروں کا سلسلہ جاری ہے۔ معارفِ اسلامی کا یہ شمارہ اسی سلسلے کی تازہ کڑی اور ’’حمیدیات‘‘ میں ایک بڑا قابلِ تحسین اضافہ ہے جسے نام وَر اہلِ قلم سے بطور خاص مضامین لکھوا کر‘ محنت سے مرتب کیا گیا ہے۔ یہ ضخیم اشاعت مرحوم کی سوانح اور تحقیق کے تقریباً تمام ہی پہلوئوں کو محیط ہے اور خطوط کی بڑی تعداد بھی ذخیرۂ حمیدیات میں اچھا اضافہ ہے۔ پورا شمارہ حوالے کی چیز ہے۔ حافظ محمد سجاد صاحب کی مرتبہ کتابیاتِ حمیداللہ (ص ۵۴۹-۵۷۵) اس موضوع پر تحقیق و مطالعہ کرنے والوں کے لیے ایک کارآمد راہ نما ہے۔(ر - ہ)
مصنف حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی امور پر تواتر سے لکھنے والے اہلِ قلم میں شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کا خاصا حصہ مغربی معاشرے کو سمجھنے سمجھانے میں گزارا ہے۔ چنانچہ ان کا خیال ہے کہ ۱۱ستمبر کے واقعات کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات نہیں کی گئیں۔ کتاب کے ۳۸ابواب میں امریکا اور اتحادی ممالک کی توسیع پسندانہ پالیسیاں‘ دہشت گردی کے مختلف اسلوب اور اس کے اسباب‘ مسلم دنیا کے مصائب اور تضادات وغیرہ جیسے موضوعات تفصیل سے زیربحث آئے ہیں۔ جہاد‘ اسامہ بن لادن‘ بنیاد پرستی‘ ڈینیل پرل قتل کیس‘ نیز اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے حوالے سے بھی کتاب میں گفتگو کی گئی ہے۔
مصنف کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کی خودساختہ کوششوں میں عالمی استعمار اس قدر زیادتیاں کرچکا ہے کہ نیویارک کے جڑواں میناروں کا سانحہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلم دنیا کو درپیش مشکلات کا احاطہ کرتے ہوئے مصنف نے دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ غربت‘ تعلیم کا فقدان اور سیاسی اداروں کے عدمِ استحکام نے مسلم دنیا کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے کہ اُن کی حیثیت خوف زدہ بھیڑوں کی سی ہوگئی ہے۔ جنگل کا ہر خونخوار اُن کے خون کا پیاسا ہوچکا ہے اور اُن کے لیے کوئی خطہ محفوظ نہیں ہے۔
مصنف نے سید قطبؒ اور سید مودودیؒ کے حوالے سے کہا ہے کہ ان مفکرین نے تشدد کی ہر قسم کی مخالفت کی لیکن اسرائیل ہر قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈے روا رکھے ہوئے ہے۔ اقبال حسین کا خیال درست ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی ساز ادارے‘ دانش ور اور عوام الناس اپنی حکومت کو سمجھائیں کہ وہ اپنی ہمہ پہلو قوت کے استعمال سے پہلے ہزار بار سوچے ورنہ ردعمل میں ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ نائن الیون کا سانئحہ گرد میں چھپ جائے گا۔(محمد ایوب منیر)
جہاد مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور ملّی بقا کا ضامن ہے۔ اس رکن عظیم کی فرضیت و اہمیت کے بارے میں قرآن و سنت میں بدیہی احکامات موجود ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام مخالف قوتوں کے غلبہ واستیلا کے خلاف سب سے بڑی مزاحم قوت مسلمانوں کا جذبۂ جہاد ہی رہا ہے۔
صلیبی اور استعماری قوتیں صدیوں سے جہاد کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرتی چلی آرہی ہیںخصوصاً ۱۱ستمبر۲۰۰۱ء کے بعد مغرب میں ہنود ویہود نے جہاد کے خلاف ایک مسموم فضا تیار کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ان حالات میں اسلام کے تصور جہاد کو اس کی اصل روح کے ساتھ پیش کرنا عصرِحاضر کا ایک مقدم تقاضا ہے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک اچھی کاوش ہے۔
اس کے مباحث یہ ہیں: قرآن و سنت اور علما و فقہا کے اقوال کی روشنی میں جہاد کا اصطلاحی مفہوم اور احکامات‘ جہاد اور قتال میں فرق اور ان کا باہمی تعلق‘ جہاد کی فرضیت اور فضائل‘ جہاد سیرت النبیؐ کے آئینے میں‘ جہاد کی بنیادی شرائط اور آداب و ضوابط۔ اسلامی تاریخ میں جہاد کی ایک جھلک‘ خلفاے راشدینؓ، اموی اور عباسی ادوار‘ سلطنت عثمانیہ‘ سلاطین دہلی اور مغلیہ سلطنت کے اہم جہادی اقدامات‘ اسلامی دنیا کے عصرِحاضر کے مسائل‘ مسئلہ قومیت‘ مغرب اور اسلام کی کش مکش‘ اقوامِ متحدہ کی جانب داری اور او آئی سی کی عدم کارکردگی‘ موجودہ دور کی نمایاں جہادی تحریکوں کا تعارف وغیرہ۔ جہادی تحریکوں کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی مصنف کے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے۔ مصنف کے گہرے مشاہدے اور تحقیق و جستجو سے مرتب کردہ ان مفید تجاویز سے جہادی تحریکات کو استفادہ کرنا چاہیے۔
مصنف نے سید مودودیؒ کی الجہاد فی الاسلام سے اخذ و استفادے کا اعتراف کرتے ہوئے اسے جہاد کے موضوع پر بہترین کتاب قرار دیا ہے۔ تاہم مصنف کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے زیرنظرکتاب میں کچھ نئے اور اچھوتے موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ مصنف نے جہاد کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں ایک متوازن اور فکرانگیز مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ (سلیم اللّٰہ شاہ)
خواتین اور معاشرتی برائیاں ‘ ڈاکٹرصادقہ سیّد۔ ناشر: قرطاس۔ پوسٹ بکس ۸۴۵۳‘ کراچی یونی ورسٹی۔ صفحات: ۹۰۔ قیمت: ۶۰ روپے۔
انسانی زندگی کو خیروفلاح سے ثمربار کرنے کے لیے انذار و تبشیر سے بڑھ کر کوئی اور موثر طریقہ نہیں ہے۔ اس ضمن میں بھی سب سے زیادہ اکمل‘ متوازن اور انسانی فطرت کا پاس ولحاظ رکھنے کا ذریعہ قرآن و سنت ہی ہیں۔ بے جا قصہ گوئی سے روشنی لینے کے بجاے‘ روشنی اورنور کے قرآنی اور نبویؐ سرچشموں سے رہنمائی لینا ہی دانش مندی ہے۔
زیرتبصرہ کتاب اپنے موضوع‘ مندرجات کی وسعت اور اسلوب بیان کی سادگی کے باعث ایک موثر دستاویز ہے۔ مصنفہ جسمانی امراض کی معالجہ ہیں‘ انھوں نے روحانی امراض کا علاج بھی نہایت خوب صورتی سے تجویز کیا ہے۔ انھوں نے انسانی زندگی اور خاص طور پر مسلمان خواتین میں فکروعمل کی مختلف النوع کوتاہیوں کی نشان دہی کرنے کے ساتھ‘ شافی علاج بھی پیش کیا ہے جسے تجربے میں لاکر دنیا میں فلاح اور آخرت میں کامیابی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ قرآن و سنت کے حوالے اور ذاتی مشاہدے کو‘ توازن اور اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ (سلیم منصور خالد)
سید مودودی نمبر نہایت دل چسپ اور اہم معلومات سے پُر ہے۔ میں مولانا مودودی کی علمی وسعت کا ہمیشہ قائل رہا ہوں‘ مگر اُن کی صاحبزادی سیدہ حمیرا مودودی صاحبہ کا مضمون پڑھ کر‘ مولانا مودودی کی شخصیت اور ان کی بیگم صاحبہ کی شخصیت نے دل پر گہرا اثر کیا۔ سیدہ حمیرا کے قلم اور اندازِ تحریر میں اپنے محترم والد کی جھلک ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
ترجمان کے خصوصی شمارے میں‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے حوالے سے آپ نے کیا اچھا مواد یکجا کر دیا ہے۔ ان شاء اللہ یہ دستاویز ہم طالب علموں کے لیے بہت مفید ثابت ہوگی اور اہلِ علم بھی اس سے فیض یاب ہوںگے۔
اشاعت ِ خاص‘ مولانا مودودیؒ کی مجتہدانہ بصیرت اور مجاہدانہ تڑپ کی نہایت طاقت ور پکار ہے۔
اشاعت ِ خاص دوم‘ اشاعت خاص اول (اکتوبر ۲۰۰۳ئ) کی طرح ایمان پرور ہی نہیں‘ بلکہ تحرک آفرین بھی ہے۔ اس کے مضامین‘ ایک خادم دین کی سرفروشانہ زندگی کی وہ پرتیں ہمارے سامنے کھولتے ہیں کہ مولانا محترم کی شخصیت سے مرعوبیت کے بجاے ایمان اور جہاد کی راہوں پر چلنے کا بے پناہ جذبہ اور حوصلہ ملتا ہے۔ محترم پروفیسر خورشید احمد کے دونوں مضامین وسعت مطالعہ اور دانش ورانہ گہرائی کا مظہر ہونے کے ساتھ مستقبل کا نقشۂ کار بھی مہیا کرتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سیدہ حمیرا مودودی صاحبہ کا مضمون اس اشاعت کی جان ہے‘ جو اپنے قاری کو آبدیدہ بھی کرتا ہے اور پُرعزم بھی بناتا ہے۔ انھوں نے جس خوب صورتی‘ حلاوت اور راست کلامی سے مضمون کو بُناہے‘ وہ مدتوں روح کو تازگی اور زندگی کو روشنی دیتا رہے گا۔ دوسرے مضامین بھی بہت شان دار ہیں‘ خصوصاً میاں طفیل محمد‘ ڈاکٹر مالک بدری‘ جلال الدین عمری‘ خالد علوی‘ حسن صہیب‘ ثروت جمال‘ ہارون الرشید کے مضامین--- رفیع الدین ہاشمی کی پیش کش سے مولانا محترم کے قلمی آثار کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔ ایک خاص چیز جو ان اشاعتوں سے سامنے آتی ہے وہ یہ کہ تحریک سے وابستہ خواتین کا اسلوبِ بیان اور طرزِ پیش کش‘ ہمیں خوداعتمادی اور تشکر کی وادیوں میں سجدۂ شکر بجا لانے کی دعوت دیتی ہے۔میں مدیر اشاعتِ خاص کو ان کی اس عظیم کاوش پر قلب کی گہرائیوں سے ہدیۂ تبریک پیش کرتی ہوں۔
اشاعت ِ خاص نے نہ صرف مولانا مودودیؒ کی شخصیت کی خوب صورتی کو آشکارا کیا ہے‘بلکہ ایک ایسا لائحہ عمل بھی پیش کیا ہے کہ جس پر عالم حضرات دادِ تحقیق دیں اور اہلِ عمل‘ دعوت کو وسعت عطا کریں۔
مضامین پڑھ کر سالارِ قافلہ کی عظمت اور کاروانِ عزیمت کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوا ہے۔
مضامین پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ اتنی عظیم شخصیت اور مردِ مومن کی علما نے جو مخالفت کی‘ اس کے محرکات‘ تعصبات یا گوناگوں اسباب پر بھی دو تین مقالات ہونے چاہییں تھے‘ کیونکہ یہ ایک زندہ موضوع ہے‘ جس میں آج بھی یک طرفہ طور پر مختلف علما کی جانب سے دل آزار تحریریں پڑھنے اور تقریریں سننے کو ملتی ہیں۔ مجلسِ عمل کے سیاسی تقاضے اپنی جگہ لیکن علمی موضوع کی اہمیت کے اپنے مطالبات ہیں۔
اتنے خوب صورت تحفے پر مبارک باد! اس جامع نمبر نے واقعی ایک تاریخی خدمت انجام دی ہے۔ تمام ہی مضامین روح پرور‘ دل کی گہرائیوں پر اثر ڈالنے اور خیالات کی دنیا میںہلچل پیدا کرنے والے ہیں۔
اشاعت ِ خاص ایک خوش آیند دستاویز ہے‘ تاہم اس چیز کی وضاحت ہوجاتی تو اچھا تھا کہ مولانا مودودیؒ ایک عادلانہ معاشی نظام کا کیا نقشۂ کار پیش کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ایک فرسودہ سماجی ڈھانچے کو وہ کن بنیادوں پر نئے سرے سے‘ اسلامی تعلیمات کے زیرسایہ پروان چڑھانا چاہتے ہیں؟ آیندہ ان موضوعات پر مقالات کا انتظار رہے گا۔ عبدالرشید ارشد کے مضمون‘ ص ۱۳۹ میں بیرون بھاٹی گیٹ کو غلطی سے بیرون موچی گیٹ لکھا گیا ہے‘ اس کی تصحیح کر لی جائے۔
اشاعت ِ خاص کے دونوں حصے‘ مولانا مودودیؒ کی علمی و عملی جدوجہد کا متاثر کن تذکرہ سمیٹے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے اس برگزیدہ بندے کی محبت اور تذکرے کو ہمارے اعمال حسنہ میں شامل فرمائے۔
خصوصی اشاعت اول میں مدیر ترجمان کا مضمون ’’یادیں ان کی‘ باتیں میری‘‘ بہت خوب ہے اور صاحبِ مضمون نے حتی الامکان اپنی یادوں کے سبھی دریچے وا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ تاہم ایک جگہ پائی جانے والی فروگزاشت کی جانب اشارہ کرنا ضروری ہے--- اپنے مرحوم والد ماجد کا تذکرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’جماعت اسلامی کی تاسیس سے قبل‘ مولانا نے جو ادارہ دارالاسلام قائم کیا تھا‘ اس کے پہلے پانچ بنیادی افراد میں والد صاحب بھی شامل تھے‘‘ (ص ۱۹۳)۔ امرواقعہ یہ ہے کہ ادارہ دارالاسلام کی تاسیس کے لیے جن حضرات کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی‘ ان میں ۱۲ حضرات بنفس نفیس شریک ہوئے تھے جن میں پروفیسر خورشید صاحب کے والد گرامی (نذیراحمد قریشی مرحوم) بھی شامل تھے۔ اس اجتماع کی پوری روداد ترجمان القرآن‘ جلد۱۳‘عدد۱ کے صفحہ ۱۵ اور ۱۶ پر مولانا مرحوم کے قلم سے درج ہے۔ مولانا نے رپورٹ کے آخری حصہ میں تحریر فرمایا ہے: ’’۱۷ سے ۱۹ شعبان تک تین روز مسلسل اجتماع رہا… پانچ اشخاص نے اپنے آپ کو رکنیت کے لیے پیش کر کے باقاعدہ حلف لیاجن کے نام یہ ہیں: ۱-مستری محمد صدیق صاحب ۲- سید محمد شاہ صاحب ۳- عبدالعزیز شرقی صاحب ۴-صدرالدین اصلاحی صاحب ۵- ابوالاعلیٰ مودودی‘‘۔ (ایضاً)
٭ بروقت توجہ دلانے اور تصحیح پر میں آپ کا ممنون ہوں۔ (مدیر)
مدیر ترجمان نے ’’اشارات‘‘ (جنوری ۲۰۰۴ئ) میں لکھا ہے کہ ’’قائداعظمؒ نے کانگریس کی قیادت سے پچاس سال چومکھی لڑائی لڑی اور بالآخر پاکستان حاصل کر کے رہے‘‘(ص ۲۰)‘ یعنی قائداعظم نے یہ معرکہ سر کیا۔ تاریخی طور پر تو ۱۹۰۶ء سے ۱۹۴۷ء تک بھی ۵۰ سال نہیں بنتے‘ جب کہ محمدعلی جناح مرحوم نے تشکیل آل انڈیا مسلم لیگ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا‘ بلکہ نومبر ۱۹۱۳ء میں انھوں نے مسلم لیگ میں شرکت کے لیے درخواست دی تھی۔ اس طرح ۱۹۱۳ء سے ۱۹۴۷ء تک کے عرصے کو ۳۴ سال ہی شمار کیا جاسکتا ہے۔
٭ میں ممنون ہوں کہ آپ نے ایک تسامح پر متوجہ کیا۔ یہ درست ہے کہ قائداعظمؒ مسلم لیگ میں ۱۹۱۳ء میں شریک ہوگئے تھے لیکن کانگریس سے کش مکش ۱۹۳۵ء میں انگلستان سے واپس آنے کے بعدشروع ہوئی۔ اس سے پہلے مسلم لیگ اور کانگریس اپنے اختلافات کے باوجود کسی نہ کسی درجے میں تعاون کر رہے تھے۔ مجھے جو بات کہنا چاہیے تھی وہ یہ تھی کہ قائداعظم محمدعلی جناح ؒنے مسلمانوں کے حقوق کے لیے تمام عرصہ جدوجہد کی‘ البتہ کانگریس سے نزاع کا عرصہ دس بارہ سال پر ہی محیط تھا۔ (مدیر)
دیارِ غیر میں وطن سے رابطے اور جماعت سے تعلق کی واحد اور بہترین صورت ترجمان القرآن ہے۔ اسی حوالے سے چند معروضات پیش ہیں: ۱- ’’اشارات‘‘ نہایت جامع اور اہم موضوع پر ہوتے ہیں‘ تاہم اگر یہ مختصر ہوں تو اور بھی زیادہ موثر ہوسکتے ہیں۔ پھر ان میں ملک کے گوناگوں مسائل بھی زیربحث آنے چاہییں۔ ۲- ’’شذرات‘‘ کا سلسلہ خوش آیند ہے‘ لیکن ان کا بوجھ مدیر ترجمان پر ڈالنے کے بجاے دیگر اہلِ قلم کو ہاتھ بٹانا چاہیے۔ ۳-ڈاکٹر انیس احمد بڑے الجھے اور نازک موضوعات کے جواب دیتے ہیں‘ جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں‘ البتہ بعض جگہ وہ واضح موقف اختیار کرنے کے بجاے بات کو مبہم رہنے دیتے ہیں‘ جو مناسب نہیں۔ ۴- ’’کلام نبویؐ کی کرنیں‘‘ اور ’’یادرفتگاں‘‘ کا سلسلہ انتہائی قابلِ تحسین ہے۔
ہم اِن لوگوں سے کسی جذبۂ نفرت و غضب کے بغیر خالص جذبۂ خیرخواہی کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جنگ اور اس کی ضروریات کتنی ہی شدید سہی‘ مگر براہِ کرم اپنے حواس بچا رکھو۔ تم وقتی فائدہ ونقصان کی فکر میں اتنے کھوئے جا رہے ہو کہ اپنی حرکات کے دُور رس اخلاقی نتائج سے تم نے آنکھیںبند کرلی ہیں۔ تم بھول گئے ہو کہ زندگی کی کش مکش میں اخلاقی شکست کھا جانے کے بعد کوئی فوجی فتح تم کو عزت کے مقام پر برقرار نہیں رکھ سکتی اور نہ مجرد مادی طاقت کے بل پر تم زیادہ مدت تک دنیا میں برسرِاقتدار رہ سکتے ہو۔ تمھیں یہ بھی یاد نہیں رہا ہے کہ زمانہ ساکن نہیں بلکہ متحرک ہے‘ اور وہ شخص سخت نادان ہے جو آج کی مصلحت بینیوں میں گم ہوکر کل کی مصلحت کو فراموش کر دے۔
وقت ‘خواہ کتنا ہی برا ہو‘ بہرحال گزرجاتا ہے‘ مگر اپنی ایک مستقل یادگار تاریخ میں چھوڑ جاتا ہے اور اس کے برے اثرات نسلوں تک چلتے رہتے ہیں۔ تم نے اگر اس وقت کو ظلم و زیادتی کے ساتھ گزارا تویہ ہم پر سے بھی بہرحال گزرے گا اور تم پر سے بھی‘ مگر اس طرح کہ تم اپنی آیندہ نسلوں کے لیے تاریخ میں ایک ایسی شرمناک میراث چھوڑ جائو گے جس پر وہ صدیوں تک دنیا میں نظر اُونچی نہ کر سکے گی۔ امریکا میں تمھارے اسلاف نے تمھارے لیے ایسی ہی میراث چھوڑی تھی جس کا نتیجہ آج یہ دیکھ رہے ہو کہ ہر امریکن کے سامنے تمھاری نگاہ نیچی ہے۔ آئرلینڈ میں تم نے یہی میراث چھوڑی‘ اور آج تم کو تجربہ ہوگیا کہ تمھارے قریب ترین ہمسایے نے تمھارے اخلاق کا کیا اثر لیا ہے۔اب کیا تم ہندستان میں بھی ایسی ہی میراث چھوڑنا چاہتے ہو؟ تمھارے اصل کارنامے وہ نہیں ہیں جو تم آپ ہی اپنی مدح میں بیان کرلیا کرتے ہو‘ بلکہ وہ ہیں جو تاریخ میں باقی رہ جائیں۔ اور تاریخ میں سیہ رُو قوموں کی تصویریں تم دیکھ چکے ہو۔ پھر کیا تم نے عزم کرلیا ہے کہ اپنی تصویر کے لیے بھی اسی گیلری میں کوئی بلند جگہ محفوظ کرائو گے؟ (’’اشارات‘‘، سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن‘ جلد ۲۴‘ عدد ۵-۶‘ جمادی الاولیٰ‘ جمادی الاخریٰ ۱۳۶۳ھ‘ مئی‘ جون ۱۹۴۴ئ‘ ص ۶)