مضامین کی فہرست


جنوری ۲۰۰۳

دعوت کا کام اور خاوند کی اطاعت

سوال: میں جماعت اسلامی کی کارکن ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر شوہر کی رضامندی نہ ہو کہ اُس کی بیوی جماعت میں کام کرے تو وہ بیوی کیا کرے؟ میری ساس خود بھی دعوت کا کام سرگرمی سے کرتی رہی ہیں لیکن اب مزاحم ہیں۔ وہ اور میرے میاں کوشش کرتے ہیں کہ میں گھر کے کاموں میں ہی مصروف رہوں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک کارکن (لڑکی) کو اُس کی ساس اور اُس کے میاں گھر کے کاموں میں ہی مسلسل مصروف رکھنے کی کوشش کریں تو بیوی کہاں تک تابعداری کرے؟ ایک بیوی اپنے شوہر یا اپنے رب کی ناراضی میں سے کس چیز سے ڈرے؟ میرے ابھی بچے نہیں ہیں‘ لہٰذا میں یہ چاہتی ہوں کہ جتنا کام ہو سکے ابھی کر لوں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میری عمر بھی کام کرنے کی ہے۔ میری رہنمائی فرمایئے۔

جواب: اسلام کے نظم اجتماعی اور معاشرتی نظام میں اخلاق کی بنیادی اہمیت ہے۔ دونوں نظاموں میں ہر وہ کام مطلوب اور جائز ہوتا ہے جو اخلاق کی بنیاد پر کیا جائے۔ ایک کارکن کے لیے نظم کے کسی فیصلے کی اطاعت ایمان کے تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ قرآن و حدیث نے اولی الامر کی ہر اس بات کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے حکم کے مطابق ہو۔ یہی شکل معاشرتی نظام میں ہے۔ گھر میں ذمہ دار فرد سربراہ خاندان‘ یعنی بیوی کے لیے شوہر اور بچوں کے لیے والدین قرار پائیں گے۔ ایک بیوی شوہر کی ان تمام خواہشات کو پورا کرنا چاہے گی جو قرآن و سنت کے مطابق ہوں۔ یہی مطلب ہے اس کی رضامندی کا‘ اور یہی مفہوم ہے اس حدیث کا جس میں کہا گیا ہے کہ لاطاعۃ المخلوق فی معصیۃ الخالق (اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔

اب یہ بات تو آغاز ہی میں طے ہوگئی کہ شوہر کی رضامندی سے مراد ہر الٹی سیدھی خواہش نہیں ہے بلکہ ہر وہ خواہش ہے جس کے لیے بنیاد اور دلیل قرآن وسنت میں موجود ہو‘ مثلاً اگر شوہر یہ کہے کہ بغیر حجاب اس کے ساتھ کسی مخلوط پارٹی میں شرکت کی جائے تو یہ خواہش قرآن و سنت دونوں سے متصادم ہے۔ اگر شوہر کی اطاعت اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت میں انتخاب ہو تو بیوی ہی کو نہیں خود شوہر کو اپنے مقام کو پہچانتے ہوئے بیوی سے اپنی بندگی کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ اور رسولؐ دونوں کی ناراضی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

جماعت اسلامی میں کام کا واضح مفہوم دعوت دین ہے۔ دعوت دین ایک خاتون کارکن مختلف شکلوں میں دے سکتی ہے۔ اپنے محلے میں‘ کسی اسکول یا تنظیم کی خواتین کے ساتھ حلقہ  درس قرآن کے ذریعے اور دینی موضوعات پر تبادلۂ خیال کرکے‘ یا کسی بستی میں فلاحی کام کرکے‘ یا اپنے ہی گھر میں شوہر‘ ساس‘نند یا جو بھی اہل خانہ ہوں ان کو قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرکے اور خود شوہر کو حکمت کے ساتھ دعوت کے قریب لا کر کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کھانے کے دوران یہ تجویز رکھیں کہ چھٹی کے دن گھر کے تمام افراد نصف گھنٹے کے لیے ساتھ بیٹھ کر قرآن کریم کی چند آیات ترجمے کے ساتھ مطالعہ کریں اور آغاز آپ کے شوہر کریں‘ یا آپ کی ساس یا نند کریں تو خود بخود ترجمہ سننے کے دوران کوئی سوال ایسا اٹھے گا جس کا جواب تلاش کرنے کے لیے آپ کو کسی تفسیر کا حاشیہ پڑھنا پڑے گا۔ فرض کیجیے کہ آپ نے تفہیم القرآن‘ تدبر قرآن‘ معارف القرآن‘ فی ظلال القرآن یا کسی بھی تفسیر کو اس غرض کے لیے بنیاد بنایا اور خود آپ کے شوہر نے وہ حاشیہ پڑھ کر سنایا تو اسی کا نام دعوت دین اور جماعت اسلامی کا کام ہے۔

یہ کام گھر سے باہر جائے بغیر گھر ہی میں ہو سکتا ہے۔ یہ کام صرف تین ماہ کر لیجیے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کے شوہر اور ساس خود آپ سے کہیں گے کہ بیٹی‘ اگر اللہ نے تمھیں دوسروں کو بات سمجھانے کی صلاحیت دی ہے اور تم ہماری وجہ سے اس کا استعمال نہیں کرو گی تو جواب دہی ہم سے بھی ہوگی کہ تمھیں اس کام سے کیوں روکا۔

دعوت دین کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے گھر میں درس قرآن کا حلقہ قائم کر لیجیے۔ اس طرح دیگر خواتین کے ساتھ ساتھ آپ کے اہل خانہ کو بھی شرکت کا موقع ملے گا۔ آپ بھی کبھی درس دے سکیں گی۔ اس طرح دعوت کا کام بھی ہو جائے گا اور اہل خانہ بھی قرآن سے اثر لیں گے اور وہ مزاحمت نہ ہوگی۔

دعوت دین‘ امر بالمعروف ایک انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے اور شوہر اور بیوی دونوں پر یکساں طور پر عائد ہوتا ہے۔ اگر اس کا شعور اس وقت آپ کے شوہر کو نہیں ہے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ حکمت کے ساتھ انھیں متوجہ کرتی رہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی دے گا۔ ان شاء اللہ!

ممکن ہے کہ ان کی والدہ نے دعوتی کام میں زیادہ مصروفیت کی وجہ سے خود ان پر توجہ نہ دی ہو جس کے ردعمل کے طور پر وہ آپ کو دعوتی کام میں زیادہ مشغول نہ دیکھنا چاہتے ہوں۔ اس کا حل صرف اور صرف صبرواستقامت اور حکمت کے ساتھ مستقل مزاجی سے اچھے اخلاق اور مسکراتے چہرے کے ساتھ اپنا کام کرتے رہنا ہے۔

اگر انتخاب رب کی ناراضی یا شوہر کی ناراضی میں ہو تو اسلام کا اصول واضح ہے کہ رب کو کسی شکل میں بھی ناراض نہ کیا جائے اور شوہر کو محبت و احترام سے یہ بات سمجھائی جائے۔

اگر شوہر اور ساس جان بوجھ کر دعوتی کام سے دُور رکھنے کے لیے گھریلو کاموں میں مصروف رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں حکمت کے ساتھ ان کی غلطی سے آگاہ کریں۔ اس معاملے کو   براہِ راست ٹکرائو اور گرما گرم جنگ کی شکل نہ بننے دیں۔ حکمت کے ساتھ مسلسل کوشش کریں۔ اگر اس کے باوجود آپ کو دعوتی کام کرنے کی فرصت نہ مل سکے تو جو گھریلو کام بھی آپ نے اس دوران کیا ہے اس کا اجر دعوتی کام کے برابر ہی آپ کو ملے گا کیونکہ دین میں آپ کی نیت اور آپ کا اخلاص ہی اجر کی بنیاد ہے۔ دو تین ماہ صبر کے ساتھ اور حکمت سے کوشش کیجیے‘ ان شاء اللہ آپ کے شوہر بھی آپ کی طرح کارکن بن جائیں گے۔ فی الوقت گھر کے ماحول کو پُرسکون اور مودت و رحمت سے معمور کیجیے۔ یہی دعوتی حکمت کا تقاضا ہے۔ (پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد)


شادی سے قبل ملاقاتیں

س: ایک پڑھا لکھا اور تعلیم یافتہ نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا افہام و تفہیم کے لیے ملنا جلنا اور تبادلۂ خیالات کوئی زیادہ بری چیز نہیں۔ اس کے خیال میں قباحت تو لازم ہے مگر خلوصِ نیت اور مقاصد کی بلندی کے پیشِ نظر ’’چھوٹی برائی والا نظریہ‘‘ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مخصوص حالات میں اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹ  اور حرام تک جائز ہے تو پھر خوش گوار ازدواجی زندگی کے نقطۂ نظر سے لڑکے اور لڑکی کا تنہا ملنا جلنا کیوں جائز نہیں‘ جب کہ والدین بھی صورت حال سے آگاہ ہوں اور رضامند ہوں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیجیے کہ شادی سے پہلے فریقین کے لیے کم سے کم حدود کا تعین کیا ہے؟

ج: شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کا ’’افہام و تفہیم کے لیے ملنا جلنا‘‘اور ’’بالغ ذہنی‘‘ اور کسی نفسانی جذبات سے بلند ہو کر باہم تبادلۂ خیال کرنا بظاہر بہت معصوم اور بے ضرر سی بات نظر آتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اسلام اہل ایمان کے درمیان حُسنِ ظن ہی کو اصل اور مثبت بنیاد قرار دیتا ہے اور سوء ظن سے منع کرتا ہے لیکن بات صرف یہ نہیں ہے کہ کتنی اچھی نیت کے ساتھ یہ بات چیت کی جا رہی ہے۔ ایک ایسا کام جو بجائے خود غلط ہو‘ نیک نیتی اور بالغ نظری کے ساتھ کرنے سے درست نہیں بن سکتا۔ اس لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلام کے اخلاقی نظام میں غیرمحرموں کے درمیان تنہائی یا خلوت کے بارے میں کیا حکم پایا جاتا ہے۔

ہمارا عام مشاہدہ یہی ہے کہ روایتی معاشروں میں شادیاں عموماً خاندان یا برادری ہی میں ہوتی ہیں اور چونکہ خاندان کے افراد ایک دوسرے کے مزاج اور پسند ناپسند سے واقف ہوتے ہیں اس لیے شادی سے قبل یہ ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ لڑکے یا لڑکی کا تفصیلی انٹرویو یا اس کے ساتھ ایک تحقیقاتی ملاقات کرنے کے بعد رشتے کے مناسب ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ شہری معاشروں میں جہاں پہلے سے واقفیت نہیں پائی جاتی‘ یہ سوال اٹھتا ہے کہ لڑکی یا لڑکے کی قبل از نکاح ملاقات کہاں تک ایک دوسرے کو پسند ناپسند اور مزاج سے واقف کرنے میں مفید ہوسکتی ہے۔

نفسیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شادی جیسے اہم اور نازک معاملے میں اس نوعیت کی ملاقات عموماً انتہائی مصنوعی اور غیرحقیقی ماحول میں ہوگی۔ ایک لڑکی ہی نہیں‘ لڑکا بھی جب اس صورتِ حال میں ہو تو معلومات کا تبادلہ مصنوعی ہی ہوگا اور اصل چہرہ ہمیشہ چھپا رہے گا۔

جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے‘ اسلام دین فطرت ہونے کے سبب انسانی زندگی کے تمام معاملات کو ایک اخلاقی ضابطے (مقاصدِ شریعہ) کی روشنی میں طے کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ نکاح کو محض ایک مادی ضرورت نہیں سمجھتا بلکہ اسے تکمیلِ ایمان کا ذریعہ قرار دیتاہے۔مجرد افراد کے نکاح کروانے کو ریاست اور افرادِ معاشرہ کی ایک ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ ساتھ ہی ایک لڑکی کو یہ حق بھی دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار آزادانہ طور پر کرسکے اور اگر اس کی مرضی کے خلاف نکاح کر دیا جائے تو اسے فسخ کروا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس رشتۂ مودت و رحمت کے وجود میں آنے سے قبل اگر لڑکا لڑکی کے چہرے کو دیکھنا چاہتا ہو تو اسے یہ حق حاصل ہو۔ حدیث شریف میں واضح طور پر مثال ملتی ہے کہ ایک ایسے قبیلے کی لڑکی کے رشتے کے بارے میں جس میں عموماً لڑکیوں کی آنکھ میں کوئی عیب پایا جاتا تھا حضور نبی کریمؐ نے ایک صحابی ؓ کو یہ اجازت دی کہ وہ شادی سے قبل لڑکی کا چہرہ ایک نظر دیکھ لیں۔ اس حدیث کے مفہوم کو وسعت دیتے ہوئے یہ قیاس کرنا کہ نہ صرف چہرہ بلکہ مفصل ملاقاتیں تحقیق مزاج کے لیے کرلی جائیں‘ شارع علیہ السلام کی اجازت کا بالکل ناجائز استعمال ہوگا۔

جہاں تک سوال ’’کم تر برائی‘‘ کا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ شیطان اپنے تمام وار اسی راستے سے کرتا ہے کہ یہ تو کوئی ایسی حرام بات نہیں ہے چاہے اس میں کراہیت پائی جائے۔ اسی طرح وہ مکمل حرام تک پہنچاتا ہے۔ جو دین غض بصر‘ نفس صوت‘ چلنے کے آداب‘ سوال کا جواب دینے کے آداب وحی الٰہی کے ذریعے متعین کر دیتا ہو اور شارع علیہ السلام کے ذریعے غیرمحرموں کے تنہائی میں ایک چھت کے نیچے بیٹھنے کو حرام قرار دیتا ہو‘ اس میں یہ گنجایش نکالنا دین کے ساتھ زیادتی ہے۔ بجائے ’’کم تر برائی‘‘ میں پڑنے کے کیوں نہ بھلے طریقوں کو اختیار کیا جائے کہ ایک نوجوان جن افراد پر پورا اعتماد کرتا ہو‘ مثلاً اس کی والدہ‘ بہن‘ خالہ‘ پھوپھی یا بھاوج یا کوئی اور قریبی عزیز خاتون‘ اس کے ذریعے لڑکی کے بارے میں جو معلومات درکار ہوں ان کی تحقیق کرلے اور ساتھ ہی استخارہ کرکے دل کو یکسو کرلے۔ اچھی نیت کے ساتھ ایک ممنوع کام کرنا‘ اسلام کے اخلاقی ضابطے کے منافی ہے۔ adjustment کے جو مراحل نکاح کے بعد ہرشادی شدہ جوڑے کو پیش آتے ہیں انھیں نکاح سے قبل گزار لینے کی خواہش نہ مسئلے کا حل ہے اور نہ شادی کو زیادہ خوش گوار بنانے میں مدد کرتا ہے۔

مغربی تہذیب میں dating کا رواج اسی غرض سے عام ہوا کہ شادی سے قبل محض ایک دوسرے کو جاننے کے لیے معصوم سی ملاقات کر لی جائے۔ لیکن یہی مغربی تہذیب میں فساد‘ فحاشی‘ اخلاقی بے راہ روی اور بداخلاقی کا ذریعہ بن گیا۔ انسان وہی ہے جو دوسروں کی غلطیوں سے سبق لے اور شیطان کے بہکاوے میں نہ آئے۔ (۱ - ۱ )

اقضیتہ الرسول ﷺ‘ مؤلفہ :محمد بن الفرخ المعروف بابن الطلاع الاندلسی‘ مرتبہ: ڈاکٹر محمد ضیاالرحمن اعظمی‘ مترجم: غلام احمد حریری۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات: ۷۹۲۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

کتاب و سنت کے ذخیرے میں جن امور پر سب سے زیادہ توجہ دلائی گئی ہے‘ ان میں سے ایک‘ اسلامی ریاست میں انصاف پروری اور عدل گستری کا پہلو ہے۔ اس عادلانہ نظام کے قیام کے لیے جو اولیں ادارہ تشکیل دیا گیا اور اس میں قاضیوں کا تقرر ہوا‘ اس کا تعلق عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ آپؐ کے یہ فیصلے (اقضیہ) اور احکام حدیث کے مجموعوں کے مختلف حصوںمیں منقسم اور منتشر تھے۔ حتیٰ کہ پانچویں صدی ہجری میں اسلامی اندلس کے ایک نامور فقیہ اور محدث نے سب سے پہلے ان احکام و قضایا کو ہزاروں حدیثوں میں سے تلاش کر کے جمع کیا‘ جنھیں ڈاکٹر محمد ضیا الرحمن اعظمی نے ۱۹۷۳ء میں جامعہ ازہر (مصر) کے ایک ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے مرتب کیا اور اس تحقیقی کام پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔

ڈاکٹر اعظمی ۱۹۴۳ء میں اعظم گڑھ کے ایک ممتاز ہندو خاندان میں پیدا ہوئے‘ ۱۹۶۰ء میں اسلام قبول کیا۔ طرح طرح کے مصائب و شدائد کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ استقامت کے ساتھ راہِ حق پر قائم رہے۔ بھارت کے مختلف دینی اداروں سے فراغت کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ سے تحصیل علم کرتے رہے۔ بالآخر‘ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ ہی میں استاد الحدیث کے منصب سے ریٹائر ہوئے اور آج کل سعودیہ ہی میں اپنے مختلف علمی اور تحقیقی منصوبوں میں مصروف ہیں۔

اسلام میں عدل و انصاف کی اساس کتاب و سنت کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ کتاب اللہ کے احکام عدل تو احکام القرآن کی صورتوں میں متعدد فقہا نے جمع کیے ہیں ‘ مگر احادیث رسولؐ سے عدالتی نظائر کا یہ پہلا مستند اور معتبر مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر اعظمی نے اس میں تمام تر احادیث کی تخریج کر دی ہے۔ جرح و تعدیل کے حوالے سے‘ ہر روایت کی صحت و عدم صحت پر بھی بحث کی ہے۔ مختلف احادیث سے مستنبط ہونے والے احکام اور ان کے بارے میں مختلف فقہی مسالک کے اختلافات اور آرا کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آخر میں ’’استدراکات ‘‘کے عنوان سے اصل مخطوطے میں ان اقضیہ کا اضافہ کیا گیا ہے جو فاضل محقق نے دوران تحقیق دریافت کیے۔ تحقیقی مقالے کی نسبت سے مجموعے کے آخر میں عنوانات‘ اعلام اور مراجع و مصادر کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

اس مجموعہ احکام و قضایا میں کتاب الحدود پر ۱۷‘ کتاب الجہاد پر ۱۰‘ کتاب النکاح پر ۱۰‘ کتاب الطلاق پر ۱۰‘ کتاب البیوع پر ۴‘ کتاب الاقضیہ پر ۴‘ اور کتاب الوصایا پر ۲۵ فیصلے جمع کیے گئے ہیں۔ فاضل محقق نے کتاب الحدود والآیات پر مزید ۱۸‘ کتاب الجہاد پر ۴‘ کتاب النکاح والطلاق پر ۱۰‘ کتاب البیوع پر ۷۶‘ کتاب الحسبہ پر ایک‘ کتاب القضا پر ۶ اور کتاب الفرائض والعتق پر ۱۷‘ احکام و قضایا کا اضافہ کر کے اصل کتاب کی قدروقیمت میں اور اضافہ کر دیا ہے۔

اس عظیم کتاب کا ترجمہ مولانا غلام احمد حریری جیسے فاضل مترجم نے کیا ہے۔ یہ کتاب ان تمام طلبہ ‘ اساتذہ‘ علما‘ ماہرین قانون‘ وکلا اور جج حضرات کے لیے مفید اور ناگزیر ہے جو اسلام کے نظام عدل سے دلچسپی اور اس کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔ کتاب عمدہ معیار طباعت پر شائع کی گئی ہے۔ (عبدالجبار شاکر)


معجم تراکیب الالفاظ العربیۃ فی اللغۃ الاردیۃ‘ ڈاکٹر سمیرعبد الحمید ابراہیم۔ ناشر:جامعہ امام محمد بن سعود اسلامیہ‘ ریاض‘ سعودی عرب۔ صفحات: ۵۰۹ (بڑی تقطیع)۔ قیمت: درج نہیں۔

لغت نویس نے عربی کے ایسے الفاظ اور تراکیب کو جمع کیا ہے جو اردو میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ بھی بتا دیا ہے کہ کوئی لفظ یا ترکیب مذکر ہے یا مونث‘ اس کا معنیٰ کیا ہے اور کیا اُردو میں بھی اس کا وہی مفہوم لیا جاتا ہے جو عربی میں ہے یا اُس سے کچھ مختلف۔ لغت نویس نے کہیں کہیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ اردو والے بعض الفاظ کا تلفظ عربی سے مختلف کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سمیر‘ اگرچہ کئی سال اپنے ڈاکٹریٹ کے سلسلے میںلاہور رہے ہیں (ان کا مقالہ ابھی تک چھپا نہیں) مگر تلفظ کے سلسلے میں ان کی رائے محض ذاتی محدود مشاہدے پر مبنی ہے‘ مثلاً ان کے مطابق اردو والوں کا تلفظ اس طرح ہے: ہرفی ندا (حرفِ ندا)‘ ہرفو ہکایت (حرف و حکایت)‘ ہرمین (حرمین)‘ انفرادی سولہ (انفرادی صلح) آساروس سنادید (آثار الصنادید) لہو و لئب (لہو ولعب) لیلۃ ہو القدر (لیلۃ القدر)۔ اس طرح کی مثالوں سے وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اُردو والے: ح اور ہ‘ ث‘ س اور ص‘ ض‘ ظ اور ذ جیسے الفاظ میں تمیزنہیں کرتے۔ ظاہر ہے یہ تاثر اور رائے ناانصافی اور معلومات کی کمی پر مبنی ہے۔

اُردو میں بعض ایسی تراکیب ہیں جو مخصوص معنی رکھتی ہیں۔ لغت نویس نے ان کی بھی نشان دہی کر دی ہے۔ ’’لسان العصر‘‘اکبر الٰہ آبادی کا اور ’’لسان الغیب‘‘حافظ شیرازی کا لقب ہے۔ ڈاکٹر سمیر نے ’’آثار الصنادید‘‘ کے تحت فقط اس کے لغوی معنی بتائے ہیں۔ لغوی معنوں میں یہ ترکیب اُردو والوں کے ہاں استعمال نہیں ہوتی۔ اس سے زیادہ ضروری تویہ بتانا تھا کہ یہ سرسیداحمد خان کی ایک معروف تصنیف کا نام ہے۔ لغت میں اس طرح کے متعدد مقامات و نکات ہیں جن پر نگاہ اٹکتی ہے اور ان پر بحث کی گنجایش موجود ہے۔

بہرحال مصنف نے خاصی محنت کی ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو نے کتنے بڑے پیمانے پر عربی کے اثرات قبول کیے ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)


۱۰۰ عہد ساز شخصیات‘ مرتبین: حمیرہاشمی‘ محمد اسلم انصاری‘ ممتاز حسین نعیم۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ماتھر سٹریٹ‘ لوئر مال‘ لاہور۔ صفحات: ۴۶۰۔ قیمت (مجلد): ۱۸۰ روپے۔

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو خوشی سے اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔ دنیا میں پہلا سانس لیتے ہی وہ زندگی کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ بلاشبہہ افراد کو سماجی اور خاندانی طور پر حوصلہ افزائی اور تعاون بھی ملتا ہے‘ کم و بیش تمام ہی افراد کو اپنے اپنے دائرے میں یہ سہارے ملتے ہیں‘ مگر اُن کی زندگی پر شخصیت‘ ایسی شخصیت کا گمان نہیں ہوتا کہ جو اپنے ماحول میں کوئی اَنمٹ نقش چھوڑ رہا ہو۔

زیرنظر کتاب کے مرتبین نے گذشتہ ایک ہزار برس کے دوران‘ لاہور شہر کے دامن میں آسودۂ خاک ہونے والے ایک سو افراد کے مختصر تعارف‘ خدمات اور امتیازی حیثیتوں کو اس طرح پیش کیا ہے کہ بلااکتاہٹ‘ قاری کتاب پڑھتا چلا جاتا ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ اختلافی نکات کو نہ اٹھایا جائے اور شخصیت کا مثبت نقش ہی نمایاں ہو۔ ہمارا خیال ہے کہ اس پہلو سے یہ ایک کامیاب کتاب ہے۔ یہ صوفیا‘ علما‘ جرنیلوں‘ سیاست دانوں‘ اساتذہ‘ سماجی افراد‘ دانش وروں‘ مصوروں‘ خطاطوں اور کھلاڑیوں وغیرہ کا ایک مفید تذکرہ ہے۔ (سلیم منصور خالد)


تذکرہ تابعینؒ ‘عبدالرحمن رافت پاشا‘ ترجمہ: ارشاد الرحمن۔ ناشر: منشورات‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات: ۳۳۷۔ قیمت: ۱۳۰ روپے۔

ایک حدیث نبویؐ کے مطابق صحابہ کرامؓ اُمت محمدیہؐ کے بہترین لوگ ہیں--- اور ان کے بعد تابعین عظام کا درجہ ہے۔ تابعینؒ کے بارے میں رسول اکرمؐ نے یہ بھی فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کے ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی (کامیابی کی) خوشخبری ہے۔

اس کتاب میں ۲۹ جلیل القدر تابعینؒ کا تذکرہ شامل ہے جن میں سے بعض تو اسلامی علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کی تاریخ میں بہت نامور ہوئے ہیں‘ مثلاً عطا بن ابی رواحؒ، عروہ بن زبیرؒ، حسن بصریؒ، قاضی شریح  ؒ،رجا بن حیوہؒ، سعید بن مسیبؒ،عمر بن عبدالعزیزؒ،احنف بن قیسؒ اور امام ابوحنیفہؒ وغیرہ۔

مصنف نے تابعین کی سوانح نہیں لکھی‘ نہ ان کی حیاتِ مستعار کے سنین وار کوائف سے تعرض کیا ہے بلکہ ان کے طرزعمل‘ بعض واقعات یا چند رویوں کی روشنی میں ان کی سیرت کے پُرتاثیرپیکر تراشے ہیں۔ یہی انفرادی خصائص کسی شخصیت کے کردار کو عام انسانوں کے درمیان منفرد‘ تابناک اور زندئہ جاوید بناتے ہیں۔ چنانچہ ان کی حیاتِ جاوداں آج صدیوں بعد بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان ۲۹ کرداروں میں طرح طرح کے نمونے ملتے ہیں۔ کوئی حق گوئی و بے باکی کا نمونہ ہے‘ کوئی مجسم تقویٰ ہے‘ کسی نے کفار کے خلاف جہاد و معرکہ آرائی کو شعار حیات بنا لیا ہے‘ کسی نے علم و تعلم کی دنیا آباد کر رکھی ہے اور کسی نے قرآن و سنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ کسی کی پوری عمر تفقہ فی الدین میں گزر گئی۔ مگر ایک بات ان سب میں مشترک ہے کہ دنیا انھیں چھو کر بھی نہیں گزری۔ فقیرمنش‘ غیور‘ خوددار‘ بوریا نشین‘ ان کی نظر آخرت پر تھی اور ساری زندگی آخرت کی تیاری ہی میں گزری۔

یہ لوگ‘ اپنے کردار کی کوئی ایک نہ ایک نمایاں جہت رکھنے کے باوجود‘ یک رُخے نہیں تھے بلکہ ان کے اندر دین و دنیا کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تشریح و تعبیر اور اسلامی کردار کی جو عمدہ روایات صحابہؓ  اور پھر تابعینؒ نے قائم کی ہیں‘ ہم آج تک ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔

اصل کتاب کے مصنف ڈاکٹر عبدالرحمن رافت پاشا ہیں لیکن مترجم اور نہ ناشر نے بتایا کہ پاشا مرحوم کون تھے؟ کس ملک یا خطے کے باشندے تھے؟ کس زمانے کے آدمی تھے؟ ان کا علمی مقام و مرتبہ اور کارنامہ کیا ہے؟ غریب مصنف کا تعارف ایک آدھ صفحے میں دینا مناسب تھا۔

ارشاد الرحمن ایک پختہ کار صاحب ِقلم اور منجھے ہوئے مترجم ہیں۔ ان کا ترجمہ بالکل‘ طبع زاد تحریر معلوم ہوتا ہے (مگر اصل کتاب کا نام کیا یہی ہے یا کچھ اور؟)۔ یہ ایک بہت اچھی کتاب ہے۔ سیرت اور تاریخ و رجال کی جامع--- آپ اسے کسی کو سچی‘ اثرانگیز اور دل چسپ کہانیوں کی کتاب کے طور پر تحفے میں دیں تو مضائقہ نہیں۔ (ر - ہ)


خوشبو کا سفر (تذکرئہ شہادت‘ کمانڈر الاستاد لبیب عباد صدیقی )‘ مؤلف:ابوطیب صدیقی۔ ناشر: اراکین صالحہ میموریل ویلفیئر ٹرسٹ رجسٹرڈ‘ شہید ہائوس‘ ۵۶-سویٹ ہومز‘ گلستانِ جوہر‘ بلاک ۱۹‘ کراچی-۷۵۲۹۰۔ صفحات: ۲۶۲۔ قیمت: ۹۰ روپے۔

وہ نوجوان محمد بن قاسم کی سرزمین‘سندھ کے ماتھے کا جھومر ہیں جنھوں نے تعلیمی زندگی کو خیرباد کہہ کر جہاد و شہادت کے راستے کو چنا اور آخرت کی لازوال نعمتوں کے حق دار ٹھہرے۔ ایک ایسے دور میں کہ جب منافقت ہی سب سے مقبول چلن بن چکا ہے‘ اور بڑے بڑے سپہ سالار ’’ایک فون‘‘ پر ادب سے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں وہاں ایسے نوجوان قابلِ تحسین ہیں جو خوب صورت مستقبل کے حسین خوابوں کو فراموش کرکے تلواروں کے سائے میں دادِ شجاعت دینے کے لیے افغانستان اور کشمیر پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح اُمت کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس قوم کو عروج کے راستے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

لبیب عباد شہید میرپور خاص میں پیدا ہوئے ‘کراچی میں زیرتعلیم رہے‘ ۱۹۸۸ء میں افغان جہاد میں شریک ہوئے اور ۲۷ اپریل ۱۹۹۲ء کو تپہ نادر شاہ میں دوستم ملیشیا سے لڑائی میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔

اس کتاب میں‘ لبیب عباد صدیقی کے چچا ابوطیب صدیقی نے اس خاندان کے حالات‘ شہید کے بچپن کے حالات‘ اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت‘ جہادی تربیت اور مختلف معرکوں کی تفصیلات بیان کی ہیں‘ علاوہ ازیں جہاد میں اُن کے ساتھ شریک اور مختلف معرکوں میں دادِشجاعت دینے والے کمانڈروں اور مجاہدین کے تاثراتی مضامین اور قریبی اعزہ کی تحریریں بھی شامل ہیں۔ اس کتاب میں لبیب عباد شہید کی عزم اور جدوجہد سے بھرپور زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ ضرورت ہے ایسے نوجوانوں کو ’’مثالی نوجوان‘‘ قرار دے کر ان کی زندگی کو قومی تاریخ کا حصہ بنایا جائے۔ طباعت و اشاعت انتہائی معیاری اور دیدہ زیب ہے۔ کاغذ عمدہ استعمال کیا گیا ہے۔ قیمت قابل تعریف حد تک کم ہے۔ جہاد‘ شہادت اور افغانستان جیسے موضوعات سے    دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک قابل قدر تحفہ ہے۔ (محمد ایوب منیر)


سوز دروں‘حمیرا عبیدالرحمن۔ناشر: مکتبہ الہدیٰ‘ ڈبائی منزل‘ ۵۷۷-اے‘ بلاک جے‘ نارتھ ناظم آباد‘ کراچی۔ صفحات: ۱۴۷۔ قیمت: ۶۶ روپے۔

اس مجموعے میں کئی طرح کی تحریریں شامل ہیں: افسانہ‘ انشائیہ‘ شخصیہ اور معاشرتی و دعوتی مضمون وغیرہ۔ یہ سب تحریریں اخلاقی اور اصلاحی رنگ لیے ہوئے ہیں اور ’’مقصدیت سے معمور‘‘ ہیں۔ تقدیم از ڈاکٹر اسرار ‘احمد جملہ تحریریں ایک تعمیری‘ دینی اور تحریکی ذہن کی تخلیق ہیں‘ اور ان کا اسلوب سادہ اور پُرتاثیر ہے۔

حمیرا عبدالرحمن (بنت قاضی عبدالقادر) وقتاً فوقتاً جو کچھ لکھتی رہی ہیں‘ اُسے ان کے والد محترم نے جمع کرکے چھپوا دیا ہے تاکہ بیٹی کو ’’سرپرائز‘‘ دیا جا سکے۔ کتاب کا دیباچہ عائشہ منور صاحبہ کے قلم سے ہے جنھوں نے بتایا ہے کہ یہ تحریریں حمیرا کے دورِ طالب علمی کی ہیں۔ ان کے بقول ’’حمیرا کو قدرت نے دردمند دل اور شعورکشا ذہن عطا کیا ہے اور مشاہدے اور مطالعے نے ] ان[ تحریروں میں ایک وقار پیدا کیا ہے‘‘۔

کتاب خوب صورت چھپی ہے۔ اہتمام اشاعت نور اسلام اکیڈمی ماڈل ٹائون‘ لاہور نے کیا ہے۔ (ر-ہ)


لغات الخواتین ‘ عورتوں کے محاورے اور روز مرہ ‘ سیدامجد علی اشہری۔ ناشر: دارالتذکیر‘ رحمن مارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۶۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

یہ تقریباً ایک سو سال پرانا لغت ہے‘ جسے ممتاز ماہر لغت جناب محمد احسن خاں کی نظرثانی کے بعد دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ اس میں عورتوں کے محاورے اور روز مرہ جمع کیے گئے ہیں اور ان کے معانی کے ساتھ جملوں میں ان کا استعمال بھی اس طرح کیا گیا ہے کہ مفہوم پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔

زیرنظر ایڈیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نظرثانی میں کچھ اضافہ بھی کیا گیا ہے یا نہیں۔ ابتدا میں ایک مختصر مقدمے کی کمی محسوس ہوتی ہے‘ جس میں اس لغت کے مصنف کا مختصر تعارف دیا جاتا اور اندازہ ہوتا کہ لغت نویس ہندستان کے کس علاقے کے رہنے والے تھے؟ اس سے لغت کی بہتر تفہیم میں مدد ملتی۔ اگر اولین ایڈیشن کا سرورق اور دیباچہ بھی دے دیا جاتا تو اور بہتر تھا۔ بہرحال موجودہ صورتِ حال میں بھی یہ افادیت سے خالی نہیں ہے۔ امید ہے اس سے شائقین اور ضرورت مند استفادہ کریں گے۔

ناشر نے بتایا ہے کہ وہ بعض دوسری قدیم لغات کو بھی چھاپنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امید ہے وہ ان کی اشاعت میں متذکرہ بالا معروضات کا خیال رکھیں گے۔ (ر- ہ)


تعارف کتب

  • ذوالفقار علی بھٹو‘ قصر صدارت سے تختۂ دار تک۔ ڈاکٹر ایچ بی خاں۔ ناشر: الحمد اکادمی‘ ۲-جے‘ ۱۸ ناظم آباد‘ کراچی ۷۴۶۰۰۔ صفحات: ۳۲۸۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔] یہ کتاب بھٹو اور ان کے عہداقتدار کی ایک وضاحتی توقیت (chronology) ہے۔ واقعات کی نشان دہی تاریخ وار کی گئی ہے۔ آخری حصے میں کچھ تبصرہ و تنقید بھی ہے۔[
  • طوطی کی آواز‘ پروفیسر عبداللہ شاہین۔ پتا: پروفیسر عبداللہ شاہین‘ گلشن کالونی‘ حافظ آباد۔ صفحات: ۱۲۸۔ قیمت: ۱۰۰روپے۔ ] مصنف کی نگارشات نظم و نثر‘ اُردو‘ پنجابی‘ انگریزی میں۔ ملّی اور قومی اچھے اور قابلِ قدر جذبے کے ساتھ لکھے گئے افسانے‘ مضامین‘ نظمیں۔[
  • کرلو تیاری‘ سجاد حمیدخان۔ ناشر: سجاد پبلشرز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۸۹۔ قیمت: ۶۶ روپے۔ ]چندروزہ زندگی میں عیش و آرام کے بجائے اصلاح عقائد‘ آخرت‘ جہاد فی سبیل اللہ‘ الحادی قوتوں سے بچنے اور بیت المقدس کو آزاد کرانے کی تیاری پر قرآن و حدیث کے حوالے سے زور دیا گیا ہے۔ اصلاح عقائد کے ضمن میں بعض گروہوں کے عقائد پر گرفت کی گئی ہے۔ قابل قدر جذبے سے تحریر کردہ کتاب‘ لکھائی چھپائی وغیرہ۔[
  • نکاح کی اہمیت اور برکات‘ چودھری طالع مند۔ ناشر: اذان سحرپبلی کیشنز‘ چیمبرلین روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۷۲۔قیمت: ۳۰روپے۔] ایک صاحب دل بزرگ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نکاح کی شرعی ‘ دینی اور اخلاقی ضرورت و اہمیت پر دل چسپ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ مولانا عبدالمالک صاحب کے بقول انھوں نے جملہ مباحث کو بہترین انداز میں جمع کیا ہے۔ آیات و احادیث‘ آثار صحابہ و تابعین‘ حکایاتِ اولیا اور بزرگانِ دین سب یکجا ہیں۔[
  • ماہ نامہ نونہال (خاص نمبر)‘ مدیراعلیٰ:مسعود احمد برکاتی۔ ناشر: ہمدرد سنٹر‘ کراچی۔ صفحات: ۸۴۔ قیمت: ۲۰ روپے۔ ]بچوں کا معروف رسالہ ہمدرد نونہال ۵۰ سال سے چھپ رہا ہے۔ نومبر میں ہر سال خاص نمبرشائع ہوتا ہے۔ یہ شمارہ بھی معمول سے زیادہ ضخیم ہے۔ ہر طرح کی دل چسپ نگارشات نظم ونثر شامل ہیں۔ علامہ اقبال پر بھی کچھ مضامین موجود ہیں۔[
  • کاروانِ حرم ‘ ابوالامتیاز ع س مسلم۔ ناشر: مقبول اکیڈمی‘ لاہور۔ صفحات: ۳۳۴۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔ ]مثمن (ہربند آٹھ مصرعوں کا) شکل میں ایک طویل نظم۔ سفرحجاز کے جذبات و احساسات۔ ایک خوب صورت اور عمدہ حمدیہ اور نعتیہ مثنوی۔ تقریباً ہر مصرعے یا شعر کے پس منظر یا حوالے کی قرآنی آیات یا احادیث سے وضاحت کی گئی ہے۔ شاعر کے پختہ فکروفن کی تخلیق۔ کہیں کہیں علامہ اقبال کا رنگ جھلکتا ہے۔[
  • ملتان کا عصری ادب ‘ اسدفیض۔ ناشر: ہم عصر پبلی کیشنز‘ ۶۵ سی شاہ رکن عالم ہائوسنگ سکیم‘ ملتان۔ صفحات: ۱۴۴۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ ] ملتان کے اردو شعروادب پر چند مضامین‘ افسانے‘ شاعری اور اُردو ادب کے اساتذہ سے مصاحبے‘ ان سے اس علاقے کی ادبی پیش رفت کا اندازہ ہوتا ہے۔[
  • تجہیز و تکفین کا سنت طریقہ  ‘عبدالرحمن بن عبداللہ الغیث۔ترجمہ: حافظ مقصود احمد۔ ناشر: مکتبہ دعوت التوحید‘  پوسٹ بکس ۱۲۴‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۹۲۔ قیمت: درج نہیں۔] سنت کے مطابق میت کے غسل‘ کفن‘ نماز جنازہ‘ قبر کی تیاری اور تدفین کا تفصیلی شرعی طریقۂ کار مع تصاویر‘ تعزیت اور عدّت کے مسائل وغیرہ۔ ابتدا میں موت کا تذکرہ قرآن و حدیث میں‘ موت کی علامات وغیرہ۔ طباعت اعلیٰ درجے کے آرٹ پیپر پر۔[

صابر نظامی ‘  قصور

’’قرآن پاک کا موضوع‘‘ (دسمبر۲۰۰۲ئ) ایک بڑی قابل قدر اور نتیجہ خیز تحریر ہے۔ ڈاکٹر محموداحمد غازی صاحب نے اس موضوع کے تمام پہلوئوں کو نمایاں کر کے پیش کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مضمون پڑھنے کے بعد پہلا تاثر یہ ملتا ہے کہ تمام نیک اور قابل ثواب کاموں کا اجر مادی چیزوں اور امن و امان کا حصول ہے۔ دنیا میں گویا چھ چیزوں کا حصول یقینی ہوتا ہے‘ جب کہ آخرت میں سات اشیا نصیب ہوتی ہیں۔ اسلام پر حکومت کی شکل میں عمل درآمد کے نتیجے میں عوام کو روٹی‘ کپڑا‘ مکان‘علاج‘ تعلیم‘ شادی اور امن کی سہولت ہوتی ہے جن کا ہر مسلم اور غیرمسلم دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے‘ جب کہ آخرت میں مخلص مسلمانوں کے لیے صحت یاب اور دائمی زندگی کی ضمانت بھی ان کے علاوہ ہے۔ یہ مضمون غیرمحسوس طریقے سے ایک قاری کے دل میں انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ اللہ کرے زورقلم اور ہو!


محمد ایوب منیر ‘ لاہور

’’حج کی تیاری‘‘ (دسمبر ۲۰۰۲ئ) میں نائیجیریا کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ دوسرے حج کے لیے لوگ مکہ ہی میں ٹھہر جاتے تھے۔ گذشتہ دنوں مراد ہوف مین کی Journey to Islam جو ان کی ۱۹۵۱ء سے ۲۰۰۱ء کی ڈائری ہے پڑھنے کا موقع ملا۔ حج کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’یہاں مراکش میں لوگوں کو خوب اچھی طرح یاد ہے کہ مکہ آنے جانے کا ۱۲ ہزار کلومیٹر کا سفر کتنا خطرناک ہوتا تھا۔ جیٹ کے زمانے سے پہلے اس میں ایک سال لگ جاتا تھا اور عام طور پر اس سفر سے واپسی نہ ہوتی تھی‘‘۔ (ص ۱۹۵)


سید بلال‘ نوشہرہ

’’حکمت دین‘‘ (دسمبر ۲۰۰۲ئ) میں بہت کام کی باتیں آگئی ہیں۔ بس تمنا ہی کی جا سکتی ہے کہ دین کے علم بردار حکمت کے یہ پہلو عملاً اختیار کریں۔ عام تاثر اور مشاہدہ تو یہ ہے کہ دینی لوگ تنگ نظر‘ متشدد‘ دوسری رائے کو تسلیم نہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس پر غور ہونا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ دین میں تو ایسی کوئی بنیاد نہیں۔ کیا ہمارے ہاں دین کی تعلیم اس طرح دی جاتی ہے کہ یہ بات پیدا ہو جاتی ہے؟


رفیق وڑائچ ‘ لاہور

’’حکمت مودودی‘‘ کے تحت مولانا مودودیؒ کے افکار کا عمدہ انتخاب دیکھنے کو ملتا ہے لیکن بسااوقات بہت پتے کی چیز سامنے آجاتی ہے۔ ’’منشورعمل‘‘ (دسمبر ۲۰۰۲ئ) پڑھ کر ایسا ہی محسوس ہوا۔ اگر اس منصوبۂ عمل پر عمل درآمد کیا جائے تو بہت جلد معاشرتی بگاڑ کا سدباب ہو‘ ایک تحریک مزاحمت سامنے آ جائے اور اصلاح اور خیرخواہی کی ایک نئی روح قوم میں دوڑنے لگے۔مولانا مودودیؒ تو ایک مدت ہوئی نسخہ بتاگئے لیکن اس منشور پر کس حد تک عمل درآمد کیا جاتا ہے؟


سید مظفر احمد اشرف ‘ کراچی

’’جنرل مشرف اور پارلیمنٹ کا امتحان‘‘ (دسمبر ۲۰۰۲ئ) کے حوالے سے عرض ہے کہ عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے ارباب اقتدار کو اپنے اوپر بہت سی پابندیاں عائد کرنا ہوں گی اور دوستوں کو ناراض کرنا ہوگا۔ اسی طرح نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کرنا ضروری ہے‘ لیکن جو قوانین موجود ہیں ان کے حقیقی نفاذ کے لیے تدابیربھی کرنی چاہییں۔


ڈاکٹر رئیس احمد نعمانی ‘ علی گڑھ‘ بھارت

معروف شیرازی صاحب نے تحریر فرمایا تھا کہ ترتیب نزولی کے مطابق "The Story of the Quran" لکھ رہا ہوں… (’’مدیر کے نام‘‘ ،اکتوبر۲۰۰۲ئ)۔ میرا خیال ہے کہ ترتیب نزولی کے مطابق قرآن کو مرتب کرنا‘ یہودیوں اور دوسرے اعداے قرآن کے لیے تحریف کی طرف ایک روزن کھولنے کے مترادف ہے۔ اگر ترتیب نزولی میں بعد کے زمانوں کے لیے کوئی افادیت ہوتی تو رسول کریمؐ ضرور اس کو محفوظ کرنے کا حکم دیتے۔ رسول کریمؐ کی موجودہ ترتیب ہی اصل ترتیب ہے اور یہ وحی الٰہی اور ہدایت رسولؐ کے عین مطابق ہے۔ خود رسول کریمؐ نے قرآن کو اس ترتیب سے اللہ کے حکم کے مطابق لکھوایا تھا۔ اگر کسی مسلمان کو کسی بھی زبان میں قرآن کی تفسیر یا شرح لکھنی ہے تو اس کو موجودہ ترتیب ہی پر ایمان لاکر اس کے مطابق لکھنا چاہیے۔ حتمی رائے تو کتاب دیکھ کر ہی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ ایک نکتہ میرے ذہن میں کھٹک پیدا کر رہا تھا‘ وہ حوالۂ قرطاس کر دیا۔ واللّٰہ یھدی الی سواء السبیل۔

ترقی کا پیمانہ

قومی کیرکٹر ہر قوم کی زندگی میں اس کی مادی دولتوں سے کہیں بڑھ کر بیش قیمت ہوتا ہے۔ بالخصوص مسلمانوں کی اسلامی سیرت‘بڑی سے بڑی اسلامی سلطنت اور بڑے سے بڑے قومی ادارہ اور زیادہ سے زیادہ قومی ترقی اور اقتصادی خوش حالی سے زیادہ قیمت رکھتی ہے۔ کسی بڑی سے بڑی قیمت اور عظیم سے عظیم بدل پر بھی اس کے نقصان یا زوال کو گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس پر زوال آگیا یا اس میں کچھ غلط تبدیلی واقع ہوگئی تو بڑی سے بڑی مادی کامیابی اور فتح سے اس کا کفارہ نہیں ہو سکتا۔ یہ تبدیلی مختلف تاریخی وسیاسی و تعلیمی و تہذیبی اسباب‘ بعض موثر اور اشتعال انگیز حالات و واقعات اور زیادہ ترقیادت کی کمزوری سے صدیوں میں پیش آتی ہے…

ایک نہایت اہم اور گہری اور انقلاب انگیز تبدیلی جو مسلمانوں کی ذہنیت و نفسیات میں اس پچاس سال کے اندر اندر واقع ہوئی ہے‘ وہ یہ ہے کہ آخرت پر ایمان عملاً کمزور ہوتا چلا جا رہا ہے--- اس سے مسلمان ایک بااصول‘ بلنداخلاق‘ پختہ سیرت جماعت کے بلند مقام سے گر کر ایک بے اصول‘ ناقابلِ اعتبار‘ ابن الوقت اورمصلحت پرست قوم کی ادنیٰ سطح پر آتے جا رہے ہیں جس کے سامنے کوئی اخلاقی معیار نہیں ہے بلکہ صرف منافع و مصالح اور اغراض و مقاصد ہیں…

اخلاق و سیرت اس اُمت کے نظامِ جسم میں قلب کا درجہ رکھتے ہیں۔ لوگ تنومند و فربہ جسم کو دیکھ کر اس جسم کی صحت و طاقت کا حکم لگا دیتے ہیں‘ اور یہ نہیں دیکھتے کہ قلب کس قدر کمزور اور ماؤف ہے اور کس طرح بتدریج اس کی حرکت بند ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کی ترقی کا اندازہ مردم شماری کے اعداد‘ ان کے قومی جوش‘ ظاہری تنظیم اور سرکاری عہدوں کے تناسب سے لگانا بالکل غلط ہے۔ ایک بااصول‘ دنیا کے لیے ایک پیغام رکھنے والی‘ اور اخلاق و سیرت میں دنیا کی تمام قوموں کے لیے معیار بننے والی اُمت کی پیمایش کا ہرگز یہ صحیح پیمانہ نہیں۔ ضرورت ہے کہ دیکھا جائے کہ وہ اخلاق و اوصاف جو زندگی کے صحیح عناصر ہیں‘ اور جن سے اس اُمت کا تشخص و امتیاز ہے وہ روبہ انحطاط ہیں یا روبہ ترقی … (’’مسلمانوںکی موجودہ قومی سیرت کے بعض کمزور پہلو‘‘ ، مولانا ابوالحسن علی ندوی‘ ترجمان القرآن‘ جلد۱ ۲‘   عدد ۵-۶‘ ذی القعدہ‘ ذی الحجہ ۱۳۶۱ھ‘ دسمبر ۱۹۴۲ئ‘ جنوری ۱۹۴۳ئ‘ ص ۴۲-۴۳‘ ۵۰)