مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۰۳

عورت کا جج (قاضی) ہونا

سوال: کیا عورت جج (قاضی) بن سکتی ہے جس کے لیے آج کل judiciary کا امتحان دیا جاتا ہے؟ میں نے قاضی کی شرائط میں پڑھا تھا کہ مرد ہونا بھی لازمی ہے۔ اگر یہ جج صرف فیملی کیسز سے متعلق ہو تو اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہوگی؟

جواب: اسلام کے حوالے سے عصری مباحث میں زیربحث مسئلے پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے اور خصوصاً غیرمسلم اپنی تنقید میں اس طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں۔ مسلمان دانش ور بعض اوقات اپنے خیال میں اسلام کا دفاع کرنے کے لیے اور نام نہاد انسانی حقوق کے علم برداروں کے مسلسل حملوں کو پسپا کرنے کے لیے محض عقلی بنیاد پر ایک موقف اختیار کر لیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف عقل بلکہ قرآن و سنت کا مدعا و مزاج اور ہدایات کے پیشِ نظرایک رائے قائم کی جائے‘ چاہے وہ حقوقِ انسانی کے نام نہاد علم برداروں کو پسند آئے یا سخت ناپسند ہو۔

اگر معروف فقہی مذاہب پر نظر ڈالی جائے تو صاحب ہدایہ نے قاضی یا جج کے لیے جو شرائط مقرر کی ہیں اور جو فقہ حنفی کی عمومی رائے کہی جا سکتی ہے ‘ اس میں سات شرائط پائی جاتی ہیں: ۱- مسلمان ہونا‘ ۲- مکلف ہونا‘ ۳- آزاد ہونا‘ ۴- صاحب ِ عقل و بینا ہونا‘ ۵- کبھی حدِ قذف نہ لگی ہو‘ ۶- سماعت درست ہو‘ ۷- گونگا نہ ہو۔ ان صفات میں اس کا مرد ہونا اور مجتہد ہونا شامل نہیں ہے (البحرالرائق‘ ج ۶‘ ص ۲۵۷-۲۵۸)۔ اس کے مقابلے میں فقہ مالکی میں مرد ہونا بھی شرائط میں شامل کیا گیا ہے (الشرح الصغیر‘ ج ۴‘ ص ۱۸۷-۱۸۸)۔ فقہ حنبلی میں مرد ہونا ضروری سمجھا گیا ہے لیکن امام ابن جریر طبری سے منقول ہے کہ مرد ہونا شرط نہیں۔ فقہ شافعی بھی مرد ہونے کو ضروری قرار دیتا ہے (المنہاج‘ ج۴‘ ص ۳۷۵-۳۷۷)۔ البتہ فقہ حنفی میں حدود اور قصاص کے مقدمات کی سماعت ایک خاتون جج نہیں کرسکتی۔ (ہدایہ‘ ج۳‘ ص ۱۲۵)

جومذاہب عورت کو قاضی تصور کرنے کے حق میں نہیں ہیں ان کی بنیاد ایرانیوں کے ایک عورت کو فرمانروا بنانے اور اس پر حضور نبی کریمؐ کے اس ارشاد پر ہے کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کر دے‘ یا اس پہلو پر ہے کہ وہ مردوں کی محفل میں دقت میں پڑے گی اور مشکلات کا شکار ہوگی۔ چونکہ ہمارے ہاں اکثریت کا مسلک حنفی ہے اس لیے قصاص و دیت کو چھوڑتے ہوئے بقیہ معاملات ایک خاتون جج کے سامنے پیش کیے جا سکتے ہیں۔(ڈاکٹر انیس احمد)


خواتین کا گاڑی چلانا

س: سعودی عرب کے فتاویٰ شائع شدہ  فتاویٰ براے خواتین (جمع و ترتیب محمد بن عبدالعزیز‘ دارالاسلام مطبوعات) میں پڑھا کہ عورت کے لیے گاڑی چلانا ناجائز ہے۔ جس کی وجہ انھوں نے ان امکانات سے بھی بچنا قرار دیا جن سے حدود کو نقصان پہنچ سکتا ہو‘ یعنی خلوت اور گھر کی چار دیواری کے تصور کو مجروح کرنا۔ موجودہ حالات اور ضروریات کے پیشِ نظر اس کی کیا حیثیت ہوگی‘ جب کہ پردہ (شرعی) کیا جائے؟

ج : آپ نے سعودی حکومت کے زیرانتظام دارالافتاء کے حوالے سے یہ بات تحریر کی ہے کہ خواتین کے تحفظ و احترام کے پیش نظر ان کی رائے میں گاڑی چلانا ناجائز ہے۔ بلاشبہہ دین کی تعلیمات اہل ایمان کو محفوظ و مامون رکھنے کے لیے ہیں اور بہت سے معاملات میں مصلحتِ عامہ کے پیش نظر ایک ایسا کام بھی جائز ہو جاتا ہے جو عام حالات میں جائز نہ ہو‘ یا اسی طرح بعض جائز امور ممنوع قرار پاتے ہیں لیکن حلّت و حرمت کی بنیاد حکمت پر نہیں‘ علت پر ہوتی ہے اور نصوص ہی کی بنیاد پر ایک فعل کو حرام قرار دیا جا سکتا ہے۔

خواتین کے گاڑی چلانے کو اگر گھڑسواری یا اُونٹ کی سواری پر قیاس کیا جائے تو ہمیں آثار میں یہ تلاش کرنا پڑے گا کہ کیا قرآن وسنت نے کسی مقام پر ایک مسلمان عورت کو تنہا گھوڑے یا اُونٹ پر سواری کرنے سے منع کیا ہے۔ پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا گاڑی چلانے میں ایک خاتون ڈرائیور کی جان‘ عزت‘ ملکیت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے یا گاڑی چلانا اس کے لیے بہت سے معاملات میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کاروبار کی بنا پر گھر سے دُور رہتا ہو‘ اور اس کے گھر میں سوائے بیوی اور بچوں کے‘ جو کم عمر ہوں کوئی اور نہ ہو اور بچوں میں سے کسی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہو یا انھیںاسکول سے لانا ہو تو کیا کار چلانا مقاصدِ شریعت کے منافی ہوگا؟

شریعت کا ایک معروف قاعدہ یہ ہے کہ اصلاً اشیا مباح ہیں جب تک‘ اس کی ممانعت نہ ہو۔ اس بنا پر گاڑی چلانا یااس میں سفر کرنا ناجائز کی تعریف میں نہیں آسکتا۔ اگر قیاس کو تھوڑا اور آگے بڑھایا جائے ‘ فرض کیجیے ہمارے علم میں یہ بات آئے کہ پشاور سے لاہور جاتے وقت ایک مرد کی گاڑی خراب ہو گئی اور اسے رات سخت سردی کے عالم میں ٹھٹھرکر گزارنی پڑی جس کی وجہ سے اسے نمونیہ ہوگیا اور وہ انتقال کر گیا۔ اب یہ کہا جائے کہ اس بنیاد پر آیندہ کسی مرد کو پشاور سے لاہور گاڑی چلانے کی اجازت نہ دی جائے تو یہ ایک انتہائی مبالغہ آمیز فیصلہ ہوگا۔ آج‘ جب کہ کار میں دو طرفہ بات کرنے کے لیے ایسا سسٹم لگوایا جا سکتا ہے جس میں گاڑی چلاتے ہوئے ایک فرد اپنے گھر یا جس سے چاہے رابطہ رکھ سکتا ہے‘ جب سڑکوں پر ہر تھوڑے فاصلے کے بعد ہنگامی امدادی مراکز پائے جاتے ہیں اور جب عموماً ایک خاتون جنگل بیاباں میں نہیں‘ شہر میں تفریحاً نہیں ضرورتاً گاڑی استعمال کرے تو اس میں شریعت کے کون سے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔

رہا معاملہ چار دیواری کے تصور کا‘ تو کیا تعلیم و تجارت اور دیگر ضروریات کے لیے ایک خاتون پر گھر سے نکلنے پر شریعت نے کوئی بندش عائد کی ہے یا وہ ضوابط فراہم کیے ہیں جن کی پابندی کرتے ہوئے اس کا چلنا پھرنا‘ لباس پہننا‘ نگاہوں کو محفوظ رکھنا‘ غرض ہر اس پہلوپر جو معاشرتی زندگی میں اہمیت رکھتا ہے ہدایات دے کر اس کے لیے گھر سے باہر جانے کے آداب متعین کر دیے ہیں۔ ان واضح تعلیمات کا مقصد اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے بلاکسی احساسِ گناہ کے گھر سے باہر جائے۔ جس کا یہ مطلب قطعاً نہیں لیا جاسکتا کہ وہ وقت کابڑا حصہ بالاستمرار گھر سے باہر گزارے اور محض سونے کے لیے گھرآجائے۔ دین میں غلو کی جگہ توازن اور شفقت اور پریشانی کی جگہ آسانی شریعت کا منشا و مقصود ہے۔ توازن اور وسط کا طریقہ ہی ہمیں دین پر عمل کرنے کے لیے صحیح فضا فراہم کر سکتا ہے۔ (ا - ا)


ابرئوں کے درمیان کے بالوں کا نوچنا

س: ابرئوں کے بالوں کو اُتارنا اور باریک کرنا حرام ہے‘ جب کہ غیر فطری بالوں کی نسبت کچھ رعایت ملتی ہے‘ مثلاً مونچھوں کی جگہ پر یا رخساروں پر عورتوں کے بال آنا--- تو کیا ابرئوں کے درمیان‘ ناک کے اُوپر ملنے کی جگہ بھی غیر فطری شمار ہوگی؟

ج : احادیث میں واضح حکم آتا ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔ لیکن یہ حکم تمام بالوں کے بارے میں نہیں ہے۔ چنانچہ طہارت کے لیے جسم کے بعض حصوں کے بالوں کو صاف کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی شکل صورت اور جسم کو متوازن اور   خوب صورت بنایا ہے۔ اگر کسی کی ابرئویں گھنی ہیں تو یہ اس کی خوب صورتی کا حصہ ہے۔ کسی کی بھنویں پیشانی کے وسط میں آکر مل جاتی ہیں اور کسی کی نہیں ملتیں تویہ اس کی پہچان بن جاتی ہیں۔ اس کے خلاف کیا جائے تو فطری توازن اور صورت میں تبدیلی ہوگی جو  اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔

فرض کیا جائے کہ ایک خاتون کے گالوں اور لبوں کے اُوپربال اُگ آتے ہیں جن کی بنا پر اس کا شوہر اسے چھوڑنے پر غور شروع کر دیتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہ بات خوش کرے گی کہ وہ طلاق قبول کر لے لیکن زائد بالوں کو صاف نہ کرے؟

جن معاملات میں قرآن و حدیث نے وضاحت کر دی ہے ان کی بغیر کسی تردد کے اطاعت لازمی ہے اور جن معاملات میں رخصت اور اجازت ہے ان میں قیاس کر کے مشکل بنانا‘ دین کی حکمت کے منافی ہے۔ اللہ کے کسی حکم یا رسولؐ اللہ کی کسی ہدایت کو ناپسند کرنا‘ ردّ کرنا یا اس کے خلاف کرنا دین سے بغاوت ہے۔ لیکن جہاں دین نے رخصت دی ہو وہاں شدت اختیار کرنا نہ تقویٰ ہے‘ نہ عزیمت۔ جائزکے دائرے میں رہتے ہوئے رشتہ ازدواج کو برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے کے لیے کسی کام کا کرنا مقاصدِ شریعت سے مطابقت رکھتاہے۔ اس لیے بلاوجہ ایسے معاملات میں غلو سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (ا - ا)

حقوقِ انسانی کی آڑ میں‘ مرتبہ: محمد متین خالد۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴- اُردو بازار‘ لاہور۔صفحات ۴۷۳۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

مشہور ہے کہ خود چور، ’’چور چور‘‘ کا شور مچا کر اپنے آپ کو بچا لیتا ہے۔ آج حقوقِ انسانی کی محافظت کی علم بردار مغربی استعماری قوتیں ’’حقوقِ انسانی‘‘ کی خوش نما ترکیب کو استعمال کرکے معاشی اعتبار سے ترقی پذیر ممالک کے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ ایک طرف  حقوقِ انسانی کا یہ نعرہ ہے اور دوسری جانب فلسطین‘ چیچنیا‘ مشرقی یورپ‘ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کا قتلِ عام‘ لیکن اس پر زبانیں گنگ۔

اکیسویں صدی کے استعمار نے اپنی سیاسی‘ معاشی‘ عسکری اور تہذیبی بالادستی کے لیے جہاں توپ و تفنگ‘ منڈی کی معیشت ‘ تعلیم گاہوں اور ذرائع ابلاغ کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے‘ وہاں انھوں نے خاص طور پر مسلم ملکوں میں کرائے کے غدار فطرت دانش وروں کو اپنے مقاصد کے حصول کا آلۂ کار بھی بنایا ہے۔ یہ لوگ بالعموم این جی اوز کے لبادے میںکام کرتے ہیں (مستثنیات کے علاوہ)۔ ان این جی اوز کا کام کیا ہے؟ اپنے ملک‘ تہذیب‘ دین اور مفادات کے خلاف استعماری ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی تحریری اور پروپیگنڈا مہمات میں حصہ ادا کرنا۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا مسلم آبادی کے دو سب سے بڑے ملک ہیں۔ ان میں فکری انتشار کی حامل یہ تنظیمات ایک باقاعدہ ان دیکھی حکومت کی صورت میں اقتدار و اختیار پر شب خون مار رہی ہیں۔

پاکستان میں ایسی این جی اوز نے ملک‘ دین‘ تاریخ اور گھر کو ہدف بنانے کے لیے چومکھی یلغار کر رکھی ہے۔ انھیں پاکستانی ’’اتاترک‘‘ کے زمانے میں پالیسی سازی کے ایوانوں میں بڑی آسانی کے ساتھ رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ یہ کام انھوں نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ میں کرلیا ہے۔ پاکستان میں ان تنظیمات میں ریڑھ کی ہڈی قادیانی گروہ کے افراد ہیں (جنھیں حکومت میں شامل طاقت ور افراد کی براہِ راست اعانت حاصل ہے) جن کے مددگاروں میں خاص طورپر عیسائی مشنری اور سابق نام نہاد کمیونسٹ شامل ہیں۔

زیرتبصرہ کتاب میں ان تنظیموں کا حقیقی چہرہ دکھانے کے لیے مختلف افراد نے اپنی مختصر یا مفصل تحریروں کے ذریعے نقاب اُلٹ دینے کی کوشش کی ہے۔ زیادہ تر اخباری و مجلاتی اور کچھ تحقیقی مضامین کا یہ مجموعہ بڑی بڑی کہانیوں کی سرخیوں اور بنیادی معلومات تک قاری کو پہنچا دیتا ہے۔ محمدمتین خالد نے اس آکاس بیل کی نشان دہی کے لیے بکھری تحریروںکی تدوین کرکے   یہ قابلِ قدر مجموعہ پیش کیا اور اس طرح ایک ملّی اور دینی خدمت انجام دی ہے‘ تاہم اس موضوع پر سائنسی بنیادوں پر تحقیق و مطالعے اور تجزیے کی ضرورت باقی ہے۔ فاضل مرتب اگر اس کتاب کو دو مجموعوں میں تقسیم کر کے اس کا اشاریہ بنا دیتے تو افراد‘ تنظیمات اور موضوعات کی نشان دہی کے لیے اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔

دینی‘ سیاسی ‘ انتظامی اور تدریسی رجالِ کار اس کتاب کی مدد سے قوم میں بیداری اور ہوش مندی کی ایک لہر اُٹھا سکتے ہیں‘ اگر وہ اسے پڑھیں اور اپنی غیرتِ دینی میں کوئی اُکساہٹ محسوس کریں تو۔ (سلیم منصور خالد)


کشور کسریٰ تا سونار دیس  ‘ابوالامتیاز ع س مسلم۔ ناشر: القمرانٹرپرائزرز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۰۰۔قیمت: ۱۸۰ روپے۔

ایک: ۱۹۵۳ء کے کاروباری سفر ایران و عراق اور کویت کا ذکر‘ دوسرے: تیرھویں ایشیائی کانفرنس براے پسماندگان‘‘ (ڈھاکہ ۱۹۹۷ئ) کے سفر کا تذکرہ۔

سفر ’’وسیلۂ ظفر‘‘تو عموماً ہوتا ہی ہے‘ ع س مسلم کے لیے سفرہمیشہ ’’چشم کشا‘‘ بھی رہا۔ چنانچہ ایک بابصیرت سیاح ‘قاری کو بھی اپنے مشاہدے میں یوں شامل کرتا ہے کہ وہ قاری کی انگلی پکڑ کر اسے ساتھ ساتھ لیے چلتا ہے اور حسب موقع مشاہدات پر تبصرہ کرتا ہے اورکہیں کہیںصورتِ احوال کا تجزیہ بھی۔ ان تجزیوں میں مصنف کا ردعمل ہرچند کہ متوازن اور جچا تلا ہے‘ مگر قدرتی طور پر ایک پاکستانی مسلمان کا زاویۂ نظر غالب ہے۔ شاید اسی سبب سے (محض رودادِ سفر سے لطف اندوز ہونے والوں کے علاوہ) ایک سنجیدہ فکر قاری کو بھی اس کتاب میں کشش نظر آتی ہے۔

سفر ایران میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے کی بے حسی اور عدم توجہی‘ اس کے مقابلے میں بھارت کی کامیاب سفارت کاری‘ ایک ترک سفارت کار کی اہلیہ سے پاکستانی سفیر راجا غضنفرعلی خاں کی عشق بازی‘ ایران میں یہ عمومی تاثر کہ پاکستان انگریزوں نے اپنے مفادات کے لیے بنایا اور کویت کے ایک مفلوک الحال ہوٹل کا حال۔ بنگلہ دیش میں بہت سے دوستوں سے ملاقاتوں کے بعد‘ مصنف کا تاثر یہ ہے کہ ہندو ابھی تک بنگلہ دیش کے رگ و پے میں سرطان کی طرح پنجے گاڑے ہوئے ہے اور ہرچند کہ عوام کا شعور بیدار ہے‘ تاہم عوامی لیگ کے خواص اپنی ذہنی اور فکری آبیاری کے لیے سیکولرزم کے نام پر انھی کے گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں (ص ۱۵۹)۔ دوسری طرف (اُردو زبان پرانے رشتوں کی بحالی اور باہمی رابطوں کا ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہے‘ مگر)پاکستانی حکومت کا یہ حال ہے کہ ڈھاکہ یونی ورسٹی کے اُردو شعبے اورطلبہ کے لیے نہ تعاون کی کوئی صورت ہے‘ نہ حوصلہ افزائی یا وظائف کی پیش کش اور نہ کسی اُردو چیئر یا اُردو پروفیسر کا انتظام۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کے برعکس فارسی زبان کے فروغ کے لیے ایرانی سفارت خانے کا تحرک اور فراخ دلانہ امداد قابل ستایش ہے۔ ایرانی‘ یونی ورسٹی اساتذہ سے قریبی اور گہرے روابط رکھتے ہیںاور طلبہ کو کتابیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف بھی دیتے ہیں۔ انھوں نے ایک عمارت تعمیر کر کے شعبۂ فارسی کو عطیہ کر دی ہے۔ نتیجہ یہ کہ اب اکثر طلبہ فارسی میں زیادہ  دل چسپی لینے لگے ہیں۔

یہ ایک پُرخلوص اور خالص سفرنامہ ہے--- ’’پُرخلوص‘‘ اس لیے کہ ملّی اور قومی جذبۂ اخلاص کے ساتھ لکھا گیا ہے اور ’’خالص‘‘ اس لیے کہ مصنف نے اسے رنگ آمیزی‘ مبالغے اور سفرنامے کو افسانہ بنانے سے اجتناب کیا ہے۔

ایک تو بذاتِ خود احوال و واقعات دل چسپ ہیں‘ دوسرے (بصورتِ تبصرہ و تجزیہ) مصنف کے تعمیری اور مثبت جذبات و احساسات‘ اور تیسرے ع س مسلم کا دل کش ادبی اور انشائی اسلوبِ تحریر--- ان دو تین چیزوں نے اسے ایک دل چسپ‘ بامعنی اور قابلِ مطالعہ رودادِ سفربنا دیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تحریک اور کارکن ‘ سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ مرتبہ: خلیل احمد حامدی۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی‘ منصورہ‘ لاہور۔ اٹھارھویں اشاعت: ۲۰۰۳ئ۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

یہ انتخاب پہلی مرتبہ ۱۹۷۹ء میں شائع ہوا تھا۔ اس میں خصوصاً جماعت اسلامی کی رودادوں سے مولانا مودودیؒ کے خطبات اور ہدایات کو مدون کیا گیا ہے۔ کتاب کا موضوع خود وضاحت کرتا ہے کہ اس میں تحریک اسلامی کے کارکن کو مقصد‘ تنظیم اور عملی جدوجہد کے بارے میں ہدایات اور رہنمائی دی گئی ہے۔

’اشاعت ِنو‘ اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے کہ ادارہ معارف اسلامی نے خصوصی اہتمام سے کتاب کے متن کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے‘ اصل ماخذ سے موازنہ کر کے یہ نسخہ تیار کیا ہے۔ اس طرح وہ  بہت سی کمیاں اور کوتاہیاں دُور کر دی گئی ہیں‘ جو اس انتخاب کی اشاعت کے روز ہی سے اس کا حصہ بن چکی تھیں۔ کتاب میں آیات اور احادیث کے ترجمے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ کتاب میں چند مقامات پر جو لفظی تغیر یا اضافہ کرنا پڑا‘ اسے قلابین میں ظاہر کر دیا گیا ہے۔ بعض تحریروں کو اس مجموعے سے قلم زد کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اب یہ کتاب صحت و احتیاط کی ایک معیاری کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔ زندگی کے آخری برسوں میں خود مولانا محترم اس حوالے سے دل گرفتہ تھے کہ ان کے کم و بیش تمام ناشرین‘ ان کی تحریروں کو شائع کرتے ہوئے نہایت بے احتیاطی اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس مجموعے کی یہ اشاعت خاصی احتیاط سے مرتب کی گئی ہے۔

’اشاعت ِنو‘ کی آیندہ طباعت کے وقت چند امورپر توجہ ضروری ہے: قرآن و حدیث کے متن کوکتاب کے عمومی اسلوب کے مطابق ہی پیش کیا جائے۔ یہ نہیں کہ کوئی لائن ایک ترتیب میں اور کوئی درمیان میں۔ احادیث نبویؐ کا حوالہ بھی درج کیا جائے۔ مولانا محترم اس کے اہتمام پر زور دیا کرتے تھے۔ ضمنی سرخیوں میں قلابین کا اہتمام غیرضروری ہے۔ یہ کتاب ایک طرح کی رہنما کتاب ہے اس لیے آخر میں اشاریہ ہونا چاہیے‘ تاکہ مستقبل میں مولانا کی کتب مرتب کرتے وقت یہ نمونہ ایک معیار قرار پائے۔ مزید یہ کہ اتنے رنگوں کے ہجوم سے پیدا شدہ کثافت سے سرورق کو پاک کیا جائے۔ سادگی کی خوب صورتی اور جاذبیت کو موقع دیا جائے۔ ادارہ اس پیش کش پر مبارک باد کا مستحق ہے‘ دیر آید درست آید۔ (س - م -خ )


ہلال و صلیب کا نیا معرکہ  ‘شفیق الاسلام فاروقی۔ ناشر: حرا پبلی کیشنز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۴۰۰۔قیمت: ۱۸۰ روپے۔

معروف انگریزی رسالے اکانومسٹ کے ایڈیٹر نے اپنے ایک مضمون میں صلیب و ہلال کی طویل جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں باہمی تصادم سے بچنے کے لیے مغرب اور اسلام کو قریب تر لانے کی ضرورت ہے (۶ اگست‘ ۱۹۹۴ئ)۔ فاروقی صاحب نے محسوس کیا کہ اکانومسٹ کے اداریہ نویس بعض غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں‘ اُن کی معلومات بھی ادھوری اور نادرست ہیں اور اُن کے ہاں اسلام کا تصور بھی بہت محدود ہے۔ چنانچہ انھوں نے غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مدیر مذکورکو ایک خط لکھا اور پھر کئی خطوں کا تبادلہ ہوا۔ اب اس طویل مراسلت کو زیرنظر کتاب میں مرتب کیا گیا ہے۔ مصنف امریکی جیلوں کے قیدیوں سے بھی مراسلت رکھتے ہیں اور انھیں اسلامی لٹریچر فراہم کرتے ہیں۔ چنانچہ بہت سے امریکی قیدیوں نے بھی یہ لٹریچر پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ زیرنظر کتاب میں اس سلسلے میں بھی کئی لوگوں کا تذکرہ شامل ہے۔

کتاب دل چسپ ہے۔ اس کے مباحث میں تنوع ہے۔ اہل مغرب کی غلط فہمیوں‘ غلطیوں اور غلط کاریوں کا تذکرہ ہے اورکچھ اُن کے تعصب اور اسلام کے خلاف دشمنیوں کا ذکر۔ کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے بذریعہ قلم و قرطاس‘ دعوت و تبلیغ کو ایک بامقصد مشغلے کے طور پر اپنایا جو بہت مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہو رہا ہے۔ (ر-ہ)


امریکہ: اُمت مسلمہ اور پاکستان کے تناظر میں‘ ڈاکٹر محمد فاروق خاں۔ نیشنل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فائونڈیشن‘ ۲۵ سیال فلیٹس‘ آبدرہ چوک‘ پشاور۔ صفحات: ۸۲۔ قیمت: درج نہیں۔

امریکہ‘ امریکہ‘ امریکہ--- ان دنوںہر طرف یہی ایک موضوع ہے۔ اخبارات میں اور ٹی وی کے چینلوں پر ماہرین‘ تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ نئے نئے نام سننے میں اور دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ لیکن وقتی نوعیت کے ان تبصروں کے ریلے میں ایسی کتابیں شاذ ہی سامنے آئی ہیں جن پر نظر ٹھہر جائے اور غوروفکر کیا جائے۔ ۸۲ صفحے کی اس مختصرکتاب نے اپنے موضوع پر سنجیدہ غوروفکر کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کی ہے۔ ۴۱صفحات تک امریکہ جو کچھ ہے‘ اس کے پورے نظام‘ طریق کار اور سوچ کو معروضی طور پر پیش کیا گیا ہے اور بعد کے ۴۱ صفحات میں اُمت مسلمہ اور پاکستان ورکنگ ریلیشن شپ کے لیے جو رویے رکھ سکتی ہے اس کے مختلف پہلوئوں پر گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف نے ’’جذباتی نعروں‘ کھوکھلے دعووں‘ غلط الزامات اور فضول جنگوں‘‘ کے علی الرغم غیر جذباتی سات نکاتی راہِ عمل پیش کی ہے۔ آج ہماری حقیقی ضرورت فکری یکسوئی ہے‘ اس لیے کہ مولانا مودودیؒ کے بقول انتشار ذہنی عملی قوتوں پر گرنے والا فالج ہے۔ (مسلم سجاد)


سیرت النبیؐ کے چندگوشے‘ قاضی محمد مطیع الرحمن۔ مطبع: فیض الاسلام پرنٹنگ پریس‘ راولپنڈی‘ صفحات: ۱۹۳۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔

دنیا میں سیرت النبیؐ سے زیادہ‘ شاید کسی موضوع پر نہیں لکھا گیا۔ اس ہمہ گیر و ہمہ جہت‘ تحقیقی و علمی سلسلۂ کاوش کا ایک سبب یہ ہے کہ اہل اسلام کے لیے زندگی کے ہر میدان میں رہنما اصول سیرت پاکؐ ہی سے ملتے ہیں۔ عصرِحاضر میں یہ رجحان تیزی سے ترقی کر رہا ہے کہ دورِحاضر کے مسائل کے بارے میں سیرت مجتبیٰؐ سے رہنمائی کے لیے باقاعدہ تحقیقی مقالات و کتب مرتب کی جائیں۔ اس رجحان کے فروغ میں ایک بنیادی کردار وزارتِ مذہبی امور کی قومی سیرت کانفرنس کا ہے۔

یہ کتاب متذکرہ کانفرنس میں پیش کردہ مصنف کے چند تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ سات مقالات اپنے موضوعات کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ پہلا مقالہ سیرت طیبہؐ اور اس کے مطالعے کی ضرورت و اہمیت کے حوالے سے ہے۔ علاوہ ازیں ’’انسانی حقوق‘ تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں‘‘،’’عصرِحاضر کے مسائل کا حل سیرت طیبہؐ کی روشنی میں‘‘ اور ’’لسانی و گروہی اختلافات کا خاتمہ‘ سیرت طیبہؐ کی روشنی میں‘‘ بھی اپنی جگہ خوب ہیں۔ مقالات تحقیقی انداز میں تحریر کیے گئے تھے۔ ترتیب ِکتاب کے وقت غالباً استفادۂ عام کی غرض سے تحقیقی رنگ نکال دیا گیا ہے۔ اس طرح تحریر کے بھرپور تاثرمیں کسی قدر کمی کا احساس ہوتا ہے۔ بہرحال آیات و احادیث سے مزین یہ مختصر کتاب سیرت کے موضوع پر ایک اچھا اضافہ ہے۔  (ڈاکٹر محمد حماد لکھوی)


داستانِ اقبال ‘ آمنہ صدیقہ۔ ناشر:القمر انٹرپرائزز‘ لاہور۔ صفحات: ۱۶۸۔ قیمت:۹۰ روپے۔

یہ علامہ اقبالؒ کی ایک مختصر سوانح عمری ہے۔ اس میں علامہ اقبالؒ کے آباواجداد‘ان کے آبائی وطن کشمیر‘ ان کی پیدایش اور تصنیفات سے لے کر ان کی وفات تک کے حالات و واقعات کو گویا ’’دریاکو کوزے میںبند کر دیا ہے‘‘۔

داستانِ اقبال اقبال کی سابقہ سوانح عمریوں کا ایک طرح سے خلاصہ ہے۔ بعض جگہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھی گئی‘ مثلاً ابتدائی تعلیم و تربیت کے ضمن میں لکھا ہے کہ اقبال ایک سال تک مولانا غلام حسن کے مدرسے میں زیرتعلیم رہے اور پھر تین سال تک سیدمیرحسن کے مدرسے میں پڑھے۔ اس کے بعد ۱۸۸۲ء میں اسکاچ مشن اسکول میں داخل ہوئے (ص ۲۵ تا ۲۸)‘ تو کیا اقبال نے محض ایک سال کی عمر میں مولوی غلام حسن کے مدرسے میں پڑھنا شروع کر دیا؟ اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ اقبال نے ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو پانچ بج کر ۱۴ منٹ پر صبح کی اذانوں کی گونج میں اپنی جان خدا کے سپرد کی‘‘ حالانکہ ۲۱ اپریل کو یہ وقت طلوعِ آفتاب سے قریب ہوتا ہے اور صبح کی اذان تو تقریباً ساڑھے چار بجے ہوتی ہے۔ اسی طرح میٹرک میں اقبال کے حاصل کردہ ۴۲۴ نمبروں کا ذکر ہے (ص۳۱)۔ مگر کل نمبر کتنے تھے؟ پتا نہیں چلتا (یہ ۸۵۰ تھے)۔ گویا اقبال کے حاصل کردہ نمبر‘ ۵۰ فی صد سے بھی (ایک نمبر) کم ہیں۔

ان فروگزاشتوں کے باوجود‘ اقبال پر یہ ایک مفید تعارفی کتاب ہے۔ ڈاکٹر صدیق جاوید نے بجا طور پر مصنفہ کی ’’زبان و بیان کی سادگی اور صفاتی‘‘ کو سراہا اور توقع ظاہر کی ہے کہ یہ نوجوانوں کے لیے شوق انگیز ثابت ہوگی۔ (محمد قاسم انیس)


عالمی طاغوتی کھیل میں مکروفریب کا راج‘ طارق مجید کموڈور بحریہ (ریٹائرڈ)۔ ناشر: الفیصل ناشران و تاجران کتب‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۱۵۲۔ قیمت: ۷۵ روپے۔

نائن الیون کے واقعے نے جہاں پوری دنیا کو متاثر کیا ہے وہاں عالم اسلام کے لیے اِبتلا کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ کئی اہل قلم نے ان حالات کا تجزیہ کیا ہے اور آنے والے دور کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ زیرنظر کتاب ایک ایسی ہی کوشش ہے۔ مصنف نے مختلف شواہد کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس بڑے واقعے میں صہیونی دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے ڈینیل پرل کیس کا بھی تجزیہ اور صہیونی عزائم کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مستقبل قریب میں پاک بھارت جنگ ہو کر رہے گی۔ اُمت مسلمہ کو جو خطرات لاحق ہیں ان کا تجزیہ کرتے ہوئے فاضل مصنف نے ملاعمر اور اسامہ بن لادن سمیت بہت سے مجاہدین کے بارے میں یہ تاثر دیا ہے کہ یہ لوگ ایک بین الاقوامی سازش میں شامل ہیں۔ یہ بات محل نظر ہے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ دنیا بھر میں ہر بڑی تبدیلی کے پس پردہ عالمی یہودی تنظیموں کا نادیدہ ہاتھ اب راز نہیں رہا۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)

دانش یار ‘ لاہور

’’بحالی جمہوریت…‘‘ (اپریل ۲۰۰۳ئ) میں ایل ایف او کے اسرار و رموز سمجھانے کے لیے ایک ایسا عام فہم مطالعہ پیش کیا گیا ہے جس سے آگہی پیدا ہوگی اور متحدہ مجلس عمل کے موقف کو ٹھوس بنیادوں پر پیش کیا جاسکے گا۔


گل زادہ شیرپاؤ‘ لاہور

’’علامہ اقبالؒ اور تجدید و احیاے دین‘‘ (اپریل ۲۰۰۳ئ) بہت موثر مضمون ہے۔ تجدید و احیاے دین کے حوالے سے اقبال کی فکر اور مساعی سے آگہی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر محمد نجات اللّٰہ صدیقی ‘ سعودی عرب

عراق تو ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوا ۔جو اپنا حال خود بدلنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہو‘ وہ دوسرے کے تصرف پر ماتم ہی کر سکتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ ہم اس بدحالی سے کب نکلتے ہیں!


عبداللّٰہ گوہر‘ کراچی

عراق کے حوالے سے امریکہ یہ کہہ رہا ہے کہ وہ وہاں جمہوریت لائے گا اور اس سے ایسی لہر چلے گی کہ پورے عالمِ عرب میں جمہوریت آجائے گی۔ اگر عرب ممالک میں واقعی جمہوریت آئی تو ہرجگہ امریکہ دشمن حکومتیں برسرِاقتدار آجائیں گی۔ کیا امریکہ اس کے لیے تیار ہے؟ امریکہ جمہوریت سے مخلص ہے تو صرف اتنا کرم کرے کہ آمروں کی سرپرستی اور پشتیبانی ختم کر دے۔ آمر خود ہی راہِ راست پر آجائیں گے اور عوام کی مرضی بالادست ہو جائے گی۔


طٰہٰ انس ‘ کراچی

بڑی بات ہو رہی ہے کہ مسلمان سائنس اور ٹکنالوجی پر توجہ دیں۔ لیکن شاید ہم اس طرح امریکہ پر برتری حاصل نہ کر سکیں۔ اپنے حکمران بدل دیں جو سودا نہ کریں‘ یہ بھی آسان نہں لگتا۔ یہ کوشش بھی کریں‘ لیکن ساتھ ساتھ بھرپور توجہ امریکہ بلکہ مغرب کے سلیم الفطرت عوام اور (حکمرانوں کو بھی) منصوبہ بندی کے ساتھ اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید منگولوں کی تاریخ دہرائی جاسکے۔ اس کے لیے بڑا وسیع میدان ہے لیکن معلوم نہیں کیوں اس پر عملی پیش رفت تقاضے کے مطابق نہیں ہو رہی۔ حتیٰ کہ اس موضوع پر کسی ایک سیمی نار کی خبر بھی نہ پڑھی۔ اللہ کا کام اللہ پر ہی چھوڑنے کی پالیسی نظر آتی ہے۔


حکیم شریف احسن‘ فیصل آباد

ڈاکٹرحمیداللہ مرحوم نے لاہور میں (۳۰ اپریل ۱۹۹۲ئ) ’’سیرتِ طیبہؐ کا پیغام عصرِحاضر کے نام‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس پیغام کا لب ِ لباب ان کے الفاظ میں یہ تھا: کام‘ کام اور کام۔ مشکل حالات میں استقامت کا ثبوت دیناہے‘ مایوس نہیں ہونا ہے‘ گھبراکر بیٹھ نہیں جانا ہے‘ کام کیے جانا ہے! یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آج ہی کے لیے ہو۔


ثروت جمال اصمعی‘ کراچی

ترجمان کا ہر تازہ شمارہ آپ کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے پرمغز اداریے خاصے کی چیز ہوتے ہیں۔ شذرات کا سلسلہ اچھا اضافہ ہے۔ اس سے کئی اہم موضوعات پر ادارے کے نقطۂ نظرسے آگاہی ہوجاتی ہے۔ آج کی اس کیفیت میں مسلم دنیا کی اجتماعی دانش کو یک جا کرنے کی ضرورت ہے۔ چوٹی کے مسلم اہل نظر پر مشتمل کوئی ایسا فورم تشکیل دیا جانا چاہیے جہاں سے صرف مسلمانوں ہی کی نہیں‘ پوری انسانی برادری کی اللہ کے پیغام کی روشنی میں رہنمائی کی جائے۔ اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کا مسکت جواب بھی دیا جائے اور انسانیت کے لیے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ان کے صحیح رنگ اور دعوتی انداز میں پورے اہتمام کے ساتھ پیش بھی کیا جائے ۔ اس ادارے کو اپنی داخلی قوت کی بنا پر خود بخود پوری دنیا میں نمایندہ حیثیت حاصل ہو جائے گی‘ اور اس کے موقف کو نظرانداز کرنا کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ عالمی ذرائع ابلاغ اسے وزن دینے پر مجبور ہوں گے۔ اس طرح مسلمانوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اسلام کی ترجمانی کا بھی ایک عالمی اجتماعی نظام وجود میں آجائے گا۔ مغرب کی اصطلاح میں بات کی جائے تو     کہا جاسکتا ہے کہ یہ عالمِ اسلام کے ایک نمایندہ تھنک ٹینک (مجلس دانش) کے قیام کی تجویز ہے۔یہ کام    مسلم حکمرانوں کے بس کا نہیں‘ اسے مسلم دنیا کی اسلامی تحریکوں کو انجام دینا چاہیے۔

انتشارِ ذہنی کاعلاج

فکریں ہر طرف سے سمٹ کر اس سوال پر مرکوز ہوگئی ہیںکہ ادیانِ باطلہ کی گرفت جس نے پوری زندگی کو اپنے شکنجے میں کس رکھا ہے کیسے ہٹائی جائے‘ عبدیت کو اللہ کے لیے خالص کر دینے میں جو مزاحمتیں حائل ہیں انھیں کیسے دُور کیا جائے‘ اور دین حق کو زمین پر اور خود اپنی حیاتِ دنیا کے تمام شعبوں پر کس طرح قائم کیا جائے؟… کچھ لوگ حیران ہیں کہ اتنا بڑا مقصد اتنی شدید مزاحمتوں کے علی الرغم کیسے حاصل ہوگا؟ کچھ لوگ مزاحم طاقتوں میں سے کسی ایک طاقت سے… فوراً ٹکرا جانا چاہتے ہیں… کچھ لوگ بیچ کے تمام مراحل کو بیک جنبش خیال پھلانگ جاتے ہیں اور بالکل آخری مرحلے میں جو کچھ ہونا چاہیے ‘ اس کی تیاری ابھی سے کر ڈالنا چاہتے ہیں… کچھ لوگ مرحلۂ اوّل سے لے کر آخری مرحلے تک پورا پروگرام مفصل ٹائم ٹیبل کے ساتھ مانگتے ہیں تاکہ انھیں ٹھیک وہ تاریخ معلوم ہوجائے جب خلیفۂ راشد کا انتخاب ہوگا… کچھ لوگ کتابی دنیا میں مقیم ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو نقشے انھوں نے صفحۂ قرطاس پر کہیں دیکھے ہیں وہی عالمِ آب و گل میں ہوبہو نظر آجائیں… کچھ اور   لوگ ہیں جو بار بار کہتے اور سوچتے ہیں کہ ’’کچھ ہونا چاہیے‘‘مگر خود نہیں جانتے کہ کیا ہونا چاہیے…

عملی قوتوں کے لیے ذہنی انتشار سے بڑا دشمن کوئی نہیں ہے۔ مگر اس کا صحیح علاج یہ نہیں ہے کہ لوگ سوچنا چھوڑ دیں اور بس کسی کے احکام کی تعمیل کرنے لگیں۔ اس طرح کا عمل انسانوں کا نہیں‘ حیوانوں کا خاصہ ہے اور وہ شخص خود اپنے نصب العین کے ساتھ دشمنی کرتا ہے جو افراد کو  عملِ بلافکر اور اطاعت ِ بلافہم کی مشق کراتا ہے۔ انتشارِ ذہنی کے سبب سے عملی قوتوں پر جو فالج گرا ہو اس کا اصلی علاج یہ ہے کہ بروقت صحیح فکری رہنمائی کی جائے تاکہ دماغ غلط راہوں پر سوچنے کے بجاے صحیح راہ پر سوچنے لگیں اور پوری طرح یکسو ہو کر اس طرز پر کام کرنے کا فیصلہ کرلیں جس کے صحیح ہونے کا انھیں اطمینان حاصل ہوجائے۔ (’’اشارات‘‘، ابوالاعلیٰ مودودی‘  ترجمان القرآن‘ جلد۲۲‘ عدد ۵‘ جمادی الاولیٰ ۱۳۶۲ھ‘ مئی ۱۹۴۳ئ‘ ص ۱۳۱-۱۳۲)