مضامین کی فہرست


اگست ۲۰۰۳

عشائیہ براے عطیات

سوال: امریکہ اور یورپ میں عرصۂ دراز سے یہ رواج قائم ہے کہ جب سوسائٹی کی کسی ضرورت کے لیے چندا کیا جائے تو اُس کے لیے ’’فنڈ ریزنگ ڈنر‘‘ (عشائیہ براے عطیات) کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اِس ڈنر میں اکثر ملک کے نامور اور شہرت یافتہ فنکار حصہ لیتے ہیں‘ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں (جس میں ناچ‘ گانا‘ موسیقی‘ مزاح اور ڈراما وغیرہ شامل ہوتے ہیں) اور لوگوں سے فنڈ دینے کی اپیل کرتے ہیں۔ اِس ڈنر کی تیاری مہینوں پہلے کی جاتی ہے‘ اشتہاری مہم چلائی جاتی ہے‘ ویڈیو اور سلائڈز بنوائے جاتے ہیں تاکہ اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ کھانے کے لیے بہترین (مہنگے ہوٹل) جگہ اور اعلیٰ قسم کے مختلف ورائٹی کے کھانوں کا اہتمام اسراف کی حد تک کیا جاتا ہے۔ اکثر مخلوط مجالس ہوتی ہیں‘ جس میں لوگ بہترین لباس اور خواتین میک اَپ‘ خوشبو اور جیولری کی چمک دمک کے ساتھ’’بے پردہ‘‘حاضر ہوتی ہیں۔ اس سارے عمل سے معاشرے کے غریب طبقات غیرحاضر ہوتے ہیں کیونکہ اس ڈنر کا ایڈوانس ٹکٹ قیمتاً فروخت کیا جاتا ہے‘ جس میں سنگل اور فیملی پیکج ہوتا ہے اور اُس کے بغیر کوئی اِس جگہ داخل نہیں ہو سکتا۔

اِس ڈنر کے دوران چندا جمع کرنے کے لیے مسابقت کی ایک دوڑ شروع کرائی جاتی ہے تاکہ لوگوں سے زیادہ سے زیادہ رقم نکلوائی جائے۔ زبردستی وعدہ فارم (pledge form) بھروائے جاتے ہیں اور مجلس کے دوران بہت زیادہ دکھاوا اور نمود و نمایش واضح طور پر دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ دورانِ مجلس افراد کی تعریف و تحسین کرکے اُن کے نفس کو پھلایا جاتا ہے تاکہ زیادہ رقم وصول کی جائے۔ بعد میں اس فنڈ سے ہوٹل اور کھانے کے اخراجات‘ فن کاروں کی آمدورفت اور رہایشی اخراجات کے بڑے بڑے بل ادا کیے جاتے ہیں۔ اکثر حاصل شدہ فنڈ سے فن کاروں کی فی صد بھی طے شدہ معاملے کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔

اسلامی تنظیموں نے بھی اپنی ضرورت کے لیے کچھ ترمیمات کے ساتھ مغرب کی اس روایت کو اپنا لیا ہے۔ اسلامی تنظیمیں جوفنڈ ریزنگ ڈنر کرتی ہیں‘ اُس میں صرف رقص و موسیقی نہیں ہوتی‘ بقیہ تمام وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کا تذکرہ اُوپر کیا گیا ہے۔ فن کار کی جگہ ہم کسی ایسے لیڈر یا مقررین کا اہتمام کرتے ہیں جو لوگوں کو قرآن اور حدیثیں سُنا کرجوش دلاتے ہیں اور ہر طرح کی کوشش کر کے مسابقت کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ زیادہ فنڈ دینے والوں کی دورانِ مجلس منہ پر تعریف کرتے ہیں (جسے اللہ کے رسولؐ نے ناپسند فرمایا ہے) کم فنڈ دینے والوں کو کم تر درجہ دیتے ہیں (بعض اوقات تحقیر کے درجے تک) اور حددرجے کا ڈرامائی ماحول بناتے ہیں۔ کبھی رُلاتے ہیں‘ کبھی ہنساتے ہیں‘ کبھی جوش دلاتے ہیں اور اس طرح ایک طرح کی عجیب مصنوعی فضا تیار کرتے ہیں۔ اسلامی تنظیمیں ایسے افراد کو بعض اوقات طے شدہ فی صد بھی جمع شدہ فنڈ سے ادا کرتی ہیں۔ بعض اوقات مقررین بعض افراد کے لیے دورانِ مجلس اپنی جانب سے زبردستی رقم مقرر کرتے ہیں‘ جسے وہ مجلس میں شرمندگی کے باعث قبول کرلیتے ہیں۔ ایڈوانس ٹکٹ (سنگل اور فیملی) فروخت کیے جاتے ہیں۔ مخلوط ماحول ہوتا ہے‘ خواتین و حضرات سج دھج کر آتے ہیں۔ بعض خواتین پردے میں اور اکثریت بغیر پردے کے ہوتی ہے۔ خواتین بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور جوش دلانے کے لیے اپنی جیولری مجلس میں پیش کرتی ہیں‘ جسے کوئی دوسرا خرید کر اُس کی رقم فنڈ میں دے دیتا ہے۔

اسی طرح زبردستی وعدہ فارم بھروائے جاتے ہیں(جسے اکثریت بعد میں بھول جاتی ہے)۔ بہترین جگہ اور اعلیٰ قسم کے کئی طرح کے کھانوں کا اہتمام ہوتا ہے اور تمام تر اخراجات کی ادایگی حاصل شدہ فنڈ سے کی جاتی ہے۔ براے مہربانی عامۃ الناس کے استفادے کے لیے یہ بتائیں کہ---

۱-  شرعی لحاظ سے اس قسم کے پروگرام کی کیا حیثیت ہے؟ کیا سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا کوئی واقعہ ملتا ہے یا پھر یہ ایک بدعت (innovation) ہے۔

۲- کیا شرعی لحاظ سے کوئی عام پروگرام ایسا ہو سکتا ہے جس میں سوسائٹی کے امیرطبقات کو آنے کی اجازت ہو اور غریب طبقے کو غیرمحسوس طریقے سے روک دیا جائے؟

۳-  کیا شریعت کسی ایسے پروگرام کی اجازت دیتی ہے جس میں نمود و نمایش ہو‘ منہ پر تعریف کی جائے‘ زبردستی تحریری وعدے لیے جائیں‘ غیرضروری اخراجات (اسراف کی حد تک) کیے جائیں‘ فنڈ دینے کی اپیل کرنے والے مقررین کو مناسب فی صد ادا کیا جائے‘ یہاں تک کہ یہ اُن کا پیشہ (profession) ہی بن جائے؟

۴-  کیا کسی نیک مقصد کے لیے جمع کیے جانے والے اس فنڈ سے اُس کے دینے والے فرد کے کھانے اور تقریب کے دیگر اخراجات کی ادایگی کی جا سکتی ہے؟

۵-  بعض اوقات اس تقریب کے اخراجات اس پروگرام کے جمع شدہ فنڈ سے کہیں زیادہ ہوجاتے ہیں‘ جن کی ادایگی بعد میں بیت المال سے کی جاتی ہے۔ کیا یہ فنڈ اور بیت المال کا غلط استعمال تو نہ ہوگا؟

۶-  کیا شرعی لحاظ سے زبردستی وعدہ لینا جائز ہے؟ جس شخص سے وعدہ لیا گیا اور وہ اُسے بھول جائے یا ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو کیا یہ گناہ تصورہوگا۔ منتظمین کس حد تک اس کے ذمہ دار ہوں گے؟

۷-  بعض اوقات لوگوں کو جوش دلانے کے لیے ارادتاً بعض افراد بڑی بڑی رقومات کا وعدہ کر لیتے ہیں اور ادا نہیں کرتے‘ جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ ہم اگر ایسا نہ کرتے تو دوسرے لوگ فنڈ نہ دیتے ‘یعنی ارادتاً جھوٹ پر مبنی عمل کیا جاتا ہے۔ کیا اس طرح کوئی چیز کی جا سکتی ہے؟

جواب: آپ کے سوال کا تعلق دورِ جدید میں دعوت کے مسائل سے ہے۔ آپ کی یہ بات قابلِ قدر ہے کہ جدید ذرائع کا استعمال کرتے وقت آپ کی خواہش یہ ہے کہ ایک تعمیری اور اصلاحی کام کے لیے بھی ذرائع جائز و مباح ہوں۔ آپ کے سوال میں بیک وقت کئی اصولی باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ پہلی چیز یہ کہ انفاق کے حوالے سے قرآن و سنت کیا ہدایات دیتے ہیں؟ دوسری چیز یہ کہ دعوت و اصلاح کے لیے کن جدید ذرائع کا استعمال درست ہوگا اور اس کی اصولی حیثیت کیا ہوگی؟ تیسرے ‘آپ نے ہمارے ایک اہم معاشرتی مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اسلامی معاشرت اور اجتماعیت میں مرد و زن کے باہمی ربط کی حیثیت کیا ہے؟ نیز آپ نے ایسی تقریبات میں اسراف کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ ان چاروں امور کے بارے میں ترتیب کے ساتھ چند نکات پر غور کیا جائے تو اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

۱-  اللہ کی راہ میں کام کرنے کے لیے‘ خواہ وہ ظلم و تعدی کے خلاف مسلح جہاد ہو یا ایک اسلامک سنٹرکی تعمیر کے ذریعے عام انسانوں کو اللہ کے دین کی دعوت پہنچانا‘کسی رفاہی تعلیمی ادارے کا قیام ہو یا کسی مدرسے کے ذریعے علم و حکمت کا فروغ‘ قرآن و سنت ان تمام حوالوں سے اللہ کی راہ میں انفاق کرنے اور صدقات کرنے کو اللہ کو قرضِ حسن دینے اور حقوق العباد کے ادا کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ گویا بعض صورتوں میں انفاق فی سبیل اللہ فرض ہوگا اور بعض صورتوں میں اس کی حیثیت ان صدقات کی ہوگی جو درجے کے لحاظ سے فرض کے قریب ترین ہیں۔ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں مال اور نفس سے ایثار کیا ‘ان کے اس عمل کو ایسی تجارت کہا گیا جس کے نفع کا وعدہ رب کریم نے خود کیا ہے۔ چنانچہ تقریباً۱۸ مقامات پر قرآن کریم نے صدقات اور صدقات دینے والوں کے بارے میں وضاحت سے فرمایا کہ اللہ انھیں وسعت اور فراخی دیتا ہے (البقرہ ۲:۲۷۶)۔ گویا جو کچھ اللہ کی راہ میں صدقہ کیا جاتا ہے وہ اللہ کے ذمے قرض ہے‘ اور اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے کہ جو سب کو دیتا ہے اور پھر بھی اس کے ہاں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی‘ اس کو قرض دیا جائے (الصافات ۳۷:۵۲)۔ مزید ملاحظہ ہو‘الحدید ۵۷:۱۸۔

۷۰ سے زائدمقامات پر قرآن کریم انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر کرتا ہے اور اسے      اہل ایمان کی صفات میں سے ایک اہم صفت قرار دیتا ہے (النساء ۴:۳۴)۔ یہاں پر یہ بات خصوصاً واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن انفاق کے معاملے میں چھپا کر دینے اور علانیہ دینے کو یکساں مقام دیتا ہے (الرعد ۱۳:۲۲)۔ اس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ اگر کسی عطیات جمع کرنے کی تقریب میں علانیہ رقم دی جائے‘ یا اس پر ابھارا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

قرآن کریم کے اس طرح چھپے اور ظاہراور علانیہ دینے میں زکوٰۃ‘ صدقات‘ عام انفاق‘ تینوں شامل ہیں۔ البتہ جس چیز کی فکر کی ضرورت ہے وہ ریا اور تملُّق ہے‘ یعنی نہ تو دکھاوے کے لیے کوئی چیز دی جائے‘ اور نہ کسی کی تعریف و توصیف کھلے بندوں کی جائے۔ خصوصاً کسی کے منہ پر تعریف کرنا خود موصوف کے لیے مہلک ہے۔

۲-  فنڈ ریزنگ ایک جدید اور جامع اصطلاح ہے جس میں عطیات کے حصول کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں‘ مثلاً ایک لیکچرہال میں کسی معروف عالم کی تقریر جس میں داخلے کی فیس ہو اور وہ رقم کسی کارِخیر میں استعمال کرلی جائے۔ کسی جگہ کھانوں کا بازار لگایا جائے اور کھانوں کی فروخت سے جو رقم ملے وہ کسی سینٹر یا تعلیمی ادارے یا شفاخانے کی تعمیر پر خرچ کی جائے‘ یا اخبارات میں اشتہار دے کر اپنی ضرورت سے آگاہ کیا جائے اور جواب میں عطیات مل جائیں۔ گویا یہ تعلقاتِ عامہ کے ذریعے مالی وسائل پیدا کرنے کی ایک حکمت ِعملی اور طریقے کا نام ہے۔

اس کی نظیر اگر سنت میں تلاش کی جائے‘ تو غزوات کے موقع پر اہل ایمان سے اپیل کے ذریعے جو وسائل جمع کیے گئے ان میں مل سکتی ہے۔ متعدد واقعات ہمیں ملتے ہیں جن میں بعض صحابہؓ نے اپنی کل ملکیت‘ بعض نے آدھی‘ کسی نے سیکڑوں سواروں کے لیے سازوسامان پیش کر دیا‘ اور بعض صحابیات نے اپنا زیور اللہ کی راہ میں دیا۔ اس اصولی مماثلت کی بنا پر جدید دور میں نہ صرف قیادت کی طرف سے اپیل بلکہ ان بہت سے ذرائع کا استعمال بھی کرنا ہوگا جوقرونِ اولیٰ میں معروف نہ تھے‘ مثلاً فنڈ ریزنگ ڈنر۔

دعوت و اصلاح کے لیے جدید ذرائع کا استعمال اسلام کا مدعا ہے۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے اپنے زمانے میں مروجہ تمام طریق دعوت کو استعمال فرمایا‘ مثلاً خطابت‘ خط وکتابت‘ تربیت یافتہ دعاۃ کے وفود‘ حتیٰ کہ بڑے خطابات کے موقع پر مکبرین کا استعمال جو آج کل کی اصطلاح میں ایک طرح کا پبلک ایڈریس سسٹم کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے فنڈ ریزنگ ڈنر میں کسی معروف اسکالر کو بلاکر لوگوں تک بھلی بات پہنچانے کے ساتھ ان سے انفاق و صدقات کی اپیل کرنے میں کسی قسم کی قباحت نہیں۔ شریعت کا اصول ہے کہ ہر وہ کام مباح ہے جس کی ممانعت نہ آئی ہو۔

یہاں یہ بات واضح کرنی بھی ضروری ہے کہ ایک اخلاقی اور اصلاحی مقصد کے لیے  اسلام اس کے حصول کے طریقوں کو بھی اخلاقی اور اصلاحی دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ پیشہ ور  گانے والوں اور نام نہاد ثقافتی پروگرام کرنے والوں کو مدعو کرنا‘ لہوولعب کی محفل سجانا‘ اس کی قرآن و سنت میں واضح ممانعت ہے۔ اگر ایسی تقریبات میں نوجوان ایسے نغمے پیش کریں جن میں روحِ جہاد اُبھارنے کی تلقین ہو‘ یا چھوٹی بچیاں ایسے نغمات پیش کریں‘ جیسے انصار کی بیٹیوں نے حضورنبی کریمؐ کی آمد پر گائے تھے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

جہاں تک سوال ایک ہی تقریب میں نشستوں کے لحاظ سے معاوضے کا ہے‘ اس پر ایک اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے جو زیادہ رقم ادا کر کے اگلی نشست پر بیٹھے گا اور جس نے کم رقم پر پیچھے کی نشست حاصل کی ہے‘ تفریق پائی جائے گی۔ بات بہت معقول نظرآتی ہے لیکن کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں سے یکساں اجر کا وعدہ کیا ہے‘ یا جو اس کی راہ میں زیادہ قربانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے زیادہ بلند درجات دیں گے! بنیاد کسی کی تملیک نہیں ہے بلکہ قربانی ہے۔ چنانچہ ایک انتہائی غریب صحابی اگر رات بھر کھیت میں پانی دے کر مٹھی بھرکھجور کماکر نبی کریمؐ کو پیش کرتے ہیں تو بظاہر اس کم قیمت صدقے کو سب کے مال پر بھاری قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا اصل بنیاد کسی کی غربت یا امارت نہیں بلکہ جذبۂ انفاق ہے۔

اگر تمام افراد سے ایک ہی مقررہ رقم‘ فرض کیجیے ۵۰ روپے لی جائے تو ۵۰۰ افراد کے جمع ہوجانے کی شکل میں ۲۵ہزار روپے جمع ہوتے ہیں۔ اگر ۵۰ کے علاوہ ۵۰۰‘ ۵ ہزار اور ۵۰ ہزار روپے کے ٹکٹ بھی ہوں اور ۱۰‘ نہیں محض دو افراد ایسے مل جائیں جو ۵۰‘۵۰ ہزار کے ٹکٹ خرید سکتے ہوں اور ۱۰۰ ایسے جو ۵ ہزار کے اور ۴۰۰ ایسے جو ۵۰۰ کے‘ تومطلوبہ فنڈ کی شکل بالکل مختلف ہوگی۔ کم دولت والے اور زیادہ دولت والے افراد کو یکساں موقع فراہم کرنا لیکن ان سے ان کی حیثیت کے لحاظ سے توقع رکھنا‘ نہ اسلام کے منافی ہے اور نہ سرمایہ پرستی۔

جس نے کم قیمت والی جگہ کا ٹکٹ لیا ہے اسے کم اہمیت دینا‘ ایک سخت غیر اسلامی رویہ ہے۔ اس کی اصلاح بہرصورت ہونی چاہیے۔ عام مشاہدہ ہے کہ ہوائی جہاز میں جو فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس یا اکانومی کلاس کا ٹکٹ لے کر سفر کرتا ہے وہ بحیثیت مسافر یکساں حقوق رکھتا ہے لیکن اس کی نشست اور کھانا ٹکٹ کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ اسے تفریق نہیں کہا جا سکتا۔

ضمناً یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ اگر فنڈ ریزنگ کی تقریب کے شرکا کو اس بات کا علم ہے کہ جو رقم وہ بطور عطیہ دیں گے اسی میں سے تقریب کا خرچ بھی نکلے گا اور بقیہ رقم جس کارِخیر کے لیے عطیہ کی جا رہی ہے اس میں استعمال ہوگی تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ البتہ فنڈ ریزنگ کے نام پر دھوم دھام سے عشائیہ جس کا خرچ فنڈ ریزنگ کی رقم کے برابر یا اس سے بڑھ جائے‘ ایک ناعاقبت اندیشانہ بات ہے اور کسی بھی بھلے انسان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسی حماقت کرے گا۔

شرکاے محفل کو ترغیب دینا‘ انفاق پر اُبھارنا اور ان سے عطیات کا حصول ہی تو تقریب کا سبب ہے۔ اس لیے ایسے مواقع پر ایسے خطابات ضروری ہیں جو اس تصور میں مددگار ہوں۔ ہاں‘ ریا اور دکھاوے یا اپنے نام کے لیے کوئی رقم دینا وہ چھوٹی ہو یا بڑی‘ ایک خودفریبی ہے۔ میرے علم کی حد تک کسی بھی تقریب میں زبردستی فارم نہیں بھروائے جاتے۔ یہ سارا کام رضاکارانہ ہی ہوتا ہے جو مطلوب و مقصود ہے۔

اسلامی تحریکات میں ایک کارکن جو ۱۰ روپے اعانت دیتا ہے ایک حیثیت سے انفاق میں اس سے بڑھ کر ہے جو کروڑوں کماتا ہے اور اپیل کرنے پر ۵۰ ہزار کا ایک چیک بھیج دیتا ہے۔ آپ حضرات کو امریکہ میں خصوصاً اس کی فکر کرنی چاہیے کہ وہاں کے مادہ پرستانہ معاشرے میں محض مادی برتری کی بنیاد پر احترام نہ کیا جائے۔ اسلام نے اِکرام کی جو بنیاد ہمیں دی ہے وہ تقویٰ اور علم کی ہے۔ اس بنا پر جو متقی ہے وہ دوسروں سے افضل ہے‘ اور جو علم زیادہ رکھتا ہے وہ کم علم کے مساوی نہیں۔

۳- آپ کے سوال میں تیسری اہم چیز مخلوط محافل سے متعلق ہے۔ اسلام جس معاشرے کی تشکیل کرتا ہے ‘ وہ بنیادی طور پر ایک اخلاقی معاشرہ ہے۔ ہر وہ چیز جو اخلاق کو نقصان پہنچانے والی ہو‘ اس کی نگاہ میں غیرمطلوب ہے۔ اسی لیے معاشی میدان میں سود ایک غیراخلاقی حرکت ہے۔ معاشرت میں بے حیائی ایک غیر اخلاقی فعل ہے۔ گفتگو اور خطابت میں دوسرے پر چیخنا چلانا‘ برا بھلا کہنا‘ حتیٰ کہ آواز بلند کرنا‘ قرآن نے سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور ابلاغ کے لیے ایک اخلاقی ضابطہ تجویز کیا ہے۔ اسی طرح ایسی محفلوں کو ناپسند کیا گیا ہے جہاں آزادانہ طور پر مرد و زن کا اختلاط ہو۔

جہاں ناگزیر شکل ہو‘ جیسے حج یا عمرہ یا مسجد نبویؐ میں نماز باجماعت‘ وہاں صرف اس حد تک اجازت ہے۔ اس بنا پر اسے عموم نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر امریکہ میں عطیات کے حصول کے لیے فیملی ڈنر کیا جائے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ مرد اور عورتیں ایک ساتھ بیٹھیں۔ ۱۹۶۹ء سے امریکہ میں ISNA اور ICNA کے پروگراموں میں تعلیم و ترغیب کے ذریعے کوشش کی گئی کہ کھانے پینے کا موقع ہو‘ یا کنونشن ہال میں نشست و برخاست‘ مردوں اور خواتین کی نشستیں الگ ہوں‘ اور اس میں کامیابی بھی ہوئی۔ اگر بعد کے ادوار میں کوئی اپنی ’’روشن خیالی‘‘ یا احساسِ کمتری کی بنا پر اس پر عمل نہ کرے‘ تو یہ اس کا اپنا غیر دانش مندانہ فعل ہوگا۔ میں یہ بات اس لیے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ۱۹۶۹ء سے ۱۹۸۱ء تک عدمِ اختلاط کی روایت قائم کرنے میں‘ میں خود شریک رہا ہوں۔ اس لیے جو کچھ عرض کیا گیا وہ نظری نہیں عملی بات ہے۔

ایسے بڑے اجتماعات میں جہاں ایک بڑے ہال میں کسی عملی مشکل کی بنا پر مکمل طور پر الگ انتظام ممکن نہ ہو‘ ہال کی ایک جانب خواتین اور دوسری جانب مردوں کی نشست کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے۔ یہی چیز ہمارے تشخص اور اقدار کے فرق کو ظاہر کرے گی۔

۴- جہاں تک خواتین کے زیبایش کر کے مجالس میں جانے کا تعلق ہے‘ قرآن و حدیث نے دو ٹوک انداز میں اسے تبرج جاہلیہ سے تعبیرکیا ہے۔ پاکستانی ثقافت کے نام پر ناچ گانا نظریۂ پاکستان سے بغاوت اور اسلام کی واضح خلاف ورزی ہے۔ ڈنر یا شو میں اس قسم کی سرگرمی کو حکمت اور دعوتی دل سوزی کے ساتھ بدلنے کی کوشش کرتے رہنا آپ کا دینی فرض ہے۔ کھانے کی دعوتوں میں ورائٹی کی گنجایش تو ہے لیکن اسراف قطعاً نہیں ہونا چاہیے۔ اگر محض عطیات کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے‘تب بھی اسراف کو گوارا نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توازن پر قائم رہتے ہوئے اپنے دین کی خدمت کے مواقع فراہم کرے۔ (پروفیسر ڈاکٹرانیس احمد)

تذکار صالحات‘ طالب ہاشمی۔ ناشر: البدر پبلی کیشنز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۹۶۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

جناب طالب ہاشمی کا شمار معاصر دینی ادب کے معروف مصنفین میں ہوتا ہے--- انھوں نے تاریخ اسلام کے مختلف شعبوں‘ خصوصاً اسلامی اور دینی و مذہبی شخصیات پر ۵۰ سے زائد نہایت وقیع تصانیف و تالیفات شائع کی ہیں۔ وہ تاریخ اسلام پر گہری نظر کے ساتھ‘ بنیادی مصادر سے براہِ راست اخذ و اکتساب کا سلیقہ رکھتے ہیں اور زبان و بیان پر بھی انھیں پوری دسترس اور قدرت حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں نبی آخرالزماںؐ، خلفاے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، ائمہ عظام، صلحاے اُمت‘ ارباب سیف و قلم اور دیگر مشاہیرِ تاریخِ اسلام کے تذکروں سے ایک خوب صورت کہکشاں مرتب کی ہے۔

زیرنظر کتاب ۱۲ برگزیدہ خواتین (حضرت حواؑ،حضرت سارہؑ،حضرت ہاجرہؑ،حضرت مریمؑ وغیرہ)‘ ۱۰۰ سے زائد صحابیات‘ چند تابعیات اور قریبی زمانے کی چند صالحات (والدہ علامہ اقبال‘ والدہ سید مودودی‘ والدہ میاں طفیل محمد‘ والدہ حکیم محمد سعید وغیرہ) کے تذکرے پر مشتمل ہے۔

مصنف نے یہ تذکرہ نہایت محنت و جاں فشانی اور تحقیق وتدقیق کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ مستند مآخذ (زیادہ تر قرآن و حدیث اور مسلّمہ ارباب سیر و مورخین) کو ترجیح دی ہے۔ اس طرح بیسیوں صالحات کے مفصّل حالات‘ صحت و جامعیت کے ساتھ سامنے آگئے ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے خوش بیاں واعظین نے اسرائیلیات کے زیراثر ان نفوسِ قدسیہ کے حالات میں بہت کچھ رطب و یابس شامل کر دیا ہے۔ مصنف ِ محترم نے حسبِ ضرورت مفید ومعلومات افزا حواشی کا اضافہ بھی کیا ہے۔ آخر میں شامل کتابیات‘ مصنف کی علمیت پر دال ہے۔

جناب طالب ہاشمی ‘ اپنے اسلوب میں صحت ِ زبان کا خاص خیال رکھتے ہیں‘ بلکہ املا‘ رموزِ اوقاف اور اعراب وغیرہ کے اہتمام خصوصاً اعلام و اسما کے صحت ِ تلفظ کے لیے ان کے ہاں خاصا تردّد ملتا ہے‘ جس سے دورِحاضر کے اکثر لکھنے والے بے نیاز و تہی دامن نظر آتے ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)


عورت ‘ قرآن و سنت اور تاریخ کے آئینے میں: ڈاکٹر عابدہ علی۔ تقسیم کنندگان:  کتاب سرائے‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ مجلاتی سائز‘ صفحات: ۱۱۰۸۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔

اس کائنات کا سب سے دل چسپ موضوع انسان ہے ‘مگر انسانوں میں عورت کئی اعتبار سے بحث ‘ سوال اور تحیّرکا موضوع بنا دی گئی ہے‘ حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا۔ عورت بنیادی طور پر تخلیق‘ شفقت ‘ توازن‘ محنت اور ایثاروقربانی کا پیکر ہے لیکن اس کے وجود کو بے جا طور پر بحث اور استحصال کا ہدف بنایا گیا۔ مختلف مذاہب اور قبائل نے اپنے روایتی قوانین کے شکنجے میں اسے کسا اور حقیقت یہ ہے کہ انسانیت سے کم تر درجے پر معاملہ کیا۔ اب سے چودہ سوسال قبل اسلام نے عورت کی اس درماندگی و بے چارگی کو دُور کر کے اسے جاہلیت کے قوانین سے آزاد کرایا۔ طرفہ تماشا دیکھیے کہ آج اسی جاہلیت کے طرفدار‘ اسلام پر عورت کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام دھرتے ہیں۔

زیرنظر کتاب‘ اس موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے‘ جس میں تحقیق کار نے عرق ریزی اور جاں کاہی سے ان اعتراضات کا تجزیہ پیش کیا ہے اور موضوع کی مناسبت سے‘ وسیع پیمانے پر ماخذ و مراجع سے ایک ایک چیز کو حسنِ ترتیب سے یکجا بھی کر دیا ہے‘ اس لیے اسے کتاب یامقالہ کہنے کے بجاے ’’اسلام میں عورت کے مقام و مرتبے پر انسائی کلوپیڈیا‘‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ کتاب عورت پر اسلام کے احسان اور رحمت کی تفصیل پیش کرتی ہے جس سے مسلمان عورت کے اعتماد کو سہارا اور ایمان کو تقویت ملتی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ایک عورت نے‘ عورت کے مقدمے کے جملہ نظائر و دلائل کو خوبی‘  مہارت اور لیاقت کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس طرح ایک اہم دینی خدمت انجام دی ہے‘ جس سے یہ کتاب اسلام میں عورت کے امتیازات کا تذکرہ اور اعتراضات کا شافی جواب بن گئی ہے۔ کتاب کا موضوعاتی اشاریہ مطالعے کے لیے خاصا معاون ہے۔ (سلیم منصور خالد)


تاریخِ اسلام کا سفر (حصہ اول)‘ سید علی اکبر رضوی۔ ناشر: جاوداں۔ پیش کش: ادارہ ترویج علومِ اسلامیہ بی-۸۱‘ کے ڈی ا اسکیم نمبر۱-اے‘ کارساز روڈ‘ کراچی۔مجلد‘ بڑا سائز‘ صفحات: ۶۷۰۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔

تاریخِ اسلام کے مطالعے کا آغاز عموماً دورِ رسالتؐ سے ہوتا ہے۔ لفظ اسلام کی زیادہ اصولی تعبیر کرلی جائے تو نبی اول حضرت آدمؑ کی بعثت تک بات جاسکتی ہے۔ لیکن سید علی اکبر رضوی صاحب نے خالق کائنات ‘ خلقت کائنات اور ارتقاے کائنات پر بھی بحث کی ہے اور پہلا عنوان ہی یہ ہے کہ ’خدا کب سے ہے؟‘ اس سے اس سفر کی ’وسعت‘ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جو ابھی آگے بھی جاری رہنا ہے۔

اس کے بعد کتب سماوی اور دیگر مذاہب کے بنیادی تصورات کا تذکرہ ہے جس میں ہندومت کے بارے میں نسبتاً زیادہ تفصیل فراہم کی گئی ہے۔ قرآن میں جن انبیا کا ذکر ہے‘ ان کے مختصر حالات جو بیشتر قرآن کے حوالے سے ہیں‘ بیان کیے گئے ہیں۔ ۶۵۵ صفحات کی کتاب (علاوہ اشاریہ) میں ٹھیک نصف‘ یعنی ۳۲۸ صفحات دورِ رسالتؐ سے قبل تک کے اِن مباحث پر مشتمل ہیں۔

اس حصہء کتاب میں جو مباحث اٹھائے گئے ہیں‘ ان پر گفتگو کا یہ تبصرہ‘ متحمل نہیں ہوسکتا۔ کائنات کی تخلیق اور انسان کی تخلیق بجاے خود نہایت وسیع موضوعات ہیں‘ آسان اور سادہ نہیں۔ صاحب ِ کتاب نے قرآن اور تفاسیر کی بنیاد پر جدید سائنسی بیانات کی روشنی میں کلام کیا ہے۔

کتاب کا نصف آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کے بیان پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر منظوراحمد نے اپنی تقریظ میں لکھا ہے کہ ’’آگے چل کرغالباً کچھ سخت مقامات آئیں گے‘‘، لیکن تبصرہ نگار کی رائے میں ان مقامات کا آغاز اسی حصے سے ہو گیا ہے۔ صاحب ِ کتاب اہل تشیع سے ہیں۔ بقول سلطان احمد اصطلاحی: ’’وہ اپنے مسلک کے مخلص پیروکار ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔ ان کا سراپا جس قدر جدید اور سیکولر نظر آئے لیکن اپنے مسلکی خیالات میں وہ بالکل قدیم اور خالص ہیں۔ تاریخ اسلام میں اس نقطۂ نظر کے مظاہر کا جابجا سامنے آنا فطری ہے۔ چنانچہ حسب ِ موقع اس کے نمونے کتاب میں دیکھے جا سکتے ہیں‘‘۔ (ص ۲۳۰)

صاحب ِ کتاب نے سنی ماخذ سے بھی استناد کیا ہے۔ تفاسیر بھی تمام علما کی سامنے    رہی ہیں۔ ہمارا دامن فکرونظر تنگ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کا نقطۂ نظر جان کر ہی       وسعت فکروذہن پیدا ہوسکتی ہے۔

کتاب بہت عمدہ‘ رواں اسلوب میں لکھی گئی ہے۔ علمی‘ تحقیقی امور خشک انداز کے بجاے پُرکشش انداز سے بیان ہوئے ہیں اور خوب صورت اشعار نے لطف دوبالا کر دیا ہے۔ کتاب نقشوں اور تصاویر سے بھی مزین ہے جو قاری کے لیے دل چسپی کا باعث ہیں۔ اعلیٰ معیار کی پیش کش ہے۔(مسلم سجاد)


مسجد سے میخانے تک‘ ابن العرب مکی۔ ناشر: دارالتذکیر‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۵۵۶۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔

مولانا عامر عثمانی کا ماہنامہ تجلّی تقریباً ربع صدی تک علمی و ادبی اور مذہبی دنیا میں اپنے جلوے بکھیرتا رہا۔ مولانا نہ صرف دین و دنیا کا نہایت گہرا شعور رکھتے تھے بلکہ قدرت نے انھیں حسِّ مزاح بھی نہایت معقول پیمانے پر ودیعت کر رکھی تھی۔  تجلّیکے ایک مستقل کالم ’’مسجد سے میخانے تک‘‘ میں اس کا خوب صورت مظاہرہ نظرآتا ہے۔ وہ ابن العرب مکی کے فرضی نام سے نہایت شگفتہ افسانے رقم کیا کرتے تھے۔ بعضعلماے دین کی بے ذوقی بلکہ کور ذوقی کی بنا پر تبلیغ دین اور مذہبی مباحث نہایت خشک اور یبوست زدہ بیانات بن کر رہ گئے جس کی وجہ سے ہمارا دینی مبلغ (الاماشاء اللہ) واعظ ِ خشک کے مرتبے پر فائزہوگیا۔ ایسے میں مولانا عثمانی کی یہ لطافت و خوش گوئی بہار کے تازہ جھونکے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اُردو ادب کے ناقدین نے مولانا کی دینی وابستگی اور مقصدپسندی پر ناک بھوں چڑھایا لیکن وہ ان کے طنزومزاح کے اعلیٰ معیار کے قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

اُردو شاعری میں ملا و مسٹر کی روایتی کش مکش کے حوالے سے کتاب کا عنوان گہری معنویت لیے ہوئے ہے۔ اس مجموعے کی تمام تحریریں خوب صورت اور دل چسپ افسانے معلوم ہوتے ہیں جن میں مزاح اور طنز کا تڑکا نہایت تناسب اور فن کاری کے ساتھ لگایا گیا ہے۔ ہمارے ہاں پیری مریدی کا ’’ادارہ‘‘ اس شدت سے لوگوں کے اذہان و قلوب میں جاگزیں ہوچکا ہے کہ لوگ پیر کی بُری سے بُری حرکت کو بھی معجزے سے تعبیر کرتے ہیں۔ مولانا عثمانی نے ایسے نام نہاد بزرگوں کے ’’کشف‘‘ کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑا ہے۔

یہ تمام کہانیاں کسی نہ کسی اخلاقی درس پر منتج ہوتی ہیں لیکن مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اچھوتے کہانی پن‘ رنگا رنگ کرداروں‘ مزے مزے کے مکالموں‘ شگفتہ اسلوب‘ بھرپور تجسس اور سب سے بڑھ کر تجاہلِ عارفانہ سے اسے تبلیغ یا پروپیگنڈا بننے سے صاف بچا لے گئے ہیں۔ ان کہانیوں کی سب سے خاص بات مصنف کی کردار نگاری ہے۔ اس کتاب میں قدم قدم پر ہمارا واسطہ دل چسپ اور زندگی سے بھرپور کرداروں سے پڑتا ہے۔ وہ کردار شیخ اصرار حسین کا ہو یا قاری سماعت علی کا‘ منشی مروارید علی ہوں یا مولوی منقار الدین‘ وہ خواجہ مسکین علی ہوں یا صوفی غمگین‘ وہ حاجی بردبار علی ہوں یا صوفی ھل من مزید‘ صوفی ٹاٹ شاہ بریلوی ہوں یا پیرجنگل شاہ‘ حاجی دلدل ہوں یا خواجہ قالوبلیٰ‘ یہ سب اپنے ناموں ہی کی طرح دل چسپ ہیں‘ بلکہ خود ملا اور ملائن کے کردار بھی قدم قدم پر پھلجھڑیاں چھوڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ مولانا عامرعثمانی کے طنز کا تیر عین نشانے پہ لگتا ہے اور ان کا مزاح دل کے غنچوں کے لیے بادِ نسیم کی خبر لاتا ہے۔ مولانا عثمانی نے تہذیبی و دینی افراط و تفریط کا خوب نوٹس لیا ہے۔ یہ کتاب دینی ادب میں فکاہیات کی صنف میں ایک خوب صورت اضافہ ہے۔ (ڈاکٹر اشفاق احمد ورک)


اہل کفر کے ساتھ تعلقات؟ وفاداری یا بیزاری اور اسلامی تعلیمات‘ مولانا مقصودالحسن فیضی۔ ناشر: نوراسلام اکیڈمی‘ پوسٹ بکس نمبر۶۶۔ ۵۱ ماڈل ٹائون‘ لاہور۔صفحات: ۳۳۲۔ قیمت: درج نہیں۔

مولف نے کفار‘ اہل کتاب اور مسلمانوںکے بارے میں ان کے رویے‘ اسلام میں ان کے حقوق‘ اور مسلمانوں کے لیے ان کے طرزِ زندگی سے بچنے کے خدائی احکامات و فرمودات نبویؐ کو محنت اور عرق ریزی سے جمع کیا ہے۔ یہ ایک لائق تحسین کوشش ہے جس سے ان موضوعات پر نئے لکھنے والوں کو سہولت حاصل ہوگی۔

اسلام کے نزدیک مسلم اور کافر کے درمیان فرق انسانی حقوق اور معاشرتی تعلقات میں مزاحم نہیں ہے۔ دورِ نبوت و خلافت میں خصوصاً اور بعد کے ادوار میں بھی‘مسلم معاشروں اور حکومتوں نے غیرمسلموں کے ساتھ حتی الوسع حسنِ سلوک سے کام لیا۔

چند فروعی مسائل (بالوں کی کٹنگ‘ تہہ بند و پاجامے ‘ پینٹ شرٹ‘ داڑھی اور مونچھ اور چمڑے کے موزے وغیرہ) پر بحث کتاب کی قدروقیمت میں اضافہ نہیں کرتی۔ مصنف نے بتایا ہے کہ دوسری قوموں کی زبانیں سیکھنے سے حضرت عمرؓ اور محمد بن سعد بن ابی وقاص نے منع کیا تھا (ص ۳۱۳)۔ یہ اس وقت کی حکمت و مصلحت ہوگی‘موجودہ دور میں غیرمسلم‘ نومسلم اور خود مسلمانوں میں دین کی اشاعت و تبلیغ‘ سفارت کاری ‘ معلومات کے تبادلے و فراہمی اور ترقی یافتہ قوموں کے تعلیمی و اقتصادی اور جدید ٹکنالوجی کے نظاموں سے استفادے اور دشمن کی سازشوں سے باخبر رہنے کے لیے ان کی زبانیں سیکھنا ضروری ہی نہیں بلکہ واجب و فرض ہے۔ اسی طرح دشمن کی زبان پر عبور کیے بغیر زبان کے ذریعے کیسے جہاد ہوگا؟

ہماری راے میں کتاب کی تدوین کو اور بہتر بنانے کی ضرورت تھی۔ کئی مقامات پر الفاظ اور جملے اصلاح طلب ہیں اور ایک ہی موضوع سے متعلق آیات و احادیث کی تکرار سے اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔ بہرحال مولف کا جذبہ قابلِ قدر اور کوشش بھی اچھی ہے۔ (عبدالجبار بھٹی)


شجرِ صحرا (مجلہ) مدیر: محمد شفیع جان بلوچ۔ ناشر: گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کلیاروالا‘ ضلع جھنگ۔ صفحات: ۱۱۰+ ۸۲۔ قیمت: درج نہیں۔

کلیار والا‘ جھنگ سے کوئی ۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک انتہائی پس ماندہ گائوں تھا۔ یہاں کے باشندوں کو شہروں کی کوئی سہولت میسرنہیں تھی۔ اس قصبے کے ایک سپوت حاجی حکیم اللہ بخش کلیار کی ربع صدی کی ان تھک جدوجہد کے نتیجے میں سڑک بن گئی‘ قریبی نہر پر پل تعمیر ہوا اور اب اس گائوں کا رابطہ شہروں سے ہو گیا ہے اور یہاں بچوں اور بچیوں کے لیے کئی تعلیمی ادارے بھی قائم ہوگئے ہیں۔ انھی میں سے ایک ادارے کا یہ پہلا میگزین ہے جس میں گائوں اور علاقے کی پوری تاریخ بیان کی گئی ہے۔ کچھ علمی اور معلوماتی مضامین بھی ہیں اور منظومات بھی۔ بہت سی تصاویر اور اساتذہ و طلبا کی سرگرمیاں وغیرہ۔

اُردو اور انگریزی دونوں حصے بڑی خوب صورتی سے مرتب اور شائع کیے گئے ہیں۔ یہ ادارہ اور اس کے پس منظر میں کی جانے والی کاوش میں پس ماندہ علاقوں کے لوگوں کے لیے ایک مثال ہے‘ سبق آموز اور عبرت انگیز۔ نیت نیک ہو اور حوصلہ بلند ہو تو ہر مشکل اور ہر عقدہ حل ہوسکتا ہے۔ (ر-ہ)


اسلام اور عصرِحاضر کے مسائل و حل‘ پروفیسر عبدالماجد۔ ناشر: ہزارہ انجمن براے سائنس مذہب مکالمہ (HSSRD) ‘مانسہرہ۔ ملنے کا پتا: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴- اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۷۰۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔

مصنف‘ حیوانیات کے استاد اور ایک مجلے اسلام اور سائنس کے مدیر ہیں۔ انھوں نے اپنے وہ تمام مضامین جمع کر دیے ہیں جو مضمون نویسی کے مختلف مقابلوں کے لیے لکھے گئے تھے۔ عدمِ برداشت کا قومی و بین الاقوامی رُجحان‘عصرِحاضر کے مسائل اور اُن کا حل‘ نیز فلاحی مملکت کے قیام کے لیے عملی تجاویز‘اچھے مضامین ہیں۔ اس کے علاوہ سیرت‘ اسلامی ثقافت اورمثالی نظامِ تعلیم کے موضوع پر بھی تحریریں شامل ہیں۔ ’’وقت: انسان کی سب سے قیمتی متاع‘‘ ایک اہم مضمون ہے۔

جناب قاری محمد طیب‘وحیدالدین خان‘ باوا محی الدین کے مضامین اور مدیر افکارِ معلم کے نام مصنف کا ایک خط بھی شامل ہے۔ اس طرح مضامین میں تنوع تو پیدا ہوگیا ہے لیکن ہمارے خیال میں‘ ’’مسائل کا حل‘‘ مزید محنت کا متلاشی ہے اور اس موضوع پر اُمت کے اہل دانش و بینش ہی کو نہیں بلکہ اداروں اور انجمنوں کو مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

افراد اُمت کو دین سے ناواقفیت‘ جہالت‘ پس ماندگی‘ سیاسی و فوجی زیردستی‘ غیریقینی مستقبل اور ذلّت و نکبت کے تاریک دور کا سامنا ہے۔ ضروری ہے کہ اصحابِ علم و دانش ان مسائل پر قارئین کی رہنمائی کریں تاکہ تاریک رات‘ روشن صبح میں تبدیل ہوسکے۔

حالاتِ حاضرہ اور اسلام کو درپیش چیلنج جیسے موضوعات سے دل چسپی رکھنے والے حضرات کے لیے یہ ایک معلوماتی کتاب ہے۔ (محمد ایوب منیر)


تعارف کتب

  • مولانا سعید احمد خان‘محمد عیسیٰ منصوری۔ ناشر: ورلڈ اسلامک فورم‘ لندن۔ملنے کا پتا: ندوۃ المعارف‘ ۱۳-کبیرسٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۲۔ قیمت: ۱۵ روپے۔] مولانا محمد الیاسؒ کے خاص تربیت یافتہ اور یکے از اکابر تبلیغی جماعت مولانا سعید احمدخان (۱۹۰۳ئ-۱۹۹۸ئ) کی ’’شخصیت‘ احوال اور دینی خدمات‘‘کا مختصر مگر جامع‘ دل چسپ اور سبق آموز تذکرہ۔[
  • اپنے حبیب سے ملیے‘ مولانا محمد عارف۔ ناشر: شعبہ جہاد کشمیر‘تنظیم اساتذہ پاکستان۔ صفحات: ۱۶۰۔ قیمت: ۱۵ روپے۔] احادیث کی روشنی میں رسولِ اکرمؐ کی شخصیت کا تذکرہ اور حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوئوں کا بیان--- ابتدائی ۵۰ صفحات کی تمہیدات۳‘۴ صفحات تک محدود و مختصررہتیں توکہیں بہتر تھا۔[
  • اکابر کی شامِ زندگی‘ مرتب عماد الدین محمود۔ ناشر: القاسم اکیڈمی‘ جامعہ ابوہریرہ‘ نوشہرہ‘ صوبہ سرحد۔صفحات: ۶۳۔ قیمت: ۲۴ روپے۔] بعض علماے دیوبند کے آخری ایام و لمحات کی کیفیات کا بیان کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت اُن کی حالت‘ گفتگو یا کیفیت یا کلمات کیا تھے؟ بقول مصنف: ’’شاید ان واقعات کو پڑھ کر ہمارے اندر اعمالِ صالحہ کی انگیخت پیدا ہو جو خاتمہ بالخیر کا باعث بنے‘‘۔[
  • پارہ الم (۱)‘ مرتب: قاری جاوید انور صدیقی۔ ناشر: آسان قرآن و فہم دین تحریک‘ ۵۲۸‘ اے بلاک‘ بٹ چوک‘ تاج پورہ اسکیم‘ مغل پورہ‘ لاہور۔صفحات: ۵۲۔ قیمت: درج نہیں۔] پہلا پارہ‘ متن مع ترجمہ ’’ایک ہی وقت میں لفظی و بامحاورہ آسان ترجمہ‘‘۔ ایک اچھی کوشش۔[
  • ترجمان الائمہ‘مدیراعلیٰ: مصباح الرحمن یوسفی۔ ناشر: دعوہ اکیڈمی‘ فیصل مسجد‘ پوسٹ بکس ۱۴۸۵‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔] دعوۃ اکیڈمی ائمہ مساجد کے سہ ماہی تربیتی کورس منعقد کرتی ہے۔ یہ نیا سہ ماہی رسالہ (یا خبرنامہ) تربیت ائمہ کورس نمبر۵۲ کے شرکاکے نام‘ پتوں‘ تاثرات‘ دورۂ لاہور کی روداد اور کچھ منتخب اقتبا سات وغیرہ پر مشتمل ہے۔[

نبیل شوکت وڑائچ ‘ منڈی بہاء الدین

’’مشرف‘طالبان اور سرحد میں شریعت بل کا نفاذ‘‘ (جولائی ۲۰۰۳ئ) اگرچہ ہر لحاظ سے جامع ہے‘ تاہم ایک اہم نکتے کے حوالے سے بہت تشنگی محسوس ہوئی ‘اور وہ ہے ’’اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق مشرف کا بیان‘‘۔ اس اہم نظریاتی معاملے پر سیرحاصل گفتگو کی ضرورت ہے--- تاکہ کارکنان و عامۃ الناس کے سامنے اس معاملے کے تمام پہلو نمایاں ہوجائیں۔حکمت مودودیؒ : ’’موجودہ مسلم معاشرے کا تاریخی پس منظر‘ کام کی راہیں‘‘بہت بروقت ہے ۔


عرفان احمد بھٹی‘ بہاول نگر

’’امریکہ کا المیہ‘‘ (جولائی ۲۰۰۳ئ) کے زیرعنوان سروے رپورٹ پر تبصرہ خاصا معذرت خواہانہ سا ہے۔ امریکہ کی اصل خامی جو درحقیقت تہذیب مغرب کی امتیازی خصوصیت ہے‘ وہ مادہ پرستی‘ مال و دولت کی کشش اور حرص ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جو پوری دنیا پر تسلط کی خواہش کا محور اور محرک ہے۔ ان  خواہشات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہب اور معاشرے کی اخلاقی پابندیاں ہیں‘ اور ان پابندیوں سے نجات کے لیے تہذیب مغرب کا نعرہ ہے: آزادی۔ مسلم اُمہ کے لیے تو ہرگز یہ آئیڈیل نہیں ہو سکتا۔ دولت کی حرص و ہوس کا سرمایہ دارانہ چکر جو امریکہ اور اُس کی تہذیب کے زیراثر پوری دنیا میں پھیل رہا ہے‘ اسی کا مظہریہ رائے ہے کہ دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ امریکہ کی دولت اور آزادی کو پسند کرتا ہے۔


شعیب عظیم‘ڈھاکہ

یہاں ایک صاحب کے ذریعے ہر ماہ ترجمان القرآن پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ دل و دماغ تازہ ہوجاتے ہیں اور ایمان میں پختگی آتی ہے۔ رسالہ صرف میں ہی نہیں پڑھتا ہوں بلکہ اس سے بہت سے دوسرے حضرات بھی مستفید ہوتے ہیں۔ یہ رسالہ گردش میں رہتا ہے۔ ان صاحب کو اسلام اور اُردو سے بہت محبت ہے۔ ہر وقت مسلمانوں کے حالِ زار پر فکرمند رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے محلے میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ قائم کر رکھا ہے جہاں ذریعۂ تعلیم اُردو ہے۔ لڑکوں کے لیے بھی اُردو اسکول کے لیے کوشاں ہیں مگر   اہل ثروت آگے نہیں آتے۔ ان کی بے حسی پر رونا آتا ہے۔

جون ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ’’پاک بھارت مذاکرات اور مسئلہ کشمیر‘‘ فکرانگیز ہے اور وقت کی اہم ضرورت۔ خرم مراد کا ’’قوموں کا عروج و زوال‘‘ وقت کی ضرورت ہے۔ محمد ایوب منیر کا ’’ذرائع ابلاغ کی جنگ‘‘ مسلمانوں کو پیش رفت کی دعوت دیتا ہے۔ بنگلہ زبان میں ترجمان القرآن جیسا ایک بھی رسالہ نہیں ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اس کا بنگلہ ایڈیشن ہونا چاہیے۔


شاہد شمسی‘ اسلام آباد

’’رسائل و مسائل‘‘میں بعض جوابات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ روایتی دینی فکر کے بجاے دورِ جدید کے تقاضوں کی خاطر نسبتاً لبرل نقطۂ نظر اختیار کیا جا رہا ہے (خصوصاً خواتین کے حوالے سے)۔ یہ میرا تاثر ہے‘ میں مثال دانستہ نہیں دے رہا۔

ہمارا معاشرہ خود بھی لبرل ہوتا جا رہا ہے ۔ دینی گھرانوں تک میں فرق پڑ گیا ہے۔ اس صورت حال میں اگر جواب دینے والے محترم حضرات یہ انداز رکھیں کہ مثالی صورت تو یہ اور یہ ہے‘ تاہم مجبوری کے لیے کوئی اس سے کم تر روش جس کی گنجایش نکل سکتی ہے اختیار کرنا چاہیے تو ایسا کیا جا سکتا ہے‘ لیکن احسن یہ ہے کہ مثالی طریقہ اختیار کرے۔

دونوں باتیں سامنے آجائیں تاکہ ہمارے معاشرے میں جو خواتین عظمت کا مینار ہیں وہ عظمت کی راہ اپنا کر مزید اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جائیں‘ اور جو ابھی اپنے اندر اتنی ہمت نہیں پاتیں‘وہ ممکنہ اجازت کو استعمال کرلیں اور بہتر کی کوشش جاری رکھیں‘ مطمئن نہ ہو جائیں۔


احمد سجاد‘ کراچی

’’معاشری مسائل میں راہ صواب‘‘ (بحث و نظر‘ جولائی ۲۰۰۳ئ) میں مضمون نگار نے بین السطور بلکہ غالباً سطورمیں یہ تاثر دیا ہے کہ گویا کہ اب ترجمان القرآن کے ’’رسائل و مسائل‘‘ میں نصوص شرعی کی بنیاد پر جواب نہیں دیے جاتے۔ مجھے ان کی یہ بات کچھ زیادتی محسوس ہوئی۔ یقینا جوابات کا معیار وہ نہیں ہے‘ اور غالباً نہیں ہو سکتا‘ جو محترم مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنے دور میں قائم کیا تھا لیکن کوشش قرآن و سنت کا نقطۂ نظر ہی معلوم کر کے بیان کرنے کی نظر آتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر حضرات اپنے تصورِ دین کو (بلکہ مخصوص مراسم اور رواجوں کو)ہی دین سمجھ لیتے ہیں اور اس حد تک سمجھ لیتے ہیں کہ قرآن و سنت کو بھی اس کا پابند بنا دینا منشاے دین سمجھتے ہیں۔ قرآن و سنت میں بنیادی طور پر جو وسعت اور ہر دور اور بدلتے ہوئے حالات کے لیے رہنمائی کے اصول ہیں‘ وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ سید مودودیؒ کا اصل کارنامہ ہی یہ ہے کہ انھوں نے لکیرپیٹنے کے بجاے زمانے کے تقاضوں کے مطابق دین کو سمجھا اور سمجھایا۔ ان کے جوابات ان کے دور کے لحاظ سے ماڈرن ہوتے تھے اور روایت پسندوں کو پسند نہ آتے تھے۔ ان کا حقیقی سبق یہ نہیں ہے کہ ہم ان کی باتوں کو دہرائیں‘ بلکہ یہ ہے کہ درپیش مسائل میں قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کریں۔ میرے خیال میں تو ’’رسائل و مسائل‘‘ میں آج بھی یہی کوشش احسن طریقے سے کی جاتی ہے‘ اور دورِحاضر کے مسلمانوں کے لیے گرہ کشائی کا سبب بنتی ہے۔ دین نے جو وسعت دی ہے‘ وہ دین کا حصہ ہے اور اس سے فائدہ نہ اٹھانا‘ دین کا منشا نہیں بلکہ فائدہ اٹھانا دین کا منشاہے۔ راہِ صواب کی تلاش اسی ذہن سے ہونا چاہیے۔


عبداللّٰہ گوہر‘ کراچی

آج کل مغرب کی کتابی دنیا میں ہیری پوٹرکا غلغلہ ہے۔ ’’پوٹرمینیا‘‘ کی اصطلاح چل پڑی ہے۔ آپ کے قارئین کے لیے کچھ دل چسپ معلومات: ہیری پوٹر‘۳۷ سالہ برطانوی مصنفہ جے کے رولنگ کا تخلیق کردہ کردار ہے جو پہلے ناول میں ۱۱ سال کا تھا‘ اب پانچویں میں ۱۵ سال کا ہوچکا ہے۔ مصنفہ کے وعدے کے مطابق کل سات لکھنا ہیں‘ یعنی ابھی دو اور آئیں گے۔ چار ناول ۱۹ کروڑ ۲۰ لاکھ کی تعداد میں ۵۵ زبانوں میں شائع ہوکر ۲۰۰ممالک میں فروخت ہوئے۔پانچواں ‘پبلشرنے ۸۵ لاکھ شائع کیا ہے جو ۲۰ جون سے فروخت ہو رہا ہے۔ لاہور تک میں ۱۰ ہزار کا جعلی ایڈیشن شائع کیا گیا ہے۔۷۰۰ سے زائد صفحات کا ناول ہے۔ اشاعت کے دوران حفاظت مسئلہ رہا کہ کوئی جعلی شائع نہ کر دے۔ ایک ٹرک سے ۷ ہزار ایک سو ۸۰ چوری ہوئے۔ ایک اخبار نے کچھ حصہ شائع کیا تو اس پر ۱۰۰ ملین ڈالر کا مقدمہ مصنفہ اور پبلشرنے کیا ہے۔ ایک پریس کے ملازم کو کچھ صفحے فروخت کرنے کی کوشش کے الزام میں سزا دی گئی۔

پہلے تین ناولوں پر فلمیں بن چکی ہیں اور پوٹر کے لباس‘ مشاغل اور عادات و اطوار کی خوب نقلیں ہورہی ہیں۔ مصنفہ کو کبھی یہ فکر ہوتی تھی کہ فریج میں کھانے کے لیے کچھ ہے یا نہیں‘ یا اب وہ ملکہ الزبتھ سے زیادہ مال دار ہے‘ ۵۰۰ ملین ڈالر کی مالک ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں رہتی ہے۔ ناول میں کیا ہے؟ سبب قبولیت کیا ہے؟ مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ میں نے ہاتھ میں لیا‘وزن کیا‘ پھر پڑھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ گمان ہوتا ہے کہ کچھ طلسم ہوش ربا قسم کی چیز ہے جس نے مغرب کو دیوانہ بنا دیا ہے۔ اُس دنیا کا اندازہ کروانے کے لیے یہ کچھ باتیں آپ کو لکھنا مناسب محسوس ہوا۔ اور اس لیے بھی کہ ہم اپنی دعوتی کتب کے ساتھ کیا کرتے ہیں‘ اس طرف بھی توجہ ہو۔

  • ’’تدوین قرآن‘‘ (جولائی ۲۰۰۳ئ) میں جنگ یرموک (ص ۴۶) کے بجاے جنگ یمامہ پڑھا جائے۔ (ادارہ)

عالمِ انسانیت کے ’’حالیہ‘‘مصائب

مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک جہاں کہیں انسانی نسل آباد ہے‘ آج ہر طرف بے چینی‘ اضطراب‘ مصیبت‘ تباہی و بربادی اور تزلزل و انتشار کے عجیب وحشت ناک اور پُرالم مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ دنیا ایسے دورِ انقلاب سے گزر رہی ہے جس میں کئی انقلابی محرکات اُلجھ کر گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے کا سارا نظامِ حیات زیروزبر ہوکر کسی نئے نقشے پر مرتب ہونے والا ہے اور پرانے نظام کی بوسیدگی و فرسودگی سے اُکتا کر منتظمانِ قضا و قدر یہ پکار اُٹھے ہیں   ؎

بیاتاگل بہ افشانیم ومَے در ساغر اندازیم

فلک را سقف بستگافیم و طرح نودراندازیم

انقلاب کی بدترین ہولناکی اُن ممالک میں برپا ہے جہاں جنگ ] عظیم دوم[ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ یورپ کے تمدّن زاروں پر نگاہ کیجیے کہ کیا سے کیا ہوگئے ہیں۔ آبادیاں ویران ہیں    اور ویرانے محشرستان۔ سربفلک محلات آتش زدگی اور بربادی کی ہولناک داستان سنانے کے لیے    اپنا انجرپنجرآسمان کو دکھا رہے ہیں۔ سرسبز جنگل اور زرخیززرعی میدان جلے بجھے کوئلوں کے ڈھیر اور    بے ترتیب خس و خاشاک کے انباروں سے اٹے پڑے ہیں۔ آہ! کیا تقدیرِ اُمم کا مفسر وَجَعَلْنَاھُمْ حَصِیْدًا خَامِدِیْنکی واقعی تفسیر سمجھا رہا ہے؟

جس سائنس کی ترقی نے انسان کو مہذب و متمدن بنانے میں کئی صدیوں کی مسلسل محنت سے ارتقائی صورت حال پیداکرنے میں مذہب اور اخلاق کے روحانی نظام کا ہاتھ بٹایا تھا‘ اب وہی سائنس انقلاب کے فرشتوں کے لیے ایسے ایسے ہلاکت آفریں اسلحہ تیار کر رہا ہے اور بربادی کے ایسے بھیانک مناظرآنکھوں کے سامنے لا رہا ہے کہ الامان والحفیظ۔ نہ کسی آنکھ نے اس سے پہلے تباہی کا ایسا سماں دیکھا‘ نہ کسی کان نے ایسے مہالک سنے اور نہ کسی ذہن نے اُن کا تصور باندھا۔ جن ممالک میں جنگ کا دیو دندناتا پھر رہا ہے اُن کی دکھ بھری داستان سے تصور تک کی روح لرزتی ہے۔ (’’اجتماعیت کی شیرازہ بندی‘‘، ڈاکٹر عبدالقوی لقمان‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۳‘ عدد ۱-۲‘ رجب و شعبان ۱۳۶۲ھ‘ جولائی ‘اگست ۱۹۴۳ئ‘ ص ۴۱-۴۲)