مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۰۳

شادی پر ویڈیو بنوانے سے انکار

سوال: میں الحمدللہ تحریکِ اسلامی سے وابستہ ہوں اور شرعی پردہ بھی کرتی ہوں۔ میری شادی عنقریب ہونے والی ہے۔ میرے گھر کا ماحول اسلامی ضرور ہے لیکن پھر بھی میرے گھر والے تصاویر اتروانا اور ویڈیو فلم بنوانا پسند کرتے ہیں۔ میری شادی میرے چچا کے بیٹے سے ہو رہی ہے۔ میرے چچا کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ میرے لیے یہ بات باعث ِپریشانی ہے کہ اب میں کیا کروں‘ جب کہ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اگر کوئی کسی سے زیادتی کرے تو گناہ زیادتی کرنے والے کے سرجاتا ہے۔ میرے چچا بھی یہی کہتے ہیں کہ گناہ تو ہمارے ہی سرہوگا۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ میں کوئی کوشش ہی نہ کروں۔ پریشانی صرف میری شادی تک ہے۔ بعد میں وہ مجھے پردے کے حوالے سے کچھ نہیں کہیں گے۔ لیکن میرے لیے تو شادی پر بے پردہ ہونا بھی بہت بڑی بات اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے‘   جب کہ شادی کے معاملے میں میرے گھر والے اور چچابات ماننے کو تیار نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ نہ میری مووی بنے اور نہ میری تصویریں ہی اتاری جائیں۔ میرے تمام خاندان والے ایک طرف ہیں اور میں توکل علی اللہ ایک طرف ہوں۔ براہ مہربانی رہنمائی  فرما دیجیے کہ اس سلسلے میں مجھے کیا انتہائی اقدام کرنا چاہیے اور شادی کے وقت اپنا چہرہ کتنا اور کس حد تک کھول سکتی ہوں؟

جواب: شادی کے موقع پر ویڈیو فلم (مووی) بنوانا غیرضروری شغل ہونے کے علاوہ فحاشی اور عریانی کی اشاعت کا ذریعہ بھی ہے۔ شادی کے موقع پر دلہن بنی سنوری ہوئی ہوتی ہے اور جو خواتین شادی میں شرکت کرتی ہیں وہ بھی بن سنور کر آتی ہیں۔ ایسی صورت میں جو مووی بنے گی‘ اور دکھلائی جائے گی‘ اس کے نقصانات بہت زیادہ ہوں گے۔ ایسی مووی جب بنائی جاتی ہے تو اس وقت بھی منکرات کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اس موقع پر صرف دلہن ہی نہیں دوسری   خواتین جو شادی میں شریک ہوتی ہیں‘ ان سب کی بھی مووی بنتی ہے‘ جو بے نقاب اور زرق برق لباس پہنے ہوتی ہیں‘ بعض نیم عریاں لباس میں بھی ہوسکتی ہیں‘ سب کی تصویر اس میں آئے گی۔ مرد و زن مخلوط ہوں‘ تو بیک وقت دونوں کی‘ اور الگ الگ ہوں تب بھی دونوں فلم میں یک جا ہوجائیں گے۔ مووی بنانے والا اور اس کے رفقا خواتین کی مجلس میں جائیں گے‘ ان کے مختلف پوز دیکھیں گے اور ان کا عکس لیں گے۔ گویا فلم کی تیاری میں بھی فحاشی اور عریانی ہے اور بعد میں جب اسے دکھایا جائے گا تب بھی محرم اور غیرمحرم‘ تمام اسے دیکھیں گے اور ان میں جنسی جذبات اُبھریں گے اور اس کے نتیجے میں برائی کے میلانات پروان چڑھیں گے۔ یہ تو پہلی خرابی ہے۔

دوسری خرابی اس میں بے غیرتی اور بے حمیتی کو فروغ دینا ہے۔ ایک شوہر اپنی بیوی‘ اور ماں باپ اپنی بیٹی کو حسن و جمال کے مظاہرے کے لیے پیش کریں تو اس میں غیرت و حمیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

تیسری خرابی یہ ہے کہ ایک خاتون شادی کے موقع پر شرم و حیا کا پیکر ہوتی ہے۔ باکرہ خاتون کے بارے میں تو حدیث میں آتا ہے ’’اس کا اِذن خاموشی ہے‘‘۔ اس لیے کہ اس موقع پر اس کی زبان گنگ ہوتی ہے۔ وہ یہ لفظ اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتی کہ میری طرف سے نکاح کی اجازت ہے۔ ایسی صورت میں اس کی مووی بنانا اس کے شرم و حیا کے جذبات پر ظلمِ عظیم ہے۔

ایسے میں کسی خاتون کا یہ کہنا ہے کہ میں اپنی مووی نہیں بنوائوں گی‘ قابل قدر و تحسین ہے۔ اس کی یہ خواہش ایسی ہے کہ پورے خاندان اور ہونے والے شوہر کو اس کا پورا احترام کرنا چاہیے۔ معاشرے کو ایسی خواتین کی خواہش کی تکمیل کے لیے فضا پیدا کرنا چاہیے اور مووی بنانے کے رجحان کو روکنا چاہیے اور روکنے میں مدد دینا چاہیے۔ خود بچی کے والدین اور اقربا کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ نکاح جیسی پاکیزہ اور بابرکت محفل کو فحاشی و عریانی اور غلط رجحانات کے فروغ اور دین کے واضح احکام کی نافرمانی کر کے منکرات کے مرتکب ہونے کی جرأت‘ خدا کے مقابلے میں کس حوصلے پر کر رہے ہیں! کیا ان میں خدا کے عذاب کا سامنا کرنے کی جرأت ہے؟ انھیں تو اپنی بچی کی اس خواہش پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے اور خدا کا شکرادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے انھیں ایسی شرم و حیا اور سچے ایمان والی بچی سے نوازا ہے‘ چہ جائیکہ والدین اور بزرگ ایسی قبیح رسوم کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر دین دار گھرانے بھی ایسا کریں اور یہ روش عام ہو جائے تو ہماری اخلاقی اقدار کا کیا بنے گا اور معاشرتی انحطاط کس تیزی سے وقوع پذیر ہوگا-- - یہ بات بھی سوچنے کی ہے!

ایسی صورت میں اگر کوئی بچی اپنی اس شرعی خواہش کو کہ اس کی شادی کی مووی نہ بنائی جائے‘ اپنے والدین تک پہنچاتی ہے‘ انھیں قائل کرنے کی اور ہم نوا بنانے کی پوری کوشش کرتی ہے‘ سسرال والوں تک بھی اپنے جذبات اور آواز پہنچاتی ہے اور اس کے بعد بھی اگر وہ نہ مانیں‘ تو وہ حکمت و تدبیر اور ماں باپ کے آداب کو ملحوظ رکھ کر دھمکی بھی دے سکتی ہے کہ اگر مووی بنائی گئی تو وہ نکاح کی اجازت نہ دے گی۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی یہ دھمکی کارگر ہو جائے۔ البتہ ان ساری کوششوں کے باوجود اگر موقع پر مووی بنانے والے آجائیں تو ایسی صورت میں ایک حد تک رکاوٹ ڈالنے کی تدبیر کرے لیکن اگر شرم و حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو پھر نکاح میں رکاوٹ نہ ڈالے کیونکہ نکاح ایک ایسی سنت ہے جس پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔

موجودہ حالات میں اگر کسی بچی کو ٹھیک شریعت کے مطابق رخصت نہیں کیا جاتا اور  اس میں مووی وغیرہ منکرات کا ارتکاب ہوتا ہے تو وہ رخصت ہوتے وقت انکار کر کے اپنے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کرے۔ ایسی صورت میں اگر منکرات کا ارتکاب یا ان میں اضافہ ہوگا تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جنھوں نے اس کی اجازت دی‘ اور پورے معاشرے پر ہے۔ معاشرے کو چاہیے کہ وہ اسے روکے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس کی سفارش کی ہے۔ اگر کھانوں کے رواج کو حکومت روک سکتی ہے تو مووی جیسی ناروا سرگرمی کو کیوں نہیں روک سکتی۔ اگر حکومت اس کے لیے تیار نہیں تو عوام کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ نیک لوگوں کو ایسی شادیوں میں شامل ہونے اور علما کو نکاح پڑھانے سے انکار کر دینا چاہیے۔ اگر ایسا ہوگا تو اس برائی کا انسدادہوجائے گا۔ واللّٰہ اعلم!

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے عزم اور جذبے کی جزا دے‘ آپ کے لیے آسانی پیدا کرے اور آپ کے اہلِ خاندان کے دلوں میں تبدیلی پیدا کر دے۔ (مولانا عبدالمالک)


اذان کے بعد کی دعا ___ ایک شبہہ

س:  پاکستان ٹیلی ویژن پر نمازِ عشاء کی اذان کے بعد دعا پڑھی جاتی ہے: ’’اے اللہ! اس اذان کے بعد کھڑی ہونے والی نماز کے رب‘ تو محمد(ﷺ)کو وسیلہ‘ فضیلت اور بلند درجہ عطا فرما اور ان کو اس مقامِ محمود پر پہنچا دے جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا‘‘۔ ہم جو مقامِ رسالتؐ کی معرفت رکھتے ہیں تو کیا ہم گنہگاروں کو زیب دیتا ہے کہ ہم اللہ سے آپؐ کے لیے وسیلہ‘ فضیلت اور بلند درجے کی دعا کریں؟ کیا آج ۱۴۲۰ سال کے بعد حضوؐر کو مقامِ محمود نصیب نہیں ہوا؟ اور پھر ان سفارشات کے بعد ہم اللہ کو یہ بھی یاد دلا رہے ہیں کہ تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دعا توہینِ رسالتؐ ہے۔ آپ سے استدعا ہے کہ اس پر بصیرت افروز روشنی ڈال کر مجھے ممنون فرمایئے۔

ج :  دراصل دعا کی حیثیت نہ صرف ایک درخواست کی ہے جو عموماً کسی ایسی چیز کی بابت کی جاتی ہے جس سے ہم محروم ہوں بلکہ دعا شکر اور احساسِ ممنونیت کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ گرمی کا موسم ہو یا سردی کا‘ ہم جب پیاس بجھانے کے لیے پانی پیتے ہیں تو شکر کے جذبات کے ساتھ بے ساختہ دعا زبان پہ آتی ہے کہ اس رب کی تعریف و حمد جس نے پینے اور کھانے کو دیا اور ہمیں مسلمانوں میں سے بنایا۔

اذان کے بعد دعا کے حوالے سے آپ نے جو سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس طرح       ہم  توہینِ رسالتؐ کے مرتکب ہوتے ہیں؟ یہ ایک دل چسپ الٹی منطق معلوم ہوتی ہے۔ دراصل اس دعا کو بخاری میں باب بعدالاذان میں حضرت جابربن عبداللہؓ سے روایت کیا گیا ہے جس میں حضور نبی کریمؐ یہ فرماتے ہیں کہ جس نے یہ دعا اذان سننے کے بعد پڑھی تو قیامت کے روز اسے میری شفاعت نصیب ہوگی۔

اگر اس دعا کی تعلیم خود شارع اعظمؐ نے اپنے ماننے والوں کو اس وعدے کے ساتھ دی ہے کہ وہ خود اس دعا کے کرنے والے کی شفاعت فرمائیں گے تو اس سے توہین کس طرح ہو سکتی ہے؟ اس لیے میں نے اسے الٹی منطق سے تعبیر کیا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ بخاری اور مسلم میںحضورؐ     کے بار بار استغفار کرنے کا بیان آتا ہے اور بعض احادیثِ صحیحہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپؐ ۷۰ مرتبہ یا زائد مرتبہ استغفار صرف ایک دن میں فرماتے تھے۔ اگر آپؐ کی بیان کردہ الٹی منطق استعمال کی جائے تو کیا نعوذباللہ اس کا سببؐ آپ کی طرف سے کسی بھول چوک کا ہونا تھا‘ جب کہ آپؐ معصوم تھے۔ اس لیے بجاے الٹی منطق کے‘ ہمیں دین کو جو سیدھا ہے ‘آسان ہے اور قابلِ عمل ہے‘ اس کے مصادر ‘یعنی قرآن و سنت سے براہِ راست اخذ کرنا چاہیے اور ذہن کو گم راہ ہونے سے بچانا چاہیے۔

احادیث یہ وضاحت بھی کرتی ہیں کہ حضور نبی کریمؐ نے اپنے اصحاب سے ذکر فرمایا کہ جنت میں ایک مقامِ محمود ہے‘ جو اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی عنایت سے کسی ایک نبی کو دے گا اور یہ فرمایا کہ آپؐ کی خواہش ہے کہ وہ نبی آپؐ ہوں۔

اذان سننے کے بعد جو دعا کی جاتی ہے وہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر اپنے اسوۂ حسنہ کے ذریعے جو احسانِ عظیم کیا ہے‘ یعنی تعلیمات اور اس کی عملی شکل کو ہمارے لیے آسان بناکر پیش کیا ہے‘ اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ہم یہ اذان سننے کے بعد رب کریم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی کریمؐ کو مقامِ محمود عطا کرے۔ یہ کم سے کم شکریہ ہے جو نبی کریمؐ کے اُمت پر احسانات کا ہم ادا کرسکتے ہیں۔

اذان میں وسیلے کا ذکر اس معنی میں نہیں ہے جس میں ہم اُردو میں اسے استعمال کرتے ہیں کہ فلاں صاحب کے وسیلے سے کوئی کام کروا لیا جائے۔ یہ بھی مقامِ محمود کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر‘ قرآن کریم کی تعلیمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی توفیق دے۔ (پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد)


جلدبازی شیطان کا کام

س:  دو مقولے ہیں جنھیں ہم عام طور پر لوگوں کی زبانوں سے سنتے ہیں اور وہ دونوں مقولے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پہلا مقولہ یہ ہے کہ ’’جلدبازی شیطان کا کام ہے‘‘ اور دوسرا یہ کہ ’’سب سے بھلی نیکی وہ ہے جو جلد کر لی جائے‘‘۔ کیا یہ دونوں مقولے احادیث نبویؐ ہیں؟ اگر ہیں تو ان دونوں کے درمیان مطابقت کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اگر حدیث نہیں ہیں تو ان میں کون سا صحیح ہے اور کون سا غلط؟

ج:  پہلا مقولہ تو ایک حدیث نبوی کا جزو ہے۔ پوری حدیث یوں ہے:

الأناۃ  من  اللّٰہ  والعجلۃ  من الشیطان (ترمذی)‘ ٹھیر ٹھیر کر عمدگی سے کام کرنا اللہ کی صفت ہے اور جلدبازی شیطان کی صفت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جلدبازی کو ہر زمانے میں اور ہر قوم نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ اس کے برعکس ٹھیرٹھیرکر خوش اسلوبی کے ساتھ کام نمٹانے کی تعریف ہرزمانے کے ذی شعور لوگوں نے کی ہے۔ اس مفہوم کا حامل ایک مشہور مقولہ ہے:  فی التأنی السلامۃ وفی العجلۃ الندامۃ‘ سوچ بچار کر ٹھیرٹھیر کر کام کرنے میں سلامتی ہے‘ اور جلدبازی میں ندامت ہے۔

ابن قیم فرماتے ہیں کہ جلدبازی کو شیطان کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جلدبازی میں جو فیصلہ کیا جاتا ہے اس میں ہلکا پن‘ غصہ اور طیش شامل ہوتا ہے جو بندے کو وقار‘ بردباری اور ثبات سے دُور کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے نتائج ہمیشہ برے ہوتے ہیں۔ حدیث نبویؐ ہے: یستجاب للعبد مالم یستعجل(بخاری)‘ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے اگر وہ جلدی نہ مچائے۔

رہا دوسرا مقولہ تووہ کوئی حدیث نہیں ہے۔ البتہ حضرت عباسؓ سے اسی مفہوم کا ایک قول مروی ہے۔ آپؓ نے فرمایا کہ: لا یتم المعروف الا بتعجیلہ، بھلا کام اُسی وقت پورا ہوتا ہے جب اسے جلد از جلد کرلیا جائے۔ اس قول میں بھلائی کے کام کو جلد کرنے کی ترغیب ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنا اور اس کی طرف تیزی سے لپکنا‘ ایک پسندیدہ اور قابلِ تعریف صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کی تعریف     فرمائی ہے:  اُوْلٰٓئِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَھُمْ لَھَا سٰبِقُوْنَo (المومنون ۲۳:۶۱) ’’یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔ ایک دوسری آیت ہے: فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ (البقرہ ۲:۱۴۸) ’’بھلائیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائو‘‘۔ چنانچہ یہ دوسرا مقولہ اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے بالکل درست ہے گرچہ یہ حدیث نہیں ہے۔ اور اس مقولے اور مذکورہ حدیث کے درمیان معنی و مفہوم کے اعتبار سے کوئی تناقض بھی نہیں ہے کہ مطابقت کی ضرورت ہو۔

علماے کرام نے ٹھیر ٹھیر کر کام کرنے کو قابل تعریف اور جلدبازی کو قابل مذمت تین شرطوں کے ساتھ ٹھیرایاہے:

۱-  پہلی شرط یہ ہے کہ وہ کام جس کا کرنا مقصود ہو اگر اطاعت الٰہی اور بھلائی اور نیکی کے دائرے میں آتاہے تو اس میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنا اور اس میں جلدبازی کرنا‘   نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ یہی مطلوب و مقصود ہے۔ نبیؐ نے حضرت علی ؓ کو ہدایت کی تھی کہ اے علی ؓ!تم تین چیزوں میں کبھی تاخیر نہ کرنا: نماز جب اس کا وقت ہوجائے‘ جنازہ جب سامنے لاکر رکھ دیا جائے‘ اور کنواری لڑکی کا نکاح جب اس کا بَر مل جائے۔ (ترمذی)

مشہور عالم دین ابوالعیناء کو کسی نے جلدبازی سے منع کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو موسٰی ؑکبھی اللہ سے یہ نہ کہتے کہ: وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی o  (طٰہٰ ۲۰:۸۴) ’’اور اے رب میں تیرے پاس جلدی چلا آیا تاکہ تو راضی ہو جائے‘‘۔

۲-  وہ جلدبازی قابل مذمت ہے‘ جو بغیر غوروفکر اور تدبر کے ہو۔ کسی کام میں غوروفکر اور مشورہ کر لینے کے بعد اس میں ٹال مٹول سے کام لینا کوئی تعریف کی بات نہیں۔ یہ تو سستی اور کاہلی کی علامت ہے۔ قرآن فرماتا ہے: وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط (اٰل عمرٰن ۳:۱۵۹) ’’اور دین کے کام میں ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو۔ پھر جب تمھارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسا کرو‘‘۔

۳-  ٹھیر ٹھیر کر کام کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اتنی تاخیر کر دے کہ مقصد ہی فوت ہو جائے‘ یا مطلوبہ کام کا وقت ہی نکل جائے۔ اس لیے کہ وقت نکل جانے کے بعد کف ِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔ (علامہ یوسف القرضاوی‘ فتاویٰ یوسف القرضاوی‘ ترجمہ:  سید زاہد اصغر فلاحی‘ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز‘ نئی دہلی‘ ص ۵۵-۵۷)

کارکن اور قیادت سے تحریک کے تقاضے‘ خرم مراد۔ شائع کردہ: منشورات‘ منصورہ‘ ملتان روڈ‘ لاہور۔ صفحات:  ۲۶۶۔ قیمت: ۶۰ روپے

ہر دفعہ جب خرم مراد مرحوم کی کوئی نئی کتاب‘ کوئی نئی تحریر سامنے آتی ہے‘ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی ہمارے درمیان موجود ہیں‘ ہم سے جدا نہیں ہوئے ہیں‘ اور تحریک ہی نہیں بلکہ اسلام سے وابستہ نوجوانوں کے تزکیے‘ ہدایت اور راہ نمائی کے کاموں میں بدستور مصروف و منہمک ہیں۔

ان کی زیرنظر تصنیف (اشاعت: جولائی ۲۰۰۳ئ) ان کی فکری اور تحریکی کاوشوں کی ایک نہایت قیمتی دستاویز ہے‘ جسے ان کے مختلف خطبات سے ان کے ایک رفیقِ کار امجد عباسی نے نہایت محنت اور خوب صورتی سے مدون کیا ہے۔

اگرچہ ’’تحریک‘‘اور ’’اسلامی تحریک‘‘ کے الفاظ عام طور پر ’’جماعت اسلامی‘‘ کے لیے استعمال ہوتے ہیں‘ جس کے بانی اور اولین قائد سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے‘ لیکن خرم مراد مرحوم اس اصطلاح کو وسیع‘ بنیادی اور ہمہ گیر معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ تحریک اسلامی کی اصطلاح تو نئی ہے‘ لیکن یہ اتنی ہی قدیم ہے‘ جتنا خود اسلام۔ حضرت ابراہیم ؑ اس کے پہلے اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری نمونہ ہیں۔ جہاد (اپنے بنیادی مفہوم میں) تحریک کا بنیادی تقاضا ہے‘ اور اللہ کی رضا کا حصول اس کا ہدف اور جنت اس کی منزل اور انعام ہے۔ لیکن تنظیم یا جماعت کو مقصود قرار نہیں دے دینا چاہیے۔ منصوبہ بندی اگرچہ ناگزیر ہے‘ تاہم تنظیم ہلکی پھلکی ہو‘ وقت کی قدر کی جائے اور اجتہاد سے اغماض نہ کیا جائے۔ وہ موثر قیادت کی خصوصیات کی وضاحت کرتے ہیں‘ جس میں احساسِ ذمہ داری ہو‘ جواب دہی کا تصور راسخ ہو‘ اللہ کی تائید اور نصرت پر ایمان ہو اور خود اپنے آپ پر بھی بھروسا ہو‘ اہم اورغیر اہم باتوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہو اور ترجیحات کا درست تعین کر سکے۔ تربیت سے وابستہ قائدین اور کارکن‘ سبھی کی اوّلین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود اپنی تربیت کی طرف پہلے توجہ دیں ۔ مگر تربیت محض کسی    کتابِ ہدایت کو پڑھ کر نہیں حاصل ہوتی‘ یہ عملی زندگی میں کود پڑنے اور مسلسل جدوجہد ہی سے حاصل ہوتی ہے‘ اور اہم بات یہ ہے کہ درسِ تربیت‘ تربیتی پروگرام اور کارکنوں اور قائدین کی زندگیوں‘ نیز تحریک کے راستے اور سمت میں مطابقت ہونی چاہیے ۔اگر ان میں ہم آہنگی نہ ہو تو ساری تربیت غیرموثر ہوجائے گی۔ خوداحتسابی‘ رحمت و شفقت‘ دعوت و اخوت‘ گہرے اور موثر رابطے‘ تحریک اور دعوت کو پھیلانے اور اُسے مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

لیکن کوئی بھی اسلامی تحریک‘ افراد کے انفرادی تزکیۂ نفس کے بغیر موثر نہیں ہوسکتی۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ تزکیے کا مرکز ’’قلب‘‘ہے۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ نے جس چیز پر کامیابی اور نجات کا وعدہ فرمایا ہے‘ وہ اعمال سے پہلے ’’قلب‘‘ ہے۔ ’’قلب ِ سلیم‘‘ لیے ہوئے اللہ کے سامنے حاضر ہونے ہی پر مدارِ نجات ہے‘ اور اس کے لیے صفت ’’احسان‘‘ (جس نے مسلمانوں کے سوادِاعظم میں ’’تصوف‘‘ کی صورت اختیار کرلی) ناگزیر ہے۔ اللہ کی بندگی اس طرح کیجیے‘ گویا آپ اُسے دیکھ رہے ہیں‘ورنہ کم از کم یہ تو ضرور ہو‘ گویا اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔

نصف کے قریب کتاب ’’تزکیۂ نفس‘‘ کے طریقوں‘ ذکر‘نماز‘ تلاوت‘ تعلق باللہ‘ شکر‘استغفار‘ دُعا اور آخرت کے یقینی اجر پر بھروسے اور ایمان اور ان کے تقاضوں پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے یہی وہ اہم چیز ہے‘ جس سے بہت سی اسلامی تحریکیں اور جماعتیں نابلد ہوتی جا رہی ہیں۔ خرم مرحوم کو اس بات کا احساس تھا ‘ اس لیے انھوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی کتابوں میں‘ تقریروں اور تحریروں میں بار بار اس کی طرف متوجہ کیا‘ اور ان کی یہ (اب تک کی) آخری کتاب ان کی اس کوشش کا ایک خوب صورت مرقع ہے۔

منشورات نے اس کتاب کو بھی اپنی روایتی نفاست اور خوب صورتی کے اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے‘ جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ (پروفیسر عبدالقدیرسلیم)


Quranic Topics ] قرآنی موضوعات[ ‘ محمد شریف بقا۔ علم و عرفان پبلشرز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۱۰۲۳۔ قیمت: ۵۰۰ روپے یا ۱۰ پونڈ یا ۵ ڈالر۔

قرآنی موضوعات کو انگریزی زبان میں انگریزی حروفِ تہجی کے لحاظ سے مرتب کیا گیا ہے‘ مثلاً حرف A کے سلسلے میں جتنی آیاتِ قرآنی موجود ہیںان کو فاضل مولف نے مع انگریزی ترجمہ بڑی کاوش سے یکجا کر دیا ہے۔ انگریزی ترجمے کے ساتھ متعلقہ آیت کا مکمل متن (مع سورہ اور آیت کا حوالہ) بھی دیا گیا ہے۔ ایک کمی محسوس ہوتی ہے: یہ نہیں بتایا گیا کہ  انگریزی ترجمے کا ماخذ کیا ہے؟

میں اسے قرآن کا اعجاز سمجھتا ہوں کہ انگریزی حرف A سے پہلا لفظ (Ablution)‘ یعنی وضو بنتا ہے جو اسلامی طہارت اور پاکیزگی کا نقطۂ آغاز ہے اورجس کے بغیر اولین عبادت نماز ادا نہیں ہوسکتی۔

قرآنی موضوعات میں اتنی وسعت‘ ہمہ گیری اور جامعیت ہے کہ وہ خدا‘ انسان‘ حیات و کائنات اور حیات بعدالممات کے تمام علوم و معارف کو اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ انسان کی پیدایش سے لے کر سفرِآخرت تک اعلیٰ اقدارِ حیات کے لیے زندگی کو امن و آشتی کے ساتھ بسر کرنے کے تمام معاشرتی‘ معاشی‘ سیاسی‘ تمدنی اوراخلاقی احکام موجود ہیں جن سے انحراف خود ہماری فطرت اور قوانینِ قدرت سے کھلی بغاوت ہے اور جس کی وجہ سے دنیا میں ظلم و جبر‘     خوں ریزی اور فساد برپا ہوتا ہے۔ جس دردناک ابتلا اور عذاب سے موجودہ صدی گزر رہی ہے‘ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسان نے قرآن کے اس مکمل اور آخری پیغام کو فراموش کر دیا ہے جو ذات ختمی مرتبت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیش رو برگزیدہ پیغمبرتسلسل کے ساتھ اپنی اپنی قوموں کے لیے لے کر آئے تھے۔ اب یہ انسانیت کی اپنی بقا کے لیے ضرور ہوگیاہے کہ اس گلوبل پیغام کو جو تمام انسانوں کے لیے نسل‘ رنگ‘ زبان‘ قومیت اور جغرافیائی حدود سے بلند ہوکر وحدت آدمیت کے لیے پکار رہا ہے‘ عام کیا جائے۔ قرآنی موضوعات اسی سلسلے کی ایک مربوط کڑی ہے۔ انگریزی میں ایسی تالیف کی اس لیے ضرورت تھی کہ اب یہ دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بن گئی ہے۔ ایک پڑھے لکھے عام آدمی اور ریسرچ کرنے والے طالب علم کے لیے اس کتاب میں وہ قرآنی موضوع بآسانی مل جائے گا جس کی اسے کسی بھی مسئلہ حیات میں    راہ نمائی کے لیے ضرورت ہو جس کو پڑھنا‘ سمجھنا اور سمجھانا بھی بذاتِ خود ایک عبادت ہے۔

فاضل مولف ماہر اقبالیات اور معروف اسکالر ہیں۔ وہ لندن میں اسلامی تعلیمات کی روشنی سے جاہلیت ِجدید کی تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ خدا انھیں اپنے اس مشن میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین (محمد اسماعیل قریشی)


ماہنامہ تعمیرافکار‘ کراچی۔ اشاعت خاص: بیادپروفیسر سید محمد سلیمؒ۔زیراہتمام: پروفیسر سید محمد سلیم اکیڈمی‘ کراچی۔ صفحات: ۴۹۶۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

یہ شمارہ ایک ایسی ہستی کے تذکرے پر مشتمل ہے جس کی پوری زندگی تعلیم و تعلم میں گزری۔ آغازِ حیات میں تحریکِ اسلامی سے وابستہ ہوئے اور دمِ آخر جماعت اسلامی کے اجتماع عام (قرطبہ‘۲۰۰۰ئ) میں گزرا۔ تحریکی زعما کے حالات کے بارے میں زیرنظر جیسے مجموعوں کی اچھی روایت قائم ہو رہی ہے۔ ماضی کی بلند قامت شخصیات کے ایسے تذکرے موجود نہیں‘مثلاً: تاج الملوک‘ مولانا عبدالعزیزؒ (مولانا خلیل حامدیؒ کے بارے میں اب اعلان آیا ہے)۔

پروفیسر سید محمدسلیمؒ نے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد کا عرصہ تنظیم اساتذہ کے ادارہ  تعلیمی تحقیق سے وابستہ رہ کر گزارا اور اسلامی نظام تعلیم کے نظری و عملی پہلوئوں پر بیش قیمت تالیفات پیش کیں۔ مگر ان کا اصل میدان تاریخ تھا۔ وہ غضب کا حافظہ رکھتے تھے۔ بہت زیادہ پڑھنے والے تھے۔

یہ فرض تو تنظیم اساتذہ کا تھا کہ ان کی حیات و خدمات پر ایک اشاعت خاص مرتب کرتی لیکن یہ سعادت سید سلیم مرحوم کے نواسے عزیزالرحمن (مدیر) اور ان کے ایک دیرینہ رفیق ملک نواز اعوان(مدیراعلیٰ) کے حصے میں آئی‘ جنھوںنے اس طرح کے کام میں درپیش مسائل و مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ قابلِ قدر مجموعہ مرتب کیا ہے۔ اس میں مرحوم کے متعلق بہت کچھ جمع کر دیا گیا ہے۔ ان کی حیات و شخصیت‘ زندگی کے مختلف پہلو (خاندان‘ سوانح‘ بطور مورخ‘ بطور شاعر‘بطور معلم‘ بطور ماہر تعلیم وغیرہ)‘ ان کی علمی و تصنیفی خدمات کا ذکر‘ اعزہ‘ احباب اور شاگردوں کے تاثرات‘ ان کے لیے منظوم خراج تحسین‘ ان کے نام خطوطِ مشاہیر (سید مودودی‘ ڈاکٹر محمد حمیداللہ‘ مسعود عالم ندوی‘ ابوالحسن علی ندوی‘ غلام رسول مہر‘ عبداللہ چغتائی‘ مختارالدین احمد وغیرہ) اور ان کے خطوط بنام مشاہیر وغیرہ۔ ان کی شخصیت کیسی پُرکشش اور علمی اعتبار سے کیسی بلندپایہ تھی کہ ان کے رفقا اور شاگردوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر غلام مصطفی خاں‘ میاں طفیل محمد‘حکیم سید محموداحمد برکاتی‘ نعیم صدیقی اور پروفیسر خورشیداحمد ایسے اصحاب نے انھیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ مرتبین مبارک باد کے مستحق ہیں۔

سچ یہ ہے کہ اتنی ہمہ پہلو تحریروں کے باوجود سید سلیم کی شخصیت کا مکمل احاطہ نہیں ہو سکا ہے۔ غالباًاسی لیے اکیڈمی نے مزید خاص اشاعتوں کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔(مسلم سجاد)


بیدار دل لوگ‘ شاہ محی الحق فاروقی۔ ناشر: اکادمی بازیافت‘ اُردو سنٹر‘کمرہ نمبر۴‘ پہلی منزل‘اُردو بازار‘ کراچی۔ صفحات: ۲۷۸۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

اکیسویں صدی نے آغاز ہی میں‘ بہت سے ناخوش گوار واقعات کے ذریعے‘ بین الاقوامی سطح پر انسانیت کو حزن و یاس کے تحفے دیے ہیں۔ ایسے میں شاہ محی الحق فاروقی کی یہ تالیف‘ لطافت و انبساط کا ایک گل دستہ نورستہ بن کر سامنے آئی ہے کیونکہ اس کتاب کا مطالعہ ملول انسانوں کی روح کے لیے اُمید اور آس اور بھلائی کی ایک کرن بن کر سامنے آتا ہے۔

چند شخصیات پر زیرنظر مضامین یا خاکے تاثر کے اعتبار سے بھرپور ہیں۔ مصنف نے جن افراد کو اپنا موضوع بنایا ہے‘ وہ ان کے بنیادی مزاج‘ افتادِ طبع‘ انداز فکروعمل اور طور واطوار کی بوقلمونی کو بڑی سادگی لیکن پرکاری سے زینت ِ قرطاس بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کراچی میں تو پرنسپل بشیراحمد صدیقی مرحوم کو جاننے والے کتنے ہی لوگ ہوں گے مگر مجھے اس مطالعے سے وہ اپنے ساتھ ٹہلتے‘ چائے پیتے اور دفتری ذمہ داریاں نبھاتے محسوس ہو رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ‘ معاملاتِ زیست میںکافی حد تک احساس یگانگت بھی ہے۔ مصنف نے خوردبین سے عیوب کی تلاش سے گریز کیا ہے۔ پروفیسر مشیرالحق شہید کی زندگی پر مشتمل خاکہ دیانت تحریر اور اصابت ِ فکر کا عمدہ نمونہ ہے۔ اندازِ تحریر بے تکلفانہ ہے۔ شاہ محی الحق کی بے ساختگی‘ ندرتِ خیال‘ بیان کی شگفتگی اور کہیں کہیں گدگدی کرنے کی جسارت ان کے اسلوب کو نہایت دل چسپ بنا دیتی ہے۔

مصنف‘ ماہرالقادری (یادِرفتگاں) سے متاثر معلوم ہوتے ہیں مگر ماہرصاحب کے ہاں اختصار ہے اورفاروقی نہایت (کہیں غیرمتعلق اور غیرضروری) طوالت سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ ۴۰‘ ۵۰ صفحات کا مضمون پڑھتے ہوئے‘ لگتا ہے فاروقی صاحب نے پوری سوانح عمری  لکھ ڈالی ہے۔ ہر مضمون کی تمہید بہت طولانی ہے۔ بایں ہمہ مصنف نے واقعات کے چمن کو  حسنِ ترتیب‘ مہارتِ فن اور سلیقہ شعاری سے اہل فکرونظرکی ضیافت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ انھوں نے انسانوں کو دیوتا بنایا ہے‘ نہ ہیرو‘ بس روز مرہ زندگی میں حالات کی افت و خیزمیں مصروف تگ و تاز دیکھ کر ان کی شرافت و سعادت سے متاثر ہوئے اور مادہ پرستی کی ظلمت آسا فضا میں ان کو مانند جگنو نور افشاں پایا ہے۔ پروفیسر سید محمد جعفر‘ مولانا ابوالجلال ندوی‘ مولانا ابوالقاسم‘ قمراحمد‘اکبر علی وغیرہ ہر شخص کی اپنی ایک انفرادیت ہے۔

جن پر خاکے لکھے گئے‘ ان میں سے متعدد افراد مصنف کے اعزہ ہیں۔ اس لیے مصنف کے اپنے بہت کچھ حالات بھی ان مضامین میں آگئے ہیں چنانچہ کتاب میں مصنف کی آپ بیتی کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ مؤلف نے بتایا کہ وہ اپنی خود نوشت بھی لکھنا چاہتے ہیں‘ تاثر ہوتا ہے کہ یہ کتاب اس کا ٹریلر ہے۔ (دانش یار)


جوہری توانائی ‘ ایم ایچ مسعود بٹ ۔ ناشر: نیشنل بک فائونڈیشن‘ اسلام آباد۔ صفحات: ۳۳۵۔ قیمت: ۱۲۵روپے۔

سائنسی موضوعات پر عام فہم لٹریچر کی ہمارے ہاں بہت کمی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صاحب ِ قلم حضرات بالعموم سائنس داں نہیں ہوتے اور سائنس دانوں کو عموماً لکھنے لکھانے سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ دوسرا سبب سائنس سے ہماری اپنی عدم دل چسپی ہے۔ اسلامی نشات ثانیہ کے لیے آج تمام اسلامی دنیا میں جدوجہد جاری ہے مگر اس سلسلے میں کوئی تبدیلی اس وقت تک رونما نہیں ہوسکتی جب تک مسلمان‘ دنیاوی علوم پر دسترس حاصل کر کے‘ ان میں اپنی فوقیت ثابت نہیں کردیتے۔ ان میں سائنس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ اگرچہ سائنسی علوم میں دسترس اور دوسروں پر فوقیت حاصل کرنا انھی لوگوں کا کام ہے جو سائنس دان کہلاتے ہیں لیکن کسی قوم میں بھی اعلیٰ درجے کے سائنس دان اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتے جب تک اس قوم میں عمومی طور پر سائنس سے دل چسپی اور سائنسی معلومات کا شوق پیدا نہ ہو جائے۔

زیرنظر کتاب کے فاضل مصنف الیکٹریکل انجینیرہیں اور عرصۂ دراز سے عام لوگوں کے لیے سائنسی موضوعات پر لکھ رہے ہیں۔ آپ کا موقف یہ ہے کہ پاکستانی سائنس دانوں کو  اظہار خیال کا ذریعہ اُردوزبان ہی کو بنانا چاہیے کیوں کہ وہ تہذیب گونگی ہے جو اپنی زبان کے بجاے کسی اجنبی زبان کو ذریعۂ اظہار بناتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوامی سطح پر سائنسی شعور کو اجاگر کرنے کا بیڑا سائنس دانوں ہی کو اٹھانا ہوگا اور اس مقصد کے لیے سائنس کو نہ صرف سلیس اور عام فہم زبان میں پیش کرنا ہوگا‘ بلکہ ایسا دل چسپ انداز اختیار کرنا ہوگا کہ قاری سائنس کو ایک اجنبی اور مشکل چیز سمجھنے کے بجاے اس کے مطالعے میں محوہوجائے اور اس کے اندر مزید سائنسی مواد کو پڑھنے کی طلب اور لگن پیدا ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں پاپولر سائنس کے نام سے اس شعبے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ امریکہ میں آئزک ایزیموف اور کارل ساگان نے اس باب میں خاصی شہرت حاصل کی ہے۔

جوہری توانائی کا پہلا ایڈیشن ۱۹۶۶ء میں شائع ہوا تھا اور اس میں ایٹم اور ایٹمی توانائی کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئی ہیں۔ ان میں ایٹم کے متعلق قدیم و جدید نظریات‘ ایٹم کی ساخت اور جسامت کے متعلق جدید معلومات‘ جوہرشکنی‘ جوہرِانشقاق‘ زنجیری تعامل‘ جوہری تابکاری اور جوہری توانائی کا پُرامن استعمال شامل ہیں۔ موجودہ ایڈیشن کے آخر میں ’’پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا‘‘کے عنوان سے ایک طویل باب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس باب میں ایٹمی طاقت بننے کے بھارتی عزائم اور تیاریوں کا ۱۹۶۰ء سے اب تک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر ۱۹۹۸ء کے بھارتی ایٹمی دھماکوں اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے متعلق تفصیلی معلومات دی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام کسی قدر اہم‘ بروقت اور ضروری تھا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو بھارت پر کیسی سیاسی اور اخلاقی برتری حاصل ہو گئی۔ اس باب میں بھارت کی مختلف قسم کی ایٹمی تنصیبات اور تحقیقی مراکز وغیرہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔

ایٹم بم اور ایٹمی توانائی میں دل چسپی رکھنے والے حضرات کے لیے اس کتاب میں وسیع معلومات جمع کر دی گئی ہیں۔ (فیضان اللّٰہ خان)


جنات اور جادو کے سربستہ راز‘ عبیداللہ ڈار۔ ناشر: اذانِ سحر پبلی کیشنز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۶۰۔ قیمت: ۱۶۰ روپے۔

جنات اور جادو دو ایسے موضوعات ہیں جو معاشرے کے ہر طبقے میں اور کسی نہ کسی حوالے سے گھر گھر موضوع سخن بنتے ہیں۔ بدقسمتی سے جہالت اور توہم پرستی کے سبب کئی گھرانے جعلی عاملوں اور نام نہاد پیروں کے ہاتھوں مدتوں استحصال کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے مصائب کے تدارک کے لیے عبیداللہ ڈار نے زیرنظرکتاب پیش کی ہے۔

عرصہ ہوا‘ مصنف نے عملیات کے موضوع پر مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ انھیں بے شمار خواتین و حضرات نے دردناک اور رقت انگیزخطوط لکھے جن میں اپنے مصائب کا ذکر تھا۔ یہی خطوط اس کتاب کا محرک بنے۔ کتاب بنیادی طور پر بعض روحانی عاملین کے مصاحبوں (انٹرویو) پر مشتمل ہے۔ انھوں نے جنات‘ کالے علوم‘ روحانی عملیات‘ جعلی عاملین‘ خواتین کے توہمات جیسے موضوعات کے بہت سے پہلوئوں پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور نہایت خوب صورت پیراے میں قارئین کی راہ نمائی بھی کی ہے۔

کتاب میں عمومی دل چسپی کے کئی پہلوئوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ جنات کو قابو میں لانا‘ جنات اور عامل کے رابطے کے طریقے‘ جادوئی علوم کی حقیقت‘ کاروبار پر جادو کے اثرات‘ آگ باندھنا‘ جنات کہاں رہتے ہیں؟ کیا کھاتے ہیں اور ان کا حلیہ کیا ہوتا ہے؟ تعویزات کے اثرات کیوں کر زائل کیے جاسکتے ہیں؟ دعائوں کی قبولیت کیسے ممکن ہے؟ وغیرہ--- کتاب میں ایسی دعائوں اور قرآنی آیات کے وظائف بھی بتائے گئے ہیں جن کے ذریعے ‘مصنف کا خیال ہے کہ‘ خواتین و حضرات اپنے مسائل خود حل کرسکتے ہیں۔ یہ کتاب شکوک و شبہات اور توہم پرستی کے زہرکا تریاق بھی ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)

جمشید نواز ‘ دوحہ‘ قطر

’’خارجہ پالیسی کی حالیہ ناکامیاں اور قلابازیاں‘‘ (اگست ۲۰۰۳ئ) عوام و ارکانِ حکومت کے لیے چشم کشا ہیں۔ مشرف صاحب کی قیادت میں پالیسیوں میں یوٹرن اور میڈیا کے زور سے عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کرنا‘ اسلام سے بے وفائی‘ جمہوری اقدار کی پامالی اور قومی اور بین الاقوامی تناظر میں اُمت مسلمہ کے مفادات سے بے بہرہ ہونے کی علامت ہے۔ ترجمان القرآن کا ان حقائق سے آگاہ کرنا ’’امامِ برحق‘‘ ہونے کی علامت ہے۔


چودھری محمد جمیل ‘ لاہور

’’خارجہ پالیسی کا جائزہ ‘‘(اگست ۲۰۰۳ئ) تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتا ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ۹ستمبر ۲۰۰۱ء سے پہلے پاکستان ہر طرح کی پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اب آہستہ آہستہ یہ پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔ اسلحے کے فالتو پرزہ جات جن کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی‘ اب ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ کیا یورپی یونین نے ٹیکسٹائل کوٹہ نہیں بڑھایا؟ امریکہ نے بھی برآمدات کے سلسلے میں رعائتیں دی ہیں۔ کیایہ خارجہ پالیسی کے نتیجے میں مراعات نہیں ہیں؟


صابر نظامی‘ الٰہ آباد ‘ قصور

’’اُردن کے انتخابات میں اسلامک فرنٹ کی کامیابی‘‘ (اگست ۲۰۰۳ئ) بلاشبہہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس سے قبل مراکش‘یمن‘ مصر‘ لبنان‘ بنگلہ دیش‘ کویت‘ انڈونیشیا‘ملائیشیا میںجزوی کامیابیاں حاصل ہوچکی ہیں۔ تحریکِ اسلامی ایران اور ترکی میں اپنی حکومتیں بنا چکی ہے۔ بنگلہ دیش میں شریکِ اقتدار ہے۔ ملائیشیا کے دو صوبوں اور پاکستان کے دو صوبوں میں ان کی حکومتیں ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ تحریکِ اسلامی جمہوری راستے سے اقتدار میں نہیں آسکتی۔ اب یہ طعنہ کھوکھلا اور بودا ہو چکا ہے۔ اگر تحریکِ اسلامی اسی طرح جمہوری راستے پر کام کرتی رہی تو ایک دن آئے گا کہ عالمی اسلامی انقلاب کی منزل بھی سر ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ!


ڈاکٹر شہزاد اکبر ‘ چیچہ وطنی

’’نسوانیت زدہ مغرب‘‘ (اگست ۲۰۰۳ئ) نظر سے گزرا۔ مغرب کے معاشرتی انحطاط اور    فکری انتشار کا بہت عمدہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ گھرکی گواہی ہے۔ مغرب کا بے خدا معاشرہ توازن سے محروم ہے۔ عورت کے بارے میں نقطۂ نظر کبھی ایک انتہا پر ہے اور کبھی دوسری انتہا پر۔ اسلام کی معتدل فکر اور اسلام میں عورت کا جو مقام ہے‘ غالباً مغرب اس سے تعصب برت رہا ہے یا پھر اس پر غور ہی نہیں کیا گیا۔مغرب کے  دل دادہ لوگوں کے لیے یہ تحریر آئینہ ہے۔


ڈاکٹر خرم رفیق ‘ چونیاں

’’قازقستان کی صورت حال‘‘ (اگست ۲۰۰۳ئ) میں ظالم حکمرانوں کی ظالمانہ پالیسی اور مسلمانوں پر روا رکھا جانے والا ظلم و جبر رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ مسلم ہونے اور اسلام قبول کرنے کی اس قدر سزا کہ گردن زدنی کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ یہ حال صرف قازق حکمرانوں کا ہی نہیں‘ اس میں غیرمسلم حکمران اورمسلمان بادشاہ اور برسرِاقتدار طبقہ‘ سب یکساں ہیں۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں۔اس سے قبل بھی ہر رسول اور نبی اور ان پر ایمان لانے والوں کے ساتھ ایسا بلکہ اس سے بڑھ کر بُرا سلوک کیا گیا ہے۔ مگر یہ امریکہ اور اسلام دشمن طاقتوں اور حکمرانوں کی غلط فہمی ہے کہ وہ حق کی قوتوں کو ختم کر دیں گے۔ ظلم سے کبھی بھی حکمرانی نہیں کی جا سکتی۔ ظلم کی نائو ڈوب کر رہتی ہے۔ ظالم حکمرانوں کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ کہیں وہ خود ہی مقامِ عبرت نہ بن جائیں!


محمد آصف اسماعیل ‘ دوحہ‘ قطر

’’زکوٰۃ کا نفاذ: چند قابل غور پہلو‘‘ (اگست ۲۰۰۳ئ) میں مشینوں‘ آلات اور اس طرح کی دوسری اشیا پر زکوٰۃ کے حوالے سے نقطۂ نظر قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان میںعام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ان اشیا پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے‘ اس لیے اگر کسی اہل علم کے اس رائے کے حق میں دلائل ترجمان میں شائع ہوں توشاید قارئین کے لیے مفید ہو۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت اہم موضوع ہے۔


راشد الیاس مہر ‘ لاہور

دل چاہتا ہے کہ ترجمان القرآن میں پروف کی ایک بھی غلطی نہ ہو۔ اس ماہ (اگست ۲۰۳ئ)    دو تین نظر آئیں‘ مثلاً: ’نورخدا ‘کے بجاے، ’نورحق‘ (ص ۱۷)۔ شعر کی غلطی خصوصی تکلیف دیتی ہے۔

اسلام سے محبت

آج جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری نمازیں اور دعائیں‘ ہمارے اوراد و وظائف‘ اور ہماری پرستشیں اور ریاضتیں‘ اخروی نجات و فلاح کے لیے کافی ہیں‘ انھیں غور کرنا چاہیے کہ جب صحابہ کرامؓ کو ان کی نمازوں اور عبادتوں اور اعمال صالحہ کے باوجود انجام سے اس لیے ڈرایا جا رہا ہے کہ مبادا اسلام کی سربلندی اوردین حق کے غلبے کی کوشش میں ان کے قدم سُست پڑجائیں‘ تو ہم لوگوں کی عبادتیں کس شمار و قطار میں ہیں‘ جب کہ ہم خدا کے دین کو سربلند کرنے اور اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کے لیے ادنیٰ ترین قربانی دینے پر بھی تیار نہیں ہیں‘ یہاں تک کہ ہمارے قلوب بھی اب اس آرزو اور تمنا سے خالی ہوچکے ہیں کہ خدائی زمین پر اس کا کلمہ بلند ہو اور اس کے عطا کیے ہوئے قانونِ سعادت اور ضابطہ ء حیات کابول بالا ہو۔ کیا آج اسلامی نظام عملاً اسی طرح کفر کے غلبے سے گھرا ہوا نہیں ہے جس طرح وہ مدنی زندگی میں کفر کی طاقتوں سے محصور تھا؟ اور کیا آج دین حق کے قیام اور اسلامی طرزِ زندگی کو ایک عملی حقیقت بنانے میں جاںفروشی اور ایثار و قربانی کی کچھ کم ضرورت ہے؟

…… نماز‘ روزہ اور عبادات اور اعمال صالحہ‘ سب درحقیقت اس لیے ہیں کہ کائنات عالم میں صرف خداے واحد کی بندگی ہو‘اسی کا قانون بالاتر ہو اور اسی کی مرضی حکمران ہو۔ اگر دنیا معبودانِ باطل کی بندگی میں لگی ہو‘غیرالٰہی نظامات غالب ہوں اور اسلامی اقدار آپ کی آنکھوں کے سامنے مٹ رہی ہوں‘ لیکن آپ مسجدوں میں نمازیں پڑھتے رہیں یا لمبی لمبی تسبیحیں لے کر شب بیداری اور تہجدگزاری کرتے رہیں تو حقیقتاً آپ کو نہ اسلام سے محبت ہے اور نہ کفر سے نفرت۔ اس لیے کلام مجید نے صاف کہہ دیا ہے کہ بڑی سے بڑی نیکی ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتی ہے۔ (’’مذہب کا انقلابی تصور‘‘، محمد مظہرالدین صدیقی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۳‘ عدد ۳-۴‘ رمضان و شوال ۱۳۶۲ھ‘ ستمبر-اکتوبر ۱۹۴۳ئ‘ ص ۵۱-۵۲)