مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۰۲

سیاسی بنیادوں پر تقرری

سوال: وطن عزیز میں خاصے عرصے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جب کوئی پارٹی برسرِاقتدار آتی ہے تو مختلف سرکاری ملازمتوں میں اس مخصوص پارٹی کے لوگوں کی بھرتی شروع ہو جاتی ہے‘ اور ملک کے عام شہری جو کہ صلاحیت اور قابلیت کی بنا پر ان ملازمتوں کے زیادہ اہل ہوتے ہیںمحض سیاسی وابستگی نہ ہونے کی وجہ سے ان سرکاری ملازمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کسی بھی پارٹی کے عہدے داروں کو اگر اس ناانصافی کی طرف متوجہ کیا جائے تو ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ پارٹی ورکرز نے اتنی قربانیاں دی ہیں اگر انھیں نوکریاں نہیں ملیں گی تو پھر کسے ملیں گی؟

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حکومت چلانے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی ورکرز کو نوکریاں دی جائیں تاکہ وہ اپنی سرکاری حیثیتوں میں رہ کر پارٹی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ بعض پارٹیوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے لوگ بہت ایمان دار اور دیانت دار ہوتے ہیں لہٰذا اگر سرکاری ملازمتوں میں ایسے افراد کو موقع دیا جائے تو سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے؟ اس مقصد کے لیے وہ میرٹ اور مروجہ اصول و ضوابط کونظرانداز کرنے میں بھی کوئی برائی نہیں سمجھتے۔

براہ مہربانی قرآن و سنت اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ سرکاری ملازمتوں پر برسراقتدار پارٹی کے ورکرز یا عہدے داران کا کتنا اور کیسا استحقاق ہوتا ہے؟ اور پارٹی ورکرز کو سرکاری ملازمت دینے کے لیے مروجہ قواعد و ضوابط اور میرٹ کو نظرانداز کرنا کیسا فعل ہے؟

جواب: قرآن کریم نے مناصب اور ذمہ داریوں پر افراد کے تعین کے سلسلے میںبنیادی اصول سورۃ النساء میں یوں بیان فرمایا ہے:   اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا م بَصِیْرًا  o (۴:۵۸) ’’مسلمانو‘اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو‘ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے‘‘۔گویا کسی منصب یا ذمہ داری پر تعین کرنے والوں اور متعین ہونے والوں دونوں پر یہ فرض کر دیا گیا ہے کہ جب کسی کو ذمہ داری دی جائے تو وہ پوری واقفیت رکھتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ ایک میڈیکل ڈاکٹر کو وزیر دفاع یا مالیات یاقاضی القضاۃ بنا دیا جائے‘ جب کہ وہ ان شعبوں کی الف با سے بھی واقفیت نہ رکھتا ہو اور اس کی پہچان صرف یہ ہو کہ وہ سربراہِ مملکت یا کسی اعلیٰ افسر کا قریبی عزیز‘ دوست یا اس کی جماعت کا کارکن ہے۔ اس سلسلے میں جتنی جواب دہی اولی الامر کی ہے اتنی ہی مامور کی بھی ہے۔ اگر ایک شخص یہ جانتا ہو کہ وہ ایک منصب کی شرائط پوری نہیں کرتا اور وہ اس منصب کو قبول کرتا ہے تو وہ عدل کے منافی ظلم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کا اپنا فرض ہے کہ وہ ایسے منصب کو قبول نہ کرے۔ قرآن کریم نے سورۃ المومنون میں اہل ایمان کی بنیادی خصوصیات میں اس پہلو پر خاص توجہ دی ہے اور فرمایا ہے: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ o (المومنون ۲۳:۸) ’’اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں‘‘۔ ظاہر ہے ایک شخص اگر غلط منصب قبول کرتا ہے تو وہ نہ صرف اس منصب کے ساتھ زیادتی اور ظلم کرتا ہے بلکہ خود اپنے ساتھ بھی ظلم کرتا ہے اور اُمت مسلمہ کے بھی مفاد (مصلحت عامہ) کے خلاف ایسا کام کرتا ہے۔

اس اصول کی روشنی میں اگرکوئی سیاسی یا مذہبی جماعت ایسے افراد کی سیاسی تقرریاںکرتی ہے جو اس منصب کے اہل نہیں ہیں اور ان شرائط کو پورا نہیں کرتے جو اس سے تعلق رکھتی ہیں تو یہ بددیانتی‘ ظلم اور اُمت مسلمہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہاں‘ اگر کسی سیاسی جماعت کی فکر اور نظریے سے ہم آہنگ افراد ان شرائط پر معروضی طور پر پورے اترتے ہوں اور مروجہ ضوابط کے تحت بغیر کھینچا تانی کے qualifyکرتے ہوںتو اس میں کوئی قباحت نہیں ہوگی۔ یہی شکل مذہبی و سیاسی جماعتوںکے اندر مناصب کی ہے۔ اگر کسی جماعت کی سربراہی کے لیے ایسے فرد کو ذمہ داری سونپ دی جائے جو اس کی فکر اور مطلوبہ کردار کا حامل نہ ہو تویہ سراسر ظلم اور عدل کے منافی ہوگا۔

تحریکات اسلامی کا امتیاز ہی یہ ہے کہ خود تحریک کے اندر ذمہ داریوں پر تعین کا معاملہ ہو یا تحریکات اسلامی کے برسراقتدار آنے کے بعد مختلف شعبہ ہاے حیات میںافراد کا تعین ہو‘ وہ اپنے آپ کو مصلحت عامہ اور مروجہ  ضوابط سے آزاد نہیں کرتیں۔ البتہ انھیں اس کا پورا حق پہنچتا ہے کہ دستوری ذریعے کا استعمال کرتے ہوئے شرائط و ضوابط میں ان پہلوئوں کو شامل کریں جن کا تعلق افراد کے کردار‘ دیانت اورفنی صلاحیت سے ہواور پھر کھلے اور شفاف طریقے سے ان حضرات کو متعین کریں جو ان شرائط پر پورے اُترتے ہوں۔

پارٹی کے نام پر محض کارکنوں کو نوازنا‘ اسلام کا مدعا ہے نہ عدل سے مناسبت رکھتا ہے۔  سورۃ الانفال میں امانت کا حق ادا نہ کرنے کو خیانت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَخُوْنُوْا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ o (الانفال ۸:۲۷) ’’جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو‘ اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو‘‘۔

مسلم کی جامع الصحیح میں کتاب الامارۃ میں حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایک امیر جو ایک منصب قبول کرتا ہے اور اخلاص کے ساتھ اپنی مقدور بھر کوشش نہیں کرتا وہ کبھی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا ۔ گویا منصب چاہے سیاسی وجوہات کی بنا پر ہو یا مسلکی اور مذہبی بنیاد پر‘ جب تک اصل بنیاد اہلیت اور صلاحیت کی نہ ہو‘ شرعی نقطہء نظر سے ظلم ہے۔

یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ پاکستان اور بہت سے مسلم ممالک میں اعلیٰ ترین مناصب تک عموماً تقرری کی بنیاد کسی کی سفارش ‘ رشتہ داری یا سیاسی تعلق ہوتا ہے۔ عدل اور صلاحیت کو کبھی معیار نہیںبنایا جاتا حتیٰ کہ عوام بھی ایسے افراد کو ووٹ دینا زیادہ پسندکرتے ہیں جو برسرِاقتدار آکر بجائے عدل و انصاف کے ان کو ذاتی فائدہ پہنچا سکیں۔ جب تک ہم بحیثیت ایک اُمت اس کلچر کو تبدیل نہیں کریں گے‘ اُمت مسلمہ اعلیٰ قیادت اور اصول پرستی سے محروم رہے گی۔ ذاتی‘ گروہی اور مسلکی مفادات کے نتیجے میں جو افراد بھی مناصب پر آئیں گے وہ امانتوں کو پامال کرنے میں اپنے سے پہلے والوں سے دو قدم آگے ہی نکلتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھر کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے سے بچائے۔  (ڈاکٹر انیس احمد)

قرآن کریم اور عائلی موضوعات

س :  قرآن کی باترجمہ تدریس کرتے ہوئے کئی مقامات ایسے آتے ہیں جہاں سن بلوغت کے معاملات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ۹ سے ۱۶ سال کی عمر زندگی کے حیاتیاتی حقائق کے سلسلے میں تجسس کی ہوتی ہے۔ کیا ان آیات سے ذہنوں پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے؟

مغرب تو جنس کے معاملے میں تمام حدیں توڑ گیا ‘ تاہم قرآن کے حوالے سے خیال ہے کہ شاید ایک غیر محسوس انداز میں قرآن اپنے پڑھنے والے کو حقائق سے آگاہ کرتا ہے۔ گویا ایک طرح کی صنفی تعلیم کا فطری سا نظام قائم ہے۔ کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ اسلامی نظامِ تعلیم کے حکمت کار نصابیات میں بالکل غیر محسوس انداز میں افزایش نسل کے معاملات کے احسن پہلوئوں کو شامل کردیں؟ کیا علماے کرام اسلام کے شرم و حیا کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی اجازت دے دیں گے؟

ج : آپ کے سوال کا تعلق ایک اہم عملی مسئلے سے ہے اور جدید تعلیمی تصورات میں اسے بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ بلاشبہہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لیے جامع ترین ہدایت ہے اور قیامت تک کے لیے اس میں انسان کی فلاح کا سامان موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم انسان کی پیدایش کے مراحل اور پیدایش کے بعد نشوونما و تربیت کے بارے میں اصولی ہدایات فراہم کرتا ہے۔ البتہ اس کا اسلوب نہ کسی علم الاجسام کی کتاب کا ہے نہ کسی صنفی معلومات کی انسائیکلوپیڈیاکا بلکہ یہ اعلیٰ ترین اخلاقی تصور کے ساتھ ہر عمر کے انسانوں کو بنیادی انسانی ضروریات کی اخلاقی تکمیل کے ذرائع سے آگاہ کرتا ہے۔

اس سلسلے میں بلوغت کے مسائل ہوں یا عائلی معاملات‘ شوہر اور بیوی کا تعلق ہو یا ایک ۱۳ سالہ نوجوان کے طہارت کے مسائل‘ ان تمام معاملات پر قرآن کریم نے روشنی ڈالی ہے تاکہ بچپن ہی سے ایک فرد کو برانگیختہ کیے بغیر ٹھنڈے انداز میں بنیادی معلومات فراہم کر دی جائیں۔

اسلام میں جو عمر نماز اور روزے کی فرضیت یا ایک ذمہ دارانہ زندگی کے آغاز کے لیے ہے وہی عمر ایسے معاملات کی بھی ہے جن میں ایک نوجوان کو عالم خواب میں انزال یا جسم کے طبعی نظام کے نتیجے میں ایک لڑکی کو ایام کے واقع ہونے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان تمام معاملات سے اگر روایتی شرم کی بنا پر اغماض برتا جاتا تو ہدایت کہاں سے ملتی؟ اس لیے کتاب ہدایت نے ان معاملات کا ذکر کیا لیکن ایسے انداز میں کہ جس کو یہ مسائل پیش آئیں نہ اسے احساس جرم ہو نہ احساس محرومی و شرمندگی۔ چنانچہ نماز سکھاتے وقت والدین کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وضو‘ غسل اور طہارت کے مسائل کیا ہیں؟ اس سلسلے میں فقہی کتب کا سہارا لینا پڑتا ہے جو ان مسائل کو سادہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اکثر کتب ایسی تفاصیل بیان نہیں کرتیں جو نوعمر افراد کے لیے شرم کا باعث ہوں۔  ہمارا فرض ہے کہ ان معاملات پر سادہ اور آسان طریقے سے معلومات فراہم کریں۔

اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو مغرب زدہ اور مغربی تعلیمی تصورات سے متاثر حضرات جنسی تعلیم کے عنوان سے ہماری نوجوان نسل کو جنسی جنون کی طرف لے جائیں گے اور ناقص تعلیم کے ذریعے ان کے اخلاق کو پامال کرنے کی کوشش کریں گے۔ آج دُنیا کے تمام تعلیمی ادارے ’’محفوظ تعلق‘‘ جیسی شرم ناک اصطلاح معصیت اور فحاشی کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسی کو جنسی تعلیم سے تعبیر کرتے ہیں۔

اگر قرآن و سنت کی مدد سے یہ بات بچپن ہی سے ذہن نشین کرا دی جائے کہ جنس مخالف سے صرف اور صرف ایک ہی رشتہ جائز ہو سکتا ہے اور وہ عقد نکاح کے ذریعے ممکن ہے تو مغرب کی جنسی بے راہ روی کے غبارے سے ساری ہوا نکالی جاسکتی ہے اور آنے والی نسلوں کو مہلک اخلاقی اور جسمانی امراض سے بچایا جا سکتا ہے۔

آپ نے علما سے اجازت مانگی ہے۔ میرے خیال میں اگر آپ مطالعہ فرمائیں تو حدیث اور فقہ کی ہر کتاب کا آغاز ہی ان مسائل سے ہوتا ہے جن کا تعلق ایمان‘ طہارت و پاکیزگی سے ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کتب کے اسلوب کو دور جدید کے مطالبات کی مناسبت سے مزید سہل بنایا جائے اور ادب و شرم و حیا کے ساتھ ان معاملات پر بات کی جائے جو بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی‘ روحانی اور جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں اور جن پر قرآن و حدیث اور فقہ نے خود توجہ دی ہے۔ (ا - ا)

تربیت اولاد کے لیے قوت کا استعمال

س : گرمیوں کی تعطیلات میں بالخصوص اور سال بھر عموماً مختلف عمروں اور جماعتوں کے بچوں کو پڑھاتا ہوں۔ حضرت انسؓ کے سلسلے میں روایات میں آتا ہے کہ رسولؐ اللہ کی خدمت میں وہ جتنا عرصہ بھی رہے۔ آپؐ نے کبھی ان کی مذمت نہیں کی اور نہ سزا دی‘ سرعام کبھی سرزنش نہیں کی کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا۔ ادھر تعلیم میں یہ معاملہ ہے کہ غیرحاضری سے تعلیم کا تسلسل ٹوٹتا ہے جو استاد اور شاگرد اور ہم جماعت طلبہ کے لیے پریشانیوںکا سبب ہے۔ اسی طرح ہوم ورک کے کرنے اور نہ کرنے سے بڑا فرق پڑتا ہے۔ پھر ٹیسٹ سسٹم ہے۔ اب ان معاملات میں مختلف سزائیں نافذ نہیں کی جاتیں توکام کرنے والے بچوں کی نفسیات پر اس کا واضح اثر پڑتا ہے۔ بچپن ناسمجھی کا دور ہوتا ہے اور کھیل کود اور دیگر مشاغل کی طرف توجہ مبذول رہتی ہے۔ سزا کے بغیر فہمایش تو کم ہی کام کرتی ہے۔ والدین کی طرف سے الگ شکایات کہ پڑھایا نہیںجاتا۔ بچوں کو سزا بھی دیتا ہوں اور ڈرتا بھی رہتا ہوں۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ والد کو اولاد کی تادیب کے لیے ہاتھ میں لکڑی رکھنی چاہیے۔ کیا استاد بھی اس سلسلے میں کسی قسم کا اختیار رکھتا ہے؟ اور وہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی برقرار رکھنے اور اُن کی استعداد میں اضافے کے لیے کس حد تک جا سکتاہے۔

ج:  کسی بات کی اجازت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے لازماً کیا جائے۔ حضرت انسؓ ۱۰ سال کی عمر میں حضور نبی کریمؐ کے خادم کی حیثیت سے گھر کے افراد میں شامل ہوئے اور ۱۰ سال تک آپؐ کی خدمت کرتے رہے۔ اس عہد میں ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں ان کے ہاتھ سے کوئی برتن ٹوٹا لیکن ایسے مواقع پر ہاتھ کے استعمال کی جگہ آپؐ نے ام المومنین سیدہ عائشہؓ کو متوجہ فرمایا کہ وہ درگزر فرمائیں۔ اس سب کے باوجود حدیث میں صاف ذکر آتا ہے کہ اپنے بچے کو سات سال کی عمر سے تعلیم و تربیت دی جائے اور ۱۰ سال کے بعد اگر نماز نہ پڑھے تو تادیب کی جائے۔ اس لیے یہ بات تو شبہے سے بالاتر ہے کہ والدین کو تادیب کا حق دیا گیا ہے اور کوئی بچہ اس بنا پر ان کے خلاف مقدمہ نہیں کر سکتا کہ انھوں نے اس پر قوت کا استعمال کیا ہے لیکن خود والدین سے کس قسم کا کردار متوقع ہے‘ اس پر تفصیلی بات کی ضرورت نہیں۔ اگر ۱۰ سال میں حضرت انسؓ نے اُف تک نہ سنا تو ایک باپ‘ استاد یا بڑا بھائی ایک بچے کو کس طرح لکڑی یا ہاتھ سے مار کر زخمی کر سکتا ہے!

اسلام میں ایک حق کا ہونا اور اس حق کی لفظی پیروی کرتے ہوئے شدت سے استعمال کرنا‘ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔  ( ا - ا)

غیر قانونی حق کا استعمال

س: ہمارے ہوسٹلوں میں ایک طلبہ تنظیم نے کافی کمروں پر قبضہ کر رکھا ہے جو کہ ان کا حق نہیں۔ دین میں اس بارے میں کیا حکم ہے؟ داعی کا کردار ہر دھبے سے پاک ہونا ضروری ہے۔ ان کے اس عمل سے بہتری کے بجائے بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ اس کی بہتری کی کیا صورت ہے؟

ج:  آپ کے سوال کا تعلق جامعات میں اقامت گاہوں کے استعمال سے متعلق ہے۔ ہوسٹل کا دعوتی استعمال ایک مطلوب عمل ہے لیکن ہوسٹل پر بغیر کسی قانونی حق کے قابض ہو جانا ہر لحاظ سے غلط ہے۔ ان تحریکات کے لیے جو خود کو اصلاحی‘ دعوتی اور تعلیمی تحریکات کہتی ہوں ایسا کرنا مزید قابل اعتراض ہے۔ تحریک اسلامی کے کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ اعلیٰ اسلامی کردار کا نمونہ پیش کریں‘ نہ کسی کا حق ماریں اور    نہ ناجائز قبضے کے مرتکب ہوں۔ اس کی اصلاح کی طرف فوری طور پر توجہ کرنی چاہیے‘ مقامی اور مرکزی نظم کو اس سلسلے میں مناسب ہدایات جاری کرنی چاہییں۔ ( ا - ا)

 

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ‘ پروفیسر افتخار احمد۔ ناشر: ٹو دی پوائنٹ پبلشرز‘ غزنی سٹریٹ‘ اردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۰۷۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

یہ توفیق خداوندی ہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو دین حق کی خدمت کا راستہ دکھائے۔ خدمت ِدین سے وابستہ تمام ہی افراد‘ اُمت مسلمہ کا نہایت قیمتی سرمایہ ہیں۔ انھی نفوس میں ایک عظیم نام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) کا ہے۔

پروفیسر افتخار احمد نے حیات مودودیؒ کے تشکیلی دور ‘ جدوجہد کے مختلف مرحلوں اور فکر کے مختلف گوشوں اور کارناموں پر روشنی ڈالنے کی کامیاب کوشش کی ہے‘ تاہم خود مؤلف کو یہ احساس ہے کہ: ’’مولانا کی شخصیت اور ان کی علمی اور سیاسی مصروفیات کا نہایت ہی محدود پیمانے پر تحقیقی انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ مولانا کی ہمہ گیر شخصیت کے بے شمار پہلو ایسے ہیں‘ جو طوالت کے ڈر سے تشنہ چھوڑ دیے گئے ہیں‘ یا انھیں سرے سے چھیڑا ہی نہیں گیا‘‘ (ص ۱۴)۔ یہ مصنف کی کسر نفسی ہے۔ انھوں نے ایک مختصر کتاب میں بنیادی موضوعات کو سمونے کی خاصی کامیاب کوشش کی ہے‘ تاہم کتاب پڑھنے پر ھل من مزید کی کیفیت برقرار رہتی ہے شاید اس لیے کہ حکایت لذید ہے۔

چند امور توجہ طلب ہیں: مصنف کا اسلوب عمدہ اور شستہ ہے مگر جب ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر آتا ہے تووہ واحد غائب کا اسلوب اختیار کرلیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ متعدد مقامات پر مولانا مودودیؒ کی تقریروں اور تحریروں کے طویل اقتباسات پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح صحیح نام منظور احمد نعمانی نہیں‘ محمد منظور نعمانی ہے۔

مصنف نے لکھاہے: ’’آرنلڈ کی کتاب Preaching of Islam کا ترجمہ بھی مولانا ]مودودی[ نے قیام دہلی کے دوران کیا تھا‘ اس کا کیا بنا؟ کچھ پتا نہیں‘‘ (ص ۱۲۷)۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ مولانا مودودیؒ نے مذکورہ کتاب کے مختلف حصوں کی تلخیص اور حاصل مطالعہ کو متعدد قسطوں میں اخبارالمجعیۃ دہلی میں شائع کیا تھا جسے بعد میں شہیر نیازی اور حفیظ الرحمن احسن نے اسلام کا سرچشمہ قوتکے نام سے کتابی شکل میں طبع کرایا۔ اگرچہ مرتبین نے اس کا ذکر اس انداز میں نہیں کیا‘ تاہم یہ آرنلڈ ہی کی کتاب سے ماخوذ اور اپنے مطالعے کی بنیاد پر لکھے جانے والے مختصر مضامین ہیں۔

زیرنظر کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے تحریر کیا ہے۔ ہماری تجویز ہے کہ مولانا کی ہمہ گیر شخصیت کے جو پہلو خود مصنف کے خیال میں تشنۂ تحقیق رہ گئے ہیں‘ یا بعض مباحث ‘طوالت کے خوف سے انھوں نے چھیڑے ہی نہیں‘آیندہ ایڈیشن میں وہ اُن پر بھی روشنی ڈالیں اور کتاب میں موجود کمیوں کو  حتی الوسع پوراکرنے کی کوشش کریں۔ (س - م - خ)


معارف الحدیث ‘ جلد ہشتم‘ تالیف: مولانا محمد منظور نعمانی  ؒ،تکمیل مولانا محمد زکریا سنبھلی۔ الفرقان بک ڈپو‘ نظرآباد لکھنؤ۔ صفحات: ۶۹۲۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

ص ۶۹۲ پر آخری جملہ : ’’بفضلہ تعالیٰ معارف الحدیث کا مبارک سلسلہ اس جلد پر تمام ہوا‘‘، اس تبصرے کا نقطہء آغاز ہے۔ دینی حلقوں میں معارف الحدیث کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اس کی پہلی جلد ۱۳۷۵ھ میں شائع ہوئی۔ زیرنظر آخری جلد مولانا منظور نعمانی ؒ کی رحلت کے چار سال بعد شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا ایک حصہ ان کا اپنا لکھا ہوا ہے لیکن بعد میں ان کے حکم پر زکریا سنبھلی صاحب نے اسے مکمل کیا۔

تبصرہ نگار کے نزدیک معارف الحدیثکی اصل خوبی یہ ہے کہ حدیث کی صرف ضروری تشریح کی جاتی ہے اور اس میں بھی عملی نقطہء نظر سامنے رکھا جاتا ہے اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ حدیث بیان کرنے والا پڑھنے والے کے دین و ایمان ‘ سیرت و کردار اور اخروی فوز و فلاح کے لیے فکرمند محسوس ہوتا ہے۔ میرے نزدیک یہی اس سلسلۂ کتب کی اصل کشش ‘ چاشنی اور مقبولیت کا راز ہے۔ اس جلد میں علم‘ کتاب و سنت کی پابندی‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور علامات قیامت کا بیان ہے۔ اس کے بعد کے ابواب آپؐ کی ازواج ‘اولاد اور صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب کے بارے میں ہیں۔ (مسلم سجاد)


تعلیمات حکیم الامّت (حصہ اول)‘ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ۔ مرتب: محمد موسیٰ بھٹو۔ ناشر: سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ‘ ۴۰۰-بی ‘ لطیف آباد ۴‘ حیدر آباد سندھ۔ صفحات: ۳۱۲۔ قیمت: درج نہیں۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ نے سیکڑوں چھوٹی بڑی دینی و علمی تصانیف مرتب فرمائی ہیں۔ مختلف موضوعات پر مولانا کے مواعظ‘ ملفوظات اور مکاتیب کا گراں قدر سرمایہ آج کے حالات میں بھی تہذیب اخلاق اور تزکیۂ نفس کے لیے غیر معمولی افادیت کا حامل ہے۔

مولانا کے ملفوظات کا یہ ذخیرہ ان کی دو کتابوں ملفوظات کمالات اشرفیہ اور الافاضاۃ الیومیہ (۱۰ جلدوں میں) کے خلاصے اور انتخاب پر مشتمل ہے۔ جگہ جگہ فکرانگیز جواہرپارے اور رہنما ہدایات ملتی ہیں۔ مولانا تھانویؒ ارشاد فرماتے ہیں: ’’مسلمانوںکی تباہی و بربادی کا بنیادی سبب بدانتظامی ہے جو بے فکری کی دلیل ہے۔ اسی بے فکری کی بدولت ہزاروں زمین دار‘ رئیس اور نواب بھیک مانگتے پھرتے ہیں حتیٰ کہ اسی وجہ سے سلطنتیں ضائع کر دیں جس سے دنیا کے ساتھ ساتھ دین بھی برباد ہو رہا ہے‘‘ (ص ۲۳۰)۔ ’’اس وقت حالت یہ ہے کہ مسلمان (دشمن سے مقابلے کے سلسلے میں) دوسری تدابیر تو اختیار کرتے ہیں لیکن گناہوں سے باز نہیں آتے اور توبہ نہیں کرتے‘‘ (ص ۲۳۵)۔ ’’انتظام بڑی برکت کی چیز ہے۔ اگر انتظام نہ ہو تو سلطنت بھی باقی نہیں رہ سکتی‘‘ (ص ۲۵۰)۔ موجودہ دور کی درویشی کے متعلق: ’’آج کل درویشی کے لباس میں ہزاروں راہزن اور ڈاکو مخلوق کے دین پر ڈاکا مارتے پھرتے ہیں۔ قسم قسم کے شعبدے اور طلسم دکھا کر لوگوں کو پھنساتے رہتے ہیں۔ ادھر لوگوں میں بھی عقل اور فہم کا اس قدر قحط ہو گیا ہے کہ ایسے ڈاکوئوں کو درویش اور بزرگ سمجھ کر ان کے ہاتھوں اپنے دین و ایمان کو برباد کرتے رہتے ہیں‘‘۔ (ص ۲۹۳)

فرمایا: ’’جو شخص دین کا پابند نہیں‘ دنیاوی معاملات کے سلسلے میں بھی اس کے فہم میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور دین دار شخص کو اگرچہ دنیا کا تجربہ نہ ہو لیکن دنیوی امور میں اس کی سمجھ سلیم ہو جاتی ہے۔ حلال روزی میں بھی یہی اثر ہے۔ برخلاف اس کے‘ حرام روزی سے فہم مسخ ہو جاتی ہے‘‘ (ص ۱۳۸)۔ ایک ذاکر شاغل سے فرمایا: ’’تم کمزور ہو۔ ضرب اور جہر چھوڑ دو __ دو چیزوں کا ہمیشہ خیال رکھو: معدے اور دماغ کی تندرستی کا۔ کام کا دارومدار ان دونوں کی حفاظت پر ہے‘‘۔ (ص ۱۵۹)

کتاب کی تدوین و ترتیب کے ذریعے جو علمی و دینی خدمت انجام دی گئی ہے‘ اس سے بیش از بیش استفادہ کیا جانا چاہیے۔ (انیس احمد اعظمی)


تاریخ خط و خطاطین: پروفیسر سید محمد سلیم۔ مرتب: سید عزیز الرحمن۔ ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز‘ اے ۴/۱۷‘ ناظم آباد نمبر ۴‘ کراچی- ۷۴۶۰۰۔ صفحات: ۴۶۴۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

پروفیسر سید محمد سلیم ؒ کا تعلق سادات جعفری سے تھا۔ علی گڑھ یونی ورسٹی سے ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کیے۔ آپ کے اساتذہ میں مولوی امتیاز علی‘ مولانا عبدالعزیز میمن اور مرزا محمود بیگ جیسے مشاہیر اہل علم و فضل شامل ہیں۔ ساری زندگی تعلیم و تدریس تحقیق و تصنیف میں گزری۔ علمی مقام اتنا بلند تھا کہ مشاہیر اہل علم اس سلسلے میں رطب اللسان ہیں۔ جماعت اسلامی کے رکن تھے۔ شاہ ولی اللہ اورینٹل کالج (منصورہ‘ سندھ) کے پرنسپل رہے۔ اس ادارے کی تشکیل اور ترقی میں ان کا خون جگر بھی شامل تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تنظیم اساتذہ پاکستان کے ادارہ تعلیمی تحقیق کے ڈائریکٹر رہے اور بیش بہا اسلامی تعلیمی کتب تحریر فرمائیں۔ تنظیم کا ماہنامہ افکار معلم بھی ان کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔ ۲۷ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو قرطبہ‘ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع میں آپ کی وفات ہوئی۔ لاکھوں افراد نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔ کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودئہ خاک ہوئے۔

پروفیسر سید محمد سلیم کی دل چسپی کے موضوعات متنوع تھے۔ اسلامی تاریخ و تہذیب کے ایک مظہر خط اور خطاطی سے ان کی گہری وابستگی تھی۔ خطاطی اور خوش نویسی کو مسلمانوں کا خاص فن قرار دیتے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے تین چار مختصر کتب تحریر فرمائیں لیکن یہ ضخیم کتاب ان کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں انھوں نے تحریر اور حروف ابجد کی ایجاد‘ آرامی‘ یونانی‘ عبرانی وغیرہ خطوط کی ایجاد‘ عربی خطوط کی درجہ بدرجہ ترقی اور خط کے مشہور دبستانوں کے متعلق تفصیل سے معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ ساتھ ہی عالم اسلام کے مشہور خطاط اساتذہ کے مختصر حالات زندگی درج کیے ہیں۔ ایک باب خطاطی کے مشہور مرقعات کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ کتاب کے مقدمے میں ڈاکٹر غلام مصطفی خاں پروفیسر امیرے طس سندھ یونی ورسٹی حیدرآباد نے فرمایا ہے: کتاب کے سرسری جائزے سے بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ اُردو میں اپنے موضوع پر یہ ایک منفرد کتاب ہے بلکہ اس قدر جامعیت کے ساتھ نہ صرف اردو بلکہ فارسی‘ عربی اور انگریزی میں بھی کوئی کتاب موجود نہیں۔ (ص ۱۷)

دیباچہ معروف محقق‘ نقاد اور اسکالر ڈاکٹر وحید قریشی صاحب نے لکھا ہے۔ ان کے خیال میں پروفیسر سید محمد سلیم کی یہ کتاب ]خطاطی کے[اس مٹتے ہوئے فن کو زندہ کرنے اور آیندہ نسل تک پرانے علمی سرمائے کو پہنچانے میں بڑی مفید ہے۔ ]انھوں[ نے خطاطی کے موضوع پر یہ مبسوط کتاب لکھ کر اس ضرورت کو کماحقہ پورا کر دیا ہے۔ (ص ۲۲)

سید صاحب نے معلومات کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ حالانکہ اس کا ایک ایک باب اور بعض جگہ ایک ایک پیراگراف پوری پوری کتاب یا مفصل مقالے کا متقاضی ہے۔ کتاب کے پروف احتیاط سے نہیں پڑھے گئے۔ امید ہے دوسرے ایڈیشن میں اغلاط درست کر دی جائیں گی۔ کتاب مجلد خوب صورت گردپوش سے مزین اور آرٹ پیپر پر چھاپی گئی ہے۔ سید صاحب کو اس کتاب کو مطبوعہ صورت میں دیکھنے کا بڑا ارمان تھا لیکن ان کی زندگی میں مختلف موانع کے باعث چھپ نہ سکی۔ بہرحال اب یہ ان کا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ (ملک احمد نواز اعوان)


اصول فقہ‘ حصہ اول و دوم‘ مولانا معین الدین خٹک۔ ترتیب و تدوین: پروفیسر نورورجان۔ ناشر: البدر پبلی کیشنز‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۴۳۵‘ اور ۴۰۴۔ قیمت: ۲۰۰ روپے فی جلد۔

اصول فقہ انتہائی اہم مگر دقیق اور مشکل علم ہے۔ مزید یہ کہ اس موضوع پر قدیم و جدید ذخیرے اور درسی علوم فقہ کو اکثر مشکل بنا کر پیش کیا گیا ہے تاکہ طالب علم مشکل پسندی اور دقائق کو حل کرنے کا عادی ہو جائے۔ اس کے فوائد بھی ہیں مگر نقصان یہ ہے کہ بہت سے طلبہ اس فن کا پورا اور کماحقہ فہم نہیں حاصل کرسکتے۔

علامہ مولانا معین الدین ؒخٹک اپنے دور میں آیۃمن آیات اللّٰہ (اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی) تھے۔ وہ علوم کا بحرذخار تھے‘ تفسیر و حدیث‘ فقہ‘ اصول فقہ اور بہت سے دیگر علوم و فنون کے حافظ تھے۔ انھیں بجا طور پر اپنے دور کا حافظ ابن حجرؒ اور انورشاہ کاشمیریؒ کہا جا سکتا ہے۔ وہ مختلف علوم و فنون پر اس قدر حاوی تھے کہ ان کا بیان کردہ مضمون ہر طالب علم کے دل و دماغ میں اترتا جاتا تھا‘ اور مولانا کے انتہائی مشکل لیکچر میں بھی وہ حلاوت اور ذہنی اطمینان اور قلبی سرور حاصل کرتے تھے۔

زیرنظر مجموعہ ان شاہکار خطبات پر مشتمل ہے جو مولانا ؒنے ۳ اگست تا ۲۵ ستمبر ۱۹۶۶ء ادارہ معارف اسلامی کراچی میں دو ماہ سے بھی کم عرصے میں دیے تھے۔ یہ خطبات پروفیسر نورورجان نے بڑی محنت کے ساتھ ٹیپ سے اخذ کر کے مرتب کر دیے ہیں۔ اصول فقہ کے تمام مباحث کا احاطہ کرتے ہوئے قرآن پاک اور سنت کی زبان و بیان سے متعلق قواعد کو پہلے حصے میں رکھا گیا ہے‘ اور جن مباحث کا تعلق سنت‘ اجماع‘ قیاس اور اجتہاد سے ہے وہ دوسرے حصے میں ہیں۔ یہ درس نظامی کی تمام نصابی کتب (جنھیں دوسرے سال سے لے کر ساتویں سال تک پڑھایا جاتا ہے) پر حاوی ہیں اور اس قدر سلیس اور عام فہم ہیں کہ دینی مدارس کے طلبا کے علاوہ کالج اور یونی ورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اپنے مضامین و موضوعات کی وسعت کے لحاظ سے دینی مدارس کے ہر سطح کے طلبہ اور اساتذہ‘ یونی ورسٹی کے پروفیسروں‘ عدالتوں کے وکلا اور ججوں کے لیے گراں قدر تحفہ ہے۔

مولانا حافظ محمد عارف نے دیباچے میں فقہ اور اصول فقہ کی تاریخ اور اہم کتب کا تعارف کرایا ہے۔ آغاز میں مولانا معین الدینؒ خٹک کا تعارف ہے اور ان کا ایک مقالہ ’’فقہ کیسے وجود میں آئی؟‘‘ بھی شامل ہے۔ پروفیسر نورورجان نے سلسلہ ہاے فقہا ے عظام کا نقشہ پیش کیا ہے اور کتاب کے آخر میں تفسیر‘ حدیث‘ فقہ اور اصول فقہ کی قدیم و جدید کتب کی جامع فہرست بھی دی ہے۔ کتاب کا ایک ایک لفظ قیمتی ہے اور اس کی قدروقیمت کا صحیح اندازہ پوری کتاب کے مطالعے سے ہو سکتا ہے۔

کتب فقہ کی عبارات کے نقل میں بہت سی جگہ غلطیاں راہ پا گئی ہیں۔ آیندہ ایڈیشن میں ان کی اصلاح ضروری ہے۔ اس پیش کش پر ادارہ معارف اسلامی کراچی‘ پروفیسر نورورجان اور ناشر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ میں تمام مدارس کے ذمہ داروں سے عرض کروں گا کہ اس کتاب کو نصاب میںشامل کر کے اس فن کی تعلیم کو معیاری بنانے میں حصہ لیں۔ (مولانا عبدالمالک)

تعارف کتب

  •  سرِآب رواں‘ سید انجم جعفری۔ ناشر: احباب پبلشرز‘ ۴۰ جی شمع پلازا‘ ۷۲ فیروز پور روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۷۶۔  قیمت: ۱۵۰ روپے۔]غزلیات اور قومی اور ملی نظموں کا مجموعہ‘ ابتدا میں شاعر کو مختلف اہل قلم کا خراج تحسین[
  •  تبلیغ دین اور اس کی صورت‘ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ۔ ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ‘ جناح ٹائون‘ نزد مسجد فردوس‘ ہارون آباد‘ ضلع بہاول نگر‘ صفحات ۲۱۔ قیمت: چار روپے کے ڈاک ٹکٹ بھیج کر منگوایئے۔]دین کی تبلیغ پر مولاناتھانوی ؒکے افادات‘ مرتبہ: محمد اقبال قریشی[
  •  مسلم خواتین کے لیے تحفۂ نماز‘ مولانا ممتاز احمد شاہ۔ ناشر: دارالقلم‘ ۳۹ علی بلاک‘ اعوان ٹاون‘ ملتان روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۵۰۔ قیمت: ۶۰ روپے۔]نماز کا مفصل اور مکمل طریقہ‘ ضروری فقہی مسائل‘ خواتین کے مخصوص اہم مسائل[
  • علاج بالغذا‘ حکیم احتشام الحق قریشی۔ملنے کا پتا: ادارہ مطبوعات خواتین‘ کیمرہ مارکیٹ‘ ۴۲ چیمبرلین روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۴۴۸۔ قیمت: ۱۸۰ روپے۔]قدیم طب میں ’’علاج بالغذا‘‘ ایک مستقل اور اہم نظریہ ہے۔ زکریا رازی کا قول ہے: ’’جب تک غذا سے علاج کیا جا سکتا ہے‘ دوا سے علاج مت کرو‘‘۔ جملہ پھلوں‘ سبزیوں اور مختلف غذائوں کے خواص‘ مزاج‘ فوائد کا بیان۔ مطالب کو آج کے اندازِ بیان اور اسلوب میں پیش کیا جاتا تو افادیت کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا[
  • دعوتی تحریک: ضرورت اور طریقۂ کار‘ سید عامر نجیب۔ ناشر: الصراط پبلی کیشنز‘ پوسٹ بکس نمبر ۲۱۰۶‘ ناظم آباد‘ کراچی۔ صفحات:۸۸۔ قیمت: ۱۵ روپے۔ ]دین کے لیے ہونے والی جدوجہد بعض بنیادی نقائص اور کمزوریوں کے سبب موثر اور نتیجہ خیز نہیں ہو رہی۔ نقائص کی نشان دہی کے ساتھ لائحہ عمل بھی تجویز کیا گیا ہے جس پر عمل کرنے کے لیے ’’تحریک صراط مستقیم پاکستان‘‘ شروع کی گئی ہے[
  • میرے حضرتؒ میرے شیخ  ؒ،مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ ‘ خالق آباد‘ نوشہرہ سرحد۔ صفحات: ۲۶۰۔ قیمت: ۹۰ روپے۔ ]مولانا عبدالحقؒ بانی دارالعلوم حقانیہ کی سوانح۔ مولانا کا علم و عمل‘ سیرت و کردار‘ صفات و کمالات‘ علمی و دینی ‘روحانی و تجدیدی‘ جہادی و اصلاحی اور تعلیمی کارناموں کا تعارف‘ ذاتی کمالات علم و شوق‘ مطالعہ ایمان آفریں مجالس اور روح پرور افادات کا تذکرہ۔ مرحوم کی زندگی کے تقریباً ہر گوشے پر محیط[

خلیل الرحمٰن چشتی ‘ اسلام آباد

’’اشارات‘‘ (فروری ۲۰۰۲ء) میں جہاداکبر اور جہاد اصغر پر بحث کی گئی ہے۔ اس بارے میں قول کو حدیث نہیں سمجھنا چاہیے۔ مشہور حنفی عالم ملا علی قاری ؒ (المتوفی ۱۰۱۴ھ) نے اپنی کتاب ’’الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ‘‘ المعروف بالموضوعات الکبری میں تمام جھوٹی حدیثوں کو جمع کیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک باطل حدیث نمبر ۲۱۱ ہے جس کے الفاظ ہیں: ’’ہم چھوٹے جہاد (جہاد اصغر) سے بڑے جہاد (جہاد اکبر) کی طرف لوٹے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: جہاد اکبر کیا ہے؟ تو فرمایا: ’’یہ جہادِ قلب ہے‘‘۔ اس باطل حدیث کے بارے میں‘ حافظ ابن حجر عسقلانی  تسدید القوس میں کہتے ہیں: ’’یہ لوگوں کی زبانوں پر چڑھی ہوئی ہے لیکن یہ حدیث رسولؐ نہیں ہے بلکہ ابراہیم بن ابی عیلۃ کا قول ہے (جن کا انتقال ۱۵۲ھ میں ہوا تھا)۔

ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں: ’’حافظ عراقی وغیرہ نے تو اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے‘ لیکن میں تو اس کو باطل سمجھتا ہوں‘ اس لیے کہ یہ ایک اہم ترین فریضے کی شان میں کمی کرتی ہے جس کو رسولؐ اللہ نے ذروۃ سنام الاسلام (اسلام کی بلندی) کا نام دیا ہے۔ میں نے ایک رسالہ جہاد پر لکھا ہے‘ جس میں اس باطل روایت کے بطلان کی طرف اشارہ کیا ہے‘‘۔

پروفیسر نورورجان ‘ پشاور

’’چمن کی فکر کر نادان‘‘ (فروری ۲۰۰۲ء) کے ذریعے طلسم سامری کے بت کو پاش پاش کر دیا گیا ہے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کر دیا گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے جہاد اصغر اور جہاداکبر کے الفاظ اور  علامہ اقبالؒ کے کلام سے جو مغالطے ملت میں پھیلائے تھے‘ وہ دُور کر دیے گئے ہیں۔ اُن لوگوں کی آنکھیں کھل جانا چاہییں جو اپنی سادگی میں سرکاری موقف کی تائید کرتے ہیں۔

رب نواز صدیقی ‘ منچن آباد

’’مسلکی منافرت اور تشدد‘‘ (فروری ۲۰۰۲ء) میں بہت اچھے انداز سے اسلام کا مطلوب واضح کیا گیا ہے‘  اور مسلکی اختلافات کی وجوہات اور اُن کے حل کی تدابیر کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں ان مسائل سے بچائو کس طرح ہو اور دینی قوتوں کو توسیع و دعوت کی بہترین حکمت عملی کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے؟ اگر قرآن اہل کتاب کو کلمۃٍ سوائٍ کی طرف دعوت دیتا ہے تو ہمارے   علماے کرام چند فروعی مسائل سے صرفِ نظر کر کے اتحاد اُمت کامظاہرہ کیوں نہیں کر سکتے۔

 

اس اشاعت سے ان صفحات میں قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر کا ایک سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ ترجمہ جس نوعیت کا ہے اس کے لحاظ سے اسے ترجمہ کہنے کے بجائے ترجمانی کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ اس میں جس چیز کی کوشش میں نے کی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کو پڑھ کر جو مفہوم میری سمجھ میں آتا ہے اور جواثر میرے قلب پر پڑتا ہے اسے حتی الامکان جوں کا توں اپنی زبان میں منتقل کر دوں‘ اسلوب بیان میں ترجمہ پن نہ ہو‘ عربی مبین میں جو کلام نازل ہوا ہے اس کی ترجمانی جہاں تک ممکن ہے اردوئے مبین میں ہو‘ اصل کلام کا فطری ربط آپ سے آپ ترجمہ میں نمایاں ہوتا جائے‘ اور کلام الٰہی کے شاہانہ وقار‘ زورِبیان‘ اور موقع و محل کے مطابق بدلتے ہوئے لہجے اور اسلوب کو بھی جہاں تک بس چلے اُردو میں منتقل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اِن اغراض کے لیے لفظی ترجمہ کی پابندیوں سے نکلنا بہرحال ناگزیر تھا ‘ اس لیے میں نے ترجمہ کے بجائے ترجمانی کا ڈھنگ اختیار کیا‘ البتہ انتہائی ممکن احتیاط کے ساتھ میں نے اس امر کا التزام کیا ہے کہ اصل عبارت کے الفاظ جس قدر مفہوم کے متحمل ہوں اس سے تجاوز نہ ہونے پائے۔ پھر مجرد ترجمانی سے ایک عام ناظر کے فہم قرآن میں جو کمی باقی رہ جاتی ہے اُسے پورا کرنے کے لیے میں نے مختصر تفسیری حواشی اور ہر سورت کے آغاز میں ایک مختصر مقدمہ کااضافہ کیا ہے ‘ اور ان میں ایک اوسط درجہ کے تعلیم یافتہ آدمی کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر صرف وہ باتیں بیان کر دی ہیں جن کا جاننا قرآن کے معنی و مدعا کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی مناسبت سے میں نے اس کا نام ’’تفہیم القرآن ‘‘ رکھا ہے کیونکہ اس سلسلہ کو شروع کرنے سے میرا مقصد عام لوگوں کو قرآن سمجھانا ہے .....

رسالہ میں اس کی اشاعت کا سلسلہ شروع کرنے سے میری غرض یہی ہے کہ اہل علم و نظر حضرات بالخصوص اور عام ناظرین بالعموم اسے تنقیدی نظر سے ملاحظہ کریں اورجہاںکوئی غلطی یا فروگزاشت‘ یا ترجمانی و تفسیر میں کوئی تشنگی‘ یا کسی اعتراض و شبہ کی گنجایش پائیں ازراہ کرم مجھے اس پر متنبہ فرما دیں تاکہ نظرثانی کے وقت میں ان کے مشوروں سے استفادہ کر کے اس چیز کو زیادہ سے زیادہ صحیح و معتبر اور مفید بنا سکوں۔ سردست اس سلسلہ کو آخری تیار شدہ چیز نہ سمجھا جائے۔ بلکہ محض ایک مسودہ کی حیثیت سے دیکھا جائے۔ برادرانِ دینی سے میری درخواست ہے کہ وہ اس خدمت کی تکمیل میں میری مدد فرمائیں۔ جو اصحاب بھی اس میں میری اعانت کریں گے میں ان کا شکرگزار ہوں گا اور اگر کچھ لوگ ہمدردانہ مشورہ و اصلاح کی جگہ طعن و تعریض کا طریقہ اختیار کرنا پسند فرمائیں تو ان کے ارشادات میں بھی جہاں کوئی بجااعتراض دیکھوں گا اس سے استفادہ کرنے اور ان کی عنایت کا شکریہ ادا کرنے میں ان شاء اللہ مجھے تامل نہ ہوگا۔ (’’اشارات‘‘، ابوالاعلیٰ مودودیؒ،ماہنامہ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۰‘ عدد ۱‘ محرم ۱۳۶۱ھ‘ مارچ ۱۹۴۲ء‘ ص ۲-۳)