مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۱۴

مخالفین طعنہ دیتے ہیں کہ: ’’انھوں نے دعوت چھوڑ کر سیاست اپنا لی ہے‘‘۔ مغرب نے بھی اسلامی تحریکوں کے لیے ’سیاسی اسلام‘ کی اصطلاح گھڑرکھی ہے۔ اس کے بقول یہ اسلام کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ لیکن اسلامی تحریک کے کارکن بھی عجیب ہیں، سنگین سیاسی بحران عروج پر ہے، خونیں فوجی انقلاب دن رات قتلِ عام کر رہا ہے، ۲۱ہزار سے زائد کارکنان جیلوں میں ہیں، نام نہاد عدالتیں آئے روز طویل قید کی سزائیں سنارہی ہیں لیکن مصر کی طالبات نے نئی مہم شروع کردی ہے۔ مہم کا عنوان ہے: صلاۃ الفجر بدایۃ النصر،’’نمازِ فجر آغازِ نصر‘‘۔

طالبات کے بقول: فرعون سیسی کے خلاف ہماری ساری تحریک اللہ کی خاطر ہے، اللہ کو منائے بغیر اس کی نصرت شاملِ حال نہیں ہوسکتی۔ طالبات ضد الانقلاب، نامی طالبات تحریک نے اپنی نئی مہم کے لیے مختلف اسٹکر، پٹیاں، پوسٹر اور پمفلٹ تیار کیے ہیں اور وہ فرداً فرداً تمام طالبات سے وعدہ لے رہی ہیں کہ نمازِ فجر کا خصوصی اہتمام کریں گی، جس کا مطلب ہے کہ باقی نمازیں بدرجۂ اولیٰ ادا ہوں گی۔ اس مہم کی ایک ذمہ دار تسبیح السید کے بقول ہماری مہم توقع سے بھی زیادہ کامیاب ہورہی ہے اور طالبات کے ذریعے ہمارا پیغام ان کے اہلِ خانہ تک بھی پہنچ رہا ہے۔

مصر کے پہلے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کو ایک سالہ اقتدار کے بعد ہی رخصت کرتے ہوئے، قابض خونیں جرنیلوں نے پورا ملک خاک و خون میں نہلا دیا ہے۔ مصری عوام کی اکثریت اس فوجی انقلاب کو مسترد کررہی ہے۔ گذشتہ تقریباً نوماہ میں کوئی ایک روز بھی ایسا نہیں گزرا جس میں انقلاب مخالف مظاہرے نہ ہوئے ہوں۔ جنرل سیسی نے اپنے پیش رو مصری حکمرانوں کی طرح نہتے شہریوں کو کچلنے کے لیے ہرہتھکنڈا آزما کر دیکھ لیا ہے۔ لیکن ہرظلم اور ہرجبر عوامی تحریک کو مزید توانا کرنے کا ذریعہ ہی بن رہا ہے۔ سب تجزیہ نگار حیرت زدہ ہیں کہ ۸ہزار کے قریب شہدا پیش کرکے بھی اخوان کیوں کر میدان میں کھڑے ہیں۔ صلاۃ الفجر بدایۃ النصر مہم اس حیرت و استفسار کا ایک واضح جواب ہے۔ یہی مہم نہیں، اخوان کی پوری تاریخ اور پوری تحریک ہی  اس تعلق باللہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امام حسن البنا کی یہ ہدایت کہ ہمارا ایک روز بھی اللہ کی کتاب سے ملاقات کیے بغیر نہ گزرے، ہر کارکن نے مضبوطی سے پلے باندھ رکھی ہے۔ اخوان کے کارکنان نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ قرآن کریم کو دل کی نگاہوں سے پڑھتے اور عمل میں ڈھال دیتے ہیں۔ پھر یہی قرآن ہر ظلم کے مقابلے میں ان کی ڈھال بن جاتا اور انھیں ثابت قدم رکھتا ہے۔

گذشتہ تین سالہ عرصے میں اخوان کے بیانات، مضامین، مظاہروں اور اجتماعات میں ہرطرف یہی قرآنی رنگ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ جامعہ ازہر کے طلبہ کا یہ بیان ملاحظہ فرمایئے۔ ۲۲مارچ کو جاری ہونے والے بیان کا عنوان ہے: سَنُحَاجِجُکُمْ بکل ما اقترفتموہ فی دنیاکم واخراکم ’’ہم دنیا و آخرت میں تم سے تمھارے جرائم کا حساب لیں گے‘‘۔ یہ بیان جامعہ ازہر کے ۱۶طلبہ کو تین تین سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ ان طلبہ پر الزام تھا کہ انھوں نے جامعہ میں مظاہرہ کیا۔ طلبہ اپنا مذکورہ بالا بیان دے کر گھر نہیں بیٹھ گئے۔ یہ بیان بھی ایک نئے مظاہرے کے دوران دیا گیا۔ اس دوران جامعہ ازہر طلبہ یونین کے قائم مقام صدر (صدر گرفتار ہے) نے عدلیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ اشعار بھی پڑھے کہ:

اذا جار الامیر وحاجباہ

وقاضی الارض أسرف فی القضاء

فویل ثم ویل ثم ویل

لقاضی الارض من قاضی السماء

(جب حکمران اور اس کے مصاحب ظلم ڈھانے لگیں، اور دنیا کے جج بے انصافی پر اُتر آئیں، تو پھر دنیا کے ججوں کے لیے منصف ِ کائنات کی طرف سے ہلاکت ہے، ہلاکت ہے، ہلاکت ہے۔)

۲۱ہزار سے زائد جو بے گناہ کارکنان جیلوں میں عذاب و اذیت جھیل رہے ہیں وہ بھی اسی عزم و یقین سے سرشار ہیں۔ ذرا اخوان کے رکن اسمبلی حمدی اسماعیل کو دیکھیے۔ وہ خود بھی گرفتار ہیں اور ان کا بیٹا ایک دوسری جیل میں پابند سلاسل ہے۔ حال ہی میں ان کے دوسرے بیٹے کو حکومتی سرپرستی میں اغوا کرلیاگیا اور رہائی کے لیے ۸۰لاکھ پائونڈ (تقریباً سوا ارب روپے) تاوان کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ حمدی اسماعیل نے اسی دوران کسی طرح اپنا تحریری پیغام اہلِ خانہ کو بھجوایا ہے،   لکھتے ہیں: ’’عزیزرفیقۂ حیات! امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آزما رہا ہے۔ وہ ہمیں گناہوں سے پاک کرنا چاہتا ہے اور ہمیں دنیا ہی میں اس وعدے سے نواز رہا ہے کہ آخرت کی منزل بہت خوب ہوگی۔ پروردگار ہم بندوں پر خود ہم سے بھی زیادہ مہربان ہے وگرنہ وہ اپنے انبیاے کرام ؑ کو بھی آزمایشوں میں کیوں مبتلا کرتا۔ ذرا ان آیات کی تلاوت کر کے دیکھو: وَاذْکُرْ عَبْدَنَــآ اَیُّوبَم اِِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ…(صٓ ۳۸:۴۱-۴۹)۔ اب آپ بھی ارادوں کو مضبوط کرلیں اور جدوجہد مزید تیز کردیں تاکہ ہم اپنی آزمایش میں سرخرو ہوسکیں۔ یہ زندگی، اصل زندگی کا صرف ایک منظر ہے۔ اس میں ہمیں اپنی بہترین پونجی آخرت کے لیے پیش کرنا ہے۔ یقینا اللہ ہی کا فیصلہ غالب رہے گا،لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں‘‘۔

یہ کوئی اکلوتا خط یا اکلوتا اظہار نہیں، ہر کارکن اور ہر اسیر اسی جذبے سے سرشار ہے۔ ایک اسیر کے یہ جملے ملاحظہ کیجیے جو وہ اپنے معصوم بیٹے کے نام خط میں لکھ رہے ہیں: ’’جانِ پدر! ذرا سوچو اگر میں اس تحریک میں گرفتار نہ ہوتا اور خدانخواستہ کسی ٹریفک حادثے کا شکار ہوجاتا، یا کوئی بیماری مجھے آن لیتی، تو اس صورت میں بھی صبر ہی کرنا پڑتا۔ یاد رکھو کہ ہمیں بہرصورت اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا ہے۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں۔ اس کے فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہی آخر ت میں کامیابی کا ذریعہ بنے گا۔ تمھیں اپنے آپ کو ایک ذمہ دار انسان ثابت کرنا ہے۔ قرآن کی تلاوت کبھی نہ چُھوٹے۔ نماز باجماعت ادا ہو، اپنی والدہ کو خوش رکھیں اور اس آزمایش میں ان کے معاون بنیں۔ اصل مردانگی کردار واخلاق کا نام ہے۔ اگر اس کڑے وقت میں بہادری نہ دکھائی تو آخر کب اس کا موقع آئے گا۔ اللہ سے ہردم مدد طلب کرتے رہو اور کبھی کسی کمزوری کو قریب نہ پھٹکنے دو‘‘۔

ظلم و جبر کے مقابلے میں اخوان کی ثابت قدمی پر حیرت کا اظہار کرنے والوں کو ان کی قوت کا یہ اصل راز معلوم ہے، لیکن ہرفرعون کی طرح اقتدار کا نشہ انھیں بھی اس غلط فہمی کا شکار کیے ہوئے ہے کہ ’’سب کو تہِ تیغ کردیں گے۔ میرا اقتدار ہی میری قوت رہے گا‘‘۔ اخوانی کارکنان کا موسوی کردار جب ان کی چالوں کو بودا ثابت کرتا ہے، تو ظلم و تشدد پاگل پن کی آخری حدیں جاچھوتا ہے۔ پہلے تو اخوان کو دہشت گرد اور غیرقانونی قرار دیا تھا، اب فلسطین کی تحریک حماس کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔ مصر کے ساتھ ساتھ اہلِ غزہ پر غصہ اُتارنے کی سعی لاحاصل میں تیزی آگئی ہے۔ ماہِ رواں کے دوران بھی غزہ کی حدود سے متصل کئی کلومیٹر کا علاقہ خاک میں ملا دیا گیا ہے۔ اسرائیل اور اس کے عالمی سر پرستوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے پورے سرحدی علاقے کے رہایشی علاقوں کو بارود سے اُڑا کر بلڈوزر چلا دیے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مصری انتظامیہ گذشتہ چند ماہ میں ۱۳۵۰ سے زائد سرنگیں تباہ کرچکی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اہلِ غزہ کی زندگی کی ڈور انھی سرنگوں سے بندھی ہے۔ ساتھ ہی ایک عدالتی فرمان کے ذریعے مصر میں موجود حماس کے تمام ’اثاثہ جات‘ ضبط کرلینے کا اعلان کردیا گیا۔ حماس کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سیسی انتظامیہ اب ذرا ان اثاثہ جات کا اعلان بھی کردے کیوں کہ ہمارے علم کے مطابق وہاں ہمارے کوئی اثاثہ جات ہیں ہی نہیں‘‘۔ گویا کہ مصری فرمان کا اصل ہدف صہیونی ریاست کو خیرسگالی کا پیغام دینا ہی تھا۔

جنرل سیسی کے اقتدار کو استحکام و دوام بخشنے کے لیے ابتدائی ایام ہی سے ایک مہم یہ شروع کردی گئی تھی کہ اب اس مدارالمہام کو منصب ِصدارت بھی سنبھال لینا چاہیے۔ کئی بار تو ایسی فضا بنادی گئی کہ اعلانِ صدارت گویا اب چند روز کی بات ہے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بناپر ابھی تک مصری عوام پر یہ احسانِ عظیم نہیں کیا جاسکا۔ مصری اور مغربی تجزیہ نگار اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ ان تجزیوں کا مشترک نکتہ یہی ہے کہ خود حکمران ٹولے میں بھی اس بارے میں گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صدرمنتخب ہونے کے لیے جنرل سیسی کو بھی وردی اُتارنا پڑے گی۔ ہزاروں بے گناہوں کا خون اپنے اقتدار کی بھینٹ چڑھا دینے والے کو اپنے دائیں بائیں بیٹھے وردی والوں پر ابھی     یہ بھروسا نہیں کہ وردی اُترتے ہی وہ اس کا کام تمام نہیں کردیں گے۔ رہی سہی کسر ایک ’نامعلوم‘   فون کال کے ذریعے پوری کی جارہی ہے۔سرکار کے ترجمان ایک ٹی وی چینل پر موصولہ یہ کال کسی ’وحید‘ نامی شخص کی ہے۔ مصر کے ایک معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر حلمی القاعود کے مطابق گذشتہ تقریباً چاربرس میں ’وحید‘ کی یہ چوتھی فون کال تھی۔ اس کا نمبر یا ٹھکانا کبھی معلوم نہیں کیا جاسکا۔ پہلی کال حسنی مبارک کے خلاف عوامی جذبات عروج پر پہنچ جانے کے دوران آئی تھی، جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جمال مبارک اس کا وارث نہیں بن سکے گا۔ دوسری کال صدر محمد مرسی کے انتخاب کے بعد تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ صدر مرسی کا اقتدار جلدختم ہوجائے گا۔ تیسری کال جنرل سیسی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد تھی جس میں دعویٰ تھا کہ وہ صدارتی انتخاب نہیں لڑیں گے۔ چوتھی کال چند ہفتے قبل آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کا اصل اقتدار اس وقت منظرعام پر موجود فوجی قیادت کے ہاتھ میں نہیں، خفیہ قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ جنرل سیسی اس قیادت کا مجرد ایک آلۂ کار ہے۔ ملک کا آیندہ صدر وہ نہیں بلکہ اسی خفیہ فوجی قیادت میں سے کوئی شخص ہوگا جس کا نام ابھی کسی کے سامنے نہیں ہے۔ اسی چوتھی کال میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر محمد مرسی کو جیل سے رہا کردیا جائے گا، لیکن پھر اغوا کرکے زندگی سے محروم کردیا جائے گا۔ ڈاکٹر حلمی قاعودکے مطابق: ’وحید‘ کوئی نام نہاد نجومی یا علمِ غیب رکھنے والا کردار نہیں بلکہ اسی ’اصل خفیہ قیادت‘ کا کوئی ’خفیہ ترجمان‘ ہے جو ان پیغامات کے ذریعے ایک تیر سے کئی کئی شکار کرنا چاہتا ہے۔

اسی عرصے میں فوج کے سابق سربراہ فیلڈمارشل طنطاوی جو ۱۹۹۱ء سے ۲۰۱۲ء تک کے طویل ۲۱برس تک فوجی سربراہ اور وزیردفاع رہے، بھی ذرائع ابلاغ میں نمودار ہوئے اور انھوں نے ملک کی اکلوتی جمہوری منتخب حکومت سے نجات پانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔جنرل سیسی نے بھی اپنے اس پیش رو کی خوشامد نُما تعریفوں کے پُل باندھے ہیں۔ ڈاکٹر حلمی کے مطابق جنرل طنطاوی نے اپنے انٹرویو میں تقریباً ۲۰مرتبہ ایک لفظ استعمال کیا اور وہ تھا: ’مُخَطَّطْ: منصوبہ‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ۳۰جون ۲۰۱۳ء کو عوام بھی یہ منصوبہ سمجھ گئے اور صدرمرسی کے خلاف نکل آئے۔ جنرل طنطاوی نے جب بار بار ’منصوبے‘ کا ذکر اور اخوان سے نجات پر خوشی ظاہر کی تو انٹرویو کرنے والے نے پوچھ ہی لیا کہ ’’پھر آخر آپ لوگوں نے اخوان کو اقتدار دیا ہی کیوں؟‘‘ جواب میں انھوں نے    مصری لہجے میں بے اختیار تین بار کہا: ’’مَاسَلَّمْتُھَاشْ… مَاسَلَّمْتُھَاشْ… مَاسَلَّمْتُھَاشْ، ’’میں نے انھیں اقتدار نہیں سونپا… میں نے نہیں سونپا… میں نے نہیں سونپا‘‘۔ ہم نے عوام کے اصرارپر انتخابات کروائے اور عوام نے اخوان کو ملک پر قابض ہونے کا موقع دے دیا‘‘۔

ان تمام حقائق سے قرآن کریم کے الفاظ کے مصداق: قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۱۸) ’’ان کے دل کا بُغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے‘‘،عوام کا یہ یقین مزید مستحکم ہوگیا ہے کہ جابر فرعونی نظام سے نجات کے لیے قربانیوں کا یہی سفر ناگزیر ہے۔ اخوان کے کارکنان سیّدقطب شہیدؒ کے یہ الفاظ ایک دوسرے کو سنا رہے ہیں کہ: ’’اللہ کی نصرت آنے میں دیر لگ سکتی ہے، کیونکہ قدرت یہ چاہتی ہے کہ باطل کا باطل ہونا دنیا کے سامنے کھل کر آجائے۔ اگر باطل پوری طرح کھوٹا ثابت ہوئے بغیر مغلوب ہوجائے، تو ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ اس سے پھر دھوکا کھاجائیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ باطل کو پوری مہلت ملے ،یہاں تک اس کے بارے میں کسی کو کوئی شبہہ نہ رہ جائے اور پھر اس کے زوال پر کسی کو کوئی افسوس نہ ہو‘‘۔

اخوان بھی یقینا انسان ہیں اور بلااستثنا ہر انسان قرآن کریم کی اطلاع کے مطابق کمزور بنایا گیا ہے، لیکن آزمایشوں کی بھٹی نے انھیں ایسا کندن بنادیا ہے کہ ہر عذاب و آزمایش کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط و توانا ہوکر اُبھرتے ہیں۔ گذشتہ تمام قتل و غارت سے شکستہ یا مایوس ہونے کے بجاے انھوں نے ۱۹مارچ سے تحریک کا مزید پُرجوش دوسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ مظاہرے تو پہلے بھی ایک دن کے لیے نہیں رُکے تھے، لیکن نئے مرحلے کے پہلے ہی روز ملک بھر میں ۳۵۰مظاہرے ہوئے۔ اس وقت فوجی انقلاب مخالف درجنوں تنظیمیں میدان میں ہیں۔ طلبہ، طالبات، خواتین، مزدور، ڈاکٹر، کسان، اساتذہ___ ہر میدان میں الگ تنظیم و تحریک ہے۔ سب ہی اپنے اپنے شہدا پیش کررہے ہیں۔ اس تحریر کے دوران ہی ایک۱۴سالہ بچے عمرو کی شہادت کی خبر بھی ملی ہے اور ایک صحافی خاتون کی بھی۔پھولوں جیسے معصوم عمرو کے والدین نے آنسو بہائے لیکن الحمدللہ کا ورد کرتے ہوئے یہی کہتے رہے: ’’لخت جگر چلا گیا… لیکن کچھ عرصے سے یقین ہوچلا تھا کہ اسے تو ضرور ہی شہادت ملے گی… کوئی جلوس یا مظاہرہ ایسا نہیں ہوتا تھا کہ عمرو کو اس کا پتا ہو  اور وہ مظاہرین اور زخمیوں کو پانی پلانے کے لیے اس میں نہ چلا گیا ہو‘‘۔

خاتون صحافی رقیہ اسلام جامعہ ازہر کے ایک بڑے عالم دین جناب ہاشم اسلام کی صاحبزادی تھیں۔ وہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ یونی ورسٹی کی طالبہ بھی تھیں۔ ہاشم اسلام کا کہنا ہے کہ ’’انھوں نے میری رقیہ کو نہیں، مجھے سزا دی ہے کیوں کہ مَیں نے جنرل سیسی کے حق میں فتویٰ دینے سے انکار کردیا تھا… اگر مجھے اپنے فتوے اور مبنی بردلیل راے کی قیمت بیٹی کی میت سے بھی زیادہ ادا کرنا پڑتی تو وہ بھی ہیچ تھی۔ البتہ غم اس بات کا ہے کہ جن علماے کرام نے جنرل سیسی کے حق میں فتویٰ دیا تھا، رب کے دربار میں وہ بھی میری بیٹی کے قتل میں برابر کے مجرم قرار پائے‘‘۔

عمر نامی ایک اور نوجوان بھی کئی ماہ قبل اسی تحریک کے دوران زخمی ہوگیا تھا۔ دائیں پہلو سے جسم میں داخل ہونے والی گولی بائیں پہلو سے نکلی تو تمام اندرونی نظام کو کاٹتے ہوئے چلی گئی۔ تب سے علاج جاری ہے، لیکن اُمیدیں بار بار دم توڑ دیتی ہیں۔ ان کی والدہ کا ایک تفصیلی انٹرویو فریڈم اینڈ جسٹس اخبار میں شائع ہوا ہے۔ دیگر باتوں کے علاوہ وہ ایک تاریخی جملہ یہ کہتی ہیں: ’’اگر بیٹے کو شہادت نصیب ہوگئی تو یہ میری خوش بختی ہوگی۔ میرے لیے غم کا سب سے بڑا دن وہ ہوتا جس روز خدانخواستہ میرا بیٹا اللہ کی اطاعت کی راہ سے ہٹ گیا ہوتا‘‘۔

صلاۃ الفجر تحریک،  قرآن سے جڑے ہوئے، شہادت پر نازاں اخوان کو بھی اگر دنیا دہشت گرد قرار دیتی ہے، تو کیا ایسا کرنے والے رب کے حضور بھی کوئی جواز پیش کرسکیں گے…؟

کچھ عرصہ قبل علامہ یوسف القرضاوی صاحب کا شریکِ سفر ہونے کا موقع ملا۔ دورانِ سفر عرض کیا کہ کوئی خاص نصیحت کیجیے۔ کہنے لگے: اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر دعا جامع اور الہامی دعا ہے لیکن یہ دعا کئی حوالوں سے بہت اہم ہے کہ اللھم ارنا الحق حقًا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ، ’’اے اللہ! ہمیں حق کو حق دیکھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما، اے پروردگار! ہمیں باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرما‘‘۔ آیئے ہم بھی یہی دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دست دعا بلند کریں۔     

_______________________________________________________

              ٭ شمارہ اشاعت کے لیے جارہا تھا کہ فرعونِ مصر نے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ مصری عدالت نے دو روز کی ’طویل‘ سماعت کے بعد ۵۲۹ بے گناہ قیدیوں کو ’سزاے موت‘ کی سزا سنادی ہے۔ سزا یافتگان میں اخوان کے مرشدعام ڈاکٹر محمد بدیع، قومی اسمبلی کے منتخب اسپیکر ڈاکٹرسعدالکتاتنی، فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر محمد البلتاجی سمیت ملک کی نام وَر سیاسی، علمی اور قومی شخصیات شامل ہیں۔

                یہ انوکھا فیصلہ اگرچہ ظلم و جبر کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین فیصلہ ہے لیکن ہرسننے والا انصاف پسند بلااختیارکہہ اُٹھتا ہے کہ یہ ظلم کی انتہا اور ظالموں کے خاتمے کا اعلان ہے، ان شاء اللہ!

سوال:

حدیث نبویؐ ہے کہ بھلی بات کہو یا خاموش رہو، تو کیا اس حدیث کی روشنی میں زیادہ بولنا حرام ہے؟

جواب:

حضوؐر نے بے شمار حدیثوں میں زبان کی تباہ کاریوں سے خبردار کیا ہے۔ ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْراً اَوْ لِیَصْمُتْ (بخاری، مسلم)’’جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، تو اسے چاہیے کہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے‘‘۔ ایک دوسری حدیث ہے: رَحِمَ اللّٰہُ اِمْرَئً ا  قَالَ خَیْرًا فَغَنِمَ اَوْ سَکَتَ فَسَلِمَ، ’’اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جس نے بھلی بات کہی اور اجرونعمت کا حق دار ہوا یا خاموش رہا تو محفوظ رہا‘‘۔

بلاشبہہ زیادہ بولنا اور بے وجہ بولتے رہنا انسان کے لیے باعث ِ تباہی اور گناہوں کا سبب ہے۔ امام غزالیؒ نے ان گناہوں کی تعداد ۲۰ بتائی ہے، جو زبان کے غلط استعمال سے سرزد ہوتے ہیں۔ شیخ عبدالغنی نابلسیؒ نے اس تعداد کو ۷۲تک پہنچا دیا ہے۔ ان میں سے اکثر گناہِ کبیرہ کے  قبیل سے ہیں، مثلاً جھوٹ، غیبت، چغلی، جھوٹی گواہی، جھوٹی قسم، لوگوں کی عزت کے بارے میں کلام کرنا اور دوسروں کا مذاق اُڑانا وغیرہ وغیرہ۔

اس لیے بہتر یہی ہے کہ انسان حتی المقدور خاموشی کا راستہ اختیار کرے تاکہ ان گناہوں سے محفوظ رہے۔ خاموش رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ہونٹوں کو سی لے اور زبان پر تالا ڈال لے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس بات کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو کسی بھلی اور معروف بات کے لیے کھولے ورنہ اسے بند رکھے۔

جو لوگ زیادہ بولتے ہیں ان سے اکثر خطائیں سرزد ہوجاتی ہیں اور ان خطائوں کے سبب وہ لوگوں میں مذاق اور استہزاء کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے بندئہ مومن جب بھی کوئی بات کرے اسے اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ خدا کے فرشتے اس کی ہربات نوٹ کر رہے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌo(قٓ۵۰:۱۸)، ’’کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضرباش نگراں موجود نہ ہو‘‘۔(علامہ یوسف القرضاوی، فتاویٰ یوسف القرضاوی، ص ۵۹-۶۰)

سوال: دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ کرنا

جو لوگ حج کے لیے جاتے ہیں وہ وہاں اپنے اعزہ کی طرف سے عمرے کرتے ہیں۔ کیا صرف انتقال کرجانے والے اعزہ کی طرف سے عمرہ کیا جاسکتا ہے یا زندوں کی طرف سے بھی عمرہ کرنے کی اجازت ہے؟

جواب:

  فقہاے کرام نے فی الجملہ دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے کو جائز قرار دیا ہے، اس لیے کہ عمرہ حج کی طرح بدنی عبادت ہونے کے ساتھ مالی عبادت بھی ہے اور شریعت میں مالی عبادات کی دوسرے کی جانب سے انجام دہی کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اس کی تفصیلات میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔

حنفیہ کہتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ کرنا اس وقت صحیح ہوگا جب وہ ایسا کرنے کو کہے۔ مالکیہ کے نزدیک دوسرے کی طرف سے عمرہ مکروہ ہے، لیکن اگر کرلیا جائے تو ادا ہوجائے گا۔ شوافع کہتے ہیں کہ دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنا اس وقت صحیح ہے جب اُس شخص پر عمرہ واجب رہا ہو اور اس کی ادائی سے قبل اس کا انتقال ہوگیا ہو، یا نفلی عمرہ، وہ خود نہ کرسکتا ہو۔  حنابلہ کہتے ہیں کہ کسی میت کی طرف سے عمرہ کیا جاسکتا ہے، البتہ کسی زندہ شخص کی طرف سے عمرہ اس وقت صحیح ہوگا جب اس نے ایسا کرنے کو کہا ہو۔(ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت، ۳۰/۲۲۸-۲۳۹)۔ (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

سوال: غیرمسلموں کی زکوٰۃ یا چرم قربانی کی رقوم سے امداد

جماعت اسلامی /الخدمت کے تحت ہم مختلف مواقع پر غیرمسلموں (عیسائی، ہندو برادری) کے ساتھ تعاون کرتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر کرسمس کے موقع پر یہ کام کیا جاتا ہے۔ راشن وغیرہ کی تقسیم کی جاتی ہے۔ عموماً ہمارے پاس راشن کی مد میں زکوٰۃ/ چرم قربانی کے ذریعے رقم آتی ہے۔ آپ سے درج ذیل اُمور میں رہنمائی درکار ہے:

۱- کیا زکوٰۃ سے غیرمسلموں کے ساتھ راشن کی صورت میںتعاون کیا جاسکتا ہے؟

۲- کیا چرم قربانی کی آمدنی سے راشن کی صورت میں تعاون کیا جاسکتا ہے؟

۳- کیا زکوٰۃ/چرم قربانی کی آمدنی سے کسی بھی صورت میں غیرمسلموں کے ساتھ تعاون نہیں کیا جاسکتا؟

۴- کیا تالیف ِ قلب میں مسلمانوں کے ساتھ بھی حُسنِ سلوک کیا جاسکتا ہے؟

۵- تالیف ِ قلب کے سلسلے میں حضرت عمرؓ کے فرمان کے بعد اب کیا صورت ہے؟

جواب :

  غیرمسلم اقلیتوں کے ساتھ صدقات، عطیات اور چرم ہاے قربانی کی رقوم سے تعاون کیا جاسکتا ہے لیکن زکوٰۃ کی رقم سے ان کی مالی اعانت نہیں کی جاسکتی۔ تالیف ِقلب نو مسلموں کے ساتھ ہوتا تھا۔ اب بھی ان کے ساتھ تعاون کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے ایسے نومسلموں کے ساتھ بیت المال سے مالی تعاون ختم کیا تھا جو مال دار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی حکومت ان کے ساتھ مالی تعاون اس لیے کرتی تھی کہ وہ حکومت کے ساتھ محبت کریں اور اپنے سابقہ دین والوں کی مدد کے بجاے اسلامی حکومت کی مدد کریں۔ لیکن جب اسلامی حکومت مضبوط ہوگئی اور ایسے نومسلموں کے تعاون کی ضرورت نہ رہی تو تالیف ِ قلب کی یہ مَد ختم کردی گئی۔ یہ تالیف ِ قلب زکوٰۃ کی رقوم سے نہ ہوتی تھیبلکہ خمس جو  مالِ غنیمت کا ایک حصہ ہے،سے ہوتی تھی۔ اب بھی اگر ایسا دور آجائے کہ اسلامی حکومت کو نومسلموں کی تالیف ِ قلب کی ضرورت ہو تو اسے بحال کیا جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے عارضی طور پر عدم ضرورت کی وجہ سے اسے ختم کیا تھا۔ زکوٰۃ سے نومسلم فقرا کی امداد ہروقت کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح مختلف مواقع پر غیرمسلم فقرا کو ہدیے اور تحفے چرم ہاے قربانی کی رقوم سے دیے جاسکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کے لیے الگ سے مخصوص فنڈ ہو جو عطیات سے جمع کیا جائے۔واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)

سوال: ذاتی ہدیے یا تحریکی اثاثے کا تعین؟

ہمارے شہر میں جماعت اسلامی کے ایک ذمہ دار کے بقول ان کے ایک عزیز دوست نے جماعت اسلامی کی جملہ منصبی ذمہ داریوں کی ادایگی کے لیے انھیں گاڑی تحفتاً دی ہے۔ تاہم، ہمارے بعض ساتھیوں کی راے ہے کہ مذکورہ ذمہ دارفرد کو یہ گاڑی جماعت اسلامی کے نام منتقل کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں کہ گاڑی موجودہ حالت میں وہ استعمال کریں یا جماعت اسے اپنے اثاثہ جات میں شامل کرے؟

جواب:

سب سے پہلے تو اُن صاحب سے معلوم کیا جائے کہ جنھوں نے وہ سواری، جماعت اسلامی کی جملہ ذمہ داریوں کی ادایگی کے لیے ہدیہ کی ہے۔ آیا انھوں نے ذمہ دار کو ذاتی حیثیت میں انھی کی ذات کے لیے سواری ہدیہ کی ہے یا جماعت میں صاحب ِ نظم ہونے کی حیثیت میں جماعت کے لیے ہدیہ کی ہے، تاکہ مذکورہ ذمہ دار فرد اس کے ذریعے تحریکی کام آسانی سے کرسکیں۔

اگر ہدیہ کرنے والے دوست رحلت کر گئے ہوں تو پھر جماعت اسلامی کے ذمہ دار خود فیصلہ کریں کہ ان کے دوست نے انھیں کس حیثیت میں ہدیہ کی ہے۔اس حوالے سے یہ بہرحال پیش نظر رکھنا ہوگا کہ وہ صاحب ِ خیر، مذکورہ فرد کو جماعت اسلامی کی منصبی ذمہ داری ملنے سے پہلے بھی اگر وقتاً فوقتاً کوئی چیز بطور ہدیہ دیتے رہتے تھے تو پھر اس صورت میں وہ گاڑی بھی ہدیہ شمار ہوگی۔ نیز جماعت کی منصبی ذمہ داری ملنے کے بعد اس تصریح کے ساتھ ہدیہ کی ہو کہ یہ اسی طرح کا ہدیہ ہے جس طرح کا ہدیہ اس سے پہلے ان کی ذات کے لیے وہ صاحب کرتے تھے۔

اگر دوست کی طرف سے اس سے پہلے ذاتی حیثیت میں ہدیہ دینے کا معمول نہ تھا اور تصریح بھی نہیں ہے کہ یہ ہدیہ ذاتی حیثیت میں ان کی ذات کے لیے بطور مِلک ہدیہ کیا گیا ہے،   تو پھر یہ جماعت اسلامی ہی کے لیے ہدیہ شمار ہوگا اور اسے جماعت کا اثاثہ شمار کر کے جماعت کے اثاثوں میں شامل کیا جائے گا۔درمختار میں ہے : ویجوز للامام والمفتی والواعظ قبول الھدیۃ لانہ یھدی الی العالم لعلمہ (ج۸، ص ۵۸)’’ مسلمانوں کے امام، پیشوا، مفتی اور واعظ کے لیے ہدیہ قبول کرنا جائز ہے، کیونکہ اسے اس کے علم و فضل کی وجہ سے ہدیہ کیا جاتا ہے‘‘۔ گویا جب اسے اس تصریح کے ساتھ دیا جائے گا کہ یہ ہدیہ اس کی ذات کے لیے ہے تو پھر وہ اپنے لیے لے سکتا ہے۔(مولانا عبدالمالک)

An Exercise in Understanding the Quran، [قرآن کریم  سمجھنے کی ایک مشق]، مؤلف: ڈاکٹر عرفان احمد خان ۔ تقسیم کنندہ: قاضی پبلی کیشنز، پوسٹ بکس ۵۹۷۶۷۹، شکاگو ۶۰۶۵۹۔ فون : ۲۹۶۲-۲۵۱-۶۳۰+۱ صفحات: ۲۱۶۔ قیمت:درج نہیں۔

قرآن کریم اپنے بارے میں یہ بات فرماتا ہے کہ ’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا‘‘ (القمر ۵۴:۳۹)۔ گویا رب کریم نے جو اِس کتاب کا نازل کرنے والا ہے اسے ہر طالب ِ نصیحت و ہدایت کے لیے آسان بنا دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اور اس عظیم ترین کتاب کا مطالعہ کس طرح ہو؟

مفسرین کرام نے جہاں قرآنِ کریم کے معانی پر روشنی ڈالی ہے، وہیں اس کتابِ ہدایت کے قانونی، ادبی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی پہلوئوں کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹرعرفان احمدخان نے اپنے ۴۰سالہ مطالعہ قرآن کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے ہرسورت کے مضامین کو موضوعاتی ترتیب کے ذریعے سمجھنے اور سمجھانے کی ایک مشق کی ہے اور اس غرض کے لیے قرآن کریم کی آخری ۳۰ سورتوں کا انتخاب کیا ہے۔ ۱۳ عنوانات کے تحت قرآنی اصطلاحات کا مفہوم بیان کیا ہے۔

یہ بظاہر ایک آسان کام نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک لافانی کلام کو محدود موضوعاتی تقسیم میں لانا اور پھر اس میں باہمی ربط پیدا کر کے مفہوم کو سمجھنا ایک محنت طلب کام ہے۔ ڈاکٹر عرفان احمد خان نے اپنی تمام تر توجہ اسی کام پر صرف کی ہے اور اپنی تحقیقی کتاب Reflections on the Quran میں (جو لسٹر برطانیہ سے اسلامک فائونڈیشن نے طبع کی ہے) اپنی قرآنی فکر کو سادہ انداز میں پیش کردیا ہے۔ قرآن کریم کو سمجھنے کا یہ انداز ایک قاری کو خود      یہ تربیت دیتا ہے کہ وہ کس طرح براہِ راست قرآن کریم کے پیغام کو سمجھے اور تفسیرقرآن کے نکات جو بعض اوقات قاری اور قرآن کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں، ان سے بچ کر قرآن کا فہم حاصل کیا جاسکے۔ یوں ایک طالب علم کو خود قرآن فہمی پیدا کرنے کی تربیت فراہم کی ہے کہ وہ خود آیات کے درمیان ربط کو تلاش کرسکے اور قرآنِ کریم کے جامع پیغام کو سمجھ کر زندگی میں نافذکرسکے۔

اس کتاب کا تعارف ۵۸صفحات میں الگ کتابی شکل میں طبع کیا گیا ہے جس میں سورئہ علق سے الناس تک چھے منتخب آخری سورتوں پر مبنی تدریسی انداز میں اس طریق فہم قرآن کو واضح کیا گیا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


مذاہب ِ عالم ایک تقابلی مطالعہ، مولانا انیس احمد فلاحی مدنی۔ ناشر: ملک اینڈ کمپنی، رحمن مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۳۹۲۔ قیمت:درج نہیں۔

برقی ابلاغ عامہ کے اس دور میں دنیا کے چار گوشے سمٹ کر ایک بستی بن گئے ہیں لیکن اس کے باوجود مختلف مذاہب اور تہذیبوں کی ایک دوسرے سے ناواقفیت میں کوئی بہت بڑا فرق واقع نہیں ہوا ہے، بلکہ ابلاغِ عامہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے تعصبات اور گمراہ کن تصورات کے پھیلانے میں اچھا خاصا منفی کردار ادا کیا ہے۔ آج مسلمان کا نام سنتے ہی مغرب و مشرق کا ایک غیرمسلم اپنے ذہن میں کسی دہشت گرد کا تصور لاتا ہے۔

مولانا انیس احمد فلاحی مدنی کی یہ تالیف اُردو دان افراد کے لیے ہندوازم، بدھ ازم،   سکھ ازم ، عیسائیت، یہودیت اور شینٹوازم کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کرتی ہے۔ کتاب آسان زبان میں تحریر کی گئی ہے اور اختصار کے ساتھ ان مذاہب کے آغاز، بنیادی تعلیمات اور مصادر کے بارے میں ثانوی ذرائع سے اخذ کردہ معلومات سے بحث کرتی ہے۔ عیسائیت اور یہودیت کے حوالے سے قدیم اور جدید عہدناموں سے مناسب حوالے دیے گئے ہیں اور ساتھ ہی قرآن کریم نے یہودیت اور عیسائیت کے بارے میں جو حقائق بیان فرمائے ہیں ان کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

فلاحی صاحب نے کتاب کے آغاز ہی میں اس کے دو مقاصد بیان کیے ہیں: اوّلًا اپنے اردگرد بسنے والے دیگر مذاہب کے افراد کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنا، اور دعوتی نقطۂ نظر سے مدعوئین کے بارے میں یہ سمجھنا کہ ان کے معتقدات کیا ہیں اور انھیں دعوت کس طرح دی جائے۔

کتاب اکثر عربی مآخذ پر اعتماد کرتی ہے، جب کہ مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے کے لیے ان کے اپنے مصادر کا ان کی اپنی زبان میں جاننا بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ استاذ محمد دراز نے اپنی عربی میں تحریر کردہ کتاب میں جن مغربی مفکرین کا ذکر معرب ناموں کے ساتھ فرمایا ہے اسے جوں کا توں اختیار کرلیا گیا ہے۔ بہت مناسب ہوتا اگر مؤلف ہرمذہب کی تعلیمات کے خلاصے کے ساتھ اُس مذہب کی مقدس کتب کے حوالے بھی براہِ راست درج کردیتے۔

یہ کتاب ابتدائی اور تعارفی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اگر اسے تقابل ادیان کے طریقۂ تحقیق کی روشنی میں مرتب کیا جاتا تو اس کی قدر میں مزید اضافہ ہوجاتا۔ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب ایک مذہب کا احاطہ کرتا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


عصرِحاضر میں اسلام کے علمی تقاضے، مولانا سیّد جلال الدین عمری۔ ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی، جامعہ نگر، نئی دہلی نمبر۲۵، بھارت۔ صفحات: ۸۰۔ قیمت: ۵۲ بھارتی روپے۔

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے احیاے اسلام کی تحریک علمی اور تحقیقی بنیادوں پر استوار کی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسے رفقا عطا کیے جنھوں نے تحقیقی اور علمی دنیا میں نام پیدا کیا۔ جماعت اسلامی ہند نے تصنیف و تالیف کے لیے جو ادارہ قائم کیا تھا وہ پہلے ادارہ تصنیف کے نام سے رام پور میں کام کرتا رہا، بعدازاں یہی ادارہ ’تصنیف و تالیف اسلامی علی گڑھ‘ کے نام سے علی گڑھ میں کام کرتا رہا۔   اس ادارے کے زیراہتمام ۱۹۸۲ء میں سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی شائع ہونا شروع ہوا۔ بہت جلد یہ تحقیقی مجلہ اہلِ علم کی توجہات کا مرکز بن گیا۔

مولانا جلال الدین عمری نے مجلہ تحقیقات اسلامی میں اسلامی تحقیقی معیار کی بہتری کے لیے متعدد مقالے تحریر کیے۔ انھیں یہ احساس رہا کہ اسلام کی صداقت منوانے کے لیے عصرحاضر کے تحقیقی معیار پر اسلامی تعلیمات کو مدلل انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ احساس گذشتہ صدی میں مسلم ممالک میں احیاے اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والی دینی جماعتوں کے اکثر اہلِ علم کو بھی رہا۔ تقسیم ہند کے بعد بھی مسلمانوں نے دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عمرانی اور طبعی علوم میں تحقیقی کوششیں جاری رکھیں۔

زیرنظر کتاب ان مضامین کا مجموعہ ہے جو سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی میں شائع ہوتے رہے۔ ان مضامین میں انھوں نے توجہ دلائی ہے کہ آج کس کس میدان میں تحقیقی کام کی ضرورت ہے۔ کتاب کے چند ایک مضامین کے عنوانات یہ ہیں:

  • اسلام اور دورِ جدید کے علمی مطالبات
  • عرب ممالک میں اسلامی علوم کا احیا
  • اسلام کے مطالعے کے اصول و شرائط
  • موجودہ الحادی  فکر اور اسلام
  • احیاے اسلام کے علمی تقاضے
  • اقامت دین کے لیے علمی تیاری کی اہمیت
  • اسلامی علوم میں تحقیق کا طریقۂ کار۔
  • آخر میں سیّدمودودیؒ کی علمی کاوشوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مصنف نے پیش لفظ میں قومی سطح کی ایک کمزوری کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’ہماری ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وقتی اور ہنگامی کاموں کے لیے تو ہمارے اندر بڑا جوش اور جذبہ پایا جاتا ہے لیکن کسی علمی یا سنجیدہ کام کی تحریک نہ تو ہمارے اندر پیدا ہوتی ہے اور نہ اس کی اہمیت محسوس کی جاتی ہے..... اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے افراد اُمت میں انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو مختلف میدانوں میں علمی سطح پر اسلام کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی کرسکتے ہوں‘‘(ص ۸)۔ (ظفرحجازی)


اسلام، جمہوریت اور پاکستان، مولانا زاہد الراشدی۔ ترتیب و تدوین: محمد عمار خان ناصر۔ تقسیم کار: نیریٹوز(Narratives)، پوسٹ بکس نمبر ۲۱۱۰، اسلام آباد۔ صفحات: ۱۳۰۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔

پاکستان اسلامیانِ ہند کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ تحریکِ پاکستان کے قائدین نے پاکستان کا مقصد یہ قرار دیا تھا کہ مسلمانوں کے لیے اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست تشکیل دی جائے۔ اس جمہوری اسلامی ریاست میں شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہو اور دنیا دیکھے کہ اسلامی تعلیمات آج بھی قابلِ عمل ہیں۔ ۱۹۴۷ء سے آج تک پاکستان میں جمہوریت اور اسلامی ریاست کی بحث نتیجہ خیز نہیں بن سکی۔ دینی جماعتوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا جسے حکومتوں نے حیلے بہانے سے ٹال دیا۔

زیرتبصرہ کتاب مصنف کے مضامین کا انتخاب ہے۔ ان مضامین میں مصنف نے نہایت وضاحت سے اسلامی ریاست، اسلامی نظام اور جمہوریت کے بارے میں علما کا موقف بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی قانون سازی، عوامی مفاد پر مبنی معاشی منصوبہ بندی اور معاشرتی مسائل کا حل صرف اسلام کے پاس ہے (ص ۱۱۱)۔ خلافت ِ راشدہ نے عملاً فلاحی ریاست کا نمونہ پیش کیا اور حکومت کو عوام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا۔ خلفاے راشدین ہی کے دور میں عوامی ضروریات کی فراہمی کا اہتمام کیا گیا۔ (ص ۱۱۰)

زیرنظر کتاب میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا تصادم اور مسلح جدوجہد سے پاکستان میں اسلامی نظام رائج کیا جاسکتا ہے؟ مصنف کا موقف ہے کہ جمہوری نظام کو تسلیم کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی جائے۔ عوام کے منتخب نمایندوں کے لیے اقتدار کا حق تسلیم کیا جائے، قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے ہو۔ انھوں نے کہا ہے کہ علما نے اجتہاد میں اجتماعیت کا راستہ اختیار کیا اور اس کی تنفیذ میں پارلیمنٹ کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ (ص ۸۶)

مصنف نے کتاب میں نو عنوانات کے تحت اظہار خیال کیا ہے۔ یہ عنوان حسب ذیل ہیں: اسلامی ریاست، اسلام کے سیاسی نظام کا تاریخی پہلو، قانون سازی کا طریق کار، اسلام، جمہوریت اور مغرب، سیاسی جماعتیں__ نفاذِ اسلام کی بحث، حکومت کی تشکیل میں عوام کی نمایندگی، پاکستان میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد اور تصادم اور مسلح جدوجہد کا راستہ۔ ان مضامین میں مصنف نے نہایت سلاست سے مدلل انداز میں اپنے افکار پیش کیے ہیں۔ ان کی زبان شائستہ اور رواں ہے۔ کتاب کے آخر میں پاکستان کے ۳۱ علما کے ۲۲نکات بھی دیے ہیں جن کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ یہ علما کا اتنا بڑا اجتہادی اقدام ہے کہ قراردادِ مقاصد کے ساتھ یہ ۲۲نکات کسی بھی اسلامی ریاست کی آئینی بنیاد بن سکتے ہیں۔(ظفرحجازی)


کیا مسلمان ایسے ہوتے ہیں؟، ڈاکٹر امیرفیاض پیرخیل۔ ناشر: اشاعت اکیڈمی، عبدالغنی پلازا، محلہ جنگی، پشاور۔ صفحات: ۵۹۵۔ قیمت: درج نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار صفات میں سے ایک صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے بڑے نرم مزاج ہیں۔ ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی کہ وہ لوگوں کی ہدایت کے اتنے متمنی ہیں کہ ان کے پیچھے غم کے مارے گویا جان کھو دینے والے ہیں۔    حضور اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل اہلِ ایمان کو دوزخ کی آگ سے بچانے والا عمل ہے۔ انسانوں کے لیے آپ کی خیرخواہی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ اپنی جان کے دشمنوں کو بھی معاف کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپؐ دونوں جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے تھے۔ آپؐ نے دین اسلام کی بابت یہ فرمایا کہ دین تو ہے ہی خیرخواہی کا نام۔ دین میں دوسروں کی بھلائی کے سوا اور ہے بھی کیا۔ اسلام کی تعلیمات انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں تاکہ یہ یکسو ہوکر اللہ کی رضا کے لیے اس کی بندگی کریں۔

زیرتبصرہ کتاب مسلمانوں کی اصلاح کے نقطۂ نظر سے مرتب کی گئی ہے۔آج کا معاشرہ اخلاقی لحاظ سے رُوبہ زوال ہے۔ متعدد بُرائیاں مسلم سوسائٹی میں جڑپکڑ چکی ہیں۔ قرآنی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے اور دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے لوٹ کھسوٹ، رشوت ستانی، ظلم وجبر،     بے حیائی، ناپ تول میں کمی اور مکروفریب جیسی بُرائیاں مسلم معاشرے میں عام ہیں۔ چالاکی و ہوشیاری جس سے دوسروں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ قرار دے لیا گیا ہے۔ محاسبہ اور آخرت کا احساس ختم ہو رہا ہے۔ مسلمانوں نے ہوسِ زر کے باعث اللہ اور رسولؐ کی تعلیمات کو فراموش کردیا ہے۔ کتاب میں ان تمام معاشرتی، اقتصادی، تجارتی اور سیاسی ناہمواریوں کو دُور کرنے کے لیے قرآن اور رسول اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی نہایت دردمندی سے اپیل کی گئی ہے۔ متعدد کتابوں سے اخلاق آموز واقعات لے کر قارئین کو احساس دلایا ہے کہ اللہ کی گرفت میں آنے سے قبل اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔

مصنف نے غیرمسلم مغربی اہلِ دانش کی تحریروں کو بھی پیش کیا ہے اور ان کی اغلاط کی  نشان دہی کی ہے۔ مصنف مسلمان مردوں اور عورتوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ دنیا کی مرغوبات عارضی ہیں، آخرت کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ مصنف نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا واقعی ہم مسلمان ہیں؟ جس مسلمان کا مطالبہ خدا اور رسولؐ کر رہے ہیں، وہ مسلمان ہم ہیں یا نہیں (ص۶)۔ مصنف نے کتاب میں ۱۵۰؍احادیث ترجمہ و تشریح کے ساتھ پیش کی ہیں اور مسلمانوں سے توقع کی ہے کہ   وہ ان پر عمل پیرا ہوکر صحیح مسلمان بنیں اور اپنے اعمال درست کریں۔(ظفرحجازی)


قلزمِ فیض مرزا بیدل، شوکت محمود، ناشر: ادارہ ثقافت اسلامیہ، ۲- کلب روڈ، لاہور۔ صفحات:۲۴۹۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔

ابوالمعانی مرزا عبدالقادر بیدل عظیم آبادی فارسی کے معروف اور صاحب ِ اسلوب شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اسلوب ایسا مشکل، اَدق اور پیچیدہ تھا کہ مرزا غالب جیسے مشکل پسند بھی کہہ اُٹھے     ؎

طرزِ بیدل میں ریختہ لکھنا

اسداللہ خاں قیامت ہے

اُردو دنیا میں فارسی کے اس نابغہ شاعر کا تعارف زیادہ تر مرزا غالب اور ان کے مذکورہ بالا شعر کا مرہونِ منت ہے۔ اُردو کے اہلِ نقدوتحقیق نے بیدل پر درجن سے اُوپر کتابیں تصنیف اور تالیف و ترجمہ کی ہیں۔ کتابوں کے علاوہ بیسیوں تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

زیرنظر کتاب بیدل کے سوانح ، شخصیت اور فکروفن پر ایسے مقالات کا ایک انتخاب ہے جو رسائل کی پرانی فائلوں میں دفن، نظروں سے اوجھل اور بیدل کے عام قارئین کی دسترس سے دُور تھے۔ مقالات کی تعداد زیادہ نہیں ہے مگر معیار بہت اچھا ہے اور کیوں نہ ہو، جب لکھنے والوں میں محمد حسین آزاد سے لے کر ڈاکٹر نعیم حامدعلی الحامد تک شامل ہوں (بشمول: سید سلیمان ندوی، غلام رسول مہر، ڈاکٹر عبدالغنی، ڈاکٹر جمیل جالبی، مجنوں گورکھ پوری، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر ظہیراحمد صدیقی،  پروفیسر حمیداحمد خاں، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی)۔

مرتب ِ کتاب ’یکے از خادمانِ بیدل‘ جناب شوکت محمود کا تفصیلی مقدمہ (ص ۶ تا ۲۴) بجاے خود بیدل شناسی کا ایک عمدہ جائزہ یا سروے ہے۔ انھوں نے زیرنظر مجموعے کی ضرورت اور مطالعۂ بیدل میں اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے ساتھ مشمولہ مضامین کے مآخذ اور ہرمضمون کی نوعیت، یا اس کا خلاصہ بھی بتایا ہے۔ شوکت محمود دُورافتادہ اور خطروں میں گھرے ہوئے شہر بنوں کے پوسٹ گریجویٹ کالج میں اُردو کے استاد ہیں۔ نادر اور وقیع منتخب مقالات کی اس اشاعت کے بعد، وہ اس کی جلد دوم بھی شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


پانیوں کی بستی میں، صالحہ محبوب۔ ناشر: ادبیات، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۳۷۲۳۲۷۸۸-۰۴۲۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت: ۲۷۵ روپے۔

بیسویں صدی کے ربع ثانی میں سیاسی،سماجی اور معاشی حالات نے جو صورتِ حال پیدا کی وہ افسانے کو بہت راس آئی اور یہی دور اُردو افسانے کا زریں دور تھا۔ رومانی اور ترقی پسند تحریکوں کے اثرات خاصے گہرے تھے۔ ان کے خلاف ردِعمل بھی ہوا اور نئے افسانہ نگاروں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں اگرچہ افسانے نے کوئی نئی کروٹ نہیں لی لیکن نئے افسانہ نگاروں نے اچھے افسانے لکھنے شروع کیے ہیں۔ صالحہ محبوب کا شمار ایسے ہی ادیبوں میں کیاجاسکتا ہے۔

صالحہ محبوب کے افسانوں کا مرکز و محور ماں ہے جو مامتا اور محبت و مروت سے بچوں کے ذہنوں کی تشکیل اپنے خوابوں کے مطابق کرتی ہے۔مادیت کی دوڑ میں جب ماں اور باپ کمانے اور ملازمت کی فکر میں ہوں ایسے میں ان افسانوں میں گھر کے حصار اور روایتی گھریلو ماں کے کردار کو عمدگی سے اُجاگر کیا گیا ہے۔تربیت کے اصولوں اور معاشرتی اقدار کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب اور مادیت کے اثرات، نیز معاشرتی مسائل کو بھی زیربحث لایا گیا ہے۔

ایک فن کار کا فن اسی وقت قارئین کے لیے قابلِ قبول ہوتا ہے جب وہ ناصح اور مبلّغ بنے بغیر اپنی سوچ ان کے ذہنوں میں اُتار دے۔ صالحہ محبوب کے افسانے اس معیار پر پورا اُترتے ہیں۔قارئین خصوصاً ایسی مائیں جو بچوں کی صحیح خطوط پر تربیت اور مثبت سوچ دینا چاہتی ہیں ان کے لیے یہ عمدہ سوغات ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


بچوں میں خوف، فوزیہ عباس۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک-۵ ، فیڈرل بی ایریا، کراچی- ۷۵۹۵۰۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰-۰۲۱۔ صفحات: ۹۶۔ قیمت (مجلد): ۱۵۰ روپے۔

عام طور پر بچوں کو کتا، چھپکلی، لال بیگ یا جن بھوت سے ڈرایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ معمولی بات لگتی ہے لیکن اس کے بچوں کی شخصیت اور نفسیات پر دُور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فوزیہ عباس نے زیرتبصرہ کتاب میں بچوں کے خوف کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے تفصیلی مطالعہ پیش کیا ہے اور اس کے اسباب، علامات اور تدارک کی تجاویز بھی دی ہیں۔ خوف کیا ہے؟ بچوں پر اس کے اثرات، گھر، اسکول، مدرسہ اور کھیل کے میدان میں خوف، نیز معاشرتی و سماجی زندگی کے زیراثر پیدا ہونے والے خوف اور ذرائع ابلاغ کا غیرمحتاط رویہ وغیرہ زیربحث آئے ہیں۔ مصنفہ کے نزدیک بچوں میں خوف پیدا کرنا ایک اخلاقی جرم اور سنگین غلطی ہے جس سے بچے کی پوری زندگی متاثر ہوسکتی ہے، لہٰذا اسے معمولی بات نہ سمجھا جائے۔ بچوں کی تربیت کی بنیاد دین کی تعلیمات پر ہونی چاہیے۔ بچوں کی نفسیات اور حکمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی کام سے روکنا یا سختی برتنی چاہیے۔ بحیثیت مسلمان اللہ پر ایمان خوف کو دُور کرسکتا ہے اور والدین کو ہر ممکن طریقے سے بچوں کا خوف دُور کرنا چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر ماہر نفسیات سے بھی رجوع کرنا چاہیے۔ والدین، اساتذہ کرام اور بچوں کی تربیت کے لیے ایک مفید اور عام فہم کتاب۔ (امجد عباسی)

بیگم  بینا حسین خالدی ، صادق آباد

ڈاکٹر انیس احمد کی تحریر ’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے‘ (اپریل ۲۰۱۴ء) نے بہت متاثر کیا۔ اس وقت ، جب کہ مصر اور بنگلہ دیش کی صورت حال پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ کی صحیہ منظرکشی اور تجزیہ نگاری کی اشد ضرورت ہے۔ڈاکٹر صاحب نے ’’تبدیلی صرف جہاد سے آئے گی‘‘ کے نعرے کی شرعی حیثیت کے بارے میں بصیرت افروز مواد فراہم کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق اجتہاد، قیاس، اجماع  اور باہم مشاورت، صبرواستقامت اور قربانی کے ساتھ دعوتی کام کرتے رہنا، یہی وہ ذرائع ہیں جو اسوئہ نبویؐ کے مطابق تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں اور تمام دعوتی مراحل سے گزرنے کے بعد جب یہ یقین ہوجائے کہ یہاں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی تو پھر وہاں سے ہجرت (لیکن عجلت والی ہجرت نہ ہو) کی جائے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصر اور بنگلہ دیش کی ہنگامی صورت حال میں، جب کہ ایک سول وار چھڑ چکی ہے اور ہزاروں جانی قربانیوں کے بعد واپسی کے رستے بند ہوچکے ہیں۔ کیا ایسی صورت حال میں دعوتی تبلیغی طریق کار ، اور اجتہاد کے رستے کھلے رہ سکتے ہیں؟ کیا طاغوتی طاقتیں محض دعوت و تبلیغ اور گفت و شنید سے اقتدار چھوڑ کر جاسکتی ہیں؟ یا بصورتِ دیگر ہجرت ایسے مسئلے کا حل ہوسکتی ہے؟


عاشق علی فیصل ، فیصل آباد

’بچوں کی تربیت محبت سے‘ (اپریل ۲۰۱۴ء) میں ڈاکٹر سمیریونس صاحب خوب صورت انداز میں اہم موضوع کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آج کے نونہال ہی کل کے اچھے مسلمان اور پاکستانی بن سکتے ہیں۔ یہ تحریر تحریکی ساتھیوں کے لیے بالخصوص اور عمومی قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ اللہ رب العزت جزاے خیر دے۔ مولاناعبدالمالک مدظلہٗ العالی کو جنھوں نے ہمارے دل و اذہان کو کلامِ نبویؐ کی کرنوں سے منور کیا۔


عبدالرحمٰن ،  لاہور

’بچوں کی تربیت محبت سے‘(اپریل ۲۰۱۴ء) مفید مضمون ہے اور عملی پہلو سامنے آئے ہیں۔ تاہم ڈاکٹرسمیر نے بچھو کے بار بار کاٹنے پر اسے بچانے کی جو حکایت بیان کی ہے وہ اسلامی نقطۂ نظر سے درست نہیں۔ شریعت میں موذی جانوروں کو مارنے کا حکم ہے۔


عبدالرشید صدیقی ، برطانیہ

’مطالعے کی عادت__  ایک تحریکی زاویہ‘ (مارچ ۲۰۱۴ء) میں ڈاکٹر انیس احمد کا مضمون بہت اہم اور بروقت ہے جس کی طرف سے اکثر لوگ غافل ہیں۔ خاص طور پر نئی نسل میں مطالعے کے شوق کا فقدان ان کی تمام معلومات کا مخزن انٹرنیٹ ہے۔ عام طور پر لوگ علم کے بجاے معلومات ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یا پھر وڈیو اور آڈیو دیکھ اور سن کر بھیجتے ہیںکہ انھوں نے علم حاصل کرلیا۔ پتا نہیں کہ لوگوں میں مطالعہ کا شوق کس طرح پیدا کیا جائے۔

پروفیسر شہزاد الحسن چشتی صاحب کا گراں قدر مضمون : ’ہگز بوسن…‘ (فروری ۲۰۱۴ء) نظر سے گزرا۔ اس میں موصوف نے اہم معلومات پیش کی ہیں، البتہ ان کی ایک فروگزاشت کی تصحیح کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ سرن(cern) کو انھوں نے تجربہ گاہ کا جاے وقوع بتایا ہے حالانکہ CERN اس تحقیقی ادارے کے نام کا مخفف ہے جو فرانسیسی میں یہ ہے: Counseil Europeen Pour la Rechard Nuclaire ۔ اس کا انگریزی نام ہے: European Council for Nuclear Research ۔

یہ جنیوا کے قریب فرانس، سوئٹزرلینڈ کے سرحد میں واقع ہے، جو ۱۹۵۴ء میں ۲۱ممالک کے تعاون سے قائم ہوا تھا۔ قارئین کے لیے یہ جاننا باعث دل چسپی ہوگا کہ بوسن کا لفظ جو اس ذرے کا نام ہے۔ مشہور ہندستانی ماہر طبیعات ……… ناتھ بوسن کے اعزاز میں پال ڈارک ( Paul Dirac) نے رکھا تھا۔

اپنے مضمون میں فاضل مقالہ نگار نے اللہ کے عرش کا پانی پر ہونے کی یہ تاویل کی ہے کہ پانی سے مراد توانائی ہے۔ میرے خیال میں قرآن کے الفاظ کو ان کے اس مفہوم میں رکھنا چاہیے۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔


دانش یار ، لاہور

اس ماہ عالمی ترجمان القرآن میں دو مضامین بہت خوب رہے۔ یہ جو ایک سیمی نار آپ نے منعقد کردیا، یعنی ’پاکستانی کلچر کے سرچشمے یا عبرت کدے‘، اس نے ایک پُرلطف مجلس میں شرکت کا لطف دیا۔ دوسرا مضمون ’ایمان و وفا‘ حضرت زینبؓکے حوالے سے بہت ہی روح پرور تحریر ہے۔


خالد محمود ، بھلوال

’مطالعے کی عادت___ ایک تحریکی زاویہ‘ (مارچ ۲۰۱۴ء) میں تحریکی نقطۂ نظر سے مطالعے کی اہمیت و ضرورت اور افادیت کو بخوبی اُجاگر کیا گیا ہے۔ تحریکی لٹریچر کے علاوہ جدید افکار سے باخبر رہنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اگر اس ضمن میں کچھ موضوعات اور کتب کی طرف بھی رہنمائی دے دی جاتی تو زیادہ مفید ہوتا۔


فراز احمد سلیم  ، گوجرانوالہ

’ایمان و وفا‘ (مارچ ۲۰۱۴ء) کے زیرعنوان بنت رسولؐ حضرت زینبؓ کا تذکرہ پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ عبدالغفار عزیز اُمت مسلمہ کے احوال سے تو باخبر کرتے ہی ہیں لیکن سیرت کے موضوع پر بھی خوب لکھتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تحریروں کا انتظار رہے گا!


عبدالرشید کلیر ، وزیرآباد

’قبولِ اسلام اور دعوت کی تڑپ‘ (فروری ۲۰۱۴ء) میں فاطمہ (سابقہ لکشمی بائی) نے جس جذبے اور تڑپ سے اہلِ خانہ کو دعوتِ دین دی اور تکالیف اُٹھائیں اس سے جذبہ ملتا ہے۔ اپنا جائزہ لے کر شرمندگی بھی ہوتی ہے کہ ہم دعوت کے لیے کتنی تگ و دو کرتے ہیں۔ یہ مضمون بہت پسند کیا گیا اور ہم نے متعدد شمارے منگوا کر تقسیم کیے۔

ہماری قوم کا بھی کچھ عجیب حال ہے۔ جب بھی مغرب سے اسلام کے کسی نظریے کی تائید ہوجاتی ہے تو لوگ اُسے بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اور پھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مغربی تہذیب میں بس یہی ایک بیماری ہے جس کو مغربی حکیم نے بیان کردیا ہے اور اسلام کے شفاخانے سے حاصل کی ہوئی دوائی کا ایک گھونٹ مغربی نظامِ اجتماعی کو بالکل تندرست و توانا کردے گا۔ کچھ اسی قسم کا معاملہ آج کل سُود کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ لارڈکینز اور اس کے ساتھیوں نے سود کی ریشہ دوانیوں کو طشت ازبام کیا ہے، اس سے بعض مفکرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بس یورپ کے معاشی عدمِ توازن اور بحران کا واحد سبب یہی ہے اور اگر یہ کانٹا اس کے پہلو سے نکل جائے تو پھر مریض رُوبصحت ہوگا۔ مگر آپ یقین کریں کہ اس لعنت کو ختم کرنے کے بعد بھی یورپ کا یہی حال رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو تنہا سُود اور نہ کوئی دوسرا ایک محرک اس تباہی کا ذمہ دار ٹھیرایا جاسکتا ہے۔ ان کی حیثیت تو ذرائع کی سی ہے جن کو مغربی تہذیب کے معماروں نے اپنی زندگی کی تعمیر میں استعمال کیا ہے۔ یورپ کی بربادی، اور اس کے ساتھ ہماری تباہی کا اصل سبب وہ تملیکی ذہنیت (acquisitive mentality) ہے جسے تہذیب ِ جدید نے نہایت ہی شدت کے ساتھ اپنے پرستاروں میں پیدا کیا ہے۔ سود تو اس ذہنیت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔ جب تک اس مادہ پرستانہ ذہنیت کو بدل کر ایک خدا پرستانہ ذہنیت پیدا نہیں کی جاتی، حالات کا درست ہونا بالکل ناممکن ہے۔ آپ جتنا غو رکریں گے اتنا ہی اس حقیقت کو درست پائیں گے۔ یورپ کے نظامِ حیات کے بگاڑ کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے خدا کو چھوڑ کر پونڈ اور ڈالر کو اپنا رب تسلیم  کیا ہے۔ اسی بنا پر اُس کے ہاں ذی روح انسانوں کی قیمت گر رہی ہے، مگر بے جان دھاتوں کی قدر بڑھ رہی ہے۔(’رسائل و مسائل‘ ، عبدالحمید صدیقی، ترجمان القرآن،جلد۴۲، عدد۱، رجب ۱۳۷۳ھ، اپریل ۱۹۵۴ء، ص۶۵-۶۶)

آج کی دنیا میں اسمبلیوں، کونسلوں، میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ زور و زر اور غنڈا گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کرکے یہ چند روزہ موہوم اعزازا حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے عالم سوز نتائج ہروقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملّت کے ہمدرد و سمجھ دار انسان اپنے مقدور بھر  اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں،لیکن عام طور پر اس کو ایک ہارجیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندا سمجھ کر ووٹ لیے اور دیے جاتے ہیں۔ لکھے پڑھے دین دار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کے نفع نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ طاعت و معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذابِ جہنم بنیں گے، یا پھر درجاتِ جنت اور نجاتِ آخرت کا سبب بنیں گے۔

اگرچہ آج کل اس اکھاڑے کے پہلوان اور اس میدان کے مرد، عام طور پر وہی لوگ ہیں جو فکرِآخرت اور خدا و رسولؐ کی طاعت و معصیت سے مطلقاً آزاد ہیں اور اس حالت میں اُن کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی و عبث فعل معلوم ہوتا ہے، لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی۔ ہر زمانے اور ہرجگہ کچھ لوگ حق پر قائم رہتے ہیں جن کو اپنے ہرکام میں حلال و حرام کی فکر اور خدا اور رسولؐ کی رضاجوئی پیش نظر رہتی ہے۔ نیز قرآن کریم کا یہ بھی ارشاد ہے: وَذَکِّرْ فَاِِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَo (الذّٰریٰت ۵۱:۵۵)، یعنی آپ نصیحت کی بات کہتے رہیں کیونکہ نصیحت مسلمانوں کو نفع دیتی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ انتخابات میں اُمیدواری اور ووٹ کی شرعی حیثیت اور اُن کی اہمیت کو قرآن و سنت کی رُو سے واضح کردیا جائے۔ شاید کچھ بندگانِ خدا کو تنبیہ ہو اور کسی وقت یہ غلط کھیل صحیح بن جائے۔

اُمیدواری

کسی مجلس کی ممبری کے انتخابات کے لیے جو اُمیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو وہ گویا پوری ملّت کے سامنے دوچیزوں کا مدعی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا اُمیدوار ہے، دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا۔ اب اگر واقعی میں وہ اپنے اس دعوے میں سچا ہے، یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبے سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے، اور بہتر طریق اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو اس کام کا اہل سمجھ کر نام زد کردے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں، وہ اگر اُمیدوار ہوکر کھڑا ہو تو قوم کا غدار اور خائن ہے۔ اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملّت کے لیے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا، پہلے تو وہ خود غدار و خیانت کا مجرم ہوکر عذابِ جہنم کا مستحق بن جائے گا۔ اب ہر وہ شخص جو کسی مجلس کی ممبری کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اگر اس کو کچھ آخرت کی بھی فکر ہے تو اس میدان میں آنے سے پہلے خود اپنا جائزہ لے لے اور یہ سمجھ لے کہ اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی کیونکہ بہ نصِ حدیث ہرشخص اپنے اہل و عیال کا ذمہ دار ہے اور اب کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلقِ خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے، اُن سب کی ذمہ داری کا بوجھ اُس کی گردن پر آتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں اس ذمہ داری کا مسئول اور جواب دہ ہے۔

ووٹ اور ووٹر

کسی اُمیدوار ممبری کو ووٹ دینے کی ازروے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے، اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت بھی رکھتا ہے اور دیانت اور امانت بھی۔ اور اگر واقعی میں اس شخص کے اندر یہ صفات نہیں ہیں اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے جو سخت کبیرہ گناہ اور وبالِ دنیا و آخرت ہے۔ بخاری کی حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتِ کاذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار فرمایا ہے (مشکٰوۃ)۔ اور ایک دوسری حدیث میں جھوٹی شہادت کو اکبر کبائر فرمایا ہے (بخاری و مسلم) ۔ جس حلقے میں چند اُمیدوارکھڑے ہوں اور ووٹر کو یہ معلوم ہے کہ قابلیت اور دیانت کے اعتبار سے فلاں آدمی قابلِ ترجیح ہے تو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ووٹ دینا اس اکبر کبائر میں اپنے آپ کو مبتلا کرنا ہے۔ اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے۔

 دوسری حیثیت ووٹ کی شفاعت، یعنی سفارش کی ہے کہ ووٹر اس کی نمایندگی کی سفارش کرتا ہے۔ اس سفارش کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشاد ہرووٹر کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے: مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنْ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْھَا(النساء ۴:۸۵)، یعنی (جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے اُس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور بُری سفارش کرتا ہے تو اُس کی بُرائی میں اُس کا بھی حصہ لگتا ہے)۔ اچھی سفارش یہی ہے کہ قابل اور دیانت دار آدمی کی سفارش کرے جو خلقِ خدا کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے، اور بُری سفارش یہ ہے کہ نااہل، نالائق، فاسق و ظالم کی سفارش کر کے اُس کو خلقِ خدا پر مسلط کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ووٹوں سے کامیاب ہونے والا اُمیدوار اپنے پنج سالہ دور میں جو نیک یا بدعمل کرے گا ہم بھی اس کے شریک سمجھے جائیں گے۔

ووٹ کی ایک تیسری حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس اُمیدوار کو اپنا نمایندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہوتی اور اس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اُس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جن میں اُس کے ساتھ پوری قوم شریک ہے۔ اس لیے اگر کسی نااہل کو اپنی نمایندگی کے لیے ووٹ دے کر کامیاب بنایا تو پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر رہا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے: ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ِ ثوابِ عظیم ہے اور اُس کے ثمرات اُس کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بُری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے   تباہ کن اثرات بھی اُس کے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں گے۔

ضروری تنبیہ

مذکور الصدر بیان میں جس طرح قرآن و سنت کی رُو سے یہ واضح ہوا کہ نااہل، ظالم، فاسق اور غلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے، اسی طرح ایک اچھے، نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثوابِ عظیم ہے بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے۔ قرآن کریم نے جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سچی شہادت کو واجب و لازم بھی فرما دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ (المائدہ ۵:۸) اور دوسری جگہ ارشاد ہے:کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ (النساء  ۴:۱۳۵) ۔ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادایگیِ شہادت کے واسطے کھڑے ہوجائیں۔ تیسری جگہ سورئہ طلاق (۶۵:۱) میں ارشاد ہے: وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ، یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت کو قائم کرو۔ ایک آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے۔ ارشاد ہے: وَ لَا تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ ط وَمَنْ یَّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ط (البقرہ ۲:۲۸۳)، (یعنی شہادت کو نہ چھپائو اور جو چھپائے گا اُس کا دل گناہ گار ہے)۔

ان تمام آیات نے مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد کردیا ہے کہ سچی گواہی سے جان نہ چرائیں، ضرور ادا کریں۔ آج جو خرابیاں انتخابات میں پیش آرہی ہیں اُن کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک اور صالح حضرات عموماً ووٹ دینے ہی سے گریز کرنے لگے جس کا لازمی نتیجہ وہ ہوا جو مشاہدے میں آرہا ہے کہ ووٹ عموماً اُن لوگوں کے آتے ہیں جو چند ٹکوں میں خرید لیے جاتے ہیں اور اُن لوگوں کے ووٹوں سے جو نمایندے پوری قوم پر مسلط ہوتے ہیں، وہ ظاہر ہے کہ کس قماش اور کس کردار کے لوگ ہوں گے۔ اس لیے جس حلقے میں کوئی بھی اُمیدوار قابل اور نیک معلوم ہو، اُسے ووٹ دینے سے گریز کرنا بھی شرعی جرم اور پوری قوم و ملّت پر ظلم کے مترادف ہے، اور اگر کسی حلقے میں کوئی بھی اُمیدوار صحیح معنی میں قابل اور دیانت دار نہ معلوم ہو مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت ِکار اور خداترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیلِ شر اور تقلیلِ ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دے دینا جائز بلکہ مستحسن ہے، جیساکہ نجاست کے پورے ازالے پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیلِ نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیلِ ظلم کو فقہا رحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔ واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

خلاصہ یہ ہے کہ انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں  محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔ آپ جس اُمیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رُو سے اس کام کا اہل اور دوسرے اُمیدواروں سے بہتر ہے جس کام کے لیے یہ انتخابات ہورہے ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

                ۱-            آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعے جو نمایندہ کسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا بُرے اقدامات کرے گا اُن کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی۔ آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔

                ۲-            اس معاملے میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہوجائے تو اس کا اثر بھی شخصی اور محدود ہوتا ہے، ثواب و عذاب بھی محدود۔قومی اور ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے، اس کا ادنیٰ نقصان بھی بعض اوقات پوری قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے، اس لیے اس کا ثواب و عذاب بھی بہت بڑا ہے۔

                ۳-            سچی شہادت کا چھپانا ازروے قرآن حرام ہے۔ آپ کے حلقۂ انتخاب میں اگر کوئی صحیح نظریے کا حامل و دیانت دار نمایندہ کھڑا ہے تو اس کو ووٹ دینے میں کوتاہی کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔

                ۴-            جو اُمیدوار نظامِ اسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے، اس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے جو گناہِ کبیرہ ہے۔

                ۵-            ووٹ کو پیسوں کے معاوضے میں دینا بدترین قسم کی رشوت ہے اور چند ٹکوں کی خاطر اسلام اور ملک سے بغاوت ہے۔ دوسروں کی دنیا سنوارنے کے لیے اپنا دین قربان کردینا کتنے ہی مال و دولت کے بدلے میں ہو، کوئی دانش مندی نہیں ہوسکتی۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’وہ شخص سب سے زیادہ خسارے میں ہے جو دوسرے کی دنیا کے لیے اپنا دین کھو بیٹھے‘‘۔

_______________