مضامین کی فہرست


فروری ۲۰۱۸

عزیزانِ من !زندگی آپ کا پہلا امتحان معاش کے میدان میں لے گی۔ جب تک انسان کے ساتھ پیٹ لگا ہے، روٹی اس کی زندگی کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اگرچہ انسان شکم کی پکار کے ساتھ اس دنیا میں آتا ہے، تا ہم ایک اچھی خاصی مدت تک اسے اس بارے میں ترد د نہیں کرنا پڑتا۔ ہمارا تعلیمی نظام اور اقتصادی ڈھانچا کچھ اس قسم کا ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ حصول معاش کے مواقع بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ والدین کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ دوران تعلیم اپنی اولاد کو فکر معاش سے دُور ہی رکھیں، تا کہ وہ دلجمعی کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ لیکن دوران تعلیم نہ سہی تکمیل تعلیم کے بعد سہی، بالآخر تلاشِ معاش کے میدان میں اترنا پڑتا ہے۔

۱- حصول معاش کے ضمن میں پہلا مرحلہ ذریعۂ معاش کا انتخاب ہے۔ جس کے لیے  آپ کو زمانے کے تقاضوں، معاشرتی ضرورتوں، اپنی تعلیم وتربیت اور اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر کسی فیصلے پر پہنچنا ہوگا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ کسی صحیح فیصلے پر پہنچنے میں اللہ تعالیٰ   آپ کی رہنمائی کرے اور آپ کا یہ فیصلہ صرف آپ کے لیے ہی نہیں بلکہ ملک وملت کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔ بد قسمتی سے میکالے [م: ۱۸۵۹ء] کے جس نظریے کے تحت مغربی تعلیم، ہمارے نظامِ تعلیم میں ایک خالص سیاسی اور معاشی مسئلے کی حیثیت سے داخل ہوئی تھی، اس سے آج تک مکمل طور پر گلو خلاصی نہیں ہوسکی۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی سرکاری ملازمت ہی کو تعلیم کا مقصود خیال کیا جاتا ہے۔ یہ اندازِ فکر جتنی جلدی ختم ہوا تنا ہی بہتر ہو گا۔

۲- ذریعۂ معاش منتخب کر لینے کے بعد اس راہ میں اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو کھپا کر روزی کمانے کا مرحلہ آتا ہے۔ روزی کمانے کے بارے میں ہماری معاشی روایات دنیا بھر کی معاشی روایات سے یکسر مختلف ہیں۔ دنیامیں ہر کہیں روزی پیدا کرنے کے معاملے میں چند اخلاقی اقدار کا لحاظ تو رکھا جاتا ہے، لیکن علاوہ ازیں اسے ایک خالص سیکولر کاروبار (secular pursuit) ہی خیال کیا جاتا ہے، جب کہ ہمارے نزدیک رزق حلا ل کے لیے جدوجہد عبادت کا درجہ رکھتی ہے، بلکہ بقول اقبال ورومی اس سے علم وحکمت کا سراغ ملتا ہے :

علم وحکمت زاید از  نانِ حلال

عشق و رِقّت آید از نانِ حلال

اسی معنویت اور مفہوم کا ایک قول بائبل میں بھی ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ: ’’ خوراک وپوشاک حاصل کرو اور تمھیں انعام میں آسمان کی باد شاہت بھی عطا کی جائے گی‘‘۔ لہٰذا، خوراک وپو شاک حاصل کرنے کے لیے ہمیں ایسا ہی طریقہ اپنانا چاہیے، جس کے انعام اور صلے میں آسمان کی بادشاہت بھی مل سکے۔ قرآن حکیم میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات کے بیان میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی ایک ضرورتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے آگ کی تلاش میں نکلے تھے ۔ لیکن سامانِ زندگی کی اس تلاش میں وہ تجلیِ خدا اور نورِ وحی سے فیض یاب ہو کر واپس لوٹے اور انھیں یہ سبق ملا کہ سامانِ زندگی معاش تک محدود نہیں۔ اس لیے عزیز انِ من ! ضروریاتِ زندگی کی تلاش کو بھی اللہ تعالیٰ کی تلاش کا ایک وسیلہ بنا لیجیے۔ ’’جان لا غر وتن فربہ ‘‘ صحت مند زندگی کی علامت نہیں ہے۔ اس لیے معاش کی تلاش میں جسم کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ روح کی ضرورت پوری کرنے کی بھی فکر کیجیے اور اس دو مقصدی تلاش کی راہ پر پوری ثابت قدمی اور استقامت سے قائم رہیے۔

۳- ’آسان روزی ‘ (easy money)کا فلسفہ چوںکہ آج کل کچھ زیادہ ہی کشش رکھتا ہے اور مقبول ہے، اس لیے میں آپ کو خبر دار کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں یقین رکھنے والوں کی بے اعتدالیوں اور بے احتیاطیوں کو دیکھ کر کہیں آپ کے قدم ڈگمگا نہ جائیں۔ یاد رکھیے، جو لطف وکیفیت اپنی ہڈیوں کا گودا پگھلا کر رزق حاصل کرنے میں ہے، وہ دوسروں کے حقوق کا خون کرکے   خوان یغما پانے میں نہیں۔ ایک جنت وہ تھی جو حضرت آدم ؑ کو انعام کے طور پر عطا کی گئی تھی مگر وہ  جلدہی ان سے چھن گئی۔ اور ایک جنت وہ بھی ہے جو انسان کو اعمالِ حسنہ کے بدلے میں عطا کی جائے گی اور اس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انسان کے قبضے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہے گی۔

۴- یہ سچ ہے کہ اس دو مقصدی تلاش معاش میں آپ کو اپنے کم تر مقصد میں کچھ ناکامیاں بھی ہوں گی۔ یعنی سامان شکم مہیا کرنے کی دوڑ میں بعض اوقات آپ دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے، لیکن اعلیٰ تر مقصد ہمیشہ آپ کی پشت پناہی کرے گا اور آ پ کو کسی محرومی کا احساس نہیں ہونے پائے گا۔ اگر آپ اپنی ’روح کو خوابیدہ‘ اور ’بدن کو بیدار‘ رکھنا چاہتے ہیں تو الگ بات ہے ۔ ورنہ زندگی کے ہزار ہا پہلو ایسے ہیں کہ جن پر توجہ کر کے انسان اپنی محرومیوں کا بڑی حد تک مداوا کرسکتا ہے۔ ہیلن کیلر [م: ۱۹۶۸ء] جیسی اندھی ، بہری اور گونگی عورت بھی اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا لیتی ہے۔ ایک جگہ اس نے لکھا ہے کہ: ’’یہ مسرت بخش یقین واعتماد کہ میری طبعی رکاوٹیں میرے وجود کا لازمی جزو نہیں ہیں۔ وہ میرے جسم کے روگ سہی لیکن میرے من کا روگ نہیں بن سکتیں اور رنگ وآہنگ کی آواز سے یکسر خالی دنیا میں رہتے ہوئے میرا تجربہ بہت محدود سہی، لیکن میں نے یہ عرفان حاصل کر لیا ہے کہ میرا من مسرت کا ایک ایسا مثبت ذریعہ ہے، جو تاریکیوں اور خاموشیوں کے اتھاہ سمندر میں بھی نوروارتعاش سے لبریز تصورات کی بدولت مسرتیں اور خوشیاں نچوڑ سکتا ہے۔ میں نے زندگی سے یہ سبق سیکھا ہے کہ خواہ ہمیں خارجی دنیا میںکسی بڑی سے بڑی مصیبت کا سامنا ہی کیوں نہ ہو، ہم پھر بھی نور ، آواز اور نظم کو خود اپنے من کی دنیا کے اندر بھی تخلیق کرسکتے ہیں ‘‘ ۔

۵- اکثر نوجوان تلاش معاش کے ضمن میں اپنی ناکامیوں اور محرومیوں سے بہت جلد گھبرا کر دل شکستہ ہو جاتے ہیں اور زندگی کی اعلیٰ قدروں پر ایمان ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ اپنے معاشرے، اپنی قوم اور اپنے ملک ہی سے بدگمان اور متنفر ہو جاتے ہیں۔ اس بدگمانی اور تنفُّر[نفرت] کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی خود غرض بن جاتا ہے۔ زندگی کی اعلیٰ قدروں پر ایمان بھی نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ انسان خود غرض بھی ہو تو وہ اپنے معاشرے کے جسم پر ایک ایسا سرطانی پھوڑا بن جاتا ہے جس کی جڑیں معاشرے کے اندر دُور دُور تک پھیلتی ہی چلی جاتی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ    اعلیٰ انسانی قدروں میں یقین پختہ کیا جائے اور مایوسی اور بدگمانی سے بچا جائے۔ لوگوں سے مایوس اور بدگمان ہونے کے بجاے ان کی کمزوریوں اور خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے محبت کرنا سیکھیے ۔ یاد رکھیے کہ شفقت اور محبت میں بڑی طاقت ہے۔ اس سے ہماری مایوسیوں اور بدگمانیوں کا علاج ہی نہیں ہوتا بلکہ زندگی کی بہت سی مشکلات اور دشواریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔

۶- ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی جائز حدود سے زیادہ پھیلنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔ لیکن روز افزوں آبادی کے اس گنجان ہجوم میں بر گد کے درخت کی مانند دور دور تک اپنے مہیب سایے پھیلا کر اپنے آس پاس کسی اور شجر کو بڑھنے پھولنے سے روکنا کبھی اچھے نتائج پیدا نہیں کرسکتا۔ انسانوں کی اس گنجان آبادی میں برگد کی طرح پھیلنے کے بجاے ہمیشہ سروکی مانند بلندیوں کی طرح بڑھنے کی فکر کرنی چاہیے۔ اور اپنے علاوہ دوسروں کو بھی بڑھنے پھولنے دیجیے ، اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب کہ ہم مادی قدروں سے زیادہ ربّانی قدروں سے محبت رکھتے ہوں۔

۷- علامہ محمد اقبال نے ایک جگہ نہر کی ہمکناریِ خاک کے باعث،سست روی کو ناخوب اور ناپسند یدہ قرار دیتے ہوئے فوارے کی طرف توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ ’بلند زورِ دُروں سے ہوا ہے فوارہ ‘ لیکن اگر کسی سے یہ پوچھا جائے کہ فوارے میں ’زورِ دروں ‘ کہاں سے آ گیا، تو اس کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس کا منبع آب بلندی پر واقع ہے۔ لہٰذا زندگی میں نصب العین کی بلندی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

۸- یاد رکھیے کہ زندگی کے راستے پر چلنے کے لیے بھی ٹریفک کے چند اصول ہیں۔ جادۂ زندگی پر سفر کرتے وقت ٹریفک کے یہ آداب اور یہ اصول ہمیشہ پیش نظر رہنے چاہییں۔ اپنے علاوہ دوسروں کا بھی احترام کرنا سیکھیے۔ ہم عام طور پر اپنی روشِ زندگی میں بالعموم ان آداب کو پیش نظر نہیں رکھتے اور حادثات سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ حالانکہ اپنا راستہ دوسروں سے ٹکرائے بغیر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب آپ کسی پُر رونق بازار کی بھیڑ سے گزر رہے ہوتے ہیں، تو کیا کرتے ہیں ؟ یہی نا کہ دوسروں سے بچتے بچاتے اپنا راستہ بناتے چلے جاتے ہیں۔ اس میں آپ کو محض ٹریفک کے چند قوانین کا ہی پا بند نہیں ہونا پڑتا بلکہ دوسرے لوگوں کی غلطیوں اور بے صبر جلدکوشوں سے بچنے کے لیے صبرو تحمل سے کام لے کر اپنی رفتار کو سست بھی کرنا پڑتا ہے۔

۹- صبرکے ذکر سے میرا ذہن ایک اور بات کی طرف پلٹ گیا ہے۔ اگلے وقتوں میں کسی مرنے والے کو خراج تحسین پیش کرتے وقت ایک جملہ جو اکثر زبانوں پر آیا کرتا تھا وہ یہ تھا کہ: ’مرنے والے نے صبر وشکر کے ساتھ زندگی بسر کی‘، مگر آج کل یہ الفاظ ذرا کم ہی سننے میں آتے ہیں اور اگر کہیں سننے کا اتفاق بھی ہوتا ہے تو بہت مختلف معنوں میں۔ اب صبر نام ہے مجبوریِ محض کا،   اور شکر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی داد بخشش دینے کا۔ حالانکہ یہ ایک رویۂ زندگی کا نام تھا جس میں  آفات و مشکلات کو خاطر میں لائے بغیر اور اپنی بڑی سے بڑی کامیابی پر اکڑ فوں میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے مقامِ عبدیت کو مستحکم بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ استقامت ومتانت کی یہ منزل صرف انھی خوش نصیبوں کو ملا کرتی ہے جو اپنی زندگی میں اپنے جذباتی اور عقلی رویوں کا صحیح مقام متعین کرکے کسی اعلیٰ نصب العین کے لیے جان کھپانا جانتے ہوں۔ صبر و شکر کا فلسفہ انسان میں قناعت، ہمت، پامردی، قوت، متانت اور استقامت کے اوصاف پیدا کر کے اس کی زندگی پُرمعنی بناتا ہے، لیکن آج ہم نہ صبر کی تاب رکھتے ہیں اور نہ شکر کے آداب جانتے ہیں ۔کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ  ہم نے زندگی کی توانائی کھو د دی ہے۔

۱۰- آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہم میں زندگی کی توانائی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ علم کے لیے بالعموم مشعل ، شمع یا چراغ کی تمثیل استعمال کی جاتی ہے، جس سے نور اور روشنی کا تصور ملتا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح شعلے کی روشنی سے حرارت کو جدا نہیں کیا جا سکتا ، اسی طرح علم بھی اگر زندگی کی حرارت سے محروم ہو جائے، تو اس کا نور بھی تاریکیوں میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ علم میں حرارت ،ایمان سے پیدا ہوتی ہے ۔ اور جیسا کہ انگریز شاعر ولیم بلیک [م:۱۸۲۷ء] نے کہا ہے کہ ’اگر کہیں چاند اور سورج بھی شک میں مبتلا ہو کر ایمان کھو بیٹھیں تو فوراً بجھ کر تاریکیوں میں تبدیل ہو جائیں ‘۔ آپ کے لیے آپ کا علم نا کافی ہی نہیں بلکہ سراسر وبالِ جان ہے اگر یہ آپ کے باطن میں ایمان کی حرارت نہیں پیدا کر سکتا ۔ انسان بننے کے لیے علم ضروری ہے ۔ لیکن اس کے ظلمت کدۂ خاک میں علم کی ایسی قندیل روشن کرنے کی ضرورت ہے جو اس کے دماغ کو منور کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل کو بھی گرم رکھ سکے۔ علم کی آخری منزل دماغ نہیں بلکہ دل ہے۔ بقول اقبال:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور

چراغِ راہ ہے ، منزل نہیں ہے

اور یہ بھی کہ:

یا مُردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار

جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے

۱۱- علم اور تعلیم کے بارے میں اگرچہ سوچنے اور لکھنے والے حضرات و خواتین نے مختلف طریق سے سوچا اور مختلف پیرایوں میں اسے پیش کیا، لیکن ایک بات پر شاید سبھی لوگ متفق نظر آتے ہیں کہ: ’تعلیم کا مقصد انسان کی مخفی اور خوابیدہ صلاحیتوں اور قوتوں کو بیدار اور اُجاگر کر کے آپ کی شخصیت کو نشوو نما دینا ہے، اور آپ میں سودو زیاں اور خیر وشر کی تمیز کی ایسی اہلیت پیدا کرنا ہے،  جس سے آپ اپنی منزل مقصود کے لیے راہیں متعین کر سکیں‘۔ اسی بات کو بعض لوگ یوں بیان کرتے ہیں کہ: ’تعلیم انسانی صلاحیتوں اور استعدادوں کی اس نشو ونما اور ارتقا کا نام ہے، جس کی بدولت ہمارے اخلاقی رویے اور معاشرتی طرزِ عمل صحت واستدلال کے ساتھ طے پاتے ہیں‘۔ اب بہت سے لوگ انسانی شخصیت کی نشوو نما اورترقی کے لیے ایمان کو بنیادی ضرورت خیال نہیں کرتے اور ’بے ایمان ‘ علم کو ہی کافی سمجھ لیتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ: ’سائنس اور فلسفے میں بالخصوص اور دوسرے علوم میں بالعموم عقیدہ (dogma ) نہیں چل سکتا ۔ اگر اسے اس میدان میں لایا جائے گا   تو علم کی ساری ترقی رُک جائے گی‘۔

میں یہاں بحث میں نہیں اُلجھنا چاہتا، ور نہ آپ کو بتاتا کہ ہر علم اور ہر سائنس بالآخر کسی نہ کسی عقیدے کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ بہرحال یہ ضرور عرض کروں گاکہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لیبارٹری میں داخل ہونے سے پہلے خدا کا عقیدہ کوٹ کی طرح اتار کر کھونٹی پر لٹکا دینا ضروری ہے، وہ درحقیقت ہمارے اندر ایک ایسی داخلی کش مکش کو جنم دینا چاہتے ہیں، جس سے ہماری شخصیت کی ترقی رُک جاتی ہے اور ہم کفرو الحاد کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے علوم انسان کو بے پناہ طبعی قوت تو فراہم کر دیتے ہیں، لیکن جب علوم وفنون ایمان کے تابع نہیں رہتے تو سراسر شیطنت کے ساتھ انسان اور انسانیت کو تباہی کے ہولناک ہتھیاروں کا سامان مہیا کرتے ہیں۔  اس سے بڑھ کر نامرادیِ آدم اور کیا ہو سکتی ہے؟ اسی نامرادیِ آدم کا ذکر کرتے ہوئے اقبال نے کہا ہے:

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا

زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

۱۲- انسان کے لیے وہی علم مفید ثابت ہو سکتا ہے، جو زندگی کے تمام تقاضوں پر پورا اُتر سکے۔ ظاہر ہے کہ ایمان ، اعتقاد اور آئیڈیالوجی کا مسئلہ ہماری زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ عقل کی آزادی اچھی چیز سہی لیکن خیالات کا بے ربط وبے لگام ہو جانا یقینا کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔  ہم مسلمانوں میں لادینیِ افکار، بے ربطیِ افکار سے پیدا ہوئی ہے، سائنس کی راہ سے نہیں آئی۔ بلکہ فرانسیسی معالج و مفکر رابرٹ ایس بریفالٹ [م: ۱۹۴۸ء] تو یہاں تک کہتا ہے کہ: ’سائنس اپنی ہستی اور وجود کے لیے قرآن کی مرہونِ منت ہے‘۔ وہ نزولِ قرآن سے پہلے کے زمانے کو قبل سائنس کا زمانہ اور قرآن کے بعد کا دور سائنس کا زما نہ قرار دیتا ہے۔ تاریخی واقعات کو بھی آیات الٰہی قرار دیتا ہے اور خود اپنے جملوں اور فقروں کو بھی آیات الٰہی قرار دیتا ہے، تو قرآن اور سائنس میں مغائرت کہاں سے پیدا ہو گئی؟

کیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے فکر ونظر کے پرانے انداز بدل ڈالیں ؟ دنیا کے سب سائنس دان اور علما وفضلا اپنی تمام علمی جستجوئوں اور کاوشوں کا نصب العین اور منتہاے مقصود، حقیقت کی تلاش قرار دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اوّل وآخر، ظاہر وباطن حقیقت ، اللہ کی ذات ہے، چنانچہ اپنے سائنس دانوں اور عالم وفاضل اساتذہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم اپنے علوم کو خدایابی کا ذریعہ نہیں بنا سکے ؟ ہمارے طریقۂ تعلیم میں اس خلا کی وجہ سے ہمارے علوم میں ایک بہت بڑی کمی محسوس ہوتی ہے، جسے اقبال کم بصری کا نام دیتا ہے:

وہ علم ، کم بصری جس میں ہم کنار نہیں

تجلّیات کلیم و مشاہداتِ حکیم

ہماری علمی کاوشوں میں مشاہداتِ حکیم تو ملتے ہیں لیکن تجلیاتِ کلیم مفقود ہیں۔

۱۳- یہاں علم کے بارے میں ایک بات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی درس گاہوں سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ قرض حسنہ کے طور پر ملتا ہے اور اسے چکانا ہی نیک روی کی دلیل ہے ۔ علم تن کی دولت تو ہے نہیں کہ آپ اسے چھپا چھپا کر تجوریوں میں رکھیں ۔ یہ تو من کی دولت ہے، جسے آپ جتنا بھی لٹائیں اتنا ہی آپ کے لیے اور آپ کے ملک وملت کے لیے مفید ہے۔

۱۴- امریکی صدر وڈرو  ولسن [م: ۱۹۲۴ء] نے ایک بار نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’آپ مجھے اپنی ڈگریاں اور ڈپلومے دکھلا کر اس بات کا قائل نہیں کر سکتے کہ  آپ تعلیم یافتہ ہیں۔ کیوںکہ اس کا ثبوت تو آپ کے ذہنی اُفق کی وسعتوں ہی سے مل سکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جو علوم ہمیں پڑھائے جاتے ہیں ان کی سرحدیں ’خبر ‘ تک ہی محدود رہتی ہیں‘۔ اقبال نے غایت آدم کے بارے میں پیررومی [م: ۱۲۷۳ء] سے پوچھا تھا۔ غایت آدم ، خبر یا نظر؟  جس کے جواب میں پیر رومی نے فرمایا تھا :

آدمی دید است ، باقی پوست است

دید آں باشد کہ دیدِ دوست است

حواس کی فراہم کردہ ’خبر ‘ کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس ’خبر ‘ پر ہی مطمئن ہو کر بیٹھ رہنا بھی علم کے منافی ہے۔ بصارت کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس کی عطا کردہ خبر ہم میں ایسی بصیرت پیدا کر دے جو ہمیں اشیا کی اندرونی حقیقت کا نظارہ کرائے ۔ سماعت کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس کی عطا کردہ خبر ہمیں ساز حقیقت سنائے، بقول اقبال   ع

علمِ حق اوّل حواس ، آخر حضور

اگر یہ سارے علوم جنھیں ہم زندگی کے اتنے سال صرف کر کے سیکھتے ہیں، ہمارے اندر بصیرت اور لذتِ حضوری نہیں پیدا کر پاتے تو ہماری شخصیت کا جزو نہیں بن سکتے، بلکہ محض ایک لبادے کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اب تو ہم لبادے کو ہی سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں۔ اور جس زمانے سے ہمارا ذوقِ علمی افرنگ کے حواسی علوم کی ’خبریت ‘ سے سیراب ہونا شروع ہوا ہے، ہماری جبینیں سجدوں کی لذت سے نا آشنا ہو گئی ہیں۔ اور ’لباس مجاز ‘ میں ’حقیقتِ منتظر‘ کو دیکھنے کی ہماری روحوں کو آرزو نہیں رہی ہے۔ ہماری زندگیوں پر اب ’رنگ مجاز ‘ اتنا گہرا چڑھ گیا ہے کہ ہمیں علم کی آخری منزل بھی کوٹ اور پتلون نظر آتی ہے۔

عزیزانِ محترم ! قومی آزادی کی کئی منزلیں ہیں۔ آزادی کی سیاسی منزل پر تو ہم پہنچ گئے ہیں۔ اقتصادی جدوجہد کی راہ میں بھی ہم بہت سی مسافتیں طے کر چکے ہیں، مگر ہمارے تہذیب وتمدن پر یہ غیر ملکی چھاپ کب دُور ہو گی ؟ جس دن ہم نے اپنے کھوئے ہوئے تمدنی اور ثقافتی ورثے کو دوبارہ پا لیا، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے تمام مرحلہ ہاے آزادی طے کر لیے، اور مجھے اُمید ہے کہ اسی روز اسلام کی نشاتِ ثانیہ کا وہ دور شروع ہو جائے گا، جس کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی حفاظت کی ہے۔ یہاں ذہن میں بار بار یہ خیال ابھرتا ہے کہ جہاں ہماری بری افواج زمینی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں ،فضائی افواج ملک کی فضائی سرحد کی حفاظت کرتی ہیں اور بحری افواج بحری سرحدوں کا دفاع کرتی ہیں، کسان زرعی محاذ پر کارنامے انجام دیتے ہیں، لیکن کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ہمارے تمدن وثقافت کی حفاظت کس کے ذمے ہے ؟ اور کیا اس محاذ پر ہمارے دفاعی انتظامات کافی ہیں ؟

۱۵-  اگلے وقتوں میں ہماری تہذیب وثقافت، خانقاہی نظام کے روحانی سرچشموں سے سیراب ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ زندگی میں اوقاتِ فرصت میسر آنے کے زیادہ مواقع حاصل تھے، جن کی وجہ سے مطالعہ باطن کے لیے کافی وقت مل جاتا تھا۔ دورِ حاضر میں زندگی کی مصروفیات کچھ اتنی بڑھ گئی ہیں کہ انسان کوشش بھی کرے تو اسے اپنی باطنی واردات پر توجہ دینے اور ان کا مطالعہ کرنے کا وقت کم ہی ملتا ہے۔ البتہ قرآن حکیم کے اس حکیمانہ قول کی روشنی میں کہ اللہ تعالیٰ، انفس و آفاق میں ہر کہیں انسان کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے اس کمی کو ایک دوسری طرح یوں پورا کیا جاسکتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو مظاہرات آفاق کے مطالعے میں آیاتِ الٰہی کے مشاہدات کا عادی بنائیں، اور یہ ایک ایسی پُرتجسس علمی وسائنسی تحریک کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا منتہاے مقصود خدا شناسی ہو۔ چنانچہ میں آپ سے اور بالخصوص فاضل اساتذہ سے پوری دلِ سوزی کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ آپ اس تحریک کا آغاز کریں ، دنیا اس کا پُرجوش خیرمقدم کرے گی :

ہر اک منتظر تیری یلغار کا

تری شوخیِ فکر و کردار کا

ہنگامی حالات اور وقت بہ وقت پیش آنے والی مشکلات زندگی کی نشانی ہے۔ جب تک انسان کام کرتا رہتا ہے اس کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ جس انسان کو مشکلات کا سامنا نہیں رہتا  وہ وہی انسان ہو سکتا ہے جو کام نہیں کرتا۔ منصوبہ بندی سے ان مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے اور ان کو حل کرنے میں مددمل سکتی ہے لیکن مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ انسان کے لیے اپنے منصوبے میں مشکلات کے حل کا پروگرام بنانا بھی ضروری ہے۔

سماجی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عبقری لوگوں میں تین اوصاف مشترک رہتے ہیں، اس کے علاوہ بھی بعض مشترک اوصاف ہیں، جو درج ذیل ہیں :

  •  ان کے پاس مشکلات کے حل کے لیے منظم طریقۂ کار رہتا ہے۔
  • وہ مشکلات کو اس نقطۂ نگاہ سے دیکھتے یں کہ ان کا قابل نفاذ منطقی حل پایا جاتا ہے۔
  • وہ منفی امور سے اعراض کرتے ہیں اور مثبت امور کا التزام رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مشکلات اور چیلنج ، صلاحیتوں کے اظہار اور تجربات حاصل کرنے کا موقع ہے۔
  •  اچھے انداز میں مشکلات کا تعین: تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ۵۰ فی صد مشکلات ان کی وضاحت اور تشریح وتعین سے ہی حل ہو جاتی ہیں۔
  • ان اسباب ووجوہ سے واقف ہونا جن کے باعث مشکلات پیش آتی ہیں، اس سے ۲۰فی صد مشکلات ختم ہو جاتی ہیں۔
  •  تمام ممکنہ حل پیش کیے جائیں۔ شروع ہی سے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیے بغیر تمام ممکنہ حل لکھنے چاہییں۔
  •   جب کسی حل کا انتخاب کیا جائے تو اس کو اپنی گفتگو کا موضوع بنانا چاہیے۔ کامیاب لوگ ہمیشہ حلوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور ناکام لوگ ہمیشہ مشکلات کاراگ الاپتے ہیں۔
  • پختہ حل کی تجویز کو اپنایا جائے۔کم درجے کی تجویز جو کمال کے درجے تک نہ پہنچے، اس کو نظرانداز کرنا بہتر ہے۔
  • تجویز اختیار کرنے کے لیے مناسب وقت متعین کیجیے۔
  • تجویز پر عمل درآمد کے لیے ذمہ داریاں تقسیم کیجیے۔
  •  مشکل مسئلے کے حل کے لیے وقت متعین کیجیے تاکہ اس کو جلد حل کیا جائے، ورنہ چھٹکارا پایا جائے۔

مسائل حل کرنے کا فیصلہ

اب تک آپ نے محسوس کر لیا ہو گا کہ منصوبے بنانا اور مقاصد طے کرنا بنیادی طور پر فیصلہ کرنا ہی ہے، اور فیصلہ کرنا اصل میں مسئلہ حل کرنے والی بات ہے۔ مسئلے کو ٹھیک سے سمجھ لینا آدھا مسئلہ حل کرنے کے برابر ہوتا ہے۔ درج ذیل رہنما اصول مسائل اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے معاون ہوں گے۔

ہم سب آج ایک تکنیکی دور میں جی رہے ہیں، جہاں چاند پر جانا، برقی آلات کا استعمال یا شمسی توانائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پیچیدگی عام سی بات ہو گئی ہے۔ لہٰذا ہم بھی زندگی کے ہر موڑ پر پیچیدگی کی ہی توقع کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ معاشرے کا قانون بن گیا ہے کہ اب سادہ انداز میں کچھ بھی نہیں ہوتا اور بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ آسان اور مشکل حل میںسے فیصلہ کرنا پڑے تو ہم بے جا طور پر مشکل راستہ ہی چنتے ہیں۔

مشکل کا سامنا تعمیری انداز میں کریں

اکثر ہم مشکل کو بس ایک ہی انداز میںدیکھنے کے عادی ہوتے ہیں،جس سے ہماری فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو شدید صدمہ پہنچتا ہے۔ لطیفہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ایک ٹرک انڈرپاس سرنگ میں پھنس گیا۔ اسے نکالنے کے لیے انجینیروں کی ٹیم بلائی گئی۔ انھوں نے اپنی مہارت کے مطابق کیلکو لیٹر نکالا اور حساب کتاب شروع کردیا۔ ٹرک کا وزن پوچھ رہے ہیں، کبھی لمبائی ناپ رہے ہیں۔ آخر ایک چھوٹا سا لڑکا جو وہاں پاس ہی کھڑا تھا، آ کر کہنے لگا: ’انکل! آپ ٹائروں سے ہوا کیوں نہیںکم کر دیتے ‘۔ اسی وقت مسئلہ حل ہو گیا۔ جتنا ہم مسائل پر زیادہ طریقوں سے غور کرتے ہیں، اتنا ہماری غلطیاں کم ہوتی جاتی ہیں۔

آنے والے مسائل پر سوچا جائے

  • ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ پرہیز بہترین دوا ہے۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ آپ کو علاج کرنا ہی کب پڑے گا جب بیمار ہی نہ ہوں ؟ اس لیے آپ احتیاطی تدابیر کرتے ہیں کہ آپ کی صحت بحال رہے۔ جیسے، نیند پوری کرنا، مناسب آرام ، خوراک، بیماریوں سے بچائو کے ٹیکے وغیرہ وغیرہ ۔ گویا نہ بیمار پڑیں گے اور نہ علاج کرانا پڑے گا۔
  •  مسئلے کا حل کرنا بھی ایسا ہی ہے۔ اگر آپ پہلے ہی اندازہ لگانے کی کوشش کریں کہ کیا کیا خرابی ہوسکتی ہے، اس کا جائزہ آپ عقل مندی سے لے سکتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتاہے کہ بغیر خبر دار کیے ہی کوئی مشکل آن پڑے۔ صرف ذرا سی دُور اندیشی آپ کے کل کو آسان بناسکتی ہے بجاے اس کے کہ جب مصیبت سر پر پڑے تب ہی اسے ٹھیک کریں۔

ہر  مسئلے کے لیے مخصوص وقت

جب کوئی مسئلہ پیدا ہو، اسی وقت اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ طالب علم امتحان سے پہلے نصاب تعلیم کی کتابوں کے مطالعے پر توجہ دیتا ہے تو کامیاب ہوتا ہے۔ کسان کے لیے ضروری ہے کہ وقت پر فصل کاٹ لے، ورنہ ساری محنت ضائع جاسکتی ہے۔ اسی طرح سیاست دان، منتظم اور معاشی سرگرمی میں مصروف فرد کا معاملہ ہے۔ ہر لمحے اسے بروقت مسائل پر توجہ دینا چاہیے۔

بعض قائدین مختلف کاموں پر توجہ دیتے ہیں۔ اگر ایک طرف ایک کام کی طرف توجہ کرتے ہیں، تو ساتھ ہی اس سے ہٹ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وقت بھی برباد ہوتا ہے۔ اگروہ اپنی کوشش اور محنت وصلاحیت اپنی استطاعت کے کاموں میں لگاتے اور دوسروں کو ان کی استطاعت کا کام سپرد کرتے، تو تمام اُمور اچھے ڈھنگ سے ارادہ اور خواہش کے مطابق انجام پاتے۔ سب لوگ اپنی کوشش کرتے اور بہترین نتائج وثمرات سامنے آتے۔ مسئلہ ان قائدین کو پیش آتا ہے جو تمام کام اپنے ہاتھوں ہی سے انجام دینا پسند کرتے ہیں۔ انتظامی کاموں میں فی الحقیقت بڑے تجربات اور ذہنی فراغت کی ضرورت ہوتی ہے۔سمجھنا چاہیے کہ لازماً ہرکام کو انجام دینے کا شوق، بہت سے کاموں کو نظرانداز کرنے یا ناقص صورت میں انجام دینے اور محض تھکا دینے کا سبب بنتا ہے۔اس کے نتیجے میں کامل توجہ نہیں رہتی اور نتائج بھی پوری طرح سامنے نہیں آتے۔

مشکلات کے حل کی طرف توجہ دیجیے

  •  یاد رکھیے، آپ اپنے خیالات کا عکس ہیں۔ آپ جو کچھ سوچتے ہیں آپ وہی بن جاتے ہیں۔ کامیاب لوگ ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہیں کہ خود کو درپیش مشکلات اور رکاوٹیں کیسے دُور کی جائیں۔ یہ لوگ اپنی توجہ اس امر پر مرکوز کرتے ہیں کہ ایسے طریقے وضع کیے جائیں کہ انھیں کسی بھی قسم کی مشکلات اور رکاوٹیں پیش نہ آئیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیںکہ ان مشکلات کی وجہ کیا ہے اور انھیں کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے۔
  •  ناکام لوگ اپنے راستے میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو اپنی بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں اور مقدر کا رونا روتے رہتے ہیں، جب کہ کامیاب لوگ ہمیشہ ان رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
  •   آپ اور آپ کی کامیابی کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹوں کی موجودگی ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ کامیابی ، مشکلات پر قابو پانے کا نام ہے۔ کامیاب قیادت ، رکاوٹوں پر قابو پانے کا نام ہے۔ با صلاحیت ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا ہنر جانتے ہوں۔ جو لوگ کامیابی کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں ان میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے۔

مسائل ومشکلات کے حل کی صلاحیت

  • جس طرح سائیکل چلانا یا ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرنا ایک ہنر ہے، اسی طرح مسائل ومشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت بھی ایک ہنر ہے جسے آپ سیکھ سکتے ہیں۔ جب آپ اپنی مشکلات ومسائل کو حل کرنے کے لیے جس قدر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے، تو پھر زیادہ سے زیادہ بہتر اور مفید حل آپ کے ذہن میں آئیں گے۔
  • جب آپ کسی بھی مسئلے یا مشکل کو جس قدر جلد حل کرپاتے ہیں، تو پھر باقی مسائل بھی اسی قدر تیزی سے حل ہوتے جائیں گے۔ پھر مزید پیچیدہ مسائل آپ کے روبرو آتے جائیں گے۔ بالآخر آپ ان مسائل کو بھی حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور آپ دوسروں کے لیے مالی فائدے کا باعث بنیں گے۔ اسی انداز میں تمام کاروبار حیات رواں دواں ہے۔
  • اگر آپ اپنے متعین اہداف کے حصول کے بارے میں پُرخلوص اور پُرعزم ہیں، تو درحقیقت آپ میں مسائل حل کرنے اور مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ بھی امرِ واقع ہے کہ آپ میں وہ تمام صلاحیتیں اور ذہانتیں موجود ہیں جو کسی بھی قسم کے مسائل حل کرنے یا مشکلا ت پر قابو پانے کے لیے درکار ہیں۔

تقریباً ہر مسئلہ قابل حل ہے

  •  اس دنیا میں تقریباً ہر مسئلے کا حل موجود ہے اور آپ کو چاہیے کہ اس کا حل تلاش کریں۔ اگر آپ کو کسی مسئلے کا حل نہیں ملتا تو پریشان مت ہوں۔
  • آپ اورآپ کے متعین اہداف کے درمیان جو بھی مشکلات ورکاوٹیں حائل ہیں ان سے نجات کے لیے متعدد حل موجود ہیں لیکن شرط صرف یہ ہے کہ آپ اپنی بصیرت اور ادراک استعمال کریں۔ آپ کا کام یہ ہے کہ اپنے اہداف کی تکمیل کے ضمن میں رفتارِ ترقی کا ایک معیار اور حد مقرر کریں اور اپنے سامنے موجود مشکلات اور رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے اپنا وقت اور توجہ صرف کریں۔ جب آپ اپنے متعین اہداف کی تکمیل کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹیں دُور کر لیتے ہیں، تو پھر برسوں کے بجاے آپ اپنے مقاصد چند ماہ میں حاصل کر لیتے ہیں۔

چند تجاویز

  • اپنے لیے ایک بڑے ہدف کا انتخاب کریں اور پھر خود سے پوچھیں کہ میں یہ ہدف پہلے کیوں نہیں حاصل کر پایا ؟ مجھے کون سی مشکلات پیش آ رہی ہیں ؟ اس ضمن میں آپ کے ذہن میں جو بھی خیال آئے اسے اپنے پاس درج کر لیں۔
  • اپنے آپ کا جائزہ لیجیے اور اس امکان کو پیش نظر رکھیے کہ آپ میں موجود ناکامی کا خوف ، خدشات اور شکوک ہی دراصل آپ کی کامیابی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
  •  اپنی شخصیت یا اپنے ماحول میں موجود رکاوٹوں ، مشکلات ، خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کیجیے اور پھر اپنے متعین اہداف کی تکمیل کے لیے رفتارِ ترقی مقرر کیجیے۔
  • اپنے سب سے بڑے اور اہم مسئلے یا مشکل کا مختلف انداز میں جائزہ لیجیے اور پھر خود سے پوچھیے: ’دراصل یہ مسئلہ ہے کیا؟‘
  •  اپنے سامنے موجود بڑے اور اہم مسئلے کے حل کو اپنا ہدف بنا لیجیے ۔ مقررہ تاریخ طے کیجیے، منصوبہ بندی کیجیے اور اس پر عمل پیرا ہو جائیے۔ پھر مسئلے کے حل تک اپنی کارگزاری کا روزانہ جائزہ لیجیے۔

مسئلہ تقدیر

سوال : ایک شخص نے ایک عجیب اعتراض اُٹھایا ہے۔ اُن کا کہنا یہ ہے کہ: ’مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہرشخص کی موت کا وقت معین ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوسکتی۔ لیکن دوسری طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اقوامِ مغرب نے حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی اور بیماریوں کی روک تھام کرکے اپنی عمروں کی اوسط میں اضافہ اور شرحِ اموات میں کمی کرلی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمر کا بڑھانا گھٹانا اور موت کو ٹالنا ،انسان کے بس میں ہے‘۔ اس بات کو واضح کیجیے کہ ان دونوں باتوں میں سے  کون سی بات درست ہے؟ کیا زندگی کی مدّت اور موت کی گھڑی مقرر ہے یا اس میں  ردّ و بدل انسان کے بس میں ہے؟

جواب :آپ نے جو سوال کیا ہے، وہ دراصل ایک بڑے اور بنیادی سوال کا جزو ہے۔ وہ بنیادی سوال یہ ہے کہ انسان کس حد تک تقدیر اور مشیت الٰہی کے تحت مجبور اور بے بس ہے، اور کس حد تک اُسے ارادہ و عمل کی آزادی دی گئی ہے، اور کوشش سے مطلوب نتائج پیدا کرنا کس حد تک اُس کے امکان میں ہے؟ یہ سوال ایسا نہیں ہے کہ جس کا جواب آسانی اور اختصار کے ساتھ اثبات یا نفی کی صورت میں دیا جاسکے۔ اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ انسان اپنی تقدیر کا خالق خود ہے اور کوئی بالاتر طاقت اُس کے افعال اور نتائج ِ افعال پر حاوی و مؤثر نہیں ہے، تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔

انسان جب اپنے آپ کو وجود میں نہیں لاسکتا تو جو اعمال اُس کے وجود سے صادر ہوتے ہیں، اُن کا فاعلِ مختار آخر وہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پھر اگر یہ کہا جائے کہ انسان مجبورِ محض ہے اور اختیار و آزادی سے قطعی محروم ہے، تو یہ بات بھی صریحاً غلط اور خلافِ عقل و مشاہدہ ہے اور یہ دینِ اسلام کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

حقیقت ان دونوں انتہائوں کے بین بین ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک خاص پہلو سے اور ایک دائرے کے اندر انسانوں کو ایک حد تک آزادی حاصل ہے اور یہ آزادی انسان اور پوری کائنات کے خالق ہی کی عطا کردہ ہے۔ لیکن اس کے دائرے سے باہر جاکر انسان کی آزادی ختم ہوجاتی ہے اور اُس کے سارے اعمال اور ان کے نتائج آخرکار مشیت ِ الٰہی کے تابع ہوکر رہ جاتے ہیں۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی یا مجبوری کے حدود کو ماپنے کی کوشش کرے یا یہ مسئلہ حل کرنے میں اپنا دماغ لڑائے کہ یہ جبرو اختیار ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جمع ہوسکتے ہیں؟

انسان جب تک انسانی حدود میں مقیّد ہے اور جب تک وہ مخلوق کے بجاے خالق نہیں بن جاتا، اُس وقت تک وہ اس پیچیدہ مسئلے کی تہہ اور کنہ تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ انسان کا کام یہ ہے کہ جس حد تک اُسے آزادی دی گئی ہے، اُس حد تک اُسے خالق کی رضا اور منشا کے مطابق استعمال کرے اور جن حدود سے آگے اُسے آزادی حاصل نہیں، وہاں وہ آزاد اور خودمختار ہونے کا اِدّعا نہ کرے۔

اِس اصولی بات کو سمجھ لینے کے بعد اب آپ عمر کے گھٹنے اور بڑھنے کے سوال پر خود    غور کریں۔ یہ بات آخر کس کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس شخص کی موت کے لیے کون سا وقت مقرر کیا تھا اور کسی خاص دور یا عہد میں کسی خاص قوم کی عمر کا اوسط اُس نے کیا متعین فرمایا تھا؟ اگر اس کا علم کسی کو نہیں ہے، تو پھر یہ دعویٰ خودبخود بے معنی ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے وقت پر فلاں شخص نہ مرسکا اور اُس نے یا کسی دوسرے نے، اُس کی عمر میں اضافہ کر دیا۔ یہ سب دراصل بے عقلی کی باتیں ہیں جو بہت سے لوگ بے سمجھے بوجھے کرتے رہتے ہیں۔

ہمارا کام صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم کو اللہ نے علم اور عقل کی جو طاقتیں دی ہیں، اُنھیں استعما ل کرکے ہم امراض کے علاج اور صحت کی حفاظت کے زیادہ سے زیادہ بہتر ذرائع مہیا کریں اور اُن کے مہیا ہوجانے پر اللہ کا شکر بجا لائیں۔ اِس سے آگے بڑھ کر کوئی چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم نہ کسی کو بیمار پڑنے دیتے اور نہ کسی کو مرنے دیتے ، لیکن مرض یا موت کو بالکل روک دینے پر نہ کبھی قدیم زمانے کا انسان قادر تھا، نہ آج کے زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا معالج یا سائنس دان قادر ہوسکتا ہے۔(جسٹس   ملک     غلام     علی )


عشر، زکوٰۃ اور سرکاری ٹیکس

سوال : ایک صاحب جو جج بھی رہ چکے ہیں نے ایک مجلس میں فرمایا: ’’عشر، زمینی پیداوار کے دسویں حصے پر اور زکوٰۃ جمع شدہ دولت کا صرف ڈھائی فی صد حصہ ہوتی ہے۔ مالیہ و آبیانہ، زمینی پیداوار کے نصف پر تشخیص کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جمع شدہ دولت پر بھاری انکم ٹیکس بھی لگایا جاتا ہے اور چوں کہ یہ رقم ریاستی بیت المال میں داخل ہوکر رفاہِ عامہ کےکاموں کے لیے خرچ ہوتی ہے، اس لیے زکوٰۃ اور عشر دینا لازم نہیں‘‘۔ کیا ان ریاستی ٹیکسوں کی موجودگی میں واقعی زکوٰۃ اورعشر دینا ضروری نہیں ہے؟

جواب :زکوٰۃ کے متعلق پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور رکنِ اسلام ہے، جس طرح نماز، روزہ اور حج ارکانِ اسلام ہیں۔ جس شخص نے کبھی قرآنِ مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھا ہے، وہ دیکھ سکتا ہے کہ قرآن بالعموم نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ ذکر کرتا ہے اور اسے اُس دین کا ایک رکن قرار دیتا ہے، جو ہر زمانے میں انبیاے کرام علیہم السلام کا دین رہا ہے۔ اس لیے اس کو ٹیکس سمجھنا اور ٹیکس کی طرح اس سے معاملہ کرنا پہلی بنیادی غلطی ہے۔ ایک اسلامی حکومت جس طرح اپنے ملازموں سے دفتری کام اور دوسری خدمات لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب نماز کی ضرورت باقی نہیں ہے کیوں کہ انھوں نے سرکاری ڈیوٹی دے دی ہے، بالکل اسی طرح وہ لوگوں سے ٹیکس لے کر نہیں کہہ سکتی کہ اب زکوٰۃ کی ضرورت باقی نہیں کیونکہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔ اسلامی حکومت کو اپنے نظام الاوقات لازماً اس طرح مقرر کرنے ہوں گے کہ اُس کے ملازمین نماز وقت پر ادا کرسکیں۔ اسی طرح اُس کو اپنے ٹیکسوں کے نظام میں زکوٰۃ کی جگہ نکالنے کے لیے مناسب ترمیمات کرنی ہوں گی۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حکومت کے موجودہ ٹیکسوں میں کوئی ٹیکس اُن مقاصد کے لیے اُس طرح استعمال نہیں ہوتا کہ جن کے لیے قرآن میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے اور جس طرح اس کے تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔(جسٹس   ملک     غلام     علی )


شادی کی سالگرہ

سوال : گزارش ہے کہ مجھے دین کی روشنی اور قرآن و حدیث کے حوالے سے ایک سوال کا جواب درکار ہے۔ اُمید کرتی ہوں کہ آپ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں گے۔ یومِ پیدایش یا شادی کی سالگرہ رسم کے طور پر منانا کہاں تک جائز ہے؟ اس رسم کو کرنے والا (جو ایک دین دار گھرانہ بھی ہے) صحیح راستے پر ہے یا اس کو پوری قوت سے انکار اور ختم کرنے والا درست راستے پر ہے؟اگر اس رسم پر عمل سے انکار کرنے پر جسمانی یا ذہنی اذیتیں ملتی ہیں اور مل رہی ہیں تو کیا اس کا اجر ہے یا نہیں؟ اس رسم کو  کس قوم نے جاری کیا تھا یا کیا ہے؟

جواب :شادی کی سالگرہ اور یومِ پیدایش (birthday) منانے کا اسلام کے مزاج اور تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام نہ ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور نہ ایسے کاموں میں اپنے پیروئوں کے مال اور قوتوں کو صرف کرنا پسند کرتا ہے۔ بے شک یہ صحیح ہے کہ شادی کی سالگرہ یا یومِ پیدایش منانا کوئی ایسا منکر نہیں ہے کہ جس کے خلاف فتوے دیے جائیں یا اس کو مٹانے کے لیے مومنوں کو جہاد کے لیے منظم کیا جائے۔ لیکن بہرحال یہ سوچنا ضرور چاہیے کہ جس چیز کو اسلام نے کوئی مقام اور اہمیت نہیں دی ہے، جس کا ہماری دینی تاریخ میں کہیں ذکر نہیں ہے، آخر ایسے کاموں میں اپنی قوتیں اور وسائل کھپانے اور تقریبات کا موضوع بنانے پر اصرار کیوں ہے؟

ہمارا یہ پختہ ایمان اور عقیدہ ہے کہ روے زمین پر انسانی تاریخ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عظیم ہستی نہ آج تک پیدا ہوئی ہے اور نہ رہتی دُنیا تک پیدا ہوسکتی ہے۔ آپؐ کی عظمت و کمال کا خلاصہ یہ ہے کہ   ع    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اس بنیادی اور کھلی حقیقت میں جس کسی کو ذرا سا بھی شبہہ ہو، وہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔ یومِ پیدایش منانے کی شریعت میں کوئی بھی حیثیت ہوتی تو بلاشبہہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے زیادہ مستحق تھے کہ آپؐ کا یومِ پیدایش منایا جاتا۔ دورِ رسالتؐ میں، دورِ خلافت راشدہؓ میں ایک عظیم تقریب کی حیثیت سے سرکاری طور پر اس کے منانے کی ہدایات اور ثبوت ملتا۔ لیکن  صحابہ کرامؓ تو اس بحث سے اس قدر بے تعلق رہے یا اس درجہ یہ چیز نظرانداز کی گئی کہ ہماری تاریخ متعین طور پر یہ بھی نہیں بتاتی کہ آپؐ کا یومِ پیدایش ۹ربیع الاوّل، ۱۲ ربیع الاوّل یا ۱۷ربیع الاوّل ہے___ اگر دین میں اس کا واقعی کوئی مقام ہوتا، اورملّت میں اس کا تعامل رہتا تو یومِ پیدایش کی تاریخ اسی طرح متعین ہوتی، جس طرح حج کی تاریخیں متعین ہیں اور پورا عالمِ اسلام حج کی تاریخوں پر متفق ہے۔

پھر ہمیں کوئی سند نہیں ملتی کہ اللہ کے آخری رسولؐ نے کبھی شادی کی سالگرہ منائی ہو، جب کہ رسولؐ کی زندگی کو ہمارے لیے قرآن میں اسوئہ حسنہ قرار دیا گیا ہے اور آپؐ کی پوری زندگی ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہے۔ مغربی تہذیب سے متاثر بلکہ مرعوب ذہن نہ جانے اپنی روایات کے سلسلے میں اس درجہ احساسِ کم تری کا کیوں شکار ہیں اور کیوں اس خبط میں مبتلا ہیں کہ مغربی تہذیب کی کچھ باتوں کو اپنا کر اور اپنے ’روشن خیال‘ ہونے کا اس طرح ثبوت د ے کر ہی وہ معاشرے میں قابلِ احترام اور قابلِ عظمت ہوسکتے ہیں۔ احساسِ کم تری کے مریض، احساسِ برتری کی نمایش کرکے اپنے مرض کو چھپانے کی بھونڈی اور مضحکہ خیز کوشش کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جو قوم اپنے نظریات، اپنے ورثے اور اپنی روایات اور اقدار کی قدر نہیں کرتی، وہ دنیا میں کبھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھی جاسکتی۔ مرعوب ذہن کے ساتھ دوسروں کی نقالی کرنے والی قوم اپنے زوال کا مرثیہ تو پڑھ سکتی ہے، لیکن اس نقالی کے عمل سے وہ رفعت و عظمت کا کوئی مقام حاصل کرلے؟ یہ سراسر دھوکا اور خود فریبی ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ بعض صوم و صلوٰۃ کے پابند لوگ بھی، جو اپنے دین کی قدروں سے اور اس کے مکمل تصور سے ناآشنا ہوتے ہیں، وہ ان مراسم کا بھی اہتمام کرتے ہیں اور نماز روزے کی پابندی کرتے ہوئے اس غلط فہمی کا بھی شکار رہتے ہیں کہ ہم دین دار ہیں اور روشن خیال بھی۔ اس سے بڑھ کر وہ ان لوگوں کو تاریک خیال، مُلّا اور رجعت پسند سمجھتے ہیں، جو ان چیزوں کو بے ضرورت قرار دیتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے یہ بزعمِ خود روشن خیال لوگ، ایسے افراد کو ذہنی طور پر اذیتیں پہنچاتے ہیں اور اپنی زبان اور سلوک سے ان کی تحقیر و تذلیل بھی کرتے ہیں۔

اس معاملے میں تحقیر و تذلیل اور اذیت برداشت کرنے والے لوگوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ کیا ہوگا؟ تو اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ان کے طرزِعمل میں حکمت، اخلاص اور نیک نیتی ہے یا محض ضد اور محض اپنے ذوقِ دین داری پر اصرار۔ اصلاح چاہنے والوں کا کام دوسروں کو خطاکار ثابت کرکے مطمئن ہونا نہیں ہے بلکہ سوز و حکمت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرنا ہے۔

اصل بات تو یہ ہے کہ ملّت کے اندر سے اپنے منصب اور خیر اُمہ ہونے کا شعور ختم ہوتا جارہا ہے۔ وہ دوسری خود رو اُمتوں کی طرح ایک قوم بن کر رہ گئی ہے۔ اگر یہ شعور زندہ ہو کہ اللہ نے اس کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی رہنے والی ایک داعی اُمت کی حیثیت سے اُٹھایا ہے، تو اس کی قوتیں اور توانائیاں یقینا اپنے اصل مثبت کام میں لگی رہیں اور    اس طرح غیرضروری بحثوں اور اُمور میں قوتیں کھپانے اور ایسے مظاہرے کرنے کا موقع ہی نہ ملے کہ ایسے سوالات پیدا ہوں۔ ضرورت ہے کہ اس داعی اُمت کو دعوت الی الخیر کے منصبی فریضے پر لگایا جائے اور اس کا جینا اور مرنا اسی کام کے لیے ہو، تو اللہ گواہ ہے کہ دنیا کا نقشہ ہی بدل جائے۔(مولانا محمد یوسف اصلاحی)


مباح چیزوں کی نذر ماننا

سوال : میں نے نذر مانی تھی کہ میں اپنے بیٹے کی صحت یابی کے بعد ایک شان دار پارٹی دوں گی۔ اس کے بعد میرے ماموں ۱۰سال کے لیے جیل چلے گئے اور میں ۱۰سال تک یہ نذر پوری نہ کرسکی۔ کیا اب میں یہ نذر پوری کروں یا ممکنہ اخراجات کے برابر رقم صدقہ وغیرہ کروں؟

جواب :سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نذر ان چیزوں کی ماننی چاہیے جن میں اللہ کی عبادت، اس کی خوش نودی اور تقرب کا پہلو موجود ہو، مثلاً: نمازیں پڑھنا یا روزے رکھنا وغیرہ۔

پارٹیاں دینے یا اس جیسے کسی دوسرے مباح کام کی اگر نذر مانی ہے، تو اس ضمن میں  علما کی دو طرح کی آرا ہیں: ایک یہ کہ اس نے جو اور جس شکل میں نذر مانی ہے وہی پورے  کرے گا،اور دوسری یہ کہ قسم کا کفّارہ ادا کرے، یعنی دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا غلام آزاد کرے۔ ایسا نہیں کرسکتا تو تین دن روزے رکھے۔ علما ے کرام نے ان دونوں صورتوں کا اختیار دیا ہے۔ اب آپ ان میں سے کوئی بھی ایک شکل اختیار کریں۔(علامہ یوسف القرضاوی

وقائع سیرت نبویؐ عیسوی ماہ و سال کی روشنی میں، اخلاق احمد قادری۔ ناشر: بک فورٹ ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز، مکان ۹، سٹریٹ۳۲، غنی محلّہ، سنت نگر، لاہور۔ فون:۴۹۳۱۳۲۰-۰۳۰۰۔ صفحات: ۳۷۶۔ قیمت: ۸۰۰روپے۔

سرورق کی حسب ذیل عبارت: ’پیدایشِ حضرت عبداللہؓ سے وصالِ نبویؐ تک کے تمام اہم وقائعِ سیرت نبویؐ، عیسوی تقویم و ترتیب کے ساتھ‘ سے زیرتبصرہ کتاب کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔۲۴صفحات پر پھیلی ہوئی فہرست کے عنوانات سے ’سیرت النبیؐ‘ کے کسی بھی واقعے کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔ سیرت کے وقائع کے ساتھ آں حضوؐر کے خدام، اُمہات المومنینؓ، آپؐ کے صحابہؓ،  آپؐ کی خادمائیں، کاتبینِ وحی، آپؐ کے سُفرا اور قاصد، بارگاہِ رسالتؐ کے خطیب اور شعرا اور آپؐ کے آلاتِ حرب، ڈھالوں، گھوڑوں، اُونٹنیوں اور بکریوں وغیرہ کا مختصر تعارف بھی شاملِ کتاب ہے۔

یہ کتاب سیرتِ پاکؐ کی توقیت (کروتولوجی)ہے، جس سے واقعاتِ سیرت کا پتا چلتا ہے کہ کون سا واقعہ کب، کس دن رُونما ہوا اور اس کا پس منظر کیا تھا۔ بقول سیّد ارشد سعید کاظمی: ’’محترم قادری صاحب نے ایک نئے انداز پر سیرتِ نبویؐ کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے‘‘ (ص۲۹)۔ (رفیع الدین ہاشمی)


رسولِؐ رحمت مکّہ کی وادیوں میں (جلداوّل)، حافظ محمد ادریس۔ ناشر: مکتبہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۴۱۹-۰۴۲۔ صفحات: ۴۰۸۔ قیمت: ۳۷۵ روپے

زیرنظر کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے:پہلے حصے میں تمہیدی مباحث، دوسرے حصے میں بعثت سے قبل کے اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے، جب کہ تیسرے حصے میں بعثت کے بعد قریش کی مخالفت اور کفّار کی عصبیت ِ جاہلیہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ’پیش لفظ‘ میں لکھا ہے: ’’آپؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ مستند حوالوں کے ساتھ تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں پوری جُزرسی کے ساتھ محفوظ [ہے] (ص۲۷)۔کوشش کی گئی ہے کہ رسولِ اکرمؐ کی زندگی کا لمحہ لمحہ تاریخ اور حدیث کی کتابوں سے جمع کیا جائے۔ ہرحصے کے ضمنی عنوانات کے تحت ہرہرجُز اور پیراگراف پر سرخیاں قائم کی ہیں، اور تقریباً ہرپیراگراف مستند حوالہ جات سے مزین ہے۔ یہ چیز مؤلف کی محنت اور احتیاط کی دلیل ہے۔ واقعات کے لیے حافظ صاحب نے تفہیم القرآن، مفتی محمد شفیع کی تفسیر معارف القرآن، مولانا شبلی کی سیرت النبیؐ اور دیگر کتابوں سے طویل اقتباسات لیے ہیں۔

یہ عمدہ شعری ذوق ہی کا نتیجہ ہے کہ حافظ صاحب نے جہاں عربی شاعری کے نمونے (مع تراجم) دیے ہیں، وہیں اُردو شعرا سے بھی خوب استفادہ کیا ہے اور علّامہ اقبال کے ساتھ مولانا حالی، ماہرالقادری اور مولانا ظفرعلی خان کے اشعار بھی برمحل استعمال کیے ہیں۔ یہ ایک  دل چسپ اور عمل پر اُبھارنے والی کتاب ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


اقبال اور مسلم اندلس، ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر۔ ناشر: قرطاس، فلیٹ نمبر۱۵-اے، گلشنِ امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک ۱۵، کراچی۔ صفحات:۹۸۔قیمت: ۱۰۰روپے۔

علّامہ اقبال کو، عالمِ اسلام کے دیار و امصارمیں مدینۃ النبیؐ کے بعد غالباً اندلس اور قرطبہ سے خاص تعلقِ خاطر تھا۔ بالِ جبریل کی منظومات (مسجد قرطبہ، ہسپانیہ، طارق کی دُعا، عبدالرحمٰن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت وغیرہ) سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرطبہ، مسجد قرطبہ اور اندلس سے انھیں شدید جذباتی لگائو تھا۔یورپ کے تیسرے سفر سے لوٹتے ہوئے وہ بطورِ خاص ہسپانیہ گئے اور تین ہفتوں تک وہاں کے شہروں، تعلیمی اور علمی اداروں اور مسلمانوں کے آثار کا مطالعہ و مشاہدہ کیا۔

زیرنظر کتاب میں اندلس سے علّامہ اقبال کے تعلق اور ہمہ پہلو لگائو کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ کتاب اگرچہ مختصر ہے، لیکن اس کے مباحث، تنوع اور جامعیت کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نگار نے جو اسلامی تاریخ پر گہری نظر کے باعث موضوع کے جملہ پہلوئوں کو ۱۰؍ابواب میں سمیٹ لیا ہے۔ آسان زبان میں یہ مختصر کتاب انھوں نے نوجوانوں کے لیے لکھی ہے کہ ’’ہماری نوجوان نسل اقبال اور فکر ِ اقبال سے دُور ہوتی جارہی ہے‘‘___ عام قارئین کے لیے بھی یہ عبرت آموز اور معلومات افزا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تعارف کتب

o سیّدنا محمد رسول اللہ a ، ترتیب: شیخ عمر فاروق۔ ناشر: ۱۵-بی ، وحدت کالونی، لاہور۔ فون: ۳۷۸۱۰۸۴۵-۰۴۲۔ صفحات: جلداوّل: ۶۶۶، جلد دوم: ۶۸۸ (مجلد اور مجلاتی سائز)۔[رابطہ کرکے دستی طور پر حاصل کی جاسکتی ہے]۔[زیرنظر کتاب سیرت پاکؐ کے ذخیرئہ کتب میں ایک منفرد اضافہ ہے، جسے مطالعۂ سیرت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی غرض سے ترتیب دیا گیا ہے۔ جلداوّل میں سیرت کے مختلف واقعات دیے گئے ہیں اور جلد دوم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور مطلوب اسلامی طرزِ زندگی کے بارے میں قرآن و سنت سے ہدایات کو مرتب کیا گیا ہے۔ ]

o اُصولِ حدیث ، از ڈاکٹر اقبال احمد اسحاق۔ ناشر: ملک اینڈ کمپنی، رحمان مارکیٹ، غزنی، سٹریٹ، اُردوبازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۱۱۱۹-۰۴۲۔صفحات:۹۵۔ قیمت: درج نہیں۔ [یہ کتاب آسان انداز سے علم حدیث کی اصطلاحات کو سمجھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ فہمِ حدیث کے ساتھ درجات و اقسامِ حدیث کا جاننا بھی ضروری ہے ، جس کے لیے یہ کتاب ایک مفید ذریعہ ہے۔]

o  الفاظِ طلاق کے اُصول ، از مفتی شعیب عالم۔ ناشر: اسلامی کتب خانہ، بنوری ٹائون، کراچی۔ فون: ۳۴۷۲۷۱۵۹-۰۲۱۔ صفحات: ۱۷۶: قیمت: درج نہیں۔[کتاب میں ’طلاق‘ سے متعلق اُمور اور مباحث کو، اعلیٰ فنی و تدریسی اصولوں کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک قیمتی کتاب ہے، جسے بالخصوص علما اور اساتذہ کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ]

oلمحۂ موجود اور تعلیماتِ اقبال ، از پروفیسر رشید احمد انگوی۔ ناشر: ۱۶-جی، مرغزار کالونی، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۴۷۲۳۵۱۴-۰۳۰۰۔صفحات:۶۴۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔[مصنف نے علامہ اقبال کے ۷۵؍اشعار کا آسان زبان میں ترجمہ و تشریح پیش کی ہے، تاکہ نئی نسل کلامِ اقبال کو سمجھنے میں آسانی محسوس کریں اور پیغام کی لذت کے فکروخیال کو معطر کریں۔  ]

oعلّامہ محمد اقبال اور مرزا غلام احمد قادیانی ،از پروفیسر محمد مسعود احمد۔ ناشر: ادارہ مظہراسلام ، ۳/۶۴، نئی آبادی، مجاہد آباد، مغل پورہ، لاہور۔ فون: ۸۱۰۳۷۵۵-۰۳۰۰ ۔ صفحات:۱۸۔ قیمت:۱۰ روپے۔ [اس پمفلٹ میں قادیانیت کے حوالے سے علامہ اقبال کے خیالات کو مرتب کیا گیا ہے۔]

oاُمت مسلمہ کے مستقبل کی تشکیلِ نو ،از مختار فاروقی۔ ناشر: قرآن اکیڈمی، لالہ زار کالونی، فیز۲، ٹوبہ روڈ، جھنگ۔ فون: ۷۶۳۰۸۶۱-۰۴۷۔[مصنف نے دراصل اہلِ قلم سے اپیل کی ہے کہ وہ عصرِحاضر کے چیلنج کو علمی سطح پر سمجھیں اور اعلیٰ فکروعلمی اسلوب میں ان چیلنجوں کا جواب دے کر، اپنی ذمہ اداری ادا کریں۔]

ڈاکٹر سیّد علی اکبر ،لاہور/ شہباز اختر ،مردان

سیّد سعادت اللہ حسینی (جنوری ۲۰۱۸ء) نے بڑے مدلل، دل نشین اور مؤثرانداز سے فریضہ اقامت ِ دین کی اہمیت واضح کی ہے، اور آپ نے مولانا امین احسن صاحب کا مضمون دے کر اس حلقے کو بے دست و پا کیا ہے جو اسلامی ریاست کے تصور کا انکاری ہے۔


عبدالرزاق باجوہ ،نارووال / نـیّر نوید ہاشمی، کراچی

جنوری ۲۰۱۸ء کا شمارہ مجموعی طور پر معلومات افزا اور قابلِ غوروفکر تحریروں پر مشتمل تھا۔ پروفیسر خورشیداحمد نے اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں کا بہترین حل پیش کیا۔ عابدہ فرحین نے بڑے جان دار اور پُرکشش انداز میں بیان کیا کہ عورت عورت کی دشمن کیوں بن جاتی ہے اور اس کا قابلِ عمل حل بتایا۔ اگر ان باتوں پر ہمارے گھروں میں عمل درآمد ہوجائے تو یہی گھر جنّت کا نمونہ بن جائیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے ’آپ بھی کچھ لکھیے‘ کے عنوان سے جو لکھا ہے، اس پر بھرپور توجہ بلکہ بلاتاخیر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ اس مضمون نے رہنمائی دی ہے اور حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔


سعدیہ نوشین ، کراچی

افتخار گیلانی نے ’یروشلم سے کشمیر تک‘ صورتِ حال کو ایک تازیانے کی صورت میں تحریر کیا ہے، کاش اُمت اس کی ضرب کو اپنی روح اور جسم پر محسوس کرے۔پھر سعادت اللہ کا مضمون فکری رہنمائی کا ذریعہ ہے۔


ڈاکٹر عبدالرزاق  ، جہلم

’کشمیر آبادی کی تبدیلی اور بھارتی عزائم‘ (دسمبر ۲۰۱۷ء) شیخ تجمل الاسلام نے بھارتی سازش سے جس طرح پردہ اُٹھایا ہے یہ نہ صرف اہلِ پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے بلکہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ کیا پاکستان میں مختلف اَدوار میں، مختلف جماعتوں کی حکومتوں نے اس سلسلے میں کوئی نوٹس نہیں لیا؟ ایک عرصہ سے قائم ’کشمیر کمیٹی‘ نے اس خطرناک صورتِ حال کے سدباب کے لیے کیا کوئی قابلِ ذکر قدم اُٹھایا ہے؟ جائزہ سامنے آنا چاہیے۔


ڈاکٹر سیّد ظاہر شاہ ، پشاور/ محمد علی پٹھان، سکھر

’پاکستان، اسلامی یا سیکولر ریاست‘ (دسمبر ۲۰۱۷ء) اختر حسین عزمی نے بہت اچھے طریقے سے پاکستان کے وجود کے مقصدکی وکالت کی ہے۔ کیا ہمارے نام نہاد سیکولر حضرات یہ بات نہیں سمجھتے کہ برعظیم کے مسلمانوں کو آخر کیا پڑی تھی کہ وہ جان و مال اور عزت کی بازی لگاکر ایک سیکولر ملک حاصل کریں ، جب کہ بھارت خود سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔


محمد نسیم عباسی ، ہری پور

’اُردو ہندسے‘ اب کم پڑھے، پڑھائے جاتے ہیں، اور انگریزی ہندسے ہی ہرجگہ استعمال ہوتے ہیں۔ ترجمان کےقارئین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے انگریزی الفاظ گنتی میں استعمال کیے جائیں۔

مئی ۱۹۹۸ء میں پہلے بھارت کے اور پھر جوابی طور پر پاکستان کے جوہری دھماکوں کے بعد بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، اسی سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے نیویارک پہنچے۔ واجپائی کو اپنی ہمت اور طاقت سے زیادہ کام کرنا گوارا نہیں تھا۔ عام طور پر ظہرانے کے بعد سہ پہر چار بجے تک کوئی مصروفیت نہیں رکھتے تھے اور رات آٹھ بجے کے بعد آرام کرنے چلے جاتے تھے۔ اس لیے ان کے غیر ملکی دوروں میں وفد کے ساتھ آئے افسران اور میڈیا کو کھل کر شہر دیکھنے اور شاپنگ کا موقع مل جاتا تھا۔

 نیویارک کے اس دورے کے دوران واجپائی کی ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ بھی طے تھی۔ نیتن یاہو بھی پہلی بار۱۹۹۶ء  میں اقتدار میں آئے تھے۔ اسی طرح یہ بھی ایک دل چسپ امر ہے کہ تل ابیب اور نئی دہلی میں سخت گیر دائیں بازوکے عناصر ایک ہی وقت اقتدار میں آئے۔ بہرحال، جس وقت واجپائی کی ملاقات نیتن یاہو سے طے تھی، بھارتی مشن نے میڈیا کے لیے شہر کے دورے کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا، مگر ہندی اخبار کے ایک ایڈیٹر   اپنے ذاتی پروگرام کے تحت ساتھیوں کے ہمراہ نہیں جارہے تھے۔ جب واجپائی ہوٹل میں داخل ہوئے تو پرانی شناسائی کے سبب انھوں نے ایڈیٹرصاحب سے گرم جوشی دکھائی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر ملاقات کے کمرے میں لے گئے اور گفتگو میں مگن ہوگئے۔ بھارتی دفترخارجہ کے افسران ابھی   ان ایڈیٹر صاحب کو بھگانے کی ترکیب سوچ ہی رہے تھے، کہ نیتن یاہو اپنے وفد کے ہمراہ اس جگہ آگئے۔ واجپائی سے ہاتھ ملاکر اسرائیلی وزیر اعظم نے چھوٹتے ہی ان کو جوہری دھماکوں پر مبارک باد دی اور معانقہ کرتے ہوئے کہا: Mr. Prime  Minister, we are now both nuclear power. Let us crush Pakistan like this. (مسٹر پرائم منسٹر ، ہم دونوں جوہری طاقت ہیں، اس طرح ہم پاکستان کو جکڑ کر کرش کریں)۔

اسرائیل آج تک ایک علانیہ ایٹمی طاقت نہیں ہے۔ ایک صحافی کے سامنے اس طرح کے اعتراف نےبھارتی وزارت خارجہ کے افسران کو خاصا پریشان کر دیا۔ واجپائی نے ایڈیٹرصاحب کو اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا رکھا تھا۔ تب ایک جہاندیدہ افسر نے ان کو بتایا کہ: ’آپ کی ایک ضروری کال آئی ہے‘۔ اور اس بہانے ایڈیٹر کو باہر لے جاکر دروازہ بند کرادیا۔ بعد میں وزارت خارجہ اور اسرائیلی افسران نے اصرار کے ساتھ تاکید کی کہ یہ گفتگو کہیں بھی اور کسی بھی صورت میڈیا میں نہ آنے پائے۔

اب یہی نیتن یاہو۱۳۰ رکنی وفد کے ہمراہ جنوری ۲۰۱۸ء میں بھارت کا چھے روزہ دورہ مکمل کرکے واپس گئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ۲۵سال قبل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوگئے تھے، مگر حقیقت کی دُنیا میں ان کے رشتوں کی تاریخ اس سے بھی بہت پرانی ہے۔ امریکی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے دسمبر ۱۹۷۱ءکی جنگ میں، اسرائیل نے جنگی ہتھیار فراہم کرکے، ’پاکستان کے خلاف جنگ‘ کا پانسہ پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ تب مشرقی پاکستان میں پیش قدمی کی کما ن بھارت کی ایسٹرن کمانڈ کے ایک بھارتی یہودی میجر جنرل جے ایف آر جیکب کے سپرد تھی۔ نجی محفلوں میں جنرل جیکب نے کئی بار حسرت سے یہ تذکرہ کیا کہ: ’’جب پاکستانی فوج ہتھیار ڈال رہی تھی تو تقریب اور تصویر کھنچوانے کے لیے کلکتہ سے ایک سکھ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کو بذریعہ طیارہ ڈھاکہ لایا گیا، حالاںکہ جگجیت سنگھ آپریشن کا حصہ نہیں تھا۔ یہ وزیراعظم اندرا گاندھی کا فیصلہ تھا کہ ایک مسلمان اور پاکستانی جنرل کا ایک یہودی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈالنا شرقِ اوسط خاص کر عرب اور مسلم ممالک میں اضطراب پیدا کر سکتا تھا، جس کا بھارت متحمل نہیں ہوسکتا تھا‘‘۔

بہرحال، وزیر اعظم نریندرا مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد وہ ’بھارت اسرائیل تعلقات‘ جو صرف دفاع اور خفیہ معلومات کے تبادلے تک محدود تھے، ان کو سیاسی جہت ملی ہے۔ اسرائیلیوں کو شکایت تھی کہ بھارتی سیاستدان پردے کے پیچھے ہاتھ تو ملاتے ہیں، مگر اسرائیل کی بین الاقوامی فورم میں مدد کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اسرائیلی افسروں کے مطابق اس دورے کا مقصد دفاعی خریدوفروخت پر توجہ مرکوز کرنے کے بجاے دنیا کو یہ بھی پیغام دینا تھا، کہ ہم دنیا میں الگ تھلگ نہیں ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ اور ایک معروف تھنک ٹینک کی طرف سے منعقد ہ ایک جیوپولیٹکل کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ: ’’کسی بھی ملک کی بقا اور اس کو طاقت ور بنانے کے لیے تین چیزیں درکار ہوتی ہیں: فوجی قوت، اس کو برقرار رکھنے کے لیے اقتصادی ترقی، اور ایسا سیاسی نظام جو آپ کے لیے دنیا میں اتحادی بنانے میں معاون ثابت ہو‘‘۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا بھارتی دورہ اور مذکورہ اعتراف یہ بتاتا ہے کہ وہ کس حد تک بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے اور اس کو دُور کرنے کے لیے اتحادیوں کی تلاش میں ہے۔ اس لیے اس دورے کے دوران اسرائیل نے زراعت، ٹکنالوجی، واٹرمینجمنٹ وغیرہ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے آگرہ، احمد آباد اور ممبئی کے دورے کے دوران، ان کے انٹیلی جنس اداروں: موساد اور شن بٹ (Shin Bit) کے سربراہان نئی دہلی میں ہی موجود رہے اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موساد کے سربراہ یوسی کوہان اور اجیت دوول کے درمیان ملاقاتوں کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوا کہ: ۵۰۰ملین ڈالر کے اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل سودے پر دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ بھارت نے یہ سودہ منسوخ کردیا تھا، کیوںکہ اسرائیلی دفاعی کمپنی ٹکنالوجی ٹرانسفر کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔

شن بٹ کے سربراہ نادار ارگامان نے دہلی میں سابق سفارت کاروں، فوجی ماہرین اور ایڈیٹروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ: ’’دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کا نظامِ کار (میکانزم) اب خاصا منظم اور وسیع ہے۔ خاص طور پر زیر سمندر ۱۸ہزار کلومیٹر لمبی مواصلاتی کیبل کے ذریعے ہونے والی ترسیل کی نگرانی کے لیے دونوں ممالک تعاون کر رہے ہیں‘‘۔ یاد رہے یہ کیبل سنگاپور، ملایشیا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، پاکستان،  متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، سوڈان، مصر، اٹلی، تیونس اور الجزائر کے لیے ہر طرح کے مواصلات کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’’انفارمیشن یا خفیہ معلومات کی ترسیل سے زیادہ اس کا تجزیہ کرنا اور اس کا بروقت اور اصل استعمال کنندہ تک پہنچانا سب سے بڑا چیلنج ہے‘‘۔

پاکستان کے بارے میں اسرائیلی افسر سیدھا اور صاف جواب دینے سے کترارہے تھے، مگر ان کا کہنا تھا: ’’بھارت کو سلامتی امور سے نمٹنے کے لیے وہ مدد دینے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ تاہم،   بار باریہ بھی کہا : ’’ہمارا ہدف (فوکس) وہ تنظیمیں اور ممالک ہیں، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں‘‘۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورے کو پس پردہ ترتیب دینے والے دو افراد گجراتی نژاد امریکی یہودی نسیم ریوبن اور امریکا کی سب سے طاقتور لابی تنظیم امریکن جیوش کونسل کے نائب سربراہ جیسن ایف اساکسون کا کہنا تھا کہ: ’’یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دونوں ممالک کے دشمن الگ الگ ہیں۔ جہاں بھارت کی دشمنی پاکستان سے ہے، وہیں اسرائیل اپنی بقا کے لیے ایرا ن کو خطرہ سمجھتا ہے‘‘۔ نسیم ریوبن کا کہنا تھا کہ: ’’شاید اس معاملے میں دونوں ممالک کے مفادات جدا جدا ہیں، اس لیے دیگر اُمور پر توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ ایک پاےدار رشتہ قائم ہو۔ چوں کہ موجودہ وقت میں ترقی پسندانہ سوچ اور جمہوریت کو ریڈیکل اسلام سے خطرہ ہے، اس لیے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اشتراک کی گنجایش ہے‘‘۔

یہ بات طے ہے کہ اسرائیل اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی قربت کو مودی نے بھارتی داخلی سیاست میں ہندو انتہا پسند طبقے کو رام کرنے کے لیے بخوبی استعمال کیا ہے۔ ہندو قوم پرستوں کی سرپرست تنظیم آرایس ایس کے لیے اسرائیل ہمیشہ سے ایک اہم ملک رہا ہے۔ اٹل بہاری واجپائی نے۲۰۰۳ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کی مہمان نوازی کی تھی، اور مودی جنوبی ایشیا کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں، جنھوں نے تل ابیب کا دورہ کیا، پھر اسرائیلی وزیراعظم کوبھی اپنے یہاں بلالیا۔ ہندو انتہا پسند طبقے کا خیال ہے کہ: ’’اسرائیل دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے اور انھیں ختم کرکے ہی دم لے گا‘‘۔

 اس خیال کے برعکس یہودی مذہبی پیشوا ربی ڈیوڈ روزن کی راے یہ ہے: ’’۱۹۷۳ء کی جنگ سوئز اور بعد میں لبنان جنگ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جدید ہتھیاروں اور امریکی حمایت کے باوجود اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے راقم کو انٹرویو میں بتایا کہ: ’’عام یہودی یہ تسلیم کرتا ہے کہ اسرائیل ۲۰۰۶ءکی لبنان جنگ ہار گیا تھا۔ عدم تحفظ کا احساس اور سیکورٹی اور انٹیلی جنس پر بے پناہ اخراجات کی وجہ سے اسرائیل میں ضروریاتِ زندگی خاصی مہنگی ہیں۔ اس لیے اپنی بقا اور دیرپا سلامتی، دو ریاستی فارمولے پر عمل میں ہی مضمر ہے۔ ورنہ اگلے ۵۰برسوں میں یہودی ریاست کا نام و نشان مٹ سکتا ہے یا یہودی اپنی ریاست میں اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’آخر کیسے؟‘‘ تو انھوں نے کہا: ’’۱۹۶۷ء میں مقبوضہ فلسطین، یعنی اسرائیل میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ۱۴فی صد تھا، جو بڑھ کر ۲۲ فی صد سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔      یہ مسلمان ’عرب اسرائیلی‘ کہلاتے ہیں اور اسرائیلی علاقوں میں انتخابات وغیرہ میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان میں افزایش نسل بھی یہودیوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے اسرائیلی حکومت کو اپنی موجودہ روش ترک کرکے فلسطینیوں کے لیے ایک علیحدہ وطن قائم کرنے کی طرف پیش قدمی کرنے چاہیے ، ورنہ اس ٹائم بم کی وجہ سے یہودی ریاست کا وجود خطرے میں پڑجائے گا اور اگلے دوعشروں میں وہ اقلیت میں ہوں گے‘‘۔